اٹھایسواں خط

 

پیاری ساری

کل جب تمہارا خط ملا تو دل کے ہاتھوں اسقدر مجبور ہوا کہ آنکھوں سے لگا کر کچھ دیر رقص کرتا رہا۔اب تم ایسا کرنا درگاہ بابا ٹولے شاہ جانا اور وہاں بیٹھے کسی ملنگ کو 100 روپے دے دینا، یہ مری نذر پوری کردینا۔میں نے کہا تھا کہ اگر جنوری کے آخری ہفتے میں سوموار کو خط ملا تو درگاہ بابا ٹولے شاہ 100 روپے کی نذر کروں گا۔ویسے یہاں پیرس میں ایک نواحی علاقہ ہے جو ڈینس سٹی کہلاتا ہے اور یہاں پہ ایک درگاہ ہے جسے باسلیق رائلے ڈی سینٹ ڈینس کہا جاتا ہے اور یہ سینٹ ڈینس کا مقبرہ ہے۔سینٹ ڈینس ایک ایسا صوفی تھا جسے اس وقت کی سرکار کی فوج نے جب سزائے موت دی اور اس کا سر قلم کردیا تو اس نے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور ایک وعظ پڑھتے ہوئے چلنا شروع کردیا۔رومن کیتھولک میں ایسے 47 صوفی یا سینٹ ہیں جن کے سر قلم ہوئے اور انہوں نے اپنے سر ہاتھوں میں اٹھاکر کلام کیا اور اس کے لئے رومن لفظ

                                                                                                                                                          Cephalophore

استعمال کیا جاتا ہے۔ساری، مزے کی بات یہ ہے کہ میں جب یہاں پیرس آیا تو مرے دل میں خیال آیا کہ جیسے ہمارے ہاں پاکستان کے اندر افتادگان خاک اپنی منتوں ، مرادوں اور نذر و نیاز کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور ان کے مخصوص مشکلات اور مصائب کو دور کرنے میں مدد دینے والے الگ الگ صوفیاء اور ولی اللہ ہیں تو کیا یہاں فرانس اور یورپ کے اندر بھی لوگ ایسا رجحان رکھتے ہیں؟ کیا ان کے ہاں بھی ایسے ولی اور صوفی موجود ہیں؟تو مرے سامنے حیران کردینے والی چيزیں سامنے آئیں۔جیسے “متکلم سرکٹے صوفی ” اور پھر ایسے ہی قیدیوں کا صوفی – سینٹ آف پرائزنر سینٹ کولبے۔جیسے سینٹ لیونارڈ قیدیوں ، جنگ میں غلام بنائے جانے والی عورتوں کا نجات دہندہ صوفی خیال کیا جاتا ہے۔سینٹ انتھونی کو بھی آزادی دلانے والا صوفی کہا جاتا ہے۔ہمارے ہاں جیسے قطب ، ابدال ، غوث ، مجدد ہوتے ہیں یہ سب وہاں بھی ہوتے ہیں اور ان کے نام پہ وہاں کلیسا بنے ہوئے ہیں۔میں ایک مرتبہ سینٹ ڈینس کے مقبرے پہ گیا تو میں بیٹھے بٹھائے وہاں سے خیال ہی ميں درگاہ ٹولے شاہ پہنچ گیا تھا،ٹولے شاہ کی درگاہ جہاں تم مجھے لیکر گئیں تھیں اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ تم درگاہ عبداللہ شاہ غازی پہ کیوں نہیں چلتیں تو تم نے کہا تھا کہ ٹولے شاہ درگاہ کی سادگی اور اس کی مٹی و گارے سے بنی عمارت مين تمہیں سکون ملتا ہے اور یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ ابھی ملوکیت اور اس کی مارا ماری کے علمبرداروں نے اس درگاہ کے حقوق اپنے نام نہیں کئے ہیں جیسے اکثر صوفیوں کی درگاہ پہ وڈیرے پیر قابض ہیں اور یہان تک کہ شاہ عنائت کی جھوک بھی “نجی ملکیت ” کے تعفن سے بھرگئی ہے اور شاہ عنائت کے سجادوں کی بڑی کوٹھیاں شاہ عنائت کی بغاوت کا منہ چڑاتی ہیں۔یہاں کوئی سینٹ ایسا نہیں ہے جس کے مقبرے تک سرمایہ داری نظام کے پاؤں نہ پہنچے ہوں۔شاید اس لئے مجھے وہاں بیٹھ کر بھی درگاہ ٹولے شاہ کی یاد آتی رہی۔لیکن ميں نے سینٹ ڈینس کو یہ ضرور کہا کہ وہ مجھے اگر مکتی دے سکتے ہوں تو دے ڈالیں۔لیکن سینٹ ڈینس نے کہا کہ اس کے لئے اپنا سر قلم کروانا پڑتا ہے اور اگر زرا سا کھوٹ بھی من ميں ہوا تو اپنے کٹے سر کو اپنے ہاتھوں میں اٹھاکر کلام کرنے کے قابل کبھی نہیں بنوگے،اور کھوٹ یہ ہے کہ اپنے اندر محبوب حقیقی کے سوا کسی اور کو بھی جگہ دے دی جائے۔مطلب سینٹ ، صوفی اور سادھوؤں کے ہاں ” کانٹی جینس ” محبت بالذات مقصود نہیں ہے اور اسے وہ پلیدی بھی کہتے ہیں اور سفلیت بھی اور اس سے آگے جانے کی بات کرتے ہیں۔لیکن ” ابدی اور لزومی محبت ” کیا صرف حقیقت اول سے ہی ہوسکتی ہے؟میں اس سوال کا جواب اپنے اندر تلاش کرتا ہوں تو مجھے پتا چلتا ہے کہ جسے ابدی و لزومی محبت کہا جاتا ہے وہ مرے ہاں تو مجاز جسے مجاز کہنا مرے بس کی بات نہیں ہے صرف ساری تم سے ہی ہے۔ساری، تم نے اس خط میں مجھے اپنے تجربات بتاکر حیران کردیا ہے،تمہارا یہ کہنا کہ تم جب لاہور گئی تھیں تو وہاں عابد نے تمہیں بہت متاثر کیا جو تمہیں لاہور کی ان تنگ و تاریک گلیوں اور کچی آبادیوں میں لے گیا تھا جہاں پہ ننگ دھڑنگ بچے زمین پہ بیٹھے کنچے کھیل رہے تھے، کچھ نالیوں پہ بیٹھے رفع حاجت کررہے تھے، ایک جگہ تم نے لوگوں کو پانسے کھیلتے دیکھا ، تاش کے پتوں کی بازی ایک میلی سی دری پہ بیٹھے لوگ لگائے ہوئے تھے اور ان کے اردگرد بھی پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس لوگ مکمل خاموشی سے کھڑے تھے۔پان چباتے ہوئے، سگریٹ پیتے ہوئے، اور تمہارے حسن سے اپنی آنکھیں سینکتے ہوئے اور ان کی آنکھوں سے پھٹتے خواہش جنس کے شرارے کسی بناوٹ کے بغیر تھے، تمہیں، اپنی چھاتیوں ، سرین ،کمر پہ کئی آنکھیں ہاتھ بنکر رینگتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں بلکہ تم نے دیکھا کہ کئی مرد تو اس لمبے ، پتلے سے نازک سے اور کتابی چہرے والے ، ٹائٹ جینیز پہنے عابد کے کولہوں کو شہوت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔اور پھر کوٹ لکھپت کا انڈسٹریل ایریا جہاں ایک ایک کمرے میں دس دس مزدور ٹھنسے ہوئے تھے اور تمہیں لگا تھا کہ عابد اپنی کہانیوں ، نظموں کا مواد یہیں سے لیتا تھا اور کئی مناظر تو خود اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوں گے۔عابد تمہیں چرس کی بھری سگریٹ کے دھوئیں کو اپنے اندر اتارتا ہوا بہت دلکش لگا تھا اور تب بھی جب وہ ایک گٹھیا سی شراب کٹورے میں ڈالے مشینسٹ گامے مزدور کے ساتھ فیکٹری کے ساتھ بنے کوارٹر میں پی رہا تھا۔گاما نے تمہیں دیکھ کر اپنا ہاتھ تمہاری طرف بڑھایا اور جب تمہیں کامریڈ لال سلام کہا تو تمہیں اس کی تمہارے شرٹ کے زرا سے کھلے گلے کے اندر سے نظر آتی باریک سی لیکرپہ پیوست نظریں صاف دکھائی دی تھیں اور عجیب بات کہ اس کا یہ ترسا ہوا انداز تمہیں زرا برا نہیں لگا تھا۔تمہارا یہ کہنا کہ جب اس رات تم نے عابد کو اپنے اندر پیوست کرلیا تھا تو تمہارے تصور میں بار بار مشینسٹ گامے گی ہوس کے شراروں سے بھری آنکھیں آرہی تھیں اور تمہارے جذبات وحشی ہوئے جاتے تھے اور پھر یک دم تمہیں عابد کا نرم سا گوتھنے جیسا بدن حرارت سے عاری لگا۔اور چار دن بعد عابد تمہیں جب لاہور ریلوے اسٹیشن پہ چھوڑنے آیا تو تم کو اس کا گڈبائی کہنا اور لال سلام کہنا برا لگا تھا، تم کہتی ہو کہ تمہارے اندر یہ خواہش ابھری تھی کہ وہ تمہیں نہ جانے کا کہے اور روک لے۔تم اس کے خیال سے بھری کراچی واپس آئیں تھیں اور میں تمہارے چہرے پہ کئی دن جمی اداسی دیکھکر یہ سمجھا کہ مرے فراق میں تم دبلی ہوگئیں تھیں۔لیکن پھر آہستہ آہستہ وہ کیفیت تمہارے بقول زائل ہوگئی اور یہاں تک کہ تمہیں عابد کا چہرہ یاد بھی نہ رہا اور تمہیں ایسے کئی اور تجربے ہوئے جو بھولی بسری یادوں کے ساتھ تمہارے دماغ میں موجود ہیں ،ایک ہلکی سی کسک اٹھتی ہے لیکن تمہاری ابدی اور لزومی چاہتوں اور محبتوں کا مرکز میں ہوں۔ ” تم اتنے بڑے سچ جتنی ہمت سے بولتی آئی ہو اس نے مجھے بھی بہت بے باک اور باہمت بنادیا ہے”۔ساری تم نے کہا کہ

“Those who hide their complete freedom from themselves out of a spirit of seriousness or by means of deterministic excuses, I shall call cowards; those who try to show that their existence was necessary, when it is the very contingency of man’s appearance on earth, I shall call stinkers” (October 1945 public lecture)

مطلب ایک تو تم یہ کہنا چاہتی ہو: وجود /ایگزسٹنس  جو ہر/ ایسنس پہ مقدم ہے۔یعنی کہ ہم ایسی دنیا اور ایسے حالات کار میں پھینکے جاتے ہیں جو ہماری بنائی ہوئی نہیں ہوتی اور پھر ہم اسے اپنے وجود کے مطابق بناتے ہیں جو ہماری ہیومینٹی /انسانیت کی توثیق کرتی ہے۔ تم کہتی ہو کہ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے کہ انسان اپنے جذبات اور خواہشات اور باہر کی دنیا میں پیش آنے والے واقعات کے ہاتھوں ایسی صورت حال کا قیدی بنتا ہے جو خود اس کی پیدا کردہ نہیں ہوتیں اور اس دوران جو واقعات رونما ہوتے ہیں وہ کانٹی جینسی ہوتے ہیں لیکن جب انسان ان سے آگے جاکر ان کو اپنے وجود کے مطابق بناتا ہے تو اس سے “اے سین شی ایل ” چیز جنم لیتی ہے اور محبت بھی اس سے الگ نہیں ہے۔مطلب تم کہنا چاہتی ہو عابد سے تمہارا رشتہ ،عابد بارے تمہارا خیال ، سیمون دی بووار کا نیلسن سے تعلق یا سارتر کا وینٹی کی طرف جھکاؤ یہ سب اس صورت حال کا نتیجہ ہیں جو ان کی اپنی بنائی ہوئی نہیں ہے۔اور اس سے “کانٹی جینس محبت ” کا ظہور ہوتا ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ جو “ری میکنگ ہے ‎سچوئشنز ” کی اس سے ” ابدی محبت ” کا سراغ ملتا ہے۔ساری ،تمہارا یہ کہنا کہ تمہیں عابد اور گامے مشینسٹ کی “گائے نیس ” پسند آئی اور یہ کانٹی جین سی کا نتیجہ تھا اور جب تم اپنی ری میک دنیا میں پہنچی تو واپس ” اے سین شی ایل لو ” پہ لوٹ آئیں۔مجھے لگتا ہے کہ تم تو کیا سارتر اور بووا کو بھی ٹھیک سے یہ اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے ‘سچوئشنز ” بارے ہر ایک چیز کو ٹھیک ٹھیک دریافت کرلیا ہے کہ نہیں۔میں تمہیں مثال دیتا ہوں کہ ہمیں دنیا کئی بڑے نام ملتے ہیں جو اپنی کسی شریک حیات کو اپنی سب سے محبوب ہستی کہتے ہیں اور اس سے اپنی محبت کو انتہا کے سب سے آخری درجے کا بتاتے ہیں لیکن ان کی وفات کے بعد وہ کئی اور شادیاں کرتے ہیں اور اپنی زندگی ميں آنے والی ان عورتوں سے ملاحت و محبت بارے زکر کرتے ہیں کیا ان کے ہاں بھی یہی کانٹی جینسی اور ایے سین شی ایل ایٹی باہم ایک دوسرے کے ساتھ چلتی ہوئی ملتی ہے۔مجھے اگر فساد خلق کا خطرہ نہ ہوتا تو میں کئی کیسز تم سے بیان کرسکتا تھا۔کارل مارکس کی جینی سے محبت کتنی شدید تھی لیکن اپنی نوکرانی سے اس کے تعلقات کا بھی ہمیں پتا چلتا ہے اور یہ کانٹی جینسی کا ہی معاملہ کہلائے گا۔جبکہ ہمیں شک نہیں ہے جینی سے اس کی محبت ابدی ، لزومی اور کبھی زوال پذیری کا شکار نہ ہونے والی تھی۔ہمارے ہاں ہرجائی پن ، بے وفائی کے تذکرے ملتے ہیں۔پروین شاکر اپنے محبوب کو ہرجائی کہتی ہے لیکن پلٹ کر پھر اسی کے پاس آنے کا زکر آتا ہے اور “بس یہی بات اچھی ہے مرے ہرجائی کی ” جیسا مصرعہ بھی پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ یہاں بھی کانٹی جینسی اور لزومیت ساتھ ساتھ چلتی ہے۔اور یہ جو میر صاحب نے کہا تھا:

وہ تجھ کو بھولے ہیں تو تجھ پہ بھی لازم ہے میر

 خاک ڈال، آگ لگا ، نام نہ لے

تو کیا واقعی خاک ڈالی ، آگ لگائی اور نام نہ لینے جیسے کیفیت پائیدار ہوسکتی ہے اور اسے لزوم آسکتا ہے؟مجھے لگتا ہے کہ ایسا اکثر ہو نہیں پاتا ،لزومی محبت کو بھلانا کم از کم اکثریت کے بس کی بات تو ہے نہیں۔ساری، تم کہتی ہو کہ میں بنیادی طور پہ ایک بزدل آدمی ہوں جو اپنی کانٹی جینسی کو اور عارضی سچوئشنز کو چھپاکر رکھنا زیادہ پسند کرتا ہوں۔لیکن تم یہ دیکھو کہ میں نے ” لمحاتی محبت ” جیسے تصور پہ یقین نہ رکھنے کی بات کی ہے نہ کہ میں نے یہ کہا کہ وجود کے ایسنس سے ہٹ کر میں خود اپنی نہ بنائی دنیا اور حالات میں گرجانے سے انکار کرتا ہوں۔تعلقات کے بن جانے اور جسے تم کانٹی جینسی کہتی ہو اس میں گرفتار ہوجانے سے میں نے کب انکار کیا ؟ کیا شہر بانو کا قصّہ یاد نہیں ہے تمہیں؟گورنمنٹ کالج لاہور کی یہ لڑکی مرے پاس کتنی تیزی سے آئی تھی اور میں کتنا اس میں انوالو ہوگیا تھا۔لیکن اس نے مجھے تم سے ہمیشہ شرمندہ ہی رکھا۔ساری مجھے تو یہ سارا پروسس ایک وحدت میں پرویا ہوا لگتا ہے۔اور میں اس کے درمیان کوئی لائن کھینچنے سے قاصر ہوں۔مجھے آزادی تھوڑی سی ہچکچاہٹ، تھوڑی سی بزدلی /توقف کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے۔مجھے شہر بانو والا پڑاؤ بھی تمہاری طرف جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔اور میں یہ نہیں سمجھتا کہ ہم پیشن ، سچوئیشنز ، خواہشات ، آزوؤں اور ان سے جڑے اپنے افعال کو کسی سادی سی ریاضیاتی مساوات کی روشنی میں دو جمع دو برابر چار کی طرح تشریح کرنے کی کوشش کریں۔ساری، کنتھرگراس جرمن ادیب نے ایک بار کہا تھا کہ وہ جھوٹ بہت گھڑتا تھا اور اس کی ماں اس کے جھوٹ گھڑنے کو بہت پسند کرتی تھی اور کہا کرتی تھی کہ ایک دن اسی ” گھڑنے گھڑانے ” سے یہ شاندار تخلیق کرے گا۔یار لوگ سیانے ہوکر کبھی اسے فنتاسی اور کبھی میجیکل رئیلزم کہنے لگتے ہیں، محبت اور ہمارے جذبات مجھے لگتا ہے کہ فنتاسی اور طلسماتی حقیقت کے فریم ورک میں کسی حد تک سمجھے جاسکتے ہیں۔اور اس فنتاسی میں کبھی کبھی سب افسانہ نہیں ہوتا۔یہ وہ بات ہے جو تم مجھ سے بار بار کہتی ہو اور بالکل ٹھیک کہتی ہو۔یہاں تک کہ جھوٹ جو گھڑا جارہا ہوتا ہے اس میں جو سچ نہیں ہوتا وہ بولنے والے کا سچ بے شک نہ ہو لیکن کسی اور کا سچ تو ہوتا ہے۔بات خاصی لمبی ہوگئی۔اجازت۔

فقط تمہارا

ع۔ح

Advertisements

زندہ مردے اور کامریڈ روزی خان

 

 

16265825_10212116897306054_466991843944988231_n

کامریڈ روزی خان کی ایک یادگار تصویر

 

 

کامریڈ روزی خان “زندہ مردوں ” کی ایک نہ ختم ہونے والی دوستوں کی فہرست میں اپنا نام چڑھانے سے باز رہ کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

Ironically, it was with General Zia’s coup that Khan was released. It is another matter that he was arrested again and released a little before Bhutto’s hanging. By then, his supporters in the PPP and outside, had formed the Qaumi Mahaz-e-Azadi, of which he was declared the leader. Mairaj Muhammad Khan of the relentless zeal helped form the Movement for the Restoration of Democracy in 1981 and along with Ghulam Mustafa Jatoi, spearheaded the subsequent movement to overthrow General Zia. It was after two years that he was released and that too, upon examination by jail doctors who suggested that he go abroad for treatment.Ironically, it was with General Zia’s coup that Khan was released. It is another matter that he was arrested again and released a little before Bhutto’s hanging. By then, his supporters in the PPP and outside, had formed the Qaumi Mahaz-e-Azadi, of which he was declared the leader. Mairaj Muhammad Khan of the relentless zeal helped form the Movement for the Restoration of Democracy in 1981 and along with Ghulam Mustafa Jatoi, spearheaded the subsequent movement to overthrow General Zia. It was after two years that he was released and that too, upon examination by jail doctors who suggested that he go abroad for treatment.

مجھے لاہور سے ایک کامریڈ ساتھی نے طویل علالت کے بعد کامریڈ روزی خان کے انتقال کی خبر دی تو مرے ذہن میں بے اختیار اوپر والا جملہ آگیا۔اب یہ اتفاق ہی ہے کہ میں ان دنوں فرانز مہرنگ کی کتاب ” کارل مارکس : دی سٹوری آف ہز لائف ” کا متن اور اس کا اردو میں کامریڈ ڈاکٹر شاہ محمد مری کا اردو ترجمہ آمنے سامنے رکھ کر پڑھ رہا ہوں جب مجھے کامریڈ روزی خان کے مرنے کی خبر ملی ہے۔

نوٹ : متن اور ترجمہ اس لئے اکٹھے سامنے رکھے ہوئے ہیں کہ جہاں متن سمجھ نہ آئے وہاں ڈاکٹر شاہ کے ترجمے سے مدد لوں اور جہاں ترجمہ تھوڑا مشکل لگے تو اصل متن سے مدد لے لوں۔ویسے ڈاکٹر شاہ محمد مری نے مہرنگ کی کتاب اردو ترجمہ میں ڈھال کر کوئی کم اہمیت والا کام نہیں کیا ہے۔یہ بہت بڑا کام ہے اور اس اردو ترجمے کی فراہمی کے لئے میں اپنے دوست عابد میر  کا احسان مند ہوں۔

کارل مارکس کے دوست اور اس پہ لافانی کتاب لکھنے والے عظیم مارکس واد انقلابی فرانز مہرنگ نے اپنی کتاب کے ساتویں باب  کے ذیلی عنوان ” فیملی اینڈ فرینڈ ” یعنی ‘ خاندان اور دوست ‘ میں کارل مارکس کے ” زندہ مردہ دوستوں ” سے ملاقاتوں کا زکر کیا ہے۔وہ لکھتا ہے:

And then there was the long list of “the living dead.” It happened occasionally that Marx met a number of the companions of his early philosophic days:

اور پھر جیتے جی مرگئے لوگوں کی لمبی فہرست تھی۔کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ مارکس اپنے اوائل فلسفیانہ دور کے ساتھیوں سے ملا کرتا

اور پھر آگے چل کر لکھتا ہے :

However, even taking the more immediate past, the list of “the living dead” was a long one and it grew longer every year. For instance, there were old friends in the Rhineland: Georg Tung, Heinrich Burgers, Hermann Becker and others. Some of them, like Becker and later on the worthy Miquel, tried to justify their attitude “scientifically,” declaring that before the proletariat could even think of victory the bourgeoisie must be completely victorious over the feudal Junkers. Becker declared: “The material interests of the canaille will bore their way through and through the decaying structure of Junkerdom turning it into dust, so that at the first breath of the world spirit history will simply sweep the whole structure away and proceed nonchalantly to the next item on the agenda.” It was a very pretty theory and no doubt it is still doing good service to many artful dodgers to-day, but when Pecker became Lord Mayor of Cologne, and Miquel Prussian Minister of Finance, they found themselves so attached to “the material interests of the canaille” that they fought tooth and nail against any insolence on the part of the world spirit and against all attempts “to proceed nonchalantly to the next item on the agenda.”

اگر بہت زیادہ ماضی قریب کی بات کی جائے تو ” جیتے جی مرجانے والے احباب ” کی لسٹ بہت لمبی تھی اور ہر سال یہ اور طویل ہوتی جاتی تھی۔مثال کے طور پہ (مارکس کے ) رائن لینڈ میں پرانے دوست چارج تنگ، ہنرخ برجرز ،ہرمن پیکر اور دیگر۔ان میں بیکر اور بعد میں ہمارے عزت مآب میکوئیل نے اپنے (موقعہ پرستانہ ) رویے کو (اپنے تئیں ) سائنسی انداز میں یہ کہہ کر جواز بخشا: پرولتاریہ کو اپنی فتح بارے سوچنے سے پہلے سرمایہ دار طبقے کی جنکر (جاگیردار ) طبقے پہ مکمل فتح یقینی بنانا ہوگی۔پیکر نے اعلان کیا : رذیل ،کمینوں ( سرمایہ داروں ) کے مفادات جاگیرداری کے زوال پذیر ڈھانچے میں چھید کرکے اپنا راستہ بنالیں گے اور اسے دھول میں بدل دیں گے تاکہ تاريخ روح عالم کی پہلی سانس کے ساتھ سارا (جاگیرداری ) ڈھانچہ (خس و خاشاک کی طرح ) اڑ جائے اور ایجنڈے پہ موجود اگلے ہدف ( سوشلزم ) کی طرف سرد مہری سے بڑھا جائے۔اس میں شک نہیں یہ بہت ہی دل کو لبھانے والا خیال تھا اور آج بھی بہت سے دھوکہ باز چالاک لوگوں کے یہ بخوبی کام آرہا ہے۔لیکن جب پیکر کولون کا لارڈ مئیر بن گیا اور میکوئل پروشیا کا وزیر داخلہ تو انہوں نے رزیل کمینوں کے مادی مفادات سے خود کو اس قدر بندھا ہوا پایا کہ وہ عالمی روح کی طرف سے کسی گستاخی کے خلاف اور ایجنڈے پہ موجود اگلے ہدف کی طرف سردمہری سے بڑھ جانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف پوری جان لڑاکر لڑے۔

روزی خان ایک ایسے عہد میں اپنے آخری دن گزار رہے تھے جب ان کے “زندہ مردہ دوستوں ” کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہورہا تھا۔یہ وہ دوست تھے جو رزیل کمینے سرمایہ دار طبقے کی پارٹیوں میں ان پارٹیوں کو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں سے نجات دلانے گئے تھے اور آخری تجزیہ میں خود ان جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے نوکر چاکر ہوگئے تھے۔

میں کرسی پہ بیٹھا ہوا تھا اور مرے ذہن میں کامریڈ سے وابستہ یادوں کی فلم چل رہی تھی۔

میں ہفت روزہ مزدور جدوجہد لاہور کے لئے بحالی جمہوریت کی تحریک کے ترقی پسند ، لیفٹ سرگرم کارکنوں کے انٹرویوز کررہا تھا۔ان انٹرویوز کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ لاہور کی گلیوں ، کوچوں اور سڑکوں پہ بکھری بائیں بازو کی اس جدوجہد کو محفوظ کرلیا جائے جو زیادہ تر سینوں میں موجود ہے اور لیفٹ کے کارکنوں کے ایک کے بعد ایک کی رخصتی کے ساتھ اس کے بھی ہمیشہ کے لئے غائب ہونے کے امکانات بڑھتے جاتے ہیں۔ایسے میں، میں نے بہت سے لوگوں کو تلاش کیا اور ان میں سے کئی ایک انٹرویو مزدور جدوجہد کا حصّہ بھی بنے۔ ان میں سے مجھے ایک ایسے کردار کی تلاش تھی جو موومنٹ فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی –ایم آر ڈی کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد میں شامل بائیں بازو کی فعال جماعت قومی محاذ آزادی کا  ایک سرکردہ رکن تھا اور وہ قومی محاذ آزادی کا ترجمان بھی رہا تھا۔جس سے مری ماضی میں کافی ملاقاتیں ہوچکی تھیں لیکن اس وقت اس کے بارے میں مجھے کچھ علم نہ تھا کہ وہ کہاں ہے اور کیا کررہا ہے؟کیونکہ یہ وہ دور تھا جب قومی محاذ آزادی کو ختم ہوئے عرصہ بیت چکا تھا اور لیفٹ کی تحریک پہ سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔کیمونسٹ فکر کے کئی ستون سوویت یونین کے زوال کے بعد ایک دم سے لبرل بن گئے تھے یا وہ این جی اوز کی تشکیل کے ہراول دستہ بن چکے تھے۔کچھ دوست اب سیزنڈ سیاست دان کہلاتے تھے اور زیادہ سے زیادہ اپنے لئے لبرل ترقی پسند ، روشن خیال ہونے کا ٹائٹل پسند کرتے تھے اور چونکہ وہ جس سرمایہ دار پارٹی میں تھے اس پارٹی کی قیادت امریکی سامراج کو مائی باپ مان بیٹھی تھی تو سامراج کا نام تک ان کی سیاست کی بھاشا سے غائب ہوگیا تھا۔اگرچہ بورژوا سیاست میں وہ نفیس آدمی شمار کئے جاتے تھے۔ایسے میں خبر مل جاتی تھی کہ جسے میں تلاش کرتا ہوں وہ اب بھی اپنے نظریات کے ساتھ پختگی سے کھڑا ہے لیکن اس کا کوئی مستقل ٹھکانا معلوم نہیں ہوتا تھا۔ایک دن ایسے ہی میں لیبر پارٹی پاکستان کے دفتر 40۔ایبٹ روڈ پہ بیٹھا ہوا تھا تو معروف افسانہ نگار قمر یورش مرحوم وہاں چلے آئے۔ویسے وہ رات اسی دفتر میں گزارتے تھے کیونکہ ان کے پاس کوئی اور ٹھکانہ تھا ہی نہیں رات سونے کا۔کامریڈ فاروق طارق جو کہ اس وقت لیبر پارٹی پاکستان کے سیکرٹری جنرل تھے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اچانک کہا کہ وہ آج گئے تھے تو انار کلی میں ایک پھٹے پہ مل گئے تھے وہ کامریڈ جن کی مجھے تلاش تھی۔پتا چلا کہ شربت کا پھٹہ لگایا ہوا ہے اور شربت بیچ رہے ہیں۔میں نے جلدی سے اجازت لی اور نے باہر رکشہ پکڑا اور انار کلی بازار اتر گیا۔اور تھوڑی دور چلا تھا کہ وہ مجھے آواز لگاکر شربت بیچتے نظر آگئے۔بہت پرسکون ہوکر بیٹھے تھے۔تھوڑا سا وزن عمر بڑھنے کے ساتھ بڑھ گیا تھا۔کلین شیو تھے حسب معمول اور وہی گھنگھریالے بال ، چھوٹی چھوٹی آنکھیں اور موٹے سوجے سوجے پپوٹے ،شلوار قمیص پہنے ہوئے ، زرا پستہ قد کے ہمارے کامریڈ ، مجھ پہ نظر پڑی تو ایک دم سے مرا نام لیکر آواز دی تو مجھے پتا چل گیا کہ یاد داشت بھی اسی طرح سے شارپ اور تیز ہے کوئی فرق نہیں پڑا۔ان کے پاس وہیں پھٹے پہ بیٹھ گیا اور کہنے لگے ” تمہیں کس نے پتا دیا یہاں کا ؟ ۔ قمر یورش نے میں نے کہا ، اچھا، وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے تو گئے تھے یہاں سے اٹھ کے، تمہیں کہاں ملے ، لیبر پارٹی کے دفتر میں ، میں نے بتایا تو ایک لمبی سے ہوں کی اور مری طرف دیکھنے لگے۔

میں نے کہا کامریڈ! آپ کا انٹرویو کرنا ہے ، کچھ چیزیں لینی ہیں آپ سے ، آپ کی جدوجہد کے بارے میں

کہنے لگے انٹرویو تو بھائی بڑے آدمیوں کے ہوتے ہیں ، دانشور ، فلسفیوں کے ہم تو لیفٹ کی سیاست کے “دھڑے ورکر ” تھے ۔ یہ دھڑا کیا ہوتا ہے کامریڈ؟ میں نے پوچھا ، تو کہنے لگے بھئی جو پیچھے امام کے اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لیتے ہیں اور جو امام کرتا ہے وہی وہ کرتے ہیں۔ہم نے خان صاحب (معراج محمد خان مرحوم ) کو امام بنایا ہوا ہے بس انہی کے پیچھے چلے جاتے ہیں۔

میں نے ان سے کہا کہ پھر کچھ بتائیے نا،اس کے بعد انھوں نے ایم آر ڈی کی تحریک ، لیفٹ کی سیاست 80ء کی دھائی میں کی تصویر گھینچ کر مرے سامنے رکھ دی۔میں نے ان سے کہا کہ آپ کو یاد ہے جب محترمہ بے نظیر بھٹو اس ملک میں اپنی خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے واپس آئی تھیں اور دن بدن پاکستان پیپلزپارٹی کا گراف اوپر جارہا تھا۔پی پی پی کی پاپولسٹ سیاست کا توتی بول رہا تھا۔محترمہ بے نظیر بھٹو سے قومی محاز آزادی اور این ایس ایف کے کئی راہنماؤں کے رابطے ہوچکے تھے اور یہ خبریں بھی آرہی تھیں کہ قومی محاذ آزادی اور اس کا حمایت یافتہ این ایس ایف کا گروپ سارے کا سارا پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرنے والا ہے اور اس حوالے سے اقبال حیدر ، سید امیر کاظمی ، علمدار حسین ، حبیب اللہ شاکر کے نام بار بار سننے کو مل رہے تھے۔تو آپ کا ایک بیان چھپا تھا اخبارات میں جس میں آپ نے قومی محاذ آزادی کے تحلیل ہونے اور پی پی پی میں ضم ہونے کی تردید کی تھی۔ تو کیا چیز مانع رہی اور کونسی بات نے آپ کو جانے نہیں دیا تم ہمارا کامریڈ بے اختیار کہنے لگا ، ہمارے دوست جن میں پرویز صالح بھی آگے آگے تھے کہتے تھے کہ پی پی پی میں جاکر وہ سوشلزم کا راستہ آسان کردیں گے اور ان کو عوام کے بڑے بڑے حلقوں تک رسائی ملے گی اور ایسے وہ بائیں بازو کے خیالات کو مین سٹریم دھارے میں لیکر آجائیں گے۔لیکن ہوا کیا؟ جو نام آپ نے لئے وہ امریکی سامراج کی چاکری کرنے سے پی پی پی کو نہ روک سکے اور پی پی پی کی قیادت کی کسی ایک موقعہ پرستی کے آگے کوئی روکاوٹ ان سے کھڑی نہیں ہوئی اور آج پی پی پی میں وہ زیادہ سے زیادہ ایک جمی جمائی مڈل کلاس کی نمآئندگی کرتے ہیں یا سیاست سے فارغ البال ہوگئے اور ان میں سے کچھ مرے تو پیچھے کوئی بھی لیفٹ کا ورثہ چھوڑ کر نہیں گئے۔ہاں ایک کام ہوگیا ہے کہ ان کے بچّے سکون سے ہیں ، اتنا ہے کہ جس سے اپر مڈل کلاس لائف گزاری جاسکتی ہے۔یہ لب لباب تھا اس کامریڈ کا جسے دنیا روزی خان کے نام سے جانتی ہے جس کو سننے کے لئے آلہ سماعت سے کام لینا پڑتا تھا۔

کامریڈ ایک کل وقتی بائیں بازو کے سیاسی کارکن تھے لیکن روزی روٹی کرنے کے لئے وہ سردیوں میں لنڈے کے گرم کپڑے فروخت کرنے اور گرمیوں میں شربت بیچنے سمیت مختلف قسم کے کام کرلیا کرتے تھے۔جب سماج زرا تھک جاتا اور کوئی تحریک نہ چل رہی ہوتی اس وقفے میں روزی خان روزی روٹی کا سامان کرتے اور جب کوئی تحریک زور پکڑتی تو وہ اس تحریک کا حصّہ بن جاتے تھے۔جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف قومی محاذ آزادی کے جیالے کی حثیت سے انھوں نے بھرپور حصّہ لیا اور پھر موقعہ پرستی ، بدعنوانی ، کی جب تند و تیز ہوا چلی تو انھوں نے اس وقت بھی موقعہ پرستی کی ہوا کے رخ پہ چلنا گوارا نہ کیا ،جنرل مشرف کے خلاف سیاسی تحریک میں بھی وہ سرگرم رہے۔ایک دن وہ لیبر پارٹی کے دفتر آئے تو ایک بورا کاغذوں کا بھرا ہوا تھا ، مجھے پتا چلا کہ اس میں بائیں بازو کا اور خاص طور پہ قومی محاذ آزادی کی جدوجہد کا ریکارڈ ہے۔اب جھے نہیں پتا کہ اس کا کیا ہوا؟میں نے ان سے کہا تھا کہ وہ اپنی جدوجہد کا ایک بیان روانی میں ریکارڈ کروادیں جو بعد میں مرتب ہوسکتا ہے۔یہ وہ بات ہے جو میں اکثر تجربہ کار ایماندار سیاسی کارکنوں سے کہتا رہا ہوں کہ کم از کم گراس روٹ لیول پہ دائیں اور بائیں بازو کے انتہائی منجھے ہوئے ان سیاسی کارکنوں کا ایک ریکارڈ مرتب ہوجائے جو 70ء سے لیکر 80ء تک کی پرآشوب سیاست میں پوری طرح فعال تھے اور اس سے کم از کم ہمیں یہ سمجھنے میں مدد مل سکے گی کہ ہم نے سیاست میں کن روایات کو کھودیا ہے۔روزی خان جیسے کارکن اپنی جدوجہد اور نظریات سے وابستگی کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے اور آنے والے سیاسی کارکن ان کو لال سلام کہتے جائیں گے۔

منٹو مرگیا تب اچھا ہوا

 

 

منٹو کے پسندیدہ افسانہ نگار گائے ڈی موپساں نے لکھا تھا،

“ماضی مجھے لبھاتا ہے، حال مجھے ڈراتا ہے کیونکہ مستقبل موت ہے “

 

آج کے دن 18 جنوری 1954ء کو اردو کے شہرہ آفاق افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی جسمانی موت واقع ہوگئی تھی۔اس کی جس دن موت واقع ہوئی اسی روز اردو ادب کو تاریخ ، معاشیات ، نفسیات ، فلسفہ ، عمرانیات اور یہاں تک کہ تھیالوجی کو بھی اپنے مطابق سچی اسلامی روح کی عکاس بنانے والے اسلام ازم، جہاد ازم، لا شرقیہ ولا غربیہ اسلامیہ ، اسلامیہ کے نعرے بلند کرنے والوں کو بہت خوشی ہوئی تھی۔منٹو ان کے نزدیک جہنمی تھا سو ان کے ہاں یہ خس کم جہاں پاک والا معاملہ تھا۔جبکہ ستم ظریفی یہ تھی کہ جن کا قبلہ ماسکو تھا جن کی ترقی پسند اور روشن خیالی کے جملہ تصورات پہ بلاشرکت ٹھیکے داری تھی وہ بھی سعادت حسن منٹو بہت پہلے رد کرچکے تھے۔ان کے ہاں بھی منٹو کا ادب پاکستان کے اندر اشتراکی انقلاب کی راہ میں روکاوٹ بن گیا تھا۔انھوں نے بھی خیال کیا کہ چلو قصّہ تمام ہوا۔یہ اور بات کہ بعد کے عشروں میں منٹو کے ادب پہ ملکیت جتانے کے دعوے دار ادب برائے ادب والے بھی ہوئے اور ادب برائے زندگی والے بھی ہوئے۔جبکہ اسی ادب برائے ادب کے اندر سے ہی ایک اور ادب کی شاخ نکلی جسے آج آپ اگر “ادب برائے جہاد ” اور ” ادب برائے تکفیر ” کہہ دیں تو کچھ مبالغہ نہ ہوگا۔اور آپ اگر ” ادب برائے جہاد ” اور “ادب برائے تکفیر ” تخلیق نہیں کرتے اور ” ادب برائے زندگی ” کو منٹو کی جیسی نظر سے دیکھتے ہیں تو آپ کو اس کے نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

ہندوستان کے ناول نگار رحمان عباس نے اپنی آنکھ کو منٹو کی طرح ایکسرے کی آنکھ بناکر ہندوستانی سماج کو دیکھنے کی کوشش کی اور اس نے ممبئی میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد کی صورت حال پہ جب ایک ناول لکھا تو ایک مسلم نوجوان طالبہ نے ان پہ فحاشی کا الزام عائد کیا۔ آبسینٹی کے الزام میں رحمان عباس پہ ایک مقدمہ درج ہوا اور کئی سال یہ مقدمہ چلتا رہا۔انھوں نے اس حوالے سے ایک رات حوالات میں بھی گزاری اور اپنا تجربہ انھوں نے ایک مضمون ” منٹو کا احساس اذیت” میں شئیر کیا ہے۔ ان پہ فحاشی کا الزام لگا ، جبکہ اردو کے ایک اور مایہ ناز افسانہ نگار ، پتریکا کار (صحافی ) ساجد رشید پہ تو سیدھا سیدھا بلاسفیمی کا الزام لگا تھا۔اور ان پہ قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا لیکن ان کی قسمت اچھی تھی بچ گئے اور پھر اس کے بعد کئی سال زندہ رہے، بھرپور ادبی زندگی گزاری اور اپنی طبعی موت مرے۔ایف ایم حسین پہ بھی توہین مذہب کا الزام لگا مگر وہ بھی ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد طبعی موت مرے۔عبدالماجد دریا آبادی برٹش سامراج کے دور میں اپنی نوجوانی میں ملحد ہوئے اور انھوں نے اس زمانہ الحاد میں مذہب بارے جن خیالات کا اظہار کیا ان پہ کفر کے فتوے تو لگے لیکن نہ تو وہ گھر سے بے گھر ہوئے اور نہ ہی کسی نے ان کو راہ چلتے میں قتل کیا لیکن جب خود مولوی ہوئے تو اپنی تحریروں سے کیا سیکولر ، کیا لبرل اور کیا کمیونسٹ سب کا ناطقہ بند کردیا اور جب انگارے چھپ کر آئی تو ان کی تحریریں بھی مذہبی انگاروں سے بھر گئیں اور انھوں نے کسی کو نہ بخشا۔سوچتا ہوں کہ آج اگر عبدالماجد دریا آبادی کہیں ملحد ہوئے ہوتے اور وہ سب کچھ لکھتے جو انھوں نے اس دوران الحادیت میں رقم کیا تھا تو کسی اقبال کو ، کسی اشرف علی تھانوی کو اتنی مہلت ملتی کہ وہ عبدالماجد دریا آبادی سے مکالمہ کرتا اور اپنی رہ پہ چلانے میں کامیاب ہوجاتا اور آج جو اپنے سے اختلاف کرنے والوں کو فوری گردن زدنی قرار دے ڈالتے ہیں اور ساتھ ہی عبدالماجد دریا آبادی کی آب بیتی پڑھنے کی نوجوانوں کو تلقین کرتے ہیں ان کے پاس ایسی کسی آب بیتی کا وجود ہوتا؟مرے ذہن میں پھر یہ بات بھی آتی ہے کہ ملحد قرار دیکر یا بلاسفیمر قرار دیکر لوگوں کے سر مانگنے کی آج جو ریت چل نکلی ہے اگر یہ ریت اس طرح سے اس زمانے میں ہوتی جب غزالی بقول ان کے “گمراہی ، کفر اور الحاد ” کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے تو کیا غزالی کو اس گمراہی کے اندھیرے سے باہر آنے کا موقعہ مل پاتا؟ اور کیا غزالی ” المنقذ من الضلال ” جیسی آپ بیتی لکھ پاتے؟

منٹو نے اگر آج ” ٹوبہ ٹیک سنگھ ” لکھا ہوتا تو کیا پاکستان میں ان پر غداری کا مقدمہ نہ چلایا جارہا ہوتا ؟ منٹو کی آنکھ جیسے چیزوں کو دیکھتی تھی اور انھوں نے خاکہ نگاری میں اپنا جو اسلوب قائم کیا تھا اس اسلوب کے تحت منٹو آج مولوی عبدالعزیز، لدھیانوی ، حافظ سعید ، اورنگ زیب فاروقی ، اسامہ بن لادن کے خاکے لکھتے تو کیا اس کے بعد ان کے زندہ رہنے کی ضمانت دی جاسکتی تھی۔اور اگر منٹو کا قلم راحیل شریف کا خاکہ ان کے حاضر سروس آرمی چیف ہونے کے دوران لکھ ڈالتا تو کیا منٹو ویسے نہ غائب ہوگیا ہوتا جیسے سندھی دانشور استاد محمد راحموں غائب ہوگئے یا واحد بلوچ غائب ہوئے تھے۔منٹو نے امریکی سامراجیت کے عروج پہ چچا سام کے نام خطوط لکھے تھے اور آج وہ زندہ ہوتے تو وہ اسی فنکاری اور طنز کے نشتر چلاتے ہوئے ” چچا ڈینگ یانگ پنگ ” کو خطوط لکھتے اور ان خطوط میں وہ سی پیک کے بارے میں وہ سارا سچ لکھ ڈالتے جسے لکھنے سے چین کے سرکاری دورے کرنے والے ادیبوں کے قلم قاصر ہیں تو کیا وہ ” مسٹر گمشدہ ” نہ ہوگئے ہوتے ؟ اور ان کی گمشدگی کے دورانیہ میں ان کے افسانوں، خاکوں، کالموں ، ڈراموں سے کفر ، الحاد ، بلاسفیمی ، گستاخی ڈھونڈی نہ جارہی ہوتیں اور پھر کوئی پاکستان سول سوسائٹی نامی تنظیم تھانہ مال روڈ پہ لکشمی مینشن کے رہائشی سعادت حسن منٹو کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 اے، بی اور سی کے تحت اندراج مقدمہ کی درخواست نہ دے چکی ہوتی ؟ اور پاکستان کے دینی مدارس کی ایک بہت بڑی تعداد کے مفتیان کرام کے دستخطوں کے ساتھ منٹو کی کتابوں کو جلانے اور اس کو پھانسی پہ چڑھائے جانے کا فتوی نہ سامنے آگیا ہوتا ؟ اور اس طرح سے ریاست اور حکمران طبقہ ایک طاقتور باغی آواز کو اس طرح سے دبا دینے کے قابل نہ ہوگیا ہوتا کہ اس کے دامن پہ کوئی چھینٹ نہ ہوتی اور خنجر بھی اس کا نہ کہا جاسکتا۔

میں نے جب پہلی بار منٹو کی موت کا قصّہ پڑھا تھا تو مجھے بہت ترس آیا اور بہت غصّہ بھی۔لیکن جب کوہسار مارکیٹ اسلام آباد میں ایک ریسٹورنٹ کے سامنے میں نے سلمان تاثیر کی لاش پڑے دیکھی اور اردن کی سپریم کورٹ کی سیڑھیوں کے سامنے ناھض حتر کے جسم کو گولیاں کھانے کے بعد تڑپتے دیکھا ، اور کراچی کی ایک سڑک پہ مین خرم زکی کا جسم تڑپتے دیکھا اور اس کے بعد قاتلوں کی شان میں بڑے بڑے قصیدے لکھے دیکھے تو مرے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ اچھا ہوا منٹو 1954ء میں خون تھوکتا ہوا مرگیا اور اس کے مرنے کے بعد آج تک اس کی موت کے مبینہ ذمہ داروں پہ لعنت کی جاتی ہے اگر منٹو آج مرا ہوتا تو اس کی موت پہ سوگ کا اظہار کرنے سے پہلے سو دف،ہ سوچنا پڑتا کہ اس صورت میں آپ بھی اسی انجام سے دوچار کئے جاسکتے ہیں۔

سبط حسن نے موسی سے مارکس تک، پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء ، ماضی کے مزار ، انقلاب ایران  اور اس زمانے میں ہفت روزہ لیل و نہار ، پاکستان ٹائمز میں جو لکھ ڈالا تھا اگر آج لکھتے تو نجانے ان کا کیا حشر ہوا ہوتا ؟

سلمان حیدر نے تو اپنی نظموں میں کچھ بھی نہیں لکھا جو ان سے کسی سو سال پہلے عباسیوں کے زمانے میں عرب شاعر ابن راوندی لکھ گیا یا جو کچھ متنبی نے لکھا تھا اور سلمان حیدر نے اپنی نثری تحریروں میں وہ کچھ بھی نہیں لکھا جو نوآبادیاتی دور میں ہمارے ہاں بہت سے ترقی پسند اردو شاعر ،ادیب لکھ گئے۔اور جوش ملیح آبادی جیسا آدمی جس نے اپنے دھریہ ہونے کا اعلان بار بار کیا اور اس نے جو باتیں لکھیں آج اگر لکھتا تو اس کا نجانے کیا حشر ہوتا ؟

آپ دیوبند والوں کے پاس جائیں ، آپ اہل حدیث والوں کے پاس جائیں ، آپ شیعہ کے پاس جائیں اور ان سب کے پاس جائیں جن کے ہاں سے مار دو ، جلا ڈالو کی صدائیں بلند ہوتی ہیں اور ان سے پوچھیں کہ ابوالکلام آزاد کیسے آدمی تھے تو سب آپ کو کہیں گے کہ کیا شاندار آدمی تھا؟ امام الھند کا لقب ان کے منہ سے نکلے گا لیکن آپ ان سے کہہ کر دیکھیں کہ آج فلاں آدمی ہے جو وحدت ادیان کا قائل ہے تو یقین کریں وہ اس پہ فوری بلاسفیمی کا الزام لگاڈالیں گے اور اس کا سر مانگ لیں گے اور پھر آپ کہیں کہ یہ بات تو ابوالکلام آزاد نے کہی تھی پھر ان کی بولتی بند ہوتے دیکھئے گا۔آپ فصوص الحکم ، یا فتوحات مکیۃ کی عبارتوں کا آزاد ترجمہ کریں اور اسے کسی دار الافتاء مين بھیج دیں تو آپ کو کفر کے فتوے فوری مل جائیں گے اور جب آپ نے شیخ ابن عربی کا نام لیا یا آپ نے مثنوی کی کسی رباعی کا  نثری ترجمہ کرکے فتوی مانگا تو آپ کو فوری کفر کا فتوی مل جائے گا اور اس فتوے کو لیکر آپ کسی تھانے چلے گئے تو تھوڑی سی دیر بعد 295 اے/بی /سی کے تحت ایف آئی آر بھی مل جائے گی لیکن آپ نے کتاب اور صاحب کتاب کا نام بتایا تو کبھی جواب نہیں ملے گا ۔حیدر جاوید سید کہتے ہیں کہ 20 کروڑ کی آبادی میں آپ کو 10 کروڑ مفتی ، جج اور جلاد ہر وقت مل سکتے ہیں۔مجھے اسی لئے موپساں کا قول بہت بھایا تھا کہ ماضی اچھا لگتا ہے، حال ڈراتا ہے اور مستقبل موت نظر آتا ہے۔منٹو مرگیا تھا 54ء میں بہت اچھا ہوا تھا۔

 

ستائیسواں خط

627897f9bed6d3308bebdcdde7d24b98

ستائیسواں خط

 

پیاری ساری!

اس بار تمہارا خط ملا تو ساتھ ہی دل سے عجیب سی بے چینی بھی ختم ہوگئی،کیونکہ تمہارا خط ملنے سے تھوڑی دیر پہلے میں نے اس ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی لڑکی کو جون 1929ء میں سارتر کا سیمون دی بووا کو لکھا محبت نامہ ارسال کرکے بین السطور میں اسے بتادیا تھا کہ میں اس کی صحبت کو انجوائے کررہا ہوں۔اور اس کی صحبت میں مجھے سکون ملتا ہے۔اگرچہ یہ صحبت ٹیلی کمیونی کیٹک ہی سہی۔لیکن مجھے لگتا ہے جیسے اس مواصلاتی صحبت میں بھی کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی حد تک جسمانی صحبت جیسا لطف آتا ہے۔اگرچہ بے چینی ہر مواصلاتی صحبت کے بعد اور بڑھ جاتی ہے۔تمہارے کہنے پہ میں ہر خط آن لائن کرتا جارہا ہوں لیکن لوگ تمہارے اور مرے تعلق کی نوعیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں،ویسے جو آن لائن مرد و عورت مرے سوشل میڈیا فرینڈ ہیں پاکستانی پس منظر سے خاص طور پہ انھیں تم سمجھ ہی نہیں آرہی ہو کہ کیسے اپنے ساتھ جڑے ایک آدمی کو تم دوسری عورتوں بارے گفتگو لکھتے دیکھ کر برداشت کرتی ہو۔ویسے یہاں اکثر پاکستانی روشن خیال مگر لوئر مڈل کلاس پس منظر کی عورتیں مردوں کا بیک وقت کئی عورتوں کی طرف التفات دیکھ برسبیل تذکرہ اپنے لئے بھی ایسی آزادی کی مانگ کرتی ہیں اور ساتھ ہی ایک دم سے کہتی ہیں کہ اس مانگ کے جواب میں سیدھی گولی مقدر بنے گی۔اور مری ایک نہایت ہی محترم و مکرم دوست خاتون نے بتایا کہ ایسی مانگ پہ لادین مرد بھی دین سے جواب ڈھونڈ لاتے ہیں۔ویسے مجھے تمہارے ہاں پاکستان میں ایسی دو سے تین خواتین بارے پورا یقین ہوگیا ہے کہ وہ ہماری طرح معاملے کی تہہ تک پہنچ چکی ہیں اور اس لئے ان کے ہاں ترحم آمیزی کی زرا رمق دکھائی نہیں دیتی۔ایک تو وہی شاعرہ ہے جو خیالات کے ساتھ ساتھ جسمانی خدوخال کے ساتھ بھی حسین ترین ہے۔اور ایک عورت وہ ہے جسے میں کہتا ہوں کہ وہ ساری! تمہارے جیسی مثالی عورت بننے کے عمل سے گزر رہی ہے۔لگتا ہی نہیں ہے یہ وہ دھان پان سی لڑکی ہے جو دو سالوں پہلے رات کے دو بجے تک اپنی طب کی کتابوں میں کھوئی رہتی تھی۔چش مش سی اور بالکل سادہ سے خیالات رکھنے والی مگر اب تو اسے زرا چھیڑو اور سنو پھر عتاب کی باتیں۔تمہاری جیسی عورت بننے کے عمل سے گزرنے والی یہ ہستی مجھے ان معنوں میں اچھی نہیں لگتی جن معنوں میں ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی جرمنی میں قیام پذیر وہ لڑکی لگتی ہے جسے بار بار ٹیلی کام میں کام کرنے والی کہہ کر مجھے بڑی مسرت ملتی ہے۔بس یہ مجھے محض اپنی رائے کی وجہ سے پسند ہے۔ساری،تمہیں یاد ہے کہ ہم پہلے ایک دوسرے کے دوست بنے تھے اور پھر تم نے ایک دن مجھے کہا تھا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہوگئی ہے اور تم مجھ سے ریلشن رکھنے کی خواہش مند ہو،یہ وہ الفاظ تھے جو میں تمہیں کہنا چاہتا تھا لیکن مرے اندر ایک بہت بزدل انسان چھپا ہوا تھا جسے سب سے پہلے تم نے ہی پہچانا تھا اور پھر مری اس بزدلی کو اپنی محبت سے سات سمندروں کی گہرائی میں دفن کردیا تھا۔تم نے مجھے کہا تھا کہ ہم ایک اوپن ریلشن میں رہیں گے اور سچی بات ہے مجھے بالکل ویسے ہی سمجھ نہیں آئی تھی جیسے آج مرے کئی دوستوں کو سمجھ نہیں آرہی ہے۔کیا تمہارے پاس اب بھی وہ ویڈیو کیسٹ موجود ہے جس میں وہ فلم کاپی ہوئی جس کا نام ” سارتر بائی ہم سیلف ” تھا۔مجھے اس فلم میں سارتر کا وہ انٹرویو نہیں بھولتا جسے تم نے پلے کرکے مرا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا کہ سمجھو یہ سارتر نہیں کہہ رہا بلکہ تمہاری ساری کہہ رہی ہے،اور تم نے مجھ سے کہا تھا کہ آؤ اس سین کو ہم مل کر دوبارہ سے کرتے ہيں۔اور تم نے مکالموں میں تذکیر کو تانیث سے اور تانیث کو تذکیر سے بدل دیا تھا۔مجھے کافی مزا آیا تھا۔آج جب تمہیں یہ خط بیٹھا لکھ رہا ہوں تو مجھے وہ سین جو تم نے  اپنے اوپر خیال میں فلمبند کیا تھا ایسے نظر آرہا ہے جیسے ابھی ابھی تم اسے فلمارہی ہو۔”ہاں ميں صحبت نازک خیالاں مگر مردوں کی صحبت کو ترجیح دیتی ہوں،کیونکہ اس کی ایک وجہ تو جسمانی ہے ، یہ درست ہے کہ یہاں بہت بدصورت مرد بھی ہیں لیکن میں خوبصورت مردوں کو ترجیح دیتی ہوں یہ اور بات ہے کہ مرا محبوب اول اور سب سے زیادہ میری روح پہ قابض ایک واجبی سی صورت والا مرد ہے ( یہ سنکر میں خوب ہنسا تھا)۔میں حسین مردوں کو لبھاتی ہوں۔مگر اپنا آپ صرف اسی واجبی صورت والے اپنے محبوب پہ کھولتی ہوں۔اور ہاں میں اور مرا محبوب مرد ایک ایسا کپل ہیں جو آزاد اور خودمختار بندھن میں بندھے ہوئے ہیں جس میں مجھے حسین مردوں کو لبھانے اور اسے حسین عورتوں کو لبھانے کی اجازت ہے۔اور ہمیں افئیرز پہ کوئی اعتراض نہ ہے،یہ اوپن ریلیشن ہے جس مں جیلسی اور کلیس پن نہیں ہے”۔تمہیں یاد ہے وہ باجوہ اور پلوشہ کپل ، جنھوں نے یونیورسٹی میں ہی شادی کرلی تھی اور وہ کہتے تھے کہ ” ہم اوپن میرج کیے ہیں”۔یہ کئے ہیں بھی کمال تھا ، کتنا خوبصورت لگتا تھا ان کے منہ سے یہ جملہ۔اور ایک مرتبہ جب آمنہ نے پلوشہ سے پوچھا کہ تم اپنے شوہر کی جمال پرست طبعیت کیسے برداشت کرتی ہو ؟ تو اس نے کمال کی بات کہی تھی کہ ایک تو وہ برداشت نہیں کرتی بلکہ اس کی مرضی اس ميں شامل ہے اور دوسرا وہ

بورژوا “ڈی سے سینسی ” میں پہ سرے سے یقین ہی نہیں رکھتی۔مطلب اپنی بیوی کو بھی یقین دلانا کہ وہ ہی بس وہی اس کی توجہ کا مرکز اور خفیہ طور پہ کئی اور افیئرز بھی چلانا اور ہر عورت سے بس ستی ساوتری بنے رہنے کا مطالبہ بھی دوہراتے چلے جانا۔مجھے تو یہ بورژوا ڈی سین سی بہت بڑھیا اصطلاح لگی تھی ۔ویسے تم بھی تو خوب ہنس رہی تھیں پلوشہ کے منہ سے یہ سب سنکر۔جس دن تم نے مجھے اپنے پیار بارے بتایا تھا اس دن پہلی بار مجھے پتا چلا تھا کہ تم مجھے کیوں سیمون دی بووا کے خطوط کے وہ حصّے پڑھ کر سناتی تھیں جس میں وہ سارتر کی سکن ، اس کے دانتوں کی صفائی سے بے پروائی برتنے، اس کی میل” اگلی نیس ” یعنی مردانہ بدصورتی سی دکھائی پڑنے ، خوب ڈرنک کرنے ، فیشن بارے کھکھ نہ جاننے کے باوجود اس پہ مر مٹنے کا زکر کرتی ہے۔مرے ذہن میں پرائم آف لائف کی لائنیں گزر رہی ہیں جس میں بوووا نے سارتر کے ساتھ اپنے تعلق میں روائتی میرج بانڈ کو فالتو کی چیز قرار دیا اور اپنے و سارتر کے درمیان تعلق کو ” سول میرج / روح کی شادی ” سے تعبیر کیا۔تم وہاں کراچی میں نارتھ ناظم آباد کے بلاک میں اسی پرانے سے گھر میں ہو اور میں یہاں پیرس میں ایک سستے فلیٹ میں لیکن کیا یہ واقعی کوئی ایسی چیز ہے جو تمہارے اور مرے درمیان محبت پلس کامریڈ شپ کے بانڈ کے آڑے آسکتی ہے؟ویسے مجھے سارتر اس وقت زرا اچھا نہیں لگا تھا جب اس نے سیمون دی بووا سے یہ شرط رکھی کہ وہ دونوں افئیرز میں آزاد ہوں گے لیکن اپنا ہر تجربہ ایک دوسرے سے شئیر کریں گے۔یہ شئیرنگ اگر کسی شرط کے رکھے جانے کے بغیر ہوتی تو مجھے اعتراض نہ ہوتا۔کیا “اے سن شیل لو / ابدی محبت ” میں جڑے دو اشخاص کو یہ شرط رکھنا ضروری ہے کہ وہ اپنی عارضی محبتوں/کانٹی جینٹ لو کو لازمی ایک دوسرے سے شئیر کریں۔ویسے ساری! میں سوچتا ہوں کہ وہاں ایشیا اور مڈل ایسٹ میں اکثر مرد و عورتیں کانٹی جینٹ لو /عارضی محبتوں کے انبار تلے دب کر ایے سین شیل /ابدی محبت کو کہیں گم کر بیٹھتے ہیں۔میں اس حقیقت سے انکار نہیں کروں گا کہ ساری تمہارے کانٹی جینس لو میں جب کبھی کوئی نیلسن الجرین (سیمون دی بووا کا کانٹی جینس لور ) یا کلاڈین جےزمان (دوسرا کانٹی جینس لور) آیا تو میں نے جیلسی محسوس کی لیکن تم نے ہی تو مجھے کہا تھا کہ جیلسی ہماری آزادی کی دشمن ہوتی ہے اور یہ ہمیں کنٹرول کرتی ہے اور ہمیں مغلوب کرتی ہے جبکہ ہمیں اس پہ کنٹرول کرنا سیکھنا ہوگا۔یہ بھی تم نے اور میں نے اسی فرنچ فلسفی کپل سے سیکھا تھا۔لیکن ساری! کیا میں اور تم واقعی ویسا بننا چاہتے تھے جیسے یہ فرنچ کپل تھا؟نہیں نا؟ کیوں ؟ ہمارے اندر وہ جسے مشرقیت کہتے ہیں یا جسے رسوم ورواج سے بھری حدود و قیود کہا جاتا ہے کہاں سے در آئی تھیں جب اس لمحے میں اس فرنچ کپل سے ہمیں شدید نفرت سی محسوس ہوئی تھی جب تمہارے اور مرے ہاتھ سارتر کے نام لکھے بووا کے وہ سارے غیر ایڈٹ خط لگے تھے جسے بووا کی لے پالک بیٹی نے 1990ء میں شایع کرڈالے تھے۔کیا ہم یہ کرسکتے ہیں کہ کسی کم عمر کو پڑھانے، لکھانے، فلسفے کی بلندیوں تک پہنچانے کے نام پہ لبھائیں اور اور ان کم سن لڑکیوں کو اپنے بیڈ تک لانے کی سبیل کریں؟ اور یہ سب اس لئے کریں کہ ہماری خواہش انسیسٹ سیکس میں اپنے بچوں کے ساتھ سونے کی ہو۔جیسے سارتر پولش اولگا کے ساتھ نہ سو سکا تو اس نے اس کی بڑی بہن کے ساتھ سونے کو ہدف بنا لیا۔ساری ایسا کانٹی جینس / عارضی محبت و پیار تو نہ تمہارے بس کی بات تھی اور نہ مرے بس کی بات ہے۔اس پہ اگر کوئی تمہیں اور مجھے یہ کہے کہ آخر میں کمبخت تم دونوں مشرقی ہی نکلے نا یا تمہیں ایک دبّو مشرقی عورت کہے اور مجھے ایک ڈرا ہوا مشرقی مرد کہے تو ہمیں زرا برا نہیں لگے گا۔خواہشات اگر جئینس کے ہاں غالب آنے لگ جائیں تو اس کا علم گھلنے لگتا ہے اور ایول نیس ترقی کرنے لگتی ہے۔ساری! سلطان باہو اسے نفس پلیتی کہتے تھے اور مجھے اس بات کی سمجھ سیمون دی بووا کے سارتر کو لکھے گئے خطوط میں ان کی جنسی وارداتوں کے تذکرے پڑھنے کے بعد آئی۔مجھے اعتراف کرنا ہے کہ میں نے سارتر کی طرح اپنے تخیل کی پرواز میں کبھی ترقی کانٹی جینس لو کے دوران محسوس نہیں کی۔اور نہ مجھے کبھی اپنی سینس سبلٹی میں کچھ اضافہ ہوتا محسوس ہوا جو سارتر کے بقول اسے محسوس ہوتا تھا۔میں نے اپنے آپ کو بہت ٹٹولا اور یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ اس ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی عورت کو جب میں “آئی لو یو ” بالواسطہ طور پہ ہی بولتا ہوں تو کیا کسی اولگا کو تلاش کرتا ہوں تو مرے اندر سے ہر بار نفی میں جواب آیا ، مجھ میں کوئی نفسانی ارتعاش پیدا نہیں ہوا بلکہ مجھ پہ ایک اور ہی انکشاف ہوا، ساری! میں تو اس میں بھی تمہیں ہی تلاش کررہا ہوں اور مجھے ایسے لگنے لگا ہے جیسے میں کانٹی جینس لو پہ سرے سے یقین ہی نہیں کرتا۔کیا اپنے جوابی خط میں تم اس مسئلے پہ روشنی ڈالوگی؟

 

فقط تمہارا

ع   ۔ح

پاکستان کے شیعہ :بے رحم نسل کشی کی نقشہ گری

%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%81-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%da%ba

بے رحم شیعہ نسل کشی

عباس زیدی

عباس زیدی نے بطور استاد اور صحافی پاکستان، برونائی اور آسٹریلیا میں کام کیا ہے۔وہ آج کل سڈنی میں مقیم ہیں جہاں پہ وہ کئی ایک جامعات میں بطور ٹیوٹر اور رائٹنگ ایکسپرٹ کے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔انھوں نے افسانوں کی ایک کتاب “ڈھائی الفاظ ” کے نام سے انگریزی میں لکھی ہے جو شایع ہوچکی ہے۔جبکہ پاکستان کی سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے تناظر میں وہ ایک ناول لکھ چکے ہیں جو عنقریب ایک بین الاقوامی اشاعتی ادارے سے شایع ہوگا۔

انھوں نے پاکستان میں شیعہ نسل کشی بارے ایک تفصیلی ریسرچ پیپر لکھا ہے جس کا عنوان

The Shias of Pakistan: Mapping an altruistic genocide

ہے اور یہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے بارے میں اپنی نوعیت کی پہلی اور انتہائی منفرد اہم تحقیق ہے۔پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا انکار کرنے یا شیعہ کے خلاف چلنے والی مہم کو شیعہ نسل کشی ماننے سے انکار کرنے ، اس پہ ابہام کے پردے ڈالنے، اس کا جواز تلاش کرنے کے لئے غلط بائنری کا سہارا لینے والوں کی کمی نہیں ہے۔عباس زیدی نے اپنے تحقیقی مقالے میں شیعہ نسل کشی کے کیس کو ثابت کرنے کے لئے شیعہ نسل کشی کا ماڈل ، اس کی تعریف اور تشریح بین الاقوامی تحقیق کے معیارات کے مطابق کی ہے اور تحقیق میں عباس زیدی نے شیعہ نسل کشی پہ تحقیق کے کئی اور ممکنہ پہلوؤں بارے بھی زور دیا ہے۔یہ انگریزی میں مقالہ لکھا گیا اور مجھے محسوس ہوا کہ اس کا اردو میں ترجمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔اگر یہ تحقیقی مقالہ پاکستان کے اندر صحافیوں، تحقیق کرنے والے سماجی ماہرین، سول سوسائٹی کے افراد ،مذہبی سکالرز تک پہنچ جائے گا تو یہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی پہ اب تک موجود ڈسکورس کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔اور پاکستان میں نسل کش ذہن بارے لوگوں کی سوچ کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔(عامر حسینی )

تعارف

الطاف حسین ڈیرہ اسماعیل خان کا رہائشی تھا اور پشاور میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے طور پہ کام کررہا تھا۔اسے کالعدم دہشت گرد دیوبندی تنظیم اہل سنت والجماعت۔سپاہ صحابہ پاکستان /لشکر جھنگوی کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔13 دسمبر 2013ء کو دفتر گیا مگر دفتر سے واپس گھر نہ لوٹا۔اس کے گھروالوں نے معمول کے مطابق شام کو اسے فون کیا مگر اس کا فون بند تھا اور کئی بار کوشش کے وہ رابطہ کرنے میں ناکام رہے۔سات دن بعد 20 دسمبر کو ان کو اطلاع دی گئی کہ الطاف کی لاش مردان سے ملی ہے۔اس کا مسخ شدہ سر اور جسم کے اعضا پورے علاقے میں بکھرے پڑے تھے۔

پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے یکساں طور پہ اس خبر کا بلیک آؤٹ کیا۔صرف ڈیرہ غازی خان کے ایک مقامی اخبار نے اس اندوہناک واقعہ کو رپورٹ کیا۔( احمد،21 دسمبر 2013ء)۔ڈیرہ اسماعیل خان سے باہر رہنے والے لوگوں کو الطاف حسین سے ہوئی واردات کا پتا ان کے خاندان کے دوست انصار عباس سے چلا۔2009ء میں انصار عباس خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا تھا جب اس نے اپنے دونوں ہاتھ ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ جلوس عزا میں ہونے والے بم دھماکے میں کھودئے تھے۔اب وہ اپنے پیروں سے ٹوئٹ لکھتا ہے( غنی،10فروری 2014ء)۔انصار عباس کی کہانی بھی پاکستانی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول نہ کراسکی۔

یہاں پہ ایک اور ایسا ہی کیس ہے:

فروری کی اٹھارہ تاریخ اور سال 2013ء میں ڈاکٹر علی حیدر اپنے 12 سالہ بیٹے علی مرتضی کو اس کے اسکول چھوڑنے کے لئے گھر سے روانہ ہوئے۔جونہی وہ ایف سی کالج لاہور کے نزدیک انڈر پاس پہ پہنچے تو چار افراد موٹر سائیکل پہ سوار ان کی گاڑی کے قریب ہوئے اور گولیوں کی پوچھاڑ کردی۔جیسے ہی کار روڈ کے ساتھ کنارے سے ٹکراکر رکی تو حملہ آور ان کی طرف بھاگ کر آئے اور ڈاکٹر علی حیدر کے چہرے اور سر پہ کئی گولیاں ماریں اور اس کے بعد انہوں نے ڈاکٹر کے بیٹے کے سر میں گولی ماری اور فرار ہوگئے۔ڈاکٹر علی حیدر پاکستان کے مایہ ناز ڈاکٹروں میں سے ایک تھے اور جب ان کا قتل ہوا تو وہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں استاد اور لاہور جنرل ہسپتال کے شعبہ آپتھامولوجی کے سربراہ تھے۔

اسی فروری کے مہینے میں جب ڈاکٹر علی حیدر کا قتل ہوا ملک کے کئی حصوں میں سینکڑوں مرد، عورتیں ، بچے ،لڑکے ، لڑکیاں ماردئے گئے۔سب سے برا المیہ یہ تھا کہ ان ہلاکتوں کے بارے میں نہ تو میڈیا، نہ ہی سیاست دانوں، رائے عامہ ہموار کرنے والوں، سماجی کارکنوں ، این جی اوز ، انسانی حقوق کی تنطیموں بشمول پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن نے اس بات کی نشاندہی کی یہ مارے جانے والے لوک شیعہ تھے۔

تو ایک لکھاری یا محقق جو آج یا مستقبل میں پاکستان میں عقیدے کی بنیاد پہ مارے جانے والوں کے بارے میں لکھے گا اور اپنے کام کی بنیاد دستیاب صحافتی مواد پہ رکھے گا تو لفظ “شیعہ ” اسے موجود نہیں ملے گا۔تو دوسرے لفظوں میں پاکستانی مین سٹریم میڈیا کی رپورٹنگ میں اسے شیعہ کلنگ کی مثال ہی مشکل سے ملے گی چہ جائیکہ اسے شیعہ نسل کشی کا لفظ ملے

یہ باب پاکستان مین شیعہ نسل کشی کے بارے میں ہے۔نسل کشی کی اصطلاح کی تعریفات بہت ہی عمومی ہیں تو اس لئے یہ بہتر سمجھا گیا ہے کہ پایستان میں شیعہ نسل کشی کے تناظر میں نسل کشی کی خصوصی تعریف وضع کی جائے۔

یہ باب نسل کشی کا ایک ماڈل بھی تجویز کرتا ہے اور یہ امید ہے کہ یہ ماڈل نسل کشی کی عمومی حرکیات کی کہانی کو بیان کردے گا۔میں یہاں پہ یہ بھی صاف صاف کہتا ہوں کہ نسل کشی کی مجوزہ تعریف اور ماڈل نسبتا نئے ہیں تو اس تعریف کے عارضی پن  یہاں تک کہ اس میں مغالطہ آفرینی اگر پائی جائے تو اس پہ بھی بات کی جائے۔

ایک دوسرا نکتہ جسے میں یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ پاکستان میں شیعہ ہی وہ واحد کمیونٹی نہیں ہے جو نسل کشی پہ مبنی حملوں کی زد میں ہے۔احمدی، کرسچن،ہندؤ،بریلوی سنّی /صوفی سنّی بھی دیوبندی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں انتہائی مذہبی جنونی حملوں کا شکار ہیں۔تاہم یہ صرف شیعہ کے بارے میں کی گئی اسٹڈی ہے۔

2-طریقہ کار

نسل کشی پہ جو اسٹڈیز کی جاتی ہیں ان میں عمومی طور پہ کھلا تحقیقی طریقہ کار ۔اکسپلٹ ریسرچ میتھڈولوجی کو استعمال میں نہیں لایا جاتا۔جبکہ مجوذہ ماڈل نسل کشی کی حرکیات کا بیان ہے تو ميں نے ہالیڈے کی سسمیٹک فنکشنل لنگویسٹک کو استعمال کیا ہے۔اس طریقہ کار کا لب لباب یہ ہے کہ زبان حقیقت جیسی کہ وہ معاشرے میں ہوتی ہے یا جیسے اسے سمجھا جاتا ہے کا بنیادی حوالہ ہوتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں متعدد واقعات لوگوں کے اپنے اردگرد کی دنیا سے وابستگی کا نتیجہ ہوتے ہیں یا جاری واقعات سے وابستگی کا جوکہ ہالیڈے کے بقوق لوگوں کا تجربے کے بارے میں سب سے طاقتور تاثر ہوتا ہے۔اور یہی ایک مثالی فنکشن ہے لینگویج کا جو لوگوں کے داخلی و خارجی دنیا کے تجربے پہ زور دیتا ہے  ( ہالیڈے ،1971ء ،1996ء،ص 58)۔

تاہم واقعات کوئی جامد شئے نہیں ہوتے۔ان کو لوگ معانی دیتے ہیں کیونکہ وہ ان کو خاص طرح سے سمجھنا چاہتے ہیں اور اس طرح سے یہ واقعات اپنے شاہد کو ایک خاص طرح کا لازمی کردار دیتے ہیں۔اور یہ انٹر پرسنل یا  جانچ کرنے کا فنکشن ہے۔(ہالیڈے 1971/1996 ص 58،59)۔ہالیڈے اسی کردار کو مزید کھولتا ہے:

بولنے والا زبان کو کسی بھی سپیچ ایونٹ کے اندر اپنی مداخلت کے زریعہ کے طور پہ استعمال کررہا ہوتا ہے:اس کے تبصرے کے تاثرات، اس کے رويے ، قدر پیمائی اور وہ تعلق بھی جو وہ اپنے اور سننے والے کے درمیان پیدا کرتا ہے۔اور خاص طور پہ وہ کیمونیکشن ، ابلاغ جو اطلاع دینے، سوال کرنے ، مبارکباد دینے ، یقین دلانے اور وغیرہ وغیرہ کے لئے اپناتا ہے۔واقعات کا ہونا اور ان کو پیش کرنا تاہم کچھ خاص طریقوں سے کرنا پڑتا ہے۔دوسرے لفظوں میں واقعات کے ہونے کو ایک غالب اور مرکزی جگہ دینا پڑتی ہے  تو وہ غالب منظرنامے کے طور پہ کام کرتے ہیں۔یہ زبان کا متنی فنکشن ہے جس کے زریعے سے زبان اپنا ربط اور تعلق خود اپنے ساتھ اور صورت حال حال کے ساتھ پیدا کرتی ہے اور ڈسکورس ممکن ہوجاتا ہے کیونکہ بولنےوالا یا لکھنے والا ایک متن پیدا کرسکتا ہےہے اور سننے والا یا پڑھنے والا اس کو تسلیم کرلیتا ہے۔

)                                               Halliday, 1971/1996, p. 59)

ہالیڈے کے سسمیٹک فنکشنز کی بنیاد پہ نیچے دیا گیا ماڈل بخوبی یہ بتائے گا کہ نسل کشی کی منصوبہ بندی کیسے ہوتی ہے ، اس پہ عمل کیسے ہوتا ہے اور اس کا جواز کیسے فراہم کیا جاتا ہے؟ مختصر طور پہ یہ کہ ایک نسل کشی  ماضی یا حال کی حقیقت پہ  یا تصوراتی واقعات پہ استوار ہوتی ہے۔

کسی بھی مقرر کردہ گروپ کو قصور وار ٹھہرانے کے لئے کسی بھی نسل کشی کی مہم میں حقائق کو ایسے ترتیب دیا جاتا ہے جس سے اس مہم کا جواز نکل سکے۔اور کسی گروپ کو مختص کرنا یا متاثرہ کو ہی الزام دینے کا عمل ہی ترتیب دینے یا پوزیشننگ کا ایکٹ ہے۔اور آخر میں شناخت، عقیدے وغیرہ اس قصور وار ٹھہرائے گئے گروپ کے مختلف طریقوں سے ایسے پیش کیے جاتے ہیں کہ وہ اس گروپ کے جرائم لگیں ہور ان کا غیر اخلاقی پن بھی۔

3: نسل کشی ۔تعریف کا مسئلہ

جینوسائیڈ یا نسل کشی ایک بدقسمت ٹرم /اصطلاح ہے جو کہ بہت سے دانشورانہ ذہن رکھنے والوں کی تنگ نظر یا انتہائی محدود اپروچ کا انکشاف کرتی ہے۔مثال کے طور پہ مائیکل اگنا ٹیف (2001،ص25) یہ قبول کرنے سے انکار کرتا ہے کہ سیاہ فام کی غلامی جس نے لاکھوں سیاہ فام مار ڈالے جینوسائیڈ /نسل کشی تھی۔دوسرے لفظوں میں مائیکل اگناٹیف کے مطابق یہ نسل کشی اس لئے نہیں تھی کہ غلامی ان کی زندگیوں کے استحصال کا نظام تھی نہ کہ ان کو ختم کرنے کا۔اس کے خیال میں  نسل کشی کا مطلب اس وقت ہوتا ہے جب جرم بہت واضح انداز میں ایک انسانی گروہ کے مکمل یا جزوی خاتمے کے ارادے سے کیا جائے۔بلند آہنگ مبالغہ آرائی سے کہیں زیادہ کوئی چیز یہاں پہ داؤ پہ لگی ہوئی ہے۔ہر ایک زیادتی کو یا جرم کو نسل کشی کہنا لوگوں کو اٹھ کھڑا ہونے یا روبہ عمل ہونے کو مشکل بناڈالتا ہے جب ایک حقیقی نسل کشی کا جرم وقوع پذیر ہورہا ہوتا ہے۔

اگناٹیف غلامی کا ایک انسانی پہلو پیش کرتا ہے۔اس کے تشکیل کے مطابق غلامی مين انسانی جانوں کا ضیاع بالذات مقصود نہ تھا۔آقا اسقدر برا بہرخال نہیں تھا کیونکہ وہ غلاموں کو تادیر صحت مند زندگی کے ساتھ جیتا دیکھنا چاہتا تھا تاکہ وہ ان کے اجسام کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرسکے۔

اگناٹیف کا جو بنیادی مقدمہ ہے وہ علامی کی مبادیات کو بھی سمجھنے کو تیار نہ ہے۔جب وہ کہتا ہے یہ جو بھی تھا۔۔۔۔ وہ ہر زیادتی اور جرم کو نسل کشی پہ مبنی کہنے سے بھی ناخوش ہے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ  آج غلاموں کی جو بچی کچھی باقیات ہے وہ اگناٹیف کے غلامی بارے نکتہ نظر کو مشکل سے تسلیم کرے گی۔یہ سوال کیا جاسکتا ہے:ان غلاموں کے بارے میں کیا کہا جائے گا جو ایک مرتبہ اپنے جسم کے فائدہ مند استعمال کے قابل نہ رہے؟کیا ان کے لئے ان کے سفید فام آقاؤں نے کوئی ویلفئیر سسٹم بنایا ہوا تھا؟اور ان کے بارے میں کیا جو پیدائشی طور پہ ہی سفید قام آ‍قاؤں کے لئے منافع بخش نہ تھے اور کسی معذوری کا شکار تھے؟کیا ہوگا اگر ان غلاموں کے وارث آج دعوی کریں کہ ان سے کیا گیا سلوک نسل کشی تھا؟کیا ان کو منہ بند رکھنے کو کہا جائے گا صرف اس وجہ سے ان کے دعوے نسل کشی کی اس تعریف کے مطابق نہ تھے جو اگناٹیف نے اپنے محفوظ اور پرسکون گھر یا آفس میں بیٹھ کر تشکیل دی ہے؟

نسل کشی پہ ہونے والی روائتی بحث کا ایک اور بدقسمت پہلو اس کا لوگوں کے جسمانی خاتمے کی تعداد پہ فوکس کرنا ہے۔لاکھوں لوگوں کو قتل ہونا چاہئیے اگر نسل کشی کا اطلاق کرنا مقصود ہے تو۔وگرنہ کسی بھی متاثرہ گروپ کے سٹیٹس یا مقام کی بحث کے دوران اسے خون ریزی،قتل عام، خون خرابہ،تشدد، تباہی،یا ایک نامکمل نسل کشی جیسی مشکل اصطلاحوں سے تعبیر کیا جائے گا۔ اسی طرح میلسن (1992ء،ص 3) جزوی نسل کشی کی تعریف یوں کرتا ہے۔۔۔۔۔ کسی گروپ کی سیاست یا شناخت تبدیل کرنے کے لئے اس کا بڑے پیمانے پہ قتل یا دبایا جانا نہ کہ اسے مکمل تباہ کرنا جزوی نسل کشی کہلاتا ہے۔

میلسن قتل عام اور نسل کشی کے درمیان فرق نہیں کرتا جو والر(2007ء،ص 14) کرتا ہے۔تو :

محقق ریاست کی جانب سے دہشت گردی سے نکلی اجتماعی تشدد اور دہشت کو دو اصطلاحوں میں بیان کرتے ہیں۔ماس کلنگ مطلب کسی ایک گروپ کے لوگوں کو بغیر اس سارے گروپ کو ختم کردینے کے مارنا یا گروپ ممبر شپ کا تعین کئے بغیر لوگوں کو بڑی تعداد میں مارنا۔اجتماعی دہشت گردی کا مطلب نسل کشی جب ہوکا جب ایک حاص گروپ کو ایک منظم طریقے سے اور اس گروپ کو تباہ کرڈالنے کے ارادے سے مارا جائے گا۔

روبنسٹین (2004ء،ص 2) نسل کشی کی درج ذیل تعریف کرتا ہے:

نسل کشی کسی بھی گروپ کے سبھی یا اکثر لوگوں کا محض اس گروپ کے ممبر ہونے کی وجہ سے ارادے کے ساتھ مارنا ہے۔

اسے نمبر گیم بھی کہا جاسکتا ہے۔نام نہاد پازیٹوازم۔۔۔۔۔ جس کے مطابق نسل کشی کا ایک ہی معیار ہے اور وہ ہے مارے جانے والے لوگوں کی تعداد۔اگر کسی گروپ کے 49 فیصد لوگ مارے گئے اور 51 فیصد بچ گئے تو کیا ہوگا؟اسے نسل کشی کہا جائے گا؟روبنسٹین کی تعریف کے مطابق یہ نسل کشی نہیں ہوگی۔برونسٹین مضحکہ خیز حد تک ایک ہی سانس میں یہ بھی کہتا ہے:

ہٹلر نے تو چند یورپی یہودیوں کو مارا تھا جبکہ یورپی لوگوں نے 1492ء میں جب شمالی اور جنوبی امریکہ دریافت کئے تو اس سے کہیں زیادہ اس نے ریڈ انڈین مارڈالے تھے۔

روبنسٹین نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے مارے جانے کو نسل کشی کہتا ہے جبکہ مقامی امریکی باشندوں کی یورپی آبادکاروں کے ہاتھوں مارے جانے کو کچھ اور کہتا ہے نسل کشی نہیں۔

اور بہت سے سکالر ہیں جو نسل کشی میں لوگوں کے مارے جانے کی تعداد پہ مبنی تعریف کے سحر میں گرفتار ہیں۔پیٹر ڈروسٹ (1959،ص125) نسل کشی کی تعریف کرتا ہے:

The deliberate destruction of physical life of individual human beings by their membership of any human collectivity as such.

 Thackrah

بھی جسمانی طور پہ خاتمے کو ہی بنیادی شرط نسل کشی کی رکھتا ہے۔

The systematic elimination of a group of people who have been designated by another community or by a government to be destroyed.

بہت سا تحقیقی کام ایسا ہے جو نسل کشی کا حوالہ اقوام متحدہ کی تعریف کی روشنی میں دیتا ہے۔اقوام متحدہ نے 1948ء کے اعلامیہ برائے انسداد و سزا جرائم نسل کشی میں نسل کشی کی تعریف کی۔ایسا کوئی بھی عمل جو کسی قوم، نسلی ثقافتی گروہ ، نسل یا مذہبی گروپ کے جزوی یا مکمل تباہی کے ارادے سے کیا گیا ہو نسل کشی ہے۔

الف: کسی بھی گروپ کے ممبران کا قتل

ب: گروپ کے ممبران کو ذہنی یا جسمانی طور پہ شدید نقصان پہنچانا

ج:ایسے حالات زندگی اجتماعی طور پہ گروپ پہ مسلط کرنا جس سے اس گروپ کی اجتماعی یا جزوی جسمانی تباہی واقع ہو

د: اس گروپ کی افزائش نسل کو روکنے جیسے اقدامات اٹھانا

س: اس گروپ کے بچوں کو زبردستی دوسرے گروپ میں بدلنا

اس تعریف میں اگرچہ کئی شرائط بہتر ہیں لیکن بہرحال یہ محدود ہیں اور دوسری جنگ عظیم کے آخر میں دنیا کو کنٹرول کرنے کے عالمی طاقتوں کے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے وضع کی گئی تھیں۔اس میں کئی ایسے گروہوں کو خارج کردیا گیا کہ کہیں سوویت یونین نہ ناراض ہوجائے۔اقوام متحدہ نے جن حالات واواقعات کے تناظر میں نسل کشی کی تعریف وضع کی ہنٹن اور او نیل (2009ء،ص 4) نے نوٹ کیا:

The very concept and legal definition of genocide was forged in a highly politicised atmosphere, one that resulted in inclusions and exclusions and a moral gradation of atrocity. The destruction of political groups, while abhorrent, was written out of the convention and became something else, an implicitly lesser crime; cultural genocide similarly dropped from sight, eventually re-emerging in popular discourse as “ethnocide”.

بعض سکالرز نے نسل کشی کو سہانے خواب دکھاکر ،فریب والی اصطلاحوں سے چھپانے کی کوشش کی۔مثال کے طور پہ مائے (2010ء،ص 88) پہ لکھا

The lives [of genocide survivors] may well be enormously impoverished, but people will normally be able to form new social relationships and social rules partially to replace those lost by the genocidal campaign. Second, although the lives and deaths of the victims of genocide will be impoverished because of the loss of some group-based identification, perhaps even unaffected by what has occurred in the genocide. And, third, although genocide does affect the meaningfulness of both one’s life and death, it is likely that there is still some meaning to life and death ever after genocide.

یہ ایک اور بری مثال ہے اس بات کی کہ کیسے آرام دہ کرسیوں پہ بیٹھ کر سکالر نسل کشی جیسے مظہر بارے چیزوں کو چھپاتے ہیں۔اور یہ جو نارملی ، آئیڈنٹیفیکشن اور ایور آفٹر جیسے اظہار بے رحمی ، شقاوت قلبی ہیں نسل کشی کا شکار کسی بھی گروپ کے ممبر کے لئے۔

نسل کشی پہ لکھنے والے اکثر سکالرز اور مصنفوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے نسل کشی سے بچ جانے والوں کے ساتھ بہت کم وقت بتایا ہوتا ہے۔وہ اکثر نسل کشی پہ ثانوی معلومات پہ انحصار کرتے ہیں اور شاید ان لوگوں سے ہمدردی کا کم جذبہ رکھتے ہیں جن کا وہ مطالعہ کررہے ہوتے ہیں۔ایک اور مشکل یہ ہے کہ اکثر سکالر ٹھیک طریقے سے نسل کشی بارے تصور گری یا نظریہ سازی نہیں کرتے۔نسل کشی کے تصور کو سمجھنے کے ۂغے اس کا کئی زاویوں سے جائزہ لینا بنتا ہے۔ساتھ ساتھ اس کے سماجی۔تاریخی تناظر کے اندر اسے دیکھنا اور اس کے پیچھے چھپی تاريخوں کو سامنے لانا بنتا ہے

سوال یہ ہے کہ جینوسائیڈ کی تعریف کرنے کا اہل کون ہے؟عام طور پہ طاقتور ہی کسی کو فیور دینے یا نہ دینے کے لئے نسل کشی کا ٹائٹل دینے کا اختیار رکھتے ہیں۔اس طرح ساری مغربی دنیا امریکہ کی قیادت میں صدام حسین کو نسل کشی کا زمہ دار قرار دے دیتی ہے لیکن امریکہ کا حمائت یافتہ سہارتو انڈونیشیا کا آمر کمیونزم کو ٹیکل کرنے کے نام پہ انہی جرائم کی وجہ سے تعریف کا حقدار ٹھہرجاتا ہے۔لاطینی امریکہ میں سرد جنگ کے جرائم کرنے والوں کے جرائم کو نسل کشی اس لئے قرار نہیں دیا گیا کیونکہ وہ امریکہ کے اتحادی تھے۔امریکی اتحادیوں کی نسل کشی جیسے چلی مین آکسٹو پنوشے ، نکارگوا مین سوموزا اور ہیٹی میں ڈوالیئر کے جرائم کو نسل کشی ان کے امریکی پٹھو ہونے کی وجہ سے قرار نہیں دیا گیا۔نکارگوا کونٹراس میں ہزاروں لوگوں کا قتل عام کیا گیا اور کسی کو سزا نہیں ملی۔اور نہ مارے جانے والوں کے اہل خانہ سے کوئی معافی ماںگی گئی۔یعنی نسل کشی بہت برا فعل ہے مگر اس وقت تک جب تک عالمی طاقتوں کے مخالف یہ کریں اور اگر یہ ان کے اپنے پالتو کریں تو پھر کچھ نہیں ہے۔

تو یہان اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ شیعہ نسل کشی کو امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی توجہ کیوں نہ مل سکی ہے؟شیعہ نسل کشی پہ کوئی بھی بات شیعہ ایران کے لئے ہمدردی شاید پیدا کرتی ہے۔اور یہ یقینی ہے کہ الزام سعودیہ عرب کو جائے گا جو کہ امریکی اتحادی ہے اور پاکستان مين شیعہ نسل کشی بارے عدم توجہی کے پیچھے یہی وجہ کارفرما ہے۔تو جس وجہ سے سکالرز کی ایک بڑی تعداد نسل کشی پہ اعداد پہ زور کیوں دیتی ہے اس کا جاننا مشکل نہیں ہے۔ایک قابل اعتبار تشریخ مین یہ دینا پسند کروں گا کہ قریب قریب تمام اسٹڈیز جو نسل کشی پہ کی گئیں وہ ایکس پوسٹ فیکٹو ہیں۔نسل کشی جیسے ہوتی ہیں ان کو ویسے بیان نہیں کیا جاتا۔ہنٹن کی نسل کشی کی کرانیکل اسٹڈی ميں ” ٹینس یعنی زمانے ” کا استعمال اس نکتہ نظر کو ثابت کرتا ہے:

نیشن سٹیٹ ابھرنے کے ساتھ اور ان کی سامراجی اور جدید کرنے کے عزائم کے ساتھ دسیوں لاکھ پسماندہ اور وحشی مقامی لوگ بیماری ، بھوک ، اجرتی غلامی اور بے تحاشا قتل کے ساتھ ختم کردئے گئے۔جب نیشن سٹیٹس نے اپنے سوشل انجینئرنگ پروجیکٹس شروع کئے تو 6 کروڑ لوگ صفحہ ہستی سے مٹادئے گئے۔اس صدی کے دوران نسل کشی کا شکار ہونے والے کروہوں کی فہرست بہت طویل ہے۔کچھ تو کافی معروف ہیں جیسے یہودی،کمبوڈین، بوسینیائی اور روانڈک کے ہوٹس۔جبکہ دوسرے کئی گروپوں کی نسل کشی بغیر ظاہر ہوئے ہی کردی گئی جیسے آرمینی، یوکرائنی کسان، خانہ بدوش ، بنگالی ، برونڈی ہوٹس ،پیراگوئے کے اچے، گوئٹے مالا کے مایان اور نائیجریا کے آگونی

ایسا بھی نہیں ہے کہ نسل کشی کی نسبتا اچھی تعریف موجود ہی نہ ہوں۔چاک اور جوناسوہن (1990ء،ص23) پہ کہتے ہیں:

Genocide is a form of one-sided mass killing in which a state or other authority intends to destroy a group, as that group and membership in it are defined by the perpetrators.

یہ تعریف مکمل نہں لیکن اس کے چند اہم نکات ہیں – ایک تو یہ خودکشی کا شکار اور مرتکب دونوں کو شامل کرتی ہے، دوسرا یہ نسل کشی کا شکار اور مرتکب کے درمیان طاقت کے عدم  توازن کو دکھاتی ہے، تیسرا یہ نسل کشی کے پیچھے موجود طاقتور ادارے کو شامل کرتی ہے اور یہ نسل کشی کا مرتکب ہے جو متاثر ہونے والے کے زندہ رہنے نہ رہنے کا فیصلہ کرتا ہے اور یہ کہ متاثر ہونے والے کو ممکنہ تباہی کا سامنا ہوتا ہے۔

شاہ نسل کشی کی تعریف یوں کرتا ہے

Deliberate destruction of a people, principally but only by means of killing some of its members.

اس تعریف کے دو انتہائی شاندار پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ نسل کشی ارادے کے ساتھ ہوتی ہے اور جب یہ ارادے کے ساتھ ہوتی ہے تو یہ ایک حاص عرصے تک ہوتی ہے۔دوسرے لفظوں میں نسل کشی کبھی کبھی ہونے والا واقعہ نہیں ہے ، دوسرا نسل کشی کسی متاثرہ کو جان سے ہی ماردینے کا نام نہیں ہے۔جیسا کہ میں یہ دکھانے کی کوشش کروں گا کہ نسل کشی کسی نشانے پہ آئے گروپ کے کسی رکن کو مارے بغیر بھی کی جاسکتی ہے،یہ باب مطلق نسل کشی بارے نہیں ہے بلکہ یہ پاکستانی شیعہ کی نسل کشی بارے ہے۔تو میں اس سیکشن کو چند متعلقہ تبصروں کے ساتھ ختم کرنا پسند کروں گا ۔

تو جسمانی خاتمے پہ انحصار کرنے والی نسل کشی کی تعریفات کی محدودیت اور تنگ نظری کو واضح کرنے کے بعد میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ نسل کشی کو ایکولوجیکل ٹرم۔اصطلاحوں میں دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ایکولوجی ایک تکثیری اور سب کو شامل کرنے والا تصور ہے۔نسل کشی کی ایکولوجی ٹراما کے بعد بچ جانے والوں کو بھی شامل کرے گی اور نسل کشی کی تاریح میں نئے مرحلے کو بھی داخل کرے گی۔نسل کشی کا ایک ایکولوجیکل نظریے کا مطلب ہے کہ اس ٹرم /اطلاح کا مظہریاتی /فنومینولوجیکل مطالعہ کرنا ضروری ہے: ایک نسل کشی پہ مبنی ایکولوجی میں ایک متاثرہ کے زندگی گزارنے کا مطلب کیا ہے؟ایک شیعہ کے لئے ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزارنے کا مطلب کیا ہے (جیسے پاکستان ہے) جہاں دیواروں پہ لکھا ہو ” کافر ،کافر شیعہ کافر “

  کیسا محسوس ہوتا ہے جب آپ ایک مسجد یا مدرسہ کے پاس سے گزررہے ہوں اور وہان سے لاؤڈسپیکر پہ یہ فتوے دئے جارہے ہوں کہ شیعہ  مرتد، گستاخ ،اسلام دشمن ، فتنہ پرور ، یہودیوں کے ایجنٹ اور واجب القتل ہیں؟

  شیعہ کیسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں شیعہ سے نفرت کرنے والے پبلک میں اور میڈیا کے زریعے شیعہ کے قتل کا جواز ان کو مرتد ، کافر کہہ کر کرتے ہوں اور ریاست ان کو روکنے کے لئے کوئی قانون حرکت میں نہ لاتی ہو؟

 ایک شیعہ کے لے دنیا کیسی ہے جب وہ ایک نسل کش حملے میں بچ جاتا ہے مگر جسمانی طور پہ کٹا پھٹا ؟ کیسے موت سے بچ نکلنے کے بعد اس کا دماغ کام کرتا ہے؟

کتنے شیعہ بچوں میں ڈی ایسوسی ایٹو آئیڈنٹی ڈس آڈر –ڈی آئی ڈی ( اپنی شناخت سے الگ کرنے والا مرض ) پیدا ہوتا ہے اس وجہ سے کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ان کو قریب قریب ہر روز ٹراما سے گزرنا پڑتا ہے؟ اپنے مستقبل کے بارے میں وہ کیا خواب رکھتے ہیں؟کیسے وہ اپنے موثر ری ایکشن کو باقاعدہ کرپاتے ہیں؟

ان شیعہ خاندانوں کا کیا جن کے لوگ مارے گئے ہیں؟وہ اپنی زندگی کی معاشی گاڑی کیسے چلاتے ہیں، ان کی نفسیاتی اور سماجی زندگی کیسے گزر رہی ہے؟اور ان کے خاندانی ڈھانچے کا کیا ہوتا ہے؟

4: نسل کشی : ایک متبادل نکتہ نظر

اوپر جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے امید ہے وہ اس بات کو صاف کرنے میں مدد دیں گے کہ نسل کشی کو جسمانی طور پہ مارے جانے والوں تک محدود نہیں کرنا چاہئیے۔کسی بھی گروہ کے اراکین کی نسل کشی پہ مبنی ہلاکتیں کسی حاص وقت میں خودکشی کی کمپئن میں ایک مرحلہ ہے۔ایک مرتبہ جب نسل کشی عمل ہوتا ہے تو یہ کئی طرح کے نتائج و عواقب لیکر آتا ہے۔نسل کشی کے مظہر کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک طریقہ اس کو تکرار جرم پہ مبنی انجری کی اصطلاحوں میں سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔اپنے آرکیالوجیکل ، ایتھنوگرافیکل تشریحاتی تحقیق میں ہارڈ ، لینارڈ اور مارٹن نے یہ دلیل دی کہ دنیا بھر کا کلینکل ڈیٹا یہ ثات کرچکا کہ لوگ جو شدید انجری کا شکار ہوتے ہیں ان کے لئے مستقبل میں انجریز کا زیادہ بڑا خطرہ ہوتا ہے۔اور اس میں حادثاتی ٹراما بھی شامل ہے۔وہ مزید کہتے ہیں:

گروپوں کے باہمی تصادم میں غیر مہلک دہشت گردی مہلک دہشت گردی کی طرح ہی ہوتی ہے اور اس میں خواہش کردہ نتیجہ اس محاذ آرائی کا دوسرے افراد کی محکومی کا سبب بننے والا سٹیٹس یا زرایع کا حصول ہوا کرتا ہے۔

اس استدلال کو یقینی طور پہ اس گروپ تک پھیلایا جاسکتا ہے جو مستقل امتیازی سلوک کا سامنا کررہا ہو ، اس کو شیطان بناکر دکھایا جارہا ہو اور ان کی زندگیاں مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہوں کیونکہ اس کے اراکین کی بڑے تعداد پہ کسی وارننگ کے بغیر حملے ہورہے ہوں۔نسل کشی پہ ہونے والی اکثر اسٹڈیز میں یہ ایشو

نسل کشی کے مظہر کو دیکھنے کا ایک اور راستہ یہ ہے کہ اسے مذہبی محاوروں میں زیربحث نہ لایا جائے اگرچہ متاثرہ لوگوں کو مذہب کے نام پہ ہی کیوں نہ مارا جارہا ہو۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ نسل کشی ایک اخلاقی ایشو بھی ہے۔یہ ایک انتہائی جذباتی ایشو بھی ہے اور یہ  خیر اور شر کی مانوی ثنویت۔ دوھرے پن کو بھی دعوت دیتی ہے۔تاہم مذہبی اور اخلاقی استعارے تجریدات اور مطلق پن کی طرف لیجاتے ہیں۔نسل کشی کو ایک لیگل ہیومن/قانونی انسانی ایشو کے طور پہ ڈیل کرنا ضروری ہے۔طبعی موت مرنا ایک بنیادی انسانی حق ہے۔کوئی بھی آدمی اپنے عقیدے، نسل ، ثقافت کی وجہ سے مارا جائے یا اس وجہ سے اسے نہ صرف  اپنے طبعی زندگی کے دورانیہ سے اسے محروم کردیا جائے بلکہ ساتھ ہی اس کے خوابوں ، آدرش ، حواہشات اور وژن سے بھی اسے محروم کردیا جائے۔تو نسل کشی ایک جرم ہے اور یہ محض کوئی اخلاقی معاملہ نہیں ہے۔لوگوں کو ان کی اخلاقی کمزوریوں کی وجہ سے سزا نہیں دی جاسکتی۔یہ تبھی ہوگا جب وہ جرائم کریں تو ان کو معاشرہ سزا دے۔

آخری بات یہ کہ نسل کشی کےمتاثرہ لوگوں کی متعدد قسم کی ملکیتوں کا جو کولیٹرل نقصان ہوتا ہے اسے بھی نسل کشی کے ایشو کے حصّے کے ساتھ زیر بحث لانا چاہئیے جیسے متاثرہ ہونے والوں کے اسباب زندگی اور گھروں کا نقصان وغیرہ ۔یہاں پہ ہم ایک مثال سے واضح کرتے ہیں کہ کیسے نسل کشی متاثرہ کی زندگی اور ان کی ملکیت دونوں کے نقصان کا نام ہے:

حال ہی میں ہم نے وہابیوں کے ظالمانہ مذہبی جنونیت کی ایک خوفناک مثال دیکھی ہے۔۔۔۔۔۔اب جبکہ امام بارگاہوں میں بہت ساری دولت جمع ہوچکی ہے تو اس نے وہابیوں کی ایک عرصے سے حرص کو تیز کررکھا ہے،وہ کافی عرصے سے قصبے کو لوٹنے کا خواب دیکھ رہے تھے،اور اپنی کامیابی بارے اتنے پریقین تھے کہ ان کو قرض دینے والوں نے تاريخ مقرر کردی تھی جب ان کی خواہش نے پورا ہونا تھا۔وہ دن آخر آہی گیا۔۔۔۔۔ 12 ہزار وہابیوں نے مسجد امام حسین پہ حملہ کیا ابتک کی لوٹ مار میں ملنے والے مال غنمیت سے کہیں زیادہ لوٹ کا مال حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ہر چیز کو آگ لگادی اور تلوار کی باڑ پہ رکھ لی۔بوڑھوں، عورتوں اور بچوں سب کو ۔۔۔۔ ہر شخص وخشیوں کی بربریت کی بھینٹ چڑھ گیا۔کہا جاتا ہے جس بھی حاملہ عورت کو دیکھتے تو پیٹ چاک کرتے اور بچے کو ماں کی لاش پہ تڑپتا چھوڑ جاتے۔ان کی ظالمانہ فطرت کو تسکین نہ ملی۔انہوں نے قتل و غارت گری ترک نہ کی اور خون پانی کی طرح بہایا جاتا رہا۔اس خون ریزی کے نتیجے میں چار ہزار لوگ مارے گئے۔وہابی اپنی لوٹ کا مال 4000 اونٹوں پہ لاد کر واپس ہوئے۔لوٹ مار اور قتل و غارت گری کرنے کے بعد انھوں نے امام حسین کے مقبرے کو تباہ کردیا، اور اسے گندگی اور خون سے بھردیا۔انھوں نے میناروں اور گنبد کو شدید نقصان پہنچایا،کیونکہ ان کو یہ یقین تھا کہ یہ سونے کی اینٹوں سے بنے ہوئے ہیں۔

                                                          (Fatah, 2008, p. 146)

کئی نسل کش کمپئن اور پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے معائنے اور نظر رکھنے کی بنیاد پہ میں نسل کشی کو دفاع سے قاصر ایک گروپ کی زندگیوں کے داخل اور خارج پہ بے رحم، ادارہ جاتی حملہ ہے جس کی جرمیات حملہ آور ہی ڈیزائن کرتے ہیں۔

اس تعریف کو چند نکات میں واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔اور اسی پہ میں پاکستان میں شیعہ نسل کشی سے مثالیں دوں گا۔

بے رحمانہ نسل کشی

شاید ہر نسل کش کمپئن استدلالی ۔جواز پسند فطرت کی حامل ہوا کرتی ہے جس میں اخلاقی بھاشن بھی ہوتا ہے۔اس کو چلانے والوں کے ڈسکورس میں ” کلنگ ” یا “مرڈر ” جیسے الفاظ شاذ و نادر ہی آتے ہیں۔نسل کشی کا بنیادی مقدمہ یہ ہوتا ہے کہ یہ عمل کسی انتہائی بلند اصول کے تابع ہے اور وہ معاشرتی/سماجی یا مذہبی / اخلاقی خیر ہوسکتا ہے۔نسل کشی کی ایثار پسند ، نوع دوستانہ طرز کی اپروچ پہ نظر ڈالی جائے تو پہلی نظر میں یہ ڈایا کرانیکل نظر آتی ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی جڑیں تاریخ میں ہیں۔وہ جڑیں جو ماضی میں کسی واقعے سے پیوست ہیں یا ایسے واقعے سے جو نسل کشی کرنے والے کے نزدیک اشتعال انگیز اور ناقابل معافی تھا۔یہ واقعہ کوئی مذہبی ہوسکتا ہے ، سیاسی بھی ، معاشی بھی اور یہاں تک کہ افسانوی فطرت کا بھی۔بلکہ نسل کشی کرنے والے اسے بہت ہی اہمت کا معاملہ کہتے ہیں۔

پاکستان میں شیعہ نسل کشی اور دوسری جگہوں پہ بھی اس کے زمہ داروں کے دعوے کے مطابق اس بات پہ ہورہی ہے کہ کئی سو سالوں سے شیعہ اسلام کی مقدس ہستیوں بشمول امہات المومنین کی شان میں گستاخی کررہے ہیں۔شیعہ پہ الزام ہے کہ وہ ماضی میں سنّی حکموں کے خلاف جنگیں لڑتے رہے ہیں۔ایسے ہی دیوبندی کہتے ہیں شیعہ تاریخی طور پہ گستاخ اور تخریب کار ہیں۔

نسل کشی کی دی گئی بے رحم فطرت کو دیکھتے ہوئے یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ یہ بنیادی طور پہ ایک مٹاڈالنے والا پروجیکٹ ہے -اس لئے نسل کشی کرنے والوں کے  نزدیک ان کے ساتھ پرامن طور پہ رہنے کا کوئی امکان نسل کشی کا نشانہ بننے والے گروہ کا نہیں ہے۔اگر وہ امن و سکون سے اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ان کو اپنے طرز زندگی اور عقائد کا سسٹم ترک کرنا ہوگا۔اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ نسل کشی ایک بدلاؤ لانے کی کمپئن بھی ہے جس میں ایک طرح یا دوسری طرح سے نسل کشی کے شکار کو بدل ڈالنا مقصود ہوتا ہے۔

پاکستان میں شیعہ کے قاتل اور قریب قریب ہرجگہ ٹھیک ٹھیک غیرمصالحانہ طور پہ شیعہ کو کافر ہونے کی وجہ سے مکمل طور پہ ان کے وجود کو ہی ختم کرنا چاہتے ہیں۔وہ اعلانیہ کہتے ہیں شیعہ کو یا تو گستاخانہ عقائد ترک کردینے ہوں گے یا مرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔گستاخانہ سے مراد ان کی شیعہ کے اپنے مذہبی عقائد و شعار ہیں۔

2: ادارہ جاتی

لفظ انسٹی ٹیوشن ایک وسیع اصطلع ہے۔نسل کش ذہنیت اور عزم کی جڑیں اس کو چلانے والوں کے نظریاتی عقائد کے سسٹم میں پیوست ہیں۔نسل کشی کے علمبرداروں اور اس کے متاثرہ کے درمیان تعلقات کی تاريخ کی بنیاد ان متون اور فتوؤں پہ ہے جو متاثرہ کے وجود کو ناقابل قبول کہتے ہیں اور اسی سے اس تاريخ کو حمائت ملتی ہے۔انسٹی ٹیوشن کا مطلب ایک طاقتور تنظیم بھی ہے۔اکٹر ایک ریاست اپنا وزن نسل کشی کے علمبرداروں کے پلڑے میں ڈال دیتی ہے۔نسل کش ریاستی سرپرستی یا طاقتور تنظیم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

پائیدار اور مستحکم قسم کی نسل کشی ریاست کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔عض اوقات ریاست خود بھی نسل کشی کرتی ہے۔تاہم جہاں ریاست کمزور ہو تو نان سٹیٹ ایکٹرز ۔ریاست کے اندر ریاست نسل کش دہشت گردی کرتے ہیں۔براس (2003) دعوی کرتا ہے کہ پنجاب میں نسل کش دہشت گردی سے تقسیم کے وقت ریاست کا کچھ لینا دینا نہیں تھا۔وہ جزوی طور پہ ٹھیک کہتا ہے۔لیکن پنجاب کے اندر تقسیم وقت دہشت گردی برطانوی سامراج کی تقسیم کرو اور حکمرانی کرو پالیسی کا نتیجہ تھی۔اس کے علاوہ برٹش نے تقسیم کے وقت لوگوں کو  قاتلوں اور بدمعاشوں کے رحم وکرم پہ چھوڑ دیا تھا۔تاریخی طور پہ ریاست کی کسی روک ٹوک کے بغیر بے شمار فتوے شیعہ کے خلاف موجود ہيں جو ان کو کافر قرار دیتے ہیں اور ان کو زندہ رہنے کے قابل قرار نہیں دیتے۔یہ انہی فتوؤں کی وجہ سے ہوا کہ شیعہ کو تاریخی طور پہ بے رحمی سے مارا، کچلا یا معاشرے میں دیوار کے ساتھ لگایا جاتا رہا کہ وہ غیر شیعہ کے ساتھ معاشرے میں انتہائی کمتر سطح پہ زندگی گزارنے پہ مجبور ہوئے۔پاکستان میں بھی یہ ریاست ہے جس نے شیعہ قاتل پیدا کئے اور ان کی سرپرستی کی۔تمام اہم ادارے ریاست کے جیسے فوج ، عدلیہ ، پریس اور سیاسی حکمران بھی شیعہ نسل کشی میں ملوث ہیں۔سعودی عرب اور بحرین میں یہ ریاست ہے جو شیعہ کو بے رحمی سے قتل کررہے ہیں۔ روزن (2006ء،ص182) کے الفاظ میں:

سعودی عرب وہابیت کا گھر میں شیعہ کو رافضہ کہا جاتا ہے اور یہ اکثر استعمال ہونے والی اصطلاح ہے اور اس کا مطلب شیعہ اسلام سے خارج ہیں ،ہے۔شیعہ کے لفظ ایسا ہی جیسے کسی سیاہ فام کو “نیگرو ” کہا جائے۔زرقاوی شیعہ کے لئے یہی اصطلاح استعمال کرتا ہےجیسے کئی دوسرے وہابی تکفیری ملّا اس خطے میں استعمال کرتے ہیں۔سعودی عرب کے شیعہ کا مذہبی احتساب ہوتا ہے،ان کو اپنے تہوار و ایام منانے سے روکا جاتا ہے اور ان کو قتل کرنے کی دھمکیاں بھی ملتی رہتی ہیں۔

داخلی اور خارجی زندگیاں :

میں نے نسل کشی کی جو تعریف کی اس میں یہ سب سے مرکزی نکتہ ہے۔جیساکہ میں نے بہت سی نسل کشی کی تعریفات کو زیربحث لاتے ہوئے دکھایا کہ نسل کشی کو صرف متاثرہ کمیونٹی کے جانی نقصان کی شکل میں دیکھنا ٹھیک نہیں ہے۔نسل کشی کے علمبردار نسل کشی کا نشانہ بننے والوں کی داخلی و خارجی زندگیوں کو مٹاڈالنے کی سعی کرتے ہیں۔اس کے علمبردار نسل کشی کے متاثرہ کے کلچر اور روح دونوں کو تباہ کرتے ہیں۔اس لئے نسلی صفائی یعنی ایتھنوسائیڈ نسل کشی کا ایک حصّہ ہے۔درحقیقت ایتنھوسائیڈ /نسلی صفائی تو اس خودکشی کا سافٹ حصّہ ہے،کیونکہ نسل کشی کے علمبرداروں کا عزم اور اظہار متاثرہ کو مارنا نہیں ہوتا۔ایتھنوسائیڈ: اس براغی کے اضافی ہونے کو تسلیم کرتی ہے: دوسرے برے ہیں، لیکن ہم ان کو بہتر بناسکتے ہیں ایسے کہ وہ خود کو بدل ڈالیں اور یہاں تک کہ ہمارے پیش کردہ اور مسلط کردہ ماڈل کو اپنالیں۔(کلاسٹریس ،1994ء،ص 23) ۔تو اگر متاثرہ اپنے کلچر سے دور ہوجآئے اور نسل کشی کرنے والوں کا کلچر اپنالے تو اس کی شناخت اور اندورن زندگی تو ختم ہی ہوجاتی ہے۔اس کے علاوہ جیسا کہ ہم نے اوپر زکر کیا کہ نسل کش معاشرے میں زندگی گزارنے والا مسلسل خوف میں زندگی گزارتا ہے، مسلسل ٹراما میں رہتا ہے۔اور یہ تصور کرنا مشکل نہیں ہے کہ ایسی حالت میں رہنے والا متاثرہ یا تو دفاعی حالت میں رہتا ہے اور اپنے کلچر ، عقیدے بارے دفاعی پوزیشن میں رہتا ہے یا اپنی کمیونٹی سے نفرت کرنے لگتا ہے ، اس کی بہت سی رسومات و شعار سے اور شاید اپنے آپ سے بھی نفرت کرنے لگتا ہے۔ بہرحال کیس کوئی بھی ہو وہ ہرحالت میں بے بسی اور ناامیدی کا تجربہ کرتا ہے۔

جینوسائیڈ/نسل کشی اپنے اصل معنوں میں کافی بڑی تعداد میں انسانوں کے قتل عام کا نام ہے،جب کہ یہ کسی فوج کا اپنی دشمن فوج کے خلاف ملٹری ایکشن نہ ہو بلکہ اس ميں قتل عام کا شکار ہونے والوں دفاع پہ قادر نہ ہونا اور مجبور ہونا اہم شرط ہے۔

(Charny, 1997, p. 86)

کلاسٹریس (1994ء،ص44) نے بھی نوٹ کیا:

ایتھنو سائیڈ ان لوگوں کے طرز زندگی اور سوچنے کے طریقوں کی منظم تباہی کا نام ہے جو اس تباہی کی مہم کو چلانے والوں کے طرز زندگی اور سوچ سے مختلف ہوتے ہیں۔محتصر یہ کہ جینوسائیڈ لوگوں کو جسمانی طور پہ ختم کرنے اور ایتھنوسائیڈ ان کے دماغ کو موت دینے کا نام ہے۔

کلاسٹریس جینوسائیڈ کو ایتھنوسائیڈ سے الگ کرتا ہے جبکہ مرا کہنا ہے کہ ایتھنوسائيڈ جینوسائیڈ کا حصّہ ہے۔میں اپنے خیال کے لئے مانے سے سپورٹ لیتا ہوں جو کہتا ہے:

ایک قومی انکوائری گزشتہ سال ہوئی جس سے پتا چلا کہ آسٹریلوی حکومت کی جانب سے آسٹریلیائی مقامی باشندوں کو زبردستی ہٹانے کا عمل بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھا اور تکنیکی طور پہ یہ جینوسائیڈ تھی کیونکہ اس کا مقصد آسٹریلیا کے مقامی کلچر کو زبردستی جذب کرنے کے زریعے سے تباہ کرنا تھا۔

(R. Manne cited by Martin and Rose, 2003, p. 32)

خارچی زندگی کے دو پہلو ہیں: ایک جسمانی وجود ہے جسے نسل کشکے علمبردار ختم کرنے کے درپے ہوتے ہو۔یہ خالص قتل ہے۔تاہم خارجی دنیا کا دوسرا پہلو ایک فرد کا معاشرے کے جزو کے طور پہ اعمال ہیں۔خارجی زندگی کسی فرد کے جسمانی طور پہ اپنے ثقافتی اور مذہبی عقائد اور اعمال کے ساتھ جڑنے کا نام بھی ہے۔جینوسائیڈ کی صورت حال سے دوچار متاثرہ شحض مشکل شکلوں اور سطحوں پہ امتیازی سلوک کا سامنا کرتا ہے۔اور اسی کے سب بطور انسان وہ جو سرگرمیاں کرسکتے ہیں وہ کرنہیں پاتے۔جینوسائیڈ کے علمبردار جینوسائیڈ کا شکار انسانوں کا جوہر انسانی چرا لیتے ہیں۔اسی لئے کارڈ نے کہا تھا کہ جینوسائیڈ “سماجی موت” ہے۔

کارڈ کہتا ہے:

” جینوسائیڈ کی خاصیت یہ ہے کہ یہ اپنے شکار کے سماجی تحرک کو سخت نقصان پہنچاتی ہے۔اور یہ صرف نسل کشی کے شکار گروپ کے لوگوں کی شناخت کو ہی نقصان نہیں پہنچاتی ہے بلکہ ان کی مجموعی انسانی فعالیت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔جب ایک کروپ اپنی ثقافتی شناخت کے ساتھ تباہ ہوجاتا ہے تو اس کے بچ جانے والے اپنا ثقافتی ورثہ کھوبیٹھتے ہیں۔اور یہاں تک کہ وہ اپنے باہمی نسلیاتی تعلقات بھی کھوبیٹھتے ہیں۔

اورلینڈو پیٹرسن کی ٹرمنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اس طرح کے واقعے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ سماجی طور پہ مردہ ہوجاتے ہیں اور ان کے آنے والے پیش رو پیدائشی بیگانے ہوجاتے ہیں۔اور وہ اپنی سے پہلی نسلوں کی روایات،ثقافتی پیش رفت بشمول زبانوں اور منصوبوں کو آگے نہیں لیجاپاتے اور ان پہ کوئی عمارت تعمیر کرپاتے۔سماجی موت کا نقصان جسمانی موت سے ضروری نہیں کم شدید ہو۔سماجی موت جسمانی موت کو اور زیادہ گہرا کرسکت ہے اس طرح کہ اسے اور ذلت آمیز  بنا سکتی ہے،تمام قابل عزت اور قابل قدر رسومات، سماجی روابط اور سماجی سیاق وسباق جوکہ مرنے کو قابل قدر بناتے ہوں اور یہاں کے موت کو معنی خیز بناتے ہوں ہٹادیتی ہے۔مرے خیال میں جینوسائیڈ خصوصی برائی صرف اس کی جسمانی موت ہی نہیں بلکہ سماجی موت  بھی ہے جو بتدریج ایک آدمی کی زندگی کو بے معنی کرتی ہے بلکہ اس کی زندگی کا ہی خاتمہ  کردیتی ہے۔”

جینوسائیڈ چاہے ماضی میں ہوئی ہو یا حال میں یہ واضح طور پہ دکھاتی ہے کہ اس کے زمہ داروں کا ارادہ نشانہ بننے والے گروپ کے ارکان کی جسمانی موت کے ساتھ ان کے ذہن اور روح کی تباہی بھی جاہتی ہے۔ترکی کی اس کی اہم مٹال ہے۔یہ ایک ایسا ملک ہے جو تاریخی اعتبار سے کئی ایک نسل کشی کرچکا ہے۔ترکی کی کرد آبادی کی مثال یہاں بہت متعلقہ ہے۔کردوں کو اپنی زبان کو کسی بامعنی سرگرمی کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔وہ اسے بس اپنی روزمرہ کی بات چیت میں استعمال کرسکتے ہیں۔ترکی نے کردوں کو اپنی زبان اسکولوں میں پڑھنے کی اجازت نہیں دی ہے۔وہ کوئی جیز اس زبان میں نہیں چھاپ سکتے۔ایک گروپ پہ زبان کی پابندی سے زیادہ دیرپا اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

 (عباس زیدی نے یہاں کونکیوسٹاڈور کی مثال دے رہے ہیں جو یا تو پرتگیزی تھے یا اسپینش سامراجیہ سے تعلق رکھتے تھے اور یہ 1545ء میں نئی دنیا کی دریافت کرنے نکلے تھے اور یہ ایک طرف تو بدترین دہشت اور تشدد پھیلانے کے حوالے سے بدنام ترین تھے تو یہ جس زمین پہ قابض ہوتے وہاں کے باشندوں کے کلچر اور ان کے مذہبی شعائر کی تباہی بھی کرتے تھے)

نے نہ صرف مقامیوں کا قتل عام کیا بلکہ انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ مقامی باشندوں مذہبی اور ثقافتی رسومات پہ بھی پابندی لگادی تھی۔تو اس مثال سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں ہے کہ ایک مذہبی جنونی ذہن اور ایک نسل کش ذہن نسل کشی سے متاثرہ گروپ کی خارجی و داخلی زندگیوں کی تباہی کے آسیب و جنون میں کم و بیش ایک جیسے مبتلا ہوتے ہیں۔

پاکستان میں شیعہ کو بھی اپنے مذہبی اور ثقافتی رسوم کی ادائیگی میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔جب کبھی وہ اپنا مذہبی اجتماع کرتے ہیں تو اس کا مطلب اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ہے۔شیعہ مسجد، گھر،مذہبی اجتماعات،جلوس عزاداری پہ بم دھماکے ، فائرنگ معمول ہے۔ان کے لئے جلوس عزادای یا مجلس کرانے کے لئے لائسنس کا حصول حکومت سے لینا لازمی ہے۔وہ انھی جگہوں پہ اجتماعات اور مذہبی جلوس نکال سکتے ہیں جہاں کئی عشروں سے وہ نکال رہے ہیں۔میں نے سینکڑوں شیعہ سے بات کی ہے اور میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جولائی 1977ء کے بعد جب جنرل ضیاءالحق نے اقتدار پہ قبضہ کیا تب سے ابتک کسی ایک مذہبی جلوس عزا کا نیا لائسنس جاری نہیں کیا گیا ہے۔

مترجم کا نوٹ: پورے ملک میں لائسنس سے ہٹ کر بہت سے جلوس ہائے عزا اور مجالس عزا روائیتی ہیں جو کئی عشروں سے ہورہی ہیں لیکن نواز حکومت کے دور میں ان روائیتی مجالس عزا اور جلوس پہ پابندی لگادی گئی ہے اور جہاں یہ جلوس نکالنے کی کوشش ہوئی وہاں ایسی کوشش کرنے والوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان، انسداد دہشت گردی ایکٹ اور مذہبی منافرت پھیلانے کے خلاف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے اور اس طرح سے قریب قریب سینکڑوں چھوٹے بڑے روائتی جلوس اور مجالس پہ پابندی لگادی گئی جبکہ پنجاب میں اکثر ثقافتی میلے ، عرس وغیرہ کے انعقاد کی ممانعت کردی گئی ہے۔

پاکستان میں جو ثقافتی اور تعلیمی منظر نامہ ہے اس سے شیعہ کی بے دخلی کا سفر جاری ہے۔ان کو اس سے غیر متعلق کیا جارہا ہے۔اور ان مين احساس کمتری پیدا ہورہا ہے۔کچھ مثالوں سے یہ بات واضح ہوجائے گی۔گزشتہ چند سالوں سے کراچی اور لاہور میں سالانہ لٹریری فیسٹول کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ہر فسیٹول میں ” لٹریچر اینڈ سوسائٹی ” اور ” لٹریچر و پالیٹکس ” جیسے سیشن کا انعقاد ہوتا ہے۔

سال 2012ء،2013ء اور 2014ء میں لٹریری فیسٹول کوئٹہ اور کراچی میں شیعہ کے قتل کی لہر کے فوری بعد ہوئے۔لیکن ان ادبی میلوں کے اندر ہونے والے بہت سے مباحثوں مین شرکاء نے طالبان کے ساتھ امن اور اس کے لئے ضروری اقدامات پہ تو بحث کی لیکن کسی نے بھی شیعہ کلنگ کا تذکرہ نہیں۔کچھ لوگوں نے اس ایشو کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن ان سے ڈسکشن کو چھوڑ دینے کو کہا گیا۔میڈیا نے اس طرح کے واقعے کا مکمل بلیک آؤٹ کیا۔شیعہ شناخت اسقدر مشکوک بنادی گئی کہ ایسی کوئی بھی کتاب جس کے شیعہ ہونے کا شک ہو تو اس کو کتابوں کی نمائش میں رکھنے یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔یہاں تک کہ انٹرنیشنل کتاب میلے میں شیعہ ایرانی بک سٹال کو پیک اپ کرنے اور چلے جانے کو کہا گیا کیونکہ وہاں پہ شیعہ کتابیں برائے فروخت تھیں۔

پاکستان میں ” اسلامیات ” اور ” مطالعہ پاکستان ” کالج لیول تک لازمی مضامین ہیں۔ان دو مضامین میں شیعہ شناخت کو تباہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔اسلامیات میں طلبا کو بتایا جاتا ہے کہ وضو کرنے ، نماز پڑھنے ، ایک سچے مسلمان کے طور پہ زندگی گزارنے اور مردے دفن کا ٹھیک اسلامی طریقہ سنّی طرق ہیں۔اسلامیات میں اس حقیقت کو کہیں بیان نہیں کیا جاتا کہ اسلام پاکستان میں یک نوعی۔مونولتھک نہیں ہے۔شیعہ پاکستان کی کل مسلم آبادی کا 20 فیصد ہیں لیکن اسلامیات کی کتاب میں ان کو اسلام کے ایک مکتبہ فکر کے طور پہ بھی جگہ نہیں دی جاتی۔ان درسی اسلامیات کی کتابوں میں اسلام کا مطلب ہر وہ شئے ہے جو غیر شیعہ اور یہاں تک کہ شیعہ مخالف ہے۔یہاں تک کہ وہ علاقے جہاں شیعہ اکثریت میں ہیں، شیعہ طلباء کو ایسی کتابیں پڑھنے کو کہا جاتا ہے جو ان کو کھلے عام یہ بتاتی ہیں کہ ان کی عبادت کے طریقے ٹھیک اسلامی نہیں ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات مین گلگت اور سکردو کا کیس بہت اہم ہے۔گلگت۔سکردو کی 75 فیصد آبادی شیعہ ہے۔یہاں پہ شیعہ کو وہ اسلامیات پڑھنے کو کہا جاتا ہے جو ان کو کافر اور گمراہ فرقے کے طور پہ پیش کرتی ہیں۔2000ء میں گلگت۔سکردو میں ایک بہت بڑی تحریک ان کتابوں کو نصاب میں سے ہٹائے جانے بارے چلی تو اس تحریک کے احتجاج کو سیکورٹی فورسز نے کچل ڈالا اور متعدد لوگوں کو ہلاک و زخمی کیا گیا۔شیعہ اکثریت کے علاقوں میں کرفیو لگادیا گیا۔طلباء و طالبات کو ایک سال تک اسکول اور کالجوں میں داخل ہونے سے روکے رکھا گیا۔ان کی معاشی زندگیوں پہ بھی روک لگادی گئی۔اور پانچ سال کی طوریل جدوجہد کے بعد وہ شیعہ مخالف مواد کو نصابی کتب سے ہٹوانے میں کامیاب ہوئے۔

مذہبی رسومات سے ہٹ کر بھی شیعہ کی داخلی زندگیوں پہ دوسرے تحریکوں سے بھی حملے کئے جاتے ہیں۔پاکستانی معاشرے میں ان لوگوں کو قومی ہیرو کے طور پہ ابھارا گیا جنھوں نے ماضی میں ہندوستان پہ حملہ کیا، اسے تباہ کیا ، اس پہ فتح کے بعد حکمرانی کی۔جیسا کہ احمد نے نشان دہی کی ہے کہ ہر وہ ہیرو جیسے مختلف مراکز سے پروموٹ کیا گیا ۔۔۔۔۔میدیا، اسکول، کلچرل شوز ، نصابی کتب اور فیسٹول کے زریعے۔۔۔۔ وہ شیعہ کا قاتل تھا۔حملہ آور، قبضہ گیروں کو قومی ہیرو بنانے کے ساتھ ساتھ شیعہ دشمن مذہبی شخصیات کو بھی پاکستانی درسی و نصابی کتابوں میں اسلامی ہیروز کے طور پہ پیش کیا گیا۔جیسے ابن تیمیہ، محمد بن عبدالوہاب وغیرہ اور اسی طرح شاہ ولی اللہ اور شیخ احمد سرہندی کی شیعہ مخالف باتوں کو درسی کتب میں جگہ زیادہ دی گئ۔پاکستان کے تعلیمی اداروں میں مذہبی تعلیم اور مطالعہ پاکستان کی درسی کتابوں میں شیعہ کردار کشی کی باتوں کے تذکرے نے  پاکستانی یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات کی ایک بڑی تعداد کو شیعہ کو کافر سمجھنے پہ مجبور کردیا۔

بڑی حد تک دفاع سے مجبور

نسل کشی کی تعریف کا چوتھا جزو دفاع سے قاصر ہونا ہے۔یہ ممکن ہے کہ متاثرہ کچھ حالات میں نسل کشی کے خلاف لڑائی بھی کرلے جیسے کچھ جگہوں اور علاقوں میں متاثرہ کیمونٹی کے لوگوں کی بڑی تعداد ہو اور وہ کچھ دیر کے لئے اس نسل کش مہم کے خلاف لڑ بھی لیں۔لیکن مجموعی منظرنامے میں وہ دفاع کے قابل نہیں ہوتے۔اور نسل کشی کرنے والوں کے رحم و کرم پہ ہوتے ہیں۔1990ء میں جب شیعہ ٹارگٹ کلنگ عروج پہ پہنچ گئی جس میں خاص طور پہ شیعہ پروفیشنل اور سیاسی رہنماء بڑی تعداد میں ٹارگٹ کئے گئے تو کچھ شیعہ نوجوانوں نے سپاہ محمد کے نام سے ایک گروپ

بنالیا۔جنھوں نے سپاہ صحابہ پاکستان کے خلاف مزاحمت کی۔کچھ شیعہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ سپاہ محمد پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا برین چائلڈ تھی تاکہ شیعہ کو بھی دہشت گرد قرار دیا جاسکے۔اگر سپاہ محمد حقیقی مزاحمتی گروپ تھا بھی تو اس پہ 2001ء میں پابندی لگ گئی اور اس کے لیڈر یا تو مار ڈالے گئے یا ان کو جیل ہوگئی۔

متاثرہ کا جرم

نسل کشی کی تعریف میں پانچواں جزو “متاثرہ کا جرم ” ہے۔یعنی نسل کشی کا ارتکاب کرنے والے نشانہ بنائے جانے والے گروپ کے کسی بھی رکن کے قتل کے جواز کے لئے اس کے خلاف جو فرد جرم بناتے ہیں اس سے نسل کشی کرنے والوں کی بے تحاشا طاقت کا اظہار ہوتا ہے۔نسل کشی کا ایک طریقہ متاثرہ کی مجرمانہ یا گناہ گار کی شکل میں پیش کرنا اور اس پہ یہ مجرمانہ شناخت تھوپنا بھی ہے۔دباغ (2005ء،ص 52) میں صاف صاف اسے یوں پیش کرتا ہے:

تشدد کا اطلاق اور اس کا اجازت نامہ بھی نسل کشی کا ارتکاب کرنے والے سماج میں نسل کشی کے متاثرہ گروپ کی اجتماعی شناخت کی تشکیل سے بہت گہرا جڑا ہوتا ہے۔تو نسل کشی اور شناخت کا جائزہ دو ایشوز کو لیکر آتا ہے: جینوسائیڈ کا شکار ہونے والے کئی قسم کے عدم ارتباط ، انجریز اور نقصانات کا سامنا کرتے ہیں۔انتہائی شدید جانی اور نفسیاتی تشدد کا تجربہ ان کو نہ صرف لانگ ٹرم ٹرامیٹک اثرات کی جانب لیکر جاتا ہے جوکہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں بلکہ یہ ان کی شناخت کی بھی بری طرح سے تباہی لیکر آتا ہے۔اور اس قسم کی تباہی جینوسائیڈ تشدد کا کوئی ثانوی اور غیر ارادی اثر نہیں ہے بلکہ یہ اس جینوسائیڈ کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔اب جبکہ نسل کش طاقتور ہیں اور وہ ایسے مصنوعی حقائق /سچ متاثرہ گروپ کے بارے میں گھڑنے پہ قادر ہوتے ہیں جس سے ان کی نسل کشی جائز لگے۔نسل کشی کرنے والے اس بات پہ بھی قادر ہوتے ہیں کہ وہ ایک خاص قسم کی شناخت متاثرہ گروپ پہ مسلط کردیں اور ان سے ان کا وقار چھین لیں اور یہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کی شدید ترین پامالی ہے۔

. . . human persons possess an inherent dignity by virtue of the properties of their existent personal being. Simply by being the kinds of creatures they are ontologically, persons are characterized by real dignity. Dignity is not an extra benefit conferred upon persons by social contract or positive law. Dignity is not the culturally relative invention of some people who socially construct it in their minds and discourse. Dignity is a real, objective feature of human personhood. (Smith, 2010, p. 434)

انسان اپنے ذاتی وجود کے خواض کی وجہ سے ایک ودیعت کیا گیا وقار / عزت نفس رکھتے ہیں۔سادہ طور پہ وہ ایسی مخلوق ہیں جو کہ علمیاتی طور پہ وقار کے حامل اشخاص ہیں۔اور یہ وقار کوئی ان کی شخصیت کو کسی معاہدہ عمرانی یا قانون کے زریعے سے الگ سے دیا گیا انعام نہیں ہے۔وقار کوئی ثقافتی طر پہ ایک اضافی ایجاد نہیں ہے جسے لوگوں نے سماجی طور پہ اپنے ذہنوں اور ڈسکورس میں تشکیل دے دیا ہو۔وقار شخصیت انسانی کا حقیقی اور معروضی پہلو ہے۔

شیعہ مسلمان ہونے کے دعوے دار ہیں کیونکہ وہ اسلام کے ان پانچ بنیادی عقائد پہ اسی طرح سے یقین کرتے ہیں جیسے دوسرے اسلامی فرقے۔لیکن شیعہ کے قاتل پاکستانی ریاست کی جانب سے ملنے والی طاقت اور حمائت کی وجہ سے ان پہ ایک متلف شناخت ٹھونستے ہیں۔اور وہ ہے کہ ” شیعہ کافر ہیں”۔اگر ڈاکٹر علی حیدر دیوبندی ہوگئے ہوتے تو وہ ایک ہیرو بن جاتے، دیوبندیوں کے پوسٹر بوئے ان تمام گناہوں سے پاک جن میں وہ اپنے شیعہ ہونے کے دنوں میں مبتلا تھے اور ان کی زندگی بچ جاتی۔لیکن اس کے لئے ان کو شیعہ شناخت سے دستبردار ہونا پڑتا۔تو اگر ہم برسبیل تذکرہ یہ فرض کرلیں کہ پاکستان کے تمام شیعہ دیوبندیوں کے مطالبے پہ اپنے عقائد سے دست بردار ہوجائیں تو ان کو نہیں مارا جائے گا۔لیکن ان کی شیعہ شناخت اور کئی ایک ثقافتی اور علامتی رسومات کا وجود ہی مٹ جائے گا۔دوسرے لفظوں میں ایک بھی شیعہ کو قتل کئے بغیر شیعہ کی جینوسائیڈ مکمل ہوجائے گی۔یہ دلیل مرے اس دعوے کو سپورٹ کرتی ہے کہ جینوسائیڈ ایک بھی قتل کئے بغیر بھی ممکن ہے۔کسی بھی گروپ کی زندگی کے امکانات کو کم کرتے چلے جانے کا نتیجہ اس گروپ کے مکمل غائب ہونے کی شکل میں نکلتا ہے۔اور کسی گروپ کی داخلی زندگی پہ ہمہ جہت حملہ اس کی زیست کے دوسرے تمام پہلوؤں کو بھی مٹادےگا۔

جینوسائیڈ کی نمونہ کاری/ماڈلنگ

اوپر کی جانے والی ڈسکشن سے شاید مجوزہ نسل کشی کے ایک ماڈل پہ کام کیا جانا ممکن ہے۔میں درج ذیل ماڈل برائے جینوسائیڈ پیش کرتا ہوں جو مرے دعوے کے مطابق اس سارے تصور کا ہر طرف سے احاطہ کرتا ہے:

بنیادی تصور گری

اس سے مراد بنیادی ثبوت اور کسی بھی دی گئی نسل کشی کا علاقہ ہے۔نسل کش دہشت گردی اپنا جواز بعض حقیقی یا فرض کردہ واقعات میں تلاش کرتی ہے اور اور خاص مقام یا مقامات پر  مخصوص لوگوں پہ اسے مسلط کرتی ہے۔بنیادی ثبوت یا مبادیات علمیاتی بھی ہوسکتے ہیں۔مثال کے طور پر نسل کش دہشت گردی شیعہ کے خلاف بہت قدیم ہے۔اتنی ہی قدیم جتنی اسلام کی تاریخ قدیم ہے۔

شیعہ کی نسل کشی کرنے والے اپنے اس فعل کا جواز اس بات پہ رکھتے ہیں کہ شیعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں کی توہین کرتے ہیں۔اس توہین کی اصل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی جانشینی کے تنازعے میں چھپی ہوئی ہے۔( خلافت کے تنازعے کی جامع تاریخ کے لئے ہزلیٹن ،2009ء کو دیکھیں )۔شیعہ نے اس وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی جانشینی کی حمايت کی تھی۔آج شیعہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ حضرت علی کا خلافت کا حق دوسرے دعوے دار صحابہ کرام سے زیادہ تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ شیعہ اس لئے نہیں مارے جاتے کہ باقی مسلمانوں سے ان کا پانچ بنیادی اراکین اسلام میں اختلاف ہے۔وہ اس لئے مارے جاتے ہیں کہ وہ ایک ہزار سالہ مسلم حکمرانی کے دور میں سے چند اصحاب رسول رضی اللہ عنھم کے ادوار حکمرانی کے جواز پہ جمہور مسلمانوں سے الگ رائے کے حامل ہیں۔تو ایسے شیعہ ، ان کے گھر، کام کرنے کی جگہ ،مسجد اور دل و دماغ ،ان کے اجسام نسل کشی کی بنیادی تصور گری میں وہ بنیادی علامات ٹھہرجاتے ہیں جن کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

موقف کی جانچ

Evaluative Positioning

نسل کشی کی ماڈلنگ میں دوسرا اہم جزو ہے تو اسے ہم موقف کی جانچ کہہ سکتے ہیں۔جو نسل کشی کے متاثر ہیں اس کے بارے میں موقف بنائے جانے کا راستہ اس کو کرنے والوں کے ہاں اس نسل کشی کے ہورہے ہونے یا ہوچکے ہونے کا انکار کا راستہ ہوا کرتا ہے۔مثال کے طور پہ ایک صاف صاف انکار کا موقف بنالیا جاتا ہے:ایسی کوئی شئے نہیں ہورہی ہے۔اس طرح کا انکار جن کی نسل کشی ہورہی ہوتی ہے ان کی شناخت سے انکار کے زریعے سے ہوتا ہے۔وہ شناخت جو ان کی نسل کشی کا بنیادی سبب ہوتی ہے۔اس طری کا انکار کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ دوسرے گروپ کے کچھ لوگ مارے جارہے تو جارہے ہیں لیکن یا تو وہ بس کسی لپیٹ میں آکر مارے جارہے ہیں (ان کو باقاعدہ منظم اور منصوبہ بندی کے ساتھ نہیں مارا جارہا۔یا ان کے مارے جانے کی تعداد اتنی کم ہےکہ اسے نسل کشی کہا نہیں جاسکتا۔رپورٹ کرتے ہوئے مارے جانے والوں کی شناخت کا زکر نہ کرکے بھی بذات خود مارے جانے کے سوال پہ بھی پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ایک اور طریقہ جو نسل کشی پہ اختیار کئے جانے والے موقف کو سوال کی زد میں لاتا ہے وہ نسل کشی بارے ابہام یا گول مول بات پہ مبنی ہے۔اور ایسا موقف دراصل علم اقدار یا اخلاقیات کو سرے سے تروڑ مروڑ کر اختیار کیا جاتا ہے۔شیعہ  نسل کشی کے باب میں یہ کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔اس کا ایک طریقہ تو اسے شیعہ۔سنّی فریم ورک کے اندر رکھ کر دکھانا ہے۔یعنی شیعہ نسل کشی کو شیعہ اور سنّی کے درمیان تصادم بناکر پیش کرنا ہے۔پاکستان میں شیعہ نسل کشی سنّی نہیں کررہے بلکہ یہ دیوبندی مکتبہ فکر کے تکفیری کررہے ہیں۔پاکستان میں 65 فیصد صوفی سنّی ہیں جن کو عرف عام میں بریلوی کہہ دیا جاتا ہے۔جبکہ دیوبندی سنّی 35 فیصد ہیں۔وہ صحافی جو شیعہ نسل کشی کو شیعہ ۔سنّی تصادم یا لڑائی کہتے ہیں وہ دراصل شیعہ نسل کشی کے غلط قسم کا سیاق و سابق بنانے کے ذمہ دار ہیں۔چند دوسرے طریقے جو شیعہ نسل کشی کے انکار کا سبب بنتے ہیں ان میں اس دہشت گردی کو مڈل ایسٹ میں سعودی عرب-ایران تنازعے کا نتیجہ قرار دینا یا اسے نائن الیون کے بعد امریکیوں کے پاکستان میں ڈرون حملوں کا نتیجہ قرار دینا یہ کہتے ہوئے کہ طالبان کیونکہ امریکیوں پہ جوابی وار کرنے سے قاصر ہیں تو وہ شیعہ کے خلاف کاروائی کرکے غضّہ نکالتے ہیں یا شیعہ گمراہ ترین مسلمان ہیں اور ہمارے لوگ جو ان کے خلاف کاروائی کرتے ہیں ان کو ان کی کاروائیوں سے واپس پلٹایا جاسکتا ہے جیسے موقف شامل ہیں۔شیعہ نسل کشی کا جواز موقعہ پرستانہ دلائل کے زریعے سے بھی تلاش کیا جاتا ہے۔ایسے جواز اور دلائل کی بنیاد فقہ، علم کلام اور نیشنل ازم پہ استوار کی جاتی ہے۔شیعہ نسل کشی کی جواز کا تشریحات کی مطابقت میں استدلال کی تشکیل کی جاتی ہے کہ توہین /بلاسفیمی کے مرتکب اور مرتدوں کو ماردینا ہی ٹھیک ہوتا ہے۔اس طرح سے مسائل شریعہ کے سرچشموں کی من مانی تشریح کی جاتی ہے تاکہ مارے جانے کا جواز پیدا کیا جائے۔قتل کا جواز نیشنل ازم کے نام پہ بھی کیا جاتا ہے۔شیعہ ایران کے ایجنٹ ہیں یا امریکہ یا یہودیوں کے اس لئے ان کو مارا جانا ٹھیک ہے۔شیعہ کی نسل کشی کے جواز کو کچھ دوسری اصطلاحوں مین لپیٹ کر بھی پیش کیا جاتا ہے۔جیسے سب شیعہ کو ظالم ، سرمایہ دار ، جاگیردار ، بیوروکریٹ بناکر پیش کرنا یا ان کے قتل کے محرکات کی مارکسی یا نفسیاتی توجیہ پیش کرنا۔

موضوعاتی نمائندگی

نسل کشی کی مہم میں متاثرین کے عقائد و رسوم ایسی اصطلاحوں میں پیش کئے جاتے ہیں جوکہ ان کو اپنے اذیت پہنچانے والوں کے عقائد و رسوم سے کسی بھی سطح پہ مطابقت نہ رکھنے والے ایک جارح کے طور پہ پیش کرتے ہیں۔مشترکات جو متاثرین اور ان کے اذیت رسانوں کو قریب لاسکتے ہیں وہ پس پشت چلے جاتے ہیں۔اسلام کے پانچ بنیادی اراکین ہیں:توحید و رسالت،نماز، روزہ ،زکات ،حج۔ان کے علاوہ بھی اجزائے ایمان ہیں جیسے صحائف آسمانی پہ ایمان،ایمان بالرسل ،ایمان بالملائکۃ ، اور ایمان بالآخرت۔اول الذکر ایمان مفصل اور آخرالذکر ایمان مجمل کہلاتا ہے۔

تمام شیعہ ان مذکورہ بالا سب چیزوں پہ ایمان رکھتے ہیں لیکن ان کا اختلاف خلافت اور نیابت کے معاملے میں ہے۔لیکن نسل کشی کرنے والے یہ بات کبھی سامنے لیکر نہیں آتے کہ شیعہ ایمان مجمل و ایمان مفصل دونوں کے قائل ہیں۔شیعہ نسل کشی کی مہم میں شریک جیسے دیوبندیوں میں تکفیری ہیں وہ شیعہ کی بلاسفیمی اور توہین مذہب کے ثبوت میں شیعہ کا مسئلہ خلافت میں اہل سنت سے الگ موقف کو پیش کرتے ہیں۔ان کے ہاں شیعہ کی یہ شناخت پیدا کی جاتی ہے کہ وہ بلاسفیمر ہیں۔گستاخ ہیں جو مسئلہ خلافت پہ الگ رائے رکھ کر اسلام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔شیعہ کی بطور گستاخ اور ان کی ایک اسلام دشمن شناخت بنانے میں دیوبندی مکتب فکر میں تکفیریوں کے ہزار ہا فتوؤں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔اور انہی فتوؤں کی بنیاد پہ شیعہ کی جسمانی و سماجی و ذہنی موت کا مطالبہ کیا جاتا ہے

پاکستان میں شیعہ نسل کشی

پاکستان میں شیعہ کے منظم قتل کا واقعہ 3 جون 1963ء میں پہلی مرتبہ سامنے آیا۔اور یہ واقعہ خیرپور سندھ میں پیش آیا تھا جہاں پہ دس محرم کے جلوس پہ وہابی مسلمانوں کے ایک گروپ نے حملہ کیا اور شیعہ مرد اور عورتوں کو چھریوں اور بغدے کی مدد سے قتل کردیا گیا۔اور اس حملے میں 118 شیعہ قتل ہوئے۔لاشوں کے ٹکڑے کردئے گئے اور جو بھی عاشور پہ تعزیہ ، علم اور دیگر تبرکات تھے سب جلاڈالے گئے۔اور ساتھ ہی شیعہ لاشوں کو بھی آگ لگادی گئی۔اس زمانے میں کوئی ٹیلی ویژن نہیں تھا اور چند اخبارات تھے جن میں اکثر پہ سرکاری کنٹرول تھا۔اگلے روز اس المناک حادثے کی خبر یوں رپورٹ ہوئی:

” عاشورہ کے موقعہ پہ لاہور اور خیرپور کے گاؤں ٹھری میں فرقہ وارانہ فساد میں چند جانیں چلی گیں۔متعدد زخمیوں کو ہسپتال  داخل کرادیا گیا”

خیر پور میں شیعہ پر نسل کش حملے کی رپورٹنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا انکار ، اس پہ ابہام کے پردے ڈالنا اور اس کا جواز فراہم کرنا نئی بات نہیں ہے۔اوپر والی رپورٹ پڑھ کر یہ تاثر بنتا ہے: دو مساوی طور پہ طاقتور گروہوں کے درمیان تصادم ہوا ، تصادم دونوں جانب سے پہلے سے منصوبہ بند اور ارادے کے ساتھ کیا گیا ، دونوں پارٹیاں برابر کی قصوروار ہیں ،دونوں پارٹیوں کے لوگ مارے گئے اور کچھ زیادہ ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔اس کے علاوہ شیعہ قتل کی جگہ دور دراز کا ایک گاؤں ہے اور اس لئے نظرانداز کئے جانے کے قابل ہے۔ اس دن سے لیکر آج تک ٹھری خیرپور میں ہوئے اس سانحے کو کسی پاکستانی پبلیکیشن میں جگہ نہیں ملی۔حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سانحہ کا حوالہ اپنی رپورٹ میں دیا ہے۔

ایسے 1963ء سے لیکر وقفے وقفے سے شیعہ کا قتل ہوتا رہ لیکن 1979ء میں افغان جہاد کے شروع ہونے کے بعد ایک سعودی امریکن منصوبے کے تحت شیعہ نسل کشی نے باقاعدہ منظم شکل اختیار کرلی۔

(Coll,2005)

امریکیوں کا مقصد سوویت یونین کو نیچا دکھانا تھا۔اور سعودی عرب کے لئے سعودی ۔سلفی وہابی آئیڈیالوجی پھیلانے کا آئیڈیل موقعہ تھا۔فردوس کے الفاظ میں :

“سوویت یونین نے 1979ء میں افغانستان میں افواج داخل کیں تو اس نے دیوبندی و وہابی مسلمانوں کو مذہبی و سیاسی مقاصد کے لئے لڑائی کے لئے پیسہ فراہم کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔اس جنگ کو کافر کمیونسٹوں اور منحرف مسلمانوں جیسے صوفی سنّی اور شیعہ کو شکست دیکر اصلی وہابی اسلام کو نافذ کرنے کا بہترین موقعہ خیال کیا گیا۔

تب سے ابتک بہت بڑی تعداد میں شیعہ مارے جاچکے ہیں۔اس حوالے سے بہت سے دعوے ہیں جن میں ہزاروں شیعہ کی تعداد بتائی جاتی ہے جو مارے گئے۔اس کتاب میں شیعہ قتل کا ایک کرانیکل اعتبار سے ضمیمہ شامل کیا کیا ہے۔لیکن یہ اعداد و شمار مستند نہیں ہیں کیونکہ ان کو پاکستانی اخبارات سے لیا گیا ہے کیونکہ پاکستانی مین سٹریم میڈیا شیعہ کلنگ پہ کم سچائی بولتا نظر آتا ہے۔اس لئے کم از کم شیعہ کلنگ بارے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان میں مارے جانے والے شیعہ کی تعداد بیان کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔اس کتاب میں جو تجزئے کئے گئے ہیں اس سے میڈیا کی جانبداری والا معاملہ صاف ہوجائے گا۔پاکستانی مین سٹریم میڈیا کی شیعہ نسل کشی پہ جانبدار رپورٹنگ کا جائزہ لینے کے لئے اس کا شیعہ نسل کشی پہ کام کرنے والی ویب سائٹ پہ آنے والی رپورٹنگ سے موازانہ کیا جاسکتا ہے۔تاہم ایشو یہ ہے کہ یہ ویب سائٹ بنے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔لیٹ اس بلڈ پاکستان 2008ء میں بنی ۔اس لئے ابتک مارے جانے والے شیعہ کی اصل تعداد کا پتا چلایا جانا ممکن نہیں ہے۔

مسخ شدگی پہ مبنی تشدد اور دانش کشی

ایک فرد کا جسم وہ راستہ ہے جس پہ سماجی سچائی اور سماجی تضادات کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔اور یہ پرسنل اور سماجی مزاحمت و جدوجہد کا میدان بھی ہوتا ہے۔ جیسے شیپر ہاگ اور لاک (1987ء،ص 31) پہ واضح کیا ہے۔

جسمانی تشدد ایک علامتی تشدد بھی ہے۔جبکہ مارنا جسمانی فعل کے ساتھ ساتھ نظریاتی فعل بھی ہے۔ریموٹ کنٹرول اور خودکش بم دھماکوں کے زریعے سے مارے جانے کے علاوہ شیعہ کی مخصوص طرز پہ کلنگ بھی بہت اہم ہے۔منتخب قتل دوھری قسم کی کلنگ ہے: تکفیری دیوبندی شیعہ کے بہترین دماغوں کا قتل کرتے ہیں۔1990ء کی ابتداء میں تکفیری دیوبندیوں نے شیعہ کے انتہائی قابل ڈاکٹروں کی ایک پوری لاٹ کو قتل کردیا۔اسی طرح ڈاکٹر علی حیدر ، ایڈوکیٹ شاکر رضوی ، علامہ ناصر عباس رضوی ، علامہ عالم الموسوی، پروفیسر ڈاکٹر شبیہ الحسن ، شاعر اور ماہر تعلیم سبط جعفر زیدی،گجرات یونورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر شبر ،سندھ ہائیکورٹ کے وکیل کوثر ثقلین ، پروفیسر صفی الدین جعفری ، انجینئر منتظر مہدی،علامہ تقی ہادی نقوی، اور محسن نقوی جیسے لوگ اپنے اپنے شعبے کے بہترین افراد تھے۔شیعہ دانش کشی کی اس مہم کو بروئے کار لاتے ہوئے شیعہ کا قتل کرنے والے شیعہ کمیونٹی کو کم پڑھے لکھے ، نیم خواندہ اور غیر اہم اقلیت میں بدلنے کے خواہاں ہیں جوکہ قابل تعریف تحرک اور تخلیقی طور پہ کچھ کرنے کے قابل نہ رہے۔

پریز ( 2012ء،ص 26) کے الفاظ میں:

نوجوانوں اور بوڑھوں کو یکساں قتل کرتے ہوئے اور ان کو غیر اہم عوام میں بدل کر جارح ایک نمایاں قسم کی نفسیاتی برآمد علاقائی تفاعل کی جگہ پہ کرتا ہے جس میں وہ آپریٹ کررہے ہوتے ہیں۔

شیعہ دانش کشی پیغام کے بغیر نہیں ہے۔اور یہ اس دوھرے پن کا دوسرا رخ ہے۔اوپر پیراگراف میں جتنے شیعہ دماغوں کا زکر کیا کیا ان سب کے سروں اور چہروں پہ گولیاں ماری گئیں کہ وہ سب خون اور گوشت کے لوتھڑے میں بدل گئے۔ان کو اتنے برے طریقے سے قتل میں پوشیدہ پیغام واضح ہے:ان کی مسخ شدہ لاشیں شیعہ کمیونٹی کی مکمل شکست اور توہیں کی علامت ہیں۔جبکہ مسخ شدہ جسم مارے گئے شخص کے مٹائے جانے کی علامت ہے اور یہ باقی کمیونٹی کو بھی اس کی بے بسی ،تذلیل اور کمتری یاد دلانے کے مترادف ہے۔یہ عمل کرنے والوں کی طاقت کی بھی علامت ہیں کہ وہ جہاں چاہیں اس پہ عمل کرسکتے ہیں اور یہ نسل کشی کا شکار کمیونٹی پہ طعن بھی ہے اور ان کو ان کی لاچاری کی یاد دہانی بھی۔شیعہ کے بہترین دماغوں کو اتنے برے طریقے سے ضایع کرنے کا عمل یہ عمل کرنے والوں کی جانب سے شیعہ کے بہترین دماغوں کے خزانے کو غیر اہم بنانا بھی ہے۔اور یہ باور کرانا بھی کہ ان کو ایسے مارا جاسکتا ہے جیسے مکھیوں مسلا جاتا ہے۔مسخ شدہ لاشیں مردوں، عورتوں ، بچوں ، شیر خوار بچوں کی سڑکوں پہ بکھرادینا ایک اور پیغام بھی ہے: بکھری ہوئی مسخ شدہ لاشیں مرنے والوں پہ بعد از مرگ حملہ ہے ایسے کہ ان کو نارمل طریقے سے دفن نہیں کیا جاسکتا۔خود کش ہلاکتیں آدم خوری کے برابر ہیں کیونکہ یہ نسل کشی کے مرتکب کی نسل کشی کے متاثرین پہ غلبے کی حرص کو اور طاقت پہنچاتی ہے۔اور جب مییا ، حکومت اور کئی انسانی حقوق کے گروپ ان کی نسل کشی کا انکار کرتے ہیں، اس پہ ابہام کا پردہ ڈالتے ہیں اور یہان تک کہ اس کا جواز فراہم کرتے ہیں تو یہ شیعہ کو پیغام ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ غیر اہم گروپ ہیں بلکہ پاکستان میں ان کے عقائد کے نظام اور کلچر کے لئے بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔

شیعہ نسل کشی ،چند امثال

پاکستان کے مین سٹریم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے کبھی بھی شیعہ نسل کشی کو معنی خیز انداز میں نہیں لیا ہے۔جیسا کہ میں نے اس کتاب کے باب میں شیعہ نسل کشی بارےمیڈیا کے  مبہم  انداز بارے کھل کر بات کی ہے تو کسی ریسرچ کرنے والے کے لئے یہ اندازہ لگانے کا کوئی راستہ نہیں ہے کہ ابتک عقیدے کی بنیاد پہ کتنے شیعہ مارے گئے۔عبدل نیشاپوری نے ایک دیوبندی اور سلفی تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والے شیعہ کی ایک فہرست 1963ء سے لیکر 2015ء تک تیار کی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ابتک 25 ہزار شیعہ عقیدے کی بنیاد پہ قتل ہوئے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اوّر بتایا کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی جاری و ساری ہے اور جیسے تکفیری دیوبندیوں کی جانب سے شیعہ کو مرتد قرار دینے کی مہم جاری ہے اس سے صاف نظر آتا ہے یہ آگے بھی جاری رہے گی۔اور مڈل ایسٹ میں جو اولیگارشی یعنی اشراف حکومتیں بشمول سعودی عرب ، قطر، بحرین ، متحدہ عرب امارات وغیرہ کی جانب سے شیعہ مخالف قوتوں کی سرپرستی جاری ہے تو یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔

پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی چند مثالوں بشمول 1990ء سے جاری شیعہ ڈاکٹروں کی ہلاکت کی مہم کا نتیجہ سینکڑوں ڈاکٹرز کی ہلاکت کی صورت نکلا ہے۔اس مہم کے مستقل جاری رہنے کے نتیجے میں کئی شیعہ ڈاکٹرز نے اپنا اور اپنے کلینک کا نام بدل ڈالا ہے۔ شیعہ کے روزانہ کی بنیادوں پہ کلنگ کے ساتھ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جن میں شیعہ کا بڑے پیمانے پہ قتل عام ہوا۔ان کو بسوں سے اتار کر ایک صف میں کھڑا کرکے گولیوں سے اڑا دیا گیا۔ان کو گولیاں ماری گئیں تو ساتھ ہی مارنے والوں نے اس دہشت گردی کی فلمبندی بھی کی اور پھر فخریہ طور پہ اسے اپ لوڈ کردیا گیا۔اور پھر اجتماع عام اور جلسوں میں تکفیری دیوبندی لیڈروں نے ان ہلاکتوں کے کرنے والوں کو اپنا جنگجو قرار دیا اور اس پہ فخر کیا۔شیعہ جلوس ہائے عزا میں شرکت کرتے ہوئے باقاعدگی سے مارے جاتے ہیں اور یہاں تک کہ جنازوں پہ بھی حملے ہوتے ہیں۔(حسن، 29 دسمبر 2009،خان 4 ستمبر 2010ء ، قاسمی ،7 فروری 2012ء،قریشی ،12 نومبر 2012ء )

تکفیری دیوبندی

اس باب میں ،مین نے تکفیری دیوبندی کا لفظ شیعہ کے قاتلوں کی شناخت کے طور پہ بیان کیا ہے۔اور پاکستان میں چھوٹے موٹے استثنا چھوڑ کر سارے شیعہ کے قاتل تکفیری دیوبندی ہیں۔طالبان، سپاہ صحابہ پاکستان،اہلسنت والجماعت،لشکر جھنگوی،جنداللہ ، اور جیش محمد سب تکفیری دیوبندی ہیں۔ابتک شیعہ پہ جتنے نسل کش حملے ہوئے ہیں سب کس سب تکفیری دیوبندیوں نے کئے ہیں۔لشکر جھنگوی جو کہ القاعدہ سے ملحق ہے مرکزی شیعہ قاتل گروپ ہے۔یہ سب گروپ سرکاری طور پہ کالعدم ہیں لیکن ان کو سیاست میں حصہ لینے، الیکشن لڑنے  اور بڑی سیکولر پارٹیوں سے اتحاد بنانے کی اجازت ملی ہوئی ہے۔وہ جو شیعہ کے قاتلوں کو سنّی لکھتے ہیں وہ جان بوجھ کر اس ایشو کو مبہم بناکر اسے شیعہ ۔سنّی ایشو بناکر پیش کرتے ہیں جوکہ مکمل جھوٹ ہے۔جیسا کہ اوپر زکر کیا گیا پاکستان میں 65 فیصد اکثریتی آبادی صوفی سنّی ہے جن کو بریلوی کہا جاتا ہے کو بھی تکفیری دیوبندی مارتے ہیں۔پاکستان میں دہشت گردی کی 90 فیصدی وارداتوں کے پیچھے تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔تکفیری دیوبندی اس لئے اتنے طاقتور ہوگئے کہ ان کو ریاست پاکستان کی مدد اور سعودی عرب سمیت گلف کی وہابی ریاستوں سے پیسہ ملتا رہا ہے۔شیعہ پہ حملوں اور تکفیری دیوبندی دہشت گردی کا مربوط اندراج اور تجزیہ حسین (2010ء) میں اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے میں کیا ہے۔

ایک ہندوستانی میگزین میں احمد (20مارچ،2013ء ) میں تکفیری دیوبندی مولویوں کے شیعہ کے خلاف فتوؤں کا جائزہ لیتے ہیں: پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں تکفیری دیوبندی مولویوں نے شیعہ کے خلاف فتوے دئے اور ان فتوؤں اور ان کی تصدیق کرنے والے مولویوں کی تصدیق کے ساتھ شیعہ کے ارتداد کا ایک جامع فتوی 1986ء میں سامنے آیا۔اور اس فہرست میں کئی اہم دیوبندی مولویوں کے نام شامل تھے۔جیسے مولوی محمد یوسف لدھیانوی اور مفتی نظام الدین شامزئی۔شیعہ کے مرتد ہونے کے فتاوے دیوبندی مدارس سے وقفے وقفے سے جاری ہوتے رہے۔ان میں دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے 1986ء میں شیعہ کے خلاف ارتداد کا فتوی جاری ہوا جس میں شیعہ کے کے ساتھ کھانا پینا،ان کا نماز جنازہ پڑھنا اور ان کو سنّی قبرستان میں دفنانے کی کو منع کردیا گیا ہے۔

ایک دوسرا فتوی جامعہ اشرفیہ لاہور سے مولوی محمد مالک کاندھلوی جوکہ جنرل ضیاء کے رشتہ دار بتلائے جاتے تھے شیعہ کے خلاف ارتداد کا فتوی جاری کیا اور کہا کہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں وغیرہ غیرہ۔

اس کے علاوہ احمد (11 مارچ2014ء) نے ایک فتوی کا عکس شایع کیا جس کی بنیاد پہ شیعہ کا بلوچستان میں قتل کیا گیا: تمام شیعہ واجب القتل ہیں۔ہم پاکستان کو نجس لوگوں سے پاک کردیں گے۔پاکستان کا مطلب پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے اور شیعہ کو اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ہمارے پاس علمائے کرام کے دستخطوں کے ساتھ فتوی موجود ہے کہ شیعہ مرتد ہیں۔جس طرح ہمارے مجاہدین افغانستان میں کامیابی سے شیعہ ہزارہ کا قتل کیا تو ویسے ہی ہمارا پاکستان میں مشن اس ناپاک فرقے،اس کے پیروکاروں کا ہر شہر سے ، ہر گاؤں سے اور پاکستان کے تمام کونے کھدروں سے صفایا کرنا ہے۔پاکستان میں بالعموم اور کوئٹہ میں ماضی میں شیعہ ہزارہ کے خلاف ہمارا کامیاب جہاد اب بھی جاری ہے اور یہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ہم پاکستان کو شیعہ ہزارہ کا قبرستان بنادیں گے۔اور ان کے گھروں کو ہمارے خودکش بمبار تباہ کردیں گے۔اور ہم اس وقت چین سے بیٹھیں گے جب ارض پاک پہ سچے اسلام کا جھنڈا لہرائے گا۔شیعہ ہزارہ کے خلاف جہاد ہمارا فرض بن چکا ہے”۔

مارکسی تشریحات

مجھے اس حقیقت کا بھی پورا احساس ہے کہ کچھ ریسرچر شیعہ نسل کشی کی مارکس واد تعبیر یا وضاحت لکھنا پسند کریں گے۔بعض صحافیوں نے شیعہ نسل کشی کی طبقاتی تشریح کرنے کی کوشش یہ کہہ کر کرنے کی کوشش کی کہ دیوبندی ورکنگ کلاس شیعہ جاگیرداروں کو مار رہی ہے۔تاہم وہ کسانوں اور مزدروں میں فرق نہیں کرسکتے۔ان کا صحافتی کام مارکسی طریقہ کار کا غلط استعمال پہ مبنی ہے۔

مترجم کا نوٹ:جس کسی نے بھی شیعہ نسل کشی اور شیعہ کے مارے جانے کے جواز میں طبقاتی سوال کو غلط طریقے سے استعمال کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ دیوبندی سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت طبقاتی بنیادوں پہ کوئی لڑائی لڑ رہی ہے وہ انتہائی غلط فہمی کا شکار ہے یا شعوری بددیانتی سے کام لے رہا ہے۔مارکسی تاریخ میں یہودیوں کی نسل کشی بارے ہمیں بعض ایسے شواہد ملتے ہیں کہ کچھ مارکسسٹ اینٹی یہودی پراپیگنڈے کے زیر اثر آکر یہودیوں کی نسل کشی کا جواز کچھ یہودیوں کے بڑے سرمایہ دار ، جاگیردار ہونے کی بنیاد پہ نکال لیتے تھے۔ولادی میر لینن نے 1913ء میں جیوش کیوسچن کے نام سے ایک تھیسس لکھا اور بتایا کہ یہودیوں کی نسل کشی کا جواز مارکسی طبقاتی تشریح کے زریعے سے نکالنا انتہائی بددیانتی ہے۔اور لینن نے صاف لکھا کہ جو یہودیوں کے خلاف نفرت اور دشمنی پھیلاتا ہے وہ یہودی نسل کشی کا جواز پیدا کرتا ہے اور ہر مارکسی کا فرض ہے کہ اس طرح کی کوششوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کرے۔

یہاں پہ ایک مثال درج کی جاتی ہے:

اس کے غریب طبقاتی پس منظر نے اسے جاگیردار مخالف اور عوام دوست بنادیا ہے۔وہ ملک ، وراثتی قبائلی سرداروں جوکہ روائتی طور پہ اسٹبلشمنٹ نواز اور حکومت سے تمام مراعات لے رہے ہیں پہ تنقید کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔وہ عام قبائلی کی حالت زار کو نمایاں کرنے اور عام آدمی کو جن مشکلات کا سامنا ہے کو حل کرنے پہ متحرک کرتا ہے۔اگر اسے موقعہ ملے تو وہ ایک جدید رابن ہڈ کی طرح امیروں سے دولت چھین کر غریبوں میں بانٹ دے۔اور یہی وہ وجہ ہے جس کے سب غریب نوجوان اس کی تنظیم لشکر اسلام کے بینر تلے جمع ہوتے چلے جاتے ہیں۔

 یہ بدنام زمانہ ڈکیت اور خونخوار قاتل منگل باغ بارے یک صحافی کا بیان ہے جس نے نہ صرف ریاست اندر ریاست قائم کی تیراہ ویلی میں بلکہ وہ سینکڑوں صوفی سنّی مسلمانوں کا قاتل بھی ہے جو کہ منگل باغ کے نزدیک مشرک اور بدعتی تھے۔منگل باغ نام نہاد افغان جہاد کا حصّہ بھی رہا۔اس کی عملداری کے زمانے میں تیراہ وادی کے اندر کوئی عورت گھر سے باہر نہیں نکل سکتی تھی۔کسی کو دش اینٹنا لگانے کی اجازت نہ تھی۔باغ نے تمام سی ڈی شاپ بند کراڈالی تھیں۔جو مصنف منگل باغ کو ایک سرداری اور جاگیرداری نظام اور اسٹبلشمنٹ کا مخالف بناکر دکھارہا ہے وہ ایک معروف ترقی پسند ہے اور نام نہاد ترقی پسندانہ تجزیہ کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ منگل باغ نے وادی تیراہ میں کوئی مارکسی یا بائیں بازو کا انقلاب برپا نہیں کیا تھا بلکہ یہ ایک رجعتی ،بنیاد پرستانہ ، انتہا پسندانہ ابھار تھا جس میں شامل ہونے والے نوجوان سرداری ، قبائلی نظام کے خاتمے کی بجائے ایک انتہائی رجعت پرستانہ نظام اور ضابطے شریعت کے نام پہ نافذ کررہے تھے۔اور ان کے غضب کا شکار صرف وہی قبائلی سردار بنا جو ان کے آڑے آیا جبکہ جس نے ان کے ساتھ اشتراک کرلیا اس کی سرداری، اس کی دولت اور زمین کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا۔جبکہ اس دوران ہزاروں غریب پشتون اس لئے بے دخل کردئے گئے کہ وہ صوفی سنّی تھے۔

تو اکثر شیعہ نسل کشی کی مارکسی تعبیرات خود مارکسی طریقہ کار کی نفی ہیں۔جبکہ پاکستان میں یہ جو بنیاد پرستی ، بنیاد پرست اسلامسٹ ہیں ان کے ابھار پہ پاکستان میں کسی مارکسی نے ویسا کام نہیں کیا جیسا کام ہمیں مصر اور لبنان کے کئی ایک مارکسسٹوں کے ہاں نظر آتا ہے۔سمیر امین ، گلبرٹ اشقر وغیرہ نے اس پہ مارکسی نکتہ نظر سے کافی بہترین کام کیا ہے۔ان کی مارکسسٹ تعبیر شیعہ نسل کشی ، کرسچن ، شامی عیسائیوں ، یزیدی اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے بنیاد پرست اسلامسٹوں کے ہاتھوں مارے جانے کا جواز پیدا نہیں کرتیں۔اکثر مارکسی تنقید سیاق و سابق سے ہٹ کر ہیں اور وہ طبقاتی کش مکش کو یک نوعی /مونو لتھک طور پہ لیتی ہیں۔اس وجہ سے ان کے ہاں چیزوں کو بہت زیادہ سادے طریقے سے دیکھا جاتا ہے۔پاکستان میں جو نسل کش ذہن ہے وہ معاصر پیٹرو ڈالر ، وہابی ازم ، اور  برصغیر ہند و پاک میں غیر تاریخی /اے ہسٹاریکل اسلام ، برٹش راج اور ہندوپاک کے مسلمانوں کے طرز زندگی سے خود ساختہ نفرت سے گندھا ہوا ہے۔جو ان کے نزدیک اصلی اور سچے مسلمان نہیں ہیں۔

خلاصہ

اوپر بیان کردہ نسل کشی کے ماڈل کو غیر معمولی پھیلاؤ سے بچانے اور توجہ کو فوکس رکھنے کے لئے اس کی تعریف کو پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے حوالے سے زیر بحث لایا گیا ہے۔ اگر اس ماڈل اور تعریف کو نسل کشی کے دوسرے کیسز پہ بھی اپلائی کیا جاتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے تو مجھے اس سے خوشی ہوگی اگرچہ ہر ایک جینوسائیڈ یونیق ہوتی ہے لیکن جو ارادی طور پہ حقائق کو چھپایا جانا ہے نسل کشی کرنے والوں کی جانب سے اور حقیقت کو خراب کرنا ہے یہ ایک کامن اور عمومی سا کام ہوتا ہے۔(لیمارچنڈ،2011،ص 7)۔نسل کشی جیسے کہ میں نے اوپر اشارہ کیا ہے کہ ایک گروپ کے دوسرے گروپ پہ طاقت کے استعمال کا مسئلہ ہے۔کیوں اسرائیل ، سعودی عرب ، بحرین وغیرہ کی جانب سے فلسطینیوں اور شیعہ کے ساتھ کیا جانے والا مریضانہ اور بس رحمانہ سلوک اور ان کی سوشو۔اکنامک زندگیوں کی تباہی کو نسل کشی جیسی اصطلاحوں میں دریافت نہیں کیا جاتا؟کیونکہ یہ ممالک مغربی ملکوں کے جن کی قیادت امریکہ کرتا ہے کی کلائنٹ ریاستیں ہیں۔اسی طرح کا مشاہدہ ہم برونڈی(1972ء) ،مشرقی کانگو (1996ء،1997ء)، جنوب مغربی افریقہ (1904ء)، آسٹریلیا (1970ء)،یورپ کے کئ علاقے ( مختلف زمانوں میں خانہ بدوش قبیلوں) کی نسل کشی بارے کرسکتے ہیں۔لیمارچنڈ ان اور دوسری نسل کشیوں کو بھلادی گئی نسل کشی کہتا ہے۔پاکستان میں جیسے تکفیری دیوبندی ہیں بالکل ایسے ہی اوپر زکر کردہ نسل کشیوں میں نسل کشی کا ارتکاب کرنے والوں نے متاثرہ گروہوں کو کافر ،مرتد کہہ کر مار دیا۔اور ان کی نسل کشی کی مہم چلائی گئی۔تکفیری دیوبندی گروپوں کی طاقت کو ابھی تک چیلنچ نہیں کیا جاسکا تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کو پاکستانی ریاست کی بالعموم اور پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی بالخصوص حمائت حاصل ہے۔پاکستان آرمی اس ملک کی ڈی فیکٹو حکمران اشرافیہ ہے۔دیوبندی تکفیری گروپوں کے سب سے بڑے حمائتی سعودی عرب،مسلم لیگ نواز گروپ ہیں۔دیوبندی مذہبی گروپوں کا ان کرداروں کے ساتھ جو گٹھ جوڑ ہے ان پہ تحقیق سے یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے نیشنل /لوکل اور بین الافوامی عناصر نے پاکستان کو نسل کشی کی سرزمین بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

الیکٹرانک میڈیا نے کیسے شیعہ کلنگ کے سب سے برے علمبردار محمد احمد لدھیانوی سمیت کئی ایک تکفیری دیوبندی رہنماؤں کو ایک نیشنل سیاسی لیڈر کے طور پہ متعارف کرایا ہے یہ کوئی لاشعوری یا بنا سوچے سمجھے ہوجانے والا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ باقاعدہ ہدایات پہ کیا گیا ہے اور یہ ایک لکھا لکھایا سکرپٹ ہے جس کے تحت یہ کیا گیا۔مجھے یاد ہےجب جیو چینل نے پہلی بار لدھیانوی کو ایک ٹاک شو میں بلایا تو کوئی دوسرا مہمان اس کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہ تھا۔لیکن اب وہ ایک اسلامک سکالر ہے اور اسے غلط طور پہ ماڈریٹ سنّی مفکر کے طور پہ پیش کیا جارہا ہے۔الیکٹرانک میڈیا اب اردو پرنٹ میڈیا سے کہیں زیادہ شیعہ نسل کشی کو مبہم بنانے ، اس حوالے سے غلط مساوات پیدا کرنے ، بلیم شفٹ کرنے ، بیلنس کرنے کی کوششوں میں سرگرم نظر آتا ہے۔شیعہ نسل کشی پہ الیکٹرانک میڈیا کی ایڈوکیسی پش ریسرچ کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

شیعہ نسل کشی پہ کئی طرح کی ایتھنوگرافک، ایتھنو میتھڈولوجیکل اور فینومینولوجیکل ریسرچ ممکن ہیں۔کیسے پاکستانی ریاست نے تکفیری دیوبندیوں ک شیعہ کی داخلی زندگیوں کو تباہ کرنے کی اجازت دی اور دوسری مذہبی برادریوں کا مذہبی احتساب کرنے کا راستہ ہموار کیا ؟ ان جیسے سوالوں کو ابھی تک پوری طرح سے دیکھا بھالا نہیں گیا ہے۔بعض دوستوں نے مجھے بتایا کہ کیسے متعدد شیعہ عورتیں اور دوسری مذہبی برادریوں کی عورتیں جن کے مرد اس نسل کش مہم کا نشانہ بن گئے جسم فروشی پہ مجبور ہوگئی ہیں۔کیسے اس نسل کشی کا شکار ہونے والے کئی ایک شیعہ گھرانوں کے بچے چائلڈ لبیر مارکیٹ کا حصّہ بن گئے ہیں اور یہ بھی ریسرچ کا ایک اور پہلو ہے۔شیعہ کلرز اور شیعہ نفرت انگیزی کرنے والوں پہ ایک ایتھنو میتھڈولوجیکل ریسرچ شیعہ نسل کشی کے باب میں ظاہر کئے گئے کئی پہلوؤں کو سامنے لیکر آئے گی۔اور مجھے امید ہے کہ دوسرے شیعہ نسل کشی کے ایتھنومیتھڈولوجیکل اور ایتھنوگرافکل پہلوؤں پہ ریسرچ کریں گے۔

References

Ahmad, Imtiaz. (1978). Caste and social stratification among Muslims in India. New Delhi: Manohar.

Ahmad, Laleen. (21 December2013). Pakistani media ignores Altaf  Hussain Durrani, a Shia police officer beheaded and cut up by Deobandi terrorists.  Let Us Build Pakistan: http://lubpak.com/archives/298799.

Ahmed, Khaled. 2011. Sectarian war: Pakistan’s Sunni-Shia violence and its link with the Middle East. New York: Oxford University Press.

Ahmed, Khalid. (30 March 2013). Sectarian violence in Pakistan. Economic and Political Weekly: http://www.epw.in/commentary/sectarian-violence-pakistan.html

Ahmed, Khalid. (11 March 2014). Hunting the Hazaras. Newsweek Pakistan:

http://newsweekpakistan.com/hunting-the-hazara/

Ahmed, Mughees. (2004). Faisalabad Division ke Siasat per Biradarism kay Asraat [Effects of the caste system on the politics of Faisalabad]. Unpublished PhD Thesis, Department of Political Science, B Z University, Multan.

Ali, Nosheen. Outrageous state, sectarianized citizens: Deconstructing the ‘Textbook Controversy’ in the Northern Areas, Pakistan: http://samaj.revues.org/1172.

Alo Mohammad. (28 May 2013). 50th Anniversary of the Theri Massacre. Let us build Pakistan: http://lubpak.com/archives/266633.

Andreopoulos, George J. (Ed.). 1997. Genocide: Conceptual and historical dimensions. Pennsylvania: University of Pennsylvania Press.

Anthony Arnove (Ed.). 2003. Iraq under siege: The deadly impact of sanctions and war. London: Pluto Press.

Baloch Saher. (31 July 2010). Surgical strikes. Newsline:

http://www.newslinemagazine.com/2010/07/surgical-strikes/.

Brass, Paul. (2003). The partition of India and retributive genocide in the Punjab, 1946-47: Means, methods, and purposes. Journal of Genocide Research, 5:1, 71-101.

Burrows, Andrew, Johnston, David, and Zimmermann, Reinhard (Eds.). 2013. Judge and jurist: Essays in memory of Lord Rodger of Earlsferry. Oxford: Oxford University Press.

Card, Claudia. 2003. Genocide and social death. Hypatia vol. 18, no. 1, pp. 63-79.

Cartalucci, Tony.(24 December 2013). Destroying a nation state: US-Saudi funded terrorists sowing chaos in Pakistan. Global Research:

http://www.globalresearch.ca/destroying-a-nation-state-us-saudi-funded-terrorists-sowing-chaos-in-pakistan/5323295

Chalk, Frank and Jonassohn, Kurt. 1990. The history and sociology of genocide. New Haven: Yale University Press.

Charny, Israel. W. 1997. Towards a generic definition of genocide. In George J. Andreopoulos (Ed.), Genocide: Conceptual and historical dimensions, pp. 64-94. Pennsylvania: University of Pennsylvania Press.

Chomsky, Noam and Dietrich, Heinz. 1999. Latin America: From colonization to globalization. Minneapolis, MN: Ocean Press.

Chomsky, Noam. 2013. The essential Chomsky. New York: The New Press.

Clastres, Pierre. 1994. Archaeology of violence, translated by Jeanine Herman. New York: Semiotext(e).

Cobban, Helena. 1986. The growth of Shi’i power in Lebanon and its implications for the future. In Juan R.I. Cole and Nikki R. Keddie (Eds.), Shi’ism and social protest, pp. 137-155. New Haven: Yale University Press.

Coll, Steve. 2005. Ghost wars: The secret history of the CIA, Afghanistan and Bin Laden. London: Penguin.

Cooper, Allan D. 2009. The geography of genocide. New York: University Press of America.

Crilly, Rob. (10 September 2013). Only in Pakistan can the Taliban be described as ‘stakeholders’. Daily Telegraph Blog:

http://blogs.telegraph.co.uk/news/robcrilly/100235192/only-in-pakistan-can-the-taliban-be-described-as-stakeholders/.

Dabag, Mihran. 2005. Modern societies and collective violence: The framework of interdisciplinary genocide studies. In Graham Charles Kinloch and Raj P. Mohan (Eds.), Genocide: Approaches, case studies, and responses, pp. 52-62.  New York: Algora Publishing.

Drost, Pieter. 1959. The crime of state.  Vol. 2. Leyden: A.W. Sythoff.

Esparza, Marcia, Huttenbach, Henry R., and Feierstein,  Daniel. 2009. State violence and genocide in Latin America: The Cold War years. London: Routledge.

Fatah, Tarek. 2008. Chasing the mirage: The tragic illusion of an Islamic state. Mississauga, Ontario:  John Wiley & Sons Canada, Ltd.

Fisher, Adrian T., Sonn, Christopher C., and Bishop, Brian J. 2002. Psychological sense of community: Research, applications, and implications. London: Springer.

Forgotten prisoner: 16 years of imprisonment of SMP Chief Ghulam Raza Naqvi. (8 August 2011). Shiite News,: http://www.shiitenews.com/index.php/pakistan/3330-forgotten-prisoner-16-years-of-imprisonment-of-smp-chief-ghulam-raza-naqvi–shiite-news-exclusive-report-

Forte, Maximilian. 2012. Slouching towards Sirte: NATO’s war on Libya and Africa. Montreal: Baraka Books..

Gellately, Robert and Kiernan, Ben (Eds.). 2003. The spectre of genocide: Mass murder in historical perspective. Cambridge: Cambridge University Press.

Ghani, Faras. (10 February 2014). The pain of being disabled in Pakistan. Al-Jazeera:

http://www.aljazeera.com/indepth/features/2014/02/pain-being-disabled-pakistan-2014249751959749.html.

Gonzalez, Nathan. 2013. The Sunni-Shia conflict: Understanding sectarian violence in the Middle East. Orange County, California: East Nortia Media Ltd.

Gunes, Cengiz. 2013. The Kurdish National Movement in Turkey: From protest to resistance. London:  Routledge.

Gunter, Michael M. 2009. The A to Z of the Kurds. New York: Scarecrow Press.

Halliday, M.A.K. (1994). Introduction to functional grammar. London: Arnold.

Halliday, M.A.K. (1971/1996). Linguistic function and literary style: An inquiry into the language of William Golding’s The Inheritors. In Jean Jacques Weber (Ed.), The Stylistics reader: From Roman Jakobson to the present, pp. 56-86. London: Arnold.

Halm, Heinz. 2007. The Shiites: a short history. Princeton, NJ: Markus Wiener Publishers.

Harrod, Ryan P, Lienard, Pierre, and Martin, Debra L. 2012. Deciphering violence in past societies. In Debra L. Martin, Ryan P. Harrod, and Ventura R. Perez (Eds.), The bioarchaeology of violence, pp. 63-80. Gainesville FL.: University of Florida Press.

Hasiotis, Arthur Christos and Hasiotis, Arthur C. 2010. The axis of shame: Great Britain, Israel, the United States and Turkey in the Middle East. Pittsburgh, PA: Dorrance Publishing.

Hassan, Asif. (29 December 2009). Suicide bomber kills 30 on Shia procession in Karachi. The Guardian: http://www.theguardian.com/world/2009/dec/28/pakistan-suicide-attack-kills-30.

Hazleton, Lesley. 2009. After the Prophet: The epic story of the Shia-Sunni split in Islam. New York: Random House.

Hinton, Alexander Laban. 2002. The dark side of modernity. In Alexander Laban Hinton (Ed.), Annihilating the difference: The anthropology of genocide, pp. 1-40. Berkley: University of California Press.

Hinton, Alexander Laban (Ed.). 2002. Annihilating difference: The anthropology of genocide. Berkley: University of California Press.

Hinton, Alexander Laban and Lewis, Kevin O’Neill (Eds.). 2009. Genocide: Truth, memory, and representation. London: Duke University Press.

Hussain, Syed Ejaz. (2010). Terrorism in Pakistan: Incident patterns, terrorists’ characteristics, and the impact of terrorist arrests on terrorism. Unpublished PhD thesis, University of Pennsylvania. The thesis is available online at: http://repository.upenn.edu/edissertations/136.

Hussain, Tom. (16 Aug 2012). Pakistan Shias shot dead in sectarian massacre. Daily Telegraph: http://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/asia/pakistan/9479996/Pakistan-Shias-shot-dead-in-sectarian-massacre.html.

Hussain, Waris. (2 May 2014). Early warning signs of Shia genocide in Pakistan. The Diplomat:

http://thediplomat.com/2014/05/early-warning-signs-of-shia-genocide-in-pakistan/.

Hussain, Zahid. 2007. Frontline Pakistan: The struggle with militant Islam. London: I.B.Tauris.Jones, Adam. 2006. Genocide: A comprehensive introduction. London: Routledge.

Jafri, Nabeel. 24 September 2013, Sectarianism in Pakistan: School textbooks and national identity:

http://muftah.org/sectarianism-in-pakistan-school-textbooks-national-identity/#.UkjGgdwqY_k.facebook.

Jones, Adam. 2006. Genocide: A comprehensive introduction. London: Routledge.

Kaplan, S. 2013. Child survivors of the 1994 Rwandan Genocide and trauma-related affect. Journal of Social Issues, 69, 92–110.

Karachi’s doctors live in fear after spike in deadly attacks. (16 June 2015). Dawn: http://www.dawn.com/news/1188546.

Khan, Banaras. (4 September 2010). Pakistan suicide bomber kills 43 in Shia parade backing Palestinians. The Guardian:

http://www.theguardian.com/world/2010/sep/03/pakistan-suicide-bombers-kill-44-at-parade.

Krippner, Stanley and McIntyre, Teresa M. 2003. The Psychological impact of war trauma on civilians: An international perspective.  Westport, CT: Greenwood Publishing Group.

Lemarchand, Rene (Ed.) (2011). Forgotten genocides: Oblivion, denial, and memory. Philadelphia: University of Pennsylvania Press.

Levene, Mark. 2005. The meaning of genocide. London: I.B. Tauris.May, Larry. 2010. Genocide: A normative account. Cambridge: Cambridge University Press.

Manzoor, Ahmed Manzoor. (1993). The Pakistan problem: Historical background of Punjab and consolidation of Pakistan. Lahore: The Frontier Post Press.

Martin, J.R. and Rose, Rose. 2003. Working with discourse: Meaning beyond the clause. London: Continuum.

May, Larry. 2010. Genocide: A normative account. Cambridge: Cambridge University Press.

Mazower, Mark. 2009.  No enchanted palace: The end of Empire and the ideological origins of the United Nations. Prince NJ,: Princeton University Press.

Melson, Robert. 1992.  Revolution and genocide: On the origins of the Armenian genocide and the Holocaust. Chicago: Chicago University Press.

Michael Ignatieff. Lemkin’s words. The New Republic, February 26, 2001.

Nasr, Vali. 2007. The Shia revival: How conflicts within Islam will shape the future. New York: Norton.

Nayyar, A.H. and Salim, Ahmed (Eds.). 2003. The subtle subversion: The state of curricula and textbooks in Pakistan, Urdu, English, Social Studies and Civics, Islamabad: Sustainable Development Policy Institute.

Nhema, Alfred G. and Zeleza, Tiyambe. 2008. The roots of African conflicts: The causes and costs. Ohio: Ohio University Press.

Pakistan: Shia genocide: Military and militants.. (23 February 2013). Asian Human Rights Commission : http://www.humanrights.asia/news/ahrc-news/AHRC-ART-021-2013

Pakistan: A siege of state. (27 January 2014). Human Rights Watch:

http://www.hrw.org/news/2014/01/27/pakistan-state-siege.

Pakistan: The militant jihadi challenge, International Crisis Group, Asia Report No. 164, 13 March 2009.

Pandey, Gyanendra. (2004). Remembering Partition: Violence, nationalism and history in India. Cambridge: Cambridge University Press.

Perez, Ventura, R. (2012). The politicization of the dead. In Debra L Martin, Ryan P Harrod, and Ventura R Perez (Eds.), The bioarchaeology of violence, pp. 13-28. Gainesville FL.: University of Florida Press.

Provost, René and Akhavan, Payam (Eds.). 2010. Confronting genocide. London:  Springer.

Qasimi, Hamza. (7 February 2012). Pakistani extremists film massacre of Shiite minority group. The Observers:

http://observers.france24.com/en/20120702-pakistan-quetta-extremists-film-massacre-shiite-minority-group-hazara.

Qureshi, Aamir (22 November 2012). Pakistan Taliban suicide bomber kills 23 in Rawalpindi. The Guardian:

http://www.theguardian.com/world/2012/nov/22/pakistan-taliban-suicide-bomber-rawalpindi.

Rosen, Nir. 2006. In the belly of the green bird: The triumph of the martyrs in Iraq. New York: Simon and Schuster.

Rubenstein, William D. 2004. Genocide: A history. New York: Pearson Education Limited.

Rubin, Barnett R. 2013. Afghanistan from the Cold War through the War on Terror. Oxford: Oxford University Press.

Schabas, William. 2000. Genocide in international law: The crimes of crimes. Cambridge: Cambridge University Press.

Scheper-Hughes, N. and Lock, M.M. 1987. The mindful body: A prolegomena to future work in medical anthropology. Medical Anthropology Quarterly, 1 (1): 6-41.

Scherrer, Christian P. 2003. Ethnicity, nationalism, and violence: Conflict management, human rights, and multilateral regimes. London: Ashgate.

Sharma, D.P. 2005. The new terrorism: Islamist International. Delhi: APH Publishing.

Shaw, Martin. 2003. War and genocide. Cambridge: Cambridge University Press.

Shehzad, Muhammad. 2003. Textbook controversy in Gilgit, The Friday Times, XV: 19.

Shia genocide: A crisis in Pakistan (n.d.):

https://lubpak.com/wp-content/uploads/2014/05/UN-Report-3-Shia-Genocide.pdf.

Siddiqa, Ayesha. 2010. Red Hot Chilli Peppers Islam—Is the youth in elite universities in Pakistan radical? Paper for Foreign-Security Policy Series of Heinrich Boll Stiftung.

Simon, Thomas W. 2007. The laws of genocide: Prescriptions for a just world. Oxford: Greenwood Publishing Group.

Smith, Christian. 2010. What is a person? Chicago: University of Chicago Press.

Thackrah, John Richard. (2004). Dictionary of terrorism. London: Routledge.

Unfortunate disruption: Iranian bookstall closed. (10 December 2012). Dawn: http://www.dawn.com/news/1061596/unfortunate-disruption-iranian-bookstall-closed.

US embassy cables: Hillary Clinton says Saudi Arabia ‘a critical source of terrorist funding. (5 December 2010). The Guardian:

http://www.theguardian.com/world/us-embassy-cables-documents/242073

Waller, James. (2007). Becoming evil: How ordinary people commit genocide and mass killing. Oxford: Oxford University Press.

Walsh, Declan. (Monday 6 December 2010). Hillary Clinton memo highlights Gulf states’ failure to block funding for groups like al-Qaida, Taliban and Lashkar-e-Taiba. The Guardian: http://www.theguardian.com/world/2010/dec/05/wikileaks-cables-saudi-terrorist-funding.

Wilcke,  Christoph. 2009. Denied dignity: Systematic discrimination and hostility toward Saudi Shia citizens. New York: Human Rights Watch.

Yusufzai, Rahimullah. (11 May 2008). The man from Bara. The News:

 http://jang.com.pk/thenews/may2008-weekly/nos-11-05-2008/dia.htm.

Zaidi, Abbas. 2011. Postcolonial insanity. Journal of Postcolonial Cultures and Societies, Vol 2 No. 4, 1-29.

چھبیسواں خط

 

 

                                                                                  پیاری ساری ،

 

گزشتہ خط کے جواب میں مجھے تمہارا لکھا ہوا خط آج صبح کی ڈاک سے ملا تھا۔میں اتنا تھکا ہوا تھا کہ اسے کھول کر پڑھ نہ سکا لیکن اس خط کو اپنے سینے پہ رکھ کر میں سوگیا تھا۔اور خلاف معمول مجھے بہت پرسکون نیند آئی اور میں جب سوکر اٹھا تو رات کے آٹھ بج چکے تھے۔میں نے فریج میں رکھا کولڈ سینڈویچ کھایا اور کافی کا ایک مگ تیار کیا اور اس کے سپ لیتے ہوئے تمہارا خط پڑھا۔تمہارے ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں کا لمس خوشبو بنکر الفاظ اور کاغذ کی تین شیٹ میں رچا بسا تھا اور مجھے یہ لمس اب اپنے ہاتھوں اور نگاہوں پہ محسوس ہورہا تھا۔اور خط کی عبارت تمہیں مجسم کرکے مجھے دکھارہی تھی۔تمہاری حیرانی بجا ہے کہ آج کل میں کیسے اپنے فلیٹ میں ایک میز اور کرسی پہ ٹک کر تمہیں مستقل خط بھی لکھتا ہوں اور باقی کے تخلیقی و غیر تخلیقی کام بھی کرتا ہوں۔تم  نے ٹھیک سوال کیا ہے کہ اب میں اپنی تخلیق کو پر لگانے کے لئے کسی کھنڈر ہوگئی تاریخی اہمیت کی حامل قدیم عمارت کی لرزتی بنیادوں پہ بیٹھ کر کیوں نہیں لکھتا؟اور اپنی نثر کے لئے دماغ کے فیول کے طور پہ لال پری کیوں پاس نہیں رکھتا اور اسے وقفے وقفے سے کیوں نوش نہیں کرتا؟جبکہ سگریٹ کے دھوئیں سے کمرے کو بھرا ویسے ہی رکھتا ہوں۔مجھے لگتا ہے کہ تمہارے ذہن میں یہ سوال اس لئے آئے ہیں کہ وہاں کراچی میں لکھنے کی آزادی کو محسوس کرنے اور اسے اپنے اندر اتارنے کے لئے کبھی میں منوڑا کے اس پار بلوچ بستی کے اندر چھونپڑے میں بنے چائے کے ہوٹل جاتا تو کبھی کیماڑی میں کسی پرانی سی بہت پرانی سی عمارت میں بنے کیفے میں جاکر بیٹھ جایا کرتا تھا اور وہاں لوگ مجھ سے اتنے مانوس ہوگئے تھے کہ جب جاتا تو مجھے مری پسندیدہ جگہ پہ بیٹھنے میں مدد کی جاتی تھی اور میں کئی گھنٹوں بیٹھ کر تخیل کی پرواز اونچی سے اونچی کرتا رہتا تھا۔یہاں تک کہ کئی اچھوتے کہانی کے پلاٹ تو مجھے واش روم میں منہ ہاتھ دھوتے سوجھے تھے یا سڑک پہ چلتے ہوئے ایک جھماکے کی طرح دماغ کی سکرین پہ روشن ہوئے تھے۔لیکن یہاں پیرس میں اس فلیٹ کے اندر بنے اسٹڈی روم میں پڑی واحد میز کرسی مرے لئے اب تخلیقی عمل انگیز کا کردار ادا کرنے لگی ہے۔اور اب میں کام سے آنے کے بعد زیادہ وقت اسی میز کرسی پہ بیٹھ کر گزارتا ہوں۔اور یہ لیپ ٹاپ جو قلم، کاغذ کی جگہ لے چکا ہے زرا مرے خیال کی رو کے آڑے نہیں آتا ہے۔

یہاں اس میز پہ سامنے لیپ ٹاپ دھرا ہے، اس کے ساتھ ہی ایک ساؤنڈ پڑا ہے جس کے سہارے میں سینما ساؤنڈ کا مزا لیتا ہوں۔پاس ہی کئی زبانوں کی لغات پڑی ہیں اور بالکل دائیں ہاتھ کی طرف نہج البلاغہ پڑی ہے اور بائیں طرف سگریٹوں کے چار پیکٹ میں ڈنڈے سے نکال کر رکھتا ہوں۔گزشتہ دنوں پاکستان سے انور آیا ہوا تھا۔وہ مجھے ملنے مرے فلیٹ آیا تو اس نے نہ تو مجھ سے یہ پوچھا کہ اتنی زبانوں کی لغات پاس کیوں رکھی ہیں؟نہ سگریٹ بارے سوال کیا۔بس تھوڑے فاصلے پہ پڑی نہج البلاغہ بارے مجھ سے پوچھنے لگا کہ یہ ہمہ وقت پاس کیوں رکھتے ہو؟وہ شاید موقعہ تلاش کررہا تھا مجھ پہ مادیت پرستی سے انحراف کرنے کا یا پھر وہ مجھے رجعت پرست کہنے کا خواہش مند تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ زرا یہ بتاؤ کہ امریکن سیاہ فام شاعرہ مایا اینجلو تمہیں رجعت پرست لگتی ہے کہ ترقی پسند ؟کہنے لگا کہ اس سوال کا جواب بہت آسان ہے کہ مایا ایک باغی، انقلابی اور سماج سیوک شاعرہ تھی۔میں نے کہا تمہیں معلوم ہے وہ جس بیڈ پہ لیٹ کر لکھتی تھی اس بیڈ پہ شیری کی ایک باٹل ، لغات ، تھیاس رس ، اور بائبل پڑی ہوتی تھی-جب پیرس ریویو کا نمائندہ اس سے انٹرویو کرنے پہنچا تو اس نے مایا اینجلو سے یہی سوال کیا تھا: یہاں بائبل کا کیا کام ہے؟تو وہ کہنے لگی کہ میں اس کا کوئی سا ایڈیشن اٹھاکر کہیں سے بھی باآواز بلند پڑھنے لگتی ہوں تاکہ اس کا ردھم سن سکوں اور ایک اچھی انسان بن جاؤں۔نہج البلاغہ بھی مرے واسطے ایسے ہی ہے جیسے مایا اینجلو کے لئے بائبل تھی۔میں اس کا کوئی بھی صفحہ کھول کر بلند آواز سے پڑھنے لگتا ہوں تو سب سے پہلے صفحے پہ تم دکھائی دینے لگتی ہو۔اور لب مرے ہلتے ہیں آواز تمہاری کانوں میں پڑتی ہے۔اور معانی کا نیا جہان مرے سامنے کھلنے لگتا ہے۔اور تنہائی اس کے صفحے سے باہر نکل کر مرے اردگرد اور پورے فلیٹ کو اپنے اندر ڈھانپ لیتی ہے۔اور مجھے تم بھی برہا میں ملبوس نظر آتی ہو۔اور تمہاری آنکھوں سے اداسی ٹپ ٹپ گرنے لگتی  اور مرے پورے فلیٹ کو گیلا کرتی ہے۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ تنہائی بارش کی صورت برس رہی ہو اور تنہائی کی پھوار سے نت نئے مضامین جنم لے رہے ہوں۔گزشتہ خط جب میں نے آن لائن کیا تو میں تھوڑا سا گبھرایا ہوا تھا۔کیونکہ میں نے بنا پوچھے ادب میں رنگی اور شاعری کے گیان میں گم جس خوبصورت عورت کے غائب ہوجانے والے سلو کے لئے آہیں بھرنے کا زکر کیا تھا تو اس نے مجھے اچانک انباکس میں میسج کرکے کہا “خوبصورت خط لکھا ” ہے اور ایک کمپوزنگ کی غلطی کو درست کرنے کو بھی کہا تو میں اچانک سے سرشاری سے بھر گیا اور مجھے یہ بھی اندازا ہوا کہ وہ مرے خطوط اور تحریریں بغور پڑھتی ہے۔ساری،تمہیں پتا ہے کہ ہمارے ہاں ایسی شاعرات اور ایسی ادیب انگلیوں پہ گنے جاسکتے ہیں جو جینوئن ہوں اور ان کا حسن بھی کمال کا ہو۔وہ خاتون شاعرہ ایسی ہی ہیں۔مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ لوئر مڈل کلاس سے ابھر کر آنے والی نوجوان عورتیں ہماری اشراف فیمنسٹ عورتوں سے کہیں زیادہ ریدیکل اور جینوئن ہیں۔لیکن ہوسکتا ہے میں دور بیٹھا ہوں اور مرے اس تاثر میں مرے تخیل کی کاریگری زیادہ ہو۔اس لئے تم زیادہ بہتر  بتاسکتی ہو۔ساری گزشتہ خط اس ٹیلی کام میں جاب کرنے والی لڑکی نے بھی پڑھا تھا اور اسے پڑھنے کے بعد اس نے مجھے لکھا کہ کیا ساری کی آنکھوں کی گہرائی کم پڑگئی ہے جو تم مری آنکھوں کی گہرائی میں ڈوب جانے کی تیاری کررہے ہو؟مرے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔آج اس کا فون آیا تھا اور میں اس غلط فہمی میں مبتلا ہوا کہ وہ کہیں نہ کہیں مجھے مس کررہی ہے لیکن اسے تو ایک ناپاک بادشاہت کے سیاہ کارناموں کی فہرست درکار تھی۔اور اس ضرورت نے اسے مجھے فون کرنے پہ مجبور کردیا کیونکہ وٹس ایپ کال پہ ،میں دستیاب نہ تھا اور فون نمبر بھی کوئی اور لگ رہا تھا۔بھلا ایک ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی کے پاس سموں کی کوئی کمی ہوگی۔اس لڑکی کا کہنا ہے کہ مرا آرٹ اسے برتھولیٹ بریخت کی طرح سادگی ، سٹائل ، حساسیت ، فارم اور خوبصورتی سے بھرا لگتا ہے تو میں بے اختیار ہوکے سوچنے لگتا ہوں کہ کیا واقعی اسے آرٹ کی سمجھ بھی ہے کہ نہیں؟یہ بات اگر وہ جینوئن حسین وجیمل شاعرہ نے کہی ہوتی تو مجھ پہ شادی مرگ طاری ہوجاتی ہے۔مجھے ایسے لگنے لگا جیسے مرے اندر سے کوئی چیز مرتی جارہی ہے اور میں اپنے اردگرد لوگوں کے بارے میں بہت منفی سا ہوتا جاتا ہوں۔اردگرد کی فضا مجھ پہ اثر کرنے لگی ہے اور مجھے شناختوں کے باب میں شناخت کے تھونپ دئے جانے کا عمل خو‌فزدہ کرنے لگا ہے۔یہاں پیرس میں ایک مسلمان نام کے تارک وطن کو بار بار یہ بتانا پڑتا ہے کہ اس کا انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ صلح کل پہ یقین رکھتا ہے۔اور مغرب کی سیکولر اقدار پہ اس کا یقین ہے۔اسے ایک نسل پرست نیشنل ازم کا سامنا ہےجبکہ وہاں تمہارے بقول شاعروں، ادیبوں کو یہ وضاحت دینی پڑتی ہے کہ وہ بلاسفیمر نہیں ہیں۔لیکن روشن فکر ادیبوں کے چہرے پہ بلاسفیمی کی کالک ملی جانے کا سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں جب کوئی ادیب اپنی کتاب لیکر آئے گا تو دیباچے میں وہ ایمان مجمل و ایمان مفصل کی گواہی پہ مبنی جملے لکھے گا اور کتاب کا فارمیٹ مولویوں کی ہدائیت کی روشنی میں مرتب کرے گا اور اسے المنقذ من ضلال کا نام دے گا۔نسیم حجازی کے نام کتاب کا انتساب کرے گا اور جہادی و تکفیری سوچ کو اپنا رہبر قرار دے گا اور ایسا کرنے کے بعد اسے کم از کم بلاسفیمی کے الزام سے چھٹکارا مل جائے گا۔تھک سا گیا ہوں اور نہ چاہتا کہ یہ تھکن مرے بدن سے اس خط کے اندر الفاظ کے زریعے سے منتقل ہوجائے۔اس لئے اجازت۔

فقط تمہارا

ع۔ح