چوبیس واں خط

sk

 

 

 

پیاری ساری

وہاں پاکستان میں کوئی شانت تو نہیں ہوگا لیکن پھر بھی امید کرتا ہوں کہ کئی لمحہ تو ایسا ہوگا جب تم نے خود کو شانت محسوس کیا ہوگا۔جب میں یہاں خود کو شانت محسوس نہیں کررہا تو وہاں کوئی کیسے شانت ہوگا۔میں کل ہی برلن سے لوٹا ہوں اور برلن کرسمس پہ ہوئے دہشت گردی کے واقعات سے ابھی تک شاک میں نظر آتا ہے۔تم جانتی ہو کہ میں مہینوں مہینوں شیو نہیں کرتا اور اس مرتبہ جب برلن کا سفر کیا تو مری شیو اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ایک داڑھی کی شکل اختیار کرگئی تھی اور سر کے بال بھی بڑھ کر اتنے ہوگئے کہ زلفیں کندھوں تک لہرارہی تھیں۔اور اوپر سے میں نے چترالی کیپ سر پہ لی ہوئی تھی۔جب  ٹرین برلن اسٹیشن پہنچی تو مجھے جسٹن وہاں لینے پہنچا ہوا تھا۔جسٹن فری لانس رپورٹر ہے اور اس کی عراق پہ امریکی حملوں کے دوران انوسٹی گیشن رپورٹنگ نے دھوم مچادی تھی اور وہیں عراق میں وہ ایک عراقی عورت کی زلفوں کا اسیر ہوگیا تھا۔اور اس سے شادی کرلی اور اس نے ہی وہ خبر بریک کی تھی جس میں ایک نوجوان عراقی زیدون الفاضل کےساتھ ہونے والی گھٹنا کا زکر تھا۔اسے ایک عراقی خاتون ملی جس نے اسے بتایا کہ کیسے چار امریکی قابض سپاہیوں نے اس کے بیٹے کو دریائے فرات میں دھکا دے دیا اور اسے تیرنا نہیں آتا تھا اور وہ ڈوب گیا اور اس مظلوم ماں نے جسٹن کو بش کے نام ایک خط دیا تھا جس میں اس ماں نے بش کو لکھا تھا،

” ہمیں صرف ایک جیکٹ اپنے بیٹے کی دریائے فرات کے کنارے ملی ہے اور ہم اسے اپنے ساتھ ہونے والے امریکی انصاف کی یادگار کے طور پہ رکھیں گے”جسٹن عراق سے ایک خوبصورت محبوبہ زیادہ بیوی کم لیکر جرمنی آکر بس گیا لیکن وہاں سے یادوں کا ایک بوجھ بھی لیکر آیا جسے اس نے “صحرا کا بوجھ ” کے نام سے ایک ناول میں منتقل کردیا۔اور میں جسٹن کا دوست ایک اتفاق کے زریعے بنا تھا۔اسے پاکستان میں فرحت ہاشمی کے وہابی اسلام کی تعلیم دینے والے مراکز  بارے تفصیل درکار تھی اور شاید اس کا سبب تاشفین ملک( سارڈینو فلوریڈا شوٹنگ کی اہم کردار) بنی تھی جو کبھی فرحت ہاشمی کے الھدی سنٹر ملتان کی طالبہ رہی تھی۔اور پھر ہماری دوستی گہری ہوگئی تھی۔بہرحال جب جسٹن نے مری بے تحاشا بڑھی ہوئی داڑھی دیکھی تو کہا کہ برلن میں آج کل یہ خطرے سے خالی نہیں ہے۔لیکن جب اس نے مری داڑھی کے ساتھ بڑھی مونچھیں دیکھیں تو اس نے سکھ کا سانس لیتے ہوئے کہا کہ شکر ہے داڑھی کے ساتھ مونچھیں بڑھی ہوئی ہیں۔یہ خطرے کو کم کردیتی ہیں۔ویسے یورپ میں دہشت گردی کرنے والوں کی اکثریت داڑھی اور مونچھوں سے پاک تھی اور ان کا تعلیمی بیک گراؤنڈ بھی بہت سڑانگ تھا اگرچہ فرانس میں اور اب برلن میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں نائیجریا اور تنزانیہ کے کمتر سماجی بیک گراؤنڈ کے لوگ ملوث ہیں۔القاعدہ کے ساتھ منسلک دہشت گردوں کی پروفائل اکثر اپر مڈل کلاس کے مسلم بیک گراؤنڈ کی ہوتی ہے۔

ساری جسٹن اور اس کی بیوی انو نے مرا شاندار سواگت کیا۔اور رات اس نے ڈنر سے پہلے بلیک ہربل فارسٹ منگوارکھی تھی اور میں نے پہلے سوچا کہ ان کو بتادوں کہ میں نے ڈرنک چھوڑ رکھی ہے لیکن پھر میں نے ان کا اہتمام دیکھا تو ان کا دل توڑنے سے باز رہا۔ساری! تمہیں یاد ہے یہ برانڈ ہم ماسکو سے ٹرین کے زریعے برلن آئے تھے تو کامریڈ جیسکوف نے ہمیں

Spree River

کے سامنے ایک بلڈنگ جسے ” آنسوؤں کا محل ” کہا جاتا ہے اور جس کا جرمن نام ہمیں کوشش کے بعد بھی یاد نہیں ہوپایا تھا یہی ڈرنک پیش کی تھی اور تم نے شکریہ کے ساتھ معذرت کرلی تھی جبکہ میں نے باٹل کو ہی منہ لگالیا تھا۔میں جو 12 سے 17 فیصد الکوحل والی ڈرنک پینے کا عادی تھا اس 51 فیصدی بلیک ہربل فارسٹ کے چار گھونٹ لیکر ہی ہار گیا تھا اور تم بڑی مشکل سے مجھے ہوٹل کی سیڑھیاں چڑھاکر کمرے تک لیکر آئی تھیں۔آج پھر یہی فروٹس ،پیپر، اورنج ، سپائسی اور وے نیلا سے تیار ہونے والی تیز ترین ڈرنک مرے سامنے دھری تھی اور میں کیمونسٹ بلاک کے زمانے کے اس برلن کو یاد کررہا تھا جسے تم نے اور میں نے کامریڈ جیسکوف اور اس کی گرل فرینڈ کامریڈ نتاشا کے ساتھ ملکر دریافت کیا تھا۔وہ دونوں اب کہاں ہوں گے ؟ اور مارکیٹ کیپٹل ازم کے نئے جرمنی میں وہ کیسے اپنے آپ کو بچاسکیں ہوں گے مجھے کچھ اندازہ نہیں ہے۔جسٹن نے ڈرنک کے دوران بھاری مگر بہت ہی رومانٹک آواز میں مجھے بتایا کہ وہ انجیلا مارکیل جرمنی کی چانسلر کو پسند کرتا ہے کیونکہ وہ ایک عام سے اور سادہ سے اپارٹمنٹ میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے اور ایک عام سی سپر مارکیٹ میں جاکر شاپنگ کرتی ہے اور اسے شو شا بالکل بھی پسند نہیں ہے۔میں جسٹن کے منہ سے یہ سب سنکر حیران رہ گیا۔وہ کٹر مارکس واد/سماج واد اور نیولبرل ازم کا دشمن ایک دائیں بازو کی انتہائی قدامت پرست سیاسی لیڈر کو اپنی پسندیدہ شخصیت قرار دے رہا تھا اور مجھے ایسے لگا جیسے میں کسی اور جسٹن سے مل رہا ہوں۔پھر مجھے خیال آیا کہ یہ کوئی انہونی بات تو ہے نہیں،وہاں پاکستان میں تم نے ہی تو بتایا ہے کہ کراچی اور لاہور کے سکّہ بند بائیں بازو کے دانشور اور پروفیسر بلوچوں کی نسل کشی اور ان کی مارا ماری کو کوئی بڑی قیمت نہیں سمجھتے اور سی پیک کی ڈٹ کر حمائت کررہے ہیں۔تو اگر یہان جرمنی میں جسٹن اور اس کی بیوی انجیلا مارکیل کے مداح ہیں اور وہاں ہربرسنگھ ، آرتی ٹیکو سنگھ جیسے بھارتی ترقی پسند ٹرمپ کی تعریف کرتے ہیں تو اس ميں حیران ہونے کی کیا ضرورت ہے۔کیسی مزیدار بات ہے کہ ایک طرف شاہ عنایت کے کیمون کو سراہا جائے، 1849ء کے پیرس کیمون کی تعریف ہو، اکتوبر بالشیویک انقلاب کی صدسالہ سالگرہ کی تقریبات کا سوچا جائے اور سبط حسن کی صدسالہ ولادت کا جشن منایا جائے اور دوسری طرف کالونیل ترقی کے ماڈل پہ استوار میگا پروجیکٹس کے حق میں آرٹیکل لکھے جائیں۔رند کے رند رہیں اور ہاتھ سے جنت بھی نہ جائے۔یہ چوتیا مڈل کلاس پروفیسرز کمپراڈور کلاس اور ایک سیٹلڈ اربن لائف گزارنے والے دانشور ایسے ہی کیچڑ میں لتھڑے ہوتے ہیں۔ایک ہاتھ میں ماضی کے انقلابیوں کی تصویروں کے پوسٹر اور دوسرے ہاتھ میں سرمایہ داری کے جھنڈے اٹھائے ہوتے ہی۔اور میں نے سنا ہے کہ ایک مرتبہ پھر وہاں اسلام آباد میں اس گھٹیا سے سرکاری ادبی ادارے یعنی اکادمی ادبیات پاکستان نے چوتیا پرشاد ادیبوں کا ایک جمعہ بازار لگایا تھا اور اس تقریب کی صدارت جنرل ضیاء الحق کے روحانی بلکہ شیطانی بیٹے نے کی ہے اور اس مرتبہ بھی کئی ترقی پسند تھری پیس سوٹ یا نفیس شلوار قمیص پہنے اور اوپر کوٹ ڈالے وہاں پہنچ گئے تھے۔مرا منہ محض کڑوا ہی نہیں ہوا بلکہ گالیوں سے بھرگیا ہے لیکن سہمت رہو کسی بھی گالی میں نشانہ عورت نہیں ہے۔تم سے ہی یہ تہذیب میں نے سیکھی ہے کہ گالی کیسے دینی ہے۔لیکن گالی دئے بغیر من ہلکا ہوتا نہیں ہے۔اس سے پہلے یہی ترقی پسند جنرل مشرف کے تلوے چاٹ رہے تھے تمہیں کوئٹہ میں ہوئی تقریب یاد ہوگی ، بلکہ یاد کیا ہوگئی تم نے ہی تو مجھے اس کا احوال لکھ بھیجا تھا۔لیکن جسٹن اور اس کی بیوی صرف مارکیل کی تعریف کرتی ہے انھوں نے اس سے کوئی مراعات لی نہیں ہیں بلکہ آج بھی جسٹن لکھ کر کمارہا ہے۔پاکستانی ترقی پسند ادیبوں کی ایک لاٹ ایسی ہے جن کے قلم کی جولانی تورا بورا،حلب،بغداد،فلسطین بارے  لکھتے عروج پہ ہوتی ہے لیکن یہ بلوچستان کے تمپ، کیچ ، گوادر پہ ٹھس ہوجاتی ہے، کراچی سمیت ملک بھر میں ہونے والی شيعہ نسل کشی کو ان کی تخلیق محض سعودی-ایران پراکسی اور شیعہ۔سنّی تاریخی جھگڑے کا نتیجہ بناکر دکھاتی ہے۔ان کی حس مزاح  الیاس قادری کے کیلے کھانے کے شرعی طریقہ بتانے پہ پھڑکتی ہے اور ان کا قلم خودکش حملہ آوروں کی لاٹ تیار کرنے والوں کی باری ميں ازاربن ڈالنے کی پریکٹس شروع کردیتا ہے۔یہ اتنے بزدل ہیں کہ کوئی امپوٹنٹ کنفیشن کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔

ساری! مگر مجھے ایک امپوٹنٹ اعتراف کرنا ہے۔اور وہ امپوٹنٹ اعتراف یہ ہے کہ یہاں برلن آکر میں ایک پٹھان لڑکی آنکھوں میں کھوگیا تھا اور وہ لڑکی مرے حواس پہ چھاگئی اور میں نے پہلی مرتبہ تمہارے وجود سے آگے دیکھنے کی جسارت کرڈالی ہے اور اور پہلے مین یہ سمجھا تھا کہ یہ بلیک ہربل فارسٹ ڈرنک کا اثر ہے لیکن جب اس کی آنکھوں نے مرا پیچھا یہاں پیرس میں بھی نہیں چھوڑا تو مجھے احساس ہوا کہ یہ ڈرنک کا اثر نہیں ہے۔وہ پتلی سی، دھان پان سی لڑکی ایک ٹیلی کام کمپنی ميں کام کرتی ہے۔اور اس ميں انٹلیکچوئل قیامت کے زرا بھی آثار نہیں ہیں ہاں ون ٹو تھری موویز ڈاٹ از پہ فلمیں بہت دیکھتی ہے۔اتنا ضرور کہوں گا کہ یہ افئیر تو ہے مگر وہ نہیں جو تم سے مجھے ہے۔ویسے سیمون دی بووا جب پہلی بار امریکہ گئی تھی تو وہاں ایک ادیب مرد اس کے حواس پہ چھاگیا تھا اور اس کے قرب کے لئے وہ مری جارہی تھی۔تمہیں یاد ہے نا کہ وہاں ماسکو میں ہاسٹل میں مشترکہ باتھ سسٹم تھا اور وہ نتاشا کروپسکایا بھی یاد ہوگی جس کی طرف مری نظر اٹھ گئی تھی اور اس کو ميں نے بے اختیار کہا تھا

ваша грудь так красиво

واشا گروچ دا تری سی وا

تو اس نے بہت ہی شانت اور نارمل طریقے سے جواب دیا تھا،

Женская грудь как

ژینستے گروچ کاک

اور پھر اس نے بعد میں ناشتے کی ٹیبل پہ مجھے کہا تھا،

Мужчины и женщины так же, как эти особенности

Это наши глаза и наше сердце делает его необычайной красоты шоу

И держать нас отвлекают

سبھی مرد اور عورتوں کے خدوخال ایسے ہی ہوتے ہیں اور یہ ہماری آنکھ اور دل کا جمال ہوتا ہے جو ان کو غیرمعمولی بناکر دکھاتا ہے اور ہماری اندر کی دنیا کو تہہ و بالا کردیتا ہے

وہاں برلن میں بھی یہی ہوا، اس پٹھان لڑکی کو میں نے کہا کہ تمہاری وحشی مگر انتہائی خوبصورت آنکھیں ہیں اور میں ان کے سامنے مکمل طور پہ ڈھے گیا ہوں تو اس نے کہا کہ مری آنکھوں میں ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے سب ہی عورتوں کی آنکھیں ایسی ہوتی ہیں مگر وہ جب یہ کہہ رہی تھی تو اس کے چہرے پہ بکھرے خوشی اور سرشاری کے رنگ اس کی کہی باتوں سے ہٹ کر الگ ہی کہانی سنارہے تھے اور میں ابتک اس کے چہرے پہ بکھرے ان دھنک رنگوں کو بھول نہیں پایا۔

ساری! یہ مری کیفیت کیا تم سے بے وفائی ہے؟کیا میں تم سے محبت میں مخلص نہیں ہوں؟کیا میں بھی بس اوروں کی طرح ظاہر پرست ہوں؟مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی۔ہاں ایک بات ہے کہ جب میں اپنے من کے اندر جھانک کر دیکھتا ہوں تو صاف بات ہے کہ وہاں ساری بس ساری ہے اور اس کی جگہ کوئی نہیں مگر اس پٹھان لڑکی کی آنکھیں مرا تعاقب پھر بھی کرتی ہیں۔اپنے اس امپوٹنٹ کنفیشن کے ساتھ تم سے اجازت لوں گا ، کیونکہ ابھی مجھے بازار جاکر کچھ سودا سلف لینا ہے اور ہاں ایک بات اور جسٹن کو میں نے برلن سے آتے ہوئے بتایا تھا کہ میں مئے نوشی ترک کرچکا ہوں اور یہاں تمہارا دل رکھنے کو پی لی اور یہ ترک مئے نوشی کا سبب ساری ہے تو اس نے یہ سنکر ایک قہقہ لگایا اور کہا

ترک مئے نوشی کا سبب ساری نہیں ہینگ اوور ہے جس سے تمہیں سخت نفرت ہے میں جانتا ہوں

ساری ! کیا جسٹن ٹھیک کہتا ہے؟

فقط تمہارا

ع۔ح

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s