پچیسواں خط

15826731_1433538856691560_2833077945322300111_n

 

 

پیاری ساری

آج تھوڑی سی فراغت ملی تو تمہیں یہ خط لکھنے بیٹھ گیا ہوں۔تم نے مجھ سے شکوہ کیا تھا کہ میں آج کل کہاں مصروف ہوں کہ تم سے فیس بک میسج، وٹس ایپ کال اور ایس ایم ایس کا جواب تک دینے کا ٹائم نہیں ملتا۔تم نے مجھے یہ بھی شکوہ کیا کہ وہ پٹھان لڑکی کی آنکھیں تمہیں کیا پسند آئیں تو ہم سے باتیں کرنا بھول گئے۔تم نے مرے اندر ایسے عورت پرست نظریات بھرے ہیں کہ یہ نہ ہوتے تو مجھے تمہارا مرے حوالے سے ایسے احساسات ظاہر کرنا اپنے نفس کی تسکین کے واسطے بہت من بھائے لگتے لیکن نجانے مرے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا۔کم از کم اپنی ساری کو میں ایسا خیال نہیں کرتا کہ وہ مجھے کہیں کسی کی قیمت پہ تعلق خاطر بنانے والا سمجھے۔لیکن شاید ہم میں کہیں نہ کہیں پازسیسونیس ہوتی ہے جس کی جتنی بھی اصلاح کریں کمبخت کہیں نا کہیں باقی رہ ہی جاتی ہے۔تم نے مجھے بتایا کہ وہاں پاکستان میں ایک دم سے کئی ایک لوگ غائب ہوگئے ہیں اور یہ اب مسنگ پرسنز میں بدل چکے ہیں۔اور میں تمہیں لکھنے والا ہی تھا کہ بہادری سے اس بارے میں لکھو کہ تم نے فوری لکھ ڈالا، ” یہ تمہیں اس لئے نہیں بتارہی کہ تم مجھے سوشل ميڈیا سے غائب ہونے اور اپنا سیاسی کام ختم کرنے کی نصحیت کرنے لگ جاؤ”۔میں کافی حیران ہوں کہ پاکستان میں لیفٹ اور ترقی پسند کہلانے والے ایسے کیوں کہنے لگ گئے ہیں؟کسی نے ایسی باتیں اس وقت نہیں کہیں تھیں جب حسن ناصر کو شاہی قلعے کی جیل میں مظلومیت کے ساتھ مار دیا گیا تھا۔زیادہ سے زیادہ گرفتاری سے بچنے کے لئے منجھے ہوئے کیڈرز کو اپنا کام زیر زمین کرنا ہوتا ہے لیکن اگر سبھی یہ راستہ اپنالیں گے تو کیسے کام ہوگا؟خوف،ڈر، اندیشہ اپنی جگہ حقیقت ہوتے ہیں لیکن ان کو اس سے آگے بڑھ کر آبسیشن یا وہمہ بنالینا ٹھیک نہیں ہوتا۔اینٹی سٹیٹس کو خیالات کبھی بھی آسانی سے معاشرے میں نفوز نہیں ہوسکتے۔اور جہاں رجعت پسندی عروج پہ ہو وہاں تو اس طرح کے خیالات کو صرف ریاست سے ہی نہیں بلکہ معاشرے میں نیچے  تک سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پاکستانی سماج اس کی آئیڈیل شکل ہے۔میں تمہیں ایک عجیب اتفاق کی بات بتاتا ہوں۔جب رات کو تمہارا میسج مجھے ملا کہ فلاں ،فلاں شاعر، ادیب ، استاد اور سماجی کارکن کو اٹھالیا گیا ہے تو اسی سمے میں ، میں دستوفسکی بارے پڑھ رہا تھا۔تمہیں پتا ہے کہ وہ اپنی جوانی میں ایک ایسے انقلابی گروہ کے ساتھ مل گیا تھا جو روس کے بادشاہ زار کے چنگل سے مزارعوں کو آزاد کرانا چاہتے تھے اور اس زمانے میں آزادی صحافت کا نعرہ لگارہے تھے۔یہ سمجھ لو کے اس زمانے میں جاگیرداری کی مخالفت کرنا اور پریس کی آزادی کا نعرہ لگانا ایسے ہی تھا جیسے آج کوئی پاکستان میں سی پیک کی مخالفت کرے،بلوچ جبری گمشدگیوں کو ریاست کی کالونیل ترقی کا شاخسانہ قرار دے اور ملک کے ریموٹ ایریاز کو چھاؤنیوں میں بدل دینے کے خلاف اشعار کہنے لگے۔یا یوں سمجھ لو کہ یہ ایسے لوگوں کا گروپ تھا جس نے معاشرے میں پھیلی مذہبی رجعت پسندی، ملائیت ، پنڈت گیری اور پادرشاہی کے خلاف علم بغاوت بلند کرڈالا ہو۔یہ پورا گروہ باغی قرار دے دیا گیا۔ان کو ریاست کے خلاف یعنی زار کے خلاف سازش کا مرتکب قرار دیا گیا اور ان کو قید میں ڈال دیا گیا۔پانج پاؤنڈ وزنی زنجیر دستوفسکی کے پاؤں میں پڑی ہوئی تھی اور اسے ایک ایسے بیرک میں سات ماہ تک رکھا گیا جس کی کھڑکی پہ ایسا پینٹ کیا گیا تھا جو روشنی کی ایک کرن اندر آنے نہیں دیتا تھا۔یہ قید تنہائی تھی۔اور کل چار سال اسے اس بھاری زنجیر کے ساتھ پیٹر اینڈ پال فورٹریس میں رہنا پڑا۔یہ ادیبوں کو قید تنہائی میں ڈال دینے کی رسم بہت پرانی ہے۔اور ان کو روشنی سے محروم کردینے کی بھی اور باندھ کر رکھنے کی بھی۔یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے ان کے دماغوں کی روشنی گل ہوجائے گی اور بغاوت کے استعارے ان کے ہاں مرجائیں گے تو یہ ان کی بھول ہوتی ہے۔دستوفسکی نے اپنی جیل کی یادوں کو یاد کرتے ہوئے کہیں لکھا تھا کہ جس بیرک میں وہ قید کیا گیا وہاں اس نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے ہاتھ اپنے پیروں کی زنجیروں سے ٹکراتا اور اس سے پیدا ہونے والی جھنکار سے وہ بیرک میں پھیلی خوفناک خاموشی کو توڑنے کی کوشش کرتا تھا۔اور پھر لکھا کہ جب پہلی بار وہ بیرک میں آیا تو فرش پہ ہزاروں رینگتے بھونرے اسے اپنے آپ سے بالکل الگ، ڈرادینے والے خوفناک لگے لیکن دھیرے دھیرے وہ ان سے مانوس ہوگیا اور ان کے قریب آگیا۔جن کے دماغ علم کی روشنی سے روشن ہوتے ہیں اور گیان جن کی روحوں میں سفر کرتا ہے تو وہ زنجیروں کی جھنکار ، رینگتے بھونروں اور یہاں تک کہ قید خانے کی تاریک دیواروں تک کو اپنے آپ سے ہم اہنگ کرلیتے ہیں اور تنہائی کے جہنم میں ایک گلزار پیدا کرلیتے ہیں۔یہ صفحے سے باہر نکال کر نظم کو اردگرد میں پھیلانے جیسی وہی کوشش ہے جس کے کارن وہ شاعر،استاد، تھیڑ ڈائریکٹر اٹھالیا گیا۔دستوفسکی جیل میں ظاہر میں کیسے لگتا تھا؟ ایک نوجوان گارڈ کو جب پتا چلا کہ دستوفسکی روس کا معروف ادیب وہی ہے جو کبھی اس جیل میں بند تھا جہاں وہ تعنیات تھا تو اس نے بڑی حیرت کا اظہار کیا کہ کیسے ایک زرد سا، دبلا پتلا،گہرے سرخ داخوں سے بھرے چہرے والا بس ایویں سا ہی آدمی کیسے اتنا بڑا ادیب ہوسکتا ہے؟ اسے تو تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھوڑے اداکار سے سرخ و سپید ایلیٹ کلاس کے لوگ شاعر و ادیب لگتے تھے۔یہ کہاں سے آگیا تھا۔میں یہ سب پڑھ رہا تھا جب کسی طرح کی سکن الرجی کا شکار چہرے والا امیج تم نے مجھے بھیجا اور کہا یہ ہے وہ صاحب طرز شاعر و ادیب جسے اٹھالیا گیا ہے۔یہ زمین زادے،مٹیالے رنگ والے دستوفسکی ہی زار کی شاہی کو لرزا دیتے ہیں۔دستوفسکی کو دوران قید کسی بھی کتاب کو پڑھنے کی اجازت نہ تھی بس انجیل مقدس کی اجازت تھی۔اور قلم و کاغذ تو فراہم کرنا بڑا جرم تھے۔ایک مرتبہ جیل کے ایک ہسپتال کے ڈاکٹر نے اسے کاغذ کی شیٹ اور قلم دیا تھا جب وہ کچھ دیر کے لئے وہاں داخل کرایا گیا تھا۔آج کے زمانے میں لیپ ٹاپ پہ قبضہ کیا جاتا ہے۔انٹرنیٹ سہولت چھین لی جاتی ہے۔اور ایسے کی بورڈ پہ انگلیوں کا تحرک روکنے کا سامان کیا جاتا ہے تاکہ نظم نہ لکھی جاسکے، اسے ریکارڈ نہ کیا جاسکے، لائیو آپشن استعمال نہ ہو اور کوئی نظم آگ لگانے نہ چل نکلے۔ویسے تمہیں یہاں ایک بات بتاؤں کہ سچی بات ہے کہ میں اس سکن الرجی کے شکار باغی سے شاعر سے جیلس ہوگیا ہوں۔کیونکہ جب سے یہ غائب ہوا ہے وہاں پاکستان کی حسین ترین اور باغی خیالات کی عورتیں ہی نہیں بلکہ اپنے شعروں اور ادبی کام میں ڈوبی بڑی من موہنی صورتیں رکھنے والی عورتیں بھی اس ہیش ٹیگ سیو فلاں کے سیٹس اپ لوڈ کرتی ہیں اور پھر اس کی تعریف کرتیں ہیں۔ایک عورت جس کے حسن سے زیادہ میں اس کی انگریزی شاعری اور پھر اس کے انگریزی شاعری و نثری ادب کے بہترین زوق سے متاثر ہوں اور جب کبھی اس کا شاذونادر ایک لائک مری کسی پوسٹ پہ مل جائے تو ميں خوشی سے پھولا نہیں سماتا اس نے تو کافی شاپ پہ اس غائب ہوجانے والے شاعر کے ساتھ اپنی بیٹھک کی تصویر بار بار شئیر کی اور پھر ان ٹھرکی بابوں کو بھی سخت جھاڑا جو اس کی ہر ایک پوسٹ پہ لائک اور کمنٹ دینا کار ثواب جانتے تھے تو مجھے سچی بات ہے بہت رشک آیا غائب ہوجانے والے شاعر پہ۔ایک بار تو من میں آئی کہ غائب کرنے والے سامری جادوگروں سے رخواست کروں کہ مجھے بھی اٹھا لے جائیں تاکہ حسین آہیں مرے لئے بھی نکلیں۔لیکن پھر یہ سوچ کر چپ کر گیا کہ ہر ایک کی ہجرت کو مدینہ کب ملتا ہے۔اور سامری جادوگر پاکستان سے بھلا یہاں پیرس مجھے غائب کرنے کیوں آئیں گے۔ویسے مجھے وہ ٹیلی کام میں کام کرنے والی جرمنی میں رہائش پذیر لڑکی نے پیغام دیا تھا کہ آرام سے رہیں کہیں تم غائب نہ ہوجانا۔میں سوچتا ہوں کہ اپنا ملک چھوڑ آنا بلکہ اپنے ملک سے بھاگ لینا اور ایک پناہ گزین ہوکر ، وطن سے بے وطن ہونا ایک طرح سے غائب ہونا ہی ہوتا ہے اور اس ارادی فعل کے اندر جبر ہوتا ہے اور یہ بھی جبری گمشدگی ہی ہوتی ہے۔اور مرے جیسے کئی جبری گمشدہ یہاں ان سردیوں کی برفاب راتوں میں صرف اداس ہی نہیں بلکہ وحشت زدہ پھرتے ہیں۔ساری! یہ مرا فلیٹ سنٹرلی ہیٹڈ ہے اور یہاں باہر چل رہی سرد ہوا کا نام و نشان تک نہیں ہے لیکن اندر لگتا ہے روح تک ٹھٹھر گئی ہے اور تمہاری کمی اس سردی میں اور اضافہ کرڈالتی ہے۔تم سے اتنے دن رابطہ نہ ہونے کی ایک وجہ تو یہ تھی مجھے لپ سٹک کے ایک برانڈ کی ایڈ پہ ایک تخلیقی جملہ تشکیل کرنا تھا اور میں اسے ایک ہفتے سے نہیں کرپارہا تھا۔اور پھر یہ جملہ مجھے کل رات یہاں فلیٹ واپس آتے ہوئے گلی میں کھڑی ایک کال گرل سے مل گیا۔اس نے کہا

Le sourire sur mes lèvres

Il ne mourra sûrement jamais

Comme j’attends ici pour vous

Jusqu’à ce que vous êtes à mes côtés.

مسکان مرے ہونٹوں کی

کبھی نہ مر پائے گی

میں کھڑی یہاں منتظر  رہوں گی اس وقت تک

جب تک مل نہ جاؤ تم

میں نے اسے یوں بدل ڈالا ہے، ” مسکان مرے ہونٹوں پہ چمکنے لگی ہے۔ بس یہ ایڈورا لپسٹک کا کمال ہے”۔اور میں نے اس کال گرل کو پوری نائٹ کے پیسے دے ڈالے اور کہا کچھ اور کہو۔میں اس کے ساتھ وہیں گلی میں ایک کونے میں زمین پہ بیٹھ گیا تھا۔اتنی سردی میں اس نے برانڈی کی بوتل جیکٹ سے برآمد کی اور اس کے چند گھونٹ پینے کے بعد مجھے

اس نے کہا بہت سردی ہے تم بھی چند گھونٹ بھر لو تو سوچا جب پہلی توبہ برلن میں توڑ ہی دی تو یہاں اس برفاف موسم میں دوسری بار پینے میں کیا حرج ہے سو دو گھونٹ پینے کا مجرم ٹھہر گیا اور پھر اس نے کافی شعر سنائے اور مجھے ایک نظم کے مصرعے یاد رہ گئے

Tu n’as peut-être pas été mon premier amour

Mais vous avez été l’amour qui a fait

Tous les autres amours

Irrévérencieux

تم مرا پہلا پیار نہیں ہو

لیکن تمہارا پیار ہے جس نے دوسری ساری محبتوں کو

غیر متعلق کرڈالا ہے

اس سے جب میں نے جانے کی اجازت لی اور جاتے جاتے اس سے پوچھا کہ اس نے یہ سب کہاں سے سیکھا تو اس نے کہا کہ وہ لٹریچر کی اسٹوڈنٹس ہے، بارسلونا سے آئی تارک وطن ہے، ایک پارٹ ٹائم جاب اس کا خرچہ پورا نہیں کرتی تو پارٹ ٹائم جسم فروشی کرتی ہے۔یہ کہہ کر چلتی بنی۔اور مرے سامنے سرمایہ داری کی ایک اور بری شکل کا نشان چھوڑ گئی۔تم سے رابطے کا فقدان مرا اپنے تخلیقی ذہن سے لپ اسٹک کے لئے ایڈ بنانے کے لئے مناسب سے فقرے ڈھونڈنے کی وجہ سے تھا تاکہ مری جاب برقرار رہ سکے۔

فقط تمہارا

ع۔ح

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s