چھبیسواں خط

 

 

                                                                                  پیاری ساری ،

 

گزشتہ خط کے جواب میں مجھے تمہارا لکھا ہوا خط آج صبح کی ڈاک سے ملا تھا۔میں اتنا تھکا ہوا تھا کہ اسے کھول کر پڑھ نہ سکا لیکن اس خط کو اپنے سینے پہ رکھ کر میں سوگیا تھا۔اور خلاف معمول مجھے بہت پرسکون نیند آئی اور میں جب سوکر اٹھا تو رات کے آٹھ بج چکے تھے۔میں نے فریج میں رکھا کولڈ سینڈویچ کھایا اور کافی کا ایک مگ تیار کیا اور اس کے سپ لیتے ہوئے تمہارا خط پڑھا۔تمہارے ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں کا لمس خوشبو بنکر الفاظ اور کاغذ کی تین شیٹ میں رچا بسا تھا اور مجھے یہ لمس اب اپنے ہاتھوں اور نگاہوں پہ محسوس ہورہا تھا۔اور خط کی عبارت تمہیں مجسم کرکے مجھے دکھارہی تھی۔تمہاری حیرانی بجا ہے کہ آج کل میں کیسے اپنے فلیٹ میں ایک میز اور کرسی پہ ٹک کر تمہیں مستقل خط بھی لکھتا ہوں اور باقی کے تخلیقی و غیر تخلیقی کام بھی کرتا ہوں۔تم  نے ٹھیک سوال کیا ہے کہ اب میں اپنی تخلیق کو پر لگانے کے لئے کسی کھنڈر ہوگئی تاریخی اہمیت کی حامل قدیم عمارت کی لرزتی بنیادوں پہ بیٹھ کر کیوں نہیں لکھتا؟اور اپنی نثر کے لئے دماغ کے فیول کے طور پہ لال پری کیوں پاس نہیں رکھتا اور اسے وقفے وقفے سے کیوں نوش نہیں کرتا؟جبکہ سگریٹ کے دھوئیں سے کمرے کو بھرا ویسے ہی رکھتا ہوں۔مجھے لگتا ہے کہ تمہارے ذہن میں یہ سوال اس لئے آئے ہیں کہ وہاں کراچی میں لکھنے کی آزادی کو محسوس کرنے اور اسے اپنے اندر اتارنے کے لئے کبھی میں منوڑا کے اس پار بلوچ بستی کے اندر چھونپڑے میں بنے چائے کے ہوٹل جاتا تو کبھی کیماڑی میں کسی پرانی سی بہت پرانی سی عمارت میں بنے کیفے میں جاکر بیٹھ جایا کرتا تھا اور وہاں لوگ مجھ سے اتنے مانوس ہوگئے تھے کہ جب جاتا تو مجھے مری پسندیدہ جگہ پہ بیٹھنے میں مدد کی جاتی تھی اور میں کئی گھنٹوں بیٹھ کر تخیل کی پرواز اونچی سے اونچی کرتا رہتا تھا۔یہاں تک کہ کئی اچھوتے کہانی کے پلاٹ تو مجھے واش روم میں منہ ہاتھ دھوتے سوجھے تھے یا سڑک پہ چلتے ہوئے ایک جھماکے کی طرح دماغ کی سکرین پہ روشن ہوئے تھے۔لیکن یہاں پیرس میں اس فلیٹ کے اندر بنے اسٹڈی روم میں پڑی واحد میز کرسی مرے لئے اب تخلیقی عمل انگیز کا کردار ادا کرنے لگی ہے۔اور اب میں کام سے آنے کے بعد زیادہ وقت اسی میز کرسی پہ بیٹھ کر گزارتا ہوں۔اور یہ لیپ ٹاپ جو قلم، کاغذ کی جگہ لے چکا ہے زرا مرے خیال کی رو کے آڑے نہیں آتا ہے۔

یہاں اس میز پہ سامنے لیپ ٹاپ دھرا ہے، اس کے ساتھ ہی ایک ساؤنڈ پڑا ہے جس کے سہارے میں سینما ساؤنڈ کا مزا لیتا ہوں۔پاس ہی کئی زبانوں کی لغات پڑی ہیں اور بالکل دائیں ہاتھ کی طرف نہج البلاغہ پڑی ہے اور بائیں طرف سگریٹوں کے چار پیکٹ میں ڈنڈے سے نکال کر رکھتا ہوں۔گزشتہ دنوں پاکستان سے انور آیا ہوا تھا۔وہ مجھے ملنے مرے فلیٹ آیا تو اس نے نہ تو مجھ سے یہ پوچھا کہ اتنی زبانوں کی لغات پاس کیوں رکھی ہیں؟نہ سگریٹ بارے سوال کیا۔بس تھوڑے فاصلے پہ پڑی نہج البلاغہ بارے مجھ سے پوچھنے لگا کہ یہ ہمہ وقت پاس کیوں رکھتے ہو؟وہ شاید موقعہ تلاش کررہا تھا مجھ پہ مادیت پرستی سے انحراف کرنے کا یا پھر وہ مجھے رجعت پرست کہنے کا خواہش مند تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ زرا یہ بتاؤ کہ امریکن سیاہ فام شاعرہ مایا اینجلو تمہیں رجعت پرست لگتی ہے کہ ترقی پسند ؟کہنے لگا کہ اس سوال کا جواب بہت آسان ہے کہ مایا ایک باغی، انقلابی اور سماج سیوک شاعرہ تھی۔میں نے کہا تمہیں معلوم ہے وہ جس بیڈ پہ لیٹ کر لکھتی تھی اس بیڈ پہ شیری کی ایک باٹل ، لغات ، تھیاس رس ، اور بائبل پڑی ہوتی تھی-جب پیرس ریویو کا نمائندہ اس سے انٹرویو کرنے پہنچا تو اس نے مایا اینجلو سے یہی سوال کیا تھا: یہاں بائبل کا کیا کام ہے؟تو وہ کہنے لگی کہ میں اس کا کوئی سا ایڈیشن اٹھاکر کہیں سے بھی باآواز بلند پڑھنے لگتی ہوں تاکہ اس کا ردھم سن سکوں اور ایک اچھی انسان بن جاؤں۔نہج البلاغہ بھی مرے واسطے ایسے ہی ہے جیسے مایا اینجلو کے لئے بائبل تھی۔میں اس کا کوئی بھی صفحہ کھول کر بلند آواز سے پڑھنے لگتا ہوں تو سب سے پہلے صفحے پہ تم دکھائی دینے لگتی ہو۔اور لب مرے ہلتے ہیں آواز تمہاری کانوں میں پڑتی ہے۔اور معانی کا نیا جہان مرے سامنے کھلنے لگتا ہے۔اور تنہائی اس کے صفحے سے باہر نکل کر مرے اردگرد اور پورے فلیٹ کو اپنے اندر ڈھانپ لیتی ہے۔اور مجھے تم بھی برہا میں ملبوس نظر آتی ہو۔اور تمہاری آنکھوں سے اداسی ٹپ ٹپ گرنے لگتی  اور مرے پورے فلیٹ کو گیلا کرتی ہے۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ تنہائی بارش کی صورت برس رہی ہو اور تنہائی کی پھوار سے نت نئے مضامین جنم لے رہے ہوں۔گزشتہ خط جب میں نے آن لائن کیا تو میں تھوڑا سا گبھرایا ہوا تھا۔کیونکہ میں نے بنا پوچھے ادب میں رنگی اور شاعری کے گیان میں گم جس خوبصورت عورت کے غائب ہوجانے والے سلو کے لئے آہیں بھرنے کا زکر کیا تھا تو اس نے مجھے اچانک انباکس میں میسج کرکے کہا “خوبصورت خط لکھا ” ہے اور ایک کمپوزنگ کی غلطی کو درست کرنے کو بھی کہا تو میں اچانک سے سرشاری سے بھر گیا اور مجھے یہ بھی اندازا ہوا کہ وہ مرے خطوط اور تحریریں بغور پڑھتی ہے۔ساری،تمہیں پتا ہے کہ ہمارے ہاں ایسی شاعرات اور ایسی ادیب انگلیوں پہ گنے جاسکتے ہیں جو جینوئن ہوں اور ان کا حسن بھی کمال کا ہو۔وہ خاتون شاعرہ ایسی ہی ہیں۔مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ لوئر مڈل کلاس سے ابھر کر آنے والی نوجوان عورتیں ہماری اشراف فیمنسٹ عورتوں سے کہیں زیادہ ریدیکل اور جینوئن ہیں۔لیکن ہوسکتا ہے میں دور بیٹھا ہوں اور مرے اس تاثر میں مرے تخیل کی کاریگری زیادہ ہو۔اس لئے تم زیادہ بہتر  بتاسکتی ہو۔ساری گزشتہ خط اس ٹیلی کام میں جاب کرنے والی لڑکی نے بھی پڑھا تھا اور اسے پڑھنے کے بعد اس نے مجھے لکھا کہ کیا ساری کی آنکھوں کی گہرائی کم پڑگئی ہے جو تم مری آنکھوں کی گہرائی میں ڈوب جانے کی تیاری کررہے ہو؟مرے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔آج اس کا فون آیا تھا اور میں اس غلط فہمی میں مبتلا ہوا کہ وہ کہیں نہ کہیں مجھے مس کررہی ہے لیکن اسے تو ایک ناپاک بادشاہت کے سیاہ کارناموں کی فہرست درکار تھی۔اور اس ضرورت نے اسے مجھے فون کرنے پہ مجبور کردیا کیونکہ وٹس ایپ کال پہ ،میں دستیاب نہ تھا اور فون نمبر بھی کوئی اور لگ رہا تھا۔بھلا ایک ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی کے پاس سموں کی کوئی کمی ہوگی۔اس لڑکی کا کہنا ہے کہ مرا آرٹ اسے برتھولیٹ بریخت کی طرح سادگی ، سٹائل ، حساسیت ، فارم اور خوبصورتی سے بھرا لگتا ہے تو میں بے اختیار ہوکے سوچنے لگتا ہوں کہ کیا واقعی اسے آرٹ کی سمجھ بھی ہے کہ نہیں؟یہ بات اگر وہ جینوئن حسین وجیمل شاعرہ نے کہی ہوتی تو مجھ پہ شادی مرگ طاری ہوجاتی ہے۔مجھے ایسے لگنے لگا جیسے مرے اندر سے کوئی چیز مرتی جارہی ہے اور میں اپنے اردگرد لوگوں کے بارے میں بہت منفی سا ہوتا جاتا ہوں۔اردگرد کی فضا مجھ پہ اثر کرنے لگی ہے اور مجھے شناختوں کے باب میں شناخت کے تھونپ دئے جانے کا عمل خو‌فزدہ کرنے لگا ہے۔یہاں پیرس میں ایک مسلمان نام کے تارک وطن کو بار بار یہ بتانا پڑتا ہے کہ اس کا انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ صلح کل پہ یقین رکھتا ہے۔اور مغرب کی سیکولر اقدار پہ اس کا یقین ہے۔اسے ایک نسل پرست نیشنل ازم کا سامنا ہےجبکہ وہاں تمہارے بقول شاعروں، ادیبوں کو یہ وضاحت دینی پڑتی ہے کہ وہ بلاسفیمر نہیں ہیں۔لیکن روشن فکر ادیبوں کے چہرے پہ بلاسفیمی کی کالک ملی جانے کا سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں جب کوئی ادیب اپنی کتاب لیکر آئے گا تو دیباچے میں وہ ایمان مجمل و ایمان مفصل کی گواہی پہ مبنی جملے لکھے گا اور کتاب کا فارمیٹ مولویوں کی ہدائیت کی روشنی میں مرتب کرے گا اور اسے المنقذ من ضلال کا نام دے گا۔نسیم حجازی کے نام کتاب کا انتساب کرے گا اور جہادی و تکفیری سوچ کو اپنا رہبر قرار دے گا اور ایسا کرنے کے بعد اسے کم از کم بلاسفیمی کے الزام سے چھٹکارا مل جائے گا۔تھک سا گیا ہوں اور نہ چاہتا کہ یہ تھکن مرے بدن سے اس خط کے اندر الفاظ کے زریعے سے منتقل ہوجائے۔اس لئے اجازت۔

فقط تمہارا

ع۔ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s