ستائیسواں خط

627897f9bed6d3308bebdcdde7d24b98

ستائیسواں خط

 

پیاری ساری!

اس بار تمہارا خط ملا تو ساتھ ہی دل سے عجیب سی بے چینی بھی ختم ہوگئی،کیونکہ تمہارا خط ملنے سے تھوڑی دیر پہلے میں نے اس ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی لڑکی کو جون 1929ء میں سارتر کا سیمون دی بووا کو لکھا محبت نامہ ارسال کرکے بین السطور میں اسے بتادیا تھا کہ میں اس کی صحبت کو انجوائے کررہا ہوں۔اور اس کی صحبت میں مجھے سکون ملتا ہے۔اگرچہ یہ صحبت ٹیلی کمیونی کیٹک ہی سہی۔لیکن مجھے لگتا ہے جیسے اس مواصلاتی صحبت میں بھی کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی حد تک جسمانی صحبت جیسا لطف آتا ہے۔اگرچہ بے چینی ہر مواصلاتی صحبت کے بعد اور بڑھ جاتی ہے۔تمہارے کہنے پہ میں ہر خط آن لائن کرتا جارہا ہوں لیکن لوگ تمہارے اور مرے تعلق کی نوعیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں،ویسے جو آن لائن مرد و عورت مرے سوشل میڈیا فرینڈ ہیں پاکستانی پس منظر سے خاص طور پہ انھیں تم سمجھ ہی نہیں آرہی ہو کہ کیسے اپنے ساتھ جڑے ایک آدمی کو تم دوسری عورتوں بارے گفتگو لکھتے دیکھ کر برداشت کرتی ہو۔ویسے یہاں اکثر پاکستانی روشن خیال مگر لوئر مڈل کلاس پس منظر کی عورتیں مردوں کا بیک وقت کئی عورتوں کی طرف التفات دیکھ برسبیل تذکرہ اپنے لئے بھی ایسی آزادی کی مانگ کرتی ہیں اور ساتھ ہی ایک دم سے کہتی ہیں کہ اس مانگ کے جواب میں سیدھی گولی مقدر بنے گی۔اور مری ایک نہایت ہی محترم و مکرم دوست خاتون نے بتایا کہ ایسی مانگ پہ لادین مرد بھی دین سے جواب ڈھونڈ لاتے ہیں۔ویسے مجھے تمہارے ہاں پاکستان میں ایسی دو سے تین خواتین بارے پورا یقین ہوگیا ہے کہ وہ ہماری طرح معاملے کی تہہ تک پہنچ چکی ہیں اور اس لئے ان کے ہاں ترحم آمیزی کی زرا رمق دکھائی نہیں دیتی۔ایک تو وہی شاعرہ ہے جو خیالات کے ساتھ ساتھ جسمانی خدوخال کے ساتھ بھی حسین ترین ہے۔اور ایک عورت وہ ہے جسے میں کہتا ہوں کہ وہ ساری! تمہارے جیسی مثالی عورت بننے کے عمل سے گزر رہی ہے۔لگتا ہی نہیں ہے یہ وہ دھان پان سی لڑکی ہے جو دو سالوں پہلے رات کے دو بجے تک اپنی طب کی کتابوں میں کھوئی رہتی تھی۔چش مش سی اور بالکل سادہ سے خیالات رکھنے والی مگر اب تو اسے زرا چھیڑو اور سنو پھر عتاب کی باتیں۔تمہاری جیسی عورت بننے کے عمل سے گزرنے والی یہ ہستی مجھے ان معنوں میں اچھی نہیں لگتی جن معنوں میں ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی جرمنی میں قیام پذیر وہ لڑکی لگتی ہے جسے بار بار ٹیلی کام میں کام کرنے والی کہہ کر مجھے بڑی مسرت ملتی ہے۔بس یہ مجھے محض اپنی رائے کی وجہ سے پسند ہے۔ساری،تمہیں یاد ہے کہ ہم پہلے ایک دوسرے کے دوست بنے تھے اور پھر تم نے ایک دن مجھے کہا تھا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہوگئی ہے اور تم مجھ سے ریلشن رکھنے کی خواہش مند ہو،یہ وہ الفاظ تھے جو میں تمہیں کہنا چاہتا تھا لیکن مرے اندر ایک بہت بزدل انسان چھپا ہوا تھا جسے سب سے پہلے تم نے ہی پہچانا تھا اور پھر مری اس بزدلی کو اپنی محبت سے سات سمندروں کی گہرائی میں دفن کردیا تھا۔تم نے مجھے کہا تھا کہ ہم ایک اوپن ریلشن میں رہیں گے اور سچی بات ہے مجھے بالکل ویسے ہی سمجھ نہیں آئی تھی جیسے آج مرے کئی دوستوں کو سمجھ نہیں آرہی ہے۔کیا تمہارے پاس اب بھی وہ ویڈیو کیسٹ موجود ہے جس میں وہ فلم کاپی ہوئی جس کا نام ” سارتر بائی ہم سیلف ” تھا۔مجھے اس فلم میں سارتر کا وہ انٹرویو نہیں بھولتا جسے تم نے پلے کرکے مرا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا کہ سمجھو یہ سارتر نہیں کہہ رہا بلکہ تمہاری ساری کہہ رہی ہے،اور تم نے مجھ سے کہا تھا کہ آؤ اس سین کو ہم مل کر دوبارہ سے کرتے ہيں۔اور تم نے مکالموں میں تذکیر کو تانیث سے اور تانیث کو تذکیر سے بدل دیا تھا۔مجھے کافی مزا آیا تھا۔آج جب تمہیں یہ خط بیٹھا لکھ رہا ہوں تو مجھے وہ سین جو تم نے  اپنے اوپر خیال میں فلمبند کیا تھا ایسے نظر آرہا ہے جیسے ابھی ابھی تم اسے فلمارہی ہو۔”ہاں ميں صحبت نازک خیالاں مگر مردوں کی صحبت کو ترجیح دیتی ہوں،کیونکہ اس کی ایک وجہ تو جسمانی ہے ، یہ درست ہے کہ یہاں بہت بدصورت مرد بھی ہیں لیکن میں خوبصورت مردوں کو ترجیح دیتی ہوں یہ اور بات ہے کہ مرا محبوب اول اور سب سے زیادہ میری روح پہ قابض ایک واجبی سی صورت والا مرد ہے ( یہ سنکر میں خوب ہنسا تھا)۔میں حسین مردوں کو لبھاتی ہوں۔مگر اپنا آپ صرف اسی واجبی صورت والے اپنے محبوب پہ کھولتی ہوں۔اور ہاں میں اور مرا محبوب مرد ایک ایسا کپل ہیں جو آزاد اور خودمختار بندھن میں بندھے ہوئے ہیں جس میں مجھے حسین مردوں کو لبھانے اور اسے حسین عورتوں کو لبھانے کی اجازت ہے۔اور ہمیں افئیرز پہ کوئی اعتراض نہ ہے،یہ اوپن ریلیشن ہے جس مں جیلسی اور کلیس پن نہیں ہے”۔تمہیں یاد ہے وہ باجوہ اور پلوشہ کپل ، جنھوں نے یونیورسٹی میں ہی شادی کرلی تھی اور وہ کہتے تھے کہ ” ہم اوپن میرج کیے ہیں”۔یہ کئے ہیں بھی کمال تھا ، کتنا خوبصورت لگتا تھا ان کے منہ سے یہ جملہ۔اور ایک مرتبہ جب آمنہ نے پلوشہ سے پوچھا کہ تم اپنے شوہر کی جمال پرست طبعیت کیسے برداشت کرتی ہو ؟ تو اس نے کمال کی بات کہی تھی کہ ایک تو وہ برداشت نہیں کرتی بلکہ اس کی مرضی اس ميں شامل ہے اور دوسرا وہ

بورژوا “ڈی سے سینسی ” میں پہ سرے سے یقین ہی نہیں رکھتی۔مطلب اپنی بیوی کو بھی یقین دلانا کہ وہ ہی بس وہی اس کی توجہ کا مرکز اور خفیہ طور پہ کئی اور افیئرز بھی چلانا اور ہر عورت سے بس ستی ساوتری بنے رہنے کا مطالبہ بھی دوہراتے چلے جانا۔مجھے تو یہ بورژوا ڈی سین سی بہت بڑھیا اصطلاح لگی تھی ۔ویسے تم بھی تو خوب ہنس رہی تھیں پلوشہ کے منہ سے یہ سب سنکر۔جس دن تم نے مجھے اپنے پیار بارے بتایا تھا اس دن پہلی بار مجھے پتا چلا تھا کہ تم مجھے کیوں سیمون دی بووا کے خطوط کے وہ حصّے پڑھ کر سناتی تھیں جس میں وہ سارتر کی سکن ، اس کے دانتوں کی صفائی سے بے پروائی برتنے، اس کی میل” اگلی نیس ” یعنی مردانہ بدصورتی سی دکھائی پڑنے ، خوب ڈرنک کرنے ، فیشن بارے کھکھ نہ جاننے کے باوجود اس پہ مر مٹنے کا زکر کرتی ہے۔مرے ذہن میں پرائم آف لائف کی لائنیں گزر رہی ہیں جس میں بوووا نے سارتر کے ساتھ اپنے تعلق میں روائتی میرج بانڈ کو فالتو کی چیز قرار دیا اور اپنے و سارتر کے درمیان تعلق کو ” سول میرج / روح کی شادی ” سے تعبیر کیا۔تم وہاں کراچی میں نارتھ ناظم آباد کے بلاک میں اسی پرانے سے گھر میں ہو اور میں یہاں پیرس میں ایک سستے فلیٹ میں لیکن کیا یہ واقعی کوئی ایسی چیز ہے جو تمہارے اور مرے درمیان محبت پلس کامریڈ شپ کے بانڈ کے آڑے آسکتی ہے؟ویسے مجھے سارتر اس وقت زرا اچھا نہیں لگا تھا جب اس نے سیمون دی بووا سے یہ شرط رکھی کہ وہ دونوں افئیرز میں آزاد ہوں گے لیکن اپنا ہر تجربہ ایک دوسرے سے شئیر کریں گے۔یہ شئیرنگ اگر کسی شرط کے رکھے جانے کے بغیر ہوتی تو مجھے اعتراض نہ ہوتا۔کیا “اے سن شیل لو / ابدی محبت ” میں جڑے دو اشخاص کو یہ شرط رکھنا ضروری ہے کہ وہ اپنی عارضی محبتوں/کانٹی جینٹ لو کو لازمی ایک دوسرے سے شئیر کریں۔ویسے ساری! میں سوچتا ہوں کہ وہاں ایشیا اور مڈل ایسٹ میں اکثر مرد و عورتیں کانٹی جینٹ لو /عارضی محبتوں کے انبار تلے دب کر ایے سین شیل /ابدی محبت کو کہیں گم کر بیٹھتے ہیں۔میں اس حقیقت سے انکار نہیں کروں گا کہ ساری تمہارے کانٹی جینس لو میں جب کبھی کوئی نیلسن الجرین (سیمون دی بووا کا کانٹی جینس لور ) یا کلاڈین جےزمان (دوسرا کانٹی جینس لور) آیا تو میں نے جیلسی محسوس کی لیکن تم نے ہی تو مجھے کہا تھا کہ جیلسی ہماری آزادی کی دشمن ہوتی ہے اور یہ ہمیں کنٹرول کرتی ہے اور ہمیں مغلوب کرتی ہے جبکہ ہمیں اس پہ کنٹرول کرنا سیکھنا ہوگا۔یہ بھی تم نے اور میں نے اسی فرنچ فلسفی کپل سے سیکھا تھا۔لیکن ساری! کیا میں اور تم واقعی ویسا بننا چاہتے تھے جیسے یہ فرنچ کپل تھا؟نہیں نا؟ کیوں ؟ ہمارے اندر وہ جسے مشرقیت کہتے ہیں یا جسے رسوم ورواج سے بھری حدود و قیود کہا جاتا ہے کہاں سے در آئی تھیں جب اس لمحے میں اس فرنچ کپل سے ہمیں شدید نفرت سی محسوس ہوئی تھی جب تمہارے اور مرے ہاتھ سارتر کے نام لکھے بووا کے وہ سارے غیر ایڈٹ خط لگے تھے جسے بووا کی لے پالک بیٹی نے 1990ء میں شایع کرڈالے تھے۔کیا ہم یہ کرسکتے ہیں کہ کسی کم عمر کو پڑھانے، لکھانے، فلسفے کی بلندیوں تک پہنچانے کے نام پہ لبھائیں اور اور ان کم سن لڑکیوں کو اپنے بیڈ تک لانے کی سبیل کریں؟ اور یہ سب اس لئے کریں کہ ہماری خواہش انسیسٹ سیکس میں اپنے بچوں کے ساتھ سونے کی ہو۔جیسے سارتر پولش اولگا کے ساتھ نہ سو سکا تو اس نے اس کی بڑی بہن کے ساتھ سونے کو ہدف بنا لیا۔ساری ایسا کانٹی جینس / عارضی محبت و پیار تو نہ تمہارے بس کی بات تھی اور نہ مرے بس کی بات ہے۔اس پہ اگر کوئی تمہیں اور مجھے یہ کہے کہ آخر میں کمبخت تم دونوں مشرقی ہی نکلے نا یا تمہیں ایک دبّو مشرقی عورت کہے اور مجھے ایک ڈرا ہوا مشرقی مرد کہے تو ہمیں زرا برا نہیں لگے گا۔خواہشات اگر جئینس کے ہاں غالب آنے لگ جائیں تو اس کا علم گھلنے لگتا ہے اور ایول نیس ترقی کرنے لگتی ہے۔ساری! سلطان باہو اسے نفس پلیتی کہتے تھے اور مجھے اس بات کی سمجھ سیمون دی بووا کے سارتر کو لکھے گئے خطوط میں ان کی جنسی وارداتوں کے تذکرے پڑھنے کے بعد آئی۔مجھے اعتراف کرنا ہے کہ میں نے سارتر کی طرح اپنے تخیل کی پرواز میں کبھی ترقی کانٹی جینس لو کے دوران محسوس نہیں کی۔اور نہ مجھے کبھی اپنی سینس سبلٹی میں کچھ اضافہ ہوتا محسوس ہوا جو سارتر کے بقول اسے محسوس ہوتا تھا۔میں نے اپنے آپ کو بہت ٹٹولا اور یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ اس ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی عورت کو جب میں “آئی لو یو ” بالواسطہ طور پہ ہی بولتا ہوں تو کیا کسی اولگا کو تلاش کرتا ہوں تو مرے اندر سے ہر بار نفی میں جواب آیا ، مجھ میں کوئی نفسانی ارتعاش پیدا نہیں ہوا بلکہ مجھ پہ ایک اور ہی انکشاف ہوا، ساری! میں تو اس میں بھی تمہیں ہی تلاش کررہا ہوں اور مجھے ایسے لگنے لگا ہے جیسے میں کانٹی جینس لو پہ سرے سے یقین ہی نہیں کرتا۔کیا اپنے جوابی خط میں تم اس مسئلے پہ روشنی ڈالوگی؟

 

فقط تمہارا

ع   ۔ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s