اٹھایسواں خط

 

پیاری ساری

کل جب تمہارا خط ملا تو دل کے ہاتھوں اسقدر مجبور ہوا کہ آنکھوں سے لگا کر کچھ دیر رقص کرتا رہا۔اب تم ایسا کرنا درگاہ بابا ٹولے شاہ جانا اور وہاں بیٹھے کسی ملنگ کو 100 روپے دے دینا، یہ مری نذر پوری کردینا۔میں نے کہا تھا کہ اگر جنوری کے آخری ہفتے میں سوموار کو خط ملا تو درگاہ بابا ٹولے شاہ 100 روپے کی نذر کروں گا۔ویسے یہاں پیرس میں ایک نواحی علاقہ ہے جو ڈینس سٹی کہلاتا ہے اور یہاں پہ ایک درگاہ ہے جسے باسلیق رائلے ڈی سینٹ ڈینس کہا جاتا ہے اور یہ سینٹ ڈینس کا مقبرہ ہے۔سینٹ ڈینس ایک ایسا صوفی تھا جسے اس وقت کی سرکار کی فوج نے جب سزائے موت دی اور اس کا سر قلم کردیا تو اس نے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور ایک وعظ پڑھتے ہوئے چلنا شروع کردیا۔رومن کیتھولک میں ایسے 47 صوفی یا سینٹ ہیں جن کے سر قلم ہوئے اور انہوں نے اپنے سر ہاتھوں میں اٹھاکر کلام کیا اور اس کے لئے رومن لفظ

                                                                                                                                                          Cephalophore

استعمال کیا جاتا ہے۔ساری، مزے کی بات یہ ہے کہ میں جب یہاں پیرس آیا تو مرے دل میں خیال آیا کہ جیسے ہمارے ہاں پاکستان کے اندر افتادگان خاک اپنی منتوں ، مرادوں اور نذر و نیاز کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور ان کے مخصوص مشکلات اور مصائب کو دور کرنے میں مدد دینے والے الگ الگ صوفیاء اور ولی اللہ ہیں تو کیا یہاں فرانس اور یورپ کے اندر بھی لوگ ایسا رجحان رکھتے ہیں؟ کیا ان کے ہاں بھی ایسے ولی اور صوفی موجود ہیں؟تو مرے سامنے حیران کردینے والی چيزیں سامنے آئیں۔جیسے “متکلم سرکٹے صوفی ” اور پھر ایسے ہی قیدیوں کا صوفی – سینٹ آف پرائزنر سینٹ کولبے۔جیسے سینٹ لیونارڈ قیدیوں ، جنگ میں غلام بنائے جانے والی عورتوں کا نجات دہندہ صوفی خیال کیا جاتا ہے۔سینٹ انتھونی کو بھی آزادی دلانے والا صوفی کہا جاتا ہے۔ہمارے ہاں جیسے قطب ، ابدال ، غوث ، مجدد ہوتے ہیں یہ سب وہاں بھی ہوتے ہیں اور ان کے نام پہ وہاں کلیسا بنے ہوئے ہیں۔میں ایک مرتبہ سینٹ ڈینس کے مقبرے پہ گیا تو میں بیٹھے بٹھائے وہاں سے خیال ہی ميں درگاہ ٹولے شاہ پہنچ گیا تھا،ٹولے شاہ کی درگاہ جہاں تم مجھے لیکر گئیں تھیں اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ تم درگاہ عبداللہ شاہ غازی پہ کیوں نہیں چلتیں تو تم نے کہا تھا کہ ٹولے شاہ درگاہ کی سادگی اور اس کی مٹی و گارے سے بنی عمارت مين تمہیں سکون ملتا ہے اور یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ ابھی ملوکیت اور اس کی مارا ماری کے علمبرداروں نے اس درگاہ کے حقوق اپنے نام نہیں کئے ہیں جیسے اکثر صوفیوں کی درگاہ پہ وڈیرے پیر قابض ہیں اور یہان تک کہ شاہ عنائت کی جھوک بھی “نجی ملکیت ” کے تعفن سے بھرگئی ہے اور شاہ عنائت کے سجادوں کی بڑی کوٹھیاں شاہ عنائت کی بغاوت کا منہ چڑاتی ہیں۔یہاں کوئی سینٹ ایسا نہیں ہے جس کے مقبرے تک سرمایہ داری نظام کے پاؤں نہ پہنچے ہوں۔شاید اس لئے مجھے وہاں بیٹھ کر بھی درگاہ ٹولے شاہ کی یاد آتی رہی۔لیکن ميں نے سینٹ ڈینس کو یہ ضرور کہا کہ وہ مجھے اگر مکتی دے سکتے ہوں تو دے ڈالیں۔لیکن سینٹ ڈینس نے کہا کہ اس کے لئے اپنا سر قلم کروانا پڑتا ہے اور اگر زرا سا کھوٹ بھی من ميں ہوا تو اپنے کٹے سر کو اپنے ہاتھوں میں اٹھاکر کلام کرنے کے قابل کبھی نہیں بنوگے،اور کھوٹ یہ ہے کہ اپنے اندر محبوب حقیقی کے سوا کسی اور کو بھی جگہ دے دی جائے۔مطلب سینٹ ، صوفی اور سادھوؤں کے ہاں ” کانٹی جینس ” محبت بالذات مقصود نہیں ہے اور اسے وہ پلیدی بھی کہتے ہیں اور سفلیت بھی اور اس سے آگے جانے کی بات کرتے ہیں۔لیکن ” ابدی اور لزومی محبت ” کیا صرف حقیقت اول سے ہی ہوسکتی ہے؟میں اس سوال کا جواب اپنے اندر تلاش کرتا ہوں تو مجھے پتا چلتا ہے کہ جسے ابدی و لزومی محبت کہا جاتا ہے وہ مرے ہاں تو مجاز جسے مجاز کہنا مرے بس کی بات نہیں ہے صرف ساری تم سے ہی ہے۔ساری، تم نے اس خط میں مجھے اپنے تجربات بتاکر حیران کردیا ہے،تمہارا یہ کہنا کہ تم جب لاہور گئی تھیں تو وہاں عابد نے تمہیں بہت متاثر کیا جو تمہیں لاہور کی ان تنگ و تاریک گلیوں اور کچی آبادیوں میں لے گیا تھا جہاں پہ ننگ دھڑنگ بچے زمین پہ بیٹھے کنچے کھیل رہے تھے، کچھ نالیوں پہ بیٹھے رفع حاجت کررہے تھے، ایک جگہ تم نے لوگوں کو پانسے کھیلتے دیکھا ، تاش کے پتوں کی بازی ایک میلی سی دری پہ بیٹھے لوگ لگائے ہوئے تھے اور ان کے اردگرد بھی پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس لوگ مکمل خاموشی سے کھڑے تھے۔پان چباتے ہوئے، سگریٹ پیتے ہوئے، اور تمہارے حسن سے اپنی آنکھیں سینکتے ہوئے اور ان کی آنکھوں سے پھٹتے خواہش جنس کے شرارے کسی بناوٹ کے بغیر تھے، تمہیں، اپنی چھاتیوں ، سرین ،کمر پہ کئی آنکھیں ہاتھ بنکر رینگتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں بلکہ تم نے دیکھا کہ کئی مرد تو اس لمبے ، پتلے سے نازک سے اور کتابی چہرے والے ، ٹائٹ جینیز پہنے عابد کے کولہوں کو شہوت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔اور پھر کوٹ لکھپت کا انڈسٹریل ایریا جہاں ایک ایک کمرے میں دس دس مزدور ٹھنسے ہوئے تھے اور تمہیں لگا تھا کہ عابد اپنی کہانیوں ، نظموں کا مواد یہیں سے لیتا تھا اور کئی مناظر تو خود اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوں گے۔عابد تمہیں چرس کی بھری سگریٹ کے دھوئیں کو اپنے اندر اتارتا ہوا بہت دلکش لگا تھا اور تب بھی جب وہ ایک گٹھیا سی شراب کٹورے میں ڈالے مشینسٹ گامے مزدور کے ساتھ فیکٹری کے ساتھ بنے کوارٹر میں پی رہا تھا۔گاما نے تمہیں دیکھ کر اپنا ہاتھ تمہاری طرف بڑھایا اور جب تمہیں کامریڈ لال سلام کہا تو تمہیں اس کی تمہارے شرٹ کے زرا سے کھلے گلے کے اندر سے نظر آتی باریک سی لیکرپہ پیوست نظریں صاف دکھائی دی تھیں اور عجیب بات کہ اس کا یہ ترسا ہوا انداز تمہیں زرا برا نہیں لگا تھا۔تمہارا یہ کہنا کہ جب اس رات تم نے عابد کو اپنے اندر پیوست کرلیا تھا تو تمہارے تصور میں بار بار مشینسٹ گامے گی ہوس کے شراروں سے بھری آنکھیں آرہی تھیں اور تمہارے جذبات وحشی ہوئے جاتے تھے اور پھر یک دم تمہیں عابد کا نرم سا گوتھنے جیسا بدن حرارت سے عاری لگا۔اور چار دن بعد عابد تمہیں جب لاہور ریلوے اسٹیشن پہ چھوڑنے آیا تو تم کو اس کا گڈبائی کہنا اور لال سلام کہنا برا لگا تھا، تم کہتی ہو کہ تمہارے اندر یہ خواہش ابھری تھی کہ وہ تمہیں نہ جانے کا کہے اور روک لے۔تم اس کے خیال سے بھری کراچی واپس آئیں تھیں اور میں تمہارے چہرے پہ کئی دن جمی اداسی دیکھکر یہ سمجھا کہ مرے فراق میں تم دبلی ہوگئیں تھیں۔لیکن پھر آہستہ آہستہ وہ کیفیت تمہارے بقول زائل ہوگئی اور یہاں تک کہ تمہیں عابد کا چہرہ یاد بھی نہ رہا اور تمہیں ایسے کئی اور تجربے ہوئے جو بھولی بسری یادوں کے ساتھ تمہارے دماغ میں موجود ہیں ،ایک ہلکی سی کسک اٹھتی ہے لیکن تمہاری ابدی اور لزومی چاہتوں اور محبتوں کا مرکز میں ہوں۔ ” تم اتنے بڑے سچ جتنی ہمت سے بولتی آئی ہو اس نے مجھے بھی بہت بے باک اور باہمت بنادیا ہے”۔ساری تم نے کہا کہ

“Those who hide their complete freedom from themselves out of a spirit of seriousness or by means of deterministic excuses, I shall call cowards; those who try to show that their existence was necessary, when it is the very contingency of man’s appearance on earth, I shall call stinkers” (October 1945 public lecture)

مطلب ایک تو تم یہ کہنا چاہتی ہو: وجود /ایگزسٹنس  جو ہر/ ایسنس پہ مقدم ہے۔یعنی کہ ہم ایسی دنیا اور ایسے حالات کار میں پھینکے جاتے ہیں جو ہماری بنائی ہوئی نہیں ہوتی اور پھر ہم اسے اپنے وجود کے مطابق بناتے ہیں جو ہماری ہیومینٹی /انسانیت کی توثیق کرتی ہے۔ تم کہتی ہو کہ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے کہ انسان اپنے جذبات اور خواہشات اور باہر کی دنیا میں پیش آنے والے واقعات کے ہاتھوں ایسی صورت حال کا قیدی بنتا ہے جو خود اس کی پیدا کردہ نہیں ہوتیں اور اس دوران جو واقعات رونما ہوتے ہیں وہ کانٹی جینسی ہوتے ہیں لیکن جب انسان ان سے آگے جاکر ان کو اپنے وجود کے مطابق بناتا ہے تو اس سے “اے سین شی ایل ” چیز جنم لیتی ہے اور محبت بھی اس سے الگ نہیں ہے۔مطلب تم کہنا چاہتی ہو عابد سے تمہارا رشتہ ،عابد بارے تمہارا خیال ، سیمون دی بووار کا نیلسن سے تعلق یا سارتر کا وینٹی کی طرف جھکاؤ یہ سب اس صورت حال کا نتیجہ ہیں جو ان کی اپنی بنائی ہوئی نہیں ہے۔اور اس سے “کانٹی جینس محبت ” کا ظہور ہوتا ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ جو “ری میکنگ ہے ‎سچوئشنز ” کی اس سے ” ابدی محبت ” کا سراغ ملتا ہے۔ساری ،تمہارا یہ کہنا کہ تمہیں عابد اور گامے مشینسٹ کی “گائے نیس ” پسند آئی اور یہ کانٹی جین سی کا نتیجہ تھا اور جب تم اپنی ری میک دنیا میں پہنچی تو واپس ” اے سین شی ایل لو ” پہ لوٹ آئیں۔مجھے لگتا ہے کہ تم تو کیا سارتر اور بووا کو بھی ٹھیک سے یہ اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے ‘سچوئشنز ” بارے ہر ایک چیز کو ٹھیک ٹھیک دریافت کرلیا ہے کہ نہیں۔میں تمہیں مثال دیتا ہوں کہ ہمیں دنیا کئی بڑے نام ملتے ہیں جو اپنی کسی شریک حیات کو اپنی سب سے محبوب ہستی کہتے ہیں اور اس سے اپنی محبت کو انتہا کے سب سے آخری درجے کا بتاتے ہیں لیکن ان کی وفات کے بعد وہ کئی اور شادیاں کرتے ہیں اور اپنی زندگی ميں آنے والی ان عورتوں سے ملاحت و محبت بارے زکر کرتے ہیں کیا ان کے ہاں بھی یہی کانٹی جینسی اور ایے سین شی ایل ایٹی باہم ایک دوسرے کے ساتھ چلتی ہوئی ملتی ہے۔مجھے اگر فساد خلق کا خطرہ نہ ہوتا تو میں کئی کیسز تم سے بیان کرسکتا تھا۔کارل مارکس کی جینی سے محبت کتنی شدید تھی لیکن اپنی نوکرانی سے اس کے تعلقات کا بھی ہمیں پتا چلتا ہے اور یہ کانٹی جینسی کا ہی معاملہ کہلائے گا۔جبکہ ہمیں شک نہیں ہے جینی سے اس کی محبت ابدی ، لزومی اور کبھی زوال پذیری کا شکار نہ ہونے والی تھی۔ہمارے ہاں ہرجائی پن ، بے وفائی کے تذکرے ملتے ہیں۔پروین شاکر اپنے محبوب کو ہرجائی کہتی ہے لیکن پلٹ کر پھر اسی کے پاس آنے کا زکر آتا ہے اور “بس یہی بات اچھی ہے مرے ہرجائی کی ” جیسا مصرعہ بھی پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ یہاں بھی کانٹی جینسی اور لزومیت ساتھ ساتھ چلتی ہے۔اور یہ جو میر صاحب نے کہا تھا:

وہ تجھ کو بھولے ہیں تو تجھ پہ بھی لازم ہے میر

 خاک ڈال، آگ لگا ، نام نہ لے

تو کیا واقعی خاک ڈالی ، آگ لگائی اور نام نہ لینے جیسے کیفیت پائیدار ہوسکتی ہے اور اسے لزوم آسکتا ہے؟مجھے لگتا ہے کہ ایسا اکثر ہو نہیں پاتا ،لزومی محبت کو بھلانا کم از کم اکثریت کے بس کی بات تو ہے نہیں۔ساری، تم کہتی ہو کہ میں بنیادی طور پہ ایک بزدل آدمی ہوں جو اپنی کانٹی جینسی کو اور عارضی سچوئشنز کو چھپاکر رکھنا زیادہ پسند کرتا ہوں۔لیکن تم یہ دیکھو کہ میں نے ” لمحاتی محبت ” جیسے تصور پہ یقین نہ رکھنے کی بات کی ہے نہ کہ میں نے یہ کہا کہ وجود کے ایسنس سے ہٹ کر میں خود اپنی نہ بنائی دنیا اور حالات میں گرجانے سے انکار کرتا ہوں۔تعلقات کے بن جانے اور جسے تم کانٹی جینسی کہتی ہو اس میں گرفتار ہوجانے سے میں نے کب انکار کیا ؟ کیا شہر بانو کا قصّہ یاد نہیں ہے تمہیں؟گورنمنٹ کالج لاہور کی یہ لڑکی مرے پاس کتنی تیزی سے آئی تھی اور میں کتنا اس میں انوالو ہوگیا تھا۔لیکن اس نے مجھے تم سے ہمیشہ شرمندہ ہی رکھا۔ساری مجھے تو یہ سارا پروسس ایک وحدت میں پرویا ہوا لگتا ہے۔اور میں اس کے درمیان کوئی لائن کھینچنے سے قاصر ہوں۔مجھے آزادی تھوڑی سی ہچکچاہٹ، تھوڑی سی بزدلی /توقف کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے۔مجھے شہر بانو والا پڑاؤ بھی تمہاری طرف جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔اور میں یہ نہیں سمجھتا کہ ہم پیشن ، سچوئیشنز ، خواہشات ، آزوؤں اور ان سے جڑے اپنے افعال کو کسی سادی سی ریاضیاتی مساوات کی روشنی میں دو جمع دو برابر چار کی طرح تشریح کرنے کی کوشش کریں۔ساری، کنتھرگراس جرمن ادیب نے ایک بار کہا تھا کہ وہ جھوٹ بہت گھڑتا تھا اور اس کی ماں اس کے جھوٹ گھڑنے کو بہت پسند کرتی تھی اور کہا کرتی تھی کہ ایک دن اسی ” گھڑنے گھڑانے ” سے یہ شاندار تخلیق کرے گا۔یار لوگ سیانے ہوکر کبھی اسے فنتاسی اور کبھی میجیکل رئیلزم کہنے لگتے ہیں، محبت اور ہمارے جذبات مجھے لگتا ہے کہ فنتاسی اور طلسماتی حقیقت کے فریم ورک میں کسی حد تک سمجھے جاسکتے ہیں۔اور اس فنتاسی میں کبھی کبھی سب افسانہ نہیں ہوتا۔یہ وہ بات ہے جو تم مجھ سے بار بار کہتی ہو اور بالکل ٹھیک کہتی ہو۔یہاں تک کہ جھوٹ جو گھڑا جارہا ہوتا ہے اس میں جو سچ نہیں ہوتا وہ بولنے والے کا سچ بے شک نہ ہو لیکن کسی اور کا سچ تو ہوتا ہے۔بات خاصی لمبی ہوگئی۔اجازت۔

فقط تمہارا

ع۔ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s