Genocide In Yemen: Media Complicit In US-Saudi War Crimes-By Mnar Muhawesh

Writer and political analyst Catherine Shakdam shines a light on the routinely under-reported crisis in Yemen, telling Mnar Muhawesh on ‘Behind the Headline’ what’s really motivating the Saudi-led, US-backed war on the most impoverished country on the Arabian Peninsula.

MINNEAPOLIS — Yemen has been devastated by asymmetrical aerial bombardment by a Saudi-led coalition, and the war on Yemen, along with a Saudi-imposed blockade, is having disastrous impacts on food and water security.

The United Nations reported in October that more than half of Yemen’s 28 million people are short of food. At least 1.5 million children are going hungry in the poorest country on the Arabian Peninsula, including 370,000 who are suffering from malnutrition so severe that it’s weakening their immune systems.

And the Saudi-led attacks continue, striking Yemen’s hospitals, which are running out of medicine. All the while, these attacks have continued to receive backing from the United States and the United Kingdom since they began on March 26, 2015.

Even The New York Times admits that the deadly Saudi project in Yemen couldn’t go on without U.S. support.

But the Obama administration has said that while they may start halting some arms sales to Saudi Arabia, they’ll push ahead with training the Gulf kingdom’s air force to improve targeting.

The people of Yemen are without food, water, medicine, and fuel. The death toll in Yemen is so high that the Red Cross has started donating morgues to hospitals. And if that weren’t enough, the military campaign has not only empowered al-Qaida to step into a vulnerable situation, it’s actually made the group richer, according to Reuters.

Still, the Saudi government continues to block any kind of diplomatic resolution in Yemen. Riyadh even threatened to cut funding to the U.N. over its inclusion on a list of children’s rights offenders, effectively weaponizing humanitarian aid.

Yet the crisis unfolding in Yemen goes routinely under-reported in mainstream media. Hard-hitting coverage is kept to a minimum by those controlling the narrative — namely, outlets loyal to the U.S. and its allies which are enabling these atrocities.

Here to discuss the crisis in Yemen and what this war is really about is Catherine Shakdam, a political analyst, author, and director of programs with the Shafaqna Institute for Middle Eastern Studies. She is also an expert on Yemen. “A Tale Of Grand Resistance: Yemen, The Wahhabi And The House Of Saud,” is her latest book, and in it she explores that real story of resistance against Saudi Arabia’s influence on the impoverished state.

Learn more about fake news and about the forgotten genocide in Yemen on the full episode of the Behind the Headline:

عامی کے نام

ڈئیر عامی

پیرس سے تمہارا آخری خط ملا تو میں اس وقت دفتر سے گھر پہنچی ہی تھی اور رات بھر اخبار کی آخری کاپی پریس بھیجنے تک اسقدر کام کرتی رہی تھی کہ تھکن سے برا حال تھا۔دروازہ کھولا تو سامنے تمہارا بھیجا ہوا خط پڑا تھا۔ہر خط ایک مخصوص سیاہ رنگ کے لفافے میں لپٹا ہوا اور اوپر پیلی روشنائی سے یہاں کا پتا لکھا ہوا نیچے سفید رنگ میں تمہار پتا،اب مجھے دور سے دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس کا خط آیا ہے۔ویسے بنک سٹیمنٹ،کچھ دفتری خط و کتابت سے ہٹ کر کچھ اور تو ڈاکئے کے زریعے سے آتا نہیں ہے اور باقی زیادہ تر مراسلت اب برقی مراسلوں کے زریعے سے ہوتی ہے تو بھی مجھے پتا چل جاتا ہے کہ کس کا خط آیا ہوگا۔ویسے تم نے ہر خط لکھا تو ساری کے نام اور ایڈریس میرا لکھا اور یہاں تواتر سے تمہارے خط ملتے رہے۔میں حیران تھی کہ یہ آخر تمہیں ہوکیا گیا ہے؟تم کیوں پرانے زخموں کو کریدنے لگے ہو اور اپنے آپ کو زخم زخم کررہے ہو؟سب سے زیادہ حیرانی مجھے اس بات کی تھی کہ تم خود سے ان خطوں کے جواب من جانب ساری کے تلاش کرتے ہو اور پھر ایک لمبی سی کہانی گھڑ کر سنانے لگتے ہو۔تم جیسے ایک جدلیاتی مادیت پرست سے مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ تم اسقدر مابعدالطبعیاتی انداز میں لکھنے لگوگے اور شاید تمہارا اربن مڈل کلاس پس منظر تمہاری جان چھوڑنے کا نام نہیں لیتا۔اور آج کل تو میں حیران ہوتی ہوں کہ تم جیسا خشک سا آدمی اتنی کہانیاں،اتنے افسانے اور اس قدر رومان پسند خطوط اور عورت بارے اسقدر سنجیدگی سے کس طرح سے لکھنے لگا ہے۔تمہیں شعبی یاد ہے وہ سرگودھا والا لڑکا جو تمہارے پیچھے پاگل تھا اور کبھی کبھی مجھے شک ہوتا تھا کہ تم بھی تھوڑے بہت تھے اور جب تک ساری کے ساتھ تم جڑے نہیں تھے اس سے پہلے تم دونوں کو ہنسوں کا جوڑا کہا جاتا تھا اور لوگوں کو تمہاری جنسی جہت بارے بھی کافی شکوک تھے۔اور یہ ٹھیک وہی زمانہ تھا جب پاکستانی سماج میں کہیں بھی تو کم از کم “گے اینڈ لزبین ” ہونے کو ایک فطری فنومنا نہیں سمجھا جاتا تھا اور ترقی پسند بھی اسے ایک بیماری خیال کرتے تھے۔اور میں نے جب تمہیں “چھلاوہ” پڑھنے کو دی تھی تو تم نے اسے انتہائی بکواس قرار دیا تھا۔کوئی کہتا شعبی تمہارا “لونڈا” ہے اور کوئی کہتا اس ” انقلابی” لیڈر کو “علت مشائخ ” ہے۔اسلامی جمعیت طلباء کراچی کا وہ پمفلٹ یاد ہے جس میں تمہارے اور شعبی کے معاملے کو لیکر کیا کیا باتیں لکھی گئیں تھیں اور یہ سب یونین الیکشن سے صرف پانچ دن پہلے ہوا تھا۔اور اس پمفلٹ پہ یونیورسٹی کے لڑکوں اور لڑکیوں کی اکثریت نے کچھ دھیان نہیں دیا تھا اکڑچہ چٹخارے لیکر سب نے پڑھا تھا لیکن ووٹ تمہاری طرف ہی گئے تھے کیونکہ ان کو تمہاری سیاسی کمٹمنٹ اور نظریات پہ وابستگی پہ زرا بھی شک نہیں تھا۔اس زمانے میں تم اتنے حساس اور اتنے ٹچی کبھی نظر نہیں آئے تھے۔میں نے کبھی تمہیں پلٹ کر جواب دیتے نہیں دیکھا۔تم نے اس پمفلٹ کا نوٹس تک نہ لیا اور تمہاری جانب سے جو بھی جتنے پمفلٹ اس دوران آتے وہ سب کے سب سیاسی ہوتے تھے۔ویسے ان خطوط میں جتنے ادیبوں اور شاعروں کا جو تم نے تذکرہ کیا میں تمہارے ذہنی ارتقاء پہ کافی حیران ہوئی ہوں۔اس زمانے میں زیادہ کیا تو میکسم گورکی کا “ماں” تم کبھی کبھی اپنے ملنے والوں میں تقسیم کرتے نظر آتے تھے اور زیادہ تر کمیونسٹ مینی فیسٹو اور سبط حسن کی کتابیں یا پھر زیادہ کیا تو روسی کمیونزم کی کتابیں تم بانٹتے تھے۔شعر تمہیں کبھی یاد نہ ہوئے۔اور اکثر ان کے ساتھ جراحت کے مرتکب ہوتے تھے۔ہاں سینما خوب دیکھتے تھے تم۔باقی ساری کے ساتھ رہتے ہوئے تم کیا پڑھتے تھے اور اس کے ہاں سے کیا لاتے تھے اور اس کے ساتھ یونیورسٹی کے کونے کھدروں میں تم کیا باتیں کرتے تھے یہ سب مجھے ان خطوط سے پتا چلا ہے۔میں نے کبھی تمہارے منہ سے ان دنوں بھولے سے بھی اس کتاب کا نام نہیں سنا تھا جس کا تذکرہ تم آج کل بار بار کرتے ہو۔نہج البلاغہ۔ہاں ڈاکٹر علی شریعتی کے بارے میں کل تو تمہارا خیال تھا کہ وہ ایک یوٹوپئین اسلام پرست سوشلسٹ تھا اور تم ہمیشہ اس پہ الزام عائد کرتے تھے کہ اس نے ایرانی انقلاب میں ملاّؤں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس نے تودے پارٹی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے فکری اعتبار سے سائنسی سوشلزم کی اپنی لبریشن تھیالوجی کے زریعے سے بنیادیں ہی کھوکھلی کیں۔تمہیں اس کے ماضی سے رومانٹسزم سے سخت چڑ تھی اور اپنی تحریروں میں آج تم اسی ماضی سے رومان کرتے نظر آتے ہو۔اور تم دیکھ سکتے ہو تمہارے اس خیالی رومان پرستی کے خریدار بھی زیادہ تر اربن مڈل کلاس اور ایک مخصوص مذہبی فکر کے حاملین مرد و عورتیں ہی ہیں۔ساری تمہاری دوست تھی اور وہ فلسفے کی ایک شائننگ اسٹوڈنٹ تھی۔مانا کہ اس سے ملنے کے بعد تمہاری وہ نو تیرہ کی مونچھیں غائب ہوئیں اور وہ ہلکی ہلکی داڑھی بھی اور شلوار قمیص کی بجائے تم جینز پہننے لگے اور تمہارے وہ موٹے موٹے شیشوں والی عینک بھی زرا سے فریم میں بدل گئی تھی اور تم تھوڑے سے قبول صورت ہوگئے تھے اور ساری تمہاری انتخابی کمپئن میں بھی بہت معاون تھی لیکن اس نے کبھی بھی مارکسزم اور جدلیاتی مادیت پرستی سے شغف نہیں دکھایا۔اور مجھے وہاں یونیورسٹی میں ہی شک تھا کہ وہ بھی کوئی اسلام پسند سوشلسٹ ٹائپ یوٹوپئین ہی ہوگی لیکن ٹھیک سے کہہ نہیں سکتی تھی اس لئے شک کو صرف ذہن میں رہنے دیا تھا لیکن تمہارے خطوط سے پتا چل گیا کہ میرا شک ٹھیک تھا۔اس نے تمہیں بھی کافی خراب کیا کہ تم کلارا زیٹکن سے زیادہ سیمون ڈی بوووار اور سارتر کی جانب جھکے نظر آئے اور تو اور کافکا کی جادوئی حقیقت نگاری تمہیں حقیقت کے قریب تر لگنے لگی جبکہ انھوں نے جدلیاتی مادیت پرستی کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔میرے لئے تمہارے ہاں جنسیت/سیکچوئلٹی کا وافر تذکرہ دیکھنا کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔تمہارے ہاں یہ آسیب /آبسیسشن کی طرح نظر آیا۔یہ فرسٹریشن تھیوری سے نابلد کامریڈز اور ایک گٹھن زدہ ماحول سے آنے والوں کے ہاں تو سمجھ میں آتی ہے لیکن تمہارے ہاں اس عمر میں اس کا غلبہ دیکھ کر مجھے شاک لگا ہے۔کانٹی جینس لو کی بات کرکے تم جس فراریت پسندی کا شکار ہو اس پہ تمہیں ندامت محسوس نہیں ہوتی؟ساری کینسر سے مرگئی اور اس کے مرنے کے بعد تم ماسکو چلے گئے تھے اور وہاں سے تمہارے خطوط جتنے مجھے ملے یا دوسرے دوستوں کو ان کو پڑھ کر ہمیں کہیں نہیں لگا تھا کہ تم ابدی محبت اور عارضی محبتوں کی کسی مساوات پہ یقین رکھتے ہو کیونکہ تمہارے خط اس زمانے کی پولیٹکل اکنامی سے جڑے مسائل پہ اظہار خیال سے بھرے ہوتے تھے اور تم بار بار پاکستان میں انقلابی سوشلسٹ کیڈر پارٹی کی تعمیر کی بات کرتے تھے۔ان دنوں تو تم نے نہ کسی نتاشا کا زکر کیا اور نہ ہی ووڈکا کا اور اپنے اندر کسی راسپوٹین جگانے کی خواہش کا۔مجھے سچی بات ہے کہ تمہارے خطوط پڑھ کر اپنے اندر کسی رومان بھرے جذبے کے بیدار ہونے کے آثار نظر نہ آئے۔تمہارا آخری خط ملنے سے قبل ہماری فون پہ جو بات ہوئی تھی میں نے اس میں بھی تم سے کہا تھا کہ میں تین مرتبہ کے بریک اپ اور تین بار مطلقہ ہوجانے کے بعد یہ سمجھتی ہوں کہ ایک کاسموپولٹین اربن چیٹرنگ کلاس کے مرد اور عورت کا سب سے برا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ہم بستر پہ بغیر کسی بندھن کے اکٹھے ہوتے ہیں ہمیں تعلقات میں کوئی نیا پن محسوس ہوتا ہے لیکن جیسے ہی یہ تعلق شادی جیسی چیز سے جڑتا ہے ہم سپوائل ہونے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ ہمارا تعلق ایک غیر مرئی قید بن جاتا ہے۔کانٹی جینسی مجھے سب سے بڑی حقیقت لگتی ہے۔”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں “۔ہوسکتا ہے میرا یہ تجربہ بہت زیادہ پرسنل ہو اور اس سے کسی قسم کا عمومی مقدمہ اور اس پہ نتائج مرتب کرنا ٹھیک نہ ہو لیکن مجھے تم خاصے قابل رحم لگے۔تمہیں مرگی ایک مرض سے زیادہ رومان لگتی ہے اس لئے کہ دستوفسکی نے اسے رومانٹسائز کردیا تھا اور بیمار ہونا تمہیں پرکشش لگتا  ہے اور ایک جگہ پڑے رہ کر طلسمات کا جال بننا تمہیں لبھاتا ہے اس لئے کہ اسے کافکا حسین بناکر دکھاتا ہے مجھے ہضم نہیں ہوتا۔تمہارے اندر کا زمان اور مکان اس قدر یوٹوپئین ہے کہ مجھے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہونے لگتی ہے کہ کیا یہی وہی عامی ہے جو ہماری طلباء سیاست کا سب سے باعمل لڑکا ہوا کرتا تھا۔کافی دور نکل گئے ہو تم اور کیا کل وقتی فکشن نگاری کا پیشہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکے ہو تم۔ویسے ماضی کا ہر انقلابی اور کرانتی کاری نظم یا کہانی میں پناہ کیوں ڈھونڈتا ہے؟ پاش سے تم پوچھنا تو سہی کیوں کہ مرے  ہوئے لوگوں کی آتماؤں سے تم مخاطب ہونے اور ان سے جواب حاصل کرلینے میں کافی مہارت حاصل ہوگئی ہے۔پیرس میں رہے تم اور یہاں رہ کر نہ تمہیں باکونن یاد آیا اور نہ ہی پیرس کمیون اور یہاں پہ مارکس کا آنا بھی تمہیں ٹھیک سے یاد نہیں آیا۔ان خطوط میں سماج واد عامی کہاں گم ہوگیا؟ مجھے سمجھ نہیں آئی۔اور اب برسلز پہنچے ہو یہاں رہ کر تمہیں کیا یاد آئے گا ٹھیک سے میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔میں ناستک ہوں اور فنائے محض پہ یقین رکھنے والی اور اس لئے مجھے کسی عالم برزخ سے جوابوں کی تلاش نہیں ہے۔ویسے زرا اپنے پرانے جدلیاتی مادیتی پرست عامی کو آواز دیکر دیکھنا کہ تم نےجن کو مخاطب کیا اور جس سے بولے وہ سب کے سب ان نظریات اور افکار کے سوا اپنے الگ وجود اور ہئیت کے ساتھ کیا کہیں موجود بھی تھے؟اس لئے تو یہ سارے خط تم مجھے ارسال کرتے رہے۔کوئی ایسا میکنزم اس خیال پرستی اور آئیڈیلزم کے پاس ہے کیا جو ان خطوط کو براہ راست فنا ہونے والوں تک پہنچا دے؟ یقینی بات ہے کہ نہیں ہے۔پیرس سے لکھے گئے اس آخری خط  میں سوائے سادیت پسندی کے اور ہے کیا؟ ایک ایسی ٹریجڈی جسے تمہاری سادیت پسندی نے اور خوفناک بنادیا ہے اور تمہاری مریض طبعیت کو اور کئی لوگوں میں منتقل کردیا ہے۔سیکنہ علی زیدی نے پراگ سے مجھے لکھا ہے کہ یہ وہ عامی نہیں ہے جو اسے دریائے پراگ پہ بنے پرانے لکڑی کے پل پہ ملا تھا اور زندگی سے بھرپور تھا۔یہ تو کوئی دیمک زدہ شخص لگتا ہے جو اصل عامی کو کھا گیا ہے۔مجھے تم سے منافقت نہیں کرنی یہ کہہ کر کہ اتنی تلخ باتوں پہ شرمندہ ہوں یا معافی کی طلبگار ہوں۔مجھے تم سے اسی سفاک حقیقت پسندی کے ساتھ بات کرنی ہے۔مزید کئی باتیں پھر کروں گی اگر تمہارا فیوز نہ اڑا تو۔

والسلام

تمہاری دوست ریحانہ سرور

میں کیسا مسلمان ہوں بھائی

 

حسین حیدری ممبئی کے رہنے والے ہیں اور بدقسمتی سے ان کا جو خاندانی پس منظر ہے وہ شیعہ ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جو کسی شخص کی کہی ہوئی بات کو دارالعلوم دیوبند اور سعودی وہابی اینٹی کلچر کے غالب اثر کے سبب ویسے ہی مشکوک بنادینے کے لئے کافی ہوتی ہے۔لیکن ہندوستان کیوں کہ ایک بہت بڑا ملک ہے اور وہاں ابھی کسی کی بھی کہی ہوئی بات کو بہت سارے لوگ اس کے خاندان کے مذہبی پس منظر کو جانے بغیر اس کی قدر وقیمت کو مانتے ہیں تو ایسے میں اس نے ایک نظم کی باز گشت بہت سنی جارہی ہے۔ممبئی میں “کمیون” کے نام سے ایک پرفارمنگ آرٹ فورم ہے اور اس فورم پہ ایک پروگرام اپنی کہانی سناؤ کے نام سے ہے اور یہ کم از کم ممبئی کی اربن مڈل کلاس میں بہت مقبول پروگرام ہے اور اسی پروگرام میں حسین حیدری جب اپنی کہانی سنانے آئے تو انھوں نے ایک نظم سنائی:

ميں کیسا مسلمان ہوں بھائی

میں سجدہ کرنے والا ہوں یا جھٹکا کھانے والا ہوں

میں ٹوپی پہن کے رہتا ہوں یا داڑھی اڑاکے رہتا  ہوں

مجھ میں گیتا کا ساربھی ہے،ایک اردو کا اخبار بھی ہے

اپنے ہی طور سے جیتا ہوں،دارو،سگریٹ بھی پیتا ہوں

دنگوں میں بھڑکتا شعلہ میں کرتے پہ خون کا دھبا میں

مندر کی چوکھٹ میری ہے،مسجد کے قبلے مرے ہیں

گوردوارے کا دربار میرا یسوع کے گرجے میرے ہیں

سو میں سے میں چودہ ہوں لیکن یہ چودہ کم نہیں پڑتے ہیں

پورے سو مجھ میں بستے ہیں اور میں پورے سو میں بستا ہوں

مجھے ایک نظر سے دیکھ نہ تو میرے ایک نہیں سو چہرے ہیں

سو رنگ کے ہیں کردار میرے،سو قلم سے لکھی کہانی ہوں

میں جتنا مسلمان ہوں بھائی اتنا ہندوستانی ہوں

حسین حیدری کی یہ نظم فروری کے دوسرے ہفتے کمیون ممبئی فورم کے آفیشل فیس بک پیج پہ پوسٹ ہوئی اور ایک دن میں 2000 لوگوں نے اسے آگے شئیر کردیا۔ہندوستانی اخبارات میں یہ نظم شایع ہوئی اور پھر اس پہ بھانت بھانت کے تبصرے ہونے لگے۔ہندوستان کا مقبول انگریزی بلاک سکرول کے میگزین میں جیوتی پونمی نے ایک آرٹیکل لکھا جس میں حسین حیدری کے حوالے سے کہا گیا کہ اس کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ اس نے جو نظم جو طرف اس نے خود اپنے لئے کہی ہے اس پہ اسقدر شور کیوں مچا ہوا ہے؟ اور حسین حیدری یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نظم انھوں نے اپنے اوپر لکھی ہے اور یہ کوئی احتجاج میں لکھی گئی نظم نہیں ہے۔حسین حیدری ایک چارٹر اکاؤٹنٹ تھے اور انھوں نے دسمبر 2015ء میں نوکری چھوڑی اور کل وقتی گیت نگار اور سکرین رائٹر بن گئے۔حسین حیدری کچھ بھی کہیں لیکن اصل میں ان کی یہ نظم مسلمانوں کے بارے سٹیریو ٹائپ خیالات کے اظہار کے خلاف ایک احتجاج کی علامت بن گئی ہے۔ہندوستانی مسلمانوں کے ہاں بھارتیا جنتا پارٹی اور ہندؤ فاشزم کی جانب سے مسلمان کمیونٹی کو دہشت گرد، انتہا پسند، رجعت پرست اور پیورٹن بناکر پیش کرنے کے رجحان کے خلاف ردعمل پایا جاتا ہے۔وہ اس بات پہ بھی سیخ پا ہیں کہ ہندوستان میں وہابی ازم اور دیوبندی ازم کی جانب سے جو اسلامی خلافت اور اسلامی ریاست کا یوٹوپیا پیش کیا جاتا ہے اس کا پجاری ہر ایک مسلمان کو بناکر دکھایا جارہا ہے۔سبھی مسلمان ڈاکٹر زاکر نائیک اور دار العلوم دیوبند کے زیر اثر سامنے آنے والے چہروں یا انڈین مجاہدین یا کشمیری مجاہدین بناکر پیش کئے جانے کا رجحان ہے  اس کے خلاف ایک ردعمل ہندوستانی معاشرے کے اندر موجود ہے۔مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس طرح کی سٹیریو ٹائپ نظریہ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں  کے تکثیری چہروں کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں اور ان کو یہ نظم اپنے خیالات کی عکاس لگی ہے۔مجھے یہ نظم اس لئے بھی دلچسپ لگی کہ میں حال ہی میں پرویز ہودبھائی کی تحریر “کیا پاکستان بطور ایک تکثیریت پسند سماج کے باقی رہ سکتا ہے” پڑھ رہا تھا جس میں انھوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ” مابین المذاہب تکثیریت پسندی ” اور ” مابین الفرق الاسلام تکثریت پسندی” موجود مسلم تھیالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے عملی طور پہ ہر قسم کے معاشروں میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کیا ہے لیکن

Texually and formally

نہیں اور وہاں پہ زیادہ تر ابن تیمیہ، ابن عبدالوہاب، سید احمد بریلوی،شاہ اسماعیل،رشید احمد گنگوہی،سید مودودی،سید قطب،حسن البنّا اور سید روح اللہ خمینی جیسوں کی حکمرانی اور ان جیسوں کو ہی زیادہ قبول عام ملا ہے۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں ابھی حاجی علی کے مزار پہ خواتین کے داخلے کو منع کرنے کا معاملہ ہو یا خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی کے مزار پہ عورتوں کی حاضری کی ممانعت کا مسئلہ ہو اس پہ ہندوستان کی مذہبی پیشوایت نے متنی اور رسمی طور پہ کنزرویٹو پوزیشن کو ہی اپنایا ہے۔اور خود بریلوی ملائیت نے بھی اسی راستے کو اختیار کیا ہے اور ایک مجلس میں اور منہ سے تین بار طلاق کا لفظ نکالنے کا معاملہ ہو اس پہ بھی کوئی لچک دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔اور پاکستان کے اندر شیخ عثمان مروندی لال شہباز قلندر کے مزار پہ ہوئے خودکش بم دھماکے بعد بحث کا رخ “دھمال ” کے جائز ہونے نا ہونے کی طرف مڑگیا اور اس معاملے پہ بریلوی مذہبی قیادت نے بھی کم وبیش دیوبندی ملائیت اور سلفی ملائیت کے ساتھ کا موقف اختیار کرلیا اور اس حوالے سےپاکستانی مسلم اربن مڈل کلاس کی کئی ایک پرتوں نے بھی ملائیت کے ساتھ کا ہی موقف اپنایا۔اور یہ ایک طرح سے مذہبی فاشزم کی مکمل جیت کا سا منظر نامہ ہے۔مسلمانوں کو سٹیریو ٹائپ کرداروں میں دیکھنے اور دکھانے کا رجحان آئیڈیالوجیکل منظر نامے پہ اکثر متون میں تکثریت مخالف رائے کے غالب آجانے کے سبب بھی ہے اور بدقسمتی سے اس سبب کی طرف نگاہ کم ہی جاتی ہے۔پرویز ھودبھائی نے ٹھیک کہا ہے کہ پاکستانی سماج کے اندر تکثریت پسندی کے حامی جدید مسلم مفکرین کی فکر کو آج کی مین سٹریم مسلم فکر میں کوئی خاص جگہ نہیں مل سکی اور سید امیر علی،سرسید احمد خان،فضل الرحمان جیسے جدید مسلم مفکرین کی فکر آج کتابوں میں بند ہوکر شیلفوں میں کہیں دب کر رہ گئی ہے۔اکبّر بادشاہ کی صلح کلیت بھی ہمارے مرکزی دھارے کا حصّہ نہیں بن پائی اور آج ہمارے ملامتی صوفیاء جیسے بابا بلھّے شاہ تھے ان کے مزاروں پہ عورت کا داخلہ منع ہے جیسے آویزاں بورڈ ہمارا منہ چڑاتے ہیں۔اور غالب ڈسکورس اگر ہے تو وہ تبلیغی جماعت کے طارق جمیل، سپاہ صحابہ پاکستان کے لدھیانوی،جاوید احمد غامدی،جماعت اسلامی کے مودودی کا ہے یا پھر حافظ سعید کا ہے۔اور یہ مسلمانوں کے اپنے اندر کی تکثیریت اور تنوع کا بھی سب سے بڑا دشمن ثابت ہورہا ہے۔

 

دہشت گردی بارے دیوبندی موقف

 

7

اپریل 2010ء کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں ملک بھر سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ سرکردہ علمائے کرام سر جوڑ کر بیٹھے۔ ایک بھرپور اور نمائندہ اجتماع منعقد ہوا جس کے شرکا کا تعلق دیوبندی مسلک سے وابستہ دینی و سیاسی جماعتوں، دینی مدارس اور علمی مراکز سے تھا۔ یہ ایک تاریخی اجتماع تھا جو صرف اس لیے منعقد ہوا تھا کہ ملک میں موجود دہشت گردی کے حوالے سے علمائے کرام اپنا متفقہ نقطہ نظر قوم کے سامنے پیش کریں۔ اس اجتماع میں حلقہ دیوبند کی سیاسی جماعت کی مکمل قیادت، وفاق المدارس کی مکمل قیادت اور تمام بڑی جامعات کے مہتم حضرات بھی موجود تھے۔ https://daleel.pk/2017/02/23/32215

 

 

 

دہشت گردی کے حوالے سے اس قرار داد کا پہلا نکتہ یہ تھا: (1) اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ اسلام ہی نے یہ ملک بنایا تھا اور اسلام ہی اسے بچا سکتا ہے، لہٰذا حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک میں اسلامی تعلیمات اور قوانین کو نافذ کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور ملک کے آئین کا اہم ترین تقاضا بھی اور اسی کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے ملک میں انتہاپسندی کی تحریکیں اٹھی ہیں، اگر ملک نے اس مقصد وجود کی طرف واضح پیش قدمی کی ہوتی تو ملک اس وقت انتہاپسندی کی گرفت میں نہ ہوتا، لہٰذا وقت کا اہم تقاضا ہے کہ پرامن ذرائع سے پوری نیک نیتی کے ساتھ ملک میں نفاذ شریعت کے اقدامات کیے جائیں، اس کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور فیڈرل شریعت کورٹ کو فعال بنا کر ان کی سفارشات اور فیصلوں کے مطابق اپنے قانونی اور سرکاری نظام میں تبدیلیاں بلا تاخیر لائی جائیں اور ملک سے کرپشن، بے راہ روی اور فحاشی و عریانی ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ (حوالہ قرارداد)

 

نوٹ: دلیل ڈاٹ پی کے پہ محمد حسن الیاس کا ایک مضمون ” پاکستان میں دہشت گردی،علمائے دیوبند کا متفقہ موقف”شایع ہوا ہے۔مرے آرٹیکل کی فوری بنیاد یہی مضمون بنا ہے۔لیکن یہ دیوبندی قیادت اور ان کی حامیوں کے پاکستان میں دہشت گردی بارے موقف پہ میرا عمومی رد عمل بھی ہے۔

 https://daleel.pk/2017/02/23/32215

سوشل میڈیا پہ پہلے لبرل کے اندر ایک بڑا حلقہ ایسا تھا جو ملک میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی منظم دہشت گردی کی شناخت کو بیان کرنے کے لئے “تکفیری دیوبندی دہشت گردی” اور ” دیوبندی عسکریت پسندی” کی اصطلاح پہ معترض ہوتا تھا اور ان میں سے ایک بڑے حصّے کو وقت نے بے نقاب بھی کردیا کہ یہ کمرشل ازم تھا لبرل ازم کے پردے میں۔اور ہم نے ان کو کبھی مولوی لدھیانوی کی بغل میں بیٹھا دیکھا تو کبھی طاہر اشرفی کی اعتدال پسند مذہبی سکالر کے طور پہ پروجیکٹ کرتے دیکھا۔وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ بھی پتا چل گیا کہ نجم سیٹھی جیسے لبرل دہشت گردوں کی مذہبی شناخت پہ اتنے سیخ پا کیوں ہیں۔کیونکہ اس شناخت کی وجہ سے نواز شریف اینڈ کمپنی بے نقاب ہورہی تھی اور ساتھ سعودی عرب کے شیوخ بھی جن سے مراعات اور مفادات بٹورنے کا سلسلہ اس کمرشل لبرل مافیا نے جاری رکھا ہوا تھا۔

دیوبندی عسکریت پسندی اور دیوبندی تکفیر ازم کی اصطلاح استعمال کرنے پہ غیر جانبداری کا نقاب چڑھائے کچھ مین سٹریم میڈیا کے خودساختہ “حریت پسند صحافی ” جو فیض و جالب سے بھی اپنی وابستگی ظاہر  کرنے کے ڈرامے کرتے تھے کافی جزبز ہوتے تھے لیکن وقت نے ان کو بھی ننگا کیا جب وہ لدھیانوی،اورنگ زیب فاروقی،مولوی عبدالعزیز،ام حسان اور فرحت ہاشمی وغیرہ کو اپنے ٹاک شوز میں لیکر آئے اور لوگوں کو دہشت گردی بارے انھوں نے گمراہ کرنے کی کوشش کی جبکہ ان صحافیوں نے شیرانی،حمد اللہ،حافظ حسین احمد سمیت کئی اور دہشت گردی کے عذر خواہوں کو خوب پروجیکٹ کیا۔ایسے صحافیوں میں حامد میر سرفہرست ہے۔یہ صحافی اپنے آپ کو اسٹبلشمنٹ مخالف چہرے کے ساتھ بھی پیش کرتے ہیں لیکن ان میں سے کسی نے آج تک شیری رحمان سے ان کی این جی او جناح انسٹی ٹیوٹ کی نام نہاد تجزیاتی رپورٹیں جو طالبان کے لئے جواز پیدا کرتی ہوں بارے سوال نہیں کیا اور ان سے ان کے روابط بہت دوستانہ ہیں جبکہ ان کا دوستانہ لدھیانوی سے بھی ہے۔

deobandi

مذکورہ بالا دو گروہ تو وہ ہیں جو عمومی طور پہ رائٹ اور لبرل لیفٹ سائیڈ سے غیر فرقہ واریت کے نام پہ دیوبندی ازم کے اندر پائی جانے والی عسکریت پسندی،دہشت گردی، تکفیر ازم، جہاد ازم اور اس کے عالمی دہشت گرد سلفی نیٹ ورک سے ہمدردیوں پہ پردہ ڈالنے کا کام کرتا ہے۔

لیکن وہ لوگ جو اپنا دیوبندی ہونا چھپاتے نہیں ہیں اور دیوبندی ازم کے بینر تلے مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ سرگرم ہیں ان کا اس معاملے پہ کیا موقف ہے؟ اس حوالے سے پہلے سوشل میڈیا پہ یہ گروہ اپنی موجودگی کو عمومی طور پہ اسلام پسند لیبل لگاکر چھپاتا تھا یا یہ ظاہر کرتا تھا کہ دیوبندی ملائیت ان کا ماضی تھی اب یہ بہت کشادہ ذہن کے مالک ہیں۔اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کچھ لبرل شخصیات نے اپنی ویب سائٹ کا اجراء کیا اور وہاں پہ انھوں نے “بات چیت ” کے زریعے سے معاشرے میں برداشت پیدا کرنے کو نصب العین بتلاتے ہوئے ایسے لوگ ہمارے سامنے دانشور بناکر پیش کئے جو دیوبندی ملائیت کا حصّہ تھے یا دیوبندی ازم کے علمبردار تھے اور وہ اپنے آپ کو بدلے ہوئے لوگ بتلارہے تھے۔ان کا ماضی تو سب کے سامنے تھا کہ یہ لوگ یا تو دیوبندی مدارس سے فارغ التحصیل تھے اور وہیں سے ماسٹرز کرنے کراچی، اسلام آباد،لاہور،پشاور یا کوئٹہ میں جدید یونیورسٹی میں پہنچ گئے اور وہاں پہ یا تو یہ جماعت اسلامی کے جہادی نیٹ ورک سے وابستہ ہو‏ئے یا دیوبندی جہادی نیٹ ورک سے ان کا تعلق رہا۔اور اسی طرح کئی سپاہ صحابہ پاکستان کے تیار کردہ تھے۔ان میں سے کچھ لوگ عملی زندگی میں مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا یا پرنٹ میڈیا کا حصّہ بھی بنے اور آج کل سوشل میڈیا پہ یہ لوگ دو طرح کی لائن کے ساتھ مصروف ہیں۔

ایک وہ ہیں جو کشمیر، افغانستان و دیگر جگہوں پہ سرگرم دیوبندی عسکریت پسندی کو عین جہاد کہتے ہیں اور پاکستان میں سرگرم دیوبندی عسکریت پسندی کو وہ غلط کہتے ہیں۔جبکہ ایک حلقہ وہ ہے جو تحریک طالبان پاکستان سمیت پاکستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کی جدوجہد کو بھی ٹھیک کہتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ پاکستان میں دیوبندی علماء کی اکثریت پاکستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کو دہشت گرد قرار دینے والی پاکستانی ریاست کے ساتھ کھڑے ہوکر اور ان کی حکومتوں کا حصّہ بنکر غلط کررہی ہے اور وہ اسے موقعہ پرستی اور اقتدار پرستی کہتے ہیں۔یہ دونوں کیمپ سوشل میڈیا پہ بھی اب کھل کر سرگرم ہوگئے ہیں۔اور چند ایک ویب سائیٹ،سوشل نیٹ ورک پیجز پہ ان کا وجود بہت نمایاں ہے۔یہ جہاد ازم، پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی 80ء کی دہائی کی تزویراتی گہرائی کی پالیسی کے من وعن نفاذ اور واپسی کے زبردست حامی ہیں۔اور ان کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی اور تباہی کی وجہ 89ء کی دہائی میں جہاد ازم سے ریاستی اداروں کی دست برداری کے سبب ہوئی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کی جملہ دیوبندی قیادت چاہے اس کا تعلق وفاق المدارس سے ہو یا دیوبند کی سیاسی نمائندہ جماعتوں جے یو آئی (سب دھڑے) اور اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ پاکستان ) سے ہو یہ سب کے سب اس بات پہ متفق ہیں کہ جس دن پاکستانی ریاست نے القاعدہ سمیت کئی ایک عسکریت پسند گروپوں کو دہشت گرد قرار دیا اور کئی ایک گروپوں کے خلاف امریکی کاروائیوں کی حمایت شروع کی وہ ایک یو ٹرن تھا اور آج پاکستان میں جو خون ریزی ہے اس کا سبب وہی یو ٹرن ہے۔

(3) اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کو قرار دیا جا رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی نے ملک کو اجاڑنے میں کوئی کسر چھوڑ نہیں رکھی، جگہ جگہ خود کش حملوں اور تخریبی کارروائیوں نے ملک کو بدامنی کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے، ان تخریبی کارروائیوں کی تمام محب وطن حلقوں کی طرف سے بار بار مذمت کی گئی ہے، اور انہیں سراسر نا جائز قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ کارروائیاں مستقل جاری ہیں، لہٰذا اس صورت حال کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر ملک بھر کی متفقہ مذمت اور فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود یہ کارروائیاں کیوں جاری ہیں؟ اور اس کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ ہماری نظر میں اس صورتحال کا بہت بڑا سبب وہ افغان پالیسی ہے جو جنرل پرویز مشرف نے غلامانہ ذہنیت کے تحت کسی تحفظ کے بغیر شروع کر دی تھی، اور آج تک اسی پر عمل ہوتا چلا آرہا ہے، لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت امریکہ نوازی کی اس پالیسی کو ترک کر کے افغانستان کی جنگ سے اپنے آپ کو بالکل الگ کرے اور امریکی افواج کو مدد پہنچانے کے تمام اقدامات سے دستبردار ہو۔ (حوالہ قرارداد)

دیوبندی علماء ہوں، سلفی علماء ہوں، جماعت اسلامی کی قیادت ہو یہ سب کے سب پاکستان کے اندر اور پاکستان کے باہر سرگرم جہادیوں اور عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف آج تک ایسا کوئی اعلامیہ سامنے لیکر نہیں آئے جس میں انھوں نے یہ کہا ہو کہ لشکر جھنگوی، جیش محمد، حرکت المجاہدین، حرکۃ الانصار،جماعت الاحرار،القاعدہ برصغیر الہند،اور اب داعش خراسان دیوبندی۔سلفی نہیں ہیں۔نہ ہی انھوں نے ان تنظیموں کو خارجی،تکفیری تنظیمیں کہا اور ان کی دہشت گردی کی جو نظریاتی بنیادیں ہیں ان کو بھی غیر دیوبندی اور غیر اسلامی قرار نہیں دیا۔ایسے بہت سے لوگ ہمیں سوشل میڈیا پہ غیر جانبدار تجزیہ کار بنے نظر آتے ہیں۔جب جب پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم ہوتا ہے اور لوگ مرتے ہیں اور زخم تازہ ہوتے ہیں اور ایسی کاروائیاں کرنے والوں کی مذہبی شناخت سامنے آتی ہے  اور پتا یہ چلتا ہے کہ یہ دیوبندی عسکریت پسندوں کی کاروائی ہے اور اس پہ لوگ دیوبندی ازم کی عصر حاضر کی آئیڈیالوجی پہ سوال اٹھانے لگتے ہیں اور اس کی مذمت کی جانے لگتی ہے تو ایک دم سے یہ لوگ دیوبندی ازم کے دفاع کار بنکر سامنے آجاتے ہیں۔اور دیوبندی ازم کی ریڈیکلائزیشن کے سوال سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے یہ لوگ کہیں تو بریلویوں کو بڑا یا برابر کا خطرہ بتلاتے ہیں یا پھر شیعہ کو اور اسی ضمن میں ایران اور ایرانی لابی کا ڈھول بھی پیٹا جانے لگتا ہے۔ریڈیکل مدارس کے کردار پہ بات ہوتی ہے تو یہ جامعہ بنوریہ کی عظمت کے قصّے سنانے لگتے ہیں اور عملی طور پہ دہشت گردی اور انتہا پسندی میں ملوث مدارس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی پہ رائے عامہ کے ہموار ہونے کی راہ کو کھوٹا کرنے لگ جاتے ہیں۔

میں جب لفظ دیوبندی قیادت بولتا ہوں تو اس سے میری مراد وفاق المدارس،دیوبندی سیاسی ومذہبی جماعتوں کی قیادت ہوتی ہے اور اس دیوبندی قیادت میں کوئی ایک آواز بھی ایسی نہیں ہے جو دیوبندی مدرسہ تحریک کو سلفی ازم،وہابیت،سعودی نوکری کے خلاف بلند ہوئی ہو۔ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے شیعہ کے خلاف تکفیر کی سیاسی میدان میں لڑائی لڑنے والی سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت کا داخلہ کسی مدرسے،کسی مسجد یا اپنے کسی دفتر میں بند کیا ہو۔اور ان میں سے کسی ایک دیوبندی رہنماء نے ببانگ دہل کبھی یہ کہا ہو کہ دیوبندی مدرسہ تحریک کو سعودی وہابی حکومت کی پراکسی نہیں بننے دیں گے۔اس دیوبندی قیادت کے حامی صحافتی دنیا کے لوگ ہوں یا سوشل میڈیا پہ سرگرم گروہ ہوں وہ بھی دیوبندی قیادت سے مختلف نہیں ہیں۔اور یہ سب کے سب پاکستان میں جنوبی ایشیائی صوفی کلچر کا اینٹی کلچر ہیں۔اور اپنے افکار اور عمل سے دیوبندی عسکریت پسندی کو اپنا نظریاتی ساتھی خیال کرتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے یہ پاکستانی عوام کی اکثریت کو اس معاملے سے لاعلم رکھنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ابتک ہونے والی 90 فیصدی دہشت گردی دیوبندی عسکریت پسند گروپوں کی جانب سے ہوئی ہے اور اس عسکریت پسندی کی جڑیں دیوبندی تنظیموں اور مدارس کے اندر پیوست ہیں۔

 

تیسواں خط

wadi-e-hussain_cemetery_karachi_pakistan

 

 

پیاری ساری

میں مرجانے کی حد تک تمہارے خط کا انتظار کرتا ہوں،کسی پل مجھے چین نہیں آتا اور میں گاؤدی ہوجاتا ہوں اور گاؤدی بھی وہ جسے محبت کے دورے مرگی کی طرح پڑتے ہوں لیکن میں اپنے اندر کے دستوفسکی کو کبھی جگا نہیں پاتا ہوں جو اس گاؤدی پن کے اندر محبت کا وہ پتر لکھواسکے جسے لازوال کہا جاسکتا ہو۔اور افسوس میں زیرلب کچھ بھی نہیں کہہ پاتا جبکہ خیالات کی رو مجھے اپنے ساتھ بہائے لیجارہی ہوتی ہے۔پہلے تمہارے خط نہ آنے کی وجہ سے نیند نہیں آرہی تھی اور آج جب صبح تمہارا خط مل گیا تو بھی اتنی رات ہوچکنے کے بعد بھی نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔کئی گھنٹے تو میں نے لفافہ تک نہ کھولا اور اپنی جیکٹ کے اندر دل والی جانب جیب میں خط کو ڈالے رکھا اور کافی دیر اسے بار بار تھپتھپا کر دیکھتا رہا اور اس کی موجودگی کو محسوس کرتا رہا۔عجیب سی سرشاری کی حالت تھی اور میں اس سرشاری کو کافی دیر برقرار رکھنا چاہتا تھا لیکن اس سرشاری کے ساتھ ساتھ کہیں مرے اندر سے بے چینی بھی امنڈ رہی تھی سو میں نے آٹھ بجے تمہارا خط کھول ہی لیا۔اور جیسے ہی پڑھنا شروع کیا تو مجھ پہ اچانک یہ انکشاف ہوا کہ اس خط میں بہت عرصے بعد تم نے اپنے اندر کی عورت کو بیدار حالت ميں رکھ کر احوال لکھا ہے۔آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ تم نے ایک مرتبہ پھر مجھے یاد دلانے کی کوشش کی ہے کہ تم میری کہانیوں اور افسانوں کو اس لئے پسند نہیں کرتیں کہ ان کا اختتام کبھی طربیہ پہ نہیں ہوا بلکہ ظالمانہ قسم کا موت سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ساری، مجھے تمہیں یاد کرانا پڑے گا کہ تم نے مجھے کہا تھا کہ تمہیں موت،کرب اور المیوں سے نفرت تھی اور تم صاف اور شفاف آسمان کی طرح تھیں۔اور پھر اچانک تم آغا خان کے کینسر وارڈ میں اس سب سے آخری کمرے کے اندر بستر پہ جاکر دراز ہوگئی تھیں جہاں ماحول بہت زیادہ اداس کرنے والا،ڈرانے والا اور دل دہلادینے والا ہوتا تھا۔میں صبح سے شام تک تمہاری پائنتیوں پہ ٹکا بیٹھا رہتا تھا اور اکثر تم کو خواب آور دواؤں کے زیر اثر رکھا جاتا تھا کیونکہ بلڈ کینسر کی آخری سٹیج کی وجہ سے تمہارے اندر خون کی شریانیں پھٹنے لگتی تھیں اور تم بے ہوش ہونے سے پہلے اسقدر تڑپتی تھیں کہ مجھے اپنی روح تک زخمی ہوتی محسوس ہوتی تھی اور اس دوران اپنے آپ کو پرسکون دکھانے کے لئے درد بھری مسکان اپنے ہونٹوں پہ سجانے کی کوشش میں تم اور زخمی ہوتی جاتی تھی اور تمہاری آنکھوں سے وہ تکلیف جھلکتی تھی جسے تم چھپانے کا جتن کرتی تھیں۔اور مجھے دلاسا دیتی تھیں کہ ہم جلد ہی اس کینسر وارڈ کے اس سرد جہنم والے کمرے سے نجات پالیں گے اور ان سارے خوابوں کی تعبیر مل کر پائیں گے جو ہم نے دیکھے تھے۔کیا واقعی ایسا ہوا تھا؟تم آسمان کے ایک دوسرے کنارے پہ کھڑی تھیں اور لگتا تھا کہ کبھی بھی چھلانگ لگا کر کسی وقت بھی غائب ہوجاؤ گی اور میں اس سے پرے مخالف سمت میں اس کنارے کھڑا تھا جہاں مرے پیروں میں پڑی زنجیر مجھے دو قدم بھی تمہاری طرف بڑھنے نہیں دیتی تھی اور میں اپنے آپ کو ایک قفس میں قید پرندے کی طرح پاتا تھا۔اور میں خود کو ایک تاریکی میں قید پارہا تھا۔تمہاری آنکھیں ہر گزرتے دن اور رات کے ساتھ ویران ہوتی جاتی تھیں ،ہونٹوں پہ جمی پپڑیاں تمہارے بہت پیاسا ہونے کو ظاہر کرتی تھیں اور جہاں تک بازو تمہارے کھلے ہوئے تھے وہاں ان گنت سوئیوں کے سیاہ نشان پڑے ہوئے تھے اور کہیں کہیں تو تمہارے خون کی بوندیں جم سی گئی تھیں۔مری بھوک مرگئی تھی اور گھنٹوں گھنٹوں میں تمہارے نیم خوابیدہ وجود کو دیکھتا ہی رہتا تھا اور تمہارے ہونٹوں پہ جمی وہ تکلیف کو مجسم کئے ہوئے مسکان کھلی رہتی تھی اور مجھے ایسے لگتا تھا جیسے کسی کلی پہ عین بہار کے عروج پہ خزاں اتر آئی ہو اور وہ کلی اپنی ادھ کھلے پن کو مکمل مرجھاہٹ سے بچانے کی کوشش کررہی ہو۔میرے اندر بہت درد تھا اور بے بسی کی اسقدر شدت تھی کہ مجھے لگتا تھا جیسے میرا دم گھٹ جائے گا۔میں نے ان لمحوں میں جتنی سنجیدگی سے اس دم گھونٹ دینے والی کیفیت میں خودکشی کے بارے میں سوچا اس طرح سے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔ساری،تمہیں پتا ہے کہ میں نے تمہارے کہنے پہ یہ خط آن لائن کئے تھے تو وہاں سب تمہیں تلاش کرنے نکل پڑے تھے اور بہت سی عورتوں میں تمہارا چہرہ دیکھنے کی کوشش ہوئی اور نجانے کس کس پہ تمہارا شبہ کیا گیا اور اس دوران میں جس گھٹن کا شکار ہوا تو اس سے میں نے سنجیدگی سے پھر اس درد سے چھٹکارا پانے کا وہی طریقہ سوچا جو وہاں کینسر وارڈ میں اس جہنم نما کمرے میں تمہارے بستر پہ تمہارے پیروں کی طرف بیٹھ کر سوچتا تھا اور اس لئے باز رہ جاتا تھا کہ تمہیں یہ انتہائی بزدلی کا راستہ لگتا تھا اور اس پہ چلنے والے تمہیں پسند نہیں تھے۔تمہاری ختم ہوتی سانسوں کے درمیان تمہارا آہستہ آہستہ گھلنا مجھ سے برداشت نہیں ہورہا تھا ایسے میں میں کیسے وہ فعل کرسکتا تھا جو تمہیں مجھے کائر کہنے پہ مجبور کردیتا۔کبھی کبھی میں “خدائی صفات ” کا راستہ تلاش کرنے کی جانب راغب کیا جس کے زریعے سے لکھی جانے والی تقدیر کو بدلنے پہ قادر ہوجاتا لیکن مجھ پہ یہ انکشاف ہوا کہ حیات دینے کے بعد بس موت کا اختیار رہ جاتا ہے اور دیوتا کسی کو مرنے سے روک نہیں پاتے تھے اور موت خود ایک دیوتا کا کردار ادا کرنے لگتی تھی۔اس کا اپنا میکنزم تھا اور اس کے آگے کوئی فل سٹاپ لگایا نہیں جاسکتا تھا۔اور نرک کو انتہائی سرد ہونے یا کھولتے کڑاہے کی مانند گرم ہونے سے روکنا کسی کی دسترس میں نہیں ہوتا ہے۔تم نے کہا تھا کہ تمہیں موت،دکھ اور مصائب ان سب سے معاملہ کرنا ہی نہیں ہے۔لیکن اس بستر پہ پڑی تم ان سب سے معاملہ کررہی تھیں اور مجھے تم نے رنگ سے باہر بٹھا رکھا تھا۔میں وہاں بیٹھ کر تمہیں جاتا دیکھ رہا تھا۔اور میں تنہا ہی جل رہا تھا،سلگ رہا تھا۔وہ رات آج بھی آسیب کی طرح مجھ سے چمٹی ہوئی جس رات وہ مرحلہ آن پہنچا جب ایک دم سے تمہاری ساری شریانوں نے پھٹنا شروع کردیا اور سیاہ پڑگئے تمہارے بازؤں کے نشانوں نے باریک باریک چھید کی شکل اختیار کرلی اور ان سے خون ایسے ابل کر باہر آنے لگا تھا جیسے تنگ ندی سے پانی باہر آتا ہو اور اس لمحے جب تم نے انتہائی تکلیف میں مجھے کہا کہ اس سے پہلے تمہاری آنکھوں کی شریانیں پھٹنا شروع کریں اور میں تمہاری آنکھوں سے غائب ہوکر بس تمہارے دماغ میں ایک دھندلے نقش کی طرح رہ جاؤں تم مجھے اچھی طرح سے دیکھنا چاہتی تھیں۔مجھے محسوس کرنا چاہتی تھیں اور ڈاکٹر منہال عبداللہ نے بھی اپنے سارے پیشہ وارانہ تقاضے بالائے طاق رکھ دئے تھے اور تمہاری خواہش کا احترام کیا تھا۔یہ وہ لمحہ تھا جب وہ ڈاکٹر اور نرسیں سسکیاں بھرتے ہوئے کمرے سے نکل گئیں تھیں اور میں تمہاری آنکھوں کے پاس تھا اور تم نے اپنے خون سے بھرے ہاتھوں سے میرے چہرے کو تھامے ہوئے تھیں اور پھر اچانک جیسے کوئی تیز چندھیا دینے والی روشنی چمکی ہو اور تم بالکل شانت ہوگئی تھیں اور تمہارے ہونٹوں پہ وہی تنگ پڑگئی مسکان تھی اور میں جیسے پتھر کا ہوکر رہ گیا تھا۔ساری،وہاں کراچی میں جب تم وادی حسین کی رہائشی ہوئی تھیں تو بہت کم آبادی تھی اب تو وہاں خوب رونق لگی ہوئی ہے اور تمہارے اڑوس پڑوس میں میلہ لگا ہوا ہے اور تم اسی لئے تو مجھے اب تنہا نہیں لگتی ہو اور اسی لئے میں یہاں اتنی دور آگیا ہوں۔جانتا ہوں کہ تمہیں اب کوئی وحشت نہیں ہوتی۔ تنہائی کاٹنے کو دوڑتی نہیں ہے اور بہت سی کہانیاں ہیں تمہارے پاس بتانے کو۔تمہارے آس پاس کئی ایسی سہیلیاں آکر رہنے لگی ہیں جن کے نام ان کے لئے عذاب بن گئے تھے اور ہاں یہ سبھی علی،حیدر،عباس،کرار،قنبر،سجاد اور ایسے ہی ملتے جلتے کئی اور نام بھی تمہارے پڑوسی ہوگئے ہیں۔استاد سبط جعفر بھی تو ہیں تمہارے ہمسایہ اور وہ اپنی موٹر سائیکل پرانے گھر میں ہی چھوڑ گئے ہیں۔ان سے پوچھنا تو سہی وہ پرانی سی موٹر سائیکل جن سے ان کو عشق سا تھا اسے پرانے گھر کیوں چھوڑ آئے؟اور اپنے نقوی صاحب بھی سنا ہے تمہارے پڑوس میں کہیں رہ رہے ہيں۔اگر بتیاں،لوبان اور گلاب کی پتیوں کی خوشبوؤں سے معطر سنا ہے وادی حسین کالونی رہتی ہے اور سب کے گھروں پہ سنگ مرمر کی نیم پلیٹ لگی ہوئی ہیں۔سنا کہ کچھ دن پہلے سہیون شریف سے 88 کے قریب عورتیں ،بچے ،نوجوان اور بزرگ وہاں آکر رہنے لگے ہیں۔لیکن مجھے وہاں سے ایک دوست کا فون آیا تھا کہ ان میں سے کوئی اپنے بچّے کا فیڈر بھول آیا ہے۔ ماں تنگ ہورہی ہوگی نا فیڈر کے بغیر ۔پتا کرنا کس بچّے کا ہے یہ فیڈر میں اپنے دوست کو کہوں گا وہاں پہنچا جائے گا۔مائیں آج کل تھوڑی سی لاپرواہ ہوگئیں ہیں کئی کھلونے اور بلکہ کئی بچوں کی جوتیاں تک بھول آئی ہیں لیکن میرا دوست بڑا ایماندار اور فرض شناس ہے جیسے ہی تم پتا لگا لوگی وہ ان کی امانتیں پہنچادے گا۔اور ہاں ميں کل پیرس سے برسلز منتقل ہورہا ہوں اس لئے اب اس ایڈریس پہ خط نہ بھیجنا اور جیسے ہی میں برسلز میں رہائش ڈھونڈ لوں گا تو تمہیں پتا ارسال کردوں گا اور پھر ہم باقاعدگی سے خطوط کا تبادلہ کریں گے۔

فقط تمہارا
ع۔ح

وہ دھماکہ کریں،تم کلچر کو پابند سلاسل

 

 

فروری کی 16 تاریخ اور دن جمعرات کا اور شام کے سات بجنے میں 5 منٹ باقی تھے جب سندھ کے ضلع دادو کے تعلقہ سہیون شریف میں واقع شیخ عثمان مروندی الحسینی المعروف لال شہباز قلندر کے مزار کے اندر عین ان کی قبر پہ پائنتی کی جانب تکفیری دیوبندی دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کا خودکش بمبار پہنچا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔یہ وہ وقت جب مزار کے احاطے میں زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی اور وہاں پہ دھمال ڈالی جارہی تھی۔اس افسوسناک واقعے میں 80 افراد شہید اور 250 سے زائد افراد شدید زخمی ہوگئے۔دو دن میں ملک کے مختلف حصوں میں پانچ خودکش حملے ہوئے جبکہ ایک واقعہ میں ڈیرہ اسماعیل خان مين پولیس کی وین پہ فائرنگ کی گئی اور ان واقعات کی زمہ داری جماعت الاحرار، تحریک طالبان،داعش خراسان اور لشکر جھنگوی العالمی نے ملکر قبول کی ہے اور یہ سب تنظیمیں دیوبندی مکتبہ فکر کی تکفیری،خارجی اور جہادی آئیڈیالوجی سے اشتراک رکھنے والی تنظیميں ہیں۔

شیخ عثمان مروندی الحسینی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں مولانا عبدالحی لکھنوی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے :

الشيخ عثمان بن حسن المروندي

الشيخ الصالح عثمان بن حسن الحسيني المروندي ثم السيوستاني المعروف بلعل شاهباز

قدم ملتان سنة اثنتين وستين وستمائة، فكلفه محمد بن غياث الدين الشهيد بالإقامة في

ملتان، وأراد أن يبني له زاوية بتلك المدينة فلم يقبله وسافر في بلاد الهند، ثم رجع إلى أرض

السند وسكن بسيوستان، ولم يزل بها حتى مات، وكان شيخاً وقوراً مجرداً حصوراً، يذكر

له كشوف وكرامات، توفي سنة ثلاث وسبعين وستمائة بسيوستان فدفن بها، كما في تحفة

الكرام.

پاکباز نیک بزرگ عثمان بن حسن الحسینی المروندی ،السیستانی لعل شہباز (قلندر ) کے نام سے معروف ہیں۔یہ 732ھجری میں ملتان آئے جب یہاں غیاث الدین  کی حکومت تھی اور اس نے چاہا کہ حضرت عثمان مروندی ملتان قیام کریں اور یہیں پہ اپنا زاویہ/تکیہ /خانقاہ بنالیں لیکن انھوں نے قبول نہ کیا اور ہندوستان کے کئی شہروں کا سفر کیا اور پھر سندھ کی دھرتی پہنچے اور سیوستان میں قیام کیا اور وہیں پہ رہے اور وہیں پہ وصال فرمایا اور شیخ عثمان مروندی بہت ہی بڑے صاحب مجاہدہ بزرگ تھے،ان سے بہت سے کشوف اور کرامتیں منسوب ہیں۔اور ان کی وفات تحفۃ الکرام کے مطابق 780ھجری میں ہوئی۔

اس کے علاوہ عرب کے کئی ماہرین تاریخ جنھوں نے عرب سے ہجرت کرجانے والے علماء و مشائخ کا تذکرہ کیا ہے ان کا زکر بھی بڑے اہتمام کے ساتھ کیا ہے۔یہاں تک کہ شام،مصر ،ترکی ،لبنان اور اردن کے ماہرین تاریخ بھی آپ کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں۔لال شہباز قلندر کے سہیون شریف کو سندھو وادی کا اجمیر بھی قرار دیا جاتا ہے اور ان کو سندھ کا خواجہ غریب نواز بھی کہتے ہیں۔اور شیخ عثمان مروندی دیگر صوفیاء کرام کی طرح ہندؤ،سکھ،مسلمان، شیعہ ،سنّی ،اعتدال پسند دیوبندی ( علامہ عبدالحی لکھنوی دیوبندی مدرسہ ندوۃ العلماء لکھنؤ میں ہی استاد تھے )، کرسچن اور یہاں تک کہ یہودیوں میں بھی یکساں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہيں۔کراچی میں رہنے والی قدیم پارسی اور یہودی برادری کے لوگ برٹش انڈیا دور میں باقاعدگی سے لال شہباز قلندر کے مزار پہ حاضری دیا کرتے تھے۔آپ کی شاعری اور اقوال پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آپ ان سنّی بزرگوں میں سے تھے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پہ فضیلت کے قائل تھے۔دارشکوہ ملّا بدخشانی کے سلسلہ طریقت سے لال شہباز قلندر تک جاملتے ہیں۔آپ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے فرزند اسماعیل کی اولاد میں سے ہیں جبکہ آپ مولانا جلال الدین رومی کے ہم عصر ہیں۔مروند آزربائیجان کا شہر ہے جہاں آپ کی ولادت ہوئی تھی۔اور ماہرین تاریخ کا خیال یہ ہے کہ جب بنوامیہ کا جبر وستم حد سے تجاوز کرگیا تو کئی سادات وہاں سے نکل کر وسط ایشیاء کی جانب آئے انہی میں لال شہباز قلندر کے آباء بھی تھے۔سندھ کی سرزمین پہ جو تہذیب اور کلچر فروغ پایا اس میں آپ کا کردار بھی اہم بتایا جاتا ہے۔جسے عمومی طور پہ جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کہا جاتا ہے آپ کو اس کے معماروں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔اور دیوبند مدرسہ تحریک میں جو تکفیری،جہادی اور عسکریت پسند عنصر ہے وہ سلفی ازم کے ساتھ اشتراک میں اس جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کا سخت دشمن اور مخالف ہے۔وہ اس کلچر کو مکمل طور پہ تباہ کرنا چاہتا ہے۔لال شہباز قلندر کے مزار پہ ہونے والا حملہ جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کے خلاف تکفیر ازم، جہاد ازم اور نیو دیوبندی ازم کی چھیڑی جانے والی جنگ کا ہی تسلسل ہے جس کی نمائندگی سندھ کے اندر تیزی سے پھیلتی ہوئی دیوبندی تکفیری تنظیم اہل سنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کی فکر سے اشتراک رکھنے والے دیوبندی مدارس کرتے ہیں جوکہ سندھ میں تقسیم سے پہلے سے موجود اعتدال پسند اور صلح کل دیوبندیت کا چہرہ بھی بگاڑرہے ہیں۔سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ کو 94 ایسے دیوبندی اور سلفی مدارس کی لسٹ ارسال کی تھی جوکہ کالعدم دہشت گرد تکفیری تنظیموں کی سرپرستی کرنے میں مصروف ہیں اور ملک میں انتہا پسندی،دہشت گردی اور فرقہ پرستی کو پروان چڑھارہے ہیں۔یہ فہرست سندھ اور وفاق کے سیکورٹی و انٹیلی جنس ودیگر اداروں کی مشترکہ انوسٹی گیشن کے بعد مرتب کی گئی تھی اور اس میں صرف کراچی کے اندر 74 مدارس مووجود ہیں۔لیکن وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس فہرست کو مصدقہ ماننے سے انکاری ہیں اور وہ پاکستان کے اندر کام کرنے والے تکفیری دیوبندی۔سلفی نیٹ ورک کو دہشت گرد نیٹ ورک سے الگ کرکے دیکھنے پہ اصرار کرتے ہیں۔اور شاید وہ پاکستان کے پہلے وفاقی وزیرداخلہ ہیں جو تکفیری انتہا پسند تنظیموں کی صفائی پیش کرتے نظر آتے ہیں۔پاکستان کے ریاستی حکام آج تک دہشت گردی اور تکفیرازم،جہاد ازم کے درمیان باہمی تعلق کو ہی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ریاستی حکام جب یہ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا تو اصل میں وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ پاکستان میں شیعہ، صوفی سنّی، کرسچن، ہندؤ، احمدی، سکھ اور دیگر برادریوں کے خلاف جاری دہشت گردی کسی آئیڈیالوجی کے زیر اثر نہیں لڑی جارہی اور یہ ایک طرح سے دہشت گردوں کی شناخت اور ان کی فکری بنیادوں پہ پردہ ڈالنے کی کوشش ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دوسرے لفظوں میں دہشت گردوں کے نظریہ سازوں، سہولت کاروں،ہمدردوں کو بچانے کی کوشش ہے۔پاکستان کے حکام دہشت گردی کے خارجی ، غیر ملکی اور بیرونی عوامل پہ بہت زور دیتے ہیں لیکن دہشت گردی کے اندرونی اور داخلی عوامل پہ ان کا رویہ انکار۔جواز یا ابہام والا ہے۔اور یہی مخمصہ بار بار اس ملک کے صوفی کلچر سے جڑے لوگوں کے لئے تباہ کن اور خون خوار ثابت ہورہا ہے۔

حکومتوں نے دہشت گردی کے واقعات کے بعد وتیرہ یہ بنالیا ہے کہ وہ مزارات کو سیل کردیتی ہے۔صوفی اور دیگر کلچرل فیسٹول پہ پابندیاں عائد کرتی ہے اور چھوٹے اور دور دراز علاقوں میں موسم بہار میں مقامی میلوں اور عرس کی تقریبات کے انعقاد پہ پابندی لگادیتی ہے۔جیسے اس نے ہزاروں رسمی مجالس اور جلوس ہائے عزاداری پہ پابندی لگائی۔اور اس طرح سے ریاست اور حکومتیں خود تکفیری دیوبندی اور سلفی ازم کا ایجنڈا پورا کرتی ہیں اور رد ثقافت پالیسی کا اجراء کرتی ہیں۔کلچر مخالف دیوبندی تکفیری کارخانوں کو آپ بند کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت جیسی تنظیموں کی وکالت میں آگے آگے ہوتے ہیں لیکن مزار۔عرس،میلہ ، فیسٹول کے خلاف پوری ریاستی مشینری استعمال کی جاتی ہے اور یہاں تک کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک جج “یوم محبت ‘ کو اسلام کے خلاف قرار دے ڈالتا ہے اور سرخ غباروں اور سفید ربن فروخت کرنے پہ پابندی عائد کردی جاتی ہے۔بیساکھی کے میلے پہلے ہی حکومتیں بند کرچکی ہیں۔یہ تکفیر ازم اور جہاد ازم کے سامنے مکمل سرنڈر کرجانے کے مترادف ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ خودکش بم دھماکوں سے مزارات پہ حاضری،میلوں ٹھیلوں میں شرکت،میلاد و عاشور کے جلوسوں میں شرکت سے روکیں تو تم پورے کلچر کو پابند سلاسل کرو،مزارات کو سیل کردو، فیسٹول پہ پابندی لگادو۔مطلب یہ کہ ان کا سو فیصد ایجنڈا پورا کردیا جائے۔اور سیکورٹی اور تحفظ کے معاملے میں بھی ریاست کی ترجیح عوام ان کی عبادت گاہیں،مزارات،امام بارگاہیں،مساجد،جلوس ،میلے نہیں ہیں بلکہ مقدم اور سب سے ضروری وی آئی پیز کی حفاظت ہے۔جس قدر حفاظتی اقدامات ایک ڈی پی او آفس،ڈی سی او آفس، سیشن و سول کورٹس کی جاتی ہےاس کا 20 فیصد بھی اگر عوام کو فراہم کیا جائے تو ایسے واقعات کی شرح بہت ہی کم ہوجائے۔سافٹ ٹارگٹ کا ایک مطلب حکومت عوام کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پہ چھوڑنا بھی ہے۔

 

کٹھ پتلی نہیں۔ دوجا پن اندر کی عورت جگاتا ہے

2560

 

سایه ئی روی سایه ئی خم شد

در نهانگاه رازپرور شب

نفسی روی گونه ئی لغزید

بوسه ئی شعله زد میان دو لب

ایک پرچھائیں دوسری پرچھائی پہ جھکی

راز پرور شب کی پوشیدہ پناہ گاہ میں

سانس جیسے گال پہ پھسل گئی ہو

اور دو لبوں کے درمیان ایک بوسے نے شعلہ سا جلا دیا ہو

آج ویلنٹائن ڈے ہے اور یہ محبت اور خوشی کا دن مانا جاتا ہے لیکن کوئٹہ اور لاہور میں صف ماتم بچھی ہے اور ہم سب بھی ان کے ساتھ صف ماتم بچھاکے بیٹھے ہیں۔

قسمت ہم سے بھی کیسے کیسے سنگین مذاق کرتی ہے۔آج جب میں رامش فاطمہ کے گارڈین ڈیلی کی ویب سائٹ سے شئیر کردہ ایک فیچر کے سحر میں گرفتار تھا اور رمشا اشرف اس پوسٹ پہ موتی ٹانک رہی تھیں تو میں بھی فروغ فرخ زاد کی تصویر کے عقب میں جھانکتی اپنی ساری کی آنکھوں کی مستی میں ڈوب ڈوب جارہا تھا تو ایک دم سے زور دار دھماکوں کی آواز سے مرے کان کے پردے جیسے پھٹنے لگ گئے اور مری آنکھوں کے سامنے خون کا ایک تالاب بننے لگا اور زخمیوں کی چیخیں اور کسی کی آخری ہچکی لینے اور اپنے اس طرح سے مرنے پہ حیرت سے کھلی آنکھیں اور کھلے منہ تھے اور میں اس سارے منظر سے آنکھیں چار کرنے سے گھبرارہا تھا۔دل ایک طرف تھا کہ شدت غم سے پھٹا جارہا تھا اور دوسری طرف لاہور کے تاجروں کی جانب سے سوگ میں دکانیں بند رکھنے کے اعلان سے نجانے کیوں مرا دل غم کے ساتھ ساتھ غصّے سے بھرگیا۔ایک مرتبہ تو جی میں آئی کہ ان کے گریبان پکڑلوں اور ان سے کہوں کہ اگر مارچ 1971ء میں ایسے اقدامات بنگالیوں کے لئے کئے ہوتے اور آج بلوچستان ميں برستی آگ کے خلاف احتجاج میں یہ قدم اٹھایا ہوتا اور اپنی سرکار کو جہاد ازم اور تکفیر ازم کے لئے پراکسیز بنانے سے روکنے کے لئے کاروبار چند روز کے لئے بند کیا ہوتا اور بے لگام نہ دی ہوتی تو ایسے کوئی موٹر سائیکل لاکر پھاڑ نہ رہا ہوتا خود کو اور یہ سب منظر دیکھنے کو نہ ملتے۔پھر مجھے لگا کہ جیسے مری ساری کینسر وارڈ میں بستر پہ پڑی مجھے کہہ رہی ہو کہ دیکھو یہ گھڑی نہیں کہ تم لاہور والوں کو اس ملک کے بلوچ،سندھی ، سرائیکی ، پشتونوں،شیعہ اور ہزارہ شیعہ کے رستے زخم دکھاؤ بلکہ یہ موقعہ تو ان کے رستے زخموں پہ مرہم رکھنے کا ہے ناکہ نمک چھڑکنے کا۔اور میں ایک دم سے شرمندہ ہوگیا۔لیکن فروغ فرخزاد کا تذکرہ اس المناک گھڑی میں کیا جانا اس المناکی پہ غم منانے اور دکھ سے بھرجانے سے الگ نہيں ہے۔جس کا اس کے عاشق ابراہیم گلستان نے اس کی موت کے 50 سال بعد کیا ہے۔کون فروغ فرخزاد ؟

من صفائی عشق میخواہم ازو

تافدا سازم وجود خویش را

او تنی میخواہد از من آتشیں

تابہ سوازند درونِ خویش را

میں اسے شفاف تر عشق چاہتی ہوں

تاکہ میں اپنا وجود اس پہ وار دوں

اور وہ مرے آتشیں بدن کا طلبگار ہے

تاکہ اپنے اپنے اندر کو سلگالے

 مرد محبوب/عاشق اور عورت/محبوب/عاشق یہ ایک ایسی مساوات ہے جو قائم و دائم رہتی ہے۔اس وقت بھی جب کوئی عورت رونگٹے کھڑے کردینے والے اور شرم سے بھگودینے والے ایسے شعر کہتی ہے:

ای زن کی دلی پر از صفا داری

از مرد وفا مجو، مجو، ہرگز

او معنیٔ عشق رانمی داند

رازِ دل خود او مگو ہرگز

عورت کا دل پاکیزگی سے بھرا ہوا ہے

اور مرد سے کبھی بھی وفا ہرگز نہیں ہے

وہ عشق کے معنی نہیں جانتا

اور اس کے سامنے دل کے بھید کبھی نہ کھول

آج مرا دل کررہا ہے کہ میں تھوڑی دیر کے لئے فروغ فرخزاد کی اندر کی بیدار مغز اور باغی عورت کو مستعار لے لوں اور اس کے جیسا بن جاؤں اور کہہ ڈالوں کہ اگر میں “دیوتا ” ہوجاتی ایک رات کے لئے سہی تو پتا ہے ميں کیا کرتی ؟میں بغاوت کردیتی اور اس وسیع دنیا کی تنگ دامنی پہ تھوک ڈالتی۔میں اپنی داسیوں اور داس کو طلب کرتی اور ان سے کہتی کہ رات کے تاریک چولہے میں سورج کو جھونک دو  اور تب میں باغ ارض میں کام کرنے والے غلاموں سے کہتی کہ یہ جو پیلے پتوں کی طرح کا زرد چاند ہے اسے شجر شب سے جدا کردو،اگر میں دیوتا ہوجاتی تو رات کو بلاتی فرشتوں کو اور کہتی ان سے جہنم کی دیگ میں ابدی زندگی کے پانی کو ابلنے دو، میں جلتی مشعل لیکر نیکی کی بھیڑوں کا تعاقب کرتی جو کہ خوش کن سورگ کی خوب سرسبز چراگاہوں میں چرتی ہیں۔ایک مصنوعی نرتکی سے اوب کر میں آدھی رات کو راکھشش کے بستر کی تلاش کرتی اور قانون توڑنے کی راحت میں پناہ لیتی۔اور خوشی خوشی یہ دیوتا ہونے کا تاج میں اس سے بانٹ لیتی۔اور سخت غصّے میں دانتوں کو پیستے ہوئے میں، سالوں کی خاموشی کا بدلہ لیتے ہوئے ۔ میں اپنے آہنی پنجوں سے چٹانوں کو تہس نہس کرڈالتی۔اور میں حرص سے کھلے سمندروں کے منہ چوٹیوں سے بھردیتی۔ٹھیک کہا ابراہیم گلستان نے کہ فروغ فرخ زاد کی شاعری انسان کے سب سے بنیادی اور اہم جذبات کا عکاس تھی۔خود فروغ نے ایک بار کہا تھا:

ابے او مردجاتی سن! میری شاعری مرے جذبات کی آگ ہے اور یہ تم ہو جس نے مجھے شاعرہ بنایا ہے۔

اور فروغ کا جب ابراہیم گلستان سے تعلق پیدا ہوا تو یہ وہ زمانہ تھا جو فروغ کی شاعری کا سب سے بہترین اور یادگار دور تھا۔ایرانی معاشرہ مذہب، رسم و رواج کے نام پہ جن پدر سری حدود و قیود کو عورتوں پہ مسلط کرتا ہے اسے فروغ فرخ زاد نے اپنی شاعری کے زریعے ‎سے چیلنج کیا۔

جب ریاست فروغ فرخزاد جیسی شاعروں کی آوازوں کو جبر اور ظلم کے ساتھ چپ کراتی ہے اور مذہبی جنونیوں کے زریعے سے سماج میں آزادی اظہار کا گلہ گھونٹ دیا جاتا ہے اور عدالتوں کو سرخ گلابوں،سفید غباروں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو پھر معاشرے میں وحشت کا راج ہوتا ہے۔اسے فروغ فرخزاد،قرۃ العین طاہرہ،زیب النساء اور سلیویا پلاتھ جیسی عورتیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔اورنگ زیبی ملّا کہیں بھی ہوں،چاہے ایران کے آیت اللہ ہوں،سعودی عرب کے نام نہاد بقیۃ السلف ہوں،مصر کے شيخ الازھر ہوں یا ہند و پاک کے شیخ الجامعۃ ہوں یا صدر الشریعۃ ان کو بہت غصّہ،خوف اور بہت تشویش ہوتی ہے ایسی عورتوں سے اور ایسے مردوں سے جو آزاد ہونے کا صور پھونکنے میں کمال مہارت رکھتے ہوں۔ایران میں نام نہاد جدیدیت کا علمبردار رضا شاہ پہلوی ایرانی عورتوں کی آزادی کی بہت بات کرتا تھا جیسے ہمارے ہاں مشرف اور ان کے حواریوں نے بہت باتیں کیں اور اب نواز شریف اور ان کا ہمنواء کمرشل لبرل مافیا بھی بہت کرتا ہے۔اس نے عورتوں کے پبلک میں حجاب پہننے پہ پابندی عائد کردی اور اپنے اس نمائشی عمل سے دعوی کیا کہ عورتیں آزاد ہوگئی ہیں۔لیکن فروغ فرخ زاد جیسی دانشور عورت جس نے 50ء اور 60ء جیسے ایران کے گلمیرس ماحول میں جنم لیا تھا یہ سمجھتی تھی کہ ایران میں عورتوں کا جو قانونی،روائیتی اور جسمانی باڈر /سرحد تھی مطلب پردہ وہ بکھر چکا ہے لیکن معاشرے میں سخت پدرسری اور مذہبی روایت تو اپنی جگہ قائم و دائم ہے۔ہمارے ہاں بھی کٹر واد پدر سری نظام اور ملائیت سے بھی دو ہاتھ آگے جہادیوں اور تکفیریوں کے غالب ڈسکورس سے ابھرنے والی رد ثقافت عورتوں کی آزادی کو پدرسری نظام کی تمام تر لعنتوں کے قید خانہ میں قید کیا ہوا ہے۔

مجھے حیرت ہے کہ 50ء اور 60ء کے ایرانی سماج میں زندگی گزارنے والے دانشوروں کی اکثریت یہ سمجھ چکی تھی کہ رضا شاہ پہلوی کی ملوکانہ روایت اور ایرانی مدرسوں سے آنے والی ملّائی روایت دونوں کی دونوں کو ان کے سماج کی سیاسی اور سماجی خرابیوں کو مزید خوفناک کرنے کا سبب بن رہی تھیں اور آج ہمارے ہاں ہی کیا اکثر مسلم معاشروں میں ان ہی دو روایات کا راج ہے اور ان کو بے نقاب کرنے والی آوازوں کا یا تو گلہ گھونٹ دیا گیا ہے یا پھر ان کو ملک سے بھاگنے پہ مجبور کردیا گیا ہے۔ان کی شاعری ممنوعہ لٹریچر میں شمار ہوتی ہے۔کسی میں آج جرآت نہیں کہ وہ فرخ فروغ زاد کی نظم “گر می خدا بودم ” کو ایران میں پبلک میں سنائے اور وہ تو ایران ہے،میں تو یہاں ہزاروں لفظ فروغ فرخ زاد پہ لکھنے کے باوجود اس کا ترجمہ کرنے سے ڈر رہا ہوں۔ویسے جو باتیں شیخ ابن عربی نے فصوص الحکم میں ابلیس بارے کہیں اور جو فقرے فرعون بارے کہے آج ان کو میں آسانی سے پیش نہیں کرسکتا۔فاطمہ شمس کہتی ہے کہ وہ پندرہ سال کی تھیں جب انھوں نے ایک الماری کے خفیہ گوشے سے فروغ فرخ زاد کی ںظمیں پہلی بار پڑھیں تھیں اور یہ ان کی ماں نے چھپاکر رکھی ہوئی تھیں۔ہمارے ہاں بھی لوگ عصمت،منٹو کو چھپا چھپاکر پڑھتے رہے ہیں اور اب بھی سارا شگفتہ جیسی عورتوں کو کھلے عام پڑھنے کا رجحان نہیں ہے۔ویسے رمشاء اشرف کی شاعری کو بھی لوئر مڈل کلاس کی انگریزی سمجھنے والی لڑکیاں چھپاکر ہی پڑھتی ہیں۔

“میں دیوتا جو ہوتی جو ایک رات کی تو آکاش پہ اپنے کارندوں سے کہتی کہ سورگ میں کوثر کے پانی کا کوزہ بھرو اور کھولتے نرک کو ٹھنڈا کرنے کرنے کا سامان کرو”

“میں دیوتا ہوجاتی جو ایک رات کی تو صدیوں سے نرک میں جل رہی روحوں کو کردیتی آزاد اور آکاش پہ ستاروں کی جھلملاتی روشنی میں کرتی ان کا سواگت “

کسی ناری/نرتکی کی اندر کی ناری/نرتکی بیدار ہونے پہ ایسی خواہشوں کا جنم لینا کوئی اچنبھا نہیں ہے۔ویسے پدرسری معاشرے میں اندر کی عورت کو بیدار کرنے والی عورت کی شاعری اور اس کے فکشن پہ “نسائی ” ہونے کا لیبل لگادینا عام سی بات ہے اور اس میں بھی کہیں پدرسری مرادانہ بالادستی کی حس کی تسکین کا پہلو چھپا ہوتا ہے اور شاید یہی وجہ تھی کہ فروغ فرخزاد ہو یا کوئی اور دانشور بیدار مغز عورت اسے اس لیبل سے نفرت ہوتی ہے اور وہ اس پہ اپنا ردعمل بھی دیتی ہے۔اور یہ تو ان عورتوں کی بات ہے جو اپنے فن میں بلوغت کے اگلے مراحل میں داخل ہوچکی ہوتی ہیں،میں تو یہاں ان عورتوں کو بھی دیکھ رہا ہوں بلکہ ان کو عورتوں سے زیادہ لڑکی بالی کہنا زیادہ درست ہوگا جو اپنی سوچ، احساس، اپنے شعور اور اپنی کچی پکی تخلیقی شعور کو سٹیریو ٹائپ پدر سرانہ تصور عورت پن سے تعبیر کرنے پہ سیخ پا ہوجاتی ہیں اور(ٹھیک ہی ہوتی ہیں اور بھلا مردوں سے داد لینے یا ملنے کو ان کے استناد دانش کا ثبوت ماننا ایک اور بڑی پدر سری جہالت ہی تو ہے) اور بھڑک کر کہتی ہیں کہ “میں کٹھ پتلی نہیں ہوں”۔اور میں یہ سنکر واہ واہ کہنے پہ مجبور ہوجاتا ہوں۔فروغ بہت طاقتور ہوگئی تھی۔16 برس کی عمر میں جب اس نے طلاق لی تو ایک بچے کی ماں بن چکی تھی۔اور اس زمانے کا ایرانی معاشرہ بھی ہماری طرح ہی تھا جس میں ایک عورت کا طلاق لینا اسے “بری عورت” کی سند دینے کے لئے کافی ثبوت تھا۔لیکن اس نے بہت طاقت کے ساتھ ان سب استعاروں سے کام لیا جن کو فتوی گیری کے لئے ملّا استعمال کرتے تھے۔یہ بلاگ پھیلتا ہی جارہا ہے۔اور مرے ذہن میں فروغ فرخ زاد کی کہی ہوئی لائن بارش کے قطروں کی طرح ٹپ ٹپ برس رہی ہیں۔اس نے ایک انٹرویو میں بڑی معصومیت سے کہا تھا:

Obviously, due to my psychological and ethical make-up—and, for instance,the fact of my being a woman, I view things differently.

فرزانہ میلانی کہتی ہیں کہ فروغ کی شاعری ” ایک عورت کے دوجے پن” کی شاعری ہے۔اور وہ کہتی ہیں کہ ایک مڈل کلاس گھرانے کی عورت ایرانی معاشرے کے خاندانی اور سماجی ڈھانچے ميں ” دوجی ” ہی ہوتی ہے۔اور اسی دوجے پن سے اس کی نفسیاتی اور اخلاقی ساخت بنتی ہے۔یہ “ميں کٹھ پتلی نہیں ہوں ” جیسی آوازیں بھی عورت کے اندر سے اسی دوجے پن کی بازگشت بنکر نکلتی ہیں۔لیکن مرد و عورت کا باہمی رشتہ ایسا ہے کہ اگر ایک جگہ سے ٹوٹتا ہے تو کہیں دوسری جگہ جاکر جڑجاتا ہے اور اسی لئے فروغ اپنے خط میں اپنے شاہی کو لکھتی ہے:

“Shahi , you’re the dearest thing I have in life. You’re the only one I can love … Shahi, I love you and I love you to an extent that I am terrified what to do if you disappeared suddenly. I’ll become like an empty well.”

“شاہی،مری زندگی میں جو سب سے عزیز تر ہے وہ تم ہو۔تم ہی ہو صرف جس سے میں پیار کرسکتی ہوں۔۔۔۔۔شاہی،آئی لو یو،اور میں تم سے اسقدر پیار کرتی ہوں کہ میں اکثر یہ سوچ کر لرز جاتی ہوں کہ اگر اچانک تم غائب ہوگئے تو مرا کیا ہوگا؟میں تو خالی کنوئیں جیسی ہوجاؤں گی “