انتیسواں خط

a525b464138097fd91583474c0d100a0

 

پیاری ساری

 

تمہارا خط اتنی جلدی مل گیا کہ اس “جلد ملنے ” نے مجھ پہ حیرت طاری کردی بلکہ اس خط کو جب میں نے پڑھنا شروع کیا تو ایک ایک لفظ مجھے شاہ جنوں کی فرمانروائی سے آیا ہوا لگا اور پہلی حیرت نے شاہ جنوں کی فرمانروائی سے وارد ہوئی حیرت نے مجھے “شادی مرگ ” کی کیفیت میں مبتلا کردیا۔میں سمجھتا تھا کہ تم نے اپنے سابقہ خط میں محبت بارے جو لکھا اسے میں نے پالیا ہے اور میں نے خود کو عاشق صادق ہونے کی خود ہی سند بھی دے دی تھی لیکن اس خط کو پڑھنے سے مجھے پتا چلا کہ دھوئیں میں روشنی تو مستور تھی ہی اور مری آنکھ بھی پورا دیکھنے سے معذور تھی۔آفتاب اقبال شمیم کا شکریہ جس کے شعر کے زریعے سے میں اپنی کیفیت بیان کرنے کے قابل ہوا ہوں

کچھ تو سائے کے دھوئیں میں روشنی مستور تھی

اور پورا دیکھنے سے آنکھ بھی معذور تھی

تم نے سائے (جہالت ) کے دھوئیں کو چھٹ جانے اور مستور روشنی کو تھوڑا اور عیاں کرنے اور مری آنکھ کی معذوری کو بھی کم کیا۔اگرچہ میں اب بھی پورا دیکھنے سے معذور ہوں۔ویسے میں تھوڑا پریشان ہوا ہوں کہ میں اس جرمن فلسفی کو کیسے بھلا بیٹھا جس کو انگریزوں نے سٹرنر سمتھ کا نام دیا تھا اور ایک عرصے تک ميں نے موٹے مارکر سے چارٹ پہ بڑے جلی حروف میں لکھا ہوا ہے:

                                           Vagabund Intellektuell

خانہ بدوش بدھی مان کی طرح آوارگی میں دانش کی کرنیں بکھیرنے کا دعوی کرنے والا اس خانہ بدوش دانش وری کے علمبردار کو بھلانے کا نتیجہ وہی ہونا تھا جسے تم نے

Schlechter Glaube

ویسے یہ جرمن اصطلاح مجھے فرنچ  کے لفظ موئے ایس فا میں زیادہ موسیقائی لگتی ہے اور میں نجانے کیوں تمہیں اردو میں یہ بتان سے قاصر ہوں کہ ہاں محبت میں بد عقیدہ واقع ہوا ہوں کیونکہ رندوں کے ہاں تو بدعقیدگی کا الزام ایک فخر اور انعام ہوتا ہے جبکہ یہاں تےم ایک ناقص حالت کی جانب اشارہ کررہی ہو۔آج الفاظ کی تنگ دامانی کے احساس سے جتنا میں دوچار ہوں اتنا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ویسے عربی والوں نے اسے انتہائی شاندار مرکب لفظ سے تعبیر کیا ہے ” سوء النية” ۔لیکن ساری اگر یہ تمہارا معاملہ نہ ہوتا تو میں بے دھڑک اس کو قبول کرلیتا مگر مشکل ہے کہ تم سے اپنی نسبت کرنی ہو اور نیت کے بری ہونے کا تصور کروں یہ مرجانے سے کہیں زیادہ سخت اور مشکل بات ہے۔ویسے ہندی میں اسے “برا وشواس ” کہتے ہیں اور یہ زرا مجھے قدرے بے ضرر لگتا ہے۔ویسے اگر اسے فریب زدہ وشواس کہہ لیا جائے تو کیا یہ مطلب کو مسخ کرنے جیسے فتوے کی زد میں تو نہیں آجائے گا۔ویسے تم نے سیکنڈ سیکس بارے جو کچھ لکھا ہے اس طرح سے میں نے تو اس کتاب کو پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا بلکہ مجھے لگ رہا ہے کہ جتنا تم نے پچھلے خط میں محبت بارے ظاہر کیا اس سے کہیں زیادہ چھپا لیا تھا اور اب تو میں مجھے وہ سب ایک پزل لگ رہا ہے جس کا حل تم نے اپنے اس دوسرے خط میں لکھ بھیجا ہے۔تم نے ٹھیک لکھا کہ مرے اندر کا خانہ بدوش بدھی مان یہاں پیرس میں تیزی سے بڑھتا ہوا “کیاآس” اور ہیجان کے سامنے کسی سرنڈر جیسے کیفیت کا شکار ہوچکا ہے اور میں نے وہاں کراچی کی گلیوں میں جو سائیکوسوشل فریڈم پائی تھی اسے یہاں کی گلیوں میں کھودیا ہے۔میں سچی بات یہ ہے کہ “شرمندہ باش ” ہوں۔اور شاباش کا ہرگز مستحق نہیں ہوں کیونکہ اب نہ تو میں جھوم کے کہیں بھی بیٹھ جانے کا عادی  ہوں نہ ہی کسی بھی جگہ “مئے خانہ معرفت ” بنالینے کے قابل ہوں۔ویسے کیا زبردست جبر کے ہوتے واقعی مستند عشق کا حصول ناممکن ہوتا ہے۔ویسے میں تو سچی بات ہے ابتک یہی سمجھتا رہا ہے کہ محبت ہی سب کچھ ہوتی ہے اور ایک چاہنے والا دوسرے چاہنے والے کے آئینے میں اپنا آپ دیکھتا ہے اور اسی کے زریعے سے زندگی کے معانی پاتا ہے مگر تم نے لکھا ہے کہ سند عشق پانے کے لئے محبت کرنے والوں کو ایک دوسرے کی آزادی اور برابری کا تعین ضروری ہوتا ہے۔تم نے کہا کہ ہمارے ہاں رومانوی محبت “برے وشواش ” کے بوجھ تلے دبی رہتی ہے اور ہم اپنے محور محبت کی شرطوں پہ زندگی گزارتے ہیں یا اسے اپنی شرائط کے گرد گھومتا دیکھنا چاہتے ہیں اور اپنی ہستی اور وجود کو یا تو مرکز توجہ بناکر اپنے پیارے کو اس پہ قربان ہوجانے کو کہتے ہیں یا اپنے پیارے کے اوپر اپنی ہستی قربان کرتے ہیں۔اور تم کہتی ہو کہ یہ وجودیاتی قربانی “برے وشواس پہ مبنی رومانوی محبت ” ہے جو جبر کو غائب کرنے کی بجائے اسے رومنٹی سائز کرڈالتی ہے۔اور عورت کے کیس میں یہ جبر پہ جبر کو مسلط کرکے اسے آزاد ہونے کا جھوٹا سرٹیفکیٹ دینے کے مترادف ہے۔میں اتنے ظالمانہ ، کرخت ، ننگے اور چیڑپھاڑ دینے والے سچ سے آنکھیں چار کرنے کی ہمت لا ہی نہیں پارہا ہوں۔اور سچی بات ہے کہ میں بدن سے آگے سفر ہی نہیں کرپارہا ہوں۔بدن میں چند اعضاء ہی جو لے دے کے مرے اعصاب پہ سوار لگتے ہیں اور جسے “وجود ” کہتے ہیں اس کو مکمل طور پہ محسوس کرنے اور اسے سوچنے سے اپنے آپ کو قاصر پاتا ہوں۔یہ مجھے کیا ہوگیا ہے۔اتنا کثافت زدہ میں نے اپنے آپ کو کبھی محسوس نہیں کیا تھا اور اسقدر گدلا بھی۔ساری!ہم مردوں کی اکثریت کو کبھی “برے وشواس پہ مبنی رومانوی محبت ” کے گدلے پن سے نجات مل پائے گی۔اب تو مجھے یہ شک بھی ہونے لگا ہے کہ میں تمہارے اور اپنے رشتہ محبت میں کہیں اس “کامل دوستی ” کو بھی پاتا ہوں کہ نہیں جسے تم مستند پیار کی لازمی شرط کہتی ہو اور جب “کامل دوستی ” تشکیک کا شکار ہو تو وہ جو ملکر “آزاد اور برابری ” کی دنیا کو کیسے دریافت کرنے کے عمل میں ہوں گے جسے تم پھر مستند رومانوی محبت کی ایک اور لازمی شرط بتلاتی ہو۔میں تو بہت گڑبڑا گیا ہوں۔مرے تخیل پہ بری طرح سے دھند بلکہ کہر چھائی ہے جس کی سردی سے مرا خیال فریز ہوا جاتا ہے۔میں جسے ہجر زدگی سمجھ کر خود کو مہان عاشق سمجھے بیٹھا تھا وہ پورا دیکھنے سے آنکھ کی معذوری لگ رہی ہے اور اس کیفیت سے خود کو باہر لانے کی جتنی کوشش کررہا ہوں اتنا ہی زیادہ دھنستا جارہا ہوں۔تم نے نطشے کو آواز دے ڈالی ، آوارہ جرمن دانش ور کی بدھی کا سہارا لیا ہے اور ميں ان میں سے کسی ایک کو بھی آواز دینے سے قاصر ہوں۔مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ میں نے ابتک شاہ حسین،بلھے شاہ،فرید عطار، سچل سرمست سر کےبل کھڑا کیا ہوا تھا اور کتنی مصیبت ہے کہ ان کو پیروں کے بل کھڑا کرکے پڑھنے سے قاصر ہوں اور محسوس کرنے کی منزل تو جیسے کبھی آئی نہیں تھی۔جہالت کی ثقالت مری کمر توڑے دے رہی ہے۔ویسے تم بلا کے تجاہل عارفانہ سے کام لے رہی ہو اس خط کو مجھے پوسٹ کرنے کے بعد سے۔کہتی ہو کہ تم محو حیرت ہو کہ میں اتنا خاموش کیوں ہوں اور بولتا کیوں نہیں ہوں؟انت الحیب الذی ترجی شفاعتک ۔۔۔۔۔۔تم وہ دوست ہو جس کی شفاعت کی مجھے امید ہے۔اور تم ہی ہو جس کا دامن میں پکڑ کر اس برے وشواس والی رومانوی محبت کے بوجھ سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔اور اس رومانوی محبت کو پاسکتا ہوں جسے دو آزاد،برابر اور کامل دوست کرسکتے ہیں اور اپنے وجود و ہست کو فنا ہونے سے بچاسکتے ہیں۔مجھے اس بھنور سے نکالو اس سے پہلے میں ڈوب جاؤں اور کبھی ابھر نہ سکوں۔

فقط تمہارا

ع۔ح

 

 

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s