بلوچستان اور کشمیرکا کیس کیسے مختلف ہے ؟

 

 

پانچ فروری آتا ہے تو ہمارے ہاں دائیں بازو کی تنظیمیں بڑے زور و شور سے کشمیر کی دھائی دینے لگتیں اور اس میں سے سب سے زیادہ بلند آواز پاکستان کے اندر بڑے دھڑلے سے کام کرنے والی جہادی اور فرقہ پرست عسکریت پسند دیوبندی اور وہابی تنظیموں کی ہوتی ہے۔گزشتہ ایک عشرے سے پاکستانی ریاست کی غیر منتخب ہئیت مقتدرہ ، دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی اشیر باد اور سب سے بڑھ کر سعودی عرب کی مہربانی سے “کشمیر ” پہ سب سے زیادہ دھائی ہمیں ماضی کی لشکر طیبہ اور حال کی جماعت دعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن ( اب جبکہ حافظ سعید صاحب سرکاری مہمان اور جماعت دعوہ کے نام سے کام کرنا مشکل تو دفاع پاکستان کونسل اور تحریک آزادی جموں و کشمیر کے بینر استعمال ہورہے ہیں)کی سنائی دیتی ہے۔حافظ سعید ہوں،جماعت اسلامی کے سراج الحق ہوں،جے یو آئی ف اور س کے بالترتیب فضل الرحمان و سمیع الحق ہوں یا پھر اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان کے محمد احمد لدھیانوی ،حرکۃ المجاہدین کے کمانڈر فضل الرحمان خلیل ہوں اور ان کا ہمنواء پاکستان کا لاہور اور کراچی کے مالکان سے بھرا اردو پریس ہو سب ملکر کشمیریوں کی مظلومیت کا رونا روتے ہیں اور ان کو کشمیری نوجوانوں کے لاشے، کشمیری عورتوں کی عصمت دری،ان پہ برستی گولیاں، آنسو گیس کے شیل آٹھ آٹھ آنسو رلاتے ہیں۔یہ ہندوستان کی فوج ، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں، اقوام متحدہ کی قرادادوں کا زکر ہوتا ہے، یورپی یونین کو پکارا جاتا ہے، مسلم ممالک کے حکمرانوں کو شرم دلائی جاتی ہے۔اور اس بنیاد پہ ” سبیلنا سبیلنا الجہاد الجہاد ” کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔اور جو جتنا بلند آواز میں کشمیر کے لئے بولے اسے اتنا ہی بڑا محب وطن اور اگر مسلمان ہے تو اتنا ہی بڑا سچا اور حقیقی مسلمان ہونے کا سرٹیفیکٹ ملتا ہے۔اور پاکستان کا اردو پریس ، جہادی نیٹ ورک ، تکفیری نیٹ ورک اور پاکستان کا محموعی دایاں بازو بار بار سید علی گیلانی کا زکر تو کرتا ہے لیکن اس تحریک کے دوسرے کردار جن میں یاسین ملک(جموں کشمیر لبریشن فرنٹ ) ، شبیر شاہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، میر واعظ عمر فاروق (حریت کانفرنس گروپ ) کا تذکرہ کم ہی آتا ہے۔

 

پاکستان کے ان سارے اوپر زکر کئے گئے کرداروں کو اگر ہندوستان کے اندر سے کوئی کشمیری لوگوں کی آزادی کی حمایت کردے اور ان کے موقف کو ٹھیک قرار دے دے تو وہ بھی ان کا دیکھتے دیکھتے ہیرو بن جاتا ہے۔ارون دھتی رائے کی یہ لوگ بہت ہی تعریف کرتے ہیں۔اور ابھی ایک اور جے این یو کی اسسٹنٹ پروفیسر مینن نے بھی کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ ماننے سے انکار کیا ہے اس کی بہت چرچا ہے اور ہمارے کئی ایک کشمیر کا ڈھول پیٹنے والوں کی نظر میں وہ بھی جلد ہی ایک بہادر خاتون کا رتبہ حاصل کرلیں گی۔

لیکن جن دلائل اور جن باتوں کی وجہ سے کشمیر پہ کشمیری آزادی پسندوں کی حمائت کی جاتی ہے اور ارون دھتی رائے سمیت جن لوگوں کو ہندوستان کے سچے اور ایماندار لوگ مانا جاتا ہے اگر آپ ان دلائل اور باتوں کی روشنی میں بلوچستان کا کیس ڈسکس کرنے لگیں اور اس پہ بات کرنے لگیں تو آپ پہ فوری طور پہ غداری اور ملک دشمنی کے فتوے آنے شروع ہوجاتے ہیں۔ویسے دلچسپ کیس یہ بھی ہے کہ جن باتوں کی وجہ سے براہمداغ بگٹی ، پروفیسر نائلہ قادری،کریمہ بلوچ،حیربیار مری ،مہران بلوچ ، شفیع برفت اور پاکستان میں غدار اور ملک دشمنوں کے ہاتھوں کھیلنے والے قرار پاتے ہیں انہی باتوں پہ وہ ہندوستان میں ہیرو قرار پاتے ہیں۔اور ہندوستان کے اندر ارون دھتی رائے غدار قرار پاجاتی ہے۔

 

میں نے کشمیر پہ یاسین ملک اور ارون دھتی رائے دونوں کے خیالات جاننے کا فیصلہ کیا۔یاسین ملک ہندوستانی ٹی وی چینل کے ایک معروف پروگرام ” جنتا کی عدالت ” میں تشریف لائے تھے۔اور ان کا ایک انٹرویو ایک ہندوستانی ویب نیوز سائٹ پہ موجود ہے۔یاسین ملک “جنتا کی عدالت ” پروگرام میں بہت تفصیل سے کشمیر پہ اپنے موقف کا اظہار کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہندوستانی حکومت فوج، پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے بے پناہ جبر کے زریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانا چاہتی ہے، وہ سمجھتی ہے کہ گولیاں برساکر، جیلوں میں بند کرکے، ٹارچر سیلوں میں اذیت دیکر اور ماورائے عدالت جعلی پولیس اور فوجی مقابلوں کے زریعے لوگوں کو مارکر کشمیریوں کے مقدمے کو موت سے ہمکنار کردے گی۔یہ نریندر مودی سمیت سب حکومتوں کی بھول ہے۔یاسین ملک کہتے اس موقعہ پہ فیض صاحب کے اشعار سناتے ہیں اور تیر کے سامنے سینہ آزمانے کی بات کرتے ہیں۔

 

ہندوستانی نیوز ویب سائٹ کو دئے جانے والے انٹرویو میں وہ کہتے ہیں کہ برہان وانی سمیت جس نے بھی ہندوستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں اس کا دوش ہندوستان کی ریاست کو جاتا ہے۔وہ بڑے مضبوط لہجے میں کہتے ہیں

 

Wani was creation of India

برہان وانی ہندوستان کی تخلیق تھا

ارون دھتی رائے ہندوستان کے اندر “آزادی کانفرنس ” میں بلایا جاتا ہے جس میں یاسین ملک، سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق بھی شریک تھے۔یہ کانفرنس دلّی میں ہوئی اور اس کانفرنس میں ارون دھتی رائے دلّی کے اندر بیٹھ کر جموں و کشمیر کو ہندوستان کا حصّہ ماننے سے انکار کرتی ہیں۔اور اپنی تقریر میں کہتی ہیں کہ

” آزادی کا پہلا مطلب یہ ہے کہ کشمیریوں کو آپس میں مل بیٹھ کر یہ سوچنے کی آزادی دی جائے کہ وہ کس چیز کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، ان کو کوئی باہر سے ڈکٹیٹشن نہ دینے آئے،وہ خود اپنے مستقبل کے سوال بارے بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ قوموں کو حق خودارادیت دینے کی بات بالکل جائز ہےاور وہ کہتی ہیں کہ پہلے مرحلے میں کم از کم آزادی جیسے تصور پہ بات تو کرنے دی جائے۔اور وہ کہتی ہیں کہ جب میں انصاف کی بات کرتی ہوں تو انصاف سے مراد ہر مذہبی، نسلی ، جات کے لئے انصاف کی بات ہوتی ہے، ہر عورت کے لئے انصاف کی بات ہوتی ہے۔اور یہ جو کشمیر سے لیکر ناگا لینڈ ، آسام ، چھتیس گڑھ میں فوجی جتھے ہیں، مختلف قسم کے نیم فوجی جتھے ہیں اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں یہ اشراف کے مفادات کی ںگرانی کرنے کے لئے وہاں جمع ہیں اور وہاں کی مقامی آبادیوں پہ ظلم کررہی ہیں اور ان کا بولنے کا حق بھی چھین رہی ہیں”

 

یاسین ملک کہتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان ، یورپی یونین اور امریکہ سمیت کئی لوگوں کے کہنے پہ بندوق کا راستہ ترک کیا اور خود ہندوستانی ریاست کے حکمرانوں نے ان سے کہا کہ آپ سیاسی اور عدم تشدد پہ مبنی تحریک چلائیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن ہیماری عدم تشدد پہ مبنی پرامن تحریک کا جواب کیا ہے،600 ساتھی مرے شہید ہوچکے، بدترین تشدد اور بار بار قید کئے جانے اور چھے مرتبہ قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے۔یاسین ملک کا کہنا ہے کہ کشمیر میں تشدد ، بندوق کی سیاست کا زمہ دار ہندوستان ہے اور وہ کہتے ہیں کہ کشمیری عوام دونوں ممالک یعنی پاکستان اور ہندوستان کی باہمی آویزش کے سب سے بڑے متاثرہ ہیں اور ہم ہاتھ جوڑ کے کہتے ہیں کہ ہمیں معافی دے دیں۔

 

یہ ساری باتیں یاسین ملک، سید علی گیلانی ، ارون دھتی رائے وہاں کشمیر ، ہندوستانی شہروں اور پھر ہندوستان کے کارپوریٹ میڈیا پہ کررہے ہیں۔ہندوستان کی حکومتوں ، وہاں پہ انتہائی دائیں بازو کی جانب سے سخت ردعمل کا نشانہ بھی وہ بنے ہیں جبکہ ان پہ بغاوت تک کے مقدمات بھی درج کئے گئے لیکن یہ آن دی ریکارڈ بات ہے کہ ان کا ناطقہ ویسے بند نہیں کیا گیا جیسے ناطقہ پاکستان نواب خیر بخش مری، عطاء اللہ مینگل ، ڈاکٹر اللہ نذر ، براہمداغ بگٹ، حربیارمری ، مہران بلوچ، کریمہ بلوچ اور زاہد بلوچ کا کیا گیا۔اختر مینگل اس وقت پاکستان واپس آکر بلوچ سیاست میں سرگرم ہوسکے جب انہوں نے پاکستانی آئین اور پارلیمانی سیاست کا راستہ اختیار کرنے اور آزادی پسند راستے سے منحرف ہوجانے کی غیر اعلانیہ یقین دہانی نہ کرائی۔پاکستان کے اندر بلوچ آزادی پسند تحریک بلوچ نیشنل فرنٹ ، بلوچ ریپبلکن پارٹی اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن –آزاد کی مرکزی اور سرگرم قیادت کو یا تو اغواء کرلیا گیا یا ان کو ماردیا گیا یا پھر ان کو جلاوطنی پہ مجبور کردیا گیا۔بلوچستان پہ مین سٹریم میڈیا کو مکمل سرنڈر کرنے پہ مجبور کردیا گیا اور پاکستان کے ٹاپ کے صحافی اور تجزیہ نگار جو پاکستانی ریاستی اداروں کی بلوچستان میں جاری پالسیوں پہ تنقید کررہے تھے ان کو خاموش کرایا گیا اور جو نہ خاموش ہوا اسے ایسے ڈرایا گیا کہ اس نے بعد ازاں اس موضوع پہ بات کرنے سے توبہ کرلی۔جس طرح سے بھارت نے کشمیر کے اندر پرامن سیاسی تحریک کے ایک بڑے حصّے کو عسکریت پسندی کا راستہ اختیار کرنے پہ مجبور کیا اس سے کہیں زیادہ بھونڈے اور جابرانہ طریقے سے پاکستانی ریاست کے اداروں نے بلوچ قومی تحریک آزادی کے ایک حصّے کو عسکریت پسندی کی جانب دھکیل دیا۔بلکہ بلوچ آزادی پسندوں کے پرامن سیاست کرنے کے حق پہ بات کرنا تو دور کی بات ہے پاکستان میں اگر آپ بلوچوں کی نسل کشی،جبری گمشدگیوں، ریاستی اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی پہ ہی آواز اٹھاتے ہیں تو ایک دن آپ کو بھی غائب کردیا جاتا ہے اور پھر آپ کی خوش قسمتی یہ کہلاتی ہے کہ جبری غائب ہونے کے بعد آپ سلامتی کے ساتھ واپس آجائیں۔

 

یاسین ملک، علی گیلانی ، شبیر شاہ سمیت کئی ایک آزادی پسند بھارتی قید اور ٹارچر سیلوں سے واپس آکر بھی کشمیر کی آزادی پہ بات کرتے ہیں اور وہ بھارتی ریاستی مظالم جو دوران قید ان پہ ڈھائے گئے پوری دنیا کو بتانے کے لئے آزاد رہتے ہیں لیکن پاکستان کے اندر جو شاعر ، ادیب ، دانشور ایک مرتبہ غائب ہوجائے اگر واپس آتا ہے تو کچھ نہیں بتاتا کہ اس کو لیجانے والے کو تھے اور کیسے وہ واپس آئے؟ کیا اسلام آباد سے غائب ہونے والے پروفیسر ڈاکٹر سلمان حیدر اور کراچی سے غائب ہونے والے واحد بلوچ کسی کو کچھ بتانے کے قابل ہوئے؟ اور وہ چپ کیوں ہیں؟ اور پھر سوال یہ ہے کہ منیر بلوچ جبری گمشدگی کے بعد واپس آئے تو وہ پاکستان میں رہ کر اپنےر رہے؟

بارہ ہزار بلوچ جبری گمشدہ ہیں، درجنوں اردو بولنے والے، درجنوں سندھی قوم پرست ، متدد پشتون اور حال ہی میں کئی ا غائب کرنے والوں کے بارے میں کیوں بات کرعنے سے قاصیک شیعہ نوجوان جبری گمشدہ میں شامل ہیں جبکہ سندھی،بلوچ ، پشتونوں کی مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں، 22 ہزار سے زائد شیعہ ملک میں جاری شیعہ نسل کشی کا شکار ہوگئے ہیں، اور تکفیریوں ، جہادیوں اور مذہبی بنیاد پرستوں نے اس ملک کے اندر شیعہ،ہندؤ ، کرسچن اور احمدیوں اور صوفی منش و سیکولر لبرل لوگوں پہ خوف کی فضا طاری کررکھی ہے اور ان کے خلاف کفر اور توہین مذہب کا خوفناک ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے اور جن کے حق میں بولے وہ بھی اس فتوے گیری کی زد میں آجاتا ہے۔اس ساری صورت حال پہ بولنے والے غدار ، گستاخ اور ایجنٹ ہیں اور اگر آپ کشمیر کے لئے انہی وجوہات کی بنیاد پہ بولے تو آپ سے بڑا محب وطن اور اسلام پسند کوئی نہیں ہے۔

 

لوگ کہتے ہیں کہ کشمیر اور بلوچستان کے معاملات الگ الگ ہیں اور وہ کشمیر کے باب میں سٹیل و ربڑ کی گولیوں کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے لیکن بلوچستان پہ ہونے والے فوجی آپریشن، فضائیہ کا استعمال اور وہاں سے ملنے والی اجتماعی قبروں کو وہ بڑا جرم خیال نہیں کرتے۔کشمیر میں شہداء کا قبرستان اور کراچی میں وادی حسین ، کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ کے قبرستان اور بلوچوں میں تو اکثریت کی قبریں بھی نامعلوم ہیں ان کا زکر کرنے سے پاکستان میں شرمانے کا کلچر بہت گہرا ہے۔اور ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی ٹی وی چینل ایسا نہیں ہے جو اس موضوع پہ بات کرنے کے لئے لوگوں کو دعوت دے اور پاکستان کا پرنٹ میڈیا اس موضوع پہ کوئی کالم اور مضمون چھاپنے کو تیار نہیں ہے۔اس لئے بلاگ لکھا جاتا ہے اور غائب ہونے کا انتظار بھی۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s