یہ بیانیہ بھی نہیں چلے گا

 

بول ٹی وی چینل پہ عامر لیاقت کا پروگرام “ایسے نہیں چلے گا ” اگرچہ پاکستان میں جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک اور ڈان گروپ کی مناپلی کے خلاف ایک اور میڈیا گروپ کی کوشش ہے اور یہ اس جنگ کا جواب بھی ہے جو اس ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے خلاف دیگر میڈیا گروپوں نے مل کر چھیڑی تھی۔لیکن یہ میڈیا مالکان کی جنگ سے بڑھ کر اور کچھ بھی ہے۔صرف “ایسے نہیں چلے گا ” ہی نہیں بلکہ اس ٹی وی چینل کے اور پروگرام ” آج کی سب سے بڑی خبر” جیسے پروگرام بھی اور اس میں “ڈان لیکس ” کی طرح کے پروگرام ان کا مقصد صرف میڈیا مارکیٹ میں اپنے حریفوں کو دیوار سے لگانا ہی نہیں بلکہ اس سے آگے بھی بہت کچھ ہے۔

 

میں نے ہمیشہ پاکستانی کمرشل لبرل مافیا پہ تنقید کی ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ عوام کی لڑائی لڑانے میں مصروف نہیں ہیں اور نہ ہی ان کو اس ملک کے محنت کشوں ، کسانوں، طالب علموں ، عورتوں ،اقلیتوں کی فکر ہے۔یہ کمرشل لبرل مافیا پاکستان کی ریاست کی مقتدر قوتوں کی باہمی کشاکش اور اور ان کے عالمی اتحادیوں کی باہمی لڑائیوں میں ایک کیمپ کا حصّہ ہے اور اس سے مال ، طاقت ، مین سٹریمینگ ، پروجیکشن سب کچھ حاصل کررہا ہے۔پاکستان کے سچے ، مخلص اور دردمند لبرل، ترقی پسند ، بائیں بازو کے لوگ اور مارکسسٹ ان کی اس مفادات کی جنگ کا حصّہ بن رہے ہیں۔

 

میرا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان کا لبرل سیکشن ریاست کے ظالمانہ طبقاتی اور سامراج نواز کردار اور کارپوریٹ سرمایہ داری کے ستونوں کی بربریت بارے شعوری طور پہ چپ رہتا ہے۔اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی لوٹ مار، میگا پروجیکٹس سے ہونے والی بربادیوں بارے سچ بولنے سے بھی گریز کرتا ہے۔طبقاتی سوال کو بار بار چھپاتا ہے۔

 

پاکستانی لبرل سیکشن کا ایک بہت بڑا حصّہ سعودی عرب ، تکفیر ازم ، جہاد ازم کے سول کارپوریٹ سرمائے اور اس کی یہاں کی سیاسی مذہبی تنظیموں سے یاری اور ان کی ایک نہ ختم ہونے والی غیر دیوبندی و سلفی فرقوں اور مذاہب کے خلاف چلائی جانے والی نفرت انگیز مہم اور اس سے جنم لیںے والی شیعہ ، صوفی سنّی نسل کشی ، مذہبی اقلیتوں پہ ہونے والے حملوں کے بارے میں انکار ، ابہام اور جواز جیسے رویوں کا قائل رہا ہے۔

 

لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ہم اس بات کو نظر انداز کردیں اور اس پہ بات کرنا ہی بند کردیں جو اس وقت پاکستان کے چند ایک بڑے ٹیلی ویژن نیٹ ورک اور چند اردو اخبارات کے زریعے سے کیا جارہا ہے۔ بول ٹی وی ہو کہ اے آر وائی ، اسی طرح سے پنجابی اور کئی ایک اردو بولنے والے اخباری مالکان کے اخبارات ہوں جن میں باپ چیف ایڈیٹر تو بیٹا ایڈیٹر اور ہائر اینڈ فائر کے اختیارات بھی اپنے ہی پاس رکھے گئے ہوں۔یہ عامر لیاقت ، ابراہیم، صابر شاکر ، عارف حمید، کاشف عباسی ، محمد ارشد ، ض۔ش ،و۔م،وغیرہ وغیرہ کیا کررہے ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں؟

 

ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد اس ملک میں ایک بیانیہ وہ ہے جس نے اردو، دو قومی نظریہ، اسلام اور پاکستان کے نام پہ قسم کھائی کہ اس ملک کے عوام کے بنیادی حقوق پہ ڈاکہ ڈالا جاتا رہے گا، اس ملک میں لوگوں کی جو دیگر شناختیں ہیں ان کا انکار کیا جائے گا، مزدور ٹریڈ یونینز ،طلباء یونینز ، سیاسی جماعتوں کی آزادانہ ترقی جیسے حقوق کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔اور یہاں پہ جو لوگ پہلے پاکستان کے مطالبے کو ہی کفر خیال کرتے تھے یا وہ وطن کے نام پہ قومیت کی بات کرتے تھے ایک دم سے پاکستان کے مامے چاچے بن کر اس ملک کو سعودی عرب بنانے کی ٹھان لیں گے اور جو ان کا اصل چہرہ ان کو دکھانے کی کوشش کرے گا اسے فوری طور پہ اسلام دشمن اور ملک کا غدار قرار دے دیا جائے گا۔

 

اس ملک میں ون یونٹ بنایا گیا، بنگالیوں ، سندھیوں ، بلوچوں، سرائیکیوں ، پشتونوں کے قومیتی ، صوبائی حقوق غصب کئے گئے، بنگالیوں کی نسل کشی کی گئی ، اور سندھیوں پہ ظلم ڈھائے گئے اور آج ایک مرتبہ پھر ہم 60ء اور 70ء اور 80ء کی دھائی میں توڑے جانے والے مظالم کے سلسلے کو دوھراتا جاتا دیکھ رہے ہیں۔بلوچ کہتے ہیں کہ ہماری نسل کشی ہورہی ہے،سندھی کہتے ہیں کہ ان کے لوگوں کو اٹھایا اور مارا جارہا ہے، پشتون کہتے ہیں کہ ان کے علاقوں کو “بوٹوں والوں کی راجدھانی ” بنادیا گیا ہے، گلگت بلتستان والے کہتے ہیں کہ ان کو عملی طور پہ ایک کالونی میں بدل دیا گیا ہے۔شیعہ کہتے ہیں کہ ان کی مذہب اور عقیدے کے نام پہ نسل کشی کرنے والوں کو سیاسی،عدالتی ، عسکری یہاں تک کہ صحافتی اسٹبلشمنٹ کے اندر طاقتور لابیاں حمایت دے رہی ہیں اور ان کی طاقت میں اضافہ کیا جارہا ہے۔صوفی سنّی کہتے ہیں کہ ان کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا جارہا ہے اور ان کی مارجنلائزیشن کا پروسس جاری ہے اور سعودی عرب پاکستان کی سیاست،عساکر ، عدالت و صحافت کا مائی باپ بنا ہوا ہے۔تھر کے لوگ کہتے ہیں کہ ان کی تہذیب ،ان کے کلچر کو تباہ کیا جارہا ہے۔ سی پیک کو چین کی سامراجی مداخلت کا نام دیا جارہا ہے۔سرائیکی کہتے ہیں کہ ان کی زمینیں اور ان کے وسائل کی پنجابی حکمران طبقہ چینی ، عرب ،امریکی  و دیگر سرمایہ دار طبقوں سے مل کر لوٹ مار کررہا ہے اور ان کو اقلیت میں بدلنے ، ان کی شناخت کو گم کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنایا گیا ہے۔

 

پاکستان کے مظلوم ، محکوم  ،پسے ہوئے مجبور طبقات ، کمیونٹیز کی یہ ساری شکائیتیں پاکستان کے حکمران طبقات سے ہیں اور وہ یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ پاکستان کے حکمران طبقات ان پہ ظلم ،جبر ، ستم کرنے میں ، ان کی لوٹ کھسوٹ کرنے میں کوئی دوسری رائے نہیں رکھتے لیکن ان کے باہمی تضادات کی ہانڈی بیچ چوراہے پہ آکر پھوٹنے لگتی ہے تو وہ الگ الگ جھنڈے اٹھاکر اپنے مفادات کا تحفظ کرنے لگتے ہیں۔

 

پاکستان کا “ملی بز ” یعنی فوجی سرمایہ پاکستانیت ، اسلام ، دو قومی نظریہ اور حب الوطنی کا جھنڈا اٹھا کر ماضی میں کی جانے والی مہم جوئی ، غلطیوں ، بلنڈرز اور مظالم کو جواز دینے کے چکر میں ہے۔اور وہ اپنے پاکستانی شاؤنزم ، دوسری شناختوں کی نفی کرنے اور پاکستان کے اندر رہنے والے سرائیکیوں،سندھیوں ، بلوچوں ،پشتونوں ، گلگتی بلتی ،کشمیری اقوام کے حقوق دبانے اور ان کے خلاف پورے ریاستی نیٹ ورک کو استعمال کئے جانے والے حکمران طبقات کے پروجیکٹ میں وہ اپنے رول اور کردار پہ شرمندگی محسوس کرنے اور متاثرہ لوگوں سے معافی مانگنے کی بجائے اور یہ بتانے کی بجائے کہ اس نے کن طبقات اور گروہوں کے ساتھ ملکر یہ سب کچھ کیا اس سب کچھ کے بالکل ٹھیک ہونے ، اسے ہی پاکستانیت قرار دینے اور اسے ہی عین حب الوطنی قرار دینے پہ تلا ہوا ہے۔یہ سمجھتا ہے کہ اس نے 47ء سے لیکر 16 دسمبر 1971ء تک بنگالیوں کے ساتھ جو کیا ٹھیک کیا ، اس کا خیال یہ ہے کہ 5 جولائی 1977ء سے لیکر 17 اگست 1988ء تک اس ملک میں جمہوریت پسندوں ، سندھی ، بلوچ ،پشتون ، سرائیکی ،بلوچ ، دانشوروں ، ادیبوں ، طالب علموں ، اساتذہ ، شاعروں اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ٹھیک تھا اور عین اسلام اور پاکستانی حب الوطنی کے مترادف تھا۔شاہی قلعے کی جیلیں ، نجی ٹارچر سیل ، پھانسیاں ، کوڑے ، قید وبند سب کچھ ٹھیک تھا۔یہ کہتے ہیں کہ مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء سے لیکر دو ہزار آٹھ تک جو کیا ٹھیک تھا۔ڈاکٹر شازیہ مری کے ساتھ جو ہوا ٹھیک تھا ، بگٹی کا جو ہوا ٹھیک تھا۔یہ کہتے ہیں کہ 80ء سے لیکر ابتک جتنے حکمت یار ، فضل الرحمان خلیل، حافظ سعید ، حافظ مسعود اظہر ، حق نواز ، اعظم طارق ، مولوی عبدالعزیز،لدھیانوی ، طاہر اشرفی، ملک اسحاق، ریاض بسراء، اکرم لاہوری،عثمان کرد،رمضان مینگل،جاوید مینگل،منگل باغ،اور جتنی حزب ، شمس ،بدر ، لشکر ، جیش ہم نے بنائے ٹھیک تھے۔ساری حب الوطنی تھی، جہاد ازم ٹھیک ہے،تکفیر ازم ٹھیک ہے،عسکریت پسندی ٹھیک ہے،اختلاف کرنے والوں کی نسل کشی ٹھیک ہے۔یہ کہتے ہیں کہ سندھ میں بھٹو کو دفن کرنے کے لئے پہلے جماعت اسلامی پہ ہاتھ رکھیں تو درست ، اسے ہٹاکر مہاجر قومی موومنٹ لائیں تو درست ،پھر مہاجروں کے بچّے ماریں ،ان کو غدار کہیں تو درست، پی پی پی پہ لک توڑنے کا الزام لگائیں تو درست ، پھر غدار باپ کی بیٹی کو وزیراعظم بنائیں تو درست ،اس کی اسمبلی توڑین تو درست، اجمل خٹک کابل بیٹھے تو غدار ،تمہارے پاس بیٹھے تو محب وطن۔کہتے ہیں کہ 65ء کی جنگ سے پہلے آپریشن جبرآلٹر کا تذکرہ مت کریں ، 48ء کی جنگ سے پہلے پاکستانی فوجیوں کی کشمیر میں داخلے کا زکر مت کریں، 71ء کی جنگ سے پہلے کے واقعات کو مت دوھرائیں ، ڈھاکہ یونیورسٹی میں کیا ہوا تھا اس بارے مت بولیں۔لیاقت علی خان حزب اختلاف کے ساتھ اور اپنے مسلم لیگ میں حریفوں کے ساتھ کیا کررہے تھے اس بارے زکر مت کریں۔قائد اعظم کی کابینہ کے اراکین کے مذہبی پس منظر پہ روشنی مت ڈالیں،اور جناح کی دستور ساز اسمبلی سے پہلے خطاب کا زکر مت کريں۔حمود الرحمان کمیشن رپورٹ ، منیر کمیشن رپورٹ کا زکر مت کریں،ایبٹ آباد اسامہ بن لادن والے قصّے کو مت لائیں۔کارگل پہ پڑی گرد کو مت جھاڑیں ، بس جو ہم کہیں وہ مان لیں۔

 

مان لیں کہ اس ملک میں بلوچ ، سندھی ، پشتون ، گلگتی بلتی ، سرائیکی سب کے سب اپنی شناختوں سے رضاکارانہ طور پہ دست بردار ہورہے ہیں، مان لیں کہ غائب ہونے والے خود ہی غائب ہوتے ہیں،مسخ شدہ لاشیں لاشیں نہیں موم کی ڈمی ہیں، مان لیں کہ کسی بندوق والے کے ہاتھ بلوج عورتوں پہ نہیں پڑتے ہیں، شاذیہ مری ڈرامہ کررہی تھی ، نفسیاتی مریض ہے اور اس کے ریپ کا قصّہ ایک میلوڈرامہ کے سوا کچھ نہیں تھا۔اس پہ بات مت کريں کیونکہ اس طرح کی بات بھارتی چینلز پہ ہورہی ہے،طارق فتح کررہا ہے۔امریکی کرسٹائن فرئر کررہی ہے تو وہ کررہے ہيں تو ہميں کرنی نہیں بنتی اور جو کرتا ہے وہ ایجنٹ ہے، غدار ، دشمن ہے اور اگر اس پہ بھی باز نہ آیا تو پھر گستاخ ہے ، توہین کرنے والا ہے۔

 

مان لیں کہ فیض ، منٹو، وارث میر، جالب ، سبط حسن ، سجاد ظہیر،جی ایم سید، باچا خان ، حسین شہید سہروردی،صمد خان اچکزئی، غوث بخشن بزنجو، عطاء اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری، میاں افتخار الدین اور اس قماش کے سارے لوگ غدار تھے،ننگ اسلاف تھے کلنک کا ٹیکہ تھے ، نامور تو ہم ہیں اور جو کچھ آج ہم کررہے ہیں بس ٹھیک کررہے ہیں۔

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s