قمر رضا شہزاد اور دیوار خودنمائی

%d8%b4%d8%b9%db%8c%d8%a8-%d8%a8%d9%86-%d8%b9%d8%b2%db%8c%d8%b2

بنا ہے شاہ کا مصاحب

 

 

ترے جانے سے ہر شے میں کمی ہے
بس اک صدمہ زیادہ ہورہا ہے

بس یونہی گھاٹ پہ آ بیٹھتا ہوں
ورنہ دریا مرا کیا لگتا ہے

‏‏Moral Insanity

 

ہمیں اکثر بڑے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی زندگی کا ایک اہم حصّہ نظر آتی ہے اور عام آدمی ان کی زاتی زندگی میں اسے دیکھ کر بعض اوقات حیران ہوجاتا ہے لیکن اس کی وجہ سے ان کا ادب کبھی غیر متعلق اور کبھی رد نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان سے بڑے پیمانے پہ نفرت دیکھنے کو ملتی ہے۔لیکن نجانے کچھ کوتاہ قامت ان کی زاتی زندگی میں کجیوں کو زیربحث لاکر یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے کوئی بہت بڑا تیر مار لیا ہے۔ایسا ہی کچھ آج کل ایک صاحب کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کون ہے جو ان کی اس حرکت پہ شافی جواب دے گا۔

خرابی دل کی اس حد ہے کہ یہ سمجھا نہیں جاتا

کہ آبادی بھی یہاں تھی یا ویرانہ مدت کا

“تمہیں پتا ہے ؟ لوگوں نے منٹو کو جاننے کی مختلف طریقوں سے کوشش کی۔۔۔۔۔۔ وہ سن آف اے بچ اصل میں تھا کیا؟ کیا وہ ناری تھا؟ کیا وہ نوری تھا؟ ذہنی مریض تھا ؟ یا ایک فرشتہ؟ بہشتی تھا کہ جنتی ؟ میں چاہتا ہوں کہ پیشاب کردوں اس طرح کی ہر چیز کو جاننے کی کوشش پہ ۔تم کیسے سمجھوگے او بلڈی فول ؟ کیا تم نے کبھی سورج کو ویسے ڈوبتا دیکھا جیسے میں نے دیکھا؟تم کیسے سمجھ پاؤگے کہ میں جب عورت کو دیکھتا تو پہلے اس کے پیر ہی کیوں دیکھتا تھا؟ تو اپنی کوششیں چھوڑ دو۔اگر تمہیں منٹو کو دریافت ہی کرنا ہے تو اس کی کہانیاں پڑھو۔۔۔۔۔ وہ سارے مرد اور عورتیں جن کو تم گلیوں اور کھولیوں میں دیکھتے ہو، ویشیا گھروں میں تاڑتے ہو،ممبئی کے فلم سٹوڈیوز میں تمہیں نظر آتے ہیں ،ان میں تمہیں منٹو مل سکتا ہے۔(دوزخ نامہ ،رابن شنکر بال ص 103)

بیدل حیدری کو متشاعروں کو غزلیں فروخت کرتا دکھانے والو،اسے کچی شراب پی کر گالیاں بکتے دکھانے کے شوقین،اس کی امرد پرستی کے قصّے بڑھا جڑھاکر پیش کرنے والو، اس کی انانیت اور خود پسندی پہ طرح طرح کی باتیں کرنے والو، اس کے مطب خانے کو گھٹیا شراب خانہ بناکر پیش کرنے والو! اس نے اس سب سے جو شاعری کشید کی اس پہ بات کرتے ہوئے تمہاری زبانوں پہ آبلے کیوں پڑجاتے ہیں۔زرا اپنے شعروں کا وزن اس کے شعروں سے کرو اور اپنی اوقات بھی اس کے اشعار سے ماپ لو۔۔۔۔ ایسا تم کروگے نہیں کیونکہ اس سے تمہارے ہلکے پن کا پول کھل جائے گا۔

پاکستان کے ایک اوسط درجے کے شاعر سید قمر رضا شہزاد آج کل اپنی مبینہ خود نوشت کو ٹکڑوں میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پہ اپنی دیوار “خودنمائی” پہ پوسٹ کررہے ہیں۔اور اس “خودنوشت” کو نجانے کیوں انھوں نے میرٹھ سے ہجرت کرکے کبیروالہ بس جانے والے ایک بزرگ شاعر بیدل حیدری کی “ہجو” سے شروع کیا ہے۔اس حوالے سے ان کی دو پوسٹ ان کی دیوار۔۔۔۔۔ پہ لگی شاید خود ان کا اپنا منہ ہی چڑا رہی ہیں۔ان دو پوسٹوں کے نہ تو آغاز میں نہ ہی شروع میں انھوں نے بیدل کے “فن شعر ” پہ کوئی بات ہمیں بتائی ہے اور نہ ہی ان لوگوں کی کوئی مثبت رائے بیدل کے فن بارے اپنے پڑھنے والوں کو بتائی ہے جو بیدل کی شاعری پہ اکثر ان کے معاصر اردو شاعری کے بڑے ناموں نے برملا دی اور اردو شاعری میں ان کے مقام ومرتبے بارے نقادوں نے بھی جن آراء کا زکر کیا وہ بھی قمر رضا شہزاد نے نہیں کی۔قمر رضا نے بیدل حیدری کے بارے میں اپنے آپ کو ایک انتہائی سخت اور صاف گو شاہد اور نقاد بناکر پیش کیا ہے جسے صرف اور صرف سچ کہنا ہے۔ان کے اس پوسچر نے کم ازکم ان سے مجھے کچھ امیدیں لگانے پہ مجبور کردیا ہے۔اور میں نے ان کی دیوار خودنمائی پہ جاکر یہ پیغام لکھا  لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے ان کی شاعری اوسط درجے سے بھی نیچے جاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ویسے ویسے ان کی برداشت کی حد بھی ختم ہورہی ہے۔انھوں نے نہ صرف مرے کمنٹ کو ڈیلیٹ کیا بلکہ پہلے صرف مجھے ان فرینڈ کیا ہوا تھا اب بلاک آپشن پہ کلک کرکے غائب ہی کردیا۔اچھا جناب ایک مرے ہوئے آدمی کی شاعری کے محاسن زکر کئے بغیر اس کی زندگی کے تاریک گوشوں پہ بڑے اعتماد سے بات کرنا ٹھیک ہوگیا اور ہمارا سوال اٹھانا جرم ہوگیا۔ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔میں کونسا آپ کی دیوار خودنمائی پہ نظر نہ آنے سے معدوم ہونے والا ہوں۔میں تو شاعر کیا متشاعر بھی نہیں ہوں کہ کسی سٹیج پہ اپنی رونمائی پہ بین لگنے کے سبب سے جو مجھے ٹھیک نظر آتا ہے اسے بیان کرنے سے رک جاؤں گا۔آپ اگر مرے کمنٹ ڈیلیٹ نہ کرتے اور مجھے بلاک نہ کرتے تو میں شاید اپنی وال پہ یہ پوسٹ نہ لگاتا۔جن کی نظروں سے مرے سوالات کو آپ چھپانے کے خواہش مند ہیں ان میں سے اکثر مری وال پہ آتے ہیں۔تو اپنی وال پہ اسے پوسٹ کررہا ہوں۔

پیارے قمر رضا شہزاد!

“ہمیں انتظار رہے گا کہ بیدل حیدری کے ساتھ ساتھ آپ کتنے اور ان لوگوں کے بارے میں سچ لکھیں گے جو کبیروالہ ،خانیوال اور ملتان میں آپ سے زرا ‎سیئنر تھے یا یا آپ کے معاصر تھے اور ان کے بارے میں جو آپ نے دیکھا اور سنا اس بارے میں کتنا سچ لکھیں گے۔اس کے علاوہ کبیروالہ کے جاگیرداروں کے بارے میں کہ وہ کس کردار اور قماش کے مالک تھے ایسے کئی کردار ہیں جن سے میں بھی واقف ہوں۔ بیدل کے فن بارے آپ کی رائے کا انتظار ہے اور ان واقعات کا بھی جن میں احمد ندیم قاسمی کی سالگرہ کی کئی تقریبات لاہور میں قاسمی صاحب کی موجودگی میں صدارت بیدل حیدری سے کروائی گئی وہ واقعات بھی اور اس کے ساتھ ساتھ بیدل حیدری کے بارے میں احمد فراز سمیت کئی معروف قومی شاعروں کی ان ے فن کے حوالے سے کیا رائے تھی اس بارے میں اپنے پڑھنے والوں کو ضرور آگاہ کریں گے۔شاعر ،ادیب اور دانشور کی زاتی زندگی بارے لکھنا بالکل بھی کوئی معیوب بات نہیں ہے۔اور جس متشاعر کے پیسے دیکر بیدل سے غزلیں لینے کا ذکر آپ نے کیا وہ بے شک اب شاعری اور ادب کے  میدان میں نہ رہا ہو اس کا نام لکھنے سے کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئیے -وہ بیدل کی طرح عظیم شاعر تو نہیں تھا تو جب بیدل کا نام لکھا تو اس کا بھی لکھ دینے میں حرج کوئی نہیں ہے۔مجھے کبیروالہ کے آپ کے انتہائی قریبی دوست نے بتایا کہ آپ بیدل حیدری کے ہاں جاتے تو بہت نیاز مندی کا مظاہرہ کرتے تھے،ہاتھ باندھ کر بیٹھا کرتے تھے اور حضرت بیدل حیدری کہا کرتے تھے۔کیا آپ کا وہاں جانا اور جس ادا سے جانا ہوتا تھا وہ آپ کی خود نوشت کا حصّہ نہیں ہے؟ اور آج جب میں نے تلاش کیا تو مجھ  پہ یہ عقدہ بھی کھلا کہ آپ نے مجھے صف دوستاں سے فیس بک پہ خارج کیا ہوا ہے۔یہ آپ کا صوابدیدی اختیار ہے لیکن مجھے نجانے کیوں لگ رہا ہے کہ یہ مرے آپ کی شاعری پہ ایک ناقدانہ مضمون کے بعد کیا گیا عمل ہے۔ویسے کیا ہی اچھا ہوتا آپ اپنی فیس بک پہ یاداشتیں شئیر کرنے کا آغاز اس زمانے کی اس آمرانہ اور گٹھن والی فضا سے کرتے جب آپ نے شعور کی آنکھ کھولی اور ضیاء الحق کی آمریت سامنے تھی۔مجھے آپ نے بتایا تھا کہ آپ نے اس زمانے میں کئی ترقی پسند نظمیں بھی لکھی تھیں اور ان میں سے ایک نظم مجھے بھیاری چائے والے کے ہوٹل پہ ایک نشست کے دوران سنائی بھی تھی۔میں نے آپ کی اسی سے متصل پوسٹ کا دوسرا حصّہ بھی پڑھ ڈالا ہے۔بیدل کے باب میں آپ حد اعتدال سے گزرے گزرے لگتے  ہیں۔ویسے 80ء کی دھائی اور 90ء کی دھائی میں خانیوال اور ملتان میں کونسے شاعر اور ادیب ڈپٹی کمشنروں ،اسسٹنٹ کمشنروں اور بابو شاہی کی قربت کے لئے ادبی مالشیوں تک کے خطاب سے نوازے گئے اور کیسے کیسے پاپڑ پیلتے تھے ان کے زریعے سے اپنا قد بڑا کرنے کے لئے اس سب کا احوال پوری امانت اور دیانت سے تحریر کیجئے گا۔۔۔۔۔۔ مرتضی برلاس، اخلاق تارڑ، شبیر احمد یہ سب زندہ ہیں۔اور انور راعی سابق سوشل سیکورٹی آفیسر ، رضا ٹوانہ مرحوم ، ضیغم شمیروی یہ بھی تو کچھ کہا کرتے تھے کچھ کرداروں کے بارے میں امید کرتا ہوں کہ آپ وقت پہ پورا سچ بولیں گے۔خودکشی کرکے نوجوانی میں مرجانے والا قمر بشیر شاعر اس سے کیا معاملہ تھا اس کی رائے اور اپنی رائے دونوں ہی دیانت داری سے بیان کردیجئے گا ۔۔۔۔۔ میں آپ سے یہ مطالبہ نہیں کروں گا کہ آپ کبیروالہ کے ہراج ،گردیزی ، سیدوں بارے وہ سچ لکھیں جو آپ کے سامنے بولا گیاکیونکہ یہ آپ کی طاقت اور استطاعت سے باہر کی بات ہے۔دانشور اور ماہر تعلیم سید فیصل امام کی زاتی زندگی کے گوشوں پہ روشنی ڈالنے کا مطالبہ بھی نہیں کروں گا کیونکہ جانتا ہوں کہ اس بارے میں سچ بولنا آسان نہیں ہوگا۔میں یہ باتیں کبھی نہ لکھتا اگر آپ نے گزر گئے زمانے میں ایک بڑے شاعر کی داخلی اور زاتی زندگی پہ “اپنا سچ ” بیان کرنے کے لئے ہزاروں الفاظ نہ لکھے ہوتے۔کبیروالہ میں لوگ طرح طرح کی باتیں کررہے ہیں میں نہیں کہتا کہ وہ سب سچ ہوں گی لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ بڑے ادیب ،شاعر ،دانشور اور خلاق ذہن کے حامل ابنارملٹی بھی اتنی ہی بڑی رکھتے ہیں۔ڈی ایچ لارنس، ایذرا پاؤنڈ،آندرے ژید، پشکن، گوگول ، دستوفسکی ،کامیو، بالزاک،بورخس،اپنے خط سبز والے غالب، آٹھ لڑکوں اور 6 عورتوں سے جنسی عشق کرنے والے میر، اپنے بیٹے کے کلاس فیلو کے ساتھ ہم بستری کرنے والے فراق، سرٹیفائیڈ امرد پرست جوش ملیح آبادی،ایک ہی افسانے کو عنوان بدل بدل کر بیچنے اور اس سے شراب خریدنے اور جوا کھیلنے والے منٹو، ضیاء الحق کی اہل قلم کانفرنس میں شریک اور فیض کی مقبولیت سے خائف اور اس پہ حسد کرنے والے قاسمی اور ابھی حال ہی میں آپ نے نواز شریف کے مستند درباری قاسمی صاحب کا سواگت ملتان میں خوب کیا وہ بھی اور ماٹھا کالم لکھنے والے کی زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلباء کے رکن ی حثیت سے کیا سرگرمیاں تھیں اس پہ بھی آپ بخوبی روشنی ڈال ہی دیچئے گا۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے سچ بولنے کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔ملتان میں اپنے حریف شاعروں اور صحافیوں کے بارے میں افسران کو ان کی کردار کشی کی بدترین نقشہ گری پہ مبنی خطوط کون سے شاعر اور ادیب لکھا کرتے تھے زرا ان کا احوال بھی بیان کیجئے گا مجھے انتظار رہے گا آپ کی سچ بیانی کا”

پشت پہ گھر

بیدل حیدری کے مجموعے سے انتخاب (۱۲ویں صدی کی کلاسیکی شاعری)

دریا نے جب سے چپ کا لبادہ پہن لیا

پیاسوں نے اپنے جسم پہ صحرا پہن لیا

گرمی لگی تو خود سے الگ ہوکے سوگئے

سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا

بھونچال میں کفن کی ضرورت نہیں پڑی

ہر لاش نے مکان کا ملبہ پہن لیا

بیدل لباس ِ زیست بڑا دیدہ زیب تھا

اور ہم نے اس لباس کو الٹا پہن لیا

————————————–

وہ ابھی محو خواب ہے بیدل

اور ہوا جاگتی ہے کھڑکی میں

————————————–

بازار اگر ہے گرم تو کرتب کوئی دکھا

سب گاہکوں سے آنکھ بچاکر خرید اسے

————————————–

ترے جانے سے ہر شے میں کمی ہے

بس اک صدمہ زیادہ ہورہا ہے

————————————–

تمام عمر ہی تشریح میں گزر جائے

وہ اختصار جو اس زود گو کی بات میں تھا

————————————–

بارش میں لے کے جاؤں کہاں خستہ جسم کو

گھر سے نہ نکا ل مرے گھر کی چھت مجھے

کالی دوات کون انڈیلے فصیل پر

منظور ہی نہیں ہے لہو کی بچت مجھے

————————————–

جب دل چاہے سو لیتے ہیں

آنکھ اور بخت میں سمجھوتہ ہے

————————————–

میں تو گردن سے ہاتھ دھو بیٹھا

طوق ِ غم توڑنے کی کوشش میں

————————————–

میں کمرے کے اندر ہوں

کمرہ پھر بھی خالی ہے

————————————–

آتا ہوا دکھائی دیا تھا وہ دور سے

پھر یہ ہوا کہ ساتھ نظر نے نہیں دیا

صیقل کیا ہے مجھ کو مری حیرتوں نے خود

یہ آئینہ تمہاری نظر نے نہیں دیا

————————————–

لحاف اوڑھ کے سوتی رہی ہوا بیدل

چراغ جلتا رہا سامنے کی کھڑکی میں

————————————–

آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھیں تجھے دن میں ہم لوگ

شب کو،کاغذ پہ تری شکل بنانے لگ جائیں

اُس پہ یہ طرفہ تماشا کہ خطوں کو اُس کے

خود ہی محفوظ کریں، خود ہی جلانے لگا جائیں

————————————–

شہرِ دل میں وہ حبس ہے بیدل

جیسے کمرہ دھوئیں سے بھر جائے

————————————–

یہ سوچوں کی مسافت بھی عجب ہے

مرے کاندھے ہیں اور اسباب اس کا

————————————–

رات ہوا کی دستک میں تھی خوشبو کس کے لہجے کی

ایک دفعہ تو بول پڑی تھیں ،سب تصویریں کمرے کی

————————————–

میں نے چھوکر پڑھ لیا چہرہ تیر ا

اب مری آنکھوں سے پٹی کھول دے

————————————–

کچھ تو ہے جو دل دیوانہ ،پتھر برکھا مانگے ہے

یوں لگتا ہے رُت آپہنچی، بند دریچے کُھلنے کی

————————————–

ایک امید ہے رکھتی ہے جو دل کو شاداب

اک دریچہ ہے جو دریا کی طرف کھلتا ہے

————————————–

گھر پہلے پہنچتا ہے ،اب دیکھیے کون اپنے

سورج کو بھی جلدی ہے ،گھر مجھ کو بھی جانا ہے

————————————–

جو، اب کسی کو بھی اُڑتا ہو ا نہ دیکھ سکے

بہت پسند تھیں بچپن میں تتلیاں اُس کو

————————————–

اُس نے کل گاؤں سے جب رخت ِ سفر باندھا تھا

بچہ آغوش میں تھا ،پشت پہ گھر باندھا تھا

یہ جو لوگوں کو اب آواز سے پہچانتا ہے

اس کی ماں نے اسے تعویذ ِ نظر باندھا تھا

————————————–

انتخاب : سید انور جاوید ہاشمی

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s