تیسواں خط

wadi-e-hussain_cemetery_karachi_pakistan

 

 

پیاری ساری

میں مرجانے کی حد تک تمہارے خط کا انتظار کرتا ہوں،کسی پل مجھے چین نہیں آتا اور میں گاؤدی ہوجاتا ہوں اور گاؤدی بھی وہ جسے محبت کے دورے مرگی کی طرح پڑتے ہوں لیکن میں اپنے اندر کے دستوفسکی کو کبھی جگا نہیں پاتا ہوں جو اس گاؤدی پن کے اندر محبت کا وہ پتر لکھواسکے جسے لازوال کہا جاسکتا ہو۔اور افسوس میں زیرلب کچھ بھی نہیں کہہ پاتا جبکہ خیالات کی رو مجھے اپنے ساتھ بہائے لیجارہی ہوتی ہے۔پہلے تمہارے خط نہ آنے کی وجہ سے نیند نہیں آرہی تھی اور آج جب صبح تمہارا خط مل گیا تو بھی اتنی رات ہوچکنے کے بعد بھی نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔کئی گھنٹے تو میں نے لفافہ تک نہ کھولا اور اپنی جیکٹ کے اندر دل والی جانب جیب میں خط کو ڈالے رکھا اور کافی دیر اسے بار بار تھپتھپا کر دیکھتا رہا اور اس کی موجودگی کو محسوس کرتا رہا۔عجیب سی سرشاری کی حالت تھی اور میں اس سرشاری کو کافی دیر برقرار رکھنا چاہتا تھا لیکن اس سرشاری کے ساتھ ساتھ کہیں مرے اندر سے بے چینی بھی امنڈ رہی تھی سو میں نے آٹھ بجے تمہارا خط کھول ہی لیا۔اور جیسے ہی پڑھنا شروع کیا تو مجھ پہ اچانک یہ انکشاف ہوا کہ اس خط میں بہت عرصے بعد تم نے اپنے اندر کی عورت کو بیدار حالت ميں رکھ کر احوال لکھا ہے۔آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ تم نے ایک مرتبہ پھر مجھے یاد دلانے کی کوشش کی ہے کہ تم میری کہانیوں اور افسانوں کو اس لئے پسند نہیں کرتیں کہ ان کا اختتام کبھی طربیہ پہ نہیں ہوا بلکہ ظالمانہ قسم کا موت سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ساری، مجھے تمہیں یاد کرانا پڑے گا کہ تم نے مجھے کہا تھا کہ تمہیں موت،کرب اور المیوں سے نفرت تھی اور تم صاف اور شفاف آسمان کی طرح تھیں۔اور پھر اچانک تم آغا خان کے کینسر وارڈ میں اس سب سے آخری کمرے کے اندر بستر پہ جاکر دراز ہوگئی تھیں جہاں ماحول بہت زیادہ اداس کرنے والا،ڈرانے والا اور دل دہلادینے والا ہوتا تھا۔میں صبح سے شام تک تمہاری پائنتیوں پہ ٹکا بیٹھا رہتا تھا اور اکثر تم کو خواب آور دواؤں کے زیر اثر رکھا جاتا تھا کیونکہ بلڈ کینسر کی آخری سٹیج کی وجہ سے تمہارے اندر خون کی شریانیں پھٹنے لگتی تھیں اور تم بے ہوش ہونے سے پہلے اسقدر تڑپتی تھیں کہ مجھے اپنی روح تک زخمی ہوتی محسوس ہوتی تھی اور اس دوران اپنے آپ کو پرسکون دکھانے کے لئے درد بھری مسکان اپنے ہونٹوں پہ سجانے کی کوشش میں تم اور زخمی ہوتی جاتی تھی اور تمہاری آنکھوں سے وہ تکلیف جھلکتی تھی جسے تم چھپانے کا جتن کرتی تھیں۔اور مجھے دلاسا دیتی تھیں کہ ہم جلد ہی اس کینسر وارڈ کے اس سرد جہنم والے کمرے سے نجات پالیں گے اور ان سارے خوابوں کی تعبیر مل کر پائیں گے جو ہم نے دیکھے تھے۔کیا واقعی ایسا ہوا تھا؟تم آسمان کے ایک دوسرے کنارے پہ کھڑی تھیں اور لگتا تھا کہ کبھی بھی چھلانگ لگا کر کسی وقت بھی غائب ہوجاؤ گی اور میں اس سے پرے مخالف سمت میں اس کنارے کھڑا تھا جہاں مرے پیروں میں پڑی زنجیر مجھے دو قدم بھی تمہاری طرف بڑھنے نہیں دیتی تھی اور میں اپنے آپ کو ایک قفس میں قید پرندے کی طرح پاتا تھا۔اور میں خود کو ایک تاریکی میں قید پارہا تھا۔تمہاری آنکھیں ہر گزرتے دن اور رات کے ساتھ ویران ہوتی جاتی تھیں ،ہونٹوں پہ جمی پپڑیاں تمہارے بہت پیاسا ہونے کو ظاہر کرتی تھیں اور جہاں تک بازو تمہارے کھلے ہوئے تھے وہاں ان گنت سوئیوں کے سیاہ نشان پڑے ہوئے تھے اور کہیں کہیں تو تمہارے خون کی بوندیں جم سی گئی تھیں۔مری بھوک مرگئی تھی اور گھنٹوں گھنٹوں میں تمہارے نیم خوابیدہ وجود کو دیکھتا ہی رہتا تھا اور تمہارے ہونٹوں پہ جمی وہ تکلیف کو مجسم کئے ہوئے مسکان کھلی رہتی تھی اور مجھے ایسے لگتا تھا جیسے کسی کلی پہ عین بہار کے عروج پہ خزاں اتر آئی ہو اور وہ کلی اپنی ادھ کھلے پن کو مکمل مرجھاہٹ سے بچانے کی کوشش کررہی ہو۔میرے اندر بہت درد تھا اور بے بسی کی اسقدر شدت تھی کہ مجھے لگتا تھا جیسے میرا دم گھٹ جائے گا۔میں نے ان لمحوں میں جتنی سنجیدگی سے اس دم گھونٹ دینے والی کیفیت میں خودکشی کے بارے میں سوچا اس طرح سے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔ساری،تمہیں پتا ہے کہ میں نے تمہارے کہنے پہ یہ خط آن لائن کئے تھے تو وہاں سب تمہیں تلاش کرنے نکل پڑے تھے اور بہت سی عورتوں میں تمہارا چہرہ دیکھنے کی کوشش ہوئی اور نجانے کس کس پہ تمہارا شبہ کیا گیا اور اس دوران میں جس گھٹن کا شکار ہوا تو اس سے میں نے سنجیدگی سے پھر اس درد سے چھٹکارا پانے کا وہی طریقہ سوچا جو وہاں کینسر وارڈ میں اس جہنم نما کمرے میں تمہارے بستر پہ تمہارے پیروں کی طرف بیٹھ کر سوچتا تھا اور اس لئے باز رہ جاتا تھا کہ تمہیں یہ انتہائی بزدلی کا راستہ لگتا تھا اور اس پہ چلنے والے تمہیں پسند نہیں تھے۔تمہاری ختم ہوتی سانسوں کے درمیان تمہارا آہستہ آہستہ گھلنا مجھ سے برداشت نہیں ہورہا تھا ایسے میں میں کیسے وہ فعل کرسکتا تھا جو تمہیں مجھے کائر کہنے پہ مجبور کردیتا۔کبھی کبھی میں “خدائی صفات ” کا راستہ تلاش کرنے کی جانب راغب کیا جس کے زریعے سے لکھی جانے والی تقدیر کو بدلنے پہ قادر ہوجاتا لیکن مجھ پہ یہ انکشاف ہوا کہ حیات دینے کے بعد بس موت کا اختیار رہ جاتا ہے اور دیوتا کسی کو مرنے سے روک نہیں پاتے تھے اور موت خود ایک دیوتا کا کردار ادا کرنے لگتی تھی۔اس کا اپنا میکنزم تھا اور اس کے آگے کوئی فل سٹاپ لگایا نہیں جاسکتا تھا۔اور نرک کو انتہائی سرد ہونے یا کھولتے کڑاہے کی مانند گرم ہونے سے روکنا کسی کی دسترس میں نہیں ہوتا ہے۔تم نے کہا تھا کہ تمہیں موت،دکھ اور مصائب ان سب سے معاملہ کرنا ہی نہیں ہے۔لیکن اس بستر پہ پڑی تم ان سب سے معاملہ کررہی تھیں اور مجھے تم نے رنگ سے باہر بٹھا رکھا تھا۔میں وہاں بیٹھ کر تمہیں جاتا دیکھ رہا تھا۔اور میں تنہا ہی جل رہا تھا،سلگ رہا تھا۔وہ رات آج بھی آسیب کی طرح مجھ سے چمٹی ہوئی جس رات وہ مرحلہ آن پہنچا جب ایک دم سے تمہاری ساری شریانوں نے پھٹنا شروع کردیا اور سیاہ پڑگئے تمہارے بازؤں کے نشانوں نے باریک باریک چھید کی شکل اختیار کرلی اور ان سے خون ایسے ابل کر باہر آنے لگا تھا جیسے تنگ ندی سے پانی باہر آتا ہو اور اس لمحے جب تم نے انتہائی تکلیف میں مجھے کہا کہ اس سے پہلے تمہاری آنکھوں کی شریانیں پھٹنا شروع کریں اور میں تمہاری آنکھوں سے غائب ہوکر بس تمہارے دماغ میں ایک دھندلے نقش کی طرح رہ جاؤں تم مجھے اچھی طرح سے دیکھنا چاہتی تھیں۔مجھے محسوس کرنا چاہتی تھیں اور ڈاکٹر منہال عبداللہ نے بھی اپنے سارے پیشہ وارانہ تقاضے بالائے طاق رکھ دئے تھے اور تمہاری خواہش کا احترام کیا تھا۔یہ وہ لمحہ تھا جب وہ ڈاکٹر اور نرسیں سسکیاں بھرتے ہوئے کمرے سے نکل گئیں تھیں اور میں تمہاری آنکھوں کے پاس تھا اور تم نے اپنے خون سے بھرے ہاتھوں سے میرے چہرے کو تھامے ہوئے تھیں اور پھر اچانک جیسے کوئی تیز چندھیا دینے والی روشنی چمکی ہو اور تم بالکل شانت ہوگئی تھیں اور تمہارے ہونٹوں پہ وہی تنگ پڑگئی مسکان تھی اور میں جیسے پتھر کا ہوکر رہ گیا تھا۔ساری،وہاں کراچی میں جب تم وادی حسین کی رہائشی ہوئی تھیں تو بہت کم آبادی تھی اب تو وہاں خوب رونق لگی ہوئی ہے اور تمہارے اڑوس پڑوس میں میلہ لگا ہوا ہے اور تم اسی لئے تو مجھے اب تنہا نہیں لگتی ہو اور اسی لئے میں یہاں اتنی دور آگیا ہوں۔جانتا ہوں کہ تمہیں اب کوئی وحشت نہیں ہوتی۔ تنہائی کاٹنے کو دوڑتی نہیں ہے اور بہت سی کہانیاں ہیں تمہارے پاس بتانے کو۔تمہارے آس پاس کئی ایسی سہیلیاں آکر رہنے لگی ہیں جن کے نام ان کے لئے عذاب بن گئے تھے اور ہاں یہ سبھی علی،حیدر،عباس،کرار،قنبر،سجاد اور ایسے ہی ملتے جلتے کئی اور نام بھی تمہارے پڑوسی ہوگئے ہیں۔استاد سبط جعفر بھی تو ہیں تمہارے ہمسایہ اور وہ اپنی موٹر سائیکل پرانے گھر میں ہی چھوڑ گئے ہیں۔ان سے پوچھنا تو سہی وہ پرانی سی موٹر سائیکل جن سے ان کو عشق سا تھا اسے پرانے گھر کیوں چھوڑ آئے؟اور اپنے نقوی صاحب بھی سنا ہے تمہارے پڑوس میں کہیں رہ رہے ہيں۔اگر بتیاں،لوبان اور گلاب کی پتیوں کی خوشبوؤں سے معطر سنا ہے وادی حسین کالونی رہتی ہے اور سب کے گھروں پہ سنگ مرمر کی نیم پلیٹ لگی ہوئی ہیں۔سنا کہ کچھ دن پہلے سہیون شریف سے 88 کے قریب عورتیں ،بچے ،نوجوان اور بزرگ وہاں آکر رہنے لگے ہیں۔لیکن مجھے وہاں سے ایک دوست کا فون آیا تھا کہ ان میں سے کوئی اپنے بچّے کا فیڈر بھول آیا ہے۔ ماں تنگ ہورہی ہوگی نا فیڈر کے بغیر ۔پتا کرنا کس بچّے کا ہے یہ فیڈر میں اپنے دوست کو کہوں گا وہاں پہنچا جائے گا۔مائیں آج کل تھوڑی سی لاپرواہ ہوگئیں ہیں کئی کھلونے اور بلکہ کئی بچوں کی جوتیاں تک بھول آئی ہیں لیکن میرا دوست بڑا ایماندار اور فرض شناس ہے جیسے ہی تم پتا لگا لوگی وہ ان کی امانتیں پہنچادے گا۔اور ہاں ميں کل پیرس سے برسلز منتقل ہورہا ہوں اس لئے اب اس ایڈریس پہ خط نہ بھیجنا اور جیسے ہی میں برسلز میں رہائش ڈھونڈ لوں گا تو تمہیں پتا ارسال کردوں گا اور پھر ہم باقاعدگی سے خطوط کا تبادلہ کریں گے۔

فقط تمہارا
ع۔ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s