دہشت گردی بارے دیوبندی موقف

 

7

اپریل 2010ء کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں ملک بھر سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ سرکردہ علمائے کرام سر جوڑ کر بیٹھے۔ ایک بھرپور اور نمائندہ اجتماع منعقد ہوا جس کے شرکا کا تعلق دیوبندی مسلک سے وابستہ دینی و سیاسی جماعتوں، دینی مدارس اور علمی مراکز سے تھا۔ یہ ایک تاریخی اجتماع تھا جو صرف اس لیے منعقد ہوا تھا کہ ملک میں موجود دہشت گردی کے حوالے سے علمائے کرام اپنا متفقہ نقطہ نظر قوم کے سامنے پیش کریں۔ اس اجتماع میں حلقہ دیوبند کی سیاسی جماعت کی مکمل قیادت، وفاق المدارس کی مکمل قیادت اور تمام بڑی جامعات کے مہتم حضرات بھی موجود تھے۔ https://daleel.pk/2017/02/23/32215

 

 

 

دہشت گردی کے حوالے سے اس قرار داد کا پہلا نکتہ یہ تھا: (1) اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ اسلام ہی نے یہ ملک بنایا تھا اور اسلام ہی اسے بچا سکتا ہے، لہٰذا حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک میں اسلامی تعلیمات اور قوانین کو نافذ کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور ملک کے آئین کا اہم ترین تقاضا بھی اور اسی کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے ملک میں انتہاپسندی کی تحریکیں اٹھی ہیں، اگر ملک نے اس مقصد وجود کی طرف واضح پیش قدمی کی ہوتی تو ملک اس وقت انتہاپسندی کی گرفت میں نہ ہوتا، لہٰذا وقت کا اہم تقاضا ہے کہ پرامن ذرائع سے پوری نیک نیتی کے ساتھ ملک میں نفاذ شریعت کے اقدامات کیے جائیں، اس کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور فیڈرل شریعت کورٹ کو فعال بنا کر ان کی سفارشات اور فیصلوں کے مطابق اپنے قانونی اور سرکاری نظام میں تبدیلیاں بلا تاخیر لائی جائیں اور ملک سے کرپشن، بے راہ روی اور فحاشی و عریانی ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ (حوالہ قرارداد)

 

نوٹ: دلیل ڈاٹ پی کے پہ محمد حسن الیاس کا ایک مضمون ” پاکستان میں دہشت گردی،علمائے دیوبند کا متفقہ موقف”شایع ہوا ہے۔مرے آرٹیکل کی فوری بنیاد یہی مضمون بنا ہے۔لیکن یہ دیوبندی قیادت اور ان کی حامیوں کے پاکستان میں دہشت گردی بارے موقف پہ میرا عمومی رد عمل بھی ہے۔

 https://daleel.pk/2017/02/23/32215

سوشل میڈیا پہ پہلے لبرل کے اندر ایک بڑا حلقہ ایسا تھا جو ملک میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی منظم دہشت گردی کی شناخت کو بیان کرنے کے لئے “تکفیری دیوبندی دہشت گردی” اور ” دیوبندی عسکریت پسندی” کی اصطلاح پہ معترض ہوتا تھا اور ان میں سے ایک بڑے حصّے کو وقت نے بے نقاب بھی کردیا کہ یہ کمرشل ازم تھا لبرل ازم کے پردے میں۔اور ہم نے ان کو کبھی مولوی لدھیانوی کی بغل میں بیٹھا دیکھا تو کبھی طاہر اشرفی کی اعتدال پسند مذہبی سکالر کے طور پہ پروجیکٹ کرتے دیکھا۔وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ بھی پتا چل گیا کہ نجم سیٹھی جیسے لبرل دہشت گردوں کی مذہبی شناخت پہ اتنے سیخ پا کیوں ہیں۔کیونکہ اس شناخت کی وجہ سے نواز شریف اینڈ کمپنی بے نقاب ہورہی تھی اور ساتھ سعودی عرب کے شیوخ بھی جن سے مراعات اور مفادات بٹورنے کا سلسلہ اس کمرشل لبرل مافیا نے جاری رکھا ہوا تھا۔

دیوبندی عسکریت پسندی اور دیوبندی تکفیر ازم کی اصطلاح استعمال کرنے پہ غیر جانبداری کا نقاب چڑھائے کچھ مین سٹریم میڈیا کے خودساختہ “حریت پسند صحافی ” جو فیض و جالب سے بھی اپنی وابستگی ظاہر  کرنے کے ڈرامے کرتے تھے کافی جزبز ہوتے تھے لیکن وقت نے ان کو بھی ننگا کیا جب وہ لدھیانوی،اورنگ زیب فاروقی،مولوی عبدالعزیز،ام حسان اور فرحت ہاشمی وغیرہ کو اپنے ٹاک شوز میں لیکر آئے اور لوگوں کو دہشت گردی بارے انھوں نے گمراہ کرنے کی کوشش کی جبکہ ان صحافیوں نے شیرانی،حمد اللہ،حافظ حسین احمد سمیت کئی اور دہشت گردی کے عذر خواہوں کو خوب پروجیکٹ کیا۔ایسے صحافیوں میں حامد میر سرفہرست ہے۔یہ صحافی اپنے آپ کو اسٹبلشمنٹ مخالف چہرے کے ساتھ بھی پیش کرتے ہیں لیکن ان میں سے کسی نے آج تک شیری رحمان سے ان کی این جی او جناح انسٹی ٹیوٹ کی نام نہاد تجزیاتی رپورٹیں جو طالبان کے لئے جواز پیدا کرتی ہوں بارے سوال نہیں کیا اور ان سے ان کے روابط بہت دوستانہ ہیں جبکہ ان کا دوستانہ لدھیانوی سے بھی ہے۔

deobandi

مذکورہ بالا دو گروہ تو وہ ہیں جو عمومی طور پہ رائٹ اور لبرل لیفٹ سائیڈ سے غیر فرقہ واریت کے نام پہ دیوبندی ازم کے اندر پائی جانے والی عسکریت پسندی،دہشت گردی، تکفیر ازم، جہاد ازم اور اس کے عالمی دہشت گرد سلفی نیٹ ورک سے ہمدردیوں پہ پردہ ڈالنے کا کام کرتا ہے۔

لیکن وہ لوگ جو اپنا دیوبندی ہونا چھپاتے نہیں ہیں اور دیوبندی ازم کے بینر تلے مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ سرگرم ہیں ان کا اس معاملے پہ کیا موقف ہے؟ اس حوالے سے پہلے سوشل میڈیا پہ یہ گروہ اپنی موجودگی کو عمومی طور پہ اسلام پسند لیبل لگاکر چھپاتا تھا یا یہ ظاہر کرتا تھا کہ دیوبندی ملائیت ان کا ماضی تھی اب یہ بہت کشادہ ذہن کے مالک ہیں۔اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کچھ لبرل شخصیات نے اپنی ویب سائٹ کا اجراء کیا اور وہاں پہ انھوں نے “بات چیت ” کے زریعے سے معاشرے میں برداشت پیدا کرنے کو نصب العین بتلاتے ہوئے ایسے لوگ ہمارے سامنے دانشور بناکر پیش کئے جو دیوبندی ملائیت کا حصّہ تھے یا دیوبندی ازم کے علمبردار تھے اور وہ اپنے آپ کو بدلے ہوئے لوگ بتلارہے تھے۔ان کا ماضی تو سب کے سامنے تھا کہ یہ لوگ یا تو دیوبندی مدارس سے فارغ التحصیل تھے اور وہیں سے ماسٹرز کرنے کراچی، اسلام آباد،لاہور،پشاور یا کوئٹہ میں جدید یونیورسٹی میں پہنچ گئے اور وہاں پہ یا تو یہ جماعت اسلامی کے جہادی نیٹ ورک سے وابستہ ہو‏ئے یا دیوبندی جہادی نیٹ ورک سے ان کا تعلق رہا۔اور اسی طرح کئی سپاہ صحابہ پاکستان کے تیار کردہ تھے۔ان میں سے کچھ لوگ عملی زندگی میں مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا یا پرنٹ میڈیا کا حصّہ بھی بنے اور آج کل سوشل میڈیا پہ یہ لوگ دو طرح کی لائن کے ساتھ مصروف ہیں۔

ایک وہ ہیں جو کشمیر، افغانستان و دیگر جگہوں پہ سرگرم دیوبندی عسکریت پسندی کو عین جہاد کہتے ہیں اور پاکستان میں سرگرم دیوبندی عسکریت پسندی کو وہ غلط کہتے ہیں۔جبکہ ایک حلقہ وہ ہے جو تحریک طالبان پاکستان سمیت پاکستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کی جدوجہد کو بھی ٹھیک کہتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ پاکستان میں دیوبندی علماء کی اکثریت پاکستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کو دہشت گرد قرار دینے والی پاکستانی ریاست کے ساتھ کھڑے ہوکر اور ان کی حکومتوں کا حصّہ بنکر غلط کررہی ہے اور وہ اسے موقعہ پرستی اور اقتدار پرستی کہتے ہیں۔یہ دونوں کیمپ سوشل میڈیا پہ بھی اب کھل کر سرگرم ہوگئے ہیں۔اور چند ایک ویب سائیٹ،سوشل نیٹ ورک پیجز پہ ان کا وجود بہت نمایاں ہے۔یہ جہاد ازم، پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی 80ء کی دہائی کی تزویراتی گہرائی کی پالیسی کے من وعن نفاذ اور واپسی کے زبردست حامی ہیں۔اور ان کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی اور تباہی کی وجہ 89ء کی دہائی میں جہاد ازم سے ریاستی اداروں کی دست برداری کے سبب ہوئی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کی جملہ دیوبندی قیادت چاہے اس کا تعلق وفاق المدارس سے ہو یا دیوبند کی سیاسی نمائندہ جماعتوں جے یو آئی (سب دھڑے) اور اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ پاکستان ) سے ہو یہ سب کے سب اس بات پہ متفق ہیں کہ جس دن پاکستانی ریاست نے القاعدہ سمیت کئی ایک عسکریت پسند گروپوں کو دہشت گرد قرار دیا اور کئی ایک گروپوں کے خلاف امریکی کاروائیوں کی حمایت شروع کی وہ ایک یو ٹرن تھا اور آج پاکستان میں جو خون ریزی ہے اس کا سبب وہی یو ٹرن ہے۔

(3) اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کو قرار دیا جا رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی نے ملک کو اجاڑنے میں کوئی کسر چھوڑ نہیں رکھی، جگہ جگہ خود کش حملوں اور تخریبی کارروائیوں نے ملک کو بدامنی کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے، ان تخریبی کارروائیوں کی تمام محب وطن حلقوں کی طرف سے بار بار مذمت کی گئی ہے، اور انہیں سراسر نا جائز قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ کارروائیاں مستقل جاری ہیں، لہٰذا اس صورت حال کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر ملک بھر کی متفقہ مذمت اور فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود یہ کارروائیاں کیوں جاری ہیں؟ اور اس کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ ہماری نظر میں اس صورتحال کا بہت بڑا سبب وہ افغان پالیسی ہے جو جنرل پرویز مشرف نے غلامانہ ذہنیت کے تحت کسی تحفظ کے بغیر شروع کر دی تھی، اور آج تک اسی پر عمل ہوتا چلا آرہا ہے، لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت امریکہ نوازی کی اس پالیسی کو ترک کر کے افغانستان کی جنگ سے اپنے آپ کو بالکل الگ کرے اور امریکی افواج کو مدد پہنچانے کے تمام اقدامات سے دستبردار ہو۔ (حوالہ قرارداد)

دیوبندی علماء ہوں، سلفی علماء ہوں، جماعت اسلامی کی قیادت ہو یہ سب کے سب پاکستان کے اندر اور پاکستان کے باہر سرگرم جہادیوں اور عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف آج تک ایسا کوئی اعلامیہ سامنے لیکر نہیں آئے جس میں انھوں نے یہ کہا ہو کہ لشکر جھنگوی، جیش محمد، حرکت المجاہدین، حرکۃ الانصار،جماعت الاحرار،القاعدہ برصغیر الہند،اور اب داعش خراسان دیوبندی۔سلفی نہیں ہیں۔نہ ہی انھوں نے ان تنظیموں کو خارجی،تکفیری تنظیمیں کہا اور ان کی دہشت گردی کی جو نظریاتی بنیادیں ہیں ان کو بھی غیر دیوبندی اور غیر اسلامی قرار نہیں دیا۔ایسے بہت سے لوگ ہمیں سوشل میڈیا پہ غیر جانبدار تجزیہ کار بنے نظر آتے ہیں۔جب جب پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم ہوتا ہے اور لوگ مرتے ہیں اور زخم تازہ ہوتے ہیں اور ایسی کاروائیاں کرنے والوں کی مذہبی شناخت سامنے آتی ہے  اور پتا یہ چلتا ہے کہ یہ دیوبندی عسکریت پسندوں کی کاروائی ہے اور اس پہ لوگ دیوبندی ازم کی عصر حاضر کی آئیڈیالوجی پہ سوال اٹھانے لگتے ہیں اور اس کی مذمت کی جانے لگتی ہے تو ایک دم سے یہ لوگ دیوبندی ازم کے دفاع کار بنکر سامنے آجاتے ہیں۔اور دیوبندی ازم کی ریڈیکلائزیشن کے سوال سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے یہ لوگ کہیں تو بریلویوں کو بڑا یا برابر کا خطرہ بتلاتے ہیں یا پھر شیعہ کو اور اسی ضمن میں ایران اور ایرانی لابی کا ڈھول بھی پیٹا جانے لگتا ہے۔ریڈیکل مدارس کے کردار پہ بات ہوتی ہے تو یہ جامعہ بنوریہ کی عظمت کے قصّے سنانے لگتے ہیں اور عملی طور پہ دہشت گردی اور انتہا پسندی میں ملوث مدارس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی پہ رائے عامہ کے ہموار ہونے کی راہ کو کھوٹا کرنے لگ جاتے ہیں۔

میں جب لفظ دیوبندی قیادت بولتا ہوں تو اس سے میری مراد وفاق المدارس،دیوبندی سیاسی ومذہبی جماعتوں کی قیادت ہوتی ہے اور اس دیوبندی قیادت میں کوئی ایک آواز بھی ایسی نہیں ہے جو دیوبندی مدرسہ تحریک کو سلفی ازم،وہابیت،سعودی نوکری کے خلاف بلند ہوئی ہو۔ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے شیعہ کے خلاف تکفیر کی سیاسی میدان میں لڑائی لڑنے والی سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت کا داخلہ کسی مدرسے،کسی مسجد یا اپنے کسی دفتر میں بند کیا ہو۔اور ان میں سے کسی ایک دیوبندی رہنماء نے ببانگ دہل کبھی یہ کہا ہو کہ دیوبندی مدرسہ تحریک کو سعودی وہابی حکومت کی پراکسی نہیں بننے دیں گے۔اس دیوبندی قیادت کے حامی صحافتی دنیا کے لوگ ہوں یا سوشل میڈیا پہ سرگرم گروہ ہوں وہ بھی دیوبندی قیادت سے مختلف نہیں ہیں۔اور یہ سب کے سب پاکستان میں جنوبی ایشیائی صوفی کلچر کا اینٹی کلچر ہیں۔اور اپنے افکار اور عمل سے دیوبندی عسکریت پسندی کو اپنا نظریاتی ساتھی خیال کرتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے یہ پاکستانی عوام کی اکثریت کو اس معاملے سے لاعلم رکھنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ابتک ہونے والی 90 فیصدی دہشت گردی دیوبندی عسکریت پسند گروپوں کی جانب سے ہوئی ہے اور اس عسکریت پسندی کی جڑیں دیوبندی تنظیموں اور مدارس کے اندر پیوست ہیں۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s