ملاقات -افسانہ

th (1)

 

میں  چوک میں بنے ٹی سٹال پہ اپنی مخصوص میز پہ جاکر بیٹھا ہی تھا کہ سامنے سے سڑک کراس کرکے وہ سیدھا میری طرف آیا اور اس نے ایک دم سے مجھے ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور مجھ سے لپٹ گیا۔

‘بہت موٹے ہوگئے ہو،اور داڑھی و سر کے بال بھی سفید ہوگئے ہیں’۔’ لیکن آنکھیں ویسی ہی ہیں ہمیشہ سے اردگرد سے بے نیاز’ ۔ اس نے کہا

میں اس اچانک حملے سے گڑبڑا گیا تھا، زرا غور سے اسے دیکھا تو بے اختیار منہ سے نکلا، ” ارے سروش احمد تم! کہاں سے ٹپک پڑے  شہر میں”۔

” بس کچھ مت پوچھو، وہاں کراچی میں تمہیں ناظم آباد کے ایف بلاک میں تلاش کیا، یونیورسٹی والوں سے پوچھا۔پھر حيدرآباد آیا اور ادھر ادھر سب جگہ ، ہیر آباد، فریٹ آباد، پھلیلی ، لطیف آباد ، سول لائن، حالی روڈ، گڈز ناکہ اور پھر کالی موری،مگر کچھ پتا ہی نہیں چل رہا تھا، ایسے لگتا تھا جیسے زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا،لاہور گیا اور ہر ایک جس کو میں تلاش کرپایا اس سے پوچھا مگر سب لاعلم تھے۔اور پھر وہ سانول سولنگی مجھے لاڑکانہ ملا اس نے تمہارے نام اور سب کچھ بدل جانے کی کہانی سنائی اور تمہارا موجودہ پتا بتایا تب جاکے مجھے معلوم پڑا۔آج جب شہر میں داخل ہوا تو ایک آدمی سے پوچھا اس نے بتایا کہ شام ہوچلی ہے اور تم یہاں بیٹھے ہوئے ہوں گے، تو سیدھا یہاں چلا آیا”۔اس نے ایک سانس میں  یہ سب  بتاڈالا۔

” مجھے بہزاد نے بتایا تھا کہ تم جوہانسبرگ ساؤتھ افریقہ میں ہو اور کسی یونیورسٹی میں امریکن لٹریچر پڑھاتے ہو۔اور یہ سب اس نے اس وقت بتایا جب کثرت شراب نوشی سے اس کے گردے، جگر اور ہارٹ بیماری کی آخری سٹیج پہ تھے اور میں اس سے تمہارا اتا پتا بھی نہیں لے سکا”۔میں نے سروش سے کہا

سروش میرے ساتھ یونیورسٹی میں تھا اور ہم ایک ہی اسٹوڈنٹس تنظیم میں تھے اور یونیورسٹی کے بعد میں ایک حادثے کا شکار ہوا تو پھر حادثے رکے نہیں اور میں ان حوادث سے لڑتا بھڑتا نجانے کہاں کہاں سے ہوتا ہوا اس شہر میں پہنچ گیا تھا اور جہاں میرا نام، شناخت بلکہ سب کچھ ہی تو چھن گیا تھا۔اور آج 30 سال بعد اچانک سروش پھر سے آگیا تھا۔

” اچھا! یہ بتاؤ اس دوران شادی کی؟”۔ سروش نے ایک دم پوچھا

” ہاں، تین بیٹے ہیں اور تمہیں وہ میری منکر نکیر بنی ص یاد ہے ؟ ” میں نے اس سے سوال کیا

ارے وہ تمہاری کزن ؟ سروش نے حیرانی سے پوچھا

ہاں وہی ۔ میں نے جواب دیا

تو وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سروش نے کہا ۔۔۔

وہ وادی حسین کراچی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیسے ہوا اور کب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے فوری بعد

بلڈ کینسر کا پتا چلا ،آخری سٹیج پہ تھا ۔۔۔۔

اوہ،مائی گڈ ۔۔۔۔۔۔۔

ہم دونوں کچھ دیر خاموش ہوگئے ۔۔۔۔۔

اس نے تھوڑی دیر بعد زرا ہچکچاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔ یار وہ ۔۔۔۔۔۔ صادق جتوئی کہہ رہا تھا کہ تم نے کافی عرصہ ہوش کھودیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے اس کی ہچکچاہٹ کو اور انتہائی ڈرے ڈرے انداز کو دیکھ کر بے اختیار قہقہہ لگایا ۔۔۔۔

ہاں نا یار، کافی عرصہ پاگل رہا، ہوش و حواس سے بے گانہ رہا ، مگر اب بہت سے ہوش والوں سے کہیں زیادہ ہوش میں ہوں، تم گھبراؤ نہیں۔

” ارے خدشہ صرف اس بات کا تھا کہیں تم برا نہ مان جاؤ ” ۔۔۔۔ اس نے جھینپ کر کہا

تم کہو اپنے بارے میں ۔۔۔۔

یار وہاں جوہانسربرگ میں ایک خاتون لگی تھی میری مزاج کی لیکن ہم تین سال اکٹھے رہے تو ہمیں احساس ہوگیا کہ ہم دوست ہی اچھے ہیں ، میاں بیوی نہیں تو بس تب سے اب دوست ہیں اور میں اور وہ اپنی جگہ جگہ آزاد ہیں۔چھٹیاں کافی تھیں میری تو ان کو اکٹھا کیا اور سوچا کہ تمہیں تلاش کروں گا ہر قیمت پہ سو کرلیا۔

کتنے عرصے بعد پاکستان آئے ہو؟ 26 سال بعد ۔۔۔۔۔

کیسا لگ رہا ہے ؟

بہہت ڈر لگتا ہے

کیوں ؟

“یار بالکل ہی بدل گیا سب کچھ ، یہاں تو اب کچھ کہنا اور بولنا سرے سے دشوار ہوگیا ہے اور ہر سو ہمارے دشمنوں کا راج ہے۔میں نے تو اپنے دوستوں کو ڈرا ہوا ، سہما ہوا دیکھا۔ہر دوست دوسرے دوست سے ڈرا ہوا کہ کب کس کا جوش ایمان جاگ جائے اور آپ ذبح ہوجائيں”

سروش ! تم نارتھ ناظم آباد کئے تھے۔رضویہ سوسائٹی گئے تھے ؟ میں نے پوچھا

” ہاں گیا تھا ، اور ایک بھی دوست نہیں ملا، یار وہ اپنے استاد جی بھی وہیں تھے۔میں پی آئی بی کالونی گیا تھا اور استاد کے گھر پہنچا تو پتا چلا کہ وہ تو اب مجھے وادی حسین میں ملیں گے۔میں اپنے قادری صاحب کے گھر ملنے گیا تو اس کے بیٹے، بیٹیاں مجھے دیکھ کر رونے لگے، کہتے تھے بابا نشتر پارک گئے تھے میلاد منانے اور پھر نہیں لوٹے۔کیسے کیسے دوست اور بزرگ اساتذہ نہیں رہے، پاکستان تو بالکل بدل گیا ہے”- وہ گلوگیر لہجے میں کہہ رہا تھا

یہ بتاؤ، یہاں کیوں بیٹھتے ہو ؟کوئی ہے بھی نہیں ۔۔۔۔۔ سروش نے سوال کیا

کبھی کبھی لوگ آجاتے ہیں ملنے میں، پھر یہاں اس میز پہ بیٹھ کر گھنٹوں تنہا بھی ہوں تنہائی محسوس نہیں ہوتی۔پھر اور کیا بھی کیا جاسکتا ہے؟

دستِ قاتل سے ہوں نادم کہ لہو کو میرے

عمر لگ جائے گی ہمرنگ حنا ہونے تک

دشت سے قلزمِ خوں تک کی مسافت ہے فراز

قیس سے غالبِ آشفتہ نوا ہونے تک

 

 

Advertisements

ہم سب کمرشل لبرل

جارج آرویل نے اپنے ایک مضمون ” سیاست،انگریز اور زبان ” میں یہ مشاہدہ کیا تھا کہ “زبان کی بدعنوانی اور سیاست کی بدعنوانی ساتھ ساتھ چلتی ہیں اور ایک دوسرے کو مدد دیتی ہیں۔آرویل نے اس باہمی گٹھ جوڑ کو اپنے ناول ‘1984’ میں بہت زبردست طریقے سے دکھایا۔اس ناول میں صیم نامی ایک کردار جو کہ ٹرتھ ڈیپارٹمنٹ میں ایک نئی “لغت” کی تشکیل پہ کام کررہا ہوتا ہے اور وہ اس ناول کے مرکزی کردار ونسٹن سمتھ (حکمران پارٹی کا چھوٹا سا کارکن) کا دوست ہے،وہ کہتا ہے

“لفظوں کی تباہی بہت ہی پیاری چیز ہے۔۔۔۔۔۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ نیوز پیک کا حتمی مقصد خیال کی حد کو تنگ سے تنگ کرتے چلے جانا ہے۔آخر میں ہم ادبی اعتبار سے خطرناک سوچ کو ہی ناممکن بناڈالیں گے۔کوئی بھی تصور جس کی کبھی بھی ضرورت ہوسکتی ہے وہ ٹھیک ایک لفظ میں بیان کیا جاسکے گا اور اس کے سب دیگر ذیلی مطالب نابود کردئے جائیں گے اور پھر ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فراموش کردیا جائے گا۔ہر سال چند ہی الفاظ اور شعور کی حد کم سے کم ہوتی چلی جائے گی۔یہاں تک کہ اب بھی مجرمانہ سوچ کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔یہ محض ازخود ڈسپلن میں آنے اور ازخود حقیقت کو کنٹرول کرنے کا نام ہے۔لیکن مستقبل میں یہ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انقلاب اس وقت مکمل ہوجائے گا جب “زبان” کامل ہوجائے گی

اس ملک میں جہاد ازم،تکفیر ازم اور مذہبی بنیاد پرستی کے سعودی ماڈل کو گود لینے والے ریاستی ہرکارے جو لائن دیتے ہیں اسے پاکستانی کمرشل لبرل مافیا اور نواز حکومت کے چرن چھونے میں طاق لبرل نقاب چڑھائے صحافی اور سوشل میڈیا پہ ان کے لئے ہمہ وقت کوشاں چیلے فوری طور پہ میں سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ ایک غالب ڈسکورس بنانے کے لئے کوشاں ہوجاتے ہیں۔

مثال کے طور پہ مسلم ليگ نواز کی حکومت ،اس کے اسٹبلشمنٹ میں بیٹھے اتحادیوں نے یہ لائن دینا شروع کی کہ بدنام زمانہ تکفیری دیوبندی تنظیم اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان ایک بدلی ہوئی جماعت ہے۔اسے مرکزی سیاسی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے اور اس کے سرپرست محمد احمد لدھیانوی بہت ہی پرامن، مدبر،صاحب بصیرت عالم دین ہیں تو لبرل کمرشل مافیا نے اس ڈسکورس کو مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ آگے بڑھانا شروع کردیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ اس بدنام زمانہ تکفیری و جہادی ٹولے کو دہشت گرد ماننے سے انکاری ہوتا ہے اور ان سے اپنی ملاقاتوں کا دفاع کرتا ہے تو اس کے فوری بعد کمرشل لبرل مافیا اس کی لائن کو آگے بڑھاتا ہے۔کمرشل لبرل مافیا کی ایک اسلام آباد کی این جی او پاکستان میں تزویراتی گہرائی کی پالیسی کے خالقوں اور ہدائیت کاروں پہ مشتمل سابق جرنیل ، بیوروکریٹس اور تکفیری و جہادی لیڈروں کو ایک میز پہ بٹھاتی ہے اور پھر تکفیری و جہادیوں کو مین سٹریم کرنے پہ سوچ و بچار شروع ہوتی ہے اور نواز حکومت کا پرچارک جنگ-جیو میڈیا گروپ اپنے ٹی وی کے پروگرام ” شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” میں اس کی خصوصی تشہیر کرتا ہے۔اور ایسے ہی سابق آئی جی پنجاب جیو چینل پہ ایک اور جہادی ہرکارے سیلم صافی کے پروگرام”جرگہ” میں تکفیری دہشت گرد تنظیم ‘اہلسنت والجماعت’ کے وکیل صفائی بنتے اور پنجاب میں لشکر جھنگوی کے خاتمے کا دعوی کرتے ہیں یہ اور بات کے اگلے ہی روز لاہور میں مردم شماری کے لئے جانے والے فوجیوں پہ حملہ ہوتا ہے اور اس کے کچھ روز بعد فوج کے کومبنگ آپریشن میں لاہور میں داعش کا ایک بڑا سرغنہ مارا جاتا ہے۔

مسلم لیگ نواز کی حکومت تکفیری تنظیم اہلسنت والجماعت کو مین سٹریم کرنے اور اس کے سرپرست محمد احمد لدھیانوی کو عظیم مدبر ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس کے لئے اس نے اپنے زرخرید صحافی، تجزیہ نگاروں،کالم نگاروں،دفاعی تجزیہ نگاروں اور اس کے ساتھ سوشل میڈیا پہ بلاگرز کی ایک فوج ظفر موج کو ٹاسک سونپ دیا ہے۔

ویب بلاگ ” ہم سب ” جس کے مالک جنگ میں کالم لکھنے والے اور نواز حکومت سے انعام و اعزاز پانے والے وجاہت مسعود ہیں۔جنھوں نے بڑھاپے میں صحن میں نلکا لگوایا ہے اور اسے چلانے کا کام ان سے تو ہوتا نہیں ہے اس لئے یہ کام ان کی بغل میں تکفیریت کی گٹھی لیکر پیدا ہونے والے بچے سرانجام دے رہے ہیں اور وجاہت مسعود ان درجنوں  صیم کی طرح ہیںجو “لغت” تیار کرنے میں لگے ہیں جس کا مقصد خیالات کی حد مقرر کرنا اور ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہے جس میں فسادیوں کو “صلح کار ” اور تخریب کاروں کو “سفیر امن” کہا جائے اور سب یہی بولی بولنے لگ جائیں۔اور یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ ان انتہا پسندوں، رجعت پرستوں، تکفیری فاشسٹوں اور ان کی تنگ نظری پہ مبنی سوچ کی عکاسی کرنے والی تقریروں، بیانات اور ان کے کردار کی طرف توجہ دلائیں تو یہ کوئی جواب دے سکیں۔ان کی رٹ بس یہی ہے کہ یہ امن پسند ہیں،سفیر ہیں امن کے، ماڈریٹ ہیں اور پاکستان کے اندر پھیلی تکفیری دہشت گردی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

ویسے کیا یہ محض اتفاق ہے کہ صرف پاکستانی کمرشل لبرل مافیا ہی نہیں ہے جو تخریب کار، تنگ نظر، رجعت پرست تکفیری وجہادی مافیا کو امن کے سفیر اور آزادی پسند بناکر پیش کررہا ہے بلکہ ہم عالمی سطح پہ امریکی و برطانوی مین سٹریم میڈیا اور لبرل ڈیموکریسی کے بڑے بڑے علمبرداروں کو شام کے دہشت گردوں، القاعدہ کے اتحادیوں اور سعودی وہابیت کے پالنہاروں کو آزادی پسند، ماڈریٹ کہتے دیکھ رہے ہیں بلکہ کل تک ٹرمپ جو مغربی لبرلز کا سب سے ناپسندیدہ صدر تھا آج وہ ان کی ڈارلنگ بن گیا ہے صرف اس لئے کہ اس نے شام پہ مزائیل حملے کئے،وہ کہتا ہے کہ بشارالاسد نے کیمیائی ہتھیار معصوموں پہ استعمال کئے ہیں۔اور بس یہی ایک زبان بولی جارہی ہے۔بی بی سی فرانسیسی اسلامو فوبک ، شاؤنسٹ ، نسل پرست لی پین کو بھرپور کوریج دے رہا ہے۔فرائیڈمین جیسا لبرل ڈیموکریسی کا سب سے بڑا علمبردار داعش سے امریکہ کے اتحاد کی حمایت کرتا ہے۔

اور ریاض مالک بالکل ٹھیک لکھتے ہیں:

پاکستان کے اندر جماعت اسلامی، اہلسنت والجماعت اور جماعت دعوہ کے “تجزیہ کار” اور ان کے شریک کار اشرافی سول سوسائٹی کے نیولبرلز” اپنے آپ کو ” مہان سیاست کے ماہر اور تجزیہ کار “خیال کرتے ہیں جو اپنے کسی تجزیہ میں یہ بات کبھی نہیں لائیں گے کہ پاکستان کے اندر 80 ہزار سے زائد لوگ بشمول 23 ہزار شیعہ، 45 ہزار صوفی سنّی اور سینکڑوں کرسچن، احمدی ، ہندؤ ان تکفیری دیوبندی-سلفی دہشت گردوں نے مارے جن کو ” نفرت اور دشمنی ” کا پاٹھ لدھیانوی اور اس کے دیگر قائدین نے پڑھایا تھا۔اور “ہم سب” جیسے ویب بلاگ پہ تکفیری دیوبندی محمد احمد لدھیانوی سے ملاقات کا جو احوال شایع کیا گیا ہے اس کے آغاز میں یہ کہا گیا کہ “مشکل سوالات کا تحمل سے جواب دیتے ہیں اور ایسے سوالات کرنے پر اکساتے بھی ہیں” لیکن مشکل سوالات کونسے تھے؟ پوری رپورتاژ پڑھنے کے بعد بھی پتا نہیں چلتا۔ایک نہایت بے ضرر سا سوال یہ بھی بنتا تھا کہ محمد احمد لدھیانوی ” کاروبار تکفیر ” میں آنے سے پہلے بہت ہی غریب تھے تو آج کھربوں کے مالک کیسے بنے؟ ایک سوال ویکی لیکس کے حوالے سے بنتا تھا کہ لیبیا سے 25 ملین ڈالر ان کو کس مد میں ملے تھے؟ملک اسحاق اور ان کے دیگر ساتھیوں نے ان کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ایجنٹ و دلال کہا تھا اس میں کہاں تک صداقت ہے؟ اور آخری بات یہ کہ جب وجاہت مسعود ہفت روزہ “ہم شہری” میں ایڈیٹر تھے تو ان کے مضامین میں “کالعدم جماعتوں اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد” کی میڈیا کوریج اور ان کو سرگرمیوں کی اجازت ملنے پہ کافی تنقید ہوا کرتی تھی اور “جماعت دعوہ” پہ میری کور سٹوری کو انہوں نے اس وقت بہت سراہا تھا جب لشکر طیبہ اور اس کے ہفت روزہ اخبار “غزوہ” پہ پابندی کے دنوں بعد ” جرار” کے نام سے اخبار نکلنا شروع ہوگیا تھا۔ویسے وجاہت مسعود ” حافظ سعید ” سے اپنے نلکا چلوانے والے ایڈمنز کو کیوں نہیں ملواتے اور ان کی نرم بیانی اور مہمان نوازی اور خندہ پیشانی کا بیان “ہم سب” میں کیوں نہیں کرواتے؟ کہیں اس کی وجہ امریکیوں کی ناراضگی کا اندیشہ تو نہیں ہے؟

ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال : دو سرکاری بابوؤں کی آئین اور قانون سے کھیلواڑ کی کہانی

17909432_10212951767377284_1760224501_n

DC Khanewal Muzaffar Khan Siyal,another Master of Wretched of Earth

پاکستان میں انگریزوں سے بھی زیادہ سفید نوآبادیاتی آقا ہونے کی ذہنیت کے ساتھ عوام کو شہری سمجھنے کی بجائے رعایا جاننے کی فطرت رکھنے والے سرکاری بابوؤں کی ظالمانہ فطرت اور رعونت دیکھنی ہو تو کسی بھی ضلع کے ڈپٹی کمشنر  کے دفتر میں اس کے کام کی روٹین کا جائزہ لینا کافی ہوگا۔اور یہ کیسے آئیں اور قانون سے کھیلواڑ کرتے ہیں اس کا اندازہ مجھے گزشتہ روز اس وقت بڑی اچھی طرح ہوا جب مجھے ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے گرینڈ جرنلسٹ الائنس کی جانب سے ملتان ہائی کورٹ کے ایک بنچ کی ڈائریکشن پہ ڈی سی خانیوال کی عدالت میں پیش ہونے اور اس کے بعد ڈی سی خانیوال کی جانب سے دئے گئے فیصلے کو سننے کا اتفاق ہوا۔ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال بھی دیگر پریس کلبز کی طرح سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1860ء کے تحت رجسٹرڈ ہے جسے پنجاب سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کہا جاتا ہے اور یہ 1860ء کا 21 واں سیکشن ہے جو سوسائٹی رجسٹریشن سے معاملہ کرتا ہے۔ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے معاملات 2014ء سے خراب تھے۔ خراب اس لئے تھے کہ اس کلب میں برسراقتدار آنے والوں نے ایک طرف تو پریس کلب کے میمورنڈم کے آرٹیکل 56 سے لیکر 60 تک میں ایسی ترامیم کیں جو کہ سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کی شق نمبر 12 اور 16 سے متصادم تھیں اور آئین پاکستان کے بھی متصادم تھیں۔اس بات کا زکر سابق ڈی سی او خانیوال زید بن مقصود نے اپنے 2017ء میں ہی جنوری میں دئے گئے فیصلے کی شق نمبر 10 میں کیا لیکن حیرت انگیز طور پہ اصل آئین کو بحال نہ کیا۔پھر سابق ڈی سی او خانیوال زید بن مقصود نے اپنے فیصلے میں یہ بھی تسلیم کیا کہ ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال پہ نام نہاد عبوری گورننگ باڈی بنانے اور منتخب قیادت کو معطل کرنے جیسے فیصلے غلط تھے۔سابق ڈی سی او خانیوال نے اپنے فیصلے میں ایک بہت بڑا جھوٹ بولا کہ انہوں نے ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے کاروائی رجسٹرڈ میں جنرل کونسل کے اجلاس کی کاروائی میں دو تہائی اکثریت کی جانب سے سابق صدر عبداللطیف انور کے دستخطوں سے 36 لوگوں کو ممبرز بنائے جانے کی توثیق و دستخط کا ریکارڈ  خود دیکھا ہے جبکہ ایسا اجلاس سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا تھا۔میں 2014ء کے الیکشن میں آڈیٹر اور میرے دوست اشرف گادھی جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے تھے۔سابق صدر نے 36 لوگوں کو ممبر شپ دی اور ايگزیگٹو اجلاس میں ہم دونوں نے اپنے اختلافی نوٹ لکھے جسے شاہد انجم ممبر پریس کلب نے رجسٹر کاروائی میں درج کیا اور اس گے گواہ خود سابق جنرل سیکرٹری محمد اشرف پراچہ بھی ہیں اور رجسٹرڈ کاروائی میں یہ درج ہے کہ عبداللطیف انور صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب نے ہمارے سوال کے جواب میں یہ کہا تھا کہ 36 ممبر  صدر اپنے صوابدیدی اختیار سے بنارہے ہیں اور جنرل کونسل کا اجلاس سرے سے ہوا ہی نہیں۔اور نہ ہی ایسا ریکارڈ پیش کیا جاسکتا ہے۔

ميں نے ڈی سی خانیوال مظفر خان سیال کو ایک تحریری بیان دیا جس میں تمام متعلقہ آرٹیکلز سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ و میمورنڈم پریس کلب درج تھے جس کی رو سے تقاضا یہ بنتا تھا کہ ڈی سی خانیوال ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے الیکشن کروانے سے پہلے ڈسٹرکٹ پریس کلب کا ایک جنرل کونسل اجلاس بلواتے اور رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ کی شق 16 اس کا پورا طریقہ کار بتاتی ہے کہ اگر کسی سوسائٹی کا کام رک جائے کسی وجہ سے تو پنجاب حکومت کا مجاز افسر عبوری باڈی بناکر جب الیکشن کی طرف لیجائے گا تو وہ ایک تو سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کی متعلقہ شق کے تحت 14 دن پہلے جنرل کونسل کا اجلاس بلواکر پریس کلب کے ممبران کی فہرست پیش کرے گا ، مالیات کا حساب کتاب فنانس سیکرٹری پیش کرے گا اور اس کی تفصیل رجسٹرار سٹاک کمپنیز کو پیش کرکے این او سی لے گا اور پھر الیکشن بورڈ قائم کرے گا اور وہ الیکشن بورڈ پریس کلب کا سب ریکارڈ اپنی تحویل میں لے گا اور اس کے بعد الیکشن شیڈول جاری کیا جائے گا۔لیکن سابقہ ڈی سی او خانیوال اور موجودہ ڈی سی خانیوال نے سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ ، میمورنڈم ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال اور یہاں تک کہ خود اپنے بقول کہ سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ اور میمورنڈم کو سپر سیڈ نہیں کیا جاسکتا کی نفی کرتے ہوئے غیر آئینی الیکشن بورڈ  تشکیل دیا جس الیکشن بورڈ نے میمورنڈم کی شق 25 کو ہی فعال کہا جس کی کوئی گنجائش نہ تو سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ میں تھی اور نہ ہی دسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے میمورنڈم میں تھی اور یہ بھی سابق ڈی سی او خانیوال کے آمرانہ فیصلے کی روشنی میں کیا گیا اور پھر خود اس شق 25 کی ذیلی شق 5 کی خلاف ورزی کی گئی کہ کسی امیدوار سے 100 روپے وصول نہ کئے گئے اور اس پہ گزاری گئی درخواست پہ الیکشن بورڈ نے چار بار ایک ہفتے میں شیڈول بدلے اور جاری کئے ۔یہ مانا کہ شق 25 کی پوری پاسداری نہیں ہوئی اور اس کی رو سے سب امیدوار نااہل ٹھہرتے ہیں اور کاغذات کی وصولی دوبارہ کی جانی چاہئیے تھی لیکن الیکشن بورڈ کے چئیرمین سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کے کمرے میں جب اس معاملے پہ بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ” ڈسٹرکٹ پریس کلب کا آئین معطل اور شق 25 برقرار اور اس کی معمولی سی خلاف ورزی کا کوئی مطلب نہیں ہے اور جوش جذبات میں وہ یہ بھی کہہ گئے کہ ” یہاں آئین اور قانون کو کون پوچھتا ہے حسینی صاحب؟ ” جب میں نے ان کی اس بات پہ حیرت کا اظہار کیا( کیونکہ وہ نہ صرف پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں بلکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن خانیوال جیسے انتہائی محترم اور درخشاں روایات کے حامل ادارے کے صدر بھی تھے اور ہم اپنی خوش قسمتی سمجھ رہے تھے کہ اس قدر موقر ادارے کا صدر ہمارا چئیرمین الیکشن بورڈ ہے اور اسے ہم جب تفصیل سے آئین اور قانون سے کئے گئے کھیلواڑ کی تفصیل سے آگاہ کریں گے تو وہ اس عمل سے خود کو الگ کرلیں گے لیکن وہ تو اپنے غلط فیصلے پہ اڑ گئے) اور میں نے ان سے عرض کی کہ جناب ” آئین اور قانون ” بارے ایسا تحقیری انداز پاکستان کی تاریخ میں آمروں نے اختیار کیا اور یہ ضیاء الحق کہا کرتا تھا کہ آئین ہے کیا چند صفحات کی کتاب ، جسے جب چاہوں پھاڑ کر پھینک دوں۔ آپ جس پیشے سے وابستہ ہیں اور جس ادارے کی سربراہی کررہے ہیں دونوں کے وقار کو یہ تحقیر مجروح کرنے والی ہے۔اب میری اس بات میں کون سی ذاتیات شامل تھی جس کا چئیر مین الیکشن بورڈ نے برا منایا اور نجی محافل میں یہ کہا کہ اگر اے ڈی سی آر کے اجلاس میں یہ باتیں نہ کی جاتیں تو شاید میں فیصلہ بدل ڈالتا۔لیکن ہماری اطلاعات یہ ہیں کہ سابق ڈی سی او خانیوال زید بن مقصود اپنے بعد آنے والے ڈی سی کے ساتھ رابطے میں تھے اور ایک سرکاری بابو نے اپنے بلنڈرز، فاش غلطیوں پہ مبنی فیصلے اور سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ و ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے میمورنڈم کی صریح خلاف ورزی اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پہ مبنی فیصلے کو بچانے کے لئے دوسرے سرکاری بابو سے تعاون مانگا جس کا انکار نہ کیا گیا۔پھر موجودہ سرکاری بابو کے ساتھ ایک مسئلہ اور بھی ہے  کہ اپنے سابق سرکاری بابو کی طرح اسے عوام دوست ، ظلم کے خلاف برسر پیکار صحافی کہاں پسند آئیں گے ورنہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ جو انھیں پیش کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ اپنے غیر آئینی و غیر قانونی فیصلے سے جن لوگوں کو آپ فائدہ پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں ان کا ریکارڈ ہے کیا۔

لوگ اکثر شکوہ کناں ہوتے ہیں کہ زرد صحافت کا دائرہ پھیلتا جارہا ہے بلکہ کئی کارڈ ہولڈرز کے جرائم پیشہ افراد کے سرپرست ہونے ، عوام کے مفادات کے خلاف افسر شاہی اور سرکاری بابوؤں سے گٹھ جوڑ کرنے کے قصّے زبان زد عام ہیں تو معاملہ یہ بنتا ہے کہ  سرکاری بابو شاہی نوآبادیاتی ذہنیت کے ساتھ چند کالی بھیڑوں کو خرید کر رکھتی ہیں اور ان کو سول سوسائٹی کے اہم ترین ستون اور عوامی مفادات کے تحفظ کی ضمانت دینے والے اداروں جیسے پریس کلب ہے پہ قبضہ کرنے کے لئے مکمل سپورٹ دی جاتی ہے اور اس طرح سے مظلوموں کی آواز دبا دی جاتی ہے۔لیکن ایسے نہ آواز پہلے کبھی دبائی جاسکی اور نہ اب دبائی جاسکے گی۔ہم بطور ریکارڈ بابو شاہی کی لاقانونیت اور اپنی فاش غلطیوں کو چھپانے کا پول کھولتے رہیں گے۔

مشعال خان: تم کیا گرے ،حاکمیت کے ستون اور شکستہ ہوگئے

 

 

کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو المیہ کو عروج پہ لیجاتے ہیں اور ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم اس المیہ پہ مرثیہ ، نوحہ ، سوز اور تعزیتی انشائیہ لکھیں اور ایسے وقت میں مرثیہ، نوحہ ، سوز اور تعزیتی انشائیہ لکھنا بہت آسان ہوتا ہے جب وہ واقعہ ایک ایپک  بن گیا ہوتا ہے اور ہر کوئی اس پہ لکھ رہا ہوتا ہے اور اس لکھنے میں کوئی خطرہ بھی لاحق نہیں ہوتا۔جیسے آپ منصور حلاج، دار شکوہ، سرمد  پہ لکھتے ہیں تو اس میں زیادہ خطرات لاحق نہیں ہیں۔ایسے ہی آج جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء تھا ایسے میں آپ اگر ذوالفقار علی بھٹو پہ لکھتے تو آپ کے لئے بہت مشکل تھا بلکہ بھٹو کا نام لینا بھی جرم بن گیا تھا۔ایسے ہی آج جب آپ پاکستان، عراق ، شام سمیت جہاں جہاں سلفی۔دیوبندی تکفیری فاشزم اپنے عروج پہ ہے اگر کربلاء کی ٹریجڈی پہ لکھتے ہیں اور محرم کی المیاتی ثقافت پہ بات کرتے ہیں تو بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ خطرات میں گھر جائیں گے اور آپ جان سے بھی جاسکتے ہیں۔جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں “صفیہ کیس” ہمارے سامنے آیا اور یہ حدود آرڈیننس کے ساتھ جڑا ہوا تھا،اس زمانے میں اس پہ بات کرنا آسان نہیں تھا اور اس پہ لکھنے سے آپ پہ کفر بلکہ بلاسفیمی کا الزام لگ سکتا تھا۔اور ہمارے ہاں اس زمانے میں جماعت اسلامی نے اسے باقاعدہ ایک خطرناک ہتھیار کی شکل دی تھی اور وہ 70ء کی دہائی سے اس ہتھیار کے ساتھ ” بلوائی حملوں ” پہ مبنی ایک پوری نفسیات کو زیادہ سے زیادہ ترقی دینے پہ تلے بیٹھے تھے۔کسی بھی شخص یا گروہ یا کسی بھی اقلیتی فرقے یا اپنے کسی مخالف کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز فضا کی پیدائش کی تاریخ اگر تلاش کی جائے گی تو یہ تاریخ میں ہمیں کالونیل دور میں مل جائے گی اور ایک موثر ہتھیار کے طور پہ اس کا استعمال ہمیں مسلم بنیاد پرست ہوں یا ہندو بنیاد پرست ہوں یا سکھ بنیاد پرست ہوں کے ہاں مل جائے گا۔اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف عوامل نے اپنا کردار ادا کیا ہے اور اسے انسٹی ٹیوشنل لائز کردیا ہے۔

ہم نے اردن میں ناھض حتر (ایک ترقی پسند کرسچن سوشلسٹ ترقی پسند ) کے معاملے میں دیکھا کہ اسے اردن کی سپریم کورٹ کی سیڑھیوں پہ گولی ماردی گئی ،ایسے ہی سلمان تاثیر کے معاملے میں ہوا اور شہباز بھٹی کا کیس بھی یہی تھا۔راشد رحمان کا معاملہ بھی یہی تھا اور جمشید نایاب کا معاملہ بھی ایسے ہی تھا۔اور پھر کچھ لوگ ہیں جو ابھی جیلوں میں پڑے ہیں اگر وہ پبلک میں آئیں تو پاکستان میں ان کا آزادانہ چلنا پھرنا ایک المیہ کو جنم دے گا جیسے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے جنید حفیظ کا معاملہ ہے۔اور اگر ہم جیلوں میں بند ان لوگوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پہ بات بھی کریں تو خطرے سے خالی نہیں ہے چاہے ہمیں ان کی بے گناہی کے درجنوں ثبوت کیوں نہ مل گئے ہوں،ایسے ہی آسیہ بی بی کا کیس ہے۔اس پہ بات کرنا بھی مشکل بلکہ ناممکن ہوگیا ہے۔

سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ایک طرف تو اس ملک کے شیعہ،کرسچن،احمدی ، ہندؤ اور صوفی سنّی ، سیکولر و لبرلز ، کمیونسٹ ، لیفٹ انٹلیکچوئل مسلسل مسلم بنیاد پرستوں، سلفی –دیوبندی تکفیری فاشسٹ نیٹ ورک کے حملوں کی زد میں ہیں تو دوسری طرف ایسے شواہد موجود ہیں کہ پاکستانی ریاست کے اداروں میں ایسے ” بدمعاش ” موجود ہیں جو ریاست کے کردار اور اس کی پالیسیوں پہ تنقید کرنے والے اور ریڈیکل خیالات کا اظہار کرنے والوں کے خلاف مین سٹریم میڈیا میں بیٹھے اپنے ایجنٹوں اور حامیوں کے زریعے سے ایسا پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں جس سے ایک اشتعال اور کشیدہ فضاء خود بخود بازار، محلے اور مسجد و مدرسے کے اندر جانے والوں میں پھیل جاتی ہے اور یہ ہمارے کالج ، یونیورسٹی اور اسکولوں میں بھی پھیل جاتی ہے اور بہت ہی منظم طریقے سے یہ ایک ” بلوائی تشدد ” کی راہ ہموار کرتی ہے تو یا تو آپ بہت آسانی سے ہجوم کے بلوے کا شکار ہوجاتا ہے یا آپ کے اردگرد کوئی آپ کا شناسا یا کوئی آپ کے آس پاس سے گزرنے والا شخص آپ کی زندگی کا خاتمہ کرسکتا ہے۔اور یہ بھی ہوتا ہے اکثر  یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد جو سرگرم ہوتی ہے وہ اشتعال و نفرت کا مرکز بننے والے شخص سے ہمدردیاں  بالکل نہیں رکھتیں اور انتہائی نفرت کا شکار وہ شخص یا اشخاص بن جاتے ہیں۔اور ایسے میں جب ایسے فرد یا افراد قتل کردئے جاتے ہیں یا بلوائی دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں تو اس پہ ردعمل بھی بہت ہی کم ہوتا ہے۔اور جو لوگ ردعمل دینا چاہتے ہیں ان کو ڈرایا ، دھمکایا جاتا ہے اور ان کو سہم جانے پہ مجبور کیا جاتا ہے اور ایسے میں معاشرے میں ہر طرف آپ کو “جنونیوں” کا راج نظر آتا ہے۔اور ریاست ایسی فضاء میں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں زیادہ آسانی محسوس کرتی ہے۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے پاکستانی ریاست نے حال ہی میں کئی ایک ایشوز پہ پاکستان کے اندر پائی جانے والی مخالفانہ فضاء کو حال ہی میں ابھرنے والی صورت حال میں بدلنے کے لئے موافق خیال کیا اور اس نے وہ اقدام اٹھائے ہیں جو پاکستان کی فضاء کو اور ذھریلا اور زیادہ فرقہ وارانہ بنانے میں مددگار ہوں گے۔جیسے پاکستانی ریاست نے اپنے سابق آرمی چیف کو سعودی عرب کی قیادت میں قائم ایک فرقہ پرست فوجی اتحاد کی سربراہی کی اجازت دے دی ہے اور ایسے ہی پاکستانی ریاست آہستہ آہستہ شام کے ایشو پہ اپنی غیر جانبدار پوزیشن کو ختم کرچکی اور سعودی بلاک کے ساتھ جاکھڑی ہوئی ہے۔اور اس بارے میں پاکستانی سماج کے اندر بہت زیادہ شور نہیں ہے۔اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ریاست نے ایک ایسا میکنزم اختیار کیا ہے کہ ان جیسے ایشوز پہ اختلاف ظاہر کرنے والوں کو فوری طور پہ ایرانی ایجنٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔اور ایسے شواہد بھی موجود ہیں جس سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر سے ایسے موقف سامنے آتے ہیں جس سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں جو اس وقت مزاحمت ہے، پاکستان میں جو فرقہ وارانہ قتل و غارت گری ہے اور مذہبی دہشت گردی ہے اسے راء پھیلا رہی ہے اور اس کے لئے روٹ اور راستہ جہاں افغانستان ہے تو ساتھ ساتھ ایران بھی ہے۔اور سابق ترجمان آئی ایس پی آر نے کلبھوشن کے معاملے میں ایران کو مورد الزام اس وقت ٹھہرایا جب ایرانی صدر پاکستان کے دورے پہ تھے اور اب حال ہی میں عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی کی تحویل میں لینے کے بعد عزیر کے تعلقات بھارتی ایجنسی راء اور اس کے نیٹ ورک کا روٹ پھر ایران بتلایا گیا اور اس کا تعلق ایرانی انٹیلی جنس ایجنسی سے بتایا گیا جبکہ عزیر بلوچ کے پاکستان کے اندر تبلیغی جماعت ، سپاہ صحابہ پاکستان وغیرہ سے روابط بارے کوئی بھی بات سامنے نہیں لائی گئی۔اگر اس سارے پلاٹ پہ نظر دوڑائی جائے تو یہ پلاٹ تکفیری فاشزم اور پاکستان میں سعودی نواز فرقہ پرست لابی کے موقف کی حمایت میں نظر آتا ہے جو تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کی ساری کی ساری کاروائیوں کو ایرانی-بھارتی نیٹ ورک کی کارستانی بتاتی ہے اور شیعہ کمیونٹی کو ایجنٹ بناکر پیش کرتی ہے۔اور ایسے میں ایک پوری کمیونٹی کو ریاست کے اداروں کے اندر بیٹھے لوگ ہی دیوار سے لگانے میں مددگار اقدام کرتے ہیں۔ایسے میں ریاستی اداروں کا مقصد یمن،شام جیسے ایشوز پہ سعودی پالیسی کی حمایت کی راہ میں آنے والی روکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

بلاسفیمی ، ایجنٹی ، غداری اور اس جیسے کئی اور الزامات تباہ کن ہتھیار کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور ریاستی ادارے، مین سٹریم میڈیا، مدارس ، مساجد ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹیوں میں جہاں جہاں ریاستی اداروں کے پاس اپنے ہمنواء موجود ہیں وہ یہ ہتھیار ان کے ہاتھ میں تھماکر اپنی راہ میں آنے والوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔مشعال خان کے خلاف یہ ہتھیار براہ راست تو نہیں لیکن بالواسطہ استعمال ہوا اور جیسا کہ ایسا ہوتا ہے کہ جو ہتھیار ریاستی ادارے نجی لشکروں کے حوالے کرتے ہیں یا پراکسیز کو دیتے ہیں وہ ان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پھیل جاتا ہے اور خود ریاستی اداروں پہ بھی استعمال ہوتا ہے،جیسا کہ ہم نے جہادی پراکسی اور اینٹی شیعہ ، سعودی نواز پراکسی کے معاملے میں دیکھ لیا ہے۔پاکستان میں شیعہ نسل کشی،بلوچ نسل کشی اور ریاست کے بیانیہ سے اختلاف کرنے والوں کی آوازوں کو خاموش کرانے کا سلسلہ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا اور جیسے ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے ویسے ہی پاکستان کے اندر حقیقت یہ ہے کہ ریاستی سرپرستی میں سامنے والا پاکستانی نیشنل ازم اور نام نہاد اسلام ازم ( جو وہابیت و دیوبندیت کا چربہ ہے ) وہ تیزی سے غیر مقبول ہورہا ہے اور اس غیر مقبولیت کو بین الاقوامی برادری سے چھپانے کے لئے زبردست تشدد اور دہشت گردی، سنسر شپ اور بلوائیت سے کام لیا جارہا ہے۔ریاست ایسے نہ تو ماضی میں کبھی زیادہ دیر چل پائی نہ اب چل پائے گی ۔

 

مولانا شیرانی :یا منافقت ترا آسرا

58ea3e4f9e35b

جے یو آئی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا شیرانی فرماتے ہیں۔۔۔

کہ عالم کفر نے آپس میں مسلمانوں کی تباہی وبربادی کا معاہدہ کر رکھا ہے۔مسلمان کو مسلمان سے لڑایا جارہاہے۔ مذہب اسلام کو دہشت اور بربریت کا استعارہ بنا دیا گیا ہے۔

مولانا مزید فرماتے ہیں ایک دہشت گرد گروپ کو طالبان کا نام دیا جاتا ہے جسکی پشت پر چین اورروس کھڑے ہیں تو دوسرے گروپ کو داعش کے نام سے اٹھایا جاتا ہے جسکی پشت پرامریکہ اورمغرب کھڑے ہیں۔

 مولانا شیرانی! گھٹیا سازشی تھیوریز صرف مغرب میں دائیں بازو کے نو قدامت پرست ہی ایجاد نہیں کرتے بلکہ آل سعود کی غلامی میں سرشار آپ سمیت  دیوبندی مذہبی پیشوائیت بھی کسی سے کم نہیں ہے۔

عالم کفر نے باہمی معاہدہ کررکھا ۔۔۔۔۔ معاہدہ ہے مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا ۔۔۔۔۔ مسلمان کو مسلمان سے لڑایا جارہا ہے۔اسلام کو دہشت اور بربریت کا استعارہ بنادیا گیا ہے۔

مولانا شیرانی یہ بات اس سٹیج سے کررہے تھے جس پہ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور اور مکّہ میں مسجد حرام میں حکمران بادشاہی خاندان آل سعود کے ملازم امام مسجد بھی تشریف رکھتے تھے۔مولانا شیرانی کی اپنی ساری گفتگو میں عالم کفر کے باہمی معاہدے کو کامیاب کرانے کا سب سے بڑے ذمہ دار سعودی عرب اور اس کا حکمران خاندان آل سعود ٹھہرتے ہیں۔کیونکہ یہ سعودی عرب ہے جس نے یمن پہ حملہ کیا، عراق میں عرب قبائل کے سرداروں اور سیاسی لیڈروں کو خریدا اور پھر وہاں پہ وہابی عسکریت پسند دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کی۔شام میں اس وقت جتنے بھی جہادی گروپ لڑ رہے ہیں وہ سب کے سب سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں سے ہی مالی اور اسلحے کی امداد پارہے ہیں۔داعش کے جراثیم اور اس کی بنیاد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پالیسی سے ہی سامنے آئے اور سعودی عرب سمیت امریکی اتحادیوں نے اسے پروان چڑھایا۔مڈل ایسٹ ہو یا شمالی افریقہ یا جنوبی ایشیاء یا مشرق بعید سب جگہ پہ یہ سعودی عرب کی وہابی آئیڈیالوجی سے لتھڑی فنڈنگ ہے جس نے جمہور اسلام کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے اور پوری مسلم دنیا میں جہاد کے نام پہ سلفی اور دیوبندی جہادی /عسکریت پسند مسلم عوام کے گلے کاٹ رہے ہیں۔مولانا شیرانی صاحب! اگر مغرب نے عالم اسلام کے خلاف کوئی خفیہ معاہدہ اگر کیا بھی ہوا ہے تو اس معاہدے کے سب سے بڑے سہولت کار سعودی عرب،کویت،متحدہ عرب امارات،ترکی،قطر، بحرین، اردن وغیرہ ہیں اور اس کے سب سے بڑے مددگار وہ مذہبی لیڈر ہیں اور وہ تنظیمیں ہیں جو سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہیں اور سعودی عرب کی سرکاری مذہبی آئیڈیالوجی کو پیسے اور جبر کے زریعے سے جمہور مسلمانوں پہ مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔اگر آپ اپنے کہے میں سچے ہوتے تو جمعیت علمائے اسلام کے اجتماع عام میں آل سعود کے ملازم مہمان خصوصی کے طور پہ مدعو نہ ہوتے اور نہ ہی سعودی عرب کو اسلام کا خادم کہا جاتا۔اور آپ اگر سچے ہوتے عالم اسلام کی خیر خواہی میں تو آپ اپنی تقریر میں سعودی عرب سے کہتے کہ وہ یمن پہ ہوائی حملے بند کردے۔شام میں سلفی۔دیوبندی تکفیری/جہادی دہشت گردوں کی حمایت اور مدد بند کردے۔عالم اسلام کی اکثریت پہ کفر اور شرک کے فتوے لگانے والوں کی مالی مدد بند کردے اور عالم اسلام کی اکثریت کو وہابی بنانے کے پروجیکٹ سے باز آجائے۔ایسے ہی آپ اگر عالم اسلام کے اندر جاری خون ریزی بند کرانے میں سنجیدہ ہوتے تو آپ دار العلوم دیوبند اور اس سے منسلک تمام دیوبندی مدارس کی انتطامیہ سے اور دنیا بھر میں پھیلی دیوبندی سیاسی و مذہبی تنظیموں سے اور سب سے بڑھ کر مولانا فضل الرحمان کو کہتے کہ وہ تکفیری اور نام نہاد جہادی دیوبندیوں سے اپنی مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں سے کہیں کہ ان تنظیموں کا مکمل بائیکاٹ کریں اور اپنے مساجد و مدارس میں ان کا داخلہ بند کریں۔

مولانا شیرانی ! اگر آپ عالم اسلام کی باہمی خانہ جنگی کے واقعی مخالف ہوتے تو آپ جے یو آئی کے سٹیج سے ہی مسلم لیگ نواز کی حکومت سے کہتے کہ 39 مسلم ممالک کی افواج کے اتحاد سے فوری طور پہ باہر آئے۔جنرل راحیل شریف کو دیا گیا این او سی واپس لیا جائے۔اور پاکستانی افراج کو مسلم ممالک کے درمیان کسی بھی فوجی تنازعے میں فریق بنکر بھیجنے سے باز رہے۔اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں حکمران جماعت کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کرنے کا اعلان کرتے۔

لیکن ایسا کچھ بھی تو آپ نے نہیں کہا۔کیا اس سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں۔اور عالم اسلام کے اندر اس وقت جس تکفیر ازم اور جہاد ازم کی بربریت کا سامنا عالم اسلام کے اندر رہنے والے مسلمانوں کو ہے آپ اس کا خود ایک حصّہ ہیں۔آپ سہولت کار، بھرتی کار ، معاون اور پروپیگنڈا مشین بنے ہوئے ہیں اور اسی پہ پردہ ڈالنے کے لئے آپ غیر جانبداری کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ آپ سمجھتے کہ ” باؤلی کا سانگ ” پہن کر دوسرے آپ کو معصوم خیال کرلیں گے۔ایسے بیانات کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور حقائق کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔

مولانا شیرانی آپ مسجد کے منبر کا ، مدرسے میں استاد کی مسند کا ، اسمبلی میں اپنی نشست کا اور اسلامی نظریاتی کونسل میں اپنی سربراہی کا انتہائی غلط استعمال کررہے ہیں۔آپ اس بات پہ پردہ ڈال رہے ہیں کہ ویکی لیکس نے جن امریکی سفارتی مراسلوں کو افشاء کیا ان سے یہ پتا چل گیا کہ امریکہ 30 سال پہلے سے ہی شام میں بعث پارٹی کی حکومت کو گرانے کی پالیسی بنا چکا تھا اور اس پالیسی کا ایک بڑا حصّہ یہ تھا کہ شام میں سنّی مسلمانوں کو شیعہ علوی ، کرسچن ، دیروزی شیعہ اور دیگر کے خلاف بھڑکایا جائے۔ایران کا خوف پیدا کیا جائے۔اور اسی مقصد کے لئے سعودی عرب،قطر وغیرہ کو وہابی آئیڈیالوجی پہ مبنی اداروں کے زریعے سے شام کو غیر مستحکم کرنے کا پلان بنایا گیا۔

 مولانا شیرانی سمیت دیوبندی مذہبی پیشوائیت پاکستان سمیت جہاں جہاں ان کا اثر و رسوخ ہے وہاں وہاں سعودی عرب کے مفادات کے لئے کام کررہی ہے۔اور یہ کام سعودی عرب کے زریعے سے فائدہ امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں کو پہنچاتا ہے۔دیوبندی مذہبی پیشوائیت نے ان سارے تکفیری انڈوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا کر رکھا ہوا ہے جو عالم اسلام میں شیعہ۔سنّی خانہ جنگی کرانے کے منصوبے پہ عمل پیرا ہیں۔اور دیوبندی مذہبی پیشوائیت کے پاس یہ ٹاسک ہے کہ وہابی نظریہ کو سنّی حنفی مسلمانوں کے اندر فروغ دیں تاکہ اہل متصوف حنفی سنّی مسلمانوں کے نوجوان سلفی عسکریت پسندی پہ عمل پیرا ہوکر سعودی مفادات کو اسلامی مفادات خیال کرلیں اور اس جنگ میں شریک ہوجائیں۔دیوبندی مذہبی پیشوائیت کا عالم اسلام یا مسلم دنیا کے اندر مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی جنگ اور فساد میں غیر جانبداری اور دردمندی کا دعوی سوائے ڈھونگ کے اور کچھ نہیں ہے۔اگر آپ سعودی عرب سے پیسہ لیتے ہیں، سعودی عرب کے حکمرانوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، ان کی جنگوں کے بارے مين حرف مذمت نہیں نکالتے تو مطلب بہت واضح ہے کہ آپ سعودی کمیپ میں کھڑے ہیں اور یہ بھی ذہن نشین رہے کہ سعودی کیمپ ہرگز جمہور سنّی مسلمانوں کا کیمپ ہرگز نہیں ہے۔وہابیت اسلام کا وہ برانڈ ہے جسے جمہور مسلمانوں نے ہمیشہ رد کیا ہے اور خود دیوبندی مذہبی پیشوائیت آل سعود کے حجاز پر تسلط سے پہلے تک وہابیت کو خارجیت کے مثل گردانتی رہی تھی لیکن پھر جب ترک ‏عثمانیوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا اور حجاز میں ایک وہابی حکومت برسراقتدار آئی تو ساری دیوبندی قیادت ابن سعود کے ہاتھ پہ بیعت ہوگئی اور ان پہ اچانک یہ انکشاف ہوا کہ کعبہ کی چابیاں آل سعود کو اللہ نے دی ہیں۔اب آل سعود کا وجود ان کو عالم اسلام کے لئے برکت کا باعث لگتا ہے۔کل تک جو خوارج کی مثل تھے، جس تحریک کا بانی خون خوار  یہاں تک کہ خبیث تھا وہ ایک دم سے سب سے بڑا توحید پرست ہوگیا ( شہاب ثاقب ، المہند سمیت درجنوں کتب دیوبندیہ میں وہابیت اور اس کے بانیوں کے خلاف فتوے اور نظریات موجود ہیں)۔