مشعال خان: تم کیا گرے ،حاکمیت کے ستون اور شکستہ ہوگئے

 

 

کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو المیہ کو عروج پہ لیجاتے ہیں اور ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم اس المیہ پہ مرثیہ ، نوحہ ، سوز اور تعزیتی انشائیہ لکھیں اور ایسے وقت میں مرثیہ، نوحہ ، سوز اور تعزیتی انشائیہ لکھنا بہت آسان ہوتا ہے جب وہ واقعہ ایک ایپک  بن گیا ہوتا ہے اور ہر کوئی اس پہ لکھ رہا ہوتا ہے اور اس لکھنے میں کوئی خطرہ بھی لاحق نہیں ہوتا۔جیسے آپ منصور حلاج، دار شکوہ، سرمد  پہ لکھتے ہیں تو اس میں زیادہ خطرات لاحق نہیں ہیں۔ایسے ہی آج جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء تھا ایسے میں آپ اگر ذوالفقار علی بھٹو پہ لکھتے تو آپ کے لئے بہت مشکل تھا بلکہ بھٹو کا نام لینا بھی جرم بن گیا تھا۔ایسے ہی آج جب آپ پاکستان، عراق ، شام سمیت جہاں جہاں سلفی۔دیوبندی تکفیری فاشزم اپنے عروج پہ ہے اگر کربلاء کی ٹریجڈی پہ لکھتے ہیں اور محرم کی المیاتی ثقافت پہ بات کرتے ہیں تو بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ خطرات میں گھر جائیں گے اور آپ جان سے بھی جاسکتے ہیں۔جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں “صفیہ کیس” ہمارے سامنے آیا اور یہ حدود آرڈیننس کے ساتھ جڑا ہوا تھا،اس زمانے میں اس پہ بات کرنا آسان نہیں تھا اور اس پہ لکھنے سے آپ پہ کفر بلکہ بلاسفیمی کا الزام لگ سکتا تھا۔اور ہمارے ہاں اس زمانے میں جماعت اسلامی نے اسے باقاعدہ ایک خطرناک ہتھیار کی شکل دی تھی اور وہ 70ء کی دہائی سے اس ہتھیار کے ساتھ ” بلوائی حملوں ” پہ مبنی ایک پوری نفسیات کو زیادہ سے زیادہ ترقی دینے پہ تلے بیٹھے تھے۔کسی بھی شخص یا گروہ یا کسی بھی اقلیتی فرقے یا اپنے کسی مخالف کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز فضا کی پیدائش کی تاریخ اگر تلاش کی جائے گی تو یہ تاریخ میں ہمیں کالونیل دور میں مل جائے گی اور ایک موثر ہتھیار کے طور پہ اس کا استعمال ہمیں مسلم بنیاد پرست ہوں یا ہندو بنیاد پرست ہوں یا سکھ بنیاد پرست ہوں کے ہاں مل جائے گا۔اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف عوامل نے اپنا کردار ادا کیا ہے اور اسے انسٹی ٹیوشنل لائز کردیا ہے۔

ہم نے اردن میں ناھض حتر (ایک ترقی پسند کرسچن سوشلسٹ ترقی پسند ) کے معاملے میں دیکھا کہ اسے اردن کی سپریم کورٹ کی سیڑھیوں پہ گولی ماردی گئی ،ایسے ہی سلمان تاثیر کے معاملے میں ہوا اور شہباز بھٹی کا کیس بھی یہی تھا۔راشد رحمان کا معاملہ بھی یہی تھا اور جمشید نایاب کا معاملہ بھی ایسے ہی تھا۔اور پھر کچھ لوگ ہیں جو ابھی جیلوں میں پڑے ہیں اگر وہ پبلک میں آئیں تو پاکستان میں ان کا آزادانہ چلنا پھرنا ایک المیہ کو جنم دے گا جیسے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے جنید حفیظ کا معاملہ ہے۔اور اگر ہم جیلوں میں بند ان لوگوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پہ بات بھی کریں تو خطرے سے خالی نہیں ہے چاہے ہمیں ان کی بے گناہی کے درجنوں ثبوت کیوں نہ مل گئے ہوں،ایسے ہی آسیہ بی بی کا کیس ہے۔اس پہ بات کرنا بھی مشکل بلکہ ناممکن ہوگیا ہے۔

سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ایک طرف تو اس ملک کے شیعہ،کرسچن،احمدی ، ہندؤ اور صوفی سنّی ، سیکولر و لبرلز ، کمیونسٹ ، لیفٹ انٹلیکچوئل مسلسل مسلم بنیاد پرستوں، سلفی –دیوبندی تکفیری فاشسٹ نیٹ ورک کے حملوں کی زد میں ہیں تو دوسری طرف ایسے شواہد موجود ہیں کہ پاکستانی ریاست کے اداروں میں ایسے ” بدمعاش ” موجود ہیں جو ریاست کے کردار اور اس کی پالیسیوں پہ تنقید کرنے والے اور ریڈیکل خیالات کا اظہار کرنے والوں کے خلاف مین سٹریم میڈیا میں بیٹھے اپنے ایجنٹوں اور حامیوں کے زریعے سے ایسا پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں جس سے ایک اشتعال اور کشیدہ فضاء خود بخود بازار، محلے اور مسجد و مدرسے کے اندر جانے والوں میں پھیل جاتی ہے اور یہ ہمارے کالج ، یونیورسٹی اور اسکولوں میں بھی پھیل جاتی ہے اور بہت ہی منظم طریقے سے یہ ایک ” بلوائی تشدد ” کی راہ ہموار کرتی ہے تو یا تو آپ بہت آسانی سے ہجوم کے بلوے کا شکار ہوجاتا ہے یا آپ کے اردگرد کوئی آپ کا شناسا یا کوئی آپ کے آس پاس سے گزرنے والا شخص آپ کی زندگی کا خاتمہ کرسکتا ہے۔اور یہ بھی ہوتا ہے اکثر  یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد جو سرگرم ہوتی ہے وہ اشتعال و نفرت کا مرکز بننے والے شخص سے ہمدردیاں  بالکل نہیں رکھتیں اور انتہائی نفرت کا شکار وہ شخص یا اشخاص بن جاتے ہیں۔اور ایسے میں جب ایسے فرد یا افراد قتل کردئے جاتے ہیں یا بلوائی دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں تو اس پہ ردعمل بھی بہت ہی کم ہوتا ہے۔اور جو لوگ ردعمل دینا چاہتے ہیں ان کو ڈرایا ، دھمکایا جاتا ہے اور ان کو سہم جانے پہ مجبور کیا جاتا ہے اور ایسے میں معاشرے میں ہر طرف آپ کو “جنونیوں” کا راج نظر آتا ہے۔اور ریاست ایسی فضاء میں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں زیادہ آسانی محسوس کرتی ہے۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے پاکستانی ریاست نے حال ہی میں کئی ایک ایشوز پہ پاکستان کے اندر پائی جانے والی مخالفانہ فضاء کو حال ہی میں ابھرنے والی صورت حال میں بدلنے کے لئے موافق خیال کیا اور اس نے وہ اقدام اٹھائے ہیں جو پاکستان کی فضاء کو اور ذھریلا اور زیادہ فرقہ وارانہ بنانے میں مددگار ہوں گے۔جیسے پاکستانی ریاست نے اپنے سابق آرمی چیف کو سعودی عرب کی قیادت میں قائم ایک فرقہ پرست فوجی اتحاد کی سربراہی کی اجازت دے دی ہے اور ایسے ہی پاکستانی ریاست آہستہ آہستہ شام کے ایشو پہ اپنی غیر جانبدار پوزیشن کو ختم کرچکی اور سعودی بلاک کے ساتھ جاکھڑی ہوئی ہے۔اور اس بارے میں پاکستانی سماج کے اندر بہت زیادہ شور نہیں ہے۔اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ریاست نے ایک ایسا میکنزم اختیار کیا ہے کہ ان جیسے ایشوز پہ اختلاف ظاہر کرنے والوں کو فوری طور پہ ایرانی ایجنٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔اور ایسے شواہد بھی موجود ہیں جس سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر سے ایسے موقف سامنے آتے ہیں جس سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں جو اس وقت مزاحمت ہے، پاکستان میں جو فرقہ وارانہ قتل و غارت گری ہے اور مذہبی دہشت گردی ہے اسے راء پھیلا رہی ہے اور اس کے لئے روٹ اور راستہ جہاں افغانستان ہے تو ساتھ ساتھ ایران بھی ہے۔اور سابق ترجمان آئی ایس پی آر نے کلبھوشن کے معاملے میں ایران کو مورد الزام اس وقت ٹھہرایا جب ایرانی صدر پاکستان کے دورے پہ تھے اور اب حال ہی میں عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی کی تحویل میں لینے کے بعد عزیر کے تعلقات بھارتی ایجنسی راء اور اس کے نیٹ ورک کا روٹ پھر ایران بتلایا گیا اور اس کا تعلق ایرانی انٹیلی جنس ایجنسی سے بتایا گیا جبکہ عزیر بلوچ کے پاکستان کے اندر تبلیغی جماعت ، سپاہ صحابہ پاکستان وغیرہ سے روابط بارے کوئی بھی بات سامنے نہیں لائی گئی۔اگر اس سارے پلاٹ پہ نظر دوڑائی جائے تو یہ پلاٹ تکفیری فاشزم اور پاکستان میں سعودی نواز فرقہ پرست لابی کے موقف کی حمایت میں نظر آتا ہے جو تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کی ساری کی ساری کاروائیوں کو ایرانی-بھارتی نیٹ ورک کی کارستانی بتاتی ہے اور شیعہ کمیونٹی کو ایجنٹ بناکر پیش کرتی ہے۔اور ایسے میں ایک پوری کمیونٹی کو ریاست کے اداروں کے اندر بیٹھے لوگ ہی دیوار سے لگانے میں مددگار اقدام کرتے ہیں۔ایسے میں ریاستی اداروں کا مقصد یمن،شام جیسے ایشوز پہ سعودی پالیسی کی حمایت کی راہ میں آنے والی روکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

بلاسفیمی ، ایجنٹی ، غداری اور اس جیسے کئی اور الزامات تباہ کن ہتھیار کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور ریاستی ادارے، مین سٹریم میڈیا، مدارس ، مساجد ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹیوں میں جہاں جہاں ریاستی اداروں کے پاس اپنے ہمنواء موجود ہیں وہ یہ ہتھیار ان کے ہاتھ میں تھماکر اپنی راہ میں آنے والوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔مشعال خان کے خلاف یہ ہتھیار براہ راست تو نہیں لیکن بالواسطہ استعمال ہوا اور جیسا کہ ایسا ہوتا ہے کہ جو ہتھیار ریاستی ادارے نجی لشکروں کے حوالے کرتے ہیں یا پراکسیز کو دیتے ہیں وہ ان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پھیل جاتا ہے اور خود ریاستی اداروں پہ بھی استعمال ہوتا ہے،جیسا کہ ہم نے جہادی پراکسی اور اینٹی شیعہ ، سعودی نواز پراکسی کے معاملے میں دیکھ لیا ہے۔پاکستان میں شیعہ نسل کشی،بلوچ نسل کشی اور ریاست کے بیانیہ سے اختلاف کرنے والوں کی آوازوں کو خاموش کرانے کا سلسلہ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا اور جیسے ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے ویسے ہی پاکستان کے اندر حقیقت یہ ہے کہ ریاستی سرپرستی میں سامنے والا پاکستانی نیشنل ازم اور نام نہاد اسلام ازم ( جو وہابیت و دیوبندیت کا چربہ ہے ) وہ تیزی سے غیر مقبول ہورہا ہے اور اس غیر مقبولیت کو بین الاقوامی برادری سے چھپانے کے لئے زبردست تشدد اور دہشت گردی، سنسر شپ اور بلوائیت سے کام لیا جارہا ہے۔ریاست ایسے نہ تو ماضی میں کبھی زیادہ دیر چل پائی نہ اب چل پائے گی ۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s