ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال : دو سرکاری بابوؤں کی آئین اور قانون سے کھیلواڑ کی کہانی

17909432_10212951767377284_1760224501_n

DC Khanewal Muzaffar Khan Siyal,another Master of Wretched of Earth

پاکستان میں انگریزوں سے بھی زیادہ سفید نوآبادیاتی آقا ہونے کی ذہنیت کے ساتھ عوام کو شہری سمجھنے کی بجائے رعایا جاننے کی فطرت رکھنے والے سرکاری بابوؤں کی ظالمانہ فطرت اور رعونت دیکھنی ہو تو کسی بھی ضلع کے ڈپٹی کمشنر  کے دفتر میں اس کے کام کی روٹین کا جائزہ لینا کافی ہوگا۔اور یہ کیسے آئیں اور قانون سے کھیلواڑ کرتے ہیں اس کا اندازہ مجھے گزشتہ روز اس وقت بڑی اچھی طرح ہوا جب مجھے ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے گرینڈ جرنلسٹ الائنس کی جانب سے ملتان ہائی کورٹ کے ایک بنچ کی ڈائریکشن پہ ڈی سی خانیوال کی عدالت میں پیش ہونے اور اس کے بعد ڈی سی خانیوال کی جانب سے دئے گئے فیصلے کو سننے کا اتفاق ہوا۔ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال بھی دیگر پریس کلبز کی طرح سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1860ء کے تحت رجسٹرڈ ہے جسے پنجاب سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کہا جاتا ہے اور یہ 1860ء کا 21 واں سیکشن ہے جو سوسائٹی رجسٹریشن سے معاملہ کرتا ہے۔ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے معاملات 2014ء سے خراب تھے۔ خراب اس لئے تھے کہ اس کلب میں برسراقتدار آنے والوں نے ایک طرف تو پریس کلب کے میمورنڈم کے آرٹیکل 56 سے لیکر 60 تک میں ایسی ترامیم کیں جو کہ سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کی شق نمبر 12 اور 16 سے متصادم تھیں اور آئین پاکستان کے بھی متصادم تھیں۔اس بات کا زکر سابق ڈی سی او خانیوال زید بن مقصود نے اپنے 2017ء میں ہی جنوری میں دئے گئے فیصلے کی شق نمبر 10 میں کیا لیکن حیرت انگیز طور پہ اصل آئین کو بحال نہ کیا۔پھر سابق ڈی سی او خانیوال زید بن مقصود نے اپنے فیصلے میں یہ بھی تسلیم کیا کہ ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال پہ نام نہاد عبوری گورننگ باڈی بنانے اور منتخب قیادت کو معطل کرنے جیسے فیصلے غلط تھے۔سابق ڈی سی او خانیوال نے اپنے فیصلے میں ایک بہت بڑا جھوٹ بولا کہ انہوں نے ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے کاروائی رجسٹرڈ میں جنرل کونسل کے اجلاس کی کاروائی میں دو تہائی اکثریت کی جانب سے سابق صدر عبداللطیف انور کے دستخطوں سے 36 لوگوں کو ممبرز بنائے جانے کی توثیق و دستخط کا ریکارڈ  خود دیکھا ہے جبکہ ایسا اجلاس سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا تھا۔میں 2014ء کے الیکشن میں آڈیٹر اور میرے دوست اشرف گادھی جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے تھے۔سابق صدر نے 36 لوگوں کو ممبر شپ دی اور ايگزیگٹو اجلاس میں ہم دونوں نے اپنے اختلافی نوٹ لکھے جسے شاہد انجم ممبر پریس کلب نے رجسٹر کاروائی میں درج کیا اور اس گے گواہ خود سابق جنرل سیکرٹری محمد اشرف پراچہ بھی ہیں اور رجسٹرڈ کاروائی میں یہ درج ہے کہ عبداللطیف انور صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب نے ہمارے سوال کے جواب میں یہ کہا تھا کہ 36 ممبر  صدر اپنے صوابدیدی اختیار سے بنارہے ہیں اور جنرل کونسل کا اجلاس سرے سے ہوا ہی نہیں۔اور نہ ہی ایسا ریکارڈ پیش کیا جاسکتا ہے۔

ميں نے ڈی سی خانیوال مظفر خان سیال کو ایک تحریری بیان دیا جس میں تمام متعلقہ آرٹیکلز سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ و میمورنڈم پریس کلب درج تھے جس کی رو سے تقاضا یہ بنتا تھا کہ ڈی سی خانیوال ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے الیکشن کروانے سے پہلے ڈسٹرکٹ پریس کلب کا ایک جنرل کونسل اجلاس بلواتے اور رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ کی شق 16 اس کا پورا طریقہ کار بتاتی ہے کہ اگر کسی سوسائٹی کا کام رک جائے کسی وجہ سے تو پنجاب حکومت کا مجاز افسر عبوری باڈی بناکر جب الیکشن کی طرف لیجائے گا تو وہ ایک تو سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کی متعلقہ شق کے تحت 14 دن پہلے جنرل کونسل کا اجلاس بلواکر پریس کلب کے ممبران کی فہرست پیش کرے گا ، مالیات کا حساب کتاب فنانس سیکرٹری پیش کرے گا اور اس کی تفصیل رجسٹرار سٹاک کمپنیز کو پیش کرکے این او سی لے گا اور پھر الیکشن بورڈ قائم کرے گا اور وہ الیکشن بورڈ پریس کلب کا سب ریکارڈ اپنی تحویل میں لے گا اور اس کے بعد الیکشن شیڈول جاری کیا جائے گا۔لیکن سابقہ ڈی سی او خانیوال اور موجودہ ڈی سی خانیوال نے سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ ، میمورنڈم ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال اور یہاں تک کہ خود اپنے بقول کہ سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ اور میمورنڈم کو سپر سیڈ نہیں کیا جاسکتا کی نفی کرتے ہوئے غیر آئینی الیکشن بورڈ  تشکیل دیا جس الیکشن بورڈ نے میمورنڈم کی شق 25 کو ہی فعال کہا جس کی کوئی گنجائش نہ تو سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ میں تھی اور نہ ہی دسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے میمورنڈم میں تھی اور یہ بھی سابق ڈی سی او خانیوال کے آمرانہ فیصلے کی روشنی میں کیا گیا اور پھر خود اس شق 25 کی ذیلی شق 5 کی خلاف ورزی کی گئی کہ کسی امیدوار سے 100 روپے وصول نہ کئے گئے اور اس پہ گزاری گئی درخواست پہ الیکشن بورڈ نے چار بار ایک ہفتے میں شیڈول بدلے اور جاری کئے ۔یہ مانا کہ شق 25 کی پوری پاسداری نہیں ہوئی اور اس کی رو سے سب امیدوار نااہل ٹھہرتے ہیں اور کاغذات کی وصولی دوبارہ کی جانی چاہئیے تھی لیکن الیکشن بورڈ کے چئیرمین سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کے کمرے میں جب اس معاملے پہ بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ” ڈسٹرکٹ پریس کلب کا آئین معطل اور شق 25 برقرار اور اس کی معمولی سی خلاف ورزی کا کوئی مطلب نہیں ہے اور جوش جذبات میں وہ یہ بھی کہہ گئے کہ ” یہاں آئین اور قانون کو کون پوچھتا ہے حسینی صاحب؟ ” جب میں نے ان کی اس بات پہ حیرت کا اظہار کیا( کیونکہ وہ نہ صرف پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں بلکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن خانیوال جیسے انتہائی محترم اور درخشاں روایات کے حامل ادارے کے صدر بھی تھے اور ہم اپنی خوش قسمتی سمجھ رہے تھے کہ اس قدر موقر ادارے کا صدر ہمارا چئیرمین الیکشن بورڈ ہے اور اسے ہم جب تفصیل سے آئین اور قانون سے کئے گئے کھیلواڑ کی تفصیل سے آگاہ کریں گے تو وہ اس عمل سے خود کو الگ کرلیں گے لیکن وہ تو اپنے غلط فیصلے پہ اڑ گئے) اور میں نے ان سے عرض کی کہ جناب ” آئین اور قانون ” بارے ایسا تحقیری انداز پاکستان کی تاریخ میں آمروں نے اختیار کیا اور یہ ضیاء الحق کہا کرتا تھا کہ آئین ہے کیا چند صفحات کی کتاب ، جسے جب چاہوں پھاڑ کر پھینک دوں۔ آپ جس پیشے سے وابستہ ہیں اور جس ادارے کی سربراہی کررہے ہیں دونوں کے وقار کو یہ تحقیر مجروح کرنے والی ہے۔اب میری اس بات میں کون سی ذاتیات شامل تھی جس کا چئیر مین الیکشن بورڈ نے برا منایا اور نجی محافل میں یہ کہا کہ اگر اے ڈی سی آر کے اجلاس میں یہ باتیں نہ کی جاتیں تو شاید میں فیصلہ بدل ڈالتا۔لیکن ہماری اطلاعات یہ ہیں کہ سابق ڈی سی او خانیوال زید بن مقصود اپنے بعد آنے والے ڈی سی کے ساتھ رابطے میں تھے اور ایک سرکاری بابو نے اپنے بلنڈرز، فاش غلطیوں پہ مبنی فیصلے اور سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ و ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے میمورنڈم کی صریح خلاف ورزی اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پہ مبنی فیصلے کو بچانے کے لئے دوسرے سرکاری بابو سے تعاون مانگا جس کا انکار نہ کیا گیا۔پھر موجودہ سرکاری بابو کے ساتھ ایک مسئلہ اور بھی ہے  کہ اپنے سابق سرکاری بابو کی طرح اسے عوام دوست ، ظلم کے خلاف برسر پیکار صحافی کہاں پسند آئیں گے ورنہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ جو انھیں پیش کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ اپنے غیر آئینی و غیر قانونی فیصلے سے جن لوگوں کو آپ فائدہ پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں ان کا ریکارڈ ہے کیا۔

لوگ اکثر شکوہ کناں ہوتے ہیں کہ زرد صحافت کا دائرہ پھیلتا جارہا ہے بلکہ کئی کارڈ ہولڈرز کے جرائم پیشہ افراد کے سرپرست ہونے ، عوام کے مفادات کے خلاف افسر شاہی اور سرکاری بابوؤں سے گٹھ جوڑ کرنے کے قصّے زبان زد عام ہیں تو معاملہ یہ بنتا ہے کہ  سرکاری بابو شاہی نوآبادیاتی ذہنیت کے ساتھ چند کالی بھیڑوں کو خرید کر رکھتی ہیں اور ان کو سول سوسائٹی کے اہم ترین ستون اور عوامی مفادات کے تحفظ کی ضمانت دینے والے اداروں جیسے پریس کلب ہے پہ قبضہ کرنے کے لئے مکمل سپورٹ دی جاتی ہے اور اس طرح سے مظلوموں کی آواز دبا دی جاتی ہے۔لیکن ایسے نہ آواز پہلے کبھی دبائی جاسکی اور نہ اب دبائی جاسکے گی۔ہم بطور ریکارڈ بابو شاہی کی لاقانونیت اور اپنی فاش غلطیوں کو چھپانے کا پول کھولتے رہیں گے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s