ملاقات -افسانہ

th (1)

 

میں  چوک میں بنے ٹی سٹال پہ اپنی مخصوص میز پہ جاکر بیٹھا ہی تھا کہ سامنے سے سڑک کراس کرکے وہ سیدھا میری طرف آیا اور اس نے ایک دم سے مجھے ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور مجھ سے لپٹ گیا۔

‘بہت موٹے ہوگئے ہو،اور داڑھی و سر کے بال بھی سفید ہوگئے ہیں’۔’ لیکن آنکھیں ویسی ہی ہیں ہمیشہ سے اردگرد سے بے نیاز’ ۔ اس نے کہا

میں اس اچانک حملے سے گڑبڑا گیا تھا، زرا غور سے اسے دیکھا تو بے اختیار منہ سے نکلا، ” ارے سروش احمد تم! کہاں سے ٹپک پڑے  شہر میں”۔

” بس کچھ مت پوچھو، وہاں کراچی میں تمہیں ناظم آباد کے ایف بلاک میں تلاش کیا، یونیورسٹی والوں سے پوچھا۔پھر حيدرآباد آیا اور ادھر ادھر سب جگہ ، ہیر آباد، فریٹ آباد، پھلیلی ، لطیف آباد ، سول لائن، حالی روڈ، گڈز ناکہ اور پھر کالی موری،مگر کچھ پتا ہی نہیں چل رہا تھا، ایسے لگتا تھا جیسے زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا،لاہور گیا اور ہر ایک جس کو میں تلاش کرپایا اس سے پوچھا مگر سب لاعلم تھے۔اور پھر وہ سانول سولنگی مجھے لاڑکانہ ملا اس نے تمہارے نام اور سب کچھ بدل جانے کی کہانی سنائی اور تمہارا موجودہ پتا بتایا تب جاکے مجھے معلوم پڑا۔آج جب شہر میں داخل ہوا تو ایک آدمی سے پوچھا اس نے بتایا کہ شام ہوچلی ہے اور تم یہاں بیٹھے ہوئے ہوں گے، تو سیدھا یہاں چلا آیا”۔اس نے ایک سانس میں  یہ سب  بتاڈالا۔

” مجھے بہزاد نے بتایا تھا کہ تم جوہانسبرگ ساؤتھ افریقہ میں ہو اور کسی یونیورسٹی میں امریکن لٹریچر پڑھاتے ہو۔اور یہ سب اس نے اس وقت بتایا جب کثرت شراب نوشی سے اس کے گردے، جگر اور ہارٹ بیماری کی آخری سٹیج پہ تھے اور میں اس سے تمہارا اتا پتا بھی نہیں لے سکا”۔میں نے سروش سے کہا

سروش میرے ساتھ یونیورسٹی میں تھا اور ہم ایک ہی اسٹوڈنٹس تنظیم میں تھے اور یونیورسٹی کے بعد میں ایک حادثے کا شکار ہوا تو پھر حادثے رکے نہیں اور میں ان حوادث سے لڑتا بھڑتا نجانے کہاں کہاں سے ہوتا ہوا اس شہر میں پہنچ گیا تھا اور جہاں میرا نام، شناخت بلکہ سب کچھ ہی تو چھن گیا تھا۔اور آج 30 سال بعد اچانک سروش پھر سے آگیا تھا۔

” اچھا! یہ بتاؤ اس دوران شادی کی؟”۔ سروش نے ایک دم پوچھا

” ہاں، تین بیٹے ہیں اور تمہیں وہ میری منکر نکیر بنی ص یاد ہے ؟ ” میں نے اس سے سوال کیا

ارے وہ تمہاری کزن ؟ سروش نے حیرانی سے پوچھا

ہاں وہی ۔ میں نے جواب دیا

تو وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سروش نے کہا ۔۔۔

وہ وادی حسین کراچی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیسے ہوا اور کب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے فوری بعد

بلڈ کینسر کا پتا چلا ،آخری سٹیج پہ تھا ۔۔۔۔

اوہ،مائی گڈ ۔۔۔۔۔۔۔

ہم دونوں کچھ دیر خاموش ہوگئے ۔۔۔۔۔

اس نے تھوڑی دیر بعد زرا ہچکچاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔ یار وہ ۔۔۔۔۔۔ صادق جتوئی کہہ رہا تھا کہ تم نے کافی عرصہ ہوش کھودیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے اس کی ہچکچاہٹ کو اور انتہائی ڈرے ڈرے انداز کو دیکھ کر بے اختیار قہقہہ لگایا ۔۔۔۔

ہاں نا یار، کافی عرصہ پاگل رہا، ہوش و حواس سے بے گانہ رہا ، مگر اب بہت سے ہوش والوں سے کہیں زیادہ ہوش میں ہوں، تم گھبراؤ نہیں۔

” ارے خدشہ صرف اس بات کا تھا کہیں تم برا نہ مان جاؤ ” ۔۔۔۔ اس نے جھینپ کر کہا

تم کہو اپنے بارے میں ۔۔۔۔

یار وہاں جوہانسربرگ میں ایک خاتون لگی تھی میری مزاج کی لیکن ہم تین سال اکٹھے رہے تو ہمیں احساس ہوگیا کہ ہم دوست ہی اچھے ہیں ، میاں بیوی نہیں تو بس تب سے اب دوست ہیں اور میں اور وہ اپنی جگہ جگہ آزاد ہیں۔چھٹیاں کافی تھیں میری تو ان کو اکٹھا کیا اور سوچا کہ تمہیں تلاش کروں گا ہر قیمت پہ سو کرلیا۔

کتنے عرصے بعد پاکستان آئے ہو؟ 26 سال بعد ۔۔۔۔۔

کیسا لگ رہا ہے ؟

بہہت ڈر لگتا ہے

کیوں ؟

“یار بالکل ہی بدل گیا سب کچھ ، یہاں تو اب کچھ کہنا اور بولنا سرے سے دشوار ہوگیا ہے اور ہر سو ہمارے دشمنوں کا راج ہے۔میں نے تو اپنے دوستوں کو ڈرا ہوا ، سہما ہوا دیکھا۔ہر دوست دوسرے دوست سے ڈرا ہوا کہ کب کس کا جوش ایمان جاگ جائے اور آپ ذبح ہوجائيں”

سروش ! تم نارتھ ناظم آباد کئے تھے۔رضویہ سوسائٹی گئے تھے ؟ میں نے پوچھا

” ہاں گیا تھا ، اور ایک بھی دوست نہیں ملا، یار وہ اپنے استاد جی بھی وہیں تھے۔میں پی آئی بی کالونی گیا تھا اور استاد کے گھر پہنچا تو پتا چلا کہ وہ تو اب مجھے وادی حسین میں ملیں گے۔میں اپنے قادری صاحب کے گھر ملنے گیا تو اس کے بیٹے، بیٹیاں مجھے دیکھ کر رونے لگے، کہتے تھے بابا نشتر پارک گئے تھے میلاد منانے اور پھر نہیں لوٹے۔کیسے کیسے دوست اور بزرگ اساتذہ نہیں رہے، پاکستان تو بالکل بدل گیا ہے”- وہ گلوگیر لہجے میں کہہ رہا تھا

یہ بتاؤ، یہاں کیوں بیٹھتے ہو ؟کوئی ہے بھی نہیں ۔۔۔۔۔ سروش نے سوال کیا

کبھی کبھی لوگ آجاتے ہیں ملنے میں، پھر یہاں اس میز پہ بیٹھ کر گھنٹوں تنہا بھی ہوں تنہائی محسوس نہیں ہوتی۔پھر اور کیا بھی کیا جاسکتا ہے؟

دستِ قاتل سے ہوں نادم کہ لہو کو میرے

عمر لگ جائے گی ہمرنگ حنا ہونے تک

دشت سے قلزمِ خوں تک کی مسافت ہے فراز

قیس سے غالبِ آشفتہ نوا ہونے تک

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s