آنکھ ملنے کے بعد کیا ہوگا

کتنے حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے وجود جب زمان اور مکان کی گرفت سخت ہوتی ہے اور آپ اس گرفت سے آزاد ہونے کے لئے ہاتھ پیر مارتے ہیں تو اور جکڑے جاتے ہو،ایسے میں آپ کے ہر ایک تقسیم شدہ وجود کا ٹکڑا امکانات کا جہنم پیدا کرتا جاتا ہے اور اسے ‘امکانات کی جنت ‘ بتایا جارہا ہوتا ہے۔عمر خیام اپنی جہان کے ساتھ راتیں گزارتا ہے اور جہان کا وجود عمر خیام کی رصدگاہ اور محل کے درمیان تقسیم ہوتا ہے اور ایک دن محل ہی اس کی زندگی کا چراغ گل کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔جہان تو جہان داری کرنے کے چکر میں تقسیم شدہ زندگی گزار رہی تھی اور یہ اس کی اپنی چوائس تھی مگر اس کا کیا ؟ وہ کیوں ٹکڑوں میں بٹ کر زندگی گزار رہا تھا؟ اور کیوں ایسے ویسے عذابوں کو گلے لگائے پھرتا تھا؟
میں چمن کالونی سے چلی تو یہی سوچیں مجھے گھیرے میں لئے ہوئے تھیں۔میں نے اسے پے درپے پیغامات بھیجے تھے اور اسے کہا تھا کہ اسے مجھ سے ملنا بہت ضروری تھا۔اور وہ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ جلد مجھ سے ملے گا۔اور اس مہینے کے آخری ہفتے میں وہ سمندر کے کنارے آکر ایک ہوٹل میں ٹھہرگیا اور مجھے فون کرکے اس نے بتادیا تھا۔اب میں اس کے پاس جارہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اسے سب بتاؤں گی کہ اس دوران کیا ہوا جب ہم ایک لمبے عرصے تک نہ ملے۔میں یہ بھی سوچ رہی تھی کہ جو میں محسوس کرتی رہی ہوں،اسے بتاڈالوں کہ نہیں۔مجھے اس کا پتا نہیں تھا کہ وہ کیا سوچتا ہے۔اگرچہ کچھ معنی خیز جملے اس نے کئی بار بولے تھے لیکن یہ ذومعنویت بھی دوہرے،تہرے معانی رکھتی تھی اور میں کچھ بھی حتمی طور پہ کہہ نہیں سکتی تھی۔رکشہ چلے جارہا تھا۔اور جیسے جیسے سمندر قریب آرہا تھا فضا میں نمی بڑھتی جاتی تھی اور تھوڑا ساحبس بھی مگر مجھے لگتا تھا کہ اندر کا حبس اس سے کہیں زیادہ ہے۔میں نے اسے موبائل پہ مسیج بھیجا اور پھر کال کرنے کی کوشش بھی کی مگر آگے سے موبائل بند جارہا تھا۔سمجھ گئی کہ رات ساری جاگتا رہا ہوگا اور اب کسی وقت آنکھ لگ گئی ہوگی۔ ہڑبڑا کر اٹھے گا اور سب سے پہلے موبائل آن کرے گا اور پیغامات دیکھے گا۔

” میں ایک گھنٹے تک پہنچ جاؤں گی ، اتنی دیر تم خواب خرگوش کے مزے لے لو ”
میں نے اسے ٹیکسٹ میسج کردیا۔گیلی گیلی ہوا میرے چہرے سے ٹکرائی اور مجھے لگا جیسے پھوار پڑرہی ہو۔میں سوچنے لگی کہ کیسے اس نے مجھے کہا تھا کہ تم ہمیشہ ڈیپریشن بارے ہی بات کیوں کرتی رہتی ہو؟ کیا کچھ اس دباؤ سے باہر کہنے کو بھی ہے ؟ اور پھر ميں نے اسے بائی پولر ڈس آڈر بارے بتایا اور اس کے مرحلے بھی بتائے اور کہا کہ میں اسی بائی پولر ڈس آڈر کا شکار ہوں۔وہ سنکر خاموش ہوگیا اور اگلے دن اس نے مجھ سے کہا کہ وہ چند روز مجھ سے ملنے نہیں آسکے گا۔

میں ایک چینل ميں سکرپٹ رائٹر کے طور پہ کام کررہی تھی اور وہ اس چینل کے دفتر کے باہر ہی میری ڈیوٹی ختم ہونے کا انتظار کرتا اور جیسے ہی میں واپس آتی تو ایک آٹو پہلے سے وہ روکے رکھتا تھا۔میں بھی کچھ کہے بغیر اس کے ساتھ بیٹھ جاتی تھی اور قریب قریب ایک گھنٹہ ہم ساتھ رہتے تھے اور ایک گھنٹے کے پورے ہوتے ہی وہ پھر سے آٹو بلاتا اور مجھے اس میں بٹھادیتا اور میں گھر پہنچ جاتی تھی۔اس دوران بہت سی باتیں کی جاتیں اور ان میں کوئی بھی ‘من و تو ‘ کی بات نہ ہوتی اور بس سب ‘کار جہاں دراز ہے’ پہ بات ہوتی لیکن نجانے مجھے کیوں لگتا کہ یہ جو “جہان ” کی بات ہے یہ اس کے ‘درون ‘ کی بات ہے اور ان میں ہی اشارے چھپے ہیں جن کے زریعے وہ اپنے اور میرے رشتے کو ڈیفائن کرتا رہتا ہے۔مگر صاف صاف بیان کرنے سے قاصر ہے یا جان بوجھ کر کرتا نہیں ہے۔

آج جب رات کو چینل کے آفس سے باہر نکلی تو وہ نہیں تھا ، آٹو بھی انتظار میں نہیں تھا اور میں نے آٹو لیا اور اس ہوٹل میں پہنچ گئی جہاں وہ اکثر مجھے لیکر جاتا تھا۔میں گھنٹہ وہیں گزاردیا اور پھر گھر پہنچ گئی۔ویسے مجھے پتا تھا کہ وہ کہاں گیا ہے۔اور کیا کررہا تھا؟
بائی پولر ڈس آڈر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے فلیٹ پہ بیٹھا بائی پولر ڈس آڈر پہ جو بھی دستیاب ہوگا مواد ،اسے چاٹ رہا ہوگا اور پھر جب ہر ممکن بات جان لے گا تو آئے گا اور پھر بھی سیدھے سبھاؤ بات نہیں کرے گا، اپنی معلومات مجھ سے براہ راست شئیر نہیں کرے گا، اس نے اس ڈس آڈر پہ بات کرنے کے لئے انتہائی خالص ادبی تہمید باندھنے کی پوری تیاری کررکھی ہوگی اور اس تہمید کے بعد وہ انکشاف کرے گا کہ ابتک اسے کیا پتا پڑا ہے۔

ہفتہ وہ غائب رہا مگر میں روز اس کے دکھائے سب ڈھابوں ، ہوٹل ، کیفے اور ہٹ ہاؤسز تک جاتی رہی اور اس کو معنوی طور پہ حاضر کرتی رہی، اس سے باتیں کرتی رہی۔پھر وہ ہفتے کا روز تھا جب میں رات کو چینل آفس سے جیسے ہی باہر نکلی تو وہ سامنے کھڑا تھا اور پاس ہی آٹو تھا۔میں چپ چاپ اس کے ساتھ آٹو میں بیٹھ گئی اور ہم دونوں کی خاموش رہے۔آٹو ہمیں بہت آگے سمندر کے ساحل تک لے گیا۔آٹو واپس نہیں گیا۔وہیں ٹھہر گیا۔ہم نے پائنچے چڑھائے اور سمندر کی گیلی ریت پہ چلنے لگے۔تھوڑا فاصلہ طے کرنے کے بعد ایک ٹیلے پہ ہم دونوں بیٹھ گئے۔

“یار! تم تو بہت ہلکے درجے کے بائی پولر ڈس آڈر کا شکار ہو،میں تم سے کہیں زیادہ اس ڈس آڈر کا شکار ہوں”

اس نے اچانک خاموشی توڑی اور ایک دم سے جیسے بم پھوڑ دیا۔
میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آگئی ، اور میں کچھ کہہ نہ سکی۔
ہنس کیوں رہی ہو؟
ویسے ہی
نہیں ،نہیں بتاؤنا ، کیوں ہنس رہی ہو؟
یار! مجھے پتا تھا کہ تم اتنے دن کہاں غائب رہے ہو؟ اور تم اس بائی پولر ڈس آڈر پہ جو پڑھنے کو ملا ہوگا ،پڑھ رہے ہوں گے۔کوئی پتا نہیں کسی سائیکاٹرسٹ کے پاس بھی چلے گئے ہوگے۔۔۔۔۔۔۔۔

او مائی گاڈ ! تم تو کالا جادو جانتی ہو یا تم کوئی مکاشفہ رکھنے والی روح ہو،جسے پتا چل جاتا ہے۔۔۔۔۔
اس نے مصنوعی حیرت خود پہ طاری کرتے ہوئے کہا ، مجھے پتا تھا کہ جرمیات کا یہ طالب علم جانتا ہے کہ یہ قیافے لگانا خاص مشکل کام نہیں ہے۔
بنو مت ،میں نے اسے کہا
یوں وہ میرے احساسات کا شریک ہوتا چلا گیا۔جب کبھی دباؤ بہت بڑھ جاتا اور میں اپنے آپ سے اور دوسروں سے بے گانہ ہوجاتی تو تب بھی وہ جھٹ سے میرے درون میں آجاتا اور ایسے لمحوں میں جب میں اپنے اندر میں خود کو سمٹائے ہوتی اور سب سے بے گانہ ہوجاتی، وہ اپنے میسجز سے میرے درون میں بے دھڑک چلا آتا۔بس ایک مسیج ، کبھی موبائل انباکس میں تو کبھی وٹس ایپ پہ تو کبھی فیس بک میسنجر پہ تو کبھی یوں بھی کرتا کہ باقاعدہ خط لکھ ڈالتا اور مجھے وہ گھر کے ایڈریس پہ مل جاتا اور اس میں نہ آغاز میں کوئی خطاب ، نہ آخر میں سلام نہ اپنا نام، گفتگو خطابیہ اور کہیں ذاتیات کا شائبہ تک نہ ہوتا اور عمومی جملے مگر ساری عبارت کے پیچھے ایک پیغام کہ اپنے اندر سے باہر آؤ،منتظر ہوں۔دباؤ کے یہ لمحے بہت شدید ہوتے تھے اور میں کبھی سنجیدگی سے خودکشی کے درندے بارے سوچنے لگتی۔ثروت حسین، شکیب جلالی، مصطفی زیدی، سارہ شگفتہ نے اس میں کشش جو پائی تھی وہ ایسے تو نہ ہوگی۔مگر ایسے میں اس کے خط یکے بعد دیگرے آنے لگتے اور وہ کبھی دستوفسکی کا ایڈیٹ لے آتا تو کبھی ایبسرڈ آرٹ کے لکھاریوں کو لے آتا اور بالزاک کے جملوں سے زندگی کشید کرکے خط میں اںڈیل دیتا اور مجھ تک وہ خط جب پہنچتے تو میرے اندر آہستہ آہستہ دباؤ سے نکلنے کی چاہ پیدا ہونے لگتی تھی۔اور جب میں زرا بہتر ہوکر واپس معمول کی زندگی کی جانب لوٹتی اور اسے ملتی تو وہ اسے ظاہر کرتا جیسے اس نے کوئی پیغام نہ دیا ہو بس یونہی اپنے مطالعے بارے مجھے آگاہ کرنا چاہ رہا تھا تو خطوط لکھ مارے اور مجھے بھیج دئے۔میں اس کی بے نیازی سے پھر ڈول سی جاتی اور اپنے اندر موجود احساسات بارے اسے بتا ہی نہ پاتی تھی۔

میں آزادی کی متلاشی تھی اور ایسے جذبہ کی تلاش میں تھی جس ميں فاصلہ بھی رہے اور عروج جذب بھی ہوجائے اور ایسے جڑت ہو جیسے دو کمانیں باہم ملیں مگر فاصلے بھی باہم رہیں۔اور مجھے لگتا تھا کہ وہ بھی ایسے ہی جذبوں کی تلاش میں سرگرداں ہے مگر کیا بات تھی وہ کھل کے نہیں دیتا تھا۔
میں ان ہی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک آٹو والے نے بریک لگاکر رکشہ روک دیا۔میں خیالوں سے واپس آگئی تھی۔سامنے ہوٹل موجود تھا جہاں وہ ٹھہرا ہوا تھا۔میں نے کرایہ دیا اور اتر گئی۔ہوٹل کی گیلری میں آکر میں نے پرس سے موبائل نکالا۔اور اسے کال کرنے لگی تو دیکھا کہ اس کے کئی ٹیکسٹ میسج آئے ہوئے تھے۔بتارہا تھا کہ سوگیا تھا۔۔۔۔۔ میں کال کرکے اسے بتایا کہ ہوٹل کی گیلری میں آجاؤ۔وہ دس منٹ آیا اور ساتھ ہی مجھے کہنے لگا کہ کہیں اور چلتے ہیں۔ اور یہ کہہ کر اس نے ایک ٹیکسی کو ہاتھ سے اشارہ کیا اور ٹیکسی قریب آئی اس نے ڈرائیور سے ایک جگہ کا نام لیا۔ٹیکسی چل پڑی۔دونوں پھر خاموش تھے۔جب تک ٹیکسی اس کی بتائی جگہ تک پہنچ نہ گئی ،اس نے ایک بھی بات نہ کی۔ٹیکسی سے اتر تو سامنے ایک بہت ہی خوبصورت کیفے تھا۔وہ مجھے لیکر ایک میز کرسی پہ بیٹھ گیا۔

ہاں! تو تم نے فیصلہ کرلیا کہ وہ کرو جو سب کرتے ہیں،ہوتا ہے، یہ نارمل بات ہے۔اور اس پہ اتنا ظلم مت ڈھاؤ، تم سے بات کرنا چاہتا ہے تو بیزاری مت دکھاؤنا۔وہ جن نظریات کا حامل ہے تم کمفرٹ ایبل رہو گی۔وہ تمہارے درون میں کبھی داخل نہیں ہوسکے گا۔
Wifehood
ٹائپ لائف میں نہیں گزار سکتی ، تم اچھی طرح جانتے ہو، پھر ایسی باتیں کیوں کررہے ہو،اور پھر یہ ہے کیا آج تک میں سمجھ نہیں پائی۔
ارون دھتی رائے بن جاؤ
اس نے کہا
وہ کیسے ؟
وہ کہتی ہے میں تکنیکی طور پہ شادی شدہ ہوں مگر میں “وائف ہوڈ ” لائف نہیں گزار سکتی۔میں تھی بھی نہیں۔اب وہ اور میں اکٹھے رہتے بھی نہیں لیکن میاں بیوی تو ہیں نا تکنیکی طور پہ
ہاہاہا ،میں نے ایک قہقہ لگایا۔
مگر مسلم دولہے راجے اپنی دلہن کو یہ اجازت کبھی نہیں دیتا
میں نے اچانک سنجیدگی سے کہا
تو کیا ہوا لاکھوں مسلم جوڑے ساتھ ساتھ ہوکر بھی ساتھ ساتھ نہیں ہیں اور ہر ایک ذہنی طور پہ ایک اور زمان ومکان میں اپنے اپنے پیا اور اپنی اپنی سہاگنوں کے ساتھ رہتا ہے۔
اس نے جب یہ کہا تو اس کی آنکھیں خوابناک ہوگئیں اور مجھے بڑے عجب انداز سے وہ دیکھنے لگا
میں نے اس کی اور دیکھا اور مجھے اچانک احساس ہوا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے
مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم بھی دو دو زمان ومکان رکھتے ہو؟
میں پوچھا
کیا تم نہیں رکھتیں ؟
اس نے برجستہ کہہ کر مجھے لاجواب کردیا
وہ کیسی ہے ؟ کیا بالکل تم سے الگ ہے اور تم اس سے الگ
میں نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا
چپ کر مہر علی ،اے جاہ نئیں بولن دی
(مہر علی چپ کر جا ،یہ مقام قال کا نہیں ہے)
اور پھر دوسرا زمان و مکان کونسا ہے؟
میں نے اس سے پوچھا
اس نے میری طرف ایک دم سے دیکھا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں اور بولا
کیا واقعی تمہیں ابتک پتا نہیں لگا ؟
مجھ سے زیادہ اس کی آنکھوں میں دیکھا نہ گیا اور میں نے نظریں جھکالیں

کافکا کی طرح ہم سوکر اٹھیں اور کیکڑے میں بدل جائیں تو تب امکان ہے کہ دو دو زمان ومکان سے ہماری جان چھوٹ جائے،کوئی شئے سررئیل نہ رہے ، کوئی خواب ، کوئی پرچھائیں نہ رہے مگر یہ ہمارا مقدر نہیں ہے۔اور ہمیں یونہی دوہرے عذاب میں رہنا ہے۔مگر اسی لایعنیت سے معنی نکلنے کی سبیل بنے گی اور کوئی راستہ نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا۔
خواب ٹوٹا تو گر پڑے تارے
آنکھ ملنے کے بعد کیا ہوگا

یہ کہا اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔میں بھی اٹھی۔اس نے ٹیکسی رکوائی مجھے بٹھایا اور خود پیٹھ موڑ کر پیدل ایک طرف چل دیا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s