نورا الکوثر اور ملالہ یوسف زئی

 

 

 

 

سترہ نومبر 2016ء کو ڈچ زبان میں بنی فلم ‘لیلی ایم’ ریلیز ہوئی۔اس فلم کے ڈائریکٹر مائیک ڈی جونگ تھے۔اور اس فلم کا مرکزی کردار نورا الکوثر نے ادا کیا جو کہ مراکو نژاد ڈچ اداکارہ ہیں۔اس فلم میں نورا نے ایک ایسی کم عمر لڑکی کا کردار ادا کیا جو کہ نیدرلینڈ کے اندر برقعہ پہ پابندی لگ جانے اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ساتھ نسل پرستانہ امتیازی سلوک کے مظاہر میں اضافہ ہوجانے پہ پریشان ہوتی ہے۔اور یہ پریشانی اسے بنیاد پرستانہ خیالات کی جانب مائل ہوجانے پہ مجبور کرتی ہے۔

نورا الکوثر اسلامو فوبیا کے ابھار کے خلاف بنیاد پرستانہ مذہبی خیالات کی طرف مائل ہوتی ہے اور ایمسرڈیم میں وہ ایک ایسے بنیاد پرست گروپ کے ساتھ جڑ جاتی ہے جو مڈل ایسٹ میں ابھرنے والی جہادی تحریکوں سے منسلک ہوتی ہے۔اس گروپ کا شام میں برسر پیکار سلفی وہابی جہادی گروپ داعش بھی تعلق ہوتا ہے۔نورا الکوثر اپنی تعلیم سے بے گانہ ہوجاتی ہے، اس دوران اسے ایک بنیاد پرست جہادی کے ساتھ عشق ہوجاتا ہے اور وہ اس سے شادی کرلیتی ہے اور پھر یہ دونوں ایک سادہ اور اسلام کے ساتھ مطابقت رکھنے والے معاشرے کی تلاش میں اردن آجاتے ہیں۔اور وہاں سے ان کی شام جانے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

 

Noura Al-Kausar

 

نورا الکوثر ڈچ سماج کے اندر صرف اسلامو فوبک خیالات سے ہی نہیں لڑرہی ہوتی ہے بلکہ اسے اپنے گھر اور گھر سے باہر بطور عورت کے بھی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا احساس ہوتا ہے اور وہ بظاہر اپنی مرضی اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہش رکھتی ہے۔اسے اپنے طور پہ ایسا لگتا ہے کہ بنیاد پرستانہ مذہبی تعبیر کے تحت وہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکے گی۔لیکن اردن اور شام میں جب وہ بنیاد پرست اپنے شوہر کے ساتھ پہنچتی ہے تو اسے وہاں پدرسریت میں جکڑا ایک اور طرح کا سماج ملتا ہے جو اسے آزادی کے ساتھ خود اپنے شوہر سے ملنے جلنے سے روکتا ہے اور اسے گھر کی چار دیواری تک محدود کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

 

C03WgrIW8AEfaib

 

نورا الکوثر کو بنیاد پرستوں میں جاکر پتا چلتا ہے کہ خود ان بنیاد پرستوں کے عورتوں کے بارے میں کس قدر پسماندہ خیالات ہیں اور یہ خود کتنے تنگ نظر ہیں۔اور اس طرح سے نورا الکوثر عرف لیلی ایم واپس لوٹ آتی ہے۔

 

WEB.NORA_.Layla2_

نورا الکوثر کے فلم میں مرکزی کردار اور اس کی اداکاری کو کافی سراہا گیا۔اور نورا الکوثر کو پورپ،امریکہ، افریقہ اور مڈل ایسٹ میں ترقی پسند،لبرل اور روشن خیال حلقوں میں پذیرائی ملی اور ان کا پروفائل کافی آگے چلا گیا۔

لیکن اس فلم کے منظرعام پہ آنے کے بعد نیدر لینڈ سمیت ہر ایک یورپی ملک اور خود امریکہ میں بھی نسل پرستوں اور اسلامو فوبیا کے شکار حلقوں نے نہ صرف اس فلم پہ شدید تنقید کی بلکہ انہوں نے نورا الکوثر کی مغرب میں اس پذیرائی پہ بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔

نورا الکوثر کو جب معروف گولڈن کاف ایوارڈ برائے بہترین اداکارہ دیا گیا تو گویا ایک طوفان ہی آگیا۔معروف ڈچ اسلامو فوب بلاگر مارٹن پیننگ نے نورا الکوثر کو ‘ذہنی بیمار’ قرار دیا اور اسکی سانولی رنگت پہ طنز کرتے ہوئے کہا کہ ‘کالی چمڑی والا مجرم ہی کیوں نہ ہو امریکی سماج اسے سر آنکھوں پہ بیٹھاتا ہے’

 

nora-el-koussour-met-gouden-kalf

نورا الکوثر کو یورپی سماج اور امریکہ کے اعتدال پسندوں میں پذیرائی کے خلاف نسل پرستوں، نو قدامت پرست مسیحی بنیاد پرست حلقوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا عمل کسی حد تک پاکستانی نژاد ملالہ یوسف زئی پہ مسلم بنیاد پرستوں کی تنقید سے ملتا ہے۔بنیاد پرست حلقوں کی جانب سے ملالہ کو اسلام کے مبینہ دشمنوں کا ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے تو نورا الکوثر پہ جہادی عسکریت پسندوں کا حامی ہونے کا الزام دھرا جارہا ہے

 

 

ڈچ اسلاموفوبک بلاگر نے اپنے بلاگ کی سرخی لگائی

‘ذہنی بیمار نوراا الکوثر مراکشی ہونے کی بنا پہ گولڈن کاف ایوارڈ جیت گئی’

اور دوسرا اقتباس ظاہر کرتا ہے کہ اسلامو فوب بلاگر مراکشی مسلمانوں میں اعتدال پسندی اور اسلام بارے پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش سے اسلاموفوب اور نسل پرستوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔

ملالہ یوسف زئی کے بارے میں مسلم بنیاد پرستوں اور مذہبی انتہا پسندوں کو یہ تکلیف ہے کہ وہ مغربی دنیا کے سامنے جہاد ازم،فرقہ پرستانہ عسکریت پسندی اور ایسے ہی اسلامی معاشروں میں پھیلے دیگر انتہا پسند نظریات اور تنظیموں کے مقابلے میں اعتدال پسندانہ اسلام کی تصویر کیوں پیش کرتی ہے اور کیوں بنیاد پرست تنظیموں جیسے طالبان و سپاہ صحابہ وغیرہ ہیں کو اقلیتی ٹولہ قرار دیتی ہے۔

 

Mentally ill girl Nora El Koussour wins Golden Calf via Moroccan Privilege

 

And then Nora El Koussour spoke . I had not noticed that film and the noise around it. That film – “Layla M.” – I told you, is about a Dutch-Moroccan teenage girl played by Koussour that “radicalises” and goes to Syria. Koussour is another example of a girl who is cuddled up via the Moroccan Privilege . And just like the “Maids of Halal” she is allowed to tell on television how much discrimination is and how beautiful Islam is.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s