سعودی عرب یمن پہ جنگ امریکہ اور برطانیہ کی اشیر باد سے کررہا ہے۔ عامر حسینی

 

Saudi Arabia's King Salman appointed his son, Mohammed bin Salman, as heir in June 2017 [File: Hassan Ammar/AP File]

سعودی حکومت یا آل سعود کو آن لائن تضحیک یا مزاحیہ تنقید کا نشانہ بنانے پہ تین سال قید اور آٹھ لاکھ ڈالر جرمانہ ہوگا

سعودی فرمانروا شاہ سلیمان کے بھائی احمد بن عبدالعزیز نے لندن میں اپنے گھر کے سامنے یمن پہ سعودی جارحیت رکوانے کا مطالبہ کرنے والے احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ساری آل سعود کو اس کا الزام دینا ٹھیک نہیں ہے ان کے ہاتھ میں یمن جنگ کی اونٹنی کی نہ تو مہار ہے اور نہ ہی اونٹنی بلکہ اس جنگ کا ذمہ دار اور متمنی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان ہے

یمن کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں جاری فوجی جارحیت جاری ہے اور اس جارحیت کی جانب سے بدترین انسانی حقوق کی پامالی اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ اور مغربی حکومتوں کے حامی انسانی حقوق کی عالمی اسٹبلشمنٹ اور مغربی مین سٹریم میڈیا جس نے سعودی فوجی اتحاد کی جارحیت میں بدترین جنگی جرائم کے ارتکاب پہ ایک عرصے تک پردہ ڈالے رکھا وہ بھی اب اس بربریت کو چھپانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ اگرچہ اب ان کی جانب سے یمن کی آزادی و خودمختاری کی لڑائی لڑنے والے حوثی قبائل اور سعودی فوجی اتحاد کے درمیان مماثلت دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کا ایک ثبوت اقوام متحدہ کی یمن بارے جاری ہونے والی حالیہ رپورٹ ہے۔ اس رپورٹ میں سعودی اتحاد کے جنگی جرائم کے ارتکاب کا اعتراف تو کیا گیا لیکن ساتھ ہی یہ تھی کہہ دیا گیا کہ حوثی قبائل بھی جنگی جرائم کے مرتکب ہورہے ہيں۔ اگرچہ یہ ضرور کہا گیا ہے جس بربریت اور خون آشام جنگی جرائم کا ارتکاب سعودی اتحادی افواج نے کیا اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔

 

سعودی عرب کی اتحادی افواج کی زبردست جارحیت کے باوجود حوثی قبآئل اور ان کے اتحادی ڈٹے ہوئے ہیں اور ان کو شکست دینا ناممکن سا لگ رہے ہے۔

اقوام متحدہ حوثی قبائل اور ان کے مخالف سعودی حمایت یافتہ یمنی فریقوں کے درمیان امن مذاکرات کا دور ستمبر میں ہی جینوا شروع ہوںے جارہا ہے لیکن اس کی کامیابی کا کم امکان ہے۔

 

سعودی ائر فورس نے ایک ماہ قبل ایک اسکول بس پہ 500 پاؤنڈ وزنی امریکی بم گرایا۔ اس سے درجنوں افراد کی شہادت ہوئی اور 40 متاثرین تو 12 سال سے کم عمر کے بچے تھے جو پکنک مناکر لوٹ رہے تھے۔ اس واقعے کے دو ہفتے بعد سعودی اتحادی فوج کے طیاروں نے ملک کے مختلف شورش زدہ علاقوں سے ہجرت کرکے جانے والوں کی گاڑیوں پہ بم گرائے اور 26 بچے اور کم از کم چار عورتوں کو شہید کیا۔

 

 

یمن کی 80 فیصدی آبادی کا گزارا امداد پہ ہے جبکہ قحط اور متعددی بیماروں جیسے ہیضہ ہے کے پھوٹ پڑنے کی اطلاعات ہیں۔

 

خود امریکی سرکاری پریس اے پی نے سعودی عرب اور یو اے ای کے یمن میں القاعدہ کے ساتھ مقابلوں کے دعوے کو مبالغہ قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ  سعودی عرب اور یو اے ای کی حکومتیں القاعدہ کی یمنی شاخ سے سودے بازی کرنے ميں ملوث ہے اور ان کے سامنے دو آپشن رکھے جاتے ہیں کہ یا تو پیسہ لیکر علاقے سے دور چلے جائیں یا ان کے حمایتی لشکروں کا حصّہ بن جائے۔ ایسی ایک وڈیو بھی سامنے آئی جس میں پیسہ لیکر علاقہ چھوڑ جانے والوں القاعدہ کے لوگوں کے اعزاز میں دعوت کا اہتمام سعودی-یو اے ای کے حکام نے کیا تھا۔

 

تجزیہ نگار ماہر علی برادر طارق علی جو اگرچہ یمن اور شام کے معاملے پہ غلط مساوات اور بائنری بنانا نہیں بھولتے القاعدہ اور سعودی اتحاد کے درمیان روابط کی خبروں پہ کہتے ہیں:”القاعدہ اور اس کے وہابی کزن سعودی اور اماراتی کے درمیان کسی سطح پہ نظریاتی اتحاد حیران کن نہیں ہے۔ خاص طور جب معاملہ شیعہ حوثیوں اور ان کی ایران سے وابستگی کی مخالفت کا ہو۔ جبکہ سعودی عرب ایران اور حوثی قبائل کے درمیان تعلق کی جو سطح بتاتا ہے اس کی زمینی حقائق سے کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔ اگر سعودی ولی عہد کی جانب سے تین سال پہلے شروع کردہ یمن جنگ کے بعد ایران اور حوثی قبائل میں تعلق میں اور قربت مان بھی لی جائے تو یہ اتنی گہری نہیں ہے جتنی سعودی عرب اور اس کے اتحادی الزام لگاتے ہیں”

 

سعودی ولی عہد اور سعودی وزیر دفاع شہزاہ محمد بن سلیمان نے ابتک جتنے ایڈونچر کیے ہیں وہ بری طرح سے ناکام ہوئے ہیں۔ بقول ماہر علی تجسس اس بات کا ہے کہ آیا ان ناکامیوں کا منہ دیکھنے والا ایم بی ایس نے خود کبھی اپنی اہلیت پہ شک کیا ہے؟

یمن پہ مسلط تین سالوں سے جاری جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ قطر کو الگ تھلگ کرکے گھٹنے ٹیک دینے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا اگرچہ الجزیرہ نے حال ہی میں اسرائیل لابی کی واشنگٹن میں اپنے حق میں کی جانے والی گندی لابنگ بارے بنائی جانے والی ڈاکومینٹری فلم کو سعودی عرب کی خواہش پہ آن ائر نہیں کیا۔ اسی طرح لبنانی وزیراعظم سعد حریری سے جس ڈھٹائی سے استعفا لیا گیا اور اس کو یرغمال بناکر لبنانی حکومت اور حزب اللہ میں جنگ کی جو کوشش کی گئی وہ بھی الٹا بیک فائر کرگئی ۔

 

مغربی پریس اور مغربی حکومتوں کے حامی مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا کے اندر لبرل پوز دینے والے تجزیہ نگاروں نے محمد بن سلیمان کے ‘اصلاحات’ کے میک اپ کے سبب ان کی تعریفوں کے پہ باندھے لیکن اسی دوران انسانی حقوق کی پامالی پہ آواز بلند کرنے والی خواتین کو سزائے موت تک دینے کی کوشش نے ان اصلاحات کا پول کھول دیا۔

 

امریکی اور اسرائیلی انتظامیہ سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان کی پشت پنائی کررہی ہیں اور اس پشت پناہی نے اسے اور بھی مغرور اور خود پسند بناڈالا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے محمد بن سلیمان کی کینڈا حکومت سے جھگڑے میں پیٹھ ٹھونکی۔

 

کینڈا کے جو مغربی اتحاد تھے وہ سعودی عرب کے مقابلے میں کینڈا کا دفاع کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھے۔ اسی پشت پناہی نے سعودی عرب کو پانچ پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف سزائے موت پہ اصرار جاری رکھنے کا موقعہ دیا ہے۔

 

یمن میں ریاستی دہشت گردی کے خاتمے کے سوال پہ دو سال پہلے سی آئی اے سابق ملازم بروس ریڈل نے کہا تھا ‘ آج رات اگر امریکہ اور برطانیہ بادشاہ سلمان کو یہ کہیں کہ یہ جنگ بند ہونی چاہیے، تو اگلی صبح جنگ ختم ہوجائے گی کیونکہ سعودی ائر فورس امریکی اور برطانوی تعاون کے بغیر کام ہی نہیں کرسکتی۔”

لیکن امریکی اور برطانوی حکومتیں شاہ سیلمان کو ایسا کیوں کہیں گی جب سعودی عرب اور یو اے ای امریکی و برطانوی اسلحے کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔

اس لیے یہ کہنا بہت درست ہے کہ سعودی اتحادی افواج کی یمن پہ مسلط جنگ کے ختم نہ ہونے کا سب سے بڑا سبب امریکہ و برطانیہ سمیت مغربی حکومتیں ہیں۔ اور اس جنگ بارے سعودی-یو اے ای اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کے گھناؤنے کردار بارے عالمی سطح پہ موجود بے اعتناعی کا سبب مین سٹریم میڈیا کا جانبدار رویہ ہے۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s