واقعہ کربلاء شیعہ -سنّی تقسیم کا سنگ میل نہیں ہے

 

 

Alam

 

According to the Shia narrative, Yazid had robbed Imam Hussein, grandson of the prophet Muhammad, of his rightful leadership of all Muslims. The story of Karbala marks a significant break between Sunnis and Shia, and remains at the centre of Shia beliefs and customs. The alam has evolved over the centuries from the battle standards carried at Karbala by the Imam and his followers.

Not according to Shia narrative but it is “Narrative” of mainstream Sunni and Shia both that Yazid had robbed Imam Hussein, granson of the prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم of his rightful leadership of all muslims. And the story of Karbla does not mark a significant break between Sunni and Shia but this catastrophe united both sects and later this became center of belief and customs of both sects. here feature writer is totally misguided.

 

نوٹ:برطانوی جریدے دی گارڈین کے ایران میں نمائندے نے ایران میں “علم سازی” کے فن پہ ایک فیچر لکھا ہے۔ اس فیچر کو میں نے بہت احتیاط سے ہاتھ لگایا کیونکہ گارڈین جریدہ ان برطانوی لبرل اخباروں میں شامل ہے جو مغربی دنیا میں حکمران طبقات کی مڈل ایسٹ میں فوجی مداخلتوں اور وہابی پراکسیز کو سپورٹ کرنے میں بدنام ہیں۔ ان جیسے جریدے جب کوئی بہتر کام بھی کرتے ہیں تو ‘دودھ میں میگنیاں ملانے’ جیسا کام ضرور کرتے ہیں۔ کمرشل لبرل مافیا کہیں کا بھی ہو ان کے بارے میں یہی گمان رہتا ہے کہ ‘ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں’۔ اب یہی فیچر دیکھ لیں کہ اس کا دوسرا پیرا گراف ‘دودھ میں مینگنیاں ملانے’ کے مترداف ہے۔ کہتا ہے کہ کربلاء وہ واقعہ ہے جو سنّی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان واضح حد فاصل کھینچنے کا سبب بنا۔ یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جس سے منہ کڑواہٹ سے بھر جاتا ہے۔ مجھے ایرانی مذہبی پیشوائیت سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ اس لیے نہیں کہ میں سنّی خاندان میں پلا بڑھا ہوں بلکہ اس لیے ہمدردی نہیں ہے کہ ایرانی مذہبی پیشوائیت کسی پاپائیت و براہمن واد سے کم نہیں ہے اور یہ بھی طبقاتی سماج کے قائم رہنےاور غریبوں اور امیروں میں خلیج باقی رکھنے سیت سرمایہ داری کو مبنی بر فطرت قرار دینے کی کوششوں میں مصروف رہتی ہے۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ایرانی مذہبی پیشوائیت کو ناپسند کرتا ہوں تو ایران کے موجودہ رجیم کو باہر سے تیار کردہ وہابی کرائے کے نام نہاد مجاہدین اور سامراجیوں کی پراکسی جنگوں کے زریعے ہٹائے جانے کی تائید کروں یا ایران ایک عرب ملک میں سامراجیوں کی مداخلت کے خلاف اس ملک سے تعاون کرے اور وہاں القاعدہ و داعش سے لڑے تو اس ٹھیک عمل کی بھی مخالفت کروں؟ چاہے ایران یہ تعاون اپنے تزویراتی یا علاقائی مفادات کے تحت ہی کیوں نہ کررہا ہو؟ کیا میں اس لیے یمن میں سعودی جنگ اور یمنیوں کی نسل کشی کو ٹھیک قرار دے ڈالوں کہ اس جنگ کی مخالفت ایرانی رجیم کررہا ہے؟ پاکستان کا کمرشل لبرل مافیا ہو یا عالمی کمرشل لبرل مافیا وہ یہی کرتا ہے وہ یمن اور شام سے لیکر لیبیا تک اور عراق تک کبھی خمینی کا نام لیکر تو کبھی حوثی قـبائل کی زیدی شیعی شناخت کو لیکر تو کبھی بشار الاسد کے علویہ قبائل سے آنے کو لیکر اور معمر قذافی کو ایک آمر بتاکر ان ممالک میں سامراجی مداخلتوں اور وہابی تکفیری دہشت گردوں کو پالنے جیسے اقدامات کا دفاع کرتا آیا ہے۔

ایران میں علم سازی کی تاریخ بارے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں لیکن یہاں برصغیر پاک و ہند میں علم اور تعزیہ یہ دونوں اہلسنت اور اہل تشیع دونوں کا مشترکہ ورثہ ہیں۔ ہمارے ہاں کالونیل دور سے پہلے جو مغلیہ سلطنت تھی اس سرکار نے سنّی چہرے کے ساتھ بھی محرم کی ثقافت میں علم و تعزیہ کے فن کی سرپرستی کی اور اس کی بنیاد کسی نام نہاد ‘ شیعہ آرٹ لہر یا سنّی آرٹ لہر’ کے نتیجے میں نہیں پڑی تھی۔

میں نے مضمون کا عنوان بھی بدل ڈالا ہے۔ کیونکہ فیچر رائٹر نے جو مواد مضمون کے اندر دیا اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ایران میں علم سازی کا فن دستکاری سے آگے مشینی انداز میں بدل رہا ہے۔

فنکاروں سے ایرانی حکومت کا مبینہ سلوک کوئی بڑی انہونی نہیں ہے بلکہ ایک طبقاتی خلیج پہ یقین رکھنے والی اور ایسے لوگوں سے بھری ہوئی حکومت جو کلچر کو ‘حقیقی تاریخ’ کی عینک سے دیکھنے کے چکر میں اپنے کلچر می اساطیری روح کو نکال باہر کرنے کے درپے ہو اس سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ع ح

ترجمہ و تلخیص مضمون

 

سافر آہن گر میری ہتھیلی جتنے لوہے کے ایک ٹکڑے پہ اپنے ہتھوڑے سے ضرب لگاتا ہے۔ اس کے ہاتھ  ایک ردھم میں آئے ڈھول کی سی صورت رقص کی شکل ابھارتے ہیں: دھم، دھڑاک،دھم،دھڑاک۔ ہر مرتبہ اس کا ہتھوڑا لوہے کے ٹکڑے پہ گرتا ہے اور اس کی صورت گری کرتا جاتا ہے اور جلد ہی وہ ایک اجگر کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

Alam

میں جنوبی تہران کی ایک ایسی چھوٹی سی دکان میں ہوں جہاں ‘علم ‘ بنانے کے فن کے آخری استاد رہتے ہیں۔ بھاری دھات سے بھرے پنچے اور کندہ کاری کے نمونوں سے بھری یہ دکان ہے۔ یہ پنجے اور کندہ کاری کے نمونے شیعہ مسلمانوں کے ہاں شہادت امام حسین کی یاد میں منعقدہ تقریبات میں استعمال ہوتے ہیں۔  جنھوں نے 680ء میں یزید کی وفادار فوج سے لڑائی لڑی تھی۔

نوٹ: یہاں پہ دوسرے پیراگراف میں مضمون نگار واقعہ کربلاء کو سنّی مسلمانوں اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان تقسیم کا اہم سنگ میل قرار دیتا ہے اور واقعہ کربلاء کو بس شیعہ مسلمانوں کے عقائد اور ان کی رسوم کا مرکز بتاتا ہے جکہ درست نہ ہے۔ جبکہ یہ درست ہے کہ علم کربلا میں امام اور ان کے پیروکاروں کی یزیدی لشکر سے لڑائی میں ایک معیار حق و باطل کی علامت کے طور پہ ابھرا۔

آہن گر استاد کے ہاں، علم کی تیاری فن کے ساتھ ساتھ محبت و عقیدت کی محنت کا نام بھی ہے۔

” میں جانتا ہوں کہ بہت سارے لوگ ہوں گے جو میرے الفاظ کو مبالغہ کہتے ہوں گے، ليکن یہ ایک جذبہ ہے جو لوہے کو شیروں، ہرنوں اور پرندوں میں بدل دیتا ہے۔”

Alam

” ان کو اس طرح کی باتوں پہ یقین نہیں ہوگا لیکن میں تو ان کے درمیان زندگی گزارتا ہوں،میں اسے دیکھ سکتا ہوں تو میں اس پہ یقین بھی کرتا ہوں۔ میرا کام سخت محنت طلب ہے لیکن مجھے یہ شدت و سختی محسوس نہیں ہوتی۔”

استاد آہن گر 60 کے پیٹے میں ہے اور وہ آلہ سماعت استعمال کرتا ہے۔ اس کے ہاتھ ویسے سیاہ پڑچکے ہیں جیسے سردیوں میں کوئی چمنی اندر سے ہوجاتی ہے اور اس کی ہتھیلی میں گڑھے نما گہری لکیریں نظر آتی ہیں جو مجھے ایک خشک دریا میں بنی پگڈنڈی کی یاد دلاتی ہیں۔

مجھے یہ جاننے کا تجسس ہے کہ کتنے عشروں  تک آہن گری کسی جسم کا یہ خال کردیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ میرا ذہن پڑھ رہا ہو:

“یہ قریب المرگ فن ہے کیونکہ ایک میز کے پیچھے بیٹھنا اس سے کہیں آسان لگتا ہے۔ یہ فن جذبہ مانگتا ہس، ایسا جذبہ جس میں اجرت و مزدروری کا شمار نہیں ہوتا ،یہ مسلسل سود و زیاں کا حساب کتاب کرنے کا نام نہیں ہے اور ایسا جذبہ ہے جو کسی دھات کے گرد گھنٹوں کھڑے رہنے پہ سر پڑنے والا نہیں ہوتا۔”

Alam

وہ مجھے بتاتا ہے کہ جنوبی تہران میں وہ حال ہی میں 600 مربع فٹ کا ایک اپارٹمنٹ خریدنے کے قابل ہوا ہے۔ ” خداوند بزرگ و برتر مہربان ہوا۔میں اس سال دو علم تیار کرنے کے قابل ہوگیا اور میں نے تھوڑا قرضہ بھی لیا۔” وہ کہتا ہس ایران میں آج پانچ سے چھے لوگ ہوں گے بس جو روایتی طرز سے علم تیار کرتے ہوں گے۔

علم جو 6 من تک وزنی ہوسکتا ہے  جسے عزاداروں کے جلوس عاشورہ میں دس محرم کو ایک شخص اٹھاکر آگے آگے چلتا ہے۔ علم علامتوں اور تمثیل کی موجودگی کا عکاس ہوتا ہے: یزیدی فوج امام حسین کے کیمپ پہ پانی بند کردیتی ہے، انصاف کی جنگ اس وقت تک جاری رہتی ہے جب عورتوں اور بچوں پہ مشتمل ایک چھوٹا سا گروہ ہی باقی رہ جاتا ہے۔

علم کے وسط میں ایک تیغ ہوتی ہے اک لمبی تلوار جس پہ امام حسین بارے شاعری یا محمد و آل محمد کے اسماء اور آیات قرانی کندہ کی جاتی ہیں۔ آرٹسٹ کا تخیل تیغ کو دوسرے آرٹسٹ کی تیغ سے مختلف بنادیتا ہے اگرچہ مرکزی خیال ایک ہی رہتا ہے۔

علم پہ پروں سے سجاوٹ کی جاتی ہے اور اس کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں جن میں شیروں، پرندوں ، براق جس میں جسم گھوڑے کا شکل آدمی کی ہوتی ہے کندہ کی جاتی ہیں۔ براق وہ ہے جو سفر معراج میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رات کے مختصر حصّے میں یروشلم اور آسمانوں کی سیر کو لے گیا تھا۔

Alam

جب محرم کی پہلی تاریخ ہوجاتی ہے تو سارے ایران میں خیموں کا شہر بس جاتا ہے جسے ہئیت کہا جاتا ہے اور ہر رات عزادار وہاں پہ جمع ہوتے ہیں۔ خیمے ہاتھ سے کشیدہ کاری کیے گئے کپڑوں پہ مبنی ہوسکتا ہے جو کئی نسلوں سے چلا آرہا ہوتا ہے۔ ہئیت کی روایت شہر در شہر اور قریہ در قریہ مختلف ہوتی ہے لیکن ان میں ہمیشہ نوحے پڑھے جاتے ہیں، داستان کربلاء سنائی جاتی ہے اور خاص طور پہ دو راتوں کو نیاز ضرور پروسی جاتی ہے۔

جنوبی تہران میں سب سے مشہور ہئیت فراہم کرنے والی دکان کا مالک مجھے بتاتا ہے:” میں نے پہلی بار ہئیت میں شرکت کی تو میں دس سال کا تھا۔ ایک ماہ پہلے ہم سب سے بہترین نوحہ خواں کی تلاش کرتے تھے۔” نوحہ خوان وہ ہوتا ہے جو عاشورہ کے منظوم واقعات سناتا ہے۔

تعزیہ، کربلاء کے واقعے کی ۃمثیل نگاری کا معاملہ ہے۔ مقامی لوگ کربلاء کے واقعے کی تمثیل ایک بار دیکھ لیتے تو وہ خود اسے تمثال لیا کرتے تھے۔ لیکن اب یہ زیادہ تر سٹیج ایکٹر کرتے اور اس میں مقبول عام مواد بھی شامل کرلیا جاتا ہے: تہران میں گزشتہ سال کچھ تعزیے مجھے قرون وسطی کی گیم آف تھرونز کی یاد دلاتے رہے۔

استاد آہن گر کے مطابق ، علم پہلی بار ایک فوجی علامت کے طور پہ محمود غزنوی نے 11 ویں صدی میں تیار کروائے تھے۔ آرمینیا کی مہم پہ اس نے سوچا کہ جیسے مسیحی صلیب کو بطور علامت کے لیکر فوجی مہم میں چلتے ہیں ایسے ہی مسلمانوں افواج کے پاس بھی کوئی علامت ہونی چاہئیے۔ علم سازی کی دوسری تاریخیں صفوی بادشاہت کے زمانے میں ملتی ہیں جب ایک متحرک شیعہ آرٹ کی لہر آئی۔

alm workshop
خراسان چوک کے آس پاس کا ایک منظر

اصفہان جوکہ صفویوں کا دارالحکومت رہا علم سازی کے طور پہ جانا جاتا ہے اور بہت سے علم ساز یہاں پہ رہے اور ان میں صفوی دور کا بہت نامور علم ساز حجر طہر بھی شامل تھا جو علم سازی کے فن کو عروج پہ لے گیا۔

استاد آہن گر 14 سال کی عمر میں اصفہان میں حاج استاد محمد جوہری کے ہاں جانا یاد کرتا ہے۔

” ماسٹر جوہری کے ہاں اس وقت اولاد نہیں تھی تو میں ان کے ساتھ رہا۔”

“پھر ان کی بیوی شادی کے کئی سالوں بعد امید سے ہوئیں اور ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ اس نے بھی کام کو جاری رکھا اور سارے یورپ تک اس فن کو پھیلادیا۔ جب وہ پیدا ہوا تو میں واپس تہران آگیا۔”

استاد آہن گر نے اپنے چالیس سالہ دور علم سازی میں 130 علم تیار کیے۔ انہوں نے سورہ آرٹ یونیورسٹی تہران میٹل سمتھ آرٹ نصاب تیار کیا اور جب یہ پروگرام شروع ہوا تو اس کے پہلے سمسٹر میں پڑھایا بھی۔

” میری بہترین شاگرد وہاں ایک نوجوان لڑکی تھی جس کا وزن صرف 50 کلوگرام تھا۔لیکن وہ اس لوہے کو اسقدر شدت اور طاقت سے ضرب لگاتی جو میں نے اکثر مردوں میں بھی مفقود پائی تھی۔

اس کی آنکھیں چمکنے لگتی ہیں جب وہ یہ کہتا ہے۔ اگرچہ اس کے کچھ شاگرد اب نامور علم ساز ہیں اور ایک لڑکی نے فائنل پروجیکٹ کے لیے علم بھی بنایا ہے مگر کوئی علم سازی کو پیشے کے طور پہ اپنانا نہیں چاہتا۔

” یہ فن جس میں جسمانی محنت زیادہ اور کمائی کم ہے کو کوئی نوجوان اپنانا نہیں چاہتا۔ انفرادی شبیہیں جمع کرنے کے شوقین لوگوں کو شبیہ بیچنا کہیں زیادہ بہتر کمائی کا زریعہ بن چکا ہے۔”

استاد آہن گر کو یقین ہے کہ علم  سازی کا فن نہ تو ٹھیک سمجھا جاسکا اور اور نہ ہی اسے ٹھیک سے اپنایا گیا۔

” مذہبی لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب توہمات ہیں۔۔۔یعنی شبہیں  اور علامتیں۔ غیر مذہبی ہمیں نظر انداز کرتے ہیں۔ کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ اس کے سٹرکچر کو سمجھے اور  ہماری روایت میں اس کے مقام کو جانیں۔”

اکثر سالوں میں اسے ایک یا دو ٹھیکے برائے علم سازی ملتے ہیں اور منافع بہت کم ہے:

” ایک علم 150 ملین تومان/56 ہزار ڈالر میں فروخت ہوتا ہے۔جبکہ علم میں استعمال سونے کی قیمت ہی 60 ملین تومان ہوتی ہے۔گاہک اب ادارے نہیں جن کی مجھے توقع ہوتی ہے افراد ہوتے ہیں جن کے پاس پیسہ اور جذبہ ہوتا ہے۔”

جبکہ ہر ایک ہئیت کے اوپر ایک علم ہوتا ہے اور سال کے باقی حصوں میں ایسے علم مالک کے گھر نمونہ فن کے طور پہ موجود رہتے ہیں۔

استاد آہن گر کو دستکاری کی شدبد بھی ہے۔ ایک بار جب علم کے مختلف ٹکڑے تیار ہوجاتے ہیں تو ان پہ سونے کا جڑاؤ کرنے کے لیے ورکشاپ میں لیجایا جاتا ہے۔

“چار مثقال (چار گرام) سونے کے جڑاؤ کے لیے 4 دن لگتے ہیں۔اسے علم کے سائز سے ضرب دیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کتنا سونا جڑاؤ کے لیے درکار ہوتا ہے۔”

اس کا کہنا ہے کہ اس نے پانچ معاونت کاروں کو یہ کام سکھایا جو اب جنوبی تہران میں کچھ میل دور اور جگہوں پہ کام کرتے ہیں۔

استاد آہن گر کو اپنے پڑوس پہ فخر ہے۔چند گھنٹے جب میں اس دکان پہ رہوں گا تو کئی معمر لوگ مجھ سے دعا سلام کے لیے رکتے ہیں۔

ان میں سے ایک معاش حسن ہے جو بعد میں اپنے موٹر سائیکل پہ اس کے لیے دوپہر کا کھانا لینے جاتا ہے اور اسے کہتا رہتا ہے۔”استاد مجھے پرندے دکھاؤ۔’

استاد آہن گر پہلے اسے نظر انداز کرتا ہے ، تب زرا گھومتا ہے اور ایک باکس کھولتا ہے اور اس میں سے ایک موم بتّی ہولڈر نکالتا ہے جس پہ پرندے کی شبیہیں بنی ہوئی ہے اور سہنری خطوط کھینچے گئے ہوتے ہیں۔ میں اس کی پیچیدگی کے سبب اس بارے کچھ کہنے سے قاصر ہوں خاص طور پہ جب میں بڑی اور سرد لوہے کی شیٹوں پہ ان کو کندہ دیکھتا ہوں۔

میں اس سے دو قدیم ترین علم پہ کیلی گرافی بارے سوال کرتی ہیں جو اس کی دکان میں ہیں اور یہ 130 سال پرانے ہیں۔ ان دنوں آپ علم پہ سادہ سی دھات پہ کندہ کاری دیکتھے ہو جبکہ پرانے علم پہ یہ کیلی گرافی گہرے کٹ کے ساتھ بہت ہی زبردست خطاطی کے ساتھ ہوا کرتی تھی۔

یہ گیلی گرافی استاد نصیر احمدی کا کمال تھی جو گزشتہ سال گزر گئے۔ ان کے بعد یہ فن بھی مرگیا۔ اب کوئی نہیں ہے جو یہ جانتا ہو کہ اس سطح کی کیلی گرافی کو دھات پہ کیسے کیا جاتا ہے۔

وہ درجنوں بین الاقوامی سطح کے فنکاروں کی بات کرتا ہے جن کو وہ اس شہر میں جانتا ہے جو یا تو بیمار ہیں یا کرایہ تک برداشت نہیں کرسکتے۔جب وہ استاد فرحانی کی بات کرتا ہے تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں۔

 “کافی ہاؤس روایت کا نامور پینٹر جس کا خاندان جب وہ مرگیا تو ہسپتال والے واجبات ادا نہ کرنے کے سبب اس کی مت نہیں دے رہے تھے۔میں نے ایرانی اکیڈمی آف آرٹس کو کہا کہ تم اس آدمی کا کام اپنے میوزیم میں رکھتے ہو اور اس کا خاندان تو ہسپتال سے اس فنکار کی لاش چھڑانے سے عاجز ہے۔”

میں اسکول کی گھنٹیوں کی آواز سنتا ہوں، چند منٹوں میں اسکول کے بچے اسٹور کے پاس سے گزرنے لگتے ہیں۔  خراسان چوک کے پاس یہ پرانی جگہ ہے اگرچہ اکثر گلیاں اپارٹمنٹ کمپلیکس سے بھر چکی ہیں اور اس کی پرانی شان و شوکت اب بمشکل بچی ہے۔

میں اس سے پوچھتا ہوں، کیا فن سکھانے کا اس کا جوش ماند پڑ گیا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ اس کا بیٹا اس کا شاگرد ہے اور ایک چھوٹے سے علم جو اس کے پہلو میں کھڑا ہے اس کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ اس کا پہلا تیار کردہ علم کا ٹکڑا ہے۔رخصت ہوتے ہوئے میں نے یاد کیا کہ اس ٹکڑے کا چارم یہ تھا کہ وہ ساتھ  بائیں طرف کو پڑے بڑے علم کا بچہ لگ رہا تھا۔

استاد آہن گر کی سب سے بڑی پریشانی علم پریسری سے ہے۔جو وہ کہتا ہس 10 لاکھ سے  30 لاکھ تومان میں فروخت ہوتی ہے۔ پرانے آرٹ کو ختم کرکے اسے میکانیکی طریقے کے حوالے کرنا فن کو یک لخت ماردینے کے مترادف ہے۔ لیکن ان کو کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ یہ پرکشش کاروبار بن گیا ہے۔

اس سے مجھے یاد آتا ہے کہ کیسے عاشورا کی تقریبات بھی میکانیکی عمل بنکر رہ گئی ہیں۔ صرف ریڈی میڈ علم ہی نہیں بلکہ بڑے پیمانے پہ مشینی جھنڈے اور خیمے اور پاپ دھنوں کی ترتیب پہ گائے جانے والے نوحے۔ریڈی میڈ علم کے ساتھ آپ ہئیت پہچان سکتے ہویہاں تک کہ ان سے بہت دور بھی۔ ان دنوں تہران میں خوب چماؤ کے ساتھ ہئیت کو آپ بہت دور سے علم کے ساتھ پہچان سکتے ہو لیکن ایسے کام کو دیکھنے کے لیے آپ کو بہت دور اندر جنوبی تہران کے پرانے کوارٹرز میں جانا ہوگا۔

استاد آہن گر سے رخصت ہوکر میں  شہر کے جنوب مغرب میں واقع قلعہ مرغی پہنچا۔ گلیوں میں خواتین ، بچے اور کئی خاندانوں کی چہل پہل تھی۔ یہاں پہ زیادہ تر کاروں کی مرمت اور بھیڑوں کے احاطے بنے ہوئے تھے۔

یہاں میں امیر عالم کی ورکشاپ تلاش کرلیتا ہوں۔ ایک نوجوان علم ساز ہے۔ اس نے اپنی ورکشاپ ایک چھوٹے سے کمرے میں بنائی ہوئی تھی جو اس زمین پہ بنایا گیا جو گائے فارم کے طور پہ استعمال ہوتی تھی۔ اس کی ورکشاپ میں ہر طرف میز پہ شبہیں بکھری پڑی تھیں۔

استاد آہن گر کی طرح امیر عالم جو مشکل سے 30 کے پیٹے میں ہوگا کو بھی یقین تھا کہ جو مشینی علم بیچتے ہیں وہ اس فن سے بہت ناانصافی کررہے ہیں۔ وہ ایک علم 40 ملین تومان میں فروخت کرتا ہے۔ لیکن زیادہ وقت وہ دھاتی شبہیں شوقین افراد کے لیے بناتا ہے۔

امیر عالم مجھے بتاتا ہے کہ عاشورا کی تقریب اگرچہ صرف علم کا نام نہیں ہے لیکن علم کی روایت زرتشتی روایت ‘سوگ سیواش’ سے لی گئی جس میں ایک نوجوان شہزادے سیواش کے مظلومانہ قتل کا سوگ منایا جاتا تھا۔ اس کا یقین ہے کہ علم پہ کندہ شبہیں ‘حقیقی تاریخ’ کے طور پہ نہ لی جائیں بلکہ ان کو نسل در نسل منتقل ہونے والی حکایات سمجھا جانا چاہئیے۔

اس کام میں آپ ہمیشہ اپنے استاد کے شاگرد رہتے ہیں۔ اور بطور ایک فنکار کے سب سے پہلی چیز اّ کو یہ بتانا ہوتی ہے کہ آپ نے کس کے ماتحت یہ فن سیکھا اور پڑھا ہے۔

” میں خوش قسمت تھا کہ استاد حسن مامانپوش تہران آئے اصفہان سے کسی وقت اور وہ وقت تھا جب میں نے کام شروع کیا۔”

“گزشتہ سال وہ 52 سال کی عمر میں گزر گئے۔”

ایک پوسٹر جس پہ امیر عالم کے استاد کی موت کا اعلان تھا اب تک ورکشاپ کی دیوار سے ٹنگا تھا۔

امیر عالم کا کام استاد آہل گر سے کہیں زیادہ کم دقیق ہے۔ یہآن پہ پرندے ایسے نہیں لگتے کہ ابھی چہچہانے لگیں گے۔ لیکن ابھی اس کے پاس کئی عشرے ہیں کہ وہ اپنے کام میں اور بہتری لے آئے۔

وہ مجھے بتاتا ہے

” یہ فن قریب المرگ ہے۔سارا دن دھات کو ضرب لگانا ان دنوں ایسا کام نہیں جسے لوگ شوق سے کریں۔لیکن مجھے دھات کو خدوخال دینا ہمیشہ سے پسند رہا ہے اور پھر ان کو علم کی منزل پہ چڑھانا بھی خوب پسند ہے۔ تو اسی لیے میں یہاں ہوں۔

Advertisements
Categories:

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s