آج ہم ایک سورما شہید کمانڈر چی گویرا کو یاد کرتے ہیں-ٹومی شیریڈن

نوٹ: ٹومی شریڈن سکاٹش اشتراکی رہنماء اور معروف انقلابی دانشور سیاست دان ہیں۔ ان کی زندگی ہمیشہ جدوجہد کرتے، جیلیں کاٹتے اور مقدموں کا سامنا کرتے گزری ہے۔ان کی کتاب ‘امیج’ نے سکاٹ لینڈ سمیت یورپ میں سرمایہ دارانہ ترقی کے پیچھے چھپے بدنما چہرے کو نمایاں کردیا تھا۔ چی گویرا کی برسی کے موقعہ پہ ان کا ایک مضمون روسی جریدے سپوتنک میں شایع ہوا۔اس مضمون کا ترجمہ یہاں پہ پیش کیا جارہا ہے۔

 

“I know you’ve come to kill me. Shoot, coward, you are only going to kill a man” (CHE GUEVARA – A Revolutionary Life; Anderson J.L., Bantam Press 1997 p739).

میں جانتا ہوں تم مجھے مارنے آئے ہو۔ تو گولی چلاؤ ،بزدل،تم بس گوشت پوست کے بنے آدمی کو ہی مارسکو گے۔” ( چی گويرا-ایک انقلابی کی زندگی؛اینڈرسن جے ایل ، بنٹام پریس 1997،ص 739)

 

یہ اس انقلابی کے الفاظ تھے جس نے دوسرے کسی بھی انقلابی سے زیادہ اس سچے مقولے کو اپنایا،’تم خواب دیکھنے والے کو مار سکتے ہو مگر خواب کو دفنا نہیں سکتے۔’ چی گويرا کی زندگی کو پوائنٹ بلینک  رینج پہ دھری ایک خودکار بندوق سے نکال باہر کیا گیا۔ اس بندوق کی گولیوں نے اس کے پہلے سے چھلنی بدن کو ایک بجکر دس منٹ بعد از دوپہر مزید چھلنی کردیا تھا۔ یہ 9 اکتوبر،1967ء کا دن تھا۔

 

چی کو دوبار اس کی ٹانگ میں گولیاں مار کر ایک دن پہلے بولیویا کے بلند ترین پہاڑی علاقے میں گھیر کر پکڑا گیا تھا۔اسے ایک اسکول ہاؤس میں ایک کتّے کی طرح باندھ کر رکھا گیا تھا۔اسے کرسی پہ بیٹھ کر گولیوں کا سامنے کرنے کو کہا گیا۔لیکن اس نے انکار کردیا۔ اور وہ شوٹ کرنے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا رہا۔ گولیاں پہلے اس کے بازو اور ٹانگوں میں لگیں اور اسے زمین بوس ہونے پہ مجبور کردیا،جہاں اس نے درد سے بچنے کے لیے اپنی کلائی ٹکا دی تھی۔ سپاہی نے پھر گولیاں چلائیں تو ایک گولی اس کے سینے میں داخل ہوئی اور اس کے پھیپھڑوں کو خون سے بھرتے ہوئے اس کی جان لے گئی۔ چی کس وقت محض 39 سال کا تھا لیکن وہ عزت کی زندگی جیا اور عزت کی موت مرا۔ اس کی موت اور زندگی دونوں ہی ہمت اور بہادری سے عبارت تھیں۔ اس کے ہاں محروم لوگوں کے لیے انصاف کی ناختم ہونے والی پیاس موجود تھی۔ اس کے ہاں غربت اور ننگی عدم مساوات کے خلاف ساری زندگی سخت غصّہ کرتا رہا۔

 

ایک سینئر بولیویائی آرمی افسر لیفٹنٹ کرنل سیلچ نے تفصیلی نوٹس لکھے ہیں جو یہ جاننے میں مدد دیتے ہیں کہ چی گویرا کون تھا اور وہ کس لیے کھڑا ہوا تھا؟

چی گویرا سے ان دوسرے گوریلا جنگجوؤں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو سلیچ نے اس سے سوال کیا

 

میں جانتا ہوں کہ بینگنو لا ہیگورا پہاڑی سلسلے کی لڑائی میں شدید زخمی ہوگیا تھا، جہاں کوکو اور دوسرے مرگئے۔کیا تم مجھے بتاسکتے ہو کمانڈنٹ ، کیا وہ اب بھی زندہ ہے؟

“کرنل،میری بہت کمزور یادداشت ہے،مجھے یاد نہیں رہتا، یہاں تک کہ مجھے سمجھ بھی نہیں آرہا کہ اس سوال پہ کس طرح کا ردعمل دوں۔”

 

 

سلیچ پھر طنزیہ طور پہ پوچھتا ہے

 

کیا تم کیوبن ہو یا ارجنٹائن والے؟

‘میں کیوبن، ارجنٹائن والا،پیرو والا،ایکواڈور والا،وغیرہ وغیرہ سب ہوں۔۔۔ کیا تمہیں اس کی سمجھ آتی ہے؟

 

چی آئرش والدین کے ہاں ارجنٹائن میں پیدا ہوا لیکن اس نے سارے لاطین امریکہ کا دورہ کیا اور خود سے غربت و افلاس کا راج دیکھا، بھوک ناچتی پائی اور غریبوں اور کسانوں کا بے تحاشہ استحصال ہوتا دیکھا۔ اس سب نے اس کے اندر مظلوموں کے ساتھ ملکر ظالموں کے خلاف لڑنے کی خواہش اور عزم پیدا کردیا۔ 1955ء میں وہ فیدل کاسترو کو ملا اور اس نے ‘جولائی چھبیس تحریک’ میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس تحریک کا مقصد فوجی آمر باتستا کی بدترین ظالم اور آمرانہ حکومت سے کیوبا کی عوام کو آزادی دلانا تھا۔ باتستا اس زمانے میں کیوبا پہ امریکی اشیرباد کے ساتھ حکومت کررہا تھا۔ چی 1956ء یں میکسیکو سے ایک کشتی میں فیدل کاسترو کے ساتھ بطور ڈاکٹر کے شریک ہوا تھا۔ لیکن جب میدان جنگ میں لڑائی کے شعلے بھڑکنے لگے تو وہ ایک مثالی سپاہی ،گوریلا اور قائد ثابت ہوا۔ اس نے کیوبا انقلاب کی کامیابی میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ 1959ء میں جب وہ یکم جنوری کو ایک نئے ،زیادہ صاف ستھرے اور زیادہ برابری کے حامل اور حتمی طور پہ سوشلسٹ کیوبا کی تعمیر کے لیے ہوانا میں فیدل کاسترو کے ساتھ داخل ہوا تو اس کی بھی فیدل کاسترو کی طرح پذیرائی کی گئی۔

 

چی گویرا ارجنٹائن میں پیدا ہوا لیکن وہ کیوبا والوں کے ساتھ لڑا اور بولیویا والوں کی آزادی کے لیے لڑتا ہوا پکڑا گیا تو سلیچ نے جب اس سے پوچھا کہ تم کیا ہو تو اس کے جواب ایک نابغہ اور بصیرت افروز کامریڈ جواب تھے۔ سلیچ پھر طنزیہ انداز میں پوچھتا ہے

‘ کس چیز نے تمہیں یہاں ہمارے ملک میں آپریٹ کرنے پہ قائل کیا؟’

تو چی کا جواب تھا

‘ کیا تمہیں وہ نظر نہیں آتی جس حالت میں کسان جی رہے ہیں؟ وہ سب قریب قریب وحشیوں کی سی حالت میں ہیں، غربت میں گزر بسر کرتے ہیں جو کہ دل کو تنگ کرتی ہے، ایک کمرہ ہے ان کے پاس جس میں سوتے اور پکاتے ہیں اور پہننے کو کوئی کپڑا نہیں، ان کو جانوروں کی طرح چھوڑ دیا گیا ہے۔’

 

یہ بات چیت 9 اکتوبر 1967ء کے دن کے ابتدائی گھنٹوں میں ہوئی۔اس وقت چی کو ایک بات کا یقین تھا کہ بہت جلد اسے قتل کردیا جائے گا۔  گزشتہ دن کی لڑائی میں لگی گولیوں کے رستے زخموں کے باوجود  اور اس بات کا ادراک رکھتے ہوئے کہ جلد ہی اسے موت کا سامنا کرنا پڑے گا کے باوجود بھی وہ اپنے سوشلسٹ اور انسانیت پسندی پہ مبنی ایک بہتر اور عدل پہ مبنی دنیا خیالات کو ترتیب دینے کے قابل تھا۔

 نقاد اپنے اکیڈمک دفاتر کی پرسکون فضا میں بیٹھ کر چی کی انقلابی جدوجہد اور کوشش کو بولیویا میں منتقل کرنے کی سٹرٹیجک کمزوری کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ ایسی جدوجہد جو کیوبا میں کامیاب رہی تھی۔

یقینی بات ہے کہ ہم فراغت میں بیٹھ کر یہ کہہ سکتے ہیں اور اس بات سے متفق ہوسکتے ہیں کہ ہر ملا اپنی آزادی کا راستا خود چنتا ہے اور یہ انتخاب اس کی روایات ، ثقافت، آئئین ، حالات و واقعات کے مطابق ہوا کرتا ہے۔ کوئی سے بھی دو ملک کبھی ایک سا انقلاب نہیں دیکھتے۔ مماثلتیں ناگزیر ہوا کرتی ہیں لیکن شرطیہ انقلابی پتھروں کی بنی ٹیبلٹ کا کوئی وجود نہیں ہے۔ لیکن ایسی بحث آج کے دن ثانوی اہمیت کی حامل ہے۔ آج کے دن تو ہمیں ایک ایسے انقلابی کو یاد کرنا اور خراج عقیدت پیش کرنا ہے جو لیجنڈری بن گیا ہے۔

 

سی آئی اے اور بولیویائی فوج کے سربراہوں  نے چی گویرا کے زخمی ہوکر ب بس ہوجانے کے بعد قتل ہونے پہ خوشی منائی تھی ۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ حیات جاودانی پانے والا چی گویرا طبعی زندگی رکھنے والے چی گویرا سے کہیں زیادہ طاقتور بن گیا تھا۔ اس کی تقریریں اور تحریریں اور اس کا جذبہ نوجوانوں اور مظلوموں کو طاقتور سے لڑنے اور ناانصافی کے خلاف غصّہ دکھانے پہ اکساتے ہیں۔

 

گیارہ سال قبل 2007ء میں ایک ایسی کہانی سامنے آئی جس نے چی گویرا کے انسانیت پسند اور سوشلسٹ وژن کو پھر سے توانا انداز میں ابھارا اور اس کی اپنے کاز کے لیے سورمائی طرز پہ قربانی کا جواز فراہم کیا۔ چی گویرا کا نام تو پوری دنیا میں فوری طور پہ جانا پہچانا جاتا ہے۔ لیکن کسی نے کیا کبھی ماریو ٹیران کا نام بھی سنا تھا؟ یہ وہ شخص تھا جس کے سامنے چی گویرا نے اپنے آخری الفاظ ادا کیے تھے کیونکہ ماریو ٹیران وہ تھا جس نے چی کو گولیاں مار کر شہید کیا تھا۔ یہ بولیوین آرمی کا سارجنٹ تھا جس نے کیوبا کے ہیرو کو مار ڈالا تھا۔ اسی آدمی کے بیٹے نے چار عشروں کے بعد بولیوین اخبار کو خط لکھا اور دل سے کیوبا کا شکریہ ادا کیا کہ اس ملک نے اس کے باپ کو پھر سے دنیا کو اپنی بینائی کے ساتھ دیکھنے کے قابل بنادیا جو کہ اندھا ہوچکا تھا اور وہ اپنے پوتے پوتیوں کو دیکھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔

 

سوشلسٹ تربیت یافتہ کیوبن ڈاکٹرز نے سوشلسٹ وینزیلا کی مالی امداد سے ماریو ٹیران کا آپریشن کیا اور اس کی بینائی بحال کردی ۔ اس انقلاب کی یہ کیسی فتح تھی جس کو چی نے آگے بڑھنے میں مدد دی تھی اور یہ اس کے کاز اور آدرشوں کی فتح تھی جس کے لیے اس نے اپنی شباب بھری زندگی قربان کردی تھی۔

 

مسٹر ٹیران کا علاج ‘ معجزہ آپریشن’ کے نام سے کیا گیا۔ یہ وینزویلا کی طرف سے فنڈ کیا گیا پروگرام ہے جس میں کام کرنے والا سٹاف کیوبن ہے جو سارے لاطینی امریکہ کے غریبوں کی آنکھوں کے ہر طرح کے امراض کا علاج مفت کرتا ہے۔ چی کو کتنا فخر محسوس ہوتا  ڈاکٹروں پہ، پروگرام پہ اور اپنے محبوب کیوبا کے وقار و متانت پہ جس کے ساتھ اس نے ایک اچھے کام کے لیے ماریو ٹیران کے گناہ کو پس پشت ڈال دیا۔کمیونسٹ پارٹی آف کیوبا کا ترجمان اخبار ‘گرینےما’ ہے۔ یہ اس کشتی کا نام تھا جو چی، فیدل اور دوسرے انقلابیوں کو میکسیکو سے کیوبا لائی تھی تاکہ انقلاب شروع کیا جاسکے۔ اصل کشتی کو ہوانا کے انقلاب کیوبا کا میوزیم میں یادگار کے طور پہ رکھا گیا ہے اور میں یہ اس لیے جانتا ہوں کہ میں نے وہاں کا پانچ مرتبہ دورہ کیا ہے۔ اس اخبار نے ماریو ٹیران کی بینائی کی بحالی کے لیے کیے جانے والے آپریشن کی خبر یوں دی

 

“Four decades after Mario Teran attempted to destroy a dream and an idea, Che returns to win yet another battle. Now an old man he [Teran] can once again appreciate the colors of the sky and the forest, enjoy the smiles of his grandchildren and watch football games.”

” چار عشروں پہلے ماریو ٹیران نے  چی حیسے خواب اور آدرش کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی، وہی چی ایک دوسری لڑائی کو جیتنے کے لیے پھر سے لوٹ آیا ہے۔ اب کی بار ایک بوڑھا آدمی (ٹیران) ایک بار پھر سے آسمان کے رنگوں کو دیکھ کر سراہ سکتا ہے اور جنگل کے رنگوں سے محظوظ ہوسکتا ہے، اپنے پوتے پوتیوں کی مسکراہٹ کو دیکھ کر لطف اندوز ہوسکتا ہے اور فٹبال کی کھیلوں کو دیکھ سکتا ہے۔”

 

آج دو ہزار اٹھارہ میں بھی کیوبا اور وینزویلا غیر قانونی اور غیر اخلاقی تجارتی پابندیوں اور اقتصادی بندشوں کا شکار ہیں۔ اور یہ پابندیاں ایک بدمعاش ملک کی جانب سے ہیں جسے امریکہ کہتے ہیں۔ لیکن روکاوٹوں کے باوجود، اب بھی وہ بین الاقوامی انسانی یک جہتی کا ایسے طریقے سے مظاہرہ کرتے ہیں کہ جس کی مثال امیر آزاد منڈی والی  اقوام میں ملنا مشکل ہیں۔ وینزویلا  امریکی انجنئیرنگ کا شاہکار اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے سنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ یہ سب کچھ اس کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے ہورہا ہے لیکن وہ اب بھی انڈویشیا جیسے ممالک میں قدرتی آفات کے متاثرین کی مدد کرتا ہے۔ جبکہ کیوبا امریکی جارحیت کے مقابلے میں آج بھی اپنی غیر معمولی طبّی خدمات کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے اور بین الاقوامی یک جہتی کے پروگراموں میں حصّہ ڈال رہا ہے۔

 

چی گویرا 51 سال پہلے آج کے دن شہید ہوا لیکن اس کا جذبہ، آدرش اور خواب اب بھی زندہ ہیں اور لوگوں کو آگے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں۔ کمانڈر چی گویرا،میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔

 

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s