منافق کمیونسٹ۔تیسرا حصّہ

 

 

گیاتری مجھے اس سمے پاگل لگ رہی تھی ۔

اس نے کتاب

When I hit you

اٹھائی اور پڑھنا شروع کردی:

میرا باپ فون پہ:

“وہ تمہیں مار رہا ہے؟ حرام زادہ۔آہ،میری بچی۔میں خیال میں اسے تمہیں مارتا دیکھ رہا ہوں۔جس قدر ہو اس سے ٹکراؤ سے بچو۔ہم کر بھی کیا سکتے ہیں؟ہم اس سے بات کرسکتے ہیں اور تمہاری طرف داری کرسکتے ہیں لیکن وہ اس سے یہ سمجھے گا کہ سارا خاندان اس کے خلاف ہوگیا ہے۔اور یہ اسے اور تمہارے خلاف کردے گی۔تم تنہا پڑگئی ہو۔ہاں۔تو اگر ہم اس بارے اس سے بات کریں گے،تو ہمیں جھوٹ موٹ اس کی طرف ہونا پڑے گا۔لیکن اس سے وہ اپنے آپ کو بالکل ٹھیک سمجھ لے گا،اور وہ تمہیں اور زیادہ کچلے گا۔ہماری مداخلت تمہیں کوئی فائدہ پہنچانے والی نہیں ہے۔لیکن یاد رکھو،ہم تمہارے ساتھ ہیں۔اپنے دانت بھینچ لو اور اس کے باہر جانے کا انتظار کرو۔اسے بتانا کہ میں نے اسے سلام بھیجا ہے۔”

میں اپنے باپ کا مشورہ سنتی ہوں:

“اپنی زبان پہ قابو رکھو۔وہ تمہارا پتی ہے،نہ کہ تمہارا دشمن۔”

” پلٹ کر جواب مت دو۔تم جو کہہ دوگی وہ واپس لوٹ کر نہیں آئے گا۔”

“تمہار ے لفظوں سے لگے زخم کبھی بھریں گے نہیں،وہ تم دونوں کے درمیان سمجھوتہ ہونے اور شانت ہوجانے کے بعد بھی لمبے عرصہ تک رہیں گے۔”

“دو چار لڑائیاں ہوں گی۔وہ اپنے آپ سے نہیں لڑسکتا۔تنہا لڑنا اس کی ساری توانائی نچوڑ لے گا۔

” زیادہ باتیں مت کرو۔مسلسل بولنے سے تاریخ میں کچھ بھی نہیں بدلا۔”

“تمہیں سمجھ نہیں آتی کیا؟خاموشی سونا ہے۔”

میں ناقابل برداشت خاموشی کی اداسی پہ چڑھ جاتی ہوں۔اس کی آہستگی میرے بازؤں کے گرد لپٹ جاتی ہے،میری ساڑھی کی سلوٹوں کے اندر اس کی شرم چھپ جاتی ہے۔اسے ایک وعدہ بناڈالتی ہے،گویا جیسے میری زندگی اس پہ ٹکی ہو،گویا میں منگلور میں ایک بیوی نہ ہوں لبکہ کسی جگہ کی نن ہوں،الگ تھلگ کردی گئی اور اس کی خاموشی سے چمٹی ہوئی ہوں دنیا کے ہونے کی منطق بنانے کے لئے۔

خاموش رہنا ساری باہمی بات چیت کو سنسر کرنا ہے۔خاموش رہنا اپنی انفرادیت کو کھرچ ڈالنا ہے۔خاموش رہنا اپنے آپ کو کوڑے مارنے جیسا عمل ہے کیونکہ یہ ایسے ہے کہ جب لفظ مجھ سے ملنے آئیں، اپنی موجوددگی کے ساتھ میری طرف سیلاب کی طرح دوڑیں،میرے لبوں کو بوسہ دیں،اور میں اپنی زبان سے ان کو الگ کرنے سے انکار کردوں۔

میں خود بھی کسی چیز کو اجازت نہیں دیتی ڈومیسٹک کی ضرورتوں سے زیادہ کسی چیز کو۔سوالات اس بارے میں کہ میرے شوہر کو کیا کھانا ہے،کب اسے جاگنا ہے،کیا بجلی کا بل ادا ہوچکا؟کم سے کم انٹریکشن/تفاعل ہماری شادی کو قریب قریب دکھاوے میں بدل چکا ہے۔وہ اس لائن سے آگے نہیں بڑھتا۔

میں نامہربان ہوتی ہوں جب وہ یہ فرض کرتا ہے کہ یہ خاموشی میری شکست سے نکلی ہے۔وہ اسے فتح کی نشانی سمجھتا ہے۔وہ میری حماقت سمجھ کر،اور اسے سننا برداشت کرکے اور آخرکار میرے احساسات تک آکر میری تعریف کرتا ہے۔میں اس کے دعوے کو نہیں جھٹلاتی۔میں ان کو کسی بھی طرح سے قبول بھی نہیں کرتی۔میں بس خالی نظروں سے اسے گھورتی ہوں،اور غیر حاضر دماغی سے اس کی طرف دیکھ کر سر ہلاتی ہوں۔

اسے جھنجھلاہٹ ہوتی ہے کہ وہ فتح کی ٹرافی اٹھائے چل نہیں سکتا۔وہ میرے بزدلانہ پن کو بچگانہ کہہ کر ایک طرف رکھ دیتا ہے،اور اس بات پہ ٹکا رہتا ہے کہ جلد یا بدیر،میں اپنی اصلاح کروں گی اور اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگتوں گی۔وہ اس سے زیادہ مجھے دھکیل نہیں سکتا،تو وہ پسپا ہوجاتا ہے۔

میری خاموشی ہم پہ ایسے چھاجاتی ہے جیسے نا رکنے والی بارش۔یہ روز مرہ کی بوریت کو ساکت کردیتی ہے۔اور یہ ہمیں ہمارے اپنے چھوٹے چھوٹے گڑھوں میں پریشان چھوڑ جاتی ہے۔

میں اس مختصر تمہید سے لطف اٹھاتی ہوں۔میری خاموشی ایک ان دیکھی ڈھال بن جاتی ہے۔وہ ہر طرح کے ہتھکنڈے اور چال سے مجھے دوران گفتگو مشتعل کرکے اس کے اندر گھسنے کی کوشش کرتا ہے،لیکن ناکام رہتا ہے۔وہ خود اپنے لفظوں کو سننا چھوڑ دیتا ہے،اپنے دلائل کو پھر سے تعمیر کرتا ہے اور اپنا ہی غیظ و غضہ چباتا ہے۔

وہ اسے “مسترد کیے جانا” پڑھتا ہے۔وہ بہت تیزی سے میری بازی مجھ پہ الٹاتا ہے۔وہ مجھ پہ اپنی سوچوں کی دنیا میں گم رہنے کا الزام لگاتا ہے،ایک دنیا جہاں میں اپنے سابقہ “یاروں” کے ساتھ رہ رہی ہوں،ایسی دنیا جہاں مجھے چھوڑ دیا گیا ہے۔وہ مجھ سے دوہری زندگی ترک کرنے کو کہتا ہے اور مجھے بتاتا ہے کہ اگر میں یقین رکھتی ہوں کہ میں اندال (ایک بھگتی دیوی) ہوں،جو کسی تھیرومل(وشنو دیوتا) کے ساتھ رہ رہی ہوں،تو میری اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔وہ مجھے دماغی امراض کے ہسپتال میں چیک کرانے کی پیشکش کرتا ہے۔

میں اس کے الزامات پہ بات کرنے پہ بھی تیار نہیں ہوں،میں ایک غیرمعقول جواب کے نتائج و عواقب کا سامنا کرنے پہ بھی تیار نہیں ہوں۔میں اپنے دفاع میں کچھ بھی نہیں کہتی۔اس سے بات کرنک،اسے میرے خلاف غصّے کو دعوت دینا ہے،جو اس کے غضب میں اضافہ کرے گا بس۔وہ کسی بھی صورت سننے کے موڈ میں نہیں ہے۔

وہ میرے پیٹ میں لات مارتا ہے۔”اسے ثابت کرو!” وہ زور سے چلاتا ہے جیسے میں کم سنتی ہوں۔”ثابت کرو،کہ تم میری پتنی ہو۔مجھے ثابت کرو کہ تم کسی دوسرے مرد بارے نہیں سوچ رہی ہو۔یا میں اسے تمہارے لئے ثابت کروں گا۔”

(جب میں تمہیں مارتا ہوں۔اقتباسات)

سچی بات ہے میں اسے سنکر سناٹے میں آگیا تھا۔اور کافی دیر تک میرے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلا۔مگر پھر میں نے سوچا کہ مینا کنڈاسوامی ہمیں ایک خاص ٹرانس میں رکھتی ہے، یہ حقیقت کا ایک پہلو تو ہے مگر ساری حقیقت تو نہیں ہے نا۔کیا سوامی اس سے ہٹ کر بھی کچھ ہے؟

 ” ٹھیک ہے ایک منافق کمیونسٹ کے ساتھ ازواجی زندگی میں زندگی کے بدترین تجربے کو بیان کیا جائے، لیکن ساری زندگی کا چہرہ اسے بنادیا جانا کہاں تک ٹھیک بات ہوسکتی ہے؟ اور تم بھی اپنے اس سیاہ ترین تجربے کے زیر سایہ کیوں زندگی گزار رہی ہو۔کیا یہ ہندوستانی سماج کی پوری تصویر کشی ہے؟”

میں نے اس سے پوچھا۔

جواب میں وہ قہقہے لگا کر ہنسنے لگی۔

تم مردوں کی یہ پرانی عادت ہے۔عورتوں کی وجودی صورت حال پہ جب کوئی خوفناک حقیقت تمہارے سامنے لائی جاتی ہے اور ایسی حقیقت جسے تم ٹھکرا نہیں سکتے ہو تو پھر تم اس کی خوفناکی ، اس کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہو،بلکہ اس بات کا الزام دھرنے لگتے ہو جو اس حقیقت کو سامنے لانے والی عورت نے کبھی کی نہیں ہوتی۔

“تمہارے ہاں ایک تاریخ ہے ان عورتوں کو جھٹلانے اور بے عزت کرنے یا ان کے کام کو غیر اہم بنانے کی جنھوں نے پدرسریت میں ڈوب کر اور پدرسریت کے زیر اثر ابھرنے والی مذہبی روایات و اسلوب سے ہٹ کر اپنی راہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔مردوں کی تاریخ ۔مردوں کا سماج چاہے وہ یونانیوں کے کاہنوں کا سماج تھا،قرون وسطی کے روما مسیحیت کا سماج تھا یا اسلام آنے کے بعد کا سماج تھا یا اس سے پہلے بت پرستوں پہ مشتمل قریشی اشرافیہ کا سماج تھا یا قیصر و کسری کا سماج تھا یا ہندؤ منوسمرتی سماج تھا یا آج کا مملکت خداداد پاکستانی سماج ہو یا سیکولر نیشنلسٹ یا پھر زعفرانی نیشلسٹ ہندوستانی سماج ہو۔تمہارے ہاں فاطمہ جناح سے لیکر بیگم نصرت بھٹو،بے نظیر بھٹو ،اندھی عورت جو ریپ کے نتیجے میں حاملہ ہوئی صفیہ یا آسیہ یا عاصمہ جہانگیر یا پھر کوئی اور عورت سب کی حقیقتیں چاہے ملالہ کی حقیقت ہو یا پھر ریحام خان کی حقیقت ہو اور پھر چاہے بشری مانیکا سب عورتوں کی حقیقت تمہیں پروپیگنڈا ، جھوٹ اور غیر ملکی سازش لگتی ہے۔تم پدرسریت میں ڈوبے مذہبی یا قبیل داری جنون کے ساتھ ان پہ حملہ آور ہوجاتے ہو۔اور ہمارے ہاں بھی ایسے ہی حملے ہوتے ہیں۔گوری لنکیش تمہیں یاد ہے نا۔کیا لبرل اور کیا کمیونسٹ اور کیا مولوی مرد تم سب کے سب “ہاتھ سے نکل جانے والی عورتوں” کو عبرت کا نشان بنانے میں بہت مستعدی دکھاتے ہو،”

تمہیں پتا ہے کہ مردوں کی پدرسریت کے زھر میں بجھے تیروں کے لگنے کا اثر کیا ہوتا ہے؟

مینا کنڈاسوامی کو کہنا پڑجاتا ہے:

‘I don’t know if I’m idiotic – or courageous’

تمہارے حملے اس جیسی عورتوں کو الجھا دیتے ہیں اور ان کو اپنے تخلیقی کام کو بہادری یا حماقت قرار دینے میں مشکل ہونے لگتی ہے۔

تمہیں

The Gypsy Goddess

پڑھنے کی ضرورت ہے۔خانہ بدوش دیوی ۔۔۔۔۔کیونکہ

تمہیں پتا چلے گا کہ مرد شاؤنسٹ اور مرد پرستی کے زیر اثر سماج میں نہ صرف مرد بلکہ عورتیں بھی بہت بڑی تعداد میں

Fucking Exhibitionist and voyeurs

ہوجاتی ہیں۔دوسروں کو ننگا دیکھ کر اور دوسروں کو مبتلائے شہوت حرکات و سکنات کرتے دیکھ کر محظوظ ہونے والے لوگوں کا سماج۔۔۔سالے

 Fucking Voyeurs

” فیس بک نے ہمیں گانڈو نمائش پسند اور شہوت نظر فوبیا کا شکار کردیا ہے۔”

مینا کانڈاسوامی نے جب “خانہ بدوش دیوی” پڑھا  تو اس کے ماں باپ اس پہ پہ بہت خوش تھے کہ اس میں کہیں کوئی ‘سیکس سین’ نہیں تھا۔ان کی جانب سے یہ ردعمل دیکھکر کہا کہ میرے اندر خواہش اٹھی کہ میں واپس جاؤں اور اس میں ایک دو باب کا اضافہ کردوں۔

مردپن کے اندر سے جو قدامت پرستانہ ادبی و سیاسی حسیت ہمارے ادبی و سیاسی منظرنامے کا غالب چہرہ بن جاتی ہے، اسے جب کوئی ادیب عورت چیلنچ کرتی ہے اور آہنی چیلنج دیتی ہے تو پھر ہر طرف سے چیخیں نکلنے لگتی ہیں۔یہ بورژوائی/سرمایہ دارانہ فیمنسٹ دانشور، ادیب، انکل سام کے پجاری لبرل شہری اشرافیہ کے جات پات کے اندر کہیں پیوست رویوں کو بے نقاب کرتی ہے۔اور منوسمرتی فیمنسٹ سماج سدھاروں کے سیکولر ازم، سماج وادی مارکسزم کا پول کھولتی ہے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے اور وہ بھی کوئی کناڈا، تامل، ملیالم بولنے والی عورت ۔

” There are great Indian fiction writers. But some become very lazy. Some write the ‘Sari-and-Mango’ novel. People of my age write novels in airports. People of an older generation reminisce about cooking and spices – pandering to the exotic as well as the urban Indian readers. I really did not want to write what was safe or comfortable.”

“بڑے عظیم ہندوستانی فکشن لکھنے والے موجود ہیں۔لیکن کچھ تو بہت گھامڑ ہوجاتے ہیں۔کچھ بس ‘ ساری-اینڈ-مینگو’ جیسے ناول لکھتے ہیں۔میرے ہم عمر ہوائی اڈوں پہ ناول لکھتے ہی۔زرا کچھ پرانی نسل کھانا پکانے اور سپائسیز بارے چیزيں جمع کرتی ہے ۔۔۔ تاکہ شہری ہندوستانی پڑھنے والوں کو غیر معمولی طور پہ لبھا سکے۔میں ہرگز بھی محفوظ اور آسان چیزوں بارے لکھنا نہیں چاہتی”

صحافت اور ادب کے اشراف محفوظ چیزوں کے بارے میں لکھ لکھ کر خوش ہوتے رہتے ہیں۔اور جو کوئی ان کو ان کے محفوظ ٹھکانوں سے کمفرٹ زونز سے باہر نکالنے کی کوشش کرے تو یہ اس پہ ایک ساتھ حملہ کردیتے ہیں۔ خانہ بدوش دیوی 25 دسمبر 1968ء تامل ناڈ کے ضلع تنجور کے ایک گاؤں “کلوینمانی” میں ہوئے ایک بڑے قتل عام کے پس منظر میں لکھا جانے والا ناول ہے۔کمیونسٹ اس گاؤں میں اجرتوں میں اضافے اور انسانی حقوق کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے ایک ہڑتال منظم کرتے ہیں اور اس گاؤں سے شریک ہونے والی چوالیس عورتیں اور بچے زندہ جلادئے جاتے ہیں۔مگر اس واقعے کو اشراف بورژوائی اور انڈین کانگریس کے ساتھ کھڑی سی پی آئی کے کمیونسٹ اشراف چھپانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور آج بھی اس پہ کوئی بات نہیں کی جاتی،جیسے ایک زمانے میں ایم جے اکبر جیسا کمیونسٹ صحافی اور ترقی پسند خوشونت سنگھ جیسا ادیب اندرا گاندھی کی ایمرجنسی اور سکھوں کے خلاف ہوئے آپریشن گولڈن سٹار کی حمایت میں چپ کا روزہ رکھ لیتے ہیں۔جیسے آج کئی لبرل زبان دراز کشمیر ،چھتیس گڑھ پہ خاموش رہتے ہیں۔ایک ہلادینے والی کہانی اور انصاف کے بالکل نہ ہونے کی کہانی اور سسٹم کیسے عام آدمی کے خلاف کام کرتا ہے کو بے نقاب کرنے والی کہانی۔جب اس گاؤں کے کولی نچلی جاتی کے لوگ اس سب کے خلاف نکلتے ہیں تو ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے،یہ سب بیان کرنے کے لئے کسی ناول کو لکھنے کا خیال ادب و سیاست میں قدامت پرست حساسیت کے علمبرداروں کو آتا ہی نہیں ہے۔اشراف کمیونسٹوں کی منافقت سے ماؤوادی کمیونسٹ پارٹی کا ظہور ہوتا ہے۔نکسل باڑی سامنے آتے ہیں۔تو انارکی، نراجیت ، بے راہ روی  اور آج کل دہشت گردی کے الزام لگادئے جاتے ہیں۔

وہ بہت جوش میں بالکل ایسے بول رہی تھی،جیسے وہ جے این یو کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے ایک جم غفیر کے سامنے کھڑی تقریر کررہی ہو۔اور جب وہ تنجور ڈسٹرکٹ کے ایک گاؤں میں 1968ء میں 44 عورتوں اور بچوں کے زندہ جلائے جانے کے قتل عام پہ اشراف لبرل و کمیونسٹوں کی خاموشی کا ذکر کررہی تھی تو میرے ذہن کے پردے پہ اچانک ایک منظر ابھر آیا۔

‘ گھاس پھونس کے جھونپڑوں کو خاکی وردری میں ملبوس چہروں کو نقاب میں چھپاۓ مسلح لوگ آگ لگارہے ہیں،پس منظر میں پہاڑ ہیں جن کے دامن میں درجن بھر جھونپڑیاں ہیں،اور نوجوان، ادھیڑ عمر عورتیں اور بچے ادھر ادھر روتے،پیٹتے، چیختے بھاگتے نظر آرہے ہیں۔اور ان کا جرم کیا ہے؟ ان پہ الزام ہے یہ بلوچ عسکریت پسندوں کو کھانا فراہم کرے ہیں۔”

” ایک اور منظر کہ ہیلی کاپٹر سے چند لاشیں گرائی جاتی ہیں۔جن پہ تشدد کے نشان ہیں۔اور یہ سرکار کی جاری پریس ریلیز کے مطابق دہشت گرد تھے اور علیحدگی پسند عسکریت پسند تھے۔اور ان لاشوں پہ بین کرتی عورتیں کہتی ہیں کہ ان کو ان کے گھروں سے اغواء کیا گیا تھا یہ طالب سیاسی ایکٹوسٹ تھے جو اپنے علاقے سے نکلنے والی معدنیات کے بدلے اپنے علاقے کی ترقی اور نوکریوں کا مطالبہ کرتے تھے۔”

ایک اور منظر

” ایک کاسمو پولیٹن شہر کی ایک انتہائی گنجان آباد کالونی گلستان جوہر،رات کو رینجرز کی وردیوں میں ملبوس لوگوں کا ایک مکان پہ دھاوا، ایک عورت کو چھت سے نیچے گرایا جاتا ہے،اور ایک تیرہ سالہ لڑکا اٹھا لیا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے یہ سب ہندوستانی ایجنٹ ہیں۔”

” ایک اور کاسمو پولیٹن شہر،اور اس کا انتہائی پاپوش علاقہ ماڈل ٹاؤن، پولیس کی بھاری نفری وہاں پہ عورتوں،بچوں، مردوں پہ سیدھے فائر کرتی ہے،دو عورتوں سمیت چودہ افراد موقعہ پہ ہلاک اور 250 افراد زخمی ہوتے ہیں۔مقدمہ الٹا پولیس گردی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پہ قائم ہوتا ہے۔تین سال تک اس پہ ہوئی جوڈیشل انکوائری رپورٹ روکی جاتی ہے۔اور پھر اس پہ اشراف لبرل اور لبرل کمیونسٹ صحافی اور ادیب خاموش رہتے ہیں۔”

” 25 ہزار سے زائد شیعہ ، 45 ہزار بریلوی اور متعدد احمدی، ہندؤ، کرسچن تکفیری فاشزم کی ننگی جارحیت کا نشانہ بنکر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔”

ان سب درگھٹناؤں پہ کوئی ناول ، کوئی افسانہ لکھا نہیں جاتا۔اور اسے نسل کشی و کمتر بنائے جانے کا پروسس بھی خیال نہیں کیا جاتا۔اور میں یہ سب سوچ رہا تھا۔

Advertisements

سورج پہ کمند: نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی کہانی

پاکستان میں بائیں بازو کی تاریخ کو ایک مربوط انداز میں اگر کوئی شخص پڑھنے کا خواہش مند ہو تو اس کے سامنے سب سے بڑی مشکل اس موضوع بارے ایک مربوط کرانیکل اسٹڈی کی تلاش ہوتا ہے۔اس موضوع پہ آج سے دس بیس سال پہلے تو مواد اکٹھا ملنا بہت مشکل ہوجاتا تھا۔پھر بائیں بازو کی تاریخ کو جمع کرنے کا شعور آہستہ آہستہ بڑھنے لگا۔اس حوالے سے سب سے مربوط کوشش احمد سلیم نے ایک آرکائیوز قائم کرکے اور چیزوں کو اکٹھا کرکے کی۔انھوں نے بنگلہ زبان کی تحریک پہ تحریروں کو جمع کیا، سبھاش چندر بوس کے ساتھی کی داستان شایع کی، پاکستان میں ٹوٹتی بنتی اسمبلیوں کی کہانی،روزنامہ آفاق ڈھاکہ میں تفضل مانک میاں کے لکھے اداریوں کا انتخاب اور کئی دوسری کتابیں۔ایسے ہی کافی سارا مواد پاکستان کی سیاسی تاريخ کے نام سے چودہ جلدوں میں زاہد چودھری مرحوم ، حسن جعفر زیدی اور ان کی ٹیم نے مرتب کرکے شایع کیا۔پاکستان اسٹڈیز سنٹر کراچی نے بھی بائیں بازو کی تاریخ پہ کچھ اہم کتابیں شایع کیں جن میں ڈاکٹر فیروز احمد کے پاکستان فورم میں لکھے مضامین اور اداریوں کا مجموعہ،دادا امیر حیدر پہ حسن گردیزی کی دو جلدیں، بی ایم کٹی کی یاد داشتیں، غوث بخش بزنجو پہ لکھی کتب۔بلوچستان میں بائیں بازو کی تاریخ سے جڑی شخصیات پہ ڈاکٹر شاہ محمدی مری “عشاق کے قافلے” کے عنوان سے چھپنے والی کتابیں بھی اس ہی مد میں شمار کی جاسکتی ہیں۔لیکن ان سب کتابوں کے چھپنے کے باوجود پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سمیت بائیں بازو کی مختلف سیاسی جماعتوں کی کرانیکل ہسٹری،اور پھر ان سیاسی جماعتوں کے زیر اثر پاکستان کے اندر کسانوں،طالب علموں اور محنت کشوں کی تحریکوں اور تنظیموں پہ ابتک ایک مربوط اور باقاعدہ تاریخ کو کہیں بھی لکھا نہیں گیا۔جس سے ایک تشنگی محسوس ہوتی رہی ہے۔پاکستان میں بائیں بازو کی طلباء تحریک اور اس کی سب سے بڑی جدوجہد کی علامت ڈی ایس ایف اور این ایس ایف بارے ہمیں پروفیسر عزیز احمد کی کتاب ” پاکستان میں طلباء تحریک”  اور ایسے این ایس ایف کے ایک کلیدی رہنماء سید اختر احتشام کی آب بیتی کتابی شکل میں پہلی بار مربوط انداز میں کچھ مواد پڑھنے کو ملتا ہے۔اور اب پتا چلا ہے کہ ریاض شیخ پاکستان میں ترقی پسند طلباء سیاست پہ ایک کتاب لکھ رہے ہیں جو ابھی تک چھپی نہیں ہے۔مگر ان سب مواد کے موجود ہونے کے باوجود یا ڈاکٹر رشید حسن پہ حال ہی میں آنے والی کتاب میں کچھ تفصیل آنے کے باوجود ایک بڑی تشنگی محسوس ہوتی رہی تھی کہ پاکستان کی طلباء سیاست خاص طور پہ ڈی ایس ایف اور این ایس ایف کی تشکیل سے زوال تک کی کرانیکل تاریخ اور اس دوران تاریخ ساز واقعات کا سیاق و سباق پوری طرح سے پتا چلے اور جس سے یہ اندازا لگانے میں  مدد ملے کہ اس قدر تاریخی کامیابیوں کو اپنے دامن میں سمیٹنے والی پاکستان میں طلباء تحریک میں ترقی پسند سیاست ایسے انجام سے کیوں دوچار ہوئی۔

میں جب طالب علمی کے دور میں کالج میں پہنچا تو این ایس ایف ” آنکھوں میں پھر رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول-عبرت سرائے دھر ہے اور ہم ہیں دوستوں کا مصداق” بلکہ پدرم سلطان بود کا مصداق بنی ہوئی تھی۔سیاست پہ قبضہ مافیا، کلاشنکوف کلچر اور غنڈا گردی پوری طرح سے حاوی ہوچکی تھی،بچے کچھے اسٹڈی سرکل تھے۔مگر ترقی پسند سیاست،صحافت،وکالت سے جڑا ہر دوسرے تیسرے آدمی کا سیاسی پس منظر یا ڈی ایس ایف تھی یا این ایس ایف تھی۔تو لامحالہ ہم بھی اس تنظیم سے عشق محسوس کرتے تھے اور یہ ہماری پہلی نرسری اس وقت بنی جب نظریاتی سیاست کی آکسجین اسے ملنا بند ہورہی تھی اور یہ اپنے انجام کو بڑھ رہی تھی۔اس لئے ہمیں اس تںظیم کی تاریخ جاننے بارے ہمیشہ سے شوق رہا کرتا تھا۔مگر جب بھی اس کی کہانی سنائی جاتی تو اس میں بہت سے رخنے رہ جاتے تھے جو کبھی بھرنے کو نہیں آتے تھے۔میری بہت خواہش رہی تھی کہ میں کمیونسٹ پارٹی ، پاکستان کسان رابطہ کمیٹی ، انجمن ترقی پسند تحریک اور ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن /ڈی ایس ایف اور اس سے آگے این ایس کی تاریخ کو مربوط انداز میں پڑھ پاؤں۔

سورج پہ کمند۔نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی کہانی کارکنوں اور واقعات کی زبانی کے عنوان سے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے دو سابق طالب علم رہنماؤں جاوید حسن اور محسن ذوالفقار نے اس کتاب کو مدون کیا ہے۔اس کی پہلی جلد میں 110 انتہائی کلیدی  کارکنوں کی داستان رقم ہوئی جو ان کارکنوں کی ڈی ایس ایف اور این ایس ایف میں رہ کر سیاست کا اجمالی احاطہ کرتی ہے بلکہ اس دوران پاکستان میں بائیں بازو طلباء سیاست کے تاریخی اور اہم واقعات کا احاطہ بھی کرتی ہے۔ڈی ایس ایف اور این ایس ایف کے بانی کارکنوں، اس کی ابتدائی سے لیکر آخر تک کی قیادت، اس کے اندر ہونے والی تقسیم اور اس کے  زوال تک کی ساری کہانی کتاب میں آگئی ہے۔اور یہ نہ صرف ڈی ایس ایف و این ایس ایف کی طلباء سیاست کی تاریخ کی اہم اور سب سے زیادہ مکمل تاریخ کی کتاب ہے بلکہ اس  کتاب میں پہلی بار جنوری انیس سو تریپن /1953ء کی طلباء تحریک، تین سالہ ڈگری کورس اور یونیورسٹی آرڈیننس کے خلاف تحریک ، فاطمہ جناح کے صدارتی الیکشن کے دوران این ایس ایف کا کردار ،بحالی جمہوریت کی ایوب مخالف تحریک، بھٹو دور میں این ایس ایف کی سیاست اور پھر ضیاء الحق دور میں این ایس ایف کی سیاست ، اس طلباء تنظیم کے کسانوں ، محنت کشوں اور درمیانے طبقے کی انقلابی پرتوں سے تعلقات کا حوال بھی آگیا ہے۔

حسن جاوید اور محسن ذوالفقار این ایس ایف کی ابتدائی صفوں میں شامل ہونے والے دانشور ایکٹوسٹ ہیں اور انہوں نے اس کتاب کو ترتیب دینے میں اپنے ساتھیوں امین بیگ اور سید واصف علی کے ساتھ ملکر اس کام کو کیا ہے۔یہ بنیادی حوالے کی کتاب ثابت ہوگی۔اور پاکستان کی طلباء سیاست میں ترقی پسند سوچ اور عمل کی تلاش کرنے والے طالب علموں کے لئے یہ گراں قدر اضافہ ہے۔اس پہ میں اس پروجیکٹ پہ  کام کرنے والے تمام ساتھیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

نوٹ: یہ کتاب سویرا پبلیکیشنز  کے تحت شایع ہوئی ہے۔جو لوگ یہ کتاب خریدنے کے متمنی ہوں وہ حسن جاوید کو اس پتا پہ برقی مراسلہ/ای میل ارسال کرسکتے ہیں:

Hasan.jawed@gmail.com

لاہور میں :

آغا طارق سجاد

aghatriq@hotmail.com

کراچی میں:

امین بیگ

ahasasinfo@yahoo.com

20180219_200548

حسین نقی انکشاف کرتے ہیں کہ ترقی پسند طلباء سیاست کا راستا روکنے کے لئے ان کے زمانے کے جامعہ کراچی کے وی سی نے ان کی مذہبی شناخت شیعہ کے حوالے سے منافرت پھیلانے کی کوشش کی 

 

منافق کمیونسٹ۔دوسرا حصّہ

گیاتری ایک امیزنگ عورت ثابت ہوئی تھی۔ہم شاید اس دن ایک بار سے واپس لوٹے تھے،جب اپنے فلیٹ میں اس نے اپنے آپ کو بالکل ننگا کردیا تھا۔میں اس کے ننگ دھڑنگ جسم کو دیکھ کر مرتعش ہونے کی بجائے خوفزدہ ہوگیا تھا۔اس کے کاندھوں اور ہنسلی کی ہڈی کے درمیان،چھاتیوں پہ عین کالے رنگ کے نپل کے نیچے اور پیٹ پہ ناف کے قریب اور رانوں پہ لمبی لمبی سیاہ لکیریں تھیں جس پہ تھوڑا سا موٹا گوشت کی تہہ تھی جیسے کسی نے چرکے لگائے ہوں اور بعد میں ان کو ٹانکے لگاکر سیا گیا ہو۔اس نے پیٹھ موڑی تو وہاں بھی ایسی بے تحاشا لکیریں تھیں۔

ڈرگئے کیا؟ دل نہیں کرتا میری رانوں میں داخل ہوکر اپنی مردانگی کے جوہر دکھانے کو؟ اس نے عجب ہذیانی اور پاگل پن کے ساتھ طیش بھری آواز میں کہا۔وہاں یونیورسٹی کیفے میں میرے کھلے بال اور جینیز میں تنگ پینٹ اور شرٹ میں میری کسی اور تنی چھاتیوں اور میرے سرین کی شیپ کو دیکھ کر کیا تم میرے پاس نہیں آئے تھے۔

مجھے یہ سب سنکر نہ تو کوئی خجالت ہوئی اور نہ ہی غصّہ آیا۔وہ ایک ٹراما میں بول رہی تھی۔میں ٹھیک سے کہہ نہیں سکتا کہ وہاں کیفے میں اس کے کھلے بالوں اور اس کی سانولی رنگت کے سحر نے مجھ پہ کن جذبات کو غالب کیا تھا؟ میں نے بہت زور ڈالا ذہن پہ،مگر اس وقت اس کی چھاتیوں اور سرین کی طرف میرا دھیان نہیں گیا تھا۔میں سادھو سنت تو نہیں اور نہ ہی عورت کے جسم کی کشش سے خود کو خالی پانے والا آدمی سمجھتا ہوں۔مگر ایسا کچھ بھی نہیں  تھا جس کی طرف وہ اشارہ کررہی تھی۔

“مجھے افسوس ہے کہ تمہیں ایسا لگا،مگر میرا دھیان تمہاری طرف اس لئے نہیں ہوا تھا”، میں نے اسے دھیمے سے کہا۔

تو پھر پھر ۔۔۔۔کیا تھا؟

کیوں دو دن سے میرے ساتھ ہو؟ کیا میری دعوت پہ ہندوستان اور یہاں اس شہر میں آئے ہو؟

میرے پاس اس کا کوئی حتمی جواب نہیں تھا مگر پھر بھی میں نے کہا،” تم مجھے اچھی لگی ہو،مگر اس پسندیدگی میں بہرحال ابتک جنس شامل نہیں ہے،اگرچہ میں اس سے خالی نہیں ہوں۔”

‘شکر ہے تم منافق کمیونسٹ نہیں ہو۔”

اس نے یہ کہا تو میرے منہ سے بے اختیار قہقہہ نکل گیا۔یہ بھی تم نے خوب کہی۔

تم ‘ ” مینا کانڈکا سوامی ” کی اتنی فین کیوں ہو؟ ‘،میں نے اس سے پوچھا

‘ مینا مجھے اس لئے اچھی لگتی ہے کہ اس نے ایک فیمنسٹ ہوکر چیزوں کو نہیں دیکھا بلکہ اس نے اس کو طبقہ، جات پات، مذہب سمیت دیگر تضادات کے ساتھ عورت کے سوال کو دیکھا ہے اور وہ “مرد پنے” یعنی

Maleness

کو صرف جینڈر کی روشنی میں نہیں دیکھتی بلکہ کلاس اور کاسٹ دونوں کو لیکر آتی ہے۔اب دیکھیں نا ایک کمیونسٹ مرد جب ایک عورت پہ ہاتھ اٹھاتا ہے یا اسے دھوکہ دیکر جب اس کا ریپ کرتا ہے تو اس دوران عورت کو پتا چلتا ہے کہ کمیونسٹ مرد یہ صرف میل شاؤنزم کے زیر اثر نہیں کررہا بلکہ وہ یہ جات پات کس سسٹم اور اپنی سماجی پوزیشن سے فائدہ اٹھانے کے سبب بھی کررہا ہے تو ایسے میں اس کے لئے “منافق کمیونسٹ ” کا لقب آتا ہے مینا کی طرف سے تو مجھے وہ پروفیسر یاد آجاتا ہے جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کا کارڈ ہولڈر بھی تھا اور میں جے این یو میں آئی تو مجھے اخراجات کے لئے پارٹ ٹائم جاب بھی درکار تھی۔اس نے ترقی پسندی کے نام پہ مجھ سے تعلق قائم کیا،اور پھر مجھے نوکری دلوائی اور ان سب کی قیمت کا خراج میرے جسم کو دینا پڑا۔اور اس دوران اس پہ پاگل پن کے دورے پڑتے،وہ مجھ پہ تشدد کرتا اور یہاں تک کہ مجھے زخم لگاتا۔یہ سیاہ لکیریں اس کے لگائے چرکے ہیں جو ایک دن اس نے اوور ڈرنک ہوکر مجھے لگائے تھے اور پھر اس کے خلاف جب میں کورٹ گئی تو وہاں ایک اونچی جاتی کا جج اسے فیور دے گیا کیونکہ کامریڈ صاحب اسی کی جاتی کے تھے۔اور کمیونسٹ پارٹی کے اندر اس کامریڈ کے کئی مرد ساتھیوں نے بھی اس کا ہی ساتھ دیا۔

ویسے تم مجھے بتاؤگے کہ آج تک سی پی آئی اور سی پی آئی-ایم میں کبھی کوئی عورت سیکرٹری جنرل کیوں نہ بن پائی؟اور تمہارے ہاں سی پی پاکستان سے لیکر درجن بھر لیفٹ پارٹیوں کی صدر یا جنرل سیکرٹری عورتیں کیوں نہ بن پائیں؟خیر چھوڑو جب تک تمہارے ہاں طلباء یونین بحال تھیں تب بھی کوئی ترقی پسند طلباء تنظیم کسی یونیورسٹی میں کامریڈ عورت کو صدر یا جنرل سیکرٹری کا امیدوار لیکر نہیں آئی۔مجھے اس طرح سے سوچنا مینا کانڈاسوامی نے سکھایا ہے۔’

وہ بے تکان بولتے چلی گئی ۔

تمہیں ” فیکنیس/جعلی پن ” کے فیمنسٹ معنی پتا ہیں؟

Fakeness in feminist sense or Fake process of fake love making in feminist sense

اس نے اچانک مجھ سے پوچھا ۔

This is very new term for me and I am listening you very first time this from you.

میں نے اسے کہا۔

ہم عورتوں کو اکثر ہماری زبان میں ہمارے ساتھ یک طرفہ جنسی عمل ہوتا ہے اور اس میں ہم بس “کاموڈیٹی آف یوز” ہوتے ہیں۔اور ہمارے جائے مخصوصہ کو جو غالب زبان ہوتی ہے اس میں پتسمہ دے دیا جاتا ہے۔جیسے ہمارے ہاں جائے مخصوصہ یا اسے تم ہندی میں یونی کہہ لو اس کو سنسکرتی شکل دی جاتی ہے،تمہارے ہاں اس کو معرب و مفرس و اردویا لیا جاتا ہے۔میں نے تمہیں ایک نظم کا ٹکڑا سنایا تھا،شاید تمہیں اس ٹکڑے سے پوری طرح سے سمجھ نہیں آیا۔میں نے بھی جب مس ملیٹینسی میں “کننگ سٹنٹ” نظم پوری پڑھی تو مجھے پتا چلا تھا کہ ہم عورتوں کے ساتھ “انٹرکورس” کے ساتھ کیا ہاتھ ہوتا ہے

Cunning Stunt

بستر پہ بندھی ہوئی،آنکھوں پہ بندھی پٹی

میں لفظوں میں ڈھلے آدمی کو اپنی طرف آتا سنتی ہوں

میری رانوں کے اندر اپنے سر کو گم کرتے ہوئے

وہ کہتا ہے کہ “کنٹ” کی کسی دوسرے نام کے ساتھ

بو کیسے ہوتی ہے یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے

  اور پھر منمناتے ہوئے

وہ اسے یونی،رحم،بچہ دانی،بھوسڑی،چوت جیسے لفظوں میں سنسکرت کی شدھی دیتا ہے

حافظہ میڈیکل اصطلاحات کو راستا دیتا ہے

استعارہ کو راستا دیتا ہے، جیسے یہ مرد

لفظوں سے کھیلنے والے بدمعاش میں بدلتا ہے

جو کہتا ہے کہ یہ پیدائش، سرچشمے، اصل اور جھرنے کے مترادف ہے

 اور اس کے پہلے دھکے کے ساتھ

اس کی ایستادگی کے لئے

جائے قرار،مخزن و سوراح ٹھہرجاتی ہے

اور مانیر-ولیم سنسکرت لغت کی طرح کئی الفاظ کے برابر ٹھہر جاتی ہے

وہ اسے اچھے سے پھاڑتا ہے

تاکہ یہ معانی کے قابل ٹھہرے اور

“کنٹ” اب ہوجاتی ہے

کٹیا،گھر، کھوہ، گھونسلہ،اصطبل

اور وہ میری ٹانگوں کو اور چوڑا کرتا ہے

اور زیادہ سے زیادہ دخول کرتا ہے دھکوں کے ساتھ

اور میں چیر دی جاتی ہوں

تاکہ خاندان، نسل، سٹاک اور جاتی کو رکھ پاؤں

اور زندگی کی صورت گری اور اس کو اپنے اندر

عمل پیدائش سے رکھ پاؤں

اور اب میں اسے اور نہیں لے سکتی

اسے ترک کردیتی ہوں

میں بھاگ نہیں سکتی

میں خوفزدہ ہوجاتی ہوں

میں ساکت و منجمد ہوجاتی ہوں

اور زیادہ نقلی ہوجاتی ہوں

ایک عالم فاضل،کامریڈ، فیمنسٹ،پروگریسو ہزاروں کتابیں پڑھا کمیونسٹ ، لبرل، سیکولر، روشن خیال یا کوئی سادھو،رشی،گرو،مولوی ،پیر، شیخ ، واعظ، قاضی جب اونچی جاتی،اونچے طبقے، پاور، پوزیشن، مردانہ پن کے گڑھوں میں گر کر محبت کا ڈھونگ رچاتا ہے تو پھر اس کی ایستادگی کا مسکن بننے والی کنٹ کی شدھی ہوجاتی ہے۔اور عورت اور زیادہ فیک اور جعلی ہوجاتی ہے۔

گیاتری مجھے اس سمے پاگل لگ رہی تھی ۔

 

Oligarchy and Mainstream Media-Caitilin Johnstone

 

Leftists call me a right-winger and a Nazi. Right-wingers call me a man hater, an Iran propagandist and a Soros shill. Centrists call me a Russian propagandist, an Assadist, and WikiLeaks asset. Really I’m just a mother doing her best to turn our species away from the omnicidal, ecocidal trajectory it appears to be travelling on.

 

 

Well it looks like it’s attack editorial season again, so I’m just going to write a bit about who I am and what I do in order to put everyone’s mind at ease about me (or confirm all their worst suspicions, depending on where they’re coming from). In any case I’ve acquired a lot of followers lately and I figure it’s also a good idea to introduce myself in detail so people are fully aware of what I’m about and what I stand for.

I’d like to start off by publicly proclaiming that I am in fact a resident of Australia and not American so that Mueller doesn’t indict me for conspiring to defraud the United States. Those thirteen Russian trolls will never face trial, but you can bet your ass my crony vassal state would ship me to the States in a heartbeat if they were asked to.

I write about US politics because that’s where I reckon the head of the beast is. Australia is essentially an intelligence/military asset of the US-centralized international empire, so there’s no point writing about Aussie politics if I’m interested in helping our species avoid extinction. And that’s really the only reason I write.

Everything I write these days is focused on pointing to the fact that our world is becoming increasingly dominated by a sociopathic plutocracy with no loyalty to any nation or government, whose power-hungry manipulations keep marching our species toward extinction via nuclear annihilation or climate chaos. Until the people take their power away from these dangerous, exploitative warmongering elites, things are going to keep getting worse until we are at worst extinct or at best enslaved in a homogenized Orwellian dystopia where dissent is fully suppressed by AI censorship.

Since my focus is on worldwide restoration of power to ordinary people by prying it from the clutches of the oligarchs, my writings are often described as populist, and I think that’s fair. I have faith that ordinary people as a collective are much better governors of the world than a few depraved elites, and I have faith that humanity can wake up enough to reclaim its power.

I believe capitalism is the underlying reason that these nationless elites have been able to so effectively seize control of the world’s governments, media, militaries and infrastructure. The more you are willing to step on other people to get ahead, the easier it is to become wealthy, and the more willing you are to throw your fellow humans under the bus to exploit, manipulate, pollute, cheat, and enslave, the wealthier you can become.

This has led to a system where the wealthiest people are also the most sociopathic. It has also led to a system where money translates directly into political power, and therefore a system where we are all ruled by sociopaths. Nowhere is this more true than in the United States, which is where the nationless imperialist oligarchs focus their influence most aggressively.

In theory capitalism is fine. In practice it crushes the weakest and most disadvantaged while turning the worst among us into emperors. For this reason I am a leftist, but I am a leftist who understands that as long as unelected plutocrats control a political system, socialism cannot be possible. For this reason I focus a lot more on attacking the oligarchy than on promoting socialist policies. I start at step one.

For this reason I have often promoted the idea of working with anti-establishment conservatives toward this end, since libertarians, paleocons and civic nationalists are also generally interested in ridding the world of oligarchic influence and rampant corporatist corruption, as well as senseless military interventionism and Orwellian surveillance and censorship. I get a lot of criticism from the left about this. I insist that I am correct.

Leftists call me a right-winger and a Nazi. Right-wingers call me a man hater, an Iran propagandist and a Soros shill. Centrists call me a Russian propagandist, an Assadist, and WikiLeaks asset. Really I’m just a mother doing her best to turn our species away from the omnicidal, ecocidal trajectory it appears to be travelling on.

I oppose the following:

  • Oligarchy
  • US military interventionism (all)
  • Corporate censorship
  • Government secrecy
  • US intelligence agencies (all)
  • Capitalism
  • Corruption
  • Propaganda
  • Mainstream media (all)
  • Racism, sexism, homophobia, Islamophobia, transphobia, antisemitism, bigotry in all forms

I support the following:

  • Government transparency
  • Sovereignty (personal and national)
  • Wealth redistribution and/or total redesign of the mechanics of wealth
  • WikiLeaks
  • Alternative media
  • Freedom of speech
  • Environmentalism
  • Spiritual enlightenment
  • Humans

Establishment loyalists write smear pieces about me because they can’t get me fired since I’m crowd-funded and can’t get me deplatformed since I don’t have any platform beyond blogging and social media. Their only shot, then, is to circulate material making the general public suspicious of me so that nobody will read what I write. That doesn’t really work either, though, because the most prominent lefty outlet in America spent all of last July throwing smear pieces at me and it didn’t even slow me down. My leftist haters are out of ammo, and my centrist and right-wing haters only help me.I really don’t think there’s much left to smear me about. I’ve said a few things that make people uncomfortable; I don’t mind Mike Cernovich retweeting my stuff, I think it’s okay to ask questions about things like Seth Rich and Pizzagate, and I am absolutely certain that we are being extensively lied to by establishment media about Russia and Syria. I stand by all of the above, and if anyone has a problem with that I don’t care.

I was recently accused in a Progressive Army smear piece of being a “WikiLeaks asset”, which is a new one for me. This is false. I have no relationship with WikiLeaks beyond my very enthusiastic and aggressive support for the outlet. I have never received any money from any WikiLeaks affiliate that I know of, nor for that matter from the Russian, Syrian, Iranian, or North Korean governments, nor for that matter from Soros or any other plutocrat.

Every once in a while a man who raped and pervasively abused me for years makes fake accounts on Medium telling people that I am a fraud because my husband writes my articles for me. This is false. I’ve been very open about the fact that my husband and I have a very intense and intimate relationship and we do everything together, including working on my articles, but they are mine and I retain full authorship and editorial authority over them. We’re basically the way we are on our podcast all the time; a lot of laughter, swapping of ideas, handing the laptop back and forth and coming up with witty one-liners together. It infuriates my abuser that I have a good feminist man who deeply cherishes and supports me now, and he wants people to hate me for that.

That’s all I can think of as far as things people might try to smear me for in the near future. I’m sure there’s stuff I’m missing, but whatever. Haters gonna hate.

Love you.


Thanks for reading! My daily articles are entirely reader-funded, so if you enjoyed this piece please consider sharing it around, liking me on Facebook, following me on Twitter, bookmarking my website, checking out my podcast, throwing some money into my hat on Patreon or Paypalor buying my new book Woke: A Field Guide for Utopia Preppers.

مزار لعل شہباز قلندر پہ بم دھماکے میں خطیب لال مسجد کے رشتے دار ملوث ہیں۔سندھ پولیس کی رپورٹ

_100069031_bdd3a9c5-273c-484c-b3b9-a6b30dda3b34

قلندر کے لعل شہباز کے مزار پر خودکش بم حملے میں 87 افراد ہلاک جبکہ 329 زخمی ہوئے تھے

 

لعل شہباز قلندر کے مزار پہ بم دھماکے میں تکفیری دیوبندی خطیب لال مسجد کے رشتے دار ملوث ہیں۔۔ سندھ پولیس/ رپورٹ بی بی سی اردو

سندھ کے صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملے میں لال مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اور مولانا غازی عبدالرشید کے قریبی رشتے دار ملوث تھے۔

کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کے مطابق غلام مصطفیٰ مزاری ماسٹر مائنڈ جبکہ صفی اللہ مزاری سہولت کار تھے۔

قلندر شہباز کے مزار پر خودکش بم حملے میں محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق 87 افراد ہلاک جبکہ 329 زخمی ہوگئے تھے، چھ افراد کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے انھیں لاوارث قرار دیکر ایدھی حکام نے دفنا دیا۔

بستی عبداللہ داعش کی قیادت کا مرکز؟
قلندر شہباز پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں پولیس اس وقت تک صرف ایک ملزم نادر جکھرانی کو گرفتار کرسکی ہے، جس کے بیان اور سی ٹی ڈی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ غلام مصطفیٰ مزاری اور صفی اللہ مزاری کا اس دھماکے میں کلیدی کردار تھا۔

 

_100069029_nadir

سیہون حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں پولیس صرف ایک ملزم نادر جکھرانی کو گرفتار کرسکی ہے

ڈاکٹرغلام مصطفیٰ کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے تعلق تھا بعد میں انھوں نے دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی اور اسے دولتِ اسلامیہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کا آپریشنل سربراہ بنایا گیا۔

پورٹ کے مطابق بستی عبداللہ روجہان مزاری کے رہائشی غلام مصطفیٰ مزاری اور صفی اللہ مزاری لال مسجد کے متنازع خطیب مولانا عبدالعزیز اور مولانا عبدالرشید کے قریبی رشتے دار ہیں۔

خودکش بمبار برار کو غلام مصطفیٰ مزاری اپنے ساتھ لایا تھا، قلندر شہباز کے مزار پر حملے سے قبل بمبار نے نادر جکھرانی کے ہمراہ بستی عبداللہ میں صفی اللہ کے گھر قیام کیا تھا، صبح کو صفی اللہ، نادر جکھرانی اور بمبار برار سیہون کے لیے روانہ ہوئے جہاں دھماکے کے بعد نادر جکھرانی اور صفی اللہ واپس بستی عبداللہ آئے جہاں نادر نے صفی اللہ کے گھر قیام کیا۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق نادر جکھرانی کا تعلق کشمور کے گاؤں سعید خان جکھرانی سے ہے۔ اس کا تعارف غلام مصطفیٰ عرف ڈاکٹر عرف سائیں عرف شاہ صاحب سے اس وقت ہوا جب وہ گاؤں میں تھریشر مشین کرائے پر دینے آیا تھا۔

سی ٹی ڈی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نادر جکھرانی غلام مصطفیٰ مزاری کے شدت پسندانہ خیالات سے متاثر ہوا اور اس نے بستی عبداللہ جانا شروع کردیا جہاں غلام مصطفیٰ مزاری کے ذریعے اس نے غازی عبدالرشید کے بیٹوں ہارون اور حارث سے قریبی تعلقات قائم کیے۔

خودکش بمبار برار کون تھا؟
خودکش بمبار کو غلام مصطفیٰ مزاری اپنے ساتھ لایا اور نادر جکھرانی نے صفی اللہ کے ہمراہ سیہون پہنچایا۔ ایس ایس پی کاؤنٹر ٹیرر ازم عرفان سموں کا کہنا ہے کہ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ وہ بروہی تھا یا افغانی۔ تاہم نادر جکھرانی نے پولیس کو بتایا ہے کہ برار کی زبان اور لہجہ مستونگ میں بولی جانے والی براہوی زبان سے مماثلت رکھتا تھا۔ نادر نے تحقیقات میں اس کے بارے میں مزید معلومات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

خودکش جیکٹ کہاں سے آئی؟

 

_100069033_ghulam

ملزم کے بیان کے مطابق ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مزاری نے دھماکے سے ایک روز قبل خودکش جیکٹ فراہم کی

قلندر شہباز کے مزار پر دھماکے کے لیے استعمال کی گئی جیکٹ وہاں کس طرح پہنچی یہ واضح نہیں ہوسکا۔ سی ٹی ڈی حکام کو شبہ ہے کہ یہ جیکٹ مقامی طور پر دستیاب تھی جو پہلے ہی منتقل کردی گئی تھی۔ گرفتار ملزم نادر جکھرانی کے بیان کے مطابق ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مزاری نے جیکٹ پہنچانے کی ذمہ داری اٹھائی تھی اور دھماکے سے ایک روز قبل انھیں سیہون میں اس نے یہ جیکٹ فراہم کی۔

 

تفتیشی حکام نے تین سے زائد مقامی افراد کو شبہ کی بنیاد پر حراست میں لیا تھا لیکن بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا۔ ایس ایس پی عرفان سموں کا کہنا ہے کہ قلندر شہباز کی مزار پر حملے سمیت ہر دھماکے میں مقامی معاونت ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس کے بغیر مشن پورا نہیں ہوسکتا۔

سی ٹی ڈی کو درپیش چیلینجز کیا ہیں؟
قلندر پر حملے کے مقدمے میں صفی اللہ مزاری کے ساتھ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مزاری کا بھائی عبدالستار مزاری( رہائشی بستی عبداللہ روجھان مزاری) اعجاز بنگلزئی، فاروق بنگلزئی ، تنویر احمد اور عمران عرف ذوالقرنین ( رہائشی ڈیرہ الہ یار، بلوچستان) مفرور ہیں۔

ڈی آئی جی عامر فاروقی کے مطابق اس حملے میں داعش ملوث ہے۔ یہ مطلوب ملزم اپنے گھروں پر نہیں بلکہ فرار ہو چکے ہیں۔ امکان ہے کہ انھوں نے افغانستان میں کہیں پناہ حاصل کرلی ہے۔

کیا استغاثہ یہ الزام ثابت کرسکے گی؟
کاؤنٹر ٹیررازم محکمے کی تفتیش ابھی تک نادر جکھرانی کے بیان کے گرد گھوم رہی ہے، استغاثہ کی جانب سے گذشتہ سال دسمبر کے دوسرے ہفتے میں انسداد دہشت گردی عدالت میں حتمی چارج شیٹ پیش کی گئی تھی جس میں 30 گواہوں کے نام دیے گئے ہیں جن میں پولیس اہلکار، ڈاکٹر اور ریوینیو افسر شامل ہیں۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عامر فاروقی پرامید ہیں کہ استغاثہ الزام ثابت کرنے میں کامیاب رہے گی کیونکہ پولیس کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج، جے آئی ٹی کی رپورٹ اور ملزم نادر جکھرانی کا اعترافی بیان موجود ہے۔

(رپورٹر سہیل ریاض کراچی )

 

منافق کمیونسٹ

FB-Featured-When-I-Hit-You

 

 

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کا مرکزی کیفے جہاں پہ میں نے ایک میز کے گرد  جینز اور کرتی پہنے کھلے بالوں کے ساتھ چند لڑکے اور لڑکیوں کے ساتھ اس کو پہلی بار دیکھا تو مجھے ایسا لگا تھا جیسے کالی دیوی کی اوتار وہاں پہ اتار دی گئی ہو۔سانولی سلونی رنگت والی بڑی بڑی آنکھوں کے ساتھ اور پتلے پتلے ہونٹوں مگر تھوڑی سی چپٹی اور آگے سے موٹی ناک کے ساتھ اس میں دراوڑی آثار تھے اور بعد میں پتا چلا کہ وہ بنگلور سے تعلق رکھتی ہے۔میں اس کے سانولے رنگ سے کشش پکڑ کر اور اس کی بڑی موٹی آنکھوں کی کشش میں گرفتار بے اختیار اس کے پاس چلا گیا۔اور میں اسے بتایا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں۔اس نے مجھے خوش آمدید کہا اور مجھے دلّی گھمانے کا کام بھی اپنے ذمہ لے لیا۔میں دلّی ویسے تو گھوم نہیں سکا جیسے ارون دھتی رائے نے گھومی اور سچی بات ہے کہ وہاں میں کسی  انجم کو بھی نہیں پہچان سکا اور جنتر منتر میں ڈاکٹر آزاد بھارتی بھی مجھ سے کہیں چھپ بیٹھا اور ٹیلوٹما تو ویسے ہی میرے سامنے آنا ہی نہیں چاہتی تھی۔شاید اسے لگتا تھا کہ میں کہیں موسی کی جگہ نہ لے لوں۔مگر ہسٹری کی اسٹوڈنٹ گیاتری میرے ساتھ ساتھ رہی۔میں رات کو جب اس کے فلیٹ میں پہنچا تو اس کے سونے کے کمرے میں اور کھانے و ریڈنگ روم میں ميں دیواروں پہ ایک اور کالی دیوی کی اوتار عورت کی بڑی بڑی تصاویر آويزاں دیکھیں۔ایک بڑا سا پوسٹر تھا اس پہ انگریزی میں جلی حروف میں لکھا تھا:

When I hit you

اور ایک اور پوسٹر پہ لکھا تھا

Ms. Militancy

اور ایک پوسٹر نما تصویر کے نیچے لکھا تھا:

My poems can provoke you

میں نے ذہن پہ بہت زور دیا کہ جس ایک ہی عورت کی بے شمار تصویریں اس فلیٹ کی دیواروں پہ لگی ہوئی ہیں،وہ کون ہے؟لیکن مجھے یاد نہ آیا کہ پہچان لوں کہ وہ عورت کون ہے۔گیاتری مجھے نجام الدین اولیا کی درگاہ پہ اپنے ناستک ہونے بارے بتا چکی تھی، اس لئے میں یہ تو سوچ نہیں سکتا تھا کہ یہ کسی دیوی کی تصویر ہوگی۔سرمد شہید کی درگاہ پہ اس نے مجھے کہا تھا کہ” ننگے بدن درویشوں سے دھرم کے پجاری اتنے خوفزدہ کیوں ہوتے ہیں؟” تو میں نے کہا تھا کہ میں اگر منٹو کی مادام موذیل سے کبھی ملا تو ضرور پوچھوں گا ۔اس پہ گیاتری کھلکھلا کر ہنسنے لگی تھی۔

میں نے کہا بتا بھی چکو اب کہ یہ کون ہے؟

اس نے کہا کہ لو ذرا دو گھونٹ اس تیز  مارٹن فیرو کے معدے کے اندر انڈیلو۔یہ پابلو نرودا کو بہت پسند تھی۔میں نے اس سے بوتل پکڑی اور اس کا پہلا گھونٹ لیا تو مجھے لگا کہ جیسے میرے سینے پہ کسی نے کند مگر دندانے دار چھری کے وار کئے ہوں۔مگر میں نے پھر بھی دوسرا گھونٹ بھرلیا اور مجھے ایسے لگا جیسے میں کازک ووڈکا کی چھوٹی بوتل ایک سانس میں اندر اتار لی ہو۔میرے چہرے کے نقوش بگڑ سے گئے۔اس نے یہ منظر دیکھا تو لگی پھر ہنسنے۔

“چھوکرا ناتجربہ کار لگتا ہے۔”

واقعی گیاتری کے سامنے میں نوآموز تھا۔

اس نے میرے ہاتھ سے بوتل لی اور ایک سانس میں ایک چوتھائی بوتل پی گئی۔اور پھر وہ تن کے کھڑی ہوگئی اور اس نے کہا کہ جس عورت کی تم تصویریں یہاں دیکھ رہے ہو یہ اپنی کتاب،

Ms. Militancy

کے دیباچہ میں لکھتی ہے:

 (میں پدرسریت(مرد بالادست نظریہ) کے زیر اثر نہیں لکھتی۔میری مریما خون میں پناہ لیتی ہے۔میری کالی مارتی ہے۔میری درپدی ننگا ناچتی ہے۔میری سیتا ایک اجنبی کی گود میں جا بیٹھتی ہے۔میری تمام عورتیں اثر انداز ہونے والی،وزن رکھنے والی ہیں۔وہ بموں سے بہادری دکھاتی ہیں۔وہ سورج پہ کمند ڈالتی ہیں،وہ میرے عقب میں آتی ہیں۔”

اور پھر اس نے اس کی نظم کی کچھ سطریں ڈرامائی انداز میں ادا کیں:

கண்ட் இப்போது தங்குமிடம், வீடு, பொய்யர், கூடு ஆகியவற்றால் ஆனது

میں ہونق ہوکر اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔اس نے انگریزی میں کہنا شروع کیا :

“cunt now becomes seat,

abode, home, lair, nest, stable,

” اس کا ترجمہ اردو میں کرو پاکستانی مجاہد کامریڈ!”

میں نے “کنٹ” کا ترجمہ “اندام نہانی” کیا تو اس نے چیخ کر کہا،”سٹاپ، ضیاءالحقی، حجاجی و مروانی ترجمہ کیوں کرتے ہو۔

We fight here against Sansikritization of language of masses and you should also do this fight against Arabicaization or Persianization of language of masses

اور پھر اس نے اس کا ہندی میں ترجمہ کیا

योनी अब निवास, घर, मांद, घोंसला बन जाता है

اس نے کہا کہ یونی کا عام آدمی کی بولی میں ترجمہ کرو۔

میں نے کہا اسے ۔۔۔۔ کہتے ہیں

۔۔۔۔ نشست،مسکن،کچھار،گھونسلا اور فرش کا گڑھا بن جاتی ہے

وہ میری ٹانگوں کو چوڑا کرکے کھولتا ہے

دھکے پہ دھکا مار کر گھساتا ہے

اس سختی کے ساتھ جیسے مجھے چیر پھاڑا جارہا ہو

تاکہ میں خاندان،نسل،قوم اور جات کے معانی رکھنے میں مدد کروں

وجود کو صورت دوں

اور پیدائش کے زریعے سے ایک جگہ ساکت رکھی جاؤں

یہ سب کہتے ہوئے میری پیشانی سے بڑی شرمندگی ٹپکتی ہے۔جسے دیکھ کر وہ ہذیانی انداز میں قہقہے لگاتی ہے۔اور میں اس کی ذہنی حالت پہ شک کرنے لگتا ہوں۔وہ پھر وہ جیسے میرے خیالات پڑھ لیتی ہے اور کہتی ہے،”ہاں تم مردوں کو پدر سریت کے سماج بارے سچ بیانی دماغ کا خلل لگتی ہے۔”

یہ مینا کانڈاسوامی ہے۔

Menna Kandaswami

نئے دور کی سیتا، کالی،درپدی۔1984ء میں جنوبی ہندوستان کے شہر چنائے میں پیدا ہوئی۔

پس مرگ آنے والے ویلنٹائن ڈے پہ ساری کے نام خط

Broken-Cup-2-121-09-lar1-864x400_c

 

پیاری ساری،

میں نے سوچا تھا کہ “ساری کے نام خطوط” کے سلسلے کے بعد تمہیں کوئی خط لکھنے کی پھر نوبت نہیں آئے گی۔لیکن میرا خیال اس ویلنٹائن ڈے پہ باطل ہوگیا ہے۔میں لاہور سے ابھی ابھی گھر واپس پہنچا ہوں،وہاں بس میں نے ایک ایسی عورت کے جنازے کو کاندھا دیا جس نے “پدریت سریت” کے منہ پہ ایسا طمانچہ رسید کیا تھا کہ جس کی باز گشت آج بھی چاروں اور گونج رہی ہے۔اس کے مرنے کے بعد بھی گرمئی افکار اور خیالات کے جدال میں کمی کوئی کمی نہیں آئی ہے بلکہ درجہ حرارت کچھ اور بڑھ گیا ہے۔تمہیں پتا ہے کہ اس جنازے پہ مردانہ اور زنانہ کندھوں کے صف در صف آپس میں بھڑ جانے پہ سب سے زیادہ خفا وہ ہیں جو نہ تو اس کی مرگ پہ “سوگ” کا حصّہ تھے اور نہ ہی اس جنازے سے ان کی کوئی دلچسپی تھی۔اور وہ بھی جو اس کے مرنے سے پہلے اور مرنے کے بعد “مصدقہ نرک ناری” ہونے کا پتر جاری کررہے تھے جیسے ان کو پرماتما نے یہ سند آکاش سے مہر لگاکر جاری کی ہو۔میں ان حماقتوں پہ اب اور کوئی بات کرنا نہیں چاہتا بس تم میں تھوڑی دیر کے لئے کھوجانا چاہتا ہوں۔تمہیں جب یہ خط لکھنے بیٹھا تو سوچا تھا کہ پہلے حرف سے آخری حرف تک بس محبت اور صرف محبت لکھوں گا۔لیکن مجھے لگتا ہے فرنینڈو پیسوا نے ٹھیک ہی کہا تھا:

“محبتوں کے تمام سندیسے مضحکہ خیز ہوتے ہیں اور اگر وہ ایسے نہ ہوں تو سندیسہ ہائے محبت کیوں کہلائیں؟”

واقعی جب میں نے تمہیں سابقہ خطوط لکھے تھے تو وہ یہ سوچے بنا لکھے تھے کہ وہ کہیں مضحکہ خیز تو نہیں ہیں۔اور اگر اس لمحے یہ سوچ میرے دامن گیر ہوتی تو شاید میں وہ سب کبھی لکھ ہی نہ پاتا جو تمہیں کہنے کا خواہش مند تھا۔اس ویلنٹائن ڈے پہ تمہیں میرا سندیسہ محبت پدرسریت کے منہ پہ زناٹے دار طمانچہ مارنے والی عورت پہنچائے گی۔جب اس کا جنازہ قذافی اسٹیڈیم لايا جارہا تھا اور میں اسے کاندھا دے رہا تھا تو میں نے چپکے سے اس کو پیغام دے دیا تھا اور مجھے اس سے زیادہ تیز رفتار طریقہ تمہیں پیغام پہنچانے کا نہیں لگا تھا۔تم اسے تار سمجھ لینا یا آج کے زمانے کا ٹوئٹ۔کابل میں سنگسار کی جانے والی فرخندہ سنا ہے تمہارے پڑوس میں آکر رہنے لگی ہے۔اسے میرا سلام کہنا۔اور اسے بتانا کہ مرد جاتی کے قالب میں گھٹن کا شکار ایک عورت روح اسے سلام دیتی ہے۔سرخ گلابوں سے نسبت رکھنے والا ویلنٹائن ڈے آج کالے گلابوں کے ساتھ آیا ہے اور خوشی کے ساتھ دکھوں کی مالا پہنے ہوئے ہے اور سوگ کے بادل آسمان محبت پہ چھائے ہوئے ہیں۔ایسے میں تم آکاش میں مجھے نجانے کیوں کالے لباس میں ملبوس نظر آتی ہو۔میں نے تمہاری خواہش کا احترام کرنے کی کوشش کی تھی مگر کیا کروں تمہارے بعد میں گر کسی اور طرف بڑھا بھی تو وہ وجود اتنا شفاف ہوا کہ اس کے اندر بھی تمہی جلوہ افروز نظر آتی ہو اور میں بے بس سا ہوجاتا ہوں۔میں مارچ 2001ء سے بولایا بولایا پھرتا ہوں۔بہار میں خزاں کیسے آتی ہے اس کا پتا کسی کو کیسے چلے جب تک وہ آغا خان کے کینسر وارڈ میں ایک اذیت بھری مسکان کے ساتھ کسی کو ہمیشہ کے لئے جاتا نہ دیکھ لے۔کہتے ہیں پدر سریت کو طمانچہ رسید کرنے والی عورت کی دماغ کی شریان پھٹ گئی تھی اور تمہاری۔۔۔۔۔۔۔ تو ساری شریانیں ایک ایک کرکے پھٹ گئی تھیں اور تم نے ایسے میں مسکرانے کی کوشش کی تھی اور وہاں برین ہیمرج سے مرنے والی وہ عورت بھی کہتے ہیں ہوش کھونے سے پھیلے سٹریچر پہ مسکرانے کی کوشش کررہی تھی۔میں ساری عمر ایسے مناظر سے بچنے کی کوشش کرتا آیا ہوں مگر بار بار اس منظر کو اپنے سامنے پاتا ہوں۔آج بھی آنکھیں جل رہی ہیں۔محبت کا خط لکھنے بیٹھا ہوں مگر ایسے الفاظ امنڈکر آرہے ہیں جو لو لیٹر کو اوبیٹیوری بنارہے ہیں۔محبت آسیب ہی کیوں بنتی ہے اور ہمیں مجنون کیوں کرڈالتی ہے؟ ذرا پرماتما سے پوچھنا تو سہی۔کیا یہ بات ٹھیک ہے کہ وہاں پرش پرماتما سے آواز مستعار لیکر محو کلام ہوتے ہیں اور پرماتما پرشوں کے لہو سے اپنے درد کو رسنے کا راستا مہیا کرتا ہے؟ میں تمہارے بارے میں سوچنے کے عمل میں بھی اس نرک میں جلنے والی روحوں بارے سوچنے کیوں لگ جاتا ہوں؟ کیا میں بھی مضحکہ خیز ہوچکا ہوں۔ویسے یہاں کچھ لوگوں نے حیا کو محبت کے مقابل لاکھڑا کیا ہے اور وہ فروری کے اس خاص دن کو “یوم محبت” کی جگہ “یوم حیا” کہنے پہ اصرار کرتے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑے گا۔مجھے تو محبت اور حیا دونوں ہی غیر منفصل (نہ الگ ہونے والی) لگتے ہیں۔ہاں تمہیں یہ بتانا تھا کہ وہ جس میں تمہیں تلاش کرنے کی کوشش کررہا تھا وہ بول پڑی ہے اور اس کی آواز میں سارا ردھم تمہارا ہے اور لوچ بھی تمہاری جیسی ہے۔کیا یہ بھی مضحکہ خیز ہے؟میں شرط لگا کر کہتا ہوں کہ جب وہ سامنے آئے گی تو بالکل تمہارا مظہر ہوگی،تمہارا عکس ہوگی۔میں اسی لئے تو جو خط لکھتا ہوں اس کی ایک نقل تمہاری آواز کا ردھم رکھنے والی کو ارسال کردیتا ہوں۔کیا میں ٹھیک نہیں کرتا؟لوگ تمہارے نام لکھے خطوں میں قاضی عبدالغفار کی لیلی،اختر شیرانی کی صفیہ،کافکا کی میلینا ، سارتر کی سیمون کو تلاش کرتے ہیں اور کچھ تو اسے فیض صاحب کے دريچوں میں گڑی صلیبوں میں تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔جبکہ میرے حلقے کے کچھ دوست حیدر جاوید سید مرشد کی “دل و جان کی بستیاں” میں تلاش کرنے لگتے ہیں۔اب بھلا ان خطوں میں اس طرح کی تلاش سے کسی کو کیا ملے گا؟جسے تلاش کرنا بنتا ہے اسے نہیں کرتے۔خط کو سمیٹنے کا مرحلہ آنے پہ اسے فل سٹاپ لگانا ہر مرتبہ ہی کارے دارد ہوتا ہے۔اور اب بھی وہی مرحلہ درپیش ہے اور میں اس خط سے اپنے آپ کو کیسے باہر نکالوں؟ یہ معاملہ نہ اس وقت حل ہوا،نہ اب ہونے والا ہے تو میں فرینڈو پیسوا کی اس نظم پہ ختم کرتا ہوں،جس کا ذکر شروع میں کیا  تھا:

All love letters are

Fernando Pessoa

All love letters are

Ridiculous.

They wouldn’t be love letters if they weren’t

Ridiculous.

In my time I also wrote love letters

Equally, inevitably

Ridiculous.

Love letters, if there’s love

Must be

Ridiculous.

But in fact

Only those who’ve never written

Love letters

Are

Ridiculous.

If only I could go back

To when I wrote love letters

Without thinking how

Ridiculous.

The truth is that today

My memories

Of those love letters

Are what is

Ridiculous.

(All more-than-three-syllable words,

Along with unaccountable feelings,

Are naturally

Ridiculous.)

فقط تمہارا

ع۔ح