تکفیری فاشزم اور بلوچ قومی تحریک: فرق بہت واضح ہے

 

چور مچائے شور

 
عامر حسینی
 
کچھ لوگ اپنے آپ کو بہت بڑا مزاح نگار خیال کرتے ہیں۔ایسی دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ بس ان کی اپنی ذہنیت پہ ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔کہا جارہا ہے کہ بلوچستان بلیدہ کے پہاڑی سلسلے کے پاس مرنے والے (پنجابیوں) کی شناخت بیان کرنے سے وہ لوگ ہچکچارہے ہیں جو مذہبی دہشت گردی کے ہاتھوں مارے جانے والوں کی مذہبی، مسلکی شناخت پہ بہت اصرار کرتے تھے۔
 
کئی ایک صاحبان نے مجھے براہ راست مخاطب کرکے کہا کہ میں تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والوں کی مذہبی شناخت پہ بڑا اصرار کرتا ہوں اور بلوچ،سندھی، پشتون شناختوں کی مظلومیت پہ بولتا ہوں تو پنجابی مزدروں کی شناخت پہ میں خاموش ہوگیا ہوں۔
 
میں نے ابتک جتنی بھی پوسٹ لگائی ہیں ان میں،میں نے پنجابی محنت کشوں کا لفظ ہی استعمال کیا ہے۔ایک مضمون لکھا تو اس میں بھی ان مارے جانے والے مزدروں کی نسلی،لسانی و قومیتی شناختیں درج کیں۔
 
ہم پہ تنقید کرنے والوں کی مختلف اقسام ہیں۔چند ایک صاحبان تو وہ ہیں جو کھلم کھلا پاکستان کی ریاست کے بلوچستان پہ مسلط کی جانے والی کالونائزیشن کے حامی ہیں۔ریاستی جبر کو وہ کبھی براہ راست تو کبھی بالواسطہ سپورٹ کرتے ہیں۔
 
یہ صاحبان ماضی میں ہماری تحریروں کے مداح اس لئے رہے ہیں کہ ہم پاکستان کے اندر لبرل کمرشل مافیا کی سامراج پرستانہ روش اور جھوٹی اسٹبلشمنٹ مخالفت کا پول کھولنے میں سب سے آگے تھے اور اسٹبلشمنٹ کے ان حامیوں کو ہم سے ‘لبرل کمرشل مافیا’ کی ایک اصطلاح مل گئی تھی۔
 
یہ ہماری تحریروں کے اس لئے بھی مداح نظر آئے کہ ان کی محبوبہ ملٹری اسٹبلشمنٹ ‘اچھے جہادیوں اور تکفیریوں ‘ کو چھوڑ کر جب ‘برے جہادیوں اور تکفیریوں’ کا رام رام ستے کررہی تھی تو اس موقعہ پہ ‘برے جہادی و طالبان’ کی جانب سے کبھی پشتون نیشنلسٹ،کبھی سامراج دشمن، کبھی بائیں بازو و کمیونسٹ کیمپ کی استحصال اور جبر کے خلاف منطق کو استعمال کرنے کا پول جس شدت اور طاقت سے اور ناولٹی کے ساتھ ہمارے ساتھیوں نے کھولا اس کا عشر عشیر بھی بوٹ پالشیوں کے پاس نہیں تھا۔
 
یہ لوگ کمرشل لبرل مافیا کے ‘چمکتے ستاروں’ کی چمک اور رنگ روغن خود تو اتار نہیں سکتے تھے اور پھر اعتبار کا معاملہ بھی تھا تو ہماری تحریروں کو انہوں نے ‘بغض’ میں استعمال کرنے کی خاطر استعمال کیا۔
 
ایسے لوگ اصل میں سرے سے ریاستی جبر، قومی جبر، قومی سوال، قومیتی تضاد وغیرہ کے قائل ہی نہیں ہیں۔یہ اسٹبلشمنٹ اور ریاست کے جابرانہ طرز پہ مبنی کالونائزیشن کو کبھی مارکسسٹ بنکر تو کبھی ‘حقیقی ترقی پسند’ بنکر تو کبھی مظلوم مذہبی کمیونٹیز کے ہمدرد بنکر جواز دلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔یہ اندر سے اور سر سے پیر تک پنجابی شاؤنزم کے گند میں بھی لتھڑے ہوئے ہیں اور اس کا اقرار کرنے سے انکاری ہیں۔
 
ہم پہ تنقید کرنے والوں میں سے کچھ وہ ہیں،جن کی کمرشل لبرل مافیا سے نیاز مندیاں ہیں اور یہ اس ملک میں بے ہودہ الحادیت کو پھیلانے والے اور سیکولر و رواداری کی تحریک کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے تعلق رکھتے ہیں۔
 
یہ وہ لوگ ہیں جو اس ملک میں شیعہ نسل کشی کو جواز،ابہام،نفی کے تیروں سے چھلنی کرتے رہے ہیں اور بے ہودہ اور سوفسطائی تحریروں کے ساتھ غلط بائنری پھیلاتے آئے ہیں۔یہ تکفیری فاشزم کا جواز گھڑتے رہے ہیں۔اوراس ملک میں شیعہ اور سنيوں کے درمیان جنگ کا جھوٹا سماں باندھتے رہے ہیں۔
 
یہ لوگ ملک میں تکفیری دیوبندی-سلفی فاشزم بارے بیانیہ کی تشکیل کو پراگندہ کرنے کے مشن پہ رہے ہیں۔کبھی تو یہ لدھیانوی کو اور کبھی اشرفی کو معتدل ملّا بناکر پیش کرتے رہے ہیں۔یہ لبرل کمرشل مافیا کی وہ قسم ہے جسے ہم سے اپنے ہی دکھ ہیں اور آج یہ پنجابیوں کے ہمدرد بنکر ہمیں درس دینا چاہتے ہیں’ویکھو جی ہن شناخت کتھے گئی، تے ہن نسلی بنیاداں تے دہشت گردی دی مذمت کیوں نئیں کیتی جارئی۔’
 
یہ جو بھی لبادہ اوڑھ لیں،چھپ نہیں سکیں گے اور ان کی بددیانتی بہت واضح ہوکر سامنے آتی چلی جائے گی۔
 
لیکن میں صاف صاف کچھ باتیں ایسے سب مزاح نگاروں سے کرنا چاہتا ہوں،جو سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے ان سب دوستوں کی انسانیت پسندی کا پول کھول دیا ہے جو ابتک شیعہ نسل کشی پہ بہت بلند آہنگ ہوکر بات کرتے آئے اور انھوں نے تکفیری فاشزم کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔
 
ہم بلوچوں کے انسانی ،سیاسی،معاشی،قومی ،ثقافتی حقوق کی حمایت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ہم ان پہ ریاستی جبرکے کل بھی مخالف تھے اور آج بھی مخالف ہیں۔بلوچ نسل کشی ایک حقیقت ہے۔بلوچ پہ قومی جبر ایک حقیقت ہے۔بلوچ کی شناخت کی بقاء کا خطرہ حقیقی اور سنگین ہے۔ہم بلوچ قومی سوال اور پاکستانی ریاست میں قومیتی تضادوں کی موجودگی کو حقیقت سمجھتے ہیں۔
 
پنجابی آبادکار نہتے شہریوں، مزدروں پہ حملے حقیقت ہیں اور یہ قابل مذمت ہیں۔ان کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔ہم پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں،کسانوں،مظلوم و پسے ہوئے کچلے ہوئے نسلی ومذہبی وقومیتی گروہوں کی باہمی یک جہتی کے حامی ہیں اور ان کے درمیان تقسیم ڈالنے والے سامراجی، سرمایہ دارانہ اور مہا قوموں کے ظالم حکمران طبقے کی ریاستی مشنیری کی مدد سے جبر واستحصال اور مظلوم قومیتوں کے اندر ،مظلوم مذہبی کمیونٹیز کے اندر ہر طرح کی شاؤنسٹ،متعصب، نسل پرستانہ اور مذہبی فاشسٹ رجحانات کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔
 
بطور کمیونسٹ میں پاکستان کو ایک کثیرالقومیتی ریاست خیال کرتا ہوں۔اور ہر قومیت کے حق خودارادیت بشمول حق علیحدگی کا حامی ہوں۔اور پاکستان کے موجودہ حکمران طبقے جس میں پنجابی حاکم طبقات غالب ہیں کی پالسیوں کو کالونیل سرمایہ دارانہ پالسیاں خیال کرتا ہوں۔اور سمجھتا ہوں کہ بلوچ قومی تحریک کے اندر نسل پرستانہ اور متعصب شاؤنسٹ مظاہر ریاست کی جانب سے بلوچستان کی کالونائزیشن کا براہ راست نتیجہ ہیں۔
 
پاکستان کے شیعہ سمیت جتنے مذہبی مظلوم تکفیری فاشزم کے متاثرہ ہیں ان کا تکفیری دیوبندی-سلفی وہابیت سے کوئی رشتہ کالونیل ماسٹرز ۔کالونیل غلام کا نہیں ہے۔شیعہ کی نسل کشی ایک حقیقت ہے اور یہ کسی استحصال، کسی قومی،مذہبی ،نسلی جبر کا نتیجہ نہیں ہے۔تکفیری یا جہادی فاشسٹوں نے ایسے کوئی دلائل گھڑے تو وہ جھوٹ کا پلندہ ہیں۔
 
ہم نے ہمیشہ یہ کہا کہ مڈل ایسٹ ہو،جنوبی ایشیا ہو، مشرق بعید ہو یا مشرق قریب ہو دنیا بھر میں سرے سے شیعہ-سنّی لڑائی موجود نہیں ہے بلکہ تکفیری وہابی ازم، امریکہ کی دنیا بھر کے خطوں میں مداخلتوں کے لئے ان خطوں کی کٹھ پتلی حکومتوں اور بادشاہتوں کی خدمت گزار کے طور پہ شیعہ، اکثریت پرامن سنّی ، کرسچن، یزیدی،ہندؤ،احمدی، سکھ ودیگر کمیونٹیز پہ حملہ آور ہے۔
 
مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی وآئلنس اور عسکریت پسندی کی دیوبندی-سلفی تکفیری فاشسٹ بنیادوں کا موازانہ مظلوم قومیتوں کے اندر سے ہونے والی شاذ و نادر شاؤنسٹ کاروائیوں سے کیا جانا اور مظلوم قومیتوں کے خلاف جابر ریاستی حکمران طبقے کو اپنے لاؤ لشکر سے حملہ آور ہونے پہ اکسانا کھلی دہشت گردی اور فساد پہ مبنی ہلاکت خیزی کو دعوت دینا ہے۔
 
تکفیری فاشزم کے خلاف جدوجہد کرنے والی مظلوم مذہبی کمیونٹیز کے لوگوں کو بلوچ قوم کے خلاف کھڑے ہوجانے کا درس دینے والے پنجابی محنت کشوں کی ہمدردی میں ایسا نہیں کررہے بلکہ وہ مظلوموں کو مظلوموں کے خلاف کھڑا کردینے کی سازش کا حصّہ ہیں۔
 
پاکستان کے حکمران طبقوں نے کبھی دہشت گردی کے نام پہ جنگ کو پھیلانے کے لئے اور مظلوموں کی باہم جڑت کو روکنے کے لئے اور پنجابی محنت کشوں، کسانوں کی اکثریت کے شعور کو گمراہ کرنے کے لئے مظلوموں کا جھنڈا کچھ اپنے ہی ایجنٹوں کے ہاتھوں میں دئے رکھا ہے۔
 
یہ مذہبی فاشسٹوں کو وہ وقفے وقفے سے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ہم نے ایسے ایجنٹوں کو کبھی شیعہ کو تو کبھی صوفی سنّیوں کو کبھی کسی راحیل شریف کے شکریہ پہ مامور کرنے کی کوشش کرتے دیکھا تو کبھی باجوہ کے چرنوں میں گرانے کی کوشش کرتے دیکھا۔یہ شیعہ ہزارہ کو بھی اپنے قاتلوں کے سرپرستوں کو نجات دہندہ سمجھنے کا درس دیتے رہے۔ایسے لوگ زیادہ دیر مظلوموں کا نقاب چڑھا کر لوگوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے،فنڈڈ پروگرام اور فٹ سولجرز /پیدل سپاہی آخر کار پکڑے جاتے ہیں۔
 
پاکستان کے اندر ظلم کے خلاف صف آراء دوستوں نے مظلوم مذہبی کمیونٹیز اور مظلوم قومیتوں کے درمیان یک جہتی پڑھانے اور ظالم حکمران طبقے کی اقوام اندر محنت کشوں، کسانوں، دانشوروں کے لئے ان کی حمایت بڑھانے کے لئے بڑی کوشش کی ہے اور اس کے نتائج بھی مرتب ہوئے ہیں۔
 
میں شیعہ کمیونٹی کے متحرک اور انتہائی فعال سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو داد کا مستحق سمجھتا ہوں، یہی جذبات سنّی سوشل میڈیا ایکٹوسٹوں کے لئے بھی ہیں جنھوں نے بلوچوں پہ ریاستی جبر کا درد محسوس کیا ہے اور چند قوم پرست شاؤنسٹ اور متعصب نسل پرستوں کے اقدامات کو پوسٹر بناکر بلوچ قوم پہ چسپاں کرنے سے انکار کردیا ہے۔
 

پنجابی شیعہ ، سنّی (بشمول اعتدال پسند دیوبندی،سلفی سنّی ،بریلوی سنّی) سوشل ایکٹوسٹ جو کہ تکفیری دیوبندی-وہابی فاشزم اور بریلویوں کے اندر سے اٹھنے والے مٹھی بھر بلوائی نفسیات کے حامل مذہبی فاشسٹوں کے خلاف کسی مسلکی ،فرقہ وارانہ تعصب سے بالاتر ہوکر سرگرم رہے ہیں کی جانب سے بلوچ قوم پہ ریاستی جبر پہ سٹینڈ لینے اور اس کے خلاف بات کرنے پہ ان کو داد کا مستحق خیال کرتا ہوں۔ان ميں اکثریت نوجوان پنجابی شیعہ اور سنّی سوشل ایکٹوسٹوں کی ہے۔یہ پاکستان کے اندر ظلم و جبر کے خلاف امید کے استعارے ہیں۔ان سب کو سرخ سلام۔

Advertisements

چار درویش اور کچھوا: کاشف رضا تم شوکت تھانوی نکلوگے،سوچا نہ تھا

 

image of Charr Darvesh our Eik Kuchwa

 

kashif raza

Syed Kashif Raza,Author of the Novel

چار درویش اور کچھوا: کاشف رضا تم شوکت تھانوی نکلوگے،سوچا نہ تھا

محمد عامر حسینی

سید کاشف رضا کا پہلا ناول’چار درویش اور ایک کچھوا’ کراچی سے شایع ہونے والے والے سہ ماہی رسالے ‘آج’ کے شمارہ نمبر 102 میں شایع ہوا ہے۔میں نے ناول آج ہی ختم کیا ہے۔اور اس ناول کو پڑھنے کے بعد میں اپنے تاثرات ہی یہاں پہ رقم کرسکتا ہوں کیونکہ بنیادی طور پہ میں کوئی ناقد نہیں ہوں۔

سید کاشف رضا سے میرا غائبانہ تعارف اسی آج رسالے اور شاید آصف فرخی کے رسالے ‘دنیا زاد’ میں چھپی تحریروں سے ہوا۔کچھ تراجم تھے، کچھ خطوط تھے۔میں ان کی تحریروں کا معترف تھا۔پھر مجھے کافی عرصہ بعد پتا چلا کہ میرے ساتھ فیس بک پہ جو صاحب ‘سید کاشف رضا ‘ صف دوستاں میں شامل ہیں، وہ وہی ہیں جن کی تحریروں کو میں پسند کرتا ہوں۔پچھلے دنوں انہوں نے مجھ سے فیس بک انباکس چیٹ کے دوران پوچھا کہ میں ارون دھتی رائے کے ناول کا ترجمہ کررہا ہوں تو وہ مجھے اس ناشر کا پتا دے سکتے ہیں جس نے ان کو اس ناول کا ترجمہ کرنے کو کہا تھا۔میں نے ان سے کہا کہ اگر وہ یہ ترجمہ کرتے تو یقینی بات تھی کہ مجھ سے اچھا ترجمہ کرتے۔اس ناول کے بارے کہنا ہے کہ یہ ان کو ارون کے پہلے ناول سے کم پسند آیا۔میں اس کی وجہ جان نہ سکا تھا لیکن ان کا ناول پڑھنے اور اور اس ناول میں ان کے فن کے نظریاتی پس منظر کو جان لینے کے بعد مجھے لگا  کہ ان کو یہ ناول کن وجوہات کی بنا پہ پسند نہیں آیا ہوگا ، شاید میں جان گیا ہوں۔

کاشف رضا کا تعلق سرگودھا سے ہے،ان کے ابا ائرفورس میں رہے ہیں تو ان کے ساتھ وہ بھی کئی ائر بیس چھاؤنیوں ميں رہے۔کراچی رہتے ہیں۔اور محمد حنیف و میلان کنڈیرا کے ناولوں کا ترجمہ کررہے ہیں جو جلد ہی شایع ہونے جارہے ہیں۔ویسے کیا ہی اتفاق ہے کہ محمد حنیف اور کاشف رضا دونوں ہی بہرحال پاکستان کی ریاست کے بنیاد پرستانہ، یک نوعی اور یک رخی بیانیہ سے اتفاق نہیں کرتے اور ہم ان کو پوسٹ ماڈرنسٹ انٹلیکچوئل اور ادیب کہہ سکتے ہیں اگرچہ اکثر پوسٹ ماڈرنسٹ دانشور یہ لیبل اپنے اوپر لگانا پسند نہیں کرتے۔

اس ناول کے آغاز ہی میں پہلے باب میں سب سے اوپر اگر مجھے ژاں بادلئیراڈ/بادریاغ ( بادریاغ مجھے کہیں اس آر آے ڈی کی آواز کے طور پہ نہیں ملا لیکن کاشف مجھ سے زیادہ فرانسیسی زبان و ادب پہ عبور رکھتے معلوم ہوتے ہیں تو میں نے ان کے تلفظ کو بھی برقرار رکھا ہے) کا قول نہ ملتا  اور بار بار ریالٹی/حقیقت بارے راوی اور کرداروں کی زبان سے بحث و مباحثہ ہوتے نہ دیکھتا تو شاید مجھے سمجھ نہ آتی کہ اس ناول کی تکنیک اور اس کے پیچھے کونسی ادبی تھیوری کام کررہی ہے۔

سماجی حقیقت نگاری سے پوسٹ ماڈرنسٹ لکھاریوں کو ویسے ہی اللہ واسطے کا بیر ہوتا ہے لیکن ایسے پوسٹ ماڈرنسٹ ادیب بھی ہیں جو سماجی حقیقتوں کا بیان اپنے ناول، افسانے، کہانی اور مضامین میں لیکر تو آتے ہیں لیکن ان کی ترتیب و تشکیل ایسے کرتے ہیں جس سے ‘ریالٹی ‘ ابہام و ایہام کے مترادف ہوجاتی ہے۔اور بے شک وہ ریالٹی (حقیقت) سے سائن/علامت کا سفر ہوتا ہے۔اور پھر علامت سے علامت کا سفر دکھایا جاتا ہے اور اسے بادریاغ ہائپر ریالٹی کا نام دیتا ہے جس کا سادہ سا بلکہ اگر میں کاشف رضا کی زبان استعمال کروں تو اس کا چوتیا سا ترجمہ ‘ سراب’ ہی کیا جاسکتا ہے۔جسے انہوں نے ‘حقیقت کے فن کو گھس گھسانے ‘ کا نام دیا ہے۔

ہائپر ریالٹی کے فریم ورک میں سید کاشف رضا نے اپنے ناول کو ڈھالا ہے اگرچہ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے راوی، اور خود کرداروں نے ریالٹی کو جیسے دیکھا ہے وہ حتمی نہیں ہے اسے کسی اور طرح بھی دیکھا دکھایا جاسکتا ہے۔اور چیزوں کے ایبسرڈ(اگرچہ اس کی جگہ کاشف رضا نے لفظ اتفاق استعمال کیا ہے)

Why you had to do this Alamgir?

Why you had to do this Ume Salma?

اور پھر اسے بے نظیر بھٹو کے 27 اکتوبر کے قتل کے واقعات تک لیکر جانا اور اس سے نتیجہ نکالنا :

‘بیک وقت مضحکہ خیز، بے معنی اور المناک’

حالانکہ اس ساری تفصیل میں المناکی ایک حاشيے پہ رہ جاتی ہے اور ساری چیز ‘بے معنی ‘ ہی نکلتی ہے۔اور باب سوم کے آغاز ہی میں ایک بار پھر ژاں بودریاغ ہمارے سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے:

سوم یہ کہ فن حقیقت کے غیاب کی نشان دہی کرتا ہے

ویسے چوتھے باب میں اس کی پرت اور کھلتی ہے اور ‘دوم یہ کہ فن بنیادی حقیقت پہ نقاب اوڑھادیتا ہے اور اس کی تخریب کردیتا ہے۔’ ہے کے ساتھ بات آگے بڑھتی ہے۔اور پانچویں باب میں ریالٹی بارے بات اور آگے جاتی ہے کہ ‘فن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور فن صرف اپنے ہی مماثل ہوتا ہے۔۔۔’یہ بھی ژاں بودریاغ کا ہی قول ہے۔

مجھے یہ سب پڑھتے ہوئے بے اختیار ساجد رشید کا ایک اداریہ کا پیراگراف یاد آیا جسے تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ میں یوں لکھ سکتا ہوں:

ترقی پسندی کی مخالفت میں علامت نگاری کا سہارا لینے والوں نے اسقدر مہمل اور بے معنی تحریریں بھری ہیں کہ قاری کے لئے افسانہ معمہ بن گیا ہے۔شاعری بے معنی لفظوں کے ڈھیر میں بدل گئی ہے۔علامتوں اور استعاروں سے بوجھل ایسی تخلیقات قاری کو پروسی جاتی ہیں کہ تجزیے اور تفسیر کا چورن بھی ان کو ہضم کرانے میں ناکام رہتا ہے۔خود کو ترقی پسندوں سے مختلف ثابت کرنے کے عمل میں کئی ادیبوں نے ادب کو ہی چیستاں بناڈالا ہے۔انقلاب،سیاست،اور معاشرے جیسے بیانیوں کی جگہ بزدلی،خوف اور ذہنی انتشار کو ادب کا وصف خاص قرار دے دیا گیا ہے۔

ساجد رشید نے اس چیستانی ادب پہ پھبتی کستے ہوئے لکھا تھا:

‘ادب کا قاری جو پہلے ادب کی خاطر ایک ڈبیا سگریٹ یا پان قربان کردیا کرتا تھا،اس نے سوچا کہ ایسے معمے خرید کر مغز پچی کرنے کے کیا معنی جس کے صحیح حل پہ انعام تک نہ ملے!

(نیاورق شمارہ 3: جولائی تا ستمبر 1997)

سید کاشف رضا نے ریالٹی اور فن کے باہمی رشتوں بارے بادریاغ کے بنائے قضیوں سے اپنے ناول کی تشکیل کرتے ہوئے اس کے اندر مفسر اور شارح کا رول بھی خود ہی سنبھال لیا ہے اور کوشش کی ہے کہ گنجلگ چیزوں کو اپنے قاری کے سامنے کھول تو دیں لیکن درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

ویسے زرینہ جاوید کی مباشرت کے منظر کی عکاسی کرتے ہوئے اور اور زرینہ سے جاوید کی ملاقاتوں کے بیانیہ کے دوران جتنی آسان اردو کاشف نے استعمال کی وہ قاری حسین محسود کی خودکش بمبار کم سن لڑکوں کے ساتھ لواطت کے فعل کے دوران مفرس زدہ ہوگئی اور اسے کم از کم مدرسے کا پڑھا فاضل مولوی بہت آسانی سے سمجھ جائے گا لیکن جدید تعلیمی اداروں میں پڑھنے والا نوجوان جس کی اردو اور انگریزی دونوں کو ہی کمزوری کا مرض لاحق ہے اسے بہت مشکل سے محظوظ ہوگا۔

‘جہاد کے جوہری بم یعنی فدائی حملے کے استاذ،قاری حسین محسود فضلہم اللہ تعالی کا سینہ ایمان کی حرارت سے ہر دم گرم رہتا تھا۔لیکن ان کے قلب تپاں کی بدولت ان کا سارا جسم ہی اس حرارت سے مملو تھا۔ان کے شکم کے نیچے بفضل اللہی دو بیضوی غدود تھے جن کی نالیوں میں نافع دین خلیوں کی افزائش بدرجہ اتم ہوتی تھی۔یہ خلیے منوی قنیات زریعے سے برنجی نالی میں پہنچتے پھر وہاں سے مجری بول میں چلے آتے۔ایسا معجزہ مخصوص بندوں ہی کے لئے ممکن ہے کہ وہ اپنے مجری بول سے بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بوقت نفوظ اپنے قضیب ( اب خدارا قضیب کا مطلب مت پوچھئے گا یہ کاشف رضا سے ہی پوچھ لیں)۔۔۔۔۔۔۔قضیب بوقت جلال ان کی انگشت شہادت سے کہنی تک آتا تھا۔۔۔۔

ویسے سید کاشف رضا نے ‘ سٹریٹجک ڈیپتھ’ اور معقد کی نالی جو ‘گاف’ تک آتی تھی،بم کے لئے بطور ٹنل کے کام کرنے کا طریقہ اور اس ٹنل کی صفائی کے لئے تاکہ آسانی سے مزائیل اس ٹنل سے سفر کرسکے کی منظر نگاری کی ہے وہ ان کے ذہن کی زرخیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

واقعی ژاں بودریاغ کا کہنا ٹھیک ہی ہے کہ ‘درحقیقت فن کا حقیقت سے تعلق نہیں ہوتا اور وہ حقیقت کی تخریب کرتا ہے۔’ویسے کیا ہی مزا رہے اگر ‘تخریب’ کی جگہ ہم لفظ ‘ مسخ ‘ لگادیں۔

ویسے میں بہت سالوں پہلے جب اسپین گئی جنوبی وزیرستان میں قاری حسین محسود کو ملا تھا تو مجھے قطعی اندازہ نہیں تھا کہ قاری حسین محسود کا یہ شوق بھی ہوسکتا تھا اور وہ اس طرح سے جہادی سٹریٹجک ڈیپتھ پالیسی چلارہا تھا۔

سید کاشف رضا کا یہ ناول میرے جیسے آدمی کے نزدیک مزے کی چیز ہے اور اس کے کئی مناظر ‘سنسناہٹ’ پیدا کرنے کے کام بھی آسکتا ہے۔ایسے لوگوں کے لئے خاص طور پہ جو صادق /ککّی بھائی کی طرح اپنی ساری توانائی خواب دیکھنے اور مزاروں کے چکر لگاکر خرچ نہ کرچے ہوں۔لیکن یہ صرف مزے کی چیز ہی نہیں ہے، اس کے اندر کی فلسفیانہ موشگافیاں اپنی جگہ مگر اس میں آج کی ٹی وی چینلوں کے اندر کی دنیا اور اس میں کام کرنے والے نوجوانوں کی ذہنی ساخت اور ان کی سوچ کی پرچھائیاں بھی ہمیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔کم از کم ان جھلکیوں سے اس ناول کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔

ساجد رشید نے ایک معرکۃ الآراء خط وارث علوی کے نام لکھا تھا جس میں ایک جگہ پہ وہ لکھتے ہیں:

‘محترم میں آپ کے رجعت پسندانہ نظریات ( کاشف رضا کے باب میں اسے بادریاغی نظریات پڑھا جائے) سے ہزارہا اختلافات کے باوجود آپ کی نثر کا مداح رہا ہوں-کیونکہ آپ نے سلیم احمد کے اسلوب کی شوخی اور طراری کو اپنی نثر کے زریعہ سے پھکڑپن تک پہنچادیا ہے وہ مجھ جیسے کم علم قاری کے لئے تفریح طبع (کاشف کے قاری کے باب میں تفریح نفس) کا بہترین زریعہ ہے'(نیا ورق شمارہ 6،اکتوبر تادسمبر 1998ء)

مجھے نجانے کیوں کاشف رضا کی مرد و عورت کے باہمی تعلق کو فکشن کی زبان میں بیان کرتے ہوئے وہی وانوی (کہتے ہیں شوکت تھانوی تھے اس نام کے پیچھے) کا اسلوب یاد آگیا جہاں وہ زرینہ سے کہلواتے ہیں

“کتّے زور سے مار۔۔۔۔” پہلے کچھ دھکوں کے بعد اسے زرینہ کی آواز آئی جس نے منھ بھینچا ہوا تھا اور اسی بھنچے منھ سے اس کی آواز نکلی تھی”

 اور ایسے جب مشعال کے ساتھ ملاقات کے دوران مشعال کنٹین پہ فریج سے کوک نکالنے کے لئے جھکتی ہے تو کاشف جاوید سے یہ فقرہ کہلواتے ہیں:

“I wonder if your bum is as cute as it looks.”

ویسے کاشف رضا اسے حقیقت نگاری یا سماجی حقیقت نگاری کہہ کر میرے سارے مقدمے کی ماں بہن ایک کرسکتے ہیں۔

ژاں بودریاغ نے ایک جگہ لکھا تھا کہ ویت نام کی جنگ ہارنے کے بعد امریکہ نے یہ مان کر نہیں دیا ویت نامیوں نے ان کو ہرادیا تھا اور انہوں نے ڈزنی لینڈ میں ایسی فلمیں بنائی جس نے اس حوالے سے حقیقت کو بالکل ہی مسخ کردیا۔مجھے یہ خیال بار بار آتا رہا کہ اس ناول میں کاشف رضا نے کچھ ایسے معاملات ضرور اٹھائے جن کا براہ راست تعلق امریکی سامراج سے بنتا ہے(اوئی اللہ! یہ لفظ سامراج میں نے کیوں استعمال کردیا،ہمارے مہان لبرل استاد تو اسے گرینڈ بیانیہ کہتے ہیں اور مہابیانیے تو گمراہی ہوتے ہیں اور وہ اسی لئے مارکس ازم اور تاریخی مادیت پرستی کو رد کردیتے ہیں۔دریدا ان کی مدد کو فوری آجاتا ہے)لیکن کاشف رضا امریکی سامراج، اس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پہ دنیا بھر میں پراکسی جنگوں اور مداخلتوں کا ہلکا سا اشارہ بھی اس ناول میں آنے نہیں دیتے۔لیکن یہ کوئی سول نہیں ہے کیونکہ ہم کسی ناول نگار کو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ دور کے قرینے کے ساتھ ساتھ پاس کا قرینہ بھی ناول میں لازم لیکر آئے۔

 ویسے اجمل کمال نے آج تک جتنے بھی ناولوں کا ترجمہ شایع کیا یا ناول نگاروں کے جن ناولوں کو رسالے میں چھاپنے کا اہتمام کیا ہے اس میں کھلے سین ضرور ملتے ہیں جس میں جنس وافر ہوتی ہے۔اب یہ مت سمجھ لیجئے گا کہ میں اسے بطور عیب بیان کررہا ہوں۔بہرحال کاشف رضا ایک پختہ ناول نگار کے طور پہ سامنے آئے ہیں۔انھوں نے جتنے مشکل کرافٹ میں یہ ناول لکھا ،اسے لکھنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ادب بارے ان کا نظریہ کیا ہے اس سے میرا اختلاف اپنی جگہ لیکن اس ناول نے یہ بات ہم پہ عیاں کردی ہے کہ وہ باصلاحیت ادیب ہیں جن کا سٹیمنا بہرحال سو صفحات لکھنے کے بعد جواب نہیں دے جاتا۔ پہلے ناول پہ اور اس کی اس قدر کسی ہوئی مربوط کرافٹنگ پہ سید کاشف رضا کو مبارکباد۔

 

ٹرانسپیرنٹ دوستی-افسانہ ۔عامر حسینی

Nude Marathi Movie Teaser Poster

 

ٹرانسپرینٹ دوست

افسانہ /محمد عامر حسینی

‘میں تمہاری دوست کب بن سکوں گی ۔’

‘جب تم خدوخال سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو دیکھنے لگو گی۔’

‘کیا میری تانیثیت میرے آڑے آتی ہے؟ تو تمہاری تذکیر تمہارے آڑے کیوں نہیں آتی؟’

اس سوال نے مجھے تھوڑا سا پریشان کردیا اور میں سوچنے لگا کہ میں ابتک اس سے تعلق میں کس چیز  کا تمنائی رہا ہوں۔ویسے کل کی بات چیت میں، میں نے اسے بتادیا دیا تھا کہ میں جب بھی اس کا تصور کرتا ہوں تو اس کی آنکھیں، اس کے رخسار،لب،اس کی چھاتیاں،کولہے،اس کی رانیں، ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں میرے تخیل کو گھیر لیتی ہیں اور میری رانوں میں خودبخود سنسناہٹ بڑھ جاتی ہے۔اور مجھے لگتا ہے کہ اس سے وصال میری زندگی کی سب سے بڑی تمنا ہے۔وہ وصال جو پورا مرد،پوری عورت سے کرتا ہے۔لیکن پھر مجھے خیال آتا ہے کہ اس دنیا میں سالم مرد اور سالم عورت کا وصال کبھی کہیں حقیقت بن پایا ہے،یہ دنیا تو بٹے ہوئے اور بکھرے ہوئے مردوں اور عورتوں کی دنیا ہے اور وصال کچھ دیر کے لئے فرار  حاصل کرنے کا ایک بہانہ ہوتا ہے۔بس وہی لمحے تھوڑی دیر کے لئے لذت محض بن جاتے ہیں جس میں پورے دل و دماغ سے ساری توانائی مخصوص جگہوں پہ اکٹھی ہوجاتی ہے اور اس دوران بھی کمبخت ذہن بار بار بھٹک جاتا ہے۔

ہمارا تعلق بھی بڑے ہی عجیب طریقے سے باہم استوار ہوا تھا۔میں ایک یونیورسٹی میں وزیٹنگ لیکچرر کی جاب کررہا تھا۔ہفتے میں دو دن میرے شعبہ فلاسفی میں لیکچر ہوا کرتے تھے۔وہ کمپیوٹر سائنس کی طالبہ تھی اس کا میری کلاس سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن اپنی ایک دوست کے ساتھ وہ یونہی میری کلاس میں آکر بیٹھ جاتی تھی اور میں نے بھی کبھی اس بات کا نوٹس نہیں لیا تھا۔

میں اس کلاس میں غائب دماغی کے ساتھ آتا تھا۔یونیورسٹی میں وزیٹنگ لیکچرر شپ کی یہ جزو وقتی جاب میں نے ایکسٹرا پیسے اکٹھے کرنے کے لئے کی ہوئی تھی، میں بہت عرصے سے مینیول جاب سے بھاگ رہا تھا۔میری اکثر نوکریاں اب جزو وقتی ہوتی تھیں۔کئی رسالوں ، ویب نیوز سائٹس کو میں ان کی ڈیمانڈ پہ چیزیں لکھ کر دے دیتا ،ایسے ہی کئی بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کو ان کی ضرورت کے مطابق خبریں فراہم کردیتا، اور کئی این جی اوز کو درکار ڈیٹے کی فراہمی کردیتا، اور کبھی کبھار بطور ریسورس پرسن کے لیکچر بھی دے آتا اور اس طرح سے میں کافی پیسے کمالیتا تھا۔یہ فری لانسنگ کافی وقت دے دیتی تھی مجھے اور پھر بیوروکریٹک ضابطوں سے بھی جان چھٹی ہی رہتی تھی۔میرا خیال تھا کہ میں ایسے سپائل ہونے سے بچ جاؤں گا۔لیکن مجھے دھیرے دھیرے احساس ہوا کہ محنت کی استعداد کیسے بھی بیچی جائے سرمایہ دارانہ سماج کا حاکم طبقہ آپ کو نچوڑ ہی لیتا ہے اور آپ کو اپنی محنت کے اپنا ہونے کا احساس نہیں ہوتا ہے۔اور بیگانگی اندر ہی اندر جمع ہوتی رہتی ہے۔اور اس دوران کوئی بھی تعلق مستقل نہیں رہتا۔

غائب دماغی کی وجہ بہرحال عارضی نوکریوں کا مجھے نچوڑ لینے نہیں تھا۔بلکہ اس کی وجہ میرے اندر عورت بارے بیٹھے ایک جنون تھا کہ جو عورت بھی میرے قریب آتی تھی میں اس سے جسمانی تعلق بارے نہ چاہتے ہوئے بھی سوچنے لگ جاتا تھا اور میرا سارا علم، ساری سوچ اور ساری صلاحیتیں اس کے لئے وقف ہوجاتی تھیں اور اس دوران اچھے خاصے تعلق کی ماں بہن ایک ہوجاتی تھی۔تو بہت سارے واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے میں  کام کی جگہ پہ دماغ کو بلینک کرلیتا تھا۔میں بظاہر تو کلاس میں موجود ہوتا، اچھے سے لیکچر بھی دے رہا ہوتا لیکن اس وقت میں ،وہاں کسی چہرے کو دیکھ نہیں رہا ہوتا تھا۔لڑکوں کو بھی نہیں،میں آپ کو ایک بات تو بتانا بھول ہی گیا،مجھے دبلے پتلے اور نسوانیت کا احساس لئے ہوئے لڑکوں میں بھی بلا کی جنسی کشش محسوس ہوتی تھی اور میں ایسے لڑکوں کو دیکھ کر ہوش و حواس کھوبیٹھتا تھا اور اسقدر خوبصورت گفتگو کرتا تھا کہ ایسے لڑکے میرے گرویدہ ہوجاتے، میں بہانے بہانے سے ان کو چھوتا تھا اور میرے اندر اس چھونے سے نئی توانائی آجاتی تھی۔

آپ سوچ رہیں ہوں گے میں شاید جنسی طور پہ کوئی ترسا ہوا آدمی ہوں۔آپ کی یہ سوچ انتہائی غلط ہے۔میں بھرپور قسم کی ازواجی زندگی گزار رہا ہوں۔میری بیوی مجھ سے دس سال چھوٹی ہے اور ابھی عمر کے 27 سال میں ہے اور وہ ہر طرح سے جنس کا ایٹم بم ہے اور ساتھ ساتھ بے پناہ محبت کرنے والی بھی۔وہ مراٹھی ہے۔مجھے وہ ممبئی ورلڈ سوشل فورم میں ملی تھی،جہاں میں ایک پروگرام کا ماڈریٹر تھا۔چاکلیٹی کلر ہے اس کا جس پہ میں بے انتہا فدا ہوں۔دبلی پتلی ‎سی مگر اس کی پیٹھ پہ پورا گوشت ہے۔نیلی جینز اور سرمئی کلر کی کرتی پہنے وہ کمال لگ رہی تھی۔شاید ہم دونوں ہی پہلی نظر میں ایک دوسرے پہ فدا ہوگئے تھے۔پھر میں سات دن ممبئی رہا اور اس دوران ہو ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے اور ساتویں دن جب میری فلائٹ میں دو گھنٹے باقی تھے تو ہم نے باہم شادی کرلی۔اسے پاکستان آنے میں سرکاری معاملات سے نمٹنے میں دو سال لگ گئے۔جب میں اسے ملا تھا تو وہ 21 سال کی تھی اور جب وہ پاکستان آئی تو 23 سال کی ہوگئی تھی۔انتھرپولوجی اس نے حال ہی میں پی ایچ ڈی کی ہے۔اور کینڈا سے اسے جاب کی آفر ہ۔میں تو کہتا ہوں چلی جاؤ،مگر کہتی ہے تمہارے بغیر نہیں جاؤں گی۔پاکستان اسے ہائی اسکول میں 17ویں گریڈ کی نوکری ہی دے سکا ہے۔وہ کررہی ہے۔ہم نے سوچ سمجھ کر بچے نہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آپ بھی کہہ رہے ہوں گے کہ اس کا کوئی نام تو ہوگا۔ہاں ہے نا۔’ رینا’ ۔ میں نے ممبئی کے ساحل پہ اچانک سے رات کو ایک الگ تھلگ گوشے میں اس سے اس کے نام کا مطلب اس سے پوچھا تھا تو کہنے لگی،’ اس وقت کیا ہے؟’ میں نے بے اختیار کہا،’رات’ تو اس نے کہا مراٹھی میں رینا رات کو کہتے ہیں۔میں بڑا حیران ہوا، مہاراشٹر میں رات چاکلیٹی ہوتی تو نہیں تھی لیکن مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے اچانک سب چاکلیٹی سا ہوگیا ہو۔اور پھر میں جب بھی اس کے بدن کا طواف کرتا لباس قدرت میں تو مجھے یوں لگتا جیسے چاکلیٹی رات کا مجسمہ برہنہ میرے سامنے ہو اور میں اسے لپا لپ کھائے جارہا ہوں۔میں اس سے کبھی سیر نہیں ہوتا۔ہم روز ہی ایک دوسرے کو دریافت کرتے ہیں اور ہمارا جوش کچی عمر کے لڑکے لڑکیوں کے باہمی میلاپ جیسا ہوتا ہے۔اور خوب ایک دوسرے سے لطف اندوز ہونے کے باوجود اگلی بار پھر میرا جوش ویسے ہی دیدنی ہوتا جیسے بچے چاکلیٹ کو دیکھ کر بے صبرے ہوجاتے ہیں اور ان کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔

میرے اندر ایک کمزوری ہے۔اور یہ کمزوری اکثر میرے سے بہت سے لوگوں کو دور کردیتی ہے۔اور وہ کمزوری ہے جب کوئی میرے بہت قریب ہوجائے تو میں اس سے کچھ نہیں چھپاتا ہوں۔ایک رات جب میں اس کی محبت میں خوب سرشار تھا اور رات بھی اماؤس کی تھی تو اچانک سے میں نے اسے عورتوں اور لڑکوں سے متعلق اپنے جنون بارے سب بتاڈالا۔اور ایک رو میں بہہ کر اسے بتاتا رہا۔جب ميں نے کہا کہ مجھے ‘دبلے پتلے نسوانیت سے بھرے لڑکے بہت پسند ہیں، ان میں مجھے جنس بھری بھری لگتی ہے۔’ تو وہ ایک دم سے بولی،’جیسے وہ سروش ،ہے نا! میں ایک دم سے بھونچکا رہ گیا۔میرے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکل رہا تھا۔

‘پریشان ہونے کی جرورت نہیں ہے،میں اس دن وقت سے پہلے گھر آگئی تھی اور چابی کھماکر دروازہ کھولا تو تم اور سروش دنیا جہاں سے بے خبر قالین پہ ہی اپنے جنون کی نشانیاں ثبت کرنے میں لگے تھے۔میں واپس پلٹ گئی تھی۔’

‘اور ایک بار غلطی سے تمہارا لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا اور انباکس میسجز پڑھے مجھے تجسس ہوا اور یہ تجسس تمہاری کہانیاں پڑھ کر بھی ہوا تھا تو وہ ‘راگنی’ کے نام سے بنا تمہارا فولڈر میں نے کھول کر پڑھ لیا تھا۔مجھے لگا تھا کہ شاید راگنی کوئی عورت ہے لیکن اس راگنی میں سے کئی لڑکے اور کئی عورتیں نکل آئیں۔’

‘تمہیں یہ سب بے وفائی نہیں لگی۔’

‘ارے نہیں یار! تمہارا میرے ساتھ جو سلوک ہے اور جس قدر تعلق ہے اس میں بے ساختگی ہے اور تم میرے ساتھ بے دلی سے نہیں ہو اور یہی مجھے درکار ہے، اگر کہیں یہ بناوٹی ہوتا یا اوپرا اوپرا ہوتا تو میں کب کی چھوڑ گئی ہوتی تمہیں۔’

رینا صرف نام کی رات نہیں ہے بلکہ وہ عمل میں بھی رات ہے۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔میں  بات کررہا تھا اس کیمپوٹر سائنس کی طالبہ کی جو میری فلاسفی کی کلاس میں آکر بیٹھ جاتی تھی۔ایک دن میں یونانی شاعرہ سیفو بارے اپنی کلاس کو پڑھارہا تھا۔اس کی شاعری سے بات اس کی ہم جنس پرستی کی جانب بڑھی اور میں نے بتایا کہ کیسے اسے مردوں اور عورتوں دونوں میں یکساں دلچسپی تھی۔سروش کی آنکھوں میں شرارت امنڈ آئی۔ایسے وقت میں وہ مجھے اسقدر سیکسی لگتا تھا کہ میرا بلینک دماغ فوری حاضر ہوتا اور میرا دل کرتا کہ اسے اٹھاؤں اور اپنی میز پہ ننگا کروں اور اسی وقت اس کے سارے بدن کو چاٹنے لگ جاؤں۔کچی عمر کا سروش جس کی عمر مشکل سے سترہ سال تھی بید مجنوں کی طرح لچکدار جسم کا مالک تھا اور بدن اس کا مخمل کی طرح تھا۔زرا سی انگلی کا دباؤ ساری انگلی بدن میں گھسادیتا تھا۔

‘بعض مردوں میں سیفو کی روح ہوتی ہے سر! اور وہ بھی مردوں اور عورتوں کو یکساں پسند کرتے ہیں،بلکہ پسند کیا کھاجاتے ہیں ان کو۔’

یہ کہتے ہوئے وہ وہ اپنے ہونٹ ایسے چبا رہا تھا کہ میں بہت مشکل سے اپنے اوپر کنٹرول کرپارہا تھا۔کلاس ختم ہوئی تو میں نے سروش کو اشارہ کیا اور نجانے مجھے کیا ہوگیا تھا اور میں اسے جینٹس واش روم کی طرف لے گا اور میں واقعی اس کے ہونٹ چپاڈالے تھے اور اس کے ہونٹ پہ خون کی ایک پتلی سی بوند میرے ہیجان کو اور تیز کئے جارہی تھی۔میں نے اس کے کولہوں کو دبایا ،وہ بھی اس دن بہت وحشی لگ رہا تھا۔میں بار بار اسے ‘سیفو، سیفو ‘ کہہ کر پکار رہا تھا اور جب تک ہمارا ہیجان اپنے اختتام کو نہ پہنچا میں اسے اسی نام سے پکارتا رہا۔بعد میں،میں نے سوچا کہ اگر اس دوران کوئی جینٹ واش رومز کی جانب آنکلتا تو ۔۔۔۔۔۔؟ بس آگے مجھ سے کچھ نہ سوچا گیا۔

میں  اس کے بعد عجلت میں وہاں سے نکل کر باہر آیا اور یونیورسٹی سے شٹل لینے کے لئے سٹاپ پہ آیا تو وہاں وہ کمپیوٹر سائنس کی طالبہ میری کلاس کی طالبہ کے ساتھ کھڑی تھی۔ابھی شٹل آنے میں دیر تھی۔دونوں مجھے سلام کیا۔

ہم کچھ دیر سٹاپ خاموشی سے کھڑۓ رہے۔اچانک کمپیوٹر سائنس کی طالبہ نے کہا،’ سر! سیفو جیسی عورت کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کا لہجہ ستائشی تھا اور کیا ایسی عورتیں اس قابل ہوتی ہیں کہ انکی محض اس لئے تعریف کی جائے کہ ان کی نظم کمال کی ہے،اور کیا ہم جنس پرستانہ شاعری میں کوئی کمال ہوتا ہے؟’

میں اس کے یوں دھڑ سے بولنے پہ تھوڑا سا حیران ہوا۔مگر اس کی گفتگو زرا بھی اس قابل نہ لگی کہ میں اس پہ کوئی کمنٹ کروں۔مجھے لگا کہ وہ یا تو مودودی کی پیرو ہے یا پھر فرحت ہاشمی سے متاثر ہے۔اتنے میں شٹل بھی پاس آنے لگی۔اور میں اس سے کچھ کہے بغیر ہی شٹل میں سوار ہوگیا۔

اس رات رینا گھر نہیں تھی۔وہ ایک ٹریننگ کے سلسلے میں راولپنڈی گئی ہوئی تھی،میں نے شامی کا نمبر ڈائل کیا،مگر وہ بند تھا۔شامی کوکا کولا فیکٹری پلانٹ میں کوالٹی کنٹرول اینالسٹ تھا۔ایف ایس سی کرکے اس شعبے میں آگیا تھا۔اور کوکا کولا فیکٹری کی سی بی اے میں ایک متحرک نوجوان مزدور کارکن تھا۔اور اس فیکٹری میں کچے مزدروں کو پکا کرنے کی ایک تحریک چل رہی تھی۔میں بھی اس تحریک کے معاونین میں شامل تھا۔اور فیکٹری مزدوروں کا اسٹڈی سرکل لینے چلا جاتا تھا۔سی بی اے کے صدر شوکت کے زریعے میں وہاں پہنچا تھا اور شامی یونین کا سیکرٹری نشر واشاعت تھا۔میں نے اس کی تربیت کی تھی۔اور اسے مقامی صحافیوں سے ملوایا تھا۔اسے میں نے پمفلٹ لکھنا، سوشل میڈیا پہ سالیڈرٹی کمپئن بنانے اور چلانے کا طریقہ سکھایا تھا اور ایسے ہی اسے ٹوئٹر ہنڈلر اور فیس بک اکاؤنٹ، بلاگنگ وغیرہ سکھائی تھی۔ان دنوں ابھی یہ نئی نئی آئی تھیں۔میرے سامنے وہ کافی مودب رہتا تھا لیکن میں نے محسوس کیا تھا کہ وہ کنکھیوں سے میرے سراپے کا جائزہ لیتا رہتا تھا۔اب اس سے یہ مت سمجھ لیجیے گا کہ میرے خدوخال اور جسامت کوئی ہیرو جیسی تھی۔میری شیو اکثر بڑھی رہتی تھی۔کئی کئی ماہ شیو نہیں کرتا تھا، نہاتا مجبوری سے تھا،پیٹ کچھ باہر کو نکلا ہوا تھا (رینا وقت وصال مجھے موٹو کہتی اور کہا کرتی تھی ۔موٹو ! اتنا وزن ہے تمہارا مجھے ماردوگے کیا ، آپ وہ دھان پان سی تھی)،ہونٹ ہمیشہ سے خشک، پپڑی جمی ہوئی، کثرت سے سگریٹ نوشی کے سبب  سیاہ پڑے ہوئے تھے،سر کے بال کھچڑی بنے رہتے تھے۔جینز ہفتوں پرانی مگر شرٹ رینا کے اصرار پہ مجھے ہر روز بدلنا پڑتی تھی اور میرے جوتے بھی وہی زبردستی پالش کردیتی تھی۔بہرحال ایک دن میں نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔اس سے پوچھا ،’کیا دیکھ رہے ہو؟’

‘کچھ بھی نہیں۔’ وہ تھوڑا سا گھبرا گیا۔ ‘نہیں! بتاؤ، اکثر دیکھتے رہتے ہو۔’

‘آپ مجھے اچھے لگتے ہو، پسند کرتا ہوں آپ میں کامریڈ! ‘ (یہ لفظ بھی میں نے اسے سکھایا تھا کیونکہ وہ مجھے ‘سر’ کہتا تھا تو میں نے اسے کامریڈ کہنے کو کہا، اس نے پوچھا تھا کہ کامریڈ کا مطلب ،تو میرے منہ سے نکلا ‘ساتھی’ تو بے اختیتار اس کی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔میں سمجھ گیا تھا کہ وہ کیوں ہنسا تھا اور میرا دھیان بھی فوری طور پہ کنڈوم کی مشہوری کی طرف چلاگیا تھا اور میں بھی بے اختیار ہنسنے لگا تھا اور میں نے کہا تھا ‘،’ یہ بھی امریکی سامراج کی سازش ہے ۔’

اس کے اس طرح سے اطہار پسندیدگی پہ میں نے پہلی بار اسے دوسرے انداز میں دیکھا۔وہ دبلا پتلا تھا مگر قد تھوڑا چھوٹا تھا۔مسیں ابھی پھوٹ رہی تھیں ۔غالب کے سبزہ خط کے آثار بھی نہ تھے۔آنکھیں بادامی اور رنگ گندمی تھا اور اس کی انگلیاں مخروطی تھیں۔میرے اندر ایک اور کجی تھی مجھے سپاٹ اور چپٹی انگلیوں والے پیر بالکل پسند نہ تھے۔میں نے اچانک اسے کہا،’ جوتے اور جرابیں  اتار کر اپنے پیر مجھے دکھاؤ۔’

اس کو کچھ سمجھ نہیں آئی مگر اس نے اپنے جاگرز اور جرابیں اتاریں تو اس کے صاف شفاف متناسب پیر اور توازن لئے ہوئے انگلیاں دیکھکر میرے منہ سے اطمینان کا سانس نکلا،

‘گڈ، ٹھیک ہوگیا۔’ میں نے کہا۔ ‘ آگے آؤ۔’ وہ آیا تو ایک دم میں اس کے ہونٹوں پہ حملہ آور ہوا اور بس پھر اس کے بعد ہمارا تعلق انقلاب دوستی سے آگے بڑھ کر ذاتی تعلق میں بدل گیا۔آج سروش نے میرے اندر جو آگ بھڑکائی تھی وہ کسی طرح سے ٹھنڈی ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔میں نے کئی بار شامی کا نمبر ڈائل کیا ،مگر ہر بار ناٹ رسپانڈنگ۔

میں بےچینی سے کمرے میں ٹہل رہا تھا کہ اچانک میرے موبائل فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوگئی۔میں نے لپک کر میز پہ پڑے فون کو اٹھایا،میرا خیال تھا کہ شامی کا فون ہوگا۔مگر یہ کوئی انجان نمبر تھا۔

ہیلو!

ہیلو! کون ؟

میں سر وہ یونیورسٹی والی لڑکی فریحہ ۔

کون فریحہ !

ہم آج یونیورسٹی شٹل سٹاپ پہ ملے تھے اور سیفو بارے میں نے پوچھا تھا آپ سے

اوہ اچھا! (سخت مایوسی بھرے لہجے میں ،میں نے کہا )

فرمائیں !

آپ کو اگر پسند نہیں تو میں بات نہیں کرتی

نہیں کریں

وہی سیفو جیسی عورتوں کو آپ کیوں گلوریفائی کرتے ہیں؟

اس لئے کہ سیفو اپنے زمانے کی ایک آزاد عورت تھی جس نے اپنی آزادی پہ کمپرومائز نہیں کیا

اسے آپ آزادی کہتے ہیں، بے راہ روی، ہے یہ

(مجھے اس لڑکی کا طنطنہ،اس کی آواز میں بھرا اعتماد اور اس کا چیلنجنگ رویہ اچھا لگا تو اس کی بکواس مجھے بری نہیں لگی۔مجھے اس کی گفتگو سنکر اپنا لڑکپن یاد آگیا جب میں نے پہلی بار سبط حسن کو پڑھنا شروع کیا تو  اس کی کتاب ‘نوید فکر’ کے آغاز میں خالی صفحے پہ لکھا کہ یہ شخص بے دین، ملحد اور انتہائی گمراہ کن خیالات کا مالک لگتا ہے، تازہ تازہ میں نے مودودی ، حسن البنا اور سید قطب کو پڑھا تھا۔پھر چند سالوں بعد اسی نوٹ کے نيجے لکھا کہ ‘اب میرے یہ خیالات نہیں ہیں،سبط حسن کی باتیں ٹھیک ہیں )

میں ہنس پڑا ، اور کہا کہ تمہارا اقبال بارے کیا خیال ہے؟

‘وہ میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔بہت زبردست آدمی تھے۔مسلمانوں  کو خواب گراں سے جگایا  انھوں نے ۔’

میں یہ سنکر کھلکھلا کر ہنس پڑا

‘ہنسے کیوں آپ ؟’

‘پاگل لڑکی وہ عاشق نیاز بھی نہیں تھا، تین شادیاں ، کئی عشق، طوائفوں سے نین مٹکا کرنے والا، اکھاڑے میں کشتی کا شوقین اور مئے ناب سے دل بہلانے والا تھا، کشن پرشاد سے ججی مانگتا ، ملکہ بھوپال سے وظیفہ کا خواستگار تھا۔’

‘کیا کیا؟ یہ سب بکواس ہے۔۔۔۔۔ ‘

‘تو جاؤ نا اقبال کی زندگی پہ تفصیل سے پڑھو۔۔۔۔سنو روس کا ایک شاعر تھا پشکن، نوجوانی میں اس نے بڑے بڑے لوگوں کی سوانح عمریاں پڑھنی شروع کیں تو اسے پتا چلا کہ ان میں سے ہر ایک نے مروجہ رسمی اخلاقیات کو ٹھوکر لگائی تھی اور کے ہاں کجی کا نام سیدھ اور سیدھ کا نام کجی تھا۔’

تو ایسے ہمارا تعلق شروع ہوگیا۔وہ چہرے پہ ہمہ وقت نقاب لئے رکھتی۔ اس کی آنکھوں کا میں اسیر ہوگیا تھا۔اور پانچ اعشاریہ چھے فٹ کی وہ لڑکی بھرے بھرے جسم کی مالک تھی، اس کے بال اس کی کمر کے اس حصّے تک آتے تھے جس کے ہچکولے میرے دل کی دنیا تہہ و بالا کئے دیتے تھے۔

مجھے ایک دن لگا کہ میں طوطوں کی کلاس لے رہا ہوں تو میں نے وزیٹنگ لیکچرر شپ چھوڑ دی مگر اس لڑکی سے میرا ربط نہ ٹوٹا۔ہماری گفتگو میں اب مشکل سے ہی ‘بڑی بڑی بوجھل بقراطی ‘ باتیں در آتیں۔وہ کتابوں سے بھگنے والی لڑکی تھی۔اور اس کے ہاں بس ایک اوسط ذہانت اور مروجہ رسمی اخلاقیات کا چرچا ہوتا تھا، پہلے وہ میری  جنسیت سے بھری باتوں سے بدکتی تھی اور اکثر کال کاٹ دیتی تھی مگر اب وہ ایسا نہیں کرتی تھی، بس اتنا کہتی ،’آپ بہت گندی باتیں کرتے ہیں۔’

پھر میرا فیوز اڑ گیا۔یہ فیوز کا اڑنا بھی عجیب ہے۔جب یہ اڑتا ہے تو میں اپنے آپ سے بھی بے نیاز ہوجاتا ہوں۔اور اپنی بھی خبر نہیں لیتا۔شکر رینا میری اس عادت کا شکار نہیں بنی ورنہ میں اسے کھودیتا۔کئی ماہ اس کیفیت میں گزر گئے۔اس دوران کبھی کبھار میں اسے گڈمارننگ اور گڈنائٹ کا مسیج بھیج دیتا اور کبھی کبھی اسے ‘پھلجھڑی ، چھمک چھلو، چھنال ، سیکسی گرل  ہائے! کا میسج بھیج دیتا۔شروع شروع میں وہ بہت غصّہ کرتی تھی لیکن مجھے اب لگنے لگا تھا  اب اسے ان لفظوں میں چھپے میرے لگاؤ کو پہچان گئی تھی تو کوئی اعتراض نہ کرتی۔پہلے پہل کہتی یہ سب تم ان سے کہہ لیا کرو جو تمہارے اردگرد بہت سی ہیں۔اور میں کہتا کہ ان میں سے ایک بھی فریحہ نہیں ہے۔وہ پہلے رینا بارے بہت سوال کرتی۔کہتی ،بھابھی اتنی پیاری ہیں، آپ کی سمجھ نہیں آتی۔میرا عجیب حال تھا کہ میں اس سے جب بھی بات کرتا تھا مجھے لگتا کہ وہ میرے سامنے ننگی بیٹھی ہے اور ایک ہی وقت میں اس کے سارے جسم کے ایک ایک عضو کو نہار رہا ہوں۔

پھر وہ کچھ دنوں کے لئے بالکل غائب ہوگئی۔میسج کا بھی کوئی جواب نہیں تھا۔میں باؤلا سا ہوگیا تھا۔اسے سینکڑوں ایس ایم ایس اور وائس میسج بھیج ڈالے۔مگر کوئی جواب  نہ تھا ۔پھر ایک دن میرا موبائل جاگ گیا۔دوسری طرف وہ تھی۔میں نے کافی شکوہ کیا۔

‘میری شادی ہوگئی ہے۔اس لئے کوئی رابطہ نہ ہوسکا۔’

‘اچھا ،کس سے شادی ہوگئی ! ‘

‘بوٹ والا جوان ہے ۔’

‘ہائے، شب زفاف منانے کے بعد خیال آیا ۔’

‘آپ کی سوئی ایک ہی جگہ اٹکی رہتی ہے۔’

‘اب کہاں سوئی اٹکے گی ۔۔۔۔۔اندر چلی جائے گی۔’

‘شٹ اپ(مصنوعی غصّہ تھا)، بہت گندے ہو۔’

‘جنس میں گندگی کہاں سے آگئی ،کیا اسے بھی یہی کہا ۔’

‘اب تمہارا لگاؤ مجھ سے ختم ہوگیا ہوگا، ایک دم سے تمہارا جنون جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ہوا۔’

وہ ایک دم سے آپ کی بجائے تم پہ اتر آئی تھی ،مجھے وہ اور میچور لگ رہی تھی، لگتا تھا کہ اس کے لاشعور میں جنس بارے جو ہلکا سا خوف تھا وہ اتر چکا تھا، میں ہنس پڑا اور کہا، ‘اب تو یہ دوآتشہ ہوگیا ہے، کم از کم اب تمہیں احساس ہوگا کہ میں کیا کہتا رہا ہوں اتنے عرصے سے تمہیں چھمک چھلو ۔’

ایک دن وہ موبائل فون پہ مجھ سے بات کررہی تھی اچانک کہنے لگی،

‘کوئی ایسی عورت بھی تمہاری زندگی میں آئی جسے تم نے خدوخال سے اوپر جاکر دیکھا ہو؟’

میں اس کے سوال کو سنکر ایک دم سے ساکت ہوگیا۔اس نے ڈائریکٹ وہ سوال کردیا تھا جس سے میں ہمیشہ بھاگا کرتا تھا۔مگر فریحہ ایسی لڑکی تھی جس کو میں حقیقت بتائے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔

‘ہاں تھی۔بلکہ ہے۔’

‘کون ؟ رینا ؟’

‘ارے نہیں ، رینا کو میں خدوخال کے بغیر دیکھ ہی نہیں سکتا ورنہ وہ میری بیوی نہ ہوتی ۔’

‘پھر کون ؟’

‘وہ میری واحد دوست تھی۔’

‘کیا مطلب دوست تو میں بھی ہوں ۔’

‘تم ‘وہ دوست’ نہیں ہوں ۔’

‘وہ دوست ۔’

‘ایسا رفیق جس کے خدوخال میرے آڑے نہ آئے اور وہ اتنی ٹرانسپرینٹ تھی کہ اس نے براہ راست مجھے اپنے اندر جھانکنے کی اجازت دی اور یہ فن اس کے ہی پاس تھا۔’

‘میں کب تمہاری ٹرانسپیرنٹ دوست بن سکوں گی ؟’

‘کب کا تو مجھے نہیں ، پتا مگر جس دن تم مجھے اپنے بدن سے آگے اندر جھانکنے پہ مجبور کردوگی اور اپنی ذات کے گرد ان چھلکوں سے آگے مجھے لیکر چلی جاؤ گی اسی دن تم میری ٹرانسپرینٹ دوست بن جاؤگی۔’

پس نوشت : میں اس دن اپنے گھر کے ٹیرس پہ ہاتھ میں کافی کا کپ پکڑے کھڑا گلی میں جھانک رہا تھا۔جب کورئیر سروس والا،میرے گھر کے دروازے پہ کھڑا ہوا۔ اس نے بیل بجائی، رینا نے دروازہ کھولا اور اس نے ایک لفافہ اس کی جانب بڑھا دیا۔رینا نے ایک کاغذ پہ وصولی کے سائن کئے اور اندر چلی آئی۔تھوڑی دیر بعد وہ ٹیرس پہ تھی اس نے لفافہ مجھے تھمادیا۔میں لفافہ چاک کیا  تو اندر سے فل اسکیپ کا ایک کاغذ نکلا۔میں نے اسے ّپڑھنا شروع کیا :

ڈئیر ،

جب تمہیں یہ خط ملے گا اس وقت تک شاید میں ٹرانسپرینٹ فرینڈ میں ٹرانسفارم ہونے کے سفر پہ روانہ ہوگئی ہوں گی۔میں نے بہت سوچا کہ کیسے میں اپنے خدوخال سے اوپر اٹھ کر تمہیں پاسکتی ہوں تو اس کا ایک ہی طریقہ میری سمجھ میں آیا اور اس طریقے پہ میں عمل کرنے جارہی ہوں۔اور امید کرتی ہوں کہ اب تم اسی عورت کی طرح ہمیشہ مجھے اپنا دوست رکھوگے جسے تم اٹھتے بیٹھتے یاد کرتے رہتے ہو۔میں سمجھتی ہوں صرف اسی طریقے سے کوئی عورت تمہاری ٹرانسپرینٹ دوست بن سکتی ہے،ورنہ تم ہمیشہ اس کے چہرے، لبوں، رخساروں، چھاتیوں، رانوں میں ہی کھوئے رہوگے۔

والسلام

فریحہ وہی پہلے والی

میں نے خط پڑھتے ہی فوری اپنے موبائل پہ اس کا نمبر ملایا۔گھنٹی بجتی رہی جب میں مایوس ہوکر فون کاٹنے والا ہی تھا فون اٹھاہی لیا،میں نے بے تابی سے ‘فریحہ ‘ بولا تو آگے سے کوئی بھرائی ہوئی آواز میں بولا:

‘ساری،فریحہ نے دو دن پہلے خودکشی کرلی، میں ان کا شوہر بول رہا ہوں۔’

یہ سکر میرے ہاتھ سے موبائل گرپڑا،میری اب ایک نہیں دو ٹرانسپیرنٹ دوست ہوگئی تھیں۔

 

Qasim yaqoob

Qasim Yaqoob,Editor Nuqaat

 

 

فیصل آباد سے ‘نئے ادب کا ترجمان ‘ کے نعرے کے ساتھ  ادبی رسالہ ‘نقاط’ شایع  ہوتا ہے۔ابتک اس رسالے کے 15 شمارے آئے ہیں۔تازہ شمارا اکتوبر کے مہینے میں شایع ہوا اور ہم تک نومبر میں پہنچا ہے۔اس کے مدیر قاسم یعقوب ہیں جو خود بھی مضمون نگار ہیں۔دو کتابوں کے مصنف ہیں۔اور ان کی کتاب ‘لفظ و تنقید معنی ‘ کے پیش لفظ اور چھے عدد مضامین پڑھ کر مجھے لگتا ہے کہ وہ جدیدیت و مابعدجدیت کے بین بین کی چیز ہیں اور مارکس واد سے الرجک نظر آتے ہیں۔اور یہ ان کا حق ہے کہ وہ تنقید میں خود کو کس مکتبہ فکر سے وابستہ کرتے ہیں۔

میرے سامنے نقاط کا جو تازہ شمارا ہے،اس میں مضامین کے باب میں آصف فرخی (ساراؤکفتہ اور رنگ چور)، ڈاکٹر عباس نیر(مجھے نظم لکھتی ہے)،خالد جاوید ( کچھ’قبض زماں’ بارے میں)،سرور الھدی ( فراق،عسکری،فاروقی)،سید تحسین گیلانی ( سیاہ کوا) ،نسیم سید (مست توکلی اور شاہ محمد مری:امن کی فکری تحریک کی ابتداء ) اور حنا جمشید ( بورخیس کی کہانی “دست خداوند”) شامل ہیں۔سید محمد اشرف نے’نیر مسعود کی کہانیاں: کھوئے ہوؤں کی جستجو’ کے عنوان سے نیر مسعود پہ لکھا ہے۔

تراجم میں چینی زبان میں مائیکرو فکشن،معاصر چینی افسانے،ہاورڈ فاسٹ، جین ہارڈی ،کئیرلن گجن، شبنم اور دیگر کے تراجم شامل ہیں۔خصوصی مطالعہ میں ارون دھتی رائے کا تعارف عمر جاوید نے اور ارون دھتی رائے کے دو انٹرویو اور اس کی دوسرے ناول کے پہلے باب اور چوتھے باب کا ترجمہ شامل ہے۔منگل مور کے عنوان سے عرفان جاوید کا ایک مضمون اور سلمی اعوان کا سفری احوال پہ مبنی ایک مضمون اور پھر رموز فنون کے باب میں پروفیسر شہباز علی ہاشمی اور اقدس علی قریشی کے مضامین  اور پھر حصّہ غزل و نظم ۔افسانہ کے باب میں چھے افسانہ نگاروں کی کہانیاں،ناول کے باب میں زیف سید کی تحریر۔سماجیات کے باب میں ہودبھائی،یونس خان اور ڈاکٹر عامر سعید کی تحریریں اور ‘عورت ،صنف اور سماج ‘ کے باب میں فارینہ الماس،فیاض ندیم اور ،افیہ شاکر کی تحریریں۔کتاب تبصرے میں نسیم سید ،رابعہ الربا سعدیہ ممتاز کے تبصرے۔

یہ 505 صفحات پہ مشتمل رسالہ ہے جس کی تدوین یعقوب قاسم نے کی ہے۔اور رسالے میں کسی بھی مجلس ادارت کے تحت کوئی نام موجود نہیں ہے تو گمان یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ رسالہ یعقوب قاسم کی کاوش ہے اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔

اب اسے اتفاق کہہ لیں کہ جب مجھے ‘نقاط ‘ کا تازہ شمارہ موصول ہوا اور میں نے اسے پڑھنے کے لئے کھولا تو قاسم یعقوب نے رسالے کے اداریے میں ‘ادبی صحافت’ کے ایشو کو ہی  بنیاد بنایا ہوا تھا اور میں بمبیئ کے معروف اردو و ہندی کے ادیب مرحوم ساجد رشید کے رسالے ‘نیاورق’ کےاداریوں کا مجموعہ دستخط پڑھ رہا تھا وسیم کاویانی کا شکریہ کہ انہوں نے اس مجموعے کو اکٹھا کردیا۔شاداب رشید کی مہربانی کہ مبمئی سے صوابی اور صوابی سے خانیوال یہ مجھ تک پہنچ گیا۔

ڈاکٹر ظ انصاری نے کسی جگہ طنزیہ طور پہ اردو کے ادبی رسالوں بارے لکھا تھا:

‘اردو زبان کا ہر رسالہ علمی و ادبی رسالہ ہوتا ہے اور ہمارے ہاں غالبا افسانوں اور غزلوں ہی کو علم و ادب سمجھا جاتا ہے۔’

لیکن ساجد رشید نے اس کلیشے کے توڑ دیا تھا۔نقاط میں قاسم یعقوب نے ‘ادبی صحافت ‘ کو سنجیدگی سے نہ لئے جانے اور اسے غیر ادبی سرگرمی سمجھے جانے کا شکوہ کیا ہے۔میرا خیال ہے کہ ادبی صحافت کے بغیر ادبی رسالوں کو قاری میسر آنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا جارہا ہے اور ایسے ادب کی زندگی بھی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے جو سماج اور معاشرے سے بیگانگی برتنے کی کوشش کرتا ہے۔اور دنیا زاد، آج جیسے اردو کے رسالوں کے زیادہ تر قاری وہ ہیں جو عرف عام میں ادبی دنیا سے تعلق نہیں رکھتے اور ان کی دلچسپی سماجیات میں زیادہ ہے۔

قاسم یعقوب سوشل میڈیا کی آزادی اور اس کے ادبی جمالیات میں دخیل ہونے پہ شکوہ کناں ہیں اور  اور وہ ادب کی سوشل میڈیا میں قرآت کو ‘اشتہار کی قرآت ‘ قرار دے رہے ہیں۔میرا خیال ہے کہ اس تاثر میں جزوی صداقت ہے یہ مجموعی طور پہ ٹھیک نہیں ہے۔سوشل میڈیا نے ادب کے پھیلاؤ اور وسعت میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور ان کو کسی بھی قاری کی آزادی کو محدود کرنے کی بات نہیں کرنی چاہئیے۔جو پوسٹ پبلک ہوئی ،اس پوسٹ پہ جو قابل قدر تبصرہ ہوگا وہ جگہ بنائے گا جبکہ اشتہاری اور بے ہنگام شور جلد ہی ختم ہوجائے گا۔مجھ جیسے لوگ بھی اسی سوشل میڈیا کی وجہ سے سامنے آئے ہیں۔ورنہ ایک زمانے میں تک جب تک آپ وزیر آغا یا قاسمی صاحب کے گروپ میں شامل نہ ہوتے تو آپ کا کسی رسالے میں چھپنے کا امکان ہی معدوم ہوجاتا تھا۔

پاکستان میں ادبی صحافت کے پھلنے پھولنے کے پورے امکانات موجود ہیں۔اس وقت سوشل میڈیا میں ادبی صحافت اپنے عروج پہ ہے۔حال احوال، روزن، مکالمہ ، ہم سب، قلمکار ،ایل یو بی پاک سمیت کئی اردو سوشل بلاگ ویب سائٹس کی ادارت ادیب صحافیوں کے ہاتھ ہی میں ہے اور یہ پاکستان کے مقبول اردو بلاگ ویب سائٹس میں بدل چکی ہیں۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ ‘نقاط’ کو بھی آن لائن لانے پہ کام شروع کرنا چاہئیے۔تاکہ ایک کلک کرے اسے پوری دنیا میں پڑھا جاسکے۔بے شک اس پہ لاگ ان ہونے کی قیمت رکھ دی جائے۔ڈیجٹل فارمیٹ میں اردو کے ادبی رسالوں کے آنے سے ان رسائل کی زندگی کا دورانیہ اور بڑھ جائے گا۔

 

Nuqat

 

image nuqat content

 

Nuqatimage 2

Victimization of Baloch Women and Silence Culture – Aamir Hussaini

Fazila Baloch

Photograph Fazila Baloch allegedly enforced missing wife of Dr.Allah.Nazar of banned #BLF

 

 

Fazila, Zarina, Farah, Sakina, Sulma are among those names which are very common in Urdu-speaking and Punjabi-Speaking urban chattering class but some names are little bit strange for them like Ayal, Gorjan, Zheerag. When we add Baloch with these common and rare names then we understand their identity and region with which those belong. Now question is that why such names are being mentioned when we deal issues like internal displacement of the Baloch people or Baluoh asylum seekers, enforced missing persons and alleged fake encounters in Baluch populated areas.

 

But such names we see only in posts made on social media. In mainstream media there is totally silence. We can say that culture of silence has been prevailed and our print and electronic media totally submerged into this silence culture.

 

It has been said that allegedly Karachi rangers in Uniform and some other in plainclothes armed with guns stormed into house of Nawaz Atta Baluch, general secretary of Baluch Human rights orhanization-BHRO in Gulistan-i-Juhar Karachi in midnight on 28th October, 2017. Women in the said house were tortured when they asked the raided party to show the search warrants. A women named Farah Baloch was over thrown from the roof of the said house and got fracture in spine. Atta Nawaz Baloch, 8 years old Aftab s/o Muhammad Younis Baloch and two other boys were picked up by the raided party and now all picked up persons have been enforced missing because Karachi Rangers officially denied of conducting any raid in the house of Nawaz Atta Baloch of Baluchistan Human Rights Organization-BHRO.

 

 

It has been learnt that Farah Baloch( who got  fracture in her spine cord during alleged raid of the Karachi Rangers at a house of human rights activist) is widow of Shahnawaz Baloch cousin of Nawaz Atta Baloch, who was killed by Pakistani securtity forces at his home in alleged encounter. Shahnawaz Baloch married to Farah Baloch just before three days when he was encountered to death by security forces. Farah Baloch called it fake encounter and extra-judicial killing of her husband. She was in struggle for justice with cooperation of BHRO when she faced Karachi rangers.

 

Incident happened in Gulistan-i-Juhar Karachi was totally blacked out in mainstream media and just appeared in Social Media as usual. Social media activists showed strong reaction on enforced missing of eight years old student Aftab baloch and over throwing of Farah Baloch from roof.

 

Protest campaign was getting momentum when news of  missing of Fazila baloch, wife of Allah Nazar, head of banned militant baloch organization Baloch Liberation Front-BLF, her three yrears adopted daughter,Popal Jan, her relative women Sulma d/o Raheemdad along with her one and half year old son Irfan, Iyal d/o Amin baloch along her two years old daught Zaheerag and Gorjan appeared again on social media and totally blacked out by mainstream media as usual.

 

On social media after missing of wife of Dr.Allah Nazar baloch of BLF and three other women there are being made contradictory claims by Baluch organizations and pro-Pakistani security forces social media accounts.

 

Baluchistan National Movement, a baluch separatist political party uploaded a scanned press release on its tweeter and Facebook accounts( The Baluchistan Post, a news website also referred this press release while posting news of the said missing) which claims that Fazila baloch along with her three years old adopted daughter Popal Jan baloch and other there women, relatives of her, two younger babies had come Quetta for treatment of Fazila baloch suffering from Post-Traumatic Stress Disorder-PST after getting injuries during a bombing o her village in Muskay district of Baluchistan and could not recover fully after botched backbone operation and they all were allegedly by intelligence agencies from Sariab road Quetta on 30th October,2017. But still independent sources did not confirmed this claim and neither any security or intelligence agency accepted that they had taken Fazila and others into their custody.

 

But Ahmad Qureashi a controversial anchor, seemed pro-security forces officials who are facing of allegations of making human rights violations in Baluch areas claimed in a tweet that Fazila baloch was arrested at Chaman Pak-Afghan border while trying to flee to Kandhar Afghanistan. But this calim could not be verified by security agencies of Pakistan immediately.

 

  Popal Jan daughter

Popal Jan Three years old adopted Daughter of missing Fazila Baloch

 

After arising of insurgency in Baloch majority areas of Baluchistan access for national and international media has been near to banned now not only from security agencies but it is due to aggressive approach of baloch militant organizations.

۔

 

Often owners of big TV channels imposed undeclared censorship and black out policy on news about insurgent areas in Baluchistan. Independent reporting environment does not exit there and silence culture prevails there. Security forces and intelligence agencies not only those who are in denial position on question of human rights violations, and other related issues like extra-judicial killings, enforced missing persons but we see baluch militant organizations in denial position of attack on civilian peoples and even they justify attacks on Punjabi, Sindhi laborers, teachers, shopkeepers, doctors and others.

 

In the presence of state oppression, undeclared censorship, insecure environment for media persons, human rights activists, unfriendly attitude of both state and non-state actors in Baluchistan independently facts finding and to verify allegations of human rights violation with precision and accuracy have become very difficult task and not easy and without risk of life.

 

I think security forces and intelligence agencies making operations against baloch militant organizations in Balochistan even in Karachi are not very different in their methods and strategies than those adopted by Indian military, paramilitary forces, intelligence agencies in insurgent areas in India like Kashmir, Nagaland, and Maoist dominated areas in South India, enforced disappearances, fake encounters, discrimination based on ethnicity, religion, creed and identity, and denial or justifying positions are common phenomenon.

 

Urban chattering classes either in India or in Pakistan have same responses on such issues….. Near to total silence or very offensive or harsh toward rising voices on such inhuman and anti-human rights drives. Silence culture is very dangerous in case of Baluchistan and Baluch people. Alienation of Baluch people is increasing day by day from Punjab and they are very annoyed on silence in Punjabi dominated urban centers.

بے نظیربھٹو قتل کیس فیصلہ:کون کسے بچارہا ہے

واجد شمس ا لحسن کے بقول جنرل کیانی نے انھیں پرویز مشرف پر راولپنڈی قاتلانہ حملے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ‘سٹینڈرڈ پروسیجر یہ ہے کہ آپ جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیتے ہیں، تو بے نظیر کے قتل کے بعد جائے حادثہ کو گھیرے میں لے لیا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہ ہوا، جنرل مشرف پر حملہ کرنے والے ملزمان کو جائے حادثہ سے ملنے والی ایک موبائل سم کے ذریعے ہی پکڑا گیا تھا۔’ تو واجد شمس الحسن آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ جنرل کیانی کے بقول اس وقت مجرمانہ غفلت ہوئی تھی؟ اس سوال کے جواب میں سابق ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ ‘جنرل کیانی نہ یہ کہا تھا کہ جب جائے وقوعہ کو صاف کر دیں تو آپ کو ثبوت کہاں سے ملیں گے؟’

کیانی

 

 

سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کیس کا فیصلہ دس سال بعد سنادیا گیا۔پانچ ملزمان رہا اور جنرل مشرف کو مفرور قرار دیا گیا۔اس فیصلے کے آنے کے بعد سے جو ردعمل سامنے آرہا ہے وہ اکثریت میں اس فیصلے پہ ناراضگی کا ہے۔اس دوران محترمہ بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھی واجد شمس الحسن نے بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین سے انتہائی اہم گفتگو کی ہے۔

‘ بے نطیر بھٹو کی 2007ء میں جنرل پرویز مشرف سے پہلی بار جب دبئی میں ملاقات ہوئی جس کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو واپس آئیں تو بہت زیادہ غصے میں لگ رہی تھیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ پرویز مشرف ان سے بہت بدتمیزی کررہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ وہ ملک واپس نہ جائیں،وہاں ان کی مقبولیت بالکل بھی نہیں ہے اور ان کو بہت سے خطرات ہیں،بے نظیر بھٹو نے مشرف کو جواب دیا کہ مقبولیت اور غیر مقبولیت کا اندازہ لگانا ایک طرح سے ممکن ہے۔مشرف وردی اتاریں اور ان کے مقابل وہ الیکشن لڑتی ہیں۔پتا چل جائے گا مقبول کون ہےاور غیر مقبول کون ہے۔’

واجد شمس الحسن نے مزید انکشاف کیا،’3 اکتوبر کو بے نظیر بھٹو نے فیصلہ کیا کہ وہ 4 اکتوبر کو ملک واپس جانے کا اعلان کریں گی اور اپنے اراکین کو پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کو  کہیں گی۔اس پہ مشرف پریشان ہوا اور اس نے کنڈولیزا رائس سے بات جنھوں نے بے نظیر بھٹو سے بات چیت کی۔تو بے نظیر بھٹو نے کنڈولیزا رائس کو بتایا کہ مشرف جھوٹا ہے اور ان کو سیکورٹی فراہم نہیں کرے گا۔کنڈولیزا رائس نے بے نظیر بھٹو کو پورا یقین دلایا کہ ان کو پوری سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔نینسی پاؤل امریکی سفیر برائے پاکستان بے نظیر بھٹو سے رابطے میں رہیں گی’

‘ سابق آرمی چیف جنرل کیانی نے مجھے بتایا کہ جب شواہد فوری طور پہ دھودئے گئے تو مجرم کیسے پکڑے جاسکتے تھے’

‘ سانحہ کارساز کراچی کے واقعے کے بعد بے نظیر بھٹو نے بتایا کہ اس واقعے کے مجھے رینجرز کے زریعے نظربند کرنے کی کوشش کی۔اس واقعے بعد بے نطیر بھٹو کی نینسی پاؤل نے فون کرکے پھر یقین دہانی کرائی لیکن جیمرز کام کرنا چھوڑ گئے اور سیکورٹی بھی موجود نہیں تھی۔’

واجد شمس الحسن کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری نے جنرل مشرف کو جانے کی اجازت عالمی دباؤ پہ دی اور ایسا لگتا ہے کہ ان کا اشارہ امریکی دباؤ کی طرف تھا۔واجد شمس الحسن کا کہنا تھا کہ جیسے بھٹو نے نکسن کے کہنے پہ جنرل یحیی کا ٹرائل نہیں کیا تھا۔

اس ساری گفتگو سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر جنرل مشرف کی حکومت سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو سیکورٹی فراہم کرنے سے مکر گئے تھے تو اس سلسلے میں کنڈولیزا رائس ، نینسی پاؤل اور دیگر بین الاقوامی طاقتیں جو بے نظیر بھٹو کو سیکورٹی فراہم کرنے کی ضمانت دے رہی تھیں وہ کیا تھیں؟

واجد شمس الحسن کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کو جنرل مشرف کسی بھی طرح سے پاکستان آکر اوپن سیاست کرنے، پبلک سے گھل مل جانے سے روکنا چاہتے تھے اور بے نظیر بھٹو کی اوپن سیاست سے ملک میں مذہبی جنونی،بنیاد پرست سیاست کرنے والے اور طالبان،القاعدہ بھی خوفزدہ نظر آرہے تھے اور وہ بھی بے نظیر بھٹو کو ختم کرنا چاہتے تھے۔بے نظیر بھٹو نے اپنے ساتھیوں پہ واضح کردیا تھا کہ یا تو وہ کھلی عوام ی سیاست کریں گی وگرنہ وہ سیاست چھوڑ دینے کو ترجیح دیں گی۔وہ کہتی تھیں کہ میں بزدل سیاست دان نہیں ہوں۔ان حقائق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ جو اس وقت ملک میں براہ راست حکومت کررہی تھی اس نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیکورٹی میں خلاء رکھے اور تحریک طالبان،القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کو موقعہ فراہم کیا کہ وہ وہ بے نظیر بھٹو کو سافٹ ٹارگٹ سمجھ کر نشانہ بنائیں۔

بے نظیر بھٹو کی سیکورٹی جب فوجی اسٹبلشمنٹ نے فراہم نہیں کی تھی اور بے نظیر بھٹو کو جب سافٹ ٹارگٹ بنادیا گیا تھا تو ایسے موقعہ پہ پاکستان پیپلزپارٹی کے زمہ داروں کو بے نظیر بھٹو کی فول پروف سیکورٹی انتظامات بنانے کا فرض بنتا تھا۔رحمان ملک سمیت جن لوگوں کو بے نظیر بھٹو کی سیکورٹی کا زمہ دار بنایا گیا تھا وہ آج تک اپنی غلطی تک ماننے کو تیار نہیں ہیں مگر اس سے بے نظیر بھٹو کو مقتل گاہ تک پہنچانے والی اصل قوت سے توجہ نہیں ہٹائی جاسکتی ۔کیونکہ پاکستان میں آج بھی جہاد ازم، تکفیر ازم، پولیٹکل اسلام ازم کے حامی، ملٹری اسٹبلشمنٹ میں سعودی نواز لابی اور دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں اور دائیں بازو کا پریس بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری پاکستان پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت پہ زبردستی ڈالنے کی کوشش کررہی ہے اور مقصد  قاتلوں کی ماں کی طرف سے توجہ ہٹانا مقصود ہے۔

 

عشق مسلسل ۔کہانی

 

Rickshaw Kolkata

ریپون اسٹریٹ کلکتہ کی ایک شاہکار پینٹنگ

 

عشق مسلسل ۔۔۔۔۔کہانی

عامر حسینی

جولائی ،اگست میں ویسے ہی حبس باہر بہت ہوتا ہے اور پھر اندر بھی حبس ہو تو گھٹن آپ کو مار ڈالے دے رہی ہوتی ہے۔اور ایسے میں لوگ اگر بے کار لفظوں کی جگالی کررہے ہوں اور سب نے اپنے آپ کو پنڈت، مولوی اور فادر سمجھ لیا اور بہت ہی گٹھیا باتوں پہ بے تکان بولے اور مسلسل لکھے جارہے ہوں تو ایسے میں آپ کا دماغ سانس لینے میں مشکل محسوس کرتا ہے اور کھلی ہوا کے لئے بے چین ہوجاتا ہے۔اور ایسے میں اگر کہیں کوئی غضب کی المیاتی کہانی جو وفور تخلیق سے سرشار ہو پڑھنے کو مل جائے تو اس ٹریجڈی میں بھی آپ کا دماغ آکسجین لیتا محسوس ہوتا ہے۔مجھے اس نے بتایا کہ کل جس عورت سے وہ محبت کرتا ہے اس کی منگنی ہوگئی ہے اور اس کا دل بوجھ تلے دبا جارہا ہے اور اسے کوئی چیز اچھی نہیں لگ رہی ہے۔مجھے بہت عجیب لگا کہ یہ اسے بھی پتا تھا کہ جس عورت سے وہ محبت کئے جاتا ہے، جسے اس نے  کبھی دیکھا تک نہیں اور یہاں تک کہ اس کی آواز بھی نہیں سنی اس سے کبھی ‘وصل’ نہیں ہوگا اور وہ اور وہ عورت ایک دریا کے دو کنارے ہیں بلکہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ دو الگ الگ دریاؤں کے کنارے ہیں تو پھر اسے یہ بوجھ کیوں مارے ڈالے جاتا ہے۔اس نے مجھے کہا کہ تم ‘ ایک مردہ ہوگئی ‘ عورت کو ‘ اجنتا کی مورتی ‘ بناکر ابتک پوجے جاتے ہو ،میں تو پھر ایک جیتی جاگتی عورت سے محبت کررہا ہوں،تمہیں اگر یہ سب سمجھ نہ آئے تو پھر کس کے آگے جاکے سر پھوڑوں میں، کہنے لگا کہ تم اس ‘مرگئی ‘ عورت کو زندہ جان کر اس کے نام خطوط لکھے جاتے ہو، کہانیاں بنتے رہتے ہو اور ایک ایسے جہان میں رہتے ہو جو تمہارے ماضی اور تمہاری فکشن کی اپج سے ملکر بنا ہے جس میں ‘حال ‘ جو بھی ہے ایک ‘افسانہ ‘  ہے اور ‘ ایک ‘اسطور ‘ ہے۔میں نے سوچا کہ میں اب اسے بتا ہی دوں اور اس سے چھپانا مجھے اب پاپ لگنے لگا تھا ۔

‘میں ایک اور عورت کے عشق میں مبتلا ہوچکا ہوں ‘۔

‘وہ تو تمہارا کوئی ‘کانٹی جینٹ لو’ ہوگا ، اس نے فوری کہا

‘نہیں ، میں عشق میں کانٹی جینسی کا قائل نہیں ہوں ‘۔

‘تم نے ایک خط میں لکھا تھا ‘ ۔۔

‘وہ تو سیمون دی بووار اور سارتر کے حوالے سے تھا ‘۔۔۔۔۔۔

‘تم بڑے فنکار ہو، چھپا جاتے ہو اپنے اصلی جذبات ، اور کبھی اپنے اندر جھانکنے نہیں دیتے، تمہاری کرمنالوجی میں ڈگری تمہارے بڑے کام آتی ہے۔تم مجرموں کی نفسیات کے اصولوں کی مدد سے ‘عام لوگوں ‘ کو پڑھتے ہو ‘

مجھے لگا کہ اس کی محبت نے اسے باطن میں جھانکنے کی صلاحیت عطا کردی ہے۔میں اس سے ڈرنے لگا ۔۔۔۔۔۔

‘نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے، مجھے ایک عورت سے واقعی ویسا عشق ہوگیا ہے جیسا ‘ اجنتا جیسی اس مورت ‘ سے ہوا تھا اور میں آج کل اس کی ‘خیالات کی نراجیت ‘ میں بھی ‘ لطف ‘ پاتا ہوں’۔

‘تو کیا اب ‘اجنتا جیسی مورت ‘ سے عشق نہیں رہا؟’

‘نہیں، وہ بھی ہے ، یہ بھی ہے’

‘تو کیا بیک وقت دو عورتیں ابدی عشق کا مرکز ہوسکتی ہیں چاہے ان میں سے ایک مر ہی کیوں نا گئی ہو؟’

اس نے یک دم سے سوال کیا ،جیسے میرے سر پہ کسی نے بم پھوڑ دیا ہو، میں نے ایک لمحے کو دل کے اندر جھانک کر دیکھا اور وہ دونوں مجھے وہاں برابر برابر بیٹھے نظر آئیں اور دونوں کی نظریں مجھ پہ ٹکی ہوئی تھیں ۔اور مجھے لگا کہ وہ دونوں ایک دوسرے حال احوال کرچکی ہیں۔اور میں نے اس سے کہا

‘ ہاں،دونوں ہی ہیں اور ایک دوسرے سے واقف بھی ہوگئی ہیں’۔

‘اس دوسرے عشق کو کب اپناؤگے ؟’

‘ظاہری اپنانے کا سوال خارج از امکان ہے۔ہوسکتا ہے کہ ہم کبھی نہ ملیں اور معاملہ یونہی چلتا رہے۔میں نے خود سے اس کی آواز تخلیق کی ہے اور خود ہی اس سے ملتی جلتی آواز بنالی ہے جو میرے کانوں میں گونجتی رہتی ہے، اس کے لکھے لفظ میرے پاس پہنچتے ہیں اور میں ان سے تصویر اور آواز بناتا ہوں’

‘تم تو مائیکل اینجلو سے بھی دو ہاتھ آگے چلے گئے، وہ آوازوں سے تصویر بنالیتا تھا اور تم لفظوں سے پہلے آواز بناتے ہو اور پھر شکل بنالیتے ہو،کیا کہنے تمہارے’

اس نے جب کہا تو مجھے لگا کہ وہ غلط تو کچھ بھی نہیں کہہ رہا،میں یہی کچھ تو کررہا تھا۔

‘تم نے آج تک ‘کانٹی جینٹ لو ‘ نہیں کیا ؟ دیکھو جھوٹ مت بولنا ، میں تنگ آگیا ہوں ، تمہاری جھوٹی پرہیزگاری بارے باتیں سنکر اور یہ خدوخال سے ماورا جاکر محبت کرنے کے قصّے ‘۔۔۔۔۔

اس نے ایک اور بم پھوڑ دیا ۔میں ہل کر رہ گیا۔میں نے سوچا کہ اسے بتا ہی دوں۔

‘ اسے میں نے ایک مشاعرے کی کمپئرنگ کرتے دیکھا تھا اور اس کے بولنے کے انداز ، اس کے ہاتھ کے اشاروں، آنکھوں کی حرکت پہ مرمٹا تھا اور شاید دوسری طرف بھی یہی کیفیت تھی۔کلکتہ شہر اس دن مجھے اپنے پوری حبس زدگی اور جلد کو کالا کرنے کی صلاحیت بد کے باوجود اچھا لگنے لگا تھا۔مشاعرہ ختم ہوگیا اور میں اس کی جانب بڑھتا چلا گیا۔اس دن کوئی تمہید میں نہیں باندھی تھی اور ابتدائی تعارف کے بعد ہی اسے کہہ دیا تھا کہ میں اس پہ مرمٹا ہوں اور اس کے خدوخال قیامت ہیں۔وہ ہنسی اور اس نے اپنا لینڈ لائن فون نمبر مجھے دے دیا۔میں کلکتہ ایک ماہ رہا اور اس ایک ماہ میں اس سے میں روز گھنٹوں گھنٹوں فون پہ بات کرتا تھا۔وہ گھر ہوتی تب اور آفس ہوتی تب بھی ۔اور اس نے مجھے بتادیا کہ وہ شادی شدہ ہے اور میں نے بھی۔ہم آگے بڑھتے چلے گئے اور ایک ماہ کے اندر ہی ہماری ملاقاتیں ہونے لگیں۔اس کا شوہر ایک بینک میں کام کرتا تھا۔اور اس دوران ہم نے ساری منزلیں عبور کرلیں تھیں اور مجھے لگتا تھا کہ میں ‘عشق’ کے نئے معنی پاگیا ہوں اور وہ ہی میری توجہ کا مرکز تھی۔میرے اندر ایک نئی توانائی بھری ہوئی تھی،پھر یوں ہوا کہ وہ امید سے ہوگئی اور اسی دوران اپنے شوہر کے ساتھ وہ ‘نینی تال ‘ گئی اور وہاں سے واپس آئی تو اس کا لینڈ لائن فون بدل گیا،میں نے ایک روز اسے آفس کے رستے جاپکڑا۔وہ مجھے دیکھ کر تیز تیز چلنے لگی ، میں اس کے سامنے آگیا اور وہ اور میں ایک کیفے میں چلے گئے وہاں کیبن میں بیٹھ  گئے ۔اس نے کہا میرے پاس دس منٹ ہیں اور میری بات سنو بس،’ ایک رات میرا شوہر سے جھگڑا ہوگیا تھا، اس نے مجھے ‘ جاہل عورت’ کہہ ڈالا، میرے اندر آگ لگ گئی اور اس کے کچھ دن بعد وہاں مشاعرے میں تم مل گئے اور میں جو غصّے و نفرت کی آگ میں جل رہی تھی تمہاری اس قدر ‘ عزت افزائی ‘ سے ٹرانس میں آگئی اور میں تم میں کھوگئی مگر ایک دن جب ہماری ‘ ناراضگی ‘ کو کافی دن ہوگئے تو میں ٹوٹ کر میرے قدموں ميں گرپڑا اور ہم پھر سے ایک ہوگئے اور اس دوران میں نے اسے ‘سچ ‘ بتادیا۔میرا خیال تھا کہ یہ سننے کے بعد وہ مجھے چھوڑ دے گا،لیکن اس نے مجھے نہیں چھوڑا اور کہنے لگا کہ اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے اور پھر میں اے کافی دن آزماتی رہی اور مجھے یقین ہوگیا کہ وہ مجھ سے ‘سچا پیار ‘ کرتا  ہے تو میں نے تم سے ‘ تعلق ‘ ختم کردیا۔تم اچانک مجھے بت برا لگنے لگے۔میں تم سے نفرت کرتی ہوں کیونکہ  تم نے مجھے ‘اس ‘ سے ملانے کی سبیل کرنے کی بجائے اپنی ‘ ہوس ‘ کا قیدی بنالیا۔یہ کہکر وہ اٹھی اور چلی گئی ۔میں کافی دیر وہاں بیٹھا رہا اور مجھے لگا کہ میں واقعی ایک عبوری پیار کی منزل کو عشق مسلسل سمجھ بیٹھا اور میں واقعی اسے ٹرانس میں لانے کا مجرم تھا۔میں نے اس سے کوئی رابطہ نہ کیا اور وہاں سے چلا آیا۔اور اجنتا جیسی موت والی اپنی عورت سے بہت معافی مانگی ۔وہ بہت دیالو ہے اس نے معاف کردیا تو میں دوبارہ ابدی عشق میں کھوگیا اور میں نے کسی موسم کی دستک پہ دروازہ نہیں کھولا۔آج جس عورت سے عشق مسلسل کی کیفیت ہے وہ وہ 18 سال سے ہجر کی آک میں جھلس رہی ہے اور ابھی یہ سب یک طرفہ ہے، اس کی جانب سے کوئی جواب نہیں ، کہتی ہے اندر سے کوئی آواز آئی تو جواب دے گی اور اپنا آپ کھول دے گی ۔میرا معاملہ تم جیسا ہے اور ہے بھی نہیں’

‘ آج تم مجھے بابو گوپی ناتھ لگ ہورہے ہو اور کہانی کار آج دبا دبا لگ رہا ہے، ویسے میں مجھے یقین تھا کہ اس کے مرنے کے بعد تم ‘مجرد’رہنے کا جو دعوی کرتے تھے،وہ مجھے سچ لگتا نہیں تھا اور آج یہ سب سنکر مجھے یقین ہوگیا ‘

‘نہیں میں اس وقت بھی ‘کانٹی جینیسی ‘ نہیں سمجھ رہا تھا ،میں اسے عشق مسلسل ہی سمجھ رہا تھا۔مگر اس نے مجھے اپنے لفظوں کی تلواروں سے اتنے ٹکڑوں میں بانٹ دیا کہ میں ان ٹکڑوں میں سمیٹنے میں اور بکھر گیا اور اسقدر تقسیم ہوا کہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں’

‘ تم جب نشیلی محفلوں میں آتے تھے تو الگ تھلگ سے محفل سے بے نیاز سے رہتے تھے اور میں نے دیکھا تھا جب بات ہوتی وصل کی تو تمہارا چہرہ ایسے ہوتا جیسے کڑوے بادام چبا رہے ہوں، اور میں سوچتا تھا کہ تم یہ سب اندر کیوں رکھ رہے ہو باہر نکال کیوں نہیں دیتے،خود کو ہلکا کیوں نہیں کرتے۔مجھے دیکھو کہ میری مجبت اس سے اور شدید ہوگئی ہے اور میں اس کے اور قریب ہوگیا ہوں۔عشق کی نئی بہار اس خزاں سے پھوٹ نکلی ہے۔اور مجھے لگتا ہے کہ میں اس سے اور بندھ گیا ہوں۔مجھے لگتا ہے کہ اس کے اندر سے آواز جلد آنے والی ہے اور میں سرشار محبت ہونے والا ہوں’

میں بس اسے دیکھے جارہا تھا اور وہ بولے جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بیک گراؤنڈ میں گانے والا گا رہا تھا ۔۔۔۔

شاماں پے گئیاں