بے نظیربھٹو قتل کیس فیصلہ:کون کسے بچارہا ہے

واجد شمس ا لحسن کے بقول جنرل کیانی نے انھیں پرویز مشرف پر راولپنڈی قاتلانہ حملے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ‘سٹینڈرڈ پروسیجر یہ ہے کہ آپ جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیتے ہیں، تو بے نظیر کے قتل کے بعد جائے حادثہ کو گھیرے میں لے لیا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہ ہوا، جنرل مشرف پر حملہ کرنے والے ملزمان کو جائے حادثہ سے ملنے والی ایک موبائل سم کے ذریعے ہی پکڑا گیا تھا۔’ تو واجد شمس الحسن آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ جنرل کیانی کے بقول اس وقت مجرمانہ غفلت ہوئی تھی؟ اس سوال کے جواب میں سابق ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ ‘جنرل کیانی نہ یہ کہا تھا کہ جب جائے وقوعہ کو صاف کر دیں تو آپ کو ثبوت کہاں سے ملیں گے؟’

کیانی

 

 

سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کیس کا فیصلہ دس سال بعد سنادیا گیا۔پانچ ملزمان رہا اور جنرل مشرف کو مفرور قرار دیا گیا۔اس فیصلے کے آنے کے بعد سے جو ردعمل سامنے آرہا ہے وہ اکثریت میں اس فیصلے پہ ناراضگی کا ہے۔اس دوران محترمہ بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھی واجد شمس الحسن نے بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین سے انتہائی اہم گفتگو کی ہے۔

‘ بے نطیر بھٹو کی 2007ء میں جنرل پرویز مشرف سے پہلی بار جب دبئی میں ملاقات ہوئی جس کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو واپس آئیں تو بہت زیادہ غصے میں لگ رہی تھیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ پرویز مشرف ان سے بہت بدتمیزی کررہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ وہ ملک واپس نہ جائیں،وہاں ان کی مقبولیت بالکل بھی نہیں ہے اور ان کو بہت سے خطرات ہیں،بے نظیر بھٹو نے مشرف کو جواب دیا کہ مقبولیت اور غیر مقبولیت کا اندازہ لگانا ایک طرح سے ممکن ہے۔مشرف وردی اتاریں اور ان کے مقابل وہ الیکشن لڑتی ہیں۔پتا چل جائے گا مقبول کون ہےاور غیر مقبول کون ہے۔’

واجد شمس الحسن نے مزید انکشاف کیا،’3 اکتوبر کو بے نظیر بھٹو نے فیصلہ کیا کہ وہ 4 اکتوبر کو ملک واپس جانے کا اعلان کریں گی اور اپنے اراکین کو پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کو  کہیں گی۔اس پہ مشرف پریشان ہوا اور اس نے کنڈولیزا رائس سے بات جنھوں نے بے نظیر بھٹو سے بات چیت کی۔تو بے نظیر بھٹو نے کنڈولیزا رائس کو بتایا کہ مشرف جھوٹا ہے اور ان کو سیکورٹی فراہم نہیں کرے گا۔کنڈولیزا رائس نے بے نظیر بھٹو کو پورا یقین دلایا کہ ان کو پوری سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔نینسی پاؤل امریکی سفیر برائے پاکستان بے نظیر بھٹو سے رابطے میں رہیں گی’

‘ سابق آرمی چیف جنرل کیانی نے مجھے بتایا کہ جب شواہد فوری طور پہ دھودئے گئے تو مجرم کیسے پکڑے جاسکتے تھے’

‘ سانحہ کارساز کراچی کے واقعے کے بعد بے نظیر بھٹو نے بتایا کہ اس واقعے کے مجھے رینجرز کے زریعے نظربند کرنے کی کوشش کی۔اس واقعے بعد بے نطیر بھٹو کی نینسی پاؤل نے فون کرکے پھر یقین دہانی کرائی لیکن جیمرز کام کرنا چھوڑ گئے اور سیکورٹی بھی موجود نہیں تھی۔’

واجد شمس الحسن کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری نے جنرل مشرف کو جانے کی اجازت عالمی دباؤ پہ دی اور ایسا لگتا ہے کہ ان کا اشارہ امریکی دباؤ کی طرف تھا۔واجد شمس الحسن کا کہنا تھا کہ جیسے بھٹو نے نکسن کے کہنے پہ جنرل یحیی کا ٹرائل نہیں کیا تھا۔

اس ساری گفتگو سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر جنرل مشرف کی حکومت سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو سیکورٹی فراہم کرنے سے مکر گئے تھے تو اس سلسلے میں کنڈولیزا رائس ، نینسی پاؤل اور دیگر بین الاقوامی طاقتیں جو بے نظیر بھٹو کو سیکورٹی فراہم کرنے کی ضمانت دے رہی تھیں وہ کیا تھیں؟

واجد شمس الحسن کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کو جنرل مشرف کسی بھی طرح سے پاکستان آکر اوپن سیاست کرنے، پبلک سے گھل مل جانے سے روکنا چاہتے تھے اور بے نظیر بھٹو کی اوپن سیاست سے ملک میں مذہبی جنونی،بنیاد پرست سیاست کرنے والے اور طالبان،القاعدہ بھی خوفزدہ نظر آرہے تھے اور وہ بھی بے نظیر بھٹو کو ختم کرنا چاہتے تھے۔بے نظیر بھٹو نے اپنے ساتھیوں پہ واضح کردیا تھا کہ یا تو وہ کھلی عوام ی سیاست کریں گی وگرنہ وہ سیاست چھوڑ دینے کو ترجیح دیں گی۔وہ کہتی تھیں کہ میں بزدل سیاست دان نہیں ہوں۔ان حقائق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ جو اس وقت ملک میں براہ راست حکومت کررہی تھی اس نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیکورٹی میں خلاء رکھے اور تحریک طالبان،القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کو موقعہ فراہم کیا کہ وہ وہ بے نظیر بھٹو کو سافٹ ٹارگٹ سمجھ کر نشانہ بنائیں۔

بے نظیر بھٹو کی سیکورٹی جب فوجی اسٹبلشمنٹ نے فراہم نہیں کی تھی اور بے نظیر بھٹو کو جب سافٹ ٹارگٹ بنادیا گیا تھا تو ایسے موقعہ پہ پاکستان پیپلزپارٹی کے زمہ داروں کو بے نظیر بھٹو کی فول پروف سیکورٹی انتظامات بنانے کا فرض بنتا تھا۔رحمان ملک سمیت جن لوگوں کو بے نظیر بھٹو کی سیکورٹی کا زمہ دار بنایا گیا تھا وہ آج تک اپنی غلطی تک ماننے کو تیار نہیں ہیں مگر اس سے بے نظیر بھٹو کو مقتل گاہ تک پہنچانے والی اصل قوت سے توجہ نہیں ہٹائی جاسکتی ۔کیونکہ پاکستان میں آج بھی جہاد ازم، تکفیر ازم، پولیٹکل اسلام ازم کے حامی، ملٹری اسٹبلشمنٹ میں سعودی نواز لابی اور دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں اور دائیں بازو کا پریس بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری پاکستان پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت پہ زبردستی ڈالنے کی کوشش کررہی ہے اور مقصد  قاتلوں کی ماں کی طرف سے توجہ ہٹانا مقصود ہے۔

 

Advertisements

عشق مسلسل ۔کہانی

 

Rickshaw Kolkata

ریپون اسٹریٹ کلکتہ کی ایک شاہکار پینٹنگ

 

عشق مسلسل ۔۔۔۔۔کہانی

عامر حسینی

جولائی ،اگست میں ویسے ہی حبس باہر بہت ہوتا ہے اور پھر اندر بھی حبس ہو تو گھٹن آپ کو مار ڈالے دے رہی ہوتی ہے۔اور ایسے میں لوگ اگر بے کار لفظوں کی جگالی کررہے ہوں اور سب نے اپنے آپ کو پنڈت، مولوی اور فادر سمجھ لیا اور بہت ہی گٹھیا باتوں پہ بے تکان بولے اور مسلسل لکھے جارہے ہوں تو ایسے میں آپ کا دماغ سانس لینے میں مشکل محسوس کرتا ہے اور کھلی ہوا کے لئے بے چین ہوجاتا ہے۔اور ایسے میں اگر کہیں کوئی غضب کی المیاتی کہانی جو وفور تخلیق سے سرشار ہو پڑھنے کو مل جائے تو اس ٹریجڈی میں بھی آپ کا دماغ آکسجین لیتا محسوس ہوتا ہے۔مجھے اس نے بتایا کہ کل جس عورت سے وہ محبت کرتا ہے اس کی منگنی ہوگئی ہے اور اس کا دل بوجھ تلے دبا جارہا ہے اور اسے کوئی چیز اچھی نہیں لگ رہی ہے۔مجھے بہت عجیب لگا کہ یہ اسے بھی پتا تھا کہ جس عورت سے وہ محبت کئے جاتا ہے، جسے اس نے  کبھی دیکھا تک نہیں اور یہاں تک کہ اس کی آواز بھی نہیں سنی اس سے کبھی ‘وصل’ نہیں ہوگا اور وہ اور وہ عورت ایک دریا کے دو کنارے ہیں بلکہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ دو الگ الگ دریاؤں کے کنارے ہیں تو پھر اسے یہ بوجھ کیوں مارے ڈالے جاتا ہے۔اس نے مجھے کہا کہ تم ‘ ایک مردہ ہوگئی ‘ عورت کو ‘ اجنتا کی مورتی ‘ بناکر ابتک پوجے جاتے ہو ،میں تو پھر ایک جیتی جاگتی عورت سے محبت کررہا ہوں،تمہیں اگر یہ سب سمجھ نہ آئے تو پھر کس کے آگے جاکے سر پھوڑوں میں، کہنے لگا کہ تم اس ‘مرگئی ‘ عورت کو زندہ جان کر اس کے نام خطوط لکھے جاتے ہو، کہانیاں بنتے رہتے ہو اور ایک ایسے جہان میں رہتے ہو جو تمہارے ماضی اور تمہاری فکشن کی اپج سے ملکر بنا ہے جس میں ‘حال ‘ جو بھی ہے ایک ‘افسانہ ‘  ہے اور ‘ ایک ‘اسطور ‘ ہے۔میں نے سوچا کہ میں اب اسے بتا ہی دوں اور اس سے چھپانا مجھے اب پاپ لگنے لگا تھا ۔

‘میں ایک اور عورت کے عشق میں مبتلا ہوچکا ہوں ‘۔

‘وہ تو تمہارا کوئی ‘کانٹی جینٹ لو’ ہوگا ، اس نے فوری کہا

‘نہیں ، میں عشق میں کانٹی جینسی کا قائل نہیں ہوں ‘۔

‘تم نے ایک خط میں لکھا تھا ‘ ۔۔

‘وہ تو سیمون دی بووار اور سارتر کے حوالے سے تھا ‘۔۔۔۔۔۔

‘تم بڑے فنکار ہو، چھپا جاتے ہو اپنے اصلی جذبات ، اور کبھی اپنے اندر جھانکنے نہیں دیتے، تمہاری کرمنالوجی میں ڈگری تمہارے بڑے کام آتی ہے۔تم مجرموں کی نفسیات کے اصولوں کی مدد سے ‘عام لوگوں ‘ کو پڑھتے ہو ‘

مجھے لگا کہ اس کی محبت نے اسے باطن میں جھانکنے کی صلاحیت عطا کردی ہے۔میں اس سے ڈرنے لگا ۔۔۔۔۔۔

‘نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے، مجھے ایک عورت سے واقعی ویسا عشق ہوگیا ہے جیسا ‘ اجنتا جیسی اس مورت ‘ سے ہوا تھا اور میں آج کل اس کی ‘خیالات کی نراجیت ‘ میں بھی ‘ لطف ‘ پاتا ہوں’۔

‘تو کیا اب ‘اجنتا جیسی مورت ‘ سے عشق نہیں رہا؟’

‘نہیں، وہ بھی ہے ، یہ بھی ہے’

‘تو کیا بیک وقت دو عورتیں ابدی عشق کا مرکز ہوسکتی ہیں چاہے ان میں سے ایک مر ہی کیوں نا گئی ہو؟’

اس نے یک دم سے سوال کیا ،جیسے میرے سر پہ کسی نے بم پھوڑ دیا ہو، میں نے ایک لمحے کو دل کے اندر جھانک کر دیکھا اور وہ دونوں مجھے وہاں برابر برابر بیٹھے نظر آئیں اور دونوں کی نظریں مجھ پہ ٹکی ہوئی تھیں ۔اور مجھے لگا کہ وہ دونوں ایک دوسرے حال احوال کرچکی ہیں۔اور میں نے اس سے کہا

‘ ہاں،دونوں ہی ہیں اور ایک دوسرے سے واقف بھی ہوگئی ہیں’۔

‘اس دوسرے عشق کو کب اپناؤگے ؟’

‘ظاہری اپنانے کا سوال خارج از امکان ہے۔ہوسکتا ہے کہ ہم کبھی نہ ملیں اور معاملہ یونہی چلتا رہے۔میں نے خود سے اس کی آواز تخلیق کی ہے اور خود ہی اس سے ملتی جلتی آواز بنالی ہے جو میرے کانوں میں گونجتی رہتی ہے، اس کے لکھے لفظ میرے پاس پہنچتے ہیں اور میں ان سے تصویر اور آواز بناتا ہوں’

‘تم تو مائیکل اینجلو سے بھی دو ہاتھ آگے چلے گئے، وہ آوازوں سے تصویر بنالیتا تھا اور تم لفظوں سے پہلے آواز بناتے ہو اور پھر شکل بنالیتے ہو،کیا کہنے تمہارے’

اس نے جب کہا تو مجھے لگا کہ وہ غلط تو کچھ بھی نہیں کہہ رہا،میں یہی کچھ تو کررہا تھا۔

‘تم نے آج تک ‘کانٹی جینٹ لو ‘ نہیں کیا ؟ دیکھو جھوٹ مت بولنا ، میں تنگ آگیا ہوں ، تمہاری جھوٹی پرہیزگاری بارے باتیں سنکر اور یہ خدوخال سے ماورا جاکر محبت کرنے کے قصّے ‘۔۔۔۔۔

اس نے ایک اور بم پھوڑ دیا ۔میں ہل کر رہ گیا۔میں نے سوچا کہ اسے بتا ہی دوں۔

‘ اسے میں نے ایک مشاعرے کی کمپئرنگ کرتے دیکھا تھا اور اس کے بولنے کے انداز ، اس کے ہاتھ کے اشاروں، آنکھوں کی حرکت پہ مرمٹا تھا اور شاید دوسری طرف بھی یہی کیفیت تھی۔کلکتہ شہر اس دن مجھے اپنے پوری حبس زدگی اور جلد کو کالا کرنے کی صلاحیت بد کے باوجود اچھا لگنے لگا تھا۔مشاعرہ ختم ہوگیا اور میں اس کی جانب بڑھتا چلا گیا۔اس دن کوئی تمہید میں نہیں باندھی تھی اور ابتدائی تعارف کے بعد ہی اسے کہہ دیا تھا کہ میں اس پہ مرمٹا ہوں اور اس کے خدوخال قیامت ہیں۔وہ ہنسی اور اس نے اپنا لینڈ لائن فون نمبر مجھے دے دیا۔میں کلکتہ ایک ماہ رہا اور اس ایک ماہ میں اس سے میں روز گھنٹوں گھنٹوں فون پہ بات کرتا تھا۔وہ گھر ہوتی تب اور آفس ہوتی تب بھی ۔اور اس نے مجھے بتادیا کہ وہ شادی شدہ ہے اور میں نے بھی۔ہم آگے بڑھتے چلے گئے اور ایک ماہ کے اندر ہی ہماری ملاقاتیں ہونے لگیں۔اس کا شوہر ایک بینک میں کام کرتا تھا۔اور اس دوران ہم نے ساری منزلیں عبور کرلیں تھیں اور مجھے لگتا تھا کہ میں ‘عشق’ کے نئے معنی پاگیا ہوں اور وہ ہی میری توجہ کا مرکز تھی۔میرے اندر ایک نئی توانائی بھری ہوئی تھی،پھر یوں ہوا کہ وہ امید سے ہوگئی اور اسی دوران اپنے شوہر کے ساتھ وہ ‘نینی تال ‘ گئی اور وہاں سے واپس آئی تو اس کا لینڈ لائن فون بدل گیا،میں نے ایک روز اسے آفس کے رستے جاپکڑا۔وہ مجھے دیکھ کر تیز تیز چلنے لگی ، میں اس کے سامنے آگیا اور وہ اور میں ایک کیفے میں چلے گئے وہاں کیبن میں بیٹھ  گئے ۔اس نے کہا میرے پاس دس منٹ ہیں اور میری بات سنو بس،’ ایک رات میرا شوہر سے جھگڑا ہوگیا تھا، اس نے مجھے ‘ جاہل عورت’ کہہ ڈالا، میرے اندر آگ لگ گئی اور اس کے کچھ دن بعد وہاں مشاعرے میں تم مل گئے اور میں جو غصّے و نفرت کی آگ میں جل رہی تھی تمہاری اس قدر ‘ عزت افزائی ‘ سے ٹرانس میں آگئی اور میں تم میں کھوگئی مگر ایک دن جب ہماری ‘ ناراضگی ‘ کو کافی دن ہوگئے تو میں ٹوٹ کر میرے قدموں ميں گرپڑا اور ہم پھر سے ایک ہوگئے اور اس دوران میں نے اسے ‘سچ ‘ بتادیا۔میرا خیال تھا کہ یہ سننے کے بعد وہ مجھے چھوڑ دے گا،لیکن اس نے مجھے نہیں چھوڑا اور کہنے لگا کہ اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے اور پھر میں اے کافی دن آزماتی رہی اور مجھے یقین ہوگیا کہ وہ مجھ سے ‘سچا پیار ‘ کرتا  ہے تو میں نے تم سے ‘ تعلق ‘ ختم کردیا۔تم اچانک مجھے بت برا لگنے لگے۔میں تم سے نفرت کرتی ہوں کیونکہ  تم نے مجھے ‘اس ‘ سے ملانے کی سبیل کرنے کی بجائے اپنی ‘ ہوس ‘ کا قیدی بنالیا۔یہ کہکر وہ اٹھی اور چلی گئی ۔میں کافی دیر وہاں بیٹھا رہا اور مجھے لگا کہ میں واقعی ایک عبوری پیار کی منزل کو عشق مسلسل سمجھ بیٹھا اور میں واقعی اسے ٹرانس میں لانے کا مجرم تھا۔میں نے اس سے کوئی رابطہ نہ کیا اور وہاں سے چلا آیا۔اور اجنتا جیسی موت والی اپنی عورت سے بہت معافی مانگی ۔وہ بہت دیالو ہے اس نے معاف کردیا تو میں دوبارہ ابدی عشق میں کھوگیا اور میں نے کسی موسم کی دستک پہ دروازہ نہیں کھولا۔آج جس عورت سے عشق مسلسل کی کیفیت ہے وہ وہ 18 سال سے ہجر کی آک میں جھلس رہی ہے اور ابھی یہ سب یک طرفہ ہے، اس کی جانب سے کوئی جواب نہیں ، کہتی ہے اندر سے کوئی آواز آئی تو جواب دے گی اور اپنا آپ کھول دے گی ۔میرا معاملہ تم جیسا ہے اور ہے بھی نہیں’

‘ آج تم مجھے بابو گوپی ناتھ لگ ہورہے ہو اور کہانی کار آج دبا دبا لگ رہا ہے، ویسے میں مجھے یقین تھا کہ اس کے مرنے کے بعد تم ‘مجرد’رہنے کا جو دعوی کرتے تھے،وہ مجھے سچ لگتا نہیں تھا اور آج یہ سب سنکر مجھے یقین ہوگیا ‘

‘نہیں میں اس وقت بھی ‘کانٹی جینیسی ‘ نہیں سمجھ رہا تھا ،میں اسے عشق مسلسل ہی سمجھ رہا تھا۔مگر اس نے مجھے اپنے لفظوں کی تلواروں سے اتنے ٹکڑوں میں بانٹ دیا کہ میں ان ٹکڑوں میں سمیٹنے میں اور بکھر گیا اور اسقدر تقسیم ہوا کہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں’

‘ تم جب نشیلی محفلوں میں آتے تھے تو الگ تھلگ سے محفل سے بے نیاز سے رہتے تھے اور میں نے دیکھا تھا جب بات ہوتی وصل کی تو تمہارا چہرہ ایسے ہوتا جیسے کڑوے بادام چبا رہے ہوں، اور میں سوچتا تھا کہ تم یہ سب اندر کیوں رکھ رہے ہو باہر نکال کیوں نہیں دیتے،خود کو ہلکا کیوں نہیں کرتے۔مجھے دیکھو کہ میری مجبت اس سے اور شدید ہوگئی ہے اور میں اس کے اور قریب ہوگیا ہوں۔عشق کی نئی بہار اس خزاں سے پھوٹ نکلی ہے۔اور مجھے لگتا ہے کہ میں اس سے اور بندھ گیا ہوں۔مجھے لگتا ہے کہ اس کے اندر سے آواز جلد آنے والی ہے اور میں سرشار محبت ہونے والا ہوں’

میں بس اسے دیکھے جارہا تھا اور وہ بولے جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بیک گراؤنڈ میں گانے والا گا رہا تھا ۔۔۔۔

شاماں پے گئیاں

کیا کلکتہ میں چڑیاں ہوتی ہیں ؟

12152314206_408265f0b0_b

کلکتہ ٹرام

 

سوشل میڈیا نے کم از کم میری کچھ بھاؤناوں کو اچھے سے پورا کیا ہے اور میں نے کم از کم سوشل میڈیا کے دور سے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں کبھی اپنی ان بھاؤناؤں کو پورا ہوتے دیکھ پاؤں گا۔ایک بڑا سا ریڈیو جو لکڑی کی میز پہ سر شام رکھ دیا جاتا تھا اور ہم سب گھر والے اس میز کے گرد نیچے فرش پہ بچھی دری پہ بیٹھ جاتے اور بی بی سی اردو کی نشریات سننے لگتے تھے۔مہ پارہ صفدر سے خبریں سنی جاتی تھیں۔کبھی نہ ان کی تصویر دیکھی اور جب وہ پاکستان ٹیلی ویژن پہ خبریں پڑھتی تھیں اس وقت کا بھی ہمیں کچھ پتا نہیں تھا۔ایک دن میری کسی پوسٹ پہ فیس بک مہ پارہ صفدر کا لائک دیکھا  اور پھر کمنٹ پڑھا تجسس ہوا کہ یہ کون سی مہ پارہ صفدر ہیں تو  یہ جان کر شادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئی کہ یہ میری پسندیدہ صدا کار ہیں۔

ایک دن دی نیشن میں لکھنے والے لکھاری عباس زیدی فیس بک پہ میرے دوست ہوگئے اور ان سے بات چیت بھی ہونے لگی۔ہفت روزہ نصرت کے علی جعفر زیدی صاحب سے یاد اللہ ہوئی اور پھر چل سو چل۔گوادر سے کے بی فراق اور ممبئی سے رحمان عباس۔شام سے احتشام اور بیروت سے امل سعد ، اردن سے مرحوم ناھض ھتر اور بیروت ہی سے الاخبار کے ایڈیٹر ابراہیم امین۔ایک دن جان ریس مرحوم لندن سے آگئے جن کی ‘انقلاب کا الجبراء’ پڑھ کر ہوش جاتے رہے تھے۔خشک مزاج الیکس سے یاد اللہ ہوئی۔ایران سے کامریڈ بہرام اور ایک دن ایرانی اداکارہ و ڈائریکٹر شبنم طلوعی ٹوئٹر سے فیس بک تک آئیں اور ان سے بات چیت ہوئی۔قرۃ العین طاہرہ نامی فلم میں ان کی اداکاری کے جوہر دیکھنے والے ہیں۔باغی اختر عباس اور اپنے آپ کی تلاش میں مگن علی جون صاحب اور دیکھیں یہ  آکسفورڈ کے ظہور الحق بھی تو میرے علاقے کے ہونے کے باوجود مجھے یہیں سوشل میڈیا پہ ملے۔میں یہ سب باتیں آج یہاں کیوں لکھ رہا ہوں؟

دلّی دوبارہ جانا چاہتا ہوں ،تازہ وجہ تصنیف حیدر ہیں۔ان کے سامنے بیٹھ کر کچھ دیر ان سے ان کی شاعری سننا چاہتا ہوں۔ممبئی جاکر رحمان عباس سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ممبئی سنٹرل اسٹیشن سے ساجد رشید کے گھر کے قریب ترین اسٹیشن تک ٹرین کا سفر کرنا چاہتا ہوں ۔اس کافی ہاؤس کی یاترا کرنا چاہتا ہوں جہاں کبھی مرحوم باقر مہدی بیٹھا کرتے تھے۔

 

میرا خواب ہے کلکتہ دیکھنے کا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا۔کلکتہ میں کئی وجوہات کی بنا پہ دیکھنا چاہتا ہوں لیکن اس کی تازہ ترین وجہ جس نے کلکتہ دیکھنے کی خواہش اور شدید کردی ہے سومی  اینگلو انڈین بنگالن ہیں۔ان کی باتوں نے کلکتہ دیکھنے کی خواہش کو آگ دکھادی ہے۔اینگلو انڈین کلکتہ  کے بنگالی خاندان میں جنمی یہ ادیبہ اور مترجم مجھ سے جب ہم کلام ہوئی تو مجھے یوں لگا جیسے میں کسی سائے سے گفتگو کررہا ہوں۔یہ چار زبانیں جانتی ہے۔تین میں پڑھتی اور لکھتی ہے، دو میں سوچتی ہے۔اور ایک میں خواب دیکھتی ہے۔میں نے پوچھا کہ بغیر سوچے کیسے وہ کونسی زبان ہے جس میں یہ لکھ بھی لیتی ہے اور پڑھ بھی لیتی ہے تو کہنے لگی فرنچ اور ساتھ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔اب مجھے نہیں پتا کہ کھلکھلا کر ہنسی بھی تھی یا نہیں کیونکہ ہماری بات چیت صرف لکھ کر ہورہی تھی اور اس نے کھل کر ہنسنے کا ایموجی بھیجا تھا۔کہتی ہے کہ انگریجی اس کے جذباتی صورت کی زبان ہے ۔لینگويج آف ایموشنل میک اپ۔کہتی ہے کلکتہ اس کے لئے کبھی کولکتہ نہیں ہوسکتا۔اس نے کلکتہ کے ایسے محلے میں آنکھ کھولی جہاں ہر طرف بس اینگلو انڈین بنگالی رہتے تھے اور اس کا گھررپیون اسٹریٹ میں تھا۔پھر وہاں سے یہ نارتھ کلکتہ میں منتقل ہوگئی جہاں بنگالی کلچر کے کسٹوڈین بہت جیادہ انگریجی زدہ تھے۔انجیلی سائزڈ تھے۔سائیکل رکشہ گھسٹتے لاغر بدن،ناقابل اعتبار ٹرام،سرخ اینٹوں سے بنی دیواریں اور ارسٹو کریٹس بنگالی ان سب نے اسے اینگلیسائزڈ کردیا۔کیا کلکتہ اب بھی ویسا ہی ہے؟ ہاں نا، جہاں نہیں ہوتا میں تخیل سے کرلیتی ہوں۔۔۔۔۔ اس کے جواب نے مجھے ساکت کردیا۔

 

Rickshaw Kolkata

ریپون اسٹریٹ کلکتہ کی ایک شاہکار پینٹنگ

میں بھی تو کراچی اور لاہور کو جہاں یہ ویسا نہیں ہوتا جیسا میرے دماغ میں بسا ہوا ہے ویسا کرلیتا ہوں۔میں نے یہ سوچا اور ترنت اسے بتا بھی دیا۔میری پہلی استانی بھی میتھوڈسٹ چرچ کی پیروکار تھیں اور اس نے بتایا کہ وہ بھی متھوڈسٹ اسکول میں پڑھی جہاں بائبل والی انگریجی پڑھی استانیاں تھیں۔اس نے اپنا پہلا محبت نامہ انگریجی میں لکھا۔ایسا پتر جو کبھی جس کے لئے لکھا گیا اسے بھیجا نہ گیا۔شاعری کے اولین شبد بھی اسی زبان میں اس نے لکھے تھے۔فرانسیسی ایسی زبان ہے جس میں وہ ٹھیک سے نہ تو سوچ سکتی ہے اور نہ اس میں محسوس کرسکتی ہے لیکن وہ اس میں لکھ لیتی ہے آسانی سے۔لیکن خواب تو یہ بس  انگریجی میں دیکھتی ہیں۔اینگلو ہندوستانی بنگالن کو اپنی زبان سے پیار 21 سال کی عمر میں ہوا جب یہ اپنے دادا کی لائبریری میں گھسیں اور وہاں انہوں نے انگریجی میں ٹیگور کو پڑھا۔کہنے لگی،”تمہارے کو پتا ہے؟ ٹیگور کو بدیشی جبان میں پڑھنا  بلاسفیمی خیال کیا جاتا ہے؟میں نے کہا پھر تو زیادہ تر لوگ اس بلاسفیمی کے مرتکب ہوئے ہیں،اس نے فوری کہا نہیں میرا مطلب تھا کسی بنگالی کا پڑھنا۔کہتی ہے میں خواب گر ہوں اور سوشلسٹ بھی لیکن لٹریچر کو کسی ڈسکورس کو سامنے رکھ کر نہیں پڑھتی۔اسے اردون دھتی رائے سے عشق کی حد تک لگاؤ ہے اور بنّا پھول کو بھی یہ بہت چاہتی ہے۔سیتہ جیت رے کی طرح بننا اس کا خواب ہے لیکن اس کو تعبیر میں ڈھالنے کی اس نے کبھی کوشش نہیں کی۔بنگال کا جب کبھی میں تصور باندھتا ہوں تو بہت تیز،موسلادھار بارش اور بارش سے پہلے بہت حبس اور چپ چپا کردینے والا موسم میرے ذہن میں آجاتا ہے۔لیکن پھر بھی کلکتہ کا نام سنکر مجھ پہ ایک رومانویت سی طاری ہوجاتی ہے۔لیکن یہ اس رومانویت سے بالکل الگ سی شئے ہے جو کراچی میں یاد کی شکستہ دیواروں سے گلے لپٹتے ہوئے مجھ پہ طاری ہوتی ہے۔یا لارنس باغ میں بدھا کے درخت کے سامنے ‘اس’ کی موجودگی میں طاری ہوا کرتی تھی۔ہارمونیم سے سومی کو عشق ہے اور یہ اسے بجاتی ہے بقول اپنے من میں ڈوب کر۔ایک کلپ اس نے بھیجا ہارمونیم کی موسیقی کا پیچھے چڑیوں کے چہچہانے کی آواز تھی۔”کیا کلکتہ میں چڑیاں ہوتی ہیں ؟” ۔”نہیں تو ، کوے ہوتے ہیں”۔اس نے زرا چڑ کر جواب دیا تو مجھے بے اختیار ہنسی آگئی۔

Coffee-House-4

کلکتہ کافی ہاؤس کا ایک منظر

 

آنکھ ملنے کے بعد کیا ہوگا

کتنے حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے وجود جب زمان اور مکان کی گرفت سخت ہوتی ہے اور آپ اس گرفت سے آزاد ہونے کے لئے ہاتھ پیر مارتے ہیں تو اور جکڑے جاتے ہو،ایسے میں آپ کے ہر ایک تقسیم شدہ وجود کا ٹکڑا امکانات کا جہنم پیدا کرتا جاتا ہے اور اسے ‘امکانات کی جنت ‘ بتایا جارہا ہوتا ہے۔عمر خیام اپنی جہان کے ساتھ راتیں گزارتا ہے اور جہان کا وجود عمر خیام کی رصدگاہ اور محل کے درمیان تقسیم ہوتا ہے اور ایک دن محل ہی اس کی زندگی کا چراغ گل کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔جہان تو جہان داری کرنے کے چکر میں تقسیم شدہ زندگی گزار رہی تھی اور یہ اس کی اپنی چوائس تھی مگر اس کا کیا ؟ وہ کیوں ٹکڑوں میں بٹ کر زندگی گزار رہا تھا؟ اور کیوں ایسے ویسے عذابوں کو گلے لگائے پھرتا تھا؟
میں چمن کالونی سے چلی تو یہی سوچیں مجھے گھیرے میں لئے ہوئے تھیں۔میں نے اسے پے درپے پیغامات بھیجے تھے اور اسے کہا تھا کہ اسے مجھ سے ملنا بہت ضروری تھا۔اور وہ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ جلد مجھ سے ملے گا۔اور اس مہینے کے آخری ہفتے میں وہ سمندر کے کنارے آکر ایک ہوٹل میں ٹھہرگیا اور مجھے فون کرکے اس نے بتادیا تھا۔اب میں اس کے پاس جارہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اسے سب بتاؤں گی کہ اس دوران کیا ہوا جب ہم ایک لمبے عرصے تک نہ ملے۔میں یہ بھی سوچ رہی تھی کہ جو میں محسوس کرتی رہی ہوں،اسے بتاڈالوں کہ نہیں۔مجھے اس کا پتا نہیں تھا کہ وہ کیا سوچتا ہے۔اگرچہ کچھ معنی خیز جملے اس نے کئی بار بولے تھے لیکن یہ ذومعنویت بھی دوہرے،تہرے معانی رکھتی تھی اور میں کچھ بھی حتمی طور پہ کہہ نہیں سکتی تھی۔رکشہ چلے جارہا تھا۔اور جیسے جیسے سمندر قریب آرہا تھا فضا میں نمی بڑھتی جاتی تھی اور تھوڑا ساحبس بھی مگر مجھے لگتا تھا کہ اندر کا حبس اس سے کہیں زیادہ ہے۔میں نے اسے موبائل پہ مسیج بھیجا اور پھر کال کرنے کی کوشش بھی کی مگر آگے سے موبائل بند جارہا تھا۔سمجھ گئی کہ رات ساری جاگتا رہا ہوگا اور اب کسی وقت آنکھ لگ گئی ہوگی۔ ہڑبڑا کر اٹھے گا اور سب سے پہلے موبائل آن کرے گا اور پیغامات دیکھے گا۔

” میں ایک گھنٹے تک پہنچ جاؤں گی ، اتنی دیر تم خواب خرگوش کے مزے لے لو ”
میں نے اسے ٹیکسٹ میسج کردیا۔گیلی گیلی ہوا میرے چہرے سے ٹکرائی اور مجھے لگا جیسے پھوار پڑرہی ہو۔میں سوچنے لگی کہ کیسے اس نے مجھے کہا تھا کہ تم ہمیشہ ڈیپریشن بارے ہی بات کیوں کرتی رہتی ہو؟ کیا کچھ اس دباؤ سے باہر کہنے کو بھی ہے ؟ اور پھر ميں نے اسے بائی پولر ڈس آڈر بارے بتایا اور اس کے مرحلے بھی بتائے اور کہا کہ میں اسی بائی پولر ڈس آڈر کا شکار ہوں۔وہ سنکر خاموش ہوگیا اور اگلے دن اس نے مجھ سے کہا کہ وہ چند روز مجھ سے ملنے نہیں آسکے گا۔

میں ایک چینل ميں سکرپٹ رائٹر کے طور پہ کام کررہی تھی اور وہ اس چینل کے دفتر کے باہر ہی میری ڈیوٹی ختم ہونے کا انتظار کرتا اور جیسے ہی میں واپس آتی تو ایک آٹو پہلے سے وہ روکے رکھتا تھا۔میں بھی کچھ کہے بغیر اس کے ساتھ بیٹھ جاتی تھی اور قریب قریب ایک گھنٹہ ہم ساتھ رہتے تھے اور ایک گھنٹے کے پورے ہوتے ہی وہ پھر سے آٹو بلاتا اور مجھے اس میں بٹھادیتا اور میں گھر پہنچ جاتی تھی۔اس دوران بہت سی باتیں کی جاتیں اور ان میں کوئی بھی ‘من و تو ‘ کی بات نہ ہوتی اور بس سب ‘کار جہاں دراز ہے’ پہ بات ہوتی لیکن نجانے مجھے کیوں لگتا کہ یہ جو “جہان ” کی بات ہے یہ اس کے ‘درون ‘ کی بات ہے اور ان میں ہی اشارے چھپے ہیں جن کے زریعے وہ اپنے اور میرے رشتے کو ڈیفائن کرتا رہتا ہے۔مگر صاف صاف بیان کرنے سے قاصر ہے یا جان بوجھ کر کرتا نہیں ہے۔

آج جب رات کو چینل کے آفس سے باہر نکلی تو وہ نہیں تھا ، آٹو بھی انتظار میں نہیں تھا اور میں نے آٹو لیا اور اس ہوٹل میں پہنچ گئی جہاں وہ اکثر مجھے لیکر جاتا تھا۔میں گھنٹہ وہیں گزاردیا اور پھر گھر پہنچ گئی۔ویسے مجھے پتا تھا کہ وہ کہاں گیا ہے۔اور کیا کررہا تھا؟
بائی پولر ڈس آڈر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے فلیٹ پہ بیٹھا بائی پولر ڈس آڈر پہ جو بھی دستیاب ہوگا مواد ،اسے چاٹ رہا ہوگا اور پھر جب ہر ممکن بات جان لے گا تو آئے گا اور پھر بھی سیدھے سبھاؤ بات نہیں کرے گا، اپنی معلومات مجھ سے براہ راست شئیر نہیں کرے گا، اس نے اس ڈس آڈر پہ بات کرنے کے لئے انتہائی خالص ادبی تہمید باندھنے کی پوری تیاری کررکھی ہوگی اور اس تہمید کے بعد وہ انکشاف کرے گا کہ ابتک اسے کیا پتا پڑا ہے۔

ہفتہ وہ غائب رہا مگر میں روز اس کے دکھائے سب ڈھابوں ، ہوٹل ، کیفے اور ہٹ ہاؤسز تک جاتی رہی اور اس کو معنوی طور پہ حاضر کرتی رہی، اس سے باتیں کرتی رہی۔پھر وہ ہفتے کا روز تھا جب میں رات کو چینل آفس سے جیسے ہی باہر نکلی تو وہ سامنے کھڑا تھا اور پاس ہی آٹو تھا۔میں چپ چاپ اس کے ساتھ آٹو میں بیٹھ گئی اور ہم دونوں کی خاموش رہے۔آٹو ہمیں بہت آگے سمندر کے ساحل تک لے گیا۔آٹو واپس نہیں گیا۔وہیں ٹھہر گیا۔ہم نے پائنچے چڑھائے اور سمندر کی گیلی ریت پہ چلنے لگے۔تھوڑا فاصلہ طے کرنے کے بعد ایک ٹیلے پہ ہم دونوں بیٹھ گئے۔

“یار! تم تو بہت ہلکے درجے کے بائی پولر ڈس آڈر کا شکار ہو،میں تم سے کہیں زیادہ اس ڈس آڈر کا شکار ہوں”

اس نے اچانک خاموشی توڑی اور ایک دم سے جیسے بم پھوڑ دیا۔
میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آگئی ، اور میں کچھ کہہ نہ سکی۔
ہنس کیوں رہی ہو؟
ویسے ہی
نہیں ،نہیں بتاؤنا ، کیوں ہنس رہی ہو؟
یار! مجھے پتا تھا کہ تم اتنے دن کہاں غائب رہے ہو؟ اور تم اس بائی پولر ڈس آڈر پہ جو پڑھنے کو ملا ہوگا ،پڑھ رہے ہوں گے۔کوئی پتا نہیں کسی سائیکاٹرسٹ کے پاس بھی چلے گئے ہوگے۔۔۔۔۔۔۔۔

او مائی گاڈ ! تم تو کالا جادو جانتی ہو یا تم کوئی مکاشفہ رکھنے والی روح ہو،جسے پتا چل جاتا ہے۔۔۔۔۔
اس نے مصنوعی حیرت خود پہ طاری کرتے ہوئے کہا ، مجھے پتا تھا کہ جرمیات کا یہ طالب علم جانتا ہے کہ یہ قیافے لگانا خاص مشکل کام نہیں ہے۔
بنو مت ،میں نے اسے کہا
یوں وہ میرے احساسات کا شریک ہوتا چلا گیا۔جب کبھی دباؤ بہت بڑھ جاتا اور میں اپنے آپ سے اور دوسروں سے بے گانہ ہوجاتی تو تب بھی وہ جھٹ سے میرے درون میں آجاتا اور ایسے لمحوں میں جب میں اپنے اندر میں خود کو سمٹائے ہوتی اور سب سے بے گانہ ہوجاتی، وہ اپنے میسجز سے میرے درون میں بے دھڑک چلا آتا۔بس ایک مسیج ، کبھی موبائل انباکس میں تو کبھی وٹس ایپ پہ تو کبھی فیس بک میسنجر پہ تو کبھی یوں بھی کرتا کہ باقاعدہ خط لکھ ڈالتا اور مجھے وہ گھر کے ایڈریس پہ مل جاتا اور اس میں نہ آغاز میں کوئی خطاب ، نہ آخر میں سلام نہ اپنا نام، گفتگو خطابیہ اور کہیں ذاتیات کا شائبہ تک نہ ہوتا اور عمومی جملے مگر ساری عبارت کے پیچھے ایک پیغام کہ اپنے اندر سے باہر آؤ،منتظر ہوں۔دباؤ کے یہ لمحے بہت شدید ہوتے تھے اور میں کبھی سنجیدگی سے خودکشی کے درندے بارے سوچنے لگتی۔ثروت حسین، شکیب جلالی، مصطفی زیدی، سارہ شگفتہ نے اس میں کشش جو پائی تھی وہ ایسے تو نہ ہوگی۔مگر ایسے میں اس کے خط یکے بعد دیگرے آنے لگتے اور وہ کبھی دستوفسکی کا ایڈیٹ لے آتا تو کبھی ایبسرڈ آرٹ کے لکھاریوں کو لے آتا اور بالزاک کے جملوں سے زندگی کشید کرکے خط میں اںڈیل دیتا اور مجھ تک وہ خط جب پہنچتے تو میرے اندر آہستہ آہستہ دباؤ سے نکلنے کی چاہ پیدا ہونے لگتی تھی۔اور جب میں زرا بہتر ہوکر واپس معمول کی زندگی کی جانب لوٹتی اور اسے ملتی تو وہ اسے ظاہر کرتا جیسے اس نے کوئی پیغام نہ دیا ہو بس یونہی اپنے مطالعے بارے مجھے آگاہ کرنا چاہ رہا تھا تو خطوط لکھ مارے اور مجھے بھیج دئے۔میں اس کی بے نیازی سے پھر ڈول سی جاتی اور اپنے اندر موجود احساسات بارے اسے بتا ہی نہ پاتی تھی۔

میں آزادی کی متلاشی تھی اور ایسے جذبہ کی تلاش میں تھی جس ميں فاصلہ بھی رہے اور عروج جذب بھی ہوجائے اور ایسے جڑت ہو جیسے دو کمانیں باہم ملیں مگر فاصلے بھی باہم رہیں۔اور مجھے لگتا تھا کہ وہ بھی ایسے ہی جذبوں کی تلاش میں سرگرداں ہے مگر کیا بات تھی وہ کھل کے نہیں دیتا تھا۔
میں ان ہی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک آٹو والے نے بریک لگاکر رکشہ روک دیا۔میں خیالوں سے واپس آگئی تھی۔سامنے ہوٹل موجود تھا جہاں وہ ٹھہرا ہوا تھا۔میں نے کرایہ دیا اور اتر گئی۔ہوٹل کی گیلری میں آکر میں نے پرس سے موبائل نکالا۔اور اسے کال کرنے لگی تو دیکھا کہ اس کے کئی ٹیکسٹ میسج آئے ہوئے تھے۔بتارہا تھا کہ سوگیا تھا۔۔۔۔۔ میں کال کرکے اسے بتایا کہ ہوٹل کی گیلری میں آجاؤ۔وہ دس منٹ آیا اور ساتھ ہی مجھے کہنے لگا کہ کہیں اور چلتے ہیں۔ اور یہ کہہ کر اس نے ایک ٹیکسی کو ہاتھ سے اشارہ کیا اور ٹیکسی قریب آئی اس نے ڈرائیور سے ایک جگہ کا نام لیا۔ٹیکسی چل پڑی۔دونوں پھر خاموش تھے۔جب تک ٹیکسی اس کی بتائی جگہ تک پہنچ نہ گئی ،اس نے ایک بھی بات نہ کی۔ٹیکسی سے اتر تو سامنے ایک بہت ہی خوبصورت کیفے تھا۔وہ مجھے لیکر ایک میز کرسی پہ بیٹھ گیا۔

ہاں! تو تم نے فیصلہ کرلیا کہ وہ کرو جو سب کرتے ہیں،ہوتا ہے، یہ نارمل بات ہے۔اور اس پہ اتنا ظلم مت ڈھاؤ، تم سے بات کرنا چاہتا ہے تو بیزاری مت دکھاؤنا۔وہ جن نظریات کا حامل ہے تم کمفرٹ ایبل رہو گی۔وہ تمہارے درون میں کبھی داخل نہیں ہوسکے گا۔
Wifehood
ٹائپ لائف میں نہیں گزار سکتی ، تم اچھی طرح جانتے ہو، پھر ایسی باتیں کیوں کررہے ہو،اور پھر یہ ہے کیا آج تک میں سمجھ نہیں پائی۔
ارون دھتی رائے بن جاؤ
اس نے کہا
وہ کیسے ؟
وہ کہتی ہے میں تکنیکی طور پہ شادی شدہ ہوں مگر میں “وائف ہوڈ ” لائف نہیں گزار سکتی۔میں تھی بھی نہیں۔اب وہ اور میں اکٹھے رہتے بھی نہیں لیکن میاں بیوی تو ہیں نا تکنیکی طور پہ
ہاہاہا ،میں نے ایک قہقہ لگایا۔
مگر مسلم دولہے راجے اپنی دلہن کو یہ اجازت کبھی نہیں دیتا
میں نے اچانک سنجیدگی سے کہا
تو کیا ہوا لاکھوں مسلم جوڑے ساتھ ساتھ ہوکر بھی ساتھ ساتھ نہیں ہیں اور ہر ایک ذہنی طور پہ ایک اور زمان ومکان میں اپنے اپنے پیا اور اپنی اپنی سہاگنوں کے ساتھ رہتا ہے۔
اس نے جب یہ کہا تو اس کی آنکھیں خوابناک ہوگئیں اور مجھے بڑے عجب انداز سے وہ دیکھنے لگا
میں نے اس کی اور دیکھا اور مجھے اچانک احساس ہوا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے
مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم بھی دو دو زمان ومکان رکھتے ہو؟
میں پوچھا
کیا تم نہیں رکھتیں ؟
اس نے برجستہ کہہ کر مجھے لاجواب کردیا
وہ کیسی ہے ؟ کیا بالکل تم سے الگ ہے اور تم اس سے الگ
میں نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا
چپ کر مہر علی ،اے جاہ نئیں بولن دی
(مہر علی چپ کر جا ،یہ مقام قال کا نہیں ہے)
اور پھر دوسرا زمان و مکان کونسا ہے؟
میں نے اس سے پوچھا
اس نے میری طرف ایک دم سے دیکھا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں اور بولا
کیا واقعی تمہیں ابتک پتا نہیں لگا ؟
مجھ سے زیادہ اس کی آنکھوں میں دیکھا نہ گیا اور میں نے نظریں جھکالیں

کافکا کی طرح ہم سوکر اٹھیں اور کیکڑے میں بدل جائیں تو تب امکان ہے کہ دو دو زمان ومکان سے ہماری جان چھوٹ جائے،کوئی شئے سررئیل نہ رہے ، کوئی خواب ، کوئی پرچھائیں نہ رہے مگر یہ ہمارا مقدر نہیں ہے۔اور ہمیں یونہی دوہرے عذاب میں رہنا ہے۔مگر اسی لایعنیت سے معنی نکلنے کی سبیل بنے گی اور کوئی راستہ نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا۔
خواب ٹوٹا تو گر پڑے تارے
آنکھ ملنے کے بعد کیا ہوگا

یہ کہا اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔میں بھی اٹھی۔اس نے ٹیکسی رکوائی مجھے بٹھایا اور خود پیٹھ موڑ کر پیدل ایک طرف چل دیا۔

ملاقات -افسانہ

th (1)

 

میں  چوک میں بنے ٹی سٹال پہ اپنی مخصوص میز پہ جاکر بیٹھا ہی تھا کہ سامنے سے سڑک کراس کرکے وہ سیدھا میری طرف آیا اور اس نے ایک دم سے مجھے ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور مجھ سے لپٹ گیا۔

‘بہت موٹے ہوگئے ہو،اور داڑھی و سر کے بال بھی سفید ہوگئے ہیں’۔’ لیکن آنکھیں ویسی ہی ہیں ہمیشہ سے اردگرد سے بے نیاز’ ۔ اس نے کہا

میں اس اچانک حملے سے گڑبڑا گیا تھا، زرا غور سے اسے دیکھا تو بے اختیار منہ سے نکلا، ” ارے سروش احمد تم! کہاں سے ٹپک پڑے  شہر میں”۔

” بس کچھ مت پوچھو، وہاں کراچی میں تمہیں ناظم آباد کے ایف بلاک میں تلاش کیا، یونیورسٹی والوں سے پوچھا۔پھر حيدرآباد آیا اور ادھر ادھر سب جگہ ، ہیر آباد، فریٹ آباد، پھلیلی ، لطیف آباد ، سول لائن، حالی روڈ، گڈز ناکہ اور پھر کالی موری،مگر کچھ پتا ہی نہیں چل رہا تھا، ایسے لگتا تھا جیسے زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا،لاہور گیا اور ہر ایک جس کو میں تلاش کرپایا اس سے پوچھا مگر سب لاعلم تھے۔اور پھر وہ سانول سولنگی مجھے لاڑکانہ ملا اس نے تمہارے نام اور سب کچھ بدل جانے کی کہانی سنائی اور تمہارا موجودہ پتا بتایا تب جاکے مجھے معلوم پڑا۔آج جب شہر میں داخل ہوا تو ایک آدمی سے پوچھا اس نے بتایا کہ شام ہوچلی ہے اور تم یہاں بیٹھے ہوئے ہوں گے، تو سیدھا یہاں چلا آیا”۔اس نے ایک سانس میں  یہ سب  بتاڈالا۔

” مجھے بہزاد نے بتایا تھا کہ تم جوہانسبرگ ساؤتھ افریقہ میں ہو اور کسی یونیورسٹی میں امریکن لٹریچر پڑھاتے ہو۔اور یہ سب اس نے اس وقت بتایا جب کثرت شراب نوشی سے اس کے گردے، جگر اور ہارٹ بیماری کی آخری سٹیج پہ تھے اور میں اس سے تمہارا اتا پتا بھی نہیں لے سکا”۔میں نے سروش سے کہا

سروش میرے ساتھ یونیورسٹی میں تھا اور ہم ایک ہی اسٹوڈنٹس تنظیم میں تھے اور یونیورسٹی کے بعد میں ایک حادثے کا شکار ہوا تو پھر حادثے رکے نہیں اور میں ان حوادث سے لڑتا بھڑتا نجانے کہاں کہاں سے ہوتا ہوا اس شہر میں پہنچ گیا تھا اور جہاں میرا نام، شناخت بلکہ سب کچھ ہی تو چھن گیا تھا۔اور آج 30 سال بعد اچانک سروش پھر سے آگیا تھا۔

” اچھا! یہ بتاؤ اس دوران شادی کی؟”۔ سروش نے ایک دم پوچھا

” ہاں، تین بیٹے ہیں اور تمہیں وہ میری منکر نکیر بنی ص یاد ہے ؟ ” میں نے اس سے سوال کیا

ارے وہ تمہاری کزن ؟ سروش نے حیرانی سے پوچھا

ہاں وہی ۔ میں نے جواب دیا

تو وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سروش نے کہا ۔۔۔

وہ وادی حسین کراچی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیسے ہوا اور کب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے فوری بعد

بلڈ کینسر کا پتا چلا ،آخری سٹیج پہ تھا ۔۔۔۔

اوہ،مائی گڈ ۔۔۔۔۔۔۔

ہم دونوں کچھ دیر خاموش ہوگئے ۔۔۔۔۔

اس نے تھوڑی دیر بعد زرا ہچکچاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔ یار وہ ۔۔۔۔۔۔ صادق جتوئی کہہ رہا تھا کہ تم نے کافی عرصہ ہوش کھودیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے اس کی ہچکچاہٹ کو اور انتہائی ڈرے ڈرے انداز کو دیکھ کر بے اختیار قہقہہ لگایا ۔۔۔۔

ہاں نا یار، کافی عرصہ پاگل رہا، ہوش و حواس سے بے گانہ رہا ، مگر اب بہت سے ہوش والوں سے کہیں زیادہ ہوش میں ہوں، تم گھبراؤ نہیں۔

” ارے خدشہ صرف اس بات کا تھا کہیں تم برا نہ مان جاؤ ” ۔۔۔۔ اس نے جھینپ کر کہا

تم کہو اپنے بارے میں ۔۔۔۔

یار وہاں جوہانسربرگ میں ایک خاتون لگی تھی میری مزاج کی لیکن ہم تین سال اکٹھے رہے تو ہمیں احساس ہوگیا کہ ہم دوست ہی اچھے ہیں ، میاں بیوی نہیں تو بس تب سے اب دوست ہیں اور میں اور وہ اپنی جگہ جگہ آزاد ہیں۔چھٹیاں کافی تھیں میری تو ان کو اکٹھا کیا اور سوچا کہ تمہیں تلاش کروں گا ہر قیمت پہ سو کرلیا۔

کتنے عرصے بعد پاکستان آئے ہو؟ 26 سال بعد ۔۔۔۔۔

کیسا لگ رہا ہے ؟

بہہت ڈر لگتا ہے

کیوں ؟

“یار بالکل ہی بدل گیا سب کچھ ، یہاں تو اب کچھ کہنا اور بولنا سرے سے دشوار ہوگیا ہے اور ہر سو ہمارے دشمنوں کا راج ہے۔میں نے تو اپنے دوستوں کو ڈرا ہوا ، سہما ہوا دیکھا۔ہر دوست دوسرے دوست سے ڈرا ہوا کہ کب کس کا جوش ایمان جاگ جائے اور آپ ذبح ہوجائيں”

سروش ! تم نارتھ ناظم آباد کئے تھے۔رضویہ سوسائٹی گئے تھے ؟ میں نے پوچھا

” ہاں گیا تھا ، اور ایک بھی دوست نہیں ملا، یار وہ اپنے استاد جی بھی وہیں تھے۔میں پی آئی بی کالونی گیا تھا اور استاد کے گھر پہنچا تو پتا چلا کہ وہ تو اب مجھے وادی حسین میں ملیں گے۔میں اپنے قادری صاحب کے گھر ملنے گیا تو اس کے بیٹے، بیٹیاں مجھے دیکھ کر رونے لگے، کہتے تھے بابا نشتر پارک گئے تھے میلاد منانے اور پھر نہیں لوٹے۔کیسے کیسے دوست اور بزرگ اساتذہ نہیں رہے، پاکستان تو بالکل بدل گیا ہے”- وہ گلوگیر لہجے میں کہہ رہا تھا

یہ بتاؤ، یہاں کیوں بیٹھتے ہو ؟کوئی ہے بھی نہیں ۔۔۔۔۔ سروش نے سوال کیا

کبھی کبھی لوگ آجاتے ہیں ملنے میں، پھر یہاں اس میز پہ بیٹھ کر گھنٹوں تنہا بھی ہوں تنہائی محسوس نہیں ہوتی۔پھر اور کیا بھی کیا جاسکتا ہے؟

دستِ قاتل سے ہوں نادم کہ لہو کو میرے

عمر لگ جائے گی ہمرنگ حنا ہونے تک

دشت سے قلزمِ خوں تک کی مسافت ہے فراز

قیس سے غالبِ آشفتہ نوا ہونے تک

 

 

ہم سب کمرشل لبرل

جارج آرویل نے اپنے ایک مضمون ” سیاست،انگریز اور زبان ” میں یہ مشاہدہ کیا تھا کہ “زبان کی بدعنوانی اور سیاست کی بدعنوانی ساتھ ساتھ چلتی ہیں اور ایک دوسرے کو مدد دیتی ہیں۔آرویل نے اس باہمی گٹھ جوڑ کو اپنے ناول ‘1984’ میں بہت زبردست طریقے سے دکھایا۔اس ناول میں صیم نامی ایک کردار جو کہ ٹرتھ ڈیپارٹمنٹ میں ایک نئی “لغت” کی تشکیل پہ کام کررہا ہوتا ہے اور وہ اس ناول کے مرکزی کردار ونسٹن سمتھ (حکمران پارٹی کا چھوٹا سا کارکن) کا دوست ہے،وہ کہتا ہے

“لفظوں کی تباہی بہت ہی پیاری چیز ہے۔۔۔۔۔۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ نیوز پیک کا حتمی مقصد خیال کی حد کو تنگ سے تنگ کرتے چلے جانا ہے۔آخر میں ہم ادبی اعتبار سے خطرناک سوچ کو ہی ناممکن بناڈالیں گے۔کوئی بھی تصور جس کی کبھی بھی ضرورت ہوسکتی ہے وہ ٹھیک ایک لفظ میں بیان کیا جاسکے گا اور اس کے سب دیگر ذیلی مطالب نابود کردئے جائیں گے اور پھر ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فراموش کردیا جائے گا۔ہر سال چند ہی الفاظ اور شعور کی حد کم سے کم ہوتی چلی جائے گی۔یہاں تک کہ اب بھی مجرمانہ سوچ کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔یہ محض ازخود ڈسپلن میں آنے اور ازخود حقیقت کو کنٹرول کرنے کا نام ہے۔لیکن مستقبل میں یہ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انقلاب اس وقت مکمل ہوجائے گا جب “زبان” کامل ہوجائے گی

اس ملک میں جہاد ازم،تکفیر ازم اور مذہبی بنیاد پرستی کے سعودی ماڈل کو گود لینے والے ریاستی ہرکارے جو لائن دیتے ہیں اسے پاکستانی کمرشل لبرل مافیا اور نواز حکومت کے چرن چھونے میں طاق لبرل نقاب چڑھائے صحافی اور سوشل میڈیا پہ ان کے لئے ہمہ وقت کوشاں چیلے فوری طور پہ میں سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ ایک غالب ڈسکورس بنانے کے لئے کوشاں ہوجاتے ہیں۔

مثال کے طور پہ مسلم ليگ نواز کی حکومت ،اس کے اسٹبلشمنٹ میں بیٹھے اتحادیوں نے یہ لائن دینا شروع کی کہ بدنام زمانہ تکفیری دیوبندی تنظیم اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان ایک بدلی ہوئی جماعت ہے۔اسے مرکزی سیاسی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے اور اس کے سرپرست محمد احمد لدھیانوی بہت ہی پرامن، مدبر،صاحب بصیرت عالم دین ہیں تو لبرل کمرشل مافیا نے اس ڈسکورس کو مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ آگے بڑھانا شروع کردیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ اس بدنام زمانہ تکفیری و جہادی ٹولے کو دہشت گرد ماننے سے انکاری ہوتا ہے اور ان سے اپنی ملاقاتوں کا دفاع کرتا ہے تو اس کے فوری بعد کمرشل لبرل مافیا اس کی لائن کو آگے بڑھاتا ہے۔کمرشل لبرل مافیا کی ایک اسلام آباد کی این جی او پاکستان میں تزویراتی گہرائی کی پالیسی کے خالقوں اور ہدائیت کاروں پہ مشتمل سابق جرنیل ، بیوروکریٹس اور تکفیری و جہادی لیڈروں کو ایک میز پہ بٹھاتی ہے اور پھر تکفیری و جہادیوں کو مین سٹریم کرنے پہ سوچ و بچار شروع ہوتی ہے اور نواز حکومت کا پرچارک جنگ-جیو میڈیا گروپ اپنے ٹی وی کے پروگرام ” شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” میں اس کی خصوصی تشہیر کرتا ہے۔اور ایسے ہی سابق آئی جی پنجاب جیو چینل پہ ایک اور جہادی ہرکارے سیلم صافی کے پروگرام”جرگہ” میں تکفیری دہشت گرد تنظیم ‘اہلسنت والجماعت’ کے وکیل صفائی بنتے اور پنجاب میں لشکر جھنگوی کے خاتمے کا دعوی کرتے ہیں یہ اور بات کے اگلے ہی روز لاہور میں مردم شماری کے لئے جانے والے فوجیوں پہ حملہ ہوتا ہے اور اس کے کچھ روز بعد فوج کے کومبنگ آپریشن میں لاہور میں داعش کا ایک بڑا سرغنہ مارا جاتا ہے۔

مسلم لیگ نواز کی حکومت تکفیری تنظیم اہلسنت والجماعت کو مین سٹریم کرنے اور اس کے سرپرست محمد احمد لدھیانوی کو عظیم مدبر ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس کے لئے اس نے اپنے زرخرید صحافی، تجزیہ نگاروں،کالم نگاروں،دفاعی تجزیہ نگاروں اور اس کے ساتھ سوشل میڈیا پہ بلاگرز کی ایک فوج ظفر موج کو ٹاسک سونپ دیا ہے۔

ویب بلاگ ” ہم سب ” جس کے مالک جنگ میں کالم لکھنے والے اور نواز حکومت سے انعام و اعزاز پانے والے وجاہت مسعود ہیں۔جنھوں نے بڑھاپے میں صحن میں نلکا لگوایا ہے اور اسے چلانے کا کام ان سے تو ہوتا نہیں ہے اس لئے یہ کام ان کی بغل میں تکفیریت کی گٹھی لیکر پیدا ہونے والے بچے سرانجام دے رہے ہیں اور وجاہت مسعود ان درجنوں  صیم کی طرح ہیںجو “لغت” تیار کرنے میں لگے ہیں جس کا مقصد خیالات کی حد مقرر کرنا اور ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہے جس میں فسادیوں کو “صلح کار ” اور تخریب کاروں کو “سفیر امن” کہا جائے اور سب یہی بولی بولنے لگ جائیں۔اور یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ ان انتہا پسندوں، رجعت پرستوں، تکفیری فاشسٹوں اور ان کی تنگ نظری پہ مبنی سوچ کی عکاسی کرنے والی تقریروں، بیانات اور ان کے کردار کی طرف توجہ دلائیں تو یہ کوئی جواب دے سکیں۔ان کی رٹ بس یہی ہے کہ یہ امن پسند ہیں،سفیر ہیں امن کے، ماڈریٹ ہیں اور پاکستان کے اندر پھیلی تکفیری دہشت گردی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

ویسے کیا یہ محض اتفاق ہے کہ صرف پاکستانی کمرشل لبرل مافیا ہی نہیں ہے جو تخریب کار، تنگ نظر، رجعت پرست تکفیری وجہادی مافیا کو امن کے سفیر اور آزادی پسند بناکر پیش کررہا ہے بلکہ ہم عالمی سطح پہ امریکی و برطانوی مین سٹریم میڈیا اور لبرل ڈیموکریسی کے بڑے بڑے علمبرداروں کو شام کے دہشت گردوں، القاعدہ کے اتحادیوں اور سعودی وہابیت کے پالنہاروں کو آزادی پسند، ماڈریٹ کہتے دیکھ رہے ہیں بلکہ کل تک ٹرمپ جو مغربی لبرلز کا سب سے ناپسندیدہ صدر تھا آج وہ ان کی ڈارلنگ بن گیا ہے صرف اس لئے کہ اس نے شام پہ مزائیل حملے کئے،وہ کہتا ہے کہ بشارالاسد نے کیمیائی ہتھیار معصوموں پہ استعمال کئے ہیں۔اور بس یہی ایک زبان بولی جارہی ہے۔بی بی سی فرانسیسی اسلامو فوبک ، شاؤنسٹ ، نسل پرست لی پین کو بھرپور کوریج دے رہا ہے۔فرائیڈمین جیسا لبرل ڈیموکریسی کا سب سے بڑا علمبردار داعش سے امریکہ کے اتحاد کی حمایت کرتا ہے۔

اور ریاض مالک بالکل ٹھیک لکھتے ہیں:

پاکستان کے اندر جماعت اسلامی، اہلسنت والجماعت اور جماعت دعوہ کے “تجزیہ کار” اور ان کے شریک کار اشرافی سول سوسائٹی کے نیولبرلز” اپنے آپ کو ” مہان سیاست کے ماہر اور تجزیہ کار “خیال کرتے ہیں جو اپنے کسی تجزیہ میں یہ بات کبھی نہیں لائیں گے کہ پاکستان کے اندر 80 ہزار سے زائد لوگ بشمول 23 ہزار شیعہ، 45 ہزار صوفی سنّی اور سینکڑوں کرسچن، احمدی ، ہندؤ ان تکفیری دیوبندی-سلفی دہشت گردوں نے مارے جن کو ” نفرت اور دشمنی ” کا پاٹھ لدھیانوی اور اس کے دیگر قائدین نے پڑھایا تھا۔اور “ہم سب” جیسے ویب بلاگ پہ تکفیری دیوبندی محمد احمد لدھیانوی سے ملاقات کا جو احوال شایع کیا گیا ہے اس کے آغاز میں یہ کہا گیا کہ “مشکل سوالات کا تحمل سے جواب دیتے ہیں اور ایسے سوالات کرنے پر اکساتے بھی ہیں” لیکن مشکل سوالات کونسے تھے؟ پوری رپورتاژ پڑھنے کے بعد بھی پتا نہیں چلتا۔ایک نہایت بے ضرر سا سوال یہ بھی بنتا تھا کہ محمد احمد لدھیانوی ” کاروبار تکفیر ” میں آنے سے پہلے بہت ہی غریب تھے تو آج کھربوں کے مالک کیسے بنے؟ ایک سوال ویکی لیکس کے حوالے سے بنتا تھا کہ لیبیا سے 25 ملین ڈالر ان کو کس مد میں ملے تھے؟ملک اسحاق اور ان کے دیگر ساتھیوں نے ان کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ایجنٹ و دلال کہا تھا اس میں کہاں تک صداقت ہے؟ اور آخری بات یہ کہ جب وجاہت مسعود ہفت روزہ “ہم شہری” میں ایڈیٹر تھے تو ان کے مضامین میں “کالعدم جماعتوں اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد” کی میڈیا کوریج اور ان کو سرگرمیوں کی اجازت ملنے پہ کافی تنقید ہوا کرتی تھی اور “جماعت دعوہ” پہ میری کور سٹوری کو انہوں نے اس وقت بہت سراہا تھا جب لشکر طیبہ اور اس کے ہفت روزہ اخبار “غزوہ” پہ پابندی کے دنوں بعد ” جرار” کے نام سے اخبار نکلنا شروع ہوگیا تھا۔ویسے وجاہت مسعود ” حافظ سعید ” سے اپنے نلکا چلوانے والے ایڈمنز کو کیوں نہیں ملواتے اور ان کی نرم بیانی اور مہمان نوازی اور خندہ پیشانی کا بیان “ہم سب” میں کیوں نہیں کرواتے؟ کہیں اس کی وجہ امریکیوں کی ناراضگی کا اندیشہ تو نہیں ہے؟

ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال : دو سرکاری بابوؤں کی آئین اور قانون سے کھیلواڑ کی کہانی

17909432_10212951767377284_1760224501_n

DC Khanewal Muzaffar Khan Siyal,another Master of Wretched of Earth

پاکستان میں انگریزوں سے بھی زیادہ سفید نوآبادیاتی آقا ہونے کی ذہنیت کے ساتھ عوام کو شہری سمجھنے کی بجائے رعایا جاننے کی فطرت رکھنے والے سرکاری بابوؤں کی ظالمانہ فطرت اور رعونت دیکھنی ہو تو کسی بھی ضلع کے ڈپٹی کمشنر  کے دفتر میں اس کے کام کی روٹین کا جائزہ لینا کافی ہوگا۔اور یہ کیسے آئیں اور قانون سے کھیلواڑ کرتے ہیں اس کا اندازہ مجھے گزشتہ روز اس وقت بڑی اچھی طرح ہوا جب مجھے ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے گرینڈ جرنلسٹ الائنس کی جانب سے ملتان ہائی کورٹ کے ایک بنچ کی ڈائریکشن پہ ڈی سی خانیوال کی عدالت میں پیش ہونے اور اس کے بعد ڈی سی خانیوال کی جانب سے دئے گئے فیصلے کو سننے کا اتفاق ہوا۔ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال بھی دیگر پریس کلبز کی طرح سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ 1860ء کے تحت رجسٹرڈ ہے جسے پنجاب سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کہا جاتا ہے اور یہ 1860ء کا 21 واں سیکشن ہے جو سوسائٹی رجسٹریشن سے معاملہ کرتا ہے۔ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے معاملات 2014ء سے خراب تھے۔ خراب اس لئے تھے کہ اس کلب میں برسراقتدار آنے والوں نے ایک طرف تو پریس کلب کے میمورنڈم کے آرٹیکل 56 سے لیکر 60 تک میں ایسی ترامیم کیں جو کہ سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کی شق نمبر 12 اور 16 سے متصادم تھیں اور آئین پاکستان کے بھی متصادم تھیں۔اس بات کا زکر سابق ڈی سی او خانیوال زید بن مقصود نے اپنے 2017ء میں ہی جنوری میں دئے گئے فیصلے کی شق نمبر 10 میں کیا لیکن حیرت انگیز طور پہ اصل آئین کو بحال نہ کیا۔پھر سابق ڈی سی او خانیوال زید بن مقصود نے اپنے فیصلے میں یہ بھی تسلیم کیا کہ ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال پہ نام نہاد عبوری گورننگ باڈی بنانے اور منتخب قیادت کو معطل کرنے جیسے فیصلے غلط تھے۔سابق ڈی سی او خانیوال نے اپنے فیصلے میں ایک بہت بڑا جھوٹ بولا کہ انہوں نے ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے کاروائی رجسٹرڈ میں جنرل کونسل کے اجلاس کی کاروائی میں دو تہائی اکثریت کی جانب سے سابق صدر عبداللطیف انور کے دستخطوں سے 36 لوگوں کو ممبرز بنائے جانے کی توثیق و دستخط کا ریکارڈ  خود دیکھا ہے جبکہ ایسا اجلاس سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا تھا۔میں 2014ء کے الیکشن میں آڈیٹر اور میرے دوست اشرف گادھی جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے تھے۔سابق صدر نے 36 لوگوں کو ممبر شپ دی اور ايگزیگٹو اجلاس میں ہم دونوں نے اپنے اختلافی نوٹ لکھے جسے شاہد انجم ممبر پریس کلب نے رجسٹر کاروائی میں درج کیا اور اس گے گواہ خود سابق جنرل سیکرٹری محمد اشرف پراچہ بھی ہیں اور رجسٹرڈ کاروائی میں یہ درج ہے کہ عبداللطیف انور صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب نے ہمارے سوال کے جواب میں یہ کہا تھا کہ 36 ممبر  صدر اپنے صوابدیدی اختیار سے بنارہے ہیں اور جنرل کونسل کا اجلاس سرے سے ہوا ہی نہیں۔اور نہ ہی ایسا ریکارڈ پیش کیا جاسکتا ہے۔

ميں نے ڈی سی خانیوال مظفر خان سیال کو ایک تحریری بیان دیا جس میں تمام متعلقہ آرٹیکلز سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ و میمورنڈم پریس کلب درج تھے جس کی رو سے تقاضا یہ بنتا تھا کہ ڈی سی خانیوال ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے الیکشن کروانے سے پہلے ڈسٹرکٹ پریس کلب کا ایک جنرل کونسل اجلاس بلواتے اور رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ کی شق 16 اس کا پورا طریقہ کار بتاتی ہے کہ اگر کسی سوسائٹی کا کام رک جائے کسی وجہ سے تو پنجاب حکومت کا مجاز افسر عبوری باڈی بناکر جب الیکشن کی طرف لیجائے گا تو وہ ایک تو سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کی متعلقہ شق کے تحت 14 دن پہلے جنرل کونسل کا اجلاس بلواکر پریس کلب کے ممبران کی فہرست پیش کرے گا ، مالیات کا حساب کتاب فنانس سیکرٹری پیش کرے گا اور اس کی تفصیل رجسٹرار سٹاک کمپنیز کو پیش کرکے این او سی لے گا اور پھر الیکشن بورڈ قائم کرے گا اور وہ الیکشن بورڈ پریس کلب کا سب ریکارڈ اپنی تحویل میں لے گا اور اس کے بعد الیکشن شیڈول جاری کیا جائے گا۔لیکن سابقہ ڈی سی او خانیوال اور موجودہ ڈی سی خانیوال نے سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ ، میمورنڈم ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال اور یہاں تک کہ خود اپنے بقول کہ سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ اور میمورنڈم کو سپر سیڈ نہیں کیا جاسکتا کی نفی کرتے ہوئے غیر آئینی الیکشن بورڈ  تشکیل دیا جس الیکشن بورڈ نے میمورنڈم کی شق 25 کو ہی فعال کہا جس کی کوئی گنجائش نہ تو سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ میں تھی اور نہ ہی دسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے میمورنڈم میں تھی اور یہ بھی سابق ڈی سی او خانیوال کے آمرانہ فیصلے کی روشنی میں کیا گیا اور پھر خود اس شق 25 کی ذیلی شق 5 کی خلاف ورزی کی گئی کہ کسی امیدوار سے 100 روپے وصول نہ کئے گئے اور اس پہ گزاری گئی درخواست پہ الیکشن بورڈ نے چار بار ایک ہفتے میں شیڈول بدلے اور جاری کئے ۔یہ مانا کہ شق 25 کی پوری پاسداری نہیں ہوئی اور اس کی رو سے سب امیدوار نااہل ٹھہرتے ہیں اور کاغذات کی وصولی دوبارہ کی جانی چاہئیے تھی لیکن الیکشن بورڈ کے چئیرمین سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کے کمرے میں جب اس معاملے پہ بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ” ڈسٹرکٹ پریس کلب کا آئین معطل اور شق 25 برقرار اور اس کی معمولی سی خلاف ورزی کا کوئی مطلب نہیں ہے اور جوش جذبات میں وہ یہ بھی کہہ گئے کہ ” یہاں آئین اور قانون کو کون پوچھتا ہے حسینی صاحب؟ ” جب میں نے ان کی اس بات پہ حیرت کا اظہار کیا( کیونکہ وہ نہ صرف پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں بلکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن خانیوال جیسے انتہائی محترم اور درخشاں روایات کے حامل ادارے کے صدر بھی تھے اور ہم اپنی خوش قسمتی سمجھ رہے تھے کہ اس قدر موقر ادارے کا صدر ہمارا چئیرمین الیکشن بورڈ ہے اور اسے ہم جب تفصیل سے آئین اور قانون سے کئے گئے کھیلواڑ کی تفصیل سے آگاہ کریں گے تو وہ اس عمل سے خود کو الگ کرلیں گے لیکن وہ تو اپنے غلط فیصلے پہ اڑ گئے) اور میں نے ان سے عرض کی کہ جناب ” آئین اور قانون ” بارے ایسا تحقیری انداز پاکستان کی تاریخ میں آمروں نے اختیار کیا اور یہ ضیاء الحق کہا کرتا تھا کہ آئین ہے کیا چند صفحات کی کتاب ، جسے جب چاہوں پھاڑ کر پھینک دوں۔ آپ جس پیشے سے وابستہ ہیں اور جس ادارے کی سربراہی کررہے ہیں دونوں کے وقار کو یہ تحقیر مجروح کرنے والی ہے۔اب میری اس بات میں کون سی ذاتیات شامل تھی جس کا چئیر مین الیکشن بورڈ نے برا منایا اور نجی محافل میں یہ کہا کہ اگر اے ڈی سی آر کے اجلاس میں یہ باتیں نہ کی جاتیں تو شاید میں فیصلہ بدل ڈالتا۔لیکن ہماری اطلاعات یہ ہیں کہ سابق ڈی سی او خانیوال زید بن مقصود اپنے بعد آنے والے ڈی سی کے ساتھ رابطے میں تھے اور ایک سرکاری بابو نے اپنے بلنڈرز، فاش غلطیوں پہ مبنی فیصلے اور سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ و ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے میمورنڈم کی صریح خلاف ورزی اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پہ مبنی فیصلے کو بچانے کے لئے دوسرے سرکاری بابو سے تعاون مانگا جس کا انکار نہ کیا گیا۔پھر موجودہ سرکاری بابو کے ساتھ ایک مسئلہ اور بھی ہے  کہ اپنے سابق سرکاری بابو کی طرح اسے عوام دوست ، ظلم کے خلاف برسر پیکار صحافی کہاں پسند آئیں گے ورنہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ جو انھیں پیش کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ اپنے غیر آئینی و غیر قانونی فیصلے سے جن لوگوں کو آپ فائدہ پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں ان کا ریکارڈ ہے کیا۔

لوگ اکثر شکوہ کناں ہوتے ہیں کہ زرد صحافت کا دائرہ پھیلتا جارہا ہے بلکہ کئی کارڈ ہولڈرز کے جرائم پیشہ افراد کے سرپرست ہونے ، عوام کے مفادات کے خلاف افسر شاہی اور سرکاری بابوؤں سے گٹھ جوڑ کرنے کے قصّے زبان زد عام ہیں تو معاملہ یہ بنتا ہے کہ  سرکاری بابو شاہی نوآبادیاتی ذہنیت کے ساتھ چند کالی بھیڑوں کو خرید کر رکھتی ہیں اور ان کو سول سوسائٹی کے اہم ترین ستون اور عوامی مفادات کے تحفظ کی ضمانت دینے والے اداروں جیسے پریس کلب ہے پہ قبضہ کرنے کے لئے مکمل سپورٹ دی جاتی ہے اور اس طرح سے مظلوموں کی آواز دبا دی جاتی ہے۔لیکن ایسے نہ آواز پہلے کبھی دبائی جاسکی اور نہ اب دبائی جاسکے گی۔ہم بطور ریکارڈ بابو شاہی کی لاقانونیت اور اپنی فاش غلطیوں کو چھپانے کا پول کھولتے رہیں گے۔