ٹرانسپیرنٹ دوستی-افسانہ ۔عامر حسینی

Nude Marathi Movie Teaser Poster

 

ٹرانسپرینٹ دوست

افسانہ /محمد عامر حسینی

‘میں تمہاری دوست کب بن سکوں گی ۔’

‘جب تم خدوخال سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو دیکھنے لگو گی۔’

‘کیا میری تانیثیت میرے آڑے آتی ہے؟ تو تمہاری تذکیر تمہارے آڑے کیوں نہیں آتی؟’

اس سوال نے مجھے تھوڑا سا پریشان کردیا اور میں سوچنے لگا کہ میں ابتک اس سے تعلق میں کس چیز  کا تمنائی رہا ہوں۔ویسے کل کی بات چیت میں، میں نے اسے بتادیا دیا تھا کہ میں جب بھی اس کا تصور کرتا ہوں تو اس کی آنکھیں، اس کے رخسار،لب،اس کی چھاتیاں،کولہے،اس کی رانیں، ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں میرے تخیل کو گھیر لیتی ہیں اور میری رانوں میں خودبخود سنسناہٹ بڑھ جاتی ہے۔اور مجھے لگتا ہے کہ اس سے وصال میری زندگی کی سب سے بڑی تمنا ہے۔وہ وصال جو پورا مرد،پوری عورت سے کرتا ہے۔لیکن پھر مجھے خیال آتا ہے کہ اس دنیا میں سالم مرد اور سالم عورت کا وصال کبھی کہیں حقیقت بن پایا ہے،یہ دنیا تو بٹے ہوئے اور بکھرے ہوئے مردوں اور عورتوں کی دنیا ہے اور وصال کچھ دیر کے لئے فرار  حاصل کرنے کا ایک بہانہ ہوتا ہے۔بس وہی لمحے تھوڑی دیر کے لئے لذت محض بن جاتے ہیں جس میں پورے دل و دماغ سے ساری توانائی مخصوص جگہوں پہ اکٹھی ہوجاتی ہے اور اس دوران بھی کمبخت ذہن بار بار بھٹک جاتا ہے۔

ہمارا تعلق بھی بڑے ہی عجیب طریقے سے باہم استوار ہوا تھا۔میں ایک یونیورسٹی میں وزیٹنگ لیکچرر کی جاب کررہا تھا۔ہفتے میں دو دن میرے شعبہ فلاسفی میں لیکچر ہوا کرتے تھے۔وہ کمپیوٹر سائنس کی طالبہ تھی اس کا میری کلاس سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن اپنی ایک دوست کے ساتھ وہ یونہی میری کلاس میں آکر بیٹھ جاتی تھی اور میں نے بھی کبھی اس بات کا نوٹس نہیں لیا تھا۔

میں اس کلاس میں غائب دماغی کے ساتھ آتا تھا۔یونیورسٹی میں وزیٹنگ لیکچرر شپ کی یہ جزو وقتی جاب میں نے ایکسٹرا پیسے اکٹھے کرنے کے لئے کی ہوئی تھی، میں بہت عرصے سے مینیول جاب سے بھاگ رہا تھا۔میری اکثر نوکریاں اب جزو وقتی ہوتی تھیں۔کئی رسالوں ، ویب نیوز سائٹس کو میں ان کی ڈیمانڈ پہ چیزیں لکھ کر دے دیتا ،ایسے ہی کئی بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کو ان کی ضرورت کے مطابق خبریں فراہم کردیتا، اور کئی این جی اوز کو درکار ڈیٹے کی فراہمی کردیتا، اور کبھی کبھار بطور ریسورس پرسن کے لیکچر بھی دے آتا اور اس طرح سے میں کافی پیسے کمالیتا تھا۔یہ فری لانسنگ کافی وقت دے دیتی تھی مجھے اور پھر بیوروکریٹک ضابطوں سے بھی جان چھٹی ہی رہتی تھی۔میرا خیال تھا کہ میں ایسے سپائل ہونے سے بچ جاؤں گا۔لیکن مجھے دھیرے دھیرے احساس ہوا کہ محنت کی استعداد کیسے بھی بیچی جائے سرمایہ دارانہ سماج کا حاکم طبقہ آپ کو نچوڑ ہی لیتا ہے اور آپ کو اپنی محنت کے اپنا ہونے کا احساس نہیں ہوتا ہے۔اور بیگانگی اندر ہی اندر جمع ہوتی رہتی ہے۔اور اس دوران کوئی بھی تعلق مستقل نہیں رہتا۔

غائب دماغی کی وجہ بہرحال عارضی نوکریوں کا مجھے نچوڑ لینے نہیں تھا۔بلکہ اس کی وجہ میرے اندر عورت بارے بیٹھے ایک جنون تھا کہ جو عورت بھی میرے قریب آتی تھی میں اس سے جسمانی تعلق بارے نہ چاہتے ہوئے بھی سوچنے لگ جاتا تھا اور میرا سارا علم، ساری سوچ اور ساری صلاحیتیں اس کے لئے وقف ہوجاتی تھیں اور اس دوران اچھے خاصے تعلق کی ماں بہن ایک ہوجاتی تھی۔تو بہت سارے واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے میں  کام کی جگہ پہ دماغ کو بلینک کرلیتا تھا۔میں بظاہر تو کلاس میں موجود ہوتا، اچھے سے لیکچر بھی دے رہا ہوتا لیکن اس وقت میں ،وہاں کسی چہرے کو دیکھ نہیں رہا ہوتا تھا۔لڑکوں کو بھی نہیں،میں آپ کو ایک بات تو بتانا بھول ہی گیا،مجھے دبلے پتلے اور نسوانیت کا احساس لئے ہوئے لڑکوں میں بھی بلا کی جنسی کشش محسوس ہوتی تھی اور میں ایسے لڑکوں کو دیکھ کر ہوش و حواس کھوبیٹھتا تھا اور اسقدر خوبصورت گفتگو کرتا تھا کہ ایسے لڑکے میرے گرویدہ ہوجاتے، میں بہانے بہانے سے ان کو چھوتا تھا اور میرے اندر اس چھونے سے نئی توانائی آجاتی تھی۔

آپ سوچ رہیں ہوں گے میں شاید جنسی طور پہ کوئی ترسا ہوا آدمی ہوں۔آپ کی یہ سوچ انتہائی غلط ہے۔میں بھرپور قسم کی ازواجی زندگی گزار رہا ہوں۔میری بیوی مجھ سے دس سال چھوٹی ہے اور ابھی عمر کے 27 سال میں ہے اور وہ ہر طرح سے جنس کا ایٹم بم ہے اور ساتھ ساتھ بے پناہ محبت کرنے والی بھی۔وہ مراٹھی ہے۔مجھے وہ ممبئی ورلڈ سوشل فورم میں ملی تھی،جہاں میں ایک پروگرام کا ماڈریٹر تھا۔چاکلیٹی کلر ہے اس کا جس پہ میں بے انتہا فدا ہوں۔دبلی پتلی ‎سی مگر اس کی پیٹھ پہ پورا گوشت ہے۔نیلی جینز اور سرمئی کلر کی کرتی پہنے وہ کمال لگ رہی تھی۔شاید ہم دونوں ہی پہلی نظر میں ایک دوسرے پہ فدا ہوگئے تھے۔پھر میں سات دن ممبئی رہا اور اس دوران ہو ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے اور ساتویں دن جب میری فلائٹ میں دو گھنٹے باقی تھے تو ہم نے باہم شادی کرلی۔اسے پاکستان آنے میں سرکاری معاملات سے نمٹنے میں دو سال لگ گئے۔جب میں اسے ملا تھا تو وہ 21 سال کی تھی اور جب وہ پاکستان آئی تو 23 سال کی ہوگئی تھی۔انتھرپولوجی اس نے حال ہی میں پی ایچ ڈی کی ہے۔اور کینڈا سے اسے جاب کی آفر ہ۔میں تو کہتا ہوں چلی جاؤ،مگر کہتی ہے تمہارے بغیر نہیں جاؤں گی۔پاکستان اسے ہائی اسکول میں 17ویں گریڈ کی نوکری ہی دے سکا ہے۔وہ کررہی ہے۔ہم نے سوچ سمجھ کر بچے نہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آپ بھی کہہ رہے ہوں گے کہ اس کا کوئی نام تو ہوگا۔ہاں ہے نا۔’ رینا’ ۔ میں نے ممبئی کے ساحل پہ اچانک سے رات کو ایک الگ تھلگ گوشے میں اس سے اس کے نام کا مطلب اس سے پوچھا تھا تو کہنے لگی،’ اس وقت کیا ہے؟’ میں نے بے اختیار کہا،’رات’ تو اس نے کہا مراٹھی میں رینا رات کو کہتے ہیں۔میں بڑا حیران ہوا، مہاراشٹر میں رات چاکلیٹی ہوتی تو نہیں تھی لیکن مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے اچانک سب چاکلیٹی سا ہوگیا ہو۔اور پھر میں جب بھی اس کے بدن کا طواف کرتا لباس قدرت میں تو مجھے یوں لگتا جیسے چاکلیٹی رات کا مجسمہ برہنہ میرے سامنے ہو اور میں اسے لپا لپ کھائے جارہا ہوں۔میں اس سے کبھی سیر نہیں ہوتا۔ہم روز ہی ایک دوسرے کو دریافت کرتے ہیں اور ہمارا جوش کچی عمر کے لڑکے لڑکیوں کے باہمی میلاپ جیسا ہوتا ہے۔اور خوب ایک دوسرے سے لطف اندوز ہونے کے باوجود اگلی بار پھر میرا جوش ویسے ہی دیدنی ہوتا جیسے بچے چاکلیٹ کو دیکھ کر بے صبرے ہوجاتے ہیں اور ان کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔

میرے اندر ایک کمزوری ہے۔اور یہ کمزوری اکثر میرے سے بہت سے لوگوں کو دور کردیتی ہے۔اور وہ کمزوری ہے جب کوئی میرے بہت قریب ہوجائے تو میں اس سے کچھ نہیں چھپاتا ہوں۔ایک رات جب میں اس کی محبت میں خوب سرشار تھا اور رات بھی اماؤس کی تھی تو اچانک سے میں نے اسے عورتوں اور لڑکوں سے متعلق اپنے جنون بارے سب بتاڈالا۔اور ایک رو میں بہہ کر اسے بتاتا رہا۔جب ميں نے کہا کہ مجھے ‘دبلے پتلے نسوانیت سے بھرے لڑکے بہت پسند ہیں، ان میں مجھے جنس بھری بھری لگتی ہے۔’ تو وہ ایک دم سے بولی،’جیسے وہ سروش ،ہے نا! میں ایک دم سے بھونچکا رہ گیا۔میرے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکل رہا تھا۔

‘پریشان ہونے کی جرورت نہیں ہے،میں اس دن وقت سے پہلے گھر آگئی تھی اور چابی کھماکر دروازہ کھولا تو تم اور سروش دنیا جہاں سے بے خبر قالین پہ ہی اپنے جنون کی نشانیاں ثبت کرنے میں لگے تھے۔میں واپس پلٹ گئی تھی۔’

‘اور ایک بار غلطی سے تمہارا لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا اور انباکس میسجز پڑھے مجھے تجسس ہوا اور یہ تجسس تمہاری کہانیاں پڑھ کر بھی ہوا تھا تو وہ ‘راگنی’ کے نام سے بنا تمہارا فولڈر میں نے کھول کر پڑھ لیا تھا۔مجھے لگا تھا کہ شاید راگنی کوئی عورت ہے لیکن اس راگنی میں سے کئی لڑکے اور کئی عورتیں نکل آئیں۔’

‘تمہیں یہ سب بے وفائی نہیں لگی۔’

‘ارے نہیں یار! تمہارا میرے ساتھ جو سلوک ہے اور جس قدر تعلق ہے اس میں بے ساختگی ہے اور تم میرے ساتھ بے دلی سے نہیں ہو اور یہی مجھے درکار ہے، اگر کہیں یہ بناوٹی ہوتا یا اوپرا اوپرا ہوتا تو میں کب کی چھوڑ گئی ہوتی تمہیں۔’

رینا صرف نام کی رات نہیں ہے بلکہ وہ عمل میں بھی رات ہے۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔میں  بات کررہا تھا اس کیمپوٹر سائنس کی طالبہ کی جو میری فلاسفی کی کلاس میں آکر بیٹھ جاتی تھی۔ایک دن میں یونانی شاعرہ سیفو بارے اپنی کلاس کو پڑھارہا تھا۔اس کی شاعری سے بات اس کی ہم جنس پرستی کی جانب بڑھی اور میں نے بتایا کہ کیسے اسے مردوں اور عورتوں دونوں میں یکساں دلچسپی تھی۔سروش کی آنکھوں میں شرارت امنڈ آئی۔ایسے وقت میں وہ مجھے اسقدر سیکسی لگتا تھا کہ میرا بلینک دماغ فوری حاضر ہوتا اور میرا دل کرتا کہ اسے اٹھاؤں اور اپنی میز پہ ننگا کروں اور اسی وقت اس کے سارے بدن کو چاٹنے لگ جاؤں۔کچی عمر کا سروش جس کی عمر مشکل سے سترہ سال تھی بید مجنوں کی طرح لچکدار جسم کا مالک تھا اور بدن اس کا مخمل کی طرح تھا۔زرا سی انگلی کا دباؤ ساری انگلی بدن میں گھسادیتا تھا۔

‘بعض مردوں میں سیفو کی روح ہوتی ہے سر! اور وہ بھی مردوں اور عورتوں کو یکساں پسند کرتے ہیں،بلکہ پسند کیا کھاجاتے ہیں ان کو۔’

یہ کہتے ہوئے وہ وہ اپنے ہونٹ ایسے چبا رہا تھا کہ میں بہت مشکل سے اپنے اوپر کنٹرول کرپارہا تھا۔کلاس ختم ہوئی تو میں نے سروش کو اشارہ کیا اور نجانے مجھے کیا ہوگیا تھا اور میں اسے جینٹس واش روم کی طرف لے گا اور میں واقعی اس کے ہونٹ چپاڈالے تھے اور اس کے ہونٹ پہ خون کی ایک پتلی سی بوند میرے ہیجان کو اور تیز کئے جارہی تھی۔میں نے اس کے کولہوں کو دبایا ،وہ بھی اس دن بہت وحشی لگ رہا تھا۔میں بار بار اسے ‘سیفو، سیفو ‘ کہہ کر پکار رہا تھا اور جب تک ہمارا ہیجان اپنے اختتام کو نہ پہنچا میں اسے اسی نام سے پکارتا رہا۔بعد میں،میں نے سوچا کہ اگر اس دوران کوئی جینٹ واش رومز کی جانب آنکلتا تو ۔۔۔۔۔۔؟ بس آگے مجھ سے کچھ نہ سوچا گیا۔

میں  اس کے بعد عجلت میں وہاں سے نکل کر باہر آیا اور یونیورسٹی سے شٹل لینے کے لئے سٹاپ پہ آیا تو وہاں وہ کمپیوٹر سائنس کی طالبہ میری کلاس کی طالبہ کے ساتھ کھڑی تھی۔ابھی شٹل آنے میں دیر تھی۔دونوں مجھے سلام کیا۔

ہم کچھ دیر سٹاپ خاموشی سے کھڑۓ رہے۔اچانک کمپیوٹر سائنس کی طالبہ نے کہا،’ سر! سیفو جیسی عورت کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کا لہجہ ستائشی تھا اور کیا ایسی عورتیں اس قابل ہوتی ہیں کہ انکی محض اس لئے تعریف کی جائے کہ ان کی نظم کمال کی ہے،اور کیا ہم جنس پرستانہ شاعری میں کوئی کمال ہوتا ہے؟’

میں اس کے یوں دھڑ سے بولنے پہ تھوڑا سا حیران ہوا۔مگر اس کی گفتگو زرا بھی اس قابل نہ لگی کہ میں اس پہ کوئی کمنٹ کروں۔مجھے لگا کہ وہ یا تو مودودی کی پیرو ہے یا پھر فرحت ہاشمی سے متاثر ہے۔اتنے میں شٹل بھی پاس آنے لگی۔اور میں اس سے کچھ کہے بغیر ہی شٹل میں سوار ہوگیا۔

اس رات رینا گھر نہیں تھی۔وہ ایک ٹریننگ کے سلسلے میں راولپنڈی گئی ہوئی تھی،میں نے شامی کا نمبر ڈائل کیا،مگر وہ بند تھا۔شامی کوکا کولا فیکٹری پلانٹ میں کوالٹی کنٹرول اینالسٹ تھا۔ایف ایس سی کرکے اس شعبے میں آگیا تھا۔اور کوکا کولا فیکٹری کی سی بی اے میں ایک متحرک نوجوان مزدور کارکن تھا۔اور اس فیکٹری میں کچے مزدروں کو پکا کرنے کی ایک تحریک چل رہی تھی۔میں بھی اس تحریک کے معاونین میں شامل تھا۔اور فیکٹری مزدوروں کا اسٹڈی سرکل لینے چلا جاتا تھا۔سی بی اے کے صدر شوکت کے زریعے میں وہاں پہنچا تھا اور شامی یونین کا سیکرٹری نشر واشاعت تھا۔میں نے اس کی تربیت کی تھی۔اور اسے مقامی صحافیوں سے ملوایا تھا۔اسے میں نے پمفلٹ لکھنا، سوشل میڈیا پہ سالیڈرٹی کمپئن بنانے اور چلانے کا طریقہ سکھایا تھا اور ایسے ہی اسے ٹوئٹر ہنڈلر اور فیس بک اکاؤنٹ، بلاگنگ وغیرہ سکھائی تھی۔ان دنوں ابھی یہ نئی نئی آئی تھیں۔میرے سامنے وہ کافی مودب رہتا تھا لیکن میں نے محسوس کیا تھا کہ وہ کنکھیوں سے میرے سراپے کا جائزہ لیتا رہتا تھا۔اب اس سے یہ مت سمجھ لیجیے گا کہ میرے خدوخال اور جسامت کوئی ہیرو جیسی تھی۔میری شیو اکثر بڑھی رہتی تھی۔کئی کئی ماہ شیو نہیں کرتا تھا، نہاتا مجبوری سے تھا،پیٹ کچھ باہر کو نکلا ہوا تھا (رینا وقت وصال مجھے موٹو کہتی اور کہا کرتی تھی ۔موٹو ! اتنا وزن ہے تمہارا مجھے ماردوگے کیا ، آپ وہ دھان پان سی تھی)،ہونٹ ہمیشہ سے خشک، پپڑی جمی ہوئی، کثرت سے سگریٹ نوشی کے سبب  سیاہ پڑے ہوئے تھے،سر کے بال کھچڑی بنے رہتے تھے۔جینز ہفتوں پرانی مگر شرٹ رینا کے اصرار پہ مجھے ہر روز بدلنا پڑتی تھی اور میرے جوتے بھی وہی زبردستی پالش کردیتی تھی۔بہرحال ایک دن میں نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔اس سے پوچھا ،’کیا دیکھ رہے ہو؟’

‘کچھ بھی نہیں۔’ وہ تھوڑا سا گھبرا گیا۔ ‘نہیں! بتاؤ، اکثر دیکھتے رہتے ہو۔’

‘آپ مجھے اچھے لگتے ہو، پسند کرتا ہوں آپ میں کامریڈ! ‘ (یہ لفظ بھی میں نے اسے سکھایا تھا کیونکہ وہ مجھے ‘سر’ کہتا تھا تو میں نے اسے کامریڈ کہنے کو کہا، اس نے پوچھا تھا کہ کامریڈ کا مطلب ،تو میرے منہ سے نکلا ‘ساتھی’ تو بے اختیتار اس کی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔میں سمجھ گیا تھا کہ وہ کیوں ہنسا تھا اور میرا دھیان بھی فوری طور پہ کنڈوم کی مشہوری کی طرف چلاگیا تھا اور میں بھی بے اختیار ہنسنے لگا تھا اور میں نے کہا تھا ‘،’ یہ بھی امریکی سامراج کی سازش ہے ۔’

اس کے اس طرح سے اطہار پسندیدگی پہ میں نے پہلی بار اسے دوسرے انداز میں دیکھا۔وہ دبلا پتلا تھا مگر قد تھوڑا چھوٹا تھا۔مسیں ابھی پھوٹ رہی تھیں ۔غالب کے سبزہ خط کے آثار بھی نہ تھے۔آنکھیں بادامی اور رنگ گندمی تھا اور اس کی انگلیاں مخروطی تھیں۔میرے اندر ایک اور کجی تھی مجھے سپاٹ اور چپٹی انگلیوں والے پیر بالکل پسند نہ تھے۔میں نے اچانک اسے کہا،’ جوتے اور جرابیں  اتار کر اپنے پیر مجھے دکھاؤ۔’

اس کو کچھ سمجھ نہیں آئی مگر اس نے اپنے جاگرز اور جرابیں اتاریں تو اس کے صاف شفاف متناسب پیر اور توازن لئے ہوئے انگلیاں دیکھکر میرے منہ سے اطمینان کا سانس نکلا،

‘گڈ، ٹھیک ہوگیا۔’ میں نے کہا۔ ‘ آگے آؤ۔’ وہ آیا تو ایک دم میں اس کے ہونٹوں پہ حملہ آور ہوا اور بس پھر اس کے بعد ہمارا تعلق انقلاب دوستی سے آگے بڑھ کر ذاتی تعلق میں بدل گیا۔آج سروش نے میرے اندر جو آگ بھڑکائی تھی وہ کسی طرح سے ٹھنڈی ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔میں نے کئی بار شامی کا نمبر ڈائل کیا ،مگر ہر بار ناٹ رسپانڈنگ۔

میں بےچینی سے کمرے میں ٹہل رہا تھا کہ اچانک میرے موبائل فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوگئی۔میں نے لپک کر میز پہ پڑے فون کو اٹھایا،میرا خیال تھا کہ شامی کا فون ہوگا۔مگر یہ کوئی انجان نمبر تھا۔

ہیلو!

ہیلو! کون ؟

میں سر وہ یونیورسٹی والی لڑکی فریحہ ۔

کون فریحہ !

ہم آج یونیورسٹی شٹل سٹاپ پہ ملے تھے اور سیفو بارے میں نے پوچھا تھا آپ سے

اوہ اچھا! (سخت مایوسی بھرے لہجے میں ،میں نے کہا )

فرمائیں !

آپ کو اگر پسند نہیں تو میں بات نہیں کرتی

نہیں کریں

وہی سیفو جیسی عورتوں کو آپ کیوں گلوریفائی کرتے ہیں؟

اس لئے کہ سیفو اپنے زمانے کی ایک آزاد عورت تھی جس نے اپنی آزادی پہ کمپرومائز نہیں کیا

اسے آپ آزادی کہتے ہیں، بے راہ روی، ہے یہ

(مجھے اس لڑکی کا طنطنہ،اس کی آواز میں بھرا اعتماد اور اس کا چیلنجنگ رویہ اچھا لگا تو اس کی بکواس مجھے بری نہیں لگی۔مجھے اس کی گفتگو سنکر اپنا لڑکپن یاد آگیا جب میں نے پہلی بار سبط حسن کو پڑھنا شروع کیا تو  اس کی کتاب ‘نوید فکر’ کے آغاز میں خالی صفحے پہ لکھا کہ یہ شخص بے دین، ملحد اور انتہائی گمراہ کن خیالات کا مالک لگتا ہے، تازہ تازہ میں نے مودودی ، حسن البنا اور سید قطب کو پڑھا تھا۔پھر چند سالوں بعد اسی نوٹ کے نيجے لکھا کہ ‘اب میرے یہ خیالات نہیں ہیں،سبط حسن کی باتیں ٹھیک ہیں )

میں ہنس پڑا ، اور کہا کہ تمہارا اقبال بارے کیا خیال ہے؟

‘وہ میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔بہت زبردست آدمی تھے۔مسلمانوں  کو خواب گراں سے جگایا  انھوں نے ۔’

میں یہ سنکر کھلکھلا کر ہنس پڑا

‘ہنسے کیوں آپ ؟’

‘پاگل لڑکی وہ عاشق نیاز بھی نہیں تھا، تین شادیاں ، کئی عشق، طوائفوں سے نین مٹکا کرنے والا، اکھاڑے میں کشتی کا شوقین اور مئے ناب سے دل بہلانے والا تھا، کشن پرشاد سے ججی مانگتا ، ملکہ بھوپال سے وظیفہ کا خواستگار تھا۔’

‘کیا کیا؟ یہ سب بکواس ہے۔۔۔۔۔ ‘

‘تو جاؤ نا اقبال کی زندگی پہ تفصیل سے پڑھو۔۔۔۔سنو روس کا ایک شاعر تھا پشکن، نوجوانی میں اس نے بڑے بڑے لوگوں کی سوانح عمریاں پڑھنی شروع کیں تو اسے پتا چلا کہ ان میں سے ہر ایک نے مروجہ رسمی اخلاقیات کو ٹھوکر لگائی تھی اور کے ہاں کجی کا نام سیدھ اور سیدھ کا نام کجی تھا۔’

تو ایسے ہمارا تعلق شروع ہوگیا۔وہ چہرے پہ ہمہ وقت نقاب لئے رکھتی۔ اس کی آنکھوں کا میں اسیر ہوگیا تھا۔اور پانچ اعشاریہ چھے فٹ کی وہ لڑکی بھرے بھرے جسم کی مالک تھی، اس کے بال اس کی کمر کے اس حصّے تک آتے تھے جس کے ہچکولے میرے دل کی دنیا تہہ و بالا کئے دیتے تھے۔

مجھے ایک دن لگا کہ میں طوطوں کی کلاس لے رہا ہوں تو میں نے وزیٹنگ لیکچرر شپ چھوڑ دی مگر اس لڑکی سے میرا ربط نہ ٹوٹا۔ہماری گفتگو میں اب مشکل سے ہی ‘بڑی بڑی بوجھل بقراطی ‘ باتیں در آتیں۔وہ کتابوں سے بھگنے والی لڑکی تھی۔اور اس کے ہاں بس ایک اوسط ذہانت اور مروجہ رسمی اخلاقیات کا چرچا ہوتا تھا، پہلے وہ میری  جنسیت سے بھری باتوں سے بدکتی تھی اور اکثر کال کاٹ دیتی تھی مگر اب وہ ایسا نہیں کرتی تھی، بس اتنا کہتی ،’آپ بہت گندی باتیں کرتے ہیں۔’

پھر میرا فیوز اڑ گیا۔یہ فیوز کا اڑنا بھی عجیب ہے۔جب یہ اڑتا ہے تو میں اپنے آپ سے بھی بے نیاز ہوجاتا ہوں۔اور اپنی بھی خبر نہیں لیتا۔شکر رینا میری اس عادت کا شکار نہیں بنی ورنہ میں اسے کھودیتا۔کئی ماہ اس کیفیت میں گزر گئے۔اس دوران کبھی کبھار میں اسے گڈمارننگ اور گڈنائٹ کا مسیج بھیج دیتا اور کبھی کبھی اسے ‘پھلجھڑی ، چھمک چھلو، چھنال ، سیکسی گرل  ہائے! کا میسج بھیج دیتا۔شروع شروع میں وہ بہت غصّہ کرتی تھی لیکن مجھے اب لگنے لگا تھا  اب اسے ان لفظوں میں چھپے میرے لگاؤ کو پہچان گئی تھی تو کوئی اعتراض نہ کرتی۔پہلے پہل کہتی یہ سب تم ان سے کہہ لیا کرو جو تمہارے اردگرد بہت سی ہیں۔اور میں کہتا کہ ان میں سے ایک بھی فریحہ نہیں ہے۔وہ پہلے رینا بارے بہت سوال کرتی۔کہتی ،بھابھی اتنی پیاری ہیں، آپ کی سمجھ نہیں آتی۔میرا عجیب حال تھا کہ میں اس سے جب بھی بات کرتا تھا مجھے لگتا کہ وہ میرے سامنے ننگی بیٹھی ہے اور ایک ہی وقت میں اس کے سارے جسم کے ایک ایک عضو کو نہار رہا ہوں۔

پھر وہ کچھ دنوں کے لئے بالکل غائب ہوگئی۔میسج کا بھی کوئی جواب نہیں تھا۔میں باؤلا سا ہوگیا تھا۔اسے سینکڑوں ایس ایم ایس اور وائس میسج بھیج ڈالے۔مگر کوئی جواب  نہ تھا ۔پھر ایک دن میرا موبائل جاگ گیا۔دوسری طرف وہ تھی۔میں نے کافی شکوہ کیا۔

‘میری شادی ہوگئی ہے۔اس لئے کوئی رابطہ نہ ہوسکا۔’

‘اچھا ،کس سے شادی ہوگئی ! ‘

‘بوٹ والا جوان ہے ۔’

‘ہائے، شب زفاف منانے کے بعد خیال آیا ۔’

‘آپ کی سوئی ایک ہی جگہ اٹکی رہتی ہے۔’

‘اب کہاں سوئی اٹکے گی ۔۔۔۔۔اندر چلی جائے گی۔’

‘شٹ اپ(مصنوعی غصّہ تھا)، بہت گندے ہو۔’

‘جنس میں گندگی کہاں سے آگئی ،کیا اسے بھی یہی کہا ۔’

‘اب تمہارا لگاؤ مجھ سے ختم ہوگیا ہوگا، ایک دم سے تمہارا جنون جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ہوا۔’

وہ ایک دم سے آپ کی بجائے تم پہ اتر آئی تھی ،مجھے وہ اور میچور لگ رہی تھی، لگتا تھا کہ اس کے لاشعور میں جنس بارے جو ہلکا سا خوف تھا وہ اتر چکا تھا، میں ہنس پڑا اور کہا، ‘اب تو یہ دوآتشہ ہوگیا ہے، کم از کم اب تمہیں احساس ہوگا کہ میں کیا کہتا رہا ہوں اتنے عرصے سے تمہیں چھمک چھلو ۔’

ایک دن وہ موبائل فون پہ مجھ سے بات کررہی تھی اچانک کہنے لگی،

‘کوئی ایسی عورت بھی تمہاری زندگی میں آئی جسے تم نے خدوخال سے اوپر جاکر دیکھا ہو؟’

میں اس کے سوال کو سنکر ایک دم سے ساکت ہوگیا۔اس نے ڈائریکٹ وہ سوال کردیا تھا جس سے میں ہمیشہ بھاگا کرتا تھا۔مگر فریحہ ایسی لڑکی تھی جس کو میں حقیقت بتائے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔

‘ہاں تھی۔بلکہ ہے۔’

‘کون ؟ رینا ؟’

‘ارے نہیں ، رینا کو میں خدوخال کے بغیر دیکھ ہی نہیں سکتا ورنہ وہ میری بیوی نہ ہوتی ۔’

‘پھر کون ؟’

‘وہ میری واحد دوست تھی۔’

‘کیا مطلب دوست تو میں بھی ہوں ۔’

‘تم ‘وہ دوست’ نہیں ہوں ۔’

‘وہ دوست ۔’

‘ایسا رفیق جس کے خدوخال میرے آڑے نہ آئے اور وہ اتنی ٹرانسپرینٹ تھی کہ اس نے براہ راست مجھے اپنے اندر جھانکنے کی اجازت دی اور یہ فن اس کے ہی پاس تھا۔’

‘میں کب تمہاری ٹرانسپیرنٹ دوست بن سکوں گی ؟’

‘کب کا تو مجھے نہیں ، پتا مگر جس دن تم مجھے اپنے بدن سے آگے اندر جھانکنے پہ مجبور کردوگی اور اپنی ذات کے گرد ان چھلکوں سے آگے مجھے لیکر چلی جاؤ گی اسی دن تم میری ٹرانسپرینٹ دوست بن جاؤگی۔’

پس نوشت : میں اس دن اپنے گھر کے ٹیرس پہ ہاتھ میں کافی کا کپ پکڑے کھڑا گلی میں جھانک رہا تھا۔جب کورئیر سروس والا،میرے گھر کے دروازے پہ کھڑا ہوا۔ اس نے بیل بجائی، رینا نے دروازہ کھولا اور اس نے ایک لفافہ اس کی جانب بڑھا دیا۔رینا نے ایک کاغذ پہ وصولی کے سائن کئے اور اندر چلی آئی۔تھوڑی دیر بعد وہ ٹیرس پہ تھی اس نے لفافہ مجھے تھمادیا۔میں لفافہ چاک کیا  تو اندر سے فل اسکیپ کا ایک کاغذ نکلا۔میں نے اسے ّپڑھنا شروع کیا :

ڈئیر ،

جب تمہیں یہ خط ملے گا اس وقت تک شاید میں ٹرانسپرینٹ فرینڈ میں ٹرانسفارم ہونے کے سفر پہ روانہ ہوگئی ہوں گی۔میں نے بہت سوچا کہ کیسے میں اپنے خدوخال سے اوپر اٹھ کر تمہیں پاسکتی ہوں تو اس کا ایک ہی طریقہ میری سمجھ میں آیا اور اس طریقے پہ میں عمل کرنے جارہی ہوں۔اور امید کرتی ہوں کہ اب تم اسی عورت کی طرح ہمیشہ مجھے اپنا دوست رکھوگے جسے تم اٹھتے بیٹھتے یاد کرتے رہتے ہو۔میں سمجھتی ہوں صرف اسی طریقے سے کوئی عورت تمہاری ٹرانسپرینٹ دوست بن سکتی ہے،ورنہ تم ہمیشہ اس کے چہرے، لبوں، رخساروں، چھاتیوں، رانوں میں ہی کھوئے رہوگے۔

والسلام

فریحہ وہی پہلے والی

میں نے خط پڑھتے ہی فوری اپنے موبائل پہ اس کا نمبر ملایا۔گھنٹی بجتی رہی جب میں مایوس ہوکر فون کاٹنے والا ہی تھا فون اٹھاہی لیا،میں نے بے تابی سے ‘فریحہ ‘ بولا تو آگے سے کوئی بھرائی ہوئی آواز میں بولا:

‘ساری،فریحہ نے دو دن پہلے خودکشی کرلی، میں ان کا شوہر بول رہا ہوں۔’

یہ سکر میرے ہاتھ سے موبائل گرپڑا،میری اب ایک نہیں دو ٹرانسپیرنٹ دوست ہوگئی تھیں۔

 

Advertisements

عشق مسلسل ۔کہانی

 

Rickshaw Kolkata

ریپون اسٹریٹ کلکتہ کی ایک شاہکار پینٹنگ

 

عشق مسلسل ۔۔۔۔۔کہانی

عامر حسینی

جولائی ،اگست میں ویسے ہی حبس باہر بہت ہوتا ہے اور پھر اندر بھی حبس ہو تو گھٹن آپ کو مار ڈالے دے رہی ہوتی ہے۔اور ایسے میں لوگ اگر بے کار لفظوں کی جگالی کررہے ہوں اور سب نے اپنے آپ کو پنڈت، مولوی اور فادر سمجھ لیا اور بہت ہی گٹھیا باتوں پہ بے تکان بولے اور مسلسل لکھے جارہے ہوں تو ایسے میں آپ کا دماغ سانس لینے میں مشکل محسوس کرتا ہے اور کھلی ہوا کے لئے بے چین ہوجاتا ہے۔اور ایسے میں اگر کہیں کوئی غضب کی المیاتی کہانی جو وفور تخلیق سے سرشار ہو پڑھنے کو مل جائے تو اس ٹریجڈی میں بھی آپ کا دماغ آکسجین لیتا محسوس ہوتا ہے۔مجھے اس نے بتایا کہ کل جس عورت سے وہ محبت کرتا ہے اس کی منگنی ہوگئی ہے اور اس کا دل بوجھ تلے دبا جارہا ہے اور اسے کوئی چیز اچھی نہیں لگ رہی ہے۔مجھے بہت عجیب لگا کہ یہ اسے بھی پتا تھا کہ جس عورت سے وہ محبت کئے جاتا ہے، جسے اس نے  کبھی دیکھا تک نہیں اور یہاں تک کہ اس کی آواز بھی نہیں سنی اس سے کبھی ‘وصل’ نہیں ہوگا اور وہ اور وہ عورت ایک دریا کے دو کنارے ہیں بلکہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ دو الگ الگ دریاؤں کے کنارے ہیں تو پھر اسے یہ بوجھ کیوں مارے ڈالے جاتا ہے۔اس نے مجھے کہا کہ تم ‘ ایک مردہ ہوگئی ‘ عورت کو ‘ اجنتا کی مورتی ‘ بناکر ابتک پوجے جاتے ہو ،میں تو پھر ایک جیتی جاگتی عورت سے محبت کررہا ہوں،تمہیں اگر یہ سب سمجھ نہ آئے تو پھر کس کے آگے جاکے سر پھوڑوں میں، کہنے لگا کہ تم اس ‘مرگئی ‘ عورت کو زندہ جان کر اس کے نام خطوط لکھے جاتے ہو، کہانیاں بنتے رہتے ہو اور ایک ایسے جہان میں رہتے ہو جو تمہارے ماضی اور تمہاری فکشن کی اپج سے ملکر بنا ہے جس میں ‘حال ‘ جو بھی ہے ایک ‘افسانہ ‘  ہے اور ‘ ایک ‘اسطور ‘ ہے۔میں نے سوچا کہ میں اب اسے بتا ہی دوں اور اس سے چھپانا مجھے اب پاپ لگنے لگا تھا ۔

‘میں ایک اور عورت کے عشق میں مبتلا ہوچکا ہوں ‘۔

‘وہ تو تمہارا کوئی ‘کانٹی جینٹ لو’ ہوگا ، اس نے فوری کہا

‘نہیں ، میں عشق میں کانٹی جینسی کا قائل نہیں ہوں ‘۔

‘تم نے ایک خط میں لکھا تھا ‘ ۔۔

‘وہ تو سیمون دی بووار اور سارتر کے حوالے سے تھا ‘۔۔۔۔۔۔

‘تم بڑے فنکار ہو، چھپا جاتے ہو اپنے اصلی جذبات ، اور کبھی اپنے اندر جھانکنے نہیں دیتے، تمہاری کرمنالوجی میں ڈگری تمہارے بڑے کام آتی ہے۔تم مجرموں کی نفسیات کے اصولوں کی مدد سے ‘عام لوگوں ‘ کو پڑھتے ہو ‘

مجھے لگا کہ اس کی محبت نے اسے باطن میں جھانکنے کی صلاحیت عطا کردی ہے۔میں اس سے ڈرنے لگا ۔۔۔۔۔۔

‘نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے، مجھے ایک عورت سے واقعی ویسا عشق ہوگیا ہے جیسا ‘ اجنتا جیسی اس مورت ‘ سے ہوا تھا اور میں آج کل اس کی ‘خیالات کی نراجیت ‘ میں بھی ‘ لطف ‘ پاتا ہوں’۔

‘تو کیا اب ‘اجنتا جیسی مورت ‘ سے عشق نہیں رہا؟’

‘نہیں، وہ بھی ہے ، یہ بھی ہے’

‘تو کیا بیک وقت دو عورتیں ابدی عشق کا مرکز ہوسکتی ہیں چاہے ان میں سے ایک مر ہی کیوں نا گئی ہو؟’

اس نے یک دم سے سوال کیا ،جیسے میرے سر پہ کسی نے بم پھوڑ دیا ہو، میں نے ایک لمحے کو دل کے اندر جھانک کر دیکھا اور وہ دونوں مجھے وہاں برابر برابر بیٹھے نظر آئیں اور دونوں کی نظریں مجھ پہ ٹکی ہوئی تھیں ۔اور مجھے لگا کہ وہ دونوں ایک دوسرے حال احوال کرچکی ہیں۔اور میں نے اس سے کہا

‘ ہاں،دونوں ہی ہیں اور ایک دوسرے سے واقف بھی ہوگئی ہیں’۔

‘اس دوسرے عشق کو کب اپناؤگے ؟’

‘ظاہری اپنانے کا سوال خارج از امکان ہے۔ہوسکتا ہے کہ ہم کبھی نہ ملیں اور معاملہ یونہی چلتا رہے۔میں نے خود سے اس کی آواز تخلیق کی ہے اور خود ہی اس سے ملتی جلتی آواز بنالی ہے جو میرے کانوں میں گونجتی رہتی ہے، اس کے لکھے لفظ میرے پاس پہنچتے ہیں اور میں ان سے تصویر اور آواز بناتا ہوں’

‘تم تو مائیکل اینجلو سے بھی دو ہاتھ آگے چلے گئے، وہ آوازوں سے تصویر بنالیتا تھا اور تم لفظوں سے پہلے آواز بناتے ہو اور پھر شکل بنالیتے ہو،کیا کہنے تمہارے’

اس نے جب کہا تو مجھے لگا کہ وہ غلط تو کچھ بھی نہیں کہہ رہا،میں یہی کچھ تو کررہا تھا۔

‘تم نے آج تک ‘کانٹی جینٹ لو ‘ نہیں کیا ؟ دیکھو جھوٹ مت بولنا ، میں تنگ آگیا ہوں ، تمہاری جھوٹی پرہیزگاری بارے باتیں سنکر اور یہ خدوخال سے ماورا جاکر محبت کرنے کے قصّے ‘۔۔۔۔۔

اس نے ایک اور بم پھوڑ دیا ۔میں ہل کر رہ گیا۔میں نے سوچا کہ اسے بتا ہی دوں۔

‘ اسے میں نے ایک مشاعرے کی کمپئرنگ کرتے دیکھا تھا اور اس کے بولنے کے انداز ، اس کے ہاتھ کے اشاروں، آنکھوں کی حرکت پہ مرمٹا تھا اور شاید دوسری طرف بھی یہی کیفیت تھی۔کلکتہ شہر اس دن مجھے اپنے پوری حبس زدگی اور جلد کو کالا کرنے کی صلاحیت بد کے باوجود اچھا لگنے لگا تھا۔مشاعرہ ختم ہوگیا اور میں اس کی جانب بڑھتا چلا گیا۔اس دن کوئی تمہید میں نہیں باندھی تھی اور ابتدائی تعارف کے بعد ہی اسے کہہ دیا تھا کہ میں اس پہ مرمٹا ہوں اور اس کے خدوخال قیامت ہیں۔وہ ہنسی اور اس نے اپنا لینڈ لائن فون نمبر مجھے دے دیا۔میں کلکتہ ایک ماہ رہا اور اس ایک ماہ میں اس سے میں روز گھنٹوں گھنٹوں فون پہ بات کرتا تھا۔وہ گھر ہوتی تب اور آفس ہوتی تب بھی ۔اور اس نے مجھے بتادیا کہ وہ شادی شدہ ہے اور میں نے بھی۔ہم آگے بڑھتے چلے گئے اور ایک ماہ کے اندر ہی ہماری ملاقاتیں ہونے لگیں۔اس کا شوہر ایک بینک میں کام کرتا تھا۔اور اس دوران ہم نے ساری منزلیں عبور کرلیں تھیں اور مجھے لگتا تھا کہ میں ‘عشق’ کے نئے معنی پاگیا ہوں اور وہ ہی میری توجہ کا مرکز تھی۔میرے اندر ایک نئی توانائی بھری ہوئی تھی،پھر یوں ہوا کہ وہ امید سے ہوگئی اور اسی دوران اپنے شوہر کے ساتھ وہ ‘نینی تال ‘ گئی اور وہاں سے واپس آئی تو اس کا لینڈ لائن فون بدل گیا،میں نے ایک روز اسے آفس کے رستے جاپکڑا۔وہ مجھے دیکھ کر تیز تیز چلنے لگی ، میں اس کے سامنے آگیا اور وہ اور میں ایک کیفے میں چلے گئے وہاں کیبن میں بیٹھ  گئے ۔اس نے کہا میرے پاس دس منٹ ہیں اور میری بات سنو بس،’ ایک رات میرا شوہر سے جھگڑا ہوگیا تھا، اس نے مجھے ‘ جاہل عورت’ کہہ ڈالا، میرے اندر آگ لگ گئی اور اس کے کچھ دن بعد وہاں مشاعرے میں تم مل گئے اور میں جو غصّے و نفرت کی آگ میں جل رہی تھی تمہاری اس قدر ‘ عزت افزائی ‘ سے ٹرانس میں آگئی اور میں تم میں کھوگئی مگر ایک دن جب ہماری ‘ ناراضگی ‘ کو کافی دن ہوگئے تو میں ٹوٹ کر میرے قدموں ميں گرپڑا اور ہم پھر سے ایک ہوگئے اور اس دوران میں نے اسے ‘سچ ‘ بتادیا۔میرا خیال تھا کہ یہ سننے کے بعد وہ مجھے چھوڑ دے گا،لیکن اس نے مجھے نہیں چھوڑا اور کہنے لگا کہ اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے اور پھر میں اے کافی دن آزماتی رہی اور مجھے یقین ہوگیا کہ وہ مجھ سے ‘سچا پیار ‘ کرتا  ہے تو میں نے تم سے ‘ تعلق ‘ ختم کردیا۔تم اچانک مجھے بت برا لگنے لگے۔میں تم سے نفرت کرتی ہوں کیونکہ  تم نے مجھے ‘اس ‘ سے ملانے کی سبیل کرنے کی بجائے اپنی ‘ ہوس ‘ کا قیدی بنالیا۔یہ کہکر وہ اٹھی اور چلی گئی ۔میں کافی دیر وہاں بیٹھا رہا اور مجھے لگا کہ میں واقعی ایک عبوری پیار کی منزل کو عشق مسلسل سمجھ بیٹھا اور میں واقعی اسے ٹرانس میں لانے کا مجرم تھا۔میں نے اس سے کوئی رابطہ نہ کیا اور وہاں سے چلا آیا۔اور اجنتا جیسی موت والی اپنی عورت سے بہت معافی مانگی ۔وہ بہت دیالو ہے اس نے معاف کردیا تو میں دوبارہ ابدی عشق میں کھوگیا اور میں نے کسی موسم کی دستک پہ دروازہ نہیں کھولا۔آج جس عورت سے عشق مسلسل کی کیفیت ہے وہ وہ 18 سال سے ہجر کی آک میں جھلس رہی ہے اور ابھی یہ سب یک طرفہ ہے، اس کی جانب سے کوئی جواب نہیں ، کہتی ہے اندر سے کوئی آواز آئی تو جواب دے گی اور اپنا آپ کھول دے گی ۔میرا معاملہ تم جیسا ہے اور ہے بھی نہیں’

‘ آج تم مجھے بابو گوپی ناتھ لگ ہورہے ہو اور کہانی کار آج دبا دبا لگ رہا ہے، ویسے میں مجھے یقین تھا کہ اس کے مرنے کے بعد تم ‘مجرد’رہنے کا جو دعوی کرتے تھے،وہ مجھے سچ لگتا نہیں تھا اور آج یہ سب سنکر مجھے یقین ہوگیا ‘

‘نہیں میں اس وقت بھی ‘کانٹی جینیسی ‘ نہیں سمجھ رہا تھا ،میں اسے عشق مسلسل ہی سمجھ رہا تھا۔مگر اس نے مجھے اپنے لفظوں کی تلواروں سے اتنے ٹکڑوں میں بانٹ دیا کہ میں ان ٹکڑوں میں سمیٹنے میں اور بکھر گیا اور اسقدر تقسیم ہوا کہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں’

‘ تم جب نشیلی محفلوں میں آتے تھے تو الگ تھلگ سے محفل سے بے نیاز سے رہتے تھے اور میں نے دیکھا تھا جب بات ہوتی وصل کی تو تمہارا چہرہ ایسے ہوتا جیسے کڑوے بادام چبا رہے ہوں، اور میں سوچتا تھا کہ تم یہ سب اندر کیوں رکھ رہے ہو باہر نکال کیوں نہیں دیتے،خود کو ہلکا کیوں نہیں کرتے۔مجھے دیکھو کہ میری مجبت اس سے اور شدید ہوگئی ہے اور میں اس کے اور قریب ہوگیا ہوں۔عشق کی نئی بہار اس خزاں سے پھوٹ نکلی ہے۔اور مجھے لگتا ہے کہ میں اس سے اور بندھ گیا ہوں۔مجھے لگتا ہے کہ اس کے اندر سے آواز جلد آنے والی ہے اور میں سرشار محبت ہونے والا ہوں’

میں بس اسے دیکھے جارہا تھا اور وہ بولے جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بیک گراؤنڈ میں گانے والا گا رہا تھا ۔۔۔۔

شاماں پے گئیاں

آنکھ ملنے کے بعد کیا ہوگا

کتنے حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے وجود جب زمان اور مکان کی گرفت سخت ہوتی ہے اور آپ اس گرفت سے آزاد ہونے کے لئے ہاتھ پیر مارتے ہیں تو اور جکڑے جاتے ہو،ایسے میں آپ کے ہر ایک تقسیم شدہ وجود کا ٹکڑا امکانات کا جہنم پیدا کرتا جاتا ہے اور اسے ‘امکانات کی جنت ‘ بتایا جارہا ہوتا ہے۔عمر خیام اپنی جہان کے ساتھ راتیں گزارتا ہے اور جہان کا وجود عمر خیام کی رصدگاہ اور محل کے درمیان تقسیم ہوتا ہے اور ایک دن محل ہی اس کی زندگی کا چراغ گل کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔جہان تو جہان داری کرنے کے چکر میں تقسیم شدہ زندگی گزار رہی تھی اور یہ اس کی اپنی چوائس تھی مگر اس کا کیا ؟ وہ کیوں ٹکڑوں میں بٹ کر زندگی گزار رہا تھا؟ اور کیوں ایسے ویسے عذابوں کو گلے لگائے پھرتا تھا؟
میں چمن کالونی سے چلی تو یہی سوچیں مجھے گھیرے میں لئے ہوئے تھیں۔میں نے اسے پے درپے پیغامات بھیجے تھے اور اسے کہا تھا کہ اسے مجھ سے ملنا بہت ضروری تھا۔اور وہ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ جلد مجھ سے ملے گا۔اور اس مہینے کے آخری ہفتے میں وہ سمندر کے کنارے آکر ایک ہوٹل میں ٹھہرگیا اور مجھے فون کرکے اس نے بتادیا تھا۔اب میں اس کے پاس جارہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اسے سب بتاؤں گی کہ اس دوران کیا ہوا جب ہم ایک لمبے عرصے تک نہ ملے۔میں یہ بھی سوچ رہی تھی کہ جو میں محسوس کرتی رہی ہوں،اسے بتاڈالوں کہ نہیں۔مجھے اس کا پتا نہیں تھا کہ وہ کیا سوچتا ہے۔اگرچہ کچھ معنی خیز جملے اس نے کئی بار بولے تھے لیکن یہ ذومعنویت بھی دوہرے،تہرے معانی رکھتی تھی اور میں کچھ بھی حتمی طور پہ کہہ نہیں سکتی تھی۔رکشہ چلے جارہا تھا۔اور جیسے جیسے سمندر قریب آرہا تھا فضا میں نمی بڑھتی جاتی تھی اور تھوڑا ساحبس بھی مگر مجھے لگتا تھا کہ اندر کا حبس اس سے کہیں زیادہ ہے۔میں نے اسے موبائل پہ مسیج بھیجا اور پھر کال کرنے کی کوشش بھی کی مگر آگے سے موبائل بند جارہا تھا۔سمجھ گئی کہ رات ساری جاگتا رہا ہوگا اور اب کسی وقت آنکھ لگ گئی ہوگی۔ ہڑبڑا کر اٹھے گا اور سب سے پہلے موبائل آن کرے گا اور پیغامات دیکھے گا۔

” میں ایک گھنٹے تک پہنچ جاؤں گی ، اتنی دیر تم خواب خرگوش کے مزے لے لو ”
میں نے اسے ٹیکسٹ میسج کردیا۔گیلی گیلی ہوا میرے چہرے سے ٹکرائی اور مجھے لگا جیسے پھوار پڑرہی ہو۔میں سوچنے لگی کہ کیسے اس نے مجھے کہا تھا کہ تم ہمیشہ ڈیپریشن بارے ہی بات کیوں کرتی رہتی ہو؟ کیا کچھ اس دباؤ سے باہر کہنے کو بھی ہے ؟ اور پھر ميں نے اسے بائی پولر ڈس آڈر بارے بتایا اور اس کے مرحلے بھی بتائے اور کہا کہ میں اسی بائی پولر ڈس آڈر کا شکار ہوں۔وہ سنکر خاموش ہوگیا اور اگلے دن اس نے مجھ سے کہا کہ وہ چند روز مجھ سے ملنے نہیں آسکے گا۔

میں ایک چینل ميں سکرپٹ رائٹر کے طور پہ کام کررہی تھی اور وہ اس چینل کے دفتر کے باہر ہی میری ڈیوٹی ختم ہونے کا انتظار کرتا اور جیسے ہی میں واپس آتی تو ایک آٹو پہلے سے وہ روکے رکھتا تھا۔میں بھی کچھ کہے بغیر اس کے ساتھ بیٹھ جاتی تھی اور قریب قریب ایک گھنٹہ ہم ساتھ رہتے تھے اور ایک گھنٹے کے پورے ہوتے ہی وہ پھر سے آٹو بلاتا اور مجھے اس میں بٹھادیتا اور میں گھر پہنچ جاتی تھی۔اس دوران بہت سی باتیں کی جاتیں اور ان میں کوئی بھی ‘من و تو ‘ کی بات نہ ہوتی اور بس سب ‘کار جہاں دراز ہے’ پہ بات ہوتی لیکن نجانے مجھے کیوں لگتا کہ یہ جو “جہان ” کی بات ہے یہ اس کے ‘درون ‘ کی بات ہے اور ان میں ہی اشارے چھپے ہیں جن کے زریعے وہ اپنے اور میرے رشتے کو ڈیفائن کرتا رہتا ہے۔مگر صاف صاف بیان کرنے سے قاصر ہے یا جان بوجھ کر کرتا نہیں ہے۔

آج جب رات کو چینل کے آفس سے باہر نکلی تو وہ نہیں تھا ، آٹو بھی انتظار میں نہیں تھا اور میں نے آٹو لیا اور اس ہوٹل میں پہنچ گئی جہاں وہ اکثر مجھے لیکر جاتا تھا۔میں گھنٹہ وہیں گزاردیا اور پھر گھر پہنچ گئی۔ویسے مجھے پتا تھا کہ وہ کہاں گیا ہے۔اور کیا کررہا تھا؟
بائی پولر ڈس آڈر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے فلیٹ پہ بیٹھا بائی پولر ڈس آڈر پہ جو بھی دستیاب ہوگا مواد ،اسے چاٹ رہا ہوگا اور پھر جب ہر ممکن بات جان لے گا تو آئے گا اور پھر بھی سیدھے سبھاؤ بات نہیں کرے گا، اپنی معلومات مجھ سے براہ راست شئیر نہیں کرے گا، اس نے اس ڈس آڈر پہ بات کرنے کے لئے انتہائی خالص ادبی تہمید باندھنے کی پوری تیاری کررکھی ہوگی اور اس تہمید کے بعد وہ انکشاف کرے گا کہ ابتک اسے کیا پتا پڑا ہے۔

ہفتہ وہ غائب رہا مگر میں روز اس کے دکھائے سب ڈھابوں ، ہوٹل ، کیفے اور ہٹ ہاؤسز تک جاتی رہی اور اس کو معنوی طور پہ حاضر کرتی رہی، اس سے باتیں کرتی رہی۔پھر وہ ہفتے کا روز تھا جب میں رات کو چینل آفس سے جیسے ہی باہر نکلی تو وہ سامنے کھڑا تھا اور پاس ہی آٹو تھا۔میں چپ چاپ اس کے ساتھ آٹو میں بیٹھ گئی اور ہم دونوں کی خاموش رہے۔آٹو ہمیں بہت آگے سمندر کے ساحل تک لے گیا۔آٹو واپس نہیں گیا۔وہیں ٹھہر گیا۔ہم نے پائنچے چڑھائے اور سمندر کی گیلی ریت پہ چلنے لگے۔تھوڑا فاصلہ طے کرنے کے بعد ایک ٹیلے پہ ہم دونوں بیٹھ گئے۔

“یار! تم تو بہت ہلکے درجے کے بائی پولر ڈس آڈر کا شکار ہو،میں تم سے کہیں زیادہ اس ڈس آڈر کا شکار ہوں”

اس نے اچانک خاموشی توڑی اور ایک دم سے جیسے بم پھوڑ دیا۔
میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آگئی ، اور میں کچھ کہہ نہ سکی۔
ہنس کیوں رہی ہو؟
ویسے ہی
نہیں ،نہیں بتاؤنا ، کیوں ہنس رہی ہو؟
یار! مجھے پتا تھا کہ تم اتنے دن کہاں غائب رہے ہو؟ اور تم اس بائی پولر ڈس آڈر پہ جو پڑھنے کو ملا ہوگا ،پڑھ رہے ہوں گے۔کوئی پتا نہیں کسی سائیکاٹرسٹ کے پاس بھی چلے گئے ہوگے۔۔۔۔۔۔۔۔

او مائی گاڈ ! تم تو کالا جادو جانتی ہو یا تم کوئی مکاشفہ رکھنے والی روح ہو،جسے پتا چل جاتا ہے۔۔۔۔۔
اس نے مصنوعی حیرت خود پہ طاری کرتے ہوئے کہا ، مجھے پتا تھا کہ جرمیات کا یہ طالب علم جانتا ہے کہ یہ قیافے لگانا خاص مشکل کام نہیں ہے۔
بنو مت ،میں نے اسے کہا
یوں وہ میرے احساسات کا شریک ہوتا چلا گیا۔جب کبھی دباؤ بہت بڑھ جاتا اور میں اپنے آپ سے اور دوسروں سے بے گانہ ہوجاتی تو تب بھی وہ جھٹ سے میرے درون میں آجاتا اور ایسے لمحوں میں جب میں اپنے اندر میں خود کو سمٹائے ہوتی اور سب سے بے گانہ ہوجاتی، وہ اپنے میسجز سے میرے درون میں بے دھڑک چلا آتا۔بس ایک مسیج ، کبھی موبائل انباکس میں تو کبھی وٹس ایپ پہ تو کبھی فیس بک میسنجر پہ تو کبھی یوں بھی کرتا کہ باقاعدہ خط لکھ ڈالتا اور مجھے وہ گھر کے ایڈریس پہ مل جاتا اور اس میں نہ آغاز میں کوئی خطاب ، نہ آخر میں سلام نہ اپنا نام، گفتگو خطابیہ اور کہیں ذاتیات کا شائبہ تک نہ ہوتا اور عمومی جملے مگر ساری عبارت کے پیچھے ایک پیغام کہ اپنے اندر سے باہر آؤ،منتظر ہوں۔دباؤ کے یہ لمحے بہت شدید ہوتے تھے اور میں کبھی سنجیدگی سے خودکشی کے درندے بارے سوچنے لگتی۔ثروت حسین، شکیب جلالی، مصطفی زیدی، سارہ شگفتہ نے اس میں کشش جو پائی تھی وہ ایسے تو نہ ہوگی۔مگر ایسے میں اس کے خط یکے بعد دیگرے آنے لگتے اور وہ کبھی دستوفسکی کا ایڈیٹ لے آتا تو کبھی ایبسرڈ آرٹ کے لکھاریوں کو لے آتا اور بالزاک کے جملوں سے زندگی کشید کرکے خط میں اںڈیل دیتا اور مجھ تک وہ خط جب پہنچتے تو میرے اندر آہستہ آہستہ دباؤ سے نکلنے کی چاہ پیدا ہونے لگتی تھی۔اور جب میں زرا بہتر ہوکر واپس معمول کی زندگی کی جانب لوٹتی اور اسے ملتی تو وہ اسے ظاہر کرتا جیسے اس نے کوئی پیغام نہ دیا ہو بس یونہی اپنے مطالعے بارے مجھے آگاہ کرنا چاہ رہا تھا تو خطوط لکھ مارے اور مجھے بھیج دئے۔میں اس کی بے نیازی سے پھر ڈول سی جاتی اور اپنے اندر موجود احساسات بارے اسے بتا ہی نہ پاتی تھی۔

میں آزادی کی متلاشی تھی اور ایسے جذبہ کی تلاش میں تھی جس ميں فاصلہ بھی رہے اور عروج جذب بھی ہوجائے اور ایسے جڑت ہو جیسے دو کمانیں باہم ملیں مگر فاصلے بھی باہم رہیں۔اور مجھے لگتا تھا کہ وہ بھی ایسے ہی جذبوں کی تلاش میں سرگرداں ہے مگر کیا بات تھی وہ کھل کے نہیں دیتا تھا۔
میں ان ہی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک آٹو والے نے بریک لگاکر رکشہ روک دیا۔میں خیالوں سے واپس آگئی تھی۔سامنے ہوٹل موجود تھا جہاں وہ ٹھہرا ہوا تھا۔میں نے کرایہ دیا اور اتر گئی۔ہوٹل کی گیلری میں آکر میں نے پرس سے موبائل نکالا۔اور اسے کال کرنے لگی تو دیکھا کہ اس کے کئی ٹیکسٹ میسج آئے ہوئے تھے۔بتارہا تھا کہ سوگیا تھا۔۔۔۔۔ میں کال کرکے اسے بتایا کہ ہوٹل کی گیلری میں آجاؤ۔وہ دس منٹ آیا اور ساتھ ہی مجھے کہنے لگا کہ کہیں اور چلتے ہیں۔ اور یہ کہہ کر اس نے ایک ٹیکسی کو ہاتھ سے اشارہ کیا اور ٹیکسی قریب آئی اس نے ڈرائیور سے ایک جگہ کا نام لیا۔ٹیکسی چل پڑی۔دونوں پھر خاموش تھے۔جب تک ٹیکسی اس کی بتائی جگہ تک پہنچ نہ گئی ،اس نے ایک بھی بات نہ کی۔ٹیکسی سے اتر تو سامنے ایک بہت ہی خوبصورت کیفے تھا۔وہ مجھے لیکر ایک میز کرسی پہ بیٹھ گیا۔

ہاں! تو تم نے فیصلہ کرلیا کہ وہ کرو جو سب کرتے ہیں،ہوتا ہے، یہ نارمل بات ہے۔اور اس پہ اتنا ظلم مت ڈھاؤ، تم سے بات کرنا چاہتا ہے تو بیزاری مت دکھاؤنا۔وہ جن نظریات کا حامل ہے تم کمفرٹ ایبل رہو گی۔وہ تمہارے درون میں کبھی داخل نہیں ہوسکے گا۔
Wifehood
ٹائپ لائف میں نہیں گزار سکتی ، تم اچھی طرح جانتے ہو، پھر ایسی باتیں کیوں کررہے ہو،اور پھر یہ ہے کیا آج تک میں سمجھ نہیں پائی۔
ارون دھتی رائے بن جاؤ
اس نے کہا
وہ کیسے ؟
وہ کہتی ہے میں تکنیکی طور پہ شادی شدہ ہوں مگر میں “وائف ہوڈ ” لائف نہیں گزار سکتی۔میں تھی بھی نہیں۔اب وہ اور میں اکٹھے رہتے بھی نہیں لیکن میاں بیوی تو ہیں نا تکنیکی طور پہ
ہاہاہا ،میں نے ایک قہقہ لگایا۔
مگر مسلم دولہے راجے اپنی دلہن کو یہ اجازت کبھی نہیں دیتا
میں نے اچانک سنجیدگی سے کہا
تو کیا ہوا لاکھوں مسلم جوڑے ساتھ ساتھ ہوکر بھی ساتھ ساتھ نہیں ہیں اور ہر ایک ذہنی طور پہ ایک اور زمان ومکان میں اپنے اپنے پیا اور اپنی اپنی سہاگنوں کے ساتھ رہتا ہے۔
اس نے جب یہ کہا تو اس کی آنکھیں خوابناک ہوگئیں اور مجھے بڑے عجب انداز سے وہ دیکھنے لگا
میں نے اس کی اور دیکھا اور مجھے اچانک احساس ہوا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے
مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم بھی دو دو زمان ومکان رکھتے ہو؟
میں پوچھا
کیا تم نہیں رکھتیں ؟
اس نے برجستہ کہہ کر مجھے لاجواب کردیا
وہ کیسی ہے ؟ کیا بالکل تم سے الگ ہے اور تم اس سے الگ
میں نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا
چپ کر مہر علی ،اے جاہ نئیں بولن دی
(مہر علی چپ کر جا ،یہ مقام قال کا نہیں ہے)
اور پھر دوسرا زمان و مکان کونسا ہے؟
میں نے اس سے پوچھا
اس نے میری طرف ایک دم سے دیکھا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں اور بولا
کیا واقعی تمہیں ابتک پتا نہیں لگا ؟
مجھ سے زیادہ اس کی آنکھوں میں دیکھا نہ گیا اور میں نے نظریں جھکالیں

کافکا کی طرح ہم سوکر اٹھیں اور کیکڑے میں بدل جائیں تو تب امکان ہے کہ دو دو زمان ومکان سے ہماری جان چھوٹ جائے،کوئی شئے سررئیل نہ رہے ، کوئی خواب ، کوئی پرچھائیں نہ رہے مگر یہ ہمارا مقدر نہیں ہے۔اور ہمیں یونہی دوہرے عذاب میں رہنا ہے۔مگر اسی لایعنیت سے معنی نکلنے کی سبیل بنے گی اور کوئی راستہ نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا۔
خواب ٹوٹا تو گر پڑے تارے
آنکھ ملنے کے بعد کیا ہوگا

یہ کہا اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔میں بھی اٹھی۔اس نے ٹیکسی رکوائی مجھے بٹھایا اور خود پیٹھ موڑ کر پیدل ایک طرف چل دیا۔

عامی کے نام

ڈئیر عامی

پیرس سے تمہارا آخری خط ملا تو میں اس وقت دفتر سے گھر پہنچی ہی تھی اور رات بھر اخبار کی آخری کاپی پریس بھیجنے تک اسقدر کام کرتی رہی تھی کہ تھکن سے برا حال تھا۔دروازہ کھولا تو سامنے تمہارا بھیجا ہوا خط پڑا تھا۔ہر خط ایک مخصوص سیاہ رنگ کے لفافے میں لپٹا ہوا اور اوپر پیلی روشنائی سے یہاں کا پتا لکھا ہوا نیچے سفید رنگ میں تمہار پتا،اب مجھے دور سے دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس کا خط آیا ہے۔ویسے بنک سٹیمنٹ،کچھ دفتری خط و کتابت سے ہٹ کر کچھ اور تو ڈاکئے کے زریعے سے آتا نہیں ہے اور باقی زیادہ تر مراسلت اب برقی مراسلوں کے زریعے سے ہوتی ہے تو بھی مجھے پتا چل جاتا ہے کہ کس کا خط آیا ہوگا۔ویسے تم نے ہر خط لکھا تو ساری کے نام اور ایڈریس میرا لکھا اور یہاں تواتر سے تمہارے خط ملتے رہے۔میں حیران تھی کہ یہ آخر تمہیں ہوکیا گیا ہے؟تم کیوں پرانے زخموں کو کریدنے لگے ہو اور اپنے آپ کو زخم زخم کررہے ہو؟سب سے زیادہ حیرانی مجھے اس بات کی تھی کہ تم خود سے ان خطوں کے جواب من جانب ساری کے تلاش کرتے ہو اور پھر ایک لمبی سی کہانی گھڑ کر سنانے لگتے ہو۔تم جیسے ایک جدلیاتی مادیت پرست سے مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ تم اسقدر مابعدالطبعیاتی انداز میں لکھنے لگوگے اور شاید تمہارا اربن مڈل کلاس پس منظر تمہاری جان چھوڑنے کا نام نہیں لیتا۔اور آج کل تو میں حیران ہوتی ہوں کہ تم جیسا خشک سا آدمی اتنی کہانیاں،اتنے افسانے اور اس قدر رومان پسند خطوط اور عورت بارے اسقدر سنجیدگی سے کس طرح سے لکھنے لگا ہے۔تمہیں شعبی یاد ہے وہ سرگودھا والا لڑکا جو تمہارے پیچھے پاگل تھا اور کبھی کبھی مجھے شک ہوتا تھا کہ تم بھی تھوڑے بہت تھے اور جب تک ساری کے ساتھ تم جڑے نہیں تھے اس سے پہلے تم دونوں کو ہنسوں کا جوڑا کہا جاتا تھا اور لوگوں کو تمہاری جنسی جہت بارے بھی کافی شکوک تھے۔اور یہ ٹھیک وہی زمانہ تھا جب پاکستانی سماج میں کہیں بھی تو کم از کم “گے اینڈ لزبین ” ہونے کو ایک فطری فنومنا نہیں سمجھا جاتا تھا اور ترقی پسند بھی اسے ایک بیماری خیال کرتے تھے۔اور میں نے جب تمہیں “چھلاوہ” پڑھنے کو دی تھی تو تم نے اسے انتہائی بکواس قرار دیا تھا۔کوئی کہتا شعبی تمہارا “لونڈا” ہے اور کوئی کہتا اس ” انقلابی” لیڈر کو “علت مشائخ ” ہے۔اسلامی جمعیت طلباء کراچی کا وہ پمفلٹ یاد ہے جس میں تمہارے اور شعبی کے معاملے کو لیکر کیا کیا باتیں لکھی گئیں تھیں اور یہ سب یونین الیکشن سے صرف پانچ دن پہلے ہوا تھا۔اور اس پمفلٹ پہ یونیورسٹی کے لڑکوں اور لڑکیوں کی اکثریت نے کچھ دھیان نہیں دیا تھا اکڑچہ چٹخارے لیکر سب نے پڑھا تھا لیکن ووٹ تمہاری طرف ہی گئے تھے کیونکہ ان کو تمہاری سیاسی کمٹمنٹ اور نظریات پہ وابستگی پہ زرا بھی شک نہیں تھا۔اس زمانے میں تم اتنے حساس اور اتنے ٹچی کبھی نظر نہیں آئے تھے۔میں نے کبھی تمہیں پلٹ کر جواب دیتے نہیں دیکھا۔تم نے اس پمفلٹ کا نوٹس تک نہ لیا اور تمہاری جانب سے جو بھی جتنے پمفلٹ اس دوران آتے وہ سب کے سب سیاسی ہوتے تھے۔ویسے ان خطوط میں جتنے ادیبوں اور شاعروں کا جو تم نے تذکرہ کیا میں تمہارے ذہنی ارتقاء پہ کافی حیران ہوئی ہوں۔اس زمانے میں زیادہ کیا تو میکسم گورکی کا “ماں” تم کبھی کبھی اپنے ملنے والوں میں تقسیم کرتے نظر آتے تھے اور زیادہ تر کمیونسٹ مینی فیسٹو اور سبط حسن کی کتابیں یا پھر زیادہ کیا تو روسی کمیونزم کی کتابیں تم بانٹتے تھے۔شعر تمہیں کبھی یاد نہ ہوئے۔اور اکثر ان کے ساتھ جراحت کے مرتکب ہوتے تھے۔ہاں سینما خوب دیکھتے تھے تم۔باقی ساری کے ساتھ رہتے ہوئے تم کیا پڑھتے تھے اور اس کے ہاں سے کیا لاتے تھے اور اس کے ساتھ یونیورسٹی کے کونے کھدروں میں تم کیا باتیں کرتے تھے یہ سب مجھے ان خطوط سے پتا چلا ہے۔میں نے کبھی تمہارے منہ سے ان دنوں بھولے سے بھی اس کتاب کا نام نہیں سنا تھا جس کا تذکرہ تم آج کل بار بار کرتے ہو۔نہج البلاغہ۔ہاں ڈاکٹر علی شریعتی کے بارے میں کل تو تمہارا خیال تھا کہ وہ ایک یوٹوپئین اسلام پرست سوشلسٹ تھا اور تم ہمیشہ اس پہ الزام عائد کرتے تھے کہ اس نے ایرانی انقلاب میں ملاّؤں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس نے تودے پارٹی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے فکری اعتبار سے سائنسی سوشلزم کی اپنی لبریشن تھیالوجی کے زریعے سے بنیادیں ہی کھوکھلی کیں۔تمہیں اس کے ماضی سے رومانٹسزم سے سخت چڑ تھی اور اپنی تحریروں میں آج تم اسی ماضی سے رومان کرتے نظر آتے ہو۔اور تم دیکھ سکتے ہو تمہارے اس خیالی رومان پرستی کے خریدار بھی زیادہ تر اربن مڈل کلاس اور ایک مخصوص مذہبی فکر کے حاملین مرد و عورتیں ہی ہیں۔ساری تمہاری دوست تھی اور وہ فلسفے کی ایک شائننگ اسٹوڈنٹ تھی۔مانا کہ اس سے ملنے کے بعد تمہاری وہ نو تیرہ کی مونچھیں غائب ہوئیں اور وہ ہلکی ہلکی داڑھی بھی اور شلوار قمیص کی بجائے تم جینز پہننے لگے اور تمہارے وہ موٹے موٹے شیشوں والی عینک بھی زرا سے فریم میں بدل گئی تھی اور تم تھوڑے سے قبول صورت ہوگئے تھے اور ساری تمہاری انتخابی کمپئن میں بھی بہت معاون تھی لیکن اس نے کبھی بھی مارکسزم اور جدلیاتی مادیت پرستی سے شغف نہیں دکھایا۔اور مجھے وہاں یونیورسٹی میں ہی شک تھا کہ وہ بھی کوئی اسلام پسند سوشلسٹ ٹائپ یوٹوپئین ہی ہوگی لیکن ٹھیک سے کہہ نہیں سکتی تھی اس لئے شک کو صرف ذہن میں رہنے دیا تھا لیکن تمہارے خطوط سے پتا چل گیا کہ میرا شک ٹھیک تھا۔اس نے تمہیں بھی کافی خراب کیا کہ تم کلارا زیٹکن سے زیادہ سیمون ڈی بوووار اور سارتر کی جانب جھکے نظر آئے اور تو اور کافکا کی جادوئی حقیقت نگاری تمہیں حقیقت کے قریب تر لگنے لگی جبکہ انھوں نے جدلیاتی مادیت پرستی کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔میرے لئے تمہارے ہاں جنسیت/سیکچوئلٹی کا وافر تذکرہ دیکھنا کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔تمہارے ہاں یہ آسیب /آبسیسشن کی طرح نظر آیا۔یہ فرسٹریشن تھیوری سے نابلد کامریڈز اور ایک گٹھن زدہ ماحول سے آنے والوں کے ہاں تو سمجھ میں آتی ہے لیکن تمہارے ہاں اس عمر میں اس کا غلبہ دیکھ کر مجھے شاک لگا ہے۔کانٹی جینس لو کی بات کرکے تم جس فراریت پسندی کا شکار ہو اس پہ تمہیں ندامت محسوس نہیں ہوتی؟ساری کینسر سے مرگئی اور اس کے مرنے کے بعد تم ماسکو چلے گئے تھے اور وہاں سے تمہارے خطوط جتنے مجھے ملے یا دوسرے دوستوں کو ان کو پڑھ کر ہمیں کہیں نہیں لگا تھا کہ تم ابدی محبت اور عارضی محبتوں کی کسی مساوات پہ یقین رکھتے ہو کیونکہ تمہارے خط اس زمانے کی پولیٹکل اکنامی سے جڑے مسائل پہ اظہار خیال سے بھرے ہوتے تھے اور تم بار بار پاکستان میں انقلابی سوشلسٹ کیڈر پارٹی کی تعمیر کی بات کرتے تھے۔ان دنوں تو تم نے نہ کسی نتاشا کا زکر کیا اور نہ ہی ووڈکا کا اور اپنے اندر کسی راسپوٹین جگانے کی خواہش کا۔مجھے سچی بات ہے کہ تمہارے خطوط پڑھ کر اپنے اندر کسی رومان بھرے جذبے کے بیدار ہونے کے آثار نظر نہ آئے۔تمہارا آخری خط ملنے سے قبل ہماری فون پہ جو بات ہوئی تھی میں نے اس میں بھی تم سے کہا تھا کہ میں تین مرتبہ کے بریک اپ اور تین بار مطلقہ ہوجانے کے بعد یہ سمجھتی ہوں کہ ایک کاسموپولٹین اربن چیٹرنگ کلاس کے مرد اور عورت کا سب سے برا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ہم بستر پہ بغیر کسی بندھن کے اکٹھے ہوتے ہیں ہمیں تعلقات میں کوئی نیا پن محسوس ہوتا ہے لیکن جیسے ہی یہ تعلق شادی جیسی چیز سے جڑتا ہے ہم سپوائل ہونے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ ہمارا تعلق ایک غیر مرئی قید بن جاتا ہے۔کانٹی جینسی مجھے سب سے بڑی حقیقت لگتی ہے۔”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں “۔ہوسکتا ہے میرا یہ تجربہ بہت زیادہ پرسنل ہو اور اس سے کسی قسم کا عمومی مقدمہ اور اس پہ نتائج مرتب کرنا ٹھیک نہ ہو لیکن مجھے تم خاصے قابل رحم لگے۔تمہیں مرگی ایک مرض سے زیادہ رومان لگتی ہے اس لئے کہ دستوفسکی نے اسے رومانٹسائز کردیا تھا اور بیمار ہونا تمہیں پرکشش لگتا  ہے اور ایک جگہ پڑے رہ کر طلسمات کا جال بننا تمہیں لبھاتا ہے اس لئے کہ اسے کافکا حسین بناکر دکھاتا ہے مجھے ہضم نہیں ہوتا۔تمہارے اندر کا زمان اور مکان اس قدر یوٹوپئین ہے کہ مجھے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہونے لگتی ہے کہ کیا یہی وہی عامی ہے جو ہماری طلباء سیاست کا سب سے باعمل لڑکا ہوا کرتا تھا۔کافی دور نکل گئے ہو تم اور کیا کل وقتی فکشن نگاری کا پیشہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکے ہو تم۔ویسے ماضی کا ہر انقلابی اور کرانتی کاری نظم یا کہانی میں پناہ کیوں ڈھونڈتا ہے؟ پاش سے تم پوچھنا تو سہی کیوں کہ مرے  ہوئے لوگوں کی آتماؤں سے تم مخاطب ہونے اور ان سے جواب حاصل کرلینے میں کافی مہارت حاصل ہوگئی ہے۔پیرس میں رہے تم اور یہاں رہ کر نہ تمہیں باکونن یاد آیا اور نہ ہی پیرس کمیون اور یہاں پہ مارکس کا آنا بھی تمہیں ٹھیک سے یاد نہیں آیا۔ان خطوط میں سماج واد عامی کہاں گم ہوگیا؟ مجھے سمجھ نہیں آئی۔اور اب برسلز پہنچے ہو یہاں رہ کر تمہیں کیا یاد آئے گا ٹھیک سے میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔میں ناستک ہوں اور فنائے محض پہ یقین رکھنے والی اور اس لئے مجھے کسی عالم برزخ سے جوابوں کی تلاش نہیں ہے۔ویسے زرا اپنے پرانے جدلیاتی مادیتی پرست عامی کو آواز دیکر دیکھنا کہ تم نےجن کو مخاطب کیا اور جس سے بولے وہ سب کے سب ان نظریات اور افکار کے سوا اپنے الگ وجود اور ہئیت کے ساتھ کیا کہیں موجود بھی تھے؟اس لئے تو یہ سارے خط تم مجھے ارسال کرتے رہے۔کوئی ایسا میکنزم اس خیال پرستی اور آئیڈیلزم کے پاس ہے کیا جو ان خطوط کو براہ راست فنا ہونے والوں تک پہنچا دے؟ یقینی بات ہے کہ نہیں ہے۔پیرس سے لکھے گئے اس آخری خط  میں سوائے سادیت پسندی کے اور ہے کیا؟ ایک ایسی ٹریجڈی جسے تمہاری سادیت پسندی نے اور خوفناک بنادیا ہے اور تمہاری مریض طبعیت کو اور کئی لوگوں میں منتقل کردیا ہے۔سیکنہ علی زیدی نے پراگ سے مجھے لکھا ہے کہ یہ وہ عامی نہیں ہے جو اسے دریائے پراگ پہ بنے پرانے لکڑی کے پل پہ ملا تھا اور زندگی سے بھرپور تھا۔یہ تو کوئی دیمک زدہ شخص لگتا ہے جو اصل عامی کو کھا گیا ہے۔مجھے تم سے منافقت نہیں کرنی یہ کہہ کر کہ اتنی تلخ باتوں پہ شرمندہ ہوں یا معافی کی طلبگار ہوں۔مجھے تم سے اسی سفاک حقیقت پسندی کے ساتھ بات کرنی ہے۔مزید کئی باتیں پھر کروں گی اگر تمہارا فیوز نہ اڑا تو۔

والسلام

تمہاری دوست ریحانہ سرور

انتیسواں خط

a525b464138097fd91583474c0d100a0

 

پیاری ساری

 

تمہارا خط اتنی جلدی مل گیا کہ اس “جلد ملنے ” نے مجھ پہ حیرت طاری کردی بلکہ اس خط کو جب میں نے پڑھنا شروع کیا تو ایک ایک لفظ مجھے شاہ جنوں کی فرمانروائی سے آیا ہوا لگا اور پہلی حیرت نے شاہ جنوں کی فرمانروائی سے وارد ہوئی حیرت نے مجھے “شادی مرگ ” کی کیفیت میں مبتلا کردیا۔میں سمجھتا تھا کہ تم نے اپنے سابقہ خط میں محبت بارے جو لکھا اسے میں نے پالیا ہے اور میں نے خود کو عاشق صادق ہونے کی خود ہی سند بھی دے دی تھی لیکن اس خط کو پڑھنے سے مجھے پتا چلا کہ دھوئیں میں روشنی تو مستور تھی ہی اور مری آنکھ بھی پورا دیکھنے سے معذور تھی۔آفتاب اقبال شمیم کا شکریہ جس کے شعر کے زریعے سے میں اپنی کیفیت بیان کرنے کے قابل ہوا ہوں

کچھ تو سائے کے دھوئیں میں روشنی مستور تھی

اور پورا دیکھنے سے آنکھ بھی معذور تھی

تم نے سائے (جہالت ) کے دھوئیں کو چھٹ جانے اور مستور روشنی کو تھوڑا اور عیاں کرنے اور مری آنکھ کی معذوری کو بھی کم کیا۔اگرچہ میں اب بھی پورا دیکھنے سے معذور ہوں۔ویسے میں تھوڑا پریشان ہوا ہوں کہ میں اس جرمن فلسفی کو کیسے بھلا بیٹھا جس کو انگریزوں نے سٹرنر سمتھ کا نام دیا تھا اور ایک عرصے تک ميں نے موٹے مارکر سے چارٹ پہ بڑے جلی حروف میں لکھا ہوا ہے:

                                           Vagabund Intellektuell

خانہ بدوش بدھی مان کی طرح آوارگی میں دانش کی کرنیں بکھیرنے کا دعوی کرنے والا اس خانہ بدوش دانش وری کے علمبردار کو بھلانے کا نتیجہ وہی ہونا تھا جسے تم نے

Schlechter Glaube

ویسے یہ جرمن اصطلاح مجھے فرنچ  کے لفظ موئے ایس فا میں زیادہ موسیقائی لگتی ہے اور میں نجانے کیوں تمہیں اردو میں یہ بتان سے قاصر ہوں کہ ہاں محبت میں بد عقیدہ واقع ہوا ہوں کیونکہ رندوں کے ہاں تو بدعقیدگی کا الزام ایک فخر اور انعام ہوتا ہے جبکہ یہاں تےم ایک ناقص حالت کی جانب اشارہ کررہی ہو۔آج الفاظ کی تنگ دامانی کے احساس سے جتنا میں دوچار ہوں اتنا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ویسے عربی والوں نے اسے انتہائی شاندار مرکب لفظ سے تعبیر کیا ہے ” سوء النية” ۔لیکن ساری اگر یہ تمہارا معاملہ نہ ہوتا تو میں بے دھڑک اس کو قبول کرلیتا مگر مشکل ہے کہ تم سے اپنی نسبت کرنی ہو اور نیت کے بری ہونے کا تصور کروں یہ مرجانے سے کہیں زیادہ سخت اور مشکل بات ہے۔ویسے ہندی میں اسے “برا وشواس ” کہتے ہیں اور یہ زرا مجھے قدرے بے ضرر لگتا ہے۔ویسے اگر اسے فریب زدہ وشواس کہہ لیا جائے تو کیا یہ مطلب کو مسخ کرنے جیسے فتوے کی زد میں تو نہیں آجائے گا۔ویسے تم نے سیکنڈ سیکس بارے جو کچھ لکھا ہے اس طرح سے میں نے تو اس کتاب کو پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا بلکہ مجھے لگ رہا ہے کہ جتنا تم نے پچھلے خط میں محبت بارے ظاہر کیا اس سے کہیں زیادہ چھپا لیا تھا اور اب تو میں مجھے وہ سب ایک پزل لگ رہا ہے جس کا حل تم نے اپنے اس دوسرے خط میں لکھ بھیجا ہے۔تم نے ٹھیک لکھا کہ مرے اندر کا خانہ بدوش بدھی مان یہاں پیرس میں تیزی سے بڑھتا ہوا “کیاآس” اور ہیجان کے سامنے کسی سرنڈر جیسے کیفیت کا شکار ہوچکا ہے اور میں نے وہاں کراچی کی گلیوں میں جو سائیکوسوشل فریڈم پائی تھی اسے یہاں کی گلیوں میں کھودیا ہے۔میں سچی بات یہ ہے کہ “شرمندہ باش ” ہوں۔اور شاباش کا ہرگز مستحق نہیں ہوں کیونکہ اب نہ تو میں جھوم کے کہیں بھی بیٹھ جانے کا عادی  ہوں نہ ہی کسی بھی جگہ “مئے خانہ معرفت ” بنالینے کے قابل ہوں۔ویسے کیا زبردست جبر کے ہوتے واقعی مستند عشق کا حصول ناممکن ہوتا ہے۔ویسے میں تو سچی بات ہے ابتک یہی سمجھتا رہا ہے کہ محبت ہی سب کچھ ہوتی ہے اور ایک چاہنے والا دوسرے چاہنے والے کے آئینے میں اپنا آپ دیکھتا ہے اور اسی کے زریعے سے زندگی کے معانی پاتا ہے مگر تم نے لکھا ہے کہ سند عشق پانے کے لئے محبت کرنے والوں کو ایک دوسرے کی آزادی اور برابری کا تعین ضروری ہوتا ہے۔تم نے کہا کہ ہمارے ہاں رومانوی محبت “برے وشواش ” کے بوجھ تلے دبی رہتی ہے اور ہم اپنے محور محبت کی شرطوں پہ زندگی گزارتے ہیں یا اسے اپنی شرائط کے گرد گھومتا دیکھنا چاہتے ہیں اور اپنی ہستی اور وجود کو یا تو مرکز توجہ بناکر اپنے پیارے کو اس پہ قربان ہوجانے کو کہتے ہیں یا اپنے پیارے کے اوپر اپنی ہستی قربان کرتے ہیں۔اور تم کہتی ہو کہ یہ وجودیاتی قربانی “برے وشواس پہ مبنی رومانوی محبت ” ہے جو جبر کو غائب کرنے کی بجائے اسے رومنٹی سائز کرڈالتی ہے۔اور عورت کے کیس میں یہ جبر پہ جبر کو مسلط کرکے اسے آزاد ہونے کا جھوٹا سرٹیفکیٹ دینے کے مترادف ہے۔میں اتنے ظالمانہ ، کرخت ، ننگے اور چیڑپھاڑ دینے والے سچ سے آنکھیں چار کرنے کی ہمت لا ہی نہیں پارہا ہوں۔اور سچی بات ہے کہ میں بدن سے آگے سفر ہی نہیں کرپارہا ہوں۔بدن میں چند اعضاء ہی جو لے دے کے مرے اعصاب پہ سوار لگتے ہیں اور جسے “وجود ” کہتے ہیں اس کو مکمل طور پہ محسوس کرنے اور اسے سوچنے سے اپنے آپ کو قاصر پاتا ہوں۔یہ مجھے کیا ہوگیا ہے۔اتنا کثافت زدہ میں نے اپنے آپ کو کبھی محسوس نہیں کیا تھا اور اسقدر گدلا بھی۔ساری!ہم مردوں کی اکثریت کو کبھی “برے وشواس پہ مبنی رومانوی محبت ” کے گدلے پن سے نجات مل پائے گی۔اب تو مجھے یہ شک بھی ہونے لگا ہے کہ میں تمہارے اور اپنے رشتہ محبت میں کہیں اس “کامل دوستی ” کو بھی پاتا ہوں کہ نہیں جسے تم مستند پیار کی لازمی شرط کہتی ہو اور جب “کامل دوستی ” تشکیک کا شکار ہو تو وہ جو ملکر “آزاد اور برابری ” کی دنیا کو کیسے دریافت کرنے کے عمل میں ہوں گے جسے تم پھر مستند رومانوی محبت کی ایک اور لازمی شرط بتلاتی ہو۔میں تو بہت گڑبڑا گیا ہوں۔مرے تخیل پہ بری طرح سے دھند بلکہ کہر چھائی ہے جس کی سردی سے مرا خیال فریز ہوا جاتا ہے۔میں جسے ہجر زدگی سمجھ کر خود کو مہان عاشق سمجھے بیٹھا تھا وہ پورا دیکھنے سے آنکھ کی معذوری لگ رہی ہے اور اس کیفیت سے خود کو باہر لانے کی جتنی کوشش کررہا ہوں اتنا ہی زیادہ دھنستا جارہا ہوں۔تم نے نطشے کو آواز دے ڈالی ، آوارہ جرمن دانش ور کی بدھی کا سہارا لیا ہے اور ميں ان میں سے کسی ایک کو بھی آواز دینے سے قاصر ہوں۔مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ میں نے ابتک شاہ حسین،بلھے شاہ،فرید عطار، سچل سرمست سر کےبل کھڑا کیا ہوا تھا اور کتنی مصیبت ہے کہ ان کو پیروں کے بل کھڑا کرکے پڑھنے سے قاصر ہوں اور محسوس کرنے کی منزل تو جیسے کبھی آئی نہیں تھی۔جہالت کی ثقالت مری کمر توڑے دے رہی ہے۔ویسے تم بلا کے تجاہل عارفانہ سے کام لے رہی ہو اس خط کو مجھے پوسٹ کرنے کے بعد سے۔کہتی ہو کہ تم محو حیرت ہو کہ میں اتنا خاموش کیوں ہوں اور بولتا کیوں نہیں ہوں؟انت الحیب الذی ترجی شفاعتک ۔۔۔۔۔۔تم وہ دوست ہو جس کی شفاعت کی مجھے امید ہے۔اور تم ہی ہو جس کا دامن میں پکڑ کر اس برے وشواس والی رومانوی محبت کے بوجھ سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔اور اس رومانوی محبت کو پاسکتا ہوں جسے دو آزاد،برابر اور کامل دوست کرسکتے ہیں اور اپنے وجود و ہست کو فنا ہونے سے بچاسکتے ہیں۔مجھے اس بھنور سے نکالو اس سے پہلے میں ڈوب جاؤں اور کبھی ابھر نہ سکوں۔

فقط تمہارا

ع۔ح

 

 

 

 

ستائیسواں خط

627897f9bed6d3308bebdcdde7d24b98

ستائیسواں خط

 

پیاری ساری!

اس بار تمہارا خط ملا تو ساتھ ہی دل سے عجیب سی بے چینی بھی ختم ہوگئی،کیونکہ تمہارا خط ملنے سے تھوڑی دیر پہلے میں نے اس ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی لڑکی کو جون 1929ء میں سارتر کا سیمون دی بووا کو لکھا محبت نامہ ارسال کرکے بین السطور میں اسے بتادیا تھا کہ میں اس کی صحبت کو انجوائے کررہا ہوں۔اور اس کی صحبت میں مجھے سکون ملتا ہے۔اگرچہ یہ صحبت ٹیلی کمیونی کیٹک ہی سہی۔لیکن مجھے لگتا ہے جیسے اس مواصلاتی صحبت میں بھی کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی حد تک جسمانی صحبت جیسا لطف آتا ہے۔اگرچہ بے چینی ہر مواصلاتی صحبت کے بعد اور بڑھ جاتی ہے۔تمہارے کہنے پہ میں ہر خط آن لائن کرتا جارہا ہوں لیکن لوگ تمہارے اور مرے تعلق کی نوعیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں،ویسے جو آن لائن مرد و عورت مرے سوشل میڈیا فرینڈ ہیں پاکستانی پس منظر سے خاص طور پہ انھیں تم سمجھ ہی نہیں آرہی ہو کہ کیسے اپنے ساتھ جڑے ایک آدمی کو تم دوسری عورتوں بارے گفتگو لکھتے دیکھ کر برداشت کرتی ہو۔ویسے یہاں اکثر پاکستانی روشن خیال مگر لوئر مڈل کلاس پس منظر کی عورتیں مردوں کا بیک وقت کئی عورتوں کی طرف التفات دیکھ برسبیل تذکرہ اپنے لئے بھی ایسی آزادی کی مانگ کرتی ہیں اور ساتھ ہی ایک دم سے کہتی ہیں کہ اس مانگ کے جواب میں سیدھی گولی مقدر بنے گی۔اور مری ایک نہایت ہی محترم و مکرم دوست خاتون نے بتایا کہ ایسی مانگ پہ لادین مرد بھی دین سے جواب ڈھونڈ لاتے ہیں۔ویسے مجھے تمہارے ہاں پاکستان میں ایسی دو سے تین خواتین بارے پورا یقین ہوگیا ہے کہ وہ ہماری طرح معاملے کی تہہ تک پہنچ چکی ہیں اور اس لئے ان کے ہاں ترحم آمیزی کی زرا رمق دکھائی نہیں دیتی۔ایک تو وہی شاعرہ ہے جو خیالات کے ساتھ ساتھ جسمانی خدوخال کے ساتھ بھی حسین ترین ہے۔اور ایک عورت وہ ہے جسے میں کہتا ہوں کہ وہ ساری! تمہارے جیسی مثالی عورت بننے کے عمل سے گزر رہی ہے۔لگتا ہی نہیں ہے یہ وہ دھان پان سی لڑکی ہے جو دو سالوں پہلے رات کے دو بجے تک اپنی طب کی کتابوں میں کھوئی رہتی تھی۔چش مش سی اور بالکل سادہ سے خیالات رکھنے والی مگر اب تو اسے زرا چھیڑو اور سنو پھر عتاب کی باتیں۔تمہاری جیسی عورت بننے کے عمل سے گزرنے والی یہ ہستی مجھے ان معنوں میں اچھی نہیں لگتی جن معنوں میں ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی جرمنی میں قیام پذیر وہ لڑکی لگتی ہے جسے بار بار ٹیلی کام میں کام کرنے والی کہہ کر مجھے بڑی مسرت ملتی ہے۔بس یہ مجھے محض اپنی رائے کی وجہ سے پسند ہے۔ساری،تمہیں یاد ہے کہ ہم پہلے ایک دوسرے کے دوست بنے تھے اور پھر تم نے ایک دن مجھے کہا تھا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہوگئی ہے اور تم مجھ سے ریلشن رکھنے کی خواہش مند ہو،یہ وہ الفاظ تھے جو میں تمہیں کہنا چاہتا تھا لیکن مرے اندر ایک بہت بزدل انسان چھپا ہوا تھا جسے سب سے پہلے تم نے ہی پہچانا تھا اور پھر مری اس بزدلی کو اپنی محبت سے سات سمندروں کی گہرائی میں دفن کردیا تھا۔تم نے مجھے کہا تھا کہ ہم ایک اوپن ریلشن میں رہیں گے اور سچی بات ہے مجھے بالکل ویسے ہی سمجھ نہیں آئی تھی جیسے آج مرے کئی دوستوں کو سمجھ نہیں آرہی ہے۔کیا تمہارے پاس اب بھی وہ ویڈیو کیسٹ موجود ہے جس میں وہ فلم کاپی ہوئی جس کا نام ” سارتر بائی ہم سیلف ” تھا۔مجھے اس فلم میں سارتر کا وہ انٹرویو نہیں بھولتا جسے تم نے پلے کرکے مرا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا کہ سمجھو یہ سارتر نہیں کہہ رہا بلکہ تمہاری ساری کہہ رہی ہے،اور تم نے مجھ سے کہا تھا کہ آؤ اس سین کو ہم مل کر دوبارہ سے کرتے ہيں۔اور تم نے مکالموں میں تذکیر کو تانیث سے اور تانیث کو تذکیر سے بدل دیا تھا۔مجھے کافی مزا آیا تھا۔آج جب تمہیں یہ خط بیٹھا لکھ رہا ہوں تو مجھے وہ سین جو تم نے  اپنے اوپر خیال میں فلمبند کیا تھا ایسے نظر آرہا ہے جیسے ابھی ابھی تم اسے فلمارہی ہو۔”ہاں ميں صحبت نازک خیالاں مگر مردوں کی صحبت کو ترجیح دیتی ہوں،کیونکہ اس کی ایک وجہ تو جسمانی ہے ، یہ درست ہے کہ یہاں بہت بدصورت مرد بھی ہیں لیکن میں خوبصورت مردوں کو ترجیح دیتی ہوں یہ اور بات ہے کہ مرا محبوب اول اور سب سے زیادہ میری روح پہ قابض ایک واجبی سی صورت والا مرد ہے ( یہ سنکر میں خوب ہنسا تھا)۔میں حسین مردوں کو لبھاتی ہوں۔مگر اپنا آپ صرف اسی واجبی صورت والے اپنے محبوب پہ کھولتی ہوں۔اور ہاں میں اور مرا محبوب مرد ایک ایسا کپل ہیں جو آزاد اور خودمختار بندھن میں بندھے ہوئے ہیں جس میں مجھے حسین مردوں کو لبھانے اور اسے حسین عورتوں کو لبھانے کی اجازت ہے۔اور ہمیں افئیرز پہ کوئی اعتراض نہ ہے،یہ اوپن ریلیشن ہے جس مں جیلسی اور کلیس پن نہیں ہے”۔تمہیں یاد ہے وہ باجوہ اور پلوشہ کپل ، جنھوں نے یونیورسٹی میں ہی شادی کرلی تھی اور وہ کہتے تھے کہ ” ہم اوپن میرج کیے ہیں”۔یہ کئے ہیں بھی کمال تھا ، کتنا خوبصورت لگتا تھا ان کے منہ سے یہ جملہ۔اور ایک مرتبہ جب آمنہ نے پلوشہ سے پوچھا کہ تم اپنے شوہر کی جمال پرست طبعیت کیسے برداشت کرتی ہو ؟ تو اس نے کمال کی بات کہی تھی کہ ایک تو وہ برداشت نہیں کرتی بلکہ اس کی مرضی اس ميں شامل ہے اور دوسرا وہ

بورژوا “ڈی سے سینسی ” میں پہ سرے سے یقین ہی نہیں رکھتی۔مطلب اپنی بیوی کو بھی یقین دلانا کہ وہ ہی بس وہی اس کی توجہ کا مرکز اور خفیہ طور پہ کئی اور افیئرز بھی چلانا اور ہر عورت سے بس ستی ساوتری بنے رہنے کا مطالبہ بھی دوہراتے چلے جانا۔مجھے تو یہ بورژوا ڈی سین سی بہت بڑھیا اصطلاح لگی تھی ۔ویسے تم بھی تو خوب ہنس رہی تھیں پلوشہ کے منہ سے یہ سب سنکر۔جس دن تم نے مجھے اپنے پیار بارے بتایا تھا اس دن پہلی بار مجھے پتا چلا تھا کہ تم مجھے کیوں سیمون دی بووا کے خطوط کے وہ حصّے پڑھ کر سناتی تھیں جس میں وہ سارتر کی سکن ، اس کے دانتوں کی صفائی سے بے پروائی برتنے، اس کی میل” اگلی نیس ” یعنی مردانہ بدصورتی سی دکھائی پڑنے ، خوب ڈرنک کرنے ، فیشن بارے کھکھ نہ جاننے کے باوجود اس پہ مر مٹنے کا زکر کرتی ہے۔مرے ذہن میں پرائم آف لائف کی لائنیں گزر رہی ہیں جس میں بوووا نے سارتر کے ساتھ اپنے تعلق میں روائتی میرج بانڈ کو فالتو کی چیز قرار دیا اور اپنے و سارتر کے درمیان تعلق کو ” سول میرج / روح کی شادی ” سے تعبیر کیا۔تم وہاں کراچی میں نارتھ ناظم آباد کے بلاک میں اسی پرانے سے گھر میں ہو اور میں یہاں پیرس میں ایک سستے فلیٹ میں لیکن کیا یہ واقعی کوئی ایسی چیز ہے جو تمہارے اور مرے درمیان محبت پلس کامریڈ شپ کے بانڈ کے آڑے آسکتی ہے؟ویسے مجھے سارتر اس وقت زرا اچھا نہیں لگا تھا جب اس نے سیمون دی بووا سے یہ شرط رکھی کہ وہ دونوں افئیرز میں آزاد ہوں گے لیکن اپنا ہر تجربہ ایک دوسرے سے شئیر کریں گے۔یہ شئیرنگ اگر کسی شرط کے رکھے جانے کے بغیر ہوتی تو مجھے اعتراض نہ ہوتا۔کیا “اے سن شیل لو / ابدی محبت ” میں جڑے دو اشخاص کو یہ شرط رکھنا ضروری ہے کہ وہ اپنی عارضی محبتوں/کانٹی جینٹ لو کو لازمی ایک دوسرے سے شئیر کریں۔ویسے ساری! میں سوچتا ہوں کہ وہاں ایشیا اور مڈل ایسٹ میں اکثر مرد و عورتیں کانٹی جینٹ لو /عارضی محبتوں کے انبار تلے دب کر ایے سین شیل /ابدی محبت کو کہیں گم کر بیٹھتے ہیں۔میں اس حقیقت سے انکار نہیں کروں گا کہ ساری تمہارے کانٹی جینس لو میں جب کبھی کوئی نیلسن الجرین (سیمون دی بووا کا کانٹی جینس لور ) یا کلاڈین جےزمان (دوسرا کانٹی جینس لور) آیا تو میں نے جیلسی محسوس کی لیکن تم نے ہی تو مجھے کہا تھا کہ جیلسی ہماری آزادی کی دشمن ہوتی ہے اور یہ ہمیں کنٹرول کرتی ہے اور ہمیں مغلوب کرتی ہے جبکہ ہمیں اس پہ کنٹرول کرنا سیکھنا ہوگا۔یہ بھی تم نے اور میں نے اسی فرنچ فلسفی کپل سے سیکھا تھا۔لیکن ساری! کیا میں اور تم واقعی ویسا بننا چاہتے تھے جیسے یہ فرنچ کپل تھا؟نہیں نا؟ کیوں ؟ ہمارے اندر وہ جسے مشرقیت کہتے ہیں یا جسے رسوم ورواج سے بھری حدود و قیود کہا جاتا ہے کہاں سے در آئی تھیں جب اس لمحے میں اس فرنچ کپل سے ہمیں شدید نفرت سی محسوس ہوئی تھی جب تمہارے اور مرے ہاتھ سارتر کے نام لکھے بووا کے وہ سارے غیر ایڈٹ خط لگے تھے جسے بووا کی لے پالک بیٹی نے 1990ء میں شایع کرڈالے تھے۔کیا ہم یہ کرسکتے ہیں کہ کسی کم عمر کو پڑھانے، لکھانے، فلسفے کی بلندیوں تک پہنچانے کے نام پہ لبھائیں اور اور ان کم سن لڑکیوں کو اپنے بیڈ تک لانے کی سبیل کریں؟ اور یہ سب اس لئے کریں کہ ہماری خواہش انسیسٹ سیکس میں اپنے بچوں کے ساتھ سونے کی ہو۔جیسے سارتر پولش اولگا کے ساتھ نہ سو سکا تو اس نے اس کی بڑی بہن کے ساتھ سونے کو ہدف بنا لیا۔ساری ایسا کانٹی جینس / عارضی محبت و پیار تو نہ تمہارے بس کی بات تھی اور نہ مرے بس کی بات ہے۔اس پہ اگر کوئی تمہیں اور مجھے یہ کہے کہ آخر میں کمبخت تم دونوں مشرقی ہی نکلے نا یا تمہیں ایک دبّو مشرقی عورت کہے اور مجھے ایک ڈرا ہوا مشرقی مرد کہے تو ہمیں زرا برا نہیں لگے گا۔خواہشات اگر جئینس کے ہاں غالب آنے لگ جائیں تو اس کا علم گھلنے لگتا ہے اور ایول نیس ترقی کرنے لگتی ہے۔ساری! سلطان باہو اسے نفس پلیتی کہتے تھے اور مجھے اس بات کی سمجھ سیمون دی بووا کے سارتر کو لکھے گئے خطوط میں ان کی جنسی وارداتوں کے تذکرے پڑھنے کے بعد آئی۔مجھے اعتراف کرنا ہے کہ میں نے سارتر کی طرح اپنے تخیل کی پرواز میں کبھی ترقی کانٹی جینس لو کے دوران محسوس نہیں کی۔اور نہ مجھے کبھی اپنی سینس سبلٹی میں کچھ اضافہ ہوتا محسوس ہوا جو سارتر کے بقول اسے محسوس ہوتا تھا۔میں نے اپنے آپ کو بہت ٹٹولا اور یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ اس ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی عورت کو جب میں “آئی لو یو ” بالواسطہ طور پہ ہی بولتا ہوں تو کیا کسی اولگا کو تلاش کرتا ہوں تو مرے اندر سے ہر بار نفی میں جواب آیا ، مجھ میں کوئی نفسانی ارتعاش پیدا نہیں ہوا بلکہ مجھ پہ ایک اور ہی انکشاف ہوا، ساری! میں تو اس میں بھی تمہیں ہی تلاش کررہا ہوں اور مجھے ایسے لگنے لگا ہے جیسے میں کانٹی جینس لو پہ سرے سے یقین ہی نہیں کرتا۔کیا اپنے جوابی خط میں تم اس مسئلے پہ روشنی ڈالوگی؟

 

فقط تمہارا

ع   ۔ح

چھبیسواں خط

 

 

                                                                                  پیاری ساری ،

 

گزشتہ خط کے جواب میں مجھے تمہارا لکھا ہوا خط آج صبح کی ڈاک سے ملا تھا۔میں اتنا تھکا ہوا تھا کہ اسے کھول کر پڑھ نہ سکا لیکن اس خط کو اپنے سینے پہ رکھ کر میں سوگیا تھا۔اور خلاف معمول مجھے بہت پرسکون نیند آئی اور میں جب سوکر اٹھا تو رات کے آٹھ بج چکے تھے۔میں نے فریج میں رکھا کولڈ سینڈویچ کھایا اور کافی کا ایک مگ تیار کیا اور اس کے سپ لیتے ہوئے تمہارا خط پڑھا۔تمہارے ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں کا لمس خوشبو بنکر الفاظ اور کاغذ کی تین شیٹ میں رچا بسا تھا اور مجھے یہ لمس اب اپنے ہاتھوں اور نگاہوں پہ محسوس ہورہا تھا۔اور خط کی عبارت تمہیں مجسم کرکے مجھے دکھارہی تھی۔تمہاری حیرانی بجا ہے کہ آج کل میں کیسے اپنے فلیٹ میں ایک میز اور کرسی پہ ٹک کر تمہیں مستقل خط بھی لکھتا ہوں اور باقی کے تخلیقی و غیر تخلیقی کام بھی کرتا ہوں۔تم  نے ٹھیک سوال کیا ہے کہ اب میں اپنی تخلیق کو پر لگانے کے لئے کسی کھنڈر ہوگئی تاریخی اہمیت کی حامل قدیم عمارت کی لرزتی بنیادوں پہ بیٹھ کر کیوں نہیں لکھتا؟اور اپنی نثر کے لئے دماغ کے فیول کے طور پہ لال پری کیوں پاس نہیں رکھتا اور اسے وقفے وقفے سے کیوں نوش نہیں کرتا؟جبکہ سگریٹ کے دھوئیں سے کمرے کو بھرا ویسے ہی رکھتا ہوں۔مجھے لگتا ہے کہ تمہارے ذہن میں یہ سوال اس لئے آئے ہیں کہ وہاں کراچی میں لکھنے کی آزادی کو محسوس کرنے اور اسے اپنے اندر اتارنے کے لئے کبھی میں منوڑا کے اس پار بلوچ بستی کے اندر چھونپڑے میں بنے چائے کے ہوٹل جاتا تو کبھی کیماڑی میں کسی پرانی سی بہت پرانی سی عمارت میں بنے کیفے میں جاکر بیٹھ جایا کرتا تھا اور وہاں لوگ مجھ سے اتنے مانوس ہوگئے تھے کہ جب جاتا تو مجھے مری پسندیدہ جگہ پہ بیٹھنے میں مدد کی جاتی تھی اور میں کئی گھنٹوں بیٹھ کر تخیل کی پرواز اونچی سے اونچی کرتا رہتا تھا۔یہاں تک کہ کئی اچھوتے کہانی کے پلاٹ تو مجھے واش روم میں منہ ہاتھ دھوتے سوجھے تھے یا سڑک پہ چلتے ہوئے ایک جھماکے کی طرح دماغ کی سکرین پہ روشن ہوئے تھے۔لیکن یہاں پیرس میں اس فلیٹ کے اندر بنے اسٹڈی روم میں پڑی واحد میز کرسی مرے لئے اب تخلیقی عمل انگیز کا کردار ادا کرنے لگی ہے۔اور اب میں کام سے آنے کے بعد زیادہ وقت اسی میز کرسی پہ بیٹھ کر گزارتا ہوں۔اور یہ لیپ ٹاپ جو قلم، کاغذ کی جگہ لے چکا ہے زرا مرے خیال کی رو کے آڑے نہیں آتا ہے۔

یہاں اس میز پہ سامنے لیپ ٹاپ دھرا ہے، اس کے ساتھ ہی ایک ساؤنڈ پڑا ہے جس کے سہارے میں سینما ساؤنڈ کا مزا لیتا ہوں۔پاس ہی کئی زبانوں کی لغات پڑی ہیں اور بالکل دائیں ہاتھ کی طرف نہج البلاغہ پڑی ہے اور بائیں طرف سگریٹوں کے چار پیکٹ میں ڈنڈے سے نکال کر رکھتا ہوں۔گزشتہ دنوں پاکستان سے انور آیا ہوا تھا۔وہ مجھے ملنے مرے فلیٹ آیا تو اس نے نہ تو مجھ سے یہ پوچھا کہ اتنی زبانوں کی لغات پاس کیوں رکھی ہیں؟نہ سگریٹ بارے سوال کیا۔بس تھوڑے فاصلے پہ پڑی نہج البلاغہ بارے مجھ سے پوچھنے لگا کہ یہ ہمہ وقت پاس کیوں رکھتے ہو؟وہ شاید موقعہ تلاش کررہا تھا مجھ پہ مادیت پرستی سے انحراف کرنے کا یا پھر وہ مجھے رجعت پرست کہنے کا خواہش مند تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ زرا یہ بتاؤ کہ امریکن سیاہ فام شاعرہ مایا اینجلو تمہیں رجعت پرست لگتی ہے کہ ترقی پسند ؟کہنے لگا کہ اس سوال کا جواب بہت آسان ہے کہ مایا ایک باغی، انقلابی اور سماج سیوک شاعرہ تھی۔میں نے کہا تمہیں معلوم ہے وہ جس بیڈ پہ لیٹ کر لکھتی تھی اس بیڈ پہ شیری کی ایک باٹل ، لغات ، تھیاس رس ، اور بائبل پڑی ہوتی تھی-جب پیرس ریویو کا نمائندہ اس سے انٹرویو کرنے پہنچا تو اس نے مایا اینجلو سے یہی سوال کیا تھا: یہاں بائبل کا کیا کام ہے؟تو وہ کہنے لگی کہ میں اس کا کوئی سا ایڈیشن اٹھاکر کہیں سے بھی باآواز بلند پڑھنے لگتی ہوں تاکہ اس کا ردھم سن سکوں اور ایک اچھی انسان بن جاؤں۔نہج البلاغہ بھی مرے واسطے ایسے ہی ہے جیسے مایا اینجلو کے لئے بائبل تھی۔میں اس کا کوئی بھی صفحہ کھول کر بلند آواز سے پڑھنے لگتا ہوں تو سب سے پہلے صفحے پہ تم دکھائی دینے لگتی ہو۔اور لب مرے ہلتے ہیں آواز تمہاری کانوں میں پڑتی ہے۔اور معانی کا نیا جہان مرے سامنے کھلنے لگتا ہے۔اور تنہائی اس کے صفحے سے باہر نکل کر مرے اردگرد اور پورے فلیٹ کو اپنے اندر ڈھانپ لیتی ہے۔اور مجھے تم بھی برہا میں ملبوس نظر آتی ہو۔اور تمہاری آنکھوں سے اداسی ٹپ ٹپ گرنے لگتی  اور مرے پورے فلیٹ کو گیلا کرتی ہے۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ تنہائی بارش کی صورت برس رہی ہو اور تنہائی کی پھوار سے نت نئے مضامین جنم لے رہے ہوں۔گزشتہ خط جب میں نے آن لائن کیا تو میں تھوڑا سا گبھرایا ہوا تھا۔کیونکہ میں نے بنا پوچھے ادب میں رنگی اور شاعری کے گیان میں گم جس خوبصورت عورت کے غائب ہوجانے والے سلو کے لئے آہیں بھرنے کا زکر کیا تھا تو اس نے مجھے اچانک انباکس میں میسج کرکے کہا “خوبصورت خط لکھا ” ہے اور ایک کمپوزنگ کی غلطی کو درست کرنے کو بھی کہا تو میں اچانک سے سرشاری سے بھر گیا اور مجھے یہ بھی اندازا ہوا کہ وہ مرے خطوط اور تحریریں بغور پڑھتی ہے۔ساری،تمہیں پتا ہے کہ ہمارے ہاں ایسی شاعرات اور ایسی ادیب انگلیوں پہ گنے جاسکتے ہیں جو جینوئن ہوں اور ان کا حسن بھی کمال کا ہو۔وہ خاتون شاعرہ ایسی ہی ہیں۔مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ لوئر مڈل کلاس سے ابھر کر آنے والی نوجوان عورتیں ہماری اشراف فیمنسٹ عورتوں سے کہیں زیادہ ریدیکل اور جینوئن ہیں۔لیکن ہوسکتا ہے میں دور بیٹھا ہوں اور مرے اس تاثر میں مرے تخیل کی کاریگری زیادہ ہو۔اس لئے تم زیادہ بہتر  بتاسکتی ہو۔ساری گزشتہ خط اس ٹیلی کام میں جاب کرنے والی لڑکی نے بھی پڑھا تھا اور اسے پڑھنے کے بعد اس نے مجھے لکھا کہ کیا ساری کی آنکھوں کی گہرائی کم پڑگئی ہے جو تم مری آنکھوں کی گہرائی میں ڈوب جانے کی تیاری کررہے ہو؟مرے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔آج اس کا فون آیا تھا اور میں اس غلط فہمی میں مبتلا ہوا کہ وہ کہیں نہ کہیں مجھے مس کررہی ہے لیکن اسے تو ایک ناپاک بادشاہت کے سیاہ کارناموں کی فہرست درکار تھی۔اور اس ضرورت نے اسے مجھے فون کرنے پہ مجبور کردیا کیونکہ وٹس ایپ کال پہ ،میں دستیاب نہ تھا اور فون نمبر بھی کوئی اور لگ رہا تھا۔بھلا ایک ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی کے پاس سموں کی کوئی کمی ہوگی۔اس لڑکی کا کہنا ہے کہ مرا آرٹ اسے برتھولیٹ بریخت کی طرح سادگی ، سٹائل ، حساسیت ، فارم اور خوبصورتی سے بھرا لگتا ہے تو میں بے اختیار ہوکے سوچنے لگتا ہوں کہ کیا واقعی اسے آرٹ کی سمجھ بھی ہے کہ نہیں؟یہ بات اگر وہ جینوئن حسین وجیمل شاعرہ نے کہی ہوتی تو مجھ پہ شادی مرگ طاری ہوجاتی ہے۔مجھے ایسے لگنے لگا جیسے مرے اندر سے کوئی چیز مرتی جارہی ہے اور میں اپنے اردگرد لوگوں کے بارے میں بہت منفی سا ہوتا جاتا ہوں۔اردگرد کی فضا مجھ پہ اثر کرنے لگی ہے اور مجھے شناختوں کے باب میں شناخت کے تھونپ دئے جانے کا عمل خو‌فزدہ کرنے لگا ہے۔یہاں پیرس میں ایک مسلمان نام کے تارک وطن کو بار بار یہ بتانا پڑتا ہے کہ اس کا انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ صلح کل پہ یقین رکھتا ہے۔اور مغرب کی سیکولر اقدار پہ اس کا یقین ہے۔اسے ایک نسل پرست نیشنل ازم کا سامنا ہےجبکہ وہاں تمہارے بقول شاعروں، ادیبوں کو یہ وضاحت دینی پڑتی ہے کہ وہ بلاسفیمر نہیں ہیں۔لیکن روشن فکر ادیبوں کے چہرے پہ بلاسفیمی کی کالک ملی جانے کا سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں جب کوئی ادیب اپنی کتاب لیکر آئے گا تو دیباچے میں وہ ایمان مجمل و ایمان مفصل کی گواہی پہ مبنی جملے لکھے گا اور کتاب کا فارمیٹ مولویوں کی ہدائیت کی روشنی میں مرتب کرے گا اور اسے المنقذ من ضلال کا نام دے گا۔نسیم حجازی کے نام کتاب کا انتساب کرے گا اور جہادی و تکفیری سوچ کو اپنا رہبر قرار دے گا اور ایسا کرنے کے بعد اسے کم از کم بلاسفیمی کے الزام سے چھٹکارا مل جائے گا۔تھک سا گیا ہوں اور نہ چاہتا کہ یہ تھکن مرے بدن سے اس خط کے اندر الفاظ کے زریعے سے منتقل ہوجائے۔اس لئے اجازت۔

فقط تمہارا

ع۔ح