عشق مسلسل ۔کہانی

 

Rickshaw Kolkata

ریپون اسٹریٹ کلکتہ کی ایک شاہکار پینٹنگ

 

عشق مسلسل ۔۔۔۔۔کہانی

عامر حسینی

جولائی ،اگست میں ویسے ہی حبس باہر بہت ہوتا ہے اور پھر اندر بھی حبس ہو تو گھٹن آپ کو مار ڈالے دے رہی ہوتی ہے۔اور ایسے میں لوگ اگر بے کار لفظوں کی جگالی کررہے ہوں اور سب نے اپنے آپ کو پنڈت، مولوی اور فادر سمجھ لیا اور بہت ہی گٹھیا باتوں پہ بے تکان بولے اور مسلسل لکھے جارہے ہوں تو ایسے میں آپ کا دماغ سانس لینے میں مشکل محسوس کرتا ہے اور کھلی ہوا کے لئے بے چین ہوجاتا ہے۔اور ایسے میں اگر کہیں کوئی غضب کی المیاتی کہانی جو وفور تخلیق سے سرشار ہو پڑھنے کو مل جائے تو اس ٹریجڈی میں بھی آپ کا دماغ آکسجین لیتا محسوس ہوتا ہے۔مجھے اس نے بتایا کہ کل جس عورت سے وہ محبت کرتا ہے اس کی منگنی ہوگئی ہے اور اس کا دل بوجھ تلے دبا جارہا ہے اور اسے کوئی چیز اچھی نہیں لگ رہی ہے۔مجھے بہت عجیب لگا کہ یہ اسے بھی پتا تھا کہ جس عورت سے وہ محبت کئے جاتا ہے، جسے اس نے  کبھی دیکھا تک نہیں اور یہاں تک کہ اس کی آواز بھی نہیں سنی اس سے کبھی ‘وصل’ نہیں ہوگا اور وہ اور وہ عورت ایک دریا کے دو کنارے ہیں بلکہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ دو الگ الگ دریاؤں کے کنارے ہیں تو پھر اسے یہ بوجھ کیوں مارے ڈالے جاتا ہے۔اس نے مجھے کہا کہ تم ‘ ایک مردہ ہوگئی ‘ عورت کو ‘ اجنتا کی مورتی ‘ بناکر ابتک پوجے جاتے ہو ،میں تو پھر ایک جیتی جاگتی عورت سے محبت کررہا ہوں،تمہیں اگر یہ سب سمجھ نہ آئے تو پھر کس کے آگے جاکے سر پھوڑوں میں، کہنے لگا کہ تم اس ‘مرگئی ‘ عورت کو زندہ جان کر اس کے نام خطوط لکھے جاتے ہو، کہانیاں بنتے رہتے ہو اور ایک ایسے جہان میں رہتے ہو جو تمہارے ماضی اور تمہاری فکشن کی اپج سے ملکر بنا ہے جس میں ‘حال ‘ جو بھی ہے ایک ‘افسانہ ‘  ہے اور ‘ ایک ‘اسطور ‘ ہے۔میں نے سوچا کہ میں اب اسے بتا ہی دوں اور اس سے چھپانا مجھے اب پاپ لگنے لگا تھا ۔

‘میں ایک اور عورت کے عشق میں مبتلا ہوچکا ہوں ‘۔

‘وہ تو تمہارا کوئی ‘کانٹی جینٹ لو’ ہوگا ، اس نے فوری کہا

‘نہیں ، میں عشق میں کانٹی جینسی کا قائل نہیں ہوں ‘۔

‘تم نے ایک خط میں لکھا تھا ‘ ۔۔

‘وہ تو سیمون دی بووار اور سارتر کے حوالے سے تھا ‘۔۔۔۔۔۔

‘تم بڑے فنکار ہو، چھپا جاتے ہو اپنے اصلی جذبات ، اور کبھی اپنے اندر جھانکنے نہیں دیتے، تمہاری کرمنالوجی میں ڈگری تمہارے بڑے کام آتی ہے۔تم مجرموں کی نفسیات کے اصولوں کی مدد سے ‘عام لوگوں ‘ کو پڑھتے ہو ‘

مجھے لگا کہ اس کی محبت نے اسے باطن میں جھانکنے کی صلاحیت عطا کردی ہے۔میں اس سے ڈرنے لگا ۔۔۔۔۔۔

‘نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے، مجھے ایک عورت سے واقعی ویسا عشق ہوگیا ہے جیسا ‘ اجنتا جیسی اس مورت ‘ سے ہوا تھا اور میں آج کل اس کی ‘خیالات کی نراجیت ‘ میں بھی ‘ لطف ‘ پاتا ہوں’۔

‘تو کیا اب ‘اجنتا جیسی مورت ‘ سے عشق نہیں رہا؟’

‘نہیں، وہ بھی ہے ، یہ بھی ہے’

‘تو کیا بیک وقت دو عورتیں ابدی عشق کا مرکز ہوسکتی ہیں چاہے ان میں سے ایک مر ہی کیوں نا گئی ہو؟’

اس نے یک دم سے سوال کیا ،جیسے میرے سر پہ کسی نے بم پھوڑ دیا ہو، میں نے ایک لمحے کو دل کے اندر جھانک کر دیکھا اور وہ دونوں مجھے وہاں برابر برابر بیٹھے نظر آئیں اور دونوں کی نظریں مجھ پہ ٹکی ہوئی تھیں ۔اور مجھے لگا کہ وہ دونوں ایک دوسرے حال احوال کرچکی ہیں۔اور میں نے اس سے کہا

‘ ہاں،دونوں ہی ہیں اور ایک دوسرے سے واقف بھی ہوگئی ہیں’۔

‘اس دوسرے عشق کو کب اپناؤگے ؟’

‘ظاہری اپنانے کا سوال خارج از امکان ہے۔ہوسکتا ہے کہ ہم کبھی نہ ملیں اور معاملہ یونہی چلتا رہے۔میں نے خود سے اس کی آواز تخلیق کی ہے اور خود ہی اس سے ملتی جلتی آواز بنالی ہے جو میرے کانوں میں گونجتی رہتی ہے، اس کے لکھے لفظ میرے پاس پہنچتے ہیں اور میں ان سے تصویر اور آواز بناتا ہوں’

‘تم تو مائیکل اینجلو سے بھی دو ہاتھ آگے چلے گئے، وہ آوازوں سے تصویر بنالیتا تھا اور تم لفظوں سے پہلے آواز بناتے ہو اور پھر شکل بنالیتے ہو،کیا کہنے تمہارے’

اس نے جب کہا تو مجھے لگا کہ وہ غلط تو کچھ بھی نہیں کہہ رہا،میں یہی کچھ تو کررہا تھا۔

‘تم نے آج تک ‘کانٹی جینٹ لو ‘ نہیں کیا ؟ دیکھو جھوٹ مت بولنا ، میں تنگ آگیا ہوں ، تمہاری جھوٹی پرہیزگاری بارے باتیں سنکر اور یہ خدوخال سے ماورا جاکر محبت کرنے کے قصّے ‘۔۔۔۔۔

اس نے ایک اور بم پھوڑ دیا ۔میں ہل کر رہ گیا۔میں نے سوچا کہ اسے بتا ہی دوں۔

‘ اسے میں نے ایک مشاعرے کی کمپئرنگ کرتے دیکھا تھا اور اس کے بولنے کے انداز ، اس کے ہاتھ کے اشاروں، آنکھوں کی حرکت پہ مرمٹا تھا اور شاید دوسری طرف بھی یہی کیفیت تھی۔کلکتہ شہر اس دن مجھے اپنے پوری حبس زدگی اور جلد کو کالا کرنے کی صلاحیت بد کے باوجود اچھا لگنے لگا تھا۔مشاعرہ ختم ہوگیا اور میں اس کی جانب بڑھتا چلا گیا۔اس دن کوئی تمہید میں نہیں باندھی تھی اور ابتدائی تعارف کے بعد ہی اسے کہہ دیا تھا کہ میں اس پہ مرمٹا ہوں اور اس کے خدوخال قیامت ہیں۔وہ ہنسی اور اس نے اپنا لینڈ لائن فون نمبر مجھے دے دیا۔میں کلکتہ ایک ماہ رہا اور اس ایک ماہ میں اس سے میں روز گھنٹوں گھنٹوں فون پہ بات کرتا تھا۔وہ گھر ہوتی تب اور آفس ہوتی تب بھی ۔اور اس نے مجھے بتادیا کہ وہ شادی شدہ ہے اور میں نے بھی۔ہم آگے بڑھتے چلے گئے اور ایک ماہ کے اندر ہی ہماری ملاقاتیں ہونے لگیں۔اس کا شوہر ایک بینک میں کام کرتا تھا۔اور اس دوران ہم نے ساری منزلیں عبور کرلیں تھیں اور مجھے لگتا تھا کہ میں ‘عشق’ کے نئے معنی پاگیا ہوں اور وہ ہی میری توجہ کا مرکز تھی۔میرے اندر ایک نئی توانائی بھری ہوئی تھی،پھر یوں ہوا کہ وہ امید سے ہوگئی اور اسی دوران اپنے شوہر کے ساتھ وہ ‘نینی تال ‘ گئی اور وہاں سے واپس آئی تو اس کا لینڈ لائن فون بدل گیا،میں نے ایک روز اسے آفس کے رستے جاپکڑا۔وہ مجھے دیکھ کر تیز تیز چلنے لگی ، میں اس کے سامنے آگیا اور وہ اور میں ایک کیفے میں چلے گئے وہاں کیبن میں بیٹھ  گئے ۔اس نے کہا میرے پاس دس منٹ ہیں اور میری بات سنو بس،’ ایک رات میرا شوہر سے جھگڑا ہوگیا تھا، اس نے مجھے ‘ جاہل عورت’ کہہ ڈالا، میرے اندر آگ لگ گئی اور اس کے کچھ دن بعد وہاں مشاعرے میں تم مل گئے اور میں جو غصّے و نفرت کی آگ میں جل رہی تھی تمہاری اس قدر ‘ عزت افزائی ‘ سے ٹرانس میں آگئی اور میں تم میں کھوگئی مگر ایک دن جب ہماری ‘ ناراضگی ‘ کو کافی دن ہوگئے تو میں ٹوٹ کر میرے قدموں ميں گرپڑا اور ہم پھر سے ایک ہوگئے اور اس دوران میں نے اسے ‘سچ ‘ بتادیا۔میرا خیال تھا کہ یہ سننے کے بعد وہ مجھے چھوڑ دے گا،لیکن اس نے مجھے نہیں چھوڑا اور کہنے لگا کہ اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے اور پھر میں اے کافی دن آزماتی رہی اور مجھے یقین ہوگیا کہ وہ مجھ سے ‘سچا پیار ‘ کرتا  ہے تو میں نے تم سے ‘ تعلق ‘ ختم کردیا۔تم اچانک مجھے بت برا لگنے لگے۔میں تم سے نفرت کرتی ہوں کیونکہ  تم نے مجھے ‘اس ‘ سے ملانے کی سبیل کرنے کی بجائے اپنی ‘ ہوس ‘ کا قیدی بنالیا۔یہ کہکر وہ اٹھی اور چلی گئی ۔میں کافی دیر وہاں بیٹھا رہا اور مجھے لگا کہ میں واقعی ایک عبوری پیار کی منزل کو عشق مسلسل سمجھ بیٹھا اور میں واقعی اسے ٹرانس میں لانے کا مجرم تھا۔میں نے اس سے کوئی رابطہ نہ کیا اور وہاں سے چلا آیا۔اور اجنتا جیسی موت والی اپنی عورت سے بہت معافی مانگی ۔وہ بہت دیالو ہے اس نے معاف کردیا تو میں دوبارہ ابدی عشق میں کھوگیا اور میں نے کسی موسم کی دستک پہ دروازہ نہیں کھولا۔آج جس عورت سے عشق مسلسل کی کیفیت ہے وہ وہ 18 سال سے ہجر کی آک میں جھلس رہی ہے اور ابھی یہ سب یک طرفہ ہے، اس کی جانب سے کوئی جواب نہیں ، کہتی ہے اندر سے کوئی آواز آئی تو جواب دے گی اور اپنا آپ کھول دے گی ۔میرا معاملہ تم جیسا ہے اور ہے بھی نہیں’

‘ آج تم مجھے بابو گوپی ناتھ لگ ہورہے ہو اور کہانی کار آج دبا دبا لگ رہا ہے، ویسے میں مجھے یقین تھا کہ اس کے مرنے کے بعد تم ‘مجرد’رہنے کا جو دعوی کرتے تھے،وہ مجھے سچ لگتا نہیں تھا اور آج یہ سب سنکر مجھے یقین ہوگیا ‘

‘نہیں میں اس وقت بھی ‘کانٹی جینیسی ‘ نہیں سمجھ رہا تھا ،میں اسے عشق مسلسل ہی سمجھ رہا تھا۔مگر اس نے مجھے اپنے لفظوں کی تلواروں سے اتنے ٹکڑوں میں بانٹ دیا کہ میں ان ٹکڑوں میں سمیٹنے میں اور بکھر گیا اور اسقدر تقسیم ہوا کہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کروں’

‘ تم جب نشیلی محفلوں میں آتے تھے تو الگ تھلگ سے محفل سے بے نیاز سے رہتے تھے اور میں نے دیکھا تھا جب بات ہوتی وصل کی تو تمہارا چہرہ ایسے ہوتا جیسے کڑوے بادام چبا رہے ہوں، اور میں سوچتا تھا کہ تم یہ سب اندر کیوں رکھ رہے ہو باہر نکال کیوں نہیں دیتے،خود کو ہلکا کیوں نہیں کرتے۔مجھے دیکھو کہ میری مجبت اس سے اور شدید ہوگئی ہے اور میں اس کے اور قریب ہوگیا ہوں۔عشق کی نئی بہار اس خزاں سے پھوٹ نکلی ہے۔اور مجھے لگتا ہے کہ میں اس سے اور بندھ گیا ہوں۔مجھے لگتا ہے کہ اس کے اندر سے آواز جلد آنے والی ہے اور میں سرشار محبت ہونے والا ہوں’

میں بس اسے دیکھے جارہا تھا اور وہ بولے جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بیک گراؤنڈ میں گانے والا گا رہا تھا ۔۔۔۔

شاماں پے گئیاں

Advertisements

آنکھ ملنے کے بعد کیا ہوگا

کتنے حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے وجود جب زمان اور مکان کی گرفت سخت ہوتی ہے اور آپ اس گرفت سے آزاد ہونے کے لئے ہاتھ پیر مارتے ہیں تو اور جکڑے جاتے ہو،ایسے میں آپ کے ہر ایک تقسیم شدہ وجود کا ٹکڑا امکانات کا جہنم پیدا کرتا جاتا ہے اور اسے ‘امکانات کی جنت ‘ بتایا جارہا ہوتا ہے۔عمر خیام اپنی جہان کے ساتھ راتیں گزارتا ہے اور جہان کا وجود عمر خیام کی رصدگاہ اور محل کے درمیان تقسیم ہوتا ہے اور ایک دن محل ہی اس کی زندگی کا چراغ گل کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔جہان تو جہان داری کرنے کے چکر میں تقسیم شدہ زندگی گزار رہی تھی اور یہ اس کی اپنی چوائس تھی مگر اس کا کیا ؟ وہ کیوں ٹکڑوں میں بٹ کر زندگی گزار رہا تھا؟ اور کیوں ایسے ویسے عذابوں کو گلے لگائے پھرتا تھا؟
میں چمن کالونی سے چلی تو یہی سوچیں مجھے گھیرے میں لئے ہوئے تھیں۔میں نے اسے پے درپے پیغامات بھیجے تھے اور اسے کہا تھا کہ اسے مجھ سے ملنا بہت ضروری تھا۔اور وہ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ جلد مجھ سے ملے گا۔اور اس مہینے کے آخری ہفتے میں وہ سمندر کے کنارے آکر ایک ہوٹل میں ٹھہرگیا اور مجھے فون کرکے اس نے بتادیا تھا۔اب میں اس کے پاس جارہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اسے سب بتاؤں گی کہ اس دوران کیا ہوا جب ہم ایک لمبے عرصے تک نہ ملے۔میں یہ بھی سوچ رہی تھی کہ جو میں محسوس کرتی رہی ہوں،اسے بتاڈالوں کہ نہیں۔مجھے اس کا پتا نہیں تھا کہ وہ کیا سوچتا ہے۔اگرچہ کچھ معنی خیز جملے اس نے کئی بار بولے تھے لیکن یہ ذومعنویت بھی دوہرے،تہرے معانی رکھتی تھی اور میں کچھ بھی حتمی طور پہ کہہ نہیں سکتی تھی۔رکشہ چلے جارہا تھا۔اور جیسے جیسے سمندر قریب آرہا تھا فضا میں نمی بڑھتی جاتی تھی اور تھوڑا ساحبس بھی مگر مجھے لگتا تھا کہ اندر کا حبس اس سے کہیں زیادہ ہے۔میں نے اسے موبائل پہ مسیج بھیجا اور پھر کال کرنے کی کوشش بھی کی مگر آگے سے موبائل بند جارہا تھا۔سمجھ گئی کہ رات ساری جاگتا رہا ہوگا اور اب کسی وقت آنکھ لگ گئی ہوگی۔ ہڑبڑا کر اٹھے گا اور سب سے پہلے موبائل آن کرے گا اور پیغامات دیکھے گا۔

” میں ایک گھنٹے تک پہنچ جاؤں گی ، اتنی دیر تم خواب خرگوش کے مزے لے لو ”
میں نے اسے ٹیکسٹ میسج کردیا۔گیلی گیلی ہوا میرے چہرے سے ٹکرائی اور مجھے لگا جیسے پھوار پڑرہی ہو۔میں سوچنے لگی کہ کیسے اس نے مجھے کہا تھا کہ تم ہمیشہ ڈیپریشن بارے ہی بات کیوں کرتی رہتی ہو؟ کیا کچھ اس دباؤ سے باہر کہنے کو بھی ہے ؟ اور پھر ميں نے اسے بائی پولر ڈس آڈر بارے بتایا اور اس کے مرحلے بھی بتائے اور کہا کہ میں اسی بائی پولر ڈس آڈر کا شکار ہوں۔وہ سنکر خاموش ہوگیا اور اگلے دن اس نے مجھ سے کہا کہ وہ چند روز مجھ سے ملنے نہیں آسکے گا۔

میں ایک چینل ميں سکرپٹ رائٹر کے طور پہ کام کررہی تھی اور وہ اس چینل کے دفتر کے باہر ہی میری ڈیوٹی ختم ہونے کا انتظار کرتا اور جیسے ہی میں واپس آتی تو ایک آٹو پہلے سے وہ روکے رکھتا تھا۔میں بھی کچھ کہے بغیر اس کے ساتھ بیٹھ جاتی تھی اور قریب قریب ایک گھنٹہ ہم ساتھ رہتے تھے اور ایک گھنٹے کے پورے ہوتے ہی وہ پھر سے آٹو بلاتا اور مجھے اس میں بٹھادیتا اور میں گھر پہنچ جاتی تھی۔اس دوران بہت سی باتیں کی جاتیں اور ان میں کوئی بھی ‘من و تو ‘ کی بات نہ ہوتی اور بس سب ‘کار جہاں دراز ہے’ پہ بات ہوتی لیکن نجانے مجھے کیوں لگتا کہ یہ جو “جہان ” کی بات ہے یہ اس کے ‘درون ‘ کی بات ہے اور ان میں ہی اشارے چھپے ہیں جن کے زریعے وہ اپنے اور میرے رشتے کو ڈیفائن کرتا رہتا ہے۔مگر صاف صاف بیان کرنے سے قاصر ہے یا جان بوجھ کر کرتا نہیں ہے۔

آج جب رات کو چینل کے آفس سے باہر نکلی تو وہ نہیں تھا ، آٹو بھی انتظار میں نہیں تھا اور میں نے آٹو لیا اور اس ہوٹل میں پہنچ گئی جہاں وہ اکثر مجھے لیکر جاتا تھا۔میں گھنٹہ وہیں گزاردیا اور پھر گھر پہنچ گئی۔ویسے مجھے پتا تھا کہ وہ کہاں گیا ہے۔اور کیا کررہا تھا؟
بائی پولر ڈس آڈر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے فلیٹ پہ بیٹھا بائی پولر ڈس آڈر پہ جو بھی دستیاب ہوگا مواد ،اسے چاٹ رہا ہوگا اور پھر جب ہر ممکن بات جان لے گا تو آئے گا اور پھر بھی سیدھے سبھاؤ بات نہیں کرے گا، اپنی معلومات مجھ سے براہ راست شئیر نہیں کرے گا، اس نے اس ڈس آڈر پہ بات کرنے کے لئے انتہائی خالص ادبی تہمید باندھنے کی پوری تیاری کررکھی ہوگی اور اس تہمید کے بعد وہ انکشاف کرے گا کہ ابتک اسے کیا پتا پڑا ہے۔

ہفتہ وہ غائب رہا مگر میں روز اس کے دکھائے سب ڈھابوں ، ہوٹل ، کیفے اور ہٹ ہاؤسز تک جاتی رہی اور اس کو معنوی طور پہ حاضر کرتی رہی، اس سے باتیں کرتی رہی۔پھر وہ ہفتے کا روز تھا جب میں رات کو چینل آفس سے جیسے ہی باہر نکلی تو وہ سامنے کھڑا تھا اور پاس ہی آٹو تھا۔میں چپ چاپ اس کے ساتھ آٹو میں بیٹھ گئی اور ہم دونوں کی خاموش رہے۔آٹو ہمیں بہت آگے سمندر کے ساحل تک لے گیا۔آٹو واپس نہیں گیا۔وہیں ٹھہر گیا۔ہم نے پائنچے چڑھائے اور سمندر کی گیلی ریت پہ چلنے لگے۔تھوڑا فاصلہ طے کرنے کے بعد ایک ٹیلے پہ ہم دونوں بیٹھ گئے۔

“یار! تم تو بہت ہلکے درجے کے بائی پولر ڈس آڈر کا شکار ہو،میں تم سے کہیں زیادہ اس ڈس آڈر کا شکار ہوں”

اس نے اچانک خاموشی توڑی اور ایک دم سے جیسے بم پھوڑ دیا۔
میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آگئی ، اور میں کچھ کہہ نہ سکی۔
ہنس کیوں رہی ہو؟
ویسے ہی
نہیں ،نہیں بتاؤنا ، کیوں ہنس رہی ہو؟
یار! مجھے پتا تھا کہ تم اتنے دن کہاں غائب رہے ہو؟ اور تم اس بائی پولر ڈس آڈر پہ جو پڑھنے کو ملا ہوگا ،پڑھ رہے ہوں گے۔کوئی پتا نہیں کسی سائیکاٹرسٹ کے پاس بھی چلے گئے ہوگے۔۔۔۔۔۔۔۔

او مائی گاڈ ! تم تو کالا جادو جانتی ہو یا تم کوئی مکاشفہ رکھنے والی روح ہو،جسے پتا چل جاتا ہے۔۔۔۔۔
اس نے مصنوعی حیرت خود پہ طاری کرتے ہوئے کہا ، مجھے پتا تھا کہ جرمیات کا یہ طالب علم جانتا ہے کہ یہ قیافے لگانا خاص مشکل کام نہیں ہے۔
بنو مت ،میں نے اسے کہا
یوں وہ میرے احساسات کا شریک ہوتا چلا گیا۔جب کبھی دباؤ بہت بڑھ جاتا اور میں اپنے آپ سے اور دوسروں سے بے گانہ ہوجاتی تو تب بھی وہ جھٹ سے میرے درون میں آجاتا اور ایسے لمحوں میں جب میں اپنے اندر میں خود کو سمٹائے ہوتی اور سب سے بے گانہ ہوجاتی، وہ اپنے میسجز سے میرے درون میں بے دھڑک چلا آتا۔بس ایک مسیج ، کبھی موبائل انباکس میں تو کبھی وٹس ایپ پہ تو کبھی فیس بک میسنجر پہ تو کبھی یوں بھی کرتا کہ باقاعدہ خط لکھ ڈالتا اور مجھے وہ گھر کے ایڈریس پہ مل جاتا اور اس میں نہ آغاز میں کوئی خطاب ، نہ آخر میں سلام نہ اپنا نام، گفتگو خطابیہ اور کہیں ذاتیات کا شائبہ تک نہ ہوتا اور عمومی جملے مگر ساری عبارت کے پیچھے ایک پیغام کہ اپنے اندر سے باہر آؤ،منتظر ہوں۔دباؤ کے یہ لمحے بہت شدید ہوتے تھے اور میں کبھی سنجیدگی سے خودکشی کے درندے بارے سوچنے لگتی۔ثروت حسین، شکیب جلالی، مصطفی زیدی، سارہ شگفتہ نے اس میں کشش جو پائی تھی وہ ایسے تو نہ ہوگی۔مگر ایسے میں اس کے خط یکے بعد دیگرے آنے لگتے اور وہ کبھی دستوفسکی کا ایڈیٹ لے آتا تو کبھی ایبسرڈ آرٹ کے لکھاریوں کو لے آتا اور بالزاک کے جملوں سے زندگی کشید کرکے خط میں اںڈیل دیتا اور مجھ تک وہ خط جب پہنچتے تو میرے اندر آہستہ آہستہ دباؤ سے نکلنے کی چاہ پیدا ہونے لگتی تھی۔اور جب میں زرا بہتر ہوکر واپس معمول کی زندگی کی جانب لوٹتی اور اسے ملتی تو وہ اسے ظاہر کرتا جیسے اس نے کوئی پیغام نہ دیا ہو بس یونہی اپنے مطالعے بارے مجھے آگاہ کرنا چاہ رہا تھا تو خطوط لکھ مارے اور مجھے بھیج دئے۔میں اس کی بے نیازی سے پھر ڈول سی جاتی اور اپنے اندر موجود احساسات بارے اسے بتا ہی نہ پاتی تھی۔

میں آزادی کی متلاشی تھی اور ایسے جذبہ کی تلاش میں تھی جس ميں فاصلہ بھی رہے اور عروج جذب بھی ہوجائے اور ایسے جڑت ہو جیسے دو کمانیں باہم ملیں مگر فاصلے بھی باہم رہیں۔اور مجھے لگتا تھا کہ وہ بھی ایسے ہی جذبوں کی تلاش میں سرگرداں ہے مگر کیا بات تھی وہ کھل کے نہیں دیتا تھا۔
میں ان ہی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک آٹو والے نے بریک لگاکر رکشہ روک دیا۔میں خیالوں سے واپس آگئی تھی۔سامنے ہوٹل موجود تھا جہاں وہ ٹھہرا ہوا تھا۔میں نے کرایہ دیا اور اتر گئی۔ہوٹل کی گیلری میں آکر میں نے پرس سے موبائل نکالا۔اور اسے کال کرنے لگی تو دیکھا کہ اس کے کئی ٹیکسٹ میسج آئے ہوئے تھے۔بتارہا تھا کہ سوگیا تھا۔۔۔۔۔ میں کال کرکے اسے بتایا کہ ہوٹل کی گیلری میں آجاؤ۔وہ دس منٹ آیا اور ساتھ ہی مجھے کہنے لگا کہ کہیں اور چلتے ہیں۔ اور یہ کہہ کر اس نے ایک ٹیکسی کو ہاتھ سے اشارہ کیا اور ٹیکسی قریب آئی اس نے ڈرائیور سے ایک جگہ کا نام لیا۔ٹیکسی چل پڑی۔دونوں پھر خاموش تھے۔جب تک ٹیکسی اس کی بتائی جگہ تک پہنچ نہ گئی ،اس نے ایک بھی بات نہ کی۔ٹیکسی سے اتر تو سامنے ایک بہت ہی خوبصورت کیفے تھا۔وہ مجھے لیکر ایک میز کرسی پہ بیٹھ گیا۔

ہاں! تو تم نے فیصلہ کرلیا کہ وہ کرو جو سب کرتے ہیں،ہوتا ہے، یہ نارمل بات ہے۔اور اس پہ اتنا ظلم مت ڈھاؤ، تم سے بات کرنا چاہتا ہے تو بیزاری مت دکھاؤنا۔وہ جن نظریات کا حامل ہے تم کمفرٹ ایبل رہو گی۔وہ تمہارے درون میں کبھی داخل نہیں ہوسکے گا۔
Wifehood
ٹائپ لائف میں نہیں گزار سکتی ، تم اچھی طرح جانتے ہو، پھر ایسی باتیں کیوں کررہے ہو،اور پھر یہ ہے کیا آج تک میں سمجھ نہیں پائی۔
ارون دھتی رائے بن جاؤ
اس نے کہا
وہ کیسے ؟
وہ کہتی ہے میں تکنیکی طور پہ شادی شدہ ہوں مگر میں “وائف ہوڈ ” لائف نہیں گزار سکتی۔میں تھی بھی نہیں۔اب وہ اور میں اکٹھے رہتے بھی نہیں لیکن میاں بیوی تو ہیں نا تکنیکی طور پہ
ہاہاہا ،میں نے ایک قہقہ لگایا۔
مگر مسلم دولہے راجے اپنی دلہن کو یہ اجازت کبھی نہیں دیتا
میں نے اچانک سنجیدگی سے کہا
تو کیا ہوا لاکھوں مسلم جوڑے ساتھ ساتھ ہوکر بھی ساتھ ساتھ نہیں ہیں اور ہر ایک ذہنی طور پہ ایک اور زمان ومکان میں اپنے اپنے پیا اور اپنی اپنی سہاگنوں کے ساتھ رہتا ہے۔
اس نے جب یہ کہا تو اس کی آنکھیں خوابناک ہوگئیں اور مجھے بڑے عجب انداز سے وہ دیکھنے لگا
میں نے اس کی اور دیکھا اور مجھے اچانک احساس ہوا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے
مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم بھی دو دو زمان ومکان رکھتے ہو؟
میں پوچھا
کیا تم نہیں رکھتیں ؟
اس نے برجستہ کہہ کر مجھے لاجواب کردیا
وہ کیسی ہے ؟ کیا بالکل تم سے الگ ہے اور تم اس سے الگ
میں نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا
چپ کر مہر علی ،اے جاہ نئیں بولن دی
(مہر علی چپ کر جا ،یہ مقام قال کا نہیں ہے)
اور پھر دوسرا زمان و مکان کونسا ہے؟
میں نے اس سے پوچھا
اس نے میری طرف ایک دم سے دیکھا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں اور بولا
کیا واقعی تمہیں ابتک پتا نہیں لگا ؟
مجھ سے زیادہ اس کی آنکھوں میں دیکھا نہ گیا اور میں نے نظریں جھکالیں

کافکا کی طرح ہم سوکر اٹھیں اور کیکڑے میں بدل جائیں تو تب امکان ہے کہ دو دو زمان ومکان سے ہماری جان چھوٹ جائے،کوئی شئے سررئیل نہ رہے ، کوئی خواب ، کوئی پرچھائیں نہ رہے مگر یہ ہمارا مقدر نہیں ہے۔اور ہمیں یونہی دوہرے عذاب میں رہنا ہے۔مگر اسی لایعنیت سے معنی نکلنے کی سبیل بنے گی اور کوئی راستہ نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا۔
خواب ٹوٹا تو گر پڑے تارے
آنکھ ملنے کے بعد کیا ہوگا

یہ کہا اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔میں بھی اٹھی۔اس نے ٹیکسی رکوائی مجھے بٹھایا اور خود پیٹھ موڑ کر پیدل ایک طرف چل دیا۔

عامی کے نام

ڈئیر عامی

پیرس سے تمہارا آخری خط ملا تو میں اس وقت دفتر سے گھر پہنچی ہی تھی اور رات بھر اخبار کی آخری کاپی پریس بھیجنے تک اسقدر کام کرتی رہی تھی کہ تھکن سے برا حال تھا۔دروازہ کھولا تو سامنے تمہارا بھیجا ہوا خط پڑا تھا۔ہر خط ایک مخصوص سیاہ رنگ کے لفافے میں لپٹا ہوا اور اوپر پیلی روشنائی سے یہاں کا پتا لکھا ہوا نیچے سفید رنگ میں تمہار پتا،اب مجھے دور سے دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس کا خط آیا ہے۔ویسے بنک سٹیمنٹ،کچھ دفتری خط و کتابت سے ہٹ کر کچھ اور تو ڈاکئے کے زریعے سے آتا نہیں ہے اور باقی زیادہ تر مراسلت اب برقی مراسلوں کے زریعے سے ہوتی ہے تو بھی مجھے پتا چل جاتا ہے کہ کس کا خط آیا ہوگا۔ویسے تم نے ہر خط لکھا تو ساری کے نام اور ایڈریس میرا لکھا اور یہاں تواتر سے تمہارے خط ملتے رہے۔میں حیران تھی کہ یہ آخر تمہیں ہوکیا گیا ہے؟تم کیوں پرانے زخموں کو کریدنے لگے ہو اور اپنے آپ کو زخم زخم کررہے ہو؟سب سے زیادہ حیرانی مجھے اس بات کی تھی کہ تم خود سے ان خطوں کے جواب من جانب ساری کے تلاش کرتے ہو اور پھر ایک لمبی سی کہانی گھڑ کر سنانے لگتے ہو۔تم جیسے ایک جدلیاتی مادیت پرست سے مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ تم اسقدر مابعدالطبعیاتی انداز میں لکھنے لگوگے اور شاید تمہارا اربن مڈل کلاس پس منظر تمہاری جان چھوڑنے کا نام نہیں لیتا۔اور آج کل تو میں حیران ہوتی ہوں کہ تم جیسا خشک سا آدمی اتنی کہانیاں،اتنے افسانے اور اس قدر رومان پسند خطوط اور عورت بارے اسقدر سنجیدگی سے کس طرح سے لکھنے لگا ہے۔تمہیں شعبی یاد ہے وہ سرگودھا والا لڑکا جو تمہارے پیچھے پاگل تھا اور کبھی کبھی مجھے شک ہوتا تھا کہ تم بھی تھوڑے بہت تھے اور جب تک ساری کے ساتھ تم جڑے نہیں تھے اس سے پہلے تم دونوں کو ہنسوں کا جوڑا کہا جاتا تھا اور لوگوں کو تمہاری جنسی جہت بارے بھی کافی شکوک تھے۔اور یہ ٹھیک وہی زمانہ تھا جب پاکستانی سماج میں کہیں بھی تو کم از کم “گے اینڈ لزبین ” ہونے کو ایک فطری فنومنا نہیں سمجھا جاتا تھا اور ترقی پسند بھی اسے ایک بیماری خیال کرتے تھے۔اور میں نے جب تمہیں “چھلاوہ” پڑھنے کو دی تھی تو تم نے اسے انتہائی بکواس قرار دیا تھا۔کوئی کہتا شعبی تمہارا “لونڈا” ہے اور کوئی کہتا اس ” انقلابی” لیڈر کو “علت مشائخ ” ہے۔اسلامی جمعیت طلباء کراچی کا وہ پمفلٹ یاد ہے جس میں تمہارے اور شعبی کے معاملے کو لیکر کیا کیا باتیں لکھی گئیں تھیں اور یہ سب یونین الیکشن سے صرف پانچ دن پہلے ہوا تھا۔اور اس پمفلٹ پہ یونیورسٹی کے لڑکوں اور لڑکیوں کی اکثریت نے کچھ دھیان نہیں دیا تھا اکڑچہ چٹخارے لیکر سب نے پڑھا تھا لیکن ووٹ تمہاری طرف ہی گئے تھے کیونکہ ان کو تمہاری سیاسی کمٹمنٹ اور نظریات پہ وابستگی پہ زرا بھی شک نہیں تھا۔اس زمانے میں تم اتنے حساس اور اتنے ٹچی کبھی نظر نہیں آئے تھے۔میں نے کبھی تمہیں پلٹ کر جواب دیتے نہیں دیکھا۔تم نے اس پمفلٹ کا نوٹس تک نہ لیا اور تمہاری جانب سے جو بھی جتنے پمفلٹ اس دوران آتے وہ سب کے سب سیاسی ہوتے تھے۔ویسے ان خطوط میں جتنے ادیبوں اور شاعروں کا جو تم نے تذکرہ کیا میں تمہارے ذہنی ارتقاء پہ کافی حیران ہوئی ہوں۔اس زمانے میں زیادہ کیا تو میکسم گورکی کا “ماں” تم کبھی کبھی اپنے ملنے والوں میں تقسیم کرتے نظر آتے تھے اور زیادہ تر کمیونسٹ مینی فیسٹو اور سبط حسن کی کتابیں یا پھر زیادہ کیا تو روسی کمیونزم کی کتابیں تم بانٹتے تھے۔شعر تمہیں کبھی یاد نہ ہوئے۔اور اکثر ان کے ساتھ جراحت کے مرتکب ہوتے تھے۔ہاں سینما خوب دیکھتے تھے تم۔باقی ساری کے ساتھ رہتے ہوئے تم کیا پڑھتے تھے اور اس کے ہاں سے کیا لاتے تھے اور اس کے ساتھ یونیورسٹی کے کونے کھدروں میں تم کیا باتیں کرتے تھے یہ سب مجھے ان خطوط سے پتا چلا ہے۔میں نے کبھی تمہارے منہ سے ان دنوں بھولے سے بھی اس کتاب کا نام نہیں سنا تھا جس کا تذکرہ تم آج کل بار بار کرتے ہو۔نہج البلاغہ۔ہاں ڈاکٹر علی شریعتی کے بارے میں کل تو تمہارا خیال تھا کہ وہ ایک یوٹوپئین اسلام پرست سوشلسٹ تھا اور تم ہمیشہ اس پہ الزام عائد کرتے تھے کہ اس نے ایرانی انقلاب میں ملاّؤں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس نے تودے پارٹی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے فکری اعتبار سے سائنسی سوشلزم کی اپنی لبریشن تھیالوجی کے زریعے سے بنیادیں ہی کھوکھلی کیں۔تمہیں اس کے ماضی سے رومانٹسزم سے سخت چڑ تھی اور اپنی تحریروں میں آج تم اسی ماضی سے رومان کرتے نظر آتے ہو۔اور تم دیکھ سکتے ہو تمہارے اس خیالی رومان پرستی کے خریدار بھی زیادہ تر اربن مڈل کلاس اور ایک مخصوص مذہبی فکر کے حاملین مرد و عورتیں ہی ہیں۔ساری تمہاری دوست تھی اور وہ فلسفے کی ایک شائننگ اسٹوڈنٹ تھی۔مانا کہ اس سے ملنے کے بعد تمہاری وہ نو تیرہ کی مونچھیں غائب ہوئیں اور وہ ہلکی ہلکی داڑھی بھی اور شلوار قمیص کی بجائے تم جینز پہننے لگے اور تمہارے وہ موٹے موٹے شیشوں والی عینک بھی زرا سے فریم میں بدل گئی تھی اور تم تھوڑے سے قبول صورت ہوگئے تھے اور ساری تمہاری انتخابی کمپئن میں بھی بہت معاون تھی لیکن اس نے کبھی بھی مارکسزم اور جدلیاتی مادیت پرستی سے شغف نہیں دکھایا۔اور مجھے وہاں یونیورسٹی میں ہی شک تھا کہ وہ بھی کوئی اسلام پسند سوشلسٹ ٹائپ یوٹوپئین ہی ہوگی لیکن ٹھیک سے کہہ نہیں سکتی تھی اس لئے شک کو صرف ذہن میں رہنے دیا تھا لیکن تمہارے خطوط سے پتا چل گیا کہ میرا شک ٹھیک تھا۔اس نے تمہیں بھی کافی خراب کیا کہ تم کلارا زیٹکن سے زیادہ سیمون ڈی بوووار اور سارتر کی جانب جھکے نظر آئے اور تو اور کافکا کی جادوئی حقیقت نگاری تمہیں حقیقت کے قریب تر لگنے لگی جبکہ انھوں نے جدلیاتی مادیت پرستی کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔میرے لئے تمہارے ہاں جنسیت/سیکچوئلٹی کا وافر تذکرہ دیکھنا کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔تمہارے ہاں یہ آسیب /آبسیسشن کی طرح نظر آیا۔یہ فرسٹریشن تھیوری سے نابلد کامریڈز اور ایک گٹھن زدہ ماحول سے آنے والوں کے ہاں تو سمجھ میں آتی ہے لیکن تمہارے ہاں اس عمر میں اس کا غلبہ دیکھ کر مجھے شاک لگا ہے۔کانٹی جینس لو کی بات کرکے تم جس فراریت پسندی کا شکار ہو اس پہ تمہیں ندامت محسوس نہیں ہوتی؟ساری کینسر سے مرگئی اور اس کے مرنے کے بعد تم ماسکو چلے گئے تھے اور وہاں سے تمہارے خطوط جتنے مجھے ملے یا دوسرے دوستوں کو ان کو پڑھ کر ہمیں کہیں نہیں لگا تھا کہ تم ابدی محبت اور عارضی محبتوں کی کسی مساوات پہ یقین رکھتے ہو کیونکہ تمہارے خط اس زمانے کی پولیٹکل اکنامی سے جڑے مسائل پہ اظہار خیال سے بھرے ہوتے تھے اور تم بار بار پاکستان میں انقلابی سوشلسٹ کیڈر پارٹی کی تعمیر کی بات کرتے تھے۔ان دنوں تو تم نے نہ کسی نتاشا کا زکر کیا اور نہ ہی ووڈکا کا اور اپنے اندر کسی راسپوٹین جگانے کی خواہش کا۔مجھے سچی بات ہے کہ تمہارے خطوط پڑھ کر اپنے اندر کسی رومان بھرے جذبے کے بیدار ہونے کے آثار نظر نہ آئے۔تمہارا آخری خط ملنے سے قبل ہماری فون پہ جو بات ہوئی تھی میں نے اس میں بھی تم سے کہا تھا کہ میں تین مرتبہ کے بریک اپ اور تین بار مطلقہ ہوجانے کے بعد یہ سمجھتی ہوں کہ ایک کاسموپولٹین اربن چیٹرنگ کلاس کے مرد اور عورت کا سب سے برا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ہم بستر پہ بغیر کسی بندھن کے اکٹھے ہوتے ہیں ہمیں تعلقات میں کوئی نیا پن محسوس ہوتا ہے لیکن جیسے ہی یہ تعلق شادی جیسی چیز سے جڑتا ہے ہم سپوائل ہونے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ ہمارا تعلق ایک غیر مرئی قید بن جاتا ہے۔کانٹی جینسی مجھے سب سے بڑی حقیقت لگتی ہے۔”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں “۔ہوسکتا ہے میرا یہ تجربہ بہت زیادہ پرسنل ہو اور اس سے کسی قسم کا عمومی مقدمہ اور اس پہ نتائج مرتب کرنا ٹھیک نہ ہو لیکن مجھے تم خاصے قابل رحم لگے۔تمہیں مرگی ایک مرض سے زیادہ رومان لگتی ہے اس لئے کہ دستوفسکی نے اسے رومانٹسائز کردیا تھا اور بیمار ہونا تمہیں پرکشش لگتا  ہے اور ایک جگہ پڑے رہ کر طلسمات کا جال بننا تمہیں لبھاتا ہے اس لئے کہ اسے کافکا حسین بناکر دکھاتا ہے مجھے ہضم نہیں ہوتا۔تمہارے اندر کا زمان اور مکان اس قدر یوٹوپئین ہے کہ مجھے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہونے لگتی ہے کہ کیا یہی وہی عامی ہے جو ہماری طلباء سیاست کا سب سے باعمل لڑکا ہوا کرتا تھا۔کافی دور نکل گئے ہو تم اور کیا کل وقتی فکشن نگاری کا پیشہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکے ہو تم۔ویسے ماضی کا ہر انقلابی اور کرانتی کاری نظم یا کہانی میں پناہ کیوں ڈھونڈتا ہے؟ پاش سے تم پوچھنا تو سہی کیوں کہ مرے  ہوئے لوگوں کی آتماؤں سے تم مخاطب ہونے اور ان سے جواب حاصل کرلینے میں کافی مہارت حاصل ہوگئی ہے۔پیرس میں رہے تم اور یہاں رہ کر نہ تمہیں باکونن یاد آیا اور نہ ہی پیرس کمیون اور یہاں پہ مارکس کا آنا بھی تمہیں ٹھیک سے یاد نہیں آیا۔ان خطوط میں سماج واد عامی کہاں گم ہوگیا؟ مجھے سمجھ نہیں آئی۔اور اب برسلز پہنچے ہو یہاں رہ کر تمہیں کیا یاد آئے گا ٹھیک سے میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔میں ناستک ہوں اور فنائے محض پہ یقین رکھنے والی اور اس لئے مجھے کسی عالم برزخ سے جوابوں کی تلاش نہیں ہے۔ویسے زرا اپنے پرانے جدلیاتی مادیتی پرست عامی کو آواز دیکر دیکھنا کہ تم نےجن کو مخاطب کیا اور جس سے بولے وہ سب کے سب ان نظریات اور افکار کے سوا اپنے الگ وجود اور ہئیت کے ساتھ کیا کہیں موجود بھی تھے؟اس لئے تو یہ سارے خط تم مجھے ارسال کرتے رہے۔کوئی ایسا میکنزم اس خیال پرستی اور آئیڈیلزم کے پاس ہے کیا جو ان خطوط کو براہ راست فنا ہونے والوں تک پہنچا دے؟ یقینی بات ہے کہ نہیں ہے۔پیرس سے لکھے گئے اس آخری خط  میں سوائے سادیت پسندی کے اور ہے کیا؟ ایک ایسی ٹریجڈی جسے تمہاری سادیت پسندی نے اور خوفناک بنادیا ہے اور تمہاری مریض طبعیت کو اور کئی لوگوں میں منتقل کردیا ہے۔سیکنہ علی زیدی نے پراگ سے مجھے لکھا ہے کہ یہ وہ عامی نہیں ہے جو اسے دریائے پراگ پہ بنے پرانے لکڑی کے پل پہ ملا تھا اور زندگی سے بھرپور تھا۔یہ تو کوئی دیمک زدہ شخص لگتا ہے جو اصل عامی کو کھا گیا ہے۔مجھے تم سے منافقت نہیں کرنی یہ کہہ کر کہ اتنی تلخ باتوں پہ شرمندہ ہوں یا معافی کی طلبگار ہوں۔مجھے تم سے اسی سفاک حقیقت پسندی کے ساتھ بات کرنی ہے۔مزید کئی باتیں پھر کروں گی اگر تمہارا فیوز نہ اڑا تو۔

والسلام

تمہاری دوست ریحانہ سرور

انتیسواں خط

a525b464138097fd91583474c0d100a0

 

پیاری ساری

 

تمہارا خط اتنی جلدی مل گیا کہ اس “جلد ملنے ” نے مجھ پہ حیرت طاری کردی بلکہ اس خط کو جب میں نے پڑھنا شروع کیا تو ایک ایک لفظ مجھے شاہ جنوں کی فرمانروائی سے آیا ہوا لگا اور پہلی حیرت نے شاہ جنوں کی فرمانروائی سے وارد ہوئی حیرت نے مجھے “شادی مرگ ” کی کیفیت میں مبتلا کردیا۔میں سمجھتا تھا کہ تم نے اپنے سابقہ خط میں محبت بارے جو لکھا اسے میں نے پالیا ہے اور میں نے خود کو عاشق صادق ہونے کی خود ہی سند بھی دے دی تھی لیکن اس خط کو پڑھنے سے مجھے پتا چلا کہ دھوئیں میں روشنی تو مستور تھی ہی اور مری آنکھ بھی پورا دیکھنے سے معذور تھی۔آفتاب اقبال شمیم کا شکریہ جس کے شعر کے زریعے سے میں اپنی کیفیت بیان کرنے کے قابل ہوا ہوں

کچھ تو سائے کے دھوئیں میں روشنی مستور تھی

اور پورا دیکھنے سے آنکھ بھی معذور تھی

تم نے سائے (جہالت ) کے دھوئیں کو چھٹ جانے اور مستور روشنی کو تھوڑا اور عیاں کرنے اور مری آنکھ کی معذوری کو بھی کم کیا۔اگرچہ میں اب بھی پورا دیکھنے سے معذور ہوں۔ویسے میں تھوڑا پریشان ہوا ہوں کہ میں اس جرمن فلسفی کو کیسے بھلا بیٹھا جس کو انگریزوں نے سٹرنر سمتھ کا نام دیا تھا اور ایک عرصے تک ميں نے موٹے مارکر سے چارٹ پہ بڑے جلی حروف میں لکھا ہوا ہے:

                                           Vagabund Intellektuell

خانہ بدوش بدھی مان کی طرح آوارگی میں دانش کی کرنیں بکھیرنے کا دعوی کرنے والا اس خانہ بدوش دانش وری کے علمبردار کو بھلانے کا نتیجہ وہی ہونا تھا جسے تم نے

Schlechter Glaube

ویسے یہ جرمن اصطلاح مجھے فرنچ  کے لفظ موئے ایس فا میں زیادہ موسیقائی لگتی ہے اور میں نجانے کیوں تمہیں اردو میں یہ بتان سے قاصر ہوں کہ ہاں محبت میں بد عقیدہ واقع ہوا ہوں کیونکہ رندوں کے ہاں تو بدعقیدگی کا الزام ایک فخر اور انعام ہوتا ہے جبکہ یہاں تےم ایک ناقص حالت کی جانب اشارہ کررہی ہو۔آج الفاظ کی تنگ دامانی کے احساس سے جتنا میں دوچار ہوں اتنا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ویسے عربی والوں نے اسے انتہائی شاندار مرکب لفظ سے تعبیر کیا ہے ” سوء النية” ۔لیکن ساری اگر یہ تمہارا معاملہ نہ ہوتا تو میں بے دھڑک اس کو قبول کرلیتا مگر مشکل ہے کہ تم سے اپنی نسبت کرنی ہو اور نیت کے بری ہونے کا تصور کروں یہ مرجانے سے کہیں زیادہ سخت اور مشکل بات ہے۔ویسے ہندی میں اسے “برا وشواس ” کہتے ہیں اور یہ زرا مجھے قدرے بے ضرر لگتا ہے۔ویسے اگر اسے فریب زدہ وشواس کہہ لیا جائے تو کیا یہ مطلب کو مسخ کرنے جیسے فتوے کی زد میں تو نہیں آجائے گا۔ویسے تم نے سیکنڈ سیکس بارے جو کچھ لکھا ہے اس طرح سے میں نے تو اس کتاب کو پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا بلکہ مجھے لگ رہا ہے کہ جتنا تم نے پچھلے خط میں محبت بارے ظاہر کیا اس سے کہیں زیادہ چھپا لیا تھا اور اب تو میں مجھے وہ سب ایک پزل لگ رہا ہے جس کا حل تم نے اپنے اس دوسرے خط میں لکھ بھیجا ہے۔تم نے ٹھیک لکھا کہ مرے اندر کا خانہ بدوش بدھی مان یہاں پیرس میں تیزی سے بڑھتا ہوا “کیاآس” اور ہیجان کے سامنے کسی سرنڈر جیسے کیفیت کا شکار ہوچکا ہے اور میں نے وہاں کراچی کی گلیوں میں جو سائیکوسوشل فریڈم پائی تھی اسے یہاں کی گلیوں میں کھودیا ہے۔میں سچی بات یہ ہے کہ “شرمندہ باش ” ہوں۔اور شاباش کا ہرگز مستحق نہیں ہوں کیونکہ اب نہ تو میں جھوم کے کہیں بھی بیٹھ جانے کا عادی  ہوں نہ ہی کسی بھی جگہ “مئے خانہ معرفت ” بنالینے کے قابل ہوں۔ویسے کیا زبردست جبر کے ہوتے واقعی مستند عشق کا حصول ناممکن ہوتا ہے۔ویسے میں تو سچی بات ہے ابتک یہی سمجھتا رہا ہے کہ محبت ہی سب کچھ ہوتی ہے اور ایک چاہنے والا دوسرے چاہنے والے کے آئینے میں اپنا آپ دیکھتا ہے اور اسی کے زریعے سے زندگی کے معانی پاتا ہے مگر تم نے لکھا ہے کہ سند عشق پانے کے لئے محبت کرنے والوں کو ایک دوسرے کی آزادی اور برابری کا تعین ضروری ہوتا ہے۔تم نے کہا کہ ہمارے ہاں رومانوی محبت “برے وشواش ” کے بوجھ تلے دبی رہتی ہے اور ہم اپنے محور محبت کی شرطوں پہ زندگی گزارتے ہیں یا اسے اپنی شرائط کے گرد گھومتا دیکھنا چاہتے ہیں اور اپنی ہستی اور وجود کو یا تو مرکز توجہ بناکر اپنے پیارے کو اس پہ قربان ہوجانے کو کہتے ہیں یا اپنے پیارے کے اوپر اپنی ہستی قربان کرتے ہیں۔اور تم کہتی ہو کہ یہ وجودیاتی قربانی “برے وشواس پہ مبنی رومانوی محبت ” ہے جو جبر کو غائب کرنے کی بجائے اسے رومنٹی سائز کرڈالتی ہے۔اور عورت کے کیس میں یہ جبر پہ جبر کو مسلط کرکے اسے آزاد ہونے کا جھوٹا سرٹیفکیٹ دینے کے مترادف ہے۔میں اتنے ظالمانہ ، کرخت ، ننگے اور چیڑپھاڑ دینے والے سچ سے آنکھیں چار کرنے کی ہمت لا ہی نہیں پارہا ہوں۔اور سچی بات ہے کہ میں بدن سے آگے سفر ہی نہیں کرپارہا ہوں۔بدن میں چند اعضاء ہی جو لے دے کے مرے اعصاب پہ سوار لگتے ہیں اور جسے “وجود ” کہتے ہیں اس کو مکمل طور پہ محسوس کرنے اور اسے سوچنے سے اپنے آپ کو قاصر پاتا ہوں۔یہ مجھے کیا ہوگیا ہے۔اتنا کثافت زدہ میں نے اپنے آپ کو کبھی محسوس نہیں کیا تھا اور اسقدر گدلا بھی۔ساری!ہم مردوں کی اکثریت کو کبھی “برے وشواس پہ مبنی رومانوی محبت ” کے گدلے پن سے نجات مل پائے گی۔اب تو مجھے یہ شک بھی ہونے لگا ہے کہ میں تمہارے اور اپنے رشتہ محبت میں کہیں اس “کامل دوستی ” کو بھی پاتا ہوں کہ نہیں جسے تم مستند پیار کی لازمی شرط کہتی ہو اور جب “کامل دوستی ” تشکیک کا شکار ہو تو وہ جو ملکر “آزاد اور برابری ” کی دنیا کو کیسے دریافت کرنے کے عمل میں ہوں گے جسے تم پھر مستند رومانوی محبت کی ایک اور لازمی شرط بتلاتی ہو۔میں تو بہت گڑبڑا گیا ہوں۔مرے تخیل پہ بری طرح سے دھند بلکہ کہر چھائی ہے جس کی سردی سے مرا خیال فریز ہوا جاتا ہے۔میں جسے ہجر زدگی سمجھ کر خود کو مہان عاشق سمجھے بیٹھا تھا وہ پورا دیکھنے سے آنکھ کی معذوری لگ رہی ہے اور اس کیفیت سے خود کو باہر لانے کی جتنی کوشش کررہا ہوں اتنا ہی زیادہ دھنستا جارہا ہوں۔تم نے نطشے کو آواز دے ڈالی ، آوارہ جرمن دانش ور کی بدھی کا سہارا لیا ہے اور ميں ان میں سے کسی ایک کو بھی آواز دینے سے قاصر ہوں۔مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ میں نے ابتک شاہ حسین،بلھے شاہ،فرید عطار، سچل سرمست سر کےبل کھڑا کیا ہوا تھا اور کتنی مصیبت ہے کہ ان کو پیروں کے بل کھڑا کرکے پڑھنے سے قاصر ہوں اور محسوس کرنے کی منزل تو جیسے کبھی آئی نہیں تھی۔جہالت کی ثقالت مری کمر توڑے دے رہی ہے۔ویسے تم بلا کے تجاہل عارفانہ سے کام لے رہی ہو اس خط کو مجھے پوسٹ کرنے کے بعد سے۔کہتی ہو کہ تم محو حیرت ہو کہ میں اتنا خاموش کیوں ہوں اور بولتا کیوں نہیں ہوں؟انت الحیب الذی ترجی شفاعتک ۔۔۔۔۔۔تم وہ دوست ہو جس کی شفاعت کی مجھے امید ہے۔اور تم ہی ہو جس کا دامن میں پکڑ کر اس برے وشواس والی رومانوی محبت کے بوجھ سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔اور اس رومانوی محبت کو پاسکتا ہوں جسے دو آزاد،برابر اور کامل دوست کرسکتے ہیں اور اپنے وجود و ہست کو فنا ہونے سے بچاسکتے ہیں۔مجھے اس بھنور سے نکالو اس سے پہلے میں ڈوب جاؤں اور کبھی ابھر نہ سکوں۔

فقط تمہارا

ع۔ح

 

 

 

 

ستائیسواں خط

627897f9bed6d3308bebdcdde7d24b98

ستائیسواں خط

 

پیاری ساری!

اس بار تمہارا خط ملا تو ساتھ ہی دل سے عجیب سی بے چینی بھی ختم ہوگئی،کیونکہ تمہارا خط ملنے سے تھوڑی دیر پہلے میں نے اس ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی لڑکی کو جون 1929ء میں سارتر کا سیمون دی بووا کو لکھا محبت نامہ ارسال کرکے بین السطور میں اسے بتادیا تھا کہ میں اس کی صحبت کو انجوائے کررہا ہوں۔اور اس کی صحبت میں مجھے سکون ملتا ہے۔اگرچہ یہ صحبت ٹیلی کمیونی کیٹک ہی سہی۔لیکن مجھے لگتا ہے جیسے اس مواصلاتی صحبت میں بھی کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی حد تک جسمانی صحبت جیسا لطف آتا ہے۔اگرچہ بے چینی ہر مواصلاتی صحبت کے بعد اور بڑھ جاتی ہے۔تمہارے کہنے پہ میں ہر خط آن لائن کرتا جارہا ہوں لیکن لوگ تمہارے اور مرے تعلق کی نوعیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں،ویسے جو آن لائن مرد و عورت مرے سوشل میڈیا فرینڈ ہیں پاکستانی پس منظر سے خاص طور پہ انھیں تم سمجھ ہی نہیں آرہی ہو کہ کیسے اپنے ساتھ جڑے ایک آدمی کو تم دوسری عورتوں بارے گفتگو لکھتے دیکھ کر برداشت کرتی ہو۔ویسے یہاں اکثر پاکستانی روشن خیال مگر لوئر مڈل کلاس پس منظر کی عورتیں مردوں کا بیک وقت کئی عورتوں کی طرف التفات دیکھ برسبیل تذکرہ اپنے لئے بھی ایسی آزادی کی مانگ کرتی ہیں اور ساتھ ہی ایک دم سے کہتی ہیں کہ اس مانگ کے جواب میں سیدھی گولی مقدر بنے گی۔اور مری ایک نہایت ہی محترم و مکرم دوست خاتون نے بتایا کہ ایسی مانگ پہ لادین مرد بھی دین سے جواب ڈھونڈ لاتے ہیں۔ویسے مجھے تمہارے ہاں پاکستان میں ایسی دو سے تین خواتین بارے پورا یقین ہوگیا ہے کہ وہ ہماری طرح معاملے کی تہہ تک پہنچ چکی ہیں اور اس لئے ان کے ہاں ترحم آمیزی کی زرا رمق دکھائی نہیں دیتی۔ایک تو وہی شاعرہ ہے جو خیالات کے ساتھ ساتھ جسمانی خدوخال کے ساتھ بھی حسین ترین ہے۔اور ایک عورت وہ ہے جسے میں کہتا ہوں کہ وہ ساری! تمہارے جیسی مثالی عورت بننے کے عمل سے گزر رہی ہے۔لگتا ہی نہیں ہے یہ وہ دھان پان سی لڑکی ہے جو دو سالوں پہلے رات کے دو بجے تک اپنی طب کی کتابوں میں کھوئی رہتی تھی۔چش مش سی اور بالکل سادہ سے خیالات رکھنے والی مگر اب تو اسے زرا چھیڑو اور سنو پھر عتاب کی باتیں۔تمہاری جیسی عورت بننے کے عمل سے گزرنے والی یہ ہستی مجھے ان معنوں میں اچھی نہیں لگتی جن معنوں میں ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی جرمنی میں قیام پذیر وہ لڑکی لگتی ہے جسے بار بار ٹیلی کام میں کام کرنے والی کہہ کر مجھے بڑی مسرت ملتی ہے۔بس یہ مجھے محض اپنی رائے کی وجہ سے پسند ہے۔ساری،تمہیں یاد ہے کہ ہم پہلے ایک دوسرے کے دوست بنے تھے اور پھر تم نے ایک دن مجھے کہا تھا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہوگئی ہے اور تم مجھ سے ریلشن رکھنے کی خواہش مند ہو،یہ وہ الفاظ تھے جو میں تمہیں کہنا چاہتا تھا لیکن مرے اندر ایک بہت بزدل انسان چھپا ہوا تھا جسے سب سے پہلے تم نے ہی پہچانا تھا اور پھر مری اس بزدلی کو اپنی محبت سے سات سمندروں کی گہرائی میں دفن کردیا تھا۔تم نے مجھے کہا تھا کہ ہم ایک اوپن ریلشن میں رہیں گے اور سچی بات ہے مجھے بالکل ویسے ہی سمجھ نہیں آئی تھی جیسے آج مرے کئی دوستوں کو سمجھ نہیں آرہی ہے۔کیا تمہارے پاس اب بھی وہ ویڈیو کیسٹ موجود ہے جس میں وہ فلم کاپی ہوئی جس کا نام ” سارتر بائی ہم سیلف ” تھا۔مجھے اس فلم میں سارتر کا وہ انٹرویو نہیں بھولتا جسے تم نے پلے کرکے مرا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا کہ سمجھو یہ سارتر نہیں کہہ رہا بلکہ تمہاری ساری کہہ رہی ہے،اور تم نے مجھ سے کہا تھا کہ آؤ اس سین کو ہم مل کر دوبارہ سے کرتے ہيں۔اور تم نے مکالموں میں تذکیر کو تانیث سے اور تانیث کو تذکیر سے بدل دیا تھا۔مجھے کافی مزا آیا تھا۔آج جب تمہیں یہ خط بیٹھا لکھ رہا ہوں تو مجھے وہ سین جو تم نے  اپنے اوپر خیال میں فلمبند کیا تھا ایسے نظر آرہا ہے جیسے ابھی ابھی تم اسے فلمارہی ہو۔”ہاں ميں صحبت نازک خیالاں مگر مردوں کی صحبت کو ترجیح دیتی ہوں،کیونکہ اس کی ایک وجہ تو جسمانی ہے ، یہ درست ہے کہ یہاں بہت بدصورت مرد بھی ہیں لیکن میں خوبصورت مردوں کو ترجیح دیتی ہوں یہ اور بات ہے کہ مرا محبوب اول اور سب سے زیادہ میری روح پہ قابض ایک واجبی سی صورت والا مرد ہے ( یہ سنکر میں خوب ہنسا تھا)۔میں حسین مردوں کو لبھاتی ہوں۔مگر اپنا آپ صرف اسی واجبی صورت والے اپنے محبوب پہ کھولتی ہوں۔اور ہاں میں اور مرا محبوب مرد ایک ایسا کپل ہیں جو آزاد اور خودمختار بندھن میں بندھے ہوئے ہیں جس میں مجھے حسین مردوں کو لبھانے اور اسے حسین عورتوں کو لبھانے کی اجازت ہے۔اور ہمیں افئیرز پہ کوئی اعتراض نہ ہے،یہ اوپن ریلیشن ہے جس مں جیلسی اور کلیس پن نہیں ہے”۔تمہیں یاد ہے وہ باجوہ اور پلوشہ کپل ، جنھوں نے یونیورسٹی میں ہی شادی کرلی تھی اور وہ کہتے تھے کہ ” ہم اوپن میرج کیے ہیں”۔یہ کئے ہیں بھی کمال تھا ، کتنا خوبصورت لگتا تھا ان کے منہ سے یہ جملہ۔اور ایک مرتبہ جب آمنہ نے پلوشہ سے پوچھا کہ تم اپنے شوہر کی جمال پرست طبعیت کیسے برداشت کرتی ہو ؟ تو اس نے کمال کی بات کہی تھی کہ ایک تو وہ برداشت نہیں کرتی بلکہ اس کی مرضی اس ميں شامل ہے اور دوسرا وہ

بورژوا “ڈی سے سینسی ” میں پہ سرے سے یقین ہی نہیں رکھتی۔مطلب اپنی بیوی کو بھی یقین دلانا کہ وہ ہی بس وہی اس کی توجہ کا مرکز اور خفیہ طور پہ کئی اور افیئرز بھی چلانا اور ہر عورت سے بس ستی ساوتری بنے رہنے کا مطالبہ بھی دوہراتے چلے جانا۔مجھے تو یہ بورژوا ڈی سین سی بہت بڑھیا اصطلاح لگی تھی ۔ویسے تم بھی تو خوب ہنس رہی تھیں پلوشہ کے منہ سے یہ سب سنکر۔جس دن تم نے مجھے اپنے پیار بارے بتایا تھا اس دن پہلی بار مجھے پتا چلا تھا کہ تم مجھے کیوں سیمون دی بووا کے خطوط کے وہ حصّے پڑھ کر سناتی تھیں جس میں وہ سارتر کی سکن ، اس کے دانتوں کی صفائی سے بے پروائی برتنے، اس کی میل” اگلی نیس ” یعنی مردانہ بدصورتی سی دکھائی پڑنے ، خوب ڈرنک کرنے ، فیشن بارے کھکھ نہ جاننے کے باوجود اس پہ مر مٹنے کا زکر کرتی ہے۔مرے ذہن میں پرائم آف لائف کی لائنیں گزر رہی ہیں جس میں بوووا نے سارتر کے ساتھ اپنے تعلق میں روائتی میرج بانڈ کو فالتو کی چیز قرار دیا اور اپنے و سارتر کے درمیان تعلق کو ” سول میرج / روح کی شادی ” سے تعبیر کیا۔تم وہاں کراچی میں نارتھ ناظم آباد کے بلاک میں اسی پرانے سے گھر میں ہو اور میں یہاں پیرس میں ایک سستے فلیٹ میں لیکن کیا یہ واقعی کوئی ایسی چیز ہے جو تمہارے اور مرے درمیان محبت پلس کامریڈ شپ کے بانڈ کے آڑے آسکتی ہے؟ویسے مجھے سارتر اس وقت زرا اچھا نہیں لگا تھا جب اس نے سیمون دی بووا سے یہ شرط رکھی کہ وہ دونوں افئیرز میں آزاد ہوں گے لیکن اپنا ہر تجربہ ایک دوسرے سے شئیر کریں گے۔یہ شئیرنگ اگر کسی شرط کے رکھے جانے کے بغیر ہوتی تو مجھے اعتراض نہ ہوتا۔کیا “اے سن شیل لو / ابدی محبت ” میں جڑے دو اشخاص کو یہ شرط رکھنا ضروری ہے کہ وہ اپنی عارضی محبتوں/کانٹی جینٹ لو کو لازمی ایک دوسرے سے شئیر کریں۔ویسے ساری! میں سوچتا ہوں کہ وہاں ایشیا اور مڈل ایسٹ میں اکثر مرد و عورتیں کانٹی جینٹ لو /عارضی محبتوں کے انبار تلے دب کر ایے سین شیل /ابدی محبت کو کہیں گم کر بیٹھتے ہیں۔میں اس حقیقت سے انکار نہیں کروں گا کہ ساری تمہارے کانٹی جینس لو میں جب کبھی کوئی نیلسن الجرین (سیمون دی بووا کا کانٹی جینس لور ) یا کلاڈین جےزمان (دوسرا کانٹی جینس لور) آیا تو میں نے جیلسی محسوس کی لیکن تم نے ہی تو مجھے کہا تھا کہ جیلسی ہماری آزادی کی دشمن ہوتی ہے اور یہ ہمیں کنٹرول کرتی ہے اور ہمیں مغلوب کرتی ہے جبکہ ہمیں اس پہ کنٹرول کرنا سیکھنا ہوگا۔یہ بھی تم نے اور میں نے اسی فرنچ فلسفی کپل سے سیکھا تھا۔لیکن ساری! کیا میں اور تم واقعی ویسا بننا چاہتے تھے جیسے یہ فرنچ کپل تھا؟نہیں نا؟ کیوں ؟ ہمارے اندر وہ جسے مشرقیت کہتے ہیں یا جسے رسوم ورواج سے بھری حدود و قیود کہا جاتا ہے کہاں سے در آئی تھیں جب اس لمحے میں اس فرنچ کپل سے ہمیں شدید نفرت سی محسوس ہوئی تھی جب تمہارے اور مرے ہاتھ سارتر کے نام لکھے بووا کے وہ سارے غیر ایڈٹ خط لگے تھے جسے بووا کی لے پالک بیٹی نے 1990ء میں شایع کرڈالے تھے۔کیا ہم یہ کرسکتے ہیں کہ کسی کم عمر کو پڑھانے، لکھانے، فلسفے کی بلندیوں تک پہنچانے کے نام پہ لبھائیں اور اور ان کم سن لڑکیوں کو اپنے بیڈ تک لانے کی سبیل کریں؟ اور یہ سب اس لئے کریں کہ ہماری خواہش انسیسٹ سیکس میں اپنے بچوں کے ساتھ سونے کی ہو۔جیسے سارتر پولش اولگا کے ساتھ نہ سو سکا تو اس نے اس کی بڑی بہن کے ساتھ سونے کو ہدف بنا لیا۔ساری ایسا کانٹی جینس / عارضی محبت و پیار تو نہ تمہارے بس کی بات تھی اور نہ مرے بس کی بات ہے۔اس پہ اگر کوئی تمہیں اور مجھے یہ کہے کہ آخر میں کمبخت تم دونوں مشرقی ہی نکلے نا یا تمہیں ایک دبّو مشرقی عورت کہے اور مجھے ایک ڈرا ہوا مشرقی مرد کہے تو ہمیں زرا برا نہیں لگے گا۔خواہشات اگر جئینس کے ہاں غالب آنے لگ جائیں تو اس کا علم گھلنے لگتا ہے اور ایول نیس ترقی کرنے لگتی ہے۔ساری! سلطان باہو اسے نفس پلیتی کہتے تھے اور مجھے اس بات کی سمجھ سیمون دی بووا کے سارتر کو لکھے گئے خطوط میں ان کی جنسی وارداتوں کے تذکرے پڑھنے کے بعد آئی۔مجھے اعتراف کرنا ہے کہ میں نے سارتر کی طرح اپنے تخیل کی پرواز میں کبھی ترقی کانٹی جینس لو کے دوران محسوس نہیں کی۔اور نہ مجھے کبھی اپنی سینس سبلٹی میں کچھ اضافہ ہوتا محسوس ہوا جو سارتر کے بقول اسے محسوس ہوتا تھا۔میں نے اپنے آپ کو بہت ٹٹولا اور یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ اس ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی عورت کو جب میں “آئی لو یو ” بالواسطہ طور پہ ہی بولتا ہوں تو کیا کسی اولگا کو تلاش کرتا ہوں تو مرے اندر سے ہر بار نفی میں جواب آیا ، مجھ میں کوئی نفسانی ارتعاش پیدا نہیں ہوا بلکہ مجھ پہ ایک اور ہی انکشاف ہوا، ساری! میں تو اس میں بھی تمہیں ہی تلاش کررہا ہوں اور مجھے ایسے لگنے لگا ہے جیسے میں کانٹی جینس لو پہ سرے سے یقین ہی نہیں کرتا۔کیا اپنے جوابی خط میں تم اس مسئلے پہ روشنی ڈالوگی؟

 

فقط تمہارا

ع   ۔ح

چھبیسواں خط

 

 

                                                                                  پیاری ساری ،

 

گزشتہ خط کے جواب میں مجھے تمہارا لکھا ہوا خط آج صبح کی ڈاک سے ملا تھا۔میں اتنا تھکا ہوا تھا کہ اسے کھول کر پڑھ نہ سکا لیکن اس خط کو اپنے سینے پہ رکھ کر میں سوگیا تھا۔اور خلاف معمول مجھے بہت پرسکون نیند آئی اور میں جب سوکر اٹھا تو رات کے آٹھ بج چکے تھے۔میں نے فریج میں رکھا کولڈ سینڈویچ کھایا اور کافی کا ایک مگ تیار کیا اور اس کے سپ لیتے ہوئے تمہارا خط پڑھا۔تمہارے ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں کا لمس خوشبو بنکر الفاظ اور کاغذ کی تین شیٹ میں رچا بسا تھا اور مجھے یہ لمس اب اپنے ہاتھوں اور نگاہوں پہ محسوس ہورہا تھا۔اور خط کی عبارت تمہیں مجسم کرکے مجھے دکھارہی تھی۔تمہاری حیرانی بجا ہے کہ آج کل میں کیسے اپنے فلیٹ میں ایک میز اور کرسی پہ ٹک کر تمہیں مستقل خط بھی لکھتا ہوں اور باقی کے تخلیقی و غیر تخلیقی کام بھی کرتا ہوں۔تم  نے ٹھیک سوال کیا ہے کہ اب میں اپنی تخلیق کو پر لگانے کے لئے کسی کھنڈر ہوگئی تاریخی اہمیت کی حامل قدیم عمارت کی لرزتی بنیادوں پہ بیٹھ کر کیوں نہیں لکھتا؟اور اپنی نثر کے لئے دماغ کے فیول کے طور پہ لال پری کیوں پاس نہیں رکھتا اور اسے وقفے وقفے سے کیوں نوش نہیں کرتا؟جبکہ سگریٹ کے دھوئیں سے کمرے کو بھرا ویسے ہی رکھتا ہوں۔مجھے لگتا ہے کہ تمہارے ذہن میں یہ سوال اس لئے آئے ہیں کہ وہاں کراچی میں لکھنے کی آزادی کو محسوس کرنے اور اسے اپنے اندر اتارنے کے لئے کبھی میں منوڑا کے اس پار بلوچ بستی کے اندر چھونپڑے میں بنے چائے کے ہوٹل جاتا تو کبھی کیماڑی میں کسی پرانی سی بہت پرانی سی عمارت میں بنے کیفے میں جاکر بیٹھ جایا کرتا تھا اور وہاں لوگ مجھ سے اتنے مانوس ہوگئے تھے کہ جب جاتا تو مجھے مری پسندیدہ جگہ پہ بیٹھنے میں مدد کی جاتی تھی اور میں کئی گھنٹوں بیٹھ کر تخیل کی پرواز اونچی سے اونچی کرتا رہتا تھا۔یہاں تک کہ کئی اچھوتے کہانی کے پلاٹ تو مجھے واش روم میں منہ ہاتھ دھوتے سوجھے تھے یا سڑک پہ چلتے ہوئے ایک جھماکے کی طرح دماغ کی سکرین پہ روشن ہوئے تھے۔لیکن یہاں پیرس میں اس فلیٹ کے اندر بنے اسٹڈی روم میں پڑی واحد میز کرسی مرے لئے اب تخلیقی عمل انگیز کا کردار ادا کرنے لگی ہے۔اور اب میں کام سے آنے کے بعد زیادہ وقت اسی میز کرسی پہ بیٹھ کر گزارتا ہوں۔اور یہ لیپ ٹاپ جو قلم، کاغذ کی جگہ لے چکا ہے زرا مرے خیال کی رو کے آڑے نہیں آتا ہے۔

یہاں اس میز پہ سامنے لیپ ٹاپ دھرا ہے، اس کے ساتھ ہی ایک ساؤنڈ پڑا ہے جس کے سہارے میں سینما ساؤنڈ کا مزا لیتا ہوں۔پاس ہی کئی زبانوں کی لغات پڑی ہیں اور بالکل دائیں ہاتھ کی طرف نہج البلاغہ پڑی ہے اور بائیں طرف سگریٹوں کے چار پیکٹ میں ڈنڈے سے نکال کر رکھتا ہوں۔گزشتہ دنوں پاکستان سے انور آیا ہوا تھا۔وہ مجھے ملنے مرے فلیٹ آیا تو اس نے نہ تو مجھ سے یہ پوچھا کہ اتنی زبانوں کی لغات پاس کیوں رکھی ہیں؟نہ سگریٹ بارے سوال کیا۔بس تھوڑے فاصلے پہ پڑی نہج البلاغہ بارے مجھ سے پوچھنے لگا کہ یہ ہمہ وقت پاس کیوں رکھتے ہو؟وہ شاید موقعہ تلاش کررہا تھا مجھ پہ مادیت پرستی سے انحراف کرنے کا یا پھر وہ مجھے رجعت پرست کہنے کا خواہش مند تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ زرا یہ بتاؤ کہ امریکن سیاہ فام شاعرہ مایا اینجلو تمہیں رجعت پرست لگتی ہے کہ ترقی پسند ؟کہنے لگا کہ اس سوال کا جواب بہت آسان ہے کہ مایا ایک باغی، انقلابی اور سماج سیوک شاعرہ تھی۔میں نے کہا تمہیں معلوم ہے وہ جس بیڈ پہ لیٹ کر لکھتی تھی اس بیڈ پہ شیری کی ایک باٹل ، لغات ، تھیاس رس ، اور بائبل پڑی ہوتی تھی-جب پیرس ریویو کا نمائندہ اس سے انٹرویو کرنے پہنچا تو اس نے مایا اینجلو سے یہی سوال کیا تھا: یہاں بائبل کا کیا کام ہے؟تو وہ کہنے لگی کہ میں اس کا کوئی سا ایڈیشن اٹھاکر کہیں سے بھی باآواز بلند پڑھنے لگتی ہوں تاکہ اس کا ردھم سن سکوں اور ایک اچھی انسان بن جاؤں۔نہج البلاغہ بھی مرے واسطے ایسے ہی ہے جیسے مایا اینجلو کے لئے بائبل تھی۔میں اس کا کوئی بھی صفحہ کھول کر بلند آواز سے پڑھنے لگتا ہوں تو سب سے پہلے صفحے پہ تم دکھائی دینے لگتی ہو۔اور لب مرے ہلتے ہیں آواز تمہاری کانوں میں پڑتی ہے۔اور معانی کا نیا جہان مرے سامنے کھلنے لگتا ہے۔اور تنہائی اس کے صفحے سے باہر نکل کر مرے اردگرد اور پورے فلیٹ کو اپنے اندر ڈھانپ لیتی ہے۔اور مجھے تم بھی برہا میں ملبوس نظر آتی ہو۔اور تمہاری آنکھوں سے اداسی ٹپ ٹپ گرنے لگتی  اور مرے پورے فلیٹ کو گیلا کرتی ہے۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ تنہائی بارش کی صورت برس رہی ہو اور تنہائی کی پھوار سے نت نئے مضامین جنم لے رہے ہوں۔گزشتہ خط جب میں نے آن لائن کیا تو میں تھوڑا سا گبھرایا ہوا تھا۔کیونکہ میں نے بنا پوچھے ادب میں رنگی اور شاعری کے گیان میں گم جس خوبصورت عورت کے غائب ہوجانے والے سلو کے لئے آہیں بھرنے کا زکر کیا تھا تو اس نے مجھے اچانک انباکس میں میسج کرکے کہا “خوبصورت خط لکھا ” ہے اور ایک کمپوزنگ کی غلطی کو درست کرنے کو بھی کہا تو میں اچانک سے سرشاری سے بھر گیا اور مجھے یہ بھی اندازا ہوا کہ وہ مرے خطوط اور تحریریں بغور پڑھتی ہے۔ساری،تمہیں پتا ہے کہ ہمارے ہاں ایسی شاعرات اور ایسی ادیب انگلیوں پہ گنے جاسکتے ہیں جو جینوئن ہوں اور ان کا حسن بھی کمال کا ہو۔وہ خاتون شاعرہ ایسی ہی ہیں۔مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ لوئر مڈل کلاس سے ابھر کر آنے والی نوجوان عورتیں ہماری اشراف فیمنسٹ عورتوں سے کہیں زیادہ ریدیکل اور جینوئن ہیں۔لیکن ہوسکتا ہے میں دور بیٹھا ہوں اور مرے اس تاثر میں مرے تخیل کی کاریگری زیادہ ہو۔اس لئے تم زیادہ بہتر  بتاسکتی ہو۔ساری گزشتہ خط اس ٹیلی کام میں جاب کرنے والی لڑکی نے بھی پڑھا تھا اور اسے پڑھنے کے بعد اس نے مجھے لکھا کہ کیا ساری کی آنکھوں کی گہرائی کم پڑگئی ہے جو تم مری آنکھوں کی گہرائی میں ڈوب جانے کی تیاری کررہے ہو؟مرے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔آج اس کا فون آیا تھا اور میں اس غلط فہمی میں مبتلا ہوا کہ وہ کہیں نہ کہیں مجھے مس کررہی ہے لیکن اسے تو ایک ناپاک بادشاہت کے سیاہ کارناموں کی فہرست درکار تھی۔اور اس ضرورت نے اسے مجھے فون کرنے پہ مجبور کردیا کیونکہ وٹس ایپ کال پہ ،میں دستیاب نہ تھا اور فون نمبر بھی کوئی اور لگ رہا تھا۔بھلا ایک ٹیلی کام کمپنی میں کام کرنے والی کے پاس سموں کی کوئی کمی ہوگی۔اس لڑکی کا کہنا ہے کہ مرا آرٹ اسے برتھولیٹ بریخت کی طرح سادگی ، سٹائل ، حساسیت ، فارم اور خوبصورتی سے بھرا لگتا ہے تو میں بے اختیار ہوکے سوچنے لگتا ہوں کہ کیا واقعی اسے آرٹ کی سمجھ بھی ہے کہ نہیں؟یہ بات اگر وہ جینوئن حسین وجیمل شاعرہ نے کہی ہوتی تو مجھ پہ شادی مرگ طاری ہوجاتی ہے۔مجھے ایسے لگنے لگا جیسے مرے اندر سے کوئی چیز مرتی جارہی ہے اور میں اپنے اردگرد لوگوں کے بارے میں بہت منفی سا ہوتا جاتا ہوں۔اردگرد کی فضا مجھ پہ اثر کرنے لگی ہے اور مجھے شناختوں کے باب میں شناخت کے تھونپ دئے جانے کا عمل خو‌فزدہ کرنے لگا ہے۔یہاں پیرس میں ایک مسلمان نام کے تارک وطن کو بار بار یہ بتانا پڑتا ہے کہ اس کا انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ صلح کل پہ یقین رکھتا ہے۔اور مغرب کی سیکولر اقدار پہ اس کا یقین ہے۔اسے ایک نسل پرست نیشنل ازم کا سامنا ہےجبکہ وہاں تمہارے بقول شاعروں، ادیبوں کو یہ وضاحت دینی پڑتی ہے کہ وہ بلاسفیمر نہیں ہیں۔لیکن روشن فکر ادیبوں کے چہرے پہ بلاسفیمی کی کالک ملی جانے کا سلسلہ ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں جب کوئی ادیب اپنی کتاب لیکر آئے گا تو دیباچے میں وہ ایمان مجمل و ایمان مفصل کی گواہی پہ مبنی جملے لکھے گا اور کتاب کا فارمیٹ مولویوں کی ہدائیت کی روشنی میں مرتب کرے گا اور اسے المنقذ من ضلال کا نام دے گا۔نسیم حجازی کے نام کتاب کا انتساب کرے گا اور جہادی و تکفیری سوچ کو اپنا رہبر قرار دے گا اور ایسا کرنے کے بعد اسے کم از کم بلاسفیمی کے الزام سے چھٹکارا مل جائے گا۔تھک سا گیا ہوں اور نہ چاہتا کہ یہ تھکن مرے بدن سے اس خط کے اندر الفاظ کے زریعے سے منتقل ہوجائے۔اس لئے اجازت۔

فقط تمہارا

ع۔ح

پچیسواں خط

15826731_1433538856691560_2833077945322300111_n

 

 

پیاری ساری

آج تھوڑی سی فراغت ملی تو تمہیں یہ خط لکھنے بیٹھ گیا ہوں۔تم نے مجھ سے شکوہ کیا تھا کہ میں آج کل کہاں مصروف ہوں کہ تم سے فیس بک میسج، وٹس ایپ کال اور ایس ایم ایس کا جواب تک دینے کا ٹائم نہیں ملتا۔تم نے مجھے یہ بھی شکوہ کیا کہ وہ پٹھان لڑکی کی آنکھیں تمہیں کیا پسند آئیں تو ہم سے باتیں کرنا بھول گئے۔تم نے مرے اندر ایسے عورت پرست نظریات بھرے ہیں کہ یہ نہ ہوتے تو مجھے تمہارا مرے حوالے سے ایسے احساسات ظاہر کرنا اپنے نفس کی تسکین کے واسطے بہت من بھائے لگتے لیکن نجانے مرے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا۔کم از کم اپنی ساری کو میں ایسا خیال نہیں کرتا کہ وہ مجھے کہیں کسی کی قیمت پہ تعلق خاطر بنانے والا سمجھے۔لیکن شاید ہم میں کہیں نہ کہیں پازسیسونیس ہوتی ہے جس کی جتنی بھی اصلاح کریں کمبخت کہیں نا کہیں باقی رہ ہی جاتی ہے۔تم نے مجھے بتایا کہ وہاں پاکستان میں ایک دم سے کئی ایک لوگ غائب ہوگئے ہیں اور یہ اب مسنگ پرسنز میں بدل چکے ہیں۔اور میں تمہیں لکھنے والا ہی تھا کہ بہادری سے اس بارے میں لکھو کہ تم نے فوری لکھ ڈالا، ” یہ تمہیں اس لئے نہیں بتارہی کہ تم مجھے سوشل ميڈیا سے غائب ہونے اور اپنا سیاسی کام ختم کرنے کی نصحیت کرنے لگ جاؤ”۔میں کافی حیران ہوں کہ پاکستان میں لیفٹ اور ترقی پسند کہلانے والے ایسے کیوں کہنے لگ گئے ہیں؟کسی نے ایسی باتیں اس وقت نہیں کہیں تھیں جب حسن ناصر کو شاہی قلعے کی جیل میں مظلومیت کے ساتھ مار دیا گیا تھا۔زیادہ سے زیادہ گرفتاری سے بچنے کے لئے منجھے ہوئے کیڈرز کو اپنا کام زیر زمین کرنا ہوتا ہے لیکن اگر سبھی یہ راستہ اپنالیں گے تو کیسے کام ہوگا؟خوف،ڈر، اندیشہ اپنی جگہ حقیقت ہوتے ہیں لیکن ان کو اس سے آگے بڑھ کر آبسیشن یا وہمہ بنالینا ٹھیک نہیں ہوتا۔اینٹی سٹیٹس کو خیالات کبھی بھی آسانی سے معاشرے میں نفوز نہیں ہوسکتے۔اور جہاں رجعت پسندی عروج پہ ہو وہاں تو اس طرح کے خیالات کو صرف ریاست سے ہی نہیں بلکہ معاشرے میں نیچے  تک سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پاکستانی سماج اس کی آئیڈیل شکل ہے۔میں تمہیں ایک عجیب اتفاق کی بات بتاتا ہوں۔جب رات کو تمہارا میسج مجھے ملا کہ فلاں ،فلاں شاعر، ادیب ، استاد اور سماجی کارکن کو اٹھالیا گیا ہے تو اسی سمے میں ، میں دستوفسکی بارے پڑھ رہا تھا۔تمہیں پتا ہے کہ وہ اپنی جوانی میں ایک ایسے انقلابی گروہ کے ساتھ مل گیا تھا جو روس کے بادشاہ زار کے چنگل سے مزارعوں کو آزاد کرانا چاہتے تھے اور اس زمانے میں آزادی صحافت کا نعرہ لگارہے تھے۔یہ سمجھ لو کے اس زمانے میں جاگیرداری کی مخالفت کرنا اور پریس کی آزادی کا نعرہ لگانا ایسے ہی تھا جیسے آج کوئی پاکستان میں سی پیک کی مخالفت کرے،بلوچ جبری گمشدگیوں کو ریاست کی کالونیل ترقی کا شاخسانہ قرار دے اور ملک کے ریموٹ ایریاز کو چھاؤنیوں میں بدل دینے کے خلاف اشعار کہنے لگے۔یا یوں سمجھ لو کہ یہ ایسے لوگوں کا گروپ تھا جس نے معاشرے میں پھیلی مذہبی رجعت پسندی، ملائیت ، پنڈت گیری اور پادرشاہی کے خلاف علم بغاوت بلند کرڈالا ہو۔یہ پورا گروہ باغی قرار دے دیا گیا۔ان کو ریاست کے خلاف یعنی زار کے خلاف سازش کا مرتکب قرار دیا گیا اور ان کو قید میں ڈال دیا گیا۔پانج پاؤنڈ وزنی زنجیر دستوفسکی کے پاؤں میں پڑی ہوئی تھی اور اسے ایک ایسے بیرک میں سات ماہ تک رکھا گیا جس کی کھڑکی پہ ایسا پینٹ کیا گیا تھا جو روشنی کی ایک کرن اندر آنے نہیں دیتا تھا۔یہ قید تنہائی تھی۔اور کل چار سال اسے اس بھاری زنجیر کے ساتھ پیٹر اینڈ پال فورٹریس میں رہنا پڑا۔یہ ادیبوں کو قید تنہائی میں ڈال دینے کی رسم بہت پرانی ہے۔اور ان کو روشنی سے محروم کردینے کی بھی اور باندھ کر رکھنے کی بھی۔یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے ان کے دماغوں کی روشنی گل ہوجائے گی اور بغاوت کے استعارے ان کے ہاں مرجائیں گے تو یہ ان کی بھول ہوتی ہے۔دستوفسکی نے اپنی جیل کی یادوں کو یاد کرتے ہوئے کہیں لکھا تھا کہ جس بیرک میں وہ قید کیا گیا وہاں اس نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے ہاتھ اپنے پیروں کی زنجیروں سے ٹکراتا اور اس سے پیدا ہونے والی جھنکار سے وہ بیرک میں پھیلی خوفناک خاموشی کو توڑنے کی کوشش کرتا تھا۔اور پھر لکھا کہ جب پہلی بار وہ بیرک میں آیا تو فرش پہ ہزاروں رینگتے بھونرے اسے اپنے آپ سے بالکل الگ، ڈرادینے والے خوفناک لگے لیکن دھیرے دھیرے وہ ان سے مانوس ہوگیا اور ان کے قریب آگیا۔جن کے دماغ علم کی روشنی سے روشن ہوتے ہیں اور گیان جن کی روحوں میں سفر کرتا ہے تو وہ زنجیروں کی جھنکار ، رینگتے بھونروں اور یہاں تک کہ قید خانے کی تاریک دیواروں تک کو اپنے آپ سے ہم اہنگ کرلیتے ہیں اور تنہائی کے جہنم میں ایک گلزار پیدا کرلیتے ہیں۔یہ صفحے سے باہر نکال کر نظم کو اردگرد میں پھیلانے جیسی وہی کوشش ہے جس کے کارن وہ شاعر،استاد، تھیڑ ڈائریکٹر اٹھالیا گیا۔دستوفسکی جیل میں ظاہر میں کیسے لگتا تھا؟ ایک نوجوان گارڈ کو جب پتا چلا کہ دستوفسکی روس کا معروف ادیب وہی ہے جو کبھی اس جیل میں بند تھا جہاں وہ تعنیات تھا تو اس نے بڑی حیرت کا اظہار کیا کہ کیسے ایک زرد سا، دبلا پتلا،گہرے سرخ داخوں سے بھرے چہرے والا بس ایویں سا ہی آدمی کیسے اتنا بڑا ادیب ہوسکتا ہے؟ اسے تو تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھوڑے اداکار سے سرخ و سپید ایلیٹ کلاس کے لوگ شاعر و ادیب لگتے تھے۔یہ کہاں سے آگیا تھا۔میں یہ سب پڑھ رہا تھا جب کسی طرح کی سکن الرجی کا شکار چہرے والا امیج تم نے مجھے بھیجا اور کہا یہ ہے وہ صاحب طرز شاعر و ادیب جسے اٹھالیا گیا ہے۔یہ زمین زادے،مٹیالے رنگ والے دستوفسکی ہی زار کی شاہی کو لرزا دیتے ہیں۔دستوفسکی کو دوران قید کسی بھی کتاب کو پڑھنے کی اجازت نہ تھی بس انجیل مقدس کی اجازت تھی۔اور قلم و کاغذ تو فراہم کرنا بڑا جرم تھے۔ایک مرتبہ جیل کے ایک ہسپتال کے ڈاکٹر نے اسے کاغذ کی شیٹ اور قلم دیا تھا جب وہ کچھ دیر کے لئے وہاں داخل کرایا گیا تھا۔آج کے زمانے میں لیپ ٹاپ پہ قبضہ کیا جاتا ہے۔انٹرنیٹ سہولت چھین لی جاتی ہے۔اور ایسے کی بورڈ پہ انگلیوں کا تحرک روکنے کا سامان کیا جاتا ہے تاکہ نظم نہ لکھی جاسکے، اسے ریکارڈ نہ کیا جاسکے، لائیو آپشن استعمال نہ ہو اور کوئی نظم آگ لگانے نہ چل نکلے۔ویسے تمہیں یہاں ایک بات بتاؤں کہ سچی بات ہے کہ میں اس سکن الرجی کے شکار باغی سے شاعر سے جیلس ہوگیا ہوں۔کیونکہ جب سے یہ غائب ہوا ہے وہاں پاکستان کی حسین ترین اور باغی خیالات کی عورتیں ہی نہیں بلکہ اپنے شعروں اور ادبی کام میں ڈوبی بڑی من موہنی صورتیں رکھنے والی عورتیں بھی اس ہیش ٹیگ سیو فلاں کے سیٹس اپ لوڈ کرتی ہیں اور پھر اس کی تعریف کرتیں ہیں۔ایک عورت جس کے حسن سے زیادہ میں اس کی انگریزی شاعری اور پھر اس کے انگریزی شاعری و نثری ادب کے بہترین زوق سے متاثر ہوں اور جب کبھی اس کا شاذونادر ایک لائک مری کسی پوسٹ پہ مل جائے تو ميں خوشی سے پھولا نہیں سماتا اس نے تو کافی شاپ پہ اس غائب ہوجانے والے شاعر کے ساتھ اپنی بیٹھک کی تصویر بار بار شئیر کی اور پھر ان ٹھرکی بابوں کو بھی سخت جھاڑا جو اس کی ہر ایک پوسٹ پہ لائک اور کمنٹ دینا کار ثواب جانتے تھے تو مجھے سچی بات ہے بہت رشک آیا غائب ہوجانے والے شاعر پہ۔ایک بار تو من میں آئی کہ غائب کرنے والے سامری جادوگروں سے رخواست کروں کہ مجھے بھی اٹھا لے جائیں تاکہ حسین آہیں مرے لئے بھی نکلیں۔لیکن پھر یہ سوچ کر چپ کر گیا کہ ہر ایک کی ہجرت کو مدینہ کب ملتا ہے۔اور سامری جادوگر پاکستان سے بھلا یہاں پیرس مجھے غائب کرنے کیوں آئیں گے۔ویسے مجھے وہ ٹیلی کام میں کام کرنے والی جرمنی میں رہائش پذیر لڑکی نے پیغام دیا تھا کہ آرام سے رہیں کہیں تم غائب نہ ہوجانا۔میں سوچتا ہوں کہ اپنا ملک چھوڑ آنا بلکہ اپنے ملک سے بھاگ لینا اور ایک پناہ گزین ہوکر ، وطن سے بے وطن ہونا ایک طرح سے غائب ہونا ہی ہوتا ہے اور اس ارادی فعل کے اندر جبر ہوتا ہے اور یہ بھی جبری گمشدگی ہی ہوتی ہے۔اور مرے جیسے کئی جبری گمشدہ یہاں ان سردیوں کی برفاب راتوں میں صرف اداس ہی نہیں بلکہ وحشت زدہ پھرتے ہیں۔ساری! یہ مرا فلیٹ سنٹرلی ہیٹڈ ہے اور یہاں باہر چل رہی سرد ہوا کا نام و نشان تک نہیں ہے لیکن اندر لگتا ہے روح تک ٹھٹھر گئی ہے اور تمہاری کمی اس سردی میں اور اضافہ کرڈالتی ہے۔تم سے اتنے دن رابطہ نہ ہونے کی ایک وجہ تو یہ تھی مجھے لپ سٹک کے ایک برانڈ کی ایڈ پہ ایک تخلیقی جملہ تشکیل کرنا تھا اور میں اسے ایک ہفتے سے نہیں کرپارہا تھا۔اور پھر یہ جملہ مجھے کل رات یہاں فلیٹ واپس آتے ہوئے گلی میں کھڑی ایک کال گرل سے مل گیا۔اس نے کہا

Le sourire sur mes lèvres

Il ne mourra sûrement jamais

Comme j’attends ici pour vous

Jusqu’à ce que vous êtes à mes côtés.

مسکان مرے ہونٹوں کی

کبھی نہ مر پائے گی

میں کھڑی یہاں منتظر  رہوں گی اس وقت تک

جب تک مل نہ جاؤ تم

میں نے اسے یوں بدل ڈالا ہے، ” مسکان مرے ہونٹوں پہ چمکنے لگی ہے۔ بس یہ ایڈورا لپسٹک کا کمال ہے”۔اور میں نے اس کال گرل کو پوری نائٹ کے پیسے دے ڈالے اور کہا کچھ اور کہو۔میں اس کے ساتھ وہیں گلی میں ایک کونے میں زمین پہ بیٹھ گیا تھا۔اتنی سردی میں اس نے برانڈی کی بوتل جیکٹ سے برآمد کی اور اس کے چند گھونٹ پینے کے بعد مجھے

اس نے کہا بہت سردی ہے تم بھی چند گھونٹ بھر لو تو سوچا جب پہلی توبہ برلن میں توڑ ہی دی تو یہاں اس برفاف موسم میں دوسری بار پینے میں کیا حرج ہے سو دو گھونٹ پینے کا مجرم ٹھہر گیا اور پھر اس نے کافی شعر سنائے اور مجھے ایک نظم کے مصرعے یاد رہ گئے

Tu n’as peut-être pas été mon premier amour

Mais vous avez été l’amour qui a fait

Tous les autres amours

Irrévérencieux

تم مرا پہلا پیار نہیں ہو

لیکن تمہارا پیار ہے جس نے دوسری ساری محبتوں کو

غیر متعلق کرڈالا ہے

اس سے جب میں نے جانے کی اجازت لی اور جاتے جاتے اس سے پوچھا کہ اس نے یہ سب کہاں سے سیکھا تو اس نے کہا کہ وہ لٹریچر کی اسٹوڈنٹس ہے، بارسلونا سے آئی تارک وطن ہے، ایک پارٹ ٹائم جاب اس کا خرچہ پورا نہیں کرتی تو پارٹ ٹائم جسم فروشی کرتی ہے۔یہ کہہ کر چلتی بنی۔اور مرے سامنے سرمایہ داری کی ایک اور بری شکل کا نشان چھوڑ گئی۔تم سے رابطے کا فقدان مرا اپنے تخلیقی ذہن سے لپ اسٹک کے لئے ایڈ بنانے کے لئے مناسب سے فقرے ڈھونڈنے کی وجہ سے تھا تاکہ مری جاب برقرار رہ سکے۔

فقط تمہارا

ع۔ح