منافق کمیونسٹ۔تیسرا حصّہ

 

 

گیاتری مجھے اس سمے پاگل لگ رہی تھی ۔

اس نے کتاب

When I hit you

اٹھائی اور پڑھنا شروع کردی:

میرا باپ فون پہ:

“وہ تمہیں مار رہا ہے؟ حرام زادہ۔آہ،میری بچی۔میں خیال میں اسے تمہیں مارتا دیکھ رہا ہوں۔جس قدر ہو اس سے ٹکراؤ سے بچو۔ہم کر بھی کیا سکتے ہیں؟ہم اس سے بات کرسکتے ہیں اور تمہاری طرف داری کرسکتے ہیں لیکن وہ اس سے یہ سمجھے گا کہ سارا خاندان اس کے خلاف ہوگیا ہے۔اور یہ اسے اور تمہارے خلاف کردے گی۔تم تنہا پڑگئی ہو۔ہاں۔تو اگر ہم اس بارے اس سے بات کریں گے،تو ہمیں جھوٹ موٹ اس کی طرف ہونا پڑے گا۔لیکن اس سے وہ اپنے آپ کو بالکل ٹھیک سمجھ لے گا،اور وہ تمہیں اور زیادہ کچلے گا۔ہماری مداخلت تمہیں کوئی فائدہ پہنچانے والی نہیں ہے۔لیکن یاد رکھو،ہم تمہارے ساتھ ہیں۔اپنے دانت بھینچ لو اور اس کے باہر جانے کا انتظار کرو۔اسے بتانا کہ میں نے اسے سلام بھیجا ہے۔”

میں اپنے باپ کا مشورہ سنتی ہوں:

“اپنی زبان پہ قابو رکھو۔وہ تمہارا پتی ہے،نہ کہ تمہارا دشمن۔”

” پلٹ کر جواب مت دو۔تم جو کہہ دوگی وہ واپس لوٹ کر نہیں آئے گا۔”

“تمہار ے لفظوں سے لگے زخم کبھی بھریں گے نہیں،وہ تم دونوں کے درمیان سمجھوتہ ہونے اور شانت ہوجانے کے بعد بھی لمبے عرصہ تک رہیں گے۔”

“دو چار لڑائیاں ہوں گی۔وہ اپنے آپ سے نہیں لڑسکتا۔تنہا لڑنا اس کی ساری توانائی نچوڑ لے گا۔

” زیادہ باتیں مت کرو۔مسلسل بولنے سے تاریخ میں کچھ بھی نہیں بدلا۔”

“تمہیں سمجھ نہیں آتی کیا؟خاموشی سونا ہے۔”

میں ناقابل برداشت خاموشی کی اداسی پہ چڑھ جاتی ہوں۔اس کی آہستگی میرے بازؤں کے گرد لپٹ جاتی ہے،میری ساڑھی کی سلوٹوں کے اندر اس کی شرم چھپ جاتی ہے۔اسے ایک وعدہ بناڈالتی ہے،گویا جیسے میری زندگی اس پہ ٹکی ہو،گویا میں منگلور میں ایک بیوی نہ ہوں لبکہ کسی جگہ کی نن ہوں،الگ تھلگ کردی گئی اور اس کی خاموشی سے چمٹی ہوئی ہوں دنیا کے ہونے کی منطق بنانے کے لئے۔

خاموش رہنا ساری باہمی بات چیت کو سنسر کرنا ہے۔خاموش رہنا اپنی انفرادیت کو کھرچ ڈالنا ہے۔خاموش رہنا اپنے آپ کو کوڑے مارنے جیسا عمل ہے کیونکہ یہ ایسے ہے کہ جب لفظ مجھ سے ملنے آئیں، اپنی موجوددگی کے ساتھ میری طرف سیلاب کی طرح دوڑیں،میرے لبوں کو بوسہ دیں،اور میں اپنی زبان سے ان کو الگ کرنے سے انکار کردوں۔

میں خود بھی کسی چیز کو اجازت نہیں دیتی ڈومیسٹک کی ضرورتوں سے زیادہ کسی چیز کو۔سوالات اس بارے میں کہ میرے شوہر کو کیا کھانا ہے،کب اسے جاگنا ہے،کیا بجلی کا بل ادا ہوچکا؟کم سے کم انٹریکشن/تفاعل ہماری شادی کو قریب قریب دکھاوے میں بدل چکا ہے۔وہ اس لائن سے آگے نہیں بڑھتا۔

میں نامہربان ہوتی ہوں جب وہ یہ فرض کرتا ہے کہ یہ خاموشی میری شکست سے نکلی ہے۔وہ اسے فتح کی نشانی سمجھتا ہے۔وہ میری حماقت سمجھ کر،اور اسے سننا برداشت کرکے اور آخرکار میرے احساسات تک آکر میری تعریف کرتا ہے۔میں اس کے دعوے کو نہیں جھٹلاتی۔میں ان کو کسی بھی طرح سے قبول بھی نہیں کرتی۔میں بس خالی نظروں سے اسے گھورتی ہوں،اور غیر حاضر دماغی سے اس کی طرف دیکھ کر سر ہلاتی ہوں۔

اسے جھنجھلاہٹ ہوتی ہے کہ وہ فتح کی ٹرافی اٹھائے چل نہیں سکتا۔وہ میرے بزدلانہ پن کو بچگانہ کہہ کر ایک طرف رکھ دیتا ہے،اور اس بات پہ ٹکا رہتا ہے کہ جلد یا بدیر،میں اپنی اصلاح کروں گی اور اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگتوں گی۔وہ اس سے زیادہ مجھے دھکیل نہیں سکتا،تو وہ پسپا ہوجاتا ہے۔

میری خاموشی ہم پہ ایسے چھاجاتی ہے جیسے نا رکنے والی بارش۔یہ روز مرہ کی بوریت کو ساکت کردیتی ہے۔اور یہ ہمیں ہمارے اپنے چھوٹے چھوٹے گڑھوں میں پریشان چھوڑ جاتی ہے۔

میں اس مختصر تمہید سے لطف اٹھاتی ہوں۔میری خاموشی ایک ان دیکھی ڈھال بن جاتی ہے۔وہ ہر طرح کے ہتھکنڈے اور چال سے مجھے دوران گفتگو مشتعل کرکے اس کے اندر گھسنے کی کوشش کرتا ہے،لیکن ناکام رہتا ہے۔وہ خود اپنے لفظوں کو سننا چھوڑ دیتا ہے،اپنے دلائل کو پھر سے تعمیر کرتا ہے اور اپنا ہی غیظ و غضہ چباتا ہے۔

وہ اسے “مسترد کیے جانا” پڑھتا ہے۔وہ بہت تیزی سے میری بازی مجھ پہ الٹاتا ہے۔وہ مجھ پہ اپنی سوچوں کی دنیا میں گم رہنے کا الزام لگاتا ہے،ایک دنیا جہاں میں اپنے سابقہ “یاروں” کے ساتھ رہ رہی ہوں،ایسی دنیا جہاں مجھے چھوڑ دیا گیا ہے۔وہ مجھ سے دوہری زندگی ترک کرنے کو کہتا ہے اور مجھے بتاتا ہے کہ اگر میں یقین رکھتی ہوں کہ میں اندال (ایک بھگتی دیوی) ہوں،جو کسی تھیرومل(وشنو دیوتا) کے ساتھ رہ رہی ہوں،تو میری اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔وہ مجھے دماغی امراض کے ہسپتال میں چیک کرانے کی پیشکش کرتا ہے۔

میں اس کے الزامات پہ بات کرنے پہ بھی تیار نہیں ہوں،میں ایک غیرمعقول جواب کے نتائج و عواقب کا سامنا کرنے پہ بھی تیار نہیں ہوں۔میں اپنے دفاع میں کچھ بھی نہیں کہتی۔اس سے بات کرنک،اسے میرے خلاف غصّے کو دعوت دینا ہے،جو اس کے غضب میں اضافہ کرے گا بس۔وہ کسی بھی صورت سننے کے موڈ میں نہیں ہے۔

وہ میرے پیٹ میں لات مارتا ہے۔”اسے ثابت کرو!” وہ زور سے چلاتا ہے جیسے میں کم سنتی ہوں۔”ثابت کرو،کہ تم میری پتنی ہو۔مجھے ثابت کرو کہ تم کسی دوسرے مرد بارے نہیں سوچ رہی ہو۔یا میں اسے تمہارے لئے ثابت کروں گا۔”

(جب میں تمہیں مارتا ہوں۔اقتباسات)

سچی بات ہے میں اسے سنکر سناٹے میں آگیا تھا۔اور کافی دیر تک میرے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلا۔مگر پھر میں نے سوچا کہ مینا کنڈاسوامی ہمیں ایک خاص ٹرانس میں رکھتی ہے، یہ حقیقت کا ایک پہلو تو ہے مگر ساری حقیقت تو نہیں ہے نا۔کیا سوامی اس سے ہٹ کر بھی کچھ ہے؟

 ” ٹھیک ہے ایک منافق کمیونسٹ کے ساتھ ازواجی زندگی میں زندگی کے بدترین تجربے کو بیان کیا جائے، لیکن ساری زندگی کا چہرہ اسے بنادیا جانا کہاں تک ٹھیک بات ہوسکتی ہے؟ اور تم بھی اپنے اس سیاہ ترین تجربے کے زیر سایہ کیوں زندگی گزار رہی ہو۔کیا یہ ہندوستانی سماج کی پوری تصویر کشی ہے؟”

میں نے اس سے پوچھا۔

جواب میں وہ قہقہے لگا کر ہنسنے لگی۔

تم مردوں کی یہ پرانی عادت ہے۔عورتوں کی وجودی صورت حال پہ جب کوئی خوفناک حقیقت تمہارے سامنے لائی جاتی ہے اور ایسی حقیقت جسے تم ٹھکرا نہیں سکتے ہو تو پھر تم اس کی خوفناکی ، اس کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہو،بلکہ اس بات کا الزام دھرنے لگتے ہو جو اس حقیقت کو سامنے لانے والی عورت نے کبھی کی نہیں ہوتی۔

“تمہارے ہاں ایک تاریخ ہے ان عورتوں کو جھٹلانے اور بے عزت کرنے یا ان کے کام کو غیر اہم بنانے کی جنھوں نے پدرسریت میں ڈوب کر اور پدرسریت کے زیر اثر ابھرنے والی مذہبی روایات و اسلوب سے ہٹ کر اپنی راہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔مردوں کی تاریخ ۔مردوں کا سماج چاہے وہ یونانیوں کے کاہنوں کا سماج تھا،قرون وسطی کے روما مسیحیت کا سماج تھا یا اسلام آنے کے بعد کا سماج تھا یا اس سے پہلے بت پرستوں پہ مشتمل قریشی اشرافیہ کا سماج تھا یا قیصر و کسری کا سماج تھا یا ہندؤ منوسمرتی سماج تھا یا آج کا مملکت خداداد پاکستانی سماج ہو یا سیکولر نیشنلسٹ یا پھر زعفرانی نیشلسٹ ہندوستانی سماج ہو۔تمہارے ہاں فاطمہ جناح سے لیکر بیگم نصرت بھٹو،بے نظیر بھٹو ،اندھی عورت جو ریپ کے نتیجے میں حاملہ ہوئی صفیہ یا آسیہ یا عاصمہ جہانگیر یا پھر کوئی اور عورت سب کی حقیقتیں چاہے ملالہ کی حقیقت ہو یا پھر ریحام خان کی حقیقت ہو اور پھر چاہے بشری مانیکا سب عورتوں کی حقیقت تمہیں پروپیگنڈا ، جھوٹ اور غیر ملکی سازش لگتی ہے۔تم پدرسریت میں ڈوبے مذہبی یا قبیل داری جنون کے ساتھ ان پہ حملہ آور ہوجاتے ہو۔اور ہمارے ہاں بھی ایسے ہی حملے ہوتے ہیں۔گوری لنکیش تمہیں یاد ہے نا۔کیا لبرل اور کیا کمیونسٹ اور کیا مولوی مرد تم سب کے سب “ہاتھ سے نکل جانے والی عورتوں” کو عبرت کا نشان بنانے میں بہت مستعدی دکھاتے ہو،”

تمہیں پتا ہے کہ مردوں کی پدرسریت کے زھر میں بجھے تیروں کے لگنے کا اثر کیا ہوتا ہے؟

مینا کنڈاسوامی کو کہنا پڑجاتا ہے:

‘I don’t know if I’m idiotic – or courageous’

تمہارے حملے اس جیسی عورتوں کو الجھا دیتے ہیں اور ان کو اپنے تخلیقی کام کو بہادری یا حماقت قرار دینے میں مشکل ہونے لگتی ہے۔

تمہیں

The Gypsy Goddess

پڑھنے کی ضرورت ہے۔خانہ بدوش دیوی ۔۔۔۔۔کیونکہ

تمہیں پتا چلے گا کہ مرد شاؤنسٹ اور مرد پرستی کے زیر اثر سماج میں نہ صرف مرد بلکہ عورتیں بھی بہت بڑی تعداد میں

Fucking Exhibitionist and voyeurs

ہوجاتی ہیں۔دوسروں کو ننگا دیکھ کر اور دوسروں کو مبتلائے شہوت حرکات و سکنات کرتے دیکھ کر محظوظ ہونے والے لوگوں کا سماج۔۔۔سالے

 Fucking Voyeurs

” فیس بک نے ہمیں گانڈو نمائش پسند اور شہوت نظر فوبیا کا شکار کردیا ہے۔”

مینا کانڈاسوامی نے جب “خانہ بدوش دیوی” پڑھا  تو اس کے ماں باپ اس پہ پہ بہت خوش تھے کہ اس میں کہیں کوئی ‘سیکس سین’ نہیں تھا۔ان کی جانب سے یہ ردعمل دیکھکر کہا کہ میرے اندر خواہش اٹھی کہ میں واپس جاؤں اور اس میں ایک دو باب کا اضافہ کردوں۔

مردپن کے اندر سے جو قدامت پرستانہ ادبی و سیاسی حسیت ہمارے ادبی و سیاسی منظرنامے کا غالب چہرہ بن جاتی ہے، اسے جب کوئی ادیب عورت چیلنچ کرتی ہے اور آہنی چیلنج دیتی ہے تو پھر ہر طرف سے چیخیں نکلنے لگتی ہیں۔یہ بورژوائی/سرمایہ دارانہ فیمنسٹ دانشور، ادیب، انکل سام کے پجاری لبرل شہری اشرافیہ کے جات پات کے اندر کہیں پیوست رویوں کو بے نقاب کرتی ہے۔اور منوسمرتی فیمنسٹ سماج سدھاروں کے سیکولر ازم، سماج وادی مارکسزم کا پول کھولتی ہے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے اور وہ بھی کوئی کناڈا، تامل، ملیالم بولنے والی عورت ۔

” There are great Indian fiction writers. But some become very lazy. Some write the ‘Sari-and-Mango’ novel. People of my age write novels in airports. People of an older generation reminisce about cooking and spices – pandering to the exotic as well as the urban Indian readers. I really did not want to write what was safe or comfortable.”

“بڑے عظیم ہندوستانی فکشن لکھنے والے موجود ہیں۔لیکن کچھ تو بہت گھامڑ ہوجاتے ہیں۔کچھ بس ‘ ساری-اینڈ-مینگو’ جیسے ناول لکھتے ہیں۔میرے ہم عمر ہوائی اڈوں پہ ناول لکھتے ہی۔زرا کچھ پرانی نسل کھانا پکانے اور سپائسیز بارے چیزيں جمع کرتی ہے ۔۔۔ تاکہ شہری ہندوستانی پڑھنے والوں کو غیر معمولی طور پہ لبھا سکے۔میں ہرگز بھی محفوظ اور آسان چیزوں بارے لکھنا نہیں چاہتی”

صحافت اور ادب کے اشراف محفوظ چیزوں کے بارے میں لکھ لکھ کر خوش ہوتے رہتے ہیں۔اور جو کوئی ان کو ان کے محفوظ ٹھکانوں سے کمفرٹ زونز سے باہر نکالنے کی کوشش کرے تو یہ اس پہ ایک ساتھ حملہ کردیتے ہیں۔ خانہ بدوش دیوی 25 دسمبر 1968ء تامل ناڈ کے ضلع تنجور کے ایک گاؤں “کلوینمانی” میں ہوئے ایک بڑے قتل عام کے پس منظر میں لکھا جانے والا ناول ہے۔کمیونسٹ اس گاؤں میں اجرتوں میں اضافے اور انسانی حقوق کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے ایک ہڑتال منظم کرتے ہیں اور اس گاؤں سے شریک ہونے والی چوالیس عورتیں اور بچے زندہ جلادئے جاتے ہیں۔مگر اس واقعے کو اشراف بورژوائی اور انڈین کانگریس کے ساتھ کھڑی سی پی آئی کے کمیونسٹ اشراف چھپانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور آج بھی اس پہ کوئی بات نہیں کی جاتی،جیسے ایک زمانے میں ایم جے اکبر جیسا کمیونسٹ صحافی اور ترقی پسند خوشونت سنگھ جیسا ادیب اندرا گاندھی کی ایمرجنسی اور سکھوں کے خلاف ہوئے آپریشن گولڈن سٹار کی حمایت میں چپ کا روزہ رکھ لیتے ہیں۔جیسے آج کئی لبرل زبان دراز کشمیر ،چھتیس گڑھ پہ خاموش رہتے ہیں۔ایک ہلادینے والی کہانی اور انصاف کے بالکل نہ ہونے کی کہانی اور سسٹم کیسے عام آدمی کے خلاف کام کرتا ہے کو بے نقاب کرنے والی کہانی۔جب اس گاؤں کے کولی نچلی جاتی کے لوگ اس سب کے خلاف نکلتے ہیں تو ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے،یہ سب بیان کرنے کے لئے کسی ناول کو لکھنے کا خیال ادب و سیاست میں قدامت پرست حساسیت کے علمبرداروں کو آتا ہی نہیں ہے۔اشراف کمیونسٹوں کی منافقت سے ماؤوادی کمیونسٹ پارٹی کا ظہور ہوتا ہے۔نکسل باڑی سامنے آتے ہیں۔تو انارکی، نراجیت ، بے راہ روی  اور آج کل دہشت گردی کے الزام لگادئے جاتے ہیں۔

وہ بہت جوش میں بالکل ایسے بول رہی تھی،جیسے وہ جے این یو کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے ایک جم غفیر کے سامنے کھڑی تقریر کررہی ہو۔اور جب وہ تنجور ڈسٹرکٹ کے ایک گاؤں میں 1968ء میں 44 عورتوں اور بچوں کے زندہ جلائے جانے کے قتل عام پہ اشراف لبرل و کمیونسٹوں کی خاموشی کا ذکر کررہی تھی تو میرے ذہن کے پردے پہ اچانک ایک منظر ابھر آیا۔

‘ گھاس پھونس کے جھونپڑوں کو خاکی وردری میں ملبوس چہروں کو نقاب میں چھپاۓ مسلح لوگ آگ لگارہے ہیں،پس منظر میں پہاڑ ہیں جن کے دامن میں درجن بھر جھونپڑیاں ہیں،اور نوجوان، ادھیڑ عمر عورتیں اور بچے ادھر ادھر روتے،پیٹتے، چیختے بھاگتے نظر آرہے ہیں۔اور ان کا جرم کیا ہے؟ ان پہ الزام ہے یہ بلوچ عسکریت پسندوں کو کھانا فراہم کرے ہیں۔”

” ایک اور منظر کہ ہیلی کاپٹر سے چند لاشیں گرائی جاتی ہیں۔جن پہ تشدد کے نشان ہیں۔اور یہ سرکار کی جاری پریس ریلیز کے مطابق دہشت گرد تھے اور علیحدگی پسند عسکریت پسند تھے۔اور ان لاشوں پہ بین کرتی عورتیں کہتی ہیں کہ ان کو ان کے گھروں سے اغواء کیا گیا تھا یہ طالب سیاسی ایکٹوسٹ تھے جو اپنے علاقے سے نکلنے والی معدنیات کے بدلے اپنے علاقے کی ترقی اور نوکریوں کا مطالبہ کرتے تھے۔”

ایک اور منظر

” ایک کاسمو پولیٹن شہر کی ایک انتہائی گنجان آباد کالونی گلستان جوہر،رات کو رینجرز کی وردیوں میں ملبوس لوگوں کا ایک مکان پہ دھاوا، ایک عورت کو چھت سے نیچے گرایا جاتا ہے،اور ایک تیرہ سالہ لڑکا اٹھا لیا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے یہ سب ہندوستانی ایجنٹ ہیں۔”

” ایک اور کاسمو پولیٹن شہر،اور اس کا انتہائی پاپوش علاقہ ماڈل ٹاؤن، پولیس کی بھاری نفری وہاں پہ عورتوں،بچوں، مردوں پہ سیدھے فائر کرتی ہے،دو عورتوں سمیت چودہ افراد موقعہ پہ ہلاک اور 250 افراد زخمی ہوتے ہیں۔مقدمہ الٹا پولیس گردی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پہ قائم ہوتا ہے۔تین سال تک اس پہ ہوئی جوڈیشل انکوائری رپورٹ روکی جاتی ہے۔اور پھر اس پہ اشراف لبرل اور لبرل کمیونسٹ صحافی اور ادیب خاموش رہتے ہیں۔”

” 25 ہزار سے زائد شیعہ ، 45 ہزار بریلوی اور متعدد احمدی، ہندؤ، کرسچن تکفیری فاشزم کی ننگی جارحیت کا نشانہ بنکر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔”

ان سب درگھٹناؤں پہ کوئی ناول ، کوئی افسانہ لکھا نہیں جاتا۔اور اسے نسل کشی و کمتر بنائے جانے کا پروسس بھی خیال نہیں کیا جاتا۔اور میں یہ سب سوچ رہا تھا۔

Advertisements

پس مرگ آنے والے ویلنٹائن ڈے پہ ساری کے نام خط

Broken-Cup-2-121-09-lar1-864x400_c

 

پیاری ساری،

میں نے سوچا تھا کہ “ساری کے نام خطوط” کے سلسلے کے بعد تمہیں کوئی خط لکھنے کی پھر نوبت نہیں آئے گی۔لیکن میرا خیال اس ویلنٹائن ڈے پہ باطل ہوگیا ہے۔میں لاہور سے ابھی ابھی گھر واپس پہنچا ہوں،وہاں بس میں نے ایک ایسی عورت کے جنازے کو کاندھا دیا جس نے “پدریت سریت” کے منہ پہ ایسا طمانچہ رسید کیا تھا کہ جس کی باز گشت آج بھی چاروں اور گونج رہی ہے۔اس کے مرنے کے بعد بھی گرمئی افکار اور خیالات کے جدال میں کمی کوئی کمی نہیں آئی ہے بلکہ درجہ حرارت کچھ اور بڑھ گیا ہے۔تمہیں پتا ہے کہ اس جنازے پہ مردانہ اور زنانہ کندھوں کے صف در صف آپس میں بھڑ جانے پہ سب سے زیادہ خفا وہ ہیں جو نہ تو اس کی مرگ پہ “سوگ” کا حصّہ تھے اور نہ ہی اس جنازے سے ان کی کوئی دلچسپی تھی۔اور وہ بھی جو اس کے مرنے سے پہلے اور مرنے کے بعد “مصدقہ نرک ناری” ہونے کا پتر جاری کررہے تھے جیسے ان کو پرماتما نے یہ سند آکاش سے مہر لگاکر جاری کی ہو۔میں ان حماقتوں پہ اب اور کوئی بات کرنا نہیں چاہتا بس تم میں تھوڑی دیر کے لئے کھوجانا چاہتا ہوں۔تمہیں جب یہ خط لکھنے بیٹھا تو سوچا تھا کہ پہلے حرف سے آخری حرف تک بس محبت اور صرف محبت لکھوں گا۔لیکن مجھے لگتا ہے فرنینڈو پیسوا نے ٹھیک ہی کہا تھا:

“محبتوں کے تمام سندیسے مضحکہ خیز ہوتے ہیں اور اگر وہ ایسے نہ ہوں تو سندیسہ ہائے محبت کیوں کہلائیں؟”

واقعی جب میں نے تمہیں سابقہ خطوط لکھے تھے تو وہ یہ سوچے بنا لکھے تھے کہ وہ کہیں مضحکہ خیز تو نہیں ہیں۔اور اگر اس لمحے یہ سوچ میرے دامن گیر ہوتی تو شاید میں وہ سب کبھی لکھ ہی نہ پاتا جو تمہیں کہنے کا خواہش مند تھا۔اس ویلنٹائن ڈے پہ تمہیں میرا سندیسہ محبت پدرسریت کے منہ پہ زناٹے دار طمانچہ مارنے والی عورت پہنچائے گی۔جب اس کا جنازہ قذافی اسٹیڈیم لايا جارہا تھا اور میں اسے کاندھا دے رہا تھا تو میں نے چپکے سے اس کو پیغام دے دیا تھا اور مجھے اس سے زیادہ تیز رفتار طریقہ تمہیں پیغام پہنچانے کا نہیں لگا تھا۔تم اسے تار سمجھ لینا یا آج کے زمانے کا ٹوئٹ۔کابل میں سنگسار کی جانے والی فرخندہ سنا ہے تمہارے پڑوس میں آکر رہنے لگی ہے۔اسے میرا سلام کہنا۔اور اسے بتانا کہ مرد جاتی کے قالب میں گھٹن کا شکار ایک عورت روح اسے سلام دیتی ہے۔سرخ گلابوں سے نسبت رکھنے والا ویلنٹائن ڈے آج کالے گلابوں کے ساتھ آیا ہے اور خوشی کے ساتھ دکھوں کی مالا پہنے ہوئے ہے اور سوگ کے بادل آسمان محبت پہ چھائے ہوئے ہیں۔ایسے میں تم آکاش میں مجھے نجانے کیوں کالے لباس میں ملبوس نظر آتی ہو۔میں نے تمہاری خواہش کا احترام کرنے کی کوشش کی تھی مگر کیا کروں تمہارے بعد میں گر کسی اور طرف بڑھا بھی تو وہ وجود اتنا شفاف ہوا کہ اس کے اندر بھی تمہی جلوہ افروز نظر آتی ہو اور میں بے بس سا ہوجاتا ہوں۔میں مارچ 2001ء سے بولایا بولایا پھرتا ہوں۔بہار میں خزاں کیسے آتی ہے اس کا پتا کسی کو کیسے چلے جب تک وہ آغا خان کے کینسر وارڈ میں ایک اذیت بھری مسکان کے ساتھ کسی کو ہمیشہ کے لئے جاتا نہ دیکھ لے۔کہتے ہیں پدر سریت کو طمانچہ رسید کرنے والی عورت کی دماغ کی شریان پھٹ گئی تھی اور تمہاری۔۔۔۔۔۔۔ تو ساری شریانیں ایک ایک کرکے پھٹ گئی تھیں اور تم نے ایسے میں مسکرانے کی کوشش کی تھی اور وہاں برین ہیمرج سے مرنے والی وہ عورت بھی کہتے ہیں ہوش کھونے سے پھیلے سٹریچر پہ مسکرانے کی کوشش کررہی تھی۔میں ساری عمر ایسے مناظر سے بچنے کی کوشش کرتا آیا ہوں مگر بار بار اس منظر کو اپنے سامنے پاتا ہوں۔آج بھی آنکھیں جل رہی ہیں۔محبت کا خط لکھنے بیٹھا ہوں مگر ایسے الفاظ امنڈکر آرہے ہیں جو لو لیٹر کو اوبیٹیوری بنارہے ہیں۔محبت آسیب ہی کیوں بنتی ہے اور ہمیں مجنون کیوں کرڈالتی ہے؟ ذرا پرماتما سے پوچھنا تو سہی۔کیا یہ بات ٹھیک ہے کہ وہاں پرش پرماتما سے آواز مستعار لیکر محو کلام ہوتے ہیں اور پرماتما پرشوں کے لہو سے اپنے درد کو رسنے کا راستا مہیا کرتا ہے؟ میں تمہارے بارے میں سوچنے کے عمل میں بھی اس نرک میں جلنے والی روحوں بارے سوچنے کیوں لگ جاتا ہوں؟ کیا میں بھی مضحکہ خیز ہوچکا ہوں۔ویسے یہاں کچھ لوگوں نے حیا کو محبت کے مقابل لاکھڑا کیا ہے اور وہ فروری کے اس خاص دن کو “یوم محبت” کی جگہ “یوم حیا” کہنے پہ اصرار کرتے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑے گا۔مجھے تو محبت اور حیا دونوں ہی غیر منفصل (نہ الگ ہونے والی) لگتے ہیں۔ہاں تمہیں یہ بتانا تھا کہ وہ جس میں تمہیں تلاش کرنے کی کوشش کررہا تھا وہ بول پڑی ہے اور اس کی آواز میں سارا ردھم تمہارا ہے اور لوچ بھی تمہاری جیسی ہے۔کیا یہ بھی مضحکہ خیز ہے؟میں شرط لگا کر کہتا ہوں کہ جب وہ سامنے آئے گی تو بالکل تمہارا مظہر ہوگی،تمہارا عکس ہوگی۔میں اسی لئے تو جو خط لکھتا ہوں اس کی ایک نقل تمہاری آواز کا ردھم رکھنے والی کو ارسال کردیتا ہوں۔کیا میں ٹھیک نہیں کرتا؟لوگ تمہارے نام لکھے خطوں میں قاضی عبدالغفار کی لیلی،اختر شیرانی کی صفیہ،کافکا کی میلینا ، سارتر کی سیمون کو تلاش کرتے ہیں اور کچھ تو اسے فیض صاحب کے دريچوں میں گڑی صلیبوں میں تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔جبکہ میرے حلقے کے کچھ دوست حیدر جاوید سید مرشد کی “دل و جان کی بستیاں” میں تلاش کرنے لگتے ہیں۔اب بھلا ان خطوں میں اس طرح کی تلاش سے کسی کو کیا ملے گا؟جسے تلاش کرنا بنتا ہے اسے نہیں کرتے۔خط کو سمیٹنے کا مرحلہ آنے پہ اسے فل سٹاپ لگانا ہر مرتبہ ہی کارے دارد ہوتا ہے۔اور اب بھی وہی مرحلہ درپیش ہے اور میں اس خط سے اپنے آپ کو کیسے باہر نکالوں؟ یہ معاملہ نہ اس وقت حل ہوا،نہ اب ہونے والا ہے تو میں فرینڈو پیسوا کی اس نظم پہ ختم کرتا ہوں،جس کا ذکر شروع میں کیا  تھا:

All love letters are

Fernando Pessoa

All love letters are

Ridiculous.

They wouldn’t be love letters if they weren’t

Ridiculous.

In my time I also wrote love letters

Equally, inevitably

Ridiculous.

Love letters, if there’s love

Must be

Ridiculous.

But in fact

Only those who’ve never written

Love letters

Are

Ridiculous.

If only I could go back

To when I wrote love letters

Without thinking how

Ridiculous.

The truth is that today

My memories

Of those love letters

Are what is

Ridiculous.

(All more-than-three-syllable words,

Along with unaccountable feelings,

Are naturally

Ridiculous.)

فقط تمہارا

ع۔ح

دوزخی روحیں-چوتھا حصّہ

images (1)

 

 

میں تمہیں دوش نہیں دیتی کہ تم بار بار ‘جنس’ کو محبت کے پیرائے میں بیان کرنے لگتے ہو،اور تم مجھ سے اپنے جذبات شئیر کرتے ہو۔لیکن مجھے سمجھ یہ نہیں آتی کہ ایک تو اب نہ تم تازہ تازہ جوان ہوئے ہو اور نہ ہی تمہارا تعلق دور دراز کے کسی دیہات یا گاؤں سے ہے جہاں صنف مخالف سے کبھی تمہارا واسطہ نہ پڑا ہو۔تم نے کو ایجوکیشن ہی دیکھی ہے اور پھر میں نے یونیورسٹی میں ماسٹرز کے زمانے میں تمہاری مجلسی زندگی میں کئی عورتوں کو دیکھا۔اس کے باوجود تمہارے اندر اناڑی اور بہت ہی ناآسودہ جذبات رکھنے والے نوجوانوں جیسی بےتابی کیوں ہے؟مجھے  تمہارا جنسی رویہ غیر صحت مند کیوں لگتا ہے؟

ندا نے مجھ سے پوچھا تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ اس کا میں کیسے اور کیا جواب دوں۔پھر میں نے بھی فیصلہ کرلیا کہ اسے صاف صاف اپنے بارے میں بتادوں۔

ندا! میں نے ٹھیک ہے اسکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک کو ایجوکیشن دیکھی۔لیکن میرا تعلیم کا ماحول اور جہاں میں رہتا تھا وہاں کا ماحول یکسر مختلف تھا۔میں نے پی آئی بی کالونی میں بنی کباڑ کی دکانوں کے عقب میں بنے ایک ایسے گھر میں آنکھ کھولی جہاں کا ماحول بہت مذہبی تھا۔میرے والد جمعیت علمائے پاکستان کے صدر تھے اور وہ پرانی بیٹریوں کی خرید و فروخت کے کاروبار سے جڑے ہوئے تھے۔گھر میں اور اڑوس پڑوس میں عورتیں سخت پردے میں رہا کرتیں تھیں اور ہم وہاں بس لڑکے ہی آپس میں میل جول رکھتے تھے۔میرے ساتھ پہلی درگھٹنا 14 سال کی عمر میں ہوئی جب میں آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ہمارے گھر کے ساتھ ہی مولوی رفیق کا گھر تھا جن کا لڑکا رفیع کبوتر بازی کرتا تھا۔اس  نے اپنی چھت پہ بہت سے کبوتر رکھے ہوئے تھے۔مجھے بچپن سے ہی پرندے بہت اچھے لگتے تھے اور کبوتر تو مجھے بہت ہی پسند تھے۔ہمارے گھروں کی چھتیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھیں اور ان کی دیواریں بہت چھوٹی تھیں،آسانی سے ان کو پھاند کر ایک چھت سے دوسری چھت تک جایا جاسکتا تھا۔میں اکثر کبوتروں کو دیکھنے اور ان کو چھونے رفیع کی چھت پہ چلا جاتا اور رفیع بھی میرے ساتھ بڑی شفقت سے پیش آتا۔اس نے آہستہ آہستہ میرے ساتھ اپنا تعلق بڑھایا۔وہ گرمیوں کی ایک دوپہر تھی جب میں کبوتر دیکھنے ان کی چھت پہ گیا۔تو اس دن رفیع کا رویہ میرا ساتھ عجیب سا تھا۔اس نے مجھے اپنے ساتھ لپٹا لیا اور آہستہ آہستہ مجھے چومنا شروع کردیا۔اس کی سانسیں تیز تیز چلنے لگیں۔مجھے خطرے کا احساس ہوا مگر اس وقت دیر ہوچکی تھی۔اس نے مجھے زبردستی کبوتروں کے کھڈے میں دھکیلا اور اس کے بعد میرے ساتھ وہ ہوا جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔میں کافی ڈر گیا تھا اور میں نے اپنے ساتھ ہونے والی درگھٹنا کے بارے میں کسی کو نہ بتایا۔میں اس کے بعد کافی دنوں تک چھت پہ نہ گیا۔ایک دن جب میں اسکول سے واپس آرہا تھا تو بازار میں مجھے رفیع مل گیا اور اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ اگر میں شام کو چھت پہ نہ آیا تو وہ میرے بارے میں میرے گھر والوں کو بتادے گا۔میں کافی ڈر گیا۔میری نظروں کے سامنے اپنے ابا کا درشت چہرہ آیا۔جو میری چھوٹی سی غلطی پہ مجھے تھپڑوں اور مکوں پہ دھرلیتے تھے اور میری ماں پانی والے نال سے مجھے پیٹ دیتی تھی۔میں اس ڈر اور خوف کو ذہن میں رکھ کر چھت پہ چلا گیا۔اس دن کے بعد سے میں اس اذیت ناک مرحلے سے کئی بار گزرا اور رفیع نے مجھے کئی اور دوستوں کے سامنے بھی پیش کیا۔میں جب میٹرک میں تھا تو میری کلاس کا ایک لڑکا فہیم جس میں بہت لچک تھی اور بہت نرم و نازک تھا۔ وہ مجھے اچھا لگنے لگا اور اس نے ایک دن ہمارے اسکول کے ایک ویران کونے میں بنے واش رومز کے کوریڈور میں ازخود پکڑا اور اپنے ہونٹوں میں میرے ہونٹ لے لئے اور آہستہ آہستہ اس نے میری رانوں کے درمیان اپنا ہاتھ دیا اور پہلی بار اس نے مجھے انفعالیت سے فاعلیت کی طرف جانے کا تجربہ کروایا۔اس دن نجانے کیسے میں نے اپنے آپ کو اس عمل میں مسرور پایا۔مجھے کسی اذیت سے نہ گزرنا پڑا۔ایف اے تک میں نے یہ سفر طے کیا۔اس کے بعد جب بی اے میں ،میں کراچی یونیورسٹی آیا تو یہاں حادثاتی طور پہ میں ڈی ایس ایف والوں کے ہاتھ لگ گیا۔ان کے اسٹڈی سرکل میں مجھے کتابوں کی چاٹ لگ گئی اور مجھ پہ دانشوری اور سیاسی ایکٹوازم کا بھوت سوار ہوگیا۔اس پورے عرصے میں عورت اور اس کے ساتھ تعلقات بارے میر وہم وگمان میں کچھ بھی نہیں تھا۔لڑکے مجھے اب بھی کسی حد تک اچھے لگتے تھے لیکن میں نے اس حوالے سے اپنے رجحان کو چھپالیا تھا۔اور لڑکی کے حوالے سے سرے سے میرا کوئی تجربہ تھا ہی نہیں۔پھر مجھے ادب کا چسکا لگا اور آہستہ آہستہ کتابی طور پہ عورت بارے میرا علم وسیع ہونے لگا۔میرے اندر کسی عورت سے ہمبستر ہونے کی اشتہا اس وقت زیادہ ہوگئی جب میرے ایک سندھی دوست نے مجھے لی مارکیٹ کے اندر ایک تنگ سے کوٹھے پہ لیجاکر ایک عورت کے بدن سے آشنا کرادیا۔مگر وہ پہلی اور آخری بار عورت کے بدن سے میری آشنائی تھی۔یونیورسٹی میں کوئی لڑکی میرے اس طرح سے قریب ہی نہیں آئی تھی جیسے تم آئیں اور اس زمانے میں، تمہارے بارے میں، میں نے اپنے سارے جذبات اندر ہی چھپائے رکھے۔مجھے لگتا تھا کہ اگر میں لڑکیوں میں جنسی دلچسپی ظاہر کروں گا تو لڑکیاں مجھ سے ناراض ہوں گی اور اس سے یونیورسٹی میں ہماری سیاست کو بڑا نقصان پہنچے گا۔لیکن اب جب مجھے تمہاری طرف سے شہہ ملی تو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔اور شاید ماضی میں میرے شعور پہ جنسی زیادتی سے جو اثرات بد مرتب ہوئے انہوں نے میرے جنسی جذبوں کو حد سے زیادہ مشتعل کررکھا ہے۔

‘کیا تم اب بھی لڑکوں میں کشش محسوس کرتے ہو؟’ ندا نے دبیز نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

میں تھوڑا سا ہنسا اور کہا،’بالکل بھی نہیں۔اگرچہ میں ایل جی بی ٹی رائٹس کا حامی ہوں۔لیکن مجھے لگتا کہ میں ‘گے’ نہیں ہوں۔کیونکہ جب سے میں عورت کے بدن سے شناسا ہوا تب سے مجھے نوخیز لڑکوں میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی۔

یہ سنکر ندا کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔

اس کی ہنسی سے مجھے لگا کہ اس نے یہ سنکر ‘تھینک گاڈ’ کہا ہو۔

اس دن میں اور ندا جب واپس اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹنے لگے اور گرومندر لسبیلہ چوک پہ ہمارے راستے جدا ہونے کا جب وقت آیا تو ایک دم سے ہم ایک دوسرے کو تکنے لگے اور پھر ندا نے ایک دم سے میری شرٹ کا گریبان پکڑا اور مجھے پٹیل پارا کی تاریک سی گلی میں گھسیٹ لیا اور ہم ایک دوسرے میں گم ہوئے اور ایک دوسرے کے لبوں کا ذائقہ چکھنے لگے،ہمارے دونوں کے منہ سے تیز ٹھّرے کی بو آرہی تھی اور تھوڑی سی کڑواہٹ بھی محسوس ہورہی تھی۔اور مجھے اس کڑواہٹ اور بو میں بھی مزا آرہا تھا۔اور پھر ایک دم سے اس نے میرے ہونٹوں کو چوستے ہوئے اچانک میری جینیز میں انڈر وئر کے اندر ہاتھ ڈال کر پہلے میرے کولہے دبائے اور پھر ایک دم سے ایسی حرکت کی کہ میں اچھل پڑا اور چیخا ۔

To hell with you

اس نے ایک دم سے مجھے چھوڑ دیا اور ہنسنے لگی۔

‘یار! میری انگلیاں تمہارے اس یار رفیع کبوتر باز کی  انگلیوں سے بلکہ ۔۔۔۔۔۔ سے تو کم ہی تکلیف دہ ہیں۔’

اس کی یہ بات سنکر مجھے بھی ایک دم ہنسی آگئی ۔

‘یار بڑی مشکل سے اس تکلیف کو بھولا ہوں’،میں نے رونی شکل بناکر کہا۔

وہ ایک دم پھر ہنسنے لگی تھی۔مگر جلد ہی سنجیدہ ہوگئی اور اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور اس گلی میں ایک مکان کے سامنے بنے سٹیپ پہ مجھے لیکر بیٹھ گئی۔اور ایک دم سے کہا:

” میں مشکل سے سات سال کی تھی ،جب پیڈوفیلیا کا بدترین تجربہ مجھے ہوا۔اور یہ سب میرے ساتھ گلی میں رہنے والے ایک ایسے آدمی نے کیا تھا جسے میری ماں بھی چاچا کہتی تھی۔اور اس نے مجھے ایک لمبا سا چھرا دکھاکر دھمکایا کہ اگر میں نے کسی کو بتایا تو مجھے کاٹ کر رکھ  دے گا اور پھر چودہ سال کی عمر تک میں اس کی زیادتی سہتی رہی تآنکہ ایک رات وہ دل کا دورہ پڑنے سے مرگیا تو میری جان چھٹ گئی۔لیکن پھر میں میرے اوپر ایک خوف طاری تھا۔ساتھ ہی میرے ساتھ ایک عجب صورت حال بنی کہ مجھے اپنی جسمانی اور جنسی بھوک نے جلد ہی تنگ کرنا شروع کردیا تھا۔لیکن جنسی فعل کرتے ہوئے نرمی برتنے والے اور ہڑکائے ہوئے کتّے کی طرح مجھے نوچنے کی بجائے مجھ سے بہت ہی پیار کا سلوک کرنے والے مرد ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔اور میرے اندر سخت غصّے کی لہر اٹھتی اور اکثر کو تو میں گالم گلوچ کرکے بھگا دیا کرتی تھی۔بہت عجیب صورت حال تھی میری۔جب سولہ سال کی ہوئی تو میں نے کسی کو بتائے بغیر اپنا نفسیاتی علاج کرایا۔میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے ایک اچھی معالج مل گئی اور میں نے اپنے نفسیاتی عارضوں سے نجات حاصل کی۔

یہ سب کہہ کر وہ اچانک کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی،اب میں چلتی ہوں،کل ملیں گے۔اور یوں میں نے جمشید کوارٹرز کا رخ کیا اور اس نے گرومندر سے لسبیلہ بس سٹاپ کا۔مجھے معلوم تھا کہ وہ چوک سے بس پکڑے گی اور یو پی سوسائٹی اترے گی۔

میں پیدل ہی جمشید مارٹن کوارٹرز کی طرف چل پڑا تھا۔رات کافی گزر چکی تھی۔

دوزخی روحیں-تیسرا حصّہ

dante__s_inferno___canto_25_by_meili_melee

 

آج رستم کیفے میں ہم دونوں اکٹھے ہوئے تو میں نے اس موضوع کو پھر سے چھیڑ دیا تھا۔وہ کچھ دیر خاموش رہی اور خلاؤں میں گھورتی رہی اور اچانک سے اس نے بولنا شروع کردیا:

فلسفی ! میں تامل ہوں اور میں نے سری لنکا کے اجنبی جزیرے جافنا میں آنکھ کھولی۔اس زمانے میں یہاں ایل ٹی کا توتی بولتا تھا اور سری لنکا کی سنہالی اکثریتی قوم کی سری لنکن حکومت کا یہاں دور دور تک نشان نہیں تھا۔میری ماں جافنا میں ایک مسلم گھرانے کی عورت تھی مگر وہ کیسے ریڈیکل ہوئی اور ایل ٹی کے ساتھ مل گئی ،اس بارے میری ماں نے فقط مجھے اتنا بتایا کہ ایک دیپن نامی لڑکے سے اسے کالج میں محبت ہوگئی تھی اور وہ گھر سے بھاگ کر اس دیپن سے شادی کربیٹھیں۔دونوں ایل ٹی کے انٹیلی جنس ونگ  میں بھرتی ہوگئے۔اور پھر ان کو ایک انٹیلی جنس نیٹ ورک قائم کرنے کولمبو بھیج دیا گیا۔میں چھوٹی سی ان کے ساتھ وہاں آگئی۔میرا باپ دیپن اور میری ماں فاطمہ دونوں وہاں ایک یونیورسٹی میں فرنچ لٹریچر پڑھانے لگے۔اور پس پردہ وہ ایک پورا انٹیلی جنس نیٹ ورک چلارہے تھے۔

سری لنکا میں ان ہی دنوں حالات تیزی سے بدلے اور سری لنکن گورنمنٹ نے جافنا کو ایل ٹی کے گوریلوں سے پاک کرنے کا اپنا آپریشن شروع کردیا۔ اس دوران شک پڑنے پہ میری ماں فاطمہ اور دیپن کو اٹھالیا گیا۔اور میں اس وقت 14 ‎سال کی تھی مجھے بھی بھی وہ ساتھ لے گئے۔سری لنکن ملٹری انٹیلی جنس کے میجر رینک کے افسر اور دو سپاہیوں نے پہلے تو  روایتی تشدد کیا اور اس کے بعد جب کام بنتے نہ دیکھا تو بیک وقت میری ماں اور میرے کپڑے اتروادئے، جب میرے باپ اور ماں نے تب بھی یہ کہا کہ وہ پرامن شہری ہیں اور ان کا ایل ٹی سے کچھ لینا دینا نہیں تو اچانک میجر نے مجھے دبوچا جبکہ اس کے ایک ماتحت کیپٹن نے میری ماں کو دبوچ لیا۔ہم دونوں کا ریپ کیا گیا۔اور وہ میجر مجھے ساتھ لے گیا۔وہ پیڈوفیلیا کا شکار تھا۔اس نے میرے ساتھ بار بار ریپ کیا، زبردستی مجھے شراب پلائی۔اور چھے ماہ بعد مجھے اور میری ماں کو رہائی ملی جبکہ دیپن میرے بابا کا کچھ پتا نہ چلا، شنید یہ تھی کہ دوران تشدد وہ ہلاک ہوگیا اور اس کی لاش کو انھوں نے سمندر برد کردیا تھا۔

میری ماں نیم پاگل ہوچکی تھی۔اور مجھے اپنے کسی عزیز کا پتا نہیں تھا۔میں نے اپنی ماں اور اپنی زندگی گزارنے کے لئے کال گرل کا پیشہ اپنالیا، دو ماہ گزرے تھے کہ ایک بکنگ پہ ایک لڑکے کی بجائے تین آگئے اور میں وہاں سے بھاگ نکلی، وہ میرے پیچھے پیچھے اور میں آگے آگے تھی کہ کسی سے ٹکراکرگرپڑی۔مچھ سے ٹکرانے والے نے مجھے اٹھایا اور پيچھا کرنے والے لڑکوں دیکھکر پستول نکال لی اور وہ لڑکے ڈر کر بھاگ گئے۔جینز ، پورے بازؤں کی شرٹ اور سکن کلر کا کوٹ پہنے آنکھوں پہ چشمہ لگائے یہ شخص کوئی نوجوان پروفیسر لگتا تھا۔اس نے مجھے حوصلہ دا، اپنی کر میں بیٹھایا اور مجھے میرے گھر لے آیا۔میں اس کی شفقت سے پگھل گئی اور اس کو ساری بات بتا بیٹھی ۔

پروفیسر  محمود فلسطینی نژاد تھے اور کولمبو میں میڈیکل یونیورسٹی میں اناٹومی پڑھاتے تھے۔وہ میری ماں کو پہچان گئے۔وہ پس پردہ جارج حباش کی پیپلز لبریشن فرنٹ فلسطین کے لئے فنڈز کی فراہمی کی چین سے جڑے ہوئے تھے۔میری ماں اور دیپن سے ان کی واقفیت ایل ٹی کے ہی ایک اور انٹیلی جنس ونگ کے اہلکار نے کرائی تھی۔میری والدہ کو انھوں نے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل تھراپی میں داخل کرایا اور میری تعلیم کا بیڑا اٹھالیا۔اور جب میں گریجویشن کرلی تو مجھے انھوں نے خاموشی سے تمہارے ملک کے اس شہر میں  منتقل کردیا۔اس سے پہلے وہ میرا نام بھی بدلوا چکے تھے۔ولدیت میں اپنا نام درج کرایا۔میری ماں فاطمہ سے انھوں نے شادی کرلی۔اور یوں میں یہاں  آگئی ۔یہاں میرے سب سے پہلے تعلقات صدف اور پروفیسر مستجاب حیدر سے ہی ہوئے۔اس کی ایک وجہ تو فرنچ لٹریچر بنا۔صدف اور مستجاب بھی فرنچ زبان جانتے تھے اور میں بھی۔جبکہ مستجاب کو فرنچ صدف نے سکھائی تھی۔صدف اور میرا المیہ کچھ ایک جیسا تھا۔

الف لیلہ /ہزار داستانوں کا شہر اور شہر زاد  کا بغداد جب سے صدام حسین کی گرفت میں آیا تھا تب سے اس بغداد کی کہانی ہی بدل گئی تھی۔ہر کوئی یہاں ڈرا،ڈرا سا اور سہما سہما رہتا تھا۔اور یہ بغداد شیعہ اور کردوں کے لئے تو دوسرا کوفہ بن گیا تھا۔اور صدام حسین ان کے لئے حجاج بن یوسف ثقفی ثابت ہوا تھا اور جنرل کیمکل علی ابن زیاد۔

صدف بھی ایک شیعہ پس منظر کے کمیونسٹ گھرانے میں پیدا ہوئی تھی۔اور عراق کے شمالی دلدلی علاقے میں ان کا آبائی گھر واقع تھا۔دریائے دجلہ کے پل کو کراس کرتے ہی بغداد کے پرانے محلے میں یہ گھر واقع تھا۔صدف کا والد پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر تھا اور نام تھا اس کا جواد جبکہ والدہ رباب اپنے وقت کی کمال کی پینٹر تھی۔جواد نے رباب کو اس کی تصویروں کی نمائش میں ایک آرٹ گیلری میں دیکھا تھا اور وہیں دونوں ایک دوسرے کے عاشق ہوگئے تھے اور دو سال زبردست عشق کے بعد انھوں نے شادی کرلی تھی۔صدف ان کی محبت کا خوبصورت انعام تھی۔

دوزخی روحیں/دوسرا حصّہ

White-Temple-Chian-Rai-Wat-Rong-Khun-souls-of-hell-2

 

ہم وہاں سے نکلے تو اوور برج کے نیچے سے پیدل ہی چلتے ہوئے پہلے پٹھان پاڑے میں داخل ہوئے اور وہاں سے گرومندر لسبیلہ چوک پہنچ کر ہم نے ایک بس پکڑی  اور صدر آگئے۔یہاں رستم کیفے پہ بیٹھ گئے اور کافی کا آڈر دیا۔اس وقت کیفے میں بہت کم لوگ تھے۔یہاں فیملی کیبن میں ہم پردہ گراکر بیٹھ گئے۔

ندا! تم اتنی جلی بھنی باتیں کیوں کرتی ہو؟اور ہر وقت اینگری ویمن کیوں بنی رہتی ہوں؟

یہ سنکر ندا نے ایک جنونی کی طرح قہقہ لگایا۔اس کے اس انداز میں ہنسنے سے میں نجانے کیوں ڈرجایا کرتا تھا۔

ندا  نے فلسفہ کی کلاسز زرا دیر سے لینا شروع کی تھیں۔وہ دو ماہ کے بعد ہمارے ساتھ شامل ہوئی تھی۔مجھے وہ پہلے دن سے ہی بہت اچھی لگی تھی۔چاکلیٹی رنگ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا اور بہت ہی پرکشش جسم جو اس کلاس میں بہت سے گورے چٹے رنگوں کو گہنا دیتا تھا یا کم از کم میں ایسا ہی سمجھتا تھا۔

کلاس میں ندا جب بھی کسی موضوع پہ بولنے لگتی تو بہت ہی متانت،ٹھہرے ہوئے لہجے اور دلائل کے ساتھ بولا کرتی تھی۔بہت ہی کمپوذڈ نظر آتی تھی۔اور مجھے اس پہ رشک آتا تھا۔کلاس میں اس کی دوستی ہماری کلاس کی واحد عراق کے شہر کوفہ کی رہنے والی طالبہ صدف سے تھی۔اور صدف فلسفے کی سب سے ہوشیار اور ذہین فطین لڑکی تھی جس کے ہمارے شعبے کے سب سے مقبول نوجوان استاد مستجاب حیدر سے تعلق بارے چہ مگویاں ہمیشہ عروج پہ رہا کرتی تھیں اور یہ تینوں اکثر ساتھ ساتھ نظر آتے تھے۔مستجاب حیدر کو ان کے ساتھی اساتذہ ‘ کلاسیکل سرخا’ کہتے تھے اور مادیت پرستی کا دلدادہ اسے خیال کیا جاتا تھا۔ان کے ساتھ اکثر عائشہ بلقیس نظر آتی جوکہ بیروت سے یہاں پڑھنے آئی ہوئی تھی اور کہا جاتا تھا کہ اس کا خاندان خانہ جنگی کے دنوں یہاں آکر رہنے لگا تھا۔مستجاب حیدر کا تعلق ویسے تو ہندوستان یو پی سے ہجرت کرکے آنے والے ایک اشراف سید گھرانے سے تھا مگر وہ اپنے دادا اور دادی کے کمیونسٹ ہوجانے پہ وہ آپ بھی ایسا ہی ہوگیا تھا۔صدف بارے پتا چلا کہ وہ عراق کی کمیونسٹ پارٹی کے کسی اہم رہنما کی بیٹی تھی اور اب وہ خود کو شیعہ مسلم سوشلسٹ کہتی تھی اور ڈاکٹر علی شریعتی کی پیرو کہلاتی تھی۔ مجھے یہ ساری باتیں اس وقت معلوم ہوئیں جب یونیورسٹی میں یونین پہ پابندی نہ اٹھائے جانے پہ ہم نے ازخود یونیورسٹی کے اندر الیکشن کرانے اور شیڈو طلباء یونین بنانے کی کمپئن لانچ کی تو صدف نے یونیورسٹی کے اندر ایک بہت بڑے گروپ کے ساتھ ہماری اس کمپئن میں شرکت اور پھر جب الیکشن موقعہ پہ ایک طرف اسلامی جمعیت طلباء ، جمعیت طلبہ اسلام، انجمن طلباء اسلام، محمدی اسٹوڈنٹس فیڈریشن، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزشن   نے ملکر ‘اسلامک اسٹوڈنٹس فرنٹ’ بنایا تو ہم جو ڈی ایس ایف والے تھے ہمارے ساتھ پی ایس ایف، پختون خوا اسٹوڈنٹس فیڈریشن، بلوچ اسٹوڈنٹ فیڈریشن، جئے سندھ اسٹودنٹس فیڈریشن ، سندھ شاگرد تحریک ،طلباء کے ایک گروپ ‘لال’ اور صدف کی قیادت میں تشکیل پایا ایک گروپ’حسینی لال قلندر  طلباء اتحاد’ نے اشتراک کرکے ‘ پروگریسو سوشل ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس الائنس ‘ تشکیل دیا تھا۔اے پی ایم ایس او نے ایم ایس ، پنجابی اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور پنجابی پختون اتحاد اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ساتھ ملکر اتحاد بنایا۔پروفیسر مستجاب حیدر ، ڈاکٹر ریاض سمیت کئی استاد پی ایس ڈی ایس اے کو سپورٹ کررہے تھے۔ہمارا مخالف اتحاد اسے کفر اور اسلام کی جنگ بتارہا تھا۔اسی دوران ندا بھی ایک منجھی ہوئی اسٹوڈنٹ لیڈر کے طور پہ سامنے آئی اور اس کا ایک نیا روپ مجھے پرائیویٹ اسٹڈی سرکلز میں دیکھنے کو ملا۔

وہ بہت غضّے میں لگتی اور بہت ریڈیکل نظر آتی ۔اور کلاس والی متانت اور ٹھنڈے پن سے دلائل دینے والا انداز یہاں غائب  ہوگیا تھا۔اور دسمبر کی آخری رات جب ہم نے ایک پارٹی کا اہتمام کیا تو صدف ، پروفیسر مستجاب حیدر اور ان گے گروپ رہنماؤں نے معذرت کرلی لیکن ندا نے اس میں شرکت کی حامی بھری اور ہمارے ساتھ شریک ہوئی۔جیسے ہی تاريخ بدلی تو اس نے اپنے بیگ سے گریٹ لینڈ سکاچ کی بوتل نکالی اور اس کا کارک کھول کر اسے منہ سے لگایا اور میری طرف بوتل بھڑائی تو میں اس کا یہ روپ دیکھکر تھوڑا سا حیران رہ گیا۔کیونکہ ‘حسینی لال قلندر گروپ’ میں مجھے اب تک ‘مذہب اور سوشلزم’ کا تڑکا لگا ہوا نظر آیا تھا۔ اور صدف و مستجاب بھی بہت محتاط رہتے تھے۔لیکن ندا کچھ اور ہی نظر آرہی تھی۔اس دن کے بعد میں اس کے پیچھے پڑگیا تھا اور بھی نجانے مجھے کیوں اسقدر برداشت کرنے لگی تھی۔ہماری موبائل پہ راتوں کو بات ہونے لگی۔پہلے پہل ہم بہت سے موضوعات پہ بات کرتے۔آہستہ آہستہ میں نے اس سے اظہار محبت کیا،اور پھر نان ویج گفتگو کرنے لگا،اگرچہ وہ کبھی جواب میری انتہائی جذباتی گفتگو کا جذباتی و ہیجانی انداز میں نہ دیتی۔

ایک دن جب میں اپنی پوری جنسی آرزؤں کا بیان اس کے سامنے کرچکا تو اس نے اچانک اپنے تئیں یہ کہہ کر بم پھوڑا: ‘ فلسفی ! میں ورجن نہیں ہوں، اور مرد ہاتھوں سے میری آشنائی بہت پرانی ہے۔’ آگے اس نے اس دن مجھے کچھ نہ بتایا۔

آج رستم کیفے میں ہم دونوں اکٹھے ہوئے تو میں نے اس موضوع کو پھر سے چھیڑ دیا تھا۔وہ کچھ دیر خاموش رہی اور خلاؤں میں گھورتی رہی اور اچانک سے اس نے بولنا شروع کردیا:

دوزخی روحیں۔کہانی/پہلا حصّہ

souls-in-hell

دوزخی روحیں – پہلا حصّہ

عامر حسینی

‘تمہارے ہاتھوں سے ، بدن سے، کپڑوں سے ،سانسوں سے تمباکو کی بو آتی ہے،ایسے لگتا ہے جیسے تمہارا سارا وجود تمباکو سے بنا ہوا ہے۔اور مجھے جو اس بو سے شدید نفرت تھی،پاس کوئی سگریٹ پی رہا ہوتا تھا تو مجھے متلی ہونے لگتی تھی،لیکن مجھے تمہاری بو میں ملی یہ تمباکو کی بو زرا بھی ناگوار نہیں لگتی،بلکہ میں مدہوش سی ہونے لگتی ہوں۔یہ سب کیا ہے؟’

اس نے اپنے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ میرے ہونٹوں پہ رکھے اور ناک سے اندر لمبا سانس لینے کے بعد کہا،تو میں حیران ہوکر اس کی طرف دیکھنے لگ گیا۔

اچانک میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنے آپ کو بستر پہ پایا۔صبح ہوچکی تھی اور رات حسب معمول ندا کے خواب دیکھتے گزر گئی تھی۔

عجب لڑکی تھی جو میرے حواس پہ بری طرح سے چھاگئی تھی۔جب تک ہم ملے نہیں تھے،تو روز میں اس کے نت نئے پیکر تراشا کرتا تھا اور ان سب مقامات پہ اس کو ساتھ لیکر جاتا ،جو میرے پسندیدہ تھے۔یہاں تک کہ ایک مرتبہ میں نے اسے خیال ہی خیال میں اس گھاس پھوس کے بنے چھپر ہوٹل کے اندر چق سے بنائی گئی پارٹیشن میں حاضر کرلیا تھا، جہاں میں کبھی دیسی ٹھرے کے دو گلاس چڑھانے جاتا تھا اور میرے دو دوست جھولے لعل دم مست قلندر کرتے ہوئے دم پہ دم لگاتے ،اپنے تئیں غم مٹاتے اور ہر بار مزید اداس اور  ‘اور زیادہ بے گانے’ ہوجاتے تھے۔

میں دو گلاس میں دیسی ٹھرا منگواتا تھا،اور ان کو آمنے سامنے لکڑی کے بنچ پہ رکھ دیتا اور اسے حاضر کرکے اپنے ساتھ شریک محفل رنداں کیا کرتا تھا۔اور آج جب اس چھپر کی پارٹیشن میں جب ہم داخل ہورہے تھے تو چھپر ٹی سٹال کے مالک شیدو چرسی نے بڑے لوفرانہ انداز میں اس کی طرف اشارہ کرکے بڑا فحش اشارہ کیا تھا۔اور اس کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا،

 ‘بے پھلسپھی تیں اج مینے مرد نجر آرییا اے’

یہ روہتک کے کسی گاؤں سے ہجرت کرکے آنے والے گھرانے کا فرد تھا۔اور لمپئن پرولتاریہ کی کلاسیکل مثال تھا۔چھپر ٹی سٹال اس علاقے کا سب سے مشہور چائے کا ٹھیا تھا۔چھوٹا چھپر جس میں پارٹیشن تھی اور یہ پارٹیشن اب ایک طرح سے ہمارے قبضے میں تھی۔میرے دوستوں میں طیب وارثی روزنامہ ‘ظالم کی شامت’ کا رپورٹر تھا۔یہ لمپئن پرولتاریہ کا ہمارے علاقے میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والا اخبار تھا۔بلیک میلنگ کو اس نے ایک آرٹ میں بدل دیا تھا۔اس کے نمائندے کلاسیکل بروکرز مشہور تھے۔لیکن میرا یار طیب وارثی کے بقول وہ ان کلاسیکل بروکرز کی ماں چ۔۔۔ کے لئے ہی صحافی بنا تھا اور وہ اس اخبار کا سب سے بڑا

Reneged

تھا۔میں نے اس کا نام ہی

Reneged Warsi

رکھ دیا تھا۔جب پہلی بار میں نے اسے رینے گیڈ وارثی کہہ کر پکارا تو کہنے لگا:

“مرشد! مجھے نہیں پتا  کہ رینے گیڈ کسے کہتے ہیں، لیکن تم نے جو رکھا ہے تو سوچ کر ہی رکھا ہوگا۔”

ہماری گینگ کا سب سے بڑا کامریڈ جسے ہم پیار سے جعلی دانشور کہتے تھے  انور کہنے لگا ،

 ‘جیہڑا وڈا پین یک ہوندا اے اونوں رینے گیڈ کہندے نئیں۔روسیاہ (روسی) لینن اے ناں جرمنی دے انقلاب دے نال بھین یکّی کرن آلے کاؤتسکی نوں دتّا سی ،رینے گیڈ کاؤتسکی۔توں “ظالم کی شامت” نال جو کردا پیاں ایں او بھین یکی اے ۔تے توں ہویا رینے گیڈ وارثی، پر ایتھے توں ٹھیک رینے گی /غداری کر رہیاں ایں،ایتھے لفجاں دے ایس سوداگر نے تری تریف کیتی اے،لتاڑیا نئیں تینوں’

“ہاں! میں نے اسی لئے تو کہا،مرشد نے جو رکھا ہے نام ٹھیک رکھا ہے۔” طیب وارثی نے فوری کہا تھا۔

ہم خوب ہنسے تھے جعلی دانشور کامریڈ انور کی لن ترانی سنکر۔

خیر تو طیب وارثی نے اپنی صحافتی بدمعاشی کے زریعے مقامی تھانے کو ڈک رکھا تھا۔اور اس چھپر ٹی سٹال کی پارٹیشن اور پھر اس کے اردگرد ہونے والی چھوٹی موٹی بھین یکیوں کی طرف پلسیے دھیان نہیں دیتے تھے۔

شیدو چرسی بھی ایک کلاسیکل لمپئن پرولتاریہ تھا، اس کے سامنے سے کوئی عورت گزرتی یہ اس کی پوری سکیننگ کرتا، اور ایسی جنسیاتی لغت تخلیق کرتا کہ سیکسولوجی کا ماہر لگتا۔اور کم سن ،بھیگی مسیں والے لڑکوں  کے لئے تو اپنی ساری کمائی لوٹانے کو تیار رہتا تھا۔اور ہفتے دو ہفتے بعد یہ چھپر ٹی سٹال  کسی لونڈے کے پیچھے میدان جنگ بن جاتا تھا، اس وقت لڑنے والے لونڈے بازوں کے درمیان سب سے بڑا پنچائتی یہی شیدو چرسی ہوتا تھا۔اکثر جس لونڈے پہ پانی پت کی جنگ ہوتی،وہ بعد میں شیدو چرسی کے خلیفوں میں شمار ہوجاتا تھا۔

 اور جیسے ہی اس کے چھپر پہ سنّی تحریک والے لڑکے چائے پینے آتے تو یہ ان کے سامنے ایسا عاشق بن جاتا جس کا بس نہیں چلتا ورنہ یہ مزارات کے خلاف بولنے والوں کی زبان گدی سے کھینچ لے۔

‘رے بھان چود  یو بندی گانڈ گندی ملونٹا ہمیں بدتی (بدعتی) کہتا ہے،خود ساڑھا بھان چ بی تو بعد میں ہی پیدا ہوا ۔تو یہ بھی خود بدعت ہے۔اسے مٹاؤ پہلے تو۔’

شیدو چرسی اس پوری لوکلیٹی کے رہنے والی آبادی کا پوسٹر بوائے تھا۔اسے دیکھ لو،سمجھو پورے علاقے کے ہر ایک مرد کو دیکھ لیا۔اس علاقے کی عورتیں بھی بہت عجیب کردار کی مالک تھیں، سب ٹچ بٹنوں والا برقعہ پہنتیں، سوائے آنکھوں کے کچھ نظر نہ آتا،یہاں دعوت اسلامی،سنّی تحریک کا بہت زور تھا ،جب کہ کئی درجن بھر گھرانے دیوبندی بھی تھے،اور اہلحدیث جن کو ‘سسرے وہابی’ کہا جاتا تھا وہ چند ایک گھر تھے۔کافی عرصے تک تو میں ‘سسرے وہابی’ کو وہابیوں میں سے نکلا ایک فرقہ خیال کرتا رہا،یہ تو مجھے بعد میں سمجھ آئی کہ ‘ سسرے’ تو روہتکی زبان میں گالی کے معنوں میں استعمال ہونے والا لفظ تھا۔

یہاں کی عورتیں کافی نڈر، بہادر اور بے باک ہوتی تھیں،اکثر اپنے مردوں سے لڑبھڑ جاتی تھیں۔اور  جو عورت بہت زیادہ مذہبی بھی ہوتی تو بھی ایک دو خفیہ یارانے پالے ہوتی تھیں، اور عشق کو جھٹکا دیکر بولتیں تھیں،’دیکھ چھوکرے ٹانگاں کے درمیان میں یہ چھیچھڑا گھسا کے تیری عاشقی نکل جاوے گی مینے بیر ا اے، تیں یہ عشک وشک چھوڑ اور مینے اپنی بھڑاس نکالن دے،میرا  دھگڑا (شوہر) کسے جوگا ہوتا تیں میں تیرے چوتڑاں پہ اتنے جوتے مارتی ،تینے یہ چھیچھڑا فیر کھڑا کرنا مشکل ہوجاتا۔’

جعلی کامریڈ انور کو اکبری نے یہ فقرے اتنے زور سے کہے تھے کہ ہم سب جو پارٹیشن سے باہر جون کی اس تیز آگ برساتی گرمی میں کھڑے پہرا دے رہے تھے، یہ سب سنا اور ہماری کمر میں سرد سنسناہٹ سی دوڑگئی۔اور پھر تھوڑی دیر تیز تیز سانسوں کی آواز آتی رہی اور ایک دم سے اندر سے اکبری چلائی،’ سالا،بھڑوا، گانڈو، چودائی خانہ، اگر جور /زور نہیں ہووے ہے تو یہاں میّا چودوانے کیوں آجاوے اے، کسی حکیم کے پاس کیوں نہ جاوے یا بھڑوے گانڈ مروانا شروع کردے۔’ اور پھر ہم نے اکبری کو انتہائی غصّے میں بڑبڑ کرتے باہر نکلتے دیکھا۔ہم سب ڈر کر ایک طرف ہوگئے۔اس نے انتہائی نفرت بھری نظر ہم پہ ڈالی اور ‘زمین پہ تھوک کر چلی گئی ۔’

میں نے جعلی دانشور کی یہ درگت بنتے دیکھنے کے بعد توبہ کرلی کہ اس علاقے کی کسی عورت کو بھول کر بھی دعوت نہیں دوں گا۔اور میں ایک دم سے سادھو سنت بن گیا، کبھی شہر سے باہر ایک کچی آبادی میں جاکر اپنے جذبات ٹھنڈے کرلیا کرتا تھا۔

اس بڑے کاسمو پولیٹن شہر کا یہ علاقہ ایسی بات نہیں تھی کہ صرف لمپئن پرولتاریہ پہ مشتمل تھا،یہاں فروٹ کیمشن ایجنٹ،کریانہ فروش،غلہ منڈی کے آڑھتی،باردانے کا کام کرنے والے، کپڑے کے تاجر، کچھ زرعی رقبوں کے مالکان بھی موجود تھے، یہیں کچھ سرکاری ملازم بھی تھے۔لیکن یہ سب کے سب سابقہ انڈین مشرقی پنجاب اور حال کے صوبہ ہریانہ اور دلّی کے گردونواح سے ہجرت کرکے آنے والوں کی اولاد تھے۔یوپی-سی پی کے مہاجرین کے برعکس ان  ميں شرخ خواندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ہوائی روزی والے ان میں زیادہ تھے۔یہ سب ایک جیسے نفسیاتی میک اپ میں ڈھلے لگتے تھے۔ہم دوست غلطی سے اسے ورکنگ کلاس کی بستی سمجھ بیٹھے تھے۔یہ جہالت ہمارے اندر جعلی دانشور کامریڈ انور نے پیدا کی تھی، جو یہاں ایک چوبارہ کرائے پہ لیکر رہ تھا۔اس نے ہمیں اسٹڈی سرکل کا لالچ دیا، پہلے یہ اسٹڈی سرکل اس کے چوبارے پہ ہوئے اور پھر یہ شیدو چرسی کے چھپر ہوٹل میں منتقل ہوگئے۔یہاں کئی نوجوان ہماری سنگت میں شامل ہوئے، یہ ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ کامریڈ انور جعلی دانشور کے گرد ان نوجوانوں کے جمع ہونے کا سبب اس کے پی سی اور سمارٹ موبائل فون میں موجود درجنوں پورنوگرافی کے کلپ اور سیکس ویب سائٹس جن میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی ٹین گے سائٹس کا وزٹ تھا۔کامریڈ انور نے ہمیں سختی سے منع کیا کہ ہم کامریڈ، کمیونسٹ اور سوشلزم جیسے نام یہاں نہ لیں۔اس علاقے کا ہی ایک نوجوان کامران  جو بدقسمتی سے یونیورسٹی تک پہنچ گیا تھا،ایک دن اس نے مجھے اولڈ کیمپس میں ڈی ایس ایف کا لٹریچر بانٹتے دیکھ لیا۔یہ اے ٹی آئی کا رکن تھا، اس نے علاقے میں یہ خبر پھیلادی کہ میں قادیانی ہوں۔میں اس شام جب چھپر ہوٹل پہنچا تو چند بوریاں سینے والے نوجوانوں نے ہمیں گھیر لیا،ان میں اشرف بھی تھا،جسے سب ہانڈا کہتے تھے،وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر اکثر ٹھّرا پیا کرتا اور جب ترنگ میں آجاتا تو اس علاقے کی عورتوں کے یارانے بیان کرتا۔گھر سے لیکر اس عورت کا شجرہ تک سب سامنے لیکر آتا اور اشرف ہانڈا عید میلاد النبی کے جلوس میں سب سے آگے ہوتا اور جب جلوس دیوبندی مسجد کے پاس پہنچتا تو گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرہ لگاتا : کفر کا کوڑا ،کفر کا گند۔دیوبند۔دیوبند اور لہک لہک کر شعر پڑھتا

سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منارہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چھپر ہوٹل میں باہر لکڑی کے بنچ پہ بیٹھے ہوئے ،سگریٹ کے مرغولے چھوڑتے ہوئے یہ ہر خوبرو لڑکے اور ہر گزرنے والی عورت کے پچھواڑے کو دیکھ کر بس ایک ہی جملہ کہا کرتا ۔’ ہائے کیا گانڈ ہے،دل کرتا کھاجاؤں۔’

‘ابے او پھلسھی کی جھانٹ! تیں قادیانی ہووے ہے، ایدھر گانڈ مروانے آوے۔۔۔۔۔۔

ہانڈا سرخ آنکھیں، گلیں کی رگیں پھلائے میری طرف بڑھا۔

کامریڈ انور، جعلی دانشور درمیان میں آگیا۔

‘اشرف بھائی! آپ کو کس نے کہا کہ فلسفی قادیانی ہے۔’

‘رے ہمنے سب بیرا اے،کامران بتارہا تھا،تیں کمیونسٹ لٹریچر تقسیم کررہیا تھا وہاں یونے ورستی ما۔

کامریڈ انور کے منہ سے ہنسی نکل گئی،’تمہیں کس نے کہا کہ کمیونسٹ قادیانی ہوتے ہیں؟ وہ خرم کہہ رہیا تھا۔

کامریڈ انور نے ایک دم سے پینترا بدلا اور کہا،’ خرم سالا تو خود دیوبندی ہے، اس نے تم سے جھوٹ بولا۔کمیونسٹ تو صوفی ہوتے ہیں، شاہ عنایت ٹھٹھوی بارے تمہیں بتایا نہیں تھا میں نے جو کہتے تھے، جو محنت کرتا ہے وہی محنت کا حقدار ہے، اب اگر تم مزدوری کرو اور کوئی تمہاری اجرت نہ دے تو کیا تم اس کے خلاف نہیں لڑو گے؟ کمیونسٹ بھی یہی کرتے ہیں۔۔’ کامریڈ انور نے اشرف ہانڈے سے نظر بچا کر مجھے آنکھ ماری اور اپنا موبائل کھولا اور اشرف کے سامنے کارل مارکس کی تصویر کردی۔یہ دیکھو یہ سلسلہ کمیونسٹویہ کے روحانی پیشوا تھے۔

‘ارے ،یو تو واقعی نور برس رہیا اے، بڑی پہنچی ہستی لگے ہے حجرت صاب کی۔’ اشرف ہانڈے نے تصویر دیکھی اور شاید کارل مارکس کی بڑی داڑھی دیکھ کر ان کو پیر باصفا خیال کرلیا۔

‘یار پھلسپھی! معافی دے، خرم دیوبندی نے جھوٹ بولا ۔ اچھا تیں مینے یہ بتلا، تیں قادیانیاں بارے کیا سوچے ہے؟’  اشرف ہانڈے کے دماغ کی رو پھر پلٹ گئی  ۔میں گڑبڑا گیا اور میں نے کامریڈ انور کی طرف دیکھا، اس نے جلدی سے کہا،’ اس کی سب کی رائے وہی ہے جو امیر اہلسنت مولانا سلیم قادری شہید کی تھی۔’

‘واہ، فیر ٹھیک ہے۔سبحان اللہ۔۔۔۔۔۔ ‘ اشرف ہانڈا بولا، اور اپنے دوستوں کے ساتھ واپس پلٹ گیا۔

تھوڑی دیر بعد وہ لکڑی کے بنچ پہ بیٹھ کر وہاں سے گزرنے والی عورتوں اور نوخیز لڑکوں کے پچھواڑے  تاڑنے لگا۔

اس روز میری تو روح ہی فنا ہوگئی تھی۔مجھے یوں لگا تھا،جیسے ابھی ہرگھر سے چھری،بغدے نکل آئیں گے اور میرے ٹوٹے ٹوٹے یہیں بکھریں ہوں گے اور کئی غازی سامنے آجائیں گے۔

خیر میں بھی کہاں سے کہاں پہنچ گیا، بات ہورہی تھی اس روز چھپر میں پارٹیشن میں ‘اسے’ لیکر آنے کی۔اندر آنے سے پہلے ہی میرے پورے بدن میں خون ابل رہا تھا،لیکن میں نے خود کو کنٹرول کئے رکھا۔اس دن اس نے لائٹ بلیو جینز اور اس کے اوپر کالے رنگ کی کرتی پہن رکھی تھی جبکہ پاؤں میں جاگرز تھے۔سر پہ ایک بڑا سا فلسطینی رومال بطور حجاب کے لیپٹا ہوا تھا۔آنکھوں پہ دھوپ کا چشمہ ،جس کے سیاہ رنگ کے گلاسز اس کی چاکلیٹی رنگت پہ عجیب سی کشش پیدا کررہے تھے۔چاکلیٹی رنگ اور بھرپور ملاحت یہ میری کمزوری ہیں۔وہ ویسے تو دبلی پتلی ہے لیکن اس کا سینہ بھرا ہوا اور کولہوں کے گرد کافی گوشت ہے۔میں اسے اپنے لیڈیز بیگ سے ٹھرے کی بوتل نکالنے کو کہا۔اس نے اسے نکالا،سلور کے گلاس پاس پڑے تھے،میں وہ اٹھانے لگا تو بولی،’ پھلسپھی صاب! (کھلکھلا کر ہنستے ہوئے شیدو چرسی کی نقل اتاری) مرد نجر آریا اے تو مردوں کی طرح سے بی ہیو بھی کرو نا،یونہی بوتل سے گھونٹ بھرتے ہیں نا جان من!

اس کی بات سنکر میں نے گلاسوں کی طرف بڑھایا ہاتھ روک دیا،بوتل سے گھونٹ بھرا اور برا منہ بناتے ہوئے،اس کی طرف بڑھادی۔اس نے جھٹ سے بوتل کو منہ لگایا اور تین چار گھونٹ لئے، اس کے چہرے کے زاویے تھوڑا سا بگڑ گئے تھے لیکن ٹھرے کی تلخی کو اس نے لفظوں میں بیان کرنے سے احتراز برتا۔میرے اندر پہلے سے ابلتے خون نے اور جوش مارنا شروع کردیا تھا ،میرے منہ سے اپنے آپ الفاظ برآمد ہونے لگے:

I love you jani!

Love and Love

اچانک اس نے میری بات کاٹی

No,just not Love and Love more but you fucking guys always want fuck and fuck more and after when vagina size grow then you get boredom and then seek escape from Fuck and fuck more and you say avoid and avoid more.

اور اس کے بعد اس نے ہذیانی انداز میں ہنسنا شروع کردیا۔میں نے تھوڑا سا سینٹی مینٹی ہونے کی کوشش کی اور کہا،’ نہیں جانی! تمہیں واقعی بہت چاہتا ہوں ، میرے گرم بوسے میری روح کی تمہارے لئے تڑپ کا عکس ہیں، یہ جسم کے اشتعال اور ہیجان کو سکون دینے کے لئے نہیں ہے۔

Hey, Mr.Philospher! Stop just a while, I know very much guys like you, who are not except vagina occupiers but women also penis occupiers but not me. Just a free human being and please now stop all this shit and come here and we make an emotional fucking session.

اور وہ ایک دم سے جوش میں آگے بڑھی اور اس نے دونوں ہاتھوں سے میری گردن کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور بے تحاشا بوسوں کی بھرمار کردی۔میں بھی سب بھول کر اس میں کھوگیا۔اور جب جذبات کا طوفان تھما تو ہم بری طرح سے ہانپ رہے تھے۔

تھوڑی دیر خاموشی کے بعد اس نے مجھے کہا کہ اب یہاں سے چلتے ہیں۔میں نے کچھ نہ کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔باہر نکلتے ہوئے میں نے شیدو چرسی کو پانچ سو روپے کا نوٹ تھما دیا۔

قیدی عورت

e208bf20bd30e2d90db865f938da5c57

قیدی

عامر حسینی

نوٹ : یہ میرا طبع زاد افسانہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسی عورت کی زندگی کی بیان کردہ داستان سے ماخوذ ہے جس کا نام اور جس کا کام میں بھی بیان کرنے سے عاجز ہوں ، کیونکہ پاکستان کا سماج ابھی تک قرون وسطی کے اس مذھبی احتساب کے جنون سے نہیں نکل پایا جس سے نکلنے کو مغرب والے ” احیائے علوم ” کا  دور کہتے آئے ہیں اور ہمارے سماج کی ناک موم کی ہے جس کے نقش فکر کی آزادی کی گرمی سے بہت جلد خراب ہوتے ہیں ۔میں نے جب اس کو افسانوی شکل دی تھی تو اس وقت نہ سلمان تاثیر کا قتل ہوا تھا نہ ہی شبہاز بھٹی کا۔بلکہ ابھی بے نظیر بھٹو کی بھی شہادت نہیں ہوئی تھی۔جمشید نایاب بھی زندہ تھے۔22 ہزار شیعہ مرے تھے نہ شیعہ ہزارہ کے لئے ان کی شناخت عذاب نہیں بنی تھی ہاں نوے کی دہائی میں ہر شہر میں پے درپے لوگوں کی ان کی مذہبی شناخت پہ مارڈالا گیا تھا۔میں نے پاکستانی سماج کی بدترین شکل نہیں دیکھی تھی۔اس زمانے میں اس قصّے کو پڑھ کر میرے اندر ‘ڈھاکہ’ دیکھنے کی خواہش دم توڑ گئی تھی۔اور ایک دم سے اس زمانے میں مجھے پاکستان پھر بھی قدرے پرسکون ملک لگنے لگا تھا لیکن کیسا آتش فشاں پھٹنے کو تھا جس کے اوپر میں بیٹھا ہوا تھا،اس کا خواب خیال تک مجھے تھا ہی نہیں۔مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کیسے کیسے چہرے میں خون میں نہائے دیکھوں گا اور ہر روز مروں گا اور پھر بھی جینے کی سزا بھگتوں گا۔جس عورت کی زندگی کو میں نے افسانہ کردیا ہے وہ آج کہاں ہوگی،کچھ پتا نہیں مگر یہ افسانہ ایک ایسی زندہ حقیقت ہے جسے شاید کبھی جھٹلایا نہیں جاسکے گا جبکہ یہاں مشعال کے والد کو ابتک انصاف نہیں ملا ہے۔

 اکثر میرے دوست مسکراتے ، خوش ، خوش آتے ہیں اور مجھے بتلاتے ہیں

“ہم روانہ ہورہے ہیں”

“کہاں ؟”

میں ان سے پوچھتی ہوں  ” کہاں جارہے ہو تم ؟ کہاں دوبارہ ؟”

کچھ کہتے ہیں ” ڈھاکہ ” بعض کہتے ہیں “لندن ” اور کچھ کا جواب ہوتا ہے ” امریکہ “

وہ اپنا پاسپورٹ نکالتے ہیں اور ويزا آفس کی طرف دوڑ لگاتے ہیں ، ڈالر خریدتے ہیں اور اپنے سوٹ کیس پیک کرلیتے ہیں

اس سے مجھے وہ دن یاد آتا ہے جب میں نے اپنا سوٹ کیس پیک کیا تھا اور یہاں تک کہ یہ طیارے میں لوڈ بھی کردیا گیا تھا – وہ 23 جنوری کا دن تھا

میرے ساتھ شمس الرحمان  ، بلال چودھری اور ربیع الحسین تھے -ہمیں ابری تلوک  ( پوئٹری ریڈنگ سوسائٹی ) کی جانب سے دعوت ملی تھی اور خود سمیتا مترا کولکتہ یہ دعوت نامہ دینے ہمیں آئے تھے -اصل میں یہ میرا گھر تھا جہاں یہ میٹنگ ہوئی اور ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اس وفد میں کسے شامل ہونا ہے

میں بہت پرجوش تھی اور ڈھاکہ جانے کے لیے میں نے ایک ہفتہ بیلے سٹریٹ میں ڈھاکہ میں اپنے دوستوں کو تحفے دینے کے شاپنگ کرتے گزارا تھا

میں نے کلکتہ سے مشہور جمدانی ساڑھی اور کرتے ، کچھ کتابیں ، شانتی نگر منڈی کی معروف خشک مچھلی ،مکتا گاچا  کے پیڑے ، کڑھی ہوئی رضائیاں اور بہت ہی خوبصورت آم کے اچار کے جار خرید کئے تھے -کلکتہ تو خود پیار کے بوجھ سے ہلکان تھا جو کسی سوٹ کیس میں سما نہیں سکتا تھا

بلاشبہ میں بہت خوش تھی ، میں شمس الرحمان کو لینے ان کے گھر گئی ، ان کا ٹکٹ لیا اور ان کے پاسپورٹ پر ویزہ لگ چکا تھا اور ان کو لیکر ائر پورٹ روانہ ہوگئی

ڈھاکہ تو میرا اپنا شہر ہے ، تمام شاعروں کو میں خود یہاں لاسکتی تھی ، ایک ہاتھ میں ہمارے بوڑنگ کارڑ تھے اور دوسرے ہاتھ سے میں اپنے سوٹ کیس کی پٹی کو تھامے ہوئے تھی جبکہ اس کی دوسری پٹی شمس الرحمان کے ہاتھ میں تھی اور ہم سب امیگریشن بورڑ کی طرف بڑھ گئے ، میں نے خوشی سے اپنے جھولتے بیگ کی جانب خوشی سے دیکھا اور پاسپورٹ امیگریشن کاؤنٹر پر کھڑے اہلکار کی طرف بڑھا دیا

میری دلچسپی یہ تھی کہ کسی بھی طرح سے میں ڈھاکہ ڈم ڈم ائرپورٹ پر اتروں اور وہاں سے شہید مینار چاؤں ، پارک سٹریٹ میں آوارہ گردی کروں اور کالج سٹریٹ ، گاڑی ہاتھ  اور دیناج گھوموں

اس دوران اہلکار نے میرا نام پاسپورٹ پر دیکھا اور پینٹ کی جیب سے ایک سلپ نکالی اور پھر اپنے افسر کی جانب دوڑ گیا اور وہ دونوں گیٹ کے قریب ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے رہے اور پھر امیگریشن افسر آگے بڑھا اور میرے سامنے آگیا

اس نے پوچھا کہ

کیا آپ یہیں کام کرتی ہیں

” ہاں ” میں نے جواب دیا

” کہاں “

” ڈھاکہ میڈیکل کالج “

” کیا آپ کے پاس نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ ہے ؟ “

“نہیں ، میرے پاس نہیں ہے”

میں نے مختصر جواب دیا

” اس صورت میں آپ تو نہیں جاسکتیں ، اس نے تیزی سے جواب دیا “

تو ، ہم سب اس کے کمرے تک آئے – ہوسکتا ہے کہ وہ ایسے فرد کو روکنے پر افسردہ ہو جو کہ وفد کی قیادت کررہا تھا جو کہ شاعروں کی کانفرنس میں شرکت کرنے کلکتہ جارہا تھا جبکہ وہ بہت سے چوروں اور نوسربازوں  کو جانے کی اجازت دیتا تھا

اس نے کہا  ” میں آپ لوگوں کو جانے کی اجازت دے سکتا ہوں اگر کوئی میرا اوپر والا افسر مجھے ایسا کرنے کو کہے “

اس نے مجھے فون دیا – اس کو بہت تیزی سے کالیں آرہی تھی اور وہ جواب دے رہا تھا ” جی سر ، ہم نے انھیں روک دیا ہے -” ” وہ اب میرے بالکل سامنے بیٹھیں ہیں “

وہ اسی طرح سے جی سر ،  جی سر کی گردان کررہا تھا – اسی دوران اس نے ٹیلی فون میری جانب بڑھایا

شمس الرحمان اور بلال چودھری کسی ٹاپ کے افسر کو تلاش کررہے تھے باری، باری ۔۔۔۔۔۔۔۔

دم سادھے اور وہ ان کے درمیان بول رہے تھے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلتھ سیکرٹری ہمارا دوست ہے وہ بھی لکھاری ہے ، اکر وہ مل جائے تو پھر کوئی پرابلم نہیں ہوگا ” آئی جی پولیس سے رابطے کی کوشش  بھی کی گئی لیکن وہ بھی موجود نہ تھا – پھر منسٹر ، وہ کلکتہ سے باہر گیا ہوا تھا –  وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور میں نے اپنے آپ سے کہا ” شانت رہو ” یہ بھی گزر جائے گا “

آخر کار سیکرٹری سے رابطہ ہوگیا – شمس الرحمان کہہ رہا تھا ” ہم ڈھاکہ جارہے ہیں ، مگر وہ ” ن ” کو جاننے نہیں دے رہے ” دوسری طرف سے جواب آیا  ” ن  “نہیں جاسکتی

اس نے مزید کہا کہ وہ سروس سے جلد ہی ریٹائر ہونے والا ہے اور اس سے پوچھا جاسکتا ہے کہ اس نے اسے جانے کیوں دیا جب کہ اس کی کتابوں کو ضبط کرنے کا پروسس جاری تھا ؟ افسر کو کہا گيا کہ مجھے نہ جانے دیا جائے -میرے گرد ہر ایک شئے گھوم رہی تھی اور میرے سامنے سب منظر تھے ———امیگریشن کا کمرہ ، اس کی دیواریں ، امیگریشن سے پاس ہوتے ہوئے خوشی سے قدم اٹھاتے ہوئے لوگ ، میرے گرد جمع شاعر ، بعض خوش اور بعض اداس ، میرا خوش کن خواب مکمل طور پر بکھر چکا تھا –  اميگریشن نے مجھے ایک قدم بھی آگے بڑھانے نہ دیا -جہاز کی روانگی کا اعلان ہوا -تب بلال چودھری نے کہا “وہ بھی نہین جارہا ہے ” شمس الرحمان نے کہا  ” وہ بھی واپس جائے گا ” – ” ہم یہ معاملہ حل کریں گے اور تب دوپہر کی فلائٹ سے جائیں گے یا کل کی فلائٹ پکڑیں گے -” ان  کے ان جملوں کو سنکر میری آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے اور میں نے  روہانسی ہوکر  ان سے درخواست کی ” وہ میری وجہ سے کیوں لیٹ ہوں ؟ آپ جاؤ ، میں بعد میں آپ کے پیچھے آجاؤں گی ” ہمارے وفد میں سے ایک نے ان کا ہاتھ تھاما اور  ان کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا ” آؤ نا – جہاز بس اڑنے کو ہے “

وہ سب چلے گئے اور  پیچھے مجھے تنہا چھوڑ گئے -میں بالکل تنہا تی ، بہت تنہا ، میں اس قدر دل برداشتہ تھی کہ پوٹ پھوٹ کر رونے کے قریب تھی ، میرے سامنے ائر پورٹ کا سارا ہجوم تھا -اور تھوڑی دیر بعد مجھے لگا کہ اگر میں یونہی اس ہجوم کو جاتے دیکھتی رہی تو میرے اندر سے دکھ کا طوفان پھوٹ پڑے گا اور میرے غم کا سیلاب بہہ کر سب کے سامنے آجائے گا ۔۔۔۔۔میرے خوابوں کا محل میرے گرد ایسے بکھرا پڑا تھا جیسے شیشے کا کوئی گھر کرچی کرچی ہوگیا ہو اور سارے ائرپورٹ نے اس شیشے کے کرچی کرچی ہونے کی چیخ نما آواز سنی ہو

انھوں نے میرا پاسپورٹ واپس نہ کیا – افسر نے ایک سلپ میری طرف بڑھائی اور کہا ” کل سپیشل برانچ کے دفتر چلی جانا اور پاسپورٹ لے لینا ” اس وقت مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ میرا اصلی پاسپورٹ بھی واپس نہیں کریں گے -اگلی صبح میں سپیشل برانچ کے دفتر گئی اور ان سے اپنا پاسپورٹ مانگا – وہ مسکرائے اور کہنے لگے  ” ابھی انکوائری چل رہی ہے “

” انکوائری ! کس چیز کی ؟ ” میں پزل ہوگئی تھی –

 ” وہ آپ کی کتابیں پڑھ رہے ہیں “

سپیشل برانچ کے افسر نے جواب دیا

میں نے انکوائری افسر کے ڈیسک پر اپنی کتابوں کو رکھا ہوا دیکھا – وہ میری کتابوں کو پڑھ رہا تھا اور کچھ عبارتوں کو سرخ پنسل سے نشان  بھی لگارہا تھا -مجھے اپنی کتابوں کی اس انکوائری کی سمجھ نہ آسکی تھی

انھوں نے وضاحت کی ” ہمیں ان باتوں کو نشان زد کرنے کو کہا گیا ہے جو تم نے مذھب کے بارے میں کہی ہیں  ” ، میں نے اپنی طرف سے بنگال کی ہیلتھ منسٹری کو چھٹیوں کی درخواست دی تھی ، لیکن چیف سیکرٹری نے مجھے چھٹی نہیں دی اور یہی جواب دیا تھا

 ”  میں اس پر دستخط اسی وقت کرسکتا ہوں جب حکام بالا مجھے ایسا کرنے کو کہیں گے “

اور وہ منظوری کبھی نہیں ملی -وجہ ایک مرتبہ پھر وہی تھی کہ میں نے م کے بارے میں کوئی خوفناک چیز لکھ دی تھی

احتجاجا میں نے حکومتی نوکری سے استعفی دے ڈالا اور تب مجھے پتہ چلا کہ ، میرے مستعفی ہونے کے اعلان والے خط کی بنیاد پر وہ پوسٹ کسی اور ڈاکٹر کو دی جاچکی تھی ، اگرچہ میرا استعفی منظور کرنے کا اعلان کبھی کیا ہی نہیں گیا تھا ، کیونکہ اگر میرے مستعفی ہونے کا باقاعدہ نوٹیفیکشن جاری کیا جاتا تو مجھے پاسپورٹ واپس کرنا پڑتا اور اسی لیے وزرات صحت کے سیکرٹری نے ایسا کوئی بھی لیٹر شایع ہی نہیں کیا ،پچھلے سات ماہ سے میں اپنے پاسپورٹ کی واپسی کی درخواست کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن ابھی تک تو میرے استعفی کا خط موصول ہونے کا اعلان بھی نہیں کیا گیا تھا – اس وقت میں نہیں جانتی تھی ، لیکن اب میں سمجھ گئی ہوں ، حکام بالا کو سب علم تھا اور کوئی تھا جو ان پر اثر انداز ہورہا تھا -تو میں اپنا پاسپورٹ حاصل نہ کرسکی ، اور اب تک میں اس کے بغیر ہوں !

ایک ماہ سے میں نے اپنا  اٹیچی کیس نہيں کھولے تھے -ان پر ائر لائن  کے لگے سٹیکر رات دن میری نظروں کے سامنے گھومتے رہتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ان کو چھوتی تو میرا پرانا درد لوٹ آتا اور وہ خواب جو بکھر گیا اس کی کرچیوں سے میرے دل میں ٹیسیں اٹھتی تھیں ، میں  جو صبح آٹھ بجے روز ہسپتال جایا کرتی تھی ، صبح سویرے اٹھ جاتی ، اپنے اپرین  اور سٹتھو سکوپ کی ضرورت محسوس کرتی – پرانی عادات مشکل سے ہی پیچھا چھوڑتی ہیں ، ایک آدمی گھر بالکل ہی فارغ بیٹھا رہے تو اسے بہت بوریت ہوتی ہے ، میرے ہاتھ کسی مریض کی نس میں تھائی  پونٹل ، سپ ہیش میتھونیم کے ساتھ ملاکر انجیکٹ کرنے کو بے چين ہوتے اور اس کو نائٹرس آکسائیڈ کی ایک حواب آور ڈوز دینے پر اکساتی رہتیں ، یہ ایسے نہیں تھا جیسے کہ ایک آدمی کو مجبوری میں حکومتی ہسپتال میں ڈیوٹی دینے جانا پڑتا ہو تاکہ بے مار کا علاج کیا جائے ، میں خود واقعی کسی کلینک میں بیٹھنا چاہتی تھی اور غریبوں کا مفت علاج کرنا چاہتی تھی – لیکن کیا یہ ان حالات میں ممکن تھا ؟  کیا مجھے وہاں پریکٹس کرنے کی جگہ ملے گي جہاں میں نے اپنی تربیت کے دن کزارے تھے ؟  کیا بیماروں کا علاج کرنے دیا جائے گا ؟

ان کا علاج جو تشنج کا شکار ہیں ،ری ٹینڈ آنول کی بیماری کا شکار ہوں ، پرولیپس یوٹیرس یا زچگی کے دوران کسی پیچیدگی کا شکار ہوں کا علاج کرنے دیا جائے گا ؟

تو کیا مجھے واپس اسی جاب پر آنے دیا جائے گا کہ نہیں یا مجھے کسی بھی جاکر سیٹل ہونے کی اجازت ملے گی کہ نہیں ؟ لیکن میرے ساتھ تو اچھوتوں جیسا سلوک روا رکھا جارہا تھا -اگر کسی کے ساتھ محبت اور ہمدردی کے باعث میں اپنا ہاتھ کسی دوسرے انسان کے سر پر رکھ دوں ، دل پر رکھوں یا اس کی کمر پر  تو وہ میرا سر ادھیڑ ڈالیں گے اور اور شہر کے کسی چوراہے میں میرے لہو ، لہو سر کے گرد خوشی سے بھنگڑا ڈالیں گے -جس طرح میں جیناچاہتی ہوں وہ مجھے ایسے جیتا دیکھنا نہیں ، وہ اپنی منشاء کے خلاف مجھے دائیں یا بائیں ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے ، میرا راستہ ہر طرف سے بند کریں گے تاکہ میں سیدھی منہ کے بل گروں ، مجھے گڑ گڑا کر معافی مانگتے دیکھ کر خوش ہوں گے ایسے گڑگڑاؤں کہ میں گھٹنوں کے بل جھک جاؤں – اس منظر سے ان کی آنکھیں  چمک جائیں گی اور  کلیجے میں ٹھنڈ پڑ جائے گی -لیکن میرا کیا ہوگا ؟ وہ شخص جو آزادی کو جسم و روح کے ساتھ چاہتا ہو اور اس سے خوش ہوتا ہو اس شحض کے ساتھ کیا ہوتا ہے ؟ میں عورت کو آزادی سے باہر آتے دیکھنا چاہتی ہوں ؛ میری خواہش ہے کہ کمزور اور مجبور خود کو بااختیار کریں – تو کیا یہ میرا جرم ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کہ میں دوسروں کو زنجیریں توڑ ڈالنے کو کہتی ہوں ؟ اور اب کیا مجھے پھر سے اپنے وجود کو ایک  نہایت حقیر زرے میں بدلنا ہوگا ؟

کیا میرا یہ حق نہیں ہے کہ میں خوش رہوں ، اپنی پسند کے دریا کے کنارے بیٹھوں اور اداسی سے ماضی کی یادوں کو دوہراؤں ؟ اور یونہی چلتے پھرتے لوگوں کو دیکھوں ؟ اگر میں لوگوں کو دیکھ نہ پاؤں جیسے کہ میں انھیں دیکھتی تھی تو میں لکھ کیسے سکتی ہوں اور اپنے اردگرد کی دنیا کو اکر کھوم پھر کر نہ دیکھ سکوں تو مجھے زندگی کا تجربہ کیسے حاصل ہوگا ؟ یہ ایک اور طریقہ ہے میرے قلم کو ناکارہ بنانے کا

مجھ سے اپنے ہی ملک کی زمین پر اپنی مرضی سے چلنے کے حق سے محروم کردیا گیا ہے -مجھے  اپنی میڈیکل پریکٹس کرنے کا حق کیوں نہیں ہے ، کیوں مجھے نقل و حرکت کی آزادی نہیں ہے اور مجھے زندگی کے حقیقی تجربے سے روشناس ہونے کا حق کیوں نہیں ہے -مجھے اپنے کیس  کی فائل کی حکام بالا تک جانے کی خبریں ملتی ہیں اور

وہ کوئی لوپ ہول تلاش کررہے ہیں -ٹاپ باسز مجھے سخت سزا دینے کے راستے تلاش کررہے ہیں اور ان میں کوئی بھی میری شہریت پر مبنی حقوق مجھے لٹانے پر تیار نیں ہے

میں جو بھی قدم اٹھاتی ہوں وہ کانٹوں سے بھرا ہے ,مجھے لگتا ہے کہ میں جو قدم اٹھاتی ہوں وہ کھائی کی سمت جاتا ہے ، ہر قدم پر موت میری جانب جھپٹتی ہے

بنگلہ بک فئیر میں پل پڑنے والا ہجوم ہے اور اسی دوران کوئی آگے آتا ہے اور غیظ میں بھری  سرخ آنکھیں مجھے دکھاتا ہے – میں دیکھ سکتی ہوں کہ وہ مجھے کیا بتانا چاہتے ہیں -یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ” ن  پر جبر کرو کمیٹی ” بنائی ، کتاب میلے میں میری کتابوں کو سرعام جلایا اور ہر ایک سٹال پر گئے اور ان کو کہا کہ اگر انھوں نے میری کسی کتاب کو وہاں رکھا تو وہ سٹال جلادیں گے

جب 21 فروری کی رات کو ہمارا گروپ بنگالی شہیدوں کی یادگار پر آگ جلاتا تھا تو سینکڑوں لوگ مجھ پر حملہ آور ہوگئے اور میں درختوں کے نیچے کھڑے چند نامور ادیبوں کو اس صورت حال سے لطف اٹھاتے دیکھ سکتی تھی اور وہ ادھ کھلی آنکھوں کے ساتھ شانت کھڑے تھے اور مٹی کے پیالوں  سے چائے کے گھونٹ بھر رہے تھے ، وہ لوگ جو میرے تعاقب میں تھے انھوں نے پتھراؤ شروع کردیا ۔ بلب ٹوٹ گیا اور ہم سب اندھیرے میں ڈوب گئے ، اندھیرے میں ان کی خوفناک آنکھیں ، تیز کچکچاتے دانت اور پنجے مجھے نظر آرہے تھے اور اس رات انھوں نے اپنی طرف سے مجھے چیڑ پھاڑ ڈالتے اگر پولیس مجھے آکر نہ بچاتی ، بعد میں پولیس نے بھی آنکھیں  دکھائیں اور مجھے بتایا ‘ اس قسم کے حادثے تمہیں پیش آتے رہیں گے اگر تم مذھب کے بارے میں لکھتی رہوگی  اور یہ سب ٹھیک نہیں ہے – اگر تم وہ سب تلف کرڈالو تو تمہارا پاسپورٹ تمہیں واپس مل جائے گا، تمہاری کتابیں ضبط نہیں ہوں گی اور کوئی تم پر پتھر نہیں مارے گا اور تم آزادی سے گھوم پھر سکو گی ” لیکن اگر میں اپنی مرضی سے لکھ نہ سکوں ، تو کیا مجھے لکھنا ضروری ہے؟ کیا مجھے ایک لکھاری کہلانے کا خبط ہے ؟ ایسا لکھاری جیسے وہ اس دن درخت کے نزدیک سکڑ کر کھڑے ہونے والے تھے؟  نہیں ، ایسا لکھنا جو مجھے مسرت دیتا ہو اور وہ میرے لیے موت لے آئے تو میں مرجانا پسند کروں گی -آخر کسی دن تو مجھے مرنا ہی ہے

لیکن کیا مجھے خوف کے باعث خود کو سکیڑ لینا چاہئيے ؟ یہ میرے لیے بہت ہی شرم کا مقام ہوگا

میری کتاب  “ل ” پر پابندی لگادی گئی اور سہلٹ میں کچھ لوگوں نے مجھے گرفتار کرکے پھانسی پر چڑھانے کا اعلان کیا ، انھوں نے میری کتابوں کو جہاں ملیں جلانے کو کہا اور یہاں تک کہ میرے سر کی قیمت پچاس ہزار روپے مقرر کرڈالی -حکومت نے اپنے لب سختی سے بند کررکھے ہیں گویا اس ملک کے ہر شہری کا بنیادی حق ہو کہ میرے سر کی قیمت مقرر کرے -حکومت نے میرے باہر جانے پر پابندی عائد کردی-اور اب اندرون ملک میری نقل و حرکت پر پابندیاں چند قدم کے فاصلے پر ہیں ، تاکہ میں اپنے کمرے تک محدود کردی جاؤں اور ایک طرح سے یہ گھر پر نظر بندی ہوگی تو ہوسکتا ہے دن بدن مجھے مکمل طور پر تنہا کردیا جائے اور مجھے بوسیدہ کردیا جائے تاکہ میں الگ تھلگ کرکے تنہائی میں  اپنے کمرے میں مرجاؤں-اور یہ کہ میرا زھن اور دماغ دونوں شل ہوجائیں اور میرے قلم کو زنگ لگ جائے اور ان کا خیال ہے کہ شاید اس طرح میں ان کی طاقت کے آگے سرنگوں ہوجاؤں-بہت سے لوگ مجھے ان کے فنکشنوں میں شرکت کے لیے کہتے ہیں -وہ چٹاکانگ یونیورسٹی سے راجشاہی تک ، کھلنا سے اور بریسال سے آتے ہیں :مجھے ان کو بتانا پڑتا ہے ” میں نہیں آؤں گی ” مجھے ان کو نہ کہنا پڑتا ہے -کیونکہ آٹو گراف کے متلاشیوں کے پیچھے میں اپنے خون کے پیاسے بھیڑیوں کو زبانیں نکال کر اپنی طرف جھپٹتے دیکھ سکتی ہوں

بہت عرصہ تک میں نے اپنے گھر کی کھڑکی کھلی رکھی لیکن اب میں ایسا نہیں کرسکتی

مرد ایس بی سے آتے ہیں اور مجھ سے وضاحت کرنے کو کہتے ہیں کہ

‘بے ش” ابتک کیوں بک رہا ہے اور میں نے  “پھ ” ناول کیوں لکھا ؟

میرا یہ جواب کہ یہ سوال اس کو شایع کرنے اور بیچنے والوں سے پوچھنا چاہیئے بھی مجھ سے اس کا جواب اور وضاحت دینے پر اصرار کرتے ہیں

مشکلات ہیں کہ ختم ہونے کو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک دن مجھے جنوبی بنگال سے ایک کال آئی اور کال کرنے والے نے مجھ سے پوچھا

” کیا اپنے ایک انٹرویو میں میں نے یہ کہا ہے کہ م اور ش کے اداروں کو ختم کردینا چاہئيے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے کہا کہ آپ کو اس سے کیا مطلب تو کہنے لگے کہ ہمیں وزرات داخلہ نے ایسی تحقیق کرنے کو کہا ہے ، میں حیران ہوگئی کہ وزرات داخلہ کو میری کہی کسی بات بارے پوچھ پڑتال کی ضرورت کیوں پڑگئی

کیا مجھے لکھنا یا سوچنا بھی وہ پڑے گا جسے وہ مناسب خیال کرتے ہوں گے ؟ اور اگر میں ایسا نہیں کروں گی تو مزید انکوائریاں ہوں گی اور کسی دوسرے کیس کی فائل میرے خلاف کھولی جائے گی

کھلی فضا میرے لیے نہیں ہے ، مجھے اپنی ساری زندگی بس خود اپنے ساتھ بیٹھ کر گزارنا ہوگی ایسے کہ بند دروازے اور بند کھڑکیاں ہوں

میرے خیر خواہ میرے پاس آتے ہیں اور مجھے  ہوشیار رہنے کا کہتے ہیں ، ، گھر سے کم ہی نکلا کرو ، ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے ، وہ کسی وقت بھی کچھ کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” لیکن میں نے کیا کیا ہے کہ جو میں نہ ٹرین میں چڑھ سکتی ہوں اور نہ ہی  کسی بس میں ؟میں گلیوں میں تنہا یا ہجوم میں کھلے عام پھر نہیں سکتی کیوں ؟ بک شاپس ، کتب خانے ، تھیڑ ہال  ۔۔۔۔۔۔۔کوئی جگہ میرے لیے محفوظ نہیں ہے ، کیوں ؟

یہاں تک کہ میں اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں ہوں ، نہ اس کمرے میں جہاں میں سوتی ہوں ، لکھتی ہوں

مجھے کبھی بھی بم سے اڑایا جاسکتا ہے

وہ کسی بھی وقت میرا سر قلم کرسکتے ہیں اور اپنی جیت پر ہرا کی آواز لگاسکتے ہیں

حقیقت میں ، میں نے کیا کیا ہے ؟ ساری ریاست میں ایک ہنگامہ مچا ہوا ہے

کیا میں نے کوئی بہت غلط کام کیا ہے ؟

کیا م اتنا ہی نحیف و کمزور ہے کہ وہ ن کے قلم سے موت کے گھاٹ اتر جائے گا ، وہ جو اس کو بچانے کے لیے چیختے چلاتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ کس قدر غیر محفوظ  ہے اور اسی وجہ سے مجھ پر بھی چلاتے ہیں

تو کیا وہ وقت آنہیں گيا کہ اس بے اختیار اور بے طاقت چیز کو ختم کردیا جائے ؟ کیا ہمیں ابھی ایک صدی اور انتظار کرنا پڑے گا ؟ کیا ہم اس شرمناک ورثے کو اگلی نسل کے لیے چھوڑ کر پرلوک سدھارنا چاہتے ہیں ؟ پھر دوبارہ کب متحد ہوں گے ؟ اور کتنا خون ہمیں دوبارہ متحد ہونے کے لیے بہانہ پڑے گا ؟ کتنے گھروں کو شعلوں کی نذر کرنا ہوگا ، کتنے کمروں کو جلانا ہوگا ؟ کتنے باغوں کو جلاکر راکھ کرنا ہوگا ؟ اور کتنے ذھنوں کو تباہ کرنا ہوگا ؟

وہ مجھے پاکستان کا جاسوس کہتے ہیں ، ملحد کہتے ہیں ، مجھے آئی ایس آئی کا کارندہ بتلاتے ہیں اور ایسی بہت سی کہانیاں پھیلاتے ہیں

مجھے ملحد کہے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن مجھے پاکستان کا ایجنٹ کہلائے جانے پر اعتراض ہے  ، کیا ایسے مائنڈ سیٹ کے ہوتے ہوئے کیا کسی کو اپنی آواز اٹھانے کی جرات کرنی چاہئیے ؟ کیا کوئي رجعتی طاقتوں کے خلاف ایسی فضا میں اٹھے گا -کیا کوئی ٹیگور کے گیت گائے گا ؟اور کیا بنگالیوں کے اتحاد کی آواز اٹھانا جرم ہے ؟ تو جو کوئی بنگالی ہونے پر فخر کرے اور اس کو فوری طور پر پاکستان کا ایجنٹ قرار دیا جائے تو کیسے کوئی آواز بلند ہوگی

میرے احتجاج کی پرواہ کون کرتا ہے ؟ میں نے بنگالی سماج میں ہندؤ مذھب کے بیوپاریوں کی جانب سے عورتوں کو داسی بنائے رکھنے پر آواز بلند کی اور مغرب و مشرق کے بنگالیوں کو ایک ہونے کو کہا تو غلط کہا ؟

میرے احتجاج کی پرواہ کون کسی کو نہیں ہے

یہ فیصلہ کیا جاچکا ہے کہ ن کو پھانسی پر چڑھا دیا جائے ؟

میں اپنی زندگی کی بساط کو لپٹتا ہوا دیکھ سکتی ہوں

ایک دعوت نامہ لاس اینجلس سے آیا ہے اور مجھے بنگلہ سیملن (بنگالی کانفرنس ) میں خطاب کی دعوت دی گئی ہے

یہ دعوت اس عورت کو دی گئی ہے جسے سفر کرنا مرغوب ہے ، لیکن جس کا پاسپورٹ ضبط ہو

چکا ہو ، وہ کیسے کہیں جاسکتی ہے

میرے لیے لاس اینجلس ، نیویارک ، واشنگنٹن ، ڈلاس جانا کچھ زیادہ معنی نہیں رکھتا لیکن میرے لیے اپنے کلکتہ سے ڈھاکہ جانا ، ڈھاکہ کے شہید مینار پر ریڈ سن پر آگ جلانا ، دھان منڈی میں بنگلہ  بندھو کی رہائش کی زیارت کرنا ، اپنے میمن سنگھ جانا بہت معنی رکھتا ہے اور مجھے قلق ہے کہ مجھے وہاں جانے سے روکا گیا ہے

میں یورپ اور امریکہ کی دیوقامت عمارتوں ، کیسنیو ، میوزیم کو کھلے منہ کے ساتھ حیرت سے  دیکھنے کی بجائے  سونار بنگلہ کے دریاؤں کے درمیان مانجھی کے ساتھ ہلکورے کھاتی کشتی میں بیٹھ کر زیادہ خوش ہوں گی

مجھے اپنے کلکتہ  میں چت پور کی گلیوں میں ننگے پاؤں چلنا زیادہ عزیز ہے اور چورنگی کے اوپر ٹریفک کا اژدھام اور لوگوں کے درمیان رہنا جن کی بنگلہ بھاشا مجھے سمجھ آتی ہے کو سننا زیادہ مرغوب ہے

جب شاعروں کا گروہ ڈھاکہ سے ” شاعری کانفرنس سے لوٹ آیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ

نندن آڈیٹوریم میں آج کل کیا چل رہا ہے ؟ کون کون سے شاعروں نے کلام پڑھا ؟ بدھ کی خصوصی رات کو کیا ہوا؟ شیشر مانچھا میں کون سے ڈرامے اور کھیل سٹیج پر دکھائے گئے ؟

ڈھاکہ میں سری کیسی تھی؟ انھوں نے جو کہا اس سے میری پیاس ختم نہ ہوئی مگر مجھے لگا کہ اگر ڈھاکہ کے بارے میں اور کچھ کہا تو وہ مجھے فوری طور پر خالدہ ضیاء کی ایجنٹ کہہ ڈالیں گے ، اب مجھے نہیں پتہ کہ وہ جگہ جو کبھی تمہاری اپنی تھی تقسیم کی لیکر کھنچ جانے کے بعد اس سے اظہار محبت کے لیے وہاں کی حکومت کا ایجنٹ بننا لازم ہوتا ہے

 کیا مجھے اپنے دریا شیٹلاکیشیا سے محبت سے بھی دست بردار ہوجانا  چاہئیے کیونکہ وہ بھی تو زیادہ بنگلہ دیش سے کزرتا ہے

میں تو 90 کروڑ بنگلہ بولنے والوں کو بنگالی خیال کرتی ہوں

میں ” ہم ” اور ” وہ ” کی اصطلاح مغربی و مشرقی بنگال کے لیے بے معنی خیال کرتی ہوں

  بلکہ میں تو کہتی ہوں کہ کوئی دن جاتا ہے جب بنگالیوں کے درمیان قائم ہونے والی یہ دیوار برلن ٹوٹ جائے گی اور مشرق و مغرب کے بنگالی ایک ہوجائیں گے اور یہ نام نہاد مذھبی تفریق پر مبنی ان دیکھی دیواریں بھی گرادی جائیں گی

 یہ دھان کے کھیت ، آم کے باغات ، ناریل کے درخت سب بنگالیوں کا سانجھا ورثہ ہے

ایک دن آئے گا جب بنگالی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر بونگاؤں سے بینابول تک ، رنگ پور سے کوجی بہار تک ، میگھالے سے ہالو گھاٹ تک ، شیلانگ تامبل تک اور بوٹ مان سے نیچے پدما دریا تک اور وہاں سے دریا گنگا کے پھیلاؤ تک بھٹیالی ٹون میں مانجھی کا گیت گاتے چلیں گے

میں ایسے ہی خواب کے ساتھ جیتی ہوں جو میرے دل میں جاگزیں ہے

سات ماہ سے اپنے پاسپورٹ کی منتظر میں یہاں محصور ہوں

میں بے مقصد اس شہر کا چکر لگاتی ہوں ،میرے دوست بیرون ملک جاتے ہیں اور میں ان کو رخصت کرنے ائرپورٹ تک جاتی ہوں

میں دیکھ سکتی ہوں کہ سنتریوں کی بندوقیں میری جانب تنی ہیں ، جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ زرا ان کی مقرر کردہ لائن عبور کرکے دیکھو

میں ایسا اس لیے سمجھتی ہوں کہ ایسی کوئی حدیں میں نے اپنے لیے مقرر کی نہیں ہیں جسے وہ حدیں سمجھتے ہیں اور اپنی ڈیوٹی کررہے ہیں

ابھی کچھ دن بعد مغربی بنگال میں میرے خلاف عام ہڑتال کی کال دی گئی ہے ، حکومت سے ان کا مطالبہ ہے کہ مجھے پھانسی پر لٹکایا جائے تو اس دن تمام ٹرینیں بند ہوں گی ، بسیں نہیں چلیں گی ، دفاتر اور کاروباری مراکز ، اسکول کالجز سب بند ہوجائیں گے

پھر حکومت کے پاس میری پھانسی کی تاریخ  اور وقت مقرر کرنے کے سوا کوئی راستہ بچے گا نہیں

 اگر میری موت سے بنگالی ایک متحدہ ملک کے شہری بن جاتے ہیں تو میں  مسکراتے ہوئے پھانسی کے پھندے سے  جھول جاؤں گی اور میں اپنی جان دینے کو تیار ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  پیسوں کے لیے نہیں بلاکہ عقلیت پسندی اور انسانیت  پسندی کے لیے