یمن کی آدھی آبادی خوراک کی کمی سے مررہی ہے

Related image

 

 

 

انیس اپریل کی شام سعودی طیاروں نے یمن کے صوبہ حاج کے دارالحکومت میں ایک شادی کی تقریب پہ مزائیل برسائے جس میں دلہن سمیت 20 افراد ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی تھی۔ جبکہ سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس کا ہدف حوثی قبائل کی تنظیم کے سپریم پولیٹکل کونسل کے ڈپٹی چیف صالح عبدالصمد تھے۔لیکن اس حملے میں ایک بار پھر عورتیں، بچے اور سویلین مرد نشانہ بنے ہیں جو کہ یمن پہ مسلط جنگ کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

پاکستان کے سوشلستان میں یمن پہ ہوئے اس سعودی فضائی حملے میں عورتوں اور بچوں کے مارے جانے کی خبر پہ کوئی زیادہ ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا۔ چند ایک لیفٹ، پروگریسو اور شیعہ و صوفی سنّی ایکٹوسٹ کے علاوہ کسی نے یمن پہ ہوئے تازہ سعودی فضائی حملے پہ وہ ردعمل نہیں دیا جو عام طور پہ گزشتہ دنوں افغانستان کے صوبہ قندوز کے ایک گاؤں میں ایک مدرسے پہ افغان فوج کی بمباری کی خبر حفاظ بچوں کے مارے جانے پہ دیکھنے کو ملا تھا۔

افغانستان میں  دو دن پہلے کابل میں دشت آرچی محلہ میں ہوئے ووٹر رجسٹریشن سنٹر کے سامنے کھڑے لوگوں پہ خودکش بم دھماکہ میں 61 افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ اس خودکش بم دھماکے میں مرنے والوں کی زیادہ تعداد افغان ہزارہ شیعہ برادری کی تھی۔اور ملکی و بین الاقوامی مین سٹریم میڈیا نے ان کی ہزارہ شیعہ شناخت کی جانب اشارہ تک نہ کیا۔

 اس حملے پہ بھی بولنے والوں کی بڑی بھاری تعداد اہل تشیع اور صوفی سنّی کمیونٹی کے چند ایک سوشل اکاؤنٹس کی تھی۔

جبکہ اسی دن کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس پہ دو ہزارہ شیعہ قتل اور ایک شدید زخمی ہوا۔ یہ واردات بھی شیعہ ہزارہ نسل کشی کا حصّہ تھی۔ لیکن مین سٹریم میڈیا نے حسب معمول ہزارہ شناخت کو ظاہر کی لیکن ان کی نسل کشی کی سب سے بنیادی وجہ ان کا شیعہ ہونے کی طرف اشارہ تک نہ کیا۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے فاٹا اور کے پی کے اور جنوبی بلوچستان کے اندر سے پشتونوں کی تحریک کے سامنے آنے کے بعد سے پاکستان میں لبرل اور لیفٹ کا ایک سیکشن خطے میں ‘طالبان دور’ کے خاتمے اور ‘مابعد طالبان دور’ کا نظریہ پیش کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اور اس سیکشن کے اندر سے یہ خیال بھی سامنے آرہا ہے کہ  جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف تحریک میں جامعہ حقانیہ ، سپاہ صحابہ اور طالبان نواز قوتوں کا تعاون بھی لیا جاسکتا ہے۔ اس وجہ سے پوری دنیا میں جہاد ازم اور تکفیر ازم کی علمبردار ریاستوں اور غیر ریاستی قوتوں کے مظالم کے خلاف سوشلستان میں دیسی لبرل، ان کی تقلید کرنے والے لیفٹ گروپ اور دیوبندی و سلفی سوشل اکاؤنٹس کی جانب سے ردعمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس سے پاکستان کے اندر پہلے سے موجود تقسیم اور گہری ہورہی ہے۔

اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ یمن، شام ، افغانستان اور خود پاکستان کے اندر جہاد ازم، تکفیر ازم اور امریکی-سعودی-برطانوی-فرانسیسی اتحاد کی پالیسیوں کے سبب جس خون آشامی کا سامنا ہے اس سے ہپنے پڑھنے والوں کو باخبر رکھا جائے تاکہ وہ پاکستان کو فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پہ تقسیم کرنے والی قوتوں کے ایجنڈے سے خبردار رہیں۔

امریکہ-سعودی قیادت میں یمن کے خلاف جنگ تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہے۔ کفن کی صورت جزیرۃ العرب میں موجود یمنی قوم اپنی بقا کی جنگ لڑرہی ہے۔اس کی خواہش ہے کہ مین سٹریم میڈیا بھی اس کی حالت زار پہ توجہ دے۔

مین سٹریم میڈیا پہ یمن کے پڑوسی ملک شام میں جاری جنگ کی خبریں چھائی ہوئی ہیں۔ روس کے ساتھ سرد جنگ جیسا تناؤ ،امریکی صدر کا ٹوئٹر اکاؤنٹ اور ان کی جنسی زندگی کی خبریں ہیں جن کو زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔

جب کبھی بین الاقوامی پریس یمن کی جنگ پہ روشنی ڈالتا ہے تو یہ اسے ایک فرقہ وانہ مسئلہ کے طور پہ پیش کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ایک ویڈیو گیم ہے جس میں ایرانی پراکسیز سعودی عرب کے خلاف لڑرہی ہوں اور انسانی خون تو یہاں بہہ ہی نہ رہا ہو۔

لیکن مڈل ایسٹ کے سب سے غریب  ملک میں حقیقی طور پہ جو ہورہا ہے وہ ہماری انسانیت کا حقیقی امتحان ہے۔ یہ ایک حقیقی آفت ہے۔ مصاغب اور موت کا سب سے بڑا طوفان اور ایسی بڑی نسل کشی ہے جیسی آپ نے کبھی نہ سنی ہوگی۔

زرا ان کھلے حقائق کو دیکھیں:

یمن کے لوگوں کے پاس نہ خوراک ہے، نہ ہی پانی اور نہ دوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 28 ملین کی آبادی میں آدھی سے زیادہ آبادی خوراک کی کمی کا سامنا کررہی ہے۔ بین الاقوامی امدادی رضاکاروں کے اندازے کے مطابق صرف گزشتہ ایک سال میں بھوک سے ڈیڑھ لاکھ یمنی مارے گئے۔ غیر سرکاری تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق 130 بچے روز مررہے ہیں اور زیادہ تر بچے سعودی عرب کی جانب سے بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی وجہ سے مررہے ہیں۔

اس کے علاوہ آدھے سے زیادہ ملک کا صحت کا انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے۔ سعودی عرب ہسپتالوں پہ فضائی حملے کررہا ہے، جہاں پہ زخمیوں کے علاج کے لیے ادویات نایاب ہیں۔ جبکہ ان حملوں کو امریکہ اور برطانیہ کی 26 مارچ 2015ء سے حمایت حاصل ہے،جب ان حملوں کا آغاز ہوا تھا۔

یمن میں مرنے والوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ ہلال احمر کو ہسپتالوں کو مردہ خانے عطیہ کرنا پڑ رہے ہیں۔ اور یہی نہیں کہ فوجی حملوں سے اموات میں بے تحاشا اضافہ ہوا بلکہ اس فوجی مہم جوئی نے نہ صرف القاعدہ کو مضبوط کیا ہے بلکہ گروپ کو رائٹر خبررساں ایجنسی کے مطابق اور زیادہ امیر کردیا ہے۔

سعودی عرب یمن کے کسی بھی سفارتی حل کو بلاک کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ ریاض نے اقوام متحدہ کودی جانے والی تمام تر امداد اس وقت روک دینے کی دھمکی جب اقوام متحدہ سعودی عرب کو ‘بچوں کے خلاف جارحیت’ کرنے والے ممالک کی فہرست میں اس کا نام ڈالنے جارہی تھی۔ اور اس طرح سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پہ دی جانے والی امداد کو اس نے موثر ہتھیار کے طور پہ استعمال کیا۔

صورت حال ناقابل تصور حد تک بدترین ہوسکتی ہے۔ کیونکہ باراک اوبامہ نے اپنی صدارت کے آخری دنوں میں سعودی عرب کو وائٹ فاسفورس بیچ دی تھی۔

اقوام متحدہ کے ہیومن ٹیرین چیف مارک لووک نے گزشتہ مہینے ‘الجزیرہ’ نے کہا تھا کہ یمن میں صورت حال قیامت جیسی لگتی ہے۔

 

Advertisements

Attiya Kufi: Courtesan Historians Could Not Defeat Him

%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%b9%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%b1%d8%a8%d9%84%d8%a7%d8%a1

 

 

When I was trying to clean grime from history of Kufa and wanted to prove that there are hundreds of  people from Kufa having enlightened faces in Kufan history then many forgotten and forgiven faces and characters of history came on surface. Attiya Aufi/Kufi is one of those explored enlightened faces and characters, which was consciously forgotten but forgiven by so called mainstream tradition of history. I explored Attiya Aufi during my research on journey of Jabir bin Abdullah Al-Ansari (Died 78 H) to Karbala in Iraq to visit grave of Imam Hussain (R.A) in holy month of Safar-ul-Muzaffar. I was curious to know that why Jabir bin AbdullaH in very old age decided to go to Iraq from city of Madina and to pay tribute Imam Hussain (R.A) and why he choose the day of 20th Safar when 40 days had been completed of Martyrs in Karbala? I was reading travelogues of those people who were on their way to Karbala to pau tribute Imam and his comrades on Arbaeen( 40th day of Martyrdom of Imam Hussain (R.A). I wanted to hear from them something about Attiya Kufi/Aufi (Died 111 H). Attiya was first person and disciple of Jabir bin Abdullah who narrated whole story of journey of Jabir bin Abdullah because he was himself co-traveler of Jabir bin Abdullah. But some people just only mentioned his name while describing the journey of Jabir bin Abdullah to grave of Imam Hussain (R.A). We meet Attiya Aufi as true follower of Imams of House of Muhammad(Ahlebait) who says,

 

رايت عليا خير من وط‏ى‏ء الحصى       واكرم خلق اللّه من بعد احمد

وصي رسول اللّه وابن عمه              وفارسه المشهور في كل مشهد

تخيره الرحمن من خير اءسرة                 لاطهر مولود واطيب مولد

اذا نحن بايعنا عليا فحسبنا              ببيعته بعد النبي محمد

 

When I started enquire into statements and commentary on Attiya Aufi by  mainstream history writers of Muslim Arab history then I saw there same tendency to seek some lame excuses for their rejection, forgiven of all those personalities who were in camp of Imams of House of Muhammad. They made much effort to declare Attiya Aufi weak but they could not blame on him of lie. They called him “Weak in narrating saying of Muhammad ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) and reason in their eyes was his adherence to or bonding with camp of Imam Ali ( R.A). In their thoughts Attiya Aufi was waek because he was inclined to Shiite. Nobody should interpret here word of ‘Shiite’ into Rawāfiḍ as in our age Takfiri Deobandis and Salafis interpret it. Why mainstream Muslim historian called him Shiite? Renown Shafi’I scholar Allama Ibn-i-Hajar Asqalani quoted Al-Saji in his book Tahzeeb-ut-Tahzeeb:

 

كان يقدم عليا على الكل

His faith was that Ali is most superior among all followers of Muhammad PBUH.

This quote shows that Attiya Aufi in fact was among those people who always preferred Imam Ali in case of dignity, knowledge etc  over all other companions R.A of Hazrat Muhammad PBUH. But Question is that was Attiya was only one who thought so? Attiya Aufi was not Sahabi means companion of Hazrat Muhammad PBUH but in fact he was Tabaie —- companion of companion of Hazrat Muhammad PBUH. There are many names of great companions of Hazrat Muhammad PBUH we find in books of history who were Preferentials تفضیلی  like Ammar Yasir, Miqdad, Salman farsi. Jabir bin Abdullah Al-Ansari himself a Preferential تفضیلی  according to historian. We can understand why Attiya became forgiven but forgotten page of History. Another question is that why some mainstream historian could not reject him totally while calling him Liar کازب   or کذّاب  ? In my thought this was  Muhammad Ibn Sa’ad ibn Mani Az Zuhree ( Died 230 H) who made this impossible for coming mainstream scholar while praising Attiya Aufi as:

 

و كان ثقة ان شاءاللّه، وله احاديث صالحة

He (Attiya Aufi ) was authentic and he narrated pious sayings from Hazrat Muhammad PBUH.

So courtier Muslim historian just called him weak narrator راوی   and not called him liar or accused of lie متھم بالکذب  . Every that scholar, researcher and narrator of history in the eyes of courtesan historians was weak and forgiven, rejected person due to his or her link with House of Muhammad PBUH particularly with Imam Ali (R.A), Attiya Aufi was also victim of courtesan tradition of history writing. Today on occasion of Arbaeen I like to show enlightened face of Attiya Aufi.

On 20th Safar second month of Islamic calendar when 40 days had been passed after tragedy of Karbala,This was renown old age companion of Hazrat Muhammad PBUH Jabir bin Abdullah (Died in 78 H) visited grave of Imam Hussain. This was age of governorship of Obaidullah bin Zayad and Camp of Imam Ali in Iraq was in great repression, oppression and restrictions. Those who dared to show their support, adherence, bonding with Imam Ali or Imam Hussain either sentenced of putting him into prison or directly killed. Every person who refused to declare Imam Hussain  a rebellion of so called Islamic Caliphate was also state enemy and stern action was taken against such person. There was like a Martial Law situation in Iraq. There was still strict surveillance on Iraqi people. So in such condition journey of Jabir bin Abdullah has some special purpose and aim. Jabir bin Abdullah did not came alone to Karbala. His disciple Attiya Aufi was also along with him, who narrated this journey in detail.

Here it is very necessary to know about Attiya Aufi so that we can examine that process which paved way to transform event of visiting grave of Imam Hussain by Jabir bin Abdullah into a great event or ceremony of offering tribute Imam Hussain and their comrades  called Arbaeen or Arbaeen-i-Karbala.

 

There are very rare young persons who know something about Attiya Aufi. And I have mentioned above that big reason which made Attiya Aufi a lost page of Muslim history. His complete name was Attiya bin Saad bin Junadah. His father was companion of Hazrat Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  and from tribe of Jadila and He رضی اللہ عنہ  was first person from Ta’if who had accepted Islam. His father also close companion of Imam Ali-R.A. He went Iraq along with army of Imam Ali and fought War of Camel, Siffin, Neharwan along with Imam Ali. Attiya Aufi was born in last days of Caliphate period of Imam Ali-R.A. In books of Muslim history we find that father of Attiya came and informed Imam Ali about birth of his son and ask him to suggest a name for his newborn baby. Imam Ali called that baby a gift from God,and suggest name Attiya for him. So Attiya opened his eyes in a house of companion of Hazrat Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  and he was trained by that person who was very close to Imam Ali. After Imam Ali Attiya Aufi adopted company of Jabir bin Abdullah. Strange thing is that all historians and compilers of Ahadiths included him in disciples of Jabir bin Abdullah but did not tell us detail how he went Madina and joined study circle of Jabir bin Abdullah. My view is that when Moavia came in power after withdrawal of Imam Hassan then perhaps Attiya’s family  dicied to quit Kufa and went Madina and there in Madina Attiya joined circle of disciples of Jabir bin Abdullah. Attiya got Knowledge of Islamic history,Tafseer, Hadith, Quran and others branches of Islamic Knowledge from Jabir Bin Abdullah and also from Abdullah bin Abbas. His Tafseer-i-Quran was published in three volumes from Kufa. History tells us that Attiya Aufi like his father have great faith in Imam ali and other Imams of House of Muhammad. He was very vocal in support of camp of Imam Ali in Iraq. This was his bonding with Imam Ali and his camp which forced historians from courts of Umayyad and Abbasid to declare his opinion or narration –  روائت unacceptable in legal and faith matters while they wrote him ‘Weak’ – ضعیف .  but not a single historian from primary sources dared to write him ‘liar’ or accused of lie-  مھتم بالکذب. But Now-e-days we see Salafi or Deobandi historians or propagandists who not only reject Attiya Aufi but write him Rawfidi and thus distort personality of Attiya Aufi completely.They try to sideline Attiya Aufi and to make him less important or try to hide him from public in Muslim history. Wahhabi and Neo Deobandi camp funded by Saudis is running organized campaign against every that person who was in camp of Imam Ali in the days of Fitna. This camp never describe greatness of Jabir bin Abdullah and even avoids to mention of Jabir bin Abdullah. Saudi Camp spent its whole energy either to hide or to prove false the news of arrival of Jabir bin Abdullah along with Attiya at grave of Imam Hussain on 20th Safar. Salafi and Deobandi writers funded by Saudi Arabia in fact try to hide faces of real culprits involved in tragedy of Karbala and obfuscate identity of those people who committed heinous crimes against House of Muhammad while discrediting those personalities who honestly compiled Muslim history and never gave walkover to those culprits who killed thousands of people of Iraq just due to their love for Imam Ali and other members of House of Muhammad. Attiya Aufi is also victim of this false engineering made by Salafis and Deobandis. Modern Neo Deobandis and Salafis belong to Takfiri Fascism try to show events like Ashura or Procession of Milad and Arbaeen isolated from mainstream Islam and reject every tradition supporting these things.

 

Arrival of Jabir bin Abdullah at grave of Imam Hussain on 20th Safar,61 H was not such news  easily ignored. Jabir bin Abdullah has very special status in Islamic society. He was very active in Madina after withdrawal of Imam Hussain in support of House of Muhammad and Imam Ali. He set up a study circle in Mosque of Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  and he roamed in streets of Madina city particularly he contacted to Ansar of Madina and asked them to educate their children for love and respect of Imam Ali and his family. That was the era in which  Umayyad rulers have ordered their governors to force people to curse Imam Ali and his family. An organized campaign of character assassination of Imam Ali was in full swing not only in Hijaz but in Iraq and Syria also. To praise and to show love for Imams of House of Muhammad were unforgiveable crimes in eyes of Umayyads. Many Companions of Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  adopted silent path and they neither cursed Imam Ali and his family nor they stood against rulers of Umayyad. But Jabir bin Abdullah did not remain silent on this. He started a campaign for Imam Ali and his family. He started to narrate all those things which he had heard from Hazrat Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  in praise of Imam Ali, Imam Hassan, Imam hussain and others. When people ask him about Imam Ali then he says, Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  declared Imam Ali the best and most superior  man among all companion of mine and if you deny this then you are not true Muslim. So we can say that Jabir bin Abdullah was prominent leader of camp of Imam Ali in Madina and Attiya Aufi was also in that camp. To visit grave of Imam Hussain and paying him tribute from Jabir bin Abdullah was act to discredit all those effort of cursing Imam Ali and his family made by rulers of Umayyads. Rulers of Umayyad also saw Attiya Aufi as very dangerous man for their rule. Great Sunni historian Muhammad bin Saad registered an incident in his famous book Tabqaat-ul-Kabeer:

 خرج عطيّة مع ابن الأشعث على الحجّاج، فلمّا انهزم جيش بن الأشعث هرب عطيّة إلى فارس. فكتب الحجّاج إلى محمّد ابن القاسم الثقفي أن ادْعُ عطيّة فإن لعن عليّ بن أبي طالب وإلا فاضْرِبْه أربعمائة سوط واحْلق رأسه ولحيته. فدعاه فأقرأه كتابَ الحجّاج فأبَى عطيّة أن يفعل، فضربه أربعمائة وحلق رأسه ولحيته. فلمّا ولي قُتيبة خُراسان خرج عطيّة إليه فلم يزل بخراسان حتى ولي عمر بن هُبيرة العراق، فكتب إليه عطيّة يسأله الإذن له في القدوم فأذن له، فقدم الكوفة فلم يزل بها إلى أن توفّي سنة إحدى عشرة ومائة.

Attiya Aufi stood against Al-Hajjaj ibn Yusuf  along with army of Al-Ash’ath ibn Qays, When army of Al-Ash’ath ibn Qays defeated then Attiya fled to Persia. al-Hajjaj ibn Yusuf wrote a letter to his nephew Muhammad bin Qasim ( Yes, this is same Muhammad bin Qasim who is hero of Deobandis, Salafis and Jamat Islami Pakistan) and asked him to invite Atiyya Aufi and to order him to curse Imam Ali and if he would deny to do so then hit him four hundred sticks and saved his beard and head. Muhammad bin Qasim called Attiya and read letter of al-Hajjaj ibn Yusuf Attiya denied to curse Imam Ali and accepted 400 lashes and shaving his beard and head as punishment. When Qutayba ibn Abī Ṣāliḥ Muslim ibn ʿAmr al-Bāhilī became governor of Khurasan Attiya went there. When  Umar ibn Hubayra al-Fazari became governor of Iraq, he allowed Attiya to come back Kufa. Atiyya came in Kufa and remained there till his death. So we can see that Attiya faced great hardship, exile and punishment of lashes due to just only his bonding with Imam Ali and his family. He denied to compromise and to adopt silent path. Keep in your mind that incident mentioned above is in very authentic book al-Tabaqat al-Kabir and this book was compiled by Abū ‘Abd Allāh Muḥammad ibn Sa‘d ibn Manī‘ al-Baṣrī al-Hāshimī(Died 230H) and he has great status in Sunni School of thought. This book is so important that Sunni scholars managed to write its various copies.

https://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_Sa’d

https://ar.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%A8%D9%86_%D8%B3%D8%B9%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%AF%D9%8A

 

 (وتظهر أهمية كتاب الطبقات في كونه حوى كثيراً من الفنون العلمية في شتى الميادين المتخصصة، مما أهّله ليكون مرجعاً أساسياً لدى العلماء والباحثين، فهو مرجع أساسي في سيرة المصطفى وغزواته، ومعرفة دلائل نبوّته وشمائله، وهو مرجع أساسي في معرفة السنن والآثار لاشتماله على كمّ هائل من أقوال الصحابة والتابعين- بالإضافة إلى الأحاديث-، وهو مرجع أساسي في معرفة تراجم الرواة وأحوالهم وأنسابهم، ومنزلتهم في ميزان الجرح والتعديل، هذا فضلاً عن كونه مرجعاً أصلياً في علم الطبقات. فهو كتاب ينهل منه المحدّث والفقيه والمفسّر والمؤرخ والنسّابة والواعظ والداعية، وغيرهم. ولأجل هذا وغيره فقد اهتم العلماء بكتاب الطبقات اهتماماً كبيراً)

So this was Attiya Aufi who was co-traveler of Jabir bin Abdullah and preserved whole narration of this journey. Attiya Aufi describes, “that I accompanied Jabir bin Abdullah Ansari for the pilgrimage to the grave of Imam Husayn (a.s.). When we entered Karbala, Jabir went towards the river Euphrates and performed bath. Then he wore his pants and placed a robe upon his shoulders, and then he opened a purse of Sa’ad (a perfume) and applied it upon his body. He then started glorifying Allah at each step until he reached the grave, then he told me, “Bond me to the grave”. I joined him to the grave and he fell down unconscious upon it. I sprinkled water upon him and he regained consciousness while repeating thrice “O Husayn”! Then he said, “Why does the friend not reply to his friend? How could he reply when the blood of his neck lies smeared upon his throat, while there is separation between his head and body? I bear witness that you are the son of the best of women. And why would it not be so, when you have been fed by the hands of the Master of the Prophets, and brought up in the laps of the pious, and have consumed milk from the breasts of faith and you weaned along with Islam. You died in chastity as you lived in chastity, while the hearts of the believers are aggrieved due to your separation and there is no doubt in your fruitful end. Thus peace of Allah and His Paradise upon you! I bear witness that you have treaded the path similar to your brother (Prophet) Yahya bin Zakariyyah”. Then he turned his eyes upon the grave and said, “Peace be upon the souls that descended near the grave of Husayn (a.s.) and sat their camels thereat! I bear witness that you established the Prayers and you gave the Zakat, and you invited towards virtue and forbade against evil, and you fought against the pagans and worshipped Allah until death approached you. By Him Who sent Muhammad (S) rightly as a Prophet, we are associated with you in the struggle of yours”.

 

Atiyyah says that hearing this I asked, “How are we associated with them? When we did not alight at any valley or mountain, nor did we raise the swords. While these martyrs gave away their heads and bodies and are now separated from their children, while their women have been widowed?”

 

Jabir replied, “O Atiyyah! I have heard my friend, the Prophet of Allah (S) say, that those who love some men, they shall arise along with them, while those who are pleased at the task of the nation, remains associated with them in their task. By Him Who sent Muhammad (S) rightly as a Prophet! My intention and those of my companions are similar to that of Husayn (a.s.). Now take me to the houses of Kufa”.

 

When we had paved a short distance, he said, “O Atiyyah! I recommend to you, and I do not perceive that I shall meet you again after this journey, befriend the friends of the Progeny of the Prophet (S), and how I befriend them! And bear enmity with the enemies of the Progeny of the Prophet who bear enmity with them, although they be one of those who fast and remain awake at night (in worship). Then be merciful towards the friends of the Progeny of Muhammad (S), for if one of their feet slips due to access sins, the other one will remain steadfast due to their affection. Their friends shall return back to Paradise and their enemies to hell”.

 

This is very important story which was told us by Attiya Aufi and this story built mythology of Arbaeen and now this event has become global event. For Shiite and Sunnis its important has religious meaning but for whole humanity this event is source of showing their solidarity for all oppressed people in the world.

 

حافظ سعید : سعودی عرب کو کہو یمن پہ جارحیت بند کرے

hafiz-saeed

Meet Hafiz Saeed of the banned #LeT/#JuD – UN-designated terrorist but an academic in Pakistan… and then we wonder where we went wrong—– Tweet By Journalist Bilal Faroqui

 

جمعہ کا دن تھا اور یہ ناصر باغ لاہور تھا جہاں پہ “تحفظ حرمین شریفین تحریک ” کے نام سے لشکر طیبہ عرف جماعت دعوۃ نے ایک جلسے کا اہتمام کررکھا تھا-اس جلسے میں تمام سلفی وہابی اور کالعدم دیوبندی تنظیم اہلسنت والجماعت کے علاوہ جماعت اسلامی پاکستان بھی شریک تھی-جبکہ شرکاء جلسہ کی خدمت کے لئے اسی لشکر طیبہ کا ایک اور سوشل فیس فلاح انسانیت فاؤنڈیشن بھی موجود تھا-اس جلسے میں شریک ویسے تو سبھی مقررین نے جھوٹ کے انبار لگائے لیکن حافظ سعید صاحب نے تو جھوٹ بولنے کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور پھر اس جھوٹ کو سوشل میڈیا پہ اتنی تیزی سے پھیلایا گیا کہ مجھے خود حیرت کا سامنا کرنا پڑا-یمن کے حوالے سے حافظ سعید نے سب سے بڑا جھوٹ تو یہ بولا کہ یمن میں حوثی قبائل جن کو وہ باغی کہتے ہیں ، مکّہ مکرمہ پہ حملہ کرنے کی سازش کررہے ہیں-یہ ساری کہانی سعودی عرب کے حکمران شاہی خاندان نے بنائی ہے تاکہ اس طرح سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل کئے جائیں اور یمن بارے اصل حقائق کو چھپا لیا جائے

آل سعود کی محبت میں اور ریال خوری کے مرض میں مبتلا پاکستان کی اسٹبلشمنٹ نواز اور نواز و شہباز کے دست کرم سے فیض یاب ہونے والی دیوبندی اور سلفی جماعتوں کو مڈل ایسٹ میں آزادی اور جمہوری حقوق کی تحریکوں کے خلاف مروڑ اٹھتے رہتے ہیں-بحرین کے شیعہ اور اہلسنت ملکر اپنے جمہوری حقوق کے لئے اور ملوکیت و بادشاہت کا خاتمہ کرنے کی تحریک چلاتے ہیں تو ان کو آزادی کی یہ تحریک اس لئے پسند نہیں آتی کہ اس تحریک کی چابی سعودی عرب کے فنڈڈ تکفیری دہشت گردوں کے پاس نہیں ہے-سعودی عرب کو شام کے اندر ایک پرامن جمہوری حقوق کی تحریک پسند نہ آئی تو وہاں خون خوار تکفیڑي دہشت گرد لے گئے اور پورے شام کو کھنڈر بناڈالا-اور ہمارے ہاں سعودی نمک خواروں نے شام کے اندر ” سنّی نسل کشی ” کا شور مچاڈالا-آج یہ جماعتیں یمن کے حوالے سے جھوٹ بولنے کے ریکارڈ قائم کررہی ہیں-شام کے بارے میں مغربی پریس کی رپورٹس کو بشار الاسد کو بھیڑیا ثابت کرنے کے لئے دلیل کے طور پہ پیش کرنے والی ان جماعتوں کی سوشل میڈیا ٹیم اسی مغربی پریس کی یمن بارے رپورٹوں کو چھپاتی ہے

حافظ سعید اور ان کی جماعت ایک طرف تو پاکستان کے اندر ” عسکریت پسندی ” کو جہاد کا نام دیکر نوجوانوں کو ریڈیکلائز کرتی ہے اور ساتھ ساتھ وہ پاکستانی سماج کی وہابیانہ شدھی کرنے کا کام بھی کررہی ہے-ریاست کی غیر منتخب ہئیت مقتدرہ اور منتخب ہئیت مقتدرہ میں نواز شہباز کمپنی اس کی پوری سرپرستی کررہی ہے-دوسری طرف یہ تنظیم دیوبندی تنظیم اہلسنت والجماعت المعروف سپاہ صحابہ کے ساتھ ملکر نام نہاد دفاع پاکستان کونسل بنائے ہوئے جو پاکستان کے اندر طالع آزما جرنیلوں کی ” اسٹرٹیجک گہرائی تلاش کرنے کی پالیسی ” کے پوری طرح سے قائم و دائم رکھنے اور ریاست کے ترقیاتی ماڈل پہ اختلافی آوازوں کو اپنی مذہبی جنونیت سے دبانے کا کام کررہی ہے-تیسری طرف یہ تنظیم پاکستان کے سعودی عرب کے مفادات کی پاسداری اور ان مفادات کو آگے بڑھانے میں ایک بڑے پریشر گروپ کے طور پہ کام کررہی ہے-پاکستان کے اندر سعودی عرب دیوبندی اور اہلحدیث وہابی تنظیموں کے زریعے سے ریاست اور سماج پہ اثر انداز ہونے کے لئے بڑے پیمانے سرمایہ فراہم کررہا ہے-اور اس سرمائے نے غیر دیوبندی مسلمانوں اور اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنارکھی ہے

یمن پہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد کے حملوں کو جاری ہوئے 19 ماہ ہوگئے ہیں اور یہ قریب قریب تین سو ایک دن بنتے ہیں-ان تین سو ایک دن میں یمن پہ سعودی عرب کی قیادت میں ہونے والے حملوں کا نتیجہ کیا نکلا ہے ،اس بارے ہم کسی ایرانی نیوز سورس کا حوالہ دینے کی بجائے ، سعودی عرب کے سب سے بڑے اتحادی ملک امریکہ کے سب سے بڑے اخبار نیو یارک ٹائمز میں شایع ہونے والے ایک آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہیں ، اس آرٹیکل کا عنوان ہے

 

Saudis Are Killing Yemen’s Civilian With US weapon

U.S. Fingerprints on Attacks ObliteratingYemen’s Economy

سعودی یمن کے شہریوں کو امریکی ہتھیاروں سے قتل کررہے ہیں -یمن پہ حملوں پہ امریکی نشانات موجود ہیں  جوکہ وہاں کی معشیت کو تباہ کررہے ہیں

اس آرٹیکل کی ذیلی سرخی کچھ یوں ہے،

The Saudi-led coalition is hitting civilian targets, like factories, bridges

and power stations, that critics say have no clear link to the rebels.In the rubble, the remains of American munitions have been found.

سعودی قیادت میں بنا فوجی اتحاد سویلین اہداف کو نشانہ بنارہا ہے، جیسے کارخانے، فیکڑیاں اور بجلی گھر، ناقدین کہتے ہیں ایسے حملوں کا باغیوں سے کوئی بھی لنک واضح نہیں ہے جبکہ ملبے میں امریکی اسلحے خول باقاعدہ پائے گئے ہیں

نیویارک ٹائمز کا مضمون نگار اپنے اس آرٹیکل میں لکھتا ہے ،

It has hit hospitals and schools. It has destroyed bridges, power stations, poultry farms, a key seaport and factories that produce yogurt, tea, tissues, ceramics, Coca-Cola and potato chips. It has bombed weddings and a funeral.

 

یعنی سعودی فوجی اتحاد نے ہسپتالوں اور اسکولوں کو نشانہ بنایا ہے-اس نے پلوں، بجلی گھروں ، پولٹری فارم ، ایک انتہائی اہم بندرگاہ ، دہی ، چائے ، ٹشوز، سرامکس ، کوکا کولا اور آلو چپس بنانے والے کارخانوں کو تباہ کردیا ہے-اس اتحاد نے شادی اور جنازے دونوں طرح کی تقریبات پہ بم برسائے ہیں-

 

The bombing campaign has exacerbated a humanitarian crisis in the Arab world’s poorest country, where cholera is spreading, millions of people are struggling to get enough food, and malnourished babies are overwhelming hospitals, according to the United Nations. Millions have been forced from their homes, and since August, the government has been unable to pay the salaries of most of the 1.2 million civil servants.

بم گرانے کی اس سعودی مہم نے عرب دنیا کے سب سے غریب ترین ملک میں انسانی بحران کو اور شدید کردیا ہے، جہاں ہیضہ پھیل رہا ہے-لاکھوں لوگ پیٹ بھر کھانے کی جدوجہد کررہے ہیں-غذائی کمی کے شکار بچوں سے ہسپتال بھرتے جارہے ہيں- مضمون نگار کہتا ہے یہ انسانی المیہ وہ ہے جس کا اعتراف خود یو این او نے کیا ہے-لاکھوں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں اور حکومت کے پاس اپنے 12 لاکھ سرکاری ملازمین کو ان کی تنخواہ دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں

 

Publicly, the United States has kept its distance from the war, but its decades-old alliance with Saudi Arabia, underpinned by tens of billions of dollars in weapons sales, has left American fingerprints on the air campaign.

امریکہ نے اعلانیہ عوام کے سامنے تو خود کو اس جنگ سے فاصلے پہ رکھا ہے، لیکن سعودی عرب کے ساتھ کئی عشروں پہ محیط اتحاد کے سبب دسویوں ارب ڈالر کا اسلحہ امریکہ سعودی عرب کو فروخت کرتا آیا ہے اور اسی سے یمن پہ سعودی عرب کے حملوں کی کمپئن پہ امریکی انگلیوں کے نشان ثبت ہیں

 

یہ مضمون نگار ہمیں بتاتا ہے کہ یمن پہ جن طیاروں سے بم برسائے جارہے ہیں وہ امریکہ سے خرید کردہ ہیں اور ان کو اڑانے والے پائلٹوں کو بھی امریکیوں نے ہی تربیت دی ہے اور ان طیاروں کو فضاء ہی میں فیول / ایندھن امریکی طیارے ہی فراہم کرتے ہیں-اور اس مضمون نگار نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ یمن پہ سعودی عرب کے حملوں کا بغور جائزہ لینے والے تجزیہ کار اب اس بات پہ متفق ہیں کہ یمن کی معاشی تباہی اور سویلین انفراسٹرکچر پہ بمباری سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی اور پالیسی ہے-اور سعودی فوجی اتحاد کی یمن پہ بمباری سے شہریوں کی اموات کی شرح اتنی بڑھی ہے کہ خود امریکی کانگریس پرسن اس پہ چیخ پڑے ہیں- ڈیموکریٹک کانگریس مین اور ویمن کے ساتھ ساتھ سنٹرز بھی سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے پہ پابندی لگانے کا مطالبہ کررہے ہيں-مضمون نگار نے حوثی قبائل اور سابق یمنی صدر صالح عبداللہ کی افواج کے زیر کنٹرول علاقوں کا دورہ کیا تو وہاں انہوں نے سعودی عرب کی بمباری سے پھیل جانے والی تباہی کا اپنی آنکھوں سے نظارہ کیا اور یہ بات درج کی ہے سعودی بمباری نے عام آدمی کو تباہی کے کنارے پہنچادیا ہے-

 

اس ساری تفصیل سے کم از کم یہ پتا چل جاتا کہ جو کہانی حافظ سعید ہمیں ” یہود و نصاری و ہنود ” کی سازش کے نام پہ حرمین شریفین کو حوثی قبائل سے خطرات ہیں سناتا رہتا ہے ،وہ ایک بڑے جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے-یمن پہ پاکستان کے اندر حافظ سعید ، محمد احمد لدھیانوی جیسوں کی غلط بیانی کے کارن بہت سے سلفی اور دیوبندی نوجوان ریڈیکل ہو گئے ہیں-اور کوئی پتہ نہیں ہے ان میں سے کتنے نوجوان پاکستان میں دہشت گردی کے تکفیری ڈسکورس کو اپنا چکے ہیں

 

ریاست جب تک جماعت دعوہ ، اے ایس ڈبلیو جے اور دیگر نام نہاد جہادیوں اور تکفیریوں کی سرپرستی کرتی رہے گی تب تک پاکستان میں نوجوانوں کی ریڈیکلائزیشن ، شیعہ ،صوفی سنّی نسل کشی ، اقلیتوں پہ حملے ختم نہیں ہوں گے

 

adnan-khan-kakar-mukalima-3-150x150

شاید آپ میں سے بہت سے افراد کے لئے یہ بات تحیر خیز ہو کہ سنہ 651 عیسوی میں حضرت عثمانؓ کے دور میں ایران کی فتح مکمل ہونے سے لے کر سنہ 1510 تک تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال تک ایران ایک سنی اکثریتی ملک تھا۔ شیعہ موجود تھے مگر ان کی تعداد کم تھی۔ اور پھر 1487 میں شاہ اسماعیل صفوی پیدا ہو گیا۔

“میں ایک سنّی ہوکر عثمانی ترک کے جرائم کا زمہ دار نہیں ہوں،جیسے شیعہ صفوی بادشاہوں کے جرائم کے ذمہ دار نہیں ہیں”

میں اپنے پڑھنے والوں سے معذرت خواہ ہوں کہ میں نے ایک ایسی اصطلاح میں بات شروع کی جو واقعی ایک کمیونسٹ کو زیب نہیں دیتی-لیکن مجبور ہوں کہ اس طرح سے بات شروع کئے بنا معاملہ سمجھ میں آنے والا نہیں ہے- “ہم سب” ایک ویب سائٹ ہے جس پہ عدنان خان کاکڑ نام کے ایک قلم کار کا مضمون شایع ہوا ہے-مضمون کا عنوان (جوکہ ایڈیٹر کی صوابدید ہوا کرتا ہے چاہے اس کا انتخاب خود مضمون نگار نے ہی کیوں نا کیا ہو) ” ایران سنّی اکثریتی ملک سے شیعہ اکثریتی ملک کیسے بنا” ہے- یہ عنوان اگر دیوبندی جہادی اخبار “ضرب مومن ” یا روزنامہ (دیوبندی سعودی) اسلام ” کے ادارتی صفحے پہ شایع کاکڑ کے مضمون کا ہوتا تو مجھے حیرانگی نہیں ہونی تھی لیکن مدیر ہم سب وجاہت مسعود اس مضمون کا یہ عنوان رکھا رہنے دیں گے،اس پہ مجھے تھوڑی سی حیرانی ہوئی ہے-اور یہ مضمون معمول کے دنوں میں شایع ہونے والا کوئی تحقیقی سا بے ضرر مضمون نہیں ہے-بلکہ یہ ایک ایسے وقت میں شایع ہوا ہے جب اکتوبر اور نومبر کے مہینے میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ اپنے عروج پہ ہے اور کم از کم 12 شیعہ ابتک صرف اکتوبر اور نومبر کے پہلے ہفتے میں مارے جاچکے ہیں اور متعدد عورتوں اور بچوں کو بھی اس دوران نشانہ بنایا گیا جو زخمی ہوئے-جبکہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی ایک ایسی حقیقت بنکر سامنے آئی ہے جس سے اب پاکستان کا مانا تانا لبرل پریس بھی انکاری نہیں ہے اور وہ اس کے پیچھے تکفیری دیوبندی ازم کو دیکھتا ہے جس کی سب سے بڑی علامت اہلسنت والجماعت / سپاہ صحابہ پاکستان ہے

And when we look at the wreckage left by murderous destruction by terrorism, often we find the existing or former activists of these very groups being responsible for it.Everyone who is anyone in Lashakar-e-Jhangvi,or Lashkar-e-Jhangvi Al-Alami,has at one stagebeen associated with Spiah-e-SahabaPakistan and,by extention,with its reincarnation, Ahl-e-Sunnat Wal Jammat,which was the main participant in the gathering at the capital.(Age Of Apathy –Editorial Herald Nov,2016,p12)

عدنان کاکڑ کا مضمون ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے،

“شاید آپ میں سے بہت سے افراد کے لئے یہ بات تحیر خیز ہو کہ سنہ 651 عیسوی میں حضرت عثمانؓ کے دور میں ایران کی فتح مکمل ہونے سے لے کر سنہ 1510 تک تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال تک ایران ایک سنی اکثریتی ملک تھا۔ شیعہ موجود تھے مگر ان کی تعداد کم تھی۔ اور پھر 1487 میں شاہ اسماعیل صفوی پیدا ہو گیا۔”

ااتفاق کی بات ہے کہ میری نظر سے جب یہ جملے گزرے تو اس وقت میں امر حانا فتوحی کی کتاب ” ان ٹولڈ سٹوری آف نیٹو عراقی کلاڈین میسوپوٹومئین: 5300 بی سی-پریذنٹ ( مقامی عراقی کلاڈین میسوپوٹومئین کی ان کہی کہانی -53قبل مسحی سے حال تک )-اور اسے پہلے میں نے دو دستاویزی فلمیں مسلم ادوار میں افریقی سیاہ فام کی تجارت اور ان کی اس سے کہیں بہت خوفناک ٹرانس فارمیشن کی کہانی دیکھی جس کا تذکرہ عدنان کاکڑ نے اپنے اس مضمون میں کیا ہے-جن کو شوق ہو وہ دیکھنے کا وہ اس لنک پہ جاکر دیکھ سکتے ہیں:

Black African Slaves castrated by Muslims – Islam and slavery

https://www.youtube.com/watch?v=AQETbqyKHng&feature=youtu.be

Arab Muslim Slave Trade Of Africans: 140+ million slaves

https://www.youtube.com/watch?v=52qakhOYMwo&feature=youtu.be

تو اگر کوئی آپ کو یہ کہے کہ آپ کو یہ سنکر سخت حیرانی ہوگی کہ 1508ء سے پہلے اس وقت کے میسوپوٹیمیا اور آج کے نارتھ کردستان عراق میں کوئی ایک سنّی کرد نہیں تھا بلکہ وہاں کوئی مسلمان نہیں تھا بلکہ یہ ‏عثمان ترک تھے جنھوں نے کردوں کو وہاں لاکر بسایا تھا اور پرشیا و عراق کے درمیان ایک بفر زون قائم کیا تھا-اور یہاں سے دیکھتے ہی دیکھتے شامی کر‎سچن نہ ہونے کے برابر رہ گئے-شمالی افریقہ کے بہت سے مسلم اکثریت کے ملکوں میں مسلم اکثریت کی تاریخ کو بھی اسی طرح سے شروع کیا جاسکتا ہے-

آپ نے کبھی

Devshrim

کی اصطلاح سنی ہے ؟ اس کا انگلش میں مطلب ” اکٹھا ” کرنا ہے –اور اس کا عثمان ترک سلطنت میں کیا معانی تھے آئیں دیکھتے ہیں،

One of the most exotic Ottoman institutions used slavery to seek out persons of talent, with potential advantages for both the state and the slave. This was the “devshirme” or child-contribution, established in the middle 1300s.

When recruits for the military were needed, Christian boys were confiscated from the population as slaves and converted to Islam. While there were no regular timetables or set quotas, perhaps a thousand boys were taken on average per year. As slaves, these boys became absolute dependents of the sultan. They were not used for the army alone: after growing up and being trained, they took on all kinds of roles in the imperial establishment.

http://staff.lib.msu.edu/sowards/balkan/lecture3.html

بلقان نوآبادیوں (یونان،البانیہ،مقدونیہ ،بلغاریہ،رومانیہ، سربیا،مانٹیگرو،بوسینیا )سے ہر سال یا دو سے تین سال میں دیہی علاقو‎ں سے کرسچن کسانوں کے ایک سے دو ہزار بچّے سلطان مراد دوم کے دور میں زبردستی غلام بناکر لائے جاتے اور ان کا مذہب تبدیل کرکے ان کو مسلمان کیا جاتا اور پھر اوٹمان/عثمان ترک امپریلزم کی خدمت پہ وہ مامور ہوتے-یہ جو یوروپئین ترکی کہلاتا ہے یعنی بلقان یہاں مسلم اکثریت کا علاقہ بوسینیا ہرزگوینیا کیسے معرض وجود میں آگیا ، یہ کہانی سمجھنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے-ویسے ترک عثمانیوں کی سلطنت کے قیام سے میسوپوٹومیا میں بدو عرب قبیلوں، کردوں کی آبادکاری کیوں کی گئی اور اس سے کیسی ٹرانسفارمیشن ہوئی اس کے لئے آپ کو امر حانا فتوحی کی کتاب پڑھنا ہوگی-عثمان ترکوں کی ایک “ولایت( گورنریٹ ) دیار باقر ” تھی-یہاں 1894ء میں 25 ہزار اسارین کرسچن کو تہہ تیغ کردیا گیا تھا-اور آپ کو ” حمادین نسل کشی ” بارے کچھ پتا ہے؟ بس 80 ہزار سے 3 لاکھ اور بعض اندازوں کے مطابق دو لاکھ آرمینائی باشندے قتل ہوئے تھے-2493 گاؤں صفحہ ہستی سے مٹاڈالے گئے تھے-456 خاندان زبردستی مسلمان کرلئے گئے اور ایک لاکھ لوگ بدترین محاصرے کے سبب قحط سے مرگئے تھے-ترک عثمان جب میسوپوٹیمیا اور وسط ایشیا کے علاقوں پہ قابض ہوئے اور اناطولیہ وغیرہ ان کے قبضے میں آئے تو 14 ویں اور 15 ویں صدی عیسوی میں ان علاقوں کے شیعہ بشمول علاویوں پہ کیا گزری اس کا زکر بھی آپ کو حیرت زدہ کردے گا-اور ” حنفی فقہ ” کیسے اکثر علاقوں کی سرکاری فقہ اور پھر لوگوں کی اکثریت کے تعامل کی فقہ بن گئی اس بارے بھی کئی دلچسپ تاریخی اسٹڈیز موجود ہیں-سلجوق ترکوں کے زمانے میں بغداد کے محلہ کرخ اور کاظمین پہ منگولوں کے حملے سے پہلے کیا گزری تھی ؟ اس بارے بھی آپ کو بتاکر آپ کے خون کو کھولانا بہت آسان ہوسکتا ہے-آپ نے “بابک خراسانی ” کا نام سنا ہے؟ یہ ایرانی علاقوں میں ایک بہت بڑے حصّے کو عباسیوں سے آزاد کرانے میں کامیاب رہا تھا اور اس کی بغاوت کو وہاں کی مقامی آبادی کی حمائت حاصل تھی اور بابک خراسانی کی قیادت میں لوگوں نے آرتھوڈوکس سنّی اور شیعہ دونوں اسلام سے ہٹ کر اپنی ہی راہ اختیار کی تھی-یہ عباسیوں کے لئے بڑا سردرد بنا رہا-ویسے اولڈ خراسان کو مسلم بن قتیبہ نے فتح کیا تھا-یہ وہی سپہ سالار ہے جس نے مدینہ و مکّہ پہ چڑھائی کی تھی اور واقعہ حرہ ہوا تھا اور مدینہ کی مہاجر اور انصار صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی اولاد ميں سے 6 ہزار عورتوں کی عصمت دری اموی فوج نے کی تھی-کعبۃ اللہ کو آگ لگائی گئی اور مسجد نبوی کے صحن میں گھوڑے باندھ دئے گئے تھے-مرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میسوپوٹومیا ہو یا خراسان ہو یا اناطولیہ ہو اور اس سے آگے بڑھ کر بلقان ہو یا آج کے شمال افریقہ کے مسلم اکثریتی آبادی کے ملک ہوںےمیں کس کس مذھبی ٹرانسفارمیشن سے گزرے اور کیسے گزرے ؟ اور اس میں امویوں، عباسیوں، سلجوقوں ، آل بویۃ ، صفویوں ، عثمان ترکوں، ترکمانوں ، مںگولوں یا عرب ، ترک ، فارسی نسل کے حکمران خاندانوں کا کیا کردار تھا؟اسے سادہ سی معکوس راست مساوات یعنی سنّی-شیعہ میں بانٹ کر دیکھنے سے سوائے فرقہ وارانہ منافرت اور تقسیم بڑھنے کے اور کچھ بھی نہیں ہوگا-1874ء میں روہیلکھنڈ ریاست پہ انگریز، مرہٹہ ، شجاع الدولہ کی فوج (جوکہ شیعہ تھا ) نے ملکر لشکر کشی کی تھی اور روھیل کھنڈ کے اندر بسنے والے یوسف زئی اور بنگش سنّی پٹھانوں کے ساتھ کیا ہوا تھا؟یہ کسی سے ڈھکا چھپا ہوا نہیں ہے-سید احمد سرہندی مجدد الف ثانی نے “رد روافض ” رسالہ کن کے کہنے پہ لکھا تھا اور وسط ایشیاء کے سنّی ترکمان کو اس کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی ؟اس بارے بھی معلومات حیران کردینے والی ہیں

ایرانی شیعہ ایران میں رضا شاہ پہلوی کے خلاف ایک انقلابی جدوجہد میں کھڑے ہوئے تو حیرت انگیز طور پہ انہوں نے اسماعیل صفوی کے شیعی ورثے پہ سخت ترین تنقید کی-عدنان کاکڑ شاید ڈاکٹر علی شریعتی کو بھول گئے جن کی کتاب سرخ شیعت و سیاہ شیعت آج بھی لاکھوں شیعہ نوجوانوں کو ہی نہیں خود سنّی نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے-اورشاہ اسماعیل کو تو خود عراقی عرب شیعہ مراجع کے بڑے مرکز نجف اشرف سے بھی مسترد کردیا گیا تھا-اور شریعتی نے تو صفوی شیعی روائت کی واٹ لگادی تھی-میں اس لئے کہتا ہوں کہ تاریخ اتنی سادہ نہیں ہے جتنا اسے فرقہ پرست ذہن بناکر دیکھنا چاہتا ہے اور ٹرانفارمیشن کو جب صدیاں گزرجاتی ہیں تو آپ کسی نسلی ثقافتی گروہ کی شدھی نہیں کرسکتے-کیا ہندوستان میں مسلم راجپوتوں کو ہم ان کا شاندار ہندؤ ماضی یاد دلاکر اور ان کی ٹرانسفارمیشن میں ریاستی کردار کی کہانیاں سناکر واپس ہندؤ ازم کی طرف لیجاسکتے ہیں؟سندھی قوم پرستوں نے راجہ داہر میں اپنا ہیرو ، محمد بن قاسم میں ولن تلاش کیا،پنجابیوں نے پورس کے اندر- تو کیا ان دونوں نے اپنے مسلم نام اور مذہب بدل ڈالے؟ہندوستان میں ہندوتوا کیسی تاریخ پہ زور دیتی ہے؟وہ بھی تو ہندوستانی مسلمانوں اور کرسچن پہ واپس پلٹ آنے پہ زور دیتے ہیں اور ہندوستان کو ویسا بنانا چاہتے ہیں جیسا یہ مسلمانوں کی آمد سے پہلے تھا-

ایک بڑے کینویس میں رکھ کر جب یہ سب چیزیں دیکھی جائیں گی تو “حیرانی ” کے بعد نفرت اور تکفیری فاشزم کا ظہور نہیں ہوگا-لیکن اگر فریم ورک صفویوں کو شیطان اور ترک عثمانوں کو فرشتہ ثابت کرنا اور ان کو شیعہ عوام اور سنّی عوام کا نمائندہ بناکر پیش کیا جائے گا تو پھر آپ بالواسطہ تکفیری فاشسٹوں، مذہبی جنونیوں کا ایجنڈا ہی پورا کرنے میں ممد ومعاون ہوں گے اور تاریخ کی ایک فرقہ وارانہ تعبیر اور تشریح کے مرتکب ٹھہریں گے-اور ہندوستان کے اندر ہربنس مکھیا ، رومیلا تھاپر ، پروفیسر حبیب ، عرفان حبیب سمیت قرون وسطی کی ہندوستان کی تاریخ کو ہندؤ-مسلم فریم ورک سے ہٹ کر دیکھنے اور دکھانے کی کوشش میں مصروف رہے ہیں اور ان کا کام اس قابل ہے کہ جو تاریخ کی فرقہ وارانہ تعبیرات کے پیچھے چھپی مذہبی جنونیت کو بے نقاب کرنے کے کام آتی ہے-مرے خیال میں عدنان کاکڑ کو اپنی تحقیق کا پیرا ڈائم ایسے بنانا چاہئے جس سے کسی کو پاکستان میں شیعہ نسل کشی اور شیعہ کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کا جواز نہ ملے،چاہے ان کا یہ مضمون لکھنے کا یہ مقصد نہ ہو لیکن آج کے حالات میں یہی مطلب نکالا جائے گا

کوفہ: مابعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں

 

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے ایڈمنسٹریٹو/انتظامی عہدوں اور فوجی عہدوں میں یہ خیال رکھا کہ اس میں سبقت اسلام رکھنے والوں کو فوقیت دی جائے اور اس پہ انہوں نے سختی سے عمل کیا اور اس کا نتیجہ کم از کم یہ تھا کہ ان کی حیات تک کوفہ کے جملہ معاملات میں کبّار مہاجر و انصار صحابہ کرام اور ان عرب مسلم لوگوں کا عمل دخل زیادہ رہا جن کی ایمانداری ، پرہیزگاری اور امانت داری کا زمانہ گواہ تھا-ایسے غالب لوگ ضروری نہیں تھا کہ اپنے قبیلے کے کے سب سے بااثر آدمی ہوتے یا ان کے پاس بہت دولت ہوتی –لیکن حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے بعد بہت جلد يہ طریقہ بدل گیا –اور کوفہ کے اندر ایڈمنسٹریٹو اور فوجی عہدے عرب ارسٹوکریٹس کے پاس جانے لگے-سابقین اسلام بتدریج ان عہدوں سے ہٹائے جانے لگے-اگر ہم اس حوالے سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں کوفہ کی گورنری ، اس کی فوجی ایڈمنسٹریشن پہ غالب آنے والوں میں سے چند ایک علامتی نام چن لیں تو ہمیں اس دور کے اندر کوفہ میں بڑی گھمبیر تقسیم کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی-ولید بن عقبہ ابی معیط کا کوفہ کا گورنر بننا کوفہ میں آباد عرب ارسٹوکریسی کے لئے امور مملکت پہ غالب آنے کا سنہری دور ثابت ہوا-ولید بن عقبہ کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ہٹاکر گورنر لگایا تھا-ولید بن عقبہ کا جو ریکارڈ تاریخ میں ملتا ہے ، اسے دیکھتے ہوئے تو اس کا گورنر کوفہ بننا کوئی نیک شگون نہ تھا-ولید بن عقبہ نے گورنر بننے کے ساتھ یہ کیا کہ کوفہ کے اندر کئی انتطامی تبدیلیاں کیں- ولید نے ایک تو یہ کیا کہ اشعث بن قیس کندی کو حضرت حجر بن عدی الکندی کی جگہ دے ڈالی –اشعث بن قیس وہ تھا جس نے اپنے قبیلے کے ساتھ ارتداد کا ارتکاب کیا تھا اور بعد میں لڑائی کے زریعے سے پھر اسلام میں داخل ہوا تھا-ابن ابی الحدید نے اشعث کے بارے میں ایک جملہ لکھا ہے جو ساری بات سمجھانے کے لئے کافی ہے ،

“كلّ فتنة أو فساد كان في خلافة أميرالمؤمنين وكلّ اضطراب فأصله الأشعث”

خلافت امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے زمانے میں ہر فتنہ یا فساد اور ہر اضطراب کی جڑ اشعث تھا

اشعث کندہ قبیلہ سے تھا اور اس کو اپنے ملوکانہ پس منظر پہ بہت ناز تھا اور ولید بن عقبہ نے اسے کوفہ کے اندر اہم مقام دیا اوراسی کندہ قبیلے کے انتہائی معتبر ، ثقہ ،زاہد اور عالم ، شجاع صحابی رسول حجر ابن عدی کو ہٹادیا –اس کے بارے میں مورخین و اہل سیر نے کئی ایک واقعات درج کئے جس میں یہ ہدایا ، تحفے تحائف کے زریعے سے ایڈمنسٹریشن میں داخل ہونے کی کوشش کیا کرتا دکھائی دیتا ہے اور اس کے تحائف حضرت علی نے قبول کرنے سے انکار بھی کیا تھا-یہاں ہمیں تاریخ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا ولید بن عقبہ کی گورنر کوفہ کے طور پہ تقرری پہ حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس کی اسلام کے لئے خدمات نہ ہونے اور اس منصب کے لئے اہل نہ ہونے کی بات بھی کی-تو ولید بن عقبہ اور اس کے بعد سعید بن العاص کا گورنر کوفہ بننا حضرت عمر فاروق کی روایت نامزدگی سے دستبرداری تھا-اور یہ عرب ارسٹوکریسی کی واپسی کا اشارہ بھی تھا-لیکن یہاں مجھے حسین محمد جعفری کی ایک فاش غلطی کی جانب بھی اشارہ کرنا ہے اور وہ غلطی یہ ہے کہ انہوں نے ولید بن عقبہ کی گورنری کے زمانے میں عرب ارسٹوکریسی کی واپسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے رے کی حکومت سعید بن قیس ارحبی ہمدانی کو دئے جانے پہ لکھا کہ ان کی اسلامی سٹینڈنگ کوئی نہیں تھی اور ان کے بھائی یزید بن قیس کو انہوں نے ہمدانی قبیلے کے اندر کوئی نوبل حثیت نہ ہونے کا زکر کردیا حالانکہ یہ دونوں بھائی ہی مسلم معاشرے کے لئے اپنی خدمات کے لئے کافی معروف تھے اور دونوں نے ہی بعد ازاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ اپنے قبیلے کے ہمراہ جنگ جمل ، جنگ صفین اور نھروان مین شرکت کی ، سعید بن قیس بعد ازاں امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی جم کر کھڑے رہے-اور بعد میں ان کی اولاد اور قبیلہ ھمدان بھی اہل بیت اطہار کے ساتھ کھڑے رہے جبکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ، امام حسن ، امام حسین اور دیگر آئمہ اہل بیت اطہار نے بھی سعید و یزید ابناء قیس ہمدانی کے خاندان اور ان کے قبیلے کی وفاداری اور خدمات کا تذکرہ بہت ہی اچھے الفاظ میں کیا-

ہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ ولید بن عقبۃ اور سعید بن العاص اموی گورنران کوفہ کے دور میں کوفہ کے اندر جو اسلامی سٹینڈنگ رکھنے والے مسلم عرب تھے ، انتہائی متقی ، پرہیز گار لوگ جو تھے ان سب کو کوفہ ، رے وغیرہ کی ایڈمنسٹریشن سے دور کردیا گیا تھا-تاریخ ہمیں اس زمانے میں عہدوں سے ہٹائے جانے والوں میں خاص طور پہ حجر بن عدی الکندی ، مالک الاشتر النحعی ، مسیب بن نجبۃ الفزاری ، عدی بن حاتم الطائی اور صعصعہ بن صوصان العبدی وغیرہ شامل تھے –یہ کوفہ کے اہل القراء میں انتہائی بڑا مقام رکھتے اور ان کی شجاعت و بہادری ، عسکری صلاحیتیں بھی کسی سے کم نہ تھی-کوفہ کی سماجی زندگی میں ان کا ایک خاص مقام مرتبہ تھا اور اس کی بنیاد دھن دولت ، قبائلی تفاخر پہ نہ تھیں بلکہ اس کی خالص فکری اور عمل کی صفائی بنیادیں تھیں-کوفہ کی سماجی زندگی کی یہ روشن مثالیں وہ ہیں جن کے ساتھ تاریخ نے شاید انصاف نہیں کیا اور سب سے بڑا المیہ یہ ہوا کہ سعودی فنڈنگ سے اسلام کے جس چہرے کو سامنے لایا گیا ،اس چہرے میں ان چہروں کی جھلکیاں کہیں دکھائی نہیں دیتیں-کوفہ کی جو تصویر ہمارے سامنے پینٹ کی جاتی ہے اس میں ان تصویروں کے رنگ یا تو دکھائی ہی نہیں دیتے یا بہت پھیکے اور ماند نظر آتے ہیں-جبکہ آپ سعودی فنڈڈ وہابی اور دیوبندی لٹریچر کو اٹھالیں اور آن لائن موجود مواد کو دیکھیں اکثر آپ کو ولید بن عقبہ ، اشعث بن قیس ، عبدالرحمان بن اشعث ، سعید بن العاص سمیت ان سب لوگوں کا دفاع ملے گا جو کہ عرب ارسٹوکریسی کے علمبردار تھے اور جنھوں نے کوفہ شہر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ گورنروں عمار بن یاسر ، سعد بن ابی وقاص ، اور نائب گورنر عبداللہ بن مسعود ، اور ان 130 سے زائد مہاجر و انصار صحابہ کی قائم کردہ روایات اور اقدار کے برخلاف راستہ اختیار کیا تھا –قبائلی عصبیتوں ، ایتھنک منافرتوں کا راستہ کھل گیا تھا-کوفہ کی سماجی ترکیب میں ولید بن عقبہ اور مکّہ کے ارسٹو کریٹ سعید بن العاص کے ادوار میں واضح طور پہ عرب ارسٹو کریٹ بلاک کی تشکیل ہوئی اور اس بلاک کے خلاف یہی اہل القراء ، سابقین اسلام ، اور موالین میں سے نیک پرہیز گار لوگ جن کی سماجی بنیادیں ارسٹوکریسی میں نہیں تھیں تشکیل پانے لگا تھا-ان میں صعصۃ بن صوحان سے کتنے لوگ واقف ہوں گے جنھوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بیعت کرتے وقت کہا تھا ،

“یا أمير المؤمنين لقد زنت الخلافة وما زانتك ورفعتها وما رفعتك، وهي إليك أحوج منك إليها”.

اسی لئے میں کہتا ہوں کہ کوفہ کی تاریخ کا قتل ہوا ، اس لئے کہ اس شہر کے اندر جو اہل حق کا کیمپ تھا ، جنھوں نے سماجی عدل و انصاف کا جھنڈا اٹھایا تھا ، ان کے کردار نسیا منسیا کردئے گئے-اور مین سٹریم اسلام کے ماننے والوں کے شعور کو اس طرح سے پسماندہ رکھے جانے کی کوشش ہوتی رہی –اور یہ عرب ارسٹوکریسی صرف کوفہ کے اندر ہی بحال کرنے کی کوشش نہیں ہورہی تھی بلکہ اس کا احیاء مدینہ ، مکّہ ، بصرہ وغیرہ میں بھی ہورہا تھا جبکہ شام کے اندر تو یہ پہلے ہی منظم ہوچکی تھی اور مصر میں بھی اسے مضبوط کیا جارہا تھا-لیکن ہم نے دیکھا کہ عرب ارسٹوکریسی کے علمبردار کیمپ کے مخالف عدل و انصاف کی سماجی تحریک کے بھی آثار نمودار ہونے لگے تھے-اور اس تحریک کی اولین بنیادیں کوفہ کے اندر پڑیں تھیں جس کی قیادت کوفہ کے اہل القرآء کے ہاتھوں میں تھیں-لیکن ہمیں تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ عرب ارسٹو کریسی کے خلاف جید صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین میں سب سے طاقتور آواز حضرت ابو زر غفاری ، عبداللہ بن مسعود ، سلمان فارسی،حضرت عمار بن یاسر ، حجر بن عدی الکندی ، عدی بن حاتم رضوان اللہ اجمعین کی تھیں اور یہی اس تحریک کے ابتدائی رہبر و رہنماء بنے تھے-لیکن یہاں یہ بھی مدنظر رہے کہ خود عرب ارسٹوکریسی کے خلاف مکّہ اور مدینہ کے قریشی مہاجروں کے اندر بھی ایک گروپنگ سامنے آرہی تھی اور اس کی قیادت ہمیں حضرت طلحہ ، زبیر بن العوام سمیت کئی ایک جید صحابہ کرام کرتے نظر آرہے تھے اور تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ان کی نظریں بھی حصرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کی مسند پہ لگی ہوئی تھیں – عرب ارسٹوکریسی نے جس طرح سے مسلم مثالی اقدار کو نظر انداز کیا تھا اور مسلم معاشروں کی اجتماعیت کو جیسے انھوں نے بتدریج ملوکانہ طرز کی جانب دھکیلا تھا اس کے خلاف ایک ردعمل موجود تھا-اور اس ردعمل نے آگے بڑھ کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کی شکل اختیار کرلی اور اور آگے چل کر عرب ارسٹو کریسی اور مکّہ و مدینہ کے طاقتور قریشی اشراف نے اس خون کو بنیاد بناکر مسلم ریاست کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی

 

sddefault

مصحف شریف حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جس پہ ان کے لہو کے چھینٹے نظر آتے ہیں

 

 

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب مدینہ و مکّہ ، کوفہ ، بصرہ اور مصر سے جمع ہونے والوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خلیفہ بننے پہ مجبور کردیا تو اس وقت حالات یہ تھے کہ مسلم ریاست کی ملٹری پاور تین بڑے حصوں میں عملی طور پہ تقسیم ہوگئی تھی- ایک ملٹری پاور کا بیس کوفہ تھا اور دوسری ملٹری بیس بصرہ تھی جبکہ تیسری ملٹری بیس شام تھی-حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی خلافت کے اعلان کے بعد مدینہ اور مکّہ سے طاقتور قریشی صحابہ کرام کا ایک گروپ بصرہ پہنچ گیا اور اس نے وہان جاکر اپنے لئے ملٹری سپورٹ جمع کرنا شروع کردی اور یہ صورت حال ایسی تھی کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے پاس سوائے اس کے اور راستہ نہیں تھا کہ وہ مدینہ و مکّہ سے اپنی فورس لیں اور کوفہ کو اپنا مرکز بنالیں-اب یہاں پہ یہ بات غور کرنے والی ہے کہ مدینہ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جو فوجی قوت میسر آسکی وہ محض ایک ہزار افراد پہ مشتمل تھی اور جب وہ کوفہ پہنچے تو وہاں جاکر ان کی ایک ہزار فوج کے ساتھ بارہ ہزار کوفہ میں مقیم سپاہ ان کے ساتھ ہوئی –مطلب یہ ہوا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی خلافت کا تحفظ کرنے میں کوفہ کی ملٹری چھاؤنی سے 12 ہزار کی سپاہ نے اہم ترین کردار ادا کیا تھا-حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی سپاہ بارے یہ معلومات ہمیں تاریخ طبری اور نصر بن مزاحم کی کتاب الجمل میں ملتی ہيں-اور ہمیں تاریخ ایک اور واقعہ بارے بھی بتلاتی ہے-اور وہ یہ ہے کہ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفہ پہنچے تو سابق گورنر کوفہ سعید بن العاص نے کوفہ کی رہائش ترک کی اور وہ مدینہ آکر ٹھہر گئے-یہ اس بات کا بھی اشارہ تھا کہ اموی عرب ارسٹو کریٹس نے اپنے اتحادی عرب اشراف القبائل اور اتحادی فارسی اشرافیہ کو کوفہ میں تنہا چھوڑ دیا تھا-اور یہ کوفہ کے نامور اہل قراء اور یمنی قبائل کے لوگ اور موالین کے افتادگان خاک تھے جنھوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ساتھ دیا اور کوفی اشرافیہ کو بھی وقتی طور پہ آپ کا ساتھ دینے پہ مجبور کردیا-ہمیں طوعا و کرھا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ساتھ دینے والے حضرات بھی نظر آتے ہیں جن میں اشعث بن قیس کا نام بہت نمایاں ہے اور اس کے زیر اثر کندہ قبیلے کے لوگ بعدازں اموی فوج کا ہراول دستہ ثابت ہوئے-عبدالرحمان بن اشعث ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ امویوں کے لئے خدمات سرانجام دیتا رہا-

 

Aleppo : Who destroyed This City? Russia or Imperialist Block!

12bullough01-inyt-master768

When liberal section of Western Press deals with Syria, It Quits at once its liberal stance, distorts facts and ground realities and insists us to accept religious fanatics ( Salafi-Deobandi Takfirist Terrorist groups)as moderate liberal, progressive forces in Syria. Recently Case of siege of Aleppo city of Syria by forces of Asad and its allies forces is best example of western liberal press’s distortion of facts and reality.

 

An article appeared in American newspaper daily ‘The  New York Times’ by   OLIVER BULLOUGH titled with ‘Putin in Syria: Chechnya All Over Again’. In that article author totally obfuscated facts and realities about Aleppo and tried to demonize Russia and Putin fully. He was mourning on successful operation made by Russian forces against Takfiri Salafi Terrorists in Chechnya and they had control of Grozny, capital of Chechnya. Oliver Bullough hided that it was Saudi Arabia, Pakistani Generals and even CIA which funded, trained dozens of Chechens during Afghan War and many young Chechens went in Salafi and Deobandi Seminaries of Pakistan and Saudi Arabia where they were taught Wahhabi ideology and that ideology converted them a mass killing machine which destroyed Sufi Sunni dominated culture of Chechnya in 80s and 90s. This was not suppression of Russian forces which played main role in chaos in Chechnya and Grozny but main role played by Saudi funding , training given by CIA and ISI and Wahhabi Ideology. Chechnya saved and could not become another so called Islamic State-IS or Wahhabistan ( Saudi Arabia) due to Putin’s strategy and action. This was Putin who rejected billions of petro-Dollars offered by Saudi Arabia for Russian’s support for Jihad Project in Syria or so called Regime Change Policy of Americans and its allies.

 

Question is that why American Liberal section of Press is demonizing Russia and Putin on Question of Aleppo in Syria?

 

Salam Shaheen an  Tadmor, Hims, Syria based journalist and analyst helped us to know real story behind the cry of such western liberal section on Aleppo. He first raises a question on recently demands for more sanctions on Russia, No-fly zones in Syria ,Particularly Aleppo as No-fly zone by US and other western powers. He writes, “  Can you imagine Syria or any of its allies having a “parliamentary debate” about Birmingham, for instance??!! As a Syrian, I feel outraged that a SYRIAN city like Aleppo, is being “discussed” by a NON-Syrian Parliament!!. If this is not imperialism, I don’t know what is!.”

 

He reveals that Jabhat alNusra and Ahrar alSham are the largest terror groups that control East of Aleppo today.. In October 2013, they were BOTH named by the Western funded HRW as the main terror groups responsible for the horrific MASSACRE of 190 civilians in Lattakia country side, in August 2013- during the so called “Operation to Liberate the Coast”. The “civilised” West wants the Syrian government and its allies to leave these savages alone so 2.5 million civilians in the city of Aleppo can live in “peace”!!!

HRW_10/10/2013.

 

“These groups, unlike others who participated, were also clearly engaged in the operation from the outset, and their fighters were present during August 4 when the evidence suggests the vast majority of the abuses took place. These groups are:

– Ahrar al-Sham

– Islamic State of Iraq and Sham

– Jabhat al-Nusra

– Jaish al-Muhajireen wal-Ansar

– Suquor al-Izz”

 

“Human Rights Watch has collected the names of 190 civilians who were killed by opposition forces in their offensive on the villages, including 57 women and at least 18 children and 14 elderly men (see Annex 1 for list of victims). The evidence collected strongly suggests they were killed on the first day of the operation, August 4. We identified these individuals as civilians through interviews, video and photographic evidence, or a review of hospital records. Given that many residents remain missing, and opposition fighters buried many bodies in mass graves, the total number of dead is likely higher.”

 

“According to opposition sources, they are still holding over 200 civilian hostages at this writing. Several residents from Latakia countryside told Human Rights Watch that they saw their relatives in the background of a video published on YouTube on September 7 in which civilians from the area being held hostage by Abu Suhaib, the Libyan local leader of Jaish al-Muhajireen wal-Ansar, are shown.”

 

 

So according to established facts about Aleppo 5 groups are controlling eastern Aleppo and all those five are Salafi-Deobandi Takfirist terrorists groups funded by Saudi Arabia, Qatar,Turkey and even Americans also. These groups are being falsely posed as moderate Syrian Opposition. Aleppo has been already another Grozny or Chechnya  not by Russia or Putin but by Wahhabi Takfirist groups controlling Eastern Aleppo.

کوفہ : سابقین فی الاسلام بمقابلہ عرب ارسٹو کریسی

silk

کوفہ میں بالخصوص اور حجاز سے باہر بننے والی چھاؤنیوں میں بالعموم غیر عرب خاص طور پہ ساسانی اور بازنطینی سلطنت کے باشندوں میں جن لوگوں نے اسلام قبول کرلیا ان پہ لفظ موالی کا اطلاق کیا گیا اور رفتہ رفتہ لفظ موالی ان غیر عرب فارسیوں کے لئے بولا جانے لگا جوکہ کوفہ سمیت دیگر مسلم عرب گریژن اور اس کے گرد و نواح میں آکر رہائش پذیر ہوگئے تھے-ان شہروں کی سماجی ترکیب میں موالیوں کا کیا سٹیٹس تھا اور ان کی تعداد کتنی تھی اور ان کا اثر کیا تھا؟ اس بارے میں ایک باقاعدہ اور مربوط مطالعہ اور تحقیق کا آغاز مستشرقین نے کیا-قدیم عربی ماخذ میں الجاحظ کی کتاب ” الموالی ” اور ابن الہثیم کی کتاب ” من تزوج من الموالی فی العرب ” کا سراغ ملتا ہے-

موالی پہ ابتدائی متشرقین نے جو تحقیقات کیں ، وہ ان کی سماجی ،مادی بنیادوں سے ان کی سماجی حرکات اور فکر کا تعین کرنے سے کہیں زیادہ مسلم ماہرین علم کلام کی جانب سے بدعتی ، گمراہ اور زندیق کہہ کر پکارے جانے والے گروہوں کی آئیڈیالوجی کی روشنی میں متعین گولڈ زیہر وغیرہ کا تعلق اسی قبیل سے تھا-لیکن بعد میں آنے والے محققین نے اس کو بدلا-موالی کو صرف پرشین شناخت کے ساتھ دیکھنے اور ان کے ایک سے سماجی سٹیٹس بیان کرنے یا کھل کر کہا جائے تو ان کو صرف دشمنی کی عینک سے دیکھے جانے کے تصور کو سب سے زیادہ چوٹ الزبتھ اربن نے لگائی –ان کا مقالہ ” دی ارلی موالی : اے ونڈو آن ٹو پروسس آف آئیڈنٹی اینڈ سوشل چینج ” موالی بارے سماجی مطالعے میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا سبب بن گیا-اس حوالے سے ایک اور کتاب مونیق برینارڈز اور جان عبداللہ نواس نے لکھی جس کا عنوان تھا ‘ پیٹررونیٹ اینڈ پیٹرینیج ان ارلی اسلام ‘ –موالی کی سماجی ترکیب اور چھاؤنیوں کی ہئیت کو بدل ڈالنے میں ان کے کردار بارے ضمنی طور پہ بہت ہی پرمغز گفتگو ہمیں کتاب ‘ سلک اینڈ ریلیجن : این ایکس پلوریشن آف میٹریل لائف اینڈ ۔۔۔۔۔’ میں ملتی ہے-الزبتھ اربن کی انقلابی تحقیق نے موالی کے بارے میں ان سے پہلے بنائے جانے والے مقدمات کو پھیر کر رکھ دیا-ان سے قبل تحقیق کرنے والوں کے ہاں سب موالیوں کو ایک ہی سماجی سٹیٹس کا حامل بتایا جاتا تھا اور ایسے مقدمات پیش کئے جاتے تھے جن سے یہ تاثر ملتا تھا کہ آغاز کار سے موالی ، کنورٹ نان عرب مسلمانوں کو ” باہر والا ” اور مداخلت کار خیال کیا جاتا تھا-

لیکن الزبتھ اربن نے اپنی ریسرچ میں ایک تو یہ بات ثابت کی کہ حضرت عمر ہوں یا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت علی ان سب نے موالیوں کی مختلف سماجی پرتوں کو اپنے ساتھ ملانے اور ان کو شریک اقتدار کرنے کے اقدامات کئے –اگر ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پالیسی پہ غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ کوفہ کے ابتدائی جو باشندے بنے ان میں چار ہزار دیلمی فارسی جنگجو بھی شامل تھے اور ان کا سماجی سٹیٹس عمر نے سبقت اسلام رکھنے والے عرب مہاجر و انصار کے بعد اہل الایام القادسیۃ کے برابر رکھا اور آپ کے زمانے میں فارس کے دیگر علاقوں کی جو فتوحات ہوئیں ان میں شریک ہونے والے کنورٹ مسلم غیرعربوں کے وظائف میں بھی اضافہ کیا گیا-لیکن ہمیں ایسے کوئی آثار نہیں ملتے جن سے یہ پتہ چل سکے کہ اہل سواد (سوادی زمینوں پہ کام کرنے والے مقامی کسانوں ) اور ساسانی فیوڈل ریاست کے خاتمے کے دوران بے روزگار ہوکر کوفہ کا رخ کرنے والے سابقہ کسانوں ، ساسانی ریاست کے سابق اہلکاروں ، فارسی دستکاروں ، تاجروں کیا وہ سٹیٹس دیا گیا جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں دیلیمی جنگجوؤں اور بعد کے دیگر کنورٹ غیر عرب مسلم فارسی جنگجوؤں کو دیا گیا تھا-لیکن ایک بات طے ہے کہ حضرت عمر فاروق کے زمانے کی عرب ایلیٹ اگر تھی تو وہ مہاجر و انصار صحابہ کرام اور اہل الایام القادسیۃ میں شریک صحابہ کرام تھے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرب قبائل کے سرداروں اور اشراف امور مملکت سے دور ہی رکھا-اس لئے جو موالی تھے ان کی اکثریت نے بھی خود کو سبقت اسلام اور مہاجر و انصار کی شناخت رکھنے والی عرب مسلم اشرافیہ سے جوڑا-لیکن یہ ترتیب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں بتدریج تبدیل ہوئی اور عرب ارسٹو کریسی ، بنو امیہ کے قبائلی اشراف  کے درمیان محبتیں بڑھتی چلی گئیں

اور پھر  ریاستی مشینری اور خود عرفاء و نقباء کے اندر بھی عرب ارسٹو کریسی کا اثر ورسوخ پھیلتا ہی چلاگیا-لیکن امویوں نے حضرت ‏عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہی ساسانی و بازنطینی سلطنت کو چلانے والی ارسٹو کریسی ، بیوروکریسی کے ساتھ ہاتھ ملالیا تھا اور ان کو خاص طور پہ ریاستی مشینری کے اندر بھی جگہ ملنے لگ گئی تھی اور اس ارسٹو کریسی کو خراج سمیت ديگر اور ٹیکسز سے بھی مستثنی قرار دے ڈالا تھا-اور حضرت ‏‏‏‏عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہی ہم نے کوفہ ،بصرہ ، مصر کے اندر اس اموی پلس عرب و پرشین ارسٹوکریسی کے خلاف تحریک کھڑے ہوتی دیکھ لی تھی-بلکہ اگر دیکھا جائے تو خود اس اتحاد کے خلاف مدینہ اور مکّہ کے انصار و مہاجر اور ان کی اولادوں نے واضح اظہار ناراضگی کیا تھا اور امویوں کے خلاف وہآں بھی فضا سازگار نہ تھی-موالیوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جن کا تعلق کسان ، دست کار ، درمیانے درجے کے تاجر طبقات سے تھا یا وہ بطور سکالر سامنے آئے تھے کا زیادہ جھکاؤ خلفاء ثلاثا کی جانب تھا اور بعد ازاں جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوگئی تو ہم نے ان موالیوں کے اندر نظریاتی اعتبار سے ایک بڑی تقسیم یہ دیکھی کہ یہ علوی کیمپ اور عثمانی کیمپ میں بٹ گئے-کوفہ شہر اور اس کے گردونواح میں رہنے والوں کی بڑی تعداد حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ کھڑی ہوئی جبکہ اس سے پہلے میں بتاچکا کہ خود کوفہ اور اس کے گردونواح میں موجود عرب مسلمانوں کی کی بھاری اکثریت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے کیمپ میں آگئی اور کوفہ میں اگر کوئی عثمانی یا اموی کیمپ کا تھا بھی تو اس نے اکثریت کے سامنے کھل کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلاف کوئی صف بندی نہیں کی-لیکن کیا کوفہ ، بصرہ کے عرب مسلمانوں اور موالیوں کا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے کیمپ میں کھڑا ہونا ویسے ہی تھا جیسے ان بزرگوں اور ان کے حامیان کا تھا جسے تاریخ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے شیعہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے-یاد رھے کہ حضرت علی کے یہ نظریاتی شیعہ خود شیعہ امامیہ کے نزدیک سب کے سب امامت کے منصو ص من اللہ ہونے ، امام کی موجودگی میں کسی مفضول کا خلیفہ نہ بننے جیسے خیالات کے مالک نہ تھے-یہاں تک کہ خود حجر بن عدی الکندی اور دیگر کئی رفقائے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بارے میں یہ اطلاعات و اخبار موجود ہیں کہ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنھما کی خلافت کو برحق مانتے تھے-اور اغلب امکان یہی ہے کہ کوفہ کی اکثریت بشمول عرب و موالی سیاسی شیعہ پہ مشتمل تھی  اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے حق میں وصی و ولایت و خلافت کے امامیہ عقیدے کی قائل نہ تھی-اس بات کو اس لئے بھی تقویت ملتی تھی کہ جنگ صفین کے موقعہ پر جب لشکر شام نے نیزے قرآن پہ بلند کئے تو اس موقعہ پہ بہت تھوڑی تعداد ایسی تھی جس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائے بغیر ختم نہ کرنے کی تجویز کو من وعن مان لیا تھا

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو تحکیم کا فیصلہ ماننا پڑا اور جب آپ نے عبداللہ بن عباس کو حکم بنانے کی تجویز دی تو اسے بھی اکثریت نے رد کیا-اور جب تحکیم کا نتیجہ شامیوں کی دغا بازی کے طور پہ نکل آیا تو ہم نے دیکھا کہ آپ کے لشکر میں جو بدوی عرب شامل تھے انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور ان میں سے اکثر نے حضرت علی کے کیمپ کے خلاف تلواریں بھی اٹھالی-کوفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور ہی میں ایک کاسمو پولیٹن سٹی میں بدلنا شروع ہوگیا تھا اور اس شہر میں دست کار ، درمیانے درجے کی تاجر کلاس ، نچلے درجے کے ریاستی اہلکار ، علم و دانش یعنی قرآن وحدیث ، اسماء الرجال ، اسباب نزول کے ماہرین سمیت اہل علم کی اکثریت موالی غیر عرب فارسیوں پہ مشتمل تھی-حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جب شہادت ہوئی تو کوفہ کی آبادی ایک روایت کے مطابق ایک لاکھ تھی اور ایک اور روایت کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار تک پہنچ گئی تھی-اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ تعداد کہا جاتا ہے کہ ڈیڑھ سے دو لاکھ  ہوچکی تھی-اور اس میں اکثریت موالی کی تھی –ایک اندازے کے مطابق حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں موالی قریب قریب 40 ہزار سے 60 ہزار موالی تھے اور حصرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ 80 سے 90 ہزار کے قریب ہوچکے تھے-اور اہل زمہ /زمیوں کی تعداد میں بتدریج کمی آنی شروع ہوگئی تھی-

مارٹن ہنڈز ، طیب حلبی ، حسین محمد جعفری ، الزبیتھ اربن سمیت اکثر ماہرین کے خیال میں کوفہ کے موالیوں میں سب سے بڑی اکثریت کا تعلق دستکاروں ، تاجروں ، سکالرز وغیرہ کا تھا اور اس کے بعد وہ سابق کسان تھے جو ساسانی سلطنت میں مفتوحہ زمینوں کو چھوڑ کر کوفہ آگئے تھے اور یہاں وہ کسی عرب قبیلے کے حلیف نہ بنے بلکہ براہ راست کوفہ کے دارالامارہ کے ماتحت بن گئے تھے جبکہ تیسرا بڑا گروہ ان غیر عرب فارسیوں کا تھا جو جنگجو یا پیشہ سپاہ سے متعلق تھا-اور سب سے کم تعداد میں وہ موالی تھے جو ساسانی نوبل / حکمران معزز اشراف میں سے تھے اور کوفہ کے اندر آباد تھے-آئیڈیالوجیکل کے اعتبار سے ان موالیوں کی اکثریت کے بارے میں حسین محمد جعفری اور دیگر نے لکھا کہ ان کے ہاں کیونکہ وصائت و وراثتی نیابت و بادشاہت کا تصور پہلے سے موجود تھا تو ان کا رجحان شیعت کی جانب تھا-اسی طرح سے جو یمنی عرب تھے وہ کرسچن بادشاہت کے زیرنگین رہے تھے تو ان کے ہاں بھی امامت کے باب میں شیعیت کی جانب جھکاؤ صاف تھا-اور یمنی عربوں اور موالیوں کی اکثریت نے علوی کیمپ کو ہی جوائن کیا-ان ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ کوفہ کے برعکس دمشق سمیت جو دوسرے مسلم اکثریت کے شہر تھے ان پہ بازنطینی اور ساسانی روایت کا گہرا اثر تھا تو وہ بہت جلد ان روایات کے اندر ڈھل گئے جبکہ کوفہ کی اپنی کوئی روایت سرے سے موجود نہ تھی اور یہ شہر اپنی ابتداء میں عرب جنگجوؤں کا شہر تھا جوکہ اگرچہ یہاں آکر آباد تو ہوگئے تھے لیکن ان کی عسکریت پسندی اور جدید اصطلاح میں ان کی ریڈیکلائزڈ فطرت قائم دائم تھی ، اس لئے اس شہر میں تحرک اور بغاوت اور جارحانہ سیاست خوب پلا بڑھا کرتی تھی-

 

 

اب اگر ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے ایک بڑی سیاسی کشمکش کے ابتدائی آثار کی تلاش کریں تو ہمیں اس کی بنیاد خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پالیسی میں نظر آجاتی ہے-حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کوشش تھی کہ وہ کوفہ کی سیاسی –معاشی و مذہبی پاور ان لوگوں کے ہاتھ میں رکھیں جن کی اسلام کے لئے خدمات کا کسی کو بھی انکار نہ تھا اور ان کا مذہبی قدکاٹھ بھی کافی بلند تھا-حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس سے کوئی غرض نہ تھی کہ وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں کوفہ کے اقتدار کی باگ ہو وہ عرب ارسٹوکریٹ ہیں یا نہیں ، ان کے پاس بہت زیادہ دولت ہے یا نہیں اور اپنے قبیلے کے اندر ان کے پیچھے بہت بڑی افرادی قوت ہے کہ نہیں-حسین محمد جعفری اور دیگر احباب نے بہت واضح انداز میں اس بات کو واضح کیا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اہل الردہ کے طاقتور قبائلی ارسٹو کریٹس کو واپس دائرہ اسلام میں آنے کے باوجود کوئی عہدہ نہیں دیا تھا-اور آپ کے زمانے میں ہی سبقت اسلام رکھنے والوں اور عرب ارسٹوکریسی کے درمیان تناؤ اور کش مکش کے آثار نظر آنے لگے تھے اور کوفہ سیاسی اعتبار سے ان دو کیمپوں میں بٹا نظر آنے لگا تھا لیکن عرب ارسٹو کریسی کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ ہمت نہیں ہوئی تھی کہ وہ سیاسی نظام میں سابقین اسلام کے غلبے کو چیلنج کریں اور کوفہ کے غالب حکمران سیکشن کے خلاف کھڑے ہوں-اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب تک حضرت سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود کي قیادت رہی تو اس وقت تک بھی کوفہ میں کسی بڑی کشمکش کے آثار دکھائی نہ دئے تھے-

 

 

صورت حال ولید بن عقبہ کی گورنری کے زمانے سے بدلنا شروع ہوئے اور اس زمانے میں ہم نے یہ دیکھا کہ سبقت اسلام رکھنے والے اور ان کے اتحادی موالی پیچھے جانا شروع ہوئے اور اسی زمانے ميں حجر الکندی ، مالک الاشتر ، مسیب بن نخبۃ اور ديگر حضرات جو اہل قراء کے نام سے معروف تھے کو عہدوں سے ہٹادیا گیا اور ان کی جگہ عرب ارسٹوکریٹس نے لینا شروع کردی-عرب ارسٹوکریسی کے اس ظاہر ہونے والے غلبے نے خود موالی کے سب سے برے نمائندہ گروپ کے لئے دوسرے درجے کے شہری کا سٹیٹس لیکر آنا شروع کردیا-اور ہم نے مدینہ کے اندر مروان سمیت بنوامیہ کے ان لوگوں کو آگے آتا دیکھا جن کی اسلام کے لئے کوئی بڑی خدمات نہ تھیں –یہاں ایک بات اور جو بہت ہی اہم نکتہ ہے اور مسلم تاریخ میں ہونے والی سیاسی کشاکش بارے ہمیں ایک اور راہ بھی سجھاتی ہے کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے-اور اس کی جانب الزبیتھ اربن نے بھی واضح اشارہ کیا ہے-اس کا کہنا یہ ہے کہ اموی یا مروانی غلبے کے خلاف سابقین اسلام اور موالیوں نے جو بغاوت کی اور ان کے خلاف تحریک اٹھائی تو اپنی اس تحریک کی بنیاد انھوں نے ایتھنک بنیادوں پہ نہیں رکھی اور نہ ہی موالیوں نے اسے “عرب ” کے خلاف غیر عربوں کی بغاوت قرار دیا-بلکہ انہوں نے اس کی باقاعدہ ايک مذہبی اور آئیڈیالوجیکل بنیاد رکھی اور انھوں نے اپنی غیر عرب شناخت اور ساسانی دور کی شان وشوکت کے عروج کی واپسی کی لڑائی قرار نہ دیا- جبکہ اسی طرح جنھوں نے ولید بن عقبہ اور اس کی اتحادی عرب ارسٹوکریسی کے خلاف تحریک شروع کی انھوں نے بھی اپنا آدرش اقتدار پہ قبضہ یا پاور کا حصول قرار نہیں دیا بلکہ انھوں نے اس اسلامی آدرش کو اپنا نصب العین قرار دیا جس کی بنیادی قدر عدل و انصاف اور مساوات تھی اور طاقتور و کمزور کی قانون کے سامنے برابری کا آدرش تھا-

امویوں ، عرب ارسٹو کریسی اور ساسانی نوبل اشراف میں ہم یک گونہ اتحاد دیکھتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں سابقین اسلام عرب ، عام عرب اور موالیوں میں دست کار ، کاریگر ، درمیانے درجے کے تاجر اور کوفہ کے گردونواح میں زمینوں پہ کام کرنے والے کسان اور دیگر لوئر سٹارٹا کو ایک الائنس میں اکٹھے ہوتے دیکھتے ہیں-الزبتھ اربن اسی لئے کہتی ہے کہ موالیوں کی اکثریت جو امویوں اور مروانیوں کے خلاف کھڑی ہوئی اس نے ایتھنک آئیڈنٹٹی کو اپنی جدوجہد کی بنیاد خود قرار نہیں دیا-کوفہ اس پہلی تحریک کا نرو سنٹر تھا اور اس تحریک کا بتدریج شیعی رنگ اختیار کرنا بھی اسی بات کا ایک ثبوت ہے اور پروٹو سنّی اور پروٹو امامی دونوں کی بڑی اکثریت اسی شیعی سنٹر کے ساتھ آگے چل کر جڑی-اس تحریک کو آج کے سعودی نواز وہابی اور دیوبندی مائل بہ  بنو امیہ خالص سنّی چہرہ دکھا کر پیش کرنے کی جو کوشش کرتے ہیں ، اس مین سب سے بڑا گھپلا پروٹو سنّی آبادی کے مائل بہ علویت ہونے کے کردار کو چھپانا ہے اور پروٹو سنّی کرداروں کو امامی شیعہ یا چھپے ہوئے امامی شیعہ بناکر دکھانا ہے-اور اگر میں کہوں کہ آج کی سفیانیت یا آج کی یزید سے کامریڈ شپ پہ مبنی کاوشیں بھی اسی علمی بدیانتی ، خیانت اور بے ایمانی کا نام ہے تو کچھ غلط نہیں ہوگا-کوفہ میں ہونے والی اس بڑی تقسیم کو سازش بناکر دکھانا اور اسے ایک انتہائی مجہول کردار ابن سباء کے دماغ کی سازش بناکر دکھانا بھی ایسی ہی کوشش ہے-اور یہاں پہ ہم ان مارکسیوں کی غلطی کی نشاندہی یا بعض مارکسزم کے پردے میں چھپے اموی کامریڈز کی تدلیس کا پول بھی کھول سکتے ہیں جو کوفہ ، شیعان علی کے کیمپ بارے بات کرتے ہوئے کوفہ کی سماجی ترکیب اور اس کی بنیاد پہ اٹھنے والے تضادات اور ان کے آئیڈیالوجیکل شیڈز کا تاریخی مادی جدلیاتی روشنی میں تجزیہ کرنے کی بجائے اس کو قبیل داری یا ایتھنک لڑائی قرار دینے پہ ہر دم تیار رہتے ہیں-اور سابقین اسلام، غریب موالیوں کی لڑائی کو ہوس اقتدار کی لڑائی قرار دیکر سماجی انصاف و عدالت کے آدرشوں کے علم اٹھاکر ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونے والے چہروں کو مسخ کرتے ہیں-