تھر کول فیلڈ :ایک اور زاویہ نظر

 

 

گوڑانو ڈیم ہٹاؤ۔تھر بچاؤ تحریک : کوئلے سے بننے والے پاور پلانٹس کا مطلب کیا ہے؟

گوڑانو ڈیم ہٹاؤ –تھر بچاؤ تحریک کے سامنے آنے سے ایک مرتبہ پھر ڈرٹی فیول کول بارے بات شروع ہوئی ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اکثر لوگ اور شہری علاقوں میں رہنے والے کئی ایک نوجوان اس بارے میں خاصے لاعلم ہیں۔تھرپاور پلانٹس کی مخالفت میں جب بات کی جاتی ہے تو وہ ساہیوال کول پاور پلانٹ کا زکر لے بیٹھتے ہیں اور حیرت اس بات پہ ہے کہ وہ اس پلانٹ بارے تشویش میں مبتلا ہونے کے اس کو سرمایہ دار دوست ترقی کے حق میں ایک طاقتور دلیل خیال کرتے ہیں، ایسے ہی جیسے ہم نے ایٹمی دھماکوں پہ بھارت اور پاکستان کے لوگوں کو مٹھائیاں بانٹتے دیکھا تھا۔ارون دھتی رائے اسے تخیل کی موت کہتی ہیں تو ٹھیک ہی کہتی ہیں۔انہوں نے انڈیا کے جریدے آؤٹ لک میں ایک مضمون لکھا ” گھوسٹ کیپٹل ازم ” اس میں انہوں نے کیا خوب بات کہی،

کارپوریٹ سرمایہ کا دوسرا بڑا زریعہ زمینوں کے بینکوں ہیں۔دنیا بھر میں کمزور ، بدعنوان مقامی حکومتوں نے وال سٹریٹ کے سٹہ بازوں، زرعی بزنس کی کارپوریشنوں اور چینی ارب پتیوں کو زمین کے بڑے بڑے قطعات کے مالک بننے میں مدد دی ہے۔بہرحال یہی ان کی مدد پانی پہ قبضہ میں بھی کرتے ہیں۔ہندوستان میں دسیوں لاکھ لوگوں کی زمین قومی مفاد کے نام پہ حاصل کرلی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ خصوصی اقتصادی زونز ، انفراسٹرکچر پروجیکٹس ، ڈیمز ، ہائی ویز ، کار مینوفیکچرنگ ، کیمکل انڈسٹری اور فارمولا ون ریسنگ کے نام پہ لیکن نجی ملکیت کے تقدس کا قانون کبھی غریبوں کی زمین کے لئے لاگو نہیں ہوتا۔

ارون دھتی رائے اسی مضمون آگے چل کر لکھتی ہے کہ یہ جو جی ڈی پی کی گروتھ اور نوکریوں کے درمیان بڑا لازمی رشتہ بتایا جاتا رہا ہے ،20 سال میں ہندوستانی گروتھ کا جائزہ ہمیں اس کے نرے جھوٹ ہونے کو صاف بتادیتا ہے کہ جہاں ہندوستان کی 60 فیصد ورک فورس آج بھی سیلف ایمپلائی ہے اور90فیصد لیبر آج بھی غیر منظم سیکٹر میں کام کرتی ہے۔پاکستان میں بھی کہانی ہندوستان سے مختلف نہیں ہے۔یہاں بھی پبلک انٹرسٹ کے نام پہ غریبوں سے ان کی زمینیں چھینی جاتی ہیں اور میٹرو بس سے لیکر تھر میں کول فیلڈ کے پروجیکٹس تک سب کی یہی کہانی ہے۔اور نجی ملکیت کے تقدس کی دھجیاں غریبوں کی زمین کے معاملے میں جیسے اڑائی جارہی ہیں اس کا مظاہرہ ہم گوڑانو ڈیم اور بلاک 2 کول پاور فیلڈ میں کام کرنے والی ایس ای سی ایم سی کی جانب سے بخوبی دیکھ رہے ہیں۔

گوڑانو گوٹھ سمیت 12 گوٹھ کی زمینوں پہ سندھ تھر کول مائننگ کمپنی کا قبضہ ہونے جارہا ہے۔اور اس معاملے میں زمین کے اصل مالکوں کی کہیں شنوائی نہیں ہورہی۔

آزادی کے بعد سے لیکر 80ء تک عوامی تحریکیں زرعی اصلاحات کے لئے جدوجہد پہ مشتمل تھيں یعنی جاگیرداروں سے زمینیں لیکر بے زمین کسانوں کو دی جائیں۔لیکن آج دولت کی تقسیم نو یا لینڈ ریفارم کی بات غیر جمہوری سمجھی جاتی ہے۔اور جو سب سے زیادہ ریڈیکل تحریکیں ہیں وہ بھی  چھوٹی سی ملکیت بچانے کے لئے ہیں۔لاکھوں قبائلی، آدی واسی اور غیریب کسان اپنی زمین سے محروم کرڈالے گئے اور وہ چھوٹے شہروں یا بڑے شہروں کے سلم ایریاز میں رہنے پہ مجبور کردئے گئے ہیں۔تو پاکستان کے اندر یہ سی پیک ، میگا پروجیکٹس کے نام پہ یہی کچھ ہورہا ہے۔اور اتنے بڑے پیمانے پہ بے دخلییاں ہمارے ہاں کسی تحریک کے ڈسکورس میں ایک بڑے ایشو کے طور پہ موجود نہیں ہیں۔

آئیں دیکھیں کہ ڈرٹی فیول یعنی کوئلہ سے چلنے والے پاور پلانٹس کا مطلب آلودگی کے تناظر مین کیا بنتا ہے

پوری دنیا میں کوئلے کو ” ڈرٹی فیول ” کہا جاتا ہے اور یہ دنیا میں سب سے

زیادہ آلودگی پیدا کرنے والا ایندھن خیال کیا جاتا ہے

اگر 500 میگا واٹ بجلی کوئلے سے پیدا کی جائے تو اس سے سالانہ 6 ملین

کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے اور اگر ہم 7572 میگاواٹ بجلی پیدا کریں

تو اس کے لئے جو کوئلہ جلایا جائے گا اس سے تقریبا 90 ملین ٹن کاربن ڈائی

آکسائیڈ پیدا ہوگی ( اس کو اگر رانا محبوب اختر ” ماحولیاتی دھشت گردی

کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہیں ) ساہی وال میں 1320 میگاواٹ بجلی کوئلہ

جلاکر پیدا کرنے کا منصوبہ سالانہ 15 ملین ٹن سالانہ کاربن ڈائی آکسائیڈ

پیدا کرے گا اور اگر رحیم یار خان کا مقام ترنڈہ اور قصور کا مقام بلوکی

اور اسی طرح سے بھکّی وغیرہ میں بھی پاور پلانٹس کوئلے کو چلاکر بنتے ہیں

تو سینکڑوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ سالانہ پیدا ہوگی

کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کاربن مانیٹرنگ فار ایکشن – سی اے آر ایم

اے آرگنائزیشن کے مطابق 60 سے زائد پارٹیکلز اور گیسز خارج کرتے ہیں جن

میں زھریلے دھاتی مادے ، نامیاتی مادے ، تیزابی گیسز ، سلفر ، نائٹروجن

آکسائیڈ ، سلفر آکسائیڈ اور پارٹیکل مادے شامل ہیں

دنیا میں 25 انتہائی بدترین پاور پلانٹس جو کاربن ڈائی آکسائیڈ چھوڑتے

ہیں وہ کول پاور پلانٹس ہیں

کول پاور پلانٹس سلفر آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈ بھی خارج کرتے ہیں –

نائٹروجن آکسائیڈ گرین ہاؤس گیسز میں شامل ہے جو نامیاتی کمپاؤنڈ کے ساتھ

ملکر سموگ بناتی ہے جو کہ نباتاتی حیات کے لئے تباہ کن ہے اور اس سے

موسمیاتی تبدیلیاں جو کہ ناسازگار ماحول نباتاتی زندگی کے لئے بناتی ہیں

بنتا ہے اور نباتاتی حیات کی قوت مدافعت بیماریوں کے خلاف کم ہوجاتی ہے

کول پاور پلانٹس سے نکلنے والی سلفر آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈ پانی ،

آکسیجن اور دوسرے کیمائی مادوں سے جو ہوا میں ہوتے ہیں ملکر ری ایکشن میں

تیزابی بارش برسنے کا سبب بنتی ہے اور اس سے ہی سلفیورک ایسڈ اور نائٹرک

ایسڈ بنتا ہے اور یہ زھریلے مادے جب بارش کے پانی میں ملتے ہیں تو یہ بڑے

علاقے میں پھیل جاتے ہیں اور دریا ، جھیل ، سمندر ، تالاب ، زمینی پانی

اس سے متاثر ہوتا ہے ، جنگلات ، آبی مخلوق اس سے متاثر ہوتی ہے اور زمین

اس سے متاثر ہونے کے بعد نباتاتی حیات کے لئے انتہائی خطرناک بن جاتی ہے

چین ، امریکہ اور انڈیا جو کہ کوئلے سے بجلی بنانے میں سب ممالک سے آگے

ہیں وہاں پر تیس فیصد شہروں ميں تیزابی بارش ہوتی ہے

2004ء میں 95 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ ، 90 فیصد سلفر آکسائیڈ اور

نائٹروآکسائیڈ کوئلے سے بجلی بنانے والے پاور پلانٹس نے پیدا کی

کول پاور پلانٹس ایک اور زھریلا مادہ خارج کرتے ہیں جسے نیوروٹاکسن مرکری

کہا جاتا ہے اور یہ مادہ ایک طرف تو خارج ہوکر دریاؤں ، تالاب ، ندی

نالوں میں جم جاتا ہے تو دوسری طرف یہ زمین کے اندر موجود پانی میں بھی

گھر کرتا ہے اور یہ پانی میں کائی لگاتا ہے اور اس پانی کے استعمال سے

بچے پیدا کرنے والی ماؤں کے رحم اور خون میں یہ نیوروٹاکسن شامل ہوجاتا

ہے اور اس سے رحم مادر میں جینین ، شیر خوار بچے ، کم عمر بچّے سب ہی

متاثر ہوتے ہیں ، ان کا اعصابی سسٹم کمزور ہوتا ہے ، غبّی پن ، گونگا پن

، اندھا پن کی بیماریوں کا شکار لوگ ہوجاتے ہیں

ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال چار لاکھ ، دس ہزار بچے متھائل مرکری کے ماؤں

کے رحم ميں شامل ہونے کی وجہ سے متاثر ہوتے ہيں ، کول پاور پلانٹس کے گرد

و نواح میں رہنے والی عورتوں کا 8 فیصد ایسا ہے جن کے خون ميں متھائل

مرکری کا لیول خطرناک حد تک پہنچ جاتا ہے

یہ جو نیورو ٹاکسن مرکری ہے اس سے مرکریک کلورائیڈ اور متھائیل مرکری

پیدا ہوتے ہیں اور دونوں انسانی جسم ميں سرطان زا – سرطان پیدا کرنے

والا مادہ کارسائینو جینز پیدا کرتے ہيں

کوئلے کے جلنے سے پاور پلانٹ کے اردگرد کی فضاء میں سلفیٹ ، نائٹریٹ ،

سوڈیم کلورائیڈ ، کاربن اور مائنرل ڈسٹ پر مبنی پارٹیکلز پیدا ہوتے ہیں

اور یہ انسانی بال سے بھی باریک ہوتے ہیں اور یہ پھیپھڑوں مين اندر تک

تہہ میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں اور جب سانس لیا جاتا ہے تو یہ پھیپھڑوں کی

کارکردگی کو نقصان پہنچادیتے ہیں ، دمہ کا مرض شدت اختیار کرتا ہے ، دل

کی بیماریاں ترقی کرتی ہیں اور پری میچور اموات کی شرح بڑھ جاتی ہے اور

یہ زرات کول پاور پلانٹس کے صفائی میکنزم سے عمومی طور پر بچ نکلتے ہیں

ہر سال 30 ہزار افراد کول پاور پلانٹس کے باعث پری میچور موت کے قریب

ہوجاتے ہیں ، ہر سال 38 ہزار دل کے دورے ، 12000 مریض ہسپتال ميں اور 5

لاکھ 50 ہزار دمہ کے مریض کول پاور پلانٹس کی دین ہیں

کول پاور پلانٹس میں مشینری کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے پانی کی بہت وافر

مقدار درکار ہوتی ہے اور اس کے لئے 28 کلومیٹر کے دائرے میں جس قدر پانی

خرچ کیا جائے گا اس سے خود مظفرگڑھ ہی نہیں بلکہ پورے سرائیکی وسیب میں

پانی کی دستیابی پر بہت منفی اثر پڑے گا

مرے سامنے طاہر جاوید کی ایک رپورٹ پڑی ہے جو انھوں نے بنیادی طور پر

حبکو کی جانب سے 1320 ميگاواٹ بجلی کوئلہ سے پیدا کرنے کے لئے پیش آنے

والی مشکلات بارے ایک پریزنٹشن میں ایک سیمینار کے اندر پیش کی تھی – اس

رپورٹ میں انھوں نے آغاز ہی کول کے ڈرٹی فیول ہونے اور اس کے لئے مغرب سے

فنانسر نہ ملنے کی جانب اشارہ کیا اور دستیاب چینی سرمایہ کاری کی طرف

اشارہ کیا لیکن یہ بھی کہا کہ اگر چین اس پروجیکٹ کو لگابھی دے تو اس کو

چلانے کے لئے درکار سرمایہ پھر مقامی طور پر لینا پڑے گا اور اس طرح سے

ایک نیا سرکلر ڈیٹ یعنی گردشی قرضہ کی لہر آئے گی ، پھر پاکستان میں کسی

کے پاس کول پاور پلانٹ کو انسٹال اور پھر آپریٹ کرنے کی مطلوبہ صلاحیت

نہين ہے ، اس نے آگ لگنے اور دھماکہ ہونے کے رسک کا بھی زکر کیا

پاکستان رینول انرجی بورڑ کی ویب سائٹ کہتی ہے کہ 100 میگاواٹ بجلی پیدا

کرنے کے لئے امپورٹڈ کول 26000 ہزار میٹرک ٹن ماہانہ جبکہ سالانہ 3 لاکھ

25 ہزار میٹرک ٹن چاہئیے اور طاہر جاوید کے مطابق 1320 میگا واٹ بجلی

پیدا کرنے کے لئے درکار کوئلہ لانے کے لئے 500 جہاز چاہئیے اور ہر روز

ڈیڑھ بحری جہاز جبکہ ٹرانسپورٹیشن ملک کے اندر اس کوئلے کو لانے کے لئے

1100 ٹرک روزانہ جبکہ اگر ٹرین کے زریعے لایا جائے تو ہر پنتالیس منٹ کے

بعد ایک ٹرین اور اسے کوئی کراکسنگ نہ پڑے جبکہ ریلوے کو اس کے لئے چار

بلین ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی اور اگر 660 میگاواٹ بجلی کوئلہ سے

پیدا کی جائے تو اس سے ایش یعنی راکھ 250 کے ٹی پی اے پیدا ہوگی تو اس کا

مطلب یہ ہوا کہ 28 کلومیٹر کے دائرے میں 7572 میگاواٹ کے لئے جو کوئلہ

جلے گا اس سے 2950 کے ٹی اے پی ایش پیدا ہوگی ، اس راکھ کو ٹھکانے لگانے

کے لئے جو ٹرانسپورٹیشن ہے اور اس راکھ کو کس جگہ ٹھکانے لگایا جائے گا

یہ سوال بھی بہت اہم ہے ، 7572 میگاواٹ بجلی مظفرگڑھ اور ساہیوال میں

1320 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے مطابق جو نیشنل ٹرانسمیشن لائن ہے اس کو

بڑھانے کی استعداد نیشنل ٹرانسمشن ڈسپیچ کمپنی کے پاس 23 کلومیٹر ماہانہ

ہے یہ رفتار ان منصوبوں کا ساتھ نہیں دے سکتی

اس کالم میں بس اتنا ہی لکھنے کی گنجائش ہے ، کوئلے سے بجلی پیدا کرنے سے

واپسی کا سفر یورپ اور سینڈے نیوئن ملکوں نے بہت پہلے کرڈالا تھا اور اب

وہاں تیزابی بارش نام کی چیز معدوم ہوتی نظر آرہی ہے اور وہ اس ڈرٹی فیول

کی تباہ کاریوں سے بہت اچھی حد تک واقف ہیں اور وہاں ” گرین پیس “

تحریکوں نے حکومتوں کو گرین ہاؤس گيسز والے فیول کے استعمال کو کم سے کم

کرنے پر مجبور کیا ہے جبکہ ہمارے ہاں ” کول پاور پلانٹس ” کو ترقی کا بہت

بڑا قدم بناکر پیش کرنے والوں کی کمی نہیں ہے

مظفر گڑھ ، ساہیوال ، قصور ، رحیم یار خان یہ سب گنجان آبادی کے علاقے

اور ان علاقوں کی ماحولیات پہلے ہی کوئی مثالی نہیں ہے ، اس لئے یہاں پر

کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے اتنے بڑے منصوبے یہاں کی ہوا ، یہآں کی زمین

، نباتات ، انسان ، حیوانات ، سب کے لئے بہت خظرناک ہیں اور اس سے سالانہ

لاکھوں لوگ متاثر ہوں گے ، یہ پلانٹس انسٹالیشن ، آپریٹنگ سمیت کئی اور

بڑے تکنیکی امور میں اس علاقے تو کیا پورے پاکستان کے لئے کوئی بڑی

نوکریاں پیدا کرنے کا سبب نہیں بنيں گے ، ان کے جو اثرات ماحول پر ہوں گے

اس سے ریاست پر صحت ، پانی سمیت کئی اور امور ميں مزید فنڈز مختص کرنے

اور صحت ، سینی ٹیشن سمیت کئی اور شعبوں ميں بھاری بھرکم سرمایہ کاری کی

ضرورت پڑے گی جوکہ پہلے ہی اس خطے میں ریاست بہت کم کررہی ہے اس سے اور

معاملہ گھمبیر ہوجائے گا

کچھ اور سوالات اس ضمن میں مرے ذھن میں ہیں جن کے میں جوابات باوجود کوشش

کے تلاش نہیں کرسکا

پنجاب انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے ان مقامات پر کول پاور پلانٹس لگانے

کے لئے جو انوائرمینٹل امپیکٹ اسسمنٹ اسٹڈی کی اور جب اس کی منظوری دی

ہوگی تو اس کو علاقے کے لوگوں سے کیوں شئیر نہیں کیا گیا ؟کیا اس حوالے

سے کوئی کھلی سماعت کی گئی تاکہ سول سوسائٹی اپنے اعتراضات داخل کرسکتی

یا لوگوں کو اس قابل ہی خیال نہیں کیا گیا

میں نے برٹش کینالائزیشن ، کالونائزیشن اور برٹش سوشل انجئینرنگ کو پنجاب

کی چھے باروں کے مقامی آبادیوں کے لئے ریڈانڈیائزشن سے تعبیر کیا تھا

اور کئی مرتبہ لکھا کہ پاکستان بننے کے بعد بھی ریڈانڈینائزیشن ہونے کا

یہ پروسس نہیں رکا بس یہ ہوا کہ رنگدار چمڑی والے سفید ذھنیت کے ساتھ

یہاں پر مسلط ہوگئے ہیں ، پہلے یہ سلسلہ اس خطے کی خام مال کی لوٹ کھسوٹ

، زمینوں کی الاٹمنٹ تک محدود تھا اور ایک اور نئی ریڈانڈینائزیشن شروع

ہورہی ہے اور وہ ہے کہ کارپوریٹ سرمایہ دارانہ ترقی ، انوسمنٹ ، توانائی

کے نام پر ڈرٹی فیول پر مبنی اس خطے کی ماحولیاتی تباہی ، لوگوں کی

زبردستی بے دخلی ، داخلی مہاجرت اور ان کے لئے بیمار زھریلی فضا کو مقدر

کیے جانے کا عمل

پاکستان بھر کی سول سوسائٹی کو ، سیاسی کارکنوں ، سماجی کارکنوں ،

انسانی حقوق کی تںطیموں ، ماحولیات پر کام کرنے والوں کو ڈرٹی فیول پر

بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے خلاف بیدار کیا جانا چاہئیے کیوں ماحولیاتی

آلودگی کا یہ سفر  یہاں تک  رکنے والا نہیں ہے

باپ بیٹے کی سیاست بانجھ کیوں ہے ؟

 

یہ پہلا موقعہ ہے کہ میں نے 27 دسمبر پہ کچھ نہیں لکھا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تاریخ کے اس پرآشوب دور میں مری تحریروں سے کسی کو یہ غلط فہمی ہوجائے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اس ملک کی مجبور و مظلوم اقوام ، کچلی ہوئی اور پسی جانے والی مذہبی اور نسلی اقلیتوں کی ترجمانی کررہی ہے۔اور میں اپنے پڑھنے والوں کو یہ فریب بھی نہیں دینا چاہتا کہ سندھ جہاں پاکستان پیپلزپارٹی پوری قوت کے ساتھ حکومت کررہی ہے وہاں کے محنت کشوں، کسانوں ، ہاریوں ، طالب علموں، عورتوں اور اقلیتوں میں یہ احساس ہے کہ ان کے ہاں ایک عوامی حکومت کام کررہی ہے اور وہ سرمایہ داروں، جاگیرداروں، پیروں، ودردی و بے وردیی نوکر شاہی ، ٹھیکے داروں ، سٹے باز سرمایہ داروں، اور عالمی سرمایہ داروں کے مقابلے میں سندھ کے محنت کشوں، کسانوں، ہاریوں ، تھریوں کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے۔ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی پوری قوت سے سندھ میں نیولبرل ازم ، اقربا پرور  سرمایہ داری ، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی منافع خوری اور میگا پروجیکٹس کے نام پہ بڑے پیمانے پہ تباہی پھیلانے کا کام بالکل ویسے ہی کررہی ہے جیسے یہ کام پاکستان مسلم لیگ نواز وفاق، پنجاب اور بلوچستان میں کررہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف خیبرپختون خوا میں کررہی ہے۔

 

protest-camp-thar-3

ڈسٹرکٹ تھر میں تحصیل اسلام کوٹ کے 12 گوٹھوں کے تھری باشندے اپنی بے دخلی کے خلاف 70 دن سے اسلام کوٹ پریس کلب کے سامنے احتجاج کے طور پہ بیٹھے ہیں لیکن کوئی ان کی بات نہیں سن رہا

آپ کو بلاول بھٹو زرداری کی بلوچستان جاکر ڈسٹرکٹ ہسپتال کوئٹہ کے سامنے صحافیوں سے کی جانے والی گفتگو اور اس دوران بہائے جانے والے آنسو یاد ہوں گے۔لیکن کل 27 دسمبر 2016ء کو گڑھی خدا بخش میں شہیدوں کے قبرستان میں کھڑے ہوکر نہ تو باپ آصف زرداری اور نہ ہی بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ پاکستانی حکومت سے یہ مطالبہ کرتے کہ بلوچستان میں بلوچ قوم کے جوانوں ، ادیبوں، شاعروں، کھلاڑیوں، سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیاں بند کی جائیں، جبری گمشدہ افراد کو برآمد کیا جائے، جن کا ماورئے عدالت قتل ہوا اور مسخ شدہ لاشیں ملیں ہیں ان کے زمہ داران کا سراغ لگایا جائے۔اور سی پیک کے نام پہ گوادر کے اندر مقامی لوگوں کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کے آگے روک لگائی جائے۔اور سب سے بڑھ کر بلوچستان میں ایف سی ، فوج ، ایجنسیوں کی بھیڑ کم کی جائے۔بلوچستان میں حافظ سعید ، رمضان مینگل سمیت جہادی اور فرقہ پرست تنظیموں کی سرپرستی بند کی جائے اور ان کو بلوچ قوم کے خلاف بطور پراکسی استعمال کرنا بند کیا جائے۔میں آپ کو یہاں یہ بریکنگ نیوز بھی دے رہا ہوں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا سب سے بڑا ادارہ یعنی سی ای سی کے اندر اجلاس میں بلوچ ایشو ایجنڈے پہ تھا ہی نہیں اور سرے سے اس پہ بات ہی نہیں ہوئی۔یعنی اس ملک کی کسی بڑی سیاسی جماعت کو بلوچ قوم کی مصیبتوں اور عذاب سے کوئی دلچسپی ہے ہی نہیں اور اس کی صرف و صرف ایک وجہ ہے کہ سی پیک کے نام پہ جو ایک کھرب ڈالر سے زیادہ کی جو سرمایہ کاری ہے اس میں سب اپنا اپنا حصّہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور اس سی پیک اور چینی مداخلت سے تھر تباہ ہوتا ہے تو ہوجائے، تھری بے دخل ہوں تو ہوں، ٹھٹھہ –سجاول کے غریب ملاح ذوالفقار آباد بننے سے تباہ ہوں تو ہوں، گوادر خود گوادر کے رہنے والوں کے لئے اجنبی بن جائے تو بن جائے اور گلگت و بلتستان کی زمینوں پہ باہر سے لوگ قبضہ کرلیں تو کرلیں اور اس پہ اگر کوئی آواز اٹھائے تو ان کو مار لگائی جائے۔، سپریم کورٹ تک 40 سال تک کی سزا سنادے(جیسے بابا جان کے معاملے میں ہوا) اور ٹارگٹ کلرز لاڑکانہ میں بھرے چوک میں گولیاں مار کر فرار ہوجائیں۔کیا شبیر بلوچ کسی کا بیٹا ، کسی کا بھائی ، کسی کا شوہر نہیں ہے؟ یہ جو چار ہزار سے زائد بلوچ جبری گمشدہ ہیں یہ کسی کے کچھ نہیں لگتے؟اور جن کی لاشيں ملیں وہ کس سے کہیں کہ ان کا انتقام لیا جائے؟

 

پاکستان پیپلزپارٹی کا تکفیری اور نام جہادی دہشت گرد تنظیموں کے فعال ہونے اور آزادانہ کام کرنے کے بارے میں بھی دوھرا معیار ہے۔سندھ میں تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تکفیری دیوبندی دہشت گرد تنظیم اہلسنت والجماعت /سپاہ صحابہ پاکستان کھلے عام جلسے جلوس کررہی ہے اور اس کے لوگ بلدیاتی اور قومی و صوبائی الیکشنوں میں حصّہ لیتے ہیں جبکہ حاجی سراج سومرو جیسے سپاہ صحابہ کے لوگ (عمر کوٹ میں اس کا بیٹا خالد سراج سومرو اب مونسپل کمیٹی کا چئیرمین ہے) پی پی پی کی صفوں میں اہم مقام حاصل کرچکے ہیں اور خالد سومرو مرحوم کا رشتہ دار قیوم سومرو سینٹر ہے اور بادشاہ گر ہے۔بلاول بھٹو کو مسلم لیگ نواز کی حکومت کی کابینہ میں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے وزیر نظر آتے ہیں لیکن اپنی صفوں میں بیٹھے شمر ان کو نظر نہیں آتے۔بلوچستان میں رمضان مینگل ، اور حافظ سعید کا نیٹ ورک اور تھر میں سپاہ صحابہ اور جماعت دعوہ کا نیٹ ورک ملٹری اسٹبلشمنٹ کی مدد سے کام کررہا ہے لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کو 2018ء کے الیکشن میں چونکہ اقتدار تک پہنچنے کی ہر صورت سبیل کرنی ہے اس لئے وہ نہ تو اپنے سندھ کے اندر کئی “جھنگ ” پیدا ہوجانے پہ تشویش زدہ ہے اور نہ ہی اسے ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ جہادیوں اور فرقہ پرستوں کی یاری بارے کوئی بات کرنی ہے۔شیعہ نسل کشی کا سب سے بڑا سنٹر کراچی بنا رہا ہے ، اس کے بعد بلوجستان ہے ،پھر خیبرپختون خوا رہا ہے۔اور پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے سابقہ پانچ سالہ دور میں سب سے زیادہ گلے سے ان لوگوں کو لگائے رکھا جوکہ تکفیریوں کے ہمدرد تھے یا سہولت کار تھے۔اسلامی نظریاتی کونسل کی چئیرمین شپ شیرانی کو ، طاہر اشرفی کو رکنیت دی گئی اور سپاہ صحابہ کے سپریم کونسل کے سربراہ ضیاء القاسمی کے بیٹے زاہد القاسمی کو قریب کیا گیا اور سندھ کے اندر اورنگ زیب فاروقی کو وی آئی پی سیکورٹی پروٹوکول دیا جاتا رہا اور اس حوالے سے جب فرح ناز اصفہانی نے سنٹرل ایگزیگٹو کمیٹی میں مری درخواست پہ بات کرنے کی کوشش کی تو سب سے زیادہ اس ایشو پہ مخالفت کا سامنا ان کو شیری رحمان ، سراج درانی ، قیوم سومرو  اور فریال تالپور کی جانب سے کرنا پڑا تھا۔اور مرے پاس وہ ای میل محفوظ ہے جس میں فرح ناز اصفہانی نے کہا تھا کہ اگر وہ اس معاملے پہ اور کھل کر بولیں تو ان کی اور ان کے شوہر کی فیملی جو کراچی میں مقیم ہے کو خطرات لاحق ہوجائیں گے۔لیاری کے اندر عزیر بلوچ تبلیغی جماعت ، سپاہ صحابہ کا سرپرست بنا رہا اور اسے پاکستان پیپلزپارٹی نے پوری طرح سے استعمال کیا اور ان کے زریعے سے لیاری کے اندر جو کھیل کھیلا جارہا تھا پی پی پی کی قیادت اس سے واقف تھی اور یہاں سے بلوچ قومی تحریک کو کچلنے اور بلوچ نوجوان جو فعال تھے ان کو مارديے جانے یا غائب کردئے جانے یا ان کے فرار ہونے کی کہانی سے کون واقف نہیں ہے؟ لیاری کی سڑکیں ، لیاری کی گلیاں سب تباہ و برباد ہیں، پینے کا صاف پانی نایاب ہے اور صحت کی سہولتیں غائب ہیں اور تعلیم کی سہولتیں بھی نہیں ہیں، یہ کراچی کے پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے اور اسی طرح ملیر میں جہاں پی پی پی بہت محبت کا دعوی کرتی ہے وہاں بھی عام آدمی کے لئے ترقی نام کو نہیں ہے۔اس کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ ان کو عوام کا درد ہے اور دکھ ہے۔

 

پنجاب میں سرائیکی خطے کی قیادت انہوں نے سرائیکی خطے کے مفادات ، حقوق ، اس کی قومی شناخت کو حکمران طبقات کے آگے گروی رکھنے والے خاندان کے فرزند کے ہاتھ گروی رکھ دی ہے۔ مخدوم زادہ حسن محمود کا بیٹا مخدوم احمد محمود پی پی پی جنوبی پنجاب کا صدر ہے اور جنرل سیکرٹری ایک اور پی پی پی دشمن خاندان کی جاگیردارنی نتاشا دولتانہ کے ہاتھ ہے۔اور اس پارٹی کی اکثریت جو اپنے آپ کو کارکن کہتی ہے دیہاڑی باز ، نظریات سے عاری اور ہر وقت بس داؤ لگانے کے چکر میں رہتی ہے اور اس کے ہاں ” لیفٹ کے نظریات ” کی کوئی وقعت سرے سے ہے ہی نہیں۔مجھے تو یہ لگتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ پی پی پی کی بنیادی تاسیسی دستاویز ایک ڈرامہ کے سوا کچھ نہیں ہے اور اسے تو خود ذوالفقار علی بھٹو نے پہلے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیکر دفن کیا ، پھر 74ء میں اسلامی بنیاد پرستوں کے دباؤ میں آکر مذہبی رجعت پرست اصلاحات متعارف کراکے دفن کردیا تھا۔اور آخری دنوں میں ذوالفقار علی بھٹو نے جو کچھ بلوچ ، پشتون ، سندھی قوم پرستوں ، کمیونسٹوں ، بائیں بازو کے کارکنوں کے خلاف کیا اور جس طرح سے فوج کو ایرانی شاہ کو خوش کرنے کے لئے بلوچستان میں استعمال کیا وہ اپنی جگہ ایک الگ المناک داستان ہے۔کم از کم بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کے المناک انجام سے سبق حاصل کرتے ہوئے بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہونے سے گریز کیا۔اور اب بھی بے نظیر بھٹو وطن واپسی پہ شرباز مزاری، معراج محمد خان ، نواب خیربخش مری سے ملی تھیں اور اس سے صاف اندازہ ہورہا تھا کہ وہ کم از کم اسٹبلشمنٹ کے بلوچستان بارے ڈیزائن سے اتفاق نہیں رکھتی تھیں اور ان کو اپنا کندھا نہیں دینا چاہتی تھیں۔

   اور پاکستان پیپلزپارٹی کی باپ بیٹے پہ مشتمل یہ نئی قیادت اس قدر بے ضمیر اور بزدل ہے کہ یہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا سراغ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ایوانوں تک جاتا دیکھ کر ڈر گئی اور اب یہ اس قتل کو صرف نواز شریف کے گلے ڈالنا چاہتی ہے اور اس نے تو سلمان تاثیر کے قتل پہ چپ سادھ لی تھی اور لطیف کھوسہ نے جب گورنر کا حلف لیا تو سامنے سلمان تاثیر کی تصویر تک نہ رکھ سکا اور اس وقت کسی نے سلمان تاثیر کا نعرہ تک بلند نہ کیا اور اس گورنر ہاؤس میں اسے کبھی سلمان تاثیر کے لئے تعزیتی ریفرنس تک منعقد نہ کی اور شہباز بھٹی کے لئے دعائیہ تقریب تک نہ کی گئی تھی۔آصف زرداری اور بلاول بھٹو اوکھلی میں سر دینا نہیں چاہتے ، نہ ہی وہ سر پہ موصلے برستے دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس لئے میں کہتا ہوں آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت اور ان کے اردگرد جمع لوگ نہ صرف کردار کے حوالے سے دیوالیہ پن کا شکار ہیں بلکہ وہ نظریاتی طور پہ بھی بالکل ہی بانجھ ہیں اور ان کو گلوریفائی کرنا پاکستان کے محنت کشوں، کسانوں ، مظلوم و مجبور اقوام ، مذہبی فرقوں کے مصائب کے زمہ داران کے ساتھ کھڑا ہونے کے مترادف ہے

بنام عالمی ایوارڈ یافتہ حامد میر

hamid-mir

Hamid Mir is a sectarian bigot and a fraud who misuses the Baloch cause to create sympathy for the Taliban and also to create opposition for any operation against the Taliban and other terrorists. Who can forget the despicable performance of Hamid Mir when he ganged up with Irfan Siddiqui and allowed Imran Khan to harass and abuse Dr. Hoodbhoy in a Capital TV episode in 2009. In 2010, leading alternate site LUBP was viciously targeted by Hamid Mir for exposing his anti-Ahmadi bigotry and his links with the Taliban which lead to murder.

 

حامد میر کے نام کھلا خط

 

آج جب میں جیو نیوز ٹی وی دیکھ رہا تھا تو وہاں وقفے سے وقفے سے تمہیں صحافتی خدمات کے صلے میں ملنے والے کسی ایوارڈ کی خبر نشر ہورہی تھی-تم ایک گورے کے ساتھ ایک تصویر میں کھڑے دکھائی دے رہے تھے اور ایک بڑا سا پلے کارڈ تمہارے ہاتھ میں تھا جس پہ اوپر لکھا تھا “موسٹ ری سائیلینٹ جرنلسٹ ایوارڈ ” اور نیچے لکھا تھا 15000 ہزار یورو-مری انگریجی تھوڑی نہیں کافی کمجور ہے اور اس لئے میں نے اپنے ایک کالے انگریج کو آواز دی اور اس سے پوچھا کہ بھائی یہ جو ری سائیلینٹ ہے اس کا کیا مطبل ہوتا ہے؟ اس نے مرے سامنے آکسفورڈ لغت کی ایک تعریف رکھ دی

(of a person or animal) able to withstand or recover quickly from difficult conditions.

‘babies are generally far more resilient than new parents realize’

‘the fish are resilient to most infections’

گویا ہمارے لفظوں میں تم سب سے بڑے آہنی جرنلسٹ ہو جس نے بہت جلدی ہی خود کو درپیش آنے والی مشکلات اور مشکل حالات سے نکال لیا ہے  اور تمہیں اسی بات کا ایوارڈ ملا ہے-تم پہ ایک قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں تم شدید زخمی ہوگئے تھے اور اس سے پہلے تمہاری گاڑی کے نیچے کسی حرماں نصیب طالب نے بم نصب کردیا تھا اور اس سے پہلے کوئی خالد خواجہ جو آئی ایس آئی کا سابق افسر ، تمہارے ہیرو اسامہ بن لادن کے انتہائی قریب کے بیٹے نے تم پہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ تم تھے جس کی مخبری نے تحریک طالبان کو تمہارے ایک دیرینہ دوست کا سر کاٹنے کا موقعہ فراہم کردیا تھا-ظاہر ہے یہ سب بے پر کی اڑائی گئی باتیں ہیں ، تمہارا دہشت گردوں اور ان کےہمدردوں سے کیا لینا دینا ہے-تم تو آصف علی زرداری کے صدر بننے کے بعد ایک گروپ کے ساتھ آصف علی زرداری کی قربت کے طلبگار نہیں ہوئے تھے اور یہ رؤف کلاسرا کی گھڑی ہوئی کہانی ہے کہ وہاں سے ذلیل ہونے کے بعد تم اور تمہارے کئی پھنّے خان صحافی پی پی پی کی حکومت کو چند مہینوں میں گرانے کے دعوے کرتے نکل گئے تھے اور پھر دو سال کے بعد سلمان فاروقی کے زریعے تم سمیت مہم جو صحافیوں نے زرداری سے معافی طلب نہیں کی تھی-اور یہ بھی جھوٹ ہے کہ زرداری نے ناقابل اشاعت گالی دیتے ہوئے تمہاری اس فراغ دلانہ پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا اور پھر تمہارا غصّہ اور عروج پہ پہنچ گیا تھا-شاہین صہبائی بھی جھوٹ بولتے ہیں نا-تمہارےکھیسے میں فخر کرنے کے لئے کافی آئٹم ہیں –جیسے تم پروفیسر وارث میر کے بیٹے ہو اور تمہارے والد کے ہم مشرب جو یہ کہتے ہیں کہ تم اور وارث میں وہی نسبت ہے جو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور عمرو بن سعد میں تھی غلط کہتے ہیں بلکہ بکواس کرتے ہیں-اور وہ جو جنگ کے فیکس روم میں آنے والی فیکسز کو پہلے “کہیں” اور بھجوانے کی بات بھی سراسر بکواس ہے-تم تو بڑے دبنگ صحافی رہے ہو، تم نے نواز شریف کو جواب دیا جب وہ بے نظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لئے صحافیوں کا کندھا استعمال کرنا چاہتا تھا-اور یہ بھی تو غلط ہی ہے نا کہ تمہاری محبت سپاہ یزید کے کسی لدھیانوی سے بہت ہے ، تم اکٹھے بہت سی راتیں گزارتے ہو اور تو اور یہ جو تم اس لدھیانوی کو اپنے پرائم ٹائم ٹاک شو “کیپٹل ٹاک ” میں لائے تھے ،وہ تو اس کو بے نقاب کرنے اور ایکسپوز کرنے کے لئے لائے تھے، تم کب تکفیری فاشسٹوں کو پرائم ٹائم پروجیکشن دیتے ہو ، تم تو طلعت حسین سے لڑے تھے خوب ہے نا جب اس نے جیو میں اپنے پروگرام میں لدھیانوی جیسے تکفیری کو بلایا اور اس نابغہ سے شیعہ جیسی مخلوق کے کافر ہونے کے دلائل پوچھے تھے اور تم اپنے ٹی وی چینل کے مالک کی جانب سے نیوز بلیٹن کے اندر سپاہ یزید کی پروجیکشن سے بھی راضی نہیں ہو اور کالعدم تنظیم کے بارے ميں تم میر شکیل الرحمان کے سامنے احتجاجی پلے کارڈ اٹھاکر گئے کہ اس پروجیکشن کو بند کیا جائے-اور جب سابقہ دھرنا ایپی سوڈ میں بھی تکفیری شہزادے اسلام آباد پہ حملہ آور ہوئے تھے تو تم نے بہت احتجاج کیا تھا،ہے نا، دیکھو جہاں میں تمہارے روشن ماضی بارے کوئی بات زکر کرنا بھول جاؤں تو مجھے خط لکھکر اس سے آگاہ ضرور کردینا

 

%d8%ad%d8%a7%d9%85%d8%af-%d9%85%db%8c%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%86%db%81%d8%b1%db%81
یار یہ رعایت اللہ فاروقی بھی بس نا ، بندہ اسے کیا کہے کسی نے حامد میر کی آواز کی نقل اتار کر اسے فون کردیا ہوگیا اور یہ اصل سمجھ بیٹھا،اس دن تو اخبار ہی نہیں چھپنا تھا اور تمہارا تو پیٹ خراب تھا تم تو گھر سے ہی نہیں نکلے بلکہ باتھ روم سے باہر نہیں آئے تو فون کیسے کرسکتے تھے

تم واقعی مردآہن ہو ، دیکھو بھارتی قابض فوج کا پہرہ ہے مقبوضہ کشمیر میں ، جگہ جگہ پہرے ہیں ، کمیونیکشن پہ ان کا قبضہ ہے لیکن تم پھر بھی کسی نہ کسی طرح وانی کے باپ ، سید علی گیلانی اور کشمیری صحافیوں سے بات کرنے میں کامیاب ہوگئے اور کشمیر میں ہوئے مظالم کو بے نقاب کردیا-کیا کیا مشکلات نہیں تھیں تمہارے آڑے مگر تم نے کسی کا کوئی لحاظ نہ کیا اور اپنے “موسٹ ری سائلئینٹ جرنلسٹ ” ہونے کا ثبوت فراہم کیا –تم واقعی مہان ہو

اور یہ واحد بلوچ جو کہیں کراچی ٹول پلازہ پہ کہیں غائب ہوگیا ، اور اس کا گھر بھی تو دیکھو کتنی مشکل جگہ یعنی چاکی واڑہ لیاری میں ہے ، اب اتنے مشکل مقام پہ بھلا تم کیسے اس کی بیوی ، اس کی تین بیٹیوں کو تلاش کروگے ، اور کیچ تو اس سے بھی دور ہے وہاں سے شبیر بلوچ کے غائب ہونے کی خبر بھلا اسلام آباد کیسے پہنچے گی اور تم کیسے اپنے زرایع سے اس کی تصدیق کروگے-اور نجانے شبیر بلوچ کی بہنیں ، ماں اور گھر والے کیچ سے کراچی میں کہاں احتجاجی کیمپ لگائے ہوئے ہیں تو ان تک نہ پہنچ پانے سے تمہاری آہنی صحافت کو کوئی فرق نہیں پڑتا –یہ ہانی اگر چاہتی ہے کہ اس کا باپ کا کیس تمہارے پروگرام میں اٹھے اور اس کی آواز قوم سنے تو اسے تمہارے آفس اسلام آباد کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھنا ہوگا اور خاکی والوں سے ایک سرٹیفکیٹ بھی لیکر آنا ہوگا-اب تمہارے کان اتنے لمبے کہاں ہیں کہ نارتھ ناظم آباد میں ایک گھر کے تین سگے بھائیوں کی بہنوں ، ماؤں اور بیواؤں کی چیخیں تم تک پہنچ سکیں اور تم کشمیر کی ماؤں کی طرح ان کا نوحہ بھی اپنے پروگرام میں سنا پاؤ ، ہاں وہ اس طرح روتی چلاتی تمہارے دفتر کے سامنے آجائیں تو شاید تم نوٹس لے بھی لو جیسے تم نے فرزانہ بلوچ اور ماما قدیر کو بلایا اور انھیں درس حب الوطنی دیا تھا اور آج فرازانہ مجید کینڈا میں بیٹھ کر وطن کے گیت گارہی ہے اور تمہیں دعائیں دیتی ہے-اور اسلام آباد میں ہائیکورٹ ، سپریم کورٹ کے بنچوں کی کاروائیوں کا تمہارے لئے تذکرہ بہت آسان ہے لیکن گجرات سے سپاہ یزید سے تعلق رکھنے والا نواز لیگ کا ایم این اے عابد علی گجر احاطہ عدالت سے  ضمانت منسوخ ہونے پہ فرار ہوجاتا ہے تو تم تک تو کیا “سب سے آگے، سب سے پہلے جیو ” کو بھی خبر نہیں ہوتی، کیمرے عین موقعے پہ خراب ہوئے اور تمہارا کچرات سے نشریاتی رابطہ بھی نہیں رہا تھا-اور یہ ریاض ملک ( تمہارا مربی بحریہ ٹاؤن والا فرشتہ نہیں ) بلکہ ایک شیطانی روح لکھتا ہے ،

 

Riaz Malik says : Regarding Hamid Mir’s “support” for the Baloch cause, the Fake liberal Mafia always presents that clip of his interview with Shehzad Roy.

 

During that clip, Hamid Mir misappropriates and hijacks the Baloch cause to vent his prejudice against the previous PPP government and dilutes criticism for the army. but that is not the worst part. Hamid Mir also creates a False binary to equate Baloch Nationalist struggle with the cause of his favourite Takfiri Deobandi terrorist group, the Taliban.

 

In one part of that 7 minute interview, Hamid Mir chastised the army for allowing the US to “violate our sovereignty” when U.S. Seals came in and killed Osama bin Laden.

 

When Hamid Mir criticises the army’s operation against Baloch nationalists, he in effect wants the army to stop any operation against the Taliban as well. This is a tactic that was used by others as well including Imran Khan and I think even PML N.

 

Hamid Mir is a sectarian bigot and a fraud who misuses the Baloch cause to create sympathy for the Taliban and also to create opposition for any operation against the Taliban and other terrorists.

 

Who can forget the despicable performance of Hamid Mir when he ganged up with Irfan Siddiqui and allowed Imran Khan to harass and abuse Dr. Hoodbhoy in a Capital TV episode in 2009. In 2010, leading alternate site LUBP was viciously targeted by Hamid Mir for exposing his anti-Ahmadi bigotry and his links with the Taliban which lead to murder.

 

میں اس بکواسیات پہ زرا بھی یقین نہیں رکھتا-تم پاکستانی صحافت میں بہادری، جرآت ، بے باکی اور ہمت کی لازوال مثال ہو اور تمہاری سرخیوں نے تاریخ میں زندہ رہنا ہے ، تمہیں “موسٹ ری سائلئنٹ جرنلسٹ ” پہ بہت بہت مبارکباد

تمہارے ساتھ سیلفی بنانے پہ فخر کرنے والا تمہارا فین

Struggle for Release of Missing Wahid Baloch will pave the way for release of other Enforced Missing Persons-Symposium at Irtaqa Institue Karachi –Report By Riaz Ahmad

kaleem-durrni

Kaleem Durrani General Secretary of Irtaqa Institute Karachi addressing symposium on Human Rights and Missing Persons

 

 

A symposium was organized by Irtaqa Institute for Social Sciences Karachi on 15 October, 2016. In that symposium participants expressed their concerns on issue of enforced missing people and violation of human rights in Pakistan.

 

In start General Secretary of Irtaqa Institute Kaleem Durrani presented brief introduction of Irtaqa Institute. “This institute reflects progressive point of view of intellectuals on changing situation in society. Today here are Hani Baloch and Mahin Baloch-daughters of enforced missing poet and writer Wahid Baloch- who are in constant struggle for release of her father since 26th July,2016”, he said.

 

“Their struggle once again issue of missing persons helped to bring in lime light and we pay tribute both of them for their courage and braveness. And they are both presiding over this symposium”, He added.

 

 

After inaugural speech made by Kaleem durrani, Hani Baloch made a speech. She said,” Enforced missing of our father Wahid Baloch has destroyed peace and calm of our whole house. A person who cannot see any person in pain has been missed since 26th July, 2016 and those are responsible for this missing are silent.”

 

“We are knocking doors of courts, Police stations and visiting again and again offices of lawyers but nobody is ready to hear our request. My mother are shocked and she is patient of hypertension. My grandmother is hospitalized and I could not muster up such courage to tell her truth”, she added more.

“ Here Human Right Commission for Pakistan, humanists, book lovers are not only supporting us but they are included in our struggle for release of  my Baba(Father) Wahid Baloch and other missing persons. Symposium for Missing persons from institute like Irtaqa is sign of living humanity still in our society”, Hani Baloch said during her speech.

Hani regretted that when in Latin America Museum for commemorating of period of enforced missing persons are being erected, we are raising question: Why our papa Wahid Baloch was missed? But there is nobody here to reply us and no one here to tell us about alleged crime of our father. If my father committed any crime then what should my father to do for saving his life. Lessons of peace and brotherhood are given in schools and colleges here. Is that peace not to tell whereabouts my father?  She questioned. Here are no democratic rights. I visit every place for justice but cannot find, she said.

Dr.Hafeez Jamali from Habib University said,

“Issue of missing persons has become issue of many people in Pakistan. Human rights are being violated and it is false to say that only militant Baloch people are enforced missing. Every Baloch has a missing which is either his/her class fellow or relative. Environment of fear is dominated in Baluchistan due to growing in number of missing persons. No young man in Baloch community, who do not see torture in dreams or he/she has not fear of enforced missing. When I was researching and collecting matter for my doctoral thesis then my observation was that in those days Baloch  fishermen were frightened to go Karachi or come to Gawader city because fear of missing or picking up by intelligence agencies was in their mind. Dr.Hafeez praised much Hani Baloch and Mahin Baloch for their forthcoming for release of their enforced missing father and thus brave girls helped in breaking silence on issue of missing persons.”

 

Kashmiri student Jawad said,” Every Nation living in Pakistan is target of enforced missing and this is all happening due to demand for their rights from these nations. We will have to use every democratic way including through writing, making speeches, protest to make possible release of Wahid Baloch and this release will make possible more releases of missing persons in Pakistan.

 

Sartaj Khan, member of Revolutionary Socialist organization was also there along with his other comrades. His view was that in Pakistan, from Wazirstan to Karachi masses are being targeted of state campaign for capitalist occupation. So called development is state narrative and whoever raise voice against displacement, poverty, backwardness is declared at once traitor, terrorist and agent of state enemies.

“Issue of missing persons is also linked with capitalist developmental narrative of state”, comrade Sartaj added.

 

Political worker Praim Lal criticized funded oriented and project based non-governmental sector’s approach toward such issue and said that issue of missing of Wahid Baloch is a political issue and we cannot restricted it to just non political aspect. Project based NGO’s cannot run a political movement.

 

Rahat Saeed, a progressive writer and intellectual from Karachi said,

“Movement for release of Wahid Baloch, in fact is encouraging other families of missing persons. Release of Wahid Baloch is only way to stop enforced missing of people next. Intellectuals, Poets, writers cannot see massive violation of human rights and freedom for speech in society. This is desire of those evil forces which want to divide our society. Enforced missing is not civilized way to handle with alleged crimes and to protect the country. If Wahid Baloch is involved in any anti-state activity or in any other crime then a case should be registered against him and he should be produced in court.”

 

Human rights activist Abdulhai briefed the audience in symposium about details of human right violations in Pakistan. His view was that unlawful acts like picking up people and then missing them are being taken to frighten and terrorize the people active for human rights or challenging state narrative on different issues. When government set up a commission for enforced missing persons then Supreme Court disposed of all cases of enforced missing people and now this commission is working just in papers.”

 

Blogger and writer Asim Jan said,” Baloch, Sindhi, Urdu speaking , people from Gilgit-Baltistan,Kashmir and even from Punjab tenants are being picked up and now thousands of people are missing and state actors are involved in such extra-legal and unconstitutional acts. We will have to fight against this on larger scale.

 

Prominent activist of Democratic Students Federation-DSF Naghma Sheikh stressed on all nationalists, Marxists  and democratic currents in all nations of Pakistan to become part of this movement for release of missing people in Pakistan till to achieve the target. We should adopt the message delivered by Hani Baloch today.

Baloch writer Imadad Hussain revealed worst situation of human rights in Lyari of Karachi. According to him there are thousands of residents of Lyari have been extra-Judicially killed or are now in list of enforced missing people. Mostly extra-judicial killing were of nationalist activists or political workers. People are so frightened that coaching centers have been closed. Many families were destroyed in the name of so called gang-wars. Victims are not only Baloch but some Sindhis also. He appreciated those persons and organizations who are raising voice for Wahid Baloch. He stressed on political workers and human rights activists to come Layari and collect evidences of genocide of people of Layari in Karachi. Wahid Baloch was a harmless not a celebrity but a small Baloch innocent writer and poet and he was picked up and now he is also in missing persons. In Layari such innocent children were slaughtered who ever chewed Pan along with.

Dr.Riaz Ahmad, teacher from Karachi University also made a speech in symposium. He said,

“To make people missing is to create fear among rights seeking people but when state of denial comes  from those who do all this ,it means they are also coward and frightened people. They are aware of their guilt. Along with imperialists so called mega development projects our society has been facing murderous war and this war like situation we can give alternative face through stressing on right for speech and right to hear truth and right to bear it. This is only way to combat state and non-state barbarism. We should make fast movement for release of Wahid Baloch while contacting people through media and social media and grow our contacts each to other. “

 

‘O’ Cyril! What Title I should Grant You?

cyril

Once Upon a time when Cyril Almeida was advising Army Chief not to give chance Mr.Zardari to bring his party for second term. According to him Baloch renowned intellectual Saba Dashtyari was murdered due to his support for violent policies of Baloch Nationalist groups.  

 

Note: When I had posted my article on Cyril Almeida on my blog www.jagrti.wordpress.com then from my friend I received a link of a blog on Cyril Almeida. That article forced me to change my approach toward Amide’s inclinations. Alas! Almeida has also track record of making false binaries, dishonest journalism and even some time taking very clear pro-military establishment line. Now really I am confused. What should be my stance as whole toward Cyril Almeida?

Once upon a time when today’s hero of liberals of Pakistan was darling of ISPR. This was Cyril Almeida who had invited Pakistan Army to stop Asif Ali Zardari in coming power for second term. He had written,

“Only two things can stop [Zardari from second term victory]: Sharif, if he wises up and somehow stops the election from being stolen; the army, if it decides the costs of non-intervention are higher than the benefits of the status quo.”

http://www.dawn.com/news/659174/inside-zardaris-mind-the-update

 

Another painful thing came in my knowledge after knowing facts in the article sent by my friend was Cyril’s stance on Baloch and Hazra genocide in Baluchistan. Article writer revealed that:

 

“Here’s another example of how Cyril recycles and reinforces the Deep State’s lies. In his extensive three articles series on Balochistan (recently published in daily Dawn),  Cyril Almeida tried to equate the Baloch genocide by Pakistan army with the violence by the Baloch nationalist groups. This is a classic case of false equation while ignoring the systematic kill and dump policy of the Deep State against the Baloch activists. Further, he did not write a single word on Hazara genocide by the army backed sectarian monsters. In the same article, Cyril shamelessly justified notable Baloch scholar Professor Dashtiyari’s murder  by blaming him for his support to violent Baloch nationalist groups.”

I searched too and find many more same writings of Cyril Almeida in which he was taking totally side of Military Establishment and shifting all blames to PPP coalition government but there was an exception on side of Politicians his inclination toward PML-N and Nawaz Sharif was very supportive. On completing on year of coming in power by Asif Ali Zardari he wrote an article “In the year 2 AZBy” :

“But if the economy and militancy were sure to get worse before they got better, a shrewder politician would have understood the need to handle other areas better. Look at the Sharif brothers. In Punjab they are steering a government beset by many of the problems confronting the one in Islamabad. There`s a large cabinet, a dysfunctional coalition, little money, load-shedding, gas shortages, fuel shortages, dire inflation, unhappy farmers, dismayed businessmen, angry human rights activists, an antagonistic governor, unsettled bureaucrats — and yet the brothers come out on top in any poll.”

(http://www.dawn.com/news/436744/in-the-year-2-azby)

These facts opened my eyes and I am unable to call him real Anti-Establishment figure among journalist community. Cyril Almeida remained double-tongue journalist in era of PPP government and he was very loyal to the narratives of the Deep State.

One question comes in mind, what happened now in Era of Nawaz Sharif? One simple answer may be that in fact Cyril was not loyal to military establishment in period of PPP government but his real loyalty was with Mian Nawaz Sharif & Co. Perhaps in those days he was doing all rotten things on directions of Nazo Sahib to fail Zardari and his allies.

 

 

Cyril Almeida’s invitation to army to save Pakistan from Zardari

https://pakistanblogzine.wordpress.com/2011/09/16/cyril-almeidas-invitation-to-army-to-save-pakistan-from-zardari/

 

Critical readers of Pakistani media are quite familiar with Cyril Almeida and his double-tongue when it comes to the ostensible criticism of army and appreciation of democracy while remaining loyal to the narratives of the Deep State. Mr. Almeida’s writings and services to the Deep State are a living proof of the fact that there are not only right wing columnists and media persons (mainly in the Urdu press) who recycle and reinforce the Deep State’s narratives, there are also some seemingly liberal columnists and writers (mainly in the English press) who are equally friendly and useful to the Deep State.

 

Special links with the military establishment

 

Pakistan’s media circles are aware of frequent contacts between ISPR and Cyril, a privilege which is not available to anti-establishment journalists. Recently Cyril’s close contacts with the Deep State were revealed by none other than another ‘colleague’ i.e. Ahmad Quraishi. Mr. Quraishi writes quite visibly upset by the fact that Mr. Almeida leaked details of a confidential brief by none other than General Kayani:

 

Columnist Almeida extensively quoted from a background briefing and turned inaccuracies into policy statements. Thankfully, he didn’t forget to add, “All comments were made strictly on the condition of anonymity being maintained.” Oh really?

 

Mr. Almeida apparently was one of four-dozen editors, talk-show hosts and columnists invited by Pakistan Army Chief Gen. Ashfaque Kayani to his office on Sunday for an informal and off-the-record chat on the country’s strategic situation. From the accounts of most of those who attended the dinner, Gen. Kayani spent a lot of time explaining the defense and army budgets and then delved into regional military issues when some of his guests went that way during Q&A. All discussion was strictly a ‘backgrounder’, meant to help journalists get a better context for regional developments. Organizers of the event stressed several times to all participants not to report on the event and not to quote.

 

One can debate how much a journalist should or shouldn’t stick to such official restrictions on information. What is beyond debate is the fact that Pakistan faces a very difficult and deteriorating strategic situation thanks to the blunders of our own and of some of our allies. If a senior official is candidly sharing information and context with Mr. Cyril Ameida and others, then Mr. Almeida, both as a journalist and as a citizen of the country, has the responsibility to reciprocate trust by controlling his urge to leak, especially when the information he just received deals with diplomacy and war and is not as urgent as exposing corruption and underhand deals.

 

Surprisingly for a professional journalist like Almeida, he tried to hide Gen. Kayani’s indentity by identifying him only as a ‘senior military official. Then he wrote, “The comments were part of a wide-ranging briefing given to editors, anchors and columnists on Sunday.” So much for being discreet.

 

Salmaan Taseer’s murder

 

Mr. Almeida also played a dubious role in the aftermath of PPP’s senior leader Salmaan Taseer’s murder by a robot of the Deep State. According to Abdul Nishapuri: a major element of the urban liberal activism after Taseer’s death was to blame the very party, the PPP, which Taseer so proudly served and died while defending its ideals of equality and social justice. See for example, how some of the urban liberals tried to attribute Taseer’s murder to a lone wolf instead of the Jihad Enterprise of the military state which has brainwashed and produced thousands of Mumtaz Qadris and Malik Ishaqs. This is how Cyril Almeida took to the lone gun theory (presented by one of his apprentice writers Samad Khurram) given his rabid anti-PPP leanings and his narrative of blaming Shaheed Governor Taseer’s murder on President Zardari. It is no coincidence that the murderer agreed with Cyril and Samad. The plan was well executed!

 

 

 

Cyril Almeida  blamed the PPP for leaving Taseer alone and also for the ‘return’ of the army. Did the army ever leave the position of power, Mr Almeida?

 

Declan Walsh of The Guardian has written that Taseer was left “swinging in a lonely wind” after the Aasia Bibi case became a “political football”. “Zardari was powerless to act,” according to Declan. Possibly. That Zardari is often powerless to act is obvious enough. But at least you can admire a man who fights for something he believes in, who stands up for his friends when it matters. Instead, we are left with the rumour of a president who is spending a few weeks by the sea at the suggestion of a soothsayer. The hate-mongers in the vernacular media are particularly malign influences. Having seen the ugliness up close and the slyness with which it is foisted off on an unsuspecting public, you can’t help but feel a little ill. And increasingly if there is anything we should fault Asif Zardari for, it should be for surrendering without a fight on that front. The comeback the army has made, the total control it is exercising over national-security policy, the return to a position of singular prestige in the national imagination, all of that may eventually have come to pass anyway. But because no meaningful resistance was offered, it has happened in double-quick time http://www.cyrilalmeida.com/2011/01/07/dawn-op-ed-who-will-fight-back-by-cyril-almeida/

 

Shahbaz Bhatti’s murder

 

Not surprisingly, it was same author who had blamed PPP and Zardari for the murder of a senior PPP leader, Federal Minister Shahbaz Bhatti. For example, the crux of Cyril Almeida’s article in Dawn (The politics of appeasement, 4 March 2011) is that he blamed PPP and Zardari for the murder of Shahbaz Bhatti. His article suggests that Zardari must offer his own blood to prove his boldness; the PPP govt needs not to complete its 5 years (i.e., it should vacate the government for the PML-N, MMA and other right wing allies of the military establishment). Almeida is hardly trying to hide his venom against Benazir Bhutto and Asif Zardari in the following lines:

 

THE fire the PPP tried to fight by starving it of the oxygen of publicity and public debate has just consumed another one of its own. In three years, the party has lost its iconic leader, a provincial governor and a federal minister. And still, nothing… The problem is that the PPP has collectively lost its way. It is fighting yesterday’s battles. This government’s raison d’être has come down to the narrowest of interpretations of government: completing its term.

 

The blinding pace of events since her assassination — elections, insurgencies, terrorism in cities, Afghanistan, Mumbai, judicial crises, the list goes on — has obscured the fact that the party is still in a state of paralysis, ruled by a regent, waiting for its boy king, unsure of what the future holds.

 

For this, part of the blame must fall on BB. Like most leaders in politically unstable countries, hers was a one-person show. BB had minions around her, not a genuine second-tier leadership with political capital and standing of its own.

 

So when she was brutally struck down, gone with her was the vision for the party, what it stood for, how it could evolve to meet new challenges. There was no, in corporate parlance, ‘business continuity plan’; there was just a Bhutto continuity plan.

 

Paralysed, frozen, frightened and paranoid, the group that has coalesced around Asif Zardari has searched for answers to their predicament — but by looking backwards to what they think BB would have done.

 

Complete a term. That’s probably what BB was thinking. And that’s probably where Zardari got the idea from.

 

But there was a fifth period which also shaped BB’s thinking, a period that was tragically too brief and came too late to filter through to the leaders running the PPP today.

 

It was the period between Oct 18 and Dec 27 in 2007. Between the two devastating attacks, the bombing in Karachiwhich was meant to kill her and the attack in Pindi which did.

 

By all accounts, BB was a changed woman in those 10 weeks. She seemed to have understood that the game had moved on, that it was no longer just about elections and completing terms and politics of survival.

 

Now, today, with Shahbaz Bhatti dead, with Salman Taseer buried, with BB herself gone, perhaps Asif Zardari and his lieutenants need to focus on the last weeks of BB’s life.

 

Yes, a full term for a government would be unprecedented. Yes, it would help the democratic project. Yes,Pakistan’s democracy needs strengthening.

 

But that alone is no longer adequate. BB understood that in her last weeks. Retreat, withdrawal, appeasement, they are no longer options.

 

Baloch and Hazara

 

Here’s another example of how Cyril recycles and reinforces the Deep State’s lies. In his extensive three articles series on Balochistan (recently published in daily Dawn),  Cyril Almeida tried to equate the Baloch genocide by Pakistan army with the violence by the Baloch nationalist groups. This is a classic case of false equation while ignoring the systematic kill and dump policy of the Deep State against the Baloch activists. Further, he did not write a single word on Hazara genocide by the army backed sectarian monsters. In the same article, Cyril shamelessly justified notable Baloch scholar Professor Dashtiyari’s murder  by blaming him for his support to violent Baloch nationalist groups. This is what Mr. Almeida wrote:

 

When asked about the allegations that Dashtiyari had been killed by the intelligence agencies, a senior security official responded defiantly, “Who owned his death? BLA did. They put out statements eulogising him. Who was he close to? What were his politics?”

 

Multiple sources confirmed to Dawn that Dashtiyari, while never having taken up arms himself, was close to insurgent groups and at various times had exhorted violence against the state and other ethnicities living in Balochistan.

 

Blame the politicians

 

In another article, Cyril suggests that corrupt politicians are responsible for all ills in Pakistan including GHQ-AlQaida alliance:

 

“Can we fix ourselves? Take a look around. Does anyone think Asif Zardari has what it takes? Nawaz may have the chutzpah, but does he have the nous? Beyond them, what is there but a fetid pool of opportunists and political mercenaries?”

 

Kayani’s message to Zardari

 

In yet another article, Cyril Almeida, acting as an informal spokesman of the ISPR conveys the following message to President Zardari:

 

When the interior minister, the ex-foreign minister and the all-powerful spy chief met to decide the fate of Raymond Davis, two of those gents were of the opinion that Davis doesn’t enjoy ‘full immunity’.

 

One of those two has now been fired by Zardari. The other, well, if Zardari tried to fire him, the president might find himself out of a job first.

 

http://www.dawn.com/2011/02/18/the-myopia-continues.html

 

17th amendment and the status quo

 

Cyril is the same author who wrongly anticipated in Sep 2009 that Zardari will never allow the 17th amendment as he wants to keep the status quo.

 

Sharif wants Zardari to give back the powers that Musharraf arrogated to the presidency, powers that tilt the institutional balance decisively in favour of the president. Which is why Sharif keeps demanding that the 17th Amendment be undone first and only then a constitutional reforms package be debated.

 

Zardari’s problem is that while the status quo suits him best, he’s on the wrong side of the consensus of the political class. Other than whoever is currently occupying the presidency and his acolytes, no politician believes that the president and his appointed governors should have the power to dissolve assemblies or that the president rather than the prime minister should have the power to make key appointments in the judiciary and the armed services.

 

Inside Almeida’s mind?

 

In his recent piece in Dawn on 16 Sep 2011, Inside Zardari’s mind, the update, Cyril Almeida writes: “army [can stop Zardari], if it decides the costs of non-intervention are higher than benefits of status quo.”

 

Here are some key extracts from Cyril’s article and my brief comments in square brackets.

The arrogant Zardari will be grinning smugly. The paranoid Zardari will be seeing shapes in the shadows.

 

[He is your country’s elected president. At least show some respect, Cyril!]

 

To steal an election, a civilian has to neutralise three players: the army, the main political rival and the outside powers. If two of those factors gang up against you, you’re good as gone.

 

[Did Zardari steal an election? How?]

 

Zardari thinks he can pull it off and clear a path to emulating ZAB in 1977. Once rivals and threats are neutralised, he plans to use money, patronage, fear and control of local administrations and the interim set-up to sweep to victory. It will be ugly, it will be nasty, it will be vintage Zardari, the man he’s skilfully hidden behind the avatar of Zardari the democrat the last three-and-a-half years.

 

[Really, Cyril, do you really believe this is how PPP came to power?]

 

Ever the opportunist, Zardari has used history to his advantage.

 

[Carry on abusing. If we criticize you, resort to the ad hominem plea.]

 

Many in the [army] high command loathe him. They feel utter contempt for his utter disregard for matters of governance and the economy. Of course, they also fear that the awesome incompetence and plunder on the civilian side may shrink the army’s trough and imperil their privileges.

 

[Spot on, Cyril. You are doing excellent advocacy of the institution which values you the most.]

 

In Punjab, there’s the Imran Khan factor to peg back Sharif. In Khyber Pakhtunkhwa, the ever-reliable Fazlur Rehman can help hold down the ANP and the PPP. In Balochistan, the brutal repression of the insurgents and their sympathisers could erode the appeal of the moderate nationalist parties. The convulsions in Karachi are helpfully reminding the people why they shouldn’t have faith in any politician.

 

[Excellent plan. Did Athar Abbas tell you about this?]

 

So, paranoid Zardari may be wondering if the boys in uniform have quietly begun deploying their weapons against him.

 

[What have been the boys in uniform quietly telling you, Cyril? Share with us]

 

Zardari had hoped the IFIs and the West would bail him out by bailing out the country, but they have baulked, tired of the transparent lies about economic reforms and fiscal responsibility.

 

[Now you, Cyril, are acting both as a foreign policy expert and economy expert, which clearly you are not. Any evidence to your claims?]

 

Zardari is turning to the pièce de résistance of his rule: converting an accidental term into a monumental edifice to cunning, guile and opportunism by snatching a second term.

 

[Winning an election is equivalent to cunning, guile and opportunistic snatching?]

 

The piles of cash have been acquired; the interim set-up studied for loopholes; the presidential overhang will be deployed to full manipulative effect.

 

[Now you are reading from the same script which is also provided to Ansar Abbasi, Haroon Rasheed and Mosharraf Zaidi. Read it again. Do you have evidence to prove your baseless allegations?]

 

Zardari is about as much a democrat as Musharraf or ZAB.

 

[Of course, I heard Anasar Abbasi saying the same line a few days ago.]

 

Having inverted the rules of divide and conquer — now, it’s the Punjabi-led establishment that is divided between the army and Sharif — Zardari will be master of all he surveys.

 

[Apparently this is the urban elite’s main concern, the internal divisions within the Punjabi-Mohajir elite dominated establishment. Good job, Cyril.]

 

Only two things can stop [Zardari from second term victory]: Sharif, if he wises up and somehow stops the election from being stolen; the army, if it decides the costs of non-intervention are higher than the benefits of the status quo.

 

[Thank you, Cyril, for so clearly inviting army’s intervention in the name of national interests. The costs of non-interventions are indeed too high, not for Pakistanis, but for urban (fake) liberals of Pakistan].

Are State and Media with Takfirist in Case of Shiite Community in Pakistan?

%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%81-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%da%ba

 

 

Toward Shiite community sometimes our mainstream media adopt very cruel and paltry approach while making report on their protest or their cry against religious discrimination. In Gulistan-i-Juhar Karachi Yesterday Shiite community protested against ban on Sabeel-i-Imam Hussain to provide free water and soft drinks (Sherbat) and on Meeting to mourn Imam-i-Hussain and their comrades in Karbala. Renowned website of a daily English newspaper Dawn focused more on traffic jam than the cause of protest made by Shiite community. Not only daily Dawn but majority in mainstream media is not highlighting the issue of religious discrimination and restriction on Shiite community to perform their religious duties and rituals in Ashura.

 

traffic-jam

Sabeel Imam Hussain, To organize a mourning meeting to mourn martyrs of Karbala, to hoisting black or white flag in memory of Ghazi Abbas Alamdar (Flag holder on day of Ashura in Karbala) , to distribute charity food(Niaz) such are all religious rituals are being restricting by district administrations all over the country which were never declared illegal or against other religious community living in country.

In Karachi and district Khairpur Sind Sabeel Imam Hussain on side of roads were banned and those people who did not accept such discriminative ban and managed to provide free water and Sharbat on roads were thrashed and humiliated by Sind Rangers and Police. Such acts and actions from state security institutions are not only shameful but violation of human rights including right of freedom of religion.

 

Irony is that banned(just in papers), ISIS-affiliated Deobandi Takfiri organizations like so called Ahle Sunnat Wal Jamat-ASWJ are allowed to organize big rallies, incite further hatred against Sufi Sunnis,Shiite,Christians,Hindus, Ahmadis and other non-Takfiri groups. Neither Police nor Rangers we ever saw in action agains such un-lawful assemblies and meetings. Mainstream media never tells their readers or audiences about traffic jam but gives maximum coverage and projection their hatred meetings and rallies.

 

Sabeels of Iman Hussain are ransacked, hoisting of flags of Ghazi Abbas Alamdar are banned and traditional old Majalis-i-Azzadari (Mourning meetings for martyrs of Karbala and condemnation of Yazeedi forces are banned but to organize mass rallies against Shiite community, chanting slogans of Kafir, Kafir, Shiite Kafir in public rallies and incite violence and terror against Shiite and other communities during speeches in public are allowed and protected by civil administrations of Pakistan. This is because a tiny, minority Takfiri group like ASWJ do not like mass mourning processions, meetings and other rituals in Ashura. They do not bear growing culture of condemnation of Yazideeiat and Mourning Culture for Imam Hussain and his others comrades in Karbala.

 

Another example of Pathetic reporting by media including daily Dawn is of incident of target killing of four Shiite Hazra women singled out from 32 other passengers on bus in Quetta. Daily Dawn does not mention their Shiite identity in headline. Not a single newspaper mentioned possible background of such target killings and did not dare to mention records of involvement of Sipah Sahaba/ ASWJ in killings of Shiite community in Pakistan.

Quetta where four women from Shiite Hazra community were executed by Deobandi Takfirist terrorists and target killers easily fled is same city where hundreds of Shiite Hazra have been targeted but in this city activities of banned Takfiri organization ASWJ are in full swing, Ramzan mengal its head is roaming freely. Army (who is running whole affairs of province) and puppet government led by PML-N never tried to stop free roaming of master mind of Shiite killings incidents in Quetta.

 

Despite ongoing activities of banned, sectarian, terrorists Organizations and outfits implementation on NAP is satisfactory in the eyes of our civilian and military administration.

Implementation on National Action Plan is satisfactory also because two Pashtun Shiite young men were gun down in Hassanabdal.

Meanwhile, Pakistan’s so called numbers of enlightened, Marxists and liberals not only obfuscated Shiite genocide in Pakistan and such events have no importance in their eyes. They are making attacks on culture of Ashura and some of them are busy wishing “Happy New Years”. Some so called Marxists are calling Yazeed their great Comrade and blaming their mourners for this tragedy happened in Karbala.

True lover of Imam Hussain and my comrade Riaz Malik says,

“The depravity and insensitivity by a biased media knows no depths and that is why the Pro Taliban sympathisers in the media who produced this atrocious report share responsibility in today’s carnage. With it comes to obfuscating #ShiaGenocide there no difference between the right wing Urdu media and pseudo liberal English media elites. Both are well versed in the Jamaat e Islami practice of “blaming the victim”. They want Shias, Sunnis and Christians to confine themselves within four walls while their beloved Takfiri Deobandi terrorists roam free spewing hatred publicly.”

“The Jibran Nasirs and Asma Jehangirs will never come out with an unqualified support for Shias under attack. They will issue some pathetic and vague tokens and then participate in the obfuscation.”,says Riaz Malik in his new article.

Letter to Her Father,Who is now in the list of enforced Missing people of Baluchistan

hani-baloch

Photo: Hani Baloch, Young daughter of enforced missing Baloch writer Abdul Wahid Baloch 

Note : This is an open letter written by Hani Baloch who is elder daughter of Abdul Wahid Baloch, a poet , writer and social activist allegedly picked up by men of some intelligence agency of Pakistan on 26th July,2016,while he was returning from Mirpur Sindh to Karachi after attending a wedding ceremony of his friend. He was picked by men in plain cloth at Toll Plaza of Karachi near Sindh Rangers check post. That is not first case of enforced missing of any Baloch person but there are thousands of Baloch people have been included in the list of enforced missing people of Baloch community.

 

wahid-baloch

 

According to an 8 December 2005 statement, by the then Pakistani interior minister Aftab Sherpao, an estimated 4000 people from Balochistan in the custody of the authorities[5]having been detained in the province between 2002–2005.[16] Of this number only 200 were taken to court and the rest were being held incommunicado according to author Manan Dwivedi writing in 2009.[16]

However, in early 2011 The Guardian newspaper reported that “several human rights groups, including Amnesty International” had documents “more than 100 bodies” found dumped in Balochistan, many “mutilated corpses bearing the signs of torture” – “lawyers, students, taxi drivers, farm workers.”[6] According to EU MP Marc Tarabella, based on collated newspaper reports, the number of those “killed after abduction … exceed 2000”.[5] According to Ashraf Sherjan, president of the Germany Chapter of the Baloch Republican Party, “families of enforced-disappeared Balochs” report that between 1999 and 2015, “more than 20,000 Balochs have disappeared”.[17][18]

Civil Society of Karachi city under banner of #SaveWahidBaloch campaign is going to organize a March from Regal Chowk to Karachi Press Club on Monday ,3 October,2016.

 

 

TAKE OUT MY Heart I Want to become Heartless

   Hani Wahid Baloch

Do you know why I want to become heartless? Let me explain. I am feeling pain and I am feeling great sadness as I haven’t been strong enough to raise my voice for Justice. I am feeling this heartache because I am badly missing you dearest Papa. I am feeling so helpless and forlorn because I am not able to find you Papa. I am feeling devastated; though every heart beat of mine is searching for you but I don’t know where you are my sweetest Papa??

Now I suppose you will understand why I don’t need my heart??

I wouldn’t be able to express my feelings in the world. If anyone wants to remove the pain that I feel being away from my dearest Papa should take out my heart so that the agony of these painful feelings of not knowing how my Papa is end. I don’t want this aching heat any more.

 Fathers are the sunshine to light up the life of children why has this light been snatched from us. Fathers are the trees to give shadow but my papa you are root because you are foundation. I love you papa as the hunger craves for food I love you papa as a body needs the soul .You complete my world now my life is absolute darkness. Papa! Come to me why have you left me alone? You are our happiness and hope. I don’t have enough words to tell how badly I am missing you Papa. You loved me unconditionally and I’m more broken because inside I’m dying papa.

 There will never be enough words to describe my feelings that how important you are!!

My life without you is meaningless Papa now I don’t know what to do with myself now don’t ask me why?? Because my pain is beyond explanations! Nobody can feel my feelings; people won’t understand how I am feeling without my Papa.  Only those who have suffered this pain can understand it. My searing tears come from my soul and not my eyes. Living without my Papa is an impossibility

I Know my pain is the reason for enemies laughter but I’ll defeat my enemies  with my success and my victory is safe recovery of my Papa.

Papa your crime in loving books that’s why you are in the torture cell but my crime is I need you papa I can’t bear this separation anymore. A child and a family being denied their father is the greatest injustice!!

Would like to keep your aching heart if you too were denied your father for no reason?