وہ دھماکہ کریں،تم کلچر کو پابند سلاسل

 

 

فروری کی 16 تاریخ اور دن جمعرات کا اور شام کے سات بجنے میں 5 منٹ باقی تھے جب سندھ کے ضلع دادو کے تعلقہ سہیون شریف میں واقع شیخ عثمان مروندی الحسینی المعروف لال شہباز قلندر کے مزار کے اندر عین ان کی قبر پہ پائنتی کی جانب تکفیری دیوبندی دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کا خودکش بمبار پہنچا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔یہ وہ وقت جب مزار کے احاطے میں زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی اور وہاں پہ دھمال ڈالی جارہی تھی۔اس افسوسناک واقعے میں 80 افراد شہید اور 250 سے زائد افراد شدید زخمی ہوگئے۔دو دن میں ملک کے مختلف حصوں میں پانچ خودکش حملے ہوئے جبکہ ایک واقعہ میں ڈیرہ اسماعیل خان مين پولیس کی وین پہ فائرنگ کی گئی اور ان واقعات کی زمہ داری جماعت الاحرار، تحریک طالبان،داعش خراسان اور لشکر جھنگوی العالمی نے ملکر قبول کی ہے اور یہ سب تنظیمیں دیوبندی مکتبہ فکر کی تکفیری،خارجی اور جہادی آئیڈیالوجی سے اشتراک رکھنے والی تنظیميں ہیں۔

شیخ عثمان مروندی الحسینی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں مولانا عبدالحی لکھنوی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے :

الشيخ عثمان بن حسن المروندي

الشيخ الصالح عثمان بن حسن الحسيني المروندي ثم السيوستاني المعروف بلعل شاهباز

قدم ملتان سنة اثنتين وستين وستمائة، فكلفه محمد بن غياث الدين الشهيد بالإقامة في

ملتان، وأراد أن يبني له زاوية بتلك المدينة فلم يقبله وسافر في بلاد الهند، ثم رجع إلى أرض

السند وسكن بسيوستان، ولم يزل بها حتى مات، وكان شيخاً وقوراً مجرداً حصوراً، يذكر

له كشوف وكرامات، توفي سنة ثلاث وسبعين وستمائة بسيوستان فدفن بها، كما في تحفة

الكرام.

پاکباز نیک بزرگ عثمان بن حسن الحسینی المروندی ،السیستانی لعل شہباز (قلندر ) کے نام سے معروف ہیں۔یہ 732ھجری میں ملتان آئے جب یہاں غیاث الدین  کی حکومت تھی اور اس نے چاہا کہ حضرت عثمان مروندی ملتان قیام کریں اور یہیں پہ اپنا زاویہ/تکیہ /خانقاہ بنالیں لیکن انھوں نے قبول نہ کیا اور ہندوستان کے کئی شہروں کا سفر کیا اور پھر سندھ کی دھرتی پہنچے اور سیوستان میں قیام کیا اور وہیں پہ رہے اور وہیں پہ وصال فرمایا اور شیخ عثمان مروندی بہت ہی بڑے صاحب مجاہدہ بزرگ تھے،ان سے بہت سے کشوف اور کرامتیں منسوب ہیں۔اور ان کی وفات تحفۃ الکرام کے مطابق 780ھجری میں ہوئی۔

اس کے علاوہ عرب کے کئی ماہرین تاریخ جنھوں نے عرب سے ہجرت کرجانے والے علماء و مشائخ کا تذکرہ کیا ہے ان کا زکر بھی بڑے اہتمام کے ساتھ کیا ہے۔یہاں تک کہ شام،مصر ،ترکی ،لبنان اور اردن کے ماہرین تاریخ بھی آپ کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں۔لال شہباز قلندر کے سہیون شریف کو سندھو وادی کا اجمیر بھی قرار دیا جاتا ہے اور ان کو سندھ کا خواجہ غریب نواز بھی کہتے ہیں۔اور شیخ عثمان مروندی دیگر صوفیاء کرام کی طرح ہندؤ،سکھ،مسلمان، شیعہ ،سنّی ،اعتدال پسند دیوبندی ( علامہ عبدالحی لکھنوی دیوبندی مدرسہ ندوۃ العلماء لکھنؤ میں ہی استاد تھے )، کرسچن اور یہاں تک کہ یہودیوں میں بھی یکساں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہيں۔کراچی میں رہنے والی قدیم پارسی اور یہودی برادری کے لوگ برٹش انڈیا دور میں باقاعدگی سے لال شہباز قلندر کے مزار پہ حاضری دیا کرتے تھے۔آپ کی شاعری اور اقوال پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آپ ان سنّی بزرگوں میں سے تھے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پہ فضیلت کے قائل تھے۔دارشکوہ ملّا بدخشانی کے سلسلہ طریقت سے لال شہباز قلندر تک جاملتے ہیں۔آپ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے فرزند اسماعیل کی اولاد میں سے ہیں جبکہ آپ مولانا جلال الدین رومی کے ہم عصر ہیں۔مروند آزربائیجان کا شہر ہے جہاں آپ کی ولادت ہوئی تھی۔اور ماہرین تاریخ کا خیال یہ ہے کہ جب بنوامیہ کا جبر وستم حد سے تجاوز کرگیا تو کئی سادات وہاں سے نکل کر وسط ایشیاء کی جانب آئے انہی میں لال شہباز قلندر کے آباء بھی تھے۔سندھ کی سرزمین پہ جو تہذیب اور کلچر فروغ پایا اس میں آپ کا کردار بھی اہم بتایا جاتا ہے۔جسے عمومی طور پہ جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کہا جاتا ہے آپ کو اس کے معماروں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔اور دیوبند مدرسہ تحریک میں جو تکفیری،جہادی اور عسکریت پسند عنصر ہے وہ سلفی ازم کے ساتھ اشتراک میں اس جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کا سخت دشمن اور مخالف ہے۔وہ اس کلچر کو مکمل طور پہ تباہ کرنا چاہتا ہے۔لال شہباز قلندر کے مزار پہ ہونے والا حملہ جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کے خلاف تکفیر ازم، جہاد ازم اور نیو دیوبندی ازم کی چھیڑی جانے والی جنگ کا ہی تسلسل ہے جس کی نمائندگی سندھ کے اندر تیزی سے پھیلتی ہوئی دیوبندی تکفیری تنظیم اہل سنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کی فکر سے اشتراک رکھنے والے دیوبندی مدارس کرتے ہیں جوکہ سندھ میں تقسیم سے پہلے سے موجود اعتدال پسند اور صلح کل دیوبندیت کا چہرہ بھی بگاڑرہے ہیں۔سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ کو 94 ایسے دیوبندی اور سلفی مدارس کی لسٹ ارسال کی تھی جوکہ کالعدم دہشت گرد تکفیری تنظیموں کی سرپرستی کرنے میں مصروف ہیں اور ملک میں انتہا پسندی،دہشت گردی اور فرقہ پرستی کو پروان چڑھارہے ہیں۔یہ فہرست سندھ اور وفاق کے سیکورٹی و انٹیلی جنس ودیگر اداروں کی مشترکہ انوسٹی گیشن کے بعد مرتب کی گئی تھی اور اس میں صرف کراچی کے اندر 74 مدارس مووجود ہیں۔لیکن وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس فہرست کو مصدقہ ماننے سے انکاری ہیں اور وہ پاکستان کے اندر کام کرنے والے تکفیری دیوبندی۔سلفی نیٹ ورک کو دہشت گرد نیٹ ورک سے الگ کرکے دیکھنے پہ اصرار کرتے ہیں۔اور شاید وہ پاکستان کے پہلے وفاقی وزیرداخلہ ہیں جو تکفیری انتہا پسند تنظیموں کی صفائی پیش کرتے نظر آتے ہیں۔پاکستان کے ریاستی حکام آج تک دہشت گردی اور تکفیرازم،جہاد ازم کے درمیان باہمی تعلق کو ہی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ریاستی حکام جب یہ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا تو اصل میں وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ پاکستان میں شیعہ، صوفی سنّی، کرسچن، ہندؤ، احمدی، سکھ اور دیگر برادریوں کے خلاف جاری دہشت گردی کسی آئیڈیالوجی کے زیر اثر نہیں لڑی جارہی اور یہ ایک طرح سے دہشت گردوں کی شناخت اور ان کی فکری بنیادوں پہ پردہ ڈالنے کی کوشش ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دوسرے لفظوں میں دہشت گردوں کے نظریہ سازوں، سہولت کاروں،ہمدردوں کو بچانے کی کوشش ہے۔پاکستان کے حکام دہشت گردی کے خارجی ، غیر ملکی اور بیرونی عوامل پہ بہت زور دیتے ہیں لیکن دہشت گردی کے اندرونی اور داخلی عوامل پہ ان کا رویہ انکار۔جواز یا ابہام والا ہے۔اور یہی مخمصہ بار بار اس ملک کے صوفی کلچر سے جڑے لوگوں کے لئے تباہ کن اور خون خوار ثابت ہورہا ہے۔

حکومتوں نے دہشت گردی کے واقعات کے بعد وتیرہ یہ بنالیا ہے کہ وہ مزارات کو سیل کردیتی ہے۔صوفی اور دیگر کلچرل فیسٹول پہ پابندیاں عائد کرتی ہے اور چھوٹے اور دور دراز علاقوں میں موسم بہار میں مقامی میلوں اور عرس کی تقریبات کے انعقاد پہ پابندی لگادیتی ہے۔جیسے اس نے ہزاروں رسمی مجالس اور جلوس ہائے عزاداری پہ پابندی لگائی۔اور اس طرح سے ریاست اور حکومتیں خود تکفیری دیوبندی اور سلفی ازم کا ایجنڈا پورا کرتی ہیں اور رد ثقافت پالیسی کا اجراء کرتی ہیں۔کلچر مخالف دیوبندی تکفیری کارخانوں کو آپ بند کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت جیسی تنظیموں کی وکالت میں آگے آگے ہوتے ہیں لیکن مزار۔عرس،میلہ ، فیسٹول کے خلاف پوری ریاستی مشینری استعمال کی جاتی ہے اور یہاں تک کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک جج “یوم محبت ‘ کو اسلام کے خلاف قرار دے ڈالتا ہے اور سرخ غباروں اور سفید ربن فروخت کرنے پہ پابندی عائد کردی جاتی ہے۔بیساکھی کے میلے پہلے ہی حکومتیں بند کرچکی ہیں۔یہ تکفیر ازم اور جہاد ازم کے سامنے مکمل سرنڈر کرجانے کے مترادف ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ خودکش بم دھماکوں سے مزارات پہ حاضری،میلوں ٹھیلوں میں شرکت،میلاد و عاشور کے جلوسوں میں شرکت سے روکیں تو تم پورے کلچر کو پابند سلاسل کرو،مزارات کو سیل کردو، فیسٹول پہ پابندی لگادو۔مطلب یہ کہ ان کا سو فیصد ایجنڈا پورا کردیا جائے۔اور سیکورٹی اور تحفظ کے معاملے میں بھی ریاست کی ترجیح عوام ان کی عبادت گاہیں،مزارات،امام بارگاہیں،مساجد،جلوس ،میلے نہیں ہیں بلکہ مقدم اور سب سے ضروری وی آئی پیز کی حفاظت ہے۔جس قدر حفاظتی اقدامات ایک ڈی پی او آفس،ڈی سی او آفس، سیشن و سول کورٹس کی جاتی ہےاس کا 20 فیصد بھی اگر عوام کو فراہم کیا جائے تو ایسے واقعات کی شرح بہت ہی کم ہوجائے۔سافٹ ٹارگٹ کا ایک مطلب حکومت عوام کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پہ چھوڑنا بھی ہے۔

 

Advertisements

Attiya Kufi: Courtesan Historians Could Not Defeat Him

%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%b9%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%b1%d8%a8%d9%84%d8%a7%d8%a1

 

 

When I was trying to clean grime from history of Kufa and wanted to prove that there are hundreds of  people from Kufa having enlightened faces in Kufan history then many forgotten and forgiven faces and characters of history came on surface. Attiya Aufi/Kufi is one of those explored enlightened faces and characters, which was consciously forgotten but forgiven by so called mainstream tradition of history. I explored Attiya Aufi during my research on journey of Jabir bin Abdullah Al-Ansari (Died 78 H) to Karbala in Iraq to visit grave of Imam Hussain (R.A) in holy month of Safar-ul-Muzaffar. I was curious to know that why Jabir bin AbdullaH in very old age decided to go to Iraq from city of Madina and to pay tribute Imam Hussain (R.A) and why he choose the day of 20th Safar when 40 days had been completed of Martyrs in Karbala? I was reading travelogues of those people who were on their way to Karbala to pau tribute Imam and his comrades on Arbaeen( 40th day of Martyrdom of Imam Hussain (R.A). I wanted to hear from them something about Attiya Kufi/Aufi (Died 111 H). Attiya was first person and disciple of Jabir bin Abdullah who narrated whole story of journey of Jabir bin Abdullah because he was himself co-traveler of Jabir bin Abdullah. But some people just only mentioned his name while describing the journey of Jabir bin Abdullah to grave of Imam Hussain (R.A). We meet Attiya Aufi as true follower of Imams of House of Muhammad(Ahlebait) who says,

 

رايت عليا خير من وط‏ى‏ء الحصى       واكرم خلق اللّه من بعد احمد

وصي رسول اللّه وابن عمه              وفارسه المشهور في كل مشهد

تخيره الرحمن من خير اءسرة                 لاطهر مولود واطيب مولد

اذا نحن بايعنا عليا فحسبنا              ببيعته بعد النبي محمد

 

When I started enquire into statements and commentary on Attiya Aufi by  mainstream history writers of Muslim Arab history then I saw there same tendency to seek some lame excuses for their rejection, forgiven of all those personalities who were in camp of Imams of House of Muhammad. They made much effort to declare Attiya Aufi weak but they could not blame on him of lie. They called him “Weak in narrating saying of Muhammad ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) and reason in their eyes was his adherence to or bonding with camp of Imam Ali ( R.A). In their thoughts Attiya Aufi was waek because he was inclined to Shiite. Nobody should interpret here word of ‘Shiite’ into Rawāfiḍ as in our age Takfiri Deobandis and Salafis interpret it. Why mainstream Muslim historian called him Shiite? Renown Shafi’I scholar Allama Ibn-i-Hajar Asqalani quoted Al-Saji in his book Tahzeeb-ut-Tahzeeb:

 

كان يقدم عليا على الكل

His faith was that Ali is most superior among all followers of Muhammad PBUH.

This quote shows that Attiya Aufi in fact was among those people who always preferred Imam Ali in case of dignity, knowledge etc  over all other companions R.A of Hazrat Muhammad PBUH. But Question is that was Attiya was only one who thought so? Attiya Aufi was not Sahabi means companion of Hazrat Muhammad PBUH but in fact he was Tabaie —- companion of companion of Hazrat Muhammad PBUH. There are many names of great companions of Hazrat Muhammad PBUH we find in books of history who were Preferentials تفضیلی  like Ammar Yasir, Miqdad, Salman farsi. Jabir bin Abdullah Al-Ansari himself a Preferential تفضیلی  according to historian. We can understand why Attiya became forgiven but forgotten page of History. Another question is that why some mainstream historian could not reject him totally while calling him Liar کازب   or کذّاب  ? In my thought this was  Muhammad Ibn Sa’ad ibn Mani Az Zuhree ( Died 230 H) who made this impossible for coming mainstream scholar while praising Attiya Aufi as:

 

و كان ثقة ان شاءاللّه، وله احاديث صالحة

He (Attiya Aufi ) was authentic and he narrated pious sayings from Hazrat Muhammad PBUH.

So courtier Muslim historian just called him weak narrator راوی   and not called him liar or accused of lie متھم بالکذب  . Every that scholar, researcher and narrator of history in the eyes of courtesan historians was weak and forgiven, rejected person due to his or her link with House of Muhammad PBUH particularly with Imam Ali (R.A), Attiya Aufi was also victim of courtesan tradition of history writing. Today on occasion of Arbaeen I like to show enlightened face of Attiya Aufi.

On 20th Safar second month of Islamic calendar when 40 days had been passed after tragedy of Karbala,This was renown old age companion of Hazrat Muhammad PBUH Jabir bin Abdullah (Died in 78 H) visited grave of Imam Hussain. This was age of governorship of Obaidullah bin Zayad and Camp of Imam Ali in Iraq was in great repression, oppression and restrictions. Those who dared to show their support, adherence, bonding with Imam Ali or Imam Hussain either sentenced of putting him into prison or directly killed. Every person who refused to declare Imam Hussain  a rebellion of so called Islamic Caliphate was also state enemy and stern action was taken against such person. There was like a Martial Law situation in Iraq. There was still strict surveillance on Iraqi people. So in such condition journey of Jabir bin Abdullah has some special purpose and aim. Jabir bin Abdullah did not came alone to Karbala. His disciple Attiya Aufi was also along with him, who narrated this journey in detail.

Here it is very necessary to know about Attiya Aufi so that we can examine that process which paved way to transform event of visiting grave of Imam Hussain by Jabir bin Abdullah into a great event or ceremony of offering tribute Imam Hussain and their comrades  called Arbaeen or Arbaeen-i-Karbala.

 

There are very rare young persons who know something about Attiya Aufi. And I have mentioned above that big reason which made Attiya Aufi a lost page of Muslim history. His complete name was Attiya bin Saad bin Junadah. His father was companion of Hazrat Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  and from tribe of Jadila and He رضی اللہ عنہ  was first person from Ta’if who had accepted Islam. His father also close companion of Imam Ali-R.A. He went Iraq along with army of Imam Ali and fought War of Camel, Siffin, Neharwan along with Imam Ali. Attiya Aufi was born in last days of Caliphate period of Imam Ali-R.A. In books of Muslim history we find that father of Attiya came and informed Imam Ali about birth of his son and ask him to suggest a name for his newborn baby. Imam Ali called that baby a gift from God,and suggest name Attiya for him. So Attiya opened his eyes in a house of companion of Hazrat Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  and he was trained by that person who was very close to Imam Ali. After Imam Ali Attiya Aufi adopted company of Jabir bin Abdullah. Strange thing is that all historians and compilers of Ahadiths included him in disciples of Jabir bin Abdullah but did not tell us detail how he went Madina and joined study circle of Jabir bin Abdullah. My view is that when Moavia came in power after withdrawal of Imam Hassan then perhaps Attiya’s family  dicied to quit Kufa and went Madina and there in Madina Attiya joined circle of disciples of Jabir bin Abdullah. Attiya got Knowledge of Islamic history,Tafseer, Hadith, Quran and others branches of Islamic Knowledge from Jabir Bin Abdullah and also from Abdullah bin Abbas. His Tafseer-i-Quran was published in three volumes from Kufa. History tells us that Attiya Aufi like his father have great faith in Imam ali and other Imams of House of Muhammad. He was very vocal in support of camp of Imam Ali in Iraq. This was his bonding with Imam Ali and his camp which forced historians from courts of Umayyad and Abbasid to declare his opinion or narration –  روائت unacceptable in legal and faith matters while they wrote him ‘Weak’ – ضعیف .  but not a single historian from primary sources dared to write him ‘liar’ or accused of lie-  مھتم بالکذب. But Now-e-days we see Salafi or Deobandi historians or propagandists who not only reject Attiya Aufi but write him Rawfidi and thus distort personality of Attiya Aufi completely.They try to sideline Attiya Aufi and to make him less important or try to hide him from public in Muslim history. Wahhabi and Neo Deobandi camp funded by Saudis is running organized campaign against every that person who was in camp of Imam Ali in the days of Fitna. This camp never describe greatness of Jabir bin Abdullah and even avoids to mention of Jabir bin Abdullah. Saudi Camp spent its whole energy either to hide or to prove false the news of arrival of Jabir bin Abdullah along with Attiya at grave of Imam Hussain on 20th Safar. Salafi and Deobandi writers funded by Saudi Arabia in fact try to hide faces of real culprits involved in tragedy of Karbala and obfuscate identity of those people who committed heinous crimes against House of Muhammad while discrediting those personalities who honestly compiled Muslim history and never gave walkover to those culprits who killed thousands of people of Iraq just due to their love for Imam Ali and other members of House of Muhammad. Attiya Aufi is also victim of this false engineering made by Salafis and Deobandis. Modern Neo Deobandis and Salafis belong to Takfiri Fascism try to show events like Ashura or Procession of Milad and Arbaeen isolated from mainstream Islam and reject every tradition supporting these things.

 

Arrival of Jabir bin Abdullah at grave of Imam Hussain on 20th Safar,61 H was not such news  easily ignored. Jabir bin Abdullah has very special status in Islamic society. He was very active in Madina after withdrawal of Imam Hussain in support of House of Muhammad and Imam Ali. He set up a study circle in Mosque of Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  and he roamed in streets of Madina city particularly he contacted to Ansar of Madina and asked them to educate their children for love and respect of Imam Ali and his family. That was the era in which  Umayyad rulers have ordered their governors to force people to curse Imam Ali and his family. An organized campaign of character assassination of Imam Ali was in full swing not only in Hijaz but in Iraq and Syria also. To praise and to show love for Imams of House of Muhammad were unforgiveable crimes in eyes of Umayyads. Many Companions of Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  adopted silent path and they neither cursed Imam Ali and his family nor they stood against rulers of Umayyad. But Jabir bin Abdullah did not remain silent on this. He started a campaign for Imam Ali and his family. He started to narrate all those things which he had heard from Hazrat Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  in praise of Imam Ali, Imam Hassan, Imam hussain and others. When people ask him about Imam Ali then he says, Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  declared Imam Ali the best and most superior  man among all companion of mine and if you deny this then you are not true Muslim. So we can say that Jabir bin Abdullah was prominent leader of camp of Imam Ali in Madina and Attiya Aufi was also in that camp. To visit grave of Imam Hussain and paying him tribute from Jabir bin Abdullah was act to discredit all those effort of cursing Imam Ali and his family made by rulers of Umayyads. Rulers of Umayyad also saw Attiya Aufi as very dangerous man for their rule. Great Sunni historian Muhammad bin Saad registered an incident in his famous book Tabqaat-ul-Kabeer:

 خرج عطيّة مع ابن الأشعث على الحجّاج، فلمّا انهزم جيش بن الأشعث هرب عطيّة إلى فارس. فكتب الحجّاج إلى محمّد ابن القاسم الثقفي أن ادْعُ عطيّة فإن لعن عليّ بن أبي طالب وإلا فاضْرِبْه أربعمائة سوط واحْلق رأسه ولحيته. فدعاه فأقرأه كتابَ الحجّاج فأبَى عطيّة أن يفعل، فضربه أربعمائة وحلق رأسه ولحيته. فلمّا ولي قُتيبة خُراسان خرج عطيّة إليه فلم يزل بخراسان حتى ولي عمر بن هُبيرة العراق، فكتب إليه عطيّة يسأله الإذن له في القدوم فأذن له، فقدم الكوفة فلم يزل بها إلى أن توفّي سنة إحدى عشرة ومائة.

Attiya Aufi stood against Al-Hajjaj ibn Yusuf  along with army of Al-Ash’ath ibn Qays, When army of Al-Ash’ath ibn Qays defeated then Attiya fled to Persia. al-Hajjaj ibn Yusuf wrote a letter to his nephew Muhammad bin Qasim ( Yes, this is same Muhammad bin Qasim who is hero of Deobandis, Salafis and Jamat Islami Pakistan) and asked him to invite Atiyya Aufi and to order him to curse Imam Ali and if he would deny to do so then hit him four hundred sticks and saved his beard and head. Muhammad bin Qasim called Attiya and read letter of al-Hajjaj ibn Yusuf Attiya denied to curse Imam Ali and accepted 400 lashes and shaving his beard and head as punishment. When Qutayba ibn Abī Ṣāliḥ Muslim ibn ʿAmr al-Bāhilī became governor of Khurasan Attiya went there. When  Umar ibn Hubayra al-Fazari became governor of Iraq, he allowed Attiya to come back Kufa. Atiyya came in Kufa and remained there till his death. So we can see that Attiya faced great hardship, exile and punishment of lashes due to just only his bonding with Imam Ali and his family. He denied to compromise and to adopt silent path. Keep in your mind that incident mentioned above is in very authentic book al-Tabaqat al-Kabir and this book was compiled by Abū ‘Abd Allāh Muḥammad ibn Sa‘d ibn Manī‘ al-Baṣrī al-Hāshimī(Died 230H) and he has great status in Sunni School of thought. This book is so important that Sunni scholars managed to write its various copies.

https://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_Sa’d

https://ar.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%A8%D9%86_%D8%B3%D8%B9%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%AF%D9%8A

 

 (وتظهر أهمية كتاب الطبقات في كونه حوى كثيراً من الفنون العلمية في شتى الميادين المتخصصة، مما أهّله ليكون مرجعاً أساسياً لدى العلماء والباحثين، فهو مرجع أساسي في سيرة المصطفى وغزواته، ومعرفة دلائل نبوّته وشمائله، وهو مرجع أساسي في معرفة السنن والآثار لاشتماله على كمّ هائل من أقوال الصحابة والتابعين- بالإضافة إلى الأحاديث-، وهو مرجع أساسي في معرفة تراجم الرواة وأحوالهم وأنسابهم، ومنزلتهم في ميزان الجرح والتعديل، هذا فضلاً عن كونه مرجعاً أصلياً في علم الطبقات. فهو كتاب ينهل منه المحدّث والفقيه والمفسّر والمؤرخ والنسّابة والواعظ والداعية، وغيرهم. ولأجل هذا وغيره فقد اهتم العلماء بكتاب الطبقات اهتماماً كبيراً)

So this was Attiya Aufi who was co-traveler of Jabir bin Abdullah and preserved whole narration of this journey. Attiya Aufi describes, “that I accompanied Jabir bin Abdullah Ansari for the pilgrimage to the grave of Imam Husayn (a.s.). When we entered Karbala, Jabir went towards the river Euphrates and performed bath. Then he wore his pants and placed a robe upon his shoulders, and then he opened a purse of Sa’ad (a perfume) and applied it upon his body. He then started glorifying Allah at each step until he reached the grave, then he told me, “Bond me to the grave”. I joined him to the grave and he fell down unconscious upon it. I sprinkled water upon him and he regained consciousness while repeating thrice “O Husayn”! Then he said, “Why does the friend not reply to his friend? How could he reply when the blood of his neck lies smeared upon his throat, while there is separation between his head and body? I bear witness that you are the son of the best of women. And why would it not be so, when you have been fed by the hands of the Master of the Prophets, and brought up in the laps of the pious, and have consumed milk from the breasts of faith and you weaned along with Islam. You died in chastity as you lived in chastity, while the hearts of the believers are aggrieved due to your separation and there is no doubt in your fruitful end. Thus peace of Allah and His Paradise upon you! I bear witness that you have treaded the path similar to your brother (Prophet) Yahya bin Zakariyyah”. Then he turned his eyes upon the grave and said, “Peace be upon the souls that descended near the grave of Husayn (a.s.) and sat their camels thereat! I bear witness that you established the Prayers and you gave the Zakat, and you invited towards virtue and forbade against evil, and you fought against the pagans and worshipped Allah until death approached you. By Him Who sent Muhammad (S) rightly as a Prophet, we are associated with you in the struggle of yours”.

 

Atiyyah says that hearing this I asked, “How are we associated with them? When we did not alight at any valley or mountain, nor did we raise the swords. While these martyrs gave away their heads and bodies and are now separated from their children, while their women have been widowed?”

 

Jabir replied, “O Atiyyah! I have heard my friend, the Prophet of Allah (S) say, that those who love some men, they shall arise along with them, while those who are pleased at the task of the nation, remains associated with them in their task. By Him Who sent Muhammad (S) rightly as a Prophet! My intention and those of my companions are similar to that of Husayn (a.s.). Now take me to the houses of Kufa”.

 

When we had paved a short distance, he said, “O Atiyyah! I recommend to you, and I do not perceive that I shall meet you again after this journey, befriend the friends of the Progeny of the Prophet (S), and how I befriend them! And bear enmity with the enemies of the Progeny of the Prophet who bear enmity with them, although they be one of those who fast and remain awake at night (in worship). Then be merciful towards the friends of the Progeny of Muhammad (S), for if one of their feet slips due to access sins, the other one will remain steadfast due to their affection. Their friends shall return back to Paradise and their enemies to hell”.

 

This is very important story which was told us by Attiya Aufi and this story built mythology of Arbaeen and now this event has become global event. For Shiite and Sunnis its important has religious meaning but for whole humanity this event is source of showing their solidarity for all oppressed people in the world.

 

کراچی خواتین کی مجلس پہ حملہ :جمیلہ ، غوثیہ اور سلمی بھی عورتیں ہی ہیں مگر شیعہ

1201091-imambargah-1476722546-598-640x480

امام بارگاہ درس عباس جہاں عورتوں کی مجلس پہ تکفیری دہشت گردوں نے بم پھینکا

 

محرم الحرام جب شروع ہوا تھا تو اس وقت زور و شور سے محرم میں عزاداری کو چار دیواری میں قید کرنے کے لئے تکفیری منطق کے ساتھ ساتھ سیکولر اور معاشی منطق کے سوفسطائی دلائل کا انبار کھڑا کیا جا رہا تھا-دس دن عزاداری کے دوران ایک بس میں جانے والی چار شیعہ عورتوں کو قتل کیا گیا ، گھر سے نکلتے دو پشتون شیعہ حسن ابدال میں مارے گئے اور پھر مجلس عزا سے آتے ہوئے ایک شیعہ استاد منصور زیدی حملے میں مارے گئے اور ان کا بیٹا زخمی ہوگیا ، دو اور شیعہ نوجوان اپنی خواتین کو مجلس سے واپسی پہ لینے کے لئے امام بارگاہ کے پاس کھڑے تھے،ان پہ حملہ ہوا ، ایک زخمی بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگیا-اور دوسرا ابھی موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے-یہ سب لوگ محرم کے کسی جلوس میں نشانہ نہیں بنے اور نہ ہی یہ کسی پبلک مقام پہ تقریر کرتے ، ماتم کرتے ، نوحہ خوانی کرتے نشانہ بنے بلکہ ان کو یا تو امام بارگاہ کے سامنے نشانہ بنایا گیا یا گھر کے سامنے یہ نشانہ بنے-اس کے بعد کل بروز سوموار ،17 اکتوبر 2016ء کی رات کو خواتین اور بچے جو امام حسین رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت زینب بنت علی ابن ابی طالب کی یاد میں مجلس کررہی تھیں کو امام بارگاہ سے نکلتے ہوئے بم سے نشانہ بنایا گیا اور اس کے نتیجے میں ایک کمسن بچّہ جان بحق اور تین عورتیں اور چار بجّے زخمی ہوگئے- تکفیری دانشور اور لبرل دانشوروں کی ایک ٹولی ہمارے سامنے یہ منطق رکھتی رہی کہ عزاداری اگر چاردیواری میں ہو تو حملے نہیں ہوں گے-لیکن دس دنوں میں حملے بھی ہوئے اور دس دن کے بعد پھر چار دیواری میں ہونے والی مجالس پہ بھی حملے نہیں رکے

fraz-hussain

خواتین کی مجلس عزا میں بم دھماکے سے ہلاک ہونے والا 12 سالہ فراز حسین

تسنیم عابدی ایک بہت اچھی شاعرہ اور درد دل رکھنے والی ، جذبہ انسانیت سے معمور دانشور ہیں انھوں نے ایک نظم کا اقتباس اپنی فیس بک وال پہ دیا

رسم کے قیدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوڑھی قدریں کچھ کمزور سی رسموں کو

دوددھ پلا کر زندہ رکھنا چاہتی ہیں

عقل کے دشمن لوگوں کو یہ

روز ہی دھوکا دیتی ہیں

دھوکا کھانے والے دھوکا کھا کر بھی

گلے لگا کر ان کو زندہ رکھتے ہیں

عقل ہمیشہ شرمندہ ہی رہتی ہے

رسم و رواج کے سامنے مات ہی کھاتی ہے

چور محافظ بن کے گھوما کرتا ہے

ایسی بستی لتنے پر خوش ہوتی ہے

لٹ کے بھی سب جشن منایا کرتے ہیں

(تماشا سے ایک نظم)

نظم اچھی ہے اور کئی معانی کی حامل ہوسکتی ہے ، لیکن کچھ رسمیں جو بہت طاقتور استعارہ ہوتی ہیں ظلم و بربریت کے خلاف وہ بوڑھی ہوتی نہیں لیکن انھیں بس بوڑھا کردیا جاتا ہے ، سازشوں کے ساتھ ، کبھی ریاستی بیانیہ ، کبھی علاقائی پراکسی جنگیں اور کبھی کسی رجیم گرانے کے نام پہ- ایسی رسم کو بوڑھا ، فرسودہ اور کبھی اسے وحشیانہ کہہ کر چار دیواری میں بند کرنے کو کہا جاتا ہے اور چاردیواری میں بھی کی جائے تو بم برسائے جاتے ہیں ، عورتیں اگر اسے کریں تو بھی ان پہ بم برسائے جاتے ہیں ، بچوں تک کو معاف نہیں کیا جاتا-یعنی جب کوئی 60 ھجری میں ہوئی ٹریجڈی کو پھر تھیڑیکل انداز میں زندہ کرتا ہے اور امیجز سے اس کو واضح کرتا ہے تو ان کے قتل کا جواز نکل آتا ہے

اصل میں اپنے تسلط ، قبضہ گیری ، سامراجیت اور بادشاہتوں کو دوام بخشنے کے لئے تکفیری فسطائی عفریتوں کو جگایا گیا ہے جن کو اہل بیت اطہار اور ان سے جڑی ہر شئے سے سخت نفرت ہے اور وہ اس تذکرے پہ غیظ و غضب کا شکار ہوتے ہیں اور جو بھی یہ تذکرہ روا رکھے اس کے لئے معافی کی گنجائش ان کی لغت میں ہے ہی نہیں

درس عباس امام بارگاہ میں خواتین کی مجلس پہ بم سے حملہ کوئی ایسی کاروائی نہیں ہے جس پہ ہلکا سا رد عمل دے دیا جائے بلکہ یہ ایک ایسی حرکت ہے جس پہ جتنا غم و غصّے کا اظہار کیا جائے کم ہے-اور یہ بات دھیان میں رکھ لی جائے کہ ایسے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تکفیری گروہ شیعہ کی مذہبی آزادی کو چار دیواری میں بھی سرانجام دینے کی اجازت نہیں دے سکتا- ان کے نزدیک تو رسم یہ ہے کہ ایک عورت اگر شیعہ ہوجائے ، اور شیعہ مرد سے شادی کرلے تو اس سے اس کا سابقہ شوہر بلاد کار کرے اور اس کو پھانسی دے ڈالے اور اس کام کے دوران اس عورت کا باپ باہر کھڑا پہرہ دے-ایسے واقعات پہ کسی ایک لبرل اشراف دیوی کا دماغ دکھ اور تکلیف سے نہیں پھٹتا اور وہ طالبانی میڈیا کو للکارتی نہیں ہے تو اس کی ایک وجہ ہے کہ ریپ اور قتل ہونے والی عورت شیعہ ہوگئی تھی – یہی عورت اگر کرسچن ہوجاتی اور ریپ اور موت کا شکار ہوتی تو یقین ہے مجھے ایک حشر بپا ہوتا اور اس عورت کی تصویروں کے پوٹریٹ بناکر لگائے جاتے

مجھے سمجھ نہیں آرہی ، اسی لئے بار بار سوال کرتا رہتا ہوں کہ محضر زھرا بھی اسکول جاتے ہوئے اپنے باپ کے ساتھ دہشت گردوں کا نشانہ بنی تھی جس میں اس کا باپ مارا گیا تھا ، آج کی سلمی ، جمیلہ اور غوثیہ بھی عورتیں ہی ہیں اور وہ چار ہزارہ بھی عورتیں ہی تھیں جن کو بس میں الگ سے شناخت کرکے مارا گیا تھا ، ان عورتوں اور بچیوں کا مارا جانا اتنا بڑا واقعہ کیوں نہیں مانا جا رہا جتنا بڑا واقعہ ملالہ پہ حملے کو مانا گیا تھا یا جتنے بڑے پیمانے پہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے صا‏ئمہ ارشد کی پسند کی شادی پہ عبدالوحید روپڑی ملّا کے خلاف تحریک چلائی تھی- مجھے لگتا ہے کہ اگر صائمہ شیعہ ہوگئی ہوتی اور اس کا شوہر شیعہ ہوتا تو اسے کسی ” عاصمہ جہانگیر ” کو تلاش کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجاتا-اور میں جب ایسے سوال بار بار اٹھاتا ہوں تو مجھے مرے مارکسی دوست ہی شک کی نظر سے دیکھنے لگ جاتے ہیں-گزشتہ سال جب میں کراچی میں تھا تو مرے مارکسی دوست کامریڈ ریاض نے مجھے کہا، ” اب میں صف کامریڈیان میں واحد مارکسسٹ ہوں جو ابھی تک تمہیں مارکسسٹ سمجھتا ہوں ، باقی سب دوستوں کی نظر میں تم شیعہ ہو” –حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میں گزشتہ پانچ سالوں سے جتنی شدومد سے شیعہ نسل کشی پہ آواز اٹھا رہا ہوں ،اتنی ہی شد مد سے بلکہ بہت طاقتور بیانیہ کے ساتھ میں بلوچ نسل کشی پہ بھی آواز اٹھا رہا ہوں ، اتنی طاقتور آواز کہ مجھ سے کئی پنجاب اور کراچی سے تعلق رکھنے والوں نے پوچھا کہ آپ بلوچ ہیں؟لیکن مرے کسی کامریڈ دوست نے اس آواز اٹھانے پہ مجھے قوم پرست ، نسل پرست ، شاؤنسٹ تو نہیں کہا مگر شیعہ کے حق میں آواز اٹھانے پہ مجھے شیعہ کیوں کہا جارہا ہے-اگر کسی مارکسسٹ کی ایک شناخت اس کے باپ کی مذہبی شناخت سے بنتی ہے تو پھر مرے والد اہلسنت ہیں ، مرے بھائی اہلسسنت ہیں ، مرے والد کے سبھی چچا سنّی تھے بلکہ وہ سب کے سب جمعیت علمائے پاکستان کی مرکزی مجلس شوری کے خادمین میں سے ہیں اور تو اور مرے ارد گرد اتنی زیادہ سنّی شناختیں ہیں کہ مجھے یہ الزام دینا بنتا ہی نہیں ہے کہ میں کامریڈ سے شیعہ ہوگیا-لیکن اس کے پیچھے مرے ان کامریڈ دوستوں کے اپنے خوف اور اندیشے چھپے ہیں-یہ اموی کامریڈوں سے خوف کھاتے ہیں جن کے پاس مولویوں کی طرح کسی کو مارکسسٹ قرار دینے یا اس صف سے خارج کرنے کے فتوے دینے کی اتھارٹی موجود ہے اور وہ یہ فتوے ہر اس آدمی کے بارے میں تھوک کے حساب سے فروخت کرتے ہیں جو ان کی طرح شیعہ کے قاتلوں کی شناخت چھپانے سے انکاری ہوجاتا ہے-یہ اس کمرشل لبرل مافیا سے بھی خوفزدہ ہیں جو شیعہ نسل کشی کو سعودی-ایران یا شیعہ-سنّی چوکھٹے میں رکھ کر نہ دیکھنے والے کو سیکولر ،لبرل ماننے کی بجائے فرقہ پرست قرار دے ڈالنے کی اتھارٹی سے سرفراز ہیں-اب تو حالت یہ ہے کہ مری بلوچ نسل کشی پہ اٹھنے والی مسلسل آوازوں کے جواب میں کسی کامریڈ کو مرے لئے تعریفی جملہ بھی لکھنا پڑجائے تو وہ مجھے “لال سلام ” کہنے کی بجائے ، ایک مذہبی دعا سے سرفراز کرتا ہے حالانکہ یہ دعا اس کے ہاں کسی طرح کے کوئی معنی نہیں رکھتی ” مولا حسین آپ کو درجات رفیعہ پہ فائز کریں “

بات بہت دور نکل جائے گی لیکن میں یہاں ایک اور بات سے اپنی وضاحت کروں گا ، شیما کرمانی نے پاکستان میں رقص کے خلاف چلنے والی مہم کے خلاف اور ان سے کراچی یونیورسٹی میں ہوئی بدسلوکی کے خلاف کراچی پریس کلب میں ایک پروگرام کیا اور اس میں ایسے بہت سے سیکولر،لبرل ، مارکسسٹ لوگ شریک ہوئے جن کو براہ راست دعوت نہیں ملی تھی اور انھوں نے اس پہ سوشل میڈیا پہ کنٹری بیوٹ بھی کیا-یہ بہت اچھی بات ہے کہ فسطائیت کے رقص پہ حملے کے خلاف اپنا ردعمل دیا جائے لیکن ایسے کئی لوگ شیعہ نسل کشی پہ وہ ردعمل نہیں دیتے جو انھوں نے رقص پہ حملے پہ دیا-کیا میں یہ سمجھ لوں کہ شیما کرمانی اور دوسرے دوستوں کے نزدیک تکفیری فسطائیت کا شیعہ کمیونٹی کی نسل کشی کرنا اتنا بڑا معاملہ نہیں ہے جتنا بڑا معاملہ رقص پہ حملہ آور ہونا ہے-کتنی عجیب بات لگتی ہے کہ شیعہ نسل کشی کی زمہ دار تکفیریت کے نظریہ سازوں کو کٹہرے میں لانے کی بجائے ، شیعہ نسل کشی پہ بولنے اور لکھنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے،اور اس حوالے سے دوھرے معیار مسلسل روا رکھے جارہے ہیں

 

injured-child-in-imambargah2

injured-child-in-imambargah

 

 

Chronology of Events on the Day of ‘Ashura’- Ali Abbas Taj

the_king_of_karbala_by_hoorein-d5rl7bp

In accordance with the interview held with the deceased Doctor Ahmad Birshak in Gashimari-ye Irani, the event of Karbala falls on the Solar calendar on the 21st of Mehr, year 59 (10th October 680)

The Solar calendar is not like the Lunar calendar in the sense that it changes. The position of the Earth in relation to the Sun is fixated, and it is thus possible to calculate the timings of the city of Karbala on this date and allocate the words of the individuals who have written the Maqtal to the appropriate hours and minutes.

5:47 AM: Fajr Adhan

Imam Husayn (as) gives a sermon for his companions after the morning prayers. He invites them towards patience and struggle and then recites the prayer: اللهم انت ثِقَتی فی کل کَرب [O Allah! You are my trust in all calamities]. The Kufans(why only Kufans but there were thousands of soldiers were from Syrian Army of Yazeed )  also prayed on their side behind ‘Umar ibn al-Sa’ad and after the morning prayers, became busy in preparing the army and gathering their strength together.

Approximately 6 AM

Imam Husayn (as) orders for a trench to be dug around the tents, and asked it to be filled with thorny shrubs so that they could later set it on fire and make them an obstacle for the enemies to attack from behind.

7:06 AM – Sunrise

A short time after sunrise, Imam sat on a camel so that he could be seen better. Then he went towards the army of Kufa and with a loud voice, gave a sermon for them. He reminded them of the attributes and merits of himself, his brother, and his brother. He also reminded them that the Kufans had written letters to the Imam (as), and directly conversed with some soldiers in the army of Kufa, and asked Hijar bin Abjar and Shabth Rab’i whether they had not invited him (with their letters)? They rejected any such invitation, and thus the Imam threw their letters towards them and thanked Allah [swt] for establishing his proof upon them.

The sermon of the Imam was approximately thirty-minutes long.

Approximately 8 AM

After the speech of the Imam (as), some of his companions such as Burayr – who was known as Sayyid al-Qurra’ (The master of the Qur’an reciters) of Kufa – and according another narration, Zuhayr, gave similar sermons. After the sermon of Zuhayr and Burayr, the Imam asked: “Is there anyone to help me?” A few soldiers become unsure of what to do, particularly Hurr. Another individual by the name of Abu al-Sha’tha and two brothers who were previously from the Khawarij, came towards the army of the Imam. It is not far-fetched that others who felt that the army of Kufa is serious about fighting Husayn, also ended up coming towards the army of the Imam.

Approximately 9 AM

It was at this time that the accursed Shimr asked Umar ibn al-Sa’ad as to why he is delaying the battle. Eventually Umar determined that it is appropriate to start the battle, and shot the first arrow towards the army of Imam Husayn (as). He says to his army: “Testify in front of Ubaydallah that I shot the first arrow.” After that, the bowmen of the Kufan army, all together began shooting arrows.

The Imam said to his companions: “Become prepared for death.” A few individuals from the army of Imam Husayn (as) were martyred in this initial attack. Some reports mention that those who were killed in the initial shower of arrows from the army of the Imam was close to fifty people.

Approximately 10AM

After the initial shower of arrows, Yasar the slave of Ziyad bin Abih, and Salim the slave of Ibn Ziyad came out from the army of Kufa to continue the battle in duels. Abdullah bin Umayr requested permission to fight from Imam Husayn (as). The Imam gave him permission and he killed both of them – however the fingers of his left hand were cut.

After this duel, the Kufan army began attacking collectively. Hijar attacked the right flank of the army of Imam Husayn (as), but Habib and his companions stood their ground firmly. At the same time, Shimr was attacking the left flank of the army, where he faced Zuhayr and his companions. Shimr himself was slightly injured in this attack. After pushing back the two sets of soldiers of the Kufan army, Umar ibn al-Sa’ad ordered 500 bowmen to shoot arrows at the army of the Imam. A number of companions of the Imam were killed in this attack. Some reports have mentioned that 50 people were martyred, Ibn Shahr Ashub mentions that 38 were martyred. The first to become martyred in this attack was Abu al-Sha’tha – who was a bowman himself, and shot 8 arrows, killing 5 people. The Imam supplicated for him.

A group of men from the army of Shimr asked to attack the Imam from behind, where the Imam had dug a trench and set fire in it. Zuhayr and 10 other companions attacked them.

Approximately 11AM

After these attacks, the Imam asked his companions to go out individually. The companions of the Imam agreed amongst themselves to not let anyone from Bani Hashim go towards the battlefield until they are alive. The companions were very eager to taste martyrdom. Some become martyred in the sight of the Imam. One of the first individuals to be martyred was the old and ascetic Burayr and after him Muslim bin ‘Awsajah. Habib went towards Muslim and said that he wished he would have been able to execute his last-will. Muslim pointed towards the Imam and said “That is my last-will (i.e. protect him)”. At one point, 7 companions of the Imam were surrounded by the army of the enemy, and ‘Abbas came and saved them.

12:50 PM – Adhan of Zuhr

Habib ibn Mazahir was martyred at the time of Zuhr. It has been recorded that the Imam said to his companions that one of them goes and asks Umar ibn al-Sa’ad to pause the battle for the time of prayers. One of the soldiers from the Kufan army said: “Your prayers are not accepted”. Habib replied to him: “O Donkey! You think that your prayers are accepted, and that the prayers of the son of the Prophet is not accepted?” He went out to fight him, but the soldiers of the Kufan army came to help and Habib was thus martyred. Imam (as) was extremely saddened by Habib’s martyrdom and for the first time he (as) cried on the day of ‘Ashura.

Imam (as) prayed Qasr and in accordance to the rules of Salat al-Khawf. Some companions followed the Imam in congregation, while others continued fighting. Zuhar and Saeed bin Abdullah Hanafi were guarding the Imam. It has been recorded that Saeed bin Abdullah took 13 arrows to the body and was martyred.

Approximately 1 PM

30 companions of the Imam were martyred by the end of the prayers, including Zuhayr and Hurr. After the companions had been martyred, the Bani Hashim began to come out to fight. The first person to fight was Ali Akbar, the son of Imam Husayn (as). Other reports mention Abdullah bin Muslim bin Aqeel being the first to go out and fight from the Bani Hashim.

Approximately 2 PM

28 members of the Bani Hashim were killed: 7 brothers of Imam Husayn , 2 sons of Imam Hasan, 2 sons of Imam Husayn, 2 grandsons of Ja’far bin Abu Talib, 9 members of the family of Aqeel, and the rest from the extended family of the Imam.

Eventually, only Imam Husayn (as) and ‘Abbas remained. Abbas requested permission to go the battlefield, but the Imam instead asked him to go get water. The enemy was able to split the two brothers, and while ‘Abbas was on his quest to get water for the women and children, both of his arms were cut off. One of the enemies attacked his head with a pole and he fell on the ground. It has been reported that this was the second time the Imam (as) cried and said: “Now my back has been broken”.

Approximately 3 PM

The Imam returned back towards the tents and began to bid farewell. He started tearing parts of his shirt and wore it so that when the enemies begin their looting, they do not rob his shirt. While bidding farewell, he took his 6-month old Ali Asghar out of the tents to get him a drop of water, when Hurmala shot an arrow at the baby and killed him. The Imam returned back to the battlefield to fight and initially very few dared to fight him, so they would shoot arrows from far or throw their spears at him. After the Imam (as) was martyred, it has been reported that there were 33 injuries from spears, 34 injuries due to swords on his body.

It has been reported that when the Imam was in his last moments, no one dared to come towards him to finish him. The horse of the Imam went towards the tents and the women and children became aware that the Imam was no longer on the horse. A child by the name of Abdullah the son of Imam Hasan ran towards Imam Husayn (as), but the enemies killed him while he was in the lap of the Imam.

4:06 PM – Adhan of ‘Asr

According to the report by Hamid bin Muslim in Tarikh al-Tabari, the time that Imam Husayn (as) was martyred was the time of ‘Asr. It was at this time that Sinan bin Anas attacked the Imam and beheaded him. Other reports mention that it was Shimr who beheaded the Imam.

Approximately 5 PM

After the martyrdom of Imam Husayn (as), people began to loot him. It has been reported that all of those who had stolen something from the Imam, became afflicted with incurable diseases. The army began to loot possessions of his martyred companions as well. Umar ibn al-Sa’ad asked his army to stop the looting temporarily. Suwayd bin Mata’ – one of the Shi’as from Basra – arrived in Kerbala after the martyrdom of the Imam and in order to protect the family of the Imam, began fighting the enemies until he was also killed.

It was close to sunset when the head of the Imam was given to Khuli so that he could take it to Ibn Ziyad. After that, Umar ibn al-Sa’ad ordered his soldiers to trample the body of the Imam with horses.

6:49 PM – Adhan of Maghrib

The sorrowful day of ‘Ashura ends with Umar ibn al-Sa’ad holding congregational prayers of Maghrib. Sinan bin Anas started reciting poetry alluding to him being rewarded with gold, for he was able to kill the best of men.

Link: http://raaziamarzia.tumblr.com/

کوفہ : سابقین فی الاسلام بمقابلہ عرب ارسٹو کریسی

silk

کوفہ میں بالخصوص اور حجاز سے باہر بننے والی چھاؤنیوں میں بالعموم غیر عرب خاص طور پہ ساسانی اور بازنطینی سلطنت کے باشندوں میں جن لوگوں نے اسلام قبول کرلیا ان پہ لفظ موالی کا اطلاق کیا گیا اور رفتہ رفتہ لفظ موالی ان غیر عرب فارسیوں کے لئے بولا جانے لگا جوکہ کوفہ سمیت دیگر مسلم عرب گریژن اور اس کے گرد و نواح میں آکر رہائش پذیر ہوگئے تھے-ان شہروں کی سماجی ترکیب میں موالیوں کا کیا سٹیٹس تھا اور ان کی تعداد کتنی تھی اور ان کا اثر کیا تھا؟ اس بارے میں ایک باقاعدہ اور مربوط مطالعہ اور تحقیق کا آغاز مستشرقین نے کیا-قدیم عربی ماخذ میں الجاحظ کی کتاب ” الموالی ” اور ابن الہثیم کی کتاب ” من تزوج من الموالی فی العرب ” کا سراغ ملتا ہے-

موالی پہ ابتدائی متشرقین نے جو تحقیقات کیں ، وہ ان کی سماجی ،مادی بنیادوں سے ان کی سماجی حرکات اور فکر کا تعین کرنے سے کہیں زیادہ مسلم ماہرین علم کلام کی جانب سے بدعتی ، گمراہ اور زندیق کہہ کر پکارے جانے والے گروہوں کی آئیڈیالوجی کی روشنی میں متعین گولڈ زیہر وغیرہ کا تعلق اسی قبیل سے تھا-لیکن بعد میں آنے والے محققین نے اس کو بدلا-موالی کو صرف پرشین شناخت کے ساتھ دیکھنے اور ان کے ایک سے سماجی سٹیٹس بیان کرنے یا کھل کر کہا جائے تو ان کو صرف دشمنی کی عینک سے دیکھے جانے کے تصور کو سب سے زیادہ چوٹ الزبتھ اربن نے لگائی –ان کا مقالہ ” دی ارلی موالی : اے ونڈو آن ٹو پروسس آف آئیڈنٹی اینڈ سوشل چینج ” موالی بارے سماجی مطالعے میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا سبب بن گیا-اس حوالے سے ایک اور کتاب مونیق برینارڈز اور جان عبداللہ نواس نے لکھی جس کا عنوان تھا ‘ پیٹررونیٹ اینڈ پیٹرینیج ان ارلی اسلام ‘ –موالی کی سماجی ترکیب اور چھاؤنیوں کی ہئیت کو بدل ڈالنے میں ان کے کردار بارے ضمنی طور پہ بہت ہی پرمغز گفتگو ہمیں کتاب ‘ سلک اینڈ ریلیجن : این ایکس پلوریشن آف میٹریل لائف اینڈ ۔۔۔۔۔’ میں ملتی ہے-الزبتھ اربن کی انقلابی تحقیق نے موالی کے بارے میں ان سے پہلے بنائے جانے والے مقدمات کو پھیر کر رکھ دیا-ان سے قبل تحقیق کرنے والوں کے ہاں سب موالیوں کو ایک ہی سماجی سٹیٹس کا حامل بتایا جاتا تھا اور ایسے مقدمات پیش کئے جاتے تھے جن سے یہ تاثر ملتا تھا کہ آغاز کار سے موالی ، کنورٹ نان عرب مسلمانوں کو ” باہر والا ” اور مداخلت کار خیال کیا جاتا تھا-

لیکن الزبتھ اربن نے اپنی ریسرچ میں ایک تو یہ بات ثابت کی کہ حضرت عمر ہوں یا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت علی ان سب نے موالیوں کی مختلف سماجی پرتوں کو اپنے ساتھ ملانے اور ان کو شریک اقتدار کرنے کے اقدامات کئے –اگر ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پالیسی پہ غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ کوفہ کے ابتدائی جو باشندے بنے ان میں چار ہزار دیلمی فارسی جنگجو بھی شامل تھے اور ان کا سماجی سٹیٹس عمر نے سبقت اسلام رکھنے والے عرب مہاجر و انصار کے بعد اہل الایام القادسیۃ کے برابر رکھا اور آپ کے زمانے میں فارس کے دیگر علاقوں کی جو فتوحات ہوئیں ان میں شریک ہونے والے کنورٹ مسلم غیرعربوں کے وظائف میں بھی اضافہ کیا گیا-لیکن ہمیں ایسے کوئی آثار نہیں ملتے جن سے یہ پتہ چل سکے کہ اہل سواد (سوادی زمینوں پہ کام کرنے والے مقامی کسانوں ) اور ساسانی فیوڈل ریاست کے خاتمے کے دوران بے روزگار ہوکر کوفہ کا رخ کرنے والے سابقہ کسانوں ، ساسانی ریاست کے سابق اہلکاروں ، فارسی دستکاروں ، تاجروں کیا وہ سٹیٹس دیا گیا جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں دیلیمی جنگجوؤں اور بعد کے دیگر کنورٹ غیر عرب مسلم فارسی جنگجوؤں کو دیا گیا تھا-لیکن ایک بات طے ہے کہ حضرت عمر فاروق کے زمانے کی عرب ایلیٹ اگر تھی تو وہ مہاجر و انصار صحابہ کرام اور اہل الایام القادسیۃ میں شریک صحابہ کرام تھے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرب قبائل کے سرداروں اور اشراف امور مملکت سے دور ہی رکھا-اس لئے جو موالی تھے ان کی اکثریت نے بھی خود کو سبقت اسلام اور مہاجر و انصار کی شناخت رکھنے والی عرب مسلم اشرافیہ سے جوڑا-لیکن یہ ترتیب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں بتدریج تبدیل ہوئی اور عرب ارسٹو کریسی ، بنو امیہ کے قبائلی اشراف  کے درمیان محبتیں بڑھتی چلی گئیں

اور پھر  ریاستی مشینری اور خود عرفاء و نقباء کے اندر بھی عرب ارسٹو کریسی کا اثر ورسوخ پھیلتا ہی چلاگیا-لیکن امویوں نے حضرت ‏عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہی ساسانی و بازنطینی سلطنت کو چلانے والی ارسٹو کریسی ، بیوروکریسی کے ساتھ ہاتھ ملالیا تھا اور ان کو خاص طور پہ ریاستی مشینری کے اندر بھی جگہ ملنے لگ گئی تھی اور اس ارسٹو کریسی کو خراج سمیت ديگر اور ٹیکسز سے بھی مستثنی قرار دے ڈالا تھا-اور حضرت ‏‏‏‏عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہی ہم نے کوفہ ،بصرہ ، مصر کے اندر اس اموی پلس عرب و پرشین ارسٹوکریسی کے خلاف تحریک کھڑے ہوتی دیکھ لی تھی-بلکہ اگر دیکھا جائے تو خود اس اتحاد کے خلاف مدینہ اور مکّہ کے انصار و مہاجر اور ان کی اولادوں نے واضح اظہار ناراضگی کیا تھا اور امویوں کے خلاف وہآں بھی فضا سازگار نہ تھی-موالیوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جن کا تعلق کسان ، دست کار ، درمیانے درجے کے تاجر طبقات سے تھا یا وہ بطور سکالر سامنے آئے تھے کا زیادہ جھکاؤ خلفاء ثلاثا کی جانب تھا اور بعد ازاں جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوگئی تو ہم نے ان موالیوں کے اندر نظریاتی اعتبار سے ایک بڑی تقسیم یہ دیکھی کہ یہ علوی کیمپ اور عثمانی کیمپ میں بٹ گئے-کوفہ شہر اور اس کے گردونواح میں رہنے والوں کی بڑی تعداد حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ کھڑی ہوئی جبکہ اس سے پہلے میں بتاچکا کہ خود کوفہ اور اس کے گردونواح میں موجود عرب مسلمانوں کی کی بھاری اکثریت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے کیمپ میں آگئی اور کوفہ میں اگر کوئی عثمانی یا اموی کیمپ کا تھا بھی تو اس نے اکثریت کے سامنے کھل کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلاف کوئی صف بندی نہیں کی-لیکن کیا کوفہ ، بصرہ کے عرب مسلمانوں اور موالیوں کا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے کیمپ میں کھڑا ہونا ویسے ہی تھا جیسے ان بزرگوں اور ان کے حامیان کا تھا جسے تاریخ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے شیعہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے-یاد رھے کہ حضرت علی کے یہ نظریاتی شیعہ خود شیعہ امامیہ کے نزدیک سب کے سب امامت کے منصو ص من اللہ ہونے ، امام کی موجودگی میں کسی مفضول کا خلیفہ نہ بننے جیسے خیالات کے مالک نہ تھے-یہاں تک کہ خود حجر بن عدی الکندی اور دیگر کئی رفقائے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بارے میں یہ اطلاعات و اخبار موجود ہیں کہ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنھما کی خلافت کو برحق مانتے تھے-اور اغلب امکان یہی ہے کہ کوفہ کی اکثریت بشمول عرب و موالی سیاسی شیعہ پہ مشتمل تھی  اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے حق میں وصی و ولایت و خلافت کے امامیہ عقیدے کی قائل نہ تھی-اس بات کو اس لئے بھی تقویت ملتی تھی کہ جنگ صفین کے موقعہ پر جب لشکر شام نے نیزے قرآن پہ بلند کئے تو اس موقعہ پہ بہت تھوڑی تعداد ایسی تھی جس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائے بغیر ختم نہ کرنے کی تجویز کو من وعن مان لیا تھا

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو تحکیم کا فیصلہ ماننا پڑا اور جب آپ نے عبداللہ بن عباس کو حکم بنانے کی تجویز دی تو اسے بھی اکثریت نے رد کیا-اور جب تحکیم کا نتیجہ شامیوں کی دغا بازی کے طور پہ نکل آیا تو ہم نے دیکھا کہ آپ کے لشکر میں جو بدوی عرب شامل تھے انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور ان میں سے اکثر نے حضرت علی کے کیمپ کے خلاف تلواریں بھی اٹھالی-کوفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور ہی میں ایک کاسمو پولیٹن سٹی میں بدلنا شروع ہوگیا تھا اور اس شہر میں دست کار ، درمیانے درجے کی تاجر کلاس ، نچلے درجے کے ریاستی اہلکار ، علم و دانش یعنی قرآن وحدیث ، اسماء الرجال ، اسباب نزول کے ماہرین سمیت اہل علم کی اکثریت موالی غیر عرب فارسیوں پہ مشتمل تھی-حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جب شہادت ہوئی تو کوفہ کی آبادی ایک روایت کے مطابق ایک لاکھ تھی اور ایک اور روایت کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار تک پہنچ گئی تھی-اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ تعداد کہا جاتا ہے کہ ڈیڑھ سے دو لاکھ  ہوچکی تھی-اور اس میں اکثریت موالی کی تھی –ایک اندازے کے مطابق حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں موالی قریب قریب 40 ہزار سے 60 ہزار موالی تھے اور حصرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ 80 سے 90 ہزار کے قریب ہوچکے تھے-اور اہل زمہ /زمیوں کی تعداد میں بتدریج کمی آنی شروع ہوگئی تھی-

مارٹن ہنڈز ، طیب حلبی ، حسین محمد جعفری ، الزبیتھ اربن سمیت اکثر ماہرین کے خیال میں کوفہ کے موالیوں میں سب سے بڑی اکثریت کا تعلق دستکاروں ، تاجروں ، سکالرز وغیرہ کا تھا اور اس کے بعد وہ سابق کسان تھے جو ساسانی سلطنت میں مفتوحہ زمینوں کو چھوڑ کر کوفہ آگئے تھے اور یہاں وہ کسی عرب قبیلے کے حلیف نہ بنے بلکہ براہ راست کوفہ کے دارالامارہ کے ماتحت بن گئے تھے جبکہ تیسرا بڑا گروہ ان غیر عرب فارسیوں کا تھا جو جنگجو یا پیشہ سپاہ سے متعلق تھا-اور سب سے کم تعداد میں وہ موالی تھے جو ساسانی نوبل / حکمران معزز اشراف میں سے تھے اور کوفہ کے اندر آباد تھے-آئیڈیالوجیکل کے اعتبار سے ان موالیوں کی اکثریت کے بارے میں حسین محمد جعفری اور دیگر نے لکھا کہ ان کے ہاں کیونکہ وصائت و وراثتی نیابت و بادشاہت کا تصور پہلے سے موجود تھا تو ان کا رجحان شیعت کی جانب تھا-اسی طرح سے جو یمنی عرب تھے وہ کرسچن بادشاہت کے زیرنگین رہے تھے تو ان کے ہاں بھی امامت کے باب میں شیعیت کی جانب جھکاؤ صاف تھا-اور یمنی عربوں اور موالیوں کی اکثریت نے علوی کیمپ کو ہی جوائن کیا-ان ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ کوفہ کے برعکس دمشق سمیت جو دوسرے مسلم اکثریت کے شہر تھے ان پہ بازنطینی اور ساسانی روایت کا گہرا اثر تھا تو وہ بہت جلد ان روایات کے اندر ڈھل گئے جبکہ کوفہ کی اپنی کوئی روایت سرے سے موجود نہ تھی اور یہ شہر اپنی ابتداء میں عرب جنگجوؤں کا شہر تھا جوکہ اگرچہ یہاں آکر آباد تو ہوگئے تھے لیکن ان کی عسکریت پسندی اور جدید اصطلاح میں ان کی ریڈیکلائزڈ فطرت قائم دائم تھی ، اس لئے اس شہر میں تحرک اور بغاوت اور جارحانہ سیاست خوب پلا بڑھا کرتی تھی-

 

 

اب اگر ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے ایک بڑی سیاسی کشمکش کے ابتدائی آثار کی تلاش کریں تو ہمیں اس کی بنیاد خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پالیسی میں نظر آجاتی ہے-حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کوشش تھی کہ وہ کوفہ کی سیاسی –معاشی و مذہبی پاور ان لوگوں کے ہاتھ میں رکھیں جن کی اسلام کے لئے خدمات کا کسی کو بھی انکار نہ تھا اور ان کا مذہبی قدکاٹھ بھی کافی بلند تھا-حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس سے کوئی غرض نہ تھی کہ وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں کوفہ کے اقتدار کی باگ ہو وہ عرب ارسٹوکریٹ ہیں یا نہیں ، ان کے پاس بہت زیادہ دولت ہے یا نہیں اور اپنے قبیلے کے اندر ان کے پیچھے بہت بڑی افرادی قوت ہے کہ نہیں-حسین محمد جعفری اور دیگر احباب نے بہت واضح انداز میں اس بات کو واضح کیا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اہل الردہ کے طاقتور قبائلی ارسٹو کریٹس کو واپس دائرہ اسلام میں آنے کے باوجود کوئی عہدہ نہیں دیا تھا-اور آپ کے زمانے میں ہی سبقت اسلام رکھنے والوں اور عرب ارسٹوکریسی کے درمیان تناؤ اور کش مکش کے آثار نظر آنے لگے تھے اور کوفہ سیاسی اعتبار سے ان دو کیمپوں میں بٹا نظر آنے لگا تھا لیکن عرب ارسٹو کریسی کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ ہمت نہیں ہوئی تھی کہ وہ سیاسی نظام میں سابقین اسلام کے غلبے کو چیلنج کریں اور کوفہ کے غالب حکمران سیکشن کے خلاف کھڑے ہوں-اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب تک حضرت سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود کي قیادت رہی تو اس وقت تک بھی کوفہ میں کسی بڑی کشمکش کے آثار دکھائی نہ دئے تھے-

 

 

صورت حال ولید بن عقبہ کی گورنری کے زمانے سے بدلنا شروع ہوئے اور اس زمانے میں ہم نے یہ دیکھا کہ سبقت اسلام رکھنے والے اور ان کے اتحادی موالی پیچھے جانا شروع ہوئے اور اسی زمانے ميں حجر الکندی ، مالک الاشتر ، مسیب بن نخبۃ اور ديگر حضرات جو اہل قراء کے نام سے معروف تھے کو عہدوں سے ہٹادیا گیا اور ان کی جگہ عرب ارسٹوکریٹس نے لینا شروع کردی-عرب ارسٹوکریسی کے اس ظاہر ہونے والے غلبے نے خود موالی کے سب سے برے نمائندہ گروپ کے لئے دوسرے درجے کے شہری کا سٹیٹس لیکر آنا شروع کردیا-اور ہم نے مدینہ کے اندر مروان سمیت بنوامیہ کے ان لوگوں کو آگے آتا دیکھا جن کی اسلام کے لئے کوئی بڑی خدمات نہ تھیں –یہاں ایک بات اور جو بہت ہی اہم نکتہ ہے اور مسلم تاریخ میں ہونے والی سیاسی کشاکش بارے ہمیں ایک اور راہ بھی سجھاتی ہے کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے-اور اس کی جانب الزبیتھ اربن نے بھی واضح اشارہ کیا ہے-اس کا کہنا یہ ہے کہ اموی یا مروانی غلبے کے خلاف سابقین اسلام اور موالیوں نے جو بغاوت کی اور ان کے خلاف تحریک اٹھائی تو اپنی اس تحریک کی بنیاد انھوں نے ایتھنک بنیادوں پہ نہیں رکھی اور نہ ہی موالیوں نے اسے “عرب ” کے خلاف غیر عربوں کی بغاوت قرار دیا-بلکہ انہوں نے اس کی باقاعدہ ايک مذہبی اور آئیڈیالوجیکل بنیاد رکھی اور انھوں نے اپنی غیر عرب شناخت اور ساسانی دور کی شان وشوکت کے عروج کی واپسی کی لڑائی قرار نہ دیا- جبکہ اسی طرح جنھوں نے ولید بن عقبہ اور اس کی اتحادی عرب ارسٹوکریسی کے خلاف تحریک شروع کی انھوں نے بھی اپنا آدرش اقتدار پہ قبضہ یا پاور کا حصول قرار نہیں دیا بلکہ انھوں نے اس اسلامی آدرش کو اپنا نصب العین قرار دیا جس کی بنیادی قدر عدل و انصاف اور مساوات تھی اور طاقتور و کمزور کی قانون کے سامنے برابری کا آدرش تھا-

امویوں ، عرب ارسٹو کریسی اور ساسانی نوبل اشراف میں ہم یک گونہ اتحاد دیکھتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں سابقین اسلام عرب ، عام عرب اور موالیوں میں دست کار ، کاریگر ، درمیانے درجے کے تاجر اور کوفہ کے گردونواح میں زمینوں پہ کام کرنے والے کسان اور دیگر لوئر سٹارٹا کو ایک الائنس میں اکٹھے ہوتے دیکھتے ہیں-الزبتھ اربن اسی لئے کہتی ہے کہ موالیوں کی اکثریت جو امویوں اور مروانیوں کے خلاف کھڑی ہوئی اس نے ایتھنک آئیڈنٹٹی کو اپنی جدوجہد کی بنیاد خود قرار نہیں دیا-کوفہ اس پہلی تحریک کا نرو سنٹر تھا اور اس تحریک کا بتدریج شیعی رنگ اختیار کرنا بھی اسی بات کا ایک ثبوت ہے اور پروٹو سنّی اور پروٹو امامی دونوں کی بڑی اکثریت اسی شیعی سنٹر کے ساتھ آگے چل کر جڑی-اس تحریک کو آج کے سعودی نواز وہابی اور دیوبندی مائل بہ  بنو امیہ خالص سنّی چہرہ دکھا کر پیش کرنے کی جو کوشش کرتے ہیں ، اس مین سب سے بڑا گھپلا پروٹو سنّی آبادی کے مائل بہ علویت ہونے کے کردار کو چھپانا ہے اور پروٹو سنّی کرداروں کو امامی شیعہ یا چھپے ہوئے امامی شیعہ بناکر دکھانا ہے-اور اگر میں کہوں کہ آج کی سفیانیت یا آج کی یزید سے کامریڈ شپ پہ مبنی کاوشیں بھی اسی علمی بدیانتی ، خیانت اور بے ایمانی کا نام ہے تو کچھ غلط نہیں ہوگا-کوفہ میں ہونے والی اس بڑی تقسیم کو سازش بناکر دکھانا اور اسے ایک انتہائی مجہول کردار ابن سباء کے دماغ کی سازش بناکر دکھانا بھی ایسی ہی کوشش ہے-اور یہاں پہ ہم ان مارکسیوں کی غلطی کی نشاندہی یا بعض مارکسزم کے پردے میں چھپے اموی کامریڈز کی تدلیس کا پول بھی کھول سکتے ہیں جو کوفہ ، شیعان علی کے کیمپ بارے بات کرتے ہوئے کوفہ کی سماجی ترکیب اور اس کی بنیاد پہ اٹھنے والے تضادات اور ان کے آئیڈیالوجیکل شیڈز کا تاریخی مادی جدلیاتی روشنی میں تجزیہ کرنے کی بجائے اس کو قبیل داری یا ایتھنک لڑائی قرار دینے پہ ہر دم تیار رہتے ہیں-اور سابقین اسلام، غریب موالیوں کی لڑائی کو ہوس اقتدار کی لڑائی قرار دیکر سماجی انصاف و عدالت کے آدرشوں کے علم اٹھاکر ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونے والے چہروں کو مسخ کرتے ہیں-

محرم کی ثقافت: الحاد کی دو نمبر چپ-آخری حصّہ

%d8%af%d8%b1%d8%a7%d8%b3%db%83-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b3%d8%b7%db%8c%d8%b1

راحیل دنداش اس حوالے سے خزعل الماجدی عراقی ماہر تاریخ کے خیالات پیش کرتا ہے – اس نے بہت تحقیق اور عالمانہ انداز میں یہ ثابت کیا ہے کہ دیومالائیت کا عربوں کے اجتماعی شعور میں بہت ہی اہم کردار ہے –

وہ کہتا ہے کہ دیو مالائیت کلچر اور تہذیب کے دھاروں کی جان ہوتی ہے -دیومالائی کہانیاں ، ان سے ابھرنے والی رسومات اور خیالات کسی بھی سماج کی ثقافتی بنت کاری میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں –

 اس کے خيال میں جب کسی مذھب کے نام پر کوئی پیورٹن تحریک (جس میں وہ وہابیت ، سلفیت کی مثال دیتا ہے )جب دیومالائی کہانیوں اور اس سے جنم لینے والی رسومات اور طور طریقوں کو  مذھب سے اور اسی بنیاد پر اس سماج کے کلچر  اور تہذیب سے نکالنے کی کوشش کرتی ہے تو پھر تباہی ، بربادی سامنے آتی ہے –

 اس طرح سے کسی طرح کی سچائی سامنے آنے کی بجائے ایک اور طرح کی دیومالائیت ، مائتھولوجیکل وے آف تھنکنگ سامنے آجاتا ہے اور وہ طرز فکر خزعل الماجدی کی ںظر میں آج عرب معاشروں کی تباہی کا باعث بنا ہوا ہے –

خزعل الماجدی کا کہنا ہے کہ عرب معاشرے سلفی وہابی تحریک کی شکل میں آج بھی قرون وسطی کے ایک نئی دیومالائیت کے ساتھ رہنے کی کوشش کررہے ہیں جو ان سماجوں کی جدیدیت کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ بن چکی ہے اور یہ ترقی نہ کرنے اور سائنسی سوچ سے ہم آہنگ نہ ہونے کا اظہار بھی ہے-

 ماجدی کہتا ہے کہ اس طرح کی سلفیت کی سب سے خطرناک چیز یہ ہے کہ قرون وسطی سے ایسے مائتھ اور لیجنڈ ماضی کے اندھیری غاروں سے نکال کر لاتی ہے اور ان کو اجتماعی شعور کا حصّہ بناتی ہے جو دہشت ، خون خرابے اور مارا ماری کی نشانی ہوتے ہیں –ایسے لیجنڈ   سب کے سب استعاراتی شکل میں ایسے نعروں اور تمثیلوں میں ڈھل جاتے ہیں جن سے دھشت گردی کو ایندھن ملتا ہے ، تصادم ظہور پذیر ہوتا ہے ، خانہ جنگی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں- اکثر یہ استعاراتی عمل خدا کے نام پر اور مقدس علامتوں کے زریعے کیا جاتا ہے –

مثال کے طور پہ اگر ہم محرم کی ثقافت کے مقابلے میں ان کی مائتھالوجی کو دیکھیں تو وہ یزید اور اس کی حکمرانی کے دور کو بنا سجاکر اور اس کے سپہ سالاروں کی نئی سیرت تخلیق کرنے میں ہے-اور یہ الزام کو بدل ڈالنے –بلیم شفٹنگ پہ بھی مبنی ہے اور اسے مسلم تاریخ کا سنہرا دور بناکر دکھانے کی کوشش کا بھی نام ہے- مسلم بن عقبہ ، بسراۃ اور کئی اور کردار غازی اور مجاہد اسلام بنکر سامنے آتے ہیں-

خزعل الماجدی کہتا ہے کہ سلفیت عرب معاشروں کی ثقافتی روح میں رواں دواں مائیتھولوجی اور اس سے ابھرنے والی رسوم اور طریقوں کو شرک ، بدعت قرار دیکر ان کی جگہ جو مقدس علامتیں مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہے ان علامتوں نے پھر کار بم  دھماکوں ، خود کش جیکٹوں ،آر ڈی ایکس سے بھرے ٹرکوں کی ثقافت کو پروان چڑھایا ہے-

 مذھبی دھشت گرد گروپ اکثر چئیرٹی ، خیراتی اداروں ، نعروں ، علامتوں ، بینرز اور شہادت فی سبیل اللہ کے نعروں سے  ان کی نئی دیومالائیت تشکیل پاتی ہے-

 خزعل یہ بھی کہتا ہے کہ مائتھولوجی کو زیادہ سے زیادہ سادہ بنانےکا رجحان توحیدی مذاہب میں پایا جاتا ہے اور پیورٹن جیسے ہمارے سلفی ہیں وہ اس کو بالکل ہی ختم کرنے کے درپے ہیں ہوتے ہیں اور مدنیت یعنی شہری زندگی کی چکاچوند کو وہ واپس بدویانہ دور میں لیجانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی کے بطن سے انارکی جنم لیتی ہے –

کلچر کو خشک ملائیت اور اس کی انتہائی شکل تکفیریت  سے جن خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ان کی بدترین شکلیں مڈل ایسٹ کے اندر نظر آرہی ہیں-

آج محرم کی ثقافت کو ٹارگٹ کلنگ ، خود کش بم دھماکوں ، تکفیری آئیڈیالوجی سے پھیلنے والی نفرت نے محصور کردیا ہے اور آج جتنے بھی جلوس اور مجالس ہوتی ہیں ،ان میں کھلا پن مفقود ہوچکا ہے اور یہ محاصرے کی کیفیت میں ہوتی ہیں اور ان میں اہلسنت سمیت دیگر مذاہب کے لوگوں کی کھلی شرکت پہ پاکستان کے اندر ایک سوالیہ نشان لگ چکا ہے-الحاد کی دو نمبر چپ نے ہمارے ہاں براہ راست ثقافت دشمنی کے کلچر کو پروان چڑھا دیا ہے- اب یہاں حلیم پکانا اور اس کی نیاز بانٹنا بھی رافضی ہوجانا ہے اور سوگ اس مہینے میں منانا بھی مذہب سے ہاتھ دھوبیٹھنا تو ہے ہی ،ساتھ ہی یہ ترقی پسندی ، روشن خیالی اور اشتراکیت کے مخالف بھی ٹھہرایا جانے لگا ہے-یہ ایک اور طرح کی دیومالائیت ہے جو ہمارے ہاں تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے-خزعلی ماجدی نے عربوں کے ہاں وہابیت کو بدویت کی طرف پلٹنے اور مدنیت سے فرار قرار دیا ہے-اور ہمارے ہاں یہ ہزاروں سال کی رنگا رنگی کو تباہ وبرباد کرکے مونو –کلچر کو پروان چڑھانے کا سبب بن رہی ہے-

محرم کی ثقافت:الحاد کی دو نمبر چپ-پہلا حصّہ