کیا کلکتہ میں چڑیاں ہوتی ہیں ؟

12152314206_408265f0b0_b

کلکتہ ٹرام

 

سوشل میڈیا نے کم از کم میری کچھ بھاؤناوں کو اچھے سے پورا کیا ہے اور میں نے کم از کم سوشل میڈیا کے دور سے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں کبھی اپنی ان بھاؤناؤں کو پورا ہوتے دیکھ پاؤں گا۔ایک بڑا سا ریڈیو جو لکڑی کی میز پہ سر شام رکھ دیا جاتا تھا اور ہم سب گھر والے اس میز کے گرد نیچے فرش پہ بچھی دری پہ بیٹھ جاتے اور بی بی سی اردو کی نشریات سننے لگتے تھے۔مہ پارہ صفدر سے خبریں سنی جاتی تھیں۔کبھی نہ ان کی تصویر دیکھی اور جب وہ پاکستان ٹیلی ویژن پہ خبریں پڑھتی تھیں اس وقت کا بھی ہمیں کچھ پتا نہیں تھا۔ایک دن میری کسی پوسٹ پہ فیس بک مہ پارہ صفدر کا لائک دیکھا  اور پھر کمنٹ پڑھا تجسس ہوا کہ یہ کون سی مہ پارہ صفدر ہیں تو  یہ جان کر شادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئی کہ یہ میری پسندیدہ صدا کار ہیں۔

ایک دن دی نیشن میں لکھنے والے لکھاری عباس زیدی فیس بک پہ میرے دوست ہوگئے اور ان سے بات چیت بھی ہونے لگی۔ہفت روزہ نصرت کے علی جعفر زیدی صاحب سے یاد اللہ ہوئی اور پھر چل سو چل۔گوادر سے کے بی فراق اور ممبئی سے رحمان عباس۔شام سے احتشام اور بیروت سے امل سعد ، اردن سے مرحوم ناھض ھتر اور بیروت ہی سے الاخبار کے ایڈیٹر ابراہیم امین۔ایک دن جان ریس مرحوم لندن سے آگئے جن کی ‘انقلاب کا الجبراء’ پڑھ کر ہوش جاتے رہے تھے۔خشک مزاج الیکس سے یاد اللہ ہوئی۔ایران سے کامریڈ بہرام اور ایک دن ایرانی اداکارہ و ڈائریکٹر شبنم طلوعی ٹوئٹر سے فیس بک تک آئیں اور ان سے بات چیت ہوئی۔قرۃ العین طاہرہ نامی فلم میں ان کی اداکاری کے جوہر دیکھنے والے ہیں۔باغی اختر عباس اور اپنے آپ کی تلاش میں مگن علی جون صاحب اور دیکھیں یہ  آکسفورڈ کے ظہور الحق بھی تو میرے علاقے کے ہونے کے باوجود مجھے یہیں سوشل میڈیا پہ ملے۔میں یہ سب باتیں آج یہاں کیوں لکھ رہا ہوں؟

دلّی دوبارہ جانا چاہتا ہوں ،تازہ وجہ تصنیف حیدر ہیں۔ان کے سامنے بیٹھ کر کچھ دیر ان سے ان کی شاعری سننا چاہتا ہوں۔ممبئی جاکر رحمان عباس سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ممبئی سنٹرل اسٹیشن سے ساجد رشید کے گھر کے قریب ترین اسٹیشن تک ٹرین کا سفر کرنا چاہتا ہوں ۔اس کافی ہاؤس کی یاترا کرنا چاہتا ہوں جہاں کبھی مرحوم باقر مہدی بیٹھا کرتے تھے۔

 

میرا خواب ہے کلکتہ دیکھنے کا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا۔کلکتہ میں کئی وجوہات کی بنا پہ دیکھنا چاہتا ہوں لیکن اس کی تازہ ترین وجہ جس نے کلکتہ دیکھنے کی خواہش اور شدید کردی ہے سومی  اینگلو انڈین بنگالن ہیں۔ان کی باتوں نے کلکتہ دیکھنے کی خواہش کو آگ دکھادی ہے۔اینگلو انڈین کلکتہ  کے بنگالی خاندان میں جنمی یہ ادیبہ اور مترجم مجھ سے جب ہم کلام ہوئی تو مجھے یوں لگا جیسے میں کسی سائے سے گفتگو کررہا ہوں۔یہ چار زبانیں جانتی ہے۔تین میں پڑھتی اور لکھتی ہے، دو میں سوچتی ہے۔اور ایک میں خواب دیکھتی ہے۔میں نے پوچھا کہ بغیر سوچے کیسے وہ کونسی زبان ہے جس میں یہ لکھ بھی لیتی ہے اور پڑھ بھی لیتی ہے تو کہنے لگی فرنچ اور ساتھ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔اب مجھے نہیں پتا کہ کھلکھلا کر ہنسی بھی تھی یا نہیں کیونکہ ہماری بات چیت صرف لکھ کر ہورہی تھی اور اس نے کھل کر ہنسنے کا ایموجی بھیجا تھا۔کہتی ہے کہ انگریجی اس کے جذباتی صورت کی زبان ہے ۔لینگويج آف ایموشنل میک اپ۔کہتی ہے کلکتہ اس کے لئے کبھی کولکتہ نہیں ہوسکتا۔اس نے کلکتہ کے ایسے محلے میں آنکھ کھولی جہاں ہر طرف بس اینگلو انڈین بنگالی رہتے تھے اور اس کا گھررپیون اسٹریٹ میں تھا۔پھر وہاں سے یہ نارتھ کلکتہ میں منتقل ہوگئی جہاں بنگالی کلچر کے کسٹوڈین بہت جیادہ انگریجی زدہ تھے۔انجیلی سائزڈ تھے۔سائیکل رکشہ گھسٹتے لاغر بدن،ناقابل اعتبار ٹرام،سرخ اینٹوں سے بنی دیواریں اور ارسٹو کریٹس بنگالی ان سب نے اسے اینگلیسائزڈ کردیا۔کیا کلکتہ اب بھی ویسا ہی ہے؟ ہاں نا، جہاں نہیں ہوتا میں تخیل سے کرلیتی ہوں۔۔۔۔۔ اس کے جواب نے مجھے ساکت کردیا۔

 

Rickshaw Kolkata

ریپون اسٹریٹ کلکتہ کی ایک شاہکار پینٹنگ

میں بھی تو کراچی اور لاہور کو جہاں یہ ویسا نہیں ہوتا جیسا میرے دماغ میں بسا ہوا ہے ویسا کرلیتا ہوں۔میں نے یہ سوچا اور ترنت اسے بتا بھی دیا۔میری پہلی استانی بھی میتھوڈسٹ چرچ کی پیروکار تھیں اور اس نے بتایا کہ وہ بھی متھوڈسٹ اسکول میں پڑھی جہاں بائبل والی انگریجی پڑھی استانیاں تھیں۔اس نے اپنا پہلا محبت نامہ انگریجی میں لکھا۔ایسا پتر جو کبھی جس کے لئے لکھا گیا اسے بھیجا نہ گیا۔شاعری کے اولین شبد بھی اسی زبان میں اس نے لکھے تھے۔فرانسیسی ایسی زبان ہے جس میں وہ ٹھیک سے نہ تو سوچ سکتی ہے اور نہ اس میں محسوس کرسکتی ہے لیکن وہ اس میں لکھ لیتی ہے آسانی سے۔لیکن خواب تو یہ بس  انگریجی میں دیکھتی ہیں۔اینگلو ہندوستانی بنگالن کو اپنی زبان سے پیار 21 سال کی عمر میں ہوا جب یہ اپنے دادا کی لائبریری میں گھسیں اور وہاں انہوں نے انگریجی میں ٹیگور کو پڑھا۔کہنے لگی،”تمہارے کو پتا ہے؟ ٹیگور کو بدیشی جبان میں پڑھنا  بلاسفیمی خیال کیا جاتا ہے؟میں نے کہا پھر تو زیادہ تر لوگ اس بلاسفیمی کے مرتکب ہوئے ہیں،اس نے فوری کہا نہیں میرا مطلب تھا کسی بنگالی کا پڑھنا۔کہتی ہے میں خواب گر ہوں اور سوشلسٹ بھی لیکن لٹریچر کو کسی ڈسکورس کو سامنے رکھ کر نہیں پڑھتی۔اسے اردون دھتی رائے سے عشق کی حد تک لگاؤ ہے اور بنّا پھول کو بھی یہ بہت چاہتی ہے۔سیتہ جیت رے کی طرح بننا اس کا خواب ہے لیکن اس کو تعبیر میں ڈھالنے کی اس نے کبھی کوشش نہیں کی۔بنگال کا جب کبھی میں تصور باندھتا ہوں تو بہت تیز،موسلادھار بارش اور بارش سے پہلے بہت حبس اور چپ چپا کردینے والا موسم میرے ذہن میں آجاتا ہے۔لیکن پھر بھی کلکتہ کا نام سنکر مجھ پہ ایک رومانویت سی طاری ہوجاتی ہے۔لیکن یہ اس رومانویت سے بالکل الگ سی شئے ہے جو کراچی میں یاد کی شکستہ دیواروں سے گلے لپٹتے ہوئے مجھ پہ طاری ہوتی ہے۔یا لارنس باغ میں بدھا کے درخت کے سامنے ‘اس’ کی موجودگی میں طاری ہوا کرتی تھی۔ہارمونیم سے سومی کو عشق ہے اور یہ اسے بجاتی ہے بقول اپنے من میں ڈوب کر۔ایک کلپ اس نے بھیجا ہارمونیم کی موسیقی کا پیچھے چڑیوں کے چہچہانے کی آواز تھی۔”کیا کلکتہ میں چڑیاں ہوتی ہیں ؟” ۔”نہیں تو ، کوے ہوتے ہیں”۔اس نے زرا چڑ کر جواب دیا تو مجھے بے اختیار ہنسی آگئی۔

Coffee-House-4

کلکتہ کافی ہاؤس کا ایک منظر

 

Advertisements

عامی کے نام

ڈئیر عامی

پیرس سے تمہارا آخری خط ملا تو میں اس وقت دفتر سے گھر پہنچی ہی تھی اور رات بھر اخبار کی آخری کاپی پریس بھیجنے تک اسقدر کام کرتی رہی تھی کہ تھکن سے برا حال تھا۔دروازہ کھولا تو سامنے تمہارا بھیجا ہوا خط پڑا تھا۔ہر خط ایک مخصوص سیاہ رنگ کے لفافے میں لپٹا ہوا اور اوپر پیلی روشنائی سے یہاں کا پتا لکھا ہوا نیچے سفید رنگ میں تمہار پتا،اب مجھے دور سے دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس کا خط آیا ہے۔ویسے بنک سٹیمنٹ،کچھ دفتری خط و کتابت سے ہٹ کر کچھ اور تو ڈاکئے کے زریعے سے آتا نہیں ہے اور باقی زیادہ تر مراسلت اب برقی مراسلوں کے زریعے سے ہوتی ہے تو بھی مجھے پتا چل جاتا ہے کہ کس کا خط آیا ہوگا۔ویسے تم نے ہر خط لکھا تو ساری کے نام اور ایڈریس میرا لکھا اور یہاں تواتر سے تمہارے خط ملتے رہے۔میں حیران تھی کہ یہ آخر تمہیں ہوکیا گیا ہے؟تم کیوں پرانے زخموں کو کریدنے لگے ہو اور اپنے آپ کو زخم زخم کررہے ہو؟سب سے زیادہ حیرانی مجھے اس بات کی تھی کہ تم خود سے ان خطوں کے جواب من جانب ساری کے تلاش کرتے ہو اور پھر ایک لمبی سی کہانی گھڑ کر سنانے لگتے ہو۔تم جیسے ایک جدلیاتی مادیت پرست سے مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ تم اسقدر مابعدالطبعیاتی انداز میں لکھنے لگوگے اور شاید تمہارا اربن مڈل کلاس پس منظر تمہاری جان چھوڑنے کا نام نہیں لیتا۔اور آج کل تو میں حیران ہوتی ہوں کہ تم جیسا خشک سا آدمی اتنی کہانیاں،اتنے افسانے اور اس قدر رومان پسند خطوط اور عورت بارے اسقدر سنجیدگی سے کس طرح سے لکھنے لگا ہے۔تمہیں شعبی یاد ہے وہ سرگودھا والا لڑکا جو تمہارے پیچھے پاگل تھا اور کبھی کبھی مجھے شک ہوتا تھا کہ تم بھی تھوڑے بہت تھے اور جب تک ساری کے ساتھ تم جڑے نہیں تھے اس سے پہلے تم دونوں کو ہنسوں کا جوڑا کہا جاتا تھا اور لوگوں کو تمہاری جنسی جہت بارے بھی کافی شکوک تھے۔اور یہ ٹھیک وہی زمانہ تھا جب پاکستانی سماج میں کہیں بھی تو کم از کم “گے اینڈ لزبین ” ہونے کو ایک فطری فنومنا نہیں سمجھا جاتا تھا اور ترقی پسند بھی اسے ایک بیماری خیال کرتے تھے۔اور میں نے جب تمہیں “چھلاوہ” پڑھنے کو دی تھی تو تم نے اسے انتہائی بکواس قرار دیا تھا۔کوئی کہتا شعبی تمہارا “لونڈا” ہے اور کوئی کہتا اس ” انقلابی” لیڈر کو “علت مشائخ ” ہے۔اسلامی جمعیت طلباء کراچی کا وہ پمفلٹ یاد ہے جس میں تمہارے اور شعبی کے معاملے کو لیکر کیا کیا باتیں لکھی گئیں تھیں اور یہ سب یونین الیکشن سے صرف پانچ دن پہلے ہوا تھا۔اور اس پمفلٹ پہ یونیورسٹی کے لڑکوں اور لڑکیوں کی اکثریت نے کچھ دھیان نہیں دیا تھا اکڑچہ چٹخارے لیکر سب نے پڑھا تھا لیکن ووٹ تمہاری طرف ہی گئے تھے کیونکہ ان کو تمہاری سیاسی کمٹمنٹ اور نظریات پہ وابستگی پہ زرا بھی شک نہیں تھا۔اس زمانے میں تم اتنے حساس اور اتنے ٹچی کبھی نظر نہیں آئے تھے۔میں نے کبھی تمہیں پلٹ کر جواب دیتے نہیں دیکھا۔تم نے اس پمفلٹ کا نوٹس تک نہ لیا اور تمہاری جانب سے جو بھی جتنے پمفلٹ اس دوران آتے وہ سب کے سب سیاسی ہوتے تھے۔ویسے ان خطوط میں جتنے ادیبوں اور شاعروں کا جو تم نے تذکرہ کیا میں تمہارے ذہنی ارتقاء پہ کافی حیران ہوئی ہوں۔اس زمانے میں زیادہ کیا تو میکسم گورکی کا “ماں” تم کبھی کبھی اپنے ملنے والوں میں تقسیم کرتے نظر آتے تھے اور زیادہ تر کمیونسٹ مینی فیسٹو اور سبط حسن کی کتابیں یا پھر زیادہ کیا تو روسی کمیونزم کی کتابیں تم بانٹتے تھے۔شعر تمہیں کبھی یاد نہ ہوئے۔اور اکثر ان کے ساتھ جراحت کے مرتکب ہوتے تھے۔ہاں سینما خوب دیکھتے تھے تم۔باقی ساری کے ساتھ رہتے ہوئے تم کیا پڑھتے تھے اور اس کے ہاں سے کیا لاتے تھے اور اس کے ساتھ یونیورسٹی کے کونے کھدروں میں تم کیا باتیں کرتے تھے یہ سب مجھے ان خطوط سے پتا چلا ہے۔میں نے کبھی تمہارے منہ سے ان دنوں بھولے سے بھی اس کتاب کا نام نہیں سنا تھا جس کا تذکرہ تم آج کل بار بار کرتے ہو۔نہج البلاغہ۔ہاں ڈاکٹر علی شریعتی کے بارے میں کل تو تمہارا خیال تھا کہ وہ ایک یوٹوپئین اسلام پرست سوشلسٹ تھا اور تم ہمیشہ اس پہ الزام عائد کرتے تھے کہ اس نے ایرانی انقلاب میں ملاّؤں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس نے تودے پارٹی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے فکری اعتبار سے سائنسی سوشلزم کی اپنی لبریشن تھیالوجی کے زریعے سے بنیادیں ہی کھوکھلی کیں۔تمہیں اس کے ماضی سے رومانٹسزم سے سخت چڑ تھی اور اپنی تحریروں میں آج تم اسی ماضی سے رومان کرتے نظر آتے ہو۔اور تم دیکھ سکتے ہو تمہارے اس خیالی رومان پرستی کے خریدار بھی زیادہ تر اربن مڈل کلاس اور ایک مخصوص مذہبی فکر کے حاملین مرد و عورتیں ہی ہیں۔ساری تمہاری دوست تھی اور وہ فلسفے کی ایک شائننگ اسٹوڈنٹ تھی۔مانا کہ اس سے ملنے کے بعد تمہاری وہ نو تیرہ کی مونچھیں غائب ہوئیں اور وہ ہلکی ہلکی داڑھی بھی اور شلوار قمیص کی بجائے تم جینز پہننے لگے اور تمہارے وہ موٹے موٹے شیشوں والی عینک بھی زرا سے فریم میں بدل گئی تھی اور تم تھوڑے سے قبول صورت ہوگئے تھے اور ساری تمہاری انتخابی کمپئن میں بھی بہت معاون تھی لیکن اس نے کبھی بھی مارکسزم اور جدلیاتی مادیت پرستی سے شغف نہیں دکھایا۔اور مجھے وہاں یونیورسٹی میں ہی شک تھا کہ وہ بھی کوئی اسلام پسند سوشلسٹ ٹائپ یوٹوپئین ہی ہوگی لیکن ٹھیک سے کہہ نہیں سکتی تھی اس لئے شک کو صرف ذہن میں رہنے دیا تھا لیکن تمہارے خطوط سے پتا چل گیا کہ میرا شک ٹھیک تھا۔اس نے تمہیں بھی کافی خراب کیا کہ تم کلارا زیٹکن سے زیادہ سیمون ڈی بوووار اور سارتر کی جانب جھکے نظر آئے اور تو اور کافکا کی جادوئی حقیقت نگاری تمہیں حقیقت کے قریب تر لگنے لگی جبکہ انھوں نے جدلیاتی مادیت پرستی کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔میرے لئے تمہارے ہاں جنسیت/سیکچوئلٹی کا وافر تذکرہ دیکھنا کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔تمہارے ہاں یہ آسیب /آبسیسشن کی طرح نظر آیا۔یہ فرسٹریشن تھیوری سے نابلد کامریڈز اور ایک گٹھن زدہ ماحول سے آنے والوں کے ہاں تو سمجھ میں آتی ہے لیکن تمہارے ہاں اس عمر میں اس کا غلبہ دیکھ کر مجھے شاک لگا ہے۔کانٹی جینس لو کی بات کرکے تم جس فراریت پسندی کا شکار ہو اس پہ تمہیں ندامت محسوس نہیں ہوتی؟ساری کینسر سے مرگئی اور اس کے مرنے کے بعد تم ماسکو چلے گئے تھے اور وہاں سے تمہارے خطوط جتنے مجھے ملے یا دوسرے دوستوں کو ان کو پڑھ کر ہمیں کہیں نہیں لگا تھا کہ تم ابدی محبت اور عارضی محبتوں کی کسی مساوات پہ یقین رکھتے ہو کیونکہ تمہارے خط اس زمانے کی پولیٹکل اکنامی سے جڑے مسائل پہ اظہار خیال سے بھرے ہوتے تھے اور تم بار بار پاکستان میں انقلابی سوشلسٹ کیڈر پارٹی کی تعمیر کی بات کرتے تھے۔ان دنوں تو تم نے نہ کسی نتاشا کا زکر کیا اور نہ ہی ووڈکا کا اور اپنے اندر کسی راسپوٹین جگانے کی خواہش کا۔مجھے سچی بات ہے کہ تمہارے خطوط پڑھ کر اپنے اندر کسی رومان بھرے جذبے کے بیدار ہونے کے آثار نظر نہ آئے۔تمہارا آخری خط ملنے سے قبل ہماری فون پہ جو بات ہوئی تھی میں نے اس میں بھی تم سے کہا تھا کہ میں تین مرتبہ کے بریک اپ اور تین بار مطلقہ ہوجانے کے بعد یہ سمجھتی ہوں کہ ایک کاسموپولٹین اربن چیٹرنگ کلاس کے مرد اور عورت کا سب سے برا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ہم بستر پہ بغیر کسی بندھن کے اکٹھے ہوتے ہیں ہمیں تعلقات میں کوئی نیا پن محسوس ہوتا ہے لیکن جیسے ہی یہ تعلق شادی جیسی چیز سے جڑتا ہے ہم سپوائل ہونے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ ہمارا تعلق ایک غیر مرئی قید بن جاتا ہے۔کانٹی جینسی مجھے سب سے بڑی حقیقت لگتی ہے۔”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں “۔ہوسکتا ہے میرا یہ تجربہ بہت زیادہ پرسنل ہو اور اس سے کسی قسم کا عمومی مقدمہ اور اس پہ نتائج مرتب کرنا ٹھیک نہ ہو لیکن مجھے تم خاصے قابل رحم لگے۔تمہیں مرگی ایک مرض سے زیادہ رومان لگتی ہے اس لئے کہ دستوفسکی نے اسے رومانٹسائز کردیا تھا اور بیمار ہونا تمہیں پرکشش لگتا  ہے اور ایک جگہ پڑے رہ کر طلسمات کا جال بننا تمہیں لبھاتا ہے اس لئے کہ اسے کافکا حسین بناکر دکھاتا ہے مجھے ہضم نہیں ہوتا۔تمہارے اندر کا زمان اور مکان اس قدر یوٹوپئین ہے کہ مجھے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہونے لگتی ہے کہ کیا یہی وہی عامی ہے جو ہماری طلباء سیاست کا سب سے باعمل لڑکا ہوا کرتا تھا۔کافی دور نکل گئے ہو تم اور کیا کل وقتی فکشن نگاری کا پیشہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکے ہو تم۔ویسے ماضی کا ہر انقلابی اور کرانتی کاری نظم یا کہانی میں پناہ کیوں ڈھونڈتا ہے؟ پاش سے تم پوچھنا تو سہی کیوں کہ مرے  ہوئے لوگوں کی آتماؤں سے تم مخاطب ہونے اور ان سے جواب حاصل کرلینے میں کافی مہارت حاصل ہوگئی ہے۔پیرس میں رہے تم اور یہاں رہ کر نہ تمہیں باکونن یاد آیا اور نہ ہی پیرس کمیون اور یہاں پہ مارکس کا آنا بھی تمہیں ٹھیک سے یاد نہیں آیا۔ان خطوط میں سماج واد عامی کہاں گم ہوگیا؟ مجھے سمجھ نہیں آئی۔اور اب برسلز پہنچے ہو یہاں رہ کر تمہیں کیا یاد آئے گا ٹھیک سے میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔میں ناستک ہوں اور فنائے محض پہ یقین رکھنے والی اور اس لئے مجھے کسی عالم برزخ سے جوابوں کی تلاش نہیں ہے۔ویسے زرا اپنے پرانے جدلیاتی مادیتی پرست عامی کو آواز دیکر دیکھنا کہ تم نےجن کو مخاطب کیا اور جس سے بولے وہ سب کے سب ان نظریات اور افکار کے سوا اپنے الگ وجود اور ہئیت کے ساتھ کیا کہیں موجود بھی تھے؟اس لئے تو یہ سارے خط تم مجھے ارسال کرتے رہے۔کوئی ایسا میکنزم اس خیال پرستی اور آئیڈیلزم کے پاس ہے کیا جو ان خطوط کو براہ راست فنا ہونے والوں تک پہنچا دے؟ یقینی بات ہے کہ نہیں ہے۔پیرس سے لکھے گئے اس آخری خط  میں سوائے سادیت پسندی کے اور ہے کیا؟ ایک ایسی ٹریجڈی جسے تمہاری سادیت پسندی نے اور خوفناک بنادیا ہے اور تمہاری مریض طبعیت کو اور کئی لوگوں میں منتقل کردیا ہے۔سیکنہ علی زیدی نے پراگ سے مجھے لکھا ہے کہ یہ وہ عامی نہیں ہے جو اسے دریائے پراگ پہ بنے پرانے لکڑی کے پل پہ ملا تھا اور زندگی سے بھرپور تھا۔یہ تو کوئی دیمک زدہ شخص لگتا ہے جو اصل عامی کو کھا گیا ہے۔مجھے تم سے منافقت نہیں کرنی یہ کہہ کر کہ اتنی تلخ باتوں پہ شرمندہ ہوں یا معافی کی طلبگار ہوں۔مجھے تم سے اسی سفاک حقیقت پسندی کے ساتھ بات کرنی ہے۔مزید کئی باتیں پھر کروں گی اگر تمہارا فیوز نہ اڑا تو۔

والسلام

تمہاری دوست ریحانہ سرور

میں کیسا مسلمان ہوں بھائی

 

حسین حیدری ممبئی کے رہنے والے ہیں اور بدقسمتی سے ان کا جو خاندانی پس منظر ہے وہ شیعہ ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جو کسی شخص کی کہی ہوئی بات کو دارالعلوم دیوبند اور سعودی وہابی اینٹی کلچر کے غالب اثر کے سبب ویسے ہی مشکوک بنادینے کے لئے کافی ہوتی ہے۔لیکن ہندوستان کیوں کہ ایک بہت بڑا ملک ہے اور وہاں ابھی کسی کی بھی کہی ہوئی بات کو بہت سارے لوگ اس کے خاندان کے مذہبی پس منظر کو جانے بغیر اس کی قدر وقیمت کو مانتے ہیں تو ایسے میں اس نے ایک نظم کی باز گشت بہت سنی جارہی ہے۔ممبئی میں “کمیون” کے نام سے ایک پرفارمنگ آرٹ فورم ہے اور اس فورم پہ ایک پروگرام اپنی کہانی سناؤ کے نام سے ہے اور یہ کم از کم ممبئی کی اربن مڈل کلاس میں بہت مقبول پروگرام ہے اور اسی پروگرام میں حسین حیدری جب اپنی کہانی سنانے آئے تو انھوں نے ایک نظم سنائی:

ميں کیسا مسلمان ہوں بھائی

میں سجدہ کرنے والا ہوں یا جھٹکا کھانے والا ہوں

میں ٹوپی پہن کے رہتا ہوں یا داڑھی اڑاکے رہتا  ہوں

مجھ میں گیتا کا ساربھی ہے،ایک اردو کا اخبار بھی ہے

اپنے ہی طور سے جیتا ہوں،دارو،سگریٹ بھی پیتا ہوں

دنگوں میں بھڑکتا شعلہ میں کرتے پہ خون کا دھبا میں

مندر کی چوکھٹ میری ہے،مسجد کے قبلے مرے ہیں

گوردوارے کا دربار میرا یسوع کے گرجے میرے ہیں

سو میں سے میں چودہ ہوں لیکن یہ چودہ کم نہیں پڑتے ہیں

پورے سو مجھ میں بستے ہیں اور میں پورے سو میں بستا ہوں

مجھے ایک نظر سے دیکھ نہ تو میرے ایک نہیں سو چہرے ہیں

سو رنگ کے ہیں کردار میرے،سو قلم سے لکھی کہانی ہوں

میں جتنا مسلمان ہوں بھائی اتنا ہندوستانی ہوں

حسین حیدری کی یہ نظم فروری کے دوسرے ہفتے کمیون ممبئی فورم کے آفیشل فیس بک پیج پہ پوسٹ ہوئی اور ایک دن میں 2000 لوگوں نے اسے آگے شئیر کردیا۔ہندوستانی اخبارات میں یہ نظم شایع ہوئی اور پھر اس پہ بھانت بھانت کے تبصرے ہونے لگے۔ہندوستان کا مقبول انگریزی بلاک سکرول کے میگزین میں جیوتی پونمی نے ایک آرٹیکل لکھا جس میں حسین حیدری کے حوالے سے کہا گیا کہ اس کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ اس نے جو نظم جو طرف اس نے خود اپنے لئے کہی ہے اس پہ اسقدر شور کیوں مچا ہوا ہے؟ اور حسین حیدری یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نظم انھوں نے اپنے اوپر لکھی ہے اور یہ کوئی احتجاج میں لکھی گئی نظم نہیں ہے۔حسین حیدری ایک چارٹر اکاؤٹنٹ تھے اور انھوں نے دسمبر 2015ء میں نوکری چھوڑی اور کل وقتی گیت نگار اور سکرین رائٹر بن گئے۔حسین حیدری کچھ بھی کہیں لیکن اصل میں ان کی یہ نظم مسلمانوں کے بارے سٹیریو ٹائپ خیالات کے اظہار کے خلاف ایک احتجاج کی علامت بن گئی ہے۔ہندوستانی مسلمانوں کے ہاں بھارتیا جنتا پارٹی اور ہندؤ فاشزم کی جانب سے مسلمان کمیونٹی کو دہشت گرد، انتہا پسند، رجعت پرست اور پیورٹن بناکر پیش کرنے کے رجحان کے خلاف ردعمل پایا جاتا ہے۔وہ اس بات پہ بھی سیخ پا ہیں کہ ہندوستان میں وہابی ازم اور دیوبندی ازم کی جانب سے جو اسلامی خلافت اور اسلامی ریاست کا یوٹوپیا پیش کیا جاتا ہے اس کا پجاری ہر ایک مسلمان کو بناکر دکھایا جارہا ہے۔سبھی مسلمان ڈاکٹر زاکر نائیک اور دار العلوم دیوبند کے زیر اثر سامنے آنے والے چہروں یا انڈین مجاہدین یا کشمیری مجاہدین بناکر پیش کئے جانے کا رجحان ہے  اس کے خلاف ایک ردعمل ہندوستانی معاشرے کے اندر موجود ہے۔مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس طرح کی سٹیریو ٹائپ نظریہ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں  کے تکثیری چہروں کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں اور ان کو یہ نظم اپنے خیالات کی عکاس لگی ہے۔مجھے یہ نظم اس لئے بھی دلچسپ لگی کہ میں حال ہی میں پرویز ہودبھائی کی تحریر “کیا پاکستان بطور ایک تکثیریت پسند سماج کے باقی رہ سکتا ہے” پڑھ رہا تھا جس میں انھوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ” مابین المذاہب تکثیریت پسندی ” اور ” مابین الفرق الاسلام تکثریت پسندی” موجود مسلم تھیالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے عملی طور پہ ہر قسم کے معاشروں میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کیا ہے لیکن

Texually and formally

نہیں اور وہاں پہ زیادہ تر ابن تیمیہ، ابن عبدالوہاب، سید احمد بریلوی،شاہ اسماعیل،رشید احمد گنگوہی،سید مودودی،سید قطب،حسن البنّا اور سید روح اللہ خمینی جیسوں کی حکمرانی اور ان جیسوں کو ہی زیادہ قبول عام ملا ہے۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں ابھی حاجی علی کے مزار پہ خواتین کے داخلے کو منع کرنے کا معاملہ ہو یا خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی کے مزار پہ عورتوں کی حاضری کی ممانعت کا مسئلہ ہو اس پہ ہندوستان کی مذہبی پیشوایت نے متنی اور رسمی طور پہ کنزرویٹو پوزیشن کو ہی اپنایا ہے۔اور خود بریلوی ملائیت نے بھی اسی راستے کو اختیار کیا ہے اور ایک مجلس میں اور منہ سے تین بار طلاق کا لفظ نکالنے کا معاملہ ہو اس پہ بھی کوئی لچک دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔اور پاکستان کے اندر شیخ عثمان مروندی لال شہباز قلندر کے مزار پہ ہوئے خودکش بم دھماکے بعد بحث کا رخ “دھمال ” کے جائز ہونے نا ہونے کی طرف مڑگیا اور اس معاملے پہ بریلوی مذہبی قیادت نے بھی کم وبیش دیوبندی ملائیت اور سلفی ملائیت کے ساتھ کا موقف اختیار کرلیا اور اس حوالے سےپاکستانی مسلم اربن مڈل کلاس کی کئی ایک پرتوں نے بھی ملائیت کے ساتھ کا ہی موقف اپنایا۔اور یہ ایک طرح سے مذہبی فاشزم کی مکمل جیت کا سا منظر نامہ ہے۔مسلمانوں کو سٹیریو ٹائپ کرداروں میں دیکھنے اور دکھانے کا رجحان آئیڈیالوجیکل منظر نامے پہ اکثر متون میں تکثریت مخالف رائے کے غالب آجانے کے سبب بھی ہے اور بدقسمتی سے اس سبب کی طرف نگاہ کم ہی جاتی ہے۔پرویز ھودبھائی نے ٹھیک کہا ہے کہ پاکستانی سماج کے اندر تکثریت پسندی کے حامی جدید مسلم مفکرین کی فکر کو آج کی مین سٹریم مسلم فکر میں کوئی خاص جگہ نہیں مل سکی اور سید امیر علی،سرسید احمد خان،فضل الرحمان جیسے جدید مسلم مفکرین کی فکر آج کتابوں میں بند ہوکر شیلفوں میں کہیں دب کر رہ گئی ہے۔اکبّر بادشاہ کی صلح کلیت بھی ہمارے مرکزی دھارے کا حصّہ نہیں بن پائی اور آج ہمارے ملامتی صوفیاء جیسے بابا بلھّے شاہ تھے ان کے مزاروں پہ عورت کا داخلہ منع ہے جیسے آویزاں بورڈ ہمارا منہ چڑاتے ہیں۔اور غالب ڈسکورس اگر ہے تو وہ تبلیغی جماعت کے طارق جمیل، سپاہ صحابہ پاکستان کے لدھیانوی،جاوید احمد غامدی،جماعت اسلامی کے مودودی کا ہے یا پھر حافظ سعید کا ہے۔اور یہ مسلمانوں کے اپنے اندر کی تکثیریت اور تنوع کا بھی سب سے بڑا دشمن ثابت ہورہا ہے۔

 

وہ دھماکہ کریں،تم کلچر کو پابند سلاسل

 

 

فروری کی 16 تاریخ اور دن جمعرات کا اور شام کے سات بجنے میں 5 منٹ باقی تھے جب سندھ کے ضلع دادو کے تعلقہ سہیون شریف میں واقع شیخ عثمان مروندی الحسینی المعروف لال شہباز قلندر کے مزار کے اندر عین ان کی قبر پہ پائنتی کی جانب تکفیری دیوبندی دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کا خودکش بمبار پہنچا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔یہ وہ وقت جب مزار کے احاطے میں زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی اور وہاں پہ دھمال ڈالی جارہی تھی۔اس افسوسناک واقعے میں 80 افراد شہید اور 250 سے زائد افراد شدید زخمی ہوگئے۔دو دن میں ملک کے مختلف حصوں میں پانچ خودکش حملے ہوئے جبکہ ایک واقعہ میں ڈیرہ اسماعیل خان مين پولیس کی وین پہ فائرنگ کی گئی اور ان واقعات کی زمہ داری جماعت الاحرار، تحریک طالبان،داعش خراسان اور لشکر جھنگوی العالمی نے ملکر قبول کی ہے اور یہ سب تنظیمیں دیوبندی مکتبہ فکر کی تکفیری،خارجی اور جہادی آئیڈیالوجی سے اشتراک رکھنے والی تنظیميں ہیں۔

شیخ عثمان مروندی الحسینی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں مولانا عبدالحی لکھنوی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے :

الشيخ عثمان بن حسن المروندي

الشيخ الصالح عثمان بن حسن الحسيني المروندي ثم السيوستاني المعروف بلعل شاهباز

قدم ملتان سنة اثنتين وستين وستمائة، فكلفه محمد بن غياث الدين الشهيد بالإقامة في

ملتان، وأراد أن يبني له زاوية بتلك المدينة فلم يقبله وسافر في بلاد الهند، ثم رجع إلى أرض

السند وسكن بسيوستان، ولم يزل بها حتى مات، وكان شيخاً وقوراً مجرداً حصوراً، يذكر

له كشوف وكرامات، توفي سنة ثلاث وسبعين وستمائة بسيوستان فدفن بها، كما في تحفة

الكرام.

پاکباز نیک بزرگ عثمان بن حسن الحسینی المروندی ،السیستانی لعل شہباز (قلندر ) کے نام سے معروف ہیں۔یہ 732ھجری میں ملتان آئے جب یہاں غیاث الدین  کی حکومت تھی اور اس نے چاہا کہ حضرت عثمان مروندی ملتان قیام کریں اور یہیں پہ اپنا زاویہ/تکیہ /خانقاہ بنالیں لیکن انھوں نے قبول نہ کیا اور ہندوستان کے کئی شہروں کا سفر کیا اور پھر سندھ کی دھرتی پہنچے اور سیوستان میں قیام کیا اور وہیں پہ رہے اور وہیں پہ وصال فرمایا اور شیخ عثمان مروندی بہت ہی بڑے صاحب مجاہدہ بزرگ تھے،ان سے بہت سے کشوف اور کرامتیں منسوب ہیں۔اور ان کی وفات تحفۃ الکرام کے مطابق 780ھجری میں ہوئی۔

اس کے علاوہ عرب کے کئی ماہرین تاریخ جنھوں نے عرب سے ہجرت کرجانے والے علماء و مشائخ کا تذکرہ کیا ہے ان کا زکر بھی بڑے اہتمام کے ساتھ کیا ہے۔یہاں تک کہ شام،مصر ،ترکی ،لبنان اور اردن کے ماہرین تاریخ بھی آپ کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں۔لال شہباز قلندر کے سہیون شریف کو سندھو وادی کا اجمیر بھی قرار دیا جاتا ہے اور ان کو سندھ کا خواجہ غریب نواز بھی کہتے ہیں۔اور شیخ عثمان مروندی دیگر صوفیاء کرام کی طرح ہندؤ،سکھ،مسلمان، شیعہ ،سنّی ،اعتدال پسند دیوبندی ( علامہ عبدالحی لکھنوی دیوبندی مدرسہ ندوۃ العلماء لکھنؤ میں ہی استاد تھے )، کرسچن اور یہاں تک کہ یہودیوں میں بھی یکساں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہيں۔کراچی میں رہنے والی قدیم پارسی اور یہودی برادری کے لوگ برٹش انڈیا دور میں باقاعدگی سے لال شہباز قلندر کے مزار پہ حاضری دیا کرتے تھے۔آپ کی شاعری اور اقوال پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آپ ان سنّی بزرگوں میں سے تھے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پہ فضیلت کے قائل تھے۔دارشکوہ ملّا بدخشانی کے سلسلہ طریقت سے لال شہباز قلندر تک جاملتے ہیں۔آپ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے فرزند اسماعیل کی اولاد میں سے ہیں جبکہ آپ مولانا جلال الدین رومی کے ہم عصر ہیں۔مروند آزربائیجان کا شہر ہے جہاں آپ کی ولادت ہوئی تھی۔اور ماہرین تاریخ کا خیال یہ ہے کہ جب بنوامیہ کا جبر وستم حد سے تجاوز کرگیا تو کئی سادات وہاں سے نکل کر وسط ایشیاء کی جانب آئے انہی میں لال شہباز قلندر کے آباء بھی تھے۔سندھ کی سرزمین پہ جو تہذیب اور کلچر فروغ پایا اس میں آپ کا کردار بھی اہم بتایا جاتا ہے۔جسے عمومی طور پہ جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کہا جاتا ہے آپ کو اس کے معماروں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔اور دیوبند مدرسہ تحریک میں جو تکفیری،جہادی اور عسکریت پسند عنصر ہے وہ سلفی ازم کے ساتھ اشتراک میں اس جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کا سخت دشمن اور مخالف ہے۔وہ اس کلچر کو مکمل طور پہ تباہ کرنا چاہتا ہے۔لال شہباز قلندر کے مزار پہ ہونے والا حملہ جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کے خلاف تکفیر ازم، جہاد ازم اور نیو دیوبندی ازم کی چھیڑی جانے والی جنگ کا ہی تسلسل ہے جس کی نمائندگی سندھ کے اندر تیزی سے پھیلتی ہوئی دیوبندی تکفیری تنظیم اہل سنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کی فکر سے اشتراک رکھنے والے دیوبندی مدارس کرتے ہیں جوکہ سندھ میں تقسیم سے پہلے سے موجود اعتدال پسند اور صلح کل دیوبندیت کا چہرہ بھی بگاڑرہے ہیں۔سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ کو 94 ایسے دیوبندی اور سلفی مدارس کی لسٹ ارسال کی تھی جوکہ کالعدم دہشت گرد تکفیری تنظیموں کی سرپرستی کرنے میں مصروف ہیں اور ملک میں انتہا پسندی،دہشت گردی اور فرقہ پرستی کو پروان چڑھارہے ہیں۔یہ فہرست سندھ اور وفاق کے سیکورٹی و انٹیلی جنس ودیگر اداروں کی مشترکہ انوسٹی گیشن کے بعد مرتب کی گئی تھی اور اس میں صرف کراچی کے اندر 74 مدارس مووجود ہیں۔لیکن وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس فہرست کو مصدقہ ماننے سے انکاری ہیں اور وہ پاکستان کے اندر کام کرنے والے تکفیری دیوبندی۔سلفی نیٹ ورک کو دہشت گرد نیٹ ورک سے الگ کرکے دیکھنے پہ اصرار کرتے ہیں۔اور شاید وہ پاکستان کے پہلے وفاقی وزیرداخلہ ہیں جو تکفیری انتہا پسند تنظیموں کی صفائی پیش کرتے نظر آتے ہیں۔پاکستان کے ریاستی حکام آج تک دہشت گردی اور تکفیرازم،جہاد ازم کے درمیان باہمی تعلق کو ہی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ریاستی حکام جب یہ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا تو اصل میں وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ پاکستان میں شیعہ، صوفی سنّی، کرسچن، ہندؤ، احمدی، سکھ اور دیگر برادریوں کے خلاف جاری دہشت گردی کسی آئیڈیالوجی کے زیر اثر نہیں لڑی جارہی اور یہ ایک طرح سے دہشت گردوں کی شناخت اور ان کی فکری بنیادوں پہ پردہ ڈالنے کی کوشش ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دوسرے لفظوں میں دہشت گردوں کے نظریہ سازوں، سہولت کاروں،ہمدردوں کو بچانے کی کوشش ہے۔پاکستان کے حکام دہشت گردی کے خارجی ، غیر ملکی اور بیرونی عوامل پہ بہت زور دیتے ہیں لیکن دہشت گردی کے اندرونی اور داخلی عوامل پہ ان کا رویہ انکار۔جواز یا ابہام والا ہے۔اور یہی مخمصہ بار بار اس ملک کے صوفی کلچر سے جڑے لوگوں کے لئے تباہ کن اور خون خوار ثابت ہورہا ہے۔

حکومتوں نے دہشت گردی کے واقعات کے بعد وتیرہ یہ بنالیا ہے کہ وہ مزارات کو سیل کردیتی ہے۔صوفی اور دیگر کلچرل فیسٹول پہ پابندیاں عائد کرتی ہے اور چھوٹے اور دور دراز علاقوں میں موسم بہار میں مقامی میلوں اور عرس کی تقریبات کے انعقاد پہ پابندی لگادیتی ہے۔جیسے اس نے ہزاروں رسمی مجالس اور جلوس ہائے عزاداری پہ پابندی لگائی۔اور اس طرح سے ریاست اور حکومتیں خود تکفیری دیوبندی اور سلفی ازم کا ایجنڈا پورا کرتی ہیں اور رد ثقافت پالیسی کا اجراء کرتی ہیں۔کلچر مخالف دیوبندی تکفیری کارخانوں کو آپ بند کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت جیسی تنظیموں کی وکالت میں آگے آگے ہوتے ہیں لیکن مزار۔عرس،میلہ ، فیسٹول کے خلاف پوری ریاستی مشینری استعمال کی جاتی ہے اور یہاں تک کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک جج “یوم محبت ‘ کو اسلام کے خلاف قرار دے ڈالتا ہے اور سرخ غباروں اور سفید ربن فروخت کرنے پہ پابندی عائد کردی جاتی ہے۔بیساکھی کے میلے پہلے ہی حکومتیں بند کرچکی ہیں۔یہ تکفیر ازم اور جہاد ازم کے سامنے مکمل سرنڈر کرجانے کے مترادف ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ خودکش بم دھماکوں سے مزارات پہ حاضری،میلوں ٹھیلوں میں شرکت،میلاد و عاشور کے جلوسوں میں شرکت سے روکیں تو تم پورے کلچر کو پابند سلاسل کرو،مزارات کو سیل کردو، فیسٹول پہ پابندی لگادو۔مطلب یہ کہ ان کا سو فیصد ایجنڈا پورا کردیا جائے۔اور سیکورٹی اور تحفظ کے معاملے میں بھی ریاست کی ترجیح عوام ان کی عبادت گاہیں،مزارات،امام بارگاہیں،مساجد،جلوس ،میلے نہیں ہیں بلکہ مقدم اور سب سے ضروری وی آئی پیز کی حفاظت ہے۔جس قدر حفاظتی اقدامات ایک ڈی پی او آفس،ڈی سی او آفس، سیشن و سول کورٹس کی جاتی ہےاس کا 20 فیصد بھی اگر عوام کو فراہم کیا جائے تو ایسے واقعات کی شرح بہت ہی کم ہوجائے۔سافٹ ٹارگٹ کا ایک مطلب حکومت عوام کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پہ چھوڑنا بھی ہے۔

 

ساری کے نام 23واں خط

11326444_403414899850128_805511605_n

 

 

پیاری ساری

میں کیسے تمہیں بتاؤں کہ سال گزشتہ کی آخری رات کو موبائل ، سکائپ ، ایمو اور وٹس ایپ کے اس جدید ترین دور میں،میں تم سے بات کیوں نہ کرسکا۔یہ شاید پہلا سال ہے کہ میں نے ٹھیک سے باضابطہ طور پہ کسی بھی دوست کو یاد کرنے کا اہتمام نہ کیا۔روشنی آئی تھی، بہت پرجوش تھی اور ایفل ٹاور تک چلنے کو کہہ رہی تھی لیکن میں اٹواٹی کٹھواتی لئے پڑا رہا۔سال نو کی آمد میں پورا پیرس بقعہ نور بن جاتا ہے اور تمہیں پتا ہے کہ تین سال پہلے سکینہ علی زیدی یہاں پیرس آئی ہوئی تھی اور عبداللہ اپنی بیوی کے ساتھ یہاں آیا تھا اور یہ سب ایفل ٹاور کے نیچے کھڑے ہوئے تھے۔اور وہاں پہ انھوں نے شمپئن کھولی اور اپنے جام مرے نام کئے اور میں وہاں استنبول کے ایک سلم ایریا میں اپنے ٹریول ایجنٹ کی جانب سے یورپ جانے کی سبیل نکالے جانے کا منتظر ایک تنگ و تاریک فلیٹ کے ایک کمرے میں پڑا ہوا تھا اور وڈکا کی بوتل میں بس چند گھونٹ بچے تھے جس میں سے ایک گھونٹ میں نے بڑی کنجوسی کے ساتھ لیا تھا۔اور ہم سب کے سب اس رات کے آخری پہر ذہنی طور پہ تمہارے گھر آکر تمہیں ساتھ لیکر منوڑا کراچی پہنچ گئے تھے اور تمہیں یاد ہے کہ ہم سب نے کتنا زور لگایا تھا تمہیں اس ٹھرے کے چند گھونٹ لینے کے لئے مگر تم اپنی مسلسل انکار  کررہی تھیں۔اچانک تم نے ایک ایسی بات کی کہ ہم سب کو چپ لگ گئی تھی۔تم نے کہا تھا کہ اگر میں نے ایک گھونٹ بھی بھرا تو ساری زندگی پھر میں “نہج البلاغہ” پہ بات نہ کرسکوں گی۔ہم سب جو نرے مادیت پرست اور ملحد محض تھے یہ فقرہ سنتے ہی جیسے ساکت ہوگئے تھے اور سارا نشہ ہرن ہوگیا تھا۔اگرچہ ہم سے کسی نے بھی اس کڑوے سیال کو اپنے اندر انڈیلنا پھر بھی بند نہ کیا تھا۔یہ تو نہج البلاغہ کے اسباق کو قلمبند کرتے ہوئے تھا کہ ميں نے اس سیال کو بالکل ہاتھ نہ لگایا۔کیونکہ مرے اندر سے آواز آئی تھی کہ جب تمہارے فہم کی روشنی میں علی شناسی کو رقم کرنا ہے تو پھر تمہاری خواہش کا احترام بھی کیا جانا بنتا ہے۔ویسے مجھے ایک اعتراف کرنا ہے۔جن سرد ترین راتوں میں، میں علی شناسی پہ لکھ رہا تھا اور تمہاری کہی باتوں کو اکٹھا کررہا تھا تو اس دوران سامنے الماری میں لال پری پڑی ہوتی تھی اور بلا کی سردی، گیس کی لوڈشیڈنگ اور ایسے میں کپکپاتی انگلیاں اور مری ہڈیوں میں گھسی جاتی سردی کے باوجود مجھے صاحب نہج البلاغہ ، ان کے افکار ، ان کی تنہائی اور اس تنہائی کے سحر میں ڈوبا مرا ریڈنگ روم مجھے کبھی اس کی طلب کا احساس نہیں ہونے دیتے تھے اور بعد میں بہت حیران ہوا کہ یہ سب کیا تھا۔ہاں جہاں کہیں اٹک جاتا تو تم اچانک سامنے آکے بیٹھ جاتی تھیں اور مجھے لگتا کہ مری مادیت پرستی رگوں میں تم علویت کے معانی کو ایسے رواں کرتیں جیسے خون۔اور مرا رکا ہوا قلم پھر سے چلنے لگتا تھا۔اب میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسی مابعدالطبعیات تھی جس نے تمہارے اندر کہیں بھی وہ غیرانسانی پن پیدا نہیں کیا جو میں ملاؤں،پنڈتوں، پیروں، پادریوں،واعظوں اور محتسبوں کے ہاں اور ان پہ آنکھیں بند کرکے ایمان لانے والوں کے ہاں دیکھتا رہا تھا۔جس سے وحشت زدہ ہوکر میں یہاں پیرس بھاگ آیا تھا۔ابھی کچھ دن پہلے تم نے ہی شاید مجھے فیس بک پہ ٹیگ کیا کہ ایک مولوی نے سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر کی جانب سے کرسچن برادری کو ‘ہیپی کرسمس ‘کہنے اور آسیہ نام کی ایک خاتون کی رہائی کی دعا کرنے پہ اسے نہ صرف گستاخ قرار دیا بلکہ اس کو واجب القتل قرار دے ڈالا ہے۔اور لاہور کے ایک تھانے میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس پیغام کو لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام لگاکر مقدمہ درج کرلیا ہے۔کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہم جسے مسلم جمہور کا شعور کہتے ہیں وہ شاید بالکل اس چپ کی طرح ہے جس میں مذہب کے نام پہ ایسے پروگرام کی کوڈنگ ہوگئی ہے جو ہر سیاہ چیز کو سفید کرکے دکھاتا ہے۔مجھے تو اپنے ہاں مسلمانوں میں ملحد، سیکولر ، لیفٹ اور لبرل ہوجانے والی اکثر آوازوں کو سنکر بھی یہی شک ہوتا ہے کہ ان کا شعور بھی غلط پروگرام کی کوڈنگ کی وجہ سے سیاہ تر ہی ہے۔اس کی ایک وجہ تو وہ ہمارے ہاں ایسے ملحدوں، روشن خیالوں، لبرل کی کمی نہیں ہے جو ترقی کے نام پہ آج بھی آدی واسیوں، قبائلیوں، غریبوں، کمزروں کو ان کی زمینوں سے بے دخلی کو بالکل جائز خیال کرتے ہیں اور ایسے لیفٹ بازوں کی کمی نہیں ہے جو ہندوتوا کے لتّے تو بہت لیتے ہیں لیکن جب مسلم بنیاد پرستی کا جائزہ لینے کی بات ہو تو ان کے ہاں ہو کا عالم ہوتا ہے۔یہ غلط پروگرامنگ ہی ہے جو مسلم جمہور کی اکثریت کو محمد بن قاسم جیسے عرب حملہ آور کو ہیرو اور اپنی دھرتی کا دفاع کرنے والے راجہ داہر کو ولن بناتی اور سمجھتی ہے۔اور یہی غلط پروگرامنگ ہے جو اورنگ زیب کو اپنا آئیڈیل جبکہ دارشکوہ، سرمد کو راندہ درگاہ بناکر دکھاتی ہے،غلط پروگرامنگ ہمیں شیوا جی کے مقابلے میں تیمور لنگ اور یہاں تک کہ سکندر مقدونی کو آئیڈیل بناکر دکھاتی ہے،ہمیں جھوک شریف کے شاہ عنائت مغل سامراجیت اور جاگیرداری، پیر پرستی کے خلاف جدوجہد کی علامت کے طور پہ نہیں بلکہ سلادینے والی نام نہاد روحانیت کی علامت کے طور پہ ہی پسند آتے ہیں۔اس غلط پروگرامنگ نے ہی تو یہ کیا ہے کہ ہم امام حسین کے قتل کا فتوی دینے والے مفتیوں پہ تو لعنت کرتے ہیں لیکن عصرحاضر میں ایسے فتوے دینے والے ہمارے رہبر و رہنماء ٹھہرجاتے ہیں۔ہمیں دارا شکوہ، محب الہ آبادی، سرمد،میاں میر، بھگت کبیر، میراں بائی، سچل سرمست ، بلّھے شاہ ، شاہ حسین، گرونانک ،شاہ لطیف بھٹائی کا صلح کل اور وحدت الوجودی رنگ میں رنگا مذہبی شعور ایک آنکھ نہیں بھاتا ہے جوکہ شناختوں کے مختلف ہونے پہ سیخ پا نہیں ہوتا،وہ اس بات سے بروفروختہ نہیں ہوتا کہ کوئی زکری کیوں ہے تو کوئی احمدی کیوں ہے اور کوئی شیعہ کیوں ہے تو کوئی اسماعیلی کیوں ہے اور کسی کے ہاں ہندؤمت کیوں ہے تو کوئی کیس، کرپان ، کڑا کیوں عزیز رکھتا ہے؟ہم اس تکثیری شعور کی پروگرامنگ سے ڈرنے والے لوگ ہیں، ہماری تاریخ، ہمارا جغرافیہ، ہماری دینیات ، ہماری اخلاقیات سب سے کثرت سے لزر جاتی ہیں اور ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے شواہد کو مٹاتے ہیں جو ہمیں مونولتھک ہونے سے دور رکھتے ہوں۔ہمیں صوفی سرمست نہیں مولوی بدمست درکار ہیں تبھی تو قاتلوں کے مزار بڑے تزک و احتشام سے بنائے جانے لگے ہيں اور ہمیں عاشور کے جلوسوں پہ فائرنگ کرنے والوں ، عورتوں اور بچوں کی مجالس پہ ہینڈ گرینڈ پھینکنے والوں، میلاد کے جلوس پہ بم برسانے والوں اور چرچ میں ، احمدیوں، کرسچن ، ہندؤ ، زکریوں کی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے والوں کو نشانہ بنانے والوں کے مرجانے پہ ان کے چہروں پہ مسکان اور ان کی قبروں سے مشک کی لپٹیں آتی محسوس ہوتی ہیں اور ایک بھٹہ مزدور عورت ہمارے دین و مذہب کے لئے سب سے برا خطرہ بن جاتی ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ تھر کے باسی کسی تہذیب، ثقافت، کسی تاریخی قدیمی جغرافیہ کے وارث اور مالک ہے ہی نہیں ، ان کے گھر گھر نہیں ہیں کیونکہ کنکریٹ کے نہیں بنے اور ان کی زمینیں زمینیں نہیں ہیں کیونکہ انڈس وادی کی طرح لہلہاتی نہیں ہیں۔یہ بس خانہ بدوش لگتے ہیں اس لئے ان کو سرمایہ داروں کی منافع کی ہوس کی تسکین کے لئے ان کی دھرتی سے اٹھادیا جائے اور ان کو بڑے شہروں کی کچی اور گندی بستیوں کا باسی بنادیا جائے تو اس میں حرج ہی کیا؟ہمیں اپنی زمین، وسائل  بچانے اور اپنی ڈیموگرافی کے بدل جانے کے خلاف مزاحمت کرنے والے بلوچ انسان ہی نہیں لگتے ،کیٹرے مکوڑے لگتے ہیں اور ان کو غائب کردیا جائےیا ان تشدد کے نشانات سے بھری لاشیں اور ماتھے پہ گندھا ہوا ” پاکستان زندہ باد” نظر آئے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ہمیں 22 ہزار لوگوں کے محض اس لئے مارے جانا کوئی بڑا واقعہ نہیں لگتا کہ وہ شیعہ تھے۔شیعہ ہونے، احمدی ہونے ، کرسچن ہونے اور اسماعیلی ہونے کے ساتھ ہی ہماری ہمدردیاں اور ہماری انسانیت کہیں گھاس چرنے چلی جاتی ہے۔یہ وہ پروگرامنگ ہیں جو گھر، اسکول، کالج، یونیورسٹی، مدرسوں، مین سٹریم میڈیا اور اب سوشل میڈیا کے زریعے سے ہمارے دماغوں میں فیڈ کی جاتی ہے۔ہمیں کہیں سے بھی اپنا عمل، ردعمل، سوچ، مظاہرے غیرانسانی نہیں لگتے اور ہم زرا بے چین نہیں ہوتے۔ویسے کچھ روز پہلے روسی طیارہ گرکے تباہ ہوا، ایک روسی سفیر کو پیچھے سے گولی مارکر ہلاک کردیا گیا تو میں نے اس پہ لوگوں کو خوشی مناتے دیکھا اور امریکہ میں ایک بہت بڑی مسلم تنظیم سی اے آئی آر  کے ڈائریکٹر کو اس پہ خوشی مناتے دیکھا تو مجھے ایسے لگا کہ یہ پروگرامنگ تو کہیں بہت بڑے پیمانے پہ اپنے اثرات دکھارہی ہے۔میں یہاں گوشتہ عافیت کی تلاش میں آیا تھا لیکن مجھے عافیت تو کہیں بھی نظر نہیں آتی۔دسمبر کی آخری رات میں مجھے یہی سوچیں گھیرے رہیں۔مرے اندر کا رومان پرور آدمی جو ویسے تو ہر روز ہی باہر آنے کی سعی کرتا ہے لیکن ان دنوں کہیں اندر ہی سہم کر اور ڈر کے دبکا ہوا ہے اور باہر آنے کا نام نہیں لے رہا۔رومان اندر ٹھٹھر رہا ہے اور گٹھن ہے کہ کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جارہی ہے۔بڑی کوشش کی کہ تمہیں رات ختم ہونے اور یکم جنوری شروع ہونے پہ ہیپی نیو ائر کا پیغام دوں اور یہ بتاؤں کہ تم سے مری محبت اور چاہ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور بیٹھے بٹھائے تمہارے عکس مری آنکھوں میں جھلملانے لگتے ہیں۔تمہیں صدر کا وہ ہوٹل یاد ہے جہاں تم مجھ سے ملنے آئی تھیں جب میں اپنے آپ سے بھی ملنا نہیں چاہتا تھا۔جب میں یہ ملک چھوڑ کر جارہا تھا اور اس دوران تم کرسی پہ بیٹھی تھیں اور میں زمین پہ۔اور میں تمہیں چوری چوری دیکھے جارہا تھا، تمہارے چہرے پہ لگی نفیس سے عینک کو دیکھ کر میں سوچتا تھا کہ تمہاری عینک زیادہ نازک ہے کہ تمہارا چہرہ، تمہاری انگلیاں جنہیں تم بار بار مروڑ رہی تھیں اور وقفے وقفے سے دانتوں سے ناخن چباتی تھیں، ان لمحات میں تم مجھے فلسفے کے عظیم افکار سمجھانے والی ساری کی بجائے ایک الہڑ مٹیار لگ رہی تھیں جو چاہتی تھی کہ مجھے جانے سے روک دے اور کہے ‘مت جاؤنا، یہیں اس گھٹن اور حبس میں دونوں رہتے ہیں ،مرنا ہی تو اکٹھے مریں گے نا’ اور ساری دنیا کا سب سے بڑا تلخ سچ یہ ہے کہ اکٹھے مرنا چند خوش نصیبوں کی قسمت ہوا کرتا ہے اور مری ، تمہاری ڈیسٹنی یہ ہے ہی نہیں۔تمہیں رام مستجاب آسٹن یاد ہے ، اس نے بتایا تھا کہ اسے ایک لڑکی میں اپنی ھ-م-ا دکھائی دی جو بہت بولڈ لگتی تھی اور ایک بار اس نے اسے کہا کہ مرے ساتھ کربلاء تک کا سفر کرونا تو وہ ایک دم سے بولی، بچّو! میں خودمختار نہیں ہوں اور لوگوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہوں نہیں جاسکتی۔ ر-م-ا نے مجھے بڑے تاسف سے کہا کہ یار! اگر وہ جھوٹے سے ہی کہہ دیتی کہ ہاں چلیں گے تو اس کا کیا بگڑجاتا؟میں یہ سچ تو پہلے سے ہی جانتا تھا کہ اس لڑکی میں ھ-م-ا دکھائی دیتی ہے پر ہے نہیں۔ساری! مری بیوقوفی دیکھو ، کہ میں اس پوچھ بیٹھا کہ تمہیں کیسے لگا کہ وہ ھ-م-ا دکھائی دیتی ہے مگر ہے نہیں تو آسٹن بھی اپنی وضع کا ایک الگ ہی آدمی ہے اس نے بہت ہی شانت لہجے میں کہا “کیونکہ اس کا وزن 50 کلو ہے اور ھ-م-ا 45 کلو کی تھی”۔

تم جو 400 سے 500 لفظوں کے میسج مجھے انباکس کرتی ہو ، خط کیوں نہیں لکھتیں۔میں تمہیں کاغذ پہ خط اس لئے لکھتا ہوں کہ کاغذ اور قلم، ذہن ، انگلیوں کا لمس اور نظروں کی تپش ملکر جو رومان اور محبت کا احساس پیدا کرتے ہیں وہ برقی مراسلے میں مفقود ہوتا ہے۔بس اب تھک گیا ہوں، اور ہاں،

نیا سال مبارک ہو،

فقط تمہارا

ع۔ح

چوتیا پرشاد لبرل دانش:انٹلیکچوئل یٹ ایڈیٹ

180px-taleb_mug

Nassim Nicholas Taleb

نسیم نقولا طالب ایک لبنانی نژاد امریکی دانشور ہے-اس کی توجہ کا مرکز ہمارے سماج میں پھیلی رینڈم نیس –بے اصولی ، بے ترکیبی پروبیبلیٹی-امکان اور ان سرٹینٹی – بے یقینی ہیں-اس کی ایک کتاب بلیک سوان یعنی سیاہ ہنس راج جنگ عظیم دوم کے بعد سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی بارہ کتابوں میں سے ایک خیال کی جاتی ہے-نسیم نقولا طالب ہمارے ہاں مڈیاکر دانش سے بننے والے مہا بیانیوں کا سخت مخالف ہے-وہ زیادہ تر معاشی اور مہا سماجی سائنس کی نظریہ سازی کا مخالف ہے جو اس کی نظر میں وہی غلطی کرتی ہیں جو پلوٹو کا نظریہ اشکال یا ہئیت کرتا ہے۔وہ ایک ایسے سماج کی وکالت کرتا ہے جو سیاہ ہنس راجوں کا مضبوط سامراجیہ ہو یعنی ایک ایسا معاشرہ جو مشکل سے پیشن گوئی میں آنے والے واقعات کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتا ہو۔ہم میں سے کتنے لوگوں نے نسیم مقولا طالب کا نام سنا ہوگا۔میں نے تو کم از کم اپنے دوستوں سے کبھی نسیم مقولا طالب کا نام نہیں سنا۔پہلی مرتبہ ریاض ملک نے ایک اور فیس بک پہ بنی آئی ڈی ” الخط المعطر” یعنی خوشبو میں بھیگا راستہ ” پہ نسیم مقولا طالب ” کا ایک مضمون ” انٹلیکچوئل یٹ ایڈیٹ” یعنی “دانشور پھر بھی احمق ” شئیر کیا تو مجھے ان کے بارے میں جاننے کا اشتیاق ہوا۔نسیم مقولا طالب برطانیہ سے لیکر امریکہ تک کے پالیسی ساز لوگوں کو “کلرک ” اور ” اندر کی خبر رکھنے کے دعوے دار صحافیوں” کو یعنی نجم سیٹھی کی طرح ” چڑیا ” رکھنے کے والے صحافیوں کو “نیم دانش رکھنے والے ماہر تجزیہ کار” کہتا ہے۔اور ان کے ساتھ کچھ آکسفورڈ، کیمبرج اور اسی طرح کے لیبل کی اور جامعات کے کچھ مہا پروفیسرز جو ہمیں یہ بتانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ،ہمیں کیا کرنا ہے؟ کیا کھانا ہے؟ کیسے بولنا ہے؟ اور کیسے سوچنا ہے؟ یہاں تک کہ کس کو ووٹ کرنا ہے؟ان جیسے بڑے کلغی والے پروفیسرز کو وہ بس یہ سمجھ لیجئے “چو-یا پرشاد ” کہتا ہے۔اس کا کہنا ہے، ” برطانیہ سے لیکر امریکہ تک ہم ایسے سب “چ پرشادوں ” کے خلاف بڑی بغاوت رونما ہوتے دیکھ چکے ہیں۔

لیکن ان یک چشم خود ساختہ مہان دانش ور قبیلے کے باسیوں کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کوکونٹ جزیرے میں کوکونٹ آئل کبھی بھی تلاش نہیں کرپاتے،مطلب وہ اتنے دانا نہیں ہیں کہ دانائی کی تعریف متعین کرسکیں جبکہ یہ بس دائروں میں ہی سرگرداں پھرتے رہتے ہیں۔ان کی سب سے بڑی مہارت یا سکل ہے کیا؟اپنے ہی جیسے لوگوں کے تیار کردہ امتحانات کو پاس کرنا۔لوگوں نے ماہر نفسیات کی ہدایات پہ دھیان دینا چھوڑ رکھا ہے۔اس میں 40 فیصد گراؤٹ دیکھنے کو ملی ہے۔حفظان صحت بارے خوراک کے چارٹ بنانے والوں کی ہدایات کے برعکس لوگوں کے رجحانات 30 سال تک موٹاپا کم کرنے کا فوبیا چھایا رہنے کے بعد ایک دم  سے بالکل برخلاف سامنے آنے لگے ہیں۔لوگ اپنی وراثتی جبلت پہ دھیان دے رہے ہیں اور اپنے آباء کی روائتی دانش و حکمت پہ کان دھر رہے ہیں۔اور اس کا ٹریک ریکارڈ بھی ان کو ان “چ-پرشاد دانشوروں اور پالیسی سازوں ” کے ٹریک ریکارڈ سے کہیں زیادہ بہتر لگتا ہے۔

کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ یہ اکیڈمیا بیوروکریٹ جو کہ خود کو ہماری زندگیوں کو چلانے کا حقدار خیال کرتے ہیں اتنے بھی محتاط اور پنکچول نہ ہیں جتنا ان کو پیش کیا جاتا ہے چاہے یہ اکیڈمیا نوکر شاہ میڈیکل اعداد و شمار سے متعلق ہوں یا پالیسی میکنگ سے جڑے ہوں۔طالب مقولا نسیم کا خیال یہ ہے کہ اپنی جس دانش یا فکر کو یہ سائنس کہتے ہیں وہ سرے سے سائنس ہے ہی نہیں اور اسے سرے سے دانش کہنا بھی دانش کی توہین ہے۔اور اسے انٹلیکچوئل یٹ ایڈیٹ( یعنی ایسی حماقت جو دانش کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے) کہتا ہے۔اور وہ اسے ماڈرینٹی یعنی جدیدیت کی پیداوار قرار دیتا ہے اور یہ بیسویں صدی سے ہم پہ مسلط ہے۔اور اس کے خیال میں آج ایک ریاضياتی سپریمم بن چکی ہے۔سادہ طور پہ یوں کہئیے کہ بہت بڑی قوت بن چکی ہے۔اور اس قوت کے ساتھ بہت سارے لوگ ہیں جو ہر ایک شعبہ ہائے زندگی پہ حملہ آور ہیں۔بیسویں صدی سے حکومتوں کا کردار 5 سے 10 فیصد رہ گیا ہے جبکہ یہ جو انٹلیکچوئل یٹ ایڈیٹ ہے ان کا کردار 90 فیصد ہوگیا ہے۔یہ لوگ اتنے بڑے اثر کے باوجود اقلیت میں ہیں۔ یعنی ان کو چند مخصوص تھنک ٹینک، جامعات اور ميڈیا آؤٹ لیٹ سے باہر بہت کم ہی دیکھا جاتا ہے۔

یہ “چ۔پرشاد دانشور ” بہت سارے معاملات میں انتہائی غلط ثابت ہوئے۔بظاہر یہ بڑھے مساوات، آزادی، برابری اور انسانیت کے علمبردار نظر آتے ہیں لیکن کبھی ایک ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ یہ ڈرنک نہیں کریں گے،ایک کالی عورت کے ساتھ ڈانس نہیں کریں گے۔یعنی سر سے پیر تلک یہ اشرافیت میں ڈوبے نظر آئیں گے۔

چوتیا پرشاد لبرل انٹلیکچوئل ایڈیٹ تاریخی طور پہ سٹالن ازم ، ماؤ ازم ، جی ایم او، عراق، لیبیا، شام ، لوبوٹومیز، اربن پلاننگ، کم کاربوہائیڈرائٹس ، جم مشینوں، کرداریت، ٹرانس فیٹس، فرائیڈین ازم ، پورٹ فولیو تھیوری ، لی نر ری گریشن، سلفی ازم ، دیوبندی ازم ، ہاؤسنگ پروجیکٹس سیلفش جین ، الیکشن فار کاسٹ ماڈلنگ  وغیرہ وغیرہ بارے میں انتہائی غلط پائے گئے۔ان کے تجزیے، پیشن گوئیاں دھری کی دھری رہ گئیں۔لیکن ان کو اب بھی یقین ہے کہ ان کی پوزیشن ہی درست ہے

چوتیا پرشاد لبرل دانشور/ انٹلیکچوئل یٹ ایڈیٹ ایک ایسے کلب کا رکن ہے جن کو سفری مراعات کا حق ہے۔اگر کوئی چوتیا پرشاد لبرل دانشور سماجی سائنس دان ہے تو وہ اعداد و شمار کو یہ جانے بنا کہ وہ کیسے حاصل کئے جاتے ہیں استعمال کرتا ہے-نسیم مقولا نفسیات اور فلسفے، بشری علوم کا سپر فیشل نالج رکھنے والے چوتیا پرشاد لبرل دانشوروں کو سائیکوفلاسٹر یا فلاسفو فلاسٹر کا نام دیتا ہے۔اور وہ وہ سماجی سائنس دانوں میں چوتیا پرشاد لبرل میں سٹیون پرینکر کا زکر کرتا ہے۔یہ ایک کینڈین امریکن ماہر لسانیات و نفسیات دان ہے-ایسے چوتیا پرشاد لبرل دانشور احمق جب برطانیہ جاتے ہیں تو وہاں لٹریری فیسٹول میں شریک ہوتے ہیں۔ریڈ وائن سٹیک (گوشت کا ٹکڑا)کے ساتھ نوش کرتے ہیں لیکن یہ وآئٹ میٹ نہیں ہوتا۔حالانکہ ان کو یقین ہوا کرتا ہے کہ یہ موٹاپا لانے والا طریقہ ہے اور نقصان دہ ہے مگر اس کے برعکس کرتے ہیں۔یہ چمکدار ریشمی کپڑے استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کے ڈاکٹر نے ان کا استعمال کرنے کو کہا ہوتا ہے۔ بزنس پہ بات کرتے ہوئے یہ عامی یہودیوں کی يڈش زبان استعمال نہیں کرتے۔زبان بولنے سے پہلے یہ گرائمر سیکھتے ہیں۔یہ ابن بطوطہ ،جان گرے ، جوزف ڈی مستیور اور قرون وسطی کے دانشوروں کو نہیں پڑھتے۔آپ یوں کہہ لیں کہ ان چوتیا پرشاد لبرل دانشوروں کو فوک، لوک دانش ، کھانے ،پینے اور رسوم رواج سے یک گونہ نفرت ہوتی ہے۔بلّھے شاہ، شاہ حسین، لطیف بھٹائی کو بھی پڑھنا پڑھے تو جاکر انگریزی میں پڑھتے ہیں۔رومی کو بھی۔جھومتے گاتے ملنگ، دھمال ڈالتے،شہباز قلندر پہ جانے والے عام آدمیوں اور عورتوں کے طور طریقوں سے یہ خود کو ہم آہنگ نہیں کرپاتے۔محرم کی مجالس، جلوس، علم، شبیہ ذوالجناح،سرائیکیوں کی جھمر،میلاد کے جلوس، الیاس قادری کی سادگی ان کو فراڈ، وقت کا ضیاع لگتی ہے۔اگر کوئی برطانوی یا امریکی لبرل چوتیا پرشاد ہو تو وہ روسیوں کے ساتھ شراب پی کر بدمست نہیں ہوسکتا۔وہ اس مقام تک پی نہیں سکتا جب کوئی گلاس توڑنا شروع کردیتا ہے ہو۔یا کرسی توڑ ڈالے۔یا الٹیاں کرنا شروع کردے۔یا وہ مقام جہاں من و تو کی تمیز مٹ جائے۔ اور نسیم مقولا طالب ایک اور بات بڑے ہی پتے کی حرکت ہے کہ یہ سوڈو انٹلیکچوئل یا انٹلیکچوئل یٹ ایڈیٹ یعنی چوتیا پرشاد لبرل جو بہت چھوٹی سی اقلیت ہیں اپنے سوا سب کو ہی چوتیا خیال کرتے ہیں۔باقی سب کمتر ہیں،احمق ہیں۔اور دوسروں پہ ان کا فکاہیہ، طنز اور سٹریکل قلم بہت چلتا ہے لیکن جب ان کی اپنی باری آجائے اور ان پہ طنز ہو اور کوئی ان کو چوتیا کہے تو ان کی پھٹ جاتی ہے۔اور یہ اسے برداشت نہیں کرپاتے۔محرم کی ثقافت ، میلاد کی ثقافت، اور شام کے نام نہاد ماڈریٹ باغیوں بارے ان کی حماقتیں ہم “عظیم دانش ” پہ مبنی تجزیوں کی بھرمار سنتے رہے ہیں۔لیکن اندر سے نکلتا “کھکھ” بھی نہیں ہے۔ہمارے ریاض ملک ان کو “کمرشل لبرل مافیا ” کہتے ہیں تو پیجا مستری ان کو جو کہتا ہے اسے مرا قلم بھی یہاں اردو میں لکھنے سے قاصر ہے۔

خوشبو سے بھرے خط والے آئی ڈی کے پیچھے چھپا فنکار اس مضمون کے لنک کے نیچے لکھتا ہے

میں ایک محنت کش گھرانے میں جنما لڑکا ہوں جس نے راج مزدوری کی کنسٹرکشن سائٹ پہ اپنی تعلیم کا خرچ اٹھانے کے لئے۔جب میں بچّہ تھا تو مرا خواب عظیم جرمن ماہر آثار قدیمہ ہنرخ شیلے مین کا ثانی بننے کا تھا-میں اس جنون میں اتنا پاگل تھا کہ میں نے اس سے متعلق آرکیالوجی کے میگزین اکٹھے کرنا شروع کردئے تھے جب میں صرف آٹھ سال کا تھا-مرے استاد اور والدین بہت مایوس تھے کہ میں نے خود ہی یونانی میں لکھنا سیکھ لیا تھا۔مرے استاد سمجھتے تھے کہ مجھے یونانی میں لکھنا مرے والدین نے سکھایا ہے تاکہ ہر ایک کو دکھا سکوں۔مرے استاد کیسے احمق تھے۔میں ہر ٹسٹ کے اوپر یونانی میں اپنا نام لکھ دیا کرتا تھا۔میں بچپن سے اس خیال کا اسیر تھا کسی قدیم شہر کے آثار دریافت کروں جیسے ہنرخ شیلے نے کئے تھے۔پھر مری دلچسپی کا مرکز جنوبی ایشیا ہوگیا۔جب میں سیکنڈری تعلیم میں لاطینی سیکھ رہا تھا تو مرے استاد جو مجھے قدیم یونانی سیکھاتے تھے وہ مجھے دوپہر کو سنسکرت پڑھاتے تھے۔میں رامائن کے اشلوک زبانی یاد کرتا ہوا گھر لوٹتا تھا۔مجھے کہنا یہ ہے کہ جب زبان کا معاملہ آئے تو میں بہت ہی پیچیدہ مواد کو ڈیل کرسکتا ہوں۔

مجھے نہیں پتا کہ اینگلو سیکسن ورلڈ نے فرانسیسی ماہر لسانیات دریدا کو سنجیدہ کیوں لینا شروع کیا لیکن میں نے چار سال ساربون یونیورسٹی میں گزارے لیکن وہاں میں نے کسی کو اس کا نام لیتے نہیں سنا۔نہ ہی فرانسیسی اکیڈمک سسٹم کی اشرافیہ کو اس بارے بات کرتے ہوئے دیکھا۔دریدا کو کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔کیوں؟کیونکہ وہ ان کو بالکل احمق اور ربش نظر آتا ہے۔لیکن اس کو اینگلو سیکسن طلباء سریس لیتے ہیں جوکہ پیرس کے کسی کیفے میں کافی کا آڈر ٹھیک سے نہیں دے سکتے۔میں بہت خوش قسمت تھا کہ جب میں ایس او اے ایس یونورسٹی لندن پہنچا تو میں نے “کانٹی نٹل فلاسفی ” سے زیادہ معاملہ نہ کیا۔لیکن جب میں کینڈا آیا ۔۔۔۔ او لڑکے۔۔۔ وہاں پہ اکثر بڑھانے والوں کی حماقت بیان سے باہر ہے۔۔۔ یہاں حماقت برائی سے ملی ہوئی ہے۔مجھے خوشی ہے کہ میں ان کو چھوڑ آیا۔ میں اس آرٹیکل میں لکھی چیزوں سے متفق ہوں۔

چوتیا پرشاد احمق دانشوروں سے نجات کی ایک ہی سبیل ہے اور وہ یہ کہ کلاسیک (لاطینی، قدیم یونانی، سنسکرت یا کلاسیکل عربی ، آپ اس میں ہماری مقامی زبانیں بھی شامل کرلیں ) سیکنڈری اسکول میں لازمی مضمون کے طور پہ سیکھائی جائیں۔ یہ ہی واحد راستہ ہے لوگوں کو چوتیا پرشادی لبرل ازم سے بچانے کا۔گیاتری سپیوک اگر تم اسے پڑھ رہے ہو تو مجھے تمہیں بتانے کی اجازت دو کہ میں واقعی جو تم کہتے ہو اسے سمجھ نہیں پاتا جبکہ میں تم سے کہیں زیادہ زبانیں جانتا ہوں جتنی کہ تم جانتے ہو۔

اور آخر میں الخط المعطر نے ایک ایسا جملہ لکھا ہے جس سے مری ہنسی روکے نہیں رک رہی ہے

” if arrogance could be converted into electricity, JNU could sustain the entire subcontinent with electricity for centuries.”

اگر ایروگنس ۔تکبر و نخوت کو بجلی میں بدلا جاسکتا ہوتا تو جے این یونیورسٹی سارے برصغیر کو بلاتعطل صدیوں بجلی فراہم کرسکتی ہے

 

Attiya Kufi: Courtesan Historians Could Not Defeat Him

%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%b9%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%b1%d8%a8%d9%84%d8%a7%d8%a1

 

 

When I was trying to clean grime from history of Kufa and wanted to prove that there are hundreds of  people from Kufa having enlightened faces in Kufan history then many forgotten and forgiven faces and characters of history came on surface. Attiya Aufi/Kufi is one of those explored enlightened faces and characters, which was consciously forgotten but forgiven by so called mainstream tradition of history. I explored Attiya Aufi during my research on journey of Jabir bin Abdullah Al-Ansari (Died 78 H) to Karbala in Iraq to visit grave of Imam Hussain (R.A) in holy month of Safar-ul-Muzaffar. I was curious to know that why Jabir bin AbdullaH in very old age decided to go to Iraq from city of Madina and to pay tribute Imam Hussain (R.A) and why he choose the day of 20th Safar when 40 days had been completed of Martyrs in Karbala? I was reading travelogues of those people who were on their way to Karbala to pau tribute Imam and his comrades on Arbaeen( 40th day of Martyrdom of Imam Hussain (R.A). I wanted to hear from them something about Attiya Kufi/Aufi (Died 111 H). Attiya was first person and disciple of Jabir bin Abdullah who narrated whole story of journey of Jabir bin Abdullah because he was himself co-traveler of Jabir bin Abdullah. But some people just only mentioned his name while describing the journey of Jabir bin Abdullah to grave of Imam Hussain (R.A). We meet Attiya Aufi as true follower of Imams of House of Muhammad(Ahlebait) who says,

 

رايت عليا خير من وط‏ى‏ء الحصى       واكرم خلق اللّه من بعد احمد

وصي رسول اللّه وابن عمه              وفارسه المشهور في كل مشهد

تخيره الرحمن من خير اءسرة                 لاطهر مولود واطيب مولد

اذا نحن بايعنا عليا فحسبنا              ببيعته بعد النبي محمد

 

When I started enquire into statements and commentary on Attiya Aufi by  mainstream history writers of Muslim Arab history then I saw there same tendency to seek some lame excuses for their rejection, forgiven of all those personalities who were in camp of Imams of House of Muhammad. They made much effort to declare Attiya Aufi weak but they could not blame on him of lie. They called him “Weak in narrating saying of Muhammad ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) and reason in their eyes was his adherence to or bonding with camp of Imam Ali ( R.A). In their thoughts Attiya Aufi was waek because he was inclined to Shiite. Nobody should interpret here word of ‘Shiite’ into Rawāfiḍ as in our age Takfiri Deobandis and Salafis interpret it. Why mainstream Muslim historian called him Shiite? Renown Shafi’I scholar Allama Ibn-i-Hajar Asqalani quoted Al-Saji in his book Tahzeeb-ut-Tahzeeb:

 

كان يقدم عليا على الكل

His faith was that Ali is most superior among all followers of Muhammad PBUH.

This quote shows that Attiya Aufi in fact was among those people who always preferred Imam Ali in case of dignity, knowledge etc  over all other companions R.A of Hazrat Muhammad PBUH. But Question is that was Attiya was only one who thought so? Attiya Aufi was not Sahabi means companion of Hazrat Muhammad PBUH but in fact he was Tabaie —- companion of companion of Hazrat Muhammad PBUH. There are many names of great companions of Hazrat Muhammad PBUH we find in books of history who were Preferentials تفضیلی  like Ammar Yasir, Miqdad, Salman farsi. Jabir bin Abdullah Al-Ansari himself a Preferential تفضیلی  according to historian. We can understand why Attiya became forgiven but forgotten page of History. Another question is that why some mainstream historian could not reject him totally while calling him Liar کازب   or کذّاب  ? In my thought this was  Muhammad Ibn Sa’ad ibn Mani Az Zuhree ( Died 230 H) who made this impossible for coming mainstream scholar while praising Attiya Aufi as:

 

و كان ثقة ان شاءاللّه، وله احاديث صالحة

He (Attiya Aufi ) was authentic and he narrated pious sayings from Hazrat Muhammad PBUH.

So courtier Muslim historian just called him weak narrator راوی   and not called him liar or accused of lie متھم بالکذب  . Every that scholar, researcher and narrator of history in the eyes of courtesan historians was weak and forgiven, rejected person due to his or her link with House of Muhammad PBUH particularly with Imam Ali (R.A), Attiya Aufi was also victim of courtesan tradition of history writing. Today on occasion of Arbaeen I like to show enlightened face of Attiya Aufi.

On 20th Safar second month of Islamic calendar when 40 days had been passed after tragedy of Karbala,This was renown old age companion of Hazrat Muhammad PBUH Jabir bin Abdullah (Died in 78 H) visited grave of Imam Hussain. This was age of governorship of Obaidullah bin Zayad and Camp of Imam Ali in Iraq was in great repression, oppression and restrictions. Those who dared to show their support, adherence, bonding with Imam Ali or Imam Hussain either sentenced of putting him into prison or directly killed. Every person who refused to declare Imam Hussain  a rebellion of so called Islamic Caliphate was also state enemy and stern action was taken against such person. There was like a Martial Law situation in Iraq. There was still strict surveillance on Iraqi people. So in such condition journey of Jabir bin Abdullah has some special purpose and aim. Jabir bin Abdullah did not came alone to Karbala. His disciple Attiya Aufi was also along with him, who narrated this journey in detail.

Here it is very necessary to know about Attiya Aufi so that we can examine that process which paved way to transform event of visiting grave of Imam Hussain by Jabir bin Abdullah into a great event or ceremony of offering tribute Imam Hussain and their comrades  called Arbaeen or Arbaeen-i-Karbala.

 

There are very rare young persons who know something about Attiya Aufi. And I have mentioned above that big reason which made Attiya Aufi a lost page of Muslim history. His complete name was Attiya bin Saad bin Junadah. His father was companion of Hazrat Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  and from tribe of Jadila and He رضی اللہ عنہ  was first person from Ta’if who had accepted Islam. His father also close companion of Imam Ali-R.A. He went Iraq along with army of Imam Ali and fought War of Camel, Siffin, Neharwan along with Imam Ali. Attiya Aufi was born in last days of Caliphate period of Imam Ali-R.A. In books of Muslim history we find that father of Attiya came and informed Imam Ali about birth of his son and ask him to suggest a name for his newborn baby. Imam Ali called that baby a gift from God,and suggest name Attiya for him. So Attiya opened his eyes in a house of companion of Hazrat Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  and he was trained by that person who was very close to Imam Ali. After Imam Ali Attiya Aufi adopted company of Jabir bin Abdullah. Strange thing is that all historians and compilers of Ahadiths included him in disciples of Jabir bin Abdullah but did not tell us detail how he went Madina and joined study circle of Jabir bin Abdullah. My view is that when Moavia came in power after withdrawal of Imam Hassan then perhaps Attiya’s family  dicied to quit Kufa and went Madina and there in Madina Attiya joined circle of disciples of Jabir bin Abdullah. Attiya got Knowledge of Islamic history,Tafseer, Hadith, Quran and others branches of Islamic Knowledge from Jabir Bin Abdullah and also from Abdullah bin Abbas. His Tafseer-i-Quran was published in three volumes from Kufa. History tells us that Attiya Aufi like his father have great faith in Imam ali and other Imams of House of Muhammad. He was very vocal in support of camp of Imam Ali in Iraq. This was his bonding with Imam Ali and his camp which forced historians from courts of Umayyad and Abbasid to declare his opinion or narration –  روائت unacceptable in legal and faith matters while they wrote him ‘Weak’ – ضعیف .  but not a single historian from primary sources dared to write him ‘liar’ or accused of lie-  مھتم بالکذب. But Now-e-days we see Salafi or Deobandi historians or propagandists who not only reject Attiya Aufi but write him Rawfidi and thus distort personality of Attiya Aufi completely.They try to sideline Attiya Aufi and to make him less important or try to hide him from public in Muslim history. Wahhabi and Neo Deobandi camp funded by Saudis is running organized campaign against every that person who was in camp of Imam Ali in the days of Fitna. This camp never describe greatness of Jabir bin Abdullah and even avoids to mention of Jabir bin Abdullah. Saudi Camp spent its whole energy either to hide or to prove false the news of arrival of Jabir bin Abdullah along with Attiya at grave of Imam Hussain on 20th Safar. Salafi and Deobandi writers funded by Saudi Arabia in fact try to hide faces of real culprits involved in tragedy of Karbala and obfuscate identity of those people who committed heinous crimes against House of Muhammad while discrediting those personalities who honestly compiled Muslim history and never gave walkover to those culprits who killed thousands of people of Iraq just due to their love for Imam Ali and other members of House of Muhammad. Attiya Aufi is also victim of this false engineering made by Salafis and Deobandis. Modern Neo Deobandis and Salafis belong to Takfiri Fascism try to show events like Ashura or Procession of Milad and Arbaeen isolated from mainstream Islam and reject every tradition supporting these things.

 

Arrival of Jabir bin Abdullah at grave of Imam Hussain on 20th Safar,61 H was not such news  easily ignored. Jabir bin Abdullah has very special status in Islamic society. He was very active in Madina after withdrawal of Imam Hussain in support of House of Muhammad and Imam Ali. He set up a study circle in Mosque of Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  and he roamed in streets of Madina city particularly he contacted to Ansar of Madina and asked them to educate their children for love and respect of Imam Ali and his family. That was the era in which  Umayyad rulers have ordered their governors to force people to curse Imam Ali and his family. An organized campaign of character assassination of Imam Ali was in full swing not only in Hijaz but in Iraq and Syria also. To praise and to show love for Imams of House of Muhammad were unforgiveable crimes in eyes of Umayyads. Many Companions of Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  adopted silent path and they neither cursed Imam Ali and his family nor they stood against rulers of Umayyad. But Jabir bin Abdullah did not remain silent on this. He started a campaign for Imam Ali and his family. He started to narrate all those things which he had heard from Hazrat Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  in praise of Imam Ali, Imam Hassan, Imam hussain and others. When people ask him about Imam Ali then he says, Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  declared Imam Ali the best and most superior  man among all companion of mine and if you deny this then you are not true Muslim. So we can say that Jabir bin Abdullah was prominent leader of camp of Imam Ali in Madina and Attiya Aufi was also in that camp. To visit grave of Imam Hussain and paying him tribute from Jabir bin Abdullah was act to discredit all those effort of cursing Imam Ali and his family made by rulers of Umayyads. Rulers of Umayyad also saw Attiya Aufi as very dangerous man for their rule. Great Sunni historian Muhammad bin Saad registered an incident in his famous book Tabqaat-ul-Kabeer:

 خرج عطيّة مع ابن الأشعث على الحجّاج، فلمّا انهزم جيش بن الأشعث هرب عطيّة إلى فارس. فكتب الحجّاج إلى محمّد ابن القاسم الثقفي أن ادْعُ عطيّة فإن لعن عليّ بن أبي طالب وإلا فاضْرِبْه أربعمائة سوط واحْلق رأسه ولحيته. فدعاه فأقرأه كتابَ الحجّاج فأبَى عطيّة أن يفعل، فضربه أربعمائة وحلق رأسه ولحيته. فلمّا ولي قُتيبة خُراسان خرج عطيّة إليه فلم يزل بخراسان حتى ولي عمر بن هُبيرة العراق، فكتب إليه عطيّة يسأله الإذن له في القدوم فأذن له، فقدم الكوفة فلم يزل بها إلى أن توفّي سنة إحدى عشرة ومائة.

Attiya Aufi stood against Al-Hajjaj ibn Yusuf  along with army of Al-Ash’ath ibn Qays, When army of Al-Ash’ath ibn Qays defeated then Attiya fled to Persia. al-Hajjaj ibn Yusuf wrote a letter to his nephew Muhammad bin Qasim ( Yes, this is same Muhammad bin Qasim who is hero of Deobandis, Salafis and Jamat Islami Pakistan) and asked him to invite Atiyya Aufi and to order him to curse Imam Ali and if he would deny to do so then hit him four hundred sticks and saved his beard and head. Muhammad bin Qasim called Attiya and read letter of al-Hajjaj ibn Yusuf Attiya denied to curse Imam Ali and accepted 400 lashes and shaving his beard and head as punishment. When Qutayba ibn Abī Ṣāliḥ Muslim ibn ʿAmr al-Bāhilī became governor of Khurasan Attiya went there. When  Umar ibn Hubayra al-Fazari became governor of Iraq, he allowed Attiya to come back Kufa. Atiyya came in Kufa and remained there till his death. So we can see that Attiya faced great hardship, exile and punishment of lashes due to just only his bonding with Imam Ali and his family. He denied to compromise and to adopt silent path. Keep in your mind that incident mentioned above is in very authentic book al-Tabaqat al-Kabir and this book was compiled by Abū ‘Abd Allāh Muḥammad ibn Sa‘d ibn Manī‘ al-Baṣrī al-Hāshimī(Died 230H) and he has great status in Sunni School of thought. This book is so important that Sunni scholars managed to write its various copies.

https://en.wikipedia.org/wiki/Ibn_Sa’d

https://ar.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%A8%D9%86_%D8%B3%D8%B9%D8%AF_%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%AF%D9%8A

 

 (وتظهر أهمية كتاب الطبقات في كونه حوى كثيراً من الفنون العلمية في شتى الميادين المتخصصة، مما أهّله ليكون مرجعاً أساسياً لدى العلماء والباحثين، فهو مرجع أساسي في سيرة المصطفى وغزواته، ومعرفة دلائل نبوّته وشمائله، وهو مرجع أساسي في معرفة السنن والآثار لاشتماله على كمّ هائل من أقوال الصحابة والتابعين- بالإضافة إلى الأحاديث-، وهو مرجع أساسي في معرفة تراجم الرواة وأحوالهم وأنسابهم، ومنزلتهم في ميزان الجرح والتعديل، هذا فضلاً عن كونه مرجعاً أصلياً في علم الطبقات. فهو كتاب ينهل منه المحدّث والفقيه والمفسّر والمؤرخ والنسّابة والواعظ والداعية، وغيرهم. ولأجل هذا وغيره فقد اهتم العلماء بكتاب الطبقات اهتماماً كبيراً)

So this was Attiya Aufi who was co-traveler of Jabir bin Abdullah and preserved whole narration of this journey. Attiya Aufi describes, “that I accompanied Jabir bin Abdullah Ansari for the pilgrimage to the grave of Imam Husayn (a.s.). When we entered Karbala, Jabir went towards the river Euphrates and performed bath. Then he wore his pants and placed a robe upon his shoulders, and then he opened a purse of Sa’ad (a perfume) and applied it upon his body. He then started glorifying Allah at each step until he reached the grave, then he told me, “Bond me to the grave”. I joined him to the grave and he fell down unconscious upon it. I sprinkled water upon him and he regained consciousness while repeating thrice “O Husayn”! Then he said, “Why does the friend not reply to his friend? How could he reply when the blood of his neck lies smeared upon his throat, while there is separation between his head and body? I bear witness that you are the son of the best of women. And why would it not be so, when you have been fed by the hands of the Master of the Prophets, and brought up in the laps of the pious, and have consumed milk from the breasts of faith and you weaned along with Islam. You died in chastity as you lived in chastity, while the hearts of the believers are aggrieved due to your separation and there is no doubt in your fruitful end. Thus peace of Allah and His Paradise upon you! I bear witness that you have treaded the path similar to your brother (Prophet) Yahya bin Zakariyyah”. Then he turned his eyes upon the grave and said, “Peace be upon the souls that descended near the grave of Husayn (a.s.) and sat their camels thereat! I bear witness that you established the Prayers and you gave the Zakat, and you invited towards virtue and forbade against evil, and you fought against the pagans and worshipped Allah until death approached you. By Him Who sent Muhammad (S) rightly as a Prophet, we are associated with you in the struggle of yours”.

 

Atiyyah says that hearing this I asked, “How are we associated with them? When we did not alight at any valley or mountain, nor did we raise the swords. While these martyrs gave away their heads and bodies and are now separated from their children, while their women have been widowed?”

 

Jabir replied, “O Atiyyah! I have heard my friend, the Prophet of Allah (S) say, that those who love some men, they shall arise along with them, while those who are pleased at the task of the nation, remains associated with them in their task. By Him Who sent Muhammad (S) rightly as a Prophet! My intention and those of my companions are similar to that of Husayn (a.s.). Now take me to the houses of Kufa”.

 

When we had paved a short distance, he said, “O Atiyyah! I recommend to you, and I do not perceive that I shall meet you again after this journey, befriend the friends of the Progeny of the Prophet (S), and how I befriend them! And bear enmity with the enemies of the Progeny of the Prophet who bear enmity with them, although they be one of those who fast and remain awake at night (in worship). Then be merciful towards the friends of the Progeny of Muhammad (S), for if one of their feet slips due to access sins, the other one will remain steadfast due to their affection. Their friends shall return back to Paradise and their enemies to hell”.

 

This is very important story which was told us by Attiya Aufi and this story built mythology of Arbaeen and now this event has become global event. For Shiite and Sunnis its important has religious meaning but for whole humanity this event is source of showing their solidarity for all oppressed people in the world.