نورا الکوثر اور ملالہ یوسف زئی

 

 

 

 

سترہ نومبر 2016ء کو ڈچ زبان میں بنی فلم ‘لیلی ایم’ ریلیز ہوئی۔اس فلم کے ڈائریکٹر مائیک ڈی جونگ تھے۔اور اس فلم کا مرکزی کردار نورا الکوثر نے ادا کیا جو کہ مراکو نژاد ڈچ اداکارہ ہیں۔اس فلم میں نورا نے ایک ایسی کم عمر لڑکی کا کردار ادا کیا جو کہ نیدرلینڈ کے اندر برقعہ پہ پابندی لگ جانے اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ساتھ نسل پرستانہ امتیازی سلوک کے مظاہر میں اضافہ ہوجانے پہ پریشان ہوتی ہے۔اور یہ پریشانی اسے بنیاد پرستانہ خیالات کی جانب مائل ہوجانے پہ مجبور کرتی ہے۔

نورا الکوثر اسلامو فوبیا کے ابھار کے خلاف بنیاد پرستانہ مذہبی خیالات کی طرف مائل ہوتی ہے اور ایمسرڈیم میں وہ ایک ایسے بنیاد پرست گروپ کے ساتھ جڑ جاتی ہے جو مڈل ایسٹ میں ابھرنے والی جہادی تحریکوں سے منسلک ہوتی ہے۔اس گروپ کا شام میں برسر پیکار سلفی وہابی جہادی گروپ داعش بھی تعلق ہوتا ہے۔نورا الکوثر اپنی تعلیم سے بے گانہ ہوجاتی ہے، اس دوران اسے ایک بنیاد پرست جہادی کے ساتھ عشق ہوجاتا ہے اور وہ اس سے شادی کرلیتی ہے اور پھر یہ دونوں ایک سادہ اور اسلام کے ساتھ مطابقت رکھنے والے معاشرے کی تلاش میں اردن آجاتے ہیں۔اور وہاں سے ان کی شام جانے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

 

Noura Al-Kausar

 

نورا الکوثر ڈچ سماج کے اندر صرف اسلامو فوبک خیالات سے ہی نہیں لڑرہی ہوتی ہے بلکہ اسے اپنے گھر اور گھر سے باہر بطور عورت کے بھی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا احساس ہوتا ہے اور وہ بظاہر اپنی مرضی اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہش رکھتی ہے۔اسے اپنے طور پہ ایسا لگتا ہے کہ بنیاد پرستانہ مذہبی تعبیر کے تحت وہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکے گی۔لیکن اردن اور شام میں جب وہ بنیاد پرست اپنے شوہر کے ساتھ پہنچتی ہے تو اسے وہاں پدرسریت میں جکڑا ایک اور طرح کا سماج ملتا ہے جو اسے آزادی کے ساتھ خود اپنے شوہر سے ملنے جلنے سے روکتا ہے اور اسے گھر کی چار دیواری تک محدود کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

 

C03WgrIW8AEfaib

 

نورا الکوثر کو بنیاد پرستوں میں جاکر پتا چلتا ہے کہ خود ان بنیاد پرستوں کے عورتوں کے بارے میں کس قدر پسماندہ خیالات ہیں اور یہ خود کتنے تنگ نظر ہیں۔اور اس طرح سے نورا الکوثر عرف لیلی ایم واپس لوٹ آتی ہے۔

 

WEB.NORA_.Layla2_

نورا الکوثر کے فلم میں مرکزی کردار اور اس کی اداکاری کو کافی سراہا گیا۔اور نورا الکوثر کو پورپ،امریکہ، افریقہ اور مڈل ایسٹ میں ترقی پسند،لبرل اور روشن خیال حلقوں میں پذیرائی ملی اور ان کا پروفائل کافی آگے چلا گیا۔

لیکن اس فلم کے منظرعام پہ آنے کے بعد نیدر لینڈ سمیت ہر ایک یورپی ملک اور خود امریکہ میں بھی نسل پرستوں اور اسلامو فوبیا کے شکار حلقوں نے نہ صرف اس فلم پہ شدید تنقید کی بلکہ انہوں نے نورا الکوثر کی مغرب میں اس پذیرائی پہ بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔

نورا الکوثر کو جب معروف گولڈن کاف ایوارڈ برائے بہترین اداکارہ دیا گیا تو گویا ایک طوفان ہی آگیا۔معروف ڈچ اسلامو فوب بلاگر مارٹن پیننگ نے نورا الکوثر کو ‘ذہنی بیمار’ قرار دیا اور اسکی سانولی رنگت پہ طنز کرتے ہوئے کہا کہ ‘کالی چمڑی والا مجرم ہی کیوں نہ ہو امریکی سماج اسے سر آنکھوں پہ بیٹھاتا ہے’

 

nora-el-koussour-met-gouden-kalf

نورا الکوثر کو یورپی سماج اور امریکہ کے اعتدال پسندوں میں پذیرائی کے خلاف نسل پرستوں، نو قدامت پرست مسیحی بنیاد پرست حلقوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا عمل کسی حد تک پاکستانی نژاد ملالہ یوسف زئی پہ مسلم بنیاد پرستوں کی تنقید سے ملتا ہے۔بنیاد پرست حلقوں کی جانب سے ملالہ کو اسلام کے مبینہ دشمنوں کا ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے تو نورا الکوثر پہ جہادی عسکریت پسندوں کا حامی ہونے کا الزام دھرا جارہا ہے

 

 

ڈچ اسلاموفوبک بلاگر نے اپنے بلاگ کی سرخی لگائی

‘ذہنی بیمار نوراا الکوثر مراکشی ہونے کی بنا پہ گولڈن کاف ایوارڈ جیت گئی’

اور دوسرا اقتباس ظاہر کرتا ہے کہ اسلامو فوب بلاگر مراکشی مسلمانوں میں اعتدال پسندی اور اسلام بارے پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش سے اسلاموفوب اور نسل پرستوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔

ملالہ یوسف زئی کے بارے میں مسلم بنیاد پرستوں اور مذہبی انتہا پسندوں کو یہ تکلیف ہے کہ وہ مغربی دنیا کے سامنے جہاد ازم،فرقہ پرستانہ عسکریت پسندی اور ایسے ہی اسلامی معاشروں میں پھیلے دیگر انتہا پسند نظریات اور تنظیموں کے مقابلے میں اعتدال پسندانہ اسلام کی تصویر کیوں پیش کرتی ہے اور کیوں بنیاد پرست تنظیموں جیسے طالبان و سپاہ صحابہ وغیرہ ہیں کو اقلیتی ٹولہ قرار دیتی ہے۔

 

Mentally ill girl Nora El Koussour wins Golden Calf via Moroccan Privilege

 

And then Nora El Koussour spoke . I had not noticed that film and the noise around it. That film – “Layla M.” – I told you, is about a Dutch-Moroccan teenage girl played by Koussour that “radicalises” and goes to Syria. Koussour is another example of a girl who is cuddled up via the Moroccan Privilege . And just like the “Maids of Halal” she is allowed to tell on television how much discrimination is and how beautiful Islam is.

Advertisements

استاد سبط جعفر:جس کا مولا تھا میں اس کا مولا علی

 

 

آج اٹھارہ مارچ 2018ء ہے۔اور آج سے پانچ سال پہلے اسی دن پروفیسر سبط جعفر پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج لیاقت آباد(لالو کھیت) کراچی اپنی موٹر سائیکل پہ گھر واپس لوٹ رہے تھے کہ ایک سپیڈ بریکر ان کی بائیک جیسے ہی آہستہ ہوئی تو موٹر سائیکل پہ سوار دو افراد نے ان پہ نائن ایم ایم پسٹل سے فائر کھول دیا۔ان کو متعدد گولیاں ماری گئی تھیں اور وہ موقعہ پہ ہی شہید ہوگئے۔اپریل 2013ء میں ان کے دو قاتل گرفتار کرلیے گئے۔اس وقت کے ایس ایس پی فیاض احمد نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ پروفیسر سبط جعفر کا قتل سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت کے کارکن شیخ محمد اطہر عرف خالد اور محمد شاہد عرف چورن نے کیا۔یہ دونوں سپاہ صحابہ پاکستان کے رکن تھے اور ساتھ ہی لشکر جھنگوی کے بخاری گروپ کا حصّہ تھے جس کا الحاق تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔

پروفیسر سبط جعفر،استاد سبط جعفر کے نام سے مشہور تھے۔وہ کراچی کے تعلیمی، سماجی فلاحی اور ادبی حلقوں میں بہت عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ان کے شاعری اور تعلیم کے میدان میں سینکڑوں شاگرد تھے۔کئی ادبی و سماجی تنظیموں کے قیام میں انھوں نے اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔انتہائی درویش صفت آدمی تھے۔برسوں سے لوگ ان کو ایک موٹر سائیکل پہ سوار پورے شہر میں ایک کونے سے دوسرے کونے میں آتے جاتے دیکھتے تھے۔ ان کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ آپ جب بھی ان کو مدد کے لیے پکاریں گے استاد موٹربائيک پہ آپ کے پاس حاضر ہوجائیں گے۔اور اس معاملے میں وہ رنگ،نسل،ذات پات،فرقہ،برادری کسی چیز کی پرواہ نہیں کریں گے۔ان کے قتل نے کراچی میں بسنے والے ہر شخص کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

یہاں پہ سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اتنا ہر دل عزیز اور درویش صفت آدمی کو کیوں مارا گیا؟ان کو مار کر کن مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس سے معاملہ کرتے ہوئے پاکستان کا مین سٹریم میڈیا ابہام پرستی،جواز مائل یا بعض  اوقات ذمہ داران کی شناخت سے نفی کی جانب چلا جاتا ہے۔

پاکستان کے قیام سے قریب قریب 14 سال پہلے 1929 کے آخر اور 1930 کے آغاز میں لکھنؤ میں دارالعلوم دیوبند سے تعلق رکھنے والے مولوی عبدالشکور لکھنؤی،لاہور سے تعلق رکھنے والے احراری دیوبندی مولوی اظہر علی نے آل انڈیا مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کے خلاف اچانک سے مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے تکفیری مہم شروع کی۔اور ایسے شواہد موجود ہیں کہ دیوبندی سخت گیر مولویوں کی اس تکفیری مہم کے پیچھے آل انڈیا کانگریس میں موجود مہا سبھائی عناصر تھے جنھوں نے ان مولویوں کو کافی پیسہ فراہم کیا۔

حال ہی میں آکسفورڈ پریس پاکستان سے  چھپنے والی کتاب’ جمال میاں-دی لائف آف مولانا جمال الدین عبدالوہاب فرنگی محلی بھی ہمیں اس مسئلے پہ کافی روشنی ڈالتی محسوس ہوتی ہے کہ کیوں دیوبندی علماء کے کانگریس نواز  دھڑے جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار اسلام کی قیادت نے تکفیری مہم کا آغاز کیا۔

اس کتاب کے مصنف فرانسس رابنسن نے بہت عرق ریزی سے تحقیق کرکے دارالعلوم فرنگی محل کے مولانا عبدالباری فرنگی محلی ،ان کے بیٹے مولانا جمال الدین عبدالوہاب فرنگی محلی کا خلافت کمیٹی میں جمعیت علماء ہند کی دیوبندی قیادت اور بعد میں بننے والے مجلس احرار کے ابن سعود کی طرف جھکاؤ اور صوفی سنّی مسلمانوں کو دھوکا دینے کی تفصیل مہیا کی ہے۔اور بتایا ہے کہ اس کے بعد دارالعلوم فرنگی محل کا جھکاؤ آل انڈیا مسلم ليگ کی طرف ہوگیا۔اور مولانا عبدالباری فرنگی محل کے بیٹے مولانا جمال الدین فرنگی محلی نے لکھنؤ کے راجہ آف محمود آباد، ممبئی پریذیڈنسی کے اصفہانی برادران کے ساتھ ملکر خاص طور پہ یوپی،سی پی ، بنگال اور ممبئی پریذیڈنسی میں کانگریس نواز دیوبندی دھڑے کے  مولویوں کا اثر توڑنے کے لیے بھرپور مہم چلائی۔

دارالعلوم فرنگی محل اور راجا آف محمود آباد کے درمیان باہمی تعلقات کی ایک علامتی اہمیت یہ تھی کہ یہ صوفی سنّی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان مثالی ہم آہنگی کا سبب بن رہی تھی۔یو پی،سی پی،بنگال،اور ممبئی کے اندر آل انڈیا مسلم لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے کانگریس کو بوکھلادیا تھا اور جو سرمایہ دار اور زمین دار جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار کو سرمایہ فراہم کرتے تھے ان کا دباؤ بھی مولویوں پہ بڑھ گیا۔

قائد اعظم محمد علی جناح،راجا آف محمود آباد،خان لیاقت علی خان،خواجہ ناظم الدین ؛ایم ایچ اصفہانی اور دیگر صف اول کے لیگی قائدین یا تو شیعہ تھے یا صوفی سنّی تھے۔ان کو نیچا دکھانے کے لیے احرار اور جمعیت علمائے ہند کے مولویوں نے اینٹی شیعہ اور اینٹی صوفی سنّی بیانیہ اختیار کیا۔اور ان کی پوری کوشش تھی کہ مسلمانوں کے درمیان شیعہ-سنّی منافرت کی آگ بھڑکادی جائے اور اس طرح سے آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاست کو بھی غیر موثر بنادیا جائے۔

اس مہم کے پیچھے خود بنیے ساہوکاروں اور بزنس برادری کا بھی مفاد وابستہ تھا۔اصفہانی برادران،سیٹھ حبیب، آدم جی اور ایسے ہی کچھ اور مسلم سرمایہ دار کمیونٹی خاص طور پہ ممبئ اور کلکتہ کے اندر سے اپنے بزنس کو دیگر علاقوں میں پھیلانے کی کوشش کررہے تھے۔اصفہانی اور آدم جی کا کاروبار مڈل ایسٹ،افریقہ کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے شہروں میں پھیل رہا تھا اور اس میں ان کا مقابلہ ہندؤ مرکنٹائل بزنس کمیونٹی سے تھا۔اور اس وقت کی ہندوستانی سوسائٹی میں فرقہ پرست تحریکوں کے پیچھے اس تضاد کا بھی بڑا دخل تھا۔اور جمال الدین فرنگی محلی کو بھی اصفہانی برادران نے تجارت میں گھسیٹ لیا تھا،اس بارے میں جمال الدین نے بتایا،

‘Jinaah had asked Mirza Ahmed(Isphani)to help Jamal Mian. He said,according to Mirza  Ahmed: ‘The Maulwis and Ulemaof Jamiatul Ulama are accusing me a lot of problems…. But I have met one young Maulwi who is equalto all of them and he is great orator.I went to him to stand   on his feet so he does not have any financial problems.’

Jamal Mian,P126,Oxford Press Pakistan

جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار اسلام جن کو کانگریس پورے ہندوستان کے مسلمانوں کا ترجمان بناکر پیش کرتی تھی اور آل انڈیا مسلم لیگ کو وہ ایک فرقہ پرست جماعت بناکر دکھاتی اور اس نے اپنے حامی کانگریسی ملّاؤں کی صوفی سنّی ، شیعہ اور احمدیوں کے خلاف سرگرمیوں سے آنکھیں بند کررکھی تھیں،جیسے اس نے ہندؤ مہا سبھائیوں کی سرگرمیوں پہ آنکھیں بند کی ہوئی تھیں۔حقیقت میں کانگریس مسلمانوں کے درمیان بدترین فرقہ پرستی کا کارڈ دیوبندی انتہا پسند مولویوں کے سہارے کھیل رہی تھی۔اور اس کھیل کی یوپی کے اندر سب سے بڑی مزاحمت دارالعلوم فرنگی محل کے فرزند ارجمند مولانا جمال میاں اور راجا آف محمود آباد کی طرف سے کی جارہی تھی۔یہ حقیقت ہے کہ صوفی سنّی اور شیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت کانگریسی ملّاؤں کی سازش کا ادراک کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی۔اور تو اور خود دیوبندی علماء میں مولوی اشرف علی تھانوی کی قیادت میں بھی ایک گروپ دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء ہند کی سیاست کو پہچان گیا تھا اور ان سے الگ ہوگیا تھا۔راجا آف محمود آباد کا مولانا جمال الدین فرنگی محلی سے کیا تعلق تھا،اس سے پہلے آپ راجا آف محمود آباد کے بارے میں تھوڑا سا جان لیں۔

The Raja Mahummad Amir Ahmad Khan of Mahmudabad was arguably an even closer friend of Jamal Mian Than Dr Faridi.The two were distantly related. But the Raja,as the largest Musim landholder in the UP,lived a different life with differen responsibilities. Neverthless, they shared a love of Urdu and Persian poetry(the Raja’s Takhullus was ‘Mahboob’..) They were both particularly devout. This said,that Raja was a Shia, indeed a prominent supporter of a Shia missionary college, the Madrasat-ul-Waizeen and Jamal Mian was a devout Sunni seemed to make no difference to their personal coloseness.

Jamal Mian..P140-41 Oxford Press Pakistan

ایک خط میں راجا آف محمود آباد جمال میاں کو لکھتے ہیں

Maulvi Hazrat Hujjatul Islam,Faqih ul Mominin, Moin ul Millet, Qari o Hafiz ul Quran, Maulvi, Allama Jamaluddin Abdul Wahab Saheb, Sullamahu, I give my respect to your letter,affection,truthfulness and wisdom…the eye of effection which you have bestowed on this poor,wretch faqir,Amir.

We got the lawyer,sought an omen(Istakhara)and turned this lawyer into Quaid-i-Azam.”

انیس سو چالیس کے ایک خط میں انہوں نے لکھا

“Sarkar Maulana I wish you Slaams. The Mullah runs to Masjid and I run to you.”

تو ہندوستان کے سب سے اہم اور بڑے صوبے کے دو بڑے مسالک سنّی اور شیعہ کے دو انتہائی اہم اور بڑے اثر کے حامل سیاست دانوں کے درمیان اس ہم آہنگی نے واقعی آل انڈیا کانگریس اور اس کے اتحادی مولویوں کو گڑبڑا دیا تھا۔کانگریسی دیوبندی مولویوں نے اس کا توڑ اینٹی شیعہ اور اینٹی صوفی سنّی پروپیگنڈے سے کیا اور شیعہ اور صوفی سنّی اسلام دونوں کے خلاف کفر،شرک اور بدعت کا ہتھیار استعمال  کرنا شروع کردیا۔

پاکستان کی تشکیل ان مولویوں کے لیے بہت بڑی ہزیمت اور شکست کا باعث تھی اور انھوں نے اس کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان کے اندر اپنے فرقہ پرستانہ ڈسکورس کو پھیلانا بند نہ کیا۔اور یہ قائد اعظم محمد علی جناح، خان لیاقت علی خان،جمال میاں،راجا آف محمود آباد سمیت کئ صف اول کے سیاست دانوں کی شیعہ اور صوفی سنّی شناخت کو کبھی فراموش نہیں کرسکے۔اور دارالعلوم دیوبند کے اندر سے اٹھنے والے تکفیری فتنے نے اپنے آپ کو منظم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

اسّی کی دہائی میں دارالعلوم دیوبند کے تکفیری فاشسٹ منظم نیٹ ورک کو آل سعود کی ایرانیوں سے لڑائی،سی آئی فنڈڈ افغان جہاد اور جنرل ضیاء الحق کی آمریت نے مزید پھیلنے اور اپنی عسکریت پسند مشین کو اور ہلاکت انگیز بنانے کا موقعہ فراہم کردیا۔انجمن سپاہ صحابہ پاکستان کی شکل میں اس تحریک کو پھر سے زندہ کیا گیا جو مجلس احرار اور جمعیت علماء ہند کے مولویوں نے یوپی اور پنجاب میں شیعہ اور صوفی سنيوں کے خلاف شروع کی تھی۔

اس تکفیری مہم کا سب سے بڑا ہدف محرم اور میلاد،عرس و میلوں کی ثقافت تھی۔اور اس ثقافت کے جتنے بھی پروان چڑھانے والے تھے وہ اس تکفیری فسطائی تحریک کے دشمن ٹھہرگئے۔اور ان کے خلاف بدترین پروپیگنڈا مشین متحرک ہوئی اور ساتھ ساتھ پاکستان میں صلح کلیت اور سب کے ساتھ امن کا پرچار کرنے اور آل بیت اطہار سے محبت اور وابستگی کا اظہار کرنے والے شاعر،دانشور،ادیب ان کے پروپیگنڈے،سعودی فنڈنگ،ضیاء الحقی اسٹبلشمنٹ کی مدد سے تیار ہونے والے عسکریتی دہشت گرد نیٹ ورک کا سب سے بڑا ہدف قرار پائے۔

سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت دیوبند کے اندر سب سے بڑا منظم تکفیری فاشسٹ تنظیمی نیٹ ورک ہے جس کی سرپرستی میں تکفیری عسکریت پسند ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔اس کا سب سے بڑا مقصد شیعہ اور سنّی مسالک کے درمیان نفرت،دشمنی اور لڑائی کو پروان چڑھانا ہے اور یہ صوفی اسلام سے بھی اسی لیے نفرت کرتے ہیں کہ وہ ان کی منافرت پہ مبنی تحریک کو مدد فراہم نہیں کرتے اور پاکستان میں شیعہ سنّی جنگ کا میدان سجانا نہیں چاہتے۔

استاد سبط جعفر اپنی شاعری اور تعلیمی میدان میں خدمات کے زریعے سے شیعہ اور سنّی مسلمانوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے میں لگے ہوئے تھے۔وہ محرم کی ثقافت کے مشترکہ ہونے پہ اصرار کرتے اور میلاد و عرس و میلوں کو بھی اپنی ثقافت قرار دیتے تھے۔سپاہ صحابہ کی تکفیریت کا مشن اس سے متاثر ہورہا تھا۔انہوں نے ایک دن استاد سبط جعفر کے فن کے سبب ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے معروف صوفی سنّی قوال امجد صابری کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔امجد صابری کے قاتلوں نے خود اعتراف کیا کہ ان کو امجد صابری کے شیعہ اور سنّی مخلوط اجتماعات میں آنے جانے پہ سخت تکلیف تھی۔

تکفیری فاشزم کا نصب العین یہ ہے کہ جو آدمی بھی شیعہ-سنّی مشترکات پہ زور دے اور ان کے درمیان ہم آہنگی اور میل جول پہ اصرار کرے اس کو کافر،مرتد، گستاخ اور بے دین کہہ کر قتل کردو۔

استاد سبط جعفر، امجد علی صابری، پروفیسر ڈاکٹر حیدر علی سمیت سینکڑوں نامور لوگ صلح کلیت اور شیعہ-سنّی ہم آہنگی کے پرچارک ہونے کی وجہ سے قتل ہوگئے۔اور قاتل ایک ہی ذہنیت تھی جسے ہم تکفیری دیوبندی ذہنیت کہتے ہیں۔اور اس بات پہ تکفیریوں کو تو مرچیں لگتی ہی ہیں ساتھ ساتھ نام نہاد لبرل،ترقی پسند اور کئی ایک لیفٹ کا ماسک چڑھائے لوگوں کے منہ بھی بگڑ جاتے ہیں۔لیکن سچ بات کہنے سے ہمیں کون روک سکتا ہے۔

استاد سبط جعفر کے قتل سے شیعہ-سنّی يکانگت میں اور اضافہ ہوا ہے۔اور تکفیری فاشزم اور بے نقاب ہوا ہے۔جس طرح پوری دنیا میں تکفیری فاشزم کی علمبردار جماعتوں اور دہشت گردوں کو منہ کی کھانی پڑ رہی ہے پاکستان میں بھی ان کی شکست نوشتہ دیوار ہے۔استاد سبط جعفر اور امجد علی صابری جیسوں کا خون ناحق رائیگاں نہیں جائے گا۔

 

مقامی آدمی کا موقف-پہلا حصّہ

رفعت عباس

 

میں ویسے تو بڑا سوشل لگتا ہوں۔یہاں وہاں سب جگہ میرے جاننے والے رہتے ہیں،یا وہ اور میں ایک دوسرے کو  جانتے ہیں یا میں ان کو جانتا ہوں یا وہ مجھے جانتے ہیں۔باہر ایسے لگتا ہے جیسے میں کوئی ایسا آدمی ہوں جس کا میل میلاپ اتنا ہے کہ میرے پاس کسی کو ملنے کی فرصت نہیں ہوگی۔لیکن اندر جب جھانکتا ہوں تو گھپ اندھیرا دکھائی دیتا ہے۔

میرے پڑدادا،پڑدادی اور دادا دادی اور ان کے دیگر لوگ 47ء میں ایک بڑی مار کاٹ کے سامنے بڑی مشکل سے جان بچاکر پاکستان آئے۔میرا خاندان اصل میں اودھ کی تہذیب اور ثقافت سے جڑا ہوا تھا اور  کچھ لوگ جمنا کے اس پار اس وقت کے پنجاب اور آج کے ہریانہ کے حصار،بھوانی، روہتک اور اس زمانے کے سونی پت اور آج کے کروکیشتر میں جمنا کے کنارے رہ رہے تھے۔گویا میرے خاندان کا کوئی تہذیبی شعور تھا تو وہ اودھی-ہریانوی کا آمیزہ تھا اور اس میں ہریانوی،برج بھاشا،بھوجپوری،اودھی اور ان سب کے آمیزے سے تشکیل پانے والی ہندوستانی جو آگے چل کر ہندی-اردو میں بدل گئی بھی ہمارے گھرانے کا امتیاز بن گئی تھی۔

لیکن اس ہجرت نے ہمارے ساتھ یہ کیا کہ ہم اس ساری تہذیب اور ثقافت سے کٹ گئے اور ایک دم سے ایک اور ثقافتی ماحول میں پہنچ گئے۔میرا خاندان ہجرت کرکے تین خطوں میں آگیا جو بنیادی طور پہ انڈس/سندھو تہذیب سے جڑے تھے۔ایک حصّہ تو لاہور اور اس کے گردنواح میں آکر جم گیا۔دوسرا حصّہ ملتان اور اس کے گردونواح میں اور تیسرا کراچی اور سندھ میں۔اور میری جیسی نسل جس نے 70ء کے عشرے میں شعور سنبھالنا شروع کیا وہ ان تینوں علاقوں میں فٹ بال بنی گھومتی رہی۔ہمارے خاندان،برادری اور علاقے کے لوگوں نے تو یہ کیا کہ دوسرے غیر پنجابی ہندوستانیوں کے ساتھ ملکر ریاست پاکستان میں پنجابی اور یوپی سی پی کے اشراف کی جانب سے پیش کیا جانے والا نیا بیانیہ اپنا لیا۔اور وہ یہ تھا کہ ‘سب مسلمان ایک قوم ہیں۔ان کی قومی زبان اردو ہے اور ریاست کا مذہب اسلام ہے۔’ اور انہوں نے پاکستان کی حکمران اشرافیہ کی جانب سے مقامیت کا انکار اور اس سے ابھرنے والی کسی بھی شناخت کو اسلام اور ریاست کے خلاف سازش ہے کا بیانیہ بھی قبول کرلیا۔

آج جب ستر سال گزرگئے ہیں تو غیر پنجابی علاقوں سے ہجرت کرکے آنے والے ہندوستانی مہاجروں کے گھرانوں کی نئی نسل کی بھاری اکثریت جن کے گھروں میں آج بھی ان کے علاقوں کی بولیاں اور لہجے مروج ہیں کے پاس نہ تو اپنے بزرگوں کی سرزمین کی ثقافت اور زبان کا کوئی شعور موجود ہے اور وہ چھٹ گئی اور چھڑادی گئی مقامیت کا ہلکا سا بھی احساس بھی اپنے اندر نہیں پاتے اور دوسرا المیہ یہ ہے کہ ستر سال سے وہ جس مقامیت میں رہتے ہیں،نہ اس زبان سے ان کی وجودی جڑت ہے اور نہ اس مقامیت نے ان کی روحوں کے اندر جگہ بنائی ہے۔اکثریت کو سرائیکی، سندھی بالکل بھی نہیں آتیں اور پنجابی تو خود پنجابیوں کو نہیں آتی ہندوستانی مہاجروں کی نسل کو کیا آئے گی۔

بندوبست پنجاب میں جی ٹی روڈ کے ساتھ علاقوں میں جہاں پہ مشرقی پنجاب جو اب بقیہ ہندوستان کا حصّہ ہے پنجابی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بولی جانے والی زبان ہے۔اور پھر وہ علاقے جو کبھی جنگل بیلے ہوا کرتے تھے اور کینالائزیشن اور کالونائزیشن نے اس خطے میں پنجابی آبادکاروں کو بڑی تعداد میں لاکر بسایا اور مقامی باشندے کی زبان’جانگلی’ قرار پائی اسے اکثریت پنجابی کا لہجہ مان کر قبول کرلیا ہے۔اس علاقے کے وٹو ہوں، سیال ہوں، نول ہوں، سپرا ہوں،چدھڑ ہوں،مہانے ہوں، کٹانے  ہوں ان سب نے اپنے آپ کو پنجابی کا حصّہ مان لیا ہے۔اور ان علاقوں میں بسنے والے ہریانوی،دہلی والے اور یوپی کے شہروں اور دہیاتوں سے یہاں آکر بسنے والوں نے اپنی ہندوستانی زبانوں اور لہجوں کو گھروں میں کسی حد تک باقی رکھا لیکن نئی نسل میں خود کو اردو سے جوڑنے کا رجحان زیادہ ہے۔ایک بہت چھوٹی سی اقلیت ہے جو انگریزی سے جڑگئی ہے۔جب پنجابی جن کی مادری زبان ہے ان کا مکالمہ پنجابی میں نہیں ہے تو ہندوستانی مہاجروں کی اولاد کا کیوں ہوگا۔

اس لیے پنجابی جن کی مادری زبان ہے ان کی اکثریت اور اردو یا دیگر ہندوستانی زبانیں بولنے والے مہاجروں کی جو اولاد ہے ان کی اکثریت کے ہاں’مقامیت’ اور اس سے جڑی ثقافت ،زبانیں، بولیاں اور اس پہ استوار ہونے والی قومیت جیسی اصطلاحیں کسی ‘جناتی زبان’ کے الفاظ لگتی ہیں۔اور اس لیے بندوبست پنجاب میں ان کو یہ سمجھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کہ قومی تضاد، قومی سوال کی بنیاد کیوں بنتا ہے۔

ریاست پاکستان کے بننے سے پہلے اور بننے کے بعد ایک تاریخی مصنوعی شعور پیدا کیا گیا۔اور آج یہ مصنوعی تاریخی شعور ہماری نصابی کتابوں،اردو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور بڑی تعداد میں سرکاری لائن کی پیروی کرنے والے ادیبوں،ماہرین تاریخ و سماجیات یہاں تک سائنس دانوں کی علوم طبعی پہ لکھی کتابوں میں بھی تاریخ کا آغاز یا تو 712ء میں محمد بن قاسم کے سندھ پہ حملے سے ہوتا ہے یا اس کا آغاز وسط ایشیاء اور افغانستان سے ہوئے حملوں سے ہوتا ہے۔اور اس تاریخ سے مقامیت  بالکل خارج کردی جاتی ہے۔

لیکن سب مہاجر ایسے نہیں تھے۔کچھ ایسے بھی تھے جو وہاں ہندوستان میں ہی اس زمانے میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور اس زمانے کی سوشلسٹ و قومی آزادی کی تحریکوں سے جڑگئے تھے اور ان کے ہاں کسی نہ کسی طرح مقامیت اور اس کی اہمیت کا احساس زندہ تھا۔ان میں کچھ میرے خاندان کے لوگ بھی تھے۔جنھوں نے مجھے اودھی،بھوجپوری،برج بھاشا،ہریانوی اور اس سے جنم لینے والی ہندوستانی اور خود اردو و ہندی کی مقامی بنیادوں بارے بتایا اور اس کا احساس دلانے کی کوشش کی۔اور پھر جس خطے میں وہ آئے تھے اس خطے کی مقامیت اور اس سے ابھرنے والی زبانوں اور ثقافتوں بارے بھی بتایا۔میرے ابتدائی شعور نےمجھے اپنے اندر ایک عجیب سے گھپ اندھیرے کا احساس دلایا۔اور یہ گھپ اندھیرا میرے اجداد کی جبری ہجرت سے پیدا ہوا تھا اور اس اندھیرے کی وجہ مقامیت میں انجذاب ہونے کا انتہائی سست ترین پروسس تھا۔

جن شہروں میں میرا بچپن،لڑکپن اور پھر جوانی کے دن گزرے وہاں ہجرت کے جبر سے مقامی آبادی تو پہلے ہی رخصت ہوگئی تھی یا ہجرت سے پہلے ‘آبادکاروں’ کی شکل میں وہ پہلے ہی اجنبی تھے۔ان کی جگہ جنھوں نے لی وہ بھی مقامی آبادی کی زبان منڈی،بازار میں بس ضرورت کے تحت بولتے تھے اور مقامیوں کو شہروں میں آکر یا پڑوس کے مہاجر گھروں کی اکثریت والے چک یا گاؤں میں اپنی زبان ترک کرنا پڑتی تھی۔اسکول،کالج اور یونیورسٹی میں اردو کی باہمی بول چال اور لکھنے پڑھنے کی زبان تھی۔عوام کے جتنے لوگ جو پڑھتے تھے وہ اردو زبان میں تھا۔اور ایسے میں یو پی-سی پی کی مہاجر اشرافیہ اور پنجابی اشرافیہ کا باہمی گٹھ جوڑ اور ان کے جونئیر شراکت دار بلوچ،سندھی، سرائیکی(اس وقت تک یہ خود کو بڑے دھارے میں پنجابی اور چھوٹے دھارے میں ملتانی،ریاستی،ڈیروی وغیرہ کہتے تھے) اشراف جاگیردار اور ایک بہت چھوٹی نہ ہونے کے برابر کی پڑھی لکھی مڈل کلاس بھی اپنے آپ کو اس مصنوعی تہذیب اور ورثے کا امین بتاتی تھی جسے اسلامی تہذیب و ثقافت کا نام دیا گیا تھا جو زیادہ سے زیادہ مسلم اشراف گھرانوں کا چلن کہا جاسکتا تھا۔

یہ آرٹیفیشل،مصنوعی اور زبردستی سے ریاستی طاقت اور جبر اور سب سے بڑھ کر کافی مہارت سے کی جانے والی ہیرا پھیری کے راستے سے تیار کیا جانے والا بیانیہ ہے جو پاکستان کے علاقوں پہ مسلط کردیا گیا اور اس کا سب سے بنیادی مرکز تھا مقامیت کی نفی۔یہ سب کس لیے کیا گیا۔اس کا سب سے بڑی سبب یہ تھا کہ مقامیت کا اثبات کرنے سے جو حکمرانی ہے اسے سب سے پہلے تو برابری کی بنیاد پہ بنگالی،سندھی،بلوچ اور پشتون سیاسی حریفوں سے بانٹنا پڑتا اور ایسا کرنے کی صورت میں ہندوستان سے آنے والی مسلم لیگ کی جاگیردار سیاسی اشرافیہ اور پنجاب کی جاگیردار اشرافیہ اور ایسے ہی پاکستان کی نئی بننے والی برطانوی باقیات میں پہلے سے بندوبست پاکستان کے اندر بابو شاہی میں نمائندگی کا غیر معمولی اور عدم توازن سے بھرپور  سٹرکچر بھی بدلنا پڑتا۔اس حوالے سے جو اقدام اٹھائے گئے ان کا جواز لانے کے لیے قوم،زبان کے سوالوں کو مذہبی بنادیا گیا۔اسلامی زبان کے معیار پہ اردو پورا اتری اور اسلامی قوم کا معیار پاکستانی قوم بن گئی جس کا مطلب تھا مسلمان قوم اور قومیتوں اور اس کی بنیاد پہ ثقافتی طور پہ ہم آہنگ علاقوں کی شناخت کا ہی انکار کردیا گیا۔تاکہ سیاسی،معاشی،آئینی،قانونی حقوق کی مانگ قومیتی بنیادوں پہ کی نہ جاسکے اور اسے ریاست کے خلاف سازش، غداری اور سب سے بڑھ کر اسلام دشمنی قرار دے دیا جائے۔اور ساتھ ساتھ مقامی لہجوں،بولیوں،زبانوں اور اس سے جڑی ثقافتوں کی تحقیر کی جائے،اس کو مہذب ہونے،تعلیم یافتہ ہونے کے خلاف گردانا جائے۔تحقیر و حقارت کو اسقدر عام کردیا جائے کہ مہاجر اور آبادکاروں کی  اولادیں خود اپنے ثقافتی ورثے کی تحقیر کریں اور جو مقامی آبادی ہے وہ بھی اپنے ورثے سے بے گانہ ہوجائے۔اور کسی قسم کی آئین سازی میں اگر ‘فیڈریشن’  کا تصور بروئے کار آئے تو اس کی اکائیوں کو ‘انتظامی’ اکائیاں گردانا جائے ناکہ ان کو ہزاروں سال کے سفر کے بعد تشکیل پانے والی ثقافتوں کی نمائندہ اکائیاں مانا جائے۔کیونکہ اس صورت میں تو مقامیوں کا حق فائق اور اولین ترجیح بن جاتا ہے۔

اس ساری بہت مہارت سے کی گئی ریاستی سطح کی ہیرا پھیری نے پہلے بنگالیوں کو جگایا اور پھر ون یونٹ کے قیام نے یہاں پشتونوں،بلوچ،سندھیوں کو بھی جگادیا۔اور 71ء میں پاکستان کے دولخت ہوجانے اور بنگلہ دیش بننے کے بعد جب 1973ء کا آئین بنا اور اس آئین میں اگرچہ ایک بار پھر فیڈریشن انتظامی اکائیوں کا مجموعہ تھی لیکن اس میں ریاست بہاول پور کے خاتمے اور اس کے بعد آئینی طور پہ بھی وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم سمیت دیگر جتنے بھی معاملات تھے ان سے آج کی سرائیکی بیلٹ پہ مشتمل خطے کے لوگوں میں بہت شدت سے یہ احساس بیدار ہوا کہ ان کو تو آئینی اور قانونی طور پہ بالکل ہی مٹا دیا گیا ہے۔اور ان کی ثقافت کا  اعتراف بھی کہیں نہیں چہ جائیکہ ان کے دیگر حقوق کو تسلیم کیا جاتا۔اس وقت سے سرائیکی قومی سوال ہماری سیاست کے منظرنامے پہ ابھرا۔

لیکن کیا سرائیکی قوم اور اس کا بطور ایک ثقافتی کمیونٹی ہونے کا جو شعور یہ محض 47ء سے 70ء تک اور پھر 71ء سے 73ء تک ہوئے سوشو-اکنامک اور سوشو-پولیٹکل اقدامات کا ہی نتیجہ ہیں یا یہ ایک بڑے تاریخی پس منظر کا حامل ہے جو اس خطے کے لوگوں میں صدیوں سے لاشعور کا حصّہ بنتا گیا اور پھر سے وقفے وقفے سے ابھرتا رہا؟

میں ہمیشہ سے یہ سمجھتا رہا ہوں  کہ ہمیں یہ سوال کسی پنجابی، سندھی، بلوچ،پشتون سے نہیں کرنا بنتا بلکہ یہ سرائیکی وسیب کے کسی ایسے دانشور شاعر سے کرنا بنتا ہے،جو مقامیت میں آفاقیت کا حامل ہو۔اور وہ اس کے شعری اظہار پہ ہی نہیں بلکہ وہ نثر میں بھی اسے بیان کرنے پہ قادر ہو۔

رفعت عباس سے صحافی منور آکاش ایسا ہی مکالمہ کیا ہے جو ‘مقامی آدمی کا موقف’ کے نام سے سامنے آیا ہے۔اور یہ تاریخی اعتبار سے انتہائی اہم دستاویز ہے۔آئیندہ اقساط میں،میں اسی بارے بات کروں گا۔

(پہلا حصّہ )

منافق کمیونسٹ-چھٹا حصّہ

500_thumb

 

اس نے یہ سب سناکر کتاب ایک طرف رکھ دی اور کہنے لگی تم ابھی آرام کرو،مجھے جے این یو جانا ہے تھوڑا سا کام کرکے شام تک لوٹتی ہوں۔اس کے جانے کے تھوڑی دیر بعد میں بھی سوگیا تھا۔

میں کافی دیر تک سوتا رہا تھا۔جب میری آنکھ کھلی تو شام کے سات بج رہے تھے۔میں باتھ روم گیا اور نہا دھوکر کپڑے بدل آکر لاؤنج کے طور پہ استعمال ہونے والے کمرے میں بیٹھ گیا۔وہ آٹھ بجے لوٹی۔وہ جیسی فریش گئی تھی،ویسی فریش لگ رہی تھی۔

بور تو نہیں ہوئے۔ اس نے پوچھا

 

 

میں انکار میں گردن ہلائی

 

 

It’s good. You need some coffee?

 

Nope!

 

OK

 

‘I come after change’, she said

 

تھوڑی دیر بعد وہ ہاف سلیو شرٹ اور شارٹ پہنے آئی اور دونوں گھٹنے سیکڑ کر وہ ایک کرسی پہ بیٹھ گئی۔

‘Sorry, my Mujahid Comrade on my harshness last night. And I feel that I consumed all time and never gave you chance to speak about yourself. Now you should tell me about yourself, your life’, She said.

 

 

کافی مشکل سوال کردیا ہے تم نے،میں نے اس سے کہا۔خیر کوشش کرتا ہوں،میں اپنے بارے میں کچھ بتاؤں آپ کو۔اور پھر میں نے کہنا شروع کیا:

 

 

“میرا نام مستجاب حیدر نقوی ہے۔میں اپنے ماں باپ کے ہاں بس پیدا ہوا تھا۔ میری پرورش میری دادا دادی نے کراچی میں کی تھی۔اور اس پرورش کا مجھ پہ کئی طرح سے اثر ہوا تھا۔میرے دادا اترپریش کے ضلع اعظم گڑھ کے ایک تعلقہ دار سادات گھرانے سے تعلق رکھتے اور دادی لکھنؤ کے ایک شیعہ نواب گھرانے سے۔دونوں گھر سے بھاگ لیے تھے۔دادا اس لیے بھاگے انہوں نے مولوی بننے سے انکار کیا تھا اور دادی اس لیے بھاگیں کہ انہوں نے میٹرک کرنے کے بعد شادی نہیں کرنا تھی۔دونوں اسٹیفن کالج دہلی میں ملے اور ان کی محبت انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاسوں میں پروان چڑھی اور دونوں نے شادی کرلی۔تقسیم کے وقت یہ دونوں اس وقت کے پنجاب اور آج کے ھریانہ میں حصار شہر میں بطور لیکچرر تعینات تھے۔اور وہیں سے ہجرت کرکے یہ پاکستان کے شہر کراچی چلے آئے۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے کارڈ ہولڈر تو تھے لیکن کلچرل شیعہ بھی تھے۔اور ساتھ دیگر مذاہب کی ثقافتوں کا احترام بھی کرتے تھے۔ان کے ارد گرد بھی لوگ ایسے ہی تھے۔میری دادی غضب کی مصورہ تھیں۔اور ان کی پینٹنگ میں سرخ،نیلا اور زرد رنگ اور کہیں کہیں سیاہ رنگ بہت استعمال ہوا تھا۔خیمے، آگ،صحرا،گھوڑے، دریا ، دربار اور بے سر وبے کفن لاشیں ان کے ہاں جدید مناظر کے اندر بھی جگہ جگہ آجاتی تھیں۔ان کی ایک تصویر میں ایک عورت کسی مزدور کی لاش پہ بیٹھی بین کرتی دکھائی اور جس رخ وہ بیٹھی ہے اس رخ پہ دور افق پہ بہت غور سے دیکھنے پہ پتا چلتا ہے کہ وہ مدینے میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روضہ ہے اور اپنے مزدور شوہر پہ بین ڈالتی عورت زبان حال سے ‘یامحمدا ،یا محمدا’ کہہ رہی ہو جیسے اور اس کے ہردگرد بندوقوں کی سنگینیں تنی ہوئی دکھائی ہیں۔اور اس عورت نے ایک لمبی کالی چادر بین رکھی ہے اور اس پہ ڈاٹ بنے ہوئے ہیں۔بہت غور سے اگر ان نقطوں کو دیکھا جاتا تو پتا چلتا کہ ‘یا شریکۃ الحسین’ لکھا ہوا ہے۔فیکڑی سے دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہیں اور پاس زمین پہ ادھر ادھر کافی لاشیں بکھری ہوئی ہیں۔اور ایک آدھا جلا ہوا بینر ہے جس پہ لکھا ہے’جب تک سابقہ اجرتیں نہیں ملیں گی، فیکڑی نہیں چلے گی۔’ اور ساتھ ہی ایک اخبار کا فرنٹ پیج جس کا آدھا حصّہ جلا ہوا ہے،بقیہ آدھے حصّے پہ مین ہیڈ لائن تھی،’ مزدروں کی آڑ میں شرپسندوں کی تخریب کاری ناکام،جوابی فائرنگ سے 50 شرپسند ہلاک ہوگئے۔حکومت سرمایہ داروں کا تحفظ کرے گی،ہڑتال کا اسلام میں کوئی تصور نہیں۔یہ روسی ایجنٹوں کی سازش ہے-مفتی اعظم پاکستان۔’بس جتنی کامپلیکس میری دادی کی پینٹنگ تھیں اتنا ہی کامپلیکس میں آپ بھی ہوں۔”

 

Hmmmmm

 

 

اس نے یہ سب سنکر گہری سانس لی اور کہنے لگی،

 

 

I heard from one of my senior comrade in JNU that a shia always be a Shia and never forget his/her Shia background either he joins communist gang or secular liberal gang.

 

 

میں یہ سب سنکر ہنس پڑا۔میں نے اسے بتایا کہ کسی حد تک اس کا یہ مشاہدہ درست ہے۔

 

 

‘تم کمیونسٹ گینگ یا سیکولر گینگ کے الفاظ کیوں استعمال کررہی ہو؟یہ دائیں بازو کا پروپیگنڈا ہے۔’

 

” تم پاکستانی لیفٹسٹ لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ (اس نے ‘لڑکے’ بولا تو میری ہنسی چھوٹ گئی) ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تمہیں ہندوستان میں تقسیم کے بعد کی کمیونسٹ سیاست بارے جتنا کچھ پتا ہوتا ہے وہ ‘نری رومانویت’ ہوتی ہے۔پہلے سی پی آئی کے اندر جو شمالی ہندوستان کے ایلیٹ کامریڈ تھے یہ نہرو اور پھر اندرا گاندھی کے ساتھ ہوگئے اور اس کے بعد کرانتی کا نعرہ لگاکر ماؤاسٹ انقلاب لانے والے سی پی آئی ایم والے کارپوریٹ سرمایہ داروں کے دم چھلہ بن گئے اور آج ان کا ٹاٹا،برلا، امبانی سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔یہ آدی واسیوں، قبائلیوں،غریب کسانوں کی نام نہاد میگا پروجیکٹس کے زریعے بے دخلی میں کوئی مضائقہ خیال نہیں کرتے۔سرمایہ سے ان کی دوستی ہوگئی ہے اور ان کی سیاست کانگریس سے مختلف نہیں ہے اور ان کی شہری پرتیں کلاس بھی بدل چکی ہیں بس کامریڈ کا نام ان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔بلکہ ریپسٹ،اپنی عورتوں کو دباکر رکھنے والے اکثر پاکھنڈی بھی ان کے پولٹ بیورو میں بیٹھے ہیں۔پارلیمانی سیاست نے ان کو کھوکھلا کردیا ہے۔ان میں سے ایسے بھی ہیں جو اب کمیونزم کا نام بھی نہیں لیتے اور لبرل ڈیموکریسی کے دلدادہ ہیں کبھی کبھی سوشل ڈیموکریٹ ہونے کا ناٹک کرتے ہیں۔تم کیفی اعظمی،سجاد ظہیر کی بیٹیوں کو لے لو۔یہ لوگ کب کا کمیونزم ترک کرچکے۔اب تو یہ سماج سدھارک این جی او ایکٹوسٹ ہیں بس۔مین سٹریم میڈیا کے چمکتے ستارے جو فیشن کے طور پہ انقلابی باتیں کرتے ہیں اور ماضی میں اپنے باپ دادا،ماں و دادی کی کمیونسٹ کاوشوں  کو اپنے حال کی  مڈل کلاس چوتیاپے کا جواز ڈھونڈتے ہیں۔یہ زیادہ سے زیادہ ہندوستان کی ایک ارب آبادی میں 20 کروڑ کی مڈل کلاس کی خواہشات کی عکس سوچوں کو خوبصورت پہناوے پہناتے ہیں۔اور کبھی کبھی نام لینے کو کسی غریب پہ پڑی مصیبت پہ ماتم بھی کرلیتے ہیں۔لیکن سسٹم سے نہیں لڑتے جو منظم طریقے سے اجرتی سستے مزدور پیدا کرتا اور لاکھوں کروڑوں لوگوں کو بے دخل کرتا رہتا ہے۔’

 

کامریڈ گیاتری ساؤنت ایسے باتیں کررہی تھی جیسے ہمارے ہاں عبدل نیشا پوری باتیں کرتا تھا یا ریاض الملک الحجاجی کے دقیق انگریزی بیانات میں اس کی جھلک ملتی تھی وہ ان جیسوں کے لیے لبرل کمرشل مافیا  کا مرکب لفظ استعمال کرتا تھا۔ویسے ہمارے ہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہوگیا تھا۔یہاں ضیاع کا سیاسی جانشین دیکھتے دیکھے کامریڈ چی گیویرا ہوگیا تھا،جسے ایک باغی صحافی حیدر جاوید سید نے ‘کامریڈ چنگ چی گیڑوی (گیڑا پنجابی میں دھوکے کو کہتے ہیں) کا نام دیا تھا۔

 

‘یہ تم بیٹھے بیٹھے اچانک کہاں کھو جاتے ہو۔’،گیاتری نے پوچھا۔

 

 

کیا کروں ہندوستان کی کہانی سنتے سنتے میں پاکستان پہنچ جاتا ہوں اور وہاں کئی کردار میرے دماغ میں گھومنے لگتے ہیں۔  ویسے یہ بات کامریڈ گیاتری ساؤنت کرے تو سمجھ آتی ہے۔کوئی اور کرتا تو میں اسے دائیں بازو کا پروپیگنڈا خیال کرتا۔’،میں نے کہا۔

چلو میں تمہیں اس سے بھی آگے ایک اور بات بتاتی ہوں۔کامریڈ گیاتری نے کہا،’کیا تم کامریڈ ماؤزے تنگ کی ذاتی زندگی بارے کچھ جانتے ہو؟’۔اس نے سوال کیا؟

 

بس تھوڑا بہت۔

 

 

‘کامریڈ ماؤزے تنگ عورتوں بارے انتہائی فضول خیالات رکھتا تھا۔وہ نوجوان لڑکیوں کا بہت دلدادہ تھا۔اس کی جنسی زندگی بہت ہی خوفناک تھی۔تمہیں پتا ہے کہ وہ دنیا بھر میں جنسی ادویات کی دریافت کی خبریں شوق سے جمع کرتا اور اپنے بیڈ کے ساتھ ٹیبل پہ جنسنگ ڈرگز کو اکٹھے کیا رکھتا تھا۔اس نے اپنے بیٹے کی محبوبہ سے شادی کرلی تھی جسے اس کی منہ بولی بیٹی خیال کیا جاتا رہا تھا۔وہ اپنے بیٹے سے اس وقت انتہائی جیلس ہوگیا جب اسے پتا چلا کہ وہ اس کی منظور نظر سے شادی کرنے جارہا ہے۔اور جب 1953ء کی جنگ میں شادی سے پہلے اس کا بیٹا مارا گیا تو اس نے کہا کہ جنگ میں ہم اور کیا توقع رکھتے ہیں۔وہ نوجوان لڑکوں کو رات کو مساج کے لیے بلواتا اور ان سے اپنے خصیوں کا مساج کرنے کو کہتا تھا اور نوعمر، نوخیز لڑکیوں کا ایک ہجوم اپنے گرد اکٹھا رکھتا تھا۔عورتیں اسے بس جنسی استعمال کی چیز معلوم ہوتی تھی۔’

This is dirty capitalist propaganda Comrade, I can’t believe on it.

 میں نے انتہائی غصّے سے کہا تو اس نے کہا کہ یہ باتیں ویت نام  انفو ویب سائٹ پہ

 

ایک کمیونسٹ بلاگر نے لکھی ہیں۔

http://vietinfo.eu/nhan-vat/do%CC%80i-so%CC%81ng-

ti%CC%80nh-du%CC%A3c-qua%CC%81i-da%CC%89n-cu%CC%89a-hoa%CC%80ng-de%CC%81-mao-tra%CC%A3ch-dong.html

Đời sống tình dục quái đản của hoàng đế Mao Trạch Đông

Mao Zedong’s horrible sexual life

Nguồn: Blog Đặng Xuân Xuyên

Source: Blog Dang Xuan Xuyen

یہ کوئی کمیونسٹ نہیں ہے۔میں نے موبائل فون پہ بلاگ چیک کرنے کے بعد کہا اور تم یہاں اپنے تلخ تجربات کے سبب ماؤ کے بارے میں کہانی کو سچ سمجھ بیٹھی ہو۔

 

‘ہوسکتا ہے اس میں 99 جھوٹ ہوں مگر ایک فیصد سچ ضرور ہے۔ماؤ بہرحال فیمنسٹ مارکسسٹ نہیں تھا۔’،اس نے ذرا غصّے میں کہا۔

ہاہاہاہا۔۔۔۔

اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے۔

 

مجھے تمہارے اس انداز پہ پاکستان میں حیدرآباد سندھ کی کچھ فیمنسٹ خواتین ایکٹوسٹ یاد آگئیں۔بہت شاندار اور انتہائی زبردست ایکٹوسٹ ہیں لیکن جب کبھی ان پہ بورژوازی فیمنسٹ آسیب بنکر چھاتا ہے تو ان کو ہر مرد ‘عورتوں کا شکاری’ لگتا ہے۔اور ایک دم سے ان کے ہاں معروضیت غائب ہوجاتی ہے۔ویسے لاہور اور اسلام آباد میں بھی ایسی عورتیں ہیں جن کے سر پہ مردوں کو دیکھ کر خون سوار ہوجاتا ہے۔اور پھر کلاس /طبقے کا سوال پدرسریت کے تابع ہوجاتا ہے۔ماؤ ویسے شکل سے کافی بارعب مرد لگتا تھا۔

 

غیور نقوی: ہمارا مستقبل تاریک نہیں روشن ہے

آج عورتوں کا عالمی دن تھا اور ساتھ ہی حضرت فاطمۃ الزھرا ،ام ابیھا کا یوم ولادت بھی۔میں نے اس سے ایک دن پہلے ہنگامی طور پہ ڈیرہ غازی خان کا سفر کیا۔اور یہ سفر میری زندگی کا یادگار ترین سفر بن گیا۔اگر میں یہ سفر نہ کرتا تو شاید میں کچھ ایسی باتیں جاننے سے قاصر رہ جاتا،جن کو نہ جاننے کا مجھے سدا ملال رہتا۔

سوشل میڈیا پہ میں نے جب پاکستان کے اندر مذہبی انتہا پسندی اور جنونیت کی سب سے بدترین اور ہلاکت آفریں شکل تکفیری فاشزم کی متاثرہ برادریوں اور گروہوں کے حق میں آواز بلند کرنا شروع کی اور اس حوالے سے قائم خاموشی کو توڑنے کی جانب قدم بڑھایا تو مجھے کئی ایسے کردار ملے جنہوں نے میری رجائیت اور امید پرستی میں بہت اضافہ کیا۔ان سب کا تذکرہ کرنے بیٹھوں تو ایک کتاب مرتب ہوجائے،

ایک نوجوان ان میں سے ایسا ہے جس نے ابتداء سے میرے موقف کو اپنے حلقہ احباب میں بہت فروغ دیا۔اور میں کافی عرصے تک اس بات سے ناواقف تھا کہ یہ نوجوان کہاں رہتا ہے؟ پھر مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ وہ میرے پسندیدہ شاعر پابلو نرودا کے ملک چلی کے دارالحکومت سنتیاگو میں ملازمت کرتا ہے۔کمپیوٹر سائنس میں کمال مہارت رکھنے والا یہ ذہین استاد جب چار سال کا تھا تو بدقسمتی سے یہ پولیو کا شکار ہوگیا۔تیرہ بہن بھائیوں میں یہ سب سے چھوٹا تھا اور اس پولیو کے سبب اس کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا اور یہ وہیل چئیر پہ آگیا۔لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور ڈیرہ غازی خان میں جامع محمدی ہائی اسکول سے میٹرک اور پھر چل سو چل اس نے اسلام آباد سے ایک یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کی۔اس کی ذہانت اور اس کی تدریسی مہارت کی معترف اسلام آباد کی یونیورسٹی تھی تو ضرور لیکن اس نے اسے اس لیے نوکری نہ دی کہ وہ اس کے لیے کلاس کو نیچے گراؤنڈ فلور پہ رکھنے کو تیار نہ تھی۔یہ نوجوان اس بات سے مایوس تو ہوا اور پھر اس نے یہ محسوس کیا کہ پاکستان میں لوگ اس کے نچلے مفلوج دھڑ کو دیکھ کر اسے معاشرے میں فعال ہونے سے قاصر سمجھتے ہیں تو اس نے سویڈن میں مزید پڑھنے کا فیصلہ کیا۔وہاں نوکری بھی کی اور وہاں سے یہ چلی میں چلا آیا۔چلّی میں یہ اب نوکری کررہا ہے۔اور اس کا کہنا ہے کہ وہاں کوئی اسے ‘ترس اور رحم’ کی نظر سے نہیں دیکھتا اور اسے بیڈ سے بازار اور کام کی جگہ جانے اور واپس آنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔

اس نوجوان سے میری سوشل میڈیا پہ آشنائی کو اتنے سال ہوچلے تھے۔اس دوران اس نے سنتیاگو میں پاکستان کی مختصر سی کمیونٹی اور پھر انڈین و مڈل ایسٹ کی ورکنگ کلاس کے لوگوں تکفیری فاشزم کے خلاف میری انڈرسٹینڈنگ اور فہم کو متعارف کرایا۔اور ان میں یہ سوچ پیدا کی کہ وہ پاکستان میں اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کو اس تکفیری فاشسٹ سوچ کا مقابلہ کرنے پہ تیار کریں۔

اس نوجوان نے ایک اور کام کیا۔اس نے کافی اچھی اسپینش سیکھ لی اور خاص طور پہ شمالی افریقی ممالک جہاں مسلمان بڑی تعداد میں ہیں اور وہ سعودی فنڈنگ تکفیری فاشزم کے متاثرہ بھی ہیں۔اس نے میری کچھ تحریروں کا خلاصہ اسپینش زبان میں بھی تیار کیا۔اور آنے والے وقت میں وہ میری کتاب ‘کوفہ’ اسپینش زبان میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ ساری باتیں مجھے اس سے ملاقات پہ پتا چلیں۔آج جب میں یہ سب تحریر کرنے بیٹھا ہوں تو اس کی سہرا بندی اور بارات کا وقت ہے۔اس کی چچا کی بیٹی اس سے شادی کرنے جارہی ہے۔اور دونوں بہت جلد سنتیاگو روانہ ہوجائیں گے۔

میں شام پانچ بجے 7 مارچ کو اس کے ہاں پہنچا تھا۔اس کا ایک بچپن کا دوست محمد شفیق اس کو گاڑی میں لیکر آیا اور انہوں نے مجھے لیا۔ہم دو تین جگہوں پہ بیٹھے جہاں اس نے وقفے وقفے سے مجھے اپنی کہانی سنائی۔اور اس کہانی کا کلائمکس اس کے گھر پہ ہوا۔وہ گفتگو کے دوران بار بار مجھے کہتا تھا کہ گھر چل کر وہ مجھے اپنے والد کا کمرہ دکھانا چاہتا ہے۔اور قریب ساڑھے گیارہ بجے رات اس نے اپنے بھانجے کو کہا کہ وہ مجھے اس کمرے تک لیکر جائے۔

میں جب اس کمرے میں پہنچا تو ایک دم ساکت سا ہوگیا۔اس کمرے میں چاروں طرف ریک لگے ہوئے تھے اور دیوار کی چھت کو چھوتے ریکس میں کتابیں ہی کتابیں تھیں۔ایک بڑی میز اور اس کے پیچھے کرسی اور یہ ریڈنگ روم تھا۔میں نے مصر،بیروت،تہران، ریاض،تیونس سے چھپی ہزاروں علوم شرقیہ کی عربی و فارسی کتابوں کا مجموعہ یہاں دیکھا۔عربی شعر و ادب،تاریخ اسلامی، فقہ اسلامی اور علم کلام،تفسیر و احادیث کی سب ہی معروف کتابیں یہاں موجود تھیں۔کچھ ایسی کتابیں بھی تھیں جن کے نام اور حوالے میں نے دوسری کتب میں دیکھے تھے یا پھر پی ڈی ایف فارمیٹ میرے پاس تھے۔میں نے یونہی رینڈم لی کتابوں کو کھول کر دیکھنا شروع کیا تو کوئی کتاب ایسی نہ تھی جس پہ حاشیہ اور نوٹس نہ لگے ہوں۔

 

28741287_10215964991546005_1828155427_n

 

28740738_10215964990385976_362632649_n

ایک بات میں نے نوٹ کی اور وہ یہ تھی کہ ان ہزاروں کتابوں میں بلامبالغہ عربی اور فارسی میں کم از کم دو سو کتابیں صرف ‘حضرت فاطمۃ الزھرا’ رضی اللہ عنھا پہ تھی۔ایک کتاب کی تو دس جلدیں اور ایک کی سات جلدیں تھیں۔مجھے بعد میں پتا چلا کہ اس جوان کے والد اپنی زندگی کے دو عشروں سے ‘حضرت فاطمہ ‘ رضی اللہ عنھا پہ ایک مفصل کتاب لکھنے کی تیاری کررہے تھے اور اس دوران انھوں نے بہت زیادہ نوٹس تیار کیے تھے۔ان کی زندگی نے وفا نہ کی اور یہ کتاب ابتک نامکمل ہے۔ان کا بیٹا موسی رضا کا ارادہ ہے اس کتاب کو لکھنے کا۔

لیکن ایک المیہ یہ ہے کہ اس گھرانے میں اب کوئی عربی اور فارسی کا جاننے والا نہیں ہے۔اور اس اتنے بڑے ذخیرے کی قدر و قیمت بھی ٹھیک سے یہاں کسی کو نہیں ہے۔کیونکہ جو بیٹا عربی و فارسی سے آشنائی رکھتا ہے موسی رضا وہ کراچی رہتا ہے۔میری اس سے کچھ دیر ملاقات رہی مگر سچی بات ہے کہ وہ مجھے ‘نرے مولوی’ لگے جن کا مقصد شاید کچھ اور ہے۔

اس نوجوان کے والد نے اپنے سب بیٹوں اور بیٹیوں کو تعلیم سے آراستا کیا۔ان میں تین تو ڈاکٹرز ہیں۔ایک میکنکل انجینئر ہے۔خود ان کے والد اسلامیات کے پروفیسر تھے۔پروفیسر سید عطاء اللہ نقوی ان کا نام تھا۔

غیور نقوی میں اپنے باپ جیسا علم دوست اور درویشانہ رنگ نظر آتا ہے۔سچی بات ہے کہ اس نوجوان کی ہمت، جرآت اور محبت علم ودانش کی داستان سنکر میں ابتک سحر میں ہوں۔اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات مجھے کافی قیمتی لگ رہے ہیں۔اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرے کہے ہوئے الفاظ اور اتنی محنت سے لکھے الفاظ رائیگاں نہیں جارہے ہیں۔

اس نوجوان کو میں نے اپنی کتاب’ساری کے نام خطوط’ دی تو اس نے مجھے اپنے والد کے کتب خانے سے ابراہیم امینی کی فارسی مں لکھی کتاب ‘ فاطمہ زھرا ۔۔بانوی نمونہ اسلام’ ، ہاشم عثمان کی کتاب ‘ ھل العلویون شیعۃ؟’ اور ڈاکٹر محمد عبدہ یمانی کی شہرہ آفاق کتاب’ علموا اولادکم محبۃ آل بیت النبی’ اور اپنے والد کی کتاب ‘امامت کا شعوری مطالعہ’ دیں۔یہ میرے لیے بیش بہا تحفہ ہے۔اور میں نے ہاشم عثمان کی کتاب پڑھنا شروع کی ہے اور لفظ لفظ پڑھتے ہوئے میں غیور حسین نقوی کا احسان مند ہورہا ہوں۔ہاشم عثمان کی یہ کتاب ‘کوفہ’ کے نظرثانی ایڈیشن میں کام آئے گی۔

غیور نقوی سے ملکر مجھے ایک بار پھر یہ یقین حاصل ہوا ہے کہ ہمارا مستقبل تاریک نہیں روشن ہے اور اندھیروں کو ہمارے نوجوان ہی شکست دیں گے۔

غیور نقوی تمہیں شادی مبارک ہو۔تمہاری کامیابی کے لیے میں دعاگو ہوں۔

 

غیور نقوی

دائیں سے غیور حسین نقوی،راقم اور محمد شفیق

منافق کمیونسٹ -پانچواں حصّہ

Image result for quotes from Gypsy Goddess Meena Kandasamy

وہ ایک ٹرے میں ناشتہ لیے آگئی۔انڈے،سیخے ہوئے توس اور کافی اور لائم جوس تھا۔میں نے ایک انڈا کھایا اور توس کو کافی میں ڈبو کر کھانا شروع کیا تو وہ مجھے دیکھکر ہنسنے لگی۔ہنس کیوں رہی ہو ؟ بس تمہاری یہ ادا مجھے اچھی لگی ہے۔تم میں مصنوعی پن نہیں ہے۔اور ویسے تم بناوٹ کربھی نہیں سکتے۔

میں نے چائے پینے کے بعد سائیڈ ٹیبل پہ پڑی مس میلٹینسی پھر پڑھنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو اس نے کہا ذرا ٹھہرو۔یہ بتاؤ تم نے کبھی ناول لکھنے کی کوشش کی ہے؟ یا تم مجھے بتاسکتے ہو کہ کسی تاریخی واقعے کو ناول کی شکل دینا ہو تو کیسے دی جاسکتی ہے؟میں نے کہا کہ میں شاید مختصر کہانی تو لکھ لوں گا لیکن ناول لکھنا میرے بس کی بات نہیں ہے۔میرا خیال ہے کہ ناول کسی تاریخی المیہ پہ ہو یا محبت کی داستان ہو یا رزمیہ ہو اسے پاؤلو کوہلو کے بیانیہ کی طرح طلسماتی ہونا چاہئیے۔

‘مجھے لگتا ہے کہ تم کچھ چھپانے کے لئے پاؤلو کوہلو کا حوالہ لائے ہو،اصل میں تمہیں مستنصر تارڑ جیسے گھٹیا تاثر باز کا بیانیہ پسند ہے۔’اس نے یہ کہا تو میں نے ایکبار پھر حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔سچی بات یہ تھی کہ مجھے مستنصر کا سحر انگیز اسلوب پسند تھا،اس کا بیانیہ یا ڈسکورس نہیں۔میں اس سٹائل میں ترقی پسند ناول کا لکھا جانا مانگتا تھا۔اور یہ بات میں نے اس سے کردی۔وہ کہنے لگی، مینا کے ہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔اس کا ڈسکورس تمہیں پسند آئے گا اور ہوسکتا ہے تمہیں اس کا سٹائل پسند نہ آئے۔وہ اٹھی اور الماری سے اس نے ایک اور کتاب نکال لی۔

Gypsy Goddess

خانہ بدوش دیوی

میرے پاس آکر بیٹھ گئی۔اور اس نے درمیان سے کتاب ایسے کھولی جیسے ہمارے ہاں حافظ کے دیوان سے فال نکالنے والے کھولتے ہیں اور اس نے پڑھنا شروع کردیا:

“ناول میں ایک نیا اور ایک دم اصلی خیال سوچنے میں مشکل یہ ہے کہ پہلے آپ کو یقینی بنانا پڑتا ہے کہ کہیں کروت وانگٹ (امریکی ناول نگار) نے اس بارے میں پہلے ہی نہ سوچ لیا ہو۔”

کیونکہ اس ناول کی لینڈ اسکیپ دیہی ہندوستان کی ہے، تو اس بات کی توقع مت کیجئے گا کہ اس کے مستند ہونے کے لئے اّ پ کو ہر صفحے پہ گائے کا جھنڈ پھرتا ہوا دکھایا جائے گا۔

ہر چیز یہاں اتنے خطرناک طریقے سے ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہے کہ آپ کو ایک معاون کی ضرورت پڑتی ہی ہے۔کوئی آپ کو سکھانے نہیں جارہا کہ فصل کی کٹائی کے فوری بعد، کم اجرت پانے والے مزدور اتنے بھوکے تھے کہ وہ کونے کھدروں میں سراخوں کے اندر تلاشی لیں اور چوہوں کے کترے ہوئے چاول کے دانوں کو وہاں سے چوری کرلیں۔لیکن تم کسی نہ کسی طرح انتظام کرلوگے۔تمہیں بنا خاندانی شجروں کے چیزوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا سیکھ لوگے۔تمہیں جو کرنا ہے گاؤں کے نقشے کے بغیر کرنا ہوگا۔تمہیں معلوم کرنا پڑے گا کہ مقامی جرائم پیشہ زمیندار جات پات کے ضابطوں کو نافذ کرنے کے لئے سول قانون کو توڑ سکتے ہیں۔تمہیں سیکھنا ہوگا کہ مٹھی بھر چاؤل سے کیسے آدھا گاؤں پیٹ بھرلیتا ہے۔موالی پن سے تم سیکھ لو گے کہ قانون کی نظر میں، امیر نہ تو اپنے ہاتھ گارے میں سان سکتے ہیں نہ ہی خون میں۔تمیں بارش کے منتظر ایک گاؤں کے صبر کے ساتھ انتقام کے لئے انتظار کرنا پڑے گا۔

حلف وفاداری

پولیس کانسٹیبل متھوپانڈے؛ گوپال کرشنا اس ناول کے مقصد کے لئے نائیڈو کا بے نام باورچی؛اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کا ترجمان رسالہ ایک ہی رائے ظاہر کرتے ہیں کہ کھیت مزدوروں کا جلسہ کامریڈ شکال پکری سوامی کی یاد میں تین ہزار لوگ شریک تھے۔تین سو سے زائد پولیس والے اس جلوس کے خیر خیریت سے گزرجانے کے لئے تعینات کیے گئے تھے۔

یہ حقائق تو بہت ہی سادہ اور غیر مسجع و مقفع ہیں۔اور ان کو وہ پڑھنے والے رد کردیں گے جن کے ذہن ناول کے جوش سے زھرآلودہ ہوچکے ہیں۔ایسی مجروح روحیں۔۔۔۔جیسا کہ مسٹر تھامس جیفرسن نے دیکھا تھا۔۔۔۔۔ نفرت آمیزتخیل، مرتاض فیصلہ اور کراہت زندگی کے حقیقی کاروبار کی طرف رکھتی ہیں۔ان کو تاریخ،وقت اور مقام سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ان کو نام، مقام اور تمام جمکدار، تشفی بخش چودکڑ ناموں سے کیا لینا دینا جو کہ مستند ہونے کی فضا پیدا کرتے ہوں۔اگر ان کو یک خطی بیانیہ چاہیے ہوتا اور خود مکتفی کہانی درکار ہوتی،تو وہ آج کا اخبار پڑھ لیں گے، نہ کہ ایک ناول۔ایسے خلل پذیر دماغوں کو تفریح پہنچانے والے کاروبار میں ہونے کے لیے مجھے ایک بازی گر مصنف کا چوغہ پہننا ہوگا،اور اور قاری کو بھٹکانے کی نوکری کے لئے خود کو تیار کرنا ہوگا۔

اب دور دراز کے قاری کو تو نہیں پتا کہ 15 نومبر سے 25 دسمبر 1968 کے قتل عام کے دوران حقیقت میں کیا ہوا تھا۔واقعات کے تاریخ وار رونما ہونے بارے وہ اس موضوع پہ بنی دستاویزی فلم ‘رامائن قدیسی’ دیکھ کر جان سکتے ہیں لیکن ان کو نزدیکی وڈیو لائبریری تک بھاگ کر جانے کو کہنا پہلے ناول کا پیٹ بھرنے کے لئے اچھی بات نہیں ہے۔یہاں کنٹربری میں بیٹھ کر،ایک گاؤں کی فوٹیج کے ساتھپانچ یا چھے دنوں تک مسلسل بھاگنا، اور نوٹس سے بھری ہوئی چار ڈائریوں کے ساتھ میں مفروضے بناؤں گی، فرض کروں گی،قیاس کروں گی،اور بہت سی چیزوں کو باہم ملاؤں گی،میرے فیلڈ ریسرچ سے جو بھی تفصیل سامنے آئی اس میں مطالب اخذ کروں گی تاکہ اس سب کو اپنے ناول  کے بیانیہ طریق میں فٹ کرسکوں۔معذرت خواہی کے عادی لکھاریوں کا زمانہ کب کا گزرچکا ہے۔

زرا مجھے گزشتہ صفحے کے فارمیٹ کی پیروی کرنے دیں۔

ایک دیہاتی جسے ویڈیو کیم تھامے شخص کی طرف دیکھنے کو کہا گیا ہے، ایک نامہ نگار جو کل کاغذ پہ گہرائی میں جاکر اپنی ایک ہزار لفظوں میں لکھ رہا ہے اور ایک ناول نگار جو اپنی کہانی کی شیرازہ بندی کررہا ہے، آپ کو یقین کے ساتھ بتائیں گے کہ کامر شکال پکرسوامی کا قتل ڈسٹرکٹ سطح کی کھیت مزدروں کی ہڑتال والے دن ہوا تھا اس سارے المیے کے لئے فلیش پوائنٹ ثابت ہوا جو اس کے پیچھے پیچھے رونما ہوئی تھی۔وہ اپنی کہانی بہت ساری مغربی باشندوں کے آنے کے ذکر سے شروع نہیں کریں گے۔، یا وہ اس ڈیلٹا ضلع میں چاول کی کاشت سے شروع نہیں کریں گے،یا مقامی بادشاہوں کی جاگیروں اور زمین کی برہمنوں کو بخشش کرنے سے نہیں کریں گے، یا مقام حملہ آوروں کی کہانی سے نہیں، یا کمیونزم کے ابھار سے نہیں،یا سخت گیر آزادی کی تحریک سے نہیں یا اس طریقے کے بیان سے نہیں جس میں مرغان(تامل دیوتا) نے پہلے پہل اپنے آپ کو الوہی رنگ میں ڈھالا تھا اور تب اسے عزت دینے اور اس کی پوجا کرنے کے لئے مندر بنایا گیا تھا،یا زرد لوگوں کی غلام تجارت کے زریعے سے جو مدد کی پیشکش ہوئی تھی، یا اچھوت پن کی اصل جس نے کچھ مرد اور عورتوں کو ایک طرف ڈال دیا تھا،یاسیلف ریسپیکٹ تحریک کی دیوتا مخالف سرگرمیاں ٹریئنکو بار میں پہلے کلیسا کی تشکیل یا کسان سبھاؤں کی تشکین یا دھان اگانے والوں کی فاؤنڈیشن ہو کسی کے ذکر سے وہ شروع نہیں ہوتے،کیونکہ اس کثیر جہتی واقعات کے گورکھ دھندے میں پھنس جانا آسان ہوتا ہے لیکن اسے باہر  اپنے آپ کو نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس کاٹھ کباڑ کے برعکس جو کہ رد ابہام سے وراء ہے، بنیادی واقعہ کا انتحاب جیسے شکال پکریسوامی کا قتل ٹائم لائن کی شکنیں دور کرتا ہے۔ایک خواب آفرین جگہ کی طرح یہ ہمیں  گوشہ عافیت میں بروقت لیکر چلا جاتا ہے،تاکہ جب ہم جاگ جائیں،تو ہم اس تاریخی المیہ پہ اپنی خود پہ یقین کرنے جیسی کیفیت کے ساتھ بات کرسکیں جیسے ہر کوئی کرتا ہے جب وہ  آسٹریا کے آرک ڈیوک فرانز فردیننڈ  کے قتل کو پہلا سبب قرار دیتا ہے جو جنگ ‏عظیم اول کا سبب بنا۔

تو کسی حد تک اس کیچڑ اچھال باب میں، ہم بھی کسی ایسی فوری شروعات بننے والی وجہ سے شروع کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی کہانی کی کیا قدر و قیمت ہوگی اگر اس کے اندر کوئی مافوق الفطرت عنصر نہ ہو؟شروع کیوں کرتے ہو جب تم اس میں دیوتاؤں کو نہیں لاسکتے؟

جس دن جیابالان کی ساسو ماں بھوک کے کارن مرگئی،دوردراز مدارس کے ایک رکن اسمبلی نے گندم کی شدید قلت،قحط کی صورت حال اور آسمان سے بات کرتی چیزوں کی قیمتوں پہ تشویش کا اظہار کیا۔ایک اور نے تروچی میں کاشتکاروں کے اپنے کھانے کے لئے دھان نہ ہونے کا ایشو اٹھایا کیونکہ سارا دھان تو محکمہ مال کے لوگ جور جبردستی اٹھاکر لے گئے تھے؛چیف منسٹر نے سمندری طوفان سے ہونے والے نقصان بارے ایک رپورٹ پیش  کی جس میں ریلیف اور دوبارہ آبادکاری کے لئے اٹھائے گئے اس کی حکومت کے اقدامات کا ذکر تھا۔

جبکہ مقامی مندر رہائشی لارڈ مروغان، ان علاقوں میں وہ شکال سنگھراویلن کے نام سے مقبول تھا، اپنی روز کی روٹین کے مطابق،دو مرتبہ صبح، دوپہر اور رات کو دودھ سے نہلایا گیا تھا۔

اپنے چھٹے غسل کے بعد،جب اسے معلوم ہوا، کہ مقامی کمیونسٹ لیڈر شکال پکری سوامی کو جاگیرداروں نے مار ڈالا ہے تو اس نے اپنے تحفظ کے لئے منتر پڑھنا شروع کردیا۔۔۔۔مرغا مرغا مرغا مرغا مرغا مرغا مرغا مرغا مرغا مروغا ۔۔۔۔۔اور اس پاگل اور خونخوار ضلع کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔اگرچہ اسے وسائل کی برابر کی تقسیم یا مزدروں کی پگار کے لئے جدوجہد سے کوئی مسئلہ نہ تھا، اس کا دیوتا ہمیشہ سے جانتا تھا کہ اس میں مقامی کمیونسٹ لیڈر سے کم از کم دو پہلوؤں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

وہ تو ہمیشہ اپنے دائرہ اثر سے دیکھا جاتا تھا،اور مختصر سے نوٹس پہ وہ اچھی خاصی قوت دکھاسکتا تھا۔ایک نوجوان  خوبرو ہونے کے طور پہ اس نے فیصلہ کیا وہ اپنے جنگ کے میدان سے باہر جاکر کوئی پوزیشن نہیں لے گا، اس وقت تک جب تک اسے کھانے کو خوراک اور پینے کو دودھ ملتا رہے گا تو وہ مرے گا نہیں۔اور دو عورتوں کو فی الفور بیوہ نہیں کرے گا۔اس نے اپنا وعدہ نبھایا۔اس نے خون ریزی بارے آنکھیں بند کرلیں۔

تاریخ کا کوئی بھی طالب علم جسے وکيپیڈیا تک رسائی ہو آپ  کوضروری حوالوں سے بتانے کے قابل ہوگا، کہ 1968ء میں دیوتاؤں کی  اسمبلی  سرمائی سیشن میں،وہ ویت نام ایشو کے علاوہ کسی بھی معاملے ووٹ دینے سے پرے رہا، ویت نام ایشو پہ بھی اس نے اس لیے ووٹ دیا کہ وہ سیگاؤں سبرامنیم جیسے کلٹ سٹیٹس/پوجے جانے کی حد تک کے مرتبے کو انجوائے کررہا تھا۔ “

 

آج رنگ ہے-فیاض احمد وجیہہ

کوئی بھی جشن اور تہوار مذہب سے زیادہ انسان کےعشق و محبت کے جذبے کو بیدار کرتا ہے۔ہولی بھی ایک تہوار سے زیادہ کچھ ہے اس لئے ہندومسلمان میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔

Holi

ہولی بھلے ہی ہندوؤں کا تہوار ہے، لیکن یہ اپنی مذہبی پہچان میں بند نہیں ہے۔ ہو بھی کیوں کہ عشق ہی اس کا مذہب ہے۔صوفیائےکرام ہوں یا پیر فقیر، درویش ہوں یا سادھو و سنت سب اپنے اپنے پیر و مرشد اور خدا سے رشتہ قائم کرنے کے لئے عشق پر زور دیتے ہیں،اور عشق کے کئی رنگوں میں ایک رنگ ہولی کا بھی ہے۔ اس لیے امیر خسرو ہوں یا سید عبداللہ شاہ قادری (بلہے شاہ) ان سب کے کلام میں ہولی کا رنگ خوب نمایاں اور گہرا ہے۔

ہولی کو یوں تو موسم کے بدلنے کی علامت بھی مانا جاتا ہے۔ لیکن یہ عشق اور عشقیہ رنگ میں ڈوب جانے کی کیفیت کا نام ہے۔کیا بادشاہ اور کیا فقیر سب کے دلوں میں عشق اور صرف عشق کا ورد ہوتا ہے۔ ہولی کی مستی اور عشق کی کیفیت سے اردو شاعری کی ہر کتاب روشن ہے۔ آپ کہیں سے کوئی کتاب اٹھا لیجئے آنکھوں میں رنگ و گلال کے منظر طلوع  ہو جائیں‌گے۔ مثال کے طور پر سب سے پہلے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا مشہور زمانہ کلام ملاحظہ فرمائیں :

zafar

کیوں مو پہ رنگ کی ماری پچکاری

دیکھو کنور جی دوں‌گی گاری

بادشاہ کے کلام سے نظر ہٹے تو صوفی شاعر شاہ نیاز کا کلام بھی سنیے کہ :

ہولی ہوئے رہی ہے احمد ضیاکے دوار

حضرت علی کا رنگ بنو ہے حسن حسین کھلار

ایسو ہولی کی دھوم مچی ہے

اور اپنے بلہے شاہ کا کیا کہنا کہ وہ اپنے پیر و مرشد کے ساتھ اس طرح ہولی کھیلتے نظر آتے ہیں کہ :

یہ ہے صوفیائے کرام کی ہولی، جہاں عشق ہی مذہب ہے اور عشق ہی دین و ایمان۔ویسے یہ باتیں یوں ہی برائے بیت ہیں۔ اصل میں کہنا یہ ہے کہ ہولی کی اپنی مذہبی پہچان سے الگ بھی ہولی کے رنگوں کی ایک عشقیہ تاریخ ہے۔ اور شاید یہ صوفی سنتوں کی  عشق رنگ ہولی کا فیض ہی ہو کہ ہندوستان میں ایک دوسرے کے تہوار اور میلوں ٹھیلوں میں شرکت کی خوبصورت کہانیاں جابجا مل جاتی ہیں۔

jahangir-celebrating-holi-painting-by-govardhan

ہندوستان میں مغلیہ ہولی کی عشقیہ تاریخ بھی سحر انگیخت ہے، جہاں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے خوابوں کے جہان کی سیرکر رہے ہیں۔کہتے ہیں اپنے وقت کا مغلیہ ہندوستان دیوالی میں جشن چراغاں کرتا تھا، اور ہولی میں عبیر و گلال سے لال لال ہو جاتاتھا۔ اسی طرح راکھی اور سلونوں کی خوب صورت اور خوب سیرت کہانیاں مل جاتی ہیں۔ دہلی کے ہی ایک مسلمان شاعر کے بارے میں کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ ہولی کے دن گلی گلی پھرتے تھے اور دف بجاکر اپنا کلام پڑھتے تھے۔

کتابوں کی بات چلی ہے تو شاید آپ نے بھی یہ پڑھا ہو کہ جہاں اکبراعظم رنگوں کے تالاب میں ڈبکی لگا کر ہولی مناتے تھے، وہیں جہانگیر اپنی کتاب تزک جہانگیری میں نہ صرف ہولی کی محفلوں کا ذکر کرتا ہے بلکہ رنگوں کی مستی سے بھی سرشار نظر آتا ہے۔

گووردھن جیسے عظیم مغلیہ مصور کی پینٹنگس میں بھی جہانگیر اپنی ملکہ نور جہاں کے ساتھ ہولی کھیلتا نظرآتا ہے ۔گووردھن کے آرٹ کے کچھ نمونے ہمارے سامنے ہیں،لیکن دنیا بھر کے کتب خانوں اور میوزیم کے علاوہ رام پور رضا لائبریری میں بھی گووردھن آرٹ کے وہ صفحے محفوظ ہیں جو ہمارے پریم اتہاس اور مشترکہ وراثت کا حوالہ ہیں۔

ہولی اور مغلیہ ہندوستان کی بات ہو رہی ہو تو شاہجہاں کا ذکر بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ شاہجہانی دور میں ہولی کو عیدگلابی اور آب پاشی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ ان باتوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کیسے کوئی جشن اور تہوار مذہب سے زیادہ انسان کےعشق و محبت کے جذبے کو بیدار کرتا ہے۔

holiradhakrishna2

اردوجرنل  تہذیب الاخلاق (1855) کے ایک شمارہ کے پیش نظر کئی لوگوں نے لکھا ہے کہ بہادر شاہ ظفر ہولی میں اپنی پیشانی پر عبیر و   گلال لگواتے تھے، اور ان کا یہ کلام  دلی کی گلیوں میں گایا جاتاتھا :

کیوں مو پہ ماری رنگ کی پچکاری

دیکھو کنور جی دوں‌گی گاری

اسی بات کو کچھ لوگوں نے اس طرح بھی لکھا ہے کہ بہادر شاہ ظفر اپنے ہندو وزیروں  سے پیشانی پر عبیر و گلال لگواتے تھے اور خاص طرح سے دربار سجواتے تھے۔

اردو کے پہلے اخبار جام جہاں نما کے ایک شمارہ کے مطابق ظفر کے زمانے میں ہولی کے لئے خصوصی انتظام اس طرح کئےجاتے تھے کہ تیسو کے پھول سے تیار زرد یعنی پیلا رنگ ایک دوسرے کو لگایا جاتا تھا۔ اس کے لئے دھات، شیشہ اور لکڑی کی پچکاریاں استعمال کی جاتی تھیں۔

ہولی کی اس تہذیب پر کون عش عش نہیں کرے‌گا کہ بادشاہ سلامت پر بھی لال اور زرد رنگ ڈالا جاتا  تھا۔محمد شاہ رنگیلا کے حوالے سے کئی جگہوں پر اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس وقت کی مصوری میں ان کو اپنی ملکہ کے ساتھ ہولی کھیلتے دکھایا گیا ہے۔کل ملا کر اس وقت کی ہولی کا عالم یہ تھا کہ جب زیورات سے لدی پھندی لڑکیاں رقص کرتی تھیں اور ہولی گیت گاتے ہوئے لال قلعہ کے قریب سے گزرتی تھیں تو پردہ نشیں شہزادیوں پر بھی ہولی کی مستی کا رنگ چڑھنے لگتا تھا۔

اسی طرح اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر اور بادشاہ قلی قطب شاہ کے یہاں بھی ہولی پر نظم مل جاتی ہے۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ قطب اپنی محبوباؤں اور کنیزوں کے ساتھ جی کھول‌کر رنگ کھیلتا تھا۔ محلوں اور باغوں میں پھول جمع کیے جاتے تھے اور حوضوں کو رنگوں سے بھر دیا جاتا تھا۔

یہاں زیب داستان کے لئے عرض کرتا ہوں کہ ہولی کے بارے میں کئی طرح کے خیالات ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ اس کا تعلق آریاؤں کےکامودی تہوار سے ہے۔ کامودی تہوار میں کامدیو کی پوجا کی جاتی ہے۔ اسی طرح اس کو جہاں کرشن جی کی عشقیہ کہانی اور کنس کی داسی اور دیو پوتنا کے ایک خاص سیاق سے جوڑ‌کر دیکھا جاتا ہے، وہیں ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ ہولی اصل میں پرہلاد کی یاد میں منائی جاتی ہے۔کہتے ہیں پرہلاد نے اپنے باپ کی خدائی سے انکار کردیا تھا۔اس کے بعد پرہلاد کے باپ اور بہن نے اس کو مارنے کی سازش کی تھی۔

ان باتوں سے الگ یہاں ہمارا موضوع اردو شاعری اور ہندوستانی کلچر ہے، سو عرض ہے کہ مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کی ہولی کے رنگ کو ان کی کتاب نوادرات شاہی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ قلعہ معلی میں پھاگ گانے اور کھیلنے کا چلن کتنا مضبوط تھا۔ یہ وہی شاہ عالم ہیں جن کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری گئی تھیں اور اندھا کر دیا گیا تھا۔

شاہ عالم نے اپنی کتاب میں ہولی گیت اور دوہے کا خاص اہتمام کیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ اردو اور فارسی کے علاوہ ہندی بھی جانتے تھے۔ ان کی کتاب نوادرات شاہی اردو کے ساتھ ہندی میں ہے اور اس کا ایک نسخہ کتب خانہ عالیہ رام پور میں موجود ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر کیا جانا چاہیے کہ ثانی کے حکم پر ہی یہ کتاب 1797 میں اردو اور ہندی دونوں رسم الخط میں لکھی گئی تھی۔

7

مغلوں کے ہندی پریم  کی کہانی سنانے کا یہ موقع نہیں ہے لیکن ایسے ناموں کی کوئی کمی نہیں جو زبان اور کلچر کے شیدائی تھے۔شاید اس زمانے میں تعصب نہیں تھا۔ لوگوں کے دل ملے ہوئے تھے۔ گوپی چند نارنگ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ شاہ عالم ثانی ہندو ماں کے بیٹے تھے اس لئے بھی ان کے یہاں کسی طرح کی شدت پسندی نہیں تھی۔ ثانی تمام مغل بادشاہوں سے الگ ہندوستانی تہذیب کا جشن مناتا ہوا نظر  آتا ہے :

تم تو بڑی ہو چاتر کھلار، لالن تن سوں کھیل مچاؤں، رنگ بھجاؤں

دف، تال، مردنگ، مہچنگ بجاؤں، پھاگ سناؤں، انیک  بھانت کے بھاؤ بتاؤں

چوبا، چندن عبیر سگندھ لگاؤں، پھینٹ گہن کوں دھاؤں، اور تم کو رجھاؤں

جب یہ راگ رنگ ڈھنگ مچاؤں، تب دیکھوں چتورائی، تمہارے جی کوں  کیسے نہ بھاؤں

فائز دہلوی (1690-1737) کے یہاں دلی کی ہولی کا بیان اس طرح کیا گیا ہے کہ سکھیاں عبیر اور گلال چھڑکتی ہیں۔ رنگ اڑاتی ہیں۔ گلال سے ان کا رخسار آتش فشاں  کی طرح ہو جاتا ہے۔ آنکھیں کنول کی پتیوں کی طرح جھپکتی اور کھلتی ہیں۔ گھرگھر ڈھولک بجتے ہیں اور پچکاری چلتی ہے :

جوش عشرت گھربہ گھر ہے ہرطرف

ناچتی ہیں سب تکلف برطرف

گوپی چند نارنگ نے لکھا ہے کہ حاتم کے ہم عصر ہدایت علی خان ضمیر نے ہولی پر جو نظم لکھی تھی، گارساں دتاسی نے اس کی بڑی تعریف کی ہے اور فرانسیسی میں ترجمہ بھی کیا۔  یہ نظم تاریخ ادبیات ہندی میں موجود ہے۔

ہولی کا ذکر محمّد رفیع سود (1713-1780) کے یہاں بھی ملتا ہے :

برج میں ہے دھوم ہولی کی و لیکن تجھ بغیر

یہ گلال اڑتا نہیں بھڑکے ہے اب یہ تن میں آگ

خدائےسخن میر تقی میر (1722-23-1810) کے یہاں ہولی پر دو مثنوی ملتی ہے۔ ان میں سے ایک ‘درجشن ہولی و کتخدائی ‘ جو آصف الدولہ  کی شادی کے موقع پر لکھی گئی :

آؤ ساقی بہار پھر آئی

ہولی میں کتنی شادیاں لائی

جشن نوروز ہند ہولی ہے

راگ  رنگ اور بولی ٹھولی ہے

غالب نے اپنے ایک قصیدے میں ہولی کو اس طرح لکھا :

گرچہ ہولی کے بعد ہے نوروز

لیک بیش از سہہ ہفتہ بود نہیں

سو اس اکیس دن میں ہولی کی

جا بجا مجلسیں ہوئیں رنگیں

شہر میں کوں بہ کوں عبیر و گلال

باغ میں سو بہ سو، گل و نسرین

شہر گویا نمونہ گلزار

باغ گویا نگار خانہ چیں

تین تہوار اور ایسے خوب

جمع ہرگز ہوئے نہ ہوں‌گے کہیں

اردو تہذیب کی بات ہو تو لکھنؤ کی بات بھی ضروری ہو جاتی ہے۔  کتابوں سے الگ ہمارے کچھ لکھنوی دوست بتاتے ہیں کہ یہاں آج  بھی عید ہی کی طرح ہولی پر گلے ملنے اور مصافحہ کرنے کی رسم ہے۔

میر صاحب نے لکھنؤ میں ہی ہولی پر دو مثنوی لکھی اور اس میں لکھنؤ کو دلی سے بہتر قرار دیا :

لکھنؤ دلی سے بھی بہتر ہے

کہ کسو دل کی لاگ ادھر ہے

شاید اس لئے بھی لکھنؤ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں ہولی کے موقع پر ہندوستانی کلچر کی گنگاجمنی تہذیب کا عام نظارا ہوتا ہے۔  یہاں ہولی ایک تہوار سے زیادہ کچھ ہے اس لئے ہندومسلمان میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔  کچھ لوگوں کے مطابق پرانے لکھنؤ میں ایک چوک  ہولی بارات کے نام سے مشہور ہے۔  کمال کی بات یہ ہے کہ یہاں 1947 سے ہی ہولی ایک مذہبی تہوار سےزیادہ ہندومسلم یکجہتی کی علامت ہے۔

کہتے ہیں جب یہاں رنگوں کے شیدائی ہولی مناتے ہوئے اکبری گیٹ اور راجا بازار سے گزرتے ہیں تب لوگ نہ صرف ایک دوسرے کو رنگوں سے رنگتے ہیں بلکہ اپنےاپنے گھروں کے چھجہ سے پھولوں کی بارش کرتے ہیں اور ایک دوسرے کا استقبال کرتے ہیں۔

یہاں مسلمان ہولی کے ٹھیک بعد نوروز کے موقع پر بھی رنگ کھیلتے ہیں۔  رہی لکھنؤ کی اردو شاعری تو اس میں بھی ہندومسلم یکجہتی کا جشن خوب منایا گیا ہے۔

اور پھر دلی کے میر نے لکھنؤ میں یوں ہی نہیں کہا ہوگا :

آؤ ساقی بہار پھر آئی

ہولی میں کتنی شادیاں لائی

جس طرف دیکھو معرکہ سا ہے

شہر ہے یا کوئی تماشہ ہے

خوان بھربھر عبیر لاتے ہیں

گل کی پتی ملا اڑاتے ہیں

آتش کے یہاں ہولی کا ایک خاص معنی ملاحظہ کیجئے :

ہولی شہیدِناز کے خون سے بھی کھیلیے

رنگ اس میں ہے گلال کا بو ہے عبیرکی

لکھنؤ کی بات اودھ کے آخری نواب اور ہندوستانی موسیقی، رقص اور ڈرامے کے محافظ واجد علی شاہ اختر (1822-1887) کے بنا کیسے پوری ہو سکتی ہے۔  وہ نہ صرف ہولی کھیلتے تھے بلکہ ان کی شاعری بھی ہولی کے رنگوں کو پیش کرتی ہے :

مورے کانہا جو آئے پلٹ‌کے

اب کی ہولی میں کھیلوں‌گی‌ ڈٹ کے

ان کے پیچھے میں چپ کے سے جا کے

یہ گلال اپنے تن سے لگا کے

رنگ دوں‌گی انھیں بھی لپٹ‌کے

اردو میں ہولی کے رنگوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے۔  اس لئے یہاں کچھ خاص رنگوں کو پیش کیا جا رہا ہے۔  اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی مجاہد آزادی، دستور ساز اسمبلی کے ممبر، ‘ انقلاب زندہ باد ‘ کا نعرہ دینے والے اور اپنی  کرشن بھکتی کے لئے مشہورمولانا حسرت موہانی (1875-1951) ہیں جو ہندوستانی کلچر کے ایک بڑے اور سچےمحافظ تھے۔  ان کی ہولی دیکھیے:

موہے چھیڑ کرت نند لال

لئے ٹھاڑے عبیرگلال

ڈھیٹ بھئی جن کی برجوری

اوراں پر رنگ ڈال ڈال

اردو شاعری میں ہندوستانی کلچر اور تہذیب کا صفحہ الٹ رہے ہوں تو پہلی نظر نظیر اکبرآبادی (1740-1830) پر پڑتی ہے۔  نظیر کی شاعری میں ہندوستان بولتا اور چلتاپھرتا نظر آتا ہے۔  آپ اپنی تہذیب کے کسی بھی رنگ کو دیکھنا چاہیں، نظیر اس کا جشن مناتا نظر آئے‌گا۔  صرف ہولی کی ہی بات کر لیجئے تو نظیر نے لوگوں کی ہولی کھیلنے کے طورطریقوں، ان کے امنگوں اور تمام ساز و سامان کا ذکر جس طرح سے کیا ہے کسی اور شاعر کے یہاں نظر نہیں آتا :

جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

اور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

ہولی کی خاص بات یہ ہے کہ جہاں تمام اردو شاعروں نے رنگوں کا جشن منایا ہے وہیں رنگوں کو نئی نئی شعری تمثیل میں بھی ڈھال دیا ہے۔  اب اپنے سیماب اکبرآبادی (1880-1951) کو ہی لیجئے کہ انھوں نے ‘ میری ہولی ‘ کے عنوان سے ہولی کو ایک نیا معنی دے دیا۔  گویا ہولی عشق ہے محبت ہے اور انقلاب بھی :

ارتقا کے رنگ سے لبریز جھولی ہو مری

انقلاب ایسا کوئی ہو لے تو ہولی ہو مری

اردو کے مسلم شاعروں کو جانے دیجئے اردو کے ایک انگلش شاعر جارج پیش شور کے یہاں رنگ دیکھیے:

خوشی سے پھول‌کے بلبل بھی ہولی گاتی ہے

اٹھی ہے چار طرف سے پکار ہولی ہے

گلال و عبیرکے بادل ہیں سر بسر چھائے

کھلا ہے چرخ پہ باغ و بہار ہولی ہے

ہولی اور اردو کے کچھ رنگوں کو پیش کرنے کے بعد افضل اور ان کی بکٹ کہانی کا ذکر بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ہندی اردو ادب میں اس کتاب کو خاص اہمیت حاصل ہے۔  یوں تو افضل کی اپنی کہانی بھی کم دلچسپ نہیں، لیکن یہاں ان کی ہولی کا رنگ دیکھیے کہ اس پر بات  کم کم کی جاتی ہے :

bikat-kahani

اس طرح ہولی کی عشقیہ رنگ کی تاریخ اردو شاعری اور ہندوستانی تہذیب کی تاریخ ہے۔ ہولی میں رنگوں کی تہذیب بڑی چیز ہوتی ہے۔  یہ بات میں نے اس لئے کہی کہ بہت پہلے زاہدہ حنا نے ہولی اور مذہبی شدت پسندی کے خلاف ایک مضمون لکھا تھا۔  آپ بھی اس کا ایک خاص حصہ ملاحظہ کیجئے :

گزرے ہوئے سال کی ناخوشگوار یادوں کی بنا پر اس بار بھی لوگ سہمے ہوئے تھے۔  ان کو یاد تھا کہ پچھلے سال کئی مندروں پر حملے ہوئے تھے لیکن اس مرتبہ بہت سے مسلمانوں نے طے کر لیا تھا کہ وہ اس طرح کی غنڈہ گردی نہیں ہونے دیں‌گے۔  اسی لئے کراچی کے شری سوامی نارائن مندر کے پیچھے ایک بڑے میدان میں جب کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں اور دیہاتوں سے آئے ہوئے لوگ ہولی منا رہے تھے توبہت سے مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام‌کر مندر کے گرد انسانی زنجیر بنائی۔  یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اس مرتبہ کسی کو بھی مندر میں گھسنے اور اس کا تقدس پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے‌گی کہ یہ اسلامی تعلیمات کے قطعا برعکس ہے۔

جی ہولی کی تہذیب ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ ہم عشق اور محبت کے رنگوں کو پہچانیں۔  تعصب اور نفرت سے پاک و صاف ہولی منائیں کہ بقولِ خسرو آج رنگ ہے

اور پھر اردو کا ایک شاعر یہ بھی کہتا ہے :

ایمان کو ایمان سے ملاؤ

عرفان کو عرفان سے ملاؤ

انسان کو انسان سے ملاؤ

گیتا کو قرآن سے ملاؤ

دیر وحرم میں ہو نہ جنگ

ہولی کھیلو ہمارے سنگ

  بشکریہ دی وائر