ٹرانسپیرنٹ دوستی-افسانہ ۔عامر حسینی

Nude Marathi Movie Teaser Poster

 

ٹرانسپرینٹ دوست

افسانہ /محمد عامر حسینی

‘میں تمہاری دوست کب بن سکوں گی ۔’

‘جب تم خدوخال سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو دیکھنے لگو گی۔’

‘کیا میری تانیثیت میرے آڑے آتی ہے؟ تو تمہاری تذکیر تمہارے آڑے کیوں نہیں آتی؟’

اس سوال نے مجھے تھوڑا سا پریشان کردیا اور میں سوچنے لگا کہ میں ابتک اس سے تعلق میں کس چیز  کا تمنائی رہا ہوں۔ویسے کل کی بات چیت میں، میں نے اسے بتادیا دیا تھا کہ میں جب بھی اس کا تصور کرتا ہوں تو اس کی آنکھیں، اس کے رخسار،لب،اس کی چھاتیاں،کولہے،اس کی رانیں، ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں میرے تخیل کو گھیر لیتی ہیں اور میری رانوں میں خودبخود سنسناہٹ بڑھ جاتی ہے۔اور مجھے لگتا ہے کہ اس سے وصال میری زندگی کی سب سے بڑی تمنا ہے۔وہ وصال جو پورا مرد،پوری عورت سے کرتا ہے۔لیکن پھر مجھے خیال آتا ہے کہ اس دنیا میں سالم مرد اور سالم عورت کا وصال کبھی کہیں حقیقت بن پایا ہے،یہ دنیا تو بٹے ہوئے اور بکھرے ہوئے مردوں اور عورتوں کی دنیا ہے اور وصال کچھ دیر کے لئے فرار  حاصل کرنے کا ایک بہانہ ہوتا ہے۔بس وہی لمحے تھوڑی دیر کے لئے لذت محض بن جاتے ہیں جس میں پورے دل و دماغ سے ساری توانائی مخصوص جگہوں پہ اکٹھی ہوجاتی ہے اور اس دوران بھی کمبخت ذہن بار بار بھٹک جاتا ہے۔

ہمارا تعلق بھی بڑے ہی عجیب طریقے سے باہم استوار ہوا تھا۔میں ایک یونیورسٹی میں وزیٹنگ لیکچرر کی جاب کررہا تھا۔ہفتے میں دو دن میرے شعبہ فلاسفی میں لیکچر ہوا کرتے تھے۔وہ کمپیوٹر سائنس کی طالبہ تھی اس کا میری کلاس سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن اپنی ایک دوست کے ساتھ وہ یونہی میری کلاس میں آکر بیٹھ جاتی تھی اور میں نے بھی کبھی اس بات کا نوٹس نہیں لیا تھا۔

میں اس کلاس میں غائب دماغی کے ساتھ آتا تھا۔یونیورسٹی میں وزیٹنگ لیکچرر شپ کی یہ جزو وقتی جاب میں نے ایکسٹرا پیسے اکٹھے کرنے کے لئے کی ہوئی تھی، میں بہت عرصے سے مینیول جاب سے بھاگ رہا تھا۔میری اکثر نوکریاں اب جزو وقتی ہوتی تھیں۔کئی رسالوں ، ویب نیوز سائٹس کو میں ان کی ڈیمانڈ پہ چیزیں لکھ کر دے دیتا ،ایسے ہی کئی بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کو ان کی ضرورت کے مطابق خبریں فراہم کردیتا، اور کئی این جی اوز کو درکار ڈیٹے کی فراہمی کردیتا، اور کبھی کبھار بطور ریسورس پرسن کے لیکچر بھی دے آتا اور اس طرح سے میں کافی پیسے کمالیتا تھا۔یہ فری لانسنگ کافی وقت دے دیتی تھی مجھے اور پھر بیوروکریٹک ضابطوں سے بھی جان چھٹی ہی رہتی تھی۔میرا خیال تھا کہ میں ایسے سپائل ہونے سے بچ جاؤں گا۔لیکن مجھے دھیرے دھیرے احساس ہوا کہ محنت کی استعداد کیسے بھی بیچی جائے سرمایہ دارانہ سماج کا حاکم طبقہ آپ کو نچوڑ ہی لیتا ہے اور آپ کو اپنی محنت کے اپنا ہونے کا احساس نہیں ہوتا ہے۔اور بیگانگی اندر ہی اندر جمع ہوتی رہتی ہے۔اور اس دوران کوئی بھی تعلق مستقل نہیں رہتا۔

غائب دماغی کی وجہ بہرحال عارضی نوکریوں کا مجھے نچوڑ لینے نہیں تھا۔بلکہ اس کی وجہ میرے اندر عورت بارے بیٹھے ایک جنون تھا کہ جو عورت بھی میرے قریب آتی تھی میں اس سے جسمانی تعلق بارے نہ چاہتے ہوئے بھی سوچنے لگ جاتا تھا اور میرا سارا علم، ساری سوچ اور ساری صلاحیتیں اس کے لئے وقف ہوجاتی تھیں اور اس دوران اچھے خاصے تعلق کی ماں بہن ایک ہوجاتی تھی۔تو بہت سارے واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے میں  کام کی جگہ پہ دماغ کو بلینک کرلیتا تھا۔میں بظاہر تو کلاس میں موجود ہوتا، اچھے سے لیکچر بھی دے رہا ہوتا لیکن اس وقت میں ،وہاں کسی چہرے کو دیکھ نہیں رہا ہوتا تھا۔لڑکوں کو بھی نہیں،میں آپ کو ایک بات تو بتانا بھول ہی گیا،مجھے دبلے پتلے اور نسوانیت کا احساس لئے ہوئے لڑکوں میں بھی بلا کی جنسی کشش محسوس ہوتی تھی اور میں ایسے لڑکوں کو دیکھ کر ہوش و حواس کھوبیٹھتا تھا اور اسقدر خوبصورت گفتگو کرتا تھا کہ ایسے لڑکے میرے گرویدہ ہوجاتے، میں بہانے بہانے سے ان کو چھوتا تھا اور میرے اندر اس چھونے سے نئی توانائی آجاتی تھی۔

آپ سوچ رہیں ہوں گے میں شاید جنسی طور پہ کوئی ترسا ہوا آدمی ہوں۔آپ کی یہ سوچ انتہائی غلط ہے۔میں بھرپور قسم کی ازواجی زندگی گزار رہا ہوں۔میری بیوی مجھ سے دس سال چھوٹی ہے اور ابھی عمر کے 27 سال میں ہے اور وہ ہر طرح سے جنس کا ایٹم بم ہے اور ساتھ ساتھ بے پناہ محبت کرنے والی بھی۔وہ مراٹھی ہے۔مجھے وہ ممبئی ورلڈ سوشل فورم میں ملی تھی،جہاں میں ایک پروگرام کا ماڈریٹر تھا۔چاکلیٹی کلر ہے اس کا جس پہ میں بے انتہا فدا ہوں۔دبلی پتلی ‎سی مگر اس کی پیٹھ پہ پورا گوشت ہے۔نیلی جینز اور سرمئی کلر کی کرتی پہنے وہ کمال لگ رہی تھی۔شاید ہم دونوں ہی پہلی نظر میں ایک دوسرے پہ فدا ہوگئے تھے۔پھر میں سات دن ممبئی رہا اور اس دوران ہو ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے اور ساتویں دن جب میری فلائٹ میں دو گھنٹے باقی تھے تو ہم نے باہم شادی کرلی۔اسے پاکستان آنے میں سرکاری معاملات سے نمٹنے میں دو سال لگ گئے۔جب میں اسے ملا تھا تو وہ 21 سال کی تھی اور جب وہ پاکستان آئی تو 23 سال کی ہوگئی تھی۔انتھرپولوجی اس نے حال ہی میں پی ایچ ڈی کی ہے۔اور کینڈا سے اسے جاب کی آفر ہ۔میں تو کہتا ہوں چلی جاؤ،مگر کہتی ہے تمہارے بغیر نہیں جاؤں گی۔پاکستان اسے ہائی اسکول میں 17ویں گریڈ کی نوکری ہی دے سکا ہے۔وہ کررہی ہے۔ہم نے سوچ سمجھ کر بچے نہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آپ بھی کہہ رہے ہوں گے کہ اس کا کوئی نام تو ہوگا۔ہاں ہے نا۔’ رینا’ ۔ میں نے ممبئی کے ساحل پہ اچانک سے رات کو ایک الگ تھلگ گوشے میں اس سے اس کے نام کا مطلب اس سے پوچھا تھا تو کہنے لگی،’ اس وقت کیا ہے؟’ میں نے بے اختیار کہا،’رات’ تو اس نے کہا مراٹھی میں رینا رات کو کہتے ہیں۔میں بڑا حیران ہوا، مہاراشٹر میں رات چاکلیٹی ہوتی تو نہیں تھی لیکن مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے اچانک سب چاکلیٹی سا ہوگیا ہو۔اور پھر میں جب بھی اس کے بدن کا طواف کرتا لباس قدرت میں تو مجھے یوں لگتا جیسے چاکلیٹی رات کا مجسمہ برہنہ میرے سامنے ہو اور میں اسے لپا لپ کھائے جارہا ہوں۔میں اس سے کبھی سیر نہیں ہوتا۔ہم روز ہی ایک دوسرے کو دریافت کرتے ہیں اور ہمارا جوش کچی عمر کے لڑکے لڑکیوں کے باہمی میلاپ جیسا ہوتا ہے۔اور خوب ایک دوسرے سے لطف اندوز ہونے کے باوجود اگلی بار پھر میرا جوش ویسے ہی دیدنی ہوتا جیسے بچے چاکلیٹ کو دیکھ کر بے صبرے ہوجاتے ہیں اور ان کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔

میرے اندر ایک کمزوری ہے۔اور یہ کمزوری اکثر میرے سے بہت سے لوگوں کو دور کردیتی ہے۔اور وہ کمزوری ہے جب کوئی میرے بہت قریب ہوجائے تو میں اس سے کچھ نہیں چھپاتا ہوں۔ایک رات جب میں اس کی محبت میں خوب سرشار تھا اور رات بھی اماؤس کی تھی تو اچانک سے میں نے اسے عورتوں اور لڑکوں سے متعلق اپنے جنون بارے سب بتاڈالا۔اور ایک رو میں بہہ کر اسے بتاتا رہا۔جب ميں نے کہا کہ مجھے ‘دبلے پتلے نسوانیت سے بھرے لڑکے بہت پسند ہیں، ان میں مجھے جنس بھری بھری لگتی ہے۔’ تو وہ ایک دم سے بولی،’جیسے وہ سروش ،ہے نا! میں ایک دم سے بھونچکا رہ گیا۔میرے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکل رہا تھا۔

‘پریشان ہونے کی جرورت نہیں ہے،میں اس دن وقت سے پہلے گھر آگئی تھی اور چابی کھماکر دروازہ کھولا تو تم اور سروش دنیا جہاں سے بے خبر قالین پہ ہی اپنے جنون کی نشانیاں ثبت کرنے میں لگے تھے۔میں واپس پلٹ گئی تھی۔’

‘اور ایک بار غلطی سے تمہارا لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا اور انباکس میسجز پڑھے مجھے تجسس ہوا اور یہ تجسس تمہاری کہانیاں پڑھ کر بھی ہوا تھا تو وہ ‘راگنی’ کے نام سے بنا تمہارا فولڈر میں نے کھول کر پڑھ لیا تھا۔مجھے لگا تھا کہ شاید راگنی کوئی عورت ہے لیکن اس راگنی میں سے کئی لڑکے اور کئی عورتیں نکل آئیں۔’

‘تمہیں یہ سب بے وفائی نہیں لگی۔’

‘ارے نہیں یار! تمہارا میرے ساتھ جو سلوک ہے اور جس قدر تعلق ہے اس میں بے ساختگی ہے اور تم میرے ساتھ بے دلی سے نہیں ہو اور یہی مجھے درکار ہے، اگر کہیں یہ بناوٹی ہوتا یا اوپرا اوپرا ہوتا تو میں کب کی چھوڑ گئی ہوتی تمہیں۔’

رینا صرف نام کی رات نہیں ہے بلکہ وہ عمل میں بھی رات ہے۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔میں  بات کررہا تھا اس کیمپوٹر سائنس کی طالبہ کی جو میری فلاسفی کی کلاس میں آکر بیٹھ جاتی تھی۔ایک دن میں یونانی شاعرہ سیفو بارے اپنی کلاس کو پڑھارہا تھا۔اس کی شاعری سے بات اس کی ہم جنس پرستی کی جانب بڑھی اور میں نے بتایا کہ کیسے اسے مردوں اور عورتوں دونوں میں یکساں دلچسپی تھی۔سروش کی آنکھوں میں شرارت امنڈ آئی۔ایسے وقت میں وہ مجھے اسقدر سیکسی لگتا تھا کہ میرا بلینک دماغ فوری حاضر ہوتا اور میرا دل کرتا کہ اسے اٹھاؤں اور اپنی میز پہ ننگا کروں اور اسی وقت اس کے سارے بدن کو چاٹنے لگ جاؤں۔کچی عمر کا سروش جس کی عمر مشکل سے سترہ سال تھی بید مجنوں کی طرح لچکدار جسم کا مالک تھا اور بدن اس کا مخمل کی طرح تھا۔زرا سی انگلی کا دباؤ ساری انگلی بدن میں گھسادیتا تھا۔

‘بعض مردوں میں سیفو کی روح ہوتی ہے سر! اور وہ بھی مردوں اور عورتوں کو یکساں پسند کرتے ہیں،بلکہ پسند کیا کھاجاتے ہیں ان کو۔’

یہ کہتے ہوئے وہ وہ اپنے ہونٹ ایسے چبا رہا تھا کہ میں بہت مشکل سے اپنے اوپر کنٹرول کرپارہا تھا۔کلاس ختم ہوئی تو میں نے سروش کو اشارہ کیا اور نجانے مجھے کیا ہوگیا تھا اور میں اسے جینٹس واش روم کی طرف لے گا اور میں واقعی اس کے ہونٹ چپاڈالے تھے اور اس کے ہونٹ پہ خون کی ایک پتلی سی بوند میرے ہیجان کو اور تیز کئے جارہی تھی۔میں نے اس کے کولہوں کو دبایا ،وہ بھی اس دن بہت وحشی لگ رہا تھا۔میں بار بار اسے ‘سیفو، سیفو ‘ کہہ کر پکار رہا تھا اور جب تک ہمارا ہیجان اپنے اختتام کو نہ پہنچا میں اسے اسی نام سے پکارتا رہا۔بعد میں،میں نے سوچا کہ اگر اس دوران کوئی جینٹ واش رومز کی جانب آنکلتا تو ۔۔۔۔۔۔؟ بس آگے مجھ سے کچھ نہ سوچا گیا۔

میں  اس کے بعد عجلت میں وہاں سے نکل کر باہر آیا اور یونیورسٹی سے شٹل لینے کے لئے سٹاپ پہ آیا تو وہاں وہ کمپیوٹر سائنس کی طالبہ میری کلاس کی طالبہ کے ساتھ کھڑی تھی۔ابھی شٹل آنے میں دیر تھی۔دونوں مجھے سلام کیا۔

ہم کچھ دیر سٹاپ خاموشی سے کھڑۓ رہے۔اچانک کمپیوٹر سائنس کی طالبہ نے کہا،’ سر! سیفو جیسی عورت کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کا لہجہ ستائشی تھا اور کیا ایسی عورتیں اس قابل ہوتی ہیں کہ انکی محض اس لئے تعریف کی جائے کہ ان کی نظم کمال کی ہے،اور کیا ہم جنس پرستانہ شاعری میں کوئی کمال ہوتا ہے؟’

میں اس کے یوں دھڑ سے بولنے پہ تھوڑا سا حیران ہوا۔مگر اس کی گفتگو زرا بھی اس قابل نہ لگی کہ میں اس پہ کوئی کمنٹ کروں۔مجھے لگا کہ وہ یا تو مودودی کی پیرو ہے یا پھر فرحت ہاشمی سے متاثر ہے۔اتنے میں شٹل بھی پاس آنے لگی۔اور میں اس سے کچھ کہے بغیر ہی شٹل میں سوار ہوگیا۔

اس رات رینا گھر نہیں تھی۔وہ ایک ٹریننگ کے سلسلے میں راولپنڈی گئی ہوئی تھی،میں نے شامی کا نمبر ڈائل کیا،مگر وہ بند تھا۔شامی کوکا کولا فیکٹری پلانٹ میں کوالٹی کنٹرول اینالسٹ تھا۔ایف ایس سی کرکے اس شعبے میں آگیا تھا۔اور کوکا کولا فیکٹری کی سی بی اے میں ایک متحرک نوجوان مزدور کارکن تھا۔اور اس فیکٹری میں کچے مزدروں کو پکا کرنے کی ایک تحریک چل رہی تھی۔میں بھی اس تحریک کے معاونین میں شامل تھا۔اور فیکٹری مزدوروں کا اسٹڈی سرکل لینے چلا جاتا تھا۔سی بی اے کے صدر شوکت کے زریعے میں وہاں پہنچا تھا اور شامی یونین کا سیکرٹری نشر واشاعت تھا۔میں نے اس کی تربیت کی تھی۔اور اسے مقامی صحافیوں سے ملوایا تھا۔اسے میں نے پمفلٹ لکھنا، سوشل میڈیا پہ سالیڈرٹی کمپئن بنانے اور چلانے کا طریقہ سکھایا تھا اور ایسے ہی اسے ٹوئٹر ہنڈلر اور فیس بک اکاؤنٹ، بلاگنگ وغیرہ سکھائی تھی۔ان دنوں ابھی یہ نئی نئی آئی تھیں۔میرے سامنے وہ کافی مودب رہتا تھا لیکن میں نے محسوس کیا تھا کہ وہ کنکھیوں سے میرے سراپے کا جائزہ لیتا رہتا تھا۔اب اس سے یہ مت سمجھ لیجیے گا کہ میرے خدوخال اور جسامت کوئی ہیرو جیسی تھی۔میری شیو اکثر بڑھی رہتی تھی۔کئی کئی ماہ شیو نہیں کرتا تھا، نہاتا مجبوری سے تھا،پیٹ کچھ باہر کو نکلا ہوا تھا (رینا وقت وصال مجھے موٹو کہتی اور کہا کرتی تھی ۔موٹو ! اتنا وزن ہے تمہارا مجھے ماردوگے کیا ، آپ وہ دھان پان سی تھی)،ہونٹ ہمیشہ سے خشک، پپڑی جمی ہوئی، کثرت سے سگریٹ نوشی کے سبب  سیاہ پڑے ہوئے تھے،سر کے بال کھچڑی بنے رہتے تھے۔جینز ہفتوں پرانی مگر شرٹ رینا کے اصرار پہ مجھے ہر روز بدلنا پڑتی تھی اور میرے جوتے بھی وہی زبردستی پالش کردیتی تھی۔بہرحال ایک دن میں نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔اس سے پوچھا ،’کیا دیکھ رہے ہو؟’

‘کچھ بھی نہیں۔’ وہ تھوڑا سا گھبرا گیا۔ ‘نہیں! بتاؤ، اکثر دیکھتے رہتے ہو۔’

‘آپ مجھے اچھے لگتے ہو، پسند کرتا ہوں آپ میں کامریڈ! ‘ (یہ لفظ بھی میں نے اسے سکھایا تھا کیونکہ وہ مجھے ‘سر’ کہتا تھا تو میں نے اسے کامریڈ کہنے کو کہا، اس نے پوچھا تھا کہ کامریڈ کا مطلب ،تو میرے منہ سے نکلا ‘ساتھی’ تو بے اختیتار اس کی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔میں سمجھ گیا تھا کہ وہ کیوں ہنسا تھا اور میرا دھیان بھی فوری طور پہ کنڈوم کی مشہوری کی طرف چلاگیا تھا اور میں بھی بے اختیار ہنسنے لگا تھا اور میں نے کہا تھا ‘،’ یہ بھی امریکی سامراج کی سازش ہے ۔’

اس کے اس طرح سے اطہار پسندیدگی پہ میں نے پہلی بار اسے دوسرے انداز میں دیکھا۔وہ دبلا پتلا تھا مگر قد تھوڑا چھوٹا تھا۔مسیں ابھی پھوٹ رہی تھیں ۔غالب کے سبزہ خط کے آثار بھی نہ تھے۔آنکھیں بادامی اور رنگ گندمی تھا اور اس کی انگلیاں مخروطی تھیں۔میرے اندر ایک اور کجی تھی مجھے سپاٹ اور چپٹی انگلیوں والے پیر بالکل پسند نہ تھے۔میں نے اچانک اسے کہا،’ جوتے اور جرابیں  اتار کر اپنے پیر مجھے دکھاؤ۔’

اس کو کچھ سمجھ نہیں آئی مگر اس نے اپنے جاگرز اور جرابیں اتاریں تو اس کے صاف شفاف متناسب پیر اور توازن لئے ہوئے انگلیاں دیکھکر میرے منہ سے اطمینان کا سانس نکلا،

‘گڈ، ٹھیک ہوگیا۔’ میں نے کہا۔ ‘ آگے آؤ۔’ وہ آیا تو ایک دم میں اس کے ہونٹوں پہ حملہ آور ہوا اور بس پھر اس کے بعد ہمارا تعلق انقلاب دوستی سے آگے بڑھ کر ذاتی تعلق میں بدل گیا۔آج سروش نے میرے اندر جو آگ بھڑکائی تھی وہ کسی طرح سے ٹھنڈی ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔میں نے کئی بار شامی کا نمبر ڈائل کیا ،مگر ہر بار ناٹ رسپانڈنگ۔

میں بےچینی سے کمرے میں ٹہل رہا تھا کہ اچانک میرے موبائل فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوگئی۔میں نے لپک کر میز پہ پڑے فون کو اٹھایا،میرا خیال تھا کہ شامی کا فون ہوگا۔مگر یہ کوئی انجان نمبر تھا۔

ہیلو!

ہیلو! کون ؟

میں سر وہ یونیورسٹی والی لڑکی فریحہ ۔

کون فریحہ !

ہم آج یونیورسٹی شٹل سٹاپ پہ ملے تھے اور سیفو بارے میں نے پوچھا تھا آپ سے

اوہ اچھا! (سخت مایوسی بھرے لہجے میں ،میں نے کہا )

فرمائیں !

آپ کو اگر پسند نہیں تو میں بات نہیں کرتی

نہیں کریں

وہی سیفو جیسی عورتوں کو آپ کیوں گلوریفائی کرتے ہیں؟

اس لئے کہ سیفو اپنے زمانے کی ایک آزاد عورت تھی جس نے اپنی آزادی پہ کمپرومائز نہیں کیا

اسے آپ آزادی کہتے ہیں، بے راہ روی، ہے یہ

(مجھے اس لڑکی کا طنطنہ،اس کی آواز میں بھرا اعتماد اور اس کا چیلنجنگ رویہ اچھا لگا تو اس کی بکواس مجھے بری نہیں لگی۔مجھے اس کی گفتگو سنکر اپنا لڑکپن یاد آگیا جب میں نے پہلی بار سبط حسن کو پڑھنا شروع کیا تو  اس کی کتاب ‘نوید فکر’ کے آغاز میں خالی صفحے پہ لکھا کہ یہ شخص بے دین، ملحد اور انتہائی گمراہ کن خیالات کا مالک لگتا ہے، تازہ تازہ میں نے مودودی ، حسن البنا اور سید قطب کو پڑھا تھا۔پھر چند سالوں بعد اسی نوٹ کے نيجے لکھا کہ ‘اب میرے یہ خیالات نہیں ہیں،سبط حسن کی باتیں ٹھیک ہیں )

میں ہنس پڑا ، اور کہا کہ تمہارا اقبال بارے کیا خیال ہے؟

‘وہ میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔بہت زبردست آدمی تھے۔مسلمانوں  کو خواب گراں سے جگایا  انھوں نے ۔’

میں یہ سنکر کھلکھلا کر ہنس پڑا

‘ہنسے کیوں آپ ؟’

‘پاگل لڑکی وہ عاشق نیاز بھی نہیں تھا، تین شادیاں ، کئی عشق، طوائفوں سے نین مٹکا کرنے والا، اکھاڑے میں کشتی کا شوقین اور مئے ناب سے دل بہلانے والا تھا، کشن پرشاد سے ججی مانگتا ، ملکہ بھوپال سے وظیفہ کا خواستگار تھا۔’

‘کیا کیا؟ یہ سب بکواس ہے۔۔۔۔۔ ‘

‘تو جاؤ نا اقبال کی زندگی پہ تفصیل سے پڑھو۔۔۔۔سنو روس کا ایک شاعر تھا پشکن، نوجوانی میں اس نے بڑے بڑے لوگوں کی سوانح عمریاں پڑھنی شروع کیں تو اسے پتا چلا کہ ان میں سے ہر ایک نے مروجہ رسمی اخلاقیات کو ٹھوکر لگائی تھی اور کے ہاں کجی کا نام سیدھ اور سیدھ کا نام کجی تھا۔’

تو ایسے ہمارا تعلق شروع ہوگیا۔وہ چہرے پہ ہمہ وقت نقاب لئے رکھتی۔ اس کی آنکھوں کا میں اسیر ہوگیا تھا۔اور پانچ اعشاریہ چھے فٹ کی وہ لڑکی بھرے بھرے جسم کی مالک تھی، اس کے بال اس کی کمر کے اس حصّے تک آتے تھے جس کے ہچکولے میرے دل کی دنیا تہہ و بالا کئے دیتے تھے۔

مجھے ایک دن لگا کہ میں طوطوں کی کلاس لے رہا ہوں تو میں نے وزیٹنگ لیکچرر شپ چھوڑ دی مگر اس لڑکی سے میرا ربط نہ ٹوٹا۔ہماری گفتگو میں اب مشکل سے ہی ‘بڑی بڑی بوجھل بقراطی ‘ باتیں در آتیں۔وہ کتابوں سے بھگنے والی لڑکی تھی۔اور اس کے ہاں بس ایک اوسط ذہانت اور مروجہ رسمی اخلاقیات کا چرچا ہوتا تھا، پہلے وہ میری  جنسیت سے بھری باتوں سے بدکتی تھی اور اکثر کال کاٹ دیتی تھی مگر اب وہ ایسا نہیں کرتی تھی، بس اتنا کہتی ،’آپ بہت گندی باتیں کرتے ہیں۔’

پھر میرا فیوز اڑ گیا۔یہ فیوز کا اڑنا بھی عجیب ہے۔جب یہ اڑتا ہے تو میں اپنے آپ سے بھی بے نیاز ہوجاتا ہوں۔اور اپنی بھی خبر نہیں لیتا۔شکر رینا میری اس عادت کا شکار نہیں بنی ورنہ میں اسے کھودیتا۔کئی ماہ اس کیفیت میں گزر گئے۔اس دوران کبھی کبھار میں اسے گڈمارننگ اور گڈنائٹ کا مسیج بھیج دیتا اور کبھی کبھی اسے ‘پھلجھڑی ، چھمک چھلو، چھنال ، سیکسی گرل  ہائے! کا میسج بھیج دیتا۔شروع شروع میں وہ بہت غصّہ کرتی تھی لیکن مجھے اب لگنے لگا تھا  اب اسے ان لفظوں میں چھپے میرے لگاؤ کو پہچان گئی تھی تو کوئی اعتراض نہ کرتی۔پہلے پہل کہتی یہ سب تم ان سے کہہ لیا کرو جو تمہارے اردگرد بہت سی ہیں۔اور میں کہتا کہ ان میں سے ایک بھی فریحہ نہیں ہے۔وہ پہلے رینا بارے بہت سوال کرتی۔کہتی ،بھابھی اتنی پیاری ہیں، آپ کی سمجھ نہیں آتی۔میرا عجیب حال تھا کہ میں اس سے جب بھی بات کرتا تھا مجھے لگتا کہ وہ میرے سامنے ننگی بیٹھی ہے اور ایک ہی وقت میں اس کے سارے جسم کے ایک ایک عضو کو نہار رہا ہوں۔

پھر وہ کچھ دنوں کے لئے بالکل غائب ہوگئی۔میسج کا بھی کوئی جواب نہیں تھا۔میں باؤلا سا ہوگیا تھا۔اسے سینکڑوں ایس ایم ایس اور وائس میسج بھیج ڈالے۔مگر کوئی جواب  نہ تھا ۔پھر ایک دن میرا موبائل جاگ گیا۔دوسری طرف وہ تھی۔میں نے کافی شکوہ کیا۔

‘میری شادی ہوگئی ہے۔اس لئے کوئی رابطہ نہ ہوسکا۔’

‘اچھا ،کس سے شادی ہوگئی ! ‘

‘بوٹ والا جوان ہے ۔’

‘ہائے، شب زفاف منانے کے بعد خیال آیا ۔’

‘آپ کی سوئی ایک ہی جگہ اٹکی رہتی ہے۔’

‘اب کہاں سوئی اٹکے گی ۔۔۔۔۔اندر چلی جائے گی۔’

‘شٹ اپ(مصنوعی غصّہ تھا)، بہت گندے ہو۔’

‘جنس میں گندگی کہاں سے آگئی ،کیا اسے بھی یہی کہا ۔’

‘اب تمہارا لگاؤ مجھ سے ختم ہوگیا ہوگا، ایک دم سے تمہارا جنون جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ہوا۔’

وہ ایک دم سے آپ کی بجائے تم پہ اتر آئی تھی ،مجھے وہ اور میچور لگ رہی تھی، لگتا تھا کہ اس کے لاشعور میں جنس بارے جو ہلکا سا خوف تھا وہ اتر چکا تھا، میں ہنس پڑا اور کہا، ‘اب تو یہ دوآتشہ ہوگیا ہے، کم از کم اب تمہیں احساس ہوگا کہ میں کیا کہتا رہا ہوں اتنے عرصے سے تمہیں چھمک چھلو ۔’

ایک دن وہ موبائل فون پہ مجھ سے بات کررہی تھی اچانک کہنے لگی،

‘کوئی ایسی عورت بھی تمہاری زندگی میں آئی جسے تم نے خدوخال سے اوپر جاکر دیکھا ہو؟’

میں اس کے سوال کو سنکر ایک دم سے ساکت ہوگیا۔اس نے ڈائریکٹ وہ سوال کردیا تھا جس سے میں ہمیشہ بھاگا کرتا تھا۔مگر فریحہ ایسی لڑکی تھی جس کو میں حقیقت بتائے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔

‘ہاں تھی۔بلکہ ہے۔’

‘کون ؟ رینا ؟’

‘ارے نہیں ، رینا کو میں خدوخال کے بغیر دیکھ ہی نہیں سکتا ورنہ وہ میری بیوی نہ ہوتی ۔’

‘پھر کون ؟’

‘وہ میری واحد دوست تھی۔’

‘کیا مطلب دوست تو میں بھی ہوں ۔’

‘تم ‘وہ دوست’ نہیں ہوں ۔’

‘وہ دوست ۔’

‘ایسا رفیق جس کے خدوخال میرے آڑے نہ آئے اور وہ اتنی ٹرانسپرینٹ تھی کہ اس نے براہ راست مجھے اپنے اندر جھانکنے کی اجازت دی اور یہ فن اس کے ہی پاس تھا۔’

‘میں کب تمہاری ٹرانسپیرنٹ دوست بن سکوں گی ؟’

‘کب کا تو مجھے نہیں ، پتا مگر جس دن تم مجھے اپنے بدن سے آگے اندر جھانکنے پہ مجبور کردوگی اور اپنی ذات کے گرد ان چھلکوں سے آگے مجھے لیکر چلی جاؤ گی اسی دن تم میری ٹرانسپرینٹ دوست بن جاؤگی۔’

پس نوشت : میں اس دن اپنے گھر کے ٹیرس پہ ہاتھ میں کافی کا کپ پکڑے کھڑا گلی میں جھانک رہا تھا۔جب کورئیر سروس والا،میرے گھر کے دروازے پہ کھڑا ہوا۔ اس نے بیل بجائی، رینا نے دروازہ کھولا اور اس نے ایک لفافہ اس کی جانب بڑھا دیا۔رینا نے ایک کاغذ پہ وصولی کے سائن کئے اور اندر چلی آئی۔تھوڑی دیر بعد وہ ٹیرس پہ تھی اس نے لفافہ مجھے تھمادیا۔میں لفافہ چاک کیا  تو اندر سے فل اسکیپ کا ایک کاغذ نکلا۔میں نے اسے ّپڑھنا شروع کیا :

ڈئیر ،

جب تمہیں یہ خط ملے گا اس وقت تک شاید میں ٹرانسپرینٹ فرینڈ میں ٹرانسفارم ہونے کے سفر پہ روانہ ہوگئی ہوں گی۔میں نے بہت سوچا کہ کیسے میں اپنے خدوخال سے اوپر اٹھ کر تمہیں پاسکتی ہوں تو اس کا ایک ہی طریقہ میری سمجھ میں آیا اور اس طریقے پہ میں عمل کرنے جارہی ہوں۔اور امید کرتی ہوں کہ اب تم اسی عورت کی طرح ہمیشہ مجھے اپنا دوست رکھوگے جسے تم اٹھتے بیٹھتے یاد کرتے رہتے ہو۔میں سمجھتی ہوں صرف اسی طریقے سے کوئی عورت تمہاری ٹرانسپرینٹ دوست بن سکتی ہے،ورنہ تم ہمیشہ اس کے چہرے، لبوں، رخساروں، چھاتیوں، رانوں میں ہی کھوئے رہوگے۔

والسلام

فریحہ وہی پہلے والی

میں نے خط پڑھتے ہی فوری اپنے موبائل پہ اس کا نمبر ملایا۔گھنٹی بجتی رہی جب میں مایوس ہوکر فون کاٹنے والا ہی تھا فون اٹھاہی لیا،میں نے بے تابی سے ‘فریحہ ‘ بولا تو آگے سے کوئی بھرائی ہوئی آواز میں بولا:

‘ساری،فریحہ نے دو دن پہلے خودکشی کرلی، میں ان کا شوہر بول رہا ہوں۔’

یہ سکر میرے ہاتھ سے موبائل گرپڑا،میری اب ایک نہیں دو ٹرانسپیرنٹ دوست ہوگئی تھیں۔

 

Advertisements

Qasim yaqoob

Qasim Yaqoob,Editor Nuqaat

 

 

فیصل آباد سے ‘نئے ادب کا ترجمان ‘ کے نعرے کے ساتھ  ادبی رسالہ ‘نقاط’ شایع  ہوتا ہے۔ابتک اس رسالے کے 15 شمارے آئے ہیں۔تازہ شمارا اکتوبر کے مہینے میں شایع ہوا اور ہم تک نومبر میں پہنچا ہے۔اس کے مدیر قاسم یعقوب ہیں جو خود بھی مضمون نگار ہیں۔دو کتابوں کے مصنف ہیں۔اور ان کی کتاب ‘لفظ و تنقید معنی ‘ کے پیش لفظ اور چھے عدد مضامین پڑھ کر مجھے لگتا ہے کہ وہ جدیدیت و مابعدجدیت کے بین بین کی چیز ہیں اور مارکس واد سے الرجک نظر آتے ہیں۔اور یہ ان کا حق ہے کہ وہ تنقید میں خود کو کس مکتبہ فکر سے وابستہ کرتے ہیں۔

میرے سامنے نقاط کا جو تازہ شمارا ہے،اس میں مضامین کے باب میں آصف فرخی (ساراؤکفتہ اور رنگ چور)، ڈاکٹر عباس نیر(مجھے نظم لکھتی ہے)،خالد جاوید ( کچھ’قبض زماں’ بارے میں)،سرور الھدی ( فراق،عسکری،فاروقی)،سید تحسین گیلانی ( سیاہ کوا) ،نسیم سید (مست توکلی اور شاہ محمد مری:امن کی فکری تحریک کی ابتداء ) اور حنا جمشید ( بورخیس کی کہانی “دست خداوند”) شامل ہیں۔سید محمد اشرف نے’نیر مسعود کی کہانیاں: کھوئے ہوؤں کی جستجو’ کے عنوان سے نیر مسعود پہ لکھا ہے۔

تراجم میں چینی زبان میں مائیکرو فکشن،معاصر چینی افسانے،ہاورڈ فاسٹ، جین ہارڈی ،کئیرلن گجن، شبنم اور دیگر کے تراجم شامل ہیں۔خصوصی مطالعہ میں ارون دھتی رائے کا تعارف عمر جاوید نے اور ارون دھتی رائے کے دو انٹرویو اور اس کی دوسرے ناول کے پہلے باب اور چوتھے باب کا ترجمہ شامل ہے۔منگل مور کے عنوان سے عرفان جاوید کا ایک مضمون اور سلمی اعوان کا سفری احوال پہ مبنی ایک مضمون اور پھر رموز فنون کے باب میں پروفیسر شہباز علی ہاشمی اور اقدس علی قریشی کے مضامین  اور پھر حصّہ غزل و نظم ۔افسانہ کے باب میں چھے افسانہ نگاروں کی کہانیاں،ناول کے باب میں زیف سید کی تحریر۔سماجیات کے باب میں ہودبھائی،یونس خان اور ڈاکٹر عامر سعید کی تحریریں اور ‘عورت ،صنف اور سماج ‘ کے باب میں فارینہ الماس،فیاض ندیم اور ،افیہ شاکر کی تحریریں۔کتاب تبصرے میں نسیم سید ،رابعہ الربا سعدیہ ممتاز کے تبصرے۔

یہ 505 صفحات پہ مشتمل رسالہ ہے جس کی تدوین یعقوب قاسم نے کی ہے۔اور رسالے میں کسی بھی مجلس ادارت کے تحت کوئی نام موجود نہیں ہے تو گمان یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ رسالہ یعقوب قاسم کی کاوش ہے اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔

اب اسے اتفاق کہہ لیں کہ جب مجھے ‘نقاط ‘ کا تازہ شمارہ موصول ہوا اور میں نے اسے پڑھنے کے لئے کھولا تو قاسم یعقوب نے رسالے کے اداریے میں ‘ادبی صحافت’ کے ایشو کو ہی  بنیاد بنایا ہوا تھا اور میں بمبیئ کے معروف اردو و ہندی کے ادیب مرحوم ساجد رشید کے رسالے ‘نیاورق’ کےاداریوں کا مجموعہ دستخط پڑھ رہا تھا وسیم کاویانی کا شکریہ کہ انہوں نے اس مجموعے کو اکٹھا کردیا۔شاداب رشید کی مہربانی کہ مبمئی سے صوابی اور صوابی سے خانیوال یہ مجھ تک پہنچ گیا۔

ڈاکٹر ظ انصاری نے کسی جگہ طنزیہ طور پہ اردو کے ادبی رسالوں بارے لکھا تھا:

‘اردو زبان کا ہر رسالہ علمی و ادبی رسالہ ہوتا ہے اور ہمارے ہاں غالبا افسانوں اور غزلوں ہی کو علم و ادب سمجھا جاتا ہے۔’

لیکن ساجد رشید نے اس کلیشے کے توڑ دیا تھا۔نقاط میں قاسم یعقوب نے ‘ادبی صحافت ‘ کو سنجیدگی سے نہ لئے جانے اور اسے غیر ادبی سرگرمی سمجھے جانے کا شکوہ کیا ہے۔میرا خیال ہے کہ ادبی صحافت کے بغیر ادبی رسالوں کو قاری میسر آنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا جارہا ہے اور ایسے ادب کی زندگی بھی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے جو سماج اور معاشرے سے بیگانگی برتنے کی کوشش کرتا ہے۔اور دنیا زاد، آج جیسے اردو کے رسالوں کے زیادہ تر قاری وہ ہیں جو عرف عام میں ادبی دنیا سے تعلق نہیں رکھتے اور ان کی دلچسپی سماجیات میں زیادہ ہے۔

قاسم یعقوب سوشل میڈیا کی آزادی اور اس کے ادبی جمالیات میں دخیل ہونے پہ شکوہ کناں ہیں اور  اور وہ ادب کی سوشل میڈیا میں قرآت کو ‘اشتہار کی قرآت ‘ قرار دے رہے ہیں۔میرا خیال ہے کہ اس تاثر میں جزوی صداقت ہے یہ مجموعی طور پہ ٹھیک نہیں ہے۔سوشل میڈیا نے ادب کے پھیلاؤ اور وسعت میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور ان کو کسی بھی قاری کی آزادی کو محدود کرنے کی بات نہیں کرنی چاہئیے۔جو پوسٹ پبلک ہوئی ،اس پوسٹ پہ جو قابل قدر تبصرہ ہوگا وہ جگہ بنائے گا جبکہ اشتہاری اور بے ہنگام شور جلد ہی ختم ہوجائے گا۔مجھ جیسے لوگ بھی اسی سوشل میڈیا کی وجہ سے سامنے آئے ہیں۔ورنہ ایک زمانے میں تک جب تک آپ وزیر آغا یا قاسمی صاحب کے گروپ میں شامل نہ ہوتے تو آپ کا کسی رسالے میں چھپنے کا امکان ہی معدوم ہوجاتا تھا۔

پاکستان میں ادبی صحافت کے پھلنے پھولنے کے پورے امکانات موجود ہیں۔اس وقت سوشل میڈیا میں ادبی صحافت اپنے عروج پہ ہے۔حال احوال، روزن، مکالمہ ، ہم سب، قلمکار ،ایل یو بی پاک سمیت کئی اردو سوشل بلاگ ویب سائٹس کی ادارت ادیب صحافیوں کے ہاتھ ہی میں ہے اور یہ پاکستان کے مقبول اردو بلاگ ویب سائٹس میں بدل چکی ہیں۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ ‘نقاط’ کو بھی آن لائن لانے پہ کام شروع کرنا چاہئیے۔تاکہ ایک کلک کرے اسے پوری دنیا میں پڑھا جاسکے۔بے شک اس پہ لاگ ان ہونے کی قیمت رکھ دی جائے۔ڈیجٹل فارمیٹ میں اردو کے ادبی رسالوں کے آنے سے ان رسائل کی زندگی کا دورانیہ اور بڑھ جائے گا۔

 

Nuqat

 

image nuqat content

 

Nuqatimage 2

کیا کلکتہ میں چڑیاں ہوتی ہیں ؟

12152314206_408265f0b0_b

کلکتہ ٹرام

 

سوشل میڈیا نے کم از کم میری کچھ بھاؤناوں کو اچھے سے پورا کیا ہے اور میں نے کم از کم سوشل میڈیا کے دور سے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں کبھی اپنی ان بھاؤناؤں کو پورا ہوتے دیکھ پاؤں گا۔ایک بڑا سا ریڈیو جو لکڑی کی میز پہ سر شام رکھ دیا جاتا تھا اور ہم سب گھر والے اس میز کے گرد نیچے فرش پہ بچھی دری پہ بیٹھ جاتے اور بی بی سی اردو کی نشریات سننے لگتے تھے۔مہ پارہ صفدر سے خبریں سنی جاتی تھیں۔کبھی نہ ان کی تصویر دیکھی اور جب وہ پاکستان ٹیلی ویژن پہ خبریں پڑھتی تھیں اس وقت کا بھی ہمیں کچھ پتا نہیں تھا۔ایک دن میری کسی پوسٹ پہ فیس بک مہ پارہ صفدر کا لائک دیکھا  اور پھر کمنٹ پڑھا تجسس ہوا کہ یہ کون سی مہ پارہ صفدر ہیں تو  یہ جان کر شادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئی کہ یہ میری پسندیدہ صدا کار ہیں۔

ایک دن دی نیشن میں لکھنے والے لکھاری عباس زیدی فیس بک پہ میرے دوست ہوگئے اور ان سے بات چیت بھی ہونے لگی۔ہفت روزہ نصرت کے علی جعفر زیدی صاحب سے یاد اللہ ہوئی اور پھر چل سو چل۔گوادر سے کے بی فراق اور ممبئی سے رحمان عباس۔شام سے احتشام اور بیروت سے امل سعد ، اردن سے مرحوم ناھض ھتر اور بیروت ہی سے الاخبار کے ایڈیٹر ابراہیم امین۔ایک دن جان ریس مرحوم لندن سے آگئے جن کی ‘انقلاب کا الجبراء’ پڑھ کر ہوش جاتے رہے تھے۔خشک مزاج الیکس سے یاد اللہ ہوئی۔ایران سے کامریڈ بہرام اور ایک دن ایرانی اداکارہ و ڈائریکٹر شبنم طلوعی ٹوئٹر سے فیس بک تک آئیں اور ان سے بات چیت ہوئی۔قرۃ العین طاہرہ نامی فلم میں ان کی اداکاری کے جوہر دیکھنے والے ہیں۔باغی اختر عباس اور اپنے آپ کی تلاش میں مگن علی جون صاحب اور دیکھیں یہ  آکسفورڈ کے ظہور الحق بھی تو میرے علاقے کے ہونے کے باوجود مجھے یہیں سوشل میڈیا پہ ملے۔میں یہ سب باتیں آج یہاں کیوں لکھ رہا ہوں؟

دلّی دوبارہ جانا چاہتا ہوں ،تازہ وجہ تصنیف حیدر ہیں۔ان کے سامنے بیٹھ کر کچھ دیر ان سے ان کی شاعری سننا چاہتا ہوں۔ممبئی جاکر رحمان عباس سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ممبئی سنٹرل اسٹیشن سے ساجد رشید کے گھر کے قریب ترین اسٹیشن تک ٹرین کا سفر کرنا چاہتا ہوں ۔اس کافی ہاؤس کی یاترا کرنا چاہتا ہوں جہاں کبھی مرحوم باقر مہدی بیٹھا کرتے تھے۔

 

میرا خواب ہے کلکتہ دیکھنے کا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا۔کلکتہ میں کئی وجوہات کی بنا پہ دیکھنا چاہتا ہوں لیکن اس کی تازہ ترین وجہ جس نے کلکتہ دیکھنے کی خواہش اور شدید کردی ہے سومی  اینگلو انڈین بنگالن ہیں۔ان کی باتوں نے کلکتہ دیکھنے کی خواہش کو آگ دکھادی ہے۔اینگلو انڈین کلکتہ  کے بنگالی خاندان میں جنمی یہ ادیبہ اور مترجم مجھ سے جب ہم کلام ہوئی تو مجھے یوں لگا جیسے میں کسی سائے سے گفتگو کررہا ہوں۔یہ چار زبانیں جانتی ہے۔تین میں پڑھتی اور لکھتی ہے، دو میں سوچتی ہے۔اور ایک میں خواب دیکھتی ہے۔میں نے پوچھا کہ بغیر سوچے کیسے وہ کونسی زبان ہے جس میں یہ لکھ بھی لیتی ہے اور پڑھ بھی لیتی ہے تو کہنے لگی فرنچ اور ساتھ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔اب مجھے نہیں پتا کہ کھلکھلا کر ہنسی بھی تھی یا نہیں کیونکہ ہماری بات چیت صرف لکھ کر ہورہی تھی اور اس نے کھل کر ہنسنے کا ایموجی بھیجا تھا۔کہتی ہے کہ انگریجی اس کے جذباتی صورت کی زبان ہے ۔لینگويج آف ایموشنل میک اپ۔کہتی ہے کلکتہ اس کے لئے کبھی کولکتہ نہیں ہوسکتا۔اس نے کلکتہ کے ایسے محلے میں آنکھ کھولی جہاں ہر طرف بس اینگلو انڈین بنگالی رہتے تھے اور اس کا گھررپیون اسٹریٹ میں تھا۔پھر وہاں سے یہ نارتھ کلکتہ میں منتقل ہوگئی جہاں بنگالی کلچر کے کسٹوڈین بہت جیادہ انگریجی زدہ تھے۔انجیلی سائزڈ تھے۔سائیکل رکشہ گھسٹتے لاغر بدن،ناقابل اعتبار ٹرام،سرخ اینٹوں سے بنی دیواریں اور ارسٹو کریٹس بنگالی ان سب نے اسے اینگلیسائزڈ کردیا۔کیا کلکتہ اب بھی ویسا ہی ہے؟ ہاں نا، جہاں نہیں ہوتا میں تخیل سے کرلیتی ہوں۔۔۔۔۔ اس کے جواب نے مجھے ساکت کردیا۔

 

Rickshaw Kolkata

ریپون اسٹریٹ کلکتہ کی ایک شاہکار پینٹنگ

میں بھی تو کراچی اور لاہور کو جہاں یہ ویسا نہیں ہوتا جیسا میرے دماغ میں بسا ہوا ہے ویسا کرلیتا ہوں۔میں نے یہ سوچا اور ترنت اسے بتا بھی دیا۔میری پہلی استانی بھی میتھوڈسٹ چرچ کی پیروکار تھیں اور اس نے بتایا کہ وہ بھی متھوڈسٹ اسکول میں پڑھی جہاں بائبل والی انگریجی پڑھی استانیاں تھیں۔اس نے اپنا پہلا محبت نامہ انگریجی میں لکھا۔ایسا پتر جو کبھی جس کے لئے لکھا گیا اسے بھیجا نہ گیا۔شاعری کے اولین شبد بھی اسی زبان میں اس نے لکھے تھے۔فرانسیسی ایسی زبان ہے جس میں وہ ٹھیک سے نہ تو سوچ سکتی ہے اور نہ اس میں محسوس کرسکتی ہے لیکن وہ اس میں لکھ لیتی ہے آسانی سے۔لیکن خواب تو یہ بس  انگریجی میں دیکھتی ہیں۔اینگلو ہندوستانی بنگالن کو اپنی زبان سے پیار 21 سال کی عمر میں ہوا جب یہ اپنے دادا کی لائبریری میں گھسیں اور وہاں انہوں نے انگریجی میں ٹیگور کو پڑھا۔کہنے لگی،”تمہارے کو پتا ہے؟ ٹیگور کو بدیشی جبان میں پڑھنا  بلاسفیمی خیال کیا جاتا ہے؟میں نے کہا پھر تو زیادہ تر لوگ اس بلاسفیمی کے مرتکب ہوئے ہیں،اس نے فوری کہا نہیں میرا مطلب تھا کسی بنگالی کا پڑھنا۔کہتی ہے میں خواب گر ہوں اور سوشلسٹ بھی لیکن لٹریچر کو کسی ڈسکورس کو سامنے رکھ کر نہیں پڑھتی۔اسے اردون دھتی رائے سے عشق کی حد تک لگاؤ ہے اور بنّا پھول کو بھی یہ بہت چاہتی ہے۔سیتہ جیت رے کی طرح بننا اس کا خواب ہے لیکن اس کو تعبیر میں ڈھالنے کی اس نے کبھی کوشش نہیں کی۔بنگال کا جب کبھی میں تصور باندھتا ہوں تو بہت تیز،موسلادھار بارش اور بارش سے پہلے بہت حبس اور چپ چپا کردینے والا موسم میرے ذہن میں آجاتا ہے۔لیکن پھر بھی کلکتہ کا نام سنکر مجھ پہ ایک رومانویت سی طاری ہوجاتی ہے۔لیکن یہ اس رومانویت سے بالکل الگ سی شئے ہے جو کراچی میں یاد کی شکستہ دیواروں سے گلے لپٹتے ہوئے مجھ پہ طاری ہوتی ہے۔یا لارنس باغ میں بدھا کے درخت کے سامنے ‘اس’ کی موجودگی میں طاری ہوا کرتی تھی۔ہارمونیم سے سومی کو عشق ہے اور یہ اسے بجاتی ہے بقول اپنے من میں ڈوب کر۔ایک کلپ اس نے بھیجا ہارمونیم کی موسیقی کا پیچھے چڑیوں کے چہچہانے کی آواز تھی۔”کیا کلکتہ میں چڑیاں ہوتی ہیں ؟” ۔”نہیں تو ، کوے ہوتے ہیں”۔اس نے زرا چڑ کر جواب دیا تو مجھے بے اختیار ہنسی آگئی۔

Coffee-House-4

کلکتہ کافی ہاؤس کا ایک منظر

 

عامی کے نام

ڈئیر عامی

پیرس سے تمہارا آخری خط ملا تو میں اس وقت دفتر سے گھر پہنچی ہی تھی اور رات بھر اخبار کی آخری کاپی پریس بھیجنے تک اسقدر کام کرتی رہی تھی کہ تھکن سے برا حال تھا۔دروازہ کھولا تو سامنے تمہارا بھیجا ہوا خط پڑا تھا۔ہر خط ایک مخصوص سیاہ رنگ کے لفافے میں لپٹا ہوا اور اوپر پیلی روشنائی سے یہاں کا پتا لکھا ہوا نیچے سفید رنگ میں تمہار پتا،اب مجھے دور سے دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس کا خط آیا ہے۔ویسے بنک سٹیمنٹ،کچھ دفتری خط و کتابت سے ہٹ کر کچھ اور تو ڈاکئے کے زریعے سے آتا نہیں ہے اور باقی زیادہ تر مراسلت اب برقی مراسلوں کے زریعے سے ہوتی ہے تو بھی مجھے پتا چل جاتا ہے کہ کس کا خط آیا ہوگا۔ویسے تم نے ہر خط لکھا تو ساری کے نام اور ایڈریس میرا لکھا اور یہاں تواتر سے تمہارے خط ملتے رہے۔میں حیران تھی کہ یہ آخر تمہیں ہوکیا گیا ہے؟تم کیوں پرانے زخموں کو کریدنے لگے ہو اور اپنے آپ کو زخم زخم کررہے ہو؟سب سے زیادہ حیرانی مجھے اس بات کی تھی کہ تم خود سے ان خطوں کے جواب من جانب ساری کے تلاش کرتے ہو اور پھر ایک لمبی سی کہانی گھڑ کر سنانے لگتے ہو۔تم جیسے ایک جدلیاتی مادیت پرست سے مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ تم اسقدر مابعدالطبعیاتی انداز میں لکھنے لگوگے اور شاید تمہارا اربن مڈل کلاس پس منظر تمہاری جان چھوڑنے کا نام نہیں لیتا۔اور آج کل تو میں حیران ہوتی ہوں کہ تم جیسا خشک سا آدمی اتنی کہانیاں،اتنے افسانے اور اس قدر رومان پسند خطوط اور عورت بارے اسقدر سنجیدگی سے کس طرح سے لکھنے لگا ہے۔تمہیں شعبی یاد ہے وہ سرگودھا والا لڑکا جو تمہارے پیچھے پاگل تھا اور کبھی کبھی مجھے شک ہوتا تھا کہ تم بھی تھوڑے بہت تھے اور جب تک ساری کے ساتھ تم جڑے نہیں تھے اس سے پہلے تم دونوں کو ہنسوں کا جوڑا کہا جاتا تھا اور لوگوں کو تمہاری جنسی جہت بارے بھی کافی شکوک تھے۔اور یہ ٹھیک وہی زمانہ تھا جب پاکستانی سماج میں کہیں بھی تو کم از کم “گے اینڈ لزبین ” ہونے کو ایک فطری فنومنا نہیں سمجھا جاتا تھا اور ترقی پسند بھی اسے ایک بیماری خیال کرتے تھے۔اور میں نے جب تمہیں “چھلاوہ” پڑھنے کو دی تھی تو تم نے اسے انتہائی بکواس قرار دیا تھا۔کوئی کہتا شعبی تمہارا “لونڈا” ہے اور کوئی کہتا اس ” انقلابی” لیڈر کو “علت مشائخ ” ہے۔اسلامی جمعیت طلباء کراچی کا وہ پمفلٹ یاد ہے جس میں تمہارے اور شعبی کے معاملے کو لیکر کیا کیا باتیں لکھی گئیں تھیں اور یہ سب یونین الیکشن سے صرف پانچ دن پہلے ہوا تھا۔اور اس پمفلٹ پہ یونیورسٹی کے لڑکوں اور لڑکیوں کی اکثریت نے کچھ دھیان نہیں دیا تھا اکڑچہ چٹخارے لیکر سب نے پڑھا تھا لیکن ووٹ تمہاری طرف ہی گئے تھے کیونکہ ان کو تمہاری سیاسی کمٹمنٹ اور نظریات پہ وابستگی پہ زرا بھی شک نہیں تھا۔اس زمانے میں تم اتنے حساس اور اتنے ٹچی کبھی نظر نہیں آئے تھے۔میں نے کبھی تمہیں پلٹ کر جواب دیتے نہیں دیکھا۔تم نے اس پمفلٹ کا نوٹس تک نہ لیا اور تمہاری جانب سے جو بھی جتنے پمفلٹ اس دوران آتے وہ سب کے سب سیاسی ہوتے تھے۔ویسے ان خطوط میں جتنے ادیبوں اور شاعروں کا جو تم نے تذکرہ کیا میں تمہارے ذہنی ارتقاء پہ کافی حیران ہوئی ہوں۔اس زمانے میں زیادہ کیا تو میکسم گورکی کا “ماں” تم کبھی کبھی اپنے ملنے والوں میں تقسیم کرتے نظر آتے تھے اور زیادہ تر کمیونسٹ مینی فیسٹو اور سبط حسن کی کتابیں یا پھر زیادہ کیا تو روسی کمیونزم کی کتابیں تم بانٹتے تھے۔شعر تمہیں کبھی یاد نہ ہوئے۔اور اکثر ان کے ساتھ جراحت کے مرتکب ہوتے تھے۔ہاں سینما خوب دیکھتے تھے تم۔باقی ساری کے ساتھ رہتے ہوئے تم کیا پڑھتے تھے اور اس کے ہاں سے کیا لاتے تھے اور اس کے ساتھ یونیورسٹی کے کونے کھدروں میں تم کیا باتیں کرتے تھے یہ سب مجھے ان خطوط سے پتا چلا ہے۔میں نے کبھی تمہارے منہ سے ان دنوں بھولے سے بھی اس کتاب کا نام نہیں سنا تھا جس کا تذکرہ تم آج کل بار بار کرتے ہو۔نہج البلاغہ۔ہاں ڈاکٹر علی شریعتی کے بارے میں کل تو تمہارا خیال تھا کہ وہ ایک یوٹوپئین اسلام پرست سوشلسٹ تھا اور تم ہمیشہ اس پہ الزام عائد کرتے تھے کہ اس نے ایرانی انقلاب میں ملاّؤں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس نے تودے پارٹی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے فکری اعتبار سے سائنسی سوشلزم کی اپنی لبریشن تھیالوجی کے زریعے سے بنیادیں ہی کھوکھلی کیں۔تمہیں اس کے ماضی سے رومانٹسزم سے سخت چڑ تھی اور اپنی تحریروں میں آج تم اسی ماضی سے رومان کرتے نظر آتے ہو۔اور تم دیکھ سکتے ہو تمہارے اس خیالی رومان پرستی کے خریدار بھی زیادہ تر اربن مڈل کلاس اور ایک مخصوص مذہبی فکر کے حاملین مرد و عورتیں ہی ہیں۔ساری تمہاری دوست تھی اور وہ فلسفے کی ایک شائننگ اسٹوڈنٹ تھی۔مانا کہ اس سے ملنے کے بعد تمہاری وہ نو تیرہ کی مونچھیں غائب ہوئیں اور وہ ہلکی ہلکی داڑھی بھی اور شلوار قمیص کی بجائے تم جینز پہننے لگے اور تمہارے وہ موٹے موٹے شیشوں والی عینک بھی زرا سے فریم میں بدل گئی تھی اور تم تھوڑے سے قبول صورت ہوگئے تھے اور ساری تمہاری انتخابی کمپئن میں بھی بہت معاون تھی لیکن اس نے کبھی بھی مارکسزم اور جدلیاتی مادیت پرستی سے شغف نہیں دکھایا۔اور مجھے وہاں یونیورسٹی میں ہی شک تھا کہ وہ بھی کوئی اسلام پسند سوشلسٹ ٹائپ یوٹوپئین ہی ہوگی لیکن ٹھیک سے کہہ نہیں سکتی تھی اس لئے شک کو صرف ذہن میں رہنے دیا تھا لیکن تمہارے خطوط سے پتا چل گیا کہ میرا شک ٹھیک تھا۔اس نے تمہیں بھی کافی خراب کیا کہ تم کلارا زیٹکن سے زیادہ سیمون ڈی بوووار اور سارتر کی جانب جھکے نظر آئے اور تو اور کافکا کی جادوئی حقیقت نگاری تمہیں حقیقت کے قریب تر لگنے لگی جبکہ انھوں نے جدلیاتی مادیت پرستی کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔میرے لئے تمہارے ہاں جنسیت/سیکچوئلٹی کا وافر تذکرہ دیکھنا کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔تمہارے ہاں یہ آسیب /آبسیسشن کی طرح نظر آیا۔یہ فرسٹریشن تھیوری سے نابلد کامریڈز اور ایک گٹھن زدہ ماحول سے آنے والوں کے ہاں تو سمجھ میں آتی ہے لیکن تمہارے ہاں اس عمر میں اس کا غلبہ دیکھ کر مجھے شاک لگا ہے۔کانٹی جینس لو کی بات کرکے تم جس فراریت پسندی کا شکار ہو اس پہ تمہیں ندامت محسوس نہیں ہوتی؟ساری کینسر سے مرگئی اور اس کے مرنے کے بعد تم ماسکو چلے گئے تھے اور وہاں سے تمہارے خطوط جتنے مجھے ملے یا دوسرے دوستوں کو ان کو پڑھ کر ہمیں کہیں نہیں لگا تھا کہ تم ابدی محبت اور عارضی محبتوں کی کسی مساوات پہ یقین رکھتے ہو کیونکہ تمہارے خط اس زمانے کی پولیٹکل اکنامی سے جڑے مسائل پہ اظہار خیال سے بھرے ہوتے تھے اور تم بار بار پاکستان میں انقلابی سوشلسٹ کیڈر پارٹی کی تعمیر کی بات کرتے تھے۔ان دنوں تو تم نے نہ کسی نتاشا کا زکر کیا اور نہ ہی ووڈکا کا اور اپنے اندر کسی راسپوٹین جگانے کی خواہش کا۔مجھے سچی بات ہے کہ تمہارے خطوط پڑھ کر اپنے اندر کسی رومان بھرے جذبے کے بیدار ہونے کے آثار نظر نہ آئے۔تمہارا آخری خط ملنے سے قبل ہماری فون پہ جو بات ہوئی تھی میں نے اس میں بھی تم سے کہا تھا کہ میں تین مرتبہ کے بریک اپ اور تین بار مطلقہ ہوجانے کے بعد یہ سمجھتی ہوں کہ ایک کاسموپولٹین اربن چیٹرنگ کلاس کے مرد اور عورت کا سب سے برا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ہم بستر پہ بغیر کسی بندھن کے اکٹھے ہوتے ہیں ہمیں تعلقات میں کوئی نیا پن محسوس ہوتا ہے لیکن جیسے ہی یہ تعلق شادی جیسی چیز سے جڑتا ہے ہم سپوائل ہونے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ ہمارا تعلق ایک غیر مرئی قید بن جاتا ہے۔کانٹی جینسی مجھے سب سے بڑی حقیقت لگتی ہے۔”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں “۔ہوسکتا ہے میرا یہ تجربہ بہت زیادہ پرسنل ہو اور اس سے کسی قسم کا عمومی مقدمہ اور اس پہ نتائج مرتب کرنا ٹھیک نہ ہو لیکن مجھے تم خاصے قابل رحم لگے۔تمہیں مرگی ایک مرض سے زیادہ رومان لگتی ہے اس لئے کہ دستوفسکی نے اسے رومانٹسائز کردیا تھا اور بیمار ہونا تمہیں پرکشش لگتا  ہے اور ایک جگہ پڑے رہ کر طلسمات کا جال بننا تمہیں لبھاتا ہے اس لئے کہ اسے کافکا حسین بناکر دکھاتا ہے مجھے ہضم نہیں ہوتا۔تمہارے اندر کا زمان اور مکان اس قدر یوٹوپئین ہے کہ مجھے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہونے لگتی ہے کہ کیا یہی وہی عامی ہے جو ہماری طلباء سیاست کا سب سے باعمل لڑکا ہوا کرتا تھا۔کافی دور نکل گئے ہو تم اور کیا کل وقتی فکشن نگاری کا پیشہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکے ہو تم۔ویسے ماضی کا ہر انقلابی اور کرانتی کاری نظم یا کہانی میں پناہ کیوں ڈھونڈتا ہے؟ پاش سے تم پوچھنا تو سہی کیوں کہ مرے  ہوئے لوگوں کی آتماؤں سے تم مخاطب ہونے اور ان سے جواب حاصل کرلینے میں کافی مہارت حاصل ہوگئی ہے۔پیرس میں رہے تم اور یہاں رہ کر نہ تمہیں باکونن یاد آیا اور نہ ہی پیرس کمیون اور یہاں پہ مارکس کا آنا بھی تمہیں ٹھیک سے یاد نہیں آیا۔ان خطوط میں سماج واد عامی کہاں گم ہوگیا؟ مجھے سمجھ نہیں آئی۔اور اب برسلز پہنچے ہو یہاں رہ کر تمہیں کیا یاد آئے گا ٹھیک سے میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔میں ناستک ہوں اور فنائے محض پہ یقین رکھنے والی اور اس لئے مجھے کسی عالم برزخ سے جوابوں کی تلاش نہیں ہے۔ویسے زرا اپنے پرانے جدلیاتی مادیتی پرست عامی کو آواز دیکر دیکھنا کہ تم نےجن کو مخاطب کیا اور جس سے بولے وہ سب کے سب ان نظریات اور افکار کے سوا اپنے الگ وجود اور ہئیت کے ساتھ کیا کہیں موجود بھی تھے؟اس لئے تو یہ سارے خط تم مجھے ارسال کرتے رہے۔کوئی ایسا میکنزم اس خیال پرستی اور آئیڈیلزم کے پاس ہے کیا جو ان خطوط کو براہ راست فنا ہونے والوں تک پہنچا دے؟ یقینی بات ہے کہ نہیں ہے۔پیرس سے لکھے گئے اس آخری خط  میں سوائے سادیت پسندی کے اور ہے کیا؟ ایک ایسی ٹریجڈی جسے تمہاری سادیت پسندی نے اور خوفناک بنادیا ہے اور تمہاری مریض طبعیت کو اور کئی لوگوں میں منتقل کردیا ہے۔سیکنہ علی زیدی نے پراگ سے مجھے لکھا ہے کہ یہ وہ عامی نہیں ہے جو اسے دریائے پراگ پہ بنے پرانے لکڑی کے پل پہ ملا تھا اور زندگی سے بھرپور تھا۔یہ تو کوئی دیمک زدہ شخص لگتا ہے جو اصل عامی کو کھا گیا ہے۔مجھے تم سے منافقت نہیں کرنی یہ کہہ کر کہ اتنی تلخ باتوں پہ شرمندہ ہوں یا معافی کی طلبگار ہوں۔مجھے تم سے اسی سفاک حقیقت پسندی کے ساتھ بات کرنی ہے۔مزید کئی باتیں پھر کروں گی اگر تمہارا فیوز نہ اڑا تو۔

والسلام

تمہاری دوست ریحانہ سرور

میں کیسا مسلمان ہوں بھائی

 

حسین حیدری ممبئی کے رہنے والے ہیں اور بدقسمتی سے ان کا جو خاندانی پس منظر ہے وہ شیعہ ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جو کسی شخص کی کہی ہوئی بات کو دارالعلوم دیوبند اور سعودی وہابی اینٹی کلچر کے غالب اثر کے سبب ویسے ہی مشکوک بنادینے کے لئے کافی ہوتی ہے۔لیکن ہندوستان کیوں کہ ایک بہت بڑا ملک ہے اور وہاں ابھی کسی کی بھی کہی ہوئی بات کو بہت سارے لوگ اس کے خاندان کے مذہبی پس منظر کو جانے بغیر اس کی قدر وقیمت کو مانتے ہیں تو ایسے میں اس نے ایک نظم کی باز گشت بہت سنی جارہی ہے۔ممبئی میں “کمیون” کے نام سے ایک پرفارمنگ آرٹ فورم ہے اور اس فورم پہ ایک پروگرام اپنی کہانی سناؤ کے نام سے ہے اور یہ کم از کم ممبئی کی اربن مڈل کلاس میں بہت مقبول پروگرام ہے اور اسی پروگرام میں حسین حیدری جب اپنی کہانی سنانے آئے تو انھوں نے ایک نظم سنائی:

ميں کیسا مسلمان ہوں بھائی

میں سجدہ کرنے والا ہوں یا جھٹکا کھانے والا ہوں

میں ٹوپی پہن کے رہتا ہوں یا داڑھی اڑاکے رہتا  ہوں

مجھ میں گیتا کا ساربھی ہے،ایک اردو کا اخبار بھی ہے

اپنے ہی طور سے جیتا ہوں،دارو،سگریٹ بھی پیتا ہوں

دنگوں میں بھڑکتا شعلہ میں کرتے پہ خون کا دھبا میں

مندر کی چوکھٹ میری ہے،مسجد کے قبلے مرے ہیں

گوردوارے کا دربار میرا یسوع کے گرجے میرے ہیں

سو میں سے میں چودہ ہوں لیکن یہ چودہ کم نہیں پڑتے ہیں

پورے سو مجھ میں بستے ہیں اور میں پورے سو میں بستا ہوں

مجھے ایک نظر سے دیکھ نہ تو میرے ایک نہیں سو چہرے ہیں

سو رنگ کے ہیں کردار میرے،سو قلم سے لکھی کہانی ہوں

میں جتنا مسلمان ہوں بھائی اتنا ہندوستانی ہوں

حسین حیدری کی یہ نظم فروری کے دوسرے ہفتے کمیون ممبئی فورم کے آفیشل فیس بک پیج پہ پوسٹ ہوئی اور ایک دن میں 2000 لوگوں نے اسے آگے شئیر کردیا۔ہندوستانی اخبارات میں یہ نظم شایع ہوئی اور پھر اس پہ بھانت بھانت کے تبصرے ہونے لگے۔ہندوستان کا مقبول انگریزی بلاک سکرول کے میگزین میں جیوتی پونمی نے ایک آرٹیکل لکھا جس میں حسین حیدری کے حوالے سے کہا گیا کہ اس کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ اس نے جو نظم جو طرف اس نے خود اپنے لئے کہی ہے اس پہ اسقدر شور کیوں مچا ہوا ہے؟ اور حسین حیدری یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نظم انھوں نے اپنے اوپر لکھی ہے اور یہ کوئی احتجاج میں لکھی گئی نظم نہیں ہے۔حسین حیدری ایک چارٹر اکاؤٹنٹ تھے اور انھوں نے دسمبر 2015ء میں نوکری چھوڑی اور کل وقتی گیت نگار اور سکرین رائٹر بن گئے۔حسین حیدری کچھ بھی کہیں لیکن اصل میں ان کی یہ نظم مسلمانوں کے بارے سٹیریو ٹائپ خیالات کے اظہار کے خلاف ایک احتجاج کی علامت بن گئی ہے۔ہندوستانی مسلمانوں کے ہاں بھارتیا جنتا پارٹی اور ہندؤ فاشزم کی جانب سے مسلمان کمیونٹی کو دہشت گرد، انتہا پسند، رجعت پرست اور پیورٹن بناکر پیش کرنے کے رجحان کے خلاف ردعمل پایا جاتا ہے۔وہ اس بات پہ بھی سیخ پا ہیں کہ ہندوستان میں وہابی ازم اور دیوبندی ازم کی جانب سے جو اسلامی خلافت اور اسلامی ریاست کا یوٹوپیا پیش کیا جاتا ہے اس کا پجاری ہر ایک مسلمان کو بناکر دکھایا جارہا ہے۔سبھی مسلمان ڈاکٹر زاکر نائیک اور دار العلوم دیوبند کے زیر اثر سامنے آنے والے چہروں یا انڈین مجاہدین یا کشمیری مجاہدین بناکر پیش کئے جانے کا رجحان ہے  اس کے خلاف ایک ردعمل ہندوستانی معاشرے کے اندر موجود ہے۔مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس طرح کی سٹیریو ٹائپ نظریہ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں  کے تکثیری چہروں کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں اور ان کو یہ نظم اپنے خیالات کی عکاس لگی ہے۔مجھے یہ نظم اس لئے بھی دلچسپ لگی کہ میں حال ہی میں پرویز ہودبھائی کی تحریر “کیا پاکستان بطور ایک تکثیریت پسند سماج کے باقی رہ سکتا ہے” پڑھ رہا تھا جس میں انھوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ” مابین المذاہب تکثیریت پسندی ” اور ” مابین الفرق الاسلام تکثریت پسندی” موجود مسلم تھیالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے عملی طور پہ ہر قسم کے معاشروں میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کیا ہے لیکن

Texually and formally

نہیں اور وہاں پہ زیادہ تر ابن تیمیہ، ابن عبدالوہاب، سید احمد بریلوی،شاہ اسماعیل،رشید احمد گنگوہی،سید مودودی،سید قطب،حسن البنّا اور سید روح اللہ خمینی جیسوں کی حکمرانی اور ان جیسوں کو ہی زیادہ قبول عام ملا ہے۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں ابھی حاجی علی کے مزار پہ خواتین کے داخلے کو منع کرنے کا معاملہ ہو یا خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی کے مزار پہ عورتوں کی حاضری کی ممانعت کا مسئلہ ہو اس پہ ہندوستان کی مذہبی پیشوایت نے متنی اور رسمی طور پہ کنزرویٹو پوزیشن کو ہی اپنایا ہے۔اور خود بریلوی ملائیت نے بھی اسی راستے کو اختیار کیا ہے اور ایک مجلس میں اور منہ سے تین بار طلاق کا لفظ نکالنے کا معاملہ ہو اس پہ بھی کوئی لچک دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔اور پاکستان کے اندر شیخ عثمان مروندی لال شہباز قلندر کے مزار پہ ہوئے خودکش بم دھماکے بعد بحث کا رخ “دھمال ” کے جائز ہونے نا ہونے کی طرف مڑگیا اور اس معاملے پہ بریلوی مذہبی قیادت نے بھی کم وبیش دیوبندی ملائیت اور سلفی ملائیت کے ساتھ کا موقف اختیار کرلیا اور اس حوالے سےپاکستانی مسلم اربن مڈل کلاس کی کئی ایک پرتوں نے بھی ملائیت کے ساتھ کا ہی موقف اپنایا۔اور یہ ایک طرح سے مذہبی فاشزم کی مکمل جیت کا سا منظر نامہ ہے۔مسلمانوں کو سٹیریو ٹائپ کرداروں میں دیکھنے اور دکھانے کا رجحان آئیڈیالوجیکل منظر نامے پہ اکثر متون میں تکثریت مخالف رائے کے غالب آجانے کے سبب بھی ہے اور بدقسمتی سے اس سبب کی طرف نگاہ کم ہی جاتی ہے۔پرویز ھودبھائی نے ٹھیک کہا ہے کہ پاکستانی سماج کے اندر تکثریت پسندی کے حامی جدید مسلم مفکرین کی فکر کو آج کی مین سٹریم مسلم فکر میں کوئی خاص جگہ نہیں مل سکی اور سید امیر علی،سرسید احمد خان،فضل الرحمان جیسے جدید مسلم مفکرین کی فکر آج کتابوں میں بند ہوکر شیلفوں میں کہیں دب کر رہ گئی ہے۔اکبّر بادشاہ کی صلح کلیت بھی ہمارے مرکزی دھارے کا حصّہ نہیں بن پائی اور آج ہمارے ملامتی صوفیاء جیسے بابا بلھّے شاہ تھے ان کے مزاروں پہ عورت کا داخلہ منع ہے جیسے آویزاں بورڈ ہمارا منہ چڑاتے ہیں۔اور غالب ڈسکورس اگر ہے تو وہ تبلیغی جماعت کے طارق جمیل، سپاہ صحابہ پاکستان کے لدھیانوی،جاوید احمد غامدی،جماعت اسلامی کے مودودی کا ہے یا پھر حافظ سعید کا ہے۔اور یہ مسلمانوں کے اپنے اندر کی تکثیریت اور تنوع کا بھی سب سے بڑا دشمن ثابت ہورہا ہے۔

 

وہ دھماکہ کریں،تم کلچر کو پابند سلاسل

 

 

فروری کی 16 تاریخ اور دن جمعرات کا اور شام کے سات بجنے میں 5 منٹ باقی تھے جب سندھ کے ضلع دادو کے تعلقہ سہیون شریف میں واقع شیخ عثمان مروندی الحسینی المعروف لال شہباز قلندر کے مزار کے اندر عین ان کی قبر پہ پائنتی کی جانب تکفیری دیوبندی دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کا خودکش بمبار پہنچا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔یہ وہ وقت جب مزار کے احاطے میں زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی اور وہاں پہ دھمال ڈالی جارہی تھی۔اس افسوسناک واقعے میں 80 افراد شہید اور 250 سے زائد افراد شدید زخمی ہوگئے۔دو دن میں ملک کے مختلف حصوں میں پانچ خودکش حملے ہوئے جبکہ ایک واقعہ میں ڈیرہ اسماعیل خان مين پولیس کی وین پہ فائرنگ کی گئی اور ان واقعات کی زمہ داری جماعت الاحرار، تحریک طالبان،داعش خراسان اور لشکر جھنگوی العالمی نے ملکر قبول کی ہے اور یہ سب تنظیمیں دیوبندی مکتبہ فکر کی تکفیری،خارجی اور جہادی آئیڈیالوجی سے اشتراک رکھنے والی تنظیميں ہیں۔

شیخ عثمان مروندی الحسینی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں مولانا عبدالحی لکھنوی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے :

الشيخ عثمان بن حسن المروندي

الشيخ الصالح عثمان بن حسن الحسيني المروندي ثم السيوستاني المعروف بلعل شاهباز

قدم ملتان سنة اثنتين وستين وستمائة، فكلفه محمد بن غياث الدين الشهيد بالإقامة في

ملتان، وأراد أن يبني له زاوية بتلك المدينة فلم يقبله وسافر في بلاد الهند، ثم رجع إلى أرض

السند وسكن بسيوستان، ولم يزل بها حتى مات، وكان شيخاً وقوراً مجرداً حصوراً، يذكر

له كشوف وكرامات، توفي سنة ثلاث وسبعين وستمائة بسيوستان فدفن بها، كما في تحفة

الكرام.

پاکباز نیک بزرگ عثمان بن حسن الحسینی المروندی ،السیستانی لعل شہباز (قلندر ) کے نام سے معروف ہیں۔یہ 732ھجری میں ملتان آئے جب یہاں غیاث الدین  کی حکومت تھی اور اس نے چاہا کہ حضرت عثمان مروندی ملتان قیام کریں اور یہیں پہ اپنا زاویہ/تکیہ /خانقاہ بنالیں لیکن انھوں نے قبول نہ کیا اور ہندوستان کے کئی شہروں کا سفر کیا اور پھر سندھ کی دھرتی پہنچے اور سیوستان میں قیام کیا اور وہیں پہ رہے اور وہیں پہ وصال فرمایا اور شیخ عثمان مروندی بہت ہی بڑے صاحب مجاہدہ بزرگ تھے،ان سے بہت سے کشوف اور کرامتیں منسوب ہیں۔اور ان کی وفات تحفۃ الکرام کے مطابق 780ھجری میں ہوئی۔

اس کے علاوہ عرب کے کئی ماہرین تاریخ جنھوں نے عرب سے ہجرت کرجانے والے علماء و مشائخ کا تذکرہ کیا ہے ان کا زکر بھی بڑے اہتمام کے ساتھ کیا ہے۔یہاں تک کہ شام،مصر ،ترکی ،لبنان اور اردن کے ماہرین تاریخ بھی آپ کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں۔لال شہباز قلندر کے سہیون شریف کو سندھو وادی کا اجمیر بھی قرار دیا جاتا ہے اور ان کو سندھ کا خواجہ غریب نواز بھی کہتے ہیں۔اور شیخ عثمان مروندی دیگر صوفیاء کرام کی طرح ہندؤ،سکھ،مسلمان، شیعہ ،سنّی ،اعتدال پسند دیوبندی ( علامہ عبدالحی لکھنوی دیوبندی مدرسہ ندوۃ العلماء لکھنؤ میں ہی استاد تھے )، کرسچن اور یہاں تک کہ یہودیوں میں بھی یکساں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہيں۔کراچی میں رہنے والی قدیم پارسی اور یہودی برادری کے لوگ برٹش انڈیا دور میں باقاعدگی سے لال شہباز قلندر کے مزار پہ حاضری دیا کرتے تھے۔آپ کی شاعری اور اقوال پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آپ ان سنّی بزرگوں میں سے تھے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پہ فضیلت کے قائل تھے۔دارشکوہ ملّا بدخشانی کے سلسلہ طریقت سے لال شہباز قلندر تک جاملتے ہیں۔آپ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے فرزند اسماعیل کی اولاد میں سے ہیں جبکہ آپ مولانا جلال الدین رومی کے ہم عصر ہیں۔مروند آزربائیجان کا شہر ہے جہاں آپ کی ولادت ہوئی تھی۔اور ماہرین تاریخ کا خیال یہ ہے کہ جب بنوامیہ کا جبر وستم حد سے تجاوز کرگیا تو کئی سادات وہاں سے نکل کر وسط ایشیاء کی جانب آئے انہی میں لال شہباز قلندر کے آباء بھی تھے۔سندھ کی سرزمین پہ جو تہذیب اور کلچر فروغ پایا اس میں آپ کا کردار بھی اہم بتایا جاتا ہے۔جسے عمومی طور پہ جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کہا جاتا ہے آپ کو اس کے معماروں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔اور دیوبند مدرسہ تحریک میں جو تکفیری،جہادی اور عسکریت پسند عنصر ہے وہ سلفی ازم کے ساتھ اشتراک میں اس جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کا سخت دشمن اور مخالف ہے۔وہ اس کلچر کو مکمل طور پہ تباہ کرنا چاہتا ہے۔لال شہباز قلندر کے مزار پہ ہونے والا حملہ جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کے خلاف تکفیر ازم، جہاد ازم اور نیو دیوبندی ازم کی چھیڑی جانے والی جنگ کا ہی تسلسل ہے جس کی نمائندگی سندھ کے اندر تیزی سے پھیلتی ہوئی دیوبندی تکفیری تنظیم اہل سنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کی فکر سے اشتراک رکھنے والے دیوبندی مدارس کرتے ہیں جوکہ سندھ میں تقسیم سے پہلے سے موجود اعتدال پسند اور صلح کل دیوبندیت کا چہرہ بھی بگاڑرہے ہیں۔سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ کو 94 ایسے دیوبندی اور سلفی مدارس کی لسٹ ارسال کی تھی جوکہ کالعدم دہشت گرد تکفیری تنظیموں کی سرپرستی کرنے میں مصروف ہیں اور ملک میں انتہا پسندی،دہشت گردی اور فرقہ پرستی کو پروان چڑھارہے ہیں۔یہ فہرست سندھ اور وفاق کے سیکورٹی و انٹیلی جنس ودیگر اداروں کی مشترکہ انوسٹی گیشن کے بعد مرتب کی گئی تھی اور اس میں صرف کراچی کے اندر 74 مدارس مووجود ہیں۔لیکن وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس فہرست کو مصدقہ ماننے سے انکاری ہیں اور وہ پاکستان کے اندر کام کرنے والے تکفیری دیوبندی۔سلفی نیٹ ورک کو دہشت گرد نیٹ ورک سے الگ کرکے دیکھنے پہ اصرار کرتے ہیں۔اور شاید وہ پاکستان کے پہلے وفاقی وزیرداخلہ ہیں جو تکفیری انتہا پسند تنظیموں کی صفائی پیش کرتے نظر آتے ہیں۔پاکستان کے ریاستی حکام آج تک دہشت گردی اور تکفیرازم،جہاد ازم کے درمیان باہمی تعلق کو ہی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ریاستی حکام جب یہ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا تو اصل میں وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ پاکستان میں شیعہ، صوفی سنّی، کرسچن، ہندؤ، احمدی، سکھ اور دیگر برادریوں کے خلاف جاری دہشت گردی کسی آئیڈیالوجی کے زیر اثر نہیں لڑی جارہی اور یہ ایک طرح سے دہشت گردوں کی شناخت اور ان کی فکری بنیادوں پہ پردہ ڈالنے کی کوشش ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دوسرے لفظوں میں دہشت گردوں کے نظریہ سازوں، سہولت کاروں،ہمدردوں کو بچانے کی کوشش ہے۔پاکستان کے حکام دہشت گردی کے خارجی ، غیر ملکی اور بیرونی عوامل پہ بہت زور دیتے ہیں لیکن دہشت گردی کے اندرونی اور داخلی عوامل پہ ان کا رویہ انکار۔جواز یا ابہام والا ہے۔اور یہی مخمصہ بار بار اس ملک کے صوفی کلچر سے جڑے لوگوں کے لئے تباہ کن اور خون خوار ثابت ہورہا ہے۔

حکومتوں نے دہشت گردی کے واقعات کے بعد وتیرہ یہ بنالیا ہے کہ وہ مزارات کو سیل کردیتی ہے۔صوفی اور دیگر کلچرل فیسٹول پہ پابندیاں عائد کرتی ہے اور چھوٹے اور دور دراز علاقوں میں موسم بہار میں مقامی میلوں اور عرس کی تقریبات کے انعقاد پہ پابندی لگادیتی ہے۔جیسے اس نے ہزاروں رسمی مجالس اور جلوس ہائے عزاداری پہ پابندی لگائی۔اور اس طرح سے ریاست اور حکومتیں خود تکفیری دیوبندی اور سلفی ازم کا ایجنڈا پورا کرتی ہیں اور رد ثقافت پالیسی کا اجراء کرتی ہیں۔کلچر مخالف دیوبندی تکفیری کارخانوں کو آپ بند کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت جیسی تنظیموں کی وکالت میں آگے آگے ہوتے ہیں لیکن مزار۔عرس،میلہ ، فیسٹول کے خلاف پوری ریاستی مشینری استعمال کی جاتی ہے اور یہاں تک کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک جج “یوم محبت ‘ کو اسلام کے خلاف قرار دے ڈالتا ہے اور سرخ غباروں اور سفید ربن فروخت کرنے پہ پابندی عائد کردی جاتی ہے۔بیساکھی کے میلے پہلے ہی حکومتیں بند کرچکی ہیں۔یہ تکفیر ازم اور جہاد ازم کے سامنے مکمل سرنڈر کرجانے کے مترادف ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ خودکش بم دھماکوں سے مزارات پہ حاضری،میلوں ٹھیلوں میں شرکت،میلاد و عاشور کے جلوسوں میں شرکت سے روکیں تو تم پورے کلچر کو پابند سلاسل کرو،مزارات کو سیل کردو، فیسٹول پہ پابندی لگادو۔مطلب یہ کہ ان کا سو فیصد ایجنڈا پورا کردیا جائے۔اور سیکورٹی اور تحفظ کے معاملے میں بھی ریاست کی ترجیح عوام ان کی عبادت گاہیں،مزارات،امام بارگاہیں،مساجد،جلوس ،میلے نہیں ہیں بلکہ مقدم اور سب سے ضروری وی آئی پیز کی حفاظت ہے۔جس قدر حفاظتی اقدامات ایک ڈی پی او آفس،ڈی سی او آفس، سیشن و سول کورٹس کی جاتی ہےاس کا 20 فیصد بھی اگر عوام کو فراہم کیا جائے تو ایسے واقعات کی شرح بہت ہی کم ہوجائے۔سافٹ ٹارگٹ کا ایک مطلب حکومت عوام کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پہ چھوڑنا بھی ہے۔

 

ساری کے نام 23واں خط

11326444_403414899850128_805511605_n

 

 

پیاری ساری

میں کیسے تمہیں بتاؤں کہ سال گزشتہ کی آخری رات کو موبائل ، سکائپ ، ایمو اور وٹس ایپ کے اس جدید ترین دور میں،میں تم سے بات کیوں نہ کرسکا۔یہ شاید پہلا سال ہے کہ میں نے ٹھیک سے باضابطہ طور پہ کسی بھی دوست کو یاد کرنے کا اہتمام نہ کیا۔روشنی آئی تھی، بہت پرجوش تھی اور ایفل ٹاور تک چلنے کو کہہ رہی تھی لیکن میں اٹواٹی کٹھواتی لئے پڑا رہا۔سال نو کی آمد میں پورا پیرس بقعہ نور بن جاتا ہے اور تمہیں پتا ہے کہ تین سال پہلے سکینہ علی زیدی یہاں پیرس آئی ہوئی تھی اور عبداللہ اپنی بیوی کے ساتھ یہاں آیا تھا اور یہ سب ایفل ٹاور کے نیچے کھڑے ہوئے تھے۔اور وہاں پہ انھوں نے شمپئن کھولی اور اپنے جام مرے نام کئے اور میں وہاں استنبول کے ایک سلم ایریا میں اپنے ٹریول ایجنٹ کی جانب سے یورپ جانے کی سبیل نکالے جانے کا منتظر ایک تنگ و تاریک فلیٹ کے ایک کمرے میں پڑا ہوا تھا اور وڈکا کی بوتل میں بس چند گھونٹ بچے تھے جس میں سے ایک گھونٹ میں نے بڑی کنجوسی کے ساتھ لیا تھا۔اور ہم سب کے سب اس رات کے آخری پہر ذہنی طور پہ تمہارے گھر آکر تمہیں ساتھ لیکر منوڑا کراچی پہنچ گئے تھے اور تمہیں یاد ہے کہ ہم سب نے کتنا زور لگایا تھا تمہیں اس ٹھرے کے چند گھونٹ لینے کے لئے مگر تم اپنی مسلسل انکار  کررہی تھیں۔اچانک تم نے ایک ایسی بات کی کہ ہم سب کو چپ لگ گئی تھی۔تم نے کہا تھا کہ اگر میں نے ایک گھونٹ بھی بھرا تو ساری زندگی پھر میں “نہج البلاغہ” پہ بات نہ کرسکوں گی۔ہم سب جو نرے مادیت پرست اور ملحد محض تھے یہ فقرہ سنتے ہی جیسے ساکت ہوگئے تھے اور سارا نشہ ہرن ہوگیا تھا۔اگرچہ ہم سے کسی نے بھی اس کڑوے سیال کو اپنے اندر انڈیلنا پھر بھی بند نہ کیا تھا۔یہ تو نہج البلاغہ کے اسباق کو قلمبند کرتے ہوئے تھا کہ ميں نے اس سیال کو بالکل ہاتھ نہ لگایا۔کیونکہ مرے اندر سے آواز آئی تھی کہ جب تمہارے فہم کی روشنی میں علی شناسی کو رقم کرنا ہے تو پھر تمہاری خواہش کا احترام بھی کیا جانا بنتا ہے۔ویسے مجھے ایک اعتراف کرنا ہے۔جن سرد ترین راتوں میں، میں علی شناسی پہ لکھ رہا تھا اور تمہاری کہی باتوں کو اکٹھا کررہا تھا تو اس دوران سامنے الماری میں لال پری پڑی ہوتی تھی اور بلا کی سردی، گیس کی لوڈشیڈنگ اور ایسے میں کپکپاتی انگلیاں اور مری ہڈیوں میں گھسی جاتی سردی کے باوجود مجھے صاحب نہج البلاغہ ، ان کے افکار ، ان کی تنہائی اور اس تنہائی کے سحر میں ڈوبا مرا ریڈنگ روم مجھے کبھی اس کی طلب کا احساس نہیں ہونے دیتے تھے اور بعد میں بہت حیران ہوا کہ یہ سب کیا تھا۔ہاں جہاں کہیں اٹک جاتا تو تم اچانک سامنے آکے بیٹھ جاتی تھیں اور مجھے لگتا کہ مری مادیت پرستی رگوں میں تم علویت کے معانی کو ایسے رواں کرتیں جیسے خون۔اور مرا رکا ہوا قلم پھر سے چلنے لگتا تھا۔اب میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسی مابعدالطبعیات تھی جس نے تمہارے اندر کہیں بھی وہ غیرانسانی پن پیدا نہیں کیا جو میں ملاؤں،پنڈتوں، پیروں، پادریوں،واعظوں اور محتسبوں کے ہاں اور ان پہ آنکھیں بند کرکے ایمان لانے والوں کے ہاں دیکھتا رہا تھا۔جس سے وحشت زدہ ہوکر میں یہاں پیرس بھاگ آیا تھا۔ابھی کچھ دن پہلے تم نے ہی شاید مجھے فیس بک پہ ٹیگ کیا کہ ایک مولوی نے سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر کی جانب سے کرسچن برادری کو ‘ہیپی کرسمس ‘کہنے اور آسیہ نام کی ایک خاتون کی رہائی کی دعا کرنے پہ اسے نہ صرف گستاخ قرار دیا بلکہ اس کو واجب القتل قرار دے ڈالا ہے۔اور لاہور کے ایک تھانے میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس پیغام کو لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام لگاکر مقدمہ درج کرلیا ہے۔کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہم جسے مسلم جمہور کا شعور کہتے ہیں وہ شاید بالکل اس چپ کی طرح ہے جس میں مذہب کے نام پہ ایسے پروگرام کی کوڈنگ ہوگئی ہے جو ہر سیاہ چیز کو سفید کرکے دکھاتا ہے۔مجھے تو اپنے ہاں مسلمانوں میں ملحد، سیکولر ، لیفٹ اور لبرل ہوجانے والی اکثر آوازوں کو سنکر بھی یہی شک ہوتا ہے کہ ان کا شعور بھی غلط پروگرام کی کوڈنگ کی وجہ سے سیاہ تر ہی ہے۔اس کی ایک وجہ تو وہ ہمارے ہاں ایسے ملحدوں، روشن خیالوں، لبرل کی کمی نہیں ہے جو ترقی کے نام پہ آج بھی آدی واسیوں، قبائلیوں، غریبوں، کمزروں کو ان کی زمینوں سے بے دخلی کو بالکل جائز خیال کرتے ہیں اور ایسے لیفٹ بازوں کی کمی نہیں ہے جو ہندوتوا کے لتّے تو بہت لیتے ہیں لیکن جب مسلم بنیاد پرستی کا جائزہ لینے کی بات ہو تو ان کے ہاں ہو کا عالم ہوتا ہے۔یہ غلط پروگرامنگ ہی ہے جو مسلم جمہور کی اکثریت کو محمد بن قاسم جیسے عرب حملہ آور کو ہیرو اور اپنی دھرتی کا دفاع کرنے والے راجہ داہر کو ولن بناتی اور سمجھتی ہے۔اور یہی غلط پروگرامنگ ہے جو اورنگ زیب کو اپنا آئیڈیل جبکہ دارشکوہ، سرمد کو راندہ درگاہ بناکر دکھاتی ہے،غلط پروگرامنگ ہمیں شیوا جی کے مقابلے میں تیمور لنگ اور یہاں تک کہ سکندر مقدونی کو آئیڈیل بناکر دکھاتی ہے،ہمیں جھوک شریف کے شاہ عنائت مغل سامراجیت اور جاگیرداری، پیر پرستی کے خلاف جدوجہد کی علامت کے طور پہ نہیں بلکہ سلادینے والی نام نہاد روحانیت کی علامت کے طور پہ ہی پسند آتے ہیں۔اس غلط پروگرامنگ نے ہی تو یہ کیا ہے کہ ہم امام حسین کے قتل کا فتوی دینے والے مفتیوں پہ تو لعنت کرتے ہیں لیکن عصرحاضر میں ایسے فتوے دینے والے ہمارے رہبر و رہنماء ٹھہرجاتے ہیں۔ہمیں دارا شکوہ، محب الہ آبادی، سرمد،میاں میر، بھگت کبیر، میراں بائی، سچل سرمست ، بلّھے شاہ ، شاہ حسین، گرونانک ،شاہ لطیف بھٹائی کا صلح کل اور وحدت الوجودی رنگ میں رنگا مذہبی شعور ایک آنکھ نہیں بھاتا ہے جوکہ شناختوں کے مختلف ہونے پہ سیخ پا نہیں ہوتا،وہ اس بات سے بروفروختہ نہیں ہوتا کہ کوئی زکری کیوں ہے تو کوئی احمدی کیوں ہے اور کوئی شیعہ کیوں ہے تو کوئی اسماعیلی کیوں ہے اور کسی کے ہاں ہندؤمت کیوں ہے تو کوئی کیس، کرپان ، کڑا کیوں عزیز رکھتا ہے؟ہم اس تکثیری شعور کی پروگرامنگ سے ڈرنے والے لوگ ہیں، ہماری تاریخ، ہمارا جغرافیہ، ہماری دینیات ، ہماری اخلاقیات سب سے کثرت سے لزر جاتی ہیں اور ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے شواہد کو مٹاتے ہیں جو ہمیں مونولتھک ہونے سے دور رکھتے ہوں۔ہمیں صوفی سرمست نہیں مولوی بدمست درکار ہیں تبھی تو قاتلوں کے مزار بڑے تزک و احتشام سے بنائے جانے لگے ہيں اور ہمیں عاشور کے جلوسوں پہ فائرنگ کرنے والوں ، عورتوں اور بچوں کی مجالس پہ ہینڈ گرینڈ پھینکنے والوں، میلاد کے جلوس پہ بم برسانے والوں اور چرچ میں ، احمدیوں، کرسچن ، ہندؤ ، زکریوں کی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے والوں کو نشانہ بنانے والوں کے مرجانے پہ ان کے چہروں پہ مسکان اور ان کی قبروں سے مشک کی لپٹیں آتی محسوس ہوتی ہیں اور ایک بھٹہ مزدور عورت ہمارے دین و مذہب کے لئے سب سے برا خطرہ بن جاتی ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ تھر کے باسی کسی تہذیب، ثقافت، کسی تاریخی قدیمی جغرافیہ کے وارث اور مالک ہے ہی نہیں ، ان کے گھر گھر نہیں ہیں کیونکہ کنکریٹ کے نہیں بنے اور ان کی زمینیں زمینیں نہیں ہیں کیونکہ انڈس وادی کی طرح لہلہاتی نہیں ہیں۔یہ بس خانہ بدوش لگتے ہیں اس لئے ان کو سرمایہ داروں کی منافع کی ہوس کی تسکین کے لئے ان کی دھرتی سے اٹھادیا جائے اور ان کو بڑے شہروں کی کچی اور گندی بستیوں کا باسی بنادیا جائے تو اس میں حرج ہی کیا؟ہمیں اپنی زمین، وسائل  بچانے اور اپنی ڈیموگرافی کے بدل جانے کے خلاف مزاحمت کرنے والے بلوچ انسان ہی نہیں لگتے ،کیٹرے مکوڑے لگتے ہیں اور ان کو غائب کردیا جائےیا ان تشدد کے نشانات سے بھری لاشیں اور ماتھے پہ گندھا ہوا ” پاکستان زندہ باد” نظر آئے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ہمیں 22 ہزار لوگوں کے محض اس لئے مارے جانا کوئی بڑا واقعہ نہیں لگتا کہ وہ شیعہ تھے۔شیعہ ہونے، احمدی ہونے ، کرسچن ہونے اور اسماعیلی ہونے کے ساتھ ہی ہماری ہمدردیاں اور ہماری انسانیت کہیں گھاس چرنے چلی جاتی ہے۔یہ وہ پروگرامنگ ہیں جو گھر، اسکول، کالج، یونیورسٹی، مدرسوں، مین سٹریم میڈیا اور اب سوشل میڈیا کے زریعے سے ہمارے دماغوں میں فیڈ کی جاتی ہے۔ہمیں کہیں سے بھی اپنا عمل، ردعمل، سوچ، مظاہرے غیرانسانی نہیں لگتے اور ہم زرا بے چین نہیں ہوتے۔ویسے کچھ روز پہلے روسی طیارہ گرکے تباہ ہوا، ایک روسی سفیر کو پیچھے سے گولی مارکر ہلاک کردیا گیا تو میں نے اس پہ لوگوں کو خوشی مناتے دیکھا اور امریکہ میں ایک بہت بڑی مسلم تنظیم سی اے آئی آر  کے ڈائریکٹر کو اس پہ خوشی مناتے دیکھا تو مجھے ایسے لگا کہ یہ پروگرامنگ تو کہیں بہت بڑے پیمانے پہ اپنے اثرات دکھارہی ہے۔میں یہاں گوشتہ عافیت کی تلاش میں آیا تھا لیکن مجھے عافیت تو کہیں بھی نظر نہیں آتی۔دسمبر کی آخری رات میں مجھے یہی سوچیں گھیرے رہیں۔مرے اندر کا رومان پرور آدمی جو ویسے تو ہر روز ہی باہر آنے کی سعی کرتا ہے لیکن ان دنوں کہیں اندر ہی سہم کر اور ڈر کے دبکا ہوا ہے اور باہر آنے کا نام نہیں لے رہا۔رومان اندر ٹھٹھر رہا ہے اور گٹھن ہے کہ کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جارہی ہے۔بڑی کوشش کی کہ تمہیں رات ختم ہونے اور یکم جنوری شروع ہونے پہ ہیپی نیو ائر کا پیغام دوں اور یہ بتاؤں کہ تم سے مری محبت اور چاہ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور بیٹھے بٹھائے تمہارے عکس مری آنکھوں میں جھلملانے لگتے ہیں۔تمہیں صدر کا وہ ہوٹل یاد ہے جہاں تم مجھ سے ملنے آئی تھیں جب میں اپنے آپ سے بھی ملنا نہیں چاہتا تھا۔جب میں یہ ملک چھوڑ کر جارہا تھا اور اس دوران تم کرسی پہ بیٹھی تھیں اور میں زمین پہ۔اور میں تمہیں چوری چوری دیکھے جارہا تھا، تمہارے چہرے پہ لگی نفیس سے عینک کو دیکھ کر میں سوچتا تھا کہ تمہاری عینک زیادہ نازک ہے کہ تمہارا چہرہ، تمہاری انگلیاں جنہیں تم بار بار مروڑ رہی تھیں اور وقفے وقفے سے دانتوں سے ناخن چباتی تھیں، ان لمحات میں تم مجھے فلسفے کے عظیم افکار سمجھانے والی ساری کی بجائے ایک الہڑ مٹیار لگ رہی تھیں جو چاہتی تھی کہ مجھے جانے سے روک دے اور کہے ‘مت جاؤنا، یہیں اس گھٹن اور حبس میں دونوں رہتے ہیں ،مرنا ہی تو اکٹھے مریں گے نا’ اور ساری دنیا کا سب سے بڑا تلخ سچ یہ ہے کہ اکٹھے مرنا چند خوش نصیبوں کی قسمت ہوا کرتا ہے اور مری ، تمہاری ڈیسٹنی یہ ہے ہی نہیں۔تمہیں رام مستجاب آسٹن یاد ہے ، اس نے بتایا تھا کہ اسے ایک لڑکی میں اپنی ھ-م-ا دکھائی دی جو بہت بولڈ لگتی تھی اور ایک بار اس نے اسے کہا کہ مرے ساتھ کربلاء تک کا سفر کرونا تو وہ ایک دم سے بولی، بچّو! میں خودمختار نہیں ہوں اور لوگوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہوں نہیں جاسکتی۔ ر-م-ا نے مجھے بڑے تاسف سے کہا کہ یار! اگر وہ جھوٹے سے ہی کہہ دیتی کہ ہاں چلیں گے تو اس کا کیا بگڑجاتا؟میں یہ سچ تو پہلے سے ہی جانتا تھا کہ اس لڑکی میں ھ-م-ا دکھائی دیتی ہے پر ہے نہیں۔ساری! مری بیوقوفی دیکھو ، کہ میں اس پوچھ بیٹھا کہ تمہیں کیسے لگا کہ وہ ھ-م-ا دکھائی دیتی ہے مگر ہے نہیں تو آسٹن بھی اپنی وضع کا ایک الگ ہی آدمی ہے اس نے بہت ہی شانت لہجے میں کہا “کیونکہ اس کا وزن 50 کلو ہے اور ھ-م-ا 45 کلو کی تھی”۔

تم جو 400 سے 500 لفظوں کے میسج مجھے انباکس کرتی ہو ، خط کیوں نہیں لکھتیں۔میں تمہیں کاغذ پہ خط اس لئے لکھتا ہوں کہ کاغذ اور قلم، ذہن ، انگلیوں کا لمس اور نظروں کی تپش ملکر جو رومان اور محبت کا احساس پیدا کرتے ہیں وہ برقی مراسلے میں مفقود ہوتا ہے۔بس اب تھک گیا ہوں، اور ہاں،

نیا سال مبارک ہو،

فقط تمہارا

ع۔ح