ایاز سلیم کے نام

23755177_321606954914040_3139207023947590769_n

جو میں جانتی کہ پریت کرے دکھ ہوئے

تو نگر ڈھونڈرا پیٹتی کہتی پریت نہ کریو کوئی

جو میں جانتی کہ من خود بیری ہوئے

 ہر ڈگر ڈھونڈا پیٹتی کہتی پریت نہ کریو کوئی

پیارے ایاز ،

رات کے اس پہر میں نے فیس بک وال کھولی تو سامنے ایک سٹیٹس تھا

 Happy Friendvesary Muhammad

Four years ago today you and Ayyaz became friends on Facebook.

میں نے یہ پیغام پڑھا تو مجھے خیال آیا کہ میں فیس بک پہ گزشتہ چار سالوں سے یہی پیغام بار بار پڑھ رہا ہوں اور بڑی مشکل سے خود کو کچھ لکھنے سے روک پاتا ہوں۔کئی بار تو ایسا ہوا کہ میں نے 1000 الفاظ میں اپنے جذبات کا اظہار کرڈالا اور پھر مٹادیا۔ہماری دوستی  بظاہر تو اس وقت شروع ہوئی تھی جب تمہیں ( معذرت مجھے یہ آپ جناب کے تکلفات زرا اچھے نہیں لگتے خاص طور پہ ان سے جن سے ‘پریت’ ہوتی ہے) میرے شہر میں تعینات ہوئے ایک سال سے زیادہ ہوگیا تھا اور میں اس دوران کبھی دفتر نہیں گیا تھا۔اور پھر جب پہلی ملاقات ہوئی تو وہ بھی خوشگوار ہرگز نہیں تھی۔ایک دوست غلط فہمی کی بنیاد پہ آپ کے عتاب کا شکار تھا اور میں اس کی سفارش کرنے صحافیوں کی ایک فوج ظفر موج کے ساتھ تمہارے دفتر پہنچا تھا۔اصل میں تو کامریڈ فہیم عامر کا مجھ پہ سخت دباؤ تھا اور یہ معتوب دوست بھی ان کا ہی جاننے والا تھا لیکن بعد میں وہ بھی میرے بہت اچھے دوستوں میں شامل ہوگیا تھا۔میں وہاں سے واپس چلا آیا تھا اور اس وقت لاہور میں ایک اور پولیس افسر سرمد سے میں نے تمہارا شکوہ کیا تھا اور مجھے یاد ہے کہ اسی شام تم نے مجھے ایس ایم ایس کیا اور پھر کال کرکے گھر آنے کی دعوت دے ڈالی۔اور وہ ہماری ملاقات یادگار بن گئی۔

کئی حوالے ہمارے اور تمہارے مشترک نکل آئے تھے۔غلام محمد آباد کالونی سے لیکر گورنمنٹ کالج فیصل آباد،زرعی یونیورسٹی ،افضل احسن رندھاوا ، فضل راہی  اور لیفٹ کے کئی چمکتے ستارے جن کی آپ بھی پوجا کرتے رہے تھے اور میں بھی اور اس کے بعد ہمیں زرا احساس نہیں ہوا کہ ہماری دوستی و تعلق چند سالوں پہ مشتمل ہے۔سب سے بڑھ کر تم بھی کتابوں کے رسیا اور میں بھی۔ہمارے ہاں لوگ سابقوں لاحقوں سے بہت پیار کرتے ہیں اور ان کی عقیدتوں کا محور و مرکز ہوتے ہیں۔یہاں لوگ سٹیٹس سے پیار کرتے ہیں اور پیٹی بورژوازی /مڈل کلاس تو اس معاملے میں بہت گھٹیا ہوا کرتی ہے۔یہ وہ کلاس جس کے پاؤں کیچڑ میں اور سر آسمان کی طرف ہوا کرتا ہے۔لیکن ہم تو اپنے طبقے کے سب سے غدار ہیں اور سب سے پہلا علم کا کلہاڑا ہم نے اپنے طبقے کے گھٹیا پن اور سطحی جذباتیت پہ مبنی رویوں پہ لگایا تھا اور مجھے تمہاری یہی ادا بہت بھائی تھی۔

تم مجھے ہمارے سے پیارے لگے اور دل کے بہت قریب محسوس ہوتے رہے۔میں سچی بات کہوں گا کہ میں اپنی زندگی میں وردی بے وردی نوکر شاہی کے بلامبالغہ چند سو چھوٹے بڑے افسران سے رابطے میں آیا ہوں گا اور ان میں سے کچھ واقعی شاندار تھے اور نمک کی کان میں نمک نہیں ہوئے تھے اگرچہ سسٹم کی درجہ بندی اور میکنزم ان کو ہلنے ہی نہیں دیتا اور بغاوت کرنے کے لئے سی ایس پی افسر وہ بنے بھی نہیں تھے۔مگر اس

Hierarchy and Mechanisms

میں رہتے ہوئے بھی انہوں نے اپنا جوہر انسانیت نہیں کھویا تھا اور جب کبھی ان کو موقعہ ملا تو انہوں نے اپنے اندر پائی جانے والی دردمند روح کا اظہار کرہی دیا۔تم ان چند پیاری روحوں میں سے ایک ہو۔مگر ایک بات کہوں گا کہ تم ان چند روحوں میں سے اس لحاظ سے منفرد ہو کہ تم نے اپنے اندر بغاوت کی چنگاری کو کبھی دبا کر نہیں رکھا اور بہت کھل کر اس کا اظہار کردیا۔میں ان گوشوں کو اچھے سے جانتا ہوں جو ابتک سوائے تمہارے اور تمہارے ساتھ ان لمحات میں رہنے والے لوگوں کے کوئی اور واقف نہیں ہیں جو پرآشوب دور میں میرے سامنے اس لئے کھلتے چلے گئے کہ میری انوسٹی گیشن صحافت اور ایک غیر ملکی صحافتی خبررساں ایجنسی کے لئے خدمات سرانجام دیتے ہوئے میں حادثاتی طور پہ ان سے واقف ہوگیا تھا۔اٹک میں جو ذمہ داریاں تم نے سرانجام دیں جس طرح سے ہزاروں جانوں کو بچانے کا اہتمام کیا وہ قابل ستائش ہیں۔اور جس طرح پس پردہ رہ کر تم نے افتادگان خاک کی مدد کی اور ان کی ڈھارس بندھائی وہ بھی تمہارے حقیقت میں ایک بڑے آدمی ہونے کا ثبوت ہے۔

لفظوں کی حرمت  اور احترام آدمیت کا جو جذبہ تمہارے اندر ہے اس نے میرا دل مول لے رکھا ہے۔میں نے بہت دفعہ چاہا کہ تمہارے لئے اپنی محبت کا اظہار کردوں لیکن اس خوف سے باز رہا کہ لوگ ‘بھاگ لگّے رہن مولا خیر رکھے بادشاہیاں قیم رہن’ کا الزام میرے سر نہ منڈھ دیں۔اور جب تم میرے شہر میں تعینات تھے تو یہ سرے سے ممکن ہی نہیں تھا۔لیکن اس موقعہ پہ میں خود کو باز نہیں رکھ سکا ۔کیونکہ اب اور سہن نہیں ہورہا تھا۔میرے لئے تم سے تعلق ایک انمول اور محبت بھرا ہے۔اور جس سے پریت کا تعلق قائم ہوجائے تو پھر ہجر میں عجب سا درد ہوتا ہے اور اوپر جو میں نے ایک گیت کے چند اشعار درج کئے وہ تم سے میرے تعلق کے عکاس ہیں۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ہماری دوستی کا یہ سنگ میل ایسے موقعہ پہ آیا ہے جب میرے سب سے پسندیدہ اور سورس آف انسپائریشن ادیب سعادت حسن منٹو کی جسمانی مرگ کا دن بھی ہے۔اور مجھے پتا ہے کہ منٹو تمہیں بھی بہت پسند ہے۔کیونکہ اس کی طرح تم بھی بہت ‘گستاخ’ہو بلکہ تمہارے رقیب تو تمہیں پیٹھ پیچھے ‘بدتمیز’ بھی کہتے ہیں۔کیونکہ ان کو تمہارا سچ بولنا بہت ناپسند ہے۔سہیل چھٹہ ،مبین اور تمہارے جیسے افسران پولیس سروس تو کیا سول سروس کے ہر شعبے میں نایاب سے ہیں۔اور نایاب ہی رہیں گے۔ویسے تو ہمارے ہاں فکشن کی دنیا میں منٹو بھی نایاب ہی ہے اور ہم اتنے بے مایہ ہیں کہ اپنے سماج بارے کچھ بھی کہنے کے لئے بار بار اس کی جانب پلٹتے ہیں۔ویسے فکشن میں رحمان عباس ،ساجد رشید ،ارون دھتی رائے جیسے لکھاریوں نے جنوبی ایشیاء کے ادب کا بھرم باقی رکھا ہوا ہے۔میرے پاس کنٹرگراس کا وہ ناول موجود ہے جو تم نے مجھے گفٹ کیا تھا۔ویسے تم ملائیت کے پرخچے اڑادینے والے جن لکھاریوں کو پڑھتے رہتے ہو ان کا ذکر کرکے میں تمہارے خلاف ‘پین دی سری’  اور ‘کافر کافر’ کا وظیفہ پڑھنے والوں کا محاذ کھلوانا نہیں چاہتا۔مجھے اس دن کا انتظار ہے جب تمہارے نام کے ساتھ ‘ریٹائرڈ’ لکھا جائے گا اور تم کھل کر سامنے آجاؤگے۔مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے ہی وہ دن آئے گا تو ہمیں ایک بہترین بے باک لکھاری مل جائے گا جس  کا سورس آف انسپائریشن ‘منٹو’ ہوگا ۔اور جس کے اندر تخلیق کی آگ ‘افصل احسن رندھاوا’ جیسی ہوگی۔میں نے تمہاری زندگی کا یہ پہلو یہاں پہ تم سے اجازت لئے بغیر ہی افشا کردیا ہے اور امید کرتا ہوں اس گناہ کو تم ‘حساب دوستاں در دل’ کے زمرے میں لوگے اور مجھے معافی دے دو گے۔

صوفیہ محجوب سے تم واقف ہوں گے۔اس کا باپ عرب اور ماں ہندوستانی تھی۔بیروت اور لکھنؤ کی تہذیبیں اور پھر ان دو تہذیبوں کی ترقی پسند اور ریڈیکل وراثت کی حامل یہ عورت کہتی ہے کہ تم نے اس کے سامنے میری بڑی تعریف کی تھی،اور میں نے اسے کہا تھا کہ میرے پردے میں اصل میں تم اپنی ہی تعریف کررہے تھے۔وہ پاکستان آنا چاہتی ہے مگر پاکستان کے کارپرداز اس کی ماں کے ہندوستانی پس منظر کے سبب اس دانشور عورت کو ويزہ دینے سے انکاری ہوتے ہیں حالانکہ اس کے پاس جرمنی کی شہریت بھی ہے۔وہ پاکستان آکر تمہیں مجھ سے زیادہ ملنے کی خواہاں۔دیکھ لو کیسے تم لوگوں کو اپنی شخصیت کے سحر ميں گرفتار کرلیتے ہو۔

Happy Friendversary Ayyaz Saleem Sahib

Long Live and best wishes.

آپ کا دوست

محمد عامر حسینی

Advertisements

منٹو کو شراب کی لت نے نہیں مارا

 

 

 

منٹو کی جسمانی مکتی ہوئے 63 سال گزر گئے لیکن منٹو خود مکت نہیں ہوا اور شاید کبھی ہوگا بھی نہیں۔اس کی کہانیوں کا جہنم اب بھی سلگ رہا ہے اور اس کے کرداروں کے زریعے معاشرے کی سڑاند ہمارے دماغوں میں گھس کر ہمارے اندر اسقدر تعفن پیدا کررہی ہے کہ بس پوچھئے مت۔

میں نے منٹو کو جب پہلی بار دریافت کیا تو بالی عمریا تھی نیا نیا خون جوش مارتا تھا اور اس کی کہانیوں کے عنوان اور موضوعات خوامخواہ رانوں کے درمیان سرسراہٹ پیدا کرکے میرے دماغ میں سنساہٹ کے سوا کچھ اور پیدا ہی نہیں کرتے تھے۔مجھے سخت مایوسی ہوتی تھی جب بلونت کور کے پاس ایک ٹھنڈے گوشت کو دیکھتا تھا اور میرے اندر شدت سے خواہش جنم لیتی کہ اس لمحے میں بلونت کور کے پاس میں کیوں نہیں تھا۔بس منٹو کی پہلی قرآت کے یہی اثرات تھے اور میں سمجھتا تھا کہ منٹو سب کے سامنے پڑھنے کی چیز نہیں ہے اور نہ ہی اس پہ سب کے سامنے بات کی جاسکتی ہے۔ کالی شلوار پڑھ کر میں کہاں پہنچا تھا اس کا بیان سوائے شرمندگی کے کچھ اور لیکر نہیں آئے گا اور مجھے ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘ ‘موذیل’ اور ایسے ہی ‘نیاقانون’ ‘کھول دو’ کی سمجھ ہی نہیں آئے تھے۔بلکہ میں اتنا کمینہ تھا کہ ‘کھول دو’ میں آپریشن تھیڑ میں سٹریچر پہ پڑی عورت کے ہیجان کے لمحہ میں ‘کھول دینے کے عمل’ کے وقت میں وہاں موجود ہونا چاہتا تھا۔اور اس لمحے کو بھی ‘لطف و سرور’ کے لمحے بنانے کا خواہش مند تھا۔آپ مجھ پہ لعن طعن کرسکتے ہیں لیکن جو سچائی ہے وہ اس  طرح سے چھپنے والی نہیں ہے۔

لیکن کیا سب کے ہاں منٹو کی قرآت ایسے ہی تھی۔ایسا نہیں ہے۔بہت سارے لوگ ایسے تھے جنھوں نے میری طرح منٹو کو دریافت نہیں کیا تھا اور وہ بہت خوش قسمت لوگ تھے۔

منٹو کو اور طرح سے دیکھنے اور دکھانے کے قابل میں کب ہوا؟ اس بارے میں ٹھیک سے کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔لیکن مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ میرا دوست وقار خان تھا جس نے ‘سیاہ حاشيے’ مجھے پڑھنے کو دئے تھے اور دینے سے پہلے اس نے ایک شاندار تمہید باندھی اور ایک ایسی تقریر میرے سامنے کی تھی کہ مجھے منٹو کی پہلی قرآت بکواس لگنے لگی تھی۔

ندھی مھاجن کہتی ہیں کہ منٹو نے مجھے کہانی پڑھنا اور دریافت کرنا سکھائی۔اور اس کا منٹو سے عشق ‘اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی دھیانا دی منگ دی ڈال آف لالٹین’ جیسے بقول اس کے ‘عجیب وغریب شبد’ کانوں میں پڑنے سے شروع ہوئی۔یہ منٹو کے لازوال افسانے ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ’ کے زبان زدعام فقرے ہیں۔

نندتا داس نے ‘منٹو’ فلم بنالی ہے اور سنا ہے اس سال کے کسی حصّے میں وہ فلم آبھی جائے گی۔مجھے نندتا داس کی فلم منٹو کی سچائی کے زیادہ قریب لگنے والی فلم ہوگی،ایسا لگتا ہے کیونکہ وہ منٹو کے ایک دوست کی بیٹی ہی نہیں بلکہ منٹو کی عاشق صادق بھی ہے اور وہ خود کہتی ہے کہ اس کے اندر’منٹویت’ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ سانولی سلونی سی یہ اداکارہ مجھے ویسے بھی بہت پرکشش لگتی ہے اور میں اسے بہت زیادہ چاہتا بھی ہوں۔نجانے کیوں مجھے اس کی آواز سے بھی عشق ہے۔(من اپنا پرانا پاپی ہے)۔اسے خود بھی لگتا ہے کہ منٹو سے عشق کرنے والے لوگ بھی ایک اور ہی طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔

‘روحزن’ جیسے ناول کے مصنف رحمان عباس کہتے ہیں منٹو اپنی شراب نوشی کی لت سے نہیں مارے گئے بلکہ ان کو ریاست اور معاشرے نے مارا تھا۔میں نے بھی منٹو کے اثر میں ایک افسانہ لکھا تھا جو اس کی مرگ کے دن میں اپنے پڑھنے والوں کے سامنے پھر پیش کررہا ہوں ۔

اٹھاؤ گلاس ، مارو جھک

افسانہ

میں اس مرتبہ لاہور گیا تو اس نے مرا تپاک سے استقبال کیا اور مجھے کینٹ میں سرور روڈ پر بنے اپنے شاندار گھر لے آئی اور کہنے لگی

جتنے دن لاہور رہو ، یہیں رہنا ، مری گاڑی حاضر ہے اور اس مرتبہ جہاں جاؤ مجھے ساتھ رکھنا ہے

میں نے سرہلایا

کہنے لگی آج رات تمہیں کسی جگہ لیکر چلنا ہے ، آرام کرلو ، شاید رات بھر جاگنا پڑے

میری ایک کمرے تک رہنمائی کی ، میں کمرے میں آیا اور جوتے اتار ، سامان رکھ ، بستر پر خود کو گرا سوگیا ، نجانے کب تک سوتا رہا

اٹھ جائیں جناب

اس کی آواز مرے کانوں میں پڑی ، میں اٹھ کر بیٹھ گیا

کب سے تمہیں آوازیں دے رہی ہوں ، کیا محض سونے آئے ہو

میں نے اس کی اور دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا

بلیک کلر کی ساڑھی اور سفید رنگ کے بلاؤز میں وہ قیامت لگ رہی تھی

میں مبہوت ہوگیا ، اس کا سرخ و سپید رنگ ، شربتی آنکھیں ، کالے لمبے بال ، ستواں چہرہ واقعی زھد شکن تھا اور وہ بڑے طنطنے اور تمکنت کے ساتھ کھڑی تھی

مجھے لگا کہ جیسے اس کی انکھیں سکینر ہوں اور مری آنکھوں سے مرے دماغ کے اندر چل رہی کھد بد کو پڑھ رہے ہوں

چہرے پر ایک فخریہ مسکراہٹ تھی اور پتلے پتلے سے ہلکے سی اسکن لپ اسٹک کے ساتھ اس کے ہونٹوں پر ایک مسکان تھی اور ہونٹ تھوڑے سے کھل گئے تھے

مجھے لگا کہ جیسے کہہ ڈالے گی کہ

کمبخت اندر سے مرد ہی نکلا نا

میں جب بھی لاہور آتا تو ہر بار یہ ارادہ کرتا کہ اس سے نہ ملوں گا

مگر یہ ارادہ ہر بار لاہور شہر آکر دم توڑ جاتا اور میں لقے کبوتر کی طرح اس کا طواف کرتا ، اس کے ساتھ دن اور راتیں گزارا کرتا تھا

وہ اور میں اس وقت سے ایک ساتھ تھے جب ہم دونوں گورنمنٹ کالج لاہور میں پہلی مرتبہ اس وقت ملے تھے جب کالج اور کلاس میں ہمارا پہلا دن تھا ، اس دن کلاس میں بیگ صاحب کے سامنے یا میں بے تکان بولا تھا یا وہ ، اور بعد میں پہلے دن ہم نے کینٹین پر ہی اسقدر لمبا وقت گزارا تھا کہ شام ڈھل گئی اور کینٹن کے مالک نے آکر کہا

جناب ! ہم نے کینٹن بند کرنی ہے

ہم دونوں بوکھلا کر اٹھے اور باہر نکلے تو دیکھا کہ کچھ دیر میں رات کا اندھیرا پھیلنے ہی والا ہے

اس کے بعد تو پھر کالج سے بی اے کرنے تک ہم اکٹھے ہی رہے

لاہور شہر کی گلیاں ، کوچہ و بازار ، باغات ، وائی ایم سی ہال ، پاک ٹی ہاؤس ، سب ہم نے پیدل اکٹھے ہی دریافت کئے اور وہآں پر چھپی ” اداسی ” کو کھودا اور پھر ان مقامات پر پرانے دور کے کئی کرداروں کو گھمتے پھرتے اور آہیں بھرتے دیکھا

لیکن اس قدر گہرے تعلق کے باوجود نہ اس نے کبھی مرے خاندان یا کسی اور زاتی چیز بارے پوچھا اور نہ ہی ميں نے ، اس نے کبھی اپنے گھر آنے کی مجھے دعوت نہ دی اور نہ ہی میں اسے اپنے آبائی شہر اور گھر لیکر آیا ، پھر ایک لمبے عرصے تک ہم نہ ملے اور بہت عرصہ بعد وہ مجھے ” آواری ” میں ملی جبکہ میں وہاں پر ایک سماجی تنظیم کے فنکشن مین گیا تھا ، لفٹ  سے اترا تو سامنے اس سے ٹاکرا ہوگیا ، ہم دونوں پہلی نظر میں ایک دوسرے کو پہچان گئے تھے اور تھوڑی دیر خاموشی سے ایک دوسرے کو تکتے رہے ، پھر اس کی جوش میں بھری آواز نکلی

تم ! کہاں مرگئے تھے ؟

یہی سوال مرا بھی ہے کہ تم کہاں مرگئیں تھیں ؟

میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا

تھوڑی دیر کے لئے اس کو چپ لگی ، چہرے پر غبار آیا

پھر اس نے کہا

کہیں نہیں یہیں لاہور میں تھی

ٹھہرے کہاں ہوئے ہو ؟

بس یہیں جوہر ٹاؤن میں

کس کے ہاں ؟

ایک کزن ہے

میں نے کہا

چھوڑو کزن کو ، چلو مرے ساتھ

اس نے یہ کہتے ہوئے مرا ہاتھ پکڑا اور مجھے تقریبا گھسیٹتی ہوئی دوبارہ لفٹ کی اور بڑھی

آواری سے ہم کب نکلے ، کب اس کے گھر پہنچے ، مجھے کچھ پتہ نہیں چلا ، سارے راستے ہم خاموش رہے ، کوئی بات نہ کی

اس نے مجھ سے یہ بھی نہ پوچھا کہ میں کیا کررہا ہوں ؟ اور میں نے بھی

کوئی گھٹیا سے روائتی سوال ہم نے نہ کئے

شادی ہوئی یا نہیں ، ہوئی تو بچے کتنے ہیں ؟ کیا کرتے ہیں

ارے تم کدھر کھوئے ہوئے ہو ؟

اس کی آواز نے مجھے چونکا دیا

جلدی سے نہاؤ ، میں نے تمہارے بیگ سے ایک سوٹ استری کردیا ہے ، اس الماری میں ٹنگا ہے ، اس نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھے بتایا

میں باتھ روم میں گھس گیا ، اندر قد آدم آئينے چاروں اور لگے تھے اور ان کو دیکھ کر مجھے اس کا ساڑھی میں لپٹا مہین سراپا یاد آگیا اور مرے زھن میں جو منظر ان قدآدم آئینوں کو دیکھ پیدا ہوا ، اس پر میں خود ہ؛ شرمندہ ہوگیا اور پھر مرے ذھن میں وہی فقرہ گونجا

” کمبخت اندر سے مرد ہی نکلا نا “

میں نے سارے خیالات جھٹکے اور شاور لینے لگا ، پھر جلدی سے تولیا لپٹے الماری کی اور بڑھا اور اندر دیکھا تو اس نے کالے رنگ کی شلوار قمیص استری کی ہوئی تھی ، میں نے لباس زیب تن کیا ، جوتے پہنے اور باہر آگيا ، وہ لاؤنج میں ایک صوفے پر بیٹھی سامنے لگی ایل ای ڈی سکرین پر چل رہے ایک وڈیو سانگ کو دیکھ رہی تھی

چلیں

مجھے دیکھ کر اس نے کہا

ہاں چلیں ، میں جلدی سے کہا

میں اس کی طرف دیکھنے سے کترا رہا تھا

مگر کنکھیوں سے اس کے سراپے کو دیکھ رہا تھا

تاڑنا ہے تو ٹھیک طرح سے تاڑو نا

ابھی تک تم وہی ہو ، گھامڑ سے خواہشوں سے بھرے لڑکے مگر بے دریغ کسی کو دیکھ کر آنکھیں سیکھنے سے عاری

اس نے اچانک کہا اور میں بری طرح سے گبھراگیا اور سچی بات ہے مرے جھوٹے پندار کو بہت ٹھیس لگی ، اور ميں نے کہا

مجھے تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا ، نہ یہاں ٹھہرنا ہے ، میں جارہا ہوں

او ! مرے غصیلے شہزادے ، زرا ٹھہر ، کہاں چلا ، لے بابا سوری کرتی ہوں ، دیکھ چاہے چھپ کر ، کنکھیوں سے کچھ نہیں کہتی ، ویسے ترا یوں دیکھنا مجھے برا نہیں لگا ، بس دل کیا کہ تو کسی جھجک کے بنا دیکھے اور بار بار تری آنکھوں ميں ابھرتی ستائش دیکھنے کو من کررہا تھا

واہ ! آج تو تم فل فارم میں ہو

یہ کہتے ہوئے میں بھی نارمل ہوگیا ، اور زرا سا شوخ بھی اور ایک بھرپور نظر بھرکے اسے دیکھا

یہ ہوئی نا بات ۔۔۔۔۔۔ اس نے بھی فوری اور برجستہ کہا

اور ساتھ ہی ہم دونوں کھلکھلا کر ہنسنے لگے

کہاں چلنا ہے ؟ میں نے سوال کیا

سرپرائز ہے

ہم دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے اور اس نے گاڑی ڈرائیو کرنا شروع کردی

گاڑی چلا لیتے ہو کہ نہیں

نہیں وہی صورت حال ہے نہ گاڑی ، نہ موٹر سائیکل ، نہ بائی سائیکل

عجب آدمی ہو

مجھے لگتا ہے کہ تم کہیں اسی زمانے میں ٹھہر سے گئے ہو

نہیں تو ، بس اسقدر ٹھہراؤ ہے کہ ڈرائیونگ نہیں آتی مگر لیپ ٹاپ ، سمارٹ فون سمیت کئی جدید ایجادات کو بخوبی استعمال کررہا ہوں

اس نے ہاتھ آگے بڑھایا اور سوئچ دباکر میوزک چلادیا

جاوید بشیر گارہا تھا

وے سادی سجن دے ہتھ بانھہ

رات کے ساڑھے آٹھ بجے تھے ، کینٹ لاہور کی چوڑی کشادہ سڑکوں پر ٹریفک کا رش تھا ، گاڑی وہ بڑی سبک رفتاری سے چلارہی تھی اور اس کے ہاتھوں کی حرکت اور گھماؤ اسٹئیرنگ کے ساتھ ساتھ مجھے ردھم میں لگ رہا تھا ، میں نے آنکھیں بند کرلیں ، ذھن خالی سا ہوگیا تھا ، کافی دیر یونہی گزری اور گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی

میں نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا بڑی سی پارکنگ تھی جہاں پہلے ہی درجنوں گاڑیاں کھڑی تھیں اور پیچھے بھی آرہی تھيں ، موٹر سائیکلیں بھی تھیں اور ہر عمر کے لوگ ان میں سے اتر رہے تھے لیکن زیادہ تعداد 20 سے 30 سال کے درمیان کے لڑکوں اور لڑکیوں کی تھی ، سامنے ایک سینما کی عمارت تھی اور بڑا سا سآئن بورڑ لگا تھا

Cine Star

ارے یہ کیا ؟ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا

ہاں نا ، یہی سرپرائز ہے

سینما دیکھیں گے کیا ؟

میں نے اس سے پوچھا

اس نے سر ہلایا اور ساتھ ہی تیزی سے کہا

بے فکر رہو ، یہاں وہ کچھ نہیں ہوگا جو مون لآئٹ ميں ہوا تھا

اس نے جب یہ کہا تو میں بے اختیار ہنس پڑا

گورنمنٹ کالج لاہور میں ہمارا آخری سال تھا اور ضیاء آمریت کے بھی آخری دن چل رہے تھے اور ان دنوں ایک طرف تو وی سی آر اور ہندی فلموں کی وڈیو کیسٹ میں آمد کا بڑا چرچا تھا ، ہم نے وی سی آر پر فلمیں دیکھ ليں تھیں ، دوسرا ان دنوں سینما میں ” ٹوٹے چلنے ” کا بڑا شہرہ تھا اور ان دنوں ” ننگی تصویر ” دیکھنا بھی کسی بڑی عیاشی سے کم نہیں تھا اور ایسے میں جب ” ٹوٹے چلنے ” کا کلچر سینماؤں ميں شروع ہوا تو بہت سے لوگوں کو اس کو دیکھنے کی چاہ تھی اور اس ” ٹوٹا بینی ” کے وہ بھی شائق نظر آتے تھے جو ضیاء کو سینما کلچر کی تباہی کا زمہ دار قرار دیتے تھے ، تو ایک دن اس نے مجھے کہا کہ میں نے امجد سے پروگرام بنالیا ہے اتوار کو بارہ بجے والے شو میں مون لائٹ چلیں گے ، خیر مون لائٹ گئے ہم اور فلم کے درمیان انٹرول سے زرا پہلے ” ٹوٹے ” شروع ہوئے ، ميں بوکھلا گیا ، باکس میں بیٹھے وہ مردانہ لباس میں تھی مگر میں نے دیکھا کہ اس نے سرجھکا لیا تھا اور پھر اچانک ہی ہال میں ہبڑ دبڑ مچ گئی ، روشنیاں جل اٹھیں اور پولیس ہی پولیس نظر آئی

ہمارے باکس میں ایک انسپکٹر ، دو اے ایس آئی آن دھمکے ، ہم تینوں کو باہر چلنے کو کہا ، انسپکٹر جوان تھا اور چہرے مہرے سے پڑھا لکھا نظر آرہا تھا ، میں نے ہمت کرکے اس سے کہا کہ زرا مری بات سن لیں ، اس نے پہلے انکار کیا ، پھر مری صورت دیکھکر اسے شاید رحم آگیا اور اس نے مرا ہاتھ پکڑا اور ایک طرف لیجاکر کہا کہ ہاں کہو

ميں نے کہا

انسپکٹر صاحب ! ہم جی سی کے طالب علم ہیں ، ہم دو تو لڑکے ہیں یہ تیسری لڑکی ہے ، انسپکٹر نے مری بات سنکر بوکھلاکر اس کی طرف دیکھا جو مری دی ہوئی شلوار قمیص ڈالے سر کے بالوں کو پگڑی میں چھپائے کھڑی تھی اور تھوڑا کانپ بھی رہی تھی

کتنی شرم کی بات ہے کہ ایک تو خود یہ شرمناک حرکت کرنے آئے اور پھر ساتھ ایک لڑکی کو بھی لے آئے ، اس کے خاندان کی عزت کا جنازہ نکلا تو کون زمہ دار ہوگا ، انسپکٹر نے غصّے میں کہا ،

سر معاف کردیں ، اس کو جانے دیں

میں نے عاجزی سے کہا

انسپکٹر تھوڑا نرم پڑگیا اور پھر اچانک کہا کہ آؤ مرے ساتھ ، ہم باکس سے نکلے اور وہ ہمیں نیچے سڑھیوں سے اتار کر سینما کے مین گیٹ تک لایا ، جہاں سپاہی کھڑے تھے ، اس کو دیکھکر اٹینشن ہوئے اور سیلوٹ مارا ، اس نے دروازہ کھولنے کو کہا اور ہمیں آہستہ سے کہا

دفعان ہوجاؤ اور دوبارہ نظر مت آنا

ہم تینوں تھوڑی دور تک آہستہ آہستہ چلے اور پھر ایک دم تیزی سے دور پڑے اور پھر کبھی ” ٹوٹے ” دیکھنے نہیں گئے

سینے سٹار سینما کے سامنے کھڑا یہ میں سب سوچ رہا تھا ، وہ مجھے ہاتھ پکڑ کر اندر لے آئی

Wow

مرے منہ سے نکلا

اندر ایک خوب آراستہ و پیراستہ گیلری بنی تھی اور بہت ہی زبردست سینما تھا ، اس نے مرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور اس نے ایک طرف سے سیڑھیاں چڑھنا شروع کیں اور مجھے لئے ایک ہال میں داخل ہوگئی ، ہال میں اکثر کرسیاں بھرچکی تھیں ، بہت ساری نوجوان عورتیں ، مرد ، فیملیز اپنی سیٹوں پر بیٹھی ہوئی تھیں ، وہ مجھے لیکر سامنے بنی چوتھی قطار میں درمیان کی نشستوں پر لیکر آئی اور ہم وہآں بیٹھ گئے ، مرے ساتھ ہی دو نوجوان لڑکیاں مجھ سے ساتھ دو سیٹوں پر بیٹھی تھیں جبکہ اس کے پہلو میں ایک عورت اپنی بیٹی کو گود مين لئے بیٹھی تھی ، تھوڑی دیر میں بتیاں گل ہوئیں  اور قومی ترانہ شروع ہوگیا ، میں اور وہ تو کھڑے ہونے والے نہیں تھے مگر اس رات اس ہال میں بس مشکل سے دو یا تین افراد ہی کھڑے ہوئے ، مجھے یاد آگیا کہ 80ء کے عشرے ميں پنجاب اور کراچی کے سینما گھروں میں ہم دو یا تین دوست بیٹھے رہتے اور باقی سب کھڑے ہوتے تھے، حد یہ تھی اس دن مون لائٹ سینما میں ” ٹوٹے ” دیکھنے آئے لوگ بھی سب کے سب کھڑے ہوگئے تھے جب ” قومی ترانہ ” بجنا شروع ہوا ، مجھے حسن عسکری یاد آئے تھے کہ

چھاؤنی کا کلچر یہ ہوتا ہے کہ دو دن چکلے میں اور دو دن مسجد میں

لیکن آج تو اس ہال کے آڈینس کی اکثریت بالکل ہی الگ تھی ، ہم اچانک اقلیت سے اکثریت میں بدل گئے تھے ، یہ ہمارا کمال تھا کہ ہمارے حکمران طبقات کا

ترانہ بجنے کے بعد فلم شروع ہوئی ، ڈیجیٹل سکرین پر بڑا سا کرکے

” منٹو ” لکھا ابھرا تو میں واقعی چونک گیا

کیا فلم منٹو پر بنی ہے ؟

ميں نے حیرانی کے ساتھ اس کے کان میں سرگوشی کی

اس نے کہا

عجب چوتیا آدمی ہو یار تم بھی

سارے پاکستان میں اس فلم کی دھوم مچی ہے

آج پہلا دن ہے اور دوسرا شو

اچھا ، اچھا ، منٹو کی موذیل نہ بنو

میں اس کے مجھے ” چوتیا ” کہنے پر چڑگیا تھا

تو کیا پھر ” کلونت کور ” بن جاؤ ، سوچ لو اپنا انجام

اس نے برجستہ کہا اور میں ہنس پڑا

فلم شروع ہوئی  اور آخر تک ہم نے دیکھی

فلم کے سین چلتے گئے اور میں نے کئی مرتبہ سنا اسے کہتے

Rubbish , Damn it

باسٹرڈ

بہت کمرشل کردیا سالے نے

پھر کمال ہے ، ایک کارنامہ ہے منٹو کو سکرین پر لانا

فلم ختم ہوئی تو ہم گاڑی میں آکر بیٹھ گئے

اس نے گاڑی سٹارٹ کی

کھانا کہاں کھاؤ گے ؟

نہیں ، مرا ابھی وہسکی پینے کو دل کررہا ہے

میں نے اسے کہا

چلو ٹھیک ہے پھر گھر چلتے ہیں

کھانا اگر کھانا ہوا تو آڈر کرکے منگوا ليں گے

ہم گھر آگئے

اور وہ اپنے کمرے میں مجھے لے گئی

ٹیبل پر اس نے ایک الماری سے بہت ہی خوبصورت کرسٹل سے بنے گلاس دھرے اور اور پھر بیڈ کے ساتھ بنی ایک سمال ٹیبل کو کھولا اور اس کے اندر ایک ترتیب میں دھری چھے سے سات بوتلیں مجھے نظر آئیں ، اس نے وائلڈ ٹرکی امریکن وہسکی کی ایک بوتل نکال لی ، اور ایک ٹرے میں فریج سے کیوب نکالے اور آکر مرے سامنے بیٹھ گئی

یار تم فلم کے دوران برے برے منہ بناکر

کبھی ربش ، کبھی  ڈیم اٹ ، باسٹرڈ جیسے الفاظ کیوں بول رہی تھیں

یار اس نے منٹو کا ستیا ناس کرڈالا ، اس کو ایک نفسیاتی مریض بناکر دکھایا اور اس کی زندگی کا لازمی جزو بن جانے والے کچھ کرداروں کو گول کرگیا یہ سرمد سلطان کھوسٹ ” الو کا پٹھا ” منٹو وہاں عالم بالا میں اس ” کھوسٹ ” کی لے رہا ہوگا

وہ تو جیسے پھٹ پڑی

مجھے تھوڑا سا غصّہ آگیا

میں نے کہا

یار اس نے اتنی محنت سے منٹو کو ویوژول کیا اور تم ہو کہ اسے کوس رہی ہو

کہنا آسان ہوتا ہے ، کرنا بہت مشکل ، میں نے اس کی طرف طنز سے دیکھتے ہوئے کہا

مری بات سنکر کہنے لگی کہ

میں اگر منٹو پر بنے مقدمات میں کسی مقدمے کی کاروائی کو ” منٹو پر بنی فلم ” کے کسی سین کا حصّہ بناتی تو کراچی میں اس پر بنے مقدمے میں اس کی ملاقات ابراہیم جلیس سے ضرور دکھاتی اور لاہور میں اس پر اور عصمت چغتائی پر چلے مقدمے کی کاروائی کا سین دکھاتی اور اسے عصمت چغتائی کے بیانیہ کے مطابق ویوژول کرتی

میں نے کہا کہ اس نے کیا دکھایا تھا

وہ اچانک اٹھی اور اس نے سامنے الماری سے ایک فائل نکالی ، اس میں کچھ کاغذ تھے ، بعد میں تپہ چلا کہ وہ عصمت چغتائی کی خود نوشت ” کاغذی ہے پیراہن ”  اور ابراہیم جلیس کا منٹو کی وفات کے بعد لکھا گیا مضمون کی کچھ نقول تھے

کہنے لگی کہ میں منٹو ، عصمت ، شاہد اور صفیہ کو ایک تانگے میں بیٹھ کر لاہور کی سیر کرتے دکھاتی اور پھر وہ مکالمہ جو منٹو کے ساتھ عصمت کا ہوا تھا دکھاتی

جوتوں کی دکان پر منٹو کے نازک سفید پیر کو دیکھ کر مجھے بڑا رشک آیا – اپنے بھدے پیر دیکھ کر مور کی طرح ماتم کو جی چاہا

” مجھے اپنے پیروں کو دیکھ کر گھن آتی ہے ” منٹو نے کہا

کیوں اتنے خوبصورت تو ہیں ” میں نے بحث کی

” میرے پیر بالکل زنانہ ہیں ” ” مگر زنانیوں سے تو اتنی دلچسپی ہے آپ کو ! “

” آپ تو الٹی بحث کرتی ہیں – میں عورت سے مرد کی حثیت سے پیار کرتا ہوں اس کا یہ مطلب تو نہیں خود زنانہ بن جاؤں “

ہٹائیے بھی زنانے اور مردانے کی بحث کو ‘ انسانوں کی بات کئجیے نازک پیروں والے مرد بڑے حساس اور ذھین ہوتے ہیں

منٹو کا وکیل : یہ کہانی فحش ہے ؟

گواہ : جی ہاں

وکیل صفائی : کس لفظ سے آپ کو معلوم ہوا کہ فحش ہے

گواہ : لفظ ” چھاتی ” سے

وکیل : مائی لارڈ لفظ چھاتی فحش نہیں ہے

جج : درست

وکیل : لفظ چھاتی فحش نہیں ؟

گواہ : نہیں ، مگر یہاں مصنف نے عورت کے سینے کو چھاتی کہا ہے

منٹو ( ایک دم سے کھڑا ہوتے ہوئے ) : عورت کے سینے کو چھاتی نہ کہوں تو کیا ” مونگ پھلی ” کہوں

کورٹ میں قہقہ

جج : اگر ملزم نے پھر اس قسم کا چھچھورا مذاق کیا تو کن ٹمپٹ آف کورٹ کے جرم میں نکال باہر کیا جائے گا

اس نے یہ سارے مکالمے دھڑاک سے مجھے سنا ڈالے اور سماں باندھ دیا

اب بتاؤ نا ، اس نے مری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

مجھے اس کی ایک ماہر فلم ڈائریکٹر ، رائٹر کی سی یہ کارکردگی بہت بھائی ، میں نے کہا اچھا اور کیا سین ڈالتیں تم اس میں آگر تم ہوتیں اس فلم کی ڈائریکٹر

کہنے لگی کہ میں اس فلم ميں ایک سین منٹو کی امرتسر کی زندگی کا ڈالتی اور باری علیگ کو لیکر آتی اور “کامریڈ منٹو ” کا عکس دکھاتی ، ایک سین آل اںڈیا ریڈیو دلّی کا اور اس کی چشمک کا اور پھر بمبئی کے فلمستان کا اوپندرناتھ اشک سے اس کی لڑائی کا اور ایک وہ جسے خود منٹو نے ” عصمت پر اپنے مضمون میں ” بیان کیا ہے جس میں اس نے بار بار ایک فقرہ دوھرایا ہے

” یہ تو کمبخت بالکل ہی عورت نکلی “

کہنے لگی کہ کراچی میں اگر وہ تھوڑی سی فنتاسی سے کام لیتا اور ابراہیم جلیس کا منٹو سے لاہور میں ہوا مکالمہ کراچی میں دکھاتا تو کیا کمال ہوتا اور تمہيں پتہ ہے سرمد سلطان کھوسٹ نے ” منٹو ” سے وہی کیا جس کا ابراہیم جلیس کو شکوہ تھا

کیا شکوہ تھا ؟

میں نے پوچھا تو کہنے لگی جب منٹو کے مرنے کی خبر جلیس کو ہوئی تو اس نے مضمون لکھا تو اس میں یہ بھی کہا تھا

منٹوؔ کے کردار کے بارے میں بے شمار لوگوں کو، جو اُسے شخصی طور پر نہیں جانتے تھے، اُس کی تحریروں کے باعث بڑی غلط فہمی ہے کہ وہ بڑا غلط قسم کا شرابی ، بے حد آوارہ عورتوں کارَسیا اور بڑا غلیظ لباس انسان ہے۔ منٹوؔ سے ملنے سے پہلے میرا تصوّر بھی کچھ کچھ ایسا ہی تھا۔ لیکن جب میں منٹوؔ سے ملا اور ملتا رہا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے منٹو دلدل کا کنول ہے

اور زرا منٹو و جلیس کا یہ مکالمہ دیکھو

جلیس : بالکل بکواس ہے تمہاری یہ کتاب ” نور جہاڑ ، سرور جہاں ” اب تم ہتک ، بابو گوپی ناتھ ، موذیل اورکھول دوجیسے لافانی افسانے کیوں نہیں لکھتے؟ فلمسٹاروں کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو؟‘‘

منٹو : یار ! اب گوپی ناتھ کے مقابلے میں فلمسٹار آسانی سے بِک جاتے ہیں

 ابراہیم جلیس : فلمسٹاروں سے زیادہ تو تم بِکتے ہو سعادت، مجھے یہ دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے کہ تم اب ادب کی شاہراہ پر خوشیا، سوگندھی ،گوپی ناتھ اور موذیل جیسے یاد گار مجسمے نصب کرنے کے بجائے پرانے بغداد کے بردہ فروش تاجر کی طرح آوازیں لگاتے ہوئے اپنے دوستوں کے اجسام سرِبازار نیلام کر رہے ہو۔‘‘

منٹو ( جھلاکر ) : ادب و دب سب بکواس ہے۔ انسان بڑی چیز ہے۔ اٹھاؤ گلاس اور مارو جھک

تمہیں پتہ ہے کہ جب منٹو پر شراب پینے پر پابندی لگی تو اس کا ٹھکانہ کون سا ہوٹل تھا ؟

میں نے کہا نہیں

اس نے کہا

وہی جہاں ابراہیم جلیس ٹھہرتا اور ان دنوں اس کے ساتھ کمپنی کرنے والوں میں احمد راہی ، اے حمید ، نصیر انور وغیرہ ہوا کرتے تھے اور وہاں پر ہوئے مکالموں کا نقشہ بھی جلیس ، راہی وغیرہ نے کھینچا ہے

یار یہ کہانی تو سرمد سلطان کھوسٹ نے ندیم شاہد کے تھیٹر کے لئے لکھے گئے ڈرامہ ” منٹو ” سے فلمائی ہے ، میں نے کہا

دونوں نے جھک ماری ہے ، یہ سنکر اس نے غصّے میں

پھر اس نے برجستہ کہا

بوتل کھولو

وائلڈ ٹرکی ، تمہیں پسند ہے نا

ہاں اس لئے پسند ہے کہ سکاچ وہسکی کے بعد جس وہسکی کا نام معلوم پڑا وہ یہی تھی جو تم نے پلائی تھی ورنہ اس سے پہلے ووڈکا سے ہی واقف تھا

وہ تھوڑا سا ہنسی

کہنے لگی ! یار تمہیں پتہ ہے کہ یہآں سے کچھ دور درجنوں گیسٹ ہاؤسز میں اور ہوٹلوں ميں کیا ہوتا ہے ؟

 میں نے کہا کیا ہوتا ہے

کہنے لگی کہ ڈار کی ڈار 16 سے 25 سال کی لڑکیوں کی آتی ہیں اور ان کو مرد گدھوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، بعض دفعہ تو ایک دو گھنٹوں ميں 50 سے 100 لڑکیوں ميں سے کسی ایک کو پسند کیا جاتا ہے اور پھر منٹو کے سارے کردار وہآں زندہ ہوجاتے ہیں

یہ آج کے تھیڑ لکھنے والے اور افسانہ نگاروں کے ہآں ان کرداروں پر نئی کہانیاں لکھنے کا دم کیوں نہیں ہے اور مجھے تو منٹو جیسا کوئی مرد نہیں ملا جو ” زنانیوں پر اس طرح سے جم کر لکھے اور اپنے خوبصورت پیروں سے گھن کھائے “

اور یہ اعتراف بھی کرے کہ میں ” مرد کی حثیت سے خوبصورت عورتوں سے پیار کرتا ہوں “

تم بھی تو عورتوں کی خوبصورتی کے دلدادہ ہو ، ان کے خدوخال کو پورے مرد بنکر تاڑتے ہو مگر پوز تمہارا ” ملحد صوفیوں ” جیسا ہوتا ہے جو اپنی ” حرص ” کو روحانیت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتے پورے چوتیا ہوجاتے ہیں ، بالکل ممتاز مفتی کی طرح جو اپنی سوتیلی ماں کے خوبصورت جسم کو تاڑتا تاڑتا ولایت کے مرتبے پر فائز ہوگیا تھا اور زرا دیکھو تو کیسے اس فلم میں قدرت اللہ شہاب آیا ، اس کے اندر بھی تو ایک راسپوٹین تھا جسے بے نقاب کرنے کی ہمت آج بھی کسی میں نہيں ہے

اس نے یہ کہتے ہوئے ادھ بھرے گلاس میں اور وائلڈ ٹرکی انڈیلی اور کہنے لگی

بانو قدسیہ ” راجہ گدھ سے لاحاصل ” تک آن پہنچی اور اس کا ادب آگے  “مری زات زرہ بے نشاں ، اور پیر کامل ” جیسی کہانیاں جن رہا ہے اور پہلے سے ہی بے نشاں ہوئی عورت زات اور بے نشاں ہوتی جارہی ہے ، وہ عورتوں کو مذھبی اخلاقیات کے نام پر اور تم جیسے عورتوں کو آزادی کے نام پر لبھاتے ہو ، کبھی ان کی اپنی زات کو خود دریافت کرنے کی اجازت نہیں دیتے ، منٹو تم جیسے مردوں کی ٹھیک لیتا تھا ، اتنی لیتا کہ چیخیں نکل جاتی تھیں

میں نے اس کی بات سنی اور جھلا کر کہا

سب بکواس ، اٹھاؤ گلاس ، مارو جھک

یہ سنکر وہ کھلکھلاکر ہنسنے لگی

اور میں وائلڈ ٹرکی کے گھونٹ بھرنے لگا

 

 

ٹرانسپیرنٹ دوستی-افسانہ ۔عامر حسینی

Nude Marathi Movie Teaser Poster

 

ٹرانسپرینٹ دوست

افسانہ /محمد عامر حسینی

‘میں تمہاری دوست کب بن سکوں گی ۔’

‘جب تم خدوخال سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو دیکھنے لگو گی۔’

‘کیا میری تانیثیت میرے آڑے آتی ہے؟ تو تمہاری تذکیر تمہارے آڑے کیوں نہیں آتی؟’

اس سوال نے مجھے تھوڑا سا پریشان کردیا اور میں سوچنے لگا کہ میں ابتک اس سے تعلق میں کس چیز  کا تمنائی رہا ہوں۔ویسے کل کی بات چیت میں، میں نے اسے بتادیا دیا تھا کہ میں جب بھی اس کا تصور کرتا ہوں تو اس کی آنکھیں، اس کے رخسار،لب،اس کی چھاتیاں،کولہے،اس کی رانیں، ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں میرے تخیل کو گھیر لیتی ہیں اور میری رانوں میں خودبخود سنسناہٹ بڑھ جاتی ہے۔اور مجھے لگتا ہے کہ اس سے وصال میری زندگی کی سب سے بڑی تمنا ہے۔وہ وصال جو پورا مرد،پوری عورت سے کرتا ہے۔لیکن پھر مجھے خیال آتا ہے کہ اس دنیا میں سالم مرد اور سالم عورت کا وصال کبھی کہیں حقیقت بن پایا ہے،یہ دنیا تو بٹے ہوئے اور بکھرے ہوئے مردوں اور عورتوں کی دنیا ہے اور وصال کچھ دیر کے لئے فرار  حاصل کرنے کا ایک بہانہ ہوتا ہے۔بس وہی لمحے تھوڑی دیر کے لئے لذت محض بن جاتے ہیں جس میں پورے دل و دماغ سے ساری توانائی مخصوص جگہوں پہ اکٹھی ہوجاتی ہے اور اس دوران بھی کمبخت ذہن بار بار بھٹک جاتا ہے۔

ہمارا تعلق بھی بڑے ہی عجیب طریقے سے باہم استوار ہوا تھا۔میں ایک یونیورسٹی میں وزیٹنگ لیکچرر کی جاب کررہا تھا۔ہفتے میں دو دن میرے شعبہ فلاسفی میں لیکچر ہوا کرتے تھے۔وہ کمپیوٹر سائنس کی طالبہ تھی اس کا میری کلاس سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن اپنی ایک دوست کے ساتھ وہ یونہی میری کلاس میں آکر بیٹھ جاتی تھی اور میں نے بھی کبھی اس بات کا نوٹس نہیں لیا تھا۔

میں اس کلاس میں غائب دماغی کے ساتھ آتا تھا۔یونیورسٹی میں وزیٹنگ لیکچرر شپ کی یہ جزو وقتی جاب میں نے ایکسٹرا پیسے اکٹھے کرنے کے لئے کی ہوئی تھی، میں بہت عرصے سے مینیول جاب سے بھاگ رہا تھا۔میری اکثر نوکریاں اب جزو وقتی ہوتی تھیں۔کئی رسالوں ، ویب نیوز سائٹس کو میں ان کی ڈیمانڈ پہ چیزیں لکھ کر دے دیتا ،ایسے ہی کئی بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کو ان کی ضرورت کے مطابق خبریں فراہم کردیتا، اور کئی این جی اوز کو درکار ڈیٹے کی فراہمی کردیتا، اور کبھی کبھار بطور ریسورس پرسن کے لیکچر بھی دے آتا اور اس طرح سے میں کافی پیسے کمالیتا تھا۔یہ فری لانسنگ کافی وقت دے دیتی تھی مجھے اور پھر بیوروکریٹک ضابطوں سے بھی جان چھٹی ہی رہتی تھی۔میرا خیال تھا کہ میں ایسے سپائل ہونے سے بچ جاؤں گا۔لیکن مجھے دھیرے دھیرے احساس ہوا کہ محنت کی استعداد کیسے بھی بیچی جائے سرمایہ دارانہ سماج کا حاکم طبقہ آپ کو نچوڑ ہی لیتا ہے اور آپ کو اپنی محنت کے اپنا ہونے کا احساس نہیں ہوتا ہے۔اور بیگانگی اندر ہی اندر جمع ہوتی رہتی ہے۔اور اس دوران کوئی بھی تعلق مستقل نہیں رہتا۔

غائب دماغی کی وجہ بہرحال عارضی نوکریوں کا مجھے نچوڑ لینے نہیں تھا۔بلکہ اس کی وجہ میرے اندر عورت بارے بیٹھے ایک جنون تھا کہ جو عورت بھی میرے قریب آتی تھی میں اس سے جسمانی تعلق بارے نہ چاہتے ہوئے بھی سوچنے لگ جاتا تھا اور میرا سارا علم، ساری سوچ اور ساری صلاحیتیں اس کے لئے وقف ہوجاتی تھیں اور اس دوران اچھے خاصے تعلق کی ماں بہن ایک ہوجاتی تھی۔تو بہت سارے واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے میں  کام کی جگہ پہ دماغ کو بلینک کرلیتا تھا۔میں بظاہر تو کلاس میں موجود ہوتا، اچھے سے لیکچر بھی دے رہا ہوتا لیکن اس وقت میں ،وہاں کسی چہرے کو دیکھ نہیں رہا ہوتا تھا۔لڑکوں کو بھی نہیں،میں آپ کو ایک بات تو بتانا بھول ہی گیا،مجھے دبلے پتلے اور نسوانیت کا احساس لئے ہوئے لڑکوں میں بھی بلا کی جنسی کشش محسوس ہوتی تھی اور میں ایسے لڑکوں کو دیکھ کر ہوش و حواس کھوبیٹھتا تھا اور اسقدر خوبصورت گفتگو کرتا تھا کہ ایسے لڑکے میرے گرویدہ ہوجاتے، میں بہانے بہانے سے ان کو چھوتا تھا اور میرے اندر اس چھونے سے نئی توانائی آجاتی تھی۔

آپ سوچ رہیں ہوں گے میں شاید جنسی طور پہ کوئی ترسا ہوا آدمی ہوں۔آپ کی یہ سوچ انتہائی غلط ہے۔میں بھرپور قسم کی ازواجی زندگی گزار رہا ہوں۔میری بیوی مجھ سے دس سال چھوٹی ہے اور ابھی عمر کے 27 سال میں ہے اور وہ ہر طرح سے جنس کا ایٹم بم ہے اور ساتھ ساتھ بے پناہ محبت کرنے والی بھی۔وہ مراٹھی ہے۔مجھے وہ ممبئی ورلڈ سوشل فورم میں ملی تھی،جہاں میں ایک پروگرام کا ماڈریٹر تھا۔چاکلیٹی کلر ہے اس کا جس پہ میں بے انتہا فدا ہوں۔دبلی پتلی ‎سی مگر اس کی پیٹھ پہ پورا گوشت ہے۔نیلی جینز اور سرمئی کلر کی کرتی پہنے وہ کمال لگ رہی تھی۔شاید ہم دونوں ہی پہلی نظر میں ایک دوسرے پہ فدا ہوگئے تھے۔پھر میں سات دن ممبئی رہا اور اس دوران ہو ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے اور ساتویں دن جب میری فلائٹ میں دو گھنٹے باقی تھے تو ہم نے باہم شادی کرلی۔اسے پاکستان آنے میں سرکاری معاملات سے نمٹنے میں دو سال لگ گئے۔جب میں اسے ملا تھا تو وہ 21 سال کی تھی اور جب وہ پاکستان آئی تو 23 سال کی ہوگئی تھی۔انتھرپولوجی اس نے حال ہی میں پی ایچ ڈی کی ہے۔اور کینڈا سے اسے جاب کی آفر ہ۔میں تو کہتا ہوں چلی جاؤ،مگر کہتی ہے تمہارے بغیر نہیں جاؤں گی۔پاکستان اسے ہائی اسکول میں 17ویں گریڈ کی نوکری ہی دے سکا ہے۔وہ کررہی ہے۔ہم نے سوچ سمجھ کر بچے نہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آپ بھی کہہ رہے ہوں گے کہ اس کا کوئی نام تو ہوگا۔ہاں ہے نا۔’ رینا’ ۔ میں نے ممبئی کے ساحل پہ اچانک سے رات کو ایک الگ تھلگ گوشے میں اس سے اس کے نام کا مطلب اس سے پوچھا تھا تو کہنے لگی،’ اس وقت کیا ہے؟’ میں نے بے اختیار کہا،’رات’ تو اس نے کہا مراٹھی میں رینا رات کو کہتے ہیں۔میں بڑا حیران ہوا، مہاراشٹر میں رات چاکلیٹی ہوتی تو نہیں تھی لیکن مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے اچانک سب چاکلیٹی سا ہوگیا ہو۔اور پھر میں جب بھی اس کے بدن کا طواف کرتا لباس قدرت میں تو مجھے یوں لگتا جیسے چاکلیٹی رات کا مجسمہ برہنہ میرے سامنے ہو اور میں اسے لپا لپ کھائے جارہا ہوں۔میں اس سے کبھی سیر نہیں ہوتا۔ہم روز ہی ایک دوسرے کو دریافت کرتے ہیں اور ہمارا جوش کچی عمر کے لڑکے لڑکیوں کے باہمی میلاپ جیسا ہوتا ہے۔اور خوب ایک دوسرے سے لطف اندوز ہونے کے باوجود اگلی بار پھر میرا جوش ویسے ہی دیدنی ہوتا جیسے بچے چاکلیٹ کو دیکھ کر بے صبرے ہوجاتے ہیں اور ان کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔

میرے اندر ایک کمزوری ہے۔اور یہ کمزوری اکثر میرے سے بہت سے لوگوں کو دور کردیتی ہے۔اور وہ کمزوری ہے جب کوئی میرے بہت قریب ہوجائے تو میں اس سے کچھ نہیں چھپاتا ہوں۔ایک رات جب میں اس کی محبت میں خوب سرشار تھا اور رات بھی اماؤس کی تھی تو اچانک سے میں نے اسے عورتوں اور لڑکوں سے متعلق اپنے جنون بارے سب بتاڈالا۔اور ایک رو میں بہہ کر اسے بتاتا رہا۔جب ميں نے کہا کہ مجھے ‘دبلے پتلے نسوانیت سے بھرے لڑکے بہت پسند ہیں، ان میں مجھے جنس بھری بھری لگتی ہے۔’ تو وہ ایک دم سے بولی،’جیسے وہ سروش ،ہے نا! میں ایک دم سے بھونچکا رہ گیا۔میرے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکل رہا تھا۔

‘پریشان ہونے کی جرورت نہیں ہے،میں اس دن وقت سے پہلے گھر آگئی تھی اور چابی کھماکر دروازہ کھولا تو تم اور سروش دنیا جہاں سے بے خبر قالین پہ ہی اپنے جنون کی نشانیاں ثبت کرنے میں لگے تھے۔میں واپس پلٹ گئی تھی۔’

‘اور ایک بار غلطی سے تمہارا لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا اور انباکس میسجز پڑھے مجھے تجسس ہوا اور یہ تجسس تمہاری کہانیاں پڑھ کر بھی ہوا تھا تو وہ ‘راگنی’ کے نام سے بنا تمہارا فولڈر میں نے کھول کر پڑھ لیا تھا۔مجھے لگا تھا کہ شاید راگنی کوئی عورت ہے لیکن اس راگنی میں سے کئی لڑکے اور کئی عورتیں نکل آئیں۔’

‘تمہیں یہ سب بے وفائی نہیں لگی۔’

‘ارے نہیں یار! تمہارا میرے ساتھ جو سلوک ہے اور جس قدر تعلق ہے اس میں بے ساختگی ہے اور تم میرے ساتھ بے دلی سے نہیں ہو اور یہی مجھے درکار ہے، اگر کہیں یہ بناوٹی ہوتا یا اوپرا اوپرا ہوتا تو میں کب کی چھوڑ گئی ہوتی تمہیں۔’

رینا صرف نام کی رات نہیں ہے بلکہ وہ عمل میں بھی رات ہے۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔میں  بات کررہا تھا اس کیمپوٹر سائنس کی طالبہ کی جو میری فلاسفی کی کلاس میں آکر بیٹھ جاتی تھی۔ایک دن میں یونانی شاعرہ سیفو بارے اپنی کلاس کو پڑھارہا تھا۔اس کی شاعری سے بات اس کی ہم جنس پرستی کی جانب بڑھی اور میں نے بتایا کہ کیسے اسے مردوں اور عورتوں دونوں میں یکساں دلچسپی تھی۔سروش کی آنکھوں میں شرارت امنڈ آئی۔ایسے وقت میں وہ مجھے اسقدر سیکسی لگتا تھا کہ میرا بلینک دماغ فوری حاضر ہوتا اور میرا دل کرتا کہ اسے اٹھاؤں اور اپنی میز پہ ننگا کروں اور اسی وقت اس کے سارے بدن کو چاٹنے لگ جاؤں۔کچی عمر کا سروش جس کی عمر مشکل سے سترہ سال تھی بید مجنوں کی طرح لچکدار جسم کا مالک تھا اور بدن اس کا مخمل کی طرح تھا۔زرا سی انگلی کا دباؤ ساری انگلی بدن میں گھسادیتا تھا۔

‘بعض مردوں میں سیفو کی روح ہوتی ہے سر! اور وہ بھی مردوں اور عورتوں کو یکساں پسند کرتے ہیں،بلکہ پسند کیا کھاجاتے ہیں ان کو۔’

یہ کہتے ہوئے وہ وہ اپنے ہونٹ ایسے چبا رہا تھا کہ میں بہت مشکل سے اپنے اوپر کنٹرول کرپارہا تھا۔کلاس ختم ہوئی تو میں نے سروش کو اشارہ کیا اور نجانے مجھے کیا ہوگیا تھا اور میں اسے جینٹس واش روم کی طرف لے گا اور میں واقعی اس کے ہونٹ چپاڈالے تھے اور اس کے ہونٹ پہ خون کی ایک پتلی سی بوند میرے ہیجان کو اور تیز کئے جارہی تھی۔میں نے اس کے کولہوں کو دبایا ،وہ بھی اس دن بہت وحشی لگ رہا تھا۔میں بار بار اسے ‘سیفو، سیفو ‘ کہہ کر پکار رہا تھا اور جب تک ہمارا ہیجان اپنے اختتام کو نہ پہنچا میں اسے اسی نام سے پکارتا رہا۔بعد میں،میں نے سوچا کہ اگر اس دوران کوئی جینٹ واش رومز کی جانب آنکلتا تو ۔۔۔۔۔۔؟ بس آگے مجھ سے کچھ نہ سوچا گیا۔

میں  اس کے بعد عجلت میں وہاں سے نکل کر باہر آیا اور یونیورسٹی سے شٹل لینے کے لئے سٹاپ پہ آیا تو وہاں وہ کمپیوٹر سائنس کی طالبہ میری کلاس کی طالبہ کے ساتھ کھڑی تھی۔ابھی شٹل آنے میں دیر تھی۔دونوں مجھے سلام کیا۔

ہم کچھ دیر سٹاپ خاموشی سے کھڑۓ رہے۔اچانک کمپیوٹر سائنس کی طالبہ نے کہا،’ سر! سیفو جیسی عورت کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کا لہجہ ستائشی تھا اور کیا ایسی عورتیں اس قابل ہوتی ہیں کہ انکی محض اس لئے تعریف کی جائے کہ ان کی نظم کمال کی ہے،اور کیا ہم جنس پرستانہ شاعری میں کوئی کمال ہوتا ہے؟’

میں اس کے یوں دھڑ سے بولنے پہ تھوڑا سا حیران ہوا۔مگر اس کی گفتگو زرا بھی اس قابل نہ لگی کہ میں اس پہ کوئی کمنٹ کروں۔مجھے لگا کہ وہ یا تو مودودی کی پیرو ہے یا پھر فرحت ہاشمی سے متاثر ہے۔اتنے میں شٹل بھی پاس آنے لگی۔اور میں اس سے کچھ کہے بغیر ہی شٹل میں سوار ہوگیا۔

اس رات رینا گھر نہیں تھی۔وہ ایک ٹریننگ کے سلسلے میں راولپنڈی گئی ہوئی تھی،میں نے شامی کا نمبر ڈائل کیا،مگر وہ بند تھا۔شامی کوکا کولا فیکٹری پلانٹ میں کوالٹی کنٹرول اینالسٹ تھا۔ایف ایس سی کرکے اس شعبے میں آگیا تھا۔اور کوکا کولا فیکٹری کی سی بی اے میں ایک متحرک نوجوان مزدور کارکن تھا۔اور اس فیکٹری میں کچے مزدروں کو پکا کرنے کی ایک تحریک چل رہی تھی۔میں بھی اس تحریک کے معاونین میں شامل تھا۔اور فیکٹری مزدوروں کا اسٹڈی سرکل لینے چلا جاتا تھا۔سی بی اے کے صدر شوکت کے زریعے میں وہاں پہنچا تھا اور شامی یونین کا سیکرٹری نشر واشاعت تھا۔میں نے اس کی تربیت کی تھی۔اور اسے مقامی صحافیوں سے ملوایا تھا۔اسے میں نے پمفلٹ لکھنا، سوشل میڈیا پہ سالیڈرٹی کمپئن بنانے اور چلانے کا طریقہ سکھایا تھا اور ایسے ہی اسے ٹوئٹر ہنڈلر اور فیس بک اکاؤنٹ، بلاگنگ وغیرہ سکھائی تھی۔ان دنوں ابھی یہ نئی نئی آئی تھیں۔میرے سامنے وہ کافی مودب رہتا تھا لیکن میں نے محسوس کیا تھا کہ وہ کنکھیوں سے میرے سراپے کا جائزہ لیتا رہتا تھا۔اب اس سے یہ مت سمجھ لیجیے گا کہ میرے خدوخال اور جسامت کوئی ہیرو جیسی تھی۔میری شیو اکثر بڑھی رہتی تھی۔کئی کئی ماہ شیو نہیں کرتا تھا، نہاتا مجبوری سے تھا،پیٹ کچھ باہر کو نکلا ہوا تھا (رینا وقت وصال مجھے موٹو کہتی اور کہا کرتی تھی ۔موٹو ! اتنا وزن ہے تمہارا مجھے ماردوگے کیا ، آپ وہ دھان پان سی تھی)،ہونٹ ہمیشہ سے خشک، پپڑی جمی ہوئی، کثرت سے سگریٹ نوشی کے سبب  سیاہ پڑے ہوئے تھے،سر کے بال کھچڑی بنے رہتے تھے۔جینز ہفتوں پرانی مگر شرٹ رینا کے اصرار پہ مجھے ہر روز بدلنا پڑتی تھی اور میرے جوتے بھی وہی زبردستی پالش کردیتی تھی۔بہرحال ایک دن میں نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔اس سے پوچھا ،’کیا دیکھ رہے ہو؟’

‘کچھ بھی نہیں۔’ وہ تھوڑا سا گھبرا گیا۔ ‘نہیں! بتاؤ، اکثر دیکھتے رہتے ہو۔’

‘آپ مجھے اچھے لگتے ہو، پسند کرتا ہوں آپ میں کامریڈ! ‘ (یہ لفظ بھی میں نے اسے سکھایا تھا کیونکہ وہ مجھے ‘سر’ کہتا تھا تو میں نے اسے کامریڈ کہنے کو کہا، اس نے پوچھا تھا کہ کامریڈ کا مطلب ،تو میرے منہ سے نکلا ‘ساتھی’ تو بے اختیتار اس کی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔میں سمجھ گیا تھا کہ وہ کیوں ہنسا تھا اور میرا دھیان بھی فوری طور پہ کنڈوم کی مشہوری کی طرف چلاگیا تھا اور میں بھی بے اختیار ہنسنے لگا تھا اور میں نے کہا تھا ‘،’ یہ بھی امریکی سامراج کی سازش ہے ۔’

اس کے اس طرح سے اطہار پسندیدگی پہ میں نے پہلی بار اسے دوسرے انداز میں دیکھا۔وہ دبلا پتلا تھا مگر قد تھوڑا چھوٹا تھا۔مسیں ابھی پھوٹ رہی تھیں ۔غالب کے سبزہ خط کے آثار بھی نہ تھے۔آنکھیں بادامی اور رنگ گندمی تھا اور اس کی انگلیاں مخروطی تھیں۔میرے اندر ایک اور کجی تھی مجھے سپاٹ اور چپٹی انگلیوں والے پیر بالکل پسند نہ تھے۔میں نے اچانک اسے کہا،’ جوتے اور جرابیں  اتار کر اپنے پیر مجھے دکھاؤ۔’

اس کو کچھ سمجھ نہیں آئی مگر اس نے اپنے جاگرز اور جرابیں اتاریں تو اس کے صاف شفاف متناسب پیر اور توازن لئے ہوئے انگلیاں دیکھکر میرے منہ سے اطمینان کا سانس نکلا،

‘گڈ، ٹھیک ہوگیا۔’ میں نے کہا۔ ‘ آگے آؤ۔’ وہ آیا تو ایک دم میں اس کے ہونٹوں پہ حملہ آور ہوا اور بس پھر اس کے بعد ہمارا تعلق انقلاب دوستی سے آگے بڑھ کر ذاتی تعلق میں بدل گیا۔آج سروش نے میرے اندر جو آگ بھڑکائی تھی وہ کسی طرح سے ٹھنڈی ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔میں نے کئی بار شامی کا نمبر ڈائل کیا ،مگر ہر بار ناٹ رسپانڈنگ۔

میں بےچینی سے کمرے میں ٹہل رہا تھا کہ اچانک میرے موبائل فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوگئی۔میں نے لپک کر میز پہ پڑے فون کو اٹھایا،میرا خیال تھا کہ شامی کا فون ہوگا۔مگر یہ کوئی انجان نمبر تھا۔

ہیلو!

ہیلو! کون ؟

میں سر وہ یونیورسٹی والی لڑکی فریحہ ۔

کون فریحہ !

ہم آج یونیورسٹی شٹل سٹاپ پہ ملے تھے اور سیفو بارے میں نے پوچھا تھا آپ سے

اوہ اچھا! (سخت مایوسی بھرے لہجے میں ،میں نے کہا )

فرمائیں !

آپ کو اگر پسند نہیں تو میں بات نہیں کرتی

نہیں کریں

وہی سیفو جیسی عورتوں کو آپ کیوں گلوریفائی کرتے ہیں؟

اس لئے کہ سیفو اپنے زمانے کی ایک آزاد عورت تھی جس نے اپنی آزادی پہ کمپرومائز نہیں کیا

اسے آپ آزادی کہتے ہیں، بے راہ روی، ہے یہ

(مجھے اس لڑکی کا طنطنہ،اس کی آواز میں بھرا اعتماد اور اس کا چیلنجنگ رویہ اچھا لگا تو اس کی بکواس مجھے بری نہیں لگی۔مجھے اس کی گفتگو سنکر اپنا لڑکپن یاد آگیا جب میں نے پہلی بار سبط حسن کو پڑھنا شروع کیا تو  اس کی کتاب ‘نوید فکر’ کے آغاز میں خالی صفحے پہ لکھا کہ یہ شخص بے دین، ملحد اور انتہائی گمراہ کن خیالات کا مالک لگتا ہے، تازہ تازہ میں نے مودودی ، حسن البنا اور سید قطب کو پڑھا تھا۔پھر چند سالوں بعد اسی نوٹ کے نيجے لکھا کہ ‘اب میرے یہ خیالات نہیں ہیں،سبط حسن کی باتیں ٹھیک ہیں )

میں ہنس پڑا ، اور کہا کہ تمہارا اقبال بارے کیا خیال ہے؟

‘وہ میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔بہت زبردست آدمی تھے۔مسلمانوں  کو خواب گراں سے جگایا  انھوں نے ۔’

میں یہ سنکر کھلکھلا کر ہنس پڑا

‘ہنسے کیوں آپ ؟’

‘پاگل لڑکی وہ عاشق نیاز بھی نہیں تھا، تین شادیاں ، کئی عشق، طوائفوں سے نین مٹکا کرنے والا، اکھاڑے میں کشتی کا شوقین اور مئے ناب سے دل بہلانے والا تھا، کشن پرشاد سے ججی مانگتا ، ملکہ بھوپال سے وظیفہ کا خواستگار تھا۔’

‘کیا کیا؟ یہ سب بکواس ہے۔۔۔۔۔ ‘

‘تو جاؤ نا اقبال کی زندگی پہ تفصیل سے پڑھو۔۔۔۔سنو روس کا ایک شاعر تھا پشکن، نوجوانی میں اس نے بڑے بڑے لوگوں کی سوانح عمریاں پڑھنی شروع کیں تو اسے پتا چلا کہ ان میں سے ہر ایک نے مروجہ رسمی اخلاقیات کو ٹھوکر لگائی تھی اور کے ہاں کجی کا نام سیدھ اور سیدھ کا نام کجی تھا۔’

تو ایسے ہمارا تعلق شروع ہوگیا۔وہ چہرے پہ ہمہ وقت نقاب لئے رکھتی۔ اس کی آنکھوں کا میں اسیر ہوگیا تھا۔اور پانچ اعشاریہ چھے فٹ کی وہ لڑکی بھرے بھرے جسم کی مالک تھی، اس کے بال اس کی کمر کے اس حصّے تک آتے تھے جس کے ہچکولے میرے دل کی دنیا تہہ و بالا کئے دیتے تھے۔

مجھے ایک دن لگا کہ میں طوطوں کی کلاس لے رہا ہوں تو میں نے وزیٹنگ لیکچرر شپ چھوڑ دی مگر اس لڑکی سے میرا ربط نہ ٹوٹا۔ہماری گفتگو میں اب مشکل سے ہی ‘بڑی بڑی بوجھل بقراطی ‘ باتیں در آتیں۔وہ کتابوں سے بھگنے والی لڑکی تھی۔اور اس کے ہاں بس ایک اوسط ذہانت اور مروجہ رسمی اخلاقیات کا چرچا ہوتا تھا، پہلے وہ میری  جنسیت سے بھری باتوں سے بدکتی تھی اور اکثر کال کاٹ دیتی تھی مگر اب وہ ایسا نہیں کرتی تھی، بس اتنا کہتی ،’آپ بہت گندی باتیں کرتے ہیں۔’

پھر میرا فیوز اڑ گیا۔یہ فیوز کا اڑنا بھی عجیب ہے۔جب یہ اڑتا ہے تو میں اپنے آپ سے بھی بے نیاز ہوجاتا ہوں۔اور اپنی بھی خبر نہیں لیتا۔شکر رینا میری اس عادت کا شکار نہیں بنی ورنہ میں اسے کھودیتا۔کئی ماہ اس کیفیت میں گزر گئے۔اس دوران کبھی کبھار میں اسے گڈمارننگ اور گڈنائٹ کا مسیج بھیج دیتا اور کبھی کبھی اسے ‘پھلجھڑی ، چھمک چھلو، چھنال ، سیکسی گرل  ہائے! کا میسج بھیج دیتا۔شروع شروع میں وہ بہت غصّہ کرتی تھی لیکن مجھے اب لگنے لگا تھا  اب اسے ان لفظوں میں چھپے میرے لگاؤ کو پہچان گئی تھی تو کوئی اعتراض نہ کرتی۔پہلے پہل کہتی یہ سب تم ان سے کہہ لیا کرو جو تمہارے اردگرد بہت سی ہیں۔اور میں کہتا کہ ان میں سے ایک بھی فریحہ نہیں ہے۔وہ پہلے رینا بارے بہت سوال کرتی۔کہتی ،بھابھی اتنی پیاری ہیں، آپ کی سمجھ نہیں آتی۔میرا عجیب حال تھا کہ میں اس سے جب بھی بات کرتا تھا مجھے لگتا کہ وہ میرے سامنے ننگی بیٹھی ہے اور ایک ہی وقت میں اس کے سارے جسم کے ایک ایک عضو کو نہار رہا ہوں۔

پھر وہ کچھ دنوں کے لئے بالکل غائب ہوگئی۔میسج کا بھی کوئی جواب نہیں تھا۔میں باؤلا سا ہوگیا تھا۔اسے سینکڑوں ایس ایم ایس اور وائس میسج بھیج ڈالے۔مگر کوئی جواب  نہ تھا ۔پھر ایک دن میرا موبائل جاگ گیا۔دوسری طرف وہ تھی۔میں نے کافی شکوہ کیا۔

‘میری شادی ہوگئی ہے۔اس لئے کوئی رابطہ نہ ہوسکا۔’

‘اچھا ،کس سے شادی ہوگئی ! ‘

‘بوٹ والا جوان ہے ۔’

‘ہائے، شب زفاف منانے کے بعد خیال آیا ۔’

‘آپ کی سوئی ایک ہی جگہ اٹکی رہتی ہے۔’

‘اب کہاں سوئی اٹکے گی ۔۔۔۔۔اندر چلی جائے گی۔’

‘شٹ اپ(مصنوعی غصّہ تھا)، بہت گندے ہو۔’

‘جنس میں گندگی کہاں سے آگئی ،کیا اسے بھی یہی کہا ۔’

‘اب تمہارا لگاؤ مجھ سے ختم ہوگیا ہوگا، ایک دم سے تمہارا جنون جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ہوا۔’

وہ ایک دم سے آپ کی بجائے تم پہ اتر آئی تھی ،مجھے وہ اور میچور لگ رہی تھی، لگتا تھا کہ اس کے لاشعور میں جنس بارے جو ہلکا سا خوف تھا وہ اتر چکا تھا، میں ہنس پڑا اور کہا، ‘اب تو یہ دوآتشہ ہوگیا ہے، کم از کم اب تمہیں احساس ہوگا کہ میں کیا کہتا رہا ہوں اتنے عرصے سے تمہیں چھمک چھلو ۔’

ایک دن وہ موبائل فون پہ مجھ سے بات کررہی تھی اچانک کہنے لگی،

‘کوئی ایسی عورت بھی تمہاری زندگی میں آئی جسے تم نے خدوخال سے اوپر جاکر دیکھا ہو؟’

میں اس کے سوال کو سنکر ایک دم سے ساکت ہوگیا۔اس نے ڈائریکٹ وہ سوال کردیا تھا جس سے میں ہمیشہ بھاگا کرتا تھا۔مگر فریحہ ایسی لڑکی تھی جس کو میں حقیقت بتائے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔

‘ہاں تھی۔بلکہ ہے۔’

‘کون ؟ رینا ؟’

‘ارے نہیں ، رینا کو میں خدوخال کے بغیر دیکھ ہی نہیں سکتا ورنہ وہ میری بیوی نہ ہوتی ۔’

‘پھر کون ؟’

‘وہ میری واحد دوست تھی۔’

‘کیا مطلب دوست تو میں بھی ہوں ۔’

‘تم ‘وہ دوست’ نہیں ہوں ۔’

‘وہ دوست ۔’

‘ایسا رفیق جس کے خدوخال میرے آڑے نہ آئے اور وہ اتنی ٹرانسپرینٹ تھی کہ اس نے براہ راست مجھے اپنے اندر جھانکنے کی اجازت دی اور یہ فن اس کے ہی پاس تھا۔’

‘میں کب تمہاری ٹرانسپیرنٹ دوست بن سکوں گی ؟’

‘کب کا تو مجھے نہیں ، پتا مگر جس دن تم مجھے اپنے بدن سے آگے اندر جھانکنے پہ مجبور کردوگی اور اپنی ذات کے گرد ان چھلکوں سے آگے مجھے لیکر چلی جاؤ گی اسی دن تم میری ٹرانسپرینٹ دوست بن جاؤگی۔’

پس نوشت : میں اس دن اپنے گھر کے ٹیرس پہ ہاتھ میں کافی کا کپ پکڑے کھڑا گلی میں جھانک رہا تھا۔جب کورئیر سروس والا،میرے گھر کے دروازے پہ کھڑا ہوا۔ اس نے بیل بجائی، رینا نے دروازہ کھولا اور اس نے ایک لفافہ اس کی جانب بڑھا دیا۔رینا نے ایک کاغذ پہ وصولی کے سائن کئے اور اندر چلی آئی۔تھوڑی دیر بعد وہ ٹیرس پہ تھی اس نے لفافہ مجھے تھمادیا۔میں لفافہ چاک کیا  تو اندر سے فل اسکیپ کا ایک کاغذ نکلا۔میں نے اسے ّپڑھنا شروع کیا :

ڈئیر ،

جب تمہیں یہ خط ملے گا اس وقت تک شاید میں ٹرانسپرینٹ فرینڈ میں ٹرانسفارم ہونے کے سفر پہ روانہ ہوگئی ہوں گی۔میں نے بہت سوچا کہ کیسے میں اپنے خدوخال سے اوپر اٹھ کر تمہیں پاسکتی ہوں تو اس کا ایک ہی طریقہ میری سمجھ میں آیا اور اس طریقے پہ میں عمل کرنے جارہی ہوں۔اور امید کرتی ہوں کہ اب تم اسی عورت کی طرح ہمیشہ مجھے اپنا دوست رکھوگے جسے تم اٹھتے بیٹھتے یاد کرتے رہتے ہو۔میں سمجھتی ہوں صرف اسی طریقے سے کوئی عورت تمہاری ٹرانسپرینٹ دوست بن سکتی ہے،ورنہ تم ہمیشہ اس کے چہرے، لبوں، رخساروں، چھاتیوں، رانوں میں ہی کھوئے رہوگے۔

والسلام

فریحہ وہی پہلے والی

میں نے خط پڑھتے ہی فوری اپنے موبائل پہ اس کا نمبر ملایا۔گھنٹی بجتی رہی جب میں مایوس ہوکر فون کاٹنے والا ہی تھا فون اٹھاہی لیا،میں نے بے تابی سے ‘فریحہ ‘ بولا تو آگے سے کوئی بھرائی ہوئی آواز میں بولا:

‘ساری،فریحہ نے دو دن پہلے خودکشی کرلی، میں ان کا شوہر بول رہا ہوں۔’

یہ سکر میرے ہاتھ سے موبائل گرپڑا،میری اب ایک نہیں دو ٹرانسپیرنٹ دوست ہوگئی تھیں۔

 

Qasim yaqoob

Qasim Yaqoob,Editor Nuqaat

 

 

فیصل آباد سے ‘نئے ادب کا ترجمان ‘ کے نعرے کے ساتھ  ادبی رسالہ ‘نقاط’ شایع  ہوتا ہے۔ابتک اس رسالے کے 15 شمارے آئے ہیں۔تازہ شمارا اکتوبر کے مہینے میں شایع ہوا اور ہم تک نومبر میں پہنچا ہے۔اس کے مدیر قاسم یعقوب ہیں جو خود بھی مضمون نگار ہیں۔دو کتابوں کے مصنف ہیں۔اور ان کی کتاب ‘لفظ و تنقید معنی ‘ کے پیش لفظ اور چھے عدد مضامین پڑھ کر مجھے لگتا ہے کہ وہ جدیدیت و مابعدجدیت کے بین بین کی چیز ہیں اور مارکس واد سے الرجک نظر آتے ہیں۔اور یہ ان کا حق ہے کہ وہ تنقید میں خود کو کس مکتبہ فکر سے وابستہ کرتے ہیں۔

میرے سامنے نقاط کا جو تازہ شمارا ہے،اس میں مضامین کے باب میں آصف فرخی (ساراؤکفتہ اور رنگ چور)، ڈاکٹر عباس نیر(مجھے نظم لکھتی ہے)،خالد جاوید ( کچھ’قبض زماں’ بارے میں)،سرور الھدی ( فراق،عسکری،فاروقی)،سید تحسین گیلانی ( سیاہ کوا) ،نسیم سید (مست توکلی اور شاہ محمد مری:امن کی فکری تحریک کی ابتداء ) اور حنا جمشید ( بورخیس کی کہانی “دست خداوند”) شامل ہیں۔سید محمد اشرف نے’نیر مسعود کی کہانیاں: کھوئے ہوؤں کی جستجو’ کے عنوان سے نیر مسعود پہ لکھا ہے۔

تراجم میں چینی زبان میں مائیکرو فکشن،معاصر چینی افسانے،ہاورڈ فاسٹ، جین ہارڈی ،کئیرلن گجن، شبنم اور دیگر کے تراجم شامل ہیں۔خصوصی مطالعہ میں ارون دھتی رائے کا تعارف عمر جاوید نے اور ارون دھتی رائے کے دو انٹرویو اور اس کی دوسرے ناول کے پہلے باب اور چوتھے باب کا ترجمہ شامل ہے۔منگل مور کے عنوان سے عرفان جاوید کا ایک مضمون اور سلمی اعوان کا سفری احوال پہ مبنی ایک مضمون اور پھر رموز فنون کے باب میں پروفیسر شہباز علی ہاشمی اور اقدس علی قریشی کے مضامین  اور پھر حصّہ غزل و نظم ۔افسانہ کے باب میں چھے افسانہ نگاروں کی کہانیاں،ناول کے باب میں زیف سید کی تحریر۔سماجیات کے باب میں ہودبھائی،یونس خان اور ڈاکٹر عامر سعید کی تحریریں اور ‘عورت ،صنف اور سماج ‘ کے باب میں فارینہ الماس،فیاض ندیم اور ،افیہ شاکر کی تحریریں۔کتاب تبصرے میں نسیم سید ،رابعہ الربا سعدیہ ممتاز کے تبصرے۔

یہ 505 صفحات پہ مشتمل رسالہ ہے جس کی تدوین یعقوب قاسم نے کی ہے۔اور رسالے میں کسی بھی مجلس ادارت کے تحت کوئی نام موجود نہیں ہے تو گمان یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ رسالہ یعقوب قاسم کی کاوش ہے اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔

اب اسے اتفاق کہہ لیں کہ جب مجھے ‘نقاط ‘ کا تازہ شمارہ موصول ہوا اور میں نے اسے پڑھنے کے لئے کھولا تو قاسم یعقوب نے رسالے کے اداریے میں ‘ادبی صحافت’ کے ایشو کو ہی  بنیاد بنایا ہوا تھا اور میں بمبیئ کے معروف اردو و ہندی کے ادیب مرحوم ساجد رشید کے رسالے ‘نیاورق’ کےاداریوں کا مجموعہ دستخط پڑھ رہا تھا وسیم کاویانی کا شکریہ کہ انہوں نے اس مجموعے کو اکٹھا کردیا۔شاداب رشید کی مہربانی کہ مبمئی سے صوابی اور صوابی سے خانیوال یہ مجھ تک پہنچ گیا۔

ڈاکٹر ظ انصاری نے کسی جگہ طنزیہ طور پہ اردو کے ادبی رسالوں بارے لکھا تھا:

‘اردو زبان کا ہر رسالہ علمی و ادبی رسالہ ہوتا ہے اور ہمارے ہاں غالبا افسانوں اور غزلوں ہی کو علم و ادب سمجھا جاتا ہے۔’

لیکن ساجد رشید نے اس کلیشے کے توڑ دیا تھا۔نقاط میں قاسم یعقوب نے ‘ادبی صحافت ‘ کو سنجیدگی سے نہ لئے جانے اور اسے غیر ادبی سرگرمی سمجھے جانے کا شکوہ کیا ہے۔میرا خیال ہے کہ ادبی صحافت کے بغیر ادبی رسالوں کو قاری میسر آنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا جارہا ہے اور ایسے ادب کی زندگی بھی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے جو سماج اور معاشرے سے بیگانگی برتنے کی کوشش کرتا ہے۔اور دنیا زاد، آج جیسے اردو کے رسالوں کے زیادہ تر قاری وہ ہیں جو عرف عام میں ادبی دنیا سے تعلق نہیں رکھتے اور ان کی دلچسپی سماجیات میں زیادہ ہے۔

قاسم یعقوب سوشل میڈیا کی آزادی اور اس کے ادبی جمالیات میں دخیل ہونے پہ شکوہ کناں ہیں اور  اور وہ ادب کی سوشل میڈیا میں قرآت کو ‘اشتہار کی قرآت ‘ قرار دے رہے ہیں۔میرا خیال ہے کہ اس تاثر میں جزوی صداقت ہے یہ مجموعی طور پہ ٹھیک نہیں ہے۔سوشل میڈیا نے ادب کے پھیلاؤ اور وسعت میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور ان کو کسی بھی قاری کی آزادی کو محدود کرنے کی بات نہیں کرنی چاہئیے۔جو پوسٹ پبلک ہوئی ،اس پوسٹ پہ جو قابل قدر تبصرہ ہوگا وہ جگہ بنائے گا جبکہ اشتہاری اور بے ہنگام شور جلد ہی ختم ہوجائے گا۔مجھ جیسے لوگ بھی اسی سوشل میڈیا کی وجہ سے سامنے آئے ہیں۔ورنہ ایک زمانے میں تک جب تک آپ وزیر آغا یا قاسمی صاحب کے گروپ میں شامل نہ ہوتے تو آپ کا کسی رسالے میں چھپنے کا امکان ہی معدوم ہوجاتا تھا۔

پاکستان میں ادبی صحافت کے پھلنے پھولنے کے پورے امکانات موجود ہیں۔اس وقت سوشل میڈیا میں ادبی صحافت اپنے عروج پہ ہے۔حال احوال، روزن، مکالمہ ، ہم سب، قلمکار ،ایل یو بی پاک سمیت کئی اردو سوشل بلاگ ویب سائٹس کی ادارت ادیب صحافیوں کے ہاتھ ہی میں ہے اور یہ پاکستان کے مقبول اردو بلاگ ویب سائٹس میں بدل چکی ہیں۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ ‘نقاط’ کو بھی آن لائن لانے پہ کام شروع کرنا چاہئیے۔تاکہ ایک کلک کرے اسے پوری دنیا میں پڑھا جاسکے۔بے شک اس پہ لاگ ان ہونے کی قیمت رکھ دی جائے۔ڈیجٹل فارمیٹ میں اردو کے ادبی رسالوں کے آنے سے ان رسائل کی زندگی کا دورانیہ اور بڑھ جائے گا۔

 

Nuqat

 

image nuqat content

 

Nuqatimage 2

کیا کلکتہ میں چڑیاں ہوتی ہیں ؟

12152314206_408265f0b0_b

کلکتہ ٹرام

 

سوشل میڈیا نے کم از کم میری کچھ بھاؤناوں کو اچھے سے پورا کیا ہے اور میں نے کم از کم سوشل میڈیا کے دور سے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں کبھی اپنی ان بھاؤناؤں کو پورا ہوتے دیکھ پاؤں گا۔ایک بڑا سا ریڈیو جو لکڑی کی میز پہ سر شام رکھ دیا جاتا تھا اور ہم سب گھر والے اس میز کے گرد نیچے فرش پہ بچھی دری پہ بیٹھ جاتے اور بی بی سی اردو کی نشریات سننے لگتے تھے۔مہ پارہ صفدر سے خبریں سنی جاتی تھیں۔کبھی نہ ان کی تصویر دیکھی اور جب وہ پاکستان ٹیلی ویژن پہ خبریں پڑھتی تھیں اس وقت کا بھی ہمیں کچھ پتا نہیں تھا۔ایک دن میری کسی پوسٹ پہ فیس بک مہ پارہ صفدر کا لائک دیکھا  اور پھر کمنٹ پڑھا تجسس ہوا کہ یہ کون سی مہ پارہ صفدر ہیں تو  یہ جان کر شادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئی کہ یہ میری پسندیدہ صدا کار ہیں۔

ایک دن دی نیشن میں لکھنے والے لکھاری عباس زیدی فیس بک پہ میرے دوست ہوگئے اور ان سے بات چیت بھی ہونے لگی۔ہفت روزہ نصرت کے علی جعفر زیدی صاحب سے یاد اللہ ہوئی اور پھر چل سو چل۔گوادر سے کے بی فراق اور ممبئی سے رحمان عباس۔شام سے احتشام اور بیروت سے امل سعد ، اردن سے مرحوم ناھض ھتر اور بیروت ہی سے الاخبار کے ایڈیٹر ابراہیم امین۔ایک دن جان ریس مرحوم لندن سے آگئے جن کی ‘انقلاب کا الجبراء’ پڑھ کر ہوش جاتے رہے تھے۔خشک مزاج الیکس سے یاد اللہ ہوئی۔ایران سے کامریڈ بہرام اور ایک دن ایرانی اداکارہ و ڈائریکٹر شبنم طلوعی ٹوئٹر سے فیس بک تک آئیں اور ان سے بات چیت ہوئی۔قرۃ العین طاہرہ نامی فلم میں ان کی اداکاری کے جوہر دیکھنے والے ہیں۔باغی اختر عباس اور اپنے آپ کی تلاش میں مگن علی جون صاحب اور دیکھیں یہ  آکسفورڈ کے ظہور الحق بھی تو میرے علاقے کے ہونے کے باوجود مجھے یہیں سوشل میڈیا پہ ملے۔میں یہ سب باتیں آج یہاں کیوں لکھ رہا ہوں؟

دلّی دوبارہ جانا چاہتا ہوں ،تازہ وجہ تصنیف حیدر ہیں۔ان کے سامنے بیٹھ کر کچھ دیر ان سے ان کی شاعری سننا چاہتا ہوں۔ممبئی جاکر رحمان عباس سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ممبئی سنٹرل اسٹیشن سے ساجد رشید کے گھر کے قریب ترین اسٹیشن تک ٹرین کا سفر کرنا چاہتا ہوں ۔اس کافی ہاؤس کی یاترا کرنا چاہتا ہوں جہاں کبھی مرحوم باقر مہدی بیٹھا کرتے تھے۔

 

میرا خواب ہے کلکتہ دیکھنے کا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا۔کلکتہ میں کئی وجوہات کی بنا پہ دیکھنا چاہتا ہوں لیکن اس کی تازہ ترین وجہ جس نے کلکتہ دیکھنے کی خواہش اور شدید کردی ہے سومی  اینگلو انڈین بنگالن ہیں۔ان کی باتوں نے کلکتہ دیکھنے کی خواہش کو آگ دکھادی ہے۔اینگلو انڈین کلکتہ  کے بنگالی خاندان میں جنمی یہ ادیبہ اور مترجم مجھ سے جب ہم کلام ہوئی تو مجھے یوں لگا جیسے میں کسی سائے سے گفتگو کررہا ہوں۔یہ چار زبانیں جانتی ہے۔تین میں پڑھتی اور لکھتی ہے، دو میں سوچتی ہے۔اور ایک میں خواب دیکھتی ہے۔میں نے پوچھا کہ بغیر سوچے کیسے وہ کونسی زبان ہے جس میں یہ لکھ بھی لیتی ہے اور پڑھ بھی لیتی ہے تو کہنے لگی فرنچ اور ساتھ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔اب مجھے نہیں پتا کہ کھلکھلا کر ہنسی بھی تھی یا نہیں کیونکہ ہماری بات چیت صرف لکھ کر ہورہی تھی اور اس نے کھل کر ہنسنے کا ایموجی بھیجا تھا۔کہتی ہے کہ انگریجی اس کے جذباتی صورت کی زبان ہے ۔لینگويج آف ایموشنل میک اپ۔کہتی ہے کلکتہ اس کے لئے کبھی کولکتہ نہیں ہوسکتا۔اس نے کلکتہ کے ایسے محلے میں آنکھ کھولی جہاں ہر طرف بس اینگلو انڈین بنگالی رہتے تھے اور اس کا گھررپیون اسٹریٹ میں تھا۔پھر وہاں سے یہ نارتھ کلکتہ میں منتقل ہوگئی جہاں بنگالی کلچر کے کسٹوڈین بہت جیادہ انگریجی زدہ تھے۔انجیلی سائزڈ تھے۔سائیکل رکشہ گھسٹتے لاغر بدن،ناقابل اعتبار ٹرام،سرخ اینٹوں سے بنی دیواریں اور ارسٹو کریٹس بنگالی ان سب نے اسے اینگلیسائزڈ کردیا۔کیا کلکتہ اب بھی ویسا ہی ہے؟ ہاں نا، جہاں نہیں ہوتا میں تخیل سے کرلیتی ہوں۔۔۔۔۔ اس کے جواب نے مجھے ساکت کردیا۔

 

Rickshaw Kolkata

ریپون اسٹریٹ کلکتہ کی ایک شاہکار پینٹنگ

میں بھی تو کراچی اور لاہور کو جہاں یہ ویسا نہیں ہوتا جیسا میرے دماغ میں بسا ہوا ہے ویسا کرلیتا ہوں۔میں نے یہ سوچا اور ترنت اسے بتا بھی دیا۔میری پہلی استانی بھی میتھوڈسٹ چرچ کی پیروکار تھیں اور اس نے بتایا کہ وہ بھی متھوڈسٹ اسکول میں پڑھی جہاں بائبل والی انگریجی پڑھی استانیاں تھیں۔اس نے اپنا پہلا محبت نامہ انگریجی میں لکھا۔ایسا پتر جو کبھی جس کے لئے لکھا گیا اسے بھیجا نہ گیا۔شاعری کے اولین شبد بھی اسی زبان میں اس نے لکھے تھے۔فرانسیسی ایسی زبان ہے جس میں وہ ٹھیک سے نہ تو سوچ سکتی ہے اور نہ اس میں محسوس کرسکتی ہے لیکن وہ اس میں لکھ لیتی ہے آسانی سے۔لیکن خواب تو یہ بس  انگریجی میں دیکھتی ہیں۔اینگلو ہندوستانی بنگالن کو اپنی زبان سے پیار 21 سال کی عمر میں ہوا جب یہ اپنے دادا کی لائبریری میں گھسیں اور وہاں انہوں نے انگریجی میں ٹیگور کو پڑھا۔کہنے لگی،”تمہارے کو پتا ہے؟ ٹیگور کو بدیشی جبان میں پڑھنا  بلاسفیمی خیال کیا جاتا ہے؟میں نے کہا پھر تو زیادہ تر لوگ اس بلاسفیمی کے مرتکب ہوئے ہیں،اس نے فوری کہا نہیں میرا مطلب تھا کسی بنگالی کا پڑھنا۔کہتی ہے میں خواب گر ہوں اور سوشلسٹ بھی لیکن لٹریچر کو کسی ڈسکورس کو سامنے رکھ کر نہیں پڑھتی۔اسے اردون دھتی رائے سے عشق کی حد تک لگاؤ ہے اور بنّا پھول کو بھی یہ بہت چاہتی ہے۔سیتہ جیت رے کی طرح بننا اس کا خواب ہے لیکن اس کو تعبیر میں ڈھالنے کی اس نے کبھی کوشش نہیں کی۔بنگال کا جب کبھی میں تصور باندھتا ہوں تو بہت تیز،موسلادھار بارش اور بارش سے پہلے بہت حبس اور چپ چپا کردینے والا موسم میرے ذہن میں آجاتا ہے۔لیکن پھر بھی کلکتہ کا نام سنکر مجھ پہ ایک رومانویت سی طاری ہوجاتی ہے۔لیکن یہ اس رومانویت سے بالکل الگ سی شئے ہے جو کراچی میں یاد کی شکستہ دیواروں سے گلے لپٹتے ہوئے مجھ پہ طاری ہوتی ہے۔یا لارنس باغ میں بدھا کے درخت کے سامنے ‘اس’ کی موجودگی میں طاری ہوا کرتی تھی۔ہارمونیم سے سومی کو عشق ہے اور یہ اسے بجاتی ہے بقول اپنے من میں ڈوب کر۔ایک کلپ اس نے بھیجا ہارمونیم کی موسیقی کا پیچھے چڑیوں کے چہچہانے کی آواز تھی۔”کیا کلکتہ میں چڑیاں ہوتی ہیں ؟” ۔”نہیں تو ، کوے ہوتے ہیں”۔اس نے زرا چڑ کر جواب دیا تو مجھے بے اختیار ہنسی آگئی۔

Coffee-House-4

کلکتہ کافی ہاؤس کا ایک منظر

 

عامی کے نام

ڈئیر عامی

پیرس سے تمہارا آخری خط ملا تو میں اس وقت دفتر سے گھر پہنچی ہی تھی اور رات بھر اخبار کی آخری کاپی پریس بھیجنے تک اسقدر کام کرتی رہی تھی کہ تھکن سے برا حال تھا۔دروازہ کھولا تو سامنے تمہارا بھیجا ہوا خط پڑا تھا۔ہر خط ایک مخصوص سیاہ رنگ کے لفافے میں لپٹا ہوا اور اوپر پیلی روشنائی سے یہاں کا پتا لکھا ہوا نیچے سفید رنگ میں تمہار پتا،اب مجھے دور سے دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس کا خط آیا ہے۔ویسے بنک سٹیمنٹ،کچھ دفتری خط و کتابت سے ہٹ کر کچھ اور تو ڈاکئے کے زریعے سے آتا نہیں ہے اور باقی زیادہ تر مراسلت اب برقی مراسلوں کے زریعے سے ہوتی ہے تو بھی مجھے پتا چل جاتا ہے کہ کس کا خط آیا ہوگا۔ویسے تم نے ہر خط لکھا تو ساری کے نام اور ایڈریس میرا لکھا اور یہاں تواتر سے تمہارے خط ملتے رہے۔میں حیران تھی کہ یہ آخر تمہیں ہوکیا گیا ہے؟تم کیوں پرانے زخموں کو کریدنے لگے ہو اور اپنے آپ کو زخم زخم کررہے ہو؟سب سے زیادہ حیرانی مجھے اس بات کی تھی کہ تم خود سے ان خطوں کے جواب من جانب ساری کے تلاش کرتے ہو اور پھر ایک لمبی سی کہانی گھڑ کر سنانے لگتے ہو۔تم جیسے ایک جدلیاتی مادیت پرست سے مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ تم اسقدر مابعدالطبعیاتی انداز میں لکھنے لگوگے اور شاید تمہارا اربن مڈل کلاس پس منظر تمہاری جان چھوڑنے کا نام نہیں لیتا۔اور آج کل تو میں حیران ہوتی ہوں کہ تم جیسا خشک سا آدمی اتنی کہانیاں،اتنے افسانے اور اس قدر رومان پسند خطوط اور عورت بارے اسقدر سنجیدگی سے کس طرح سے لکھنے لگا ہے۔تمہیں شعبی یاد ہے وہ سرگودھا والا لڑکا جو تمہارے پیچھے پاگل تھا اور کبھی کبھی مجھے شک ہوتا تھا کہ تم بھی تھوڑے بہت تھے اور جب تک ساری کے ساتھ تم جڑے نہیں تھے اس سے پہلے تم دونوں کو ہنسوں کا جوڑا کہا جاتا تھا اور لوگوں کو تمہاری جنسی جہت بارے بھی کافی شکوک تھے۔اور یہ ٹھیک وہی زمانہ تھا جب پاکستانی سماج میں کہیں بھی تو کم از کم “گے اینڈ لزبین ” ہونے کو ایک فطری فنومنا نہیں سمجھا جاتا تھا اور ترقی پسند بھی اسے ایک بیماری خیال کرتے تھے۔اور میں نے جب تمہیں “چھلاوہ” پڑھنے کو دی تھی تو تم نے اسے انتہائی بکواس قرار دیا تھا۔کوئی کہتا شعبی تمہارا “لونڈا” ہے اور کوئی کہتا اس ” انقلابی” لیڈر کو “علت مشائخ ” ہے۔اسلامی جمعیت طلباء کراچی کا وہ پمفلٹ یاد ہے جس میں تمہارے اور شعبی کے معاملے کو لیکر کیا کیا باتیں لکھی گئیں تھیں اور یہ سب یونین الیکشن سے صرف پانچ دن پہلے ہوا تھا۔اور اس پمفلٹ پہ یونیورسٹی کے لڑکوں اور لڑکیوں کی اکثریت نے کچھ دھیان نہیں دیا تھا اکڑچہ چٹخارے لیکر سب نے پڑھا تھا لیکن ووٹ تمہاری طرف ہی گئے تھے کیونکہ ان کو تمہاری سیاسی کمٹمنٹ اور نظریات پہ وابستگی پہ زرا بھی شک نہیں تھا۔اس زمانے میں تم اتنے حساس اور اتنے ٹچی کبھی نظر نہیں آئے تھے۔میں نے کبھی تمہیں پلٹ کر جواب دیتے نہیں دیکھا۔تم نے اس پمفلٹ کا نوٹس تک نہ لیا اور تمہاری جانب سے جو بھی جتنے پمفلٹ اس دوران آتے وہ سب کے سب سیاسی ہوتے تھے۔ویسے ان خطوط میں جتنے ادیبوں اور شاعروں کا جو تم نے تذکرہ کیا میں تمہارے ذہنی ارتقاء پہ کافی حیران ہوئی ہوں۔اس زمانے میں زیادہ کیا تو میکسم گورکی کا “ماں” تم کبھی کبھی اپنے ملنے والوں میں تقسیم کرتے نظر آتے تھے اور زیادہ تر کمیونسٹ مینی فیسٹو اور سبط حسن کی کتابیں یا پھر زیادہ کیا تو روسی کمیونزم کی کتابیں تم بانٹتے تھے۔شعر تمہیں کبھی یاد نہ ہوئے۔اور اکثر ان کے ساتھ جراحت کے مرتکب ہوتے تھے۔ہاں سینما خوب دیکھتے تھے تم۔باقی ساری کے ساتھ رہتے ہوئے تم کیا پڑھتے تھے اور اس کے ہاں سے کیا لاتے تھے اور اس کے ساتھ یونیورسٹی کے کونے کھدروں میں تم کیا باتیں کرتے تھے یہ سب مجھے ان خطوط سے پتا چلا ہے۔میں نے کبھی تمہارے منہ سے ان دنوں بھولے سے بھی اس کتاب کا نام نہیں سنا تھا جس کا تذکرہ تم آج کل بار بار کرتے ہو۔نہج البلاغہ۔ہاں ڈاکٹر علی شریعتی کے بارے میں کل تو تمہارا خیال تھا کہ وہ ایک یوٹوپئین اسلام پرست سوشلسٹ تھا اور تم ہمیشہ اس پہ الزام عائد کرتے تھے کہ اس نے ایرانی انقلاب میں ملاّؤں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس نے تودے پارٹی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے فکری اعتبار سے سائنسی سوشلزم کی اپنی لبریشن تھیالوجی کے زریعے سے بنیادیں ہی کھوکھلی کیں۔تمہیں اس کے ماضی سے رومانٹسزم سے سخت چڑ تھی اور اپنی تحریروں میں آج تم اسی ماضی سے رومان کرتے نظر آتے ہو۔اور تم دیکھ سکتے ہو تمہارے اس خیالی رومان پرستی کے خریدار بھی زیادہ تر اربن مڈل کلاس اور ایک مخصوص مذہبی فکر کے حاملین مرد و عورتیں ہی ہیں۔ساری تمہاری دوست تھی اور وہ فلسفے کی ایک شائننگ اسٹوڈنٹ تھی۔مانا کہ اس سے ملنے کے بعد تمہاری وہ نو تیرہ کی مونچھیں غائب ہوئیں اور وہ ہلکی ہلکی داڑھی بھی اور شلوار قمیص کی بجائے تم جینز پہننے لگے اور تمہارے وہ موٹے موٹے شیشوں والی عینک بھی زرا سے فریم میں بدل گئی تھی اور تم تھوڑے سے قبول صورت ہوگئے تھے اور ساری تمہاری انتخابی کمپئن میں بھی بہت معاون تھی لیکن اس نے کبھی بھی مارکسزم اور جدلیاتی مادیت پرستی سے شغف نہیں دکھایا۔اور مجھے وہاں یونیورسٹی میں ہی شک تھا کہ وہ بھی کوئی اسلام پسند سوشلسٹ ٹائپ یوٹوپئین ہی ہوگی لیکن ٹھیک سے کہہ نہیں سکتی تھی اس لئے شک کو صرف ذہن میں رہنے دیا تھا لیکن تمہارے خطوط سے پتا چل گیا کہ میرا شک ٹھیک تھا۔اس نے تمہیں بھی کافی خراب کیا کہ تم کلارا زیٹکن سے زیادہ سیمون ڈی بوووار اور سارتر کی جانب جھکے نظر آئے اور تو اور کافکا کی جادوئی حقیقت نگاری تمہیں حقیقت کے قریب تر لگنے لگی جبکہ انھوں نے جدلیاتی مادیت پرستی کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔میرے لئے تمہارے ہاں جنسیت/سیکچوئلٹی کا وافر تذکرہ دیکھنا کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔تمہارے ہاں یہ آسیب /آبسیسشن کی طرح نظر آیا۔یہ فرسٹریشن تھیوری سے نابلد کامریڈز اور ایک گٹھن زدہ ماحول سے آنے والوں کے ہاں تو سمجھ میں آتی ہے لیکن تمہارے ہاں اس عمر میں اس کا غلبہ دیکھ کر مجھے شاک لگا ہے۔کانٹی جینس لو کی بات کرکے تم جس فراریت پسندی کا شکار ہو اس پہ تمہیں ندامت محسوس نہیں ہوتی؟ساری کینسر سے مرگئی اور اس کے مرنے کے بعد تم ماسکو چلے گئے تھے اور وہاں سے تمہارے خطوط جتنے مجھے ملے یا دوسرے دوستوں کو ان کو پڑھ کر ہمیں کہیں نہیں لگا تھا کہ تم ابدی محبت اور عارضی محبتوں کی کسی مساوات پہ یقین رکھتے ہو کیونکہ تمہارے خط اس زمانے کی پولیٹکل اکنامی سے جڑے مسائل پہ اظہار خیال سے بھرے ہوتے تھے اور تم بار بار پاکستان میں انقلابی سوشلسٹ کیڈر پارٹی کی تعمیر کی بات کرتے تھے۔ان دنوں تو تم نے نہ کسی نتاشا کا زکر کیا اور نہ ہی ووڈکا کا اور اپنے اندر کسی راسپوٹین جگانے کی خواہش کا۔مجھے سچی بات ہے کہ تمہارے خطوط پڑھ کر اپنے اندر کسی رومان بھرے جذبے کے بیدار ہونے کے آثار نظر نہ آئے۔تمہارا آخری خط ملنے سے قبل ہماری فون پہ جو بات ہوئی تھی میں نے اس میں بھی تم سے کہا تھا کہ میں تین مرتبہ کے بریک اپ اور تین بار مطلقہ ہوجانے کے بعد یہ سمجھتی ہوں کہ ایک کاسموپولٹین اربن چیٹرنگ کلاس کے مرد اور عورت کا سب سے برا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ہم بستر پہ بغیر کسی بندھن کے اکٹھے ہوتے ہیں ہمیں تعلقات میں کوئی نیا پن محسوس ہوتا ہے لیکن جیسے ہی یہ تعلق شادی جیسی چیز سے جڑتا ہے ہم سپوائل ہونے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ ہمارا تعلق ایک غیر مرئی قید بن جاتا ہے۔کانٹی جینسی مجھے سب سے بڑی حقیقت لگتی ہے۔”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں “۔ہوسکتا ہے میرا یہ تجربہ بہت زیادہ پرسنل ہو اور اس سے کسی قسم کا عمومی مقدمہ اور اس پہ نتائج مرتب کرنا ٹھیک نہ ہو لیکن مجھے تم خاصے قابل رحم لگے۔تمہیں مرگی ایک مرض سے زیادہ رومان لگتی ہے اس لئے کہ دستوفسکی نے اسے رومانٹسائز کردیا تھا اور بیمار ہونا تمہیں پرکشش لگتا  ہے اور ایک جگہ پڑے رہ کر طلسمات کا جال بننا تمہیں لبھاتا ہے اس لئے کہ اسے کافکا حسین بناکر دکھاتا ہے مجھے ہضم نہیں ہوتا۔تمہارے اندر کا زمان اور مکان اس قدر یوٹوپئین ہے کہ مجھے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہونے لگتی ہے کہ کیا یہی وہی عامی ہے جو ہماری طلباء سیاست کا سب سے باعمل لڑکا ہوا کرتا تھا۔کافی دور نکل گئے ہو تم اور کیا کل وقتی فکشن نگاری کا پیشہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکے ہو تم۔ویسے ماضی کا ہر انقلابی اور کرانتی کاری نظم یا کہانی میں پناہ کیوں ڈھونڈتا ہے؟ پاش سے تم پوچھنا تو سہی کیوں کہ مرے  ہوئے لوگوں کی آتماؤں سے تم مخاطب ہونے اور ان سے جواب حاصل کرلینے میں کافی مہارت حاصل ہوگئی ہے۔پیرس میں رہے تم اور یہاں رہ کر نہ تمہیں باکونن یاد آیا اور نہ ہی پیرس کمیون اور یہاں پہ مارکس کا آنا بھی تمہیں ٹھیک سے یاد نہیں آیا۔ان خطوط میں سماج واد عامی کہاں گم ہوگیا؟ مجھے سمجھ نہیں آئی۔اور اب برسلز پہنچے ہو یہاں رہ کر تمہیں کیا یاد آئے گا ٹھیک سے میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔میں ناستک ہوں اور فنائے محض پہ یقین رکھنے والی اور اس لئے مجھے کسی عالم برزخ سے جوابوں کی تلاش نہیں ہے۔ویسے زرا اپنے پرانے جدلیاتی مادیتی پرست عامی کو آواز دیکر دیکھنا کہ تم نےجن کو مخاطب کیا اور جس سے بولے وہ سب کے سب ان نظریات اور افکار کے سوا اپنے الگ وجود اور ہئیت کے ساتھ کیا کہیں موجود بھی تھے؟اس لئے تو یہ سارے خط تم مجھے ارسال کرتے رہے۔کوئی ایسا میکنزم اس خیال پرستی اور آئیڈیلزم کے پاس ہے کیا جو ان خطوط کو براہ راست فنا ہونے والوں تک پہنچا دے؟ یقینی بات ہے کہ نہیں ہے۔پیرس سے لکھے گئے اس آخری خط  میں سوائے سادیت پسندی کے اور ہے کیا؟ ایک ایسی ٹریجڈی جسے تمہاری سادیت پسندی نے اور خوفناک بنادیا ہے اور تمہاری مریض طبعیت کو اور کئی لوگوں میں منتقل کردیا ہے۔سیکنہ علی زیدی نے پراگ سے مجھے لکھا ہے کہ یہ وہ عامی نہیں ہے جو اسے دریائے پراگ پہ بنے پرانے لکڑی کے پل پہ ملا تھا اور زندگی سے بھرپور تھا۔یہ تو کوئی دیمک زدہ شخص لگتا ہے جو اصل عامی کو کھا گیا ہے۔مجھے تم سے منافقت نہیں کرنی یہ کہہ کر کہ اتنی تلخ باتوں پہ شرمندہ ہوں یا معافی کی طلبگار ہوں۔مجھے تم سے اسی سفاک حقیقت پسندی کے ساتھ بات کرنی ہے۔مزید کئی باتیں پھر کروں گی اگر تمہارا فیوز نہ اڑا تو۔

والسلام

تمہاری دوست ریحانہ سرور

میں کیسا مسلمان ہوں بھائی

 

حسین حیدری ممبئی کے رہنے والے ہیں اور بدقسمتی سے ان کا جو خاندانی پس منظر ہے وہ شیعہ ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جو کسی شخص کی کہی ہوئی بات کو دارالعلوم دیوبند اور سعودی وہابی اینٹی کلچر کے غالب اثر کے سبب ویسے ہی مشکوک بنادینے کے لئے کافی ہوتی ہے۔لیکن ہندوستان کیوں کہ ایک بہت بڑا ملک ہے اور وہاں ابھی کسی کی بھی کہی ہوئی بات کو بہت سارے لوگ اس کے خاندان کے مذہبی پس منظر کو جانے بغیر اس کی قدر وقیمت کو مانتے ہیں تو ایسے میں اس نے ایک نظم کی باز گشت بہت سنی جارہی ہے۔ممبئی میں “کمیون” کے نام سے ایک پرفارمنگ آرٹ فورم ہے اور اس فورم پہ ایک پروگرام اپنی کہانی سناؤ کے نام سے ہے اور یہ کم از کم ممبئی کی اربن مڈل کلاس میں بہت مقبول پروگرام ہے اور اسی پروگرام میں حسین حیدری جب اپنی کہانی سنانے آئے تو انھوں نے ایک نظم سنائی:

ميں کیسا مسلمان ہوں بھائی

میں سجدہ کرنے والا ہوں یا جھٹکا کھانے والا ہوں

میں ٹوپی پہن کے رہتا ہوں یا داڑھی اڑاکے رہتا  ہوں

مجھ میں گیتا کا ساربھی ہے،ایک اردو کا اخبار بھی ہے

اپنے ہی طور سے جیتا ہوں،دارو،سگریٹ بھی پیتا ہوں

دنگوں میں بھڑکتا شعلہ میں کرتے پہ خون کا دھبا میں

مندر کی چوکھٹ میری ہے،مسجد کے قبلے مرے ہیں

گوردوارے کا دربار میرا یسوع کے گرجے میرے ہیں

سو میں سے میں چودہ ہوں لیکن یہ چودہ کم نہیں پڑتے ہیں

پورے سو مجھ میں بستے ہیں اور میں پورے سو میں بستا ہوں

مجھے ایک نظر سے دیکھ نہ تو میرے ایک نہیں سو چہرے ہیں

سو رنگ کے ہیں کردار میرے،سو قلم سے لکھی کہانی ہوں

میں جتنا مسلمان ہوں بھائی اتنا ہندوستانی ہوں

حسین حیدری کی یہ نظم فروری کے دوسرے ہفتے کمیون ممبئی فورم کے آفیشل فیس بک پیج پہ پوسٹ ہوئی اور ایک دن میں 2000 لوگوں نے اسے آگے شئیر کردیا۔ہندوستانی اخبارات میں یہ نظم شایع ہوئی اور پھر اس پہ بھانت بھانت کے تبصرے ہونے لگے۔ہندوستان کا مقبول انگریزی بلاک سکرول کے میگزین میں جیوتی پونمی نے ایک آرٹیکل لکھا جس میں حسین حیدری کے حوالے سے کہا گیا کہ اس کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ اس نے جو نظم جو طرف اس نے خود اپنے لئے کہی ہے اس پہ اسقدر شور کیوں مچا ہوا ہے؟ اور حسین حیدری یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نظم انھوں نے اپنے اوپر لکھی ہے اور یہ کوئی احتجاج میں لکھی گئی نظم نہیں ہے۔حسین حیدری ایک چارٹر اکاؤٹنٹ تھے اور انھوں نے دسمبر 2015ء میں نوکری چھوڑی اور کل وقتی گیت نگار اور سکرین رائٹر بن گئے۔حسین حیدری کچھ بھی کہیں لیکن اصل میں ان کی یہ نظم مسلمانوں کے بارے سٹیریو ٹائپ خیالات کے اظہار کے خلاف ایک احتجاج کی علامت بن گئی ہے۔ہندوستانی مسلمانوں کے ہاں بھارتیا جنتا پارٹی اور ہندؤ فاشزم کی جانب سے مسلمان کمیونٹی کو دہشت گرد، انتہا پسند، رجعت پرست اور پیورٹن بناکر پیش کرنے کے رجحان کے خلاف ردعمل پایا جاتا ہے۔وہ اس بات پہ بھی سیخ پا ہیں کہ ہندوستان میں وہابی ازم اور دیوبندی ازم کی جانب سے جو اسلامی خلافت اور اسلامی ریاست کا یوٹوپیا پیش کیا جاتا ہے اس کا پجاری ہر ایک مسلمان کو بناکر دکھایا جارہا ہے۔سبھی مسلمان ڈاکٹر زاکر نائیک اور دار العلوم دیوبند کے زیر اثر سامنے آنے والے چہروں یا انڈین مجاہدین یا کشمیری مجاہدین بناکر پیش کئے جانے کا رجحان ہے  اس کے خلاف ایک ردعمل ہندوستانی معاشرے کے اندر موجود ہے۔مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس طرح کی سٹیریو ٹائپ نظریہ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں  کے تکثیری چہروں کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں اور ان کو یہ نظم اپنے خیالات کی عکاس لگی ہے۔مجھے یہ نظم اس لئے بھی دلچسپ لگی کہ میں حال ہی میں پرویز ہودبھائی کی تحریر “کیا پاکستان بطور ایک تکثیریت پسند سماج کے باقی رہ سکتا ہے” پڑھ رہا تھا جس میں انھوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ” مابین المذاہب تکثیریت پسندی ” اور ” مابین الفرق الاسلام تکثریت پسندی” موجود مسلم تھیالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے عملی طور پہ ہر قسم کے معاشروں میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کیا ہے لیکن

Texually and formally

نہیں اور وہاں پہ زیادہ تر ابن تیمیہ، ابن عبدالوہاب، سید احمد بریلوی،شاہ اسماعیل،رشید احمد گنگوہی،سید مودودی،سید قطب،حسن البنّا اور سید روح اللہ خمینی جیسوں کی حکمرانی اور ان جیسوں کو ہی زیادہ قبول عام ملا ہے۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں ابھی حاجی علی کے مزار پہ خواتین کے داخلے کو منع کرنے کا معاملہ ہو یا خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی کے مزار پہ عورتوں کی حاضری کی ممانعت کا مسئلہ ہو اس پہ ہندوستان کی مذہبی پیشوایت نے متنی اور رسمی طور پہ کنزرویٹو پوزیشن کو ہی اپنایا ہے۔اور خود بریلوی ملائیت نے بھی اسی راستے کو اختیار کیا ہے اور ایک مجلس میں اور منہ سے تین بار طلاق کا لفظ نکالنے کا معاملہ ہو اس پہ بھی کوئی لچک دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔اور پاکستان کے اندر شیخ عثمان مروندی لال شہباز قلندر کے مزار پہ ہوئے خودکش بم دھماکے بعد بحث کا رخ “دھمال ” کے جائز ہونے نا ہونے کی طرف مڑگیا اور اس معاملے پہ بریلوی مذہبی قیادت نے بھی کم وبیش دیوبندی ملائیت اور سلفی ملائیت کے ساتھ کا موقف اختیار کرلیا اور اس حوالے سےپاکستانی مسلم اربن مڈل کلاس کی کئی ایک پرتوں نے بھی ملائیت کے ساتھ کا ہی موقف اپنایا۔اور یہ ایک طرح سے مذہبی فاشزم کی مکمل جیت کا سا منظر نامہ ہے۔مسلمانوں کو سٹیریو ٹائپ کرداروں میں دیکھنے اور دکھانے کا رجحان آئیڈیالوجیکل منظر نامے پہ اکثر متون میں تکثریت مخالف رائے کے غالب آجانے کے سبب بھی ہے اور بدقسمتی سے اس سبب کی طرف نگاہ کم ہی جاتی ہے۔پرویز ھودبھائی نے ٹھیک کہا ہے کہ پاکستانی سماج کے اندر تکثریت پسندی کے حامی جدید مسلم مفکرین کی فکر کو آج کی مین سٹریم مسلم فکر میں کوئی خاص جگہ نہیں مل سکی اور سید امیر علی،سرسید احمد خان،فضل الرحمان جیسے جدید مسلم مفکرین کی فکر آج کتابوں میں بند ہوکر شیلفوں میں کہیں دب کر رہ گئی ہے۔اکبّر بادشاہ کی صلح کلیت بھی ہمارے مرکزی دھارے کا حصّہ نہیں بن پائی اور آج ہمارے ملامتی صوفیاء جیسے بابا بلھّے شاہ تھے ان کے مزاروں پہ عورت کا داخلہ منع ہے جیسے آویزاں بورڈ ہمارا منہ چڑاتے ہیں۔اور غالب ڈسکورس اگر ہے تو وہ تبلیغی جماعت کے طارق جمیل، سپاہ صحابہ پاکستان کے لدھیانوی،جاوید احمد غامدی،جماعت اسلامی کے مودودی کا ہے یا پھر حافظ سعید کا ہے۔اور یہ مسلمانوں کے اپنے اندر کی تکثیریت اور تنوع کا بھی سب سے بڑا دشمن ثابت ہورہا ہے۔