استاد سبط جعفر:جس کا مولا تھا میں اس کا مولا علی

 

 

آج اٹھارہ مارچ 2018ء ہے۔اور آج سے پانچ سال پہلے اسی دن پروفیسر سبط جعفر پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج لیاقت آباد(لالو کھیت) کراچی اپنی موٹر سائیکل پہ گھر واپس لوٹ رہے تھے کہ ایک سپیڈ بریکر ان کی بائیک جیسے ہی آہستہ ہوئی تو موٹر سائیکل پہ سوار دو افراد نے ان پہ نائن ایم ایم پسٹل سے فائر کھول دیا۔ان کو متعدد گولیاں ماری گئی تھیں اور وہ موقعہ پہ ہی شہید ہوگئے۔اپریل 2013ء میں ان کے دو قاتل گرفتار کرلیے گئے۔اس وقت کے ایس ایس پی فیاض احمد نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ پروفیسر سبط جعفر کا قتل سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت کے کارکن شیخ محمد اطہر عرف خالد اور محمد شاہد عرف چورن نے کیا۔یہ دونوں سپاہ صحابہ پاکستان کے رکن تھے اور ساتھ ہی لشکر جھنگوی کے بخاری گروپ کا حصّہ تھے جس کا الحاق تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔

پروفیسر سبط جعفر،استاد سبط جعفر کے نام سے مشہور تھے۔وہ کراچی کے تعلیمی، سماجی فلاحی اور ادبی حلقوں میں بہت عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ان کے شاعری اور تعلیم کے میدان میں سینکڑوں شاگرد تھے۔کئی ادبی و سماجی تنظیموں کے قیام میں انھوں نے اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔انتہائی درویش صفت آدمی تھے۔برسوں سے لوگ ان کو ایک موٹر سائیکل پہ سوار پورے شہر میں ایک کونے سے دوسرے کونے میں آتے جاتے دیکھتے تھے۔ ان کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ آپ جب بھی ان کو مدد کے لیے پکاریں گے استاد موٹربائيک پہ آپ کے پاس حاضر ہوجائیں گے۔اور اس معاملے میں وہ رنگ،نسل،ذات پات،فرقہ،برادری کسی چیز کی پرواہ نہیں کریں گے۔ان کے قتل نے کراچی میں بسنے والے ہر شخص کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

یہاں پہ سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اتنا ہر دل عزیز اور درویش صفت آدمی کو کیوں مارا گیا؟ان کو مار کر کن مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس سے معاملہ کرتے ہوئے پاکستان کا مین سٹریم میڈیا ابہام پرستی،جواز مائل یا بعض  اوقات ذمہ داران کی شناخت سے نفی کی جانب چلا جاتا ہے۔

پاکستان کے قیام سے قریب قریب 14 سال پہلے 1929 کے آخر اور 1930 کے آغاز میں لکھنؤ میں دارالعلوم دیوبند سے تعلق رکھنے والے مولوی عبدالشکور لکھنؤی،لاہور سے تعلق رکھنے والے احراری دیوبندی مولوی اظہر علی نے آل انڈیا مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کے خلاف اچانک سے مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے تکفیری مہم شروع کی۔اور ایسے شواہد موجود ہیں کہ دیوبندی سخت گیر مولویوں کی اس تکفیری مہم کے پیچھے آل انڈیا کانگریس میں موجود مہا سبھائی عناصر تھے جنھوں نے ان مولویوں کو کافی پیسہ فراہم کیا۔

حال ہی میں آکسفورڈ پریس پاکستان سے  چھپنے والی کتاب’ جمال میاں-دی لائف آف مولانا جمال الدین عبدالوہاب فرنگی محلی بھی ہمیں اس مسئلے پہ کافی روشنی ڈالتی محسوس ہوتی ہے کہ کیوں دیوبندی علماء کے کانگریس نواز  دھڑے جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار اسلام کی قیادت نے تکفیری مہم کا آغاز کیا۔

اس کتاب کے مصنف فرانسس رابنسن نے بہت عرق ریزی سے تحقیق کرکے دارالعلوم فرنگی محل کے مولانا عبدالباری فرنگی محلی ،ان کے بیٹے مولانا جمال الدین عبدالوہاب فرنگی محلی کا خلافت کمیٹی میں جمعیت علماء ہند کی دیوبندی قیادت اور بعد میں بننے والے مجلس احرار کے ابن سعود کی طرف جھکاؤ اور صوفی سنّی مسلمانوں کو دھوکا دینے کی تفصیل مہیا کی ہے۔اور بتایا ہے کہ اس کے بعد دارالعلوم فرنگی محل کا جھکاؤ آل انڈیا مسلم ليگ کی طرف ہوگیا۔اور مولانا عبدالباری فرنگی محل کے بیٹے مولانا جمال الدین فرنگی محلی نے لکھنؤ کے راجہ آف محمود آباد، ممبئی پریذیڈنسی کے اصفہانی برادران کے ساتھ ملکر خاص طور پہ یوپی،سی پی ، بنگال اور ممبئی پریذیڈنسی میں کانگریس نواز دیوبندی دھڑے کے  مولویوں کا اثر توڑنے کے لیے بھرپور مہم چلائی۔

دارالعلوم فرنگی محل اور راجا آف محمود آباد کے درمیان باہمی تعلقات کی ایک علامتی اہمیت یہ تھی کہ یہ صوفی سنّی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان مثالی ہم آہنگی کا سبب بن رہی تھی۔یو پی،سی پی،بنگال،اور ممبئی کے اندر آل انڈیا مسلم لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے کانگریس کو بوکھلادیا تھا اور جو سرمایہ دار اور زمین دار جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار کو سرمایہ فراہم کرتے تھے ان کا دباؤ بھی مولویوں پہ بڑھ گیا۔

قائد اعظم محمد علی جناح،راجا آف محمود آباد،خان لیاقت علی خان،خواجہ ناظم الدین ؛ایم ایچ اصفہانی اور دیگر صف اول کے لیگی قائدین یا تو شیعہ تھے یا صوفی سنّی تھے۔ان کو نیچا دکھانے کے لیے احرار اور جمعیت علمائے ہند کے مولویوں نے اینٹی شیعہ اور اینٹی صوفی سنّی بیانیہ اختیار کیا۔اور ان کی پوری کوشش تھی کہ مسلمانوں کے درمیان شیعہ-سنّی منافرت کی آگ بھڑکادی جائے اور اس طرح سے آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاست کو بھی غیر موثر بنادیا جائے۔

اس مہم کے پیچھے خود بنیے ساہوکاروں اور بزنس برادری کا بھی مفاد وابستہ تھا۔اصفہانی برادران،سیٹھ حبیب، آدم جی اور ایسے ہی کچھ اور مسلم سرمایہ دار کمیونٹی خاص طور پہ ممبئ اور کلکتہ کے اندر سے اپنے بزنس کو دیگر علاقوں میں پھیلانے کی کوشش کررہے تھے۔اصفہانی اور آدم جی کا کاروبار مڈل ایسٹ،افریقہ کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے شہروں میں پھیل رہا تھا اور اس میں ان کا مقابلہ ہندؤ مرکنٹائل بزنس کمیونٹی سے تھا۔اور اس وقت کی ہندوستانی سوسائٹی میں فرقہ پرست تحریکوں کے پیچھے اس تضاد کا بھی بڑا دخل تھا۔اور جمال الدین فرنگی محلی کو بھی اصفہانی برادران نے تجارت میں گھسیٹ لیا تھا،اس بارے میں جمال الدین نے بتایا،

‘Jinaah had asked Mirza Ahmed(Isphani)to help Jamal Mian. He said,according to Mirza  Ahmed: ‘The Maulwis and Ulemaof Jamiatul Ulama are accusing me a lot of problems…. But I have met one young Maulwi who is equalto all of them and he is great orator.I went to him to stand   on his feet so he does not have any financial problems.’

Jamal Mian,P126,Oxford Press Pakistan

جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار اسلام جن کو کانگریس پورے ہندوستان کے مسلمانوں کا ترجمان بناکر پیش کرتی تھی اور آل انڈیا مسلم لیگ کو وہ ایک فرقہ پرست جماعت بناکر دکھاتی اور اس نے اپنے حامی کانگریسی ملّاؤں کی صوفی سنّی ، شیعہ اور احمدیوں کے خلاف سرگرمیوں سے آنکھیں بند کررکھی تھیں،جیسے اس نے ہندؤ مہا سبھائیوں کی سرگرمیوں پہ آنکھیں بند کی ہوئی تھیں۔حقیقت میں کانگریس مسلمانوں کے درمیان بدترین فرقہ پرستی کا کارڈ دیوبندی انتہا پسند مولویوں کے سہارے کھیل رہی تھی۔اور اس کھیل کی یوپی کے اندر سب سے بڑی مزاحمت دارالعلوم فرنگی محل کے فرزند ارجمند مولانا جمال میاں اور راجا آف محمود آباد کی طرف سے کی جارہی تھی۔یہ حقیقت ہے کہ صوفی سنّی اور شیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت کانگریسی ملّاؤں کی سازش کا ادراک کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی۔اور تو اور خود دیوبندی علماء میں مولوی اشرف علی تھانوی کی قیادت میں بھی ایک گروپ دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء ہند کی سیاست کو پہچان گیا تھا اور ان سے الگ ہوگیا تھا۔راجا آف محمود آباد کا مولانا جمال الدین فرنگی محلی سے کیا تعلق تھا،اس سے پہلے آپ راجا آف محمود آباد کے بارے میں تھوڑا سا جان لیں۔

The Raja Mahummad Amir Ahmad Khan of Mahmudabad was arguably an even closer friend of Jamal Mian Than Dr Faridi.The two were distantly related. But the Raja,as the largest Musim landholder in the UP,lived a different life with differen responsibilities. Neverthless, they shared a love of Urdu and Persian poetry(the Raja’s Takhullus was ‘Mahboob’..) They were both particularly devout. This said,that Raja was a Shia, indeed a prominent supporter of a Shia missionary college, the Madrasat-ul-Waizeen and Jamal Mian was a devout Sunni seemed to make no difference to their personal coloseness.

Jamal Mian..P140-41 Oxford Press Pakistan

ایک خط میں راجا آف محمود آباد جمال میاں کو لکھتے ہیں

Maulvi Hazrat Hujjatul Islam,Faqih ul Mominin, Moin ul Millet, Qari o Hafiz ul Quran, Maulvi, Allama Jamaluddin Abdul Wahab Saheb, Sullamahu, I give my respect to your letter,affection,truthfulness and wisdom…the eye of effection which you have bestowed on this poor,wretch faqir,Amir.

We got the lawyer,sought an omen(Istakhara)and turned this lawyer into Quaid-i-Azam.”

انیس سو چالیس کے ایک خط میں انہوں نے لکھا

“Sarkar Maulana I wish you Slaams. The Mullah runs to Masjid and I run to you.”

تو ہندوستان کے سب سے اہم اور بڑے صوبے کے دو بڑے مسالک سنّی اور شیعہ کے دو انتہائی اہم اور بڑے اثر کے حامل سیاست دانوں کے درمیان اس ہم آہنگی نے واقعی آل انڈیا کانگریس اور اس کے اتحادی مولویوں کو گڑبڑا دیا تھا۔کانگریسی دیوبندی مولویوں نے اس کا توڑ اینٹی شیعہ اور اینٹی صوفی سنّی پروپیگنڈے سے کیا اور شیعہ اور صوفی سنّی اسلام دونوں کے خلاف کفر،شرک اور بدعت کا ہتھیار استعمال  کرنا شروع کردیا۔

پاکستان کی تشکیل ان مولویوں کے لیے بہت بڑی ہزیمت اور شکست کا باعث تھی اور انھوں نے اس کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان کے اندر اپنے فرقہ پرستانہ ڈسکورس کو پھیلانا بند نہ کیا۔اور یہ قائد اعظم محمد علی جناح، خان لیاقت علی خان،جمال میاں،راجا آف محمود آباد سمیت کئ صف اول کے سیاست دانوں کی شیعہ اور صوفی سنّی شناخت کو کبھی فراموش نہیں کرسکے۔اور دارالعلوم دیوبند کے اندر سے اٹھنے والے تکفیری فتنے نے اپنے آپ کو منظم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

اسّی کی دہائی میں دارالعلوم دیوبند کے تکفیری فاشسٹ منظم نیٹ ورک کو آل سعود کی ایرانیوں سے لڑائی،سی آئی فنڈڈ افغان جہاد اور جنرل ضیاء الحق کی آمریت نے مزید پھیلنے اور اپنی عسکریت پسند مشین کو اور ہلاکت انگیز بنانے کا موقعہ فراہم کردیا۔انجمن سپاہ صحابہ پاکستان کی شکل میں اس تحریک کو پھر سے زندہ کیا گیا جو مجلس احرار اور جمعیت علماء ہند کے مولویوں نے یوپی اور پنجاب میں شیعہ اور صوفی سنيوں کے خلاف شروع کی تھی۔

اس تکفیری مہم کا سب سے بڑا ہدف محرم اور میلاد،عرس و میلوں کی ثقافت تھی۔اور اس ثقافت کے جتنے بھی پروان چڑھانے والے تھے وہ اس تکفیری فسطائی تحریک کے دشمن ٹھہرگئے۔اور ان کے خلاف بدترین پروپیگنڈا مشین متحرک ہوئی اور ساتھ ساتھ پاکستان میں صلح کلیت اور سب کے ساتھ امن کا پرچار کرنے اور آل بیت اطہار سے محبت اور وابستگی کا اظہار کرنے والے شاعر،دانشور،ادیب ان کے پروپیگنڈے،سعودی فنڈنگ،ضیاء الحقی اسٹبلشمنٹ کی مدد سے تیار ہونے والے عسکریتی دہشت گرد نیٹ ورک کا سب سے بڑا ہدف قرار پائے۔

سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت دیوبند کے اندر سب سے بڑا منظم تکفیری فاشسٹ تنظیمی نیٹ ورک ہے جس کی سرپرستی میں تکفیری عسکریت پسند ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔اس کا سب سے بڑا مقصد شیعہ اور سنّی مسالک کے درمیان نفرت،دشمنی اور لڑائی کو پروان چڑھانا ہے اور یہ صوفی اسلام سے بھی اسی لیے نفرت کرتے ہیں کہ وہ ان کی منافرت پہ مبنی تحریک کو مدد فراہم نہیں کرتے اور پاکستان میں شیعہ سنّی جنگ کا میدان سجانا نہیں چاہتے۔

استاد سبط جعفر اپنی شاعری اور تعلیمی میدان میں خدمات کے زریعے سے شیعہ اور سنّی مسلمانوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے میں لگے ہوئے تھے۔وہ محرم کی ثقافت کے مشترکہ ہونے پہ اصرار کرتے اور میلاد و عرس و میلوں کو بھی اپنی ثقافت قرار دیتے تھے۔سپاہ صحابہ کی تکفیریت کا مشن اس سے متاثر ہورہا تھا۔انہوں نے ایک دن استاد سبط جعفر کے فن کے سبب ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے معروف صوفی سنّی قوال امجد صابری کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔امجد صابری کے قاتلوں نے خود اعتراف کیا کہ ان کو امجد صابری کے شیعہ اور سنّی مخلوط اجتماعات میں آنے جانے پہ سخت تکلیف تھی۔

تکفیری فاشزم کا نصب العین یہ ہے کہ جو آدمی بھی شیعہ-سنّی مشترکات پہ زور دے اور ان کے درمیان ہم آہنگی اور میل جول پہ اصرار کرے اس کو کافر،مرتد، گستاخ اور بے دین کہہ کر قتل کردو۔

استاد سبط جعفر، امجد علی صابری، پروفیسر ڈاکٹر حیدر علی سمیت سینکڑوں نامور لوگ صلح کلیت اور شیعہ-سنّی ہم آہنگی کے پرچارک ہونے کی وجہ سے قتل ہوگئے۔اور قاتل ایک ہی ذہنیت تھی جسے ہم تکفیری دیوبندی ذہنیت کہتے ہیں۔اور اس بات پہ تکفیریوں کو تو مرچیں لگتی ہی ہیں ساتھ ساتھ نام نہاد لبرل،ترقی پسند اور کئی ایک لیفٹ کا ماسک چڑھائے لوگوں کے منہ بھی بگڑ جاتے ہیں۔لیکن سچ بات کہنے سے ہمیں کون روک سکتا ہے۔

استاد سبط جعفر کے قتل سے شیعہ-سنّی يکانگت میں اور اضافہ ہوا ہے۔اور تکفیری فاشزم اور بے نقاب ہوا ہے۔جس طرح پوری دنیا میں تکفیری فاشزم کی علمبردار جماعتوں اور دہشت گردوں کو منہ کی کھانی پڑ رہی ہے پاکستان میں بھی ان کی شکست نوشتہ دیوار ہے۔استاد سبط جعفر اور امجد علی صابری جیسوں کا خون ناحق رائیگاں نہیں جائے گا۔

 

Advertisements

پشتون تحفظ تحریک اور بہار پشتون

 

 

پشتون تحفظ موومنٹ-پی ٹی ایم کے نام سے اس وقت خیبرپختون خوا اور فاٹا کے پشتون بولنے والی نوجوانوں کی ایک سماجی تحریک سامنے آئی ہے۔پی ٹی ایم کا چہرہ اس وقت منظور پشتین نام کا ایک نوجوان ہے،جس کے خیالات کو کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے انگریزی پریس اور غیر ملکی نشریاتی اداروں خاص طور پہ یورپ اور امریکی زرایع ابلاغ میں کافی کوریج مل رہی ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے تین مطالبات بہت ہی برمحل ہیں۔ ماورائے عدالت قتل پہ جوڈیشل کمیشن کا قیام، راؤ انوار کی برآمدگی،اور لاپتا افراد کو برآمدگی  ہونی چاہئیے ۔

لیکن پی ٹی ایم کو سوشل میڈیا پہ کچھ قوتیں ایک اور رنگ سے پیش کررہی ہیں۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پہ لبرل پرتیں خاص طور پہ وہ جن کے خیال میں مذہبی دہشت گردی کا جہادی و تکفیری نیٹ ورک پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیز کی پراکسیز کے سوا کچھ بھی نہیں ہے،ان کی جانب سے بھی پشتون تحفظ موومنٹ کو بہت زیادہ سپورٹ مل رہی ہے۔

ان کی جانب سے بھی پاکستان میں جہاد ازم، عسکریت پسندی اور اس کے ساتھ جڑی بڑے پیمانے پہ دہشت گردی کا سب سے بڑا اور واحد ذمہ دار پاکستان کی فوج بلکہ وردی کو ٹھہرایا جارہا ہے۔

پاکستان میں لبرل لیفٹ کی ترجمان پاکستان عوامی پارٹی جس کا آج کل واضح جھکاؤ پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب ہے،وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے بیانیہ کو پوری طاقت سے سپورٹ کررہی ہے۔

بی بی سی،وائس آف امریکہ، ریڈیو ڈویچے، وآئس آف جرمنی،نیویارک ٹائمز،واشنگٹن پوسٹ جیسے بڑے غیر ملکی انٹرنیشنل لبرل پریس اسٹبلشمنٹ اور ‘دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ’ کے حامی صحافی اور این جی او تھنکرز بھی پی ٹی ایم کی جانب بہت بڑا جھکاؤ رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستانی لبرل،لبرل لیفٹ اور انٹرنیشنل لبرل پریس و سول سوسائٹی کا ایک بڑا حصّہ پی ٹی ایم اور منظور پشتین میں اسقدر دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ اور ان کو اپنے بڑے پیمانے پہ کوریج کیوں مل رہی ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ پہ بڑے اہمیت کے حامل ہیں۔

یہ لبرل و لبرل لیفٹ لابیاں اکثر وہ ہیں جنھوں نے امریکہ کے افغانستان اور عراق پہ حملوں کی یا تو حمایت کی تھی یا اس کی مخالفت کرنے سے سرے سے انکار کردیا تھا۔پاکستان میں لبرل نے دہشت گردی کے خلاف امریکی سامراجی اور اس کی اتحادی ممالک کی جنگی اور فوجی مداخلت کی پالیسیوں کو سپورٹ کیا۔اور ان میں سے اکثر امریکی جنگ کے حامی بنکر سامنے آئے۔افغانستان پہ عوامی نیشنل پارٹی-اے این پی ، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی، پشتون سول سوسائٹی کے بڑے بڑے نام افغانستان پہ امریکی جنگ کے حامی بنے اور انھوں نے امریکی جنگ کی مخالفت میں کچھ بھی نہیں کہا۔بلکہ جب آمریت کا دور ختم ہوا تو انھوں نے سوات طرز کے فوجی آپریشن کی حمایت کی۔اس لبرل لابی کی جانب سے بار بار یہ مطالبہ سامنے آتا رہا کہ وزیرستان سمیت پورے فاٹا اور خیبرپختون خوا میں پھیلتی طالبانائزیشن،جہاد ازم اور عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔شمالی وزیرستان،جنوبی وزیرستان، خیبر ایجنسی، اورکزئی ایجنسی،مالاکنڈ سوات،کوہستان سب جگہ ہونے والے فوج آپریشنوں کو پاکستانی لبرل نے کھلی سپورٹ فراہم کی۔

پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں بشمول مذہبی پارلیمانی جماعتوں ، پاکستان کا جملہ لبرل و قدامت پرست پریس چند ایک کو چھوڑ کر آپریشن ضرب عضب،آپریشن ردالفساد، نیشنل ایکشن پلان،پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس، فوجی عدالتوں کے قیام،رینجرز کی پنجاب سمیت سب صوبوں میں دائرہ کار بڑھانے کی سپورٹ کرتا رہا۔

پاکستان میں اکثر وبیشتر وہ لبرل جو پشتون تحفظ موومنٹ کو ‘بہار پشتون’ قرار دے رہے ہیں،پشتون تحفظ موومنٹ کے پشتون علاقوں میں حقوق  فراہم  کرنے کے مطالبات کی سپورٹ کررہے ہیں وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے  چہرے پہ  اپنے سب سے بڑے بیانیہ ‘یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی’ اور ‘دہشت گردی کے پیچھے پاکستانی فوج ہے’   چسپاں کررہے ہیں یا پشتون تحفظ موومنٹ کے بہت سارے مطالبات کو اس ایک مطالبے کے پردے میں لپیٹ رہے ہیں۔

منظور پشتین سے بی بی سی اردو کے خدائے نور نے انٹرویو کیا۔اس انٹرویو کو پاکستانی سوشل میڈیا پہ بھی بہت پروموٹ کیا جارہا ہے۔اس انٹرویو میں بی بی سی کا نمائندہ منظور پشتین سے پوچھتا ہے کہ وزیرستان میں نیک محمد سے لیکر بیت اللہ محسود تک جو نوجوان شدت پسندی (حالانکہ تحریک طالبان پاکستان کی گوریلا، خودکش، ڈیوائس کنٹرول بم دھماکہ اور بارودی سرنگیں بچھائے جانے  اور لوگوں کے سروں سے فٹبال کھیلنے اور 80 ہزار پاکستانیوں کی جانیں لینے کے مجموعی پروس اور اس میں شامل شیعہ نسل کشی، صوفی سنّی مسلمانوں کی ہلاکتیں ،کلیساؤں پہ حملے یہ سب کے سب محض شدت پسندی نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی تھی جو ابتک جاری و ساری ہے۔)اس کی وجہ کیا ہے؟تو منظور پشتین اس کے جواب میں بالکل وہی یک رخی جواب کے ساتھ سامنے آتا ہے جو اس ملک میں لبرل لابی کا ہمیشہ سے رہا ہے۔اس کے خیال میں پورے خیبرپختون خوا اور فاٹا کے اندر جہاد ازم،عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی پرداخت کی ذمہ دار پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں۔وہ 80ء دہائی میں پاکستان-امریکہ-سعودی عرب اور دیگر مغربی سرمایہ دار بلاک کے رکن ممالک کے باہمی گٹھ جوڑ،پاکستان کی سلفی،دیوبندی وہابی مذہبی قیادت کی موقعہ پرستی سے ملکر کھڑی ہونے والی جہادی سلطنت اور نیٹ ورک کا سارا الزام صرف اور صرف جرنیلوں اور انٹیلی جنس افسران پہ دھرتے آئے۔امریکی حکومتوں، سی آئی اے، سعودی عرب سمیت مڈل ایسٹ کی فنڈنگ کے عوامل کو وہ بالکل نظر انداز کرتے ہیں۔وہ مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی دہشت گردی اور اس کے دیوبندی عسکریت پسندی اور اس کے پیچھے کارفرما عالمی جہادی نیٹ ورک اور اس کی مقامی سرپرست لابیوں میں صرف اور صرف فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو (ان میں بھی ان کے اندر موجود ضیاء الحقی باقیات کو نہیں بلکہ ساری فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ) سنگل آؤٹ کرکے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

   اے این پی ،پشتون خوا ملی عوامی پارٹی سمیت پشتون قوم پرستوں کی اکثریت جن کا تعلق پشتونوں کی ابھرتی ہوئی مڈل کلاس سے ہے  پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ساری خرابی کا ذمہ ٹھہرانا چاہتے ہیں اور اس سارے عمل میں ان سے یہ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ نائن الیون کے بعد تو پاکستان کی کیا پنجابی،کیا سندھی، کیا بلوچ،کیا پشتون لبرل مڈل کلاس چاہے اس کا تعلق قوم پرست سیکولر جماعتوں سے تھا یا وہ صحافت یا این جی اوز میں لبرل سیکولر سوچ کے علمبردار کہلاتے ہوں امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حامی تھی۔یہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ اتحاد کی بھی بالکل مخالف نہیں تھی۔بلکہ یہ سول سوسائٹی اور لبرل دماغ ہمیں اب سرد جنگ کے زمانے سے شروع ہونے والے جہاد ازم،مذہبی دہشت گردی کے خاتمے کی نوید سنارہے تھے۔پاکستان کے لبرل کے درمیان اگر کسی معاملے میں اختلاف اگر تھا تو وہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ سے نہیں بلکہ اسے لیڈ کون کرے گا؟ پہ تھا۔پاکستان کی لبرل پرتوں کا ایک حصّہ چاہتا تھا یہ جنگ امریکی پرچم  تلے پاکستانی جمہوری چہرے لڑیں۔

اب بھی اس لبرل کیمپ کا خیال یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ افغانستان کے اندر مطلوبہ نتائج نہ پاسکا اور وہ افغانستان کو جاپان یا مغربی جرمنی نہیں بناسکا تو اس کی ذمہ داری پاکستانی ریاست کے جرنیل اور انٹیلی جنس افسران ہی ہیں۔جبکہ اس معاملے میں علاقائی طاقتوں اور سب سے بڑھ کر امریکہ بہادر اور سعودی عرب کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور اس ناکامی میں کروڑوں ڈالر بٹورنے والی مغربی سرمایہ دار نواز این جی اوز کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ نے پشتون سماج کے اندر بڑے پیمانے پہ جہادی اور انتہا پسند مدرسوں اور تنظیمی نیٹ ورک پہ مشتمل ریڈیکل تکفیری یا جہادی آئیڈیالوجی کے حامل مراکز اور ان کے بڑے بڑے ناموں بارے پراسرار سی خاموشی اختیار کرلی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اتنے بڑے تکفیری جہادی سعودی فنڈڈ نیٹ ورک کو محض کسی ادارے کی پراکسی خیال کرتے ہیں۔جیسے امریکہ سمیت مغرب نواز سامراجی لبرل کے خیال میں پاکستان سمیت پورے جنوبی ایشیاء میں پھیلے دہشت گرد نیٹ ورک کے پیچھے پاکستانی فوج یا انٹیلی جنس ایجنسیاں ہی ہیں۔اور وہ جہاد ازم کو پراکسی سے ہٹ کر دیکھنے کو تیار نہیں ہیں اور پراکسی بھی بس پاکستانی ملٹری اور انٹیلی جنس اداروں کی۔

اتنے خام خیال کے ساتھ کیا پاکستان کے پشتون علاقوں میں بالخصوص جہاد ازم، تکفیر ازم، جہادی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان،داعش، جماعت الاحرار، لشکر جھنگوی، القاعدہ اور سب سے بڑھ کر ان کا نظریاتی شراکت دار اور سہولت کار جیسے سپاہ صحابہ پاکستان وغیرہ ہیں کی جانب بالکل آنکھیں بند کرکے کیا پشتونوں کے حقوق کے تحفظ کی بات ٹھوس عملی نتائج دے پائے گی؟

پشتون تحفظ تحریک کا سب سے کمزور حصّہ اس تحریک سے غیر پشتون یعنی سرائیکی اور ہندکو بولنے والی آبادی کی بے گانگی ہے۔جبکہ اور پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے پاکستان کے حکمران طبقات کی طرف ‘نسلی شاؤنزم’ کے ساتھ دیکھنے کا رویہ انتہائی خطرناک ہے۔اس تحریک کی طرف شیعہ اور صوفی سنّی پشتونوں کا رجحان نہیں ہے اور اس کی ایک وجہ تو پی ٹی ایم کے جلسے جلوسوں،کارنر اجلاسوں اور کمپئن کے دوران تکفیری –جہادی ریڈیکل دیوبندی گروپوں کا نمایاں نظر آنا ہے۔

اس لیے دہشت گردی،جہاد ازم، تکفیر ازم اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پہ پی ٹی ایم کولبرل سامراجیوں کے یک رخی اور انتہائی خام نظریہ پہ نظر ثانی کرنے اور اپنی دوست و دشمن قوتوں کے انتخاب میں بھی مزید غور و خوض کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ بہار شام کی طرح جعلی بہار ثابت ہوگی اور امریکی سامراجی، جگہ تلاش کرنے والے طالبان اور اس تحریک کو پروجیکٹ میں بدل کر ڈالر لوٹنے والوں کو یہ سانس لینے کا موقعہ فراہم کرے گی۔

 

Death Anniversary of Shahbaz Bhutti: Tahir Ashrafi and a biased section of Liberal Press

 

Friday, March 2nd is the death anniversary of #ShahbazBhatti who was killed by the #takfiriDeobandi terrorists affiliated with the #Taliban.

 

Bhatti was a minister in the previous PPP government and Tahir Ashrafi, a Deobandi hate monger had incited for his murder shortly before the tragic event. Please see this video clip every time a commercial liberal tries to white wash the hate crimes of Tahir Ashrafi.

 

 

images

دو مارچ 2018ء بروز جمعہ سابق وزیر برائے انسانی حقوق شہباز بھٹی کی برسی ہے۔شہباز بھٹی کو تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کی تنظیم طالبان نے جان سے ماردیا تھا۔

شہباز بھٹی پی پی پی کے سابقہ دور میں وفاقی وزیر تھے اور طاہر اشرفی، ایک نفرت پھیلانے والا دیوبندی ملّا نے اس المناک واقعہ سے کچھ دن پہلے ان کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی تھی۔

It is time to engage with clerics like Ashrafi and get them to join the struggle for a moderate and progressive Pakistan

یہ تقریر طاہر اشرفی نے اس زمانے میں کی تھی جب پاکستان کا ایک معروف لبرل ہفت روزہ اخبار ‘فرائیڈے ٹائمز’ اس کو اعتدال پسند،لبرل  اور بین المذاہب ہم آہنگی کا علمبردار بناکر پیش کررہا تھا۔اس کے کچھ عرصے بعد طاہر اشرفی کو ایکپریس نیوز ٹی وی چینل پہ ایک تجزیاتی پروگرام میں فرائیڈے ثائمز کے سابق ایڈیٹر اور معروف لبرل صحافی و مصنف ‘رضا رومی’ کے ساتھ دیکھا جانے لگا۔پروگرام کا نام تھا ‘میں اور مولانا’۔اسی زمانے میں طاہر اشرفی کو جنگ-نیوز گروپ سمیت پاکستان کے مین سٹریم ٹی وی چینلز پہ ایک اعتدال پسند اسلامی اسکالر کے طور پہ خوب کوریج دی جانے لگی۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب رضا رومی پہ قاتلانہ حملہ ہوا اور ایکسپریس نیوز ٹی وی چینل کے علاوہ دیگر ٹی وی چینلز نے اس حملے کے خلاف رضا رومی کے ساتھ وہ اظہار یک جہتی نہ کیا جس کی فرائیڈے ٹائمز کو توقع تھی تو اس وقت ارشد شریف صحافی اینکر اے آر وائی نیوز پہ تنقید کرتے ہوئے فرائیڈے ٹآئمز نے طاہر اشرفی اور مولوی عبدالعزیز کو اپنے شو میں وقت دینے کا طعنہ ارشد شریف کو دے ڈالا۔

 

Also there is a certain Arshad Sharif who gives the likes of Tahir Ashrafi and Maulana Abdul Aziz ample air time and then virtually shushes up a liberal voice in Marvi Sirmed on the show when she “dares” to call a terrorist a terrorist.

 

 

شہباز بھٹی کے خلاف منافرت انگیز مہم چلانے والا دیوبندی ملّا طاہر اشرفی اسلام آباد میں رمشاء مسیح کیس میں نقاب اوڑھ کر خود کو ماڈریٹ روپ میں ظاہر کرتا ہے اور اپنی تنظیم پاکستان علماء کونسل اور ختم نبوت موومنٹ انٹرنیشنل دیوبندی تنظیموں کے ساتھ اسلام آباد میں ایک جلوس نکالتا ہے۔فرائیڈے ٹائمز میں رضا رومی کا ایک فیچر لگتا ہے اور ایک رپورٹ شایع کی جاتی ہے۔اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نیوز رپورٹ میں ختم نبوت انٹرنیشنل بارے دھمیے سے انداز میں یہ لکھا جاتا ہے کہ یہ تنظیم احمدی کمونٹی کے بارے میں تشدد پھیلانے میں ملوث بتائی جاتی ہے جبکہ طاہر اشرفی جو کہ پاکستان کے اندر شیعہ کے خلاف منافرت آمیز پروپیگنڈے میں ملوث ہے کو شیعہ نسل کشی کے خلاف ایک موثر مذہبی آواز قرار دے دیا جاتا ہے۔

 

Within days of Tahir Ashrafi’s emergence as a perceived rational voice in Rimsha Masih’s case, he came under fire from several quarters, including the liberal left

 

پاکستان میں لبرل پریس اور سول سوسائٹی کا ایک سیکشن جس میں نواز شریف کو ‘عظیم جمہوریت پسند بناکر پیش کرنے والے لبرل پیش پیش ہیں،حیرت انگیز طور پہ شہباز بھٹی  کے قتل میں اشتعال انگیز تقریریں کرنے والے اس دیوبندی ملّا کے بارے میں خاموش رہے۔بالکل ویسے جیسے یہ سلمان تاثیر کے قتل پہ اکسانے والے دیوبندی کرداروں کے بارے میں خاموش رہے اور انھوں نے بریلوی مکتبہ فکر کے اندر موجود انتہا پسندوں پہ اپنا فوکس رکھا۔

پاکستان کے لبرل پریس میں متعصب اور کمرشل ازم کا داعی سیکشن اسقدر متعصب ہے کہ اس نے خادم رضوی جیسے کٹھ پتلی کرداروں کو لیکر اہلسنت بریلوی مسلمانوں کے خلاف جس قدر منافرت بھرے القاب استعمال کئے اور خادم رضوی کی مسلکی اور فرقہ شںاخت بار بار ظاہر کی،ویسے یہ بھولے سے بھی سپاہ صجابہ ، لشکر جھنگوی اور طالبان کی مسلکی شناخت ظاہر نہیں کرتے۔

شہباز بھٹی نے اپنے قتل سے پہلے جاوید چودھری کے ایکسپریس نیوز کے ٹاک شو میں جو گفتگو کی تھی،جو ان کی آخری میڈیا ٹاک ثابت ہوئی کو سن لیں۔شہباز بھی بلاسفیمی ایکٹ کو ختم کرنے کی بات نہیں کررہے تھے۔نہ ہی وہ توہین رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ٹھیک خیال کرتے تھے۔ان کا کہنا یہ تھا کہ بلاسفیمی ایکٹ میں پرچے کے اندراج اور تفتیش کے طریقہ کار میں بدلاؤ کی ضرورت ہے۔پھر سب سے بڑی بات یہ کہ وہ چاہتے تھے کہ بلاسفیمی ایکٹ کی شق 295 اے اور 295سی میں بالترتیب قرآن پاک کے علاوہ دیگر مذاہب کی مقدس کتابوں اور دیگر انبیاء کی توہین کو بھی جرم قرار دینے کے الفاظ شامل ہوں۔شہباز بھٹی پاکستان میں بلاسفیمی لاءز کے غلط استعمال کو روکنے کی بات کررہے تھے۔لیکن شہباز بھٹی کے خلاف جھوٹا اور غلط پروپیگنڈا کیا گیا۔اور وہ اس جھوٹے پروپیگنڈے کا نشانہ بن گئے۔

 

 

 

a1

شہباز بھٹی دو مارچ،2011ء میں تکفیری دیوبندی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ہاتھوں جان گنوابیٹھے۔ ان کا ناحق قتل بلاسفیمی ایکٹ کے بارے میں ان سے جھوٹ منسوب کرنے اور ان کے خلاف نفرت بھری مہم چلانے پہ ہوا۔مسلم لیگ نواز نے پی پی پی کی حکومت کے خلاف ایک مذہبی ملاؤں کے زریعے سے جھوٹی کمپئن چلائی۔اور جھوٹا پروپیگنڈا یہ تھا کہ پی پی پی کی حکومت امریکہ اور مغربی طاقتوں اور اسلام دشمن عناصر کے اشارے پہ بلاسفیمی ایکٹ ختم کرنا چاہتی ہے یا اسے غیر موثر بنانا چاہتی ہے۔ اس مہم میں سب سے آگے مولوی طاہر اشرفی اور پنجاب میں نواز لیگ کے دیگر اتحادی تکفیری ملاّ تھے۔اس مہم کا پہلا نشانہ گورنر سلمان تاثیر بنے اور دوسرا نشانہ وفاقی وزیر شہباز بھٹی بنے۔
پاکستان میں آج جو جمہوریت کے جعلی مجاہد بنے ہوئے ہیں، اسی لبرل پریس کے اندر بیٹھے سیکشن نے مسلم لیگ نواز کی جانب سے مذہبی انتہا پسندوں اور فرقہ پرست جنونی ملاؤں کے زریعے پی پی پی کی حکومت کے خلاف سازش کو چھپایا اور طاہر اشرفی اس لبرل کمرشل مافیا کا اعتدال پسند،ماڈریٹ ، ترقی پسند چہرہ کہلوایا،جیسے احمد لدھیانوی ‘سفیر امن’ کہلوائے گئے۔
مسلم لیگ نواز کا حامی لبرل پریس میں بیٹھا سیکشن اس زمانے میں نواز شریف کے حامی تکفیری ملّاؤں پہ ‘لبرل و ماڈریٹ’ نقاب ڈال رہا تھا، جیسے آج وہ فضل الرحمان و لدھیانوی پہ ڈال رہا ہے اور اکوڑہ خٹک میں جامعہ حقانیہ اور سمیع الحق پہ جو نقاب اعتدال و مین سٹریم عمران خان اور پی ٹی آئی ڈالتی ہے،اسے نوچنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہاں تک کہ ڈان میڈیا گروپ بھی طاہر اشرفی کو ایک ماڈریٹ لبرل مولوی بناکر پیش کرنے سے باز نہیں آیا۔چھے مارچ،2017ء کو ڈان کے سٹاف رپورٹر ناصر جمال نے اسلامی نظریاتی کونسل میں طاہر اشرفی اور مولانا شیرانی کے درمیان ہوئے جھگڑے کی رپورٹ فائل کی،اس رپورٹ کے انٹرو میں ہی رپورٹر طاہر اشرفی کو لبرل ماڈریٹ مولوی کے طور پہ پیش کرتا ہے
میں جب یہ حقائق سامنے لاتا ہوں تو پاکستان میں اس منافق ٹولے کے لبرل ماسک سے متاثرہ کچھ لوگ تکلیف میں آتے ہیں۔ان کو ان لبرل بتوں کے ٹوٹنے پہ غصّہ آتا ہے۔ان کو چاہئیے کہ ان گروہ کے کمرشل ازم کو سمجھیں اور دھوکہ مت کھائیں۔
شہباز بھٹی جیسے لوگ صرف تکفیری فاشزم کے ہاتھوں ہی نہیں مرتے بلکہ ان کو بار بار مرنا نام نہاد لبرل مگر حقیقت میں منافق ٹولے کی وجہ سے پڑتا ہے۔
شہباز بھٹی ایک سچا جیالا، سیاسی کارکن، انسانی حقوق اور مظلوموں،محکوموں کی آواز تھا اور یہ آواز اسے پی پی پی کی ترقی پسند ، روشن خیال آئیڈیالوجی سے ملی تھی۔وہ مسیحی بنیاد پرست نہیں تھا نہ ہی اسلامو فوبیا کا شکار تھا۔میں اس کی جدوجہد پہ اسے سرخ سلام پیش کرتا ہوں۔

 

خادم رضوی کو سنی بریلوی مکتبہ فکر کا پوسٹر بوائے بنانے والوں کا اصل چہرہ

17861657_10212889012848460_5914205509738996442_n

58ea3e4f9e35b

NOWSHERA, PAKISTAN, APR 09: Jamiat Ulema-e-Islam (JUI-F) Chief, Maulana Fazal-ur- Rehman along with Imam-e-Kaaba Sheikh Saleh Bin Muhammad Ibrahim and others sit on stage during the centennial celebrations of the Jamiat Ulema-e-Islam Fazal held in Nowshera on Sunday, April 09, 2017. (Fahad Pervez/PPI Images).

 

پاکستانی کمرشل لبرل پریس سیکشن کا متعصب اور جانبدار رویہ

محمد عامر حسینی

نیوز ویک پاکستان میں تحریک لبیک یارسول اللہ ، پاکستان سنّ تحریک کے حالیہ دھرنے پہ پے در پے جو نیوز  سٹوریز سامنے آئیں ان کے عنوان کو زرا ملاحظہ کیجئے:

Barelvi Brawn

اس کے انگریزی میں معنی ‘ذہانت استعمال کرنے کی بجائے جسمانی طاقت استعمال کرنے والا ہوتا ہے، اور اس کا اگر ہم کوئی مناسب ترجمہ کریں تو ہوگا’ بریلوی سانڈ’

http://newsweekpakistan.com/barelvi-brawn/

اس کے بعد دوسرا عنوان ہے:

THE BARELVI BEAST

بریلوی درندہ

http://newsweekpakistan.com/the-barelvi-beast/

پھر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں :

DEMISE OF THE WARRIOR STATE

SLEEPWALKING TO ANOTHER SURRENDER

جیسے عنوانات کے تحت بھی سنّی بریلویوں کو  بہت بڑے دہشت گرد،جنونی، پاگل، درندے اور جو کچھ کہا جاسکتا تھا کہا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کا یہ کمرشل لبرل مافیا ماضی میں جب کبھی مجبوری کے تحت دیوبندی اور اہل حدیث کے اندر سے سامنے آنے والی دہشت گردی ، انتہا پسندی ، مذہبی جنونیت بارے بات کرنے پہ مجبور ہوتا تو یہ ہمیں ساتھ ساتھ یہ بھی بتانا نہ بھولتا کہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور بانی جمعیت علمائے ہند محمود حسن دیوبندی، حسین احمد مدنی دیوبندی کتنے بڑے نیشنلسٹ سیکولر تھے۔یہ عبید اللہ سندھی کی مثال بھی سامنے لیکر آتا۔اور یہ کہتا کیونکہ سب دیوبندی انتہا پسند نہ ہیں، دہشت گرد نہ ہیں، تکفیری نہیں ہیں تو ‘تکفیری دیوبندی’ ‘دیوبندی عسکریت پسندی’ اور ‘ دیوبندی جہادی’ جیسی اصطلاحیں فرقہ پرستی ہیں۔

لیکن جیسے ہی سنّی بریلوی /صوفی سنّی مکتبہ فکر/فرقہ کی بات آتی ہے تو ایک دم سے یہ لوگ اپنے ہی طے کردہ اصول سے منکر ہوجاتے ہیں۔جس کا ایک ثبوت تو میں نے اوپر نیوز ویک پاکستان کی ویب سائٹ پہ نمودار ہونے والے تجزیوں میں پیش کیا ہے۔

فرائیڈے ٹائمز، دی نیوز انٹرنیشنل اور پھر ڈیلی ٹائمز میں چھپنے والے کمرشل لبرل صحافی اعجاز حیدر نے 2016ء میں اسی نیوز ویک میں سلمان تاثیر کے ایک پولیس مین کے ہاتھوں مارے جانے پہ ایک آرٹیکل لکھا تھا:

 GAZING INTO THE VOID

http://newsweekpakistan.com/gazing-into-the-void/

اس پورے آرٹیکل میں انھوں نے ایک بھی جگہ سلمان تاثیر کے خلاف جو اشتعال انگیز مہم دیوبندی سپاہ صحابہ پاکستان کے رہنماؤں بشمول مولوی طاہر اشرفی نجم سیٹھی سمیت کمرشل لبرل مافیا کا بنایا ہوا جعلی ماڈریٹ مولوی کے کردار کا کوئی ذکر نہ کیا۔اور برصغیر کے اندر انہوں نے تاریخی بددیانتی کرتے ہوئے یہ کہا کہ احمد رضا خان بریلوی نے تکفیری مہم شروع کی تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے اندر مسلمانوں کی اکثریت کے خلاف کافر، مشرک ، بدعتی ہونے کے اعلانات سب سے پہلے شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل دہلوی اور شاہ عبدالعزیز کے داماد کے شاگرد سید احمد بریلوی نے کیا تھا اور باقاعدہ ایک مسلح تحریک بھی چلائی تھی۔جبکہ احمد رضا خان بریلوی کے فتوے تو ویسے ہی ہیں جیسے فتاوے، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ کی کتب میں صدیوں سے موجود ہیں۔اعجاز حیدر کا  جو متعصب اور بددیانتی پہ رویہ سنّی بریلوی فرقے کے باب میں نظر آتا ہے اور دیوبندیوں  کے لئے جانبداری ایک نمونہ اور ماڈل ہے جو ہر ایک کمرشل لبرل صحافی و سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے ہاں نظر آتی ہے۔

ان کے تجزیوں میں آپ کو کسی بھی جگہ مسلم لیگ نواز اور اس کے گاڈ فادر نواز شریف، شہباز شریف، رانا ثناء اللہ ، چوہدری نثار علی خاں وغیرہ کے مذہبی جنونی، دہشت گردوں جیسے سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت/لال مسجد/مولوی عبدالعزیز اینڈ کمپنی  سے تعلقات پہ زرا روشنی نہیں ڈالتا، بلکہ مسلم لیگ نواز کو ایک مجبور، محکوم ، سازشوں میں گھری ہوئی جماعت اور حکومت بتاتا ہے:

http://newsweekpakistan.com/wheels-of-change/

شہباز شریف کو ‘تبدیلی کے پہیوں’ سے تعبیر کیا گیا یہ مضمون ان کے کمرشل ازم پہ روشنی ڈالتا ہے۔

اور یہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے جہادیوں اور فرقہ پرستوں سے رشتے تو بہت کھل کر بیان کرتا ہے،لیکن جیسے ہی نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کی بات آئے تو ایک دم سے بریک لگ جاتی ہے۔ایسی بریک اسے پاکستان تحریک انصاف کے دیوبندی تکفیری سمیع الحق سے رشتوں اور تعلق کو بے نقاب کرتے ہوئے نہیں لگتی۔

اب تھوڑا نیوز ویک پاکستان کی اس وقت کام کرنے والی ٹیم بارے کچھ بات ہوجائے۔اس کی ٹیم بارے ساری تفصیل ذیل میں معلوم ہوجائے گی :

http://newsweekpakistan.com/about-us/

امریکی جریدہ نیوز ویک جو پاکستان کی نام نہاد سیکولر،لبرل اشرافیہ کا سرد جنگ کے زمانے سے پسندیدہ رسالہ رہا ہے،پاکستانی کمرشل لبرل مافیا کے سب سے بڑے سمبل نجم سیٹھی کے تربیت یافتہ پاکستانی کمرشل لبرل صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کے ساتھ پاکستانی ایڈیشن اور پاکستان بیسڈ ویب سائٹ کے طور پہ ایک نئے روپ میں جلوہ گر ہے۔

پاکستان نیوز ویک کی ساری ٹیم ان پاکستانی لبرل صحافیوں اور تجزیہ نگاروں پہ مشتمل ہے،جن کی فکر اور خیالات کو ہم نجم سیٹھی،حسین حقانی،عاصمہ جہانگیر، شیری رحمان، بینا سرور جیسے کمرشل لبرل سے مستعار لی ہوئی کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ایک بڑا حصّہ پاکستان نیوز ویک میں دی نیوز انٹرنیشنل، فرائیڈے ٹائمز ویکلی،ڈیلی ٹائمز سے آئی ہوئی ہے۔

یہ وہی کمرشل لبرل مافیا ہے جو پاکستان کے اندر تکفیری فاشزم کے بارے میں ان کی ‘دیوبندی شناخت’ بارے فوری طور پہ ‘ فرقہ پرستی’ کا فتوی ٹھونکتا رہا ہے۔اور جیسے ہی آپ ‘تکفیری دیوبندی دہشت گرد’ ‘دیوبندی انتہا پسند’ ‘دیوبندی جہادی’ جیسی اصطلاح استعمال کرتے تو یہ فوری آپ کو ان اصطلاحوں کے استعمال سے روکتا تھا۔اور آج بھی ان کی یہی روش موجود ہے۔

اس کمرشل لبرل مافیا نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی وائلنس اور دیوبندی عسکریت پسندی،انتہا پسندی، دہشت گردی بارے جس قدر ابہام اور الجھاؤ پیدا کیا شاید ہی کسی نے کیا ہو۔

پاکستان کے لبرل انگریزی پریس میں یہی کمرشل لبرل مافیا ہے جس نے انگریزی پریس میں تکفیری دیوبندی کی شناخت کے ساتھ شیعہ نسل کشی پہ پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور ایک لمبے عرصے تک تو مرنے والوں کی شیعہ شناخت تک کو رپورٹنگ میں زکر نہ کیا،جبکہ دیوبندی عسکریت پسندی ، دہشت گردانہ اقدام کو یہ ‘سنّی عسکریت پسندی’ اور ‘سنّی دہشت گرد گروپ’ کے الفاظ کے ساتھ بیان کرتا رہا جبکہ سنّی بریلوی مسلمانوں پہ ہونے والے حملوں میں بھی مارے جانے والوں کی ‘بریلوی سنّی شناخت’ کو بلیک آؤٹ کئے رکھا۔

False Binaries making

کا یہ کمرشل لبرل مافیا کاریگر ہے۔

 

ہم سب کمرشل لبرل

جارج آرویل نے اپنے ایک مضمون ” سیاست،انگریز اور زبان ” میں یہ مشاہدہ کیا تھا کہ “زبان کی بدعنوانی اور سیاست کی بدعنوانی ساتھ ساتھ چلتی ہیں اور ایک دوسرے کو مدد دیتی ہیں۔آرویل نے اس باہمی گٹھ جوڑ کو اپنے ناول ‘1984’ میں بہت زبردست طریقے سے دکھایا۔اس ناول میں صیم نامی ایک کردار جو کہ ٹرتھ ڈیپارٹمنٹ میں ایک نئی “لغت” کی تشکیل پہ کام کررہا ہوتا ہے اور وہ اس ناول کے مرکزی کردار ونسٹن سمتھ (حکمران پارٹی کا چھوٹا سا کارکن) کا دوست ہے،وہ کہتا ہے

“لفظوں کی تباہی بہت ہی پیاری چیز ہے۔۔۔۔۔۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ نیوز پیک کا حتمی مقصد خیال کی حد کو تنگ سے تنگ کرتے چلے جانا ہے۔آخر میں ہم ادبی اعتبار سے خطرناک سوچ کو ہی ناممکن بناڈالیں گے۔کوئی بھی تصور جس کی کبھی بھی ضرورت ہوسکتی ہے وہ ٹھیک ایک لفظ میں بیان کیا جاسکے گا اور اس کے سب دیگر ذیلی مطالب نابود کردئے جائیں گے اور پھر ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فراموش کردیا جائے گا۔ہر سال چند ہی الفاظ اور شعور کی حد کم سے کم ہوتی چلی جائے گی۔یہاں تک کہ اب بھی مجرمانہ سوچ کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔یہ محض ازخود ڈسپلن میں آنے اور ازخود حقیقت کو کنٹرول کرنے کا نام ہے۔لیکن مستقبل میں یہ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انقلاب اس وقت مکمل ہوجائے گا جب “زبان” کامل ہوجائے گی

اس ملک میں جہاد ازم،تکفیر ازم اور مذہبی بنیاد پرستی کے سعودی ماڈل کو گود لینے والے ریاستی ہرکارے جو لائن دیتے ہیں اسے پاکستانی کمرشل لبرل مافیا اور نواز حکومت کے چرن چھونے میں طاق لبرل نقاب چڑھائے صحافی اور سوشل میڈیا پہ ان کے لئے ہمہ وقت کوشاں چیلے فوری طور پہ میں سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ ایک غالب ڈسکورس بنانے کے لئے کوشاں ہوجاتے ہیں۔

مثال کے طور پہ مسلم ليگ نواز کی حکومت ،اس کے اسٹبلشمنٹ میں بیٹھے اتحادیوں نے یہ لائن دینا شروع کی کہ بدنام زمانہ تکفیری دیوبندی تنظیم اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان ایک بدلی ہوئی جماعت ہے۔اسے مرکزی سیاسی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے اور اس کے سرپرست محمد احمد لدھیانوی بہت ہی پرامن، مدبر،صاحب بصیرت عالم دین ہیں تو لبرل کمرشل مافیا نے اس ڈسکورس کو مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ آگے بڑھانا شروع کردیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ اس بدنام زمانہ تکفیری و جہادی ٹولے کو دہشت گرد ماننے سے انکاری ہوتا ہے اور ان سے اپنی ملاقاتوں کا دفاع کرتا ہے تو اس کے فوری بعد کمرشل لبرل مافیا اس کی لائن کو آگے بڑھاتا ہے۔کمرشل لبرل مافیا کی ایک اسلام آباد کی این جی او پاکستان میں تزویراتی گہرائی کی پالیسی کے خالقوں اور ہدائیت کاروں پہ مشتمل سابق جرنیل ، بیوروکریٹس اور تکفیری و جہادی لیڈروں کو ایک میز پہ بٹھاتی ہے اور پھر تکفیری و جہادیوں کو مین سٹریم کرنے پہ سوچ و بچار شروع ہوتی ہے اور نواز حکومت کا پرچارک جنگ-جیو میڈیا گروپ اپنے ٹی وی کے پروگرام ” شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” میں اس کی خصوصی تشہیر کرتا ہے۔اور ایسے ہی سابق آئی جی پنجاب جیو چینل پہ ایک اور جہادی ہرکارے سیلم صافی کے پروگرام”جرگہ” میں تکفیری دہشت گرد تنظیم ‘اہلسنت والجماعت’ کے وکیل صفائی بنتے اور پنجاب میں لشکر جھنگوی کے خاتمے کا دعوی کرتے ہیں یہ اور بات کے اگلے ہی روز لاہور میں مردم شماری کے لئے جانے والے فوجیوں پہ حملہ ہوتا ہے اور اس کے کچھ روز بعد فوج کے کومبنگ آپریشن میں لاہور میں داعش کا ایک بڑا سرغنہ مارا جاتا ہے۔

مسلم لیگ نواز کی حکومت تکفیری تنظیم اہلسنت والجماعت کو مین سٹریم کرنے اور اس کے سرپرست محمد احمد لدھیانوی کو عظیم مدبر ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس کے لئے اس نے اپنے زرخرید صحافی، تجزیہ نگاروں،کالم نگاروں،دفاعی تجزیہ نگاروں اور اس کے ساتھ سوشل میڈیا پہ بلاگرز کی ایک فوج ظفر موج کو ٹاسک سونپ دیا ہے۔

ویب بلاگ ” ہم سب ” جس کے مالک جنگ میں کالم لکھنے والے اور نواز حکومت سے انعام و اعزاز پانے والے وجاہت مسعود ہیں۔جنھوں نے بڑھاپے میں صحن میں نلکا لگوایا ہے اور اسے چلانے کا کام ان سے تو ہوتا نہیں ہے اس لئے یہ کام ان کی بغل میں تکفیریت کی گٹھی لیکر پیدا ہونے والے بچے سرانجام دے رہے ہیں اور وجاہت مسعود ان درجنوں  صیم کی طرح ہیںجو “لغت” تیار کرنے میں لگے ہیں جس کا مقصد خیالات کی حد مقرر کرنا اور ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہے جس میں فسادیوں کو “صلح کار ” اور تخریب کاروں کو “سفیر امن” کہا جائے اور سب یہی بولی بولنے لگ جائیں۔اور یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ ان انتہا پسندوں، رجعت پرستوں، تکفیری فاشسٹوں اور ان کی تنگ نظری پہ مبنی سوچ کی عکاسی کرنے والی تقریروں، بیانات اور ان کے کردار کی طرف توجہ دلائیں تو یہ کوئی جواب دے سکیں۔ان کی رٹ بس یہی ہے کہ یہ امن پسند ہیں،سفیر ہیں امن کے، ماڈریٹ ہیں اور پاکستان کے اندر پھیلی تکفیری دہشت گردی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

ویسے کیا یہ محض اتفاق ہے کہ صرف پاکستانی کمرشل لبرل مافیا ہی نہیں ہے جو تخریب کار، تنگ نظر، رجعت پرست تکفیری وجہادی مافیا کو امن کے سفیر اور آزادی پسند بناکر پیش کررہا ہے بلکہ ہم عالمی سطح پہ امریکی و برطانوی مین سٹریم میڈیا اور لبرل ڈیموکریسی کے بڑے بڑے علمبرداروں کو شام کے دہشت گردوں، القاعدہ کے اتحادیوں اور سعودی وہابیت کے پالنہاروں کو آزادی پسند، ماڈریٹ کہتے دیکھ رہے ہیں بلکہ کل تک ٹرمپ جو مغربی لبرلز کا سب سے ناپسندیدہ صدر تھا آج وہ ان کی ڈارلنگ بن گیا ہے صرف اس لئے کہ اس نے شام پہ مزائیل حملے کئے،وہ کہتا ہے کہ بشارالاسد نے کیمیائی ہتھیار معصوموں پہ استعمال کئے ہیں۔اور بس یہی ایک زبان بولی جارہی ہے۔بی بی سی فرانسیسی اسلامو فوبک ، شاؤنسٹ ، نسل پرست لی پین کو بھرپور کوریج دے رہا ہے۔فرائیڈمین جیسا لبرل ڈیموکریسی کا سب سے بڑا علمبردار داعش سے امریکہ کے اتحاد کی حمایت کرتا ہے۔

اور ریاض مالک بالکل ٹھیک لکھتے ہیں:

پاکستان کے اندر جماعت اسلامی، اہلسنت والجماعت اور جماعت دعوہ کے “تجزیہ کار” اور ان کے شریک کار اشرافی سول سوسائٹی کے نیولبرلز” اپنے آپ کو ” مہان سیاست کے ماہر اور تجزیہ کار “خیال کرتے ہیں جو اپنے کسی تجزیہ میں یہ بات کبھی نہیں لائیں گے کہ پاکستان کے اندر 80 ہزار سے زائد لوگ بشمول 23 ہزار شیعہ، 45 ہزار صوفی سنّی اور سینکڑوں کرسچن، احمدی ، ہندؤ ان تکفیری دیوبندی-سلفی دہشت گردوں نے مارے جن کو ” نفرت اور دشمنی ” کا پاٹھ لدھیانوی اور اس کے دیگر قائدین نے پڑھایا تھا۔اور “ہم سب” جیسے ویب بلاگ پہ تکفیری دیوبندی محمد احمد لدھیانوی سے ملاقات کا جو احوال شایع کیا گیا ہے اس کے آغاز میں یہ کہا گیا کہ “مشکل سوالات کا تحمل سے جواب دیتے ہیں اور ایسے سوالات کرنے پر اکساتے بھی ہیں” لیکن مشکل سوالات کونسے تھے؟ پوری رپورتاژ پڑھنے کے بعد بھی پتا نہیں چلتا۔ایک نہایت بے ضرر سا سوال یہ بھی بنتا تھا کہ محمد احمد لدھیانوی ” کاروبار تکفیر ” میں آنے سے پہلے بہت ہی غریب تھے تو آج کھربوں کے مالک کیسے بنے؟ ایک سوال ویکی لیکس کے حوالے سے بنتا تھا کہ لیبیا سے 25 ملین ڈالر ان کو کس مد میں ملے تھے؟ملک اسحاق اور ان کے دیگر ساتھیوں نے ان کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ایجنٹ و دلال کہا تھا اس میں کہاں تک صداقت ہے؟ اور آخری بات یہ کہ جب وجاہت مسعود ہفت روزہ “ہم شہری” میں ایڈیٹر تھے تو ان کے مضامین میں “کالعدم جماعتوں اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد” کی میڈیا کوریج اور ان کو سرگرمیوں کی اجازت ملنے پہ کافی تنقید ہوا کرتی تھی اور “جماعت دعوہ” پہ میری کور سٹوری کو انہوں نے اس وقت بہت سراہا تھا جب لشکر طیبہ اور اس کے ہفت روزہ اخبار “غزوہ” پہ پابندی کے دنوں بعد ” جرار” کے نام سے اخبار نکلنا شروع ہوگیا تھا۔ویسے وجاہت مسعود ” حافظ سعید ” سے اپنے نلکا چلوانے والے ایڈمنز کو کیوں نہیں ملواتے اور ان کی نرم بیانی اور مہمان نوازی اور خندہ پیشانی کا بیان “ہم سب” میں کیوں نہیں کرواتے؟ کہیں اس کی وجہ امریکیوں کی ناراضگی کا اندیشہ تو نہیں ہے؟

مشعال خان: تم کیا گرے ،حاکمیت کے ستون اور شکستہ ہوگئے

 

 

کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو المیہ کو عروج پہ لیجاتے ہیں اور ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم اس المیہ پہ مرثیہ ، نوحہ ، سوز اور تعزیتی انشائیہ لکھیں اور ایسے وقت میں مرثیہ، نوحہ ، سوز اور تعزیتی انشائیہ لکھنا بہت آسان ہوتا ہے جب وہ واقعہ ایک ایپک  بن گیا ہوتا ہے اور ہر کوئی اس پہ لکھ رہا ہوتا ہے اور اس لکھنے میں کوئی خطرہ بھی لاحق نہیں ہوتا۔جیسے آپ منصور حلاج، دار شکوہ، سرمد  پہ لکھتے ہیں تو اس میں زیادہ خطرات لاحق نہیں ہیں۔ایسے ہی آج جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء تھا ایسے میں آپ اگر ذوالفقار علی بھٹو پہ لکھتے تو آپ کے لئے بہت مشکل تھا بلکہ بھٹو کا نام لینا بھی جرم بن گیا تھا۔ایسے ہی آج جب آپ پاکستان، عراق ، شام سمیت جہاں جہاں سلفی۔دیوبندی تکفیری فاشزم اپنے عروج پہ ہے اگر کربلاء کی ٹریجڈی پہ لکھتے ہیں اور محرم کی المیاتی ثقافت پہ بات کرتے ہیں تو بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ خطرات میں گھر جائیں گے اور آپ جان سے بھی جاسکتے ہیں۔جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں “صفیہ کیس” ہمارے سامنے آیا اور یہ حدود آرڈیننس کے ساتھ جڑا ہوا تھا،اس زمانے میں اس پہ بات کرنا آسان نہیں تھا اور اس پہ لکھنے سے آپ پہ کفر بلکہ بلاسفیمی کا الزام لگ سکتا تھا۔اور ہمارے ہاں اس زمانے میں جماعت اسلامی نے اسے باقاعدہ ایک خطرناک ہتھیار کی شکل دی تھی اور وہ 70ء کی دہائی سے اس ہتھیار کے ساتھ ” بلوائی حملوں ” پہ مبنی ایک پوری نفسیات کو زیادہ سے زیادہ ترقی دینے پہ تلے بیٹھے تھے۔کسی بھی شخص یا گروہ یا کسی بھی اقلیتی فرقے یا اپنے کسی مخالف کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز فضا کی پیدائش کی تاریخ اگر تلاش کی جائے گی تو یہ تاریخ میں ہمیں کالونیل دور میں مل جائے گی اور ایک موثر ہتھیار کے طور پہ اس کا استعمال ہمیں مسلم بنیاد پرست ہوں یا ہندو بنیاد پرست ہوں یا سکھ بنیاد پرست ہوں کے ہاں مل جائے گا۔اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف عوامل نے اپنا کردار ادا کیا ہے اور اسے انسٹی ٹیوشنل لائز کردیا ہے۔

ہم نے اردن میں ناھض حتر (ایک ترقی پسند کرسچن سوشلسٹ ترقی پسند ) کے معاملے میں دیکھا کہ اسے اردن کی سپریم کورٹ کی سیڑھیوں پہ گولی ماردی گئی ،ایسے ہی سلمان تاثیر کے معاملے میں ہوا اور شہباز بھٹی کا کیس بھی یہی تھا۔راشد رحمان کا معاملہ بھی یہی تھا اور جمشید نایاب کا معاملہ بھی ایسے ہی تھا۔اور پھر کچھ لوگ ہیں جو ابھی جیلوں میں پڑے ہیں اگر وہ پبلک میں آئیں تو پاکستان میں ان کا آزادانہ چلنا پھرنا ایک المیہ کو جنم دے گا جیسے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے جنید حفیظ کا معاملہ ہے۔اور اگر ہم جیلوں میں بند ان لوگوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پہ بات بھی کریں تو خطرے سے خالی نہیں ہے چاہے ہمیں ان کی بے گناہی کے درجنوں ثبوت کیوں نہ مل گئے ہوں،ایسے ہی آسیہ بی بی کا کیس ہے۔اس پہ بات کرنا بھی مشکل بلکہ ناممکن ہوگیا ہے۔

سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ایک طرف تو اس ملک کے شیعہ،کرسچن،احمدی ، ہندؤ اور صوفی سنّی ، سیکولر و لبرلز ، کمیونسٹ ، لیفٹ انٹلیکچوئل مسلسل مسلم بنیاد پرستوں، سلفی –دیوبندی تکفیری فاشسٹ نیٹ ورک کے حملوں کی زد میں ہیں تو دوسری طرف ایسے شواہد موجود ہیں کہ پاکستانی ریاست کے اداروں میں ایسے ” بدمعاش ” موجود ہیں جو ریاست کے کردار اور اس کی پالیسیوں پہ تنقید کرنے والے اور ریڈیکل خیالات کا اظہار کرنے والوں کے خلاف مین سٹریم میڈیا میں بیٹھے اپنے ایجنٹوں اور حامیوں کے زریعے سے ایسا پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں جس سے ایک اشتعال اور کشیدہ فضاء خود بخود بازار، محلے اور مسجد و مدرسے کے اندر جانے والوں میں پھیل جاتی ہے اور یہ ہمارے کالج ، یونیورسٹی اور اسکولوں میں بھی پھیل جاتی ہے اور بہت ہی منظم طریقے سے یہ ایک ” بلوائی تشدد ” کی راہ ہموار کرتی ہے تو یا تو آپ بہت آسانی سے ہجوم کے بلوے کا شکار ہوجاتا ہے یا آپ کے اردگرد کوئی آپ کا شناسا یا کوئی آپ کے آس پاس سے گزرنے والا شخص آپ کی زندگی کا خاتمہ کرسکتا ہے۔اور یہ بھی ہوتا ہے اکثر  یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد جو سرگرم ہوتی ہے وہ اشتعال و نفرت کا مرکز بننے والے شخص سے ہمدردیاں  بالکل نہیں رکھتیں اور انتہائی نفرت کا شکار وہ شخص یا اشخاص بن جاتے ہیں۔اور ایسے میں جب ایسے فرد یا افراد قتل کردئے جاتے ہیں یا بلوائی دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں تو اس پہ ردعمل بھی بہت ہی کم ہوتا ہے۔اور جو لوگ ردعمل دینا چاہتے ہیں ان کو ڈرایا ، دھمکایا جاتا ہے اور ان کو سہم جانے پہ مجبور کیا جاتا ہے اور ایسے میں معاشرے میں ہر طرف آپ کو “جنونیوں” کا راج نظر آتا ہے۔اور ریاست ایسی فضاء میں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں زیادہ آسانی محسوس کرتی ہے۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے پاکستانی ریاست نے حال ہی میں کئی ایک ایشوز پہ پاکستان کے اندر پائی جانے والی مخالفانہ فضاء کو حال ہی میں ابھرنے والی صورت حال میں بدلنے کے لئے موافق خیال کیا اور اس نے وہ اقدام اٹھائے ہیں جو پاکستان کی فضاء کو اور ذھریلا اور زیادہ فرقہ وارانہ بنانے میں مددگار ہوں گے۔جیسے پاکستانی ریاست نے اپنے سابق آرمی چیف کو سعودی عرب کی قیادت میں قائم ایک فرقہ پرست فوجی اتحاد کی سربراہی کی اجازت دے دی ہے اور ایسے ہی پاکستانی ریاست آہستہ آہستہ شام کے ایشو پہ اپنی غیر جانبدار پوزیشن کو ختم کرچکی اور سعودی بلاک کے ساتھ جاکھڑی ہوئی ہے۔اور اس بارے میں پاکستانی سماج کے اندر بہت زیادہ شور نہیں ہے۔اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ریاست نے ایک ایسا میکنزم اختیار کیا ہے کہ ان جیسے ایشوز پہ اختلاف ظاہر کرنے والوں کو فوری طور پہ ایرانی ایجنٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔اور ایسے شواہد بھی موجود ہیں جس سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر سے ایسے موقف سامنے آتے ہیں جس سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں جو اس وقت مزاحمت ہے، پاکستان میں جو فرقہ وارانہ قتل و غارت گری ہے اور مذہبی دہشت گردی ہے اسے راء پھیلا رہی ہے اور اس کے لئے روٹ اور راستہ جہاں افغانستان ہے تو ساتھ ساتھ ایران بھی ہے۔اور سابق ترجمان آئی ایس پی آر نے کلبھوشن کے معاملے میں ایران کو مورد الزام اس وقت ٹھہرایا جب ایرانی صدر پاکستان کے دورے پہ تھے اور اب حال ہی میں عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی کی تحویل میں لینے کے بعد عزیر کے تعلقات بھارتی ایجنسی راء اور اس کے نیٹ ورک کا روٹ پھر ایران بتلایا گیا اور اس کا تعلق ایرانی انٹیلی جنس ایجنسی سے بتایا گیا جبکہ عزیر بلوچ کے پاکستان کے اندر تبلیغی جماعت ، سپاہ صحابہ پاکستان وغیرہ سے روابط بارے کوئی بھی بات سامنے نہیں لائی گئی۔اگر اس سارے پلاٹ پہ نظر دوڑائی جائے تو یہ پلاٹ تکفیری فاشزم اور پاکستان میں سعودی نواز فرقہ پرست لابی کے موقف کی حمایت میں نظر آتا ہے جو تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کی ساری کی ساری کاروائیوں کو ایرانی-بھارتی نیٹ ورک کی کارستانی بتاتی ہے اور شیعہ کمیونٹی کو ایجنٹ بناکر پیش کرتی ہے۔اور ایسے میں ایک پوری کمیونٹی کو ریاست کے اداروں کے اندر بیٹھے لوگ ہی دیوار سے لگانے میں مددگار اقدام کرتے ہیں۔ایسے میں ریاستی اداروں کا مقصد یمن،شام جیسے ایشوز پہ سعودی پالیسی کی حمایت کی راہ میں آنے والی روکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

بلاسفیمی ، ایجنٹی ، غداری اور اس جیسے کئی اور الزامات تباہ کن ہتھیار کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور ریاستی ادارے، مین سٹریم میڈیا، مدارس ، مساجد ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹیوں میں جہاں جہاں ریاستی اداروں کے پاس اپنے ہمنواء موجود ہیں وہ یہ ہتھیار ان کے ہاتھ میں تھماکر اپنی راہ میں آنے والوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔مشعال خان کے خلاف یہ ہتھیار براہ راست تو نہیں لیکن بالواسطہ استعمال ہوا اور جیسا کہ ایسا ہوتا ہے کہ جو ہتھیار ریاستی ادارے نجی لشکروں کے حوالے کرتے ہیں یا پراکسیز کو دیتے ہیں وہ ان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پھیل جاتا ہے اور خود ریاستی اداروں پہ بھی استعمال ہوتا ہے،جیسا کہ ہم نے جہادی پراکسی اور اینٹی شیعہ ، سعودی نواز پراکسی کے معاملے میں دیکھ لیا ہے۔پاکستان میں شیعہ نسل کشی،بلوچ نسل کشی اور ریاست کے بیانیہ سے اختلاف کرنے والوں کی آوازوں کو خاموش کرانے کا سلسلہ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا اور جیسے ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے ویسے ہی پاکستان کے اندر حقیقت یہ ہے کہ ریاستی سرپرستی میں سامنے والا پاکستانی نیشنل ازم اور نام نہاد اسلام ازم ( جو وہابیت و دیوبندیت کا چربہ ہے ) وہ تیزی سے غیر مقبول ہورہا ہے اور اس غیر مقبولیت کو بین الاقوامی برادری سے چھپانے کے لئے زبردست تشدد اور دہشت گردی، سنسر شپ اور بلوائیت سے کام لیا جارہا ہے۔ریاست ایسے نہ تو ماضی میں کبھی زیادہ دیر چل پائی نہ اب چل پائے گی ۔

 

دہشت گردی بارے دیوبندی موقف

 

7

اپریل 2010ء کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں ملک بھر سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ سرکردہ علمائے کرام سر جوڑ کر بیٹھے۔ ایک بھرپور اور نمائندہ اجتماع منعقد ہوا جس کے شرکا کا تعلق دیوبندی مسلک سے وابستہ دینی و سیاسی جماعتوں، دینی مدارس اور علمی مراکز سے تھا۔ یہ ایک تاریخی اجتماع تھا جو صرف اس لیے منعقد ہوا تھا کہ ملک میں موجود دہشت گردی کے حوالے سے علمائے کرام اپنا متفقہ نقطہ نظر قوم کے سامنے پیش کریں۔ اس اجتماع میں حلقہ دیوبند کی سیاسی جماعت کی مکمل قیادت، وفاق المدارس کی مکمل قیادت اور تمام بڑی جامعات کے مہتم حضرات بھی موجود تھے۔ https://daleel.pk/2017/02/23/32215

 

 

 

دہشت گردی کے حوالے سے اس قرار داد کا پہلا نکتہ یہ تھا: (1) اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ اسلام ہی نے یہ ملک بنایا تھا اور اسلام ہی اسے بچا سکتا ہے، لہٰذا حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک میں اسلامی تعلیمات اور قوانین کو نافذ کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور ملک کے آئین کا اہم ترین تقاضا بھی اور اسی کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے ملک میں انتہاپسندی کی تحریکیں اٹھی ہیں، اگر ملک نے اس مقصد وجود کی طرف واضح پیش قدمی کی ہوتی تو ملک اس وقت انتہاپسندی کی گرفت میں نہ ہوتا، لہٰذا وقت کا اہم تقاضا ہے کہ پرامن ذرائع سے پوری نیک نیتی کے ساتھ ملک میں نفاذ شریعت کے اقدامات کیے جائیں، اس کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور فیڈرل شریعت کورٹ کو فعال بنا کر ان کی سفارشات اور فیصلوں کے مطابق اپنے قانونی اور سرکاری نظام میں تبدیلیاں بلا تاخیر لائی جائیں اور ملک سے کرپشن، بے راہ روی اور فحاشی و عریانی ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ (حوالہ قرارداد)

 

نوٹ: دلیل ڈاٹ پی کے پہ محمد حسن الیاس کا ایک مضمون ” پاکستان میں دہشت گردی،علمائے دیوبند کا متفقہ موقف”شایع ہوا ہے۔مرے آرٹیکل کی فوری بنیاد یہی مضمون بنا ہے۔لیکن یہ دیوبندی قیادت اور ان کی حامیوں کے پاکستان میں دہشت گردی بارے موقف پہ میرا عمومی رد عمل بھی ہے۔

 https://daleel.pk/2017/02/23/32215

سوشل میڈیا پہ پہلے لبرل کے اندر ایک بڑا حلقہ ایسا تھا جو ملک میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی منظم دہشت گردی کی شناخت کو بیان کرنے کے لئے “تکفیری دیوبندی دہشت گردی” اور ” دیوبندی عسکریت پسندی” کی اصطلاح پہ معترض ہوتا تھا اور ان میں سے ایک بڑے حصّے کو وقت نے بے نقاب بھی کردیا کہ یہ کمرشل ازم تھا لبرل ازم کے پردے میں۔اور ہم نے ان کو کبھی مولوی لدھیانوی کی بغل میں بیٹھا دیکھا تو کبھی طاہر اشرفی کی اعتدال پسند مذہبی سکالر کے طور پہ پروجیکٹ کرتے دیکھا۔وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ بھی پتا چل گیا کہ نجم سیٹھی جیسے لبرل دہشت گردوں کی مذہبی شناخت پہ اتنے سیخ پا کیوں ہیں۔کیونکہ اس شناخت کی وجہ سے نواز شریف اینڈ کمپنی بے نقاب ہورہی تھی اور ساتھ سعودی عرب کے شیوخ بھی جن سے مراعات اور مفادات بٹورنے کا سلسلہ اس کمرشل لبرل مافیا نے جاری رکھا ہوا تھا۔

دیوبندی عسکریت پسندی اور دیوبندی تکفیر ازم کی اصطلاح استعمال کرنے پہ غیر جانبداری کا نقاب چڑھائے کچھ مین سٹریم میڈیا کے خودساختہ “حریت پسند صحافی ” جو فیض و جالب سے بھی اپنی وابستگی ظاہر  کرنے کے ڈرامے کرتے تھے کافی جزبز ہوتے تھے لیکن وقت نے ان کو بھی ننگا کیا جب وہ لدھیانوی،اورنگ زیب فاروقی،مولوی عبدالعزیز،ام حسان اور فرحت ہاشمی وغیرہ کو اپنے ٹاک شوز میں لیکر آئے اور لوگوں کو دہشت گردی بارے انھوں نے گمراہ کرنے کی کوشش کی جبکہ ان صحافیوں نے شیرانی،حمد اللہ،حافظ حسین احمد سمیت کئی اور دہشت گردی کے عذر خواہوں کو خوب پروجیکٹ کیا۔ایسے صحافیوں میں حامد میر سرفہرست ہے۔یہ صحافی اپنے آپ کو اسٹبلشمنٹ مخالف چہرے کے ساتھ بھی پیش کرتے ہیں لیکن ان میں سے کسی نے آج تک شیری رحمان سے ان کی این جی او جناح انسٹی ٹیوٹ کی نام نہاد تجزیاتی رپورٹیں جو طالبان کے لئے جواز پیدا کرتی ہوں بارے سوال نہیں کیا اور ان سے ان کے روابط بہت دوستانہ ہیں جبکہ ان کا دوستانہ لدھیانوی سے بھی ہے۔

deobandi

مذکورہ بالا دو گروہ تو وہ ہیں جو عمومی طور پہ رائٹ اور لبرل لیفٹ سائیڈ سے غیر فرقہ واریت کے نام پہ دیوبندی ازم کے اندر پائی جانے والی عسکریت پسندی،دہشت گردی، تکفیر ازم، جہاد ازم اور اس کے عالمی دہشت گرد سلفی نیٹ ورک سے ہمدردیوں پہ پردہ ڈالنے کا کام کرتا ہے۔

لیکن وہ لوگ جو اپنا دیوبندی ہونا چھپاتے نہیں ہیں اور دیوبندی ازم کے بینر تلے مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ سرگرم ہیں ان کا اس معاملے پہ کیا موقف ہے؟ اس حوالے سے پہلے سوشل میڈیا پہ یہ گروہ اپنی موجودگی کو عمومی طور پہ اسلام پسند لیبل لگاکر چھپاتا تھا یا یہ ظاہر کرتا تھا کہ دیوبندی ملائیت ان کا ماضی تھی اب یہ بہت کشادہ ذہن کے مالک ہیں۔اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کچھ لبرل شخصیات نے اپنی ویب سائٹ کا اجراء کیا اور وہاں پہ انھوں نے “بات چیت ” کے زریعے سے معاشرے میں برداشت پیدا کرنے کو نصب العین بتلاتے ہوئے ایسے لوگ ہمارے سامنے دانشور بناکر پیش کئے جو دیوبندی ملائیت کا حصّہ تھے یا دیوبندی ازم کے علمبردار تھے اور وہ اپنے آپ کو بدلے ہوئے لوگ بتلارہے تھے۔ان کا ماضی تو سب کے سامنے تھا کہ یہ لوگ یا تو دیوبندی مدارس سے فارغ التحصیل تھے اور وہیں سے ماسٹرز کرنے کراچی، اسلام آباد،لاہور،پشاور یا کوئٹہ میں جدید یونیورسٹی میں پہنچ گئے اور وہاں پہ یا تو یہ جماعت اسلامی کے جہادی نیٹ ورک سے وابستہ ہو‏ئے یا دیوبندی جہادی نیٹ ورک سے ان کا تعلق رہا۔اور اسی طرح کئی سپاہ صحابہ پاکستان کے تیار کردہ تھے۔ان میں سے کچھ لوگ عملی زندگی میں مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا یا پرنٹ میڈیا کا حصّہ بھی بنے اور آج کل سوشل میڈیا پہ یہ لوگ دو طرح کی لائن کے ساتھ مصروف ہیں۔

ایک وہ ہیں جو کشمیر، افغانستان و دیگر جگہوں پہ سرگرم دیوبندی عسکریت پسندی کو عین جہاد کہتے ہیں اور پاکستان میں سرگرم دیوبندی عسکریت پسندی کو وہ غلط کہتے ہیں۔جبکہ ایک حلقہ وہ ہے جو تحریک طالبان پاکستان سمیت پاکستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کی جدوجہد کو بھی ٹھیک کہتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ پاکستان میں دیوبندی علماء کی اکثریت پاکستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کو دہشت گرد قرار دینے والی پاکستانی ریاست کے ساتھ کھڑے ہوکر اور ان کی حکومتوں کا حصّہ بنکر غلط کررہی ہے اور وہ اسے موقعہ پرستی اور اقتدار پرستی کہتے ہیں۔یہ دونوں کیمپ سوشل میڈیا پہ بھی اب کھل کر سرگرم ہوگئے ہیں۔اور چند ایک ویب سائیٹ،سوشل نیٹ ورک پیجز پہ ان کا وجود بہت نمایاں ہے۔یہ جہاد ازم، پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی 80ء کی دہائی کی تزویراتی گہرائی کی پالیسی کے من وعن نفاذ اور واپسی کے زبردست حامی ہیں۔اور ان کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی اور تباہی کی وجہ 89ء کی دہائی میں جہاد ازم سے ریاستی اداروں کی دست برداری کے سبب ہوئی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کی جملہ دیوبندی قیادت چاہے اس کا تعلق وفاق المدارس سے ہو یا دیوبند کی سیاسی نمائندہ جماعتوں جے یو آئی (سب دھڑے) اور اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ پاکستان ) سے ہو یہ سب کے سب اس بات پہ متفق ہیں کہ جس دن پاکستانی ریاست نے القاعدہ سمیت کئی ایک عسکریت پسند گروپوں کو دہشت گرد قرار دیا اور کئی ایک گروپوں کے خلاف امریکی کاروائیوں کی حمایت شروع کی وہ ایک یو ٹرن تھا اور آج پاکستان میں جو خون ریزی ہے اس کا سبب وہی یو ٹرن ہے۔

(3) اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کو قرار دیا جا رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی نے ملک کو اجاڑنے میں کوئی کسر چھوڑ نہیں رکھی، جگہ جگہ خود کش حملوں اور تخریبی کارروائیوں نے ملک کو بدامنی کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے، ان تخریبی کارروائیوں کی تمام محب وطن حلقوں کی طرف سے بار بار مذمت کی گئی ہے، اور انہیں سراسر نا جائز قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ کارروائیاں مستقل جاری ہیں، لہٰذا اس صورت حال کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر ملک بھر کی متفقہ مذمت اور فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود یہ کارروائیاں کیوں جاری ہیں؟ اور اس کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ ہماری نظر میں اس صورتحال کا بہت بڑا سبب وہ افغان پالیسی ہے جو جنرل پرویز مشرف نے غلامانہ ذہنیت کے تحت کسی تحفظ کے بغیر شروع کر دی تھی، اور آج تک اسی پر عمل ہوتا چلا آرہا ہے، لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت امریکہ نوازی کی اس پالیسی کو ترک کر کے افغانستان کی جنگ سے اپنے آپ کو بالکل الگ کرے اور امریکی افواج کو مدد پہنچانے کے تمام اقدامات سے دستبردار ہو۔ (حوالہ قرارداد)

دیوبندی علماء ہوں، سلفی علماء ہوں، جماعت اسلامی کی قیادت ہو یہ سب کے سب پاکستان کے اندر اور پاکستان کے باہر سرگرم جہادیوں اور عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف آج تک ایسا کوئی اعلامیہ سامنے لیکر نہیں آئے جس میں انھوں نے یہ کہا ہو کہ لشکر جھنگوی، جیش محمد، حرکت المجاہدین، حرکۃ الانصار،جماعت الاحرار،القاعدہ برصغیر الہند،اور اب داعش خراسان دیوبندی۔سلفی نہیں ہیں۔نہ ہی انھوں نے ان تنظیموں کو خارجی،تکفیری تنظیمیں کہا اور ان کی دہشت گردی کی جو نظریاتی بنیادیں ہیں ان کو بھی غیر دیوبندی اور غیر اسلامی قرار نہیں دیا۔ایسے بہت سے لوگ ہمیں سوشل میڈیا پہ غیر جانبدار تجزیہ کار بنے نظر آتے ہیں۔جب جب پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم ہوتا ہے اور لوگ مرتے ہیں اور زخم تازہ ہوتے ہیں اور ایسی کاروائیاں کرنے والوں کی مذہبی شناخت سامنے آتی ہے  اور پتا یہ چلتا ہے کہ یہ دیوبندی عسکریت پسندوں کی کاروائی ہے اور اس پہ لوگ دیوبندی ازم کی عصر حاضر کی آئیڈیالوجی پہ سوال اٹھانے لگتے ہیں اور اس کی مذمت کی جانے لگتی ہے تو ایک دم سے یہ لوگ دیوبندی ازم کے دفاع کار بنکر سامنے آجاتے ہیں۔اور دیوبندی ازم کی ریڈیکلائزیشن کے سوال سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے یہ لوگ کہیں تو بریلویوں کو بڑا یا برابر کا خطرہ بتلاتے ہیں یا پھر شیعہ کو اور اسی ضمن میں ایران اور ایرانی لابی کا ڈھول بھی پیٹا جانے لگتا ہے۔ریڈیکل مدارس کے کردار پہ بات ہوتی ہے تو یہ جامعہ بنوریہ کی عظمت کے قصّے سنانے لگتے ہیں اور عملی طور پہ دہشت گردی اور انتہا پسندی میں ملوث مدارس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی پہ رائے عامہ کے ہموار ہونے کی راہ کو کھوٹا کرنے لگ جاتے ہیں۔

میں جب لفظ دیوبندی قیادت بولتا ہوں تو اس سے میری مراد وفاق المدارس،دیوبندی سیاسی ومذہبی جماعتوں کی قیادت ہوتی ہے اور اس دیوبندی قیادت میں کوئی ایک آواز بھی ایسی نہیں ہے جو دیوبندی مدرسہ تحریک کو سلفی ازم،وہابیت،سعودی نوکری کے خلاف بلند ہوئی ہو۔ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے شیعہ کے خلاف تکفیر کی سیاسی میدان میں لڑائی لڑنے والی سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت کا داخلہ کسی مدرسے،کسی مسجد یا اپنے کسی دفتر میں بند کیا ہو۔اور ان میں سے کسی ایک دیوبندی رہنماء نے ببانگ دہل کبھی یہ کہا ہو کہ دیوبندی مدرسہ تحریک کو سعودی وہابی حکومت کی پراکسی نہیں بننے دیں گے۔اس دیوبندی قیادت کے حامی صحافتی دنیا کے لوگ ہوں یا سوشل میڈیا پہ سرگرم گروہ ہوں وہ بھی دیوبندی قیادت سے مختلف نہیں ہیں۔اور یہ سب کے سب پاکستان میں جنوبی ایشیائی صوفی کلچر کا اینٹی کلچر ہیں۔اور اپنے افکار اور عمل سے دیوبندی عسکریت پسندی کو اپنا نظریاتی ساتھی خیال کرتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے یہ پاکستانی عوام کی اکثریت کو اس معاملے سے لاعلم رکھنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ابتک ہونے والی 90 فیصدی دہشت گردی دیوبندی عسکریت پسند گروپوں کی جانب سے ہوئی ہے اور اس عسکریت پسندی کی جڑیں دیوبندی تنظیموں اور مدارس کے اندر پیوست ہیں۔