ہم سب کمرشل لبرل

جارج آرویل نے اپنے ایک مضمون ” سیاست،انگریز اور زبان ” میں یہ مشاہدہ کیا تھا کہ “زبان کی بدعنوانی اور سیاست کی بدعنوانی ساتھ ساتھ چلتی ہیں اور ایک دوسرے کو مدد دیتی ہیں۔آرویل نے اس باہمی گٹھ جوڑ کو اپنے ناول ‘1984’ میں بہت زبردست طریقے سے دکھایا۔اس ناول میں صیم نامی ایک کردار جو کہ ٹرتھ ڈیپارٹمنٹ میں ایک نئی “لغت” کی تشکیل پہ کام کررہا ہوتا ہے اور وہ اس ناول کے مرکزی کردار ونسٹن سمتھ (حکمران پارٹی کا چھوٹا سا کارکن) کا دوست ہے،وہ کہتا ہے

“لفظوں کی تباہی بہت ہی پیاری چیز ہے۔۔۔۔۔۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ نیوز پیک کا حتمی مقصد خیال کی حد کو تنگ سے تنگ کرتے چلے جانا ہے۔آخر میں ہم ادبی اعتبار سے خطرناک سوچ کو ہی ناممکن بناڈالیں گے۔کوئی بھی تصور جس کی کبھی بھی ضرورت ہوسکتی ہے وہ ٹھیک ایک لفظ میں بیان کیا جاسکے گا اور اس کے سب دیگر ذیلی مطالب نابود کردئے جائیں گے اور پھر ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فراموش کردیا جائے گا۔ہر سال چند ہی الفاظ اور شعور کی حد کم سے کم ہوتی چلی جائے گی۔یہاں تک کہ اب بھی مجرمانہ سوچ کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔یہ محض ازخود ڈسپلن میں آنے اور ازخود حقیقت کو کنٹرول کرنے کا نام ہے۔لیکن مستقبل میں یہ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انقلاب اس وقت مکمل ہوجائے گا جب “زبان” کامل ہوجائے گی

اس ملک میں جہاد ازم،تکفیر ازم اور مذہبی بنیاد پرستی کے سعودی ماڈل کو گود لینے والے ریاستی ہرکارے جو لائن دیتے ہیں اسے پاکستانی کمرشل لبرل مافیا اور نواز حکومت کے چرن چھونے میں طاق لبرل نقاب چڑھائے صحافی اور سوشل میڈیا پہ ان کے لئے ہمہ وقت کوشاں چیلے فوری طور پہ میں سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ ایک غالب ڈسکورس بنانے کے لئے کوشاں ہوجاتے ہیں۔

مثال کے طور پہ مسلم ليگ نواز کی حکومت ،اس کے اسٹبلشمنٹ میں بیٹھے اتحادیوں نے یہ لائن دینا شروع کی کہ بدنام زمانہ تکفیری دیوبندی تنظیم اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان ایک بدلی ہوئی جماعت ہے۔اسے مرکزی سیاسی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے اور اس کے سرپرست محمد احمد لدھیانوی بہت ہی پرامن، مدبر،صاحب بصیرت عالم دین ہیں تو لبرل کمرشل مافیا نے اس ڈسکورس کو مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ آگے بڑھانا شروع کردیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ اس بدنام زمانہ تکفیری و جہادی ٹولے کو دہشت گرد ماننے سے انکاری ہوتا ہے اور ان سے اپنی ملاقاتوں کا دفاع کرتا ہے تو اس کے فوری بعد کمرشل لبرل مافیا اس کی لائن کو آگے بڑھاتا ہے۔کمرشل لبرل مافیا کی ایک اسلام آباد کی این جی او پاکستان میں تزویراتی گہرائی کی پالیسی کے خالقوں اور ہدائیت کاروں پہ مشتمل سابق جرنیل ، بیوروکریٹس اور تکفیری و جہادی لیڈروں کو ایک میز پہ بٹھاتی ہے اور پھر تکفیری و جہادیوں کو مین سٹریم کرنے پہ سوچ و بچار شروع ہوتی ہے اور نواز حکومت کا پرچارک جنگ-جیو میڈیا گروپ اپنے ٹی وی کے پروگرام ” شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” میں اس کی خصوصی تشہیر کرتا ہے۔اور ایسے ہی سابق آئی جی پنجاب جیو چینل پہ ایک اور جہادی ہرکارے سیلم صافی کے پروگرام”جرگہ” میں تکفیری دہشت گرد تنظیم ‘اہلسنت والجماعت’ کے وکیل صفائی بنتے اور پنجاب میں لشکر جھنگوی کے خاتمے کا دعوی کرتے ہیں یہ اور بات کے اگلے ہی روز لاہور میں مردم شماری کے لئے جانے والے فوجیوں پہ حملہ ہوتا ہے اور اس کے کچھ روز بعد فوج کے کومبنگ آپریشن میں لاہور میں داعش کا ایک بڑا سرغنہ مارا جاتا ہے۔

مسلم لیگ نواز کی حکومت تکفیری تنظیم اہلسنت والجماعت کو مین سٹریم کرنے اور اس کے سرپرست محمد احمد لدھیانوی کو عظیم مدبر ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس کے لئے اس نے اپنے زرخرید صحافی، تجزیہ نگاروں،کالم نگاروں،دفاعی تجزیہ نگاروں اور اس کے ساتھ سوشل میڈیا پہ بلاگرز کی ایک فوج ظفر موج کو ٹاسک سونپ دیا ہے۔

ویب بلاگ ” ہم سب ” جس کے مالک جنگ میں کالم لکھنے والے اور نواز حکومت سے انعام و اعزاز پانے والے وجاہت مسعود ہیں۔جنھوں نے بڑھاپے میں صحن میں نلکا لگوایا ہے اور اسے چلانے کا کام ان سے تو ہوتا نہیں ہے اس لئے یہ کام ان کی بغل میں تکفیریت کی گٹھی لیکر پیدا ہونے والے بچے سرانجام دے رہے ہیں اور وجاہت مسعود ان درجنوں  صیم کی طرح ہیںجو “لغت” تیار کرنے میں لگے ہیں جس کا مقصد خیالات کی حد مقرر کرنا اور ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہے جس میں فسادیوں کو “صلح کار ” اور تخریب کاروں کو “سفیر امن” کہا جائے اور سب یہی بولی بولنے لگ جائیں۔اور یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ ان انتہا پسندوں، رجعت پرستوں، تکفیری فاشسٹوں اور ان کی تنگ نظری پہ مبنی سوچ کی عکاسی کرنے والی تقریروں، بیانات اور ان کے کردار کی طرف توجہ دلائیں تو یہ کوئی جواب دے سکیں۔ان کی رٹ بس یہی ہے کہ یہ امن پسند ہیں،سفیر ہیں امن کے، ماڈریٹ ہیں اور پاکستان کے اندر پھیلی تکفیری دہشت گردی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

ویسے کیا یہ محض اتفاق ہے کہ صرف پاکستانی کمرشل لبرل مافیا ہی نہیں ہے جو تخریب کار، تنگ نظر، رجعت پرست تکفیری وجہادی مافیا کو امن کے سفیر اور آزادی پسند بناکر پیش کررہا ہے بلکہ ہم عالمی سطح پہ امریکی و برطانوی مین سٹریم میڈیا اور لبرل ڈیموکریسی کے بڑے بڑے علمبرداروں کو شام کے دہشت گردوں، القاعدہ کے اتحادیوں اور سعودی وہابیت کے پالنہاروں کو آزادی پسند، ماڈریٹ کہتے دیکھ رہے ہیں بلکہ کل تک ٹرمپ جو مغربی لبرلز کا سب سے ناپسندیدہ صدر تھا آج وہ ان کی ڈارلنگ بن گیا ہے صرف اس لئے کہ اس نے شام پہ مزائیل حملے کئے،وہ کہتا ہے کہ بشارالاسد نے کیمیائی ہتھیار معصوموں پہ استعمال کئے ہیں۔اور بس یہی ایک زبان بولی جارہی ہے۔بی بی سی فرانسیسی اسلامو فوبک ، شاؤنسٹ ، نسل پرست لی پین کو بھرپور کوریج دے رہا ہے۔فرائیڈمین جیسا لبرل ڈیموکریسی کا سب سے بڑا علمبردار داعش سے امریکہ کے اتحاد کی حمایت کرتا ہے۔

اور ریاض مالک بالکل ٹھیک لکھتے ہیں:

پاکستان کے اندر جماعت اسلامی، اہلسنت والجماعت اور جماعت دعوہ کے “تجزیہ کار” اور ان کے شریک کار اشرافی سول سوسائٹی کے نیولبرلز” اپنے آپ کو ” مہان سیاست کے ماہر اور تجزیہ کار “خیال کرتے ہیں جو اپنے کسی تجزیہ میں یہ بات کبھی نہیں لائیں گے کہ پاکستان کے اندر 80 ہزار سے زائد لوگ بشمول 23 ہزار شیعہ، 45 ہزار صوفی سنّی اور سینکڑوں کرسچن، احمدی ، ہندؤ ان تکفیری دیوبندی-سلفی دہشت گردوں نے مارے جن کو ” نفرت اور دشمنی ” کا پاٹھ لدھیانوی اور اس کے دیگر قائدین نے پڑھایا تھا۔اور “ہم سب” جیسے ویب بلاگ پہ تکفیری دیوبندی محمد احمد لدھیانوی سے ملاقات کا جو احوال شایع کیا گیا ہے اس کے آغاز میں یہ کہا گیا کہ “مشکل سوالات کا تحمل سے جواب دیتے ہیں اور ایسے سوالات کرنے پر اکساتے بھی ہیں” لیکن مشکل سوالات کونسے تھے؟ پوری رپورتاژ پڑھنے کے بعد بھی پتا نہیں چلتا۔ایک نہایت بے ضرر سا سوال یہ بھی بنتا تھا کہ محمد احمد لدھیانوی ” کاروبار تکفیر ” میں آنے سے پہلے بہت ہی غریب تھے تو آج کھربوں کے مالک کیسے بنے؟ ایک سوال ویکی لیکس کے حوالے سے بنتا تھا کہ لیبیا سے 25 ملین ڈالر ان کو کس مد میں ملے تھے؟ملک اسحاق اور ان کے دیگر ساتھیوں نے ان کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ایجنٹ و دلال کہا تھا اس میں کہاں تک صداقت ہے؟ اور آخری بات یہ کہ جب وجاہت مسعود ہفت روزہ “ہم شہری” میں ایڈیٹر تھے تو ان کے مضامین میں “کالعدم جماعتوں اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد” کی میڈیا کوریج اور ان کو سرگرمیوں کی اجازت ملنے پہ کافی تنقید ہوا کرتی تھی اور “جماعت دعوہ” پہ میری کور سٹوری کو انہوں نے اس وقت بہت سراہا تھا جب لشکر طیبہ اور اس کے ہفت روزہ اخبار “غزوہ” پہ پابندی کے دنوں بعد ” جرار” کے نام سے اخبار نکلنا شروع ہوگیا تھا۔ویسے وجاہت مسعود ” حافظ سعید ” سے اپنے نلکا چلوانے والے ایڈمنز کو کیوں نہیں ملواتے اور ان کی نرم بیانی اور مہمان نوازی اور خندہ پیشانی کا بیان “ہم سب” میں کیوں نہیں کرواتے؟ کہیں اس کی وجہ امریکیوں کی ناراضگی کا اندیشہ تو نہیں ہے؟

مشعال خان: تم کیا گرے ،حاکمیت کے ستون اور شکستہ ہوگئے

 

 

کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو المیہ کو عروج پہ لیجاتے ہیں اور ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم اس المیہ پہ مرثیہ ، نوحہ ، سوز اور تعزیتی انشائیہ لکھیں اور ایسے وقت میں مرثیہ، نوحہ ، سوز اور تعزیتی انشائیہ لکھنا بہت آسان ہوتا ہے جب وہ واقعہ ایک ایپک  بن گیا ہوتا ہے اور ہر کوئی اس پہ لکھ رہا ہوتا ہے اور اس لکھنے میں کوئی خطرہ بھی لاحق نہیں ہوتا۔جیسے آپ منصور حلاج، دار شکوہ، سرمد  پہ لکھتے ہیں تو اس میں زیادہ خطرات لاحق نہیں ہیں۔ایسے ہی آج جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء تھا ایسے میں آپ اگر ذوالفقار علی بھٹو پہ لکھتے تو آپ کے لئے بہت مشکل تھا بلکہ بھٹو کا نام لینا بھی جرم بن گیا تھا۔ایسے ہی آج جب آپ پاکستان، عراق ، شام سمیت جہاں جہاں سلفی۔دیوبندی تکفیری فاشزم اپنے عروج پہ ہے اگر کربلاء کی ٹریجڈی پہ لکھتے ہیں اور محرم کی المیاتی ثقافت پہ بات کرتے ہیں تو بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ خطرات میں گھر جائیں گے اور آپ جان سے بھی جاسکتے ہیں۔جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں “صفیہ کیس” ہمارے سامنے آیا اور یہ حدود آرڈیننس کے ساتھ جڑا ہوا تھا،اس زمانے میں اس پہ بات کرنا آسان نہیں تھا اور اس پہ لکھنے سے آپ پہ کفر بلکہ بلاسفیمی کا الزام لگ سکتا تھا۔اور ہمارے ہاں اس زمانے میں جماعت اسلامی نے اسے باقاعدہ ایک خطرناک ہتھیار کی شکل دی تھی اور وہ 70ء کی دہائی سے اس ہتھیار کے ساتھ ” بلوائی حملوں ” پہ مبنی ایک پوری نفسیات کو زیادہ سے زیادہ ترقی دینے پہ تلے بیٹھے تھے۔کسی بھی شخص یا گروہ یا کسی بھی اقلیتی فرقے یا اپنے کسی مخالف کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز فضا کی پیدائش کی تاریخ اگر تلاش کی جائے گی تو یہ تاریخ میں ہمیں کالونیل دور میں مل جائے گی اور ایک موثر ہتھیار کے طور پہ اس کا استعمال ہمیں مسلم بنیاد پرست ہوں یا ہندو بنیاد پرست ہوں یا سکھ بنیاد پرست ہوں کے ہاں مل جائے گا۔اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف عوامل نے اپنا کردار ادا کیا ہے اور اسے انسٹی ٹیوشنل لائز کردیا ہے۔

ہم نے اردن میں ناھض حتر (ایک ترقی پسند کرسچن سوشلسٹ ترقی پسند ) کے معاملے میں دیکھا کہ اسے اردن کی سپریم کورٹ کی سیڑھیوں پہ گولی ماردی گئی ،ایسے ہی سلمان تاثیر کے معاملے میں ہوا اور شہباز بھٹی کا کیس بھی یہی تھا۔راشد رحمان کا معاملہ بھی یہی تھا اور جمشید نایاب کا معاملہ بھی ایسے ہی تھا۔اور پھر کچھ لوگ ہیں جو ابھی جیلوں میں پڑے ہیں اگر وہ پبلک میں آئیں تو پاکستان میں ان کا آزادانہ چلنا پھرنا ایک المیہ کو جنم دے گا جیسے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے جنید حفیظ کا معاملہ ہے۔اور اگر ہم جیلوں میں بند ان لوگوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پہ بات بھی کریں تو خطرے سے خالی نہیں ہے چاہے ہمیں ان کی بے گناہی کے درجنوں ثبوت کیوں نہ مل گئے ہوں،ایسے ہی آسیہ بی بی کا کیس ہے۔اس پہ بات کرنا بھی مشکل بلکہ ناممکن ہوگیا ہے۔

سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ایک طرف تو اس ملک کے شیعہ،کرسچن،احمدی ، ہندؤ اور صوفی سنّی ، سیکولر و لبرلز ، کمیونسٹ ، لیفٹ انٹلیکچوئل مسلسل مسلم بنیاد پرستوں، سلفی –دیوبندی تکفیری فاشسٹ نیٹ ورک کے حملوں کی زد میں ہیں تو دوسری طرف ایسے شواہد موجود ہیں کہ پاکستانی ریاست کے اداروں میں ایسے ” بدمعاش ” موجود ہیں جو ریاست کے کردار اور اس کی پالیسیوں پہ تنقید کرنے والے اور ریڈیکل خیالات کا اظہار کرنے والوں کے خلاف مین سٹریم میڈیا میں بیٹھے اپنے ایجنٹوں اور حامیوں کے زریعے سے ایسا پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں جس سے ایک اشتعال اور کشیدہ فضاء خود بخود بازار، محلے اور مسجد و مدرسے کے اندر جانے والوں میں پھیل جاتی ہے اور یہ ہمارے کالج ، یونیورسٹی اور اسکولوں میں بھی پھیل جاتی ہے اور بہت ہی منظم طریقے سے یہ ایک ” بلوائی تشدد ” کی راہ ہموار کرتی ہے تو یا تو آپ بہت آسانی سے ہجوم کے بلوے کا شکار ہوجاتا ہے یا آپ کے اردگرد کوئی آپ کا شناسا یا کوئی آپ کے آس پاس سے گزرنے والا شخص آپ کی زندگی کا خاتمہ کرسکتا ہے۔اور یہ بھی ہوتا ہے اکثر  یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد جو سرگرم ہوتی ہے وہ اشتعال و نفرت کا مرکز بننے والے شخص سے ہمدردیاں  بالکل نہیں رکھتیں اور انتہائی نفرت کا شکار وہ شخص یا اشخاص بن جاتے ہیں۔اور ایسے میں جب ایسے فرد یا افراد قتل کردئے جاتے ہیں یا بلوائی دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں تو اس پہ ردعمل بھی بہت ہی کم ہوتا ہے۔اور جو لوگ ردعمل دینا چاہتے ہیں ان کو ڈرایا ، دھمکایا جاتا ہے اور ان کو سہم جانے پہ مجبور کیا جاتا ہے اور ایسے میں معاشرے میں ہر طرف آپ کو “جنونیوں” کا راج نظر آتا ہے۔اور ریاست ایسی فضاء میں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں زیادہ آسانی محسوس کرتی ہے۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے پاکستانی ریاست نے حال ہی میں کئی ایک ایشوز پہ پاکستان کے اندر پائی جانے والی مخالفانہ فضاء کو حال ہی میں ابھرنے والی صورت حال میں بدلنے کے لئے موافق خیال کیا اور اس نے وہ اقدام اٹھائے ہیں جو پاکستان کی فضاء کو اور ذھریلا اور زیادہ فرقہ وارانہ بنانے میں مددگار ہوں گے۔جیسے پاکستانی ریاست نے اپنے سابق آرمی چیف کو سعودی عرب کی قیادت میں قائم ایک فرقہ پرست فوجی اتحاد کی سربراہی کی اجازت دے دی ہے اور ایسے ہی پاکستانی ریاست آہستہ آہستہ شام کے ایشو پہ اپنی غیر جانبدار پوزیشن کو ختم کرچکی اور سعودی بلاک کے ساتھ جاکھڑی ہوئی ہے۔اور اس بارے میں پاکستانی سماج کے اندر بہت زیادہ شور نہیں ہے۔اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ریاست نے ایک ایسا میکنزم اختیار کیا ہے کہ ان جیسے ایشوز پہ اختلاف ظاہر کرنے والوں کو فوری طور پہ ایرانی ایجنٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔اور ایسے شواہد بھی موجود ہیں جس سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر سے ایسے موقف سامنے آتے ہیں جس سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں جو اس وقت مزاحمت ہے، پاکستان میں جو فرقہ وارانہ قتل و غارت گری ہے اور مذہبی دہشت گردی ہے اسے راء پھیلا رہی ہے اور اس کے لئے روٹ اور راستہ جہاں افغانستان ہے تو ساتھ ساتھ ایران بھی ہے۔اور سابق ترجمان آئی ایس پی آر نے کلبھوشن کے معاملے میں ایران کو مورد الزام اس وقت ٹھہرایا جب ایرانی صدر پاکستان کے دورے پہ تھے اور اب حال ہی میں عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی کی تحویل میں لینے کے بعد عزیر کے تعلقات بھارتی ایجنسی راء اور اس کے نیٹ ورک کا روٹ پھر ایران بتلایا گیا اور اس کا تعلق ایرانی انٹیلی جنس ایجنسی سے بتایا گیا جبکہ عزیر بلوچ کے پاکستان کے اندر تبلیغی جماعت ، سپاہ صحابہ پاکستان وغیرہ سے روابط بارے کوئی بھی بات سامنے نہیں لائی گئی۔اگر اس سارے پلاٹ پہ نظر دوڑائی جائے تو یہ پلاٹ تکفیری فاشزم اور پاکستان میں سعودی نواز فرقہ پرست لابی کے موقف کی حمایت میں نظر آتا ہے جو تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کی ساری کی ساری کاروائیوں کو ایرانی-بھارتی نیٹ ورک کی کارستانی بتاتی ہے اور شیعہ کمیونٹی کو ایجنٹ بناکر پیش کرتی ہے۔اور ایسے میں ایک پوری کمیونٹی کو ریاست کے اداروں کے اندر بیٹھے لوگ ہی دیوار سے لگانے میں مددگار اقدام کرتے ہیں۔ایسے میں ریاستی اداروں کا مقصد یمن،شام جیسے ایشوز پہ سعودی پالیسی کی حمایت کی راہ میں آنے والی روکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

بلاسفیمی ، ایجنٹی ، غداری اور اس جیسے کئی اور الزامات تباہ کن ہتھیار کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور ریاستی ادارے، مین سٹریم میڈیا، مدارس ، مساجد ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹیوں میں جہاں جہاں ریاستی اداروں کے پاس اپنے ہمنواء موجود ہیں وہ یہ ہتھیار ان کے ہاتھ میں تھماکر اپنی راہ میں آنے والوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔مشعال خان کے خلاف یہ ہتھیار براہ راست تو نہیں لیکن بالواسطہ استعمال ہوا اور جیسا کہ ایسا ہوتا ہے کہ جو ہتھیار ریاستی ادارے نجی لشکروں کے حوالے کرتے ہیں یا پراکسیز کو دیتے ہیں وہ ان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پھیل جاتا ہے اور خود ریاستی اداروں پہ بھی استعمال ہوتا ہے،جیسا کہ ہم نے جہادی پراکسی اور اینٹی شیعہ ، سعودی نواز پراکسی کے معاملے میں دیکھ لیا ہے۔پاکستان میں شیعہ نسل کشی،بلوچ نسل کشی اور ریاست کے بیانیہ سے اختلاف کرنے والوں کی آوازوں کو خاموش کرانے کا سلسلہ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا اور جیسے ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے ویسے ہی پاکستان کے اندر حقیقت یہ ہے کہ ریاستی سرپرستی میں سامنے والا پاکستانی نیشنل ازم اور نام نہاد اسلام ازم ( جو وہابیت و دیوبندیت کا چربہ ہے ) وہ تیزی سے غیر مقبول ہورہا ہے اور اس غیر مقبولیت کو بین الاقوامی برادری سے چھپانے کے لئے زبردست تشدد اور دہشت گردی، سنسر شپ اور بلوائیت سے کام لیا جارہا ہے۔ریاست ایسے نہ تو ماضی میں کبھی زیادہ دیر چل پائی نہ اب چل پائے گی ۔

 

مولانا شیرانی :یا منافقت ترا آسرا

58ea3e4f9e35b

جے یو آئی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا شیرانی فرماتے ہیں۔۔۔

کہ عالم کفر نے آپس میں مسلمانوں کی تباہی وبربادی کا معاہدہ کر رکھا ہے۔مسلمان کو مسلمان سے لڑایا جارہاہے۔ مذہب اسلام کو دہشت اور بربریت کا استعارہ بنا دیا گیا ہے۔

مولانا مزید فرماتے ہیں ایک دہشت گرد گروپ کو طالبان کا نام دیا جاتا ہے جسکی پشت پر چین اورروس کھڑے ہیں تو دوسرے گروپ کو داعش کے نام سے اٹھایا جاتا ہے جسکی پشت پرامریکہ اورمغرب کھڑے ہیں۔

 مولانا شیرانی! گھٹیا سازشی تھیوریز صرف مغرب میں دائیں بازو کے نو قدامت پرست ہی ایجاد نہیں کرتے بلکہ آل سعود کی غلامی میں سرشار آپ سمیت  دیوبندی مذہبی پیشوائیت بھی کسی سے کم نہیں ہے۔

عالم کفر نے باہمی معاہدہ کررکھا ۔۔۔۔۔ معاہدہ ہے مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا ۔۔۔۔۔ مسلمان کو مسلمان سے لڑایا جارہا ہے۔اسلام کو دہشت اور بربریت کا استعارہ بنادیا گیا ہے۔

مولانا شیرانی یہ بات اس سٹیج سے کررہے تھے جس پہ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور اور مکّہ میں مسجد حرام میں حکمران بادشاہی خاندان آل سعود کے ملازم امام مسجد بھی تشریف رکھتے تھے۔مولانا شیرانی کی اپنی ساری گفتگو میں عالم کفر کے باہمی معاہدے کو کامیاب کرانے کا سب سے بڑے ذمہ دار سعودی عرب اور اس کا حکمران خاندان آل سعود ٹھہرتے ہیں۔کیونکہ یہ سعودی عرب ہے جس نے یمن پہ حملہ کیا، عراق میں عرب قبائل کے سرداروں اور سیاسی لیڈروں کو خریدا اور پھر وہاں پہ وہابی عسکریت پسند دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کی۔شام میں اس وقت جتنے بھی جہادی گروپ لڑ رہے ہیں وہ سب کے سب سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں سے ہی مالی اور اسلحے کی امداد پارہے ہیں۔داعش کے جراثیم اور اس کی بنیاد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پالیسی سے ہی سامنے آئے اور سعودی عرب سمیت امریکی اتحادیوں نے اسے پروان چڑھایا۔مڈل ایسٹ ہو یا شمالی افریقہ یا جنوبی ایشیاء یا مشرق بعید سب جگہ پہ یہ سعودی عرب کی وہابی آئیڈیالوجی سے لتھڑی فنڈنگ ہے جس نے جمہور اسلام کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے اور پوری مسلم دنیا میں جہاد کے نام پہ سلفی اور دیوبندی جہادی /عسکریت پسند مسلم عوام کے گلے کاٹ رہے ہیں۔مولانا شیرانی صاحب! اگر مغرب نے عالم اسلام کے خلاف کوئی خفیہ معاہدہ اگر کیا بھی ہوا ہے تو اس معاہدے کے سب سے بڑے سہولت کار سعودی عرب،کویت،متحدہ عرب امارات،ترکی،قطر، بحرین، اردن وغیرہ ہیں اور اس کے سب سے بڑے مددگار وہ مذہبی لیڈر ہیں اور وہ تنظیمیں ہیں جو سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہیں اور سعودی عرب کی سرکاری مذہبی آئیڈیالوجی کو پیسے اور جبر کے زریعے سے جمہور مسلمانوں پہ مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔اگر آپ اپنے کہے میں سچے ہوتے تو جمعیت علمائے اسلام کے اجتماع عام میں آل سعود کے ملازم مہمان خصوصی کے طور پہ مدعو نہ ہوتے اور نہ ہی سعودی عرب کو اسلام کا خادم کہا جاتا۔اور آپ اگر سچے ہوتے عالم اسلام کی خیر خواہی میں تو آپ اپنی تقریر میں سعودی عرب سے کہتے کہ وہ یمن پہ ہوائی حملے بند کردے۔شام میں سلفی۔دیوبندی تکفیری/جہادی دہشت گردوں کی حمایت اور مدد بند کردے۔عالم اسلام کی اکثریت پہ کفر اور شرک کے فتوے لگانے والوں کی مالی مدد بند کردے اور عالم اسلام کی اکثریت کو وہابی بنانے کے پروجیکٹ سے باز آجائے۔ایسے ہی آپ اگر عالم اسلام کے اندر جاری خون ریزی بند کرانے میں سنجیدہ ہوتے تو آپ دار العلوم دیوبند اور اس سے منسلک تمام دیوبندی مدارس کی انتطامیہ سے اور دنیا بھر میں پھیلی دیوبندی سیاسی و مذہبی تنظیموں سے اور سب سے بڑھ کر مولانا فضل الرحمان کو کہتے کہ وہ تکفیری اور نام نہاد جہادی دیوبندیوں سے اپنی مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں سے کہیں کہ ان تنظیموں کا مکمل بائیکاٹ کریں اور اپنے مساجد و مدارس میں ان کا داخلہ بند کریں۔

مولانا شیرانی ! اگر آپ عالم اسلام کی باہمی خانہ جنگی کے واقعی مخالف ہوتے تو آپ جے یو آئی کے سٹیج سے ہی مسلم لیگ نواز کی حکومت سے کہتے کہ 39 مسلم ممالک کی افواج کے اتحاد سے فوری طور پہ باہر آئے۔جنرل راحیل شریف کو دیا گیا این او سی واپس لیا جائے۔اور پاکستانی افراج کو مسلم ممالک کے درمیان کسی بھی فوجی تنازعے میں فریق بنکر بھیجنے سے باز رہے۔اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں حکمران جماعت کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کرنے کا اعلان کرتے۔

لیکن ایسا کچھ بھی تو آپ نے نہیں کہا۔کیا اس سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں۔اور عالم اسلام کے اندر اس وقت جس تکفیر ازم اور جہاد ازم کی بربریت کا سامنا عالم اسلام کے اندر رہنے والے مسلمانوں کو ہے آپ اس کا خود ایک حصّہ ہیں۔آپ سہولت کار، بھرتی کار ، معاون اور پروپیگنڈا مشین بنے ہوئے ہیں اور اسی پہ پردہ ڈالنے کے لئے آپ غیر جانبداری کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ آپ سمجھتے کہ ” باؤلی کا سانگ ” پہن کر دوسرے آپ کو معصوم خیال کرلیں گے۔ایسے بیانات کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور حقائق کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔

مولانا شیرانی آپ مسجد کے منبر کا ، مدرسے میں استاد کی مسند کا ، اسمبلی میں اپنی نشست کا اور اسلامی نظریاتی کونسل میں اپنی سربراہی کا انتہائی غلط استعمال کررہے ہیں۔آپ اس بات پہ پردہ ڈال رہے ہیں کہ ویکی لیکس نے جن امریکی سفارتی مراسلوں کو افشاء کیا ان سے یہ پتا چل گیا کہ امریکہ 30 سال پہلے سے ہی شام میں بعث پارٹی کی حکومت کو گرانے کی پالیسی بنا چکا تھا اور اس پالیسی کا ایک بڑا حصّہ یہ تھا کہ شام میں سنّی مسلمانوں کو شیعہ علوی ، کرسچن ، دیروزی شیعہ اور دیگر کے خلاف بھڑکایا جائے۔ایران کا خوف پیدا کیا جائے۔اور اسی مقصد کے لئے سعودی عرب،قطر وغیرہ کو وہابی آئیڈیالوجی پہ مبنی اداروں کے زریعے سے شام کو غیر مستحکم کرنے کا پلان بنایا گیا۔

 مولانا شیرانی سمیت دیوبندی مذہبی پیشوائیت پاکستان سمیت جہاں جہاں ان کا اثر و رسوخ ہے وہاں وہاں سعودی عرب کے مفادات کے لئے کام کررہی ہے۔اور یہ کام سعودی عرب کے زریعے سے فائدہ امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں کو پہنچاتا ہے۔دیوبندی مذہبی پیشوائیت نے ان سارے تکفیری انڈوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا کر رکھا ہوا ہے جو عالم اسلام میں شیعہ۔سنّی خانہ جنگی کرانے کے منصوبے پہ عمل پیرا ہیں۔اور دیوبندی مذہبی پیشوائیت کے پاس یہ ٹاسک ہے کہ وہابی نظریہ کو سنّی حنفی مسلمانوں کے اندر فروغ دیں تاکہ اہل متصوف حنفی سنّی مسلمانوں کے نوجوان سلفی عسکریت پسندی پہ عمل پیرا ہوکر سعودی مفادات کو اسلامی مفادات خیال کرلیں اور اس جنگ میں شریک ہوجائیں۔دیوبندی مذہبی پیشوائیت کا عالم اسلام یا مسلم دنیا کے اندر مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی جنگ اور فساد میں غیر جانبداری اور دردمندی کا دعوی سوائے ڈھونگ کے اور کچھ نہیں ہے۔اگر آپ سعودی عرب سے پیسہ لیتے ہیں، سعودی عرب کے حکمرانوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، ان کی جنگوں کے بارے مين حرف مذمت نہیں نکالتے تو مطلب بہت واضح ہے کہ آپ سعودی کمیپ میں کھڑے ہیں اور یہ بھی ذہن نشین رہے کہ سعودی کیمپ ہرگز جمہور سنّی مسلمانوں کا کیمپ ہرگز نہیں ہے۔وہابیت اسلام کا وہ برانڈ ہے جسے جمہور مسلمانوں نے ہمیشہ رد کیا ہے اور خود دیوبندی مذہبی پیشوائیت آل سعود کے حجاز پر تسلط سے پہلے تک وہابیت کو خارجیت کے مثل گردانتی رہی تھی لیکن پھر جب ترک ‏عثمانیوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا اور حجاز میں ایک وہابی حکومت برسراقتدار آئی تو ساری دیوبندی قیادت ابن سعود کے ہاتھ پہ بیعت ہوگئی اور ان پہ اچانک یہ انکشاف ہوا کہ کعبہ کی چابیاں آل سعود کو اللہ نے دی ہیں۔اب آل سعود کا وجود ان کو عالم اسلام کے لئے برکت کا باعث لگتا ہے۔کل تک جو خوارج کی مثل تھے، جس تحریک کا بانی خون خوار  یہاں تک کہ خبیث تھا وہ ایک دم سے سب سے بڑا توحید پرست ہوگیا ( شہاب ثاقب ، المہند سمیت درجنوں کتب دیوبندیہ میں وہابیت اور اس کے بانیوں کے خلاف فتوے اور نظریات موجود ہیں)۔

 

میں کیسا مسلمان ہوں بھائی

 

حسین حیدری ممبئی کے رہنے والے ہیں اور بدقسمتی سے ان کا جو خاندانی پس منظر ہے وہ شیعہ ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جو کسی شخص کی کہی ہوئی بات کو دارالعلوم دیوبند اور سعودی وہابی اینٹی کلچر کے غالب اثر کے سبب ویسے ہی مشکوک بنادینے کے لئے کافی ہوتی ہے۔لیکن ہندوستان کیوں کہ ایک بہت بڑا ملک ہے اور وہاں ابھی کسی کی بھی کہی ہوئی بات کو بہت سارے لوگ اس کے خاندان کے مذہبی پس منظر کو جانے بغیر اس کی قدر وقیمت کو مانتے ہیں تو ایسے میں اس نے ایک نظم کی باز گشت بہت سنی جارہی ہے۔ممبئی میں “کمیون” کے نام سے ایک پرفارمنگ آرٹ فورم ہے اور اس فورم پہ ایک پروگرام اپنی کہانی سناؤ کے نام سے ہے اور یہ کم از کم ممبئی کی اربن مڈل کلاس میں بہت مقبول پروگرام ہے اور اسی پروگرام میں حسین حیدری جب اپنی کہانی سنانے آئے تو انھوں نے ایک نظم سنائی:

ميں کیسا مسلمان ہوں بھائی

میں سجدہ کرنے والا ہوں یا جھٹکا کھانے والا ہوں

میں ٹوپی پہن کے رہتا ہوں یا داڑھی اڑاکے رہتا  ہوں

مجھ میں گیتا کا ساربھی ہے،ایک اردو کا اخبار بھی ہے

اپنے ہی طور سے جیتا ہوں،دارو،سگریٹ بھی پیتا ہوں

دنگوں میں بھڑکتا شعلہ میں کرتے پہ خون کا دھبا میں

مندر کی چوکھٹ میری ہے،مسجد کے قبلے مرے ہیں

گوردوارے کا دربار میرا یسوع کے گرجے میرے ہیں

سو میں سے میں چودہ ہوں لیکن یہ چودہ کم نہیں پڑتے ہیں

پورے سو مجھ میں بستے ہیں اور میں پورے سو میں بستا ہوں

مجھے ایک نظر سے دیکھ نہ تو میرے ایک نہیں سو چہرے ہیں

سو رنگ کے ہیں کردار میرے،سو قلم سے لکھی کہانی ہوں

میں جتنا مسلمان ہوں بھائی اتنا ہندوستانی ہوں

حسین حیدری کی یہ نظم فروری کے دوسرے ہفتے کمیون ممبئی فورم کے آفیشل فیس بک پیج پہ پوسٹ ہوئی اور ایک دن میں 2000 لوگوں نے اسے آگے شئیر کردیا۔ہندوستانی اخبارات میں یہ نظم شایع ہوئی اور پھر اس پہ بھانت بھانت کے تبصرے ہونے لگے۔ہندوستان کا مقبول انگریزی بلاک سکرول کے میگزین میں جیوتی پونمی نے ایک آرٹیکل لکھا جس میں حسین حیدری کے حوالے سے کہا گیا کہ اس کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ اس نے جو نظم جو طرف اس نے خود اپنے لئے کہی ہے اس پہ اسقدر شور کیوں مچا ہوا ہے؟ اور حسین حیدری یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نظم انھوں نے اپنے اوپر لکھی ہے اور یہ کوئی احتجاج میں لکھی گئی نظم نہیں ہے۔حسین حیدری ایک چارٹر اکاؤٹنٹ تھے اور انھوں نے دسمبر 2015ء میں نوکری چھوڑی اور کل وقتی گیت نگار اور سکرین رائٹر بن گئے۔حسین حیدری کچھ بھی کہیں لیکن اصل میں ان کی یہ نظم مسلمانوں کے بارے سٹیریو ٹائپ خیالات کے اظہار کے خلاف ایک احتجاج کی علامت بن گئی ہے۔ہندوستانی مسلمانوں کے ہاں بھارتیا جنتا پارٹی اور ہندؤ فاشزم کی جانب سے مسلمان کمیونٹی کو دہشت گرد، انتہا پسند، رجعت پرست اور پیورٹن بناکر پیش کرنے کے رجحان کے خلاف ردعمل پایا جاتا ہے۔وہ اس بات پہ بھی سیخ پا ہیں کہ ہندوستان میں وہابی ازم اور دیوبندی ازم کی جانب سے جو اسلامی خلافت اور اسلامی ریاست کا یوٹوپیا پیش کیا جاتا ہے اس کا پجاری ہر ایک مسلمان کو بناکر دکھایا جارہا ہے۔سبھی مسلمان ڈاکٹر زاکر نائیک اور دار العلوم دیوبند کے زیر اثر سامنے آنے والے چہروں یا انڈین مجاہدین یا کشمیری مجاہدین بناکر پیش کئے جانے کا رجحان ہے  اس کے خلاف ایک ردعمل ہندوستانی معاشرے کے اندر موجود ہے۔مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس طرح کی سٹیریو ٹائپ نظریہ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں  کے تکثیری چہروں کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں اور ان کو یہ نظم اپنے خیالات کی عکاس لگی ہے۔مجھے یہ نظم اس لئے بھی دلچسپ لگی کہ میں حال ہی میں پرویز ہودبھائی کی تحریر “کیا پاکستان بطور ایک تکثیریت پسند سماج کے باقی رہ سکتا ہے” پڑھ رہا تھا جس میں انھوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ” مابین المذاہب تکثیریت پسندی ” اور ” مابین الفرق الاسلام تکثریت پسندی” موجود مسلم تھیالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے عملی طور پہ ہر قسم کے معاشروں میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کیا ہے لیکن

Texually and formally

نہیں اور وہاں پہ زیادہ تر ابن تیمیہ، ابن عبدالوہاب، سید احمد بریلوی،شاہ اسماعیل،رشید احمد گنگوہی،سید مودودی،سید قطب،حسن البنّا اور سید روح اللہ خمینی جیسوں کی حکمرانی اور ان جیسوں کو ہی زیادہ قبول عام ملا ہے۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں ابھی حاجی علی کے مزار پہ خواتین کے داخلے کو منع کرنے کا معاملہ ہو یا خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی کے مزار پہ عورتوں کی حاضری کی ممانعت کا مسئلہ ہو اس پہ ہندوستان کی مذہبی پیشوایت نے متنی اور رسمی طور پہ کنزرویٹو پوزیشن کو ہی اپنایا ہے۔اور خود بریلوی ملائیت نے بھی اسی راستے کو اختیار کیا ہے اور ایک مجلس میں اور منہ سے تین بار طلاق کا لفظ نکالنے کا معاملہ ہو اس پہ بھی کوئی لچک دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔اور پاکستان کے اندر شیخ عثمان مروندی لال شہباز قلندر کے مزار پہ ہوئے خودکش بم دھماکے بعد بحث کا رخ “دھمال ” کے جائز ہونے نا ہونے کی طرف مڑگیا اور اس معاملے پہ بریلوی مذہبی قیادت نے بھی کم وبیش دیوبندی ملائیت اور سلفی ملائیت کے ساتھ کا موقف اختیار کرلیا اور اس حوالے سےپاکستانی مسلم اربن مڈل کلاس کی کئی ایک پرتوں نے بھی ملائیت کے ساتھ کا ہی موقف اپنایا۔اور یہ ایک طرح سے مذہبی فاشزم کی مکمل جیت کا سا منظر نامہ ہے۔مسلمانوں کو سٹیریو ٹائپ کرداروں میں دیکھنے اور دکھانے کا رجحان آئیڈیالوجیکل منظر نامے پہ اکثر متون میں تکثریت مخالف رائے کے غالب آجانے کے سبب بھی ہے اور بدقسمتی سے اس سبب کی طرف نگاہ کم ہی جاتی ہے۔پرویز ھودبھائی نے ٹھیک کہا ہے کہ پاکستانی سماج کے اندر تکثریت پسندی کے حامی جدید مسلم مفکرین کی فکر کو آج کی مین سٹریم مسلم فکر میں کوئی خاص جگہ نہیں مل سکی اور سید امیر علی،سرسید احمد خان،فضل الرحمان جیسے جدید مسلم مفکرین کی فکر آج کتابوں میں بند ہوکر شیلفوں میں کہیں دب کر رہ گئی ہے۔اکبّر بادشاہ کی صلح کلیت بھی ہمارے مرکزی دھارے کا حصّہ نہیں بن پائی اور آج ہمارے ملامتی صوفیاء جیسے بابا بلھّے شاہ تھے ان کے مزاروں پہ عورت کا داخلہ منع ہے جیسے آویزاں بورڈ ہمارا منہ چڑاتے ہیں۔اور غالب ڈسکورس اگر ہے تو وہ تبلیغی جماعت کے طارق جمیل، سپاہ صحابہ پاکستان کے لدھیانوی،جاوید احمد غامدی،جماعت اسلامی کے مودودی کا ہے یا پھر حافظ سعید کا ہے۔اور یہ مسلمانوں کے اپنے اندر کی تکثیریت اور تنوع کا بھی سب سے بڑا دشمن ثابت ہورہا ہے۔

 

دہشت گردی بارے دیوبندی موقف

 

7

اپریل 2010ء کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں ملک بھر سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ سرکردہ علمائے کرام سر جوڑ کر بیٹھے۔ ایک بھرپور اور نمائندہ اجتماع منعقد ہوا جس کے شرکا کا تعلق دیوبندی مسلک سے وابستہ دینی و سیاسی جماعتوں، دینی مدارس اور علمی مراکز سے تھا۔ یہ ایک تاریخی اجتماع تھا جو صرف اس لیے منعقد ہوا تھا کہ ملک میں موجود دہشت گردی کے حوالے سے علمائے کرام اپنا متفقہ نقطہ نظر قوم کے سامنے پیش کریں۔ اس اجتماع میں حلقہ دیوبند کی سیاسی جماعت کی مکمل قیادت، وفاق المدارس کی مکمل قیادت اور تمام بڑی جامعات کے مہتم حضرات بھی موجود تھے۔ https://daleel.pk/2017/02/23/32215

 

 

 

دہشت گردی کے حوالے سے اس قرار داد کا پہلا نکتہ یہ تھا: (1) اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ اسلام ہی نے یہ ملک بنایا تھا اور اسلام ہی اسے بچا سکتا ہے، لہٰذا حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک میں اسلامی تعلیمات اور قوانین کو نافذ کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور ملک کے آئین کا اہم ترین تقاضا بھی اور اسی کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے ملک میں انتہاپسندی کی تحریکیں اٹھی ہیں، اگر ملک نے اس مقصد وجود کی طرف واضح پیش قدمی کی ہوتی تو ملک اس وقت انتہاپسندی کی گرفت میں نہ ہوتا، لہٰذا وقت کا اہم تقاضا ہے کہ پرامن ذرائع سے پوری نیک نیتی کے ساتھ ملک میں نفاذ شریعت کے اقدامات کیے جائیں، اس کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور فیڈرل شریعت کورٹ کو فعال بنا کر ان کی سفارشات اور فیصلوں کے مطابق اپنے قانونی اور سرکاری نظام میں تبدیلیاں بلا تاخیر لائی جائیں اور ملک سے کرپشن، بے راہ روی اور فحاشی و عریانی ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ (حوالہ قرارداد)

 

نوٹ: دلیل ڈاٹ پی کے پہ محمد حسن الیاس کا ایک مضمون ” پاکستان میں دہشت گردی،علمائے دیوبند کا متفقہ موقف”شایع ہوا ہے۔مرے آرٹیکل کی فوری بنیاد یہی مضمون بنا ہے۔لیکن یہ دیوبندی قیادت اور ان کی حامیوں کے پاکستان میں دہشت گردی بارے موقف پہ میرا عمومی رد عمل بھی ہے۔

 https://daleel.pk/2017/02/23/32215

سوشل میڈیا پہ پہلے لبرل کے اندر ایک بڑا حلقہ ایسا تھا جو ملک میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی منظم دہشت گردی کی شناخت کو بیان کرنے کے لئے “تکفیری دیوبندی دہشت گردی” اور ” دیوبندی عسکریت پسندی” کی اصطلاح پہ معترض ہوتا تھا اور ان میں سے ایک بڑے حصّے کو وقت نے بے نقاب بھی کردیا کہ یہ کمرشل ازم تھا لبرل ازم کے پردے میں۔اور ہم نے ان کو کبھی مولوی لدھیانوی کی بغل میں بیٹھا دیکھا تو کبھی طاہر اشرفی کی اعتدال پسند مذہبی سکالر کے طور پہ پروجیکٹ کرتے دیکھا۔وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ بھی پتا چل گیا کہ نجم سیٹھی جیسے لبرل دہشت گردوں کی مذہبی شناخت پہ اتنے سیخ پا کیوں ہیں۔کیونکہ اس شناخت کی وجہ سے نواز شریف اینڈ کمپنی بے نقاب ہورہی تھی اور ساتھ سعودی عرب کے شیوخ بھی جن سے مراعات اور مفادات بٹورنے کا سلسلہ اس کمرشل لبرل مافیا نے جاری رکھا ہوا تھا۔

دیوبندی عسکریت پسندی اور دیوبندی تکفیر ازم کی اصطلاح استعمال کرنے پہ غیر جانبداری کا نقاب چڑھائے کچھ مین سٹریم میڈیا کے خودساختہ “حریت پسند صحافی ” جو فیض و جالب سے بھی اپنی وابستگی ظاہر  کرنے کے ڈرامے کرتے تھے کافی جزبز ہوتے تھے لیکن وقت نے ان کو بھی ننگا کیا جب وہ لدھیانوی،اورنگ زیب فاروقی،مولوی عبدالعزیز،ام حسان اور فرحت ہاشمی وغیرہ کو اپنے ٹاک شوز میں لیکر آئے اور لوگوں کو دہشت گردی بارے انھوں نے گمراہ کرنے کی کوشش کی جبکہ ان صحافیوں نے شیرانی،حمد اللہ،حافظ حسین احمد سمیت کئی اور دہشت گردی کے عذر خواہوں کو خوب پروجیکٹ کیا۔ایسے صحافیوں میں حامد میر سرفہرست ہے۔یہ صحافی اپنے آپ کو اسٹبلشمنٹ مخالف چہرے کے ساتھ بھی پیش کرتے ہیں لیکن ان میں سے کسی نے آج تک شیری رحمان سے ان کی این جی او جناح انسٹی ٹیوٹ کی نام نہاد تجزیاتی رپورٹیں جو طالبان کے لئے جواز پیدا کرتی ہوں بارے سوال نہیں کیا اور ان سے ان کے روابط بہت دوستانہ ہیں جبکہ ان کا دوستانہ لدھیانوی سے بھی ہے۔

deobandi

مذکورہ بالا دو گروہ تو وہ ہیں جو عمومی طور پہ رائٹ اور لبرل لیفٹ سائیڈ سے غیر فرقہ واریت کے نام پہ دیوبندی ازم کے اندر پائی جانے والی عسکریت پسندی،دہشت گردی، تکفیر ازم، جہاد ازم اور اس کے عالمی دہشت گرد سلفی نیٹ ورک سے ہمدردیوں پہ پردہ ڈالنے کا کام کرتا ہے۔

لیکن وہ لوگ جو اپنا دیوبندی ہونا چھپاتے نہیں ہیں اور دیوبندی ازم کے بینر تلے مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ سرگرم ہیں ان کا اس معاملے پہ کیا موقف ہے؟ اس حوالے سے پہلے سوشل میڈیا پہ یہ گروہ اپنی موجودگی کو عمومی طور پہ اسلام پسند لیبل لگاکر چھپاتا تھا یا یہ ظاہر کرتا تھا کہ دیوبندی ملائیت ان کا ماضی تھی اب یہ بہت کشادہ ذہن کے مالک ہیں۔اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کچھ لبرل شخصیات نے اپنی ویب سائٹ کا اجراء کیا اور وہاں پہ انھوں نے “بات چیت ” کے زریعے سے معاشرے میں برداشت پیدا کرنے کو نصب العین بتلاتے ہوئے ایسے لوگ ہمارے سامنے دانشور بناکر پیش کئے جو دیوبندی ملائیت کا حصّہ تھے یا دیوبندی ازم کے علمبردار تھے اور وہ اپنے آپ کو بدلے ہوئے لوگ بتلارہے تھے۔ان کا ماضی تو سب کے سامنے تھا کہ یہ لوگ یا تو دیوبندی مدارس سے فارغ التحصیل تھے اور وہیں سے ماسٹرز کرنے کراچی، اسلام آباد،لاہور،پشاور یا کوئٹہ میں جدید یونیورسٹی میں پہنچ گئے اور وہاں پہ یا تو یہ جماعت اسلامی کے جہادی نیٹ ورک سے وابستہ ہو‏ئے یا دیوبندی جہادی نیٹ ورک سے ان کا تعلق رہا۔اور اسی طرح کئی سپاہ صحابہ پاکستان کے تیار کردہ تھے۔ان میں سے کچھ لوگ عملی زندگی میں مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا یا پرنٹ میڈیا کا حصّہ بھی بنے اور آج کل سوشل میڈیا پہ یہ لوگ دو طرح کی لائن کے ساتھ مصروف ہیں۔

ایک وہ ہیں جو کشمیر، افغانستان و دیگر جگہوں پہ سرگرم دیوبندی عسکریت پسندی کو عین جہاد کہتے ہیں اور پاکستان میں سرگرم دیوبندی عسکریت پسندی کو وہ غلط کہتے ہیں۔جبکہ ایک حلقہ وہ ہے جو تحریک طالبان پاکستان سمیت پاکستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کی جدوجہد کو بھی ٹھیک کہتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ پاکستان میں دیوبندی علماء کی اکثریت پاکستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کو دہشت گرد قرار دینے والی پاکستانی ریاست کے ساتھ کھڑے ہوکر اور ان کی حکومتوں کا حصّہ بنکر غلط کررہی ہے اور وہ اسے موقعہ پرستی اور اقتدار پرستی کہتے ہیں۔یہ دونوں کیمپ سوشل میڈیا پہ بھی اب کھل کر سرگرم ہوگئے ہیں۔اور چند ایک ویب سائیٹ،سوشل نیٹ ورک پیجز پہ ان کا وجود بہت نمایاں ہے۔یہ جہاد ازم، پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی 80ء کی دہائی کی تزویراتی گہرائی کی پالیسی کے من وعن نفاذ اور واپسی کے زبردست حامی ہیں۔اور ان کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی اور تباہی کی وجہ 89ء کی دہائی میں جہاد ازم سے ریاستی اداروں کی دست برداری کے سبب ہوئی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کی جملہ دیوبندی قیادت چاہے اس کا تعلق وفاق المدارس سے ہو یا دیوبند کی سیاسی نمائندہ جماعتوں جے یو آئی (سب دھڑے) اور اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ پاکستان ) سے ہو یہ سب کے سب اس بات پہ متفق ہیں کہ جس دن پاکستانی ریاست نے القاعدہ سمیت کئی ایک عسکریت پسند گروپوں کو دہشت گرد قرار دیا اور کئی ایک گروپوں کے خلاف امریکی کاروائیوں کی حمایت شروع کی وہ ایک یو ٹرن تھا اور آج پاکستان میں جو خون ریزی ہے اس کا سبب وہی یو ٹرن ہے۔

(3) اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کو قرار دیا جا رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی نے ملک کو اجاڑنے میں کوئی کسر چھوڑ نہیں رکھی، جگہ جگہ خود کش حملوں اور تخریبی کارروائیوں نے ملک کو بدامنی کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے، ان تخریبی کارروائیوں کی تمام محب وطن حلقوں کی طرف سے بار بار مذمت کی گئی ہے، اور انہیں سراسر نا جائز قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ کارروائیاں مستقل جاری ہیں، لہٰذا اس صورت حال کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر ملک بھر کی متفقہ مذمت اور فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود یہ کارروائیاں کیوں جاری ہیں؟ اور اس کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ ہماری نظر میں اس صورتحال کا بہت بڑا سبب وہ افغان پالیسی ہے جو جنرل پرویز مشرف نے غلامانہ ذہنیت کے تحت کسی تحفظ کے بغیر شروع کر دی تھی، اور آج تک اسی پر عمل ہوتا چلا آرہا ہے، لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت امریکہ نوازی کی اس پالیسی کو ترک کر کے افغانستان کی جنگ سے اپنے آپ کو بالکل الگ کرے اور امریکی افواج کو مدد پہنچانے کے تمام اقدامات سے دستبردار ہو۔ (حوالہ قرارداد)

دیوبندی علماء ہوں، سلفی علماء ہوں، جماعت اسلامی کی قیادت ہو یہ سب کے سب پاکستان کے اندر اور پاکستان کے باہر سرگرم جہادیوں اور عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف آج تک ایسا کوئی اعلامیہ سامنے لیکر نہیں آئے جس میں انھوں نے یہ کہا ہو کہ لشکر جھنگوی، جیش محمد، حرکت المجاہدین، حرکۃ الانصار،جماعت الاحرار،القاعدہ برصغیر الہند،اور اب داعش خراسان دیوبندی۔سلفی نہیں ہیں۔نہ ہی انھوں نے ان تنظیموں کو خارجی،تکفیری تنظیمیں کہا اور ان کی دہشت گردی کی جو نظریاتی بنیادیں ہیں ان کو بھی غیر دیوبندی اور غیر اسلامی قرار نہیں دیا۔ایسے بہت سے لوگ ہمیں سوشل میڈیا پہ غیر جانبدار تجزیہ کار بنے نظر آتے ہیں۔جب جب پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم ہوتا ہے اور لوگ مرتے ہیں اور زخم تازہ ہوتے ہیں اور ایسی کاروائیاں کرنے والوں کی مذہبی شناخت سامنے آتی ہے  اور پتا یہ چلتا ہے کہ یہ دیوبندی عسکریت پسندوں کی کاروائی ہے اور اس پہ لوگ دیوبندی ازم کی عصر حاضر کی آئیڈیالوجی پہ سوال اٹھانے لگتے ہیں اور اس کی مذمت کی جانے لگتی ہے تو ایک دم سے یہ لوگ دیوبندی ازم کے دفاع کار بنکر سامنے آجاتے ہیں۔اور دیوبندی ازم کی ریڈیکلائزیشن کے سوال سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے یہ لوگ کہیں تو بریلویوں کو بڑا یا برابر کا خطرہ بتلاتے ہیں یا پھر شیعہ کو اور اسی ضمن میں ایران اور ایرانی لابی کا ڈھول بھی پیٹا جانے لگتا ہے۔ریڈیکل مدارس کے کردار پہ بات ہوتی ہے تو یہ جامعہ بنوریہ کی عظمت کے قصّے سنانے لگتے ہیں اور عملی طور پہ دہشت گردی اور انتہا پسندی میں ملوث مدارس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی پہ رائے عامہ کے ہموار ہونے کی راہ کو کھوٹا کرنے لگ جاتے ہیں۔

میں جب لفظ دیوبندی قیادت بولتا ہوں تو اس سے میری مراد وفاق المدارس،دیوبندی سیاسی ومذہبی جماعتوں کی قیادت ہوتی ہے اور اس دیوبندی قیادت میں کوئی ایک آواز بھی ایسی نہیں ہے جو دیوبندی مدرسہ تحریک کو سلفی ازم،وہابیت،سعودی نوکری کے خلاف بلند ہوئی ہو۔ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے شیعہ کے خلاف تکفیر کی سیاسی میدان میں لڑائی لڑنے والی سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت کا داخلہ کسی مدرسے،کسی مسجد یا اپنے کسی دفتر میں بند کیا ہو۔اور ان میں سے کسی ایک دیوبندی رہنماء نے ببانگ دہل کبھی یہ کہا ہو کہ دیوبندی مدرسہ تحریک کو سعودی وہابی حکومت کی پراکسی نہیں بننے دیں گے۔اس دیوبندی قیادت کے حامی صحافتی دنیا کے لوگ ہوں یا سوشل میڈیا پہ سرگرم گروہ ہوں وہ بھی دیوبندی قیادت سے مختلف نہیں ہیں۔اور یہ سب کے سب پاکستان میں جنوبی ایشیائی صوفی کلچر کا اینٹی کلچر ہیں۔اور اپنے افکار اور عمل سے دیوبندی عسکریت پسندی کو اپنا نظریاتی ساتھی خیال کرتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے یہ پاکستانی عوام کی اکثریت کو اس معاملے سے لاعلم رکھنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ابتک ہونے والی 90 فیصدی دہشت گردی دیوبندی عسکریت پسند گروپوں کی جانب سے ہوئی ہے اور اس عسکریت پسندی کی جڑیں دیوبندی تنظیموں اور مدارس کے اندر پیوست ہیں۔

 

وہ دھماکہ کریں،تم کلچر کو پابند سلاسل

 

 

فروری کی 16 تاریخ اور دن جمعرات کا اور شام کے سات بجنے میں 5 منٹ باقی تھے جب سندھ کے ضلع دادو کے تعلقہ سہیون شریف میں واقع شیخ عثمان مروندی الحسینی المعروف لال شہباز قلندر کے مزار کے اندر عین ان کی قبر پہ پائنتی کی جانب تکفیری دیوبندی دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کا خودکش بمبار پہنچا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔یہ وہ وقت جب مزار کے احاطے میں زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی اور وہاں پہ دھمال ڈالی جارہی تھی۔اس افسوسناک واقعے میں 80 افراد شہید اور 250 سے زائد افراد شدید زخمی ہوگئے۔دو دن میں ملک کے مختلف حصوں میں پانچ خودکش حملے ہوئے جبکہ ایک واقعہ میں ڈیرہ اسماعیل خان مين پولیس کی وین پہ فائرنگ کی گئی اور ان واقعات کی زمہ داری جماعت الاحرار، تحریک طالبان،داعش خراسان اور لشکر جھنگوی العالمی نے ملکر قبول کی ہے اور یہ سب تنظیمیں دیوبندی مکتبہ فکر کی تکفیری،خارجی اور جہادی آئیڈیالوجی سے اشتراک رکھنے والی تنظیميں ہیں۔

شیخ عثمان مروندی الحسینی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں مولانا عبدالحی لکھنوی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے :

الشيخ عثمان بن حسن المروندي

الشيخ الصالح عثمان بن حسن الحسيني المروندي ثم السيوستاني المعروف بلعل شاهباز

قدم ملتان سنة اثنتين وستين وستمائة، فكلفه محمد بن غياث الدين الشهيد بالإقامة في

ملتان، وأراد أن يبني له زاوية بتلك المدينة فلم يقبله وسافر في بلاد الهند، ثم رجع إلى أرض

السند وسكن بسيوستان، ولم يزل بها حتى مات، وكان شيخاً وقوراً مجرداً حصوراً، يذكر

له كشوف وكرامات، توفي سنة ثلاث وسبعين وستمائة بسيوستان فدفن بها، كما في تحفة

الكرام.

پاکباز نیک بزرگ عثمان بن حسن الحسینی المروندی ،السیستانی لعل شہباز (قلندر ) کے نام سے معروف ہیں۔یہ 732ھجری میں ملتان آئے جب یہاں غیاث الدین  کی حکومت تھی اور اس نے چاہا کہ حضرت عثمان مروندی ملتان قیام کریں اور یہیں پہ اپنا زاویہ/تکیہ /خانقاہ بنالیں لیکن انھوں نے قبول نہ کیا اور ہندوستان کے کئی شہروں کا سفر کیا اور پھر سندھ کی دھرتی پہنچے اور سیوستان میں قیام کیا اور وہیں پہ رہے اور وہیں پہ وصال فرمایا اور شیخ عثمان مروندی بہت ہی بڑے صاحب مجاہدہ بزرگ تھے،ان سے بہت سے کشوف اور کرامتیں منسوب ہیں۔اور ان کی وفات تحفۃ الکرام کے مطابق 780ھجری میں ہوئی۔

اس کے علاوہ عرب کے کئی ماہرین تاریخ جنھوں نے عرب سے ہجرت کرجانے والے علماء و مشائخ کا تذکرہ کیا ہے ان کا زکر بھی بڑے اہتمام کے ساتھ کیا ہے۔یہاں تک کہ شام،مصر ،ترکی ،لبنان اور اردن کے ماہرین تاریخ بھی آپ کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں۔لال شہباز قلندر کے سہیون شریف کو سندھو وادی کا اجمیر بھی قرار دیا جاتا ہے اور ان کو سندھ کا خواجہ غریب نواز بھی کہتے ہیں۔اور شیخ عثمان مروندی دیگر صوفیاء کرام کی طرح ہندؤ،سکھ،مسلمان، شیعہ ،سنّی ،اعتدال پسند دیوبندی ( علامہ عبدالحی لکھنوی دیوبندی مدرسہ ندوۃ العلماء لکھنؤ میں ہی استاد تھے )، کرسچن اور یہاں تک کہ یہودیوں میں بھی یکساں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہيں۔کراچی میں رہنے والی قدیم پارسی اور یہودی برادری کے لوگ برٹش انڈیا دور میں باقاعدگی سے لال شہباز قلندر کے مزار پہ حاضری دیا کرتے تھے۔آپ کی شاعری اور اقوال پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آپ ان سنّی بزرگوں میں سے تھے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پہ فضیلت کے قائل تھے۔دارشکوہ ملّا بدخشانی کے سلسلہ طریقت سے لال شہباز قلندر تک جاملتے ہیں۔آپ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے فرزند اسماعیل کی اولاد میں سے ہیں جبکہ آپ مولانا جلال الدین رومی کے ہم عصر ہیں۔مروند آزربائیجان کا شہر ہے جہاں آپ کی ولادت ہوئی تھی۔اور ماہرین تاریخ کا خیال یہ ہے کہ جب بنوامیہ کا جبر وستم حد سے تجاوز کرگیا تو کئی سادات وہاں سے نکل کر وسط ایشیاء کی جانب آئے انہی میں لال شہباز قلندر کے آباء بھی تھے۔سندھ کی سرزمین پہ جو تہذیب اور کلچر فروغ پایا اس میں آپ کا کردار بھی اہم بتایا جاتا ہے۔جسے عمومی طور پہ جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کہا جاتا ہے آپ کو اس کے معماروں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔اور دیوبند مدرسہ تحریک میں جو تکفیری،جہادی اور عسکریت پسند عنصر ہے وہ سلفی ازم کے ساتھ اشتراک میں اس جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کا سخت دشمن اور مخالف ہے۔وہ اس کلچر کو مکمل طور پہ تباہ کرنا چاہتا ہے۔لال شہباز قلندر کے مزار پہ ہونے والا حملہ جنوبی ایشیائی اسلامی کلچر کے خلاف تکفیر ازم، جہاد ازم اور نیو دیوبندی ازم کی چھیڑی جانے والی جنگ کا ہی تسلسل ہے جس کی نمائندگی سندھ کے اندر تیزی سے پھیلتی ہوئی دیوبندی تکفیری تنظیم اہل سنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کی فکر سے اشتراک رکھنے والے دیوبندی مدارس کرتے ہیں جوکہ سندھ میں تقسیم سے پہلے سے موجود اعتدال پسند اور صلح کل دیوبندیت کا چہرہ بھی بگاڑرہے ہیں۔سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ کو 94 ایسے دیوبندی اور سلفی مدارس کی لسٹ ارسال کی تھی جوکہ کالعدم دہشت گرد تکفیری تنظیموں کی سرپرستی کرنے میں مصروف ہیں اور ملک میں انتہا پسندی،دہشت گردی اور فرقہ پرستی کو پروان چڑھارہے ہیں۔یہ فہرست سندھ اور وفاق کے سیکورٹی و انٹیلی جنس ودیگر اداروں کی مشترکہ انوسٹی گیشن کے بعد مرتب کی گئی تھی اور اس میں صرف کراچی کے اندر 74 مدارس مووجود ہیں۔لیکن وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس فہرست کو مصدقہ ماننے سے انکاری ہیں اور وہ پاکستان کے اندر کام کرنے والے تکفیری دیوبندی۔سلفی نیٹ ورک کو دہشت گرد نیٹ ورک سے الگ کرکے دیکھنے پہ اصرار کرتے ہیں۔اور شاید وہ پاکستان کے پہلے وفاقی وزیرداخلہ ہیں جو تکفیری انتہا پسند تنظیموں کی صفائی پیش کرتے نظر آتے ہیں۔پاکستان کے ریاستی حکام آج تک دہشت گردی اور تکفیرازم،جہاد ازم کے درمیان باہمی تعلق کو ہی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ریاستی حکام جب یہ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا تو اصل میں وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ پاکستان میں شیعہ، صوفی سنّی، کرسچن، ہندؤ، احمدی، سکھ اور دیگر برادریوں کے خلاف جاری دہشت گردی کسی آئیڈیالوجی کے زیر اثر نہیں لڑی جارہی اور یہ ایک طرح سے دہشت گردوں کی شناخت اور ان کی فکری بنیادوں پہ پردہ ڈالنے کی کوشش ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دوسرے لفظوں میں دہشت گردوں کے نظریہ سازوں، سہولت کاروں،ہمدردوں کو بچانے کی کوشش ہے۔پاکستان کے حکام دہشت گردی کے خارجی ، غیر ملکی اور بیرونی عوامل پہ بہت زور دیتے ہیں لیکن دہشت گردی کے اندرونی اور داخلی عوامل پہ ان کا رویہ انکار۔جواز یا ابہام والا ہے۔اور یہی مخمصہ بار بار اس ملک کے صوفی کلچر سے جڑے لوگوں کے لئے تباہ کن اور خون خوار ثابت ہورہا ہے۔

حکومتوں نے دہشت گردی کے واقعات کے بعد وتیرہ یہ بنالیا ہے کہ وہ مزارات کو سیل کردیتی ہے۔صوفی اور دیگر کلچرل فیسٹول پہ پابندیاں عائد کرتی ہے اور چھوٹے اور دور دراز علاقوں میں موسم بہار میں مقامی میلوں اور عرس کی تقریبات کے انعقاد پہ پابندی لگادیتی ہے۔جیسے اس نے ہزاروں رسمی مجالس اور جلوس ہائے عزاداری پہ پابندی لگائی۔اور اس طرح سے ریاست اور حکومتیں خود تکفیری دیوبندی اور سلفی ازم کا ایجنڈا پورا کرتی ہیں اور رد ثقافت پالیسی کا اجراء کرتی ہیں۔کلچر مخالف دیوبندی تکفیری کارخانوں کو آپ بند کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت جیسی تنظیموں کی وکالت میں آگے آگے ہوتے ہیں لیکن مزار۔عرس،میلہ ، فیسٹول کے خلاف پوری ریاستی مشینری استعمال کی جاتی ہے اور یہاں تک کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک جج “یوم محبت ‘ کو اسلام کے خلاف قرار دے ڈالتا ہے اور سرخ غباروں اور سفید ربن فروخت کرنے پہ پابندی عائد کردی جاتی ہے۔بیساکھی کے میلے پہلے ہی حکومتیں بند کرچکی ہیں۔یہ تکفیر ازم اور جہاد ازم کے سامنے مکمل سرنڈر کرجانے کے مترادف ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ خودکش بم دھماکوں سے مزارات پہ حاضری،میلوں ٹھیلوں میں شرکت،میلاد و عاشور کے جلوسوں میں شرکت سے روکیں تو تم پورے کلچر کو پابند سلاسل کرو،مزارات کو سیل کردو، فیسٹول پہ پابندی لگادو۔مطلب یہ کہ ان کا سو فیصد ایجنڈا پورا کردیا جائے۔اور سیکورٹی اور تحفظ کے معاملے میں بھی ریاست کی ترجیح عوام ان کی عبادت گاہیں،مزارات،امام بارگاہیں،مساجد،جلوس ،میلے نہیں ہیں بلکہ مقدم اور سب سے ضروری وی آئی پیز کی حفاظت ہے۔جس قدر حفاظتی اقدامات ایک ڈی پی او آفس،ڈی سی او آفس، سیشن و سول کورٹس کی جاتی ہےاس کا 20 فیصد بھی اگر عوام کو فراہم کیا جائے تو ایسے واقعات کی شرح بہت ہی کم ہوجائے۔سافٹ ٹارگٹ کا ایک مطلب حکومت عوام کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پہ چھوڑنا بھی ہے۔

 

پاکستان کے شیعہ :بے رحم نسل کشی کی نقشہ گری

%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%81-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%da%ba

بے رحم شیعہ نسل کشی

عباس زیدی

عباس زیدی نے بطور استاد اور صحافی پاکستان، برونائی اور آسٹریلیا میں کام کیا ہے۔وہ آج کل سڈنی میں مقیم ہیں جہاں پہ وہ کئی ایک جامعات میں بطور ٹیوٹر اور رائٹنگ ایکسپرٹ کے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔انھوں نے افسانوں کی ایک کتاب “ڈھائی الفاظ ” کے نام سے انگریزی میں لکھی ہے جو شایع ہوچکی ہے۔جبکہ پاکستان کی سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے تناظر میں وہ ایک ناول لکھ چکے ہیں جو عنقریب ایک بین الاقوامی اشاعتی ادارے سے شایع ہوگا۔

انھوں نے پاکستان میں شیعہ نسل کشی بارے ایک تفصیلی ریسرچ پیپر لکھا ہے جس کا عنوان

The Shias of Pakistan: Mapping an altruistic genocide

ہے اور یہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے بارے میں اپنی نوعیت کی پہلی اور انتہائی منفرد اہم تحقیق ہے۔پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا انکار کرنے یا شیعہ کے خلاف چلنے والی مہم کو شیعہ نسل کشی ماننے سے انکار کرنے ، اس پہ ابہام کے پردے ڈالنے، اس کا جواز تلاش کرنے کے لئے غلط بائنری کا سہارا لینے والوں کی کمی نہیں ہے۔عباس زیدی نے اپنے تحقیقی مقالے میں شیعہ نسل کشی کے کیس کو ثابت کرنے کے لئے شیعہ نسل کشی کا ماڈل ، اس کی تعریف اور تشریح بین الاقوامی تحقیق کے معیارات کے مطابق کی ہے اور تحقیق میں عباس زیدی نے شیعہ نسل کشی پہ تحقیق کے کئی اور ممکنہ پہلوؤں بارے بھی زور دیا ہے۔یہ انگریزی میں مقالہ لکھا گیا اور مجھے محسوس ہوا کہ اس کا اردو میں ترجمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔اگر یہ تحقیقی مقالہ پاکستان کے اندر صحافیوں، تحقیق کرنے والے سماجی ماہرین، سول سوسائٹی کے افراد ،مذہبی سکالرز تک پہنچ جائے گا تو یہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی پہ اب تک موجود ڈسکورس کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔اور پاکستان میں نسل کش ذہن بارے لوگوں کی سوچ کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔(عامر حسینی )

تعارف

الطاف حسین ڈیرہ اسماعیل خان کا رہائشی تھا اور پشاور میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے طور پہ کام کررہا تھا۔اسے کالعدم دہشت گرد دیوبندی تنظیم اہل سنت والجماعت۔سپاہ صحابہ پاکستان /لشکر جھنگوی کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔13 دسمبر 2013ء کو دفتر گیا مگر دفتر سے واپس گھر نہ لوٹا۔اس کے گھروالوں نے معمول کے مطابق شام کو اسے فون کیا مگر اس کا فون بند تھا اور کئی بار کوشش کے وہ رابطہ کرنے میں ناکام رہے۔سات دن بعد 20 دسمبر کو ان کو اطلاع دی گئی کہ الطاف کی لاش مردان سے ملی ہے۔اس کا مسخ شدہ سر اور جسم کے اعضا پورے علاقے میں بکھرے پڑے تھے۔

پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے یکساں طور پہ اس خبر کا بلیک آؤٹ کیا۔صرف ڈیرہ غازی خان کے ایک مقامی اخبار نے اس اندوہناک واقعہ کو رپورٹ کیا۔( احمد،21 دسمبر 2013ء)۔ڈیرہ اسماعیل خان سے باہر رہنے والے لوگوں کو الطاف حسین سے ہوئی واردات کا پتا ان کے خاندان کے دوست انصار عباس سے چلا۔2009ء میں انصار عباس خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا تھا جب اس نے اپنے دونوں ہاتھ ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ جلوس عزا میں ہونے والے بم دھماکے میں کھودئے تھے۔اب وہ اپنے پیروں سے ٹوئٹ لکھتا ہے( غنی،10فروری 2014ء)۔انصار عباس کی کہانی بھی پاکستانی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول نہ کراسکی۔

یہاں پہ ایک اور ایسا ہی کیس ہے:

فروری کی اٹھارہ تاریخ اور سال 2013ء میں ڈاکٹر علی حیدر اپنے 12 سالہ بیٹے علی مرتضی کو اس کے اسکول چھوڑنے کے لئے گھر سے روانہ ہوئے۔جونہی وہ ایف سی کالج لاہور کے نزدیک انڈر پاس پہ پہنچے تو چار افراد موٹر سائیکل پہ سوار ان کی گاڑی کے قریب ہوئے اور گولیوں کی پوچھاڑ کردی۔جیسے ہی کار روڈ کے ساتھ کنارے سے ٹکراکر رکی تو حملہ آور ان کی طرف بھاگ کر آئے اور ڈاکٹر علی حیدر کے چہرے اور سر پہ کئی گولیاں ماریں اور اس کے بعد انہوں نے ڈاکٹر کے بیٹے کے سر میں گولی ماری اور فرار ہوگئے۔ڈاکٹر علی حیدر پاکستان کے مایہ ناز ڈاکٹروں میں سے ایک تھے اور جب ان کا قتل ہوا تو وہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں استاد اور لاہور جنرل ہسپتال کے شعبہ آپتھامولوجی کے سربراہ تھے۔

اسی فروری کے مہینے میں جب ڈاکٹر علی حیدر کا قتل ہوا ملک کے کئی حصوں میں سینکڑوں مرد، عورتیں ، بچے ،لڑکے ، لڑکیاں ماردئے گئے۔سب سے برا المیہ یہ تھا کہ ان ہلاکتوں کے بارے میں نہ تو میڈیا، نہ ہی سیاست دانوں، رائے عامہ ہموار کرنے والوں، سماجی کارکنوں ، این جی اوز ، انسانی حقوق کی تنطیموں بشمول پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن نے اس بات کی نشاندہی کی یہ مارے جانے والے لوک شیعہ تھے۔

تو ایک لکھاری یا محقق جو آج یا مستقبل میں پاکستان میں عقیدے کی بنیاد پہ مارے جانے والوں کے بارے میں لکھے گا اور اپنے کام کی بنیاد دستیاب صحافتی مواد پہ رکھے گا تو لفظ “شیعہ ” اسے موجود نہیں ملے گا۔تو دوسرے لفظوں میں پاکستانی مین سٹریم میڈیا کی رپورٹنگ میں اسے شیعہ کلنگ کی مثال ہی مشکل سے ملے گی چہ جائیکہ اسے شیعہ نسل کشی کا لفظ ملے

یہ باب پاکستان مین شیعہ نسل کشی کے بارے میں ہے۔نسل کشی کی اصطلاح کی تعریفات بہت ہی عمومی ہیں تو اس لئے یہ بہتر سمجھا گیا ہے کہ پایستان میں شیعہ نسل کشی کے تناظر میں نسل کشی کی خصوصی تعریف وضع کی جائے۔

یہ باب نسل کشی کا ایک ماڈل بھی تجویز کرتا ہے اور یہ امید ہے کہ یہ ماڈل نسل کشی کی عمومی حرکیات کی کہانی کو بیان کردے گا۔میں یہاں پہ یہ بھی صاف صاف کہتا ہوں کہ نسل کشی کی مجوزہ تعریف اور ماڈل نسبتا نئے ہیں تو اس تعریف کے عارضی پن  یہاں تک کہ اس میں مغالطہ آفرینی اگر پائی جائے تو اس پہ بھی بات کی جائے۔

ایک دوسرا نکتہ جسے میں یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ پاکستان میں شیعہ ہی وہ واحد کمیونٹی نہیں ہے جو نسل کشی پہ مبنی حملوں کی زد میں ہے۔احمدی، کرسچن،ہندؤ،بریلوی سنّی /صوفی سنّی بھی دیوبندی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں انتہائی مذہبی جنونی حملوں کا شکار ہیں۔تاہم یہ صرف شیعہ کے بارے میں کی گئی اسٹڈی ہے۔

2-طریقہ کار

نسل کشی پہ جو اسٹڈیز کی جاتی ہیں ان میں عمومی طور پہ کھلا تحقیقی طریقہ کار ۔اکسپلٹ ریسرچ میتھڈولوجی کو استعمال میں نہیں لایا جاتا۔جبکہ مجوذہ ماڈل نسل کشی کی حرکیات کا بیان ہے تو ميں نے ہالیڈے کی سسمیٹک فنکشنل لنگویسٹک کو استعمال کیا ہے۔اس طریقہ کار کا لب لباب یہ ہے کہ زبان حقیقت جیسی کہ وہ معاشرے میں ہوتی ہے یا جیسے اسے سمجھا جاتا ہے کا بنیادی حوالہ ہوتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں متعدد واقعات لوگوں کے اپنے اردگرد کی دنیا سے وابستگی کا نتیجہ ہوتے ہیں یا جاری واقعات سے وابستگی کا جوکہ ہالیڈے کے بقوق لوگوں کا تجربے کے بارے میں سب سے طاقتور تاثر ہوتا ہے۔اور یہی ایک مثالی فنکشن ہے لینگویج کا جو لوگوں کے داخلی و خارجی دنیا کے تجربے پہ زور دیتا ہے  ( ہالیڈے ،1971ء ،1996ء،ص 58)۔

تاہم واقعات کوئی جامد شئے نہیں ہوتے۔ان کو لوگ معانی دیتے ہیں کیونکہ وہ ان کو خاص طرح سے سمجھنا چاہتے ہیں اور اس طرح سے یہ واقعات اپنے شاہد کو ایک خاص طرح کا لازمی کردار دیتے ہیں۔اور یہ انٹر پرسنل یا  جانچ کرنے کا فنکشن ہے۔(ہالیڈے 1971/1996 ص 58،59)۔ہالیڈے اسی کردار کو مزید کھولتا ہے:

بولنے والا زبان کو کسی بھی سپیچ ایونٹ کے اندر اپنی مداخلت کے زریعہ کے طور پہ استعمال کررہا ہوتا ہے:اس کے تبصرے کے تاثرات، اس کے رويے ، قدر پیمائی اور وہ تعلق بھی جو وہ اپنے اور سننے والے کے درمیان پیدا کرتا ہے۔اور خاص طور پہ وہ کیمونیکشن ، ابلاغ جو اطلاع دینے، سوال کرنے ، مبارکباد دینے ، یقین دلانے اور وغیرہ وغیرہ کے لئے اپناتا ہے۔واقعات کا ہونا اور ان کو پیش کرنا تاہم کچھ خاص طریقوں سے کرنا پڑتا ہے۔دوسرے لفظوں میں واقعات کے ہونے کو ایک غالب اور مرکزی جگہ دینا پڑتی ہے  تو وہ غالب منظرنامے کے طور پہ کام کرتے ہیں۔یہ زبان کا متنی فنکشن ہے جس کے زریعے سے زبان اپنا ربط اور تعلق خود اپنے ساتھ اور صورت حال حال کے ساتھ پیدا کرتی ہے اور ڈسکورس ممکن ہوجاتا ہے کیونکہ بولنےوالا یا لکھنے والا ایک متن پیدا کرسکتا ہےہے اور سننے والا یا پڑھنے والا اس کو تسلیم کرلیتا ہے۔

)                                               Halliday, 1971/1996, p. 59)

ہالیڈے کے سسمیٹک فنکشنز کی بنیاد پہ نیچے دیا گیا ماڈل بخوبی یہ بتائے گا کہ نسل کشی کی منصوبہ بندی کیسے ہوتی ہے ، اس پہ عمل کیسے ہوتا ہے اور اس کا جواز کیسے فراہم کیا جاتا ہے؟ مختصر طور پہ یہ کہ ایک نسل کشی  ماضی یا حال کی حقیقت پہ  یا تصوراتی واقعات پہ استوار ہوتی ہے۔

کسی بھی مقرر کردہ گروپ کو قصور وار ٹھہرانے کے لئے کسی بھی نسل کشی کی مہم میں حقائق کو ایسے ترتیب دیا جاتا ہے جس سے اس مہم کا جواز نکل سکے۔اور کسی گروپ کو مختص کرنا یا متاثرہ کو ہی الزام دینے کا عمل ہی ترتیب دینے یا پوزیشننگ کا ایکٹ ہے۔اور آخر میں شناخت، عقیدے وغیرہ اس قصور وار ٹھہرائے گئے گروپ کے مختلف طریقوں سے ایسے پیش کیے جاتے ہیں کہ وہ اس گروپ کے جرائم لگیں ہور ان کا غیر اخلاقی پن بھی۔

3: نسل کشی ۔تعریف کا مسئلہ

جینوسائیڈ یا نسل کشی ایک بدقسمت ٹرم /اصطلاح ہے جو کہ بہت سے دانشورانہ ذہن رکھنے والوں کی تنگ نظر یا انتہائی محدود اپروچ کا انکشاف کرتی ہے۔مثال کے طور پہ مائیکل اگنا ٹیف (2001،ص25) یہ قبول کرنے سے انکار کرتا ہے کہ سیاہ فام کی غلامی جس نے لاکھوں سیاہ فام مار ڈالے جینوسائیڈ /نسل کشی تھی۔دوسرے لفظوں میں مائیکل اگناٹیف کے مطابق یہ نسل کشی اس لئے نہیں تھی کہ غلامی ان کی زندگیوں کے استحصال کا نظام تھی نہ کہ ان کو ختم کرنے کا۔اس کے خیال میں  نسل کشی کا مطلب اس وقت ہوتا ہے جب جرم بہت واضح انداز میں ایک انسانی گروہ کے مکمل یا جزوی خاتمے کے ارادے سے کیا جائے۔بلند آہنگ مبالغہ آرائی سے کہیں زیادہ کوئی چیز یہاں پہ داؤ پہ لگی ہوئی ہے۔ہر ایک زیادتی کو یا جرم کو نسل کشی کہنا لوگوں کو اٹھ کھڑا ہونے یا روبہ عمل ہونے کو مشکل بناڈالتا ہے جب ایک حقیقی نسل کشی کا جرم وقوع پذیر ہورہا ہوتا ہے۔

اگناٹیف غلامی کا ایک انسانی پہلو پیش کرتا ہے۔اس کے تشکیل کے مطابق غلامی مين انسانی جانوں کا ضیاع بالذات مقصود نہ تھا۔آقا اسقدر برا بہرخال نہیں تھا کیونکہ وہ غلاموں کو تادیر صحت مند زندگی کے ساتھ جیتا دیکھنا چاہتا تھا تاکہ وہ ان کے اجسام کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرسکے۔

اگناٹیف کا جو بنیادی مقدمہ ہے وہ علامی کی مبادیات کو بھی سمجھنے کو تیار نہ ہے۔جب وہ کہتا ہے یہ جو بھی تھا۔۔۔۔ وہ ہر زیادتی اور جرم کو نسل کشی پہ مبنی کہنے سے بھی ناخوش ہے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ  آج غلاموں کی جو بچی کچھی باقیات ہے وہ اگناٹیف کے غلامی بارے نکتہ نظر کو مشکل سے تسلیم کرے گی۔یہ سوال کیا جاسکتا ہے:ان غلاموں کے بارے میں کیا کہا جائے گا جو ایک مرتبہ اپنے جسم کے فائدہ مند استعمال کے قابل نہ رہے؟کیا ان کے لئے ان کے سفید فام آقاؤں نے کوئی ویلفئیر سسٹم بنایا ہوا تھا؟اور ان کے بارے میں کیا جو پیدائشی طور پہ ہی سفید قام آ‍قاؤں کے لئے منافع بخش نہ تھے اور کسی معذوری کا شکار تھے؟کیا ہوگا اگر ان غلاموں کے وارث آج دعوی کریں کہ ان سے کیا گیا سلوک نسل کشی تھا؟کیا ان کو منہ بند رکھنے کو کہا جائے گا صرف اس وجہ سے ان کے دعوے نسل کشی کی اس تعریف کے مطابق نہ تھے جو اگناٹیف نے اپنے محفوظ اور پرسکون گھر یا آفس میں بیٹھ کر تشکیل دی ہے؟

نسل کشی پہ ہونے والی روائتی بحث کا ایک اور بدقسمت پہلو اس کا لوگوں کے جسمانی خاتمے کی تعداد پہ فوکس کرنا ہے۔لاکھوں لوگوں کو قتل ہونا چاہئیے اگر نسل کشی کا اطلاق کرنا مقصود ہے تو۔وگرنہ کسی بھی متاثرہ گروپ کے سٹیٹس یا مقام کی بحث کے دوران اسے خون ریزی،قتل عام، خون خرابہ،تشدد، تباہی،یا ایک نامکمل نسل کشی جیسی مشکل اصطلاحوں سے تعبیر کیا جائے گا۔ اسی طرح میلسن (1992ء،ص 3) جزوی نسل کشی کی تعریف یوں کرتا ہے۔۔۔۔۔ کسی گروپ کی سیاست یا شناخت تبدیل کرنے کے لئے اس کا بڑے پیمانے پہ قتل یا دبایا جانا نہ کہ اسے مکمل تباہ کرنا جزوی نسل کشی کہلاتا ہے۔

میلسن قتل عام اور نسل کشی کے درمیان فرق نہیں کرتا جو والر(2007ء،ص 14) کرتا ہے۔تو :

محقق ریاست کی جانب سے دہشت گردی سے نکلی اجتماعی تشدد اور دہشت کو دو اصطلاحوں میں بیان کرتے ہیں۔ماس کلنگ مطلب کسی ایک گروپ کے لوگوں کو بغیر اس سارے گروپ کو ختم کردینے کے مارنا یا گروپ ممبر شپ کا تعین کئے بغیر لوگوں کو بڑی تعداد میں مارنا۔اجتماعی دہشت گردی کا مطلب نسل کشی جب ہوکا جب ایک حاص گروپ کو ایک منظم طریقے سے اور اس گروپ کو تباہ کرڈالنے کے ارادے سے مارا جائے گا۔

روبنسٹین (2004ء،ص 2) نسل کشی کی درج ذیل تعریف کرتا ہے:

نسل کشی کسی بھی گروپ کے سبھی یا اکثر لوگوں کا محض اس گروپ کے ممبر ہونے کی وجہ سے ارادے کے ساتھ مارنا ہے۔

اسے نمبر گیم بھی کہا جاسکتا ہے۔نام نہاد پازیٹوازم۔۔۔۔۔ جس کے مطابق نسل کشی کا ایک ہی معیار ہے اور وہ ہے مارے جانے والے لوگوں کی تعداد۔اگر کسی گروپ کے 49 فیصد لوگ مارے گئے اور 51 فیصد بچ گئے تو کیا ہوگا؟اسے نسل کشی کہا جائے گا؟روبنسٹین کی تعریف کے مطابق یہ نسل کشی نہیں ہوگی۔برونسٹین مضحکہ خیز حد تک ایک ہی سانس میں یہ بھی کہتا ہے:

ہٹلر نے تو چند یورپی یہودیوں کو مارا تھا جبکہ یورپی لوگوں نے 1492ء میں جب شمالی اور جنوبی امریکہ دریافت کئے تو اس سے کہیں زیادہ اس نے ریڈ انڈین مارڈالے تھے۔

روبنسٹین نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے مارے جانے کو نسل کشی کہتا ہے جبکہ مقامی امریکی باشندوں کی یورپی آبادکاروں کے ہاتھوں مارے جانے کو کچھ اور کہتا ہے نسل کشی نہیں۔

اور بہت سے سکالر ہیں جو نسل کشی میں لوگوں کے مارے جانے کی تعداد پہ مبنی تعریف کے سحر میں گرفتار ہیں۔پیٹر ڈروسٹ (1959،ص125) نسل کشی کی تعریف کرتا ہے:

The deliberate destruction of physical life of individual human beings by their membership of any human collectivity as such.

 Thackrah

بھی جسمانی طور پہ خاتمے کو ہی بنیادی شرط نسل کشی کی رکھتا ہے۔

The systematic elimination of a group of people who have been designated by another community or by a government to be destroyed.

بہت سا تحقیقی کام ایسا ہے جو نسل کشی کا حوالہ اقوام متحدہ کی تعریف کی روشنی میں دیتا ہے۔اقوام متحدہ نے 1948ء کے اعلامیہ برائے انسداد و سزا جرائم نسل کشی میں نسل کشی کی تعریف کی۔ایسا کوئی بھی عمل جو کسی قوم، نسلی ثقافتی گروہ ، نسل یا مذہبی گروپ کے جزوی یا مکمل تباہی کے ارادے سے کیا گیا ہو نسل کشی ہے۔

الف: کسی بھی گروپ کے ممبران کا قتل

ب: گروپ کے ممبران کو ذہنی یا جسمانی طور پہ شدید نقصان پہنچانا

ج:ایسے حالات زندگی اجتماعی طور پہ گروپ پہ مسلط کرنا جس سے اس گروپ کی اجتماعی یا جزوی جسمانی تباہی واقع ہو

د: اس گروپ کی افزائش نسل کو روکنے جیسے اقدامات اٹھانا

س: اس گروپ کے بچوں کو زبردستی دوسرے گروپ میں بدلنا

اس تعریف میں اگرچہ کئی شرائط بہتر ہیں لیکن بہرحال یہ محدود ہیں اور دوسری جنگ عظیم کے آخر میں دنیا کو کنٹرول کرنے کے عالمی طاقتوں کے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے وضع کی گئی تھیں۔اس میں کئی ایسے گروہوں کو خارج کردیا گیا کہ کہیں سوویت یونین نہ ناراض ہوجائے۔اقوام متحدہ نے جن حالات واواقعات کے تناظر میں نسل کشی کی تعریف وضع کی ہنٹن اور او نیل (2009ء،ص 4) نے نوٹ کیا:

The very concept and legal definition of genocide was forged in a highly politicised atmosphere, one that resulted in inclusions and exclusions and a moral gradation of atrocity. The destruction of political groups, while abhorrent, was written out of the convention and became something else, an implicitly lesser crime; cultural genocide similarly dropped from sight, eventually re-emerging in popular discourse as “ethnocide”.

بعض سکالرز نے نسل کشی کو سہانے خواب دکھاکر ،فریب والی اصطلاحوں سے چھپانے کی کوشش کی۔مثال کے طور پہ مائے (2010ء،ص 88) پہ لکھا

The lives [of genocide survivors] may well be enormously impoverished, but people will normally be able to form new social relationships and social rules partially to replace those lost by the genocidal campaign. Second, although the lives and deaths of the victims of genocide will be impoverished because of the loss of some group-based identification, perhaps even unaffected by what has occurred in the genocide. And, third, although genocide does affect the meaningfulness of both one’s life and death, it is likely that there is still some meaning to life and death ever after genocide.

یہ ایک اور بری مثال ہے اس بات کی کہ کیسے آرام دہ کرسیوں پہ بیٹھ کر سکالر نسل کشی جیسے مظہر بارے چیزوں کو چھپاتے ہیں۔اور یہ جو نارملی ، آئیڈنٹیفیکشن اور ایور آفٹر جیسے اظہار بے رحمی ، شقاوت قلبی ہیں نسل کشی کا شکار کسی بھی گروپ کے ممبر کے لئے۔

نسل کشی پہ لکھنے والے اکثر سکالرز اور مصنفوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے نسل کشی سے بچ جانے والوں کے ساتھ بہت کم وقت بتایا ہوتا ہے۔وہ اکثر نسل کشی پہ ثانوی معلومات پہ انحصار کرتے ہیں اور شاید ان لوگوں سے ہمدردی کا کم جذبہ رکھتے ہیں جن کا وہ مطالعہ کررہے ہوتے ہیں۔ایک اور مشکل یہ ہے کہ اکثر سکالر ٹھیک طریقے سے نسل کشی بارے تصور گری یا نظریہ سازی نہیں کرتے۔نسل کشی کے تصور کو سمجھنے کے ۂغے اس کا کئی زاویوں سے جائزہ لینا بنتا ہے۔ساتھ ساتھ اس کے سماجی۔تاریخی تناظر کے اندر اسے دیکھنا اور اس کے پیچھے چھپی تاريخوں کو سامنے لانا بنتا ہے

سوال یہ ہے کہ جینوسائیڈ کی تعریف کرنے کا اہل کون ہے؟عام طور پہ طاقتور ہی کسی کو فیور دینے یا نہ دینے کے لئے نسل کشی کا ٹائٹل دینے کا اختیار رکھتے ہیں۔اس طرح ساری مغربی دنیا امریکہ کی قیادت میں صدام حسین کو نسل کشی کا زمہ دار قرار دے دیتی ہے لیکن امریکہ کا حمائت یافتہ سہارتو انڈونیشیا کا آمر کمیونزم کو ٹیکل کرنے کے نام پہ انہی جرائم کی وجہ سے تعریف کا حقدار ٹھہرجاتا ہے۔لاطینی امریکہ میں سرد جنگ کے جرائم کرنے والوں کے جرائم کو نسل کشی اس لئے قرار نہیں دیا گیا کیونکہ وہ امریکہ کے اتحادی تھے۔امریکی اتحادیوں کی نسل کشی جیسے چلی مین آکسٹو پنوشے ، نکارگوا مین سوموزا اور ہیٹی میں ڈوالیئر کے جرائم کو نسل کشی ان کے امریکی پٹھو ہونے کی وجہ سے قرار نہیں دیا گیا۔نکارگوا کونٹراس میں ہزاروں لوگوں کا قتل عام کیا گیا اور کسی کو سزا نہیں ملی۔اور نہ مارے جانے والوں کے اہل خانہ سے کوئی معافی ماںگی گئی۔یعنی نسل کشی بہت برا فعل ہے مگر اس وقت تک جب تک عالمی طاقتوں کے مخالف یہ کریں اور اگر یہ ان کے اپنے پالتو کریں تو پھر کچھ نہیں ہے۔

تو یہان اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ شیعہ نسل کشی کو امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی توجہ کیوں نہ مل سکی ہے؟شیعہ نسل کشی پہ کوئی بھی بات شیعہ ایران کے لئے ہمدردی شاید پیدا کرتی ہے۔اور یہ یقینی ہے کہ الزام سعودیہ عرب کو جائے گا جو کہ امریکی اتحادی ہے اور پاکستان مين شیعہ نسل کشی بارے عدم توجہی کے پیچھے یہی وجہ کارفرما ہے۔تو جس وجہ سے سکالرز کی ایک بڑی تعداد نسل کشی پہ اعداد پہ زور کیوں دیتی ہے اس کا جاننا مشکل نہیں ہے۔ایک قابل اعتبار تشریخ مین یہ دینا پسند کروں گا کہ قریب قریب تمام اسٹڈیز جو نسل کشی پہ کی گئیں وہ ایکس پوسٹ فیکٹو ہیں۔نسل کشی جیسے ہوتی ہیں ان کو ویسے بیان نہیں کیا جاتا۔ہنٹن کی نسل کشی کی کرانیکل اسٹڈی ميں ” ٹینس یعنی زمانے ” کا استعمال اس نکتہ نظر کو ثابت کرتا ہے:

نیشن سٹیٹ ابھرنے کے ساتھ اور ان کی سامراجی اور جدید کرنے کے عزائم کے ساتھ دسیوں لاکھ پسماندہ اور وحشی مقامی لوگ بیماری ، بھوک ، اجرتی غلامی اور بے تحاشا قتل کے ساتھ ختم کردئے گئے۔جب نیشن سٹیٹس نے اپنے سوشل انجینئرنگ پروجیکٹس شروع کئے تو 6 کروڑ لوگ صفحہ ہستی سے مٹادئے گئے۔اس صدی کے دوران نسل کشی کا شکار ہونے والے کروہوں کی فہرست بہت طویل ہے۔کچھ تو کافی معروف ہیں جیسے یہودی،کمبوڈین، بوسینیائی اور روانڈک کے ہوٹس۔جبکہ دوسرے کئی گروپوں کی نسل کشی بغیر ظاہر ہوئے ہی کردی گئی جیسے آرمینی، یوکرائنی کسان، خانہ بدوش ، بنگالی ، برونڈی ہوٹس ،پیراگوئے کے اچے، گوئٹے مالا کے مایان اور نائیجریا کے آگونی

ایسا بھی نہیں ہے کہ نسل کشی کی نسبتا اچھی تعریف موجود ہی نہ ہوں۔چاک اور جوناسوہن (1990ء،ص23) پہ کہتے ہیں:

Genocide is a form of one-sided mass killing in which a state or other authority intends to destroy a group, as that group and membership in it are defined by the perpetrators.

یہ تعریف مکمل نہں لیکن اس کے چند اہم نکات ہیں – ایک تو یہ خودکشی کا شکار اور مرتکب دونوں کو شامل کرتی ہے، دوسرا یہ نسل کشی کا شکار اور مرتکب کے درمیان طاقت کے عدم  توازن کو دکھاتی ہے، تیسرا یہ نسل کشی کے پیچھے موجود طاقتور ادارے کو شامل کرتی ہے اور یہ نسل کشی کا مرتکب ہے جو متاثر ہونے والے کے زندہ رہنے نہ رہنے کا فیصلہ کرتا ہے اور یہ کہ متاثر ہونے والے کو ممکنہ تباہی کا سامنا ہوتا ہے۔

شاہ نسل کشی کی تعریف یوں کرتا ہے

Deliberate destruction of a people, principally but only by means of killing some of its members.

اس تعریف کے دو انتہائی شاندار پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ نسل کشی ارادے کے ساتھ ہوتی ہے اور جب یہ ارادے کے ساتھ ہوتی ہے تو یہ ایک حاص عرصے تک ہوتی ہے۔دوسرے لفظوں میں نسل کشی کبھی کبھی ہونے والا واقعہ نہیں ہے ، دوسرا نسل کشی کسی متاثرہ کو جان سے ہی ماردینے کا نام نہیں ہے۔جیسا کہ میں یہ دکھانے کی کوشش کروں گا کہ نسل کشی کسی نشانے پہ آئے گروپ کے کسی رکن کو مارے بغیر بھی کی جاسکتی ہے،یہ باب مطلق نسل کشی بارے نہیں ہے بلکہ یہ پاکستانی شیعہ کی نسل کشی بارے ہے۔تو میں اس سیکشن کو چند متعلقہ تبصروں کے ساتھ ختم کرنا پسند کروں گا ۔

تو جسمانی خاتمے پہ انحصار کرنے والی نسل کشی کی تعریفات کی محدودیت اور تنگ نظری کو واضح کرنے کے بعد میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ نسل کشی کو ایکولوجیکل ٹرم۔اصطلاحوں میں دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔ایکولوجی ایک تکثیری اور سب کو شامل کرنے والا تصور ہے۔نسل کشی کی ایکولوجی ٹراما کے بعد بچ جانے والوں کو بھی شامل کرے گی اور نسل کشی کی تاریح میں نئے مرحلے کو بھی داخل کرے گی۔نسل کشی کا ایک ایکولوجیکل نظریے کا مطلب ہے کہ اس ٹرم /اطلاح کا مظہریاتی /فنومینولوجیکل مطالعہ کرنا ضروری ہے: ایک نسل کشی پہ مبنی ایکولوجی میں ایک متاثرہ کے زندگی گزارنے کا مطلب کیا ہے؟ایک شیعہ کے لئے ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزارنے کا مطلب کیا ہے (جیسے پاکستان ہے) جہاں دیواروں پہ لکھا ہو ” کافر ،کافر شیعہ کافر “

  کیسا محسوس ہوتا ہے جب آپ ایک مسجد یا مدرسہ کے پاس سے گزررہے ہوں اور وہان سے لاؤڈسپیکر پہ یہ فتوے دئے جارہے ہوں کہ شیعہ  مرتد، گستاخ ،اسلام دشمن ، فتنہ پرور ، یہودیوں کے ایجنٹ اور واجب القتل ہیں؟

  شیعہ کیسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں شیعہ سے نفرت کرنے والے پبلک میں اور میڈیا کے زریعے شیعہ کے قتل کا جواز ان کو مرتد ، کافر کہہ کر کرتے ہوں اور ریاست ان کو روکنے کے لئے کوئی قانون حرکت میں نہ لاتی ہو؟

 ایک شیعہ کے لے دنیا کیسی ہے جب وہ ایک نسل کش حملے میں بچ جاتا ہے مگر جسمانی طور پہ کٹا پھٹا ؟ کیسے موت سے بچ نکلنے کے بعد اس کا دماغ کام کرتا ہے؟

کتنے شیعہ بچوں میں ڈی ایسوسی ایٹو آئیڈنٹی ڈس آڈر –ڈی آئی ڈی ( اپنی شناخت سے الگ کرنے والا مرض ) پیدا ہوتا ہے اس وجہ سے کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ان کو قریب قریب ہر روز ٹراما سے گزرنا پڑتا ہے؟ اپنے مستقبل کے بارے میں وہ کیا خواب رکھتے ہیں؟کیسے وہ اپنے موثر ری ایکشن کو باقاعدہ کرپاتے ہیں؟

ان شیعہ خاندانوں کا کیا جن کے لوگ مارے گئے ہیں؟وہ اپنی زندگی کی معاشی گاڑی کیسے چلاتے ہیں، ان کی نفسیاتی اور سماجی زندگی کیسے گزر رہی ہے؟اور ان کے خاندانی ڈھانچے کا کیا ہوتا ہے؟

4: نسل کشی : ایک متبادل نکتہ نظر

اوپر جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے امید ہے وہ اس بات کو صاف کرنے میں مدد دیں گے کہ نسل کشی کو جسمانی طور پہ مارے جانے والوں تک محدود نہیں کرنا چاہئیے۔کسی بھی گروہ کے اراکین کی نسل کشی پہ مبنی ہلاکتیں کسی حاص وقت میں خودکشی کی کمپئن میں ایک مرحلہ ہے۔ایک مرتبہ جب نسل کشی عمل ہوتا ہے تو یہ کئی طرح کے نتائج و عواقب لیکر آتا ہے۔نسل کشی کے مظہر کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک طریقہ اس کو تکرار جرم پہ مبنی انجری کی اصطلاحوں میں سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔اپنے آرکیالوجیکل ، ایتھنوگرافیکل تشریحاتی تحقیق میں ہارڈ ، لینارڈ اور مارٹن نے یہ دلیل دی کہ دنیا بھر کا کلینکل ڈیٹا یہ ثات کرچکا کہ لوگ جو شدید انجری کا شکار ہوتے ہیں ان کے لئے مستقبل میں انجریز کا زیادہ بڑا خطرہ ہوتا ہے۔اور اس میں حادثاتی ٹراما بھی شامل ہے۔وہ مزید کہتے ہیں:

گروپوں کے باہمی تصادم میں غیر مہلک دہشت گردی مہلک دہشت گردی کی طرح ہی ہوتی ہے اور اس میں خواہش کردہ نتیجہ اس محاذ آرائی کا دوسرے افراد کی محکومی کا سبب بننے والا سٹیٹس یا زرایع کا حصول ہوا کرتا ہے۔

اس استدلال کو یقینی طور پہ اس گروپ تک پھیلایا جاسکتا ہے جو مستقل امتیازی سلوک کا سامنا کررہا ہو ، اس کو شیطان بناکر دکھایا جارہا ہو اور ان کی زندگیاں مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہوں کیونکہ اس کے اراکین کی بڑے تعداد پہ کسی وارننگ کے بغیر حملے ہورہے ہوں۔نسل کشی پہ ہونے والی اکثر اسٹڈیز میں یہ ایشو

نسل کشی کے مظہر کو دیکھنے کا ایک اور راستہ یہ ہے کہ اسے مذہبی محاوروں میں زیربحث نہ لایا جائے اگرچہ متاثرہ لوگوں کو مذہب کے نام پہ ہی کیوں نہ مارا جارہا ہو۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ نسل کشی ایک اخلاقی ایشو بھی ہے۔یہ ایک انتہائی جذباتی ایشو بھی ہے اور یہ  خیر اور شر کی مانوی ثنویت۔ دوھرے پن کو بھی دعوت دیتی ہے۔تاہم مذہبی اور اخلاقی استعارے تجریدات اور مطلق پن کی طرف لیجاتے ہیں۔نسل کشی کو ایک لیگل ہیومن/قانونی انسانی ایشو کے طور پہ ڈیل کرنا ضروری ہے۔طبعی موت مرنا ایک بنیادی انسانی حق ہے۔کوئی بھی آدمی اپنے عقیدے، نسل ، ثقافت کی وجہ سے مارا جائے یا اس وجہ سے اسے نہ صرف  اپنے طبعی زندگی کے دورانیہ سے اسے محروم کردیا جائے بلکہ ساتھ ہی اس کے خوابوں ، آدرش ، حواہشات اور وژن سے بھی اسے محروم کردیا جائے۔تو نسل کشی ایک جرم ہے اور یہ محض کوئی اخلاقی معاملہ نہیں ہے۔لوگوں کو ان کی اخلاقی کمزوریوں کی وجہ سے سزا نہیں دی جاسکتی۔یہ تبھی ہوگا جب وہ جرائم کریں تو ان کو معاشرہ سزا دے۔

آخری بات یہ کہ نسل کشی کےمتاثرہ لوگوں کی متعدد قسم کی ملکیتوں کا جو کولیٹرل نقصان ہوتا ہے اسے بھی نسل کشی کے ایشو کے حصّے کے ساتھ زیر بحث لانا چاہئیے جیسے متاثرہ ہونے والوں کے اسباب زندگی اور گھروں کا نقصان وغیرہ ۔یہاں پہ ہم ایک مثال سے واضح کرتے ہیں کہ کیسے نسل کشی متاثرہ کی زندگی اور ان کی ملکیت دونوں کے نقصان کا نام ہے:

حال ہی میں ہم نے وہابیوں کے ظالمانہ مذہبی جنونیت کی ایک خوفناک مثال دیکھی ہے۔۔۔۔۔۔اب جبکہ امام بارگاہوں میں بہت ساری دولت جمع ہوچکی ہے تو اس نے وہابیوں کی ایک عرصے سے حرص کو تیز کررکھا ہے،وہ کافی عرصے سے قصبے کو لوٹنے کا خواب دیکھ رہے تھے،اور اپنی کامیابی بارے اتنے پریقین تھے کہ ان کو قرض دینے والوں نے تاريخ مقرر کردی تھی جب ان کی خواہش نے پورا ہونا تھا۔وہ دن آخر آہی گیا۔۔۔۔۔ 12 ہزار وہابیوں نے مسجد امام حسین پہ حملہ کیا ابتک کی لوٹ مار میں ملنے والے مال غنمیت سے کہیں زیادہ لوٹ کا مال حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ہر چیز کو آگ لگادی اور تلوار کی باڑ پہ رکھ لی۔بوڑھوں، عورتوں اور بچوں سب کو ۔۔۔۔ ہر شخص وخشیوں کی بربریت کی بھینٹ چڑھ گیا۔کہا جاتا ہے جس بھی حاملہ عورت کو دیکھتے تو پیٹ چاک کرتے اور بچے کو ماں کی لاش پہ تڑپتا چھوڑ جاتے۔ان کی ظالمانہ فطرت کو تسکین نہ ملی۔انہوں نے قتل و غارت گری ترک نہ کی اور خون پانی کی طرح بہایا جاتا رہا۔اس خون ریزی کے نتیجے میں چار ہزار لوگ مارے گئے۔وہابی اپنی لوٹ کا مال 4000 اونٹوں پہ لاد کر واپس ہوئے۔لوٹ مار اور قتل و غارت گری کرنے کے بعد انھوں نے امام حسین کے مقبرے کو تباہ کردیا، اور اسے گندگی اور خون سے بھردیا۔انھوں نے میناروں اور گنبد کو شدید نقصان پہنچایا،کیونکہ ان کو یہ یقین تھا کہ یہ سونے کی اینٹوں سے بنے ہوئے ہیں۔

                                                          (Fatah, 2008, p. 146)

کئی نسل کش کمپئن اور پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے معائنے اور نظر رکھنے کی بنیاد پہ میں نسل کشی کو دفاع سے قاصر ایک گروپ کی زندگیوں کے داخل اور خارج پہ بے رحم، ادارہ جاتی حملہ ہے جس کی جرمیات حملہ آور ہی ڈیزائن کرتے ہیں۔

اس تعریف کو چند نکات میں واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔اور اسی پہ میں پاکستان میں شیعہ نسل کشی سے مثالیں دوں گا۔

بے رحمانہ نسل کشی

شاید ہر نسل کش کمپئن استدلالی ۔جواز پسند فطرت کی حامل ہوا کرتی ہے جس میں اخلاقی بھاشن بھی ہوتا ہے۔اس کو چلانے والوں کے ڈسکورس میں ” کلنگ ” یا “مرڈر ” جیسے الفاظ شاذ و نادر ہی آتے ہیں۔نسل کشی کا بنیادی مقدمہ یہ ہوتا ہے کہ یہ عمل کسی انتہائی بلند اصول کے تابع ہے اور وہ معاشرتی/سماجی یا مذہبی / اخلاقی خیر ہوسکتا ہے۔نسل کشی کی ایثار پسند ، نوع دوستانہ طرز کی اپروچ پہ نظر ڈالی جائے تو پہلی نظر میں یہ ڈایا کرانیکل نظر آتی ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی جڑیں تاریخ میں ہیں۔وہ جڑیں جو ماضی میں کسی واقعے سے پیوست ہیں یا ایسے واقعے سے جو نسل کشی کرنے والے کے نزدیک اشتعال انگیز اور ناقابل معافی تھا۔یہ واقعہ کوئی مذہبی ہوسکتا ہے ، سیاسی بھی ، معاشی بھی اور یہاں تک کہ افسانوی فطرت کا بھی۔بلکہ نسل کشی کرنے والے اسے بہت ہی اہمت کا معاملہ کہتے ہیں۔

پاکستان میں شیعہ نسل کشی اور دوسری جگہوں پہ بھی اس کے زمہ داروں کے دعوے کے مطابق اس بات پہ ہورہی ہے کہ کئی سو سالوں سے شیعہ اسلام کی مقدس ہستیوں بشمول امہات المومنین کی شان میں گستاخی کررہے ہیں۔شیعہ پہ الزام ہے کہ وہ ماضی میں سنّی حکموں کے خلاف جنگیں لڑتے رہے ہیں۔ایسے ہی دیوبندی کہتے ہیں شیعہ تاریخی طور پہ گستاخ اور تخریب کار ہیں۔

نسل کشی کی دی گئی بے رحم فطرت کو دیکھتے ہوئے یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ یہ بنیادی طور پہ ایک مٹاڈالنے والا پروجیکٹ ہے -اس لئے نسل کشی کرنے والوں کے  نزدیک ان کے ساتھ پرامن طور پہ رہنے کا کوئی امکان نسل کشی کا نشانہ بننے والے گروہ کا نہیں ہے۔اگر وہ امن و سکون سے اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ان کو اپنے طرز زندگی اور عقائد کا سسٹم ترک کرنا ہوگا۔اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ نسل کشی ایک بدلاؤ لانے کی کمپئن بھی ہے جس میں ایک طرح یا دوسری طرح سے نسل کشی کے شکار کو بدل ڈالنا مقصود ہوتا ہے۔

پاکستان میں شیعہ کے قاتل اور قریب قریب ہرجگہ ٹھیک ٹھیک غیرمصالحانہ طور پہ شیعہ کو کافر ہونے کی وجہ سے مکمل طور پہ ان کے وجود کو ہی ختم کرنا چاہتے ہیں۔وہ اعلانیہ کہتے ہیں شیعہ کو یا تو گستاخانہ عقائد ترک کردینے ہوں گے یا مرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔گستاخانہ سے مراد ان کی شیعہ کے اپنے مذہبی عقائد و شعار ہیں۔

2: ادارہ جاتی

لفظ انسٹی ٹیوشن ایک وسیع اصطلع ہے۔نسل کش ذہنیت اور عزم کی جڑیں اس کو چلانے والوں کے نظریاتی عقائد کے سسٹم میں پیوست ہیں۔نسل کشی کے علمبرداروں اور اس کے متاثرہ کے درمیان تعلقات کی تاريخ کی بنیاد ان متون اور فتوؤں پہ ہے جو متاثرہ کے وجود کو ناقابل قبول کہتے ہیں اور اسی سے اس تاريخ کو حمائت ملتی ہے۔انسٹی ٹیوشن کا مطلب ایک طاقتور تنظیم بھی ہے۔اکٹر ایک ریاست اپنا وزن نسل کشی کے علمبرداروں کے پلڑے میں ڈال دیتی ہے۔نسل کش ریاستی سرپرستی یا طاقتور تنظیم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

پائیدار اور مستحکم قسم کی نسل کشی ریاست کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔عض اوقات ریاست خود بھی نسل کشی کرتی ہے۔تاہم جہاں ریاست کمزور ہو تو نان سٹیٹ ایکٹرز ۔ریاست کے اندر ریاست نسل کش دہشت گردی کرتے ہیں۔براس (2003) دعوی کرتا ہے کہ پنجاب میں نسل کش دہشت گردی سے تقسیم کے وقت ریاست کا کچھ لینا دینا نہیں تھا۔وہ جزوی طور پہ ٹھیک کہتا ہے۔لیکن پنجاب کے اندر تقسیم وقت دہشت گردی برطانوی سامراج کی تقسیم کرو اور حکمرانی کرو پالیسی کا نتیجہ تھی۔اس کے علاوہ برٹش نے تقسیم کے وقت لوگوں کو  قاتلوں اور بدمعاشوں کے رحم وکرم پہ چھوڑ دیا تھا۔تاریخی طور پہ ریاست کی کسی روک ٹوک کے بغیر بے شمار فتوے شیعہ کے خلاف موجود ہيں جو ان کو کافر قرار دیتے ہیں اور ان کو زندہ رہنے کے قابل قرار نہیں دیتے۔یہ انہی فتوؤں کی وجہ سے ہوا کہ شیعہ کو تاریخی طور پہ بے رحمی سے مارا، کچلا یا معاشرے میں دیوار کے ساتھ لگایا جاتا رہا کہ وہ غیر شیعہ کے ساتھ معاشرے میں انتہائی کمتر سطح پہ زندگی گزارنے پہ مجبور ہوئے۔پاکستان میں بھی یہ ریاست ہے جس نے شیعہ قاتل پیدا کئے اور ان کی سرپرستی کی۔تمام اہم ادارے ریاست کے جیسے فوج ، عدلیہ ، پریس اور سیاسی حکمران بھی شیعہ نسل کشی میں ملوث ہیں۔سعودی عرب اور بحرین میں یہ ریاست ہے جو شیعہ کو بے رحمی سے قتل کررہے ہیں۔ روزن (2006ء،ص182) کے الفاظ میں:

سعودی عرب وہابیت کا گھر میں شیعہ کو رافضہ کہا جاتا ہے اور یہ اکثر استعمال ہونے والی اصطلاح ہے اور اس کا مطلب شیعہ اسلام سے خارج ہیں ،ہے۔شیعہ کے لفظ ایسا ہی جیسے کسی سیاہ فام کو “نیگرو ” کہا جائے۔زرقاوی شیعہ کے لئے یہی اصطلاح استعمال کرتا ہےجیسے کئی دوسرے وہابی تکفیری ملّا اس خطے میں استعمال کرتے ہیں۔سعودی عرب کے شیعہ کا مذہبی احتساب ہوتا ہے،ان کو اپنے تہوار و ایام منانے سے روکا جاتا ہے اور ان کو قتل کرنے کی دھمکیاں بھی ملتی رہتی ہیں۔

داخلی اور خارجی زندگیاں :

میں نے نسل کشی کی جو تعریف کی اس میں یہ سب سے مرکزی نکتہ ہے۔جیساکہ میں نے بہت سی نسل کشی کی تعریفات کو زیربحث لاتے ہوئے دکھایا کہ نسل کشی کو صرف متاثرہ کمیونٹی کے جانی نقصان کی شکل میں دیکھنا ٹھیک نہیں ہے۔نسل کشی کے علمبردار نسل کشی کا نشانہ بننے والوں کی داخلی و خارجی زندگیوں کو مٹاڈالنے کی سعی کرتے ہیں۔اس کے علمبردار نسل کشی کے متاثرہ کے کلچر اور روح دونوں کو تباہ کرتے ہیں۔اس لئے نسلی صفائی یعنی ایتھنوسائیڈ نسل کشی کا ایک حصّہ ہے۔درحقیقت ایتنھوسائیڈ /نسلی صفائی تو اس خودکشی کا سافٹ حصّہ ہے،کیونکہ نسل کشی کے علمبرداروں کا عزم اور اظہار متاثرہ کو مارنا نہیں ہوتا۔ایتھنوسائیڈ: اس براغی کے اضافی ہونے کو تسلیم کرتی ہے: دوسرے برے ہیں، لیکن ہم ان کو بہتر بناسکتے ہیں ایسے کہ وہ خود کو بدل ڈالیں اور یہاں تک کہ ہمارے پیش کردہ اور مسلط کردہ ماڈل کو اپنالیں۔(کلاسٹریس ،1994ء،ص 23) ۔تو اگر متاثرہ اپنے کلچر سے دور ہوجآئے اور نسل کشی کرنے والوں کا کلچر اپنالے تو اس کی شناخت اور اندورن زندگی تو ختم ہی ہوجاتی ہے۔اس کے علاوہ جیسا کہ ہم نے اوپر زکر کیا کہ نسل کش معاشرے میں زندگی گزارنے والا مسلسل خوف میں زندگی گزارتا ہے، مسلسل ٹراما میں رہتا ہے۔اور یہ تصور کرنا مشکل نہیں ہے کہ ایسی حالت میں رہنے والا متاثرہ یا تو دفاعی حالت میں رہتا ہے اور اپنے کلچر ، عقیدے بارے دفاعی پوزیشن میں رہتا ہے یا اپنی کمیونٹی سے نفرت کرنے لگتا ہے ، اس کی بہت سی رسومات و شعار سے اور شاید اپنے آپ سے بھی نفرت کرنے لگتا ہے۔ بہرحال کیس کوئی بھی ہو وہ ہرحالت میں بے بسی اور ناامیدی کا تجربہ کرتا ہے۔

جینوسائیڈ/نسل کشی اپنے اصل معنوں میں کافی بڑی تعداد میں انسانوں کے قتل عام کا نام ہے،جب کہ یہ کسی فوج کا اپنی دشمن فوج کے خلاف ملٹری ایکشن نہ ہو بلکہ اس ميں قتل عام کا شکار ہونے والوں دفاع پہ قادر نہ ہونا اور مجبور ہونا اہم شرط ہے۔

(Charny, 1997, p. 86)

کلاسٹریس (1994ء،ص44) نے بھی نوٹ کیا:

ایتھنو سائیڈ ان لوگوں کے طرز زندگی اور سوچنے کے طریقوں کی منظم تباہی کا نام ہے جو اس تباہی کی مہم کو چلانے والوں کے طرز زندگی اور سوچ سے مختلف ہوتے ہیں۔محتصر یہ کہ جینوسائیڈ لوگوں کو جسمانی طور پہ ختم کرنے اور ایتھنوسائیڈ ان کے دماغ کو موت دینے کا نام ہے۔

کلاسٹریس جینوسائیڈ کو ایتھنوسائیڈ سے الگ کرتا ہے جبکہ مرا کہنا ہے کہ ایتھنوسائيڈ جینوسائیڈ کا حصّہ ہے۔میں اپنے خیال کے لئے مانے سے سپورٹ لیتا ہوں جو کہتا ہے:

ایک قومی انکوائری گزشتہ سال ہوئی جس سے پتا چلا کہ آسٹریلوی حکومت کی جانب سے آسٹریلیائی مقامی باشندوں کو زبردستی ہٹانے کا عمل بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھا اور تکنیکی طور پہ یہ جینوسائیڈ تھی کیونکہ اس کا مقصد آسٹریلیا کے مقامی کلچر کو زبردستی جذب کرنے کے زریعے سے تباہ کرنا تھا۔

(R. Manne cited by Martin and Rose, 2003, p. 32)

خارچی زندگی کے دو پہلو ہیں: ایک جسمانی وجود ہے جسے نسل کشکے علمبردار ختم کرنے کے درپے ہوتے ہو۔یہ خالص قتل ہے۔تاہم خارجی دنیا کا دوسرا پہلو ایک فرد کا معاشرے کے جزو کے طور پہ اعمال ہیں۔خارجی زندگی کسی فرد کے جسمانی طور پہ اپنے ثقافتی اور مذہبی عقائد اور اعمال کے ساتھ جڑنے کا نام بھی ہے۔جینوسائیڈ کی صورت حال سے دوچار متاثرہ شحض مشکل شکلوں اور سطحوں پہ امتیازی سلوک کا سامنا کرتا ہے۔اور اسی کے سب بطور انسان وہ جو سرگرمیاں کرسکتے ہیں وہ کرنہیں پاتے۔جینوسائیڈ کے علمبردار جینوسائیڈ کا شکار انسانوں کا جوہر انسانی چرا لیتے ہیں۔اسی لئے کارڈ نے کہا تھا کہ جینوسائیڈ “سماجی موت” ہے۔

کارڈ کہتا ہے:

” جینوسائیڈ کی خاصیت یہ ہے کہ یہ اپنے شکار کے سماجی تحرک کو سخت نقصان پہنچاتی ہے۔اور یہ صرف نسل کشی کے شکار گروپ کے لوگوں کی شناخت کو ہی نقصان نہیں پہنچاتی ہے بلکہ ان کی مجموعی انسانی فعالیت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔جب ایک کروپ اپنی ثقافتی شناخت کے ساتھ تباہ ہوجاتا ہے تو اس کے بچ جانے والے اپنا ثقافتی ورثہ کھوبیٹھتے ہیں۔اور یہاں تک کہ وہ اپنے باہمی نسلیاتی تعلقات بھی کھوبیٹھتے ہیں۔

اورلینڈو پیٹرسن کی ٹرمنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اس طرح کے واقعے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ سماجی طور پہ مردہ ہوجاتے ہیں اور ان کے آنے والے پیش رو پیدائشی بیگانے ہوجاتے ہیں۔اور وہ اپنی سے پہلی نسلوں کی روایات،ثقافتی پیش رفت بشمول زبانوں اور منصوبوں کو آگے نہیں لیجاپاتے اور ان پہ کوئی عمارت تعمیر کرپاتے۔سماجی موت کا نقصان جسمانی موت سے ضروری نہیں کم شدید ہو۔سماجی موت جسمانی موت کو اور زیادہ گہرا کرسکت ہے اس طرح کہ اسے اور ذلت آمیز  بنا سکتی ہے،تمام قابل عزت اور قابل قدر رسومات، سماجی روابط اور سماجی سیاق وسباق جوکہ مرنے کو قابل قدر بناتے ہوں اور یہاں کے موت کو معنی خیز بناتے ہوں ہٹادیتی ہے۔مرے خیال میں جینوسائیڈ خصوصی برائی صرف اس کی جسمانی موت ہی نہیں بلکہ سماجی موت  بھی ہے جو بتدریج ایک آدمی کی زندگی کو بے معنی کرتی ہے بلکہ اس کی زندگی کا ہی خاتمہ  کردیتی ہے۔”

جینوسائیڈ چاہے ماضی میں ہوئی ہو یا حال میں یہ واضح طور پہ دکھاتی ہے کہ اس کے زمہ داروں کا ارادہ نشانہ بننے والے گروپ کے ارکان کی جسمانی موت کے ساتھ ان کے ذہن اور روح کی تباہی بھی جاہتی ہے۔ترکی کی اس کی اہم مٹال ہے۔یہ ایک ایسا ملک ہے جو تاریخی اعتبار سے کئی ایک نسل کشی کرچکا ہے۔ترکی کی کرد آبادی کی مثال یہاں بہت متعلقہ ہے۔کردوں کو اپنی زبان کو کسی بامعنی سرگرمی کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔وہ اسے بس اپنی روزمرہ کی بات چیت میں استعمال کرسکتے ہیں۔ترکی نے کردوں کو اپنی زبان اسکولوں میں پڑھنے کی اجازت نہیں دی ہے۔وہ کوئی جیز اس زبان میں نہیں چھاپ سکتے۔ایک گروپ پہ زبان کی پابندی سے زیادہ دیرپا اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

 (عباس زیدی نے یہاں کونکیوسٹاڈور کی مثال دے رہے ہیں جو یا تو پرتگیزی تھے یا اسپینش سامراجیہ سے تعلق رکھتے تھے اور یہ 1545ء میں نئی دنیا کی دریافت کرنے نکلے تھے اور یہ ایک طرف تو بدترین دہشت اور تشدد پھیلانے کے حوالے سے بدنام ترین تھے تو یہ جس زمین پہ قابض ہوتے وہاں کے باشندوں کے کلچر اور ان کے مذہبی شعائر کی تباہی بھی کرتے تھے)

نے نہ صرف مقامیوں کا قتل عام کیا بلکہ انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ مقامی باشندوں مذہبی اور ثقافتی رسومات پہ بھی پابندی لگادی تھی۔تو اس مثال سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں ہے کہ ایک مذہبی جنونی ذہن اور ایک نسل کش ذہن نسل کشی سے متاثرہ گروپ کی خارجی و داخلی زندگیوں کی تباہی کے آسیب و جنون میں کم و بیش ایک جیسے مبتلا ہوتے ہیں۔

پاکستان میں شیعہ کو بھی اپنے مذہبی اور ثقافتی رسوم کی ادائیگی میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔جب کبھی وہ اپنا مذہبی اجتماع کرتے ہیں تو اس کا مطلب اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ہے۔شیعہ مسجد، گھر،مذہبی اجتماعات،جلوس عزاداری پہ بم دھماکے ، فائرنگ معمول ہے۔ان کے لئے جلوس عزادای یا مجلس کرانے کے لئے لائسنس کا حصول حکومت سے لینا لازمی ہے۔وہ انھی جگہوں پہ اجتماعات اور مذہبی جلوس نکال سکتے ہیں جہاں کئی عشروں سے وہ نکال رہے ہیں۔میں نے سینکڑوں شیعہ سے بات کی ہے اور میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جولائی 1977ء کے بعد جب جنرل ضیاءالحق نے اقتدار پہ قبضہ کیا تب سے ابتک کسی ایک مذہبی جلوس عزا کا نیا لائسنس جاری نہیں کیا گیا ہے۔

مترجم کا نوٹ: پورے ملک میں لائسنس سے ہٹ کر بہت سے جلوس ہائے عزا اور مجالس عزا روائیتی ہیں جو کئی عشروں سے ہورہی ہیں لیکن نواز حکومت کے دور میں ان روائیتی مجالس عزا اور جلوس پہ پابندی لگادی گئی ہے اور جہاں یہ جلوس نکالنے کی کوشش ہوئی وہاں ایسی کوشش کرنے والوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان، انسداد دہشت گردی ایکٹ اور مذہبی منافرت پھیلانے کے خلاف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے اور اس طرح سے قریب قریب سینکڑوں چھوٹے بڑے روائتی جلوس اور مجالس پہ پابندی لگادی گئی جبکہ پنجاب میں اکثر ثقافتی میلے ، عرس وغیرہ کے انعقاد کی ممانعت کردی گئی ہے۔

پاکستان میں جو ثقافتی اور تعلیمی منظر نامہ ہے اس سے شیعہ کی بے دخلی کا سفر جاری ہے۔ان کو اس سے غیر متعلق کیا جارہا ہے۔اور ان مين احساس کمتری پیدا ہورہا ہے۔کچھ مثالوں سے یہ بات واضح ہوجائے گی۔گزشتہ چند سالوں سے کراچی اور لاہور میں سالانہ لٹریری فیسٹول کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ہر فسیٹول میں ” لٹریچر اینڈ سوسائٹی ” اور ” لٹریچر و پالیٹکس ” جیسے سیشن کا انعقاد ہوتا ہے۔

سال 2012ء،2013ء اور 2014ء میں لٹریری فیسٹول کوئٹہ اور کراچی میں شیعہ کے قتل کی لہر کے فوری بعد ہوئے۔لیکن ان ادبی میلوں کے اندر ہونے والے بہت سے مباحثوں مین شرکاء نے طالبان کے ساتھ امن اور اس کے لئے ضروری اقدامات پہ تو بحث کی لیکن کسی نے بھی شیعہ کلنگ کا تذکرہ نہیں۔کچھ لوگوں نے اس ایشو کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن ان سے ڈسکشن کو چھوڑ دینے کو کہا گیا۔میڈیا نے اس طرح کے واقعے کا مکمل بلیک آؤٹ کیا۔شیعہ شناخت اسقدر مشکوک بنادی گئی کہ ایسی کوئی بھی کتاب جس کے شیعہ ہونے کا شک ہو تو اس کو کتابوں کی نمائش میں رکھنے یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔یہاں تک کہ انٹرنیشنل کتاب میلے میں شیعہ ایرانی بک سٹال کو پیک اپ کرنے اور چلے جانے کو کہا گیا کیونکہ وہاں پہ شیعہ کتابیں برائے فروخت تھیں۔

پاکستان میں ” اسلامیات ” اور ” مطالعہ پاکستان ” کالج لیول تک لازمی مضامین ہیں۔ان دو مضامین میں شیعہ شناخت کو تباہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔اسلامیات میں طلبا کو بتایا جاتا ہے کہ وضو کرنے ، نماز پڑھنے ، ایک سچے مسلمان کے طور پہ زندگی گزارنے اور مردے دفن کا ٹھیک اسلامی طریقہ سنّی طرق ہیں۔اسلامیات میں اس حقیقت کو کہیں بیان نہیں کیا جاتا کہ اسلام پاکستان میں یک نوعی۔مونولتھک نہیں ہے۔شیعہ پاکستان کی کل مسلم آبادی کا 20 فیصد ہیں لیکن اسلامیات کی کتاب میں ان کو اسلام کے ایک مکتبہ فکر کے طور پہ بھی جگہ نہیں دی جاتی۔ان درسی اسلامیات کی کتابوں میں اسلام کا مطلب ہر وہ شئے ہے جو غیر شیعہ اور یہاں تک کہ شیعہ مخالف ہے۔یہاں تک کہ وہ علاقے جہاں شیعہ اکثریت میں ہیں، شیعہ طلباء کو ایسی کتابیں پڑھنے کو کہا جاتا ہے جو ان کو کھلے عام یہ بتاتی ہیں کہ ان کی عبادت کے طریقے ٹھیک اسلامی نہیں ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات مین گلگت اور سکردو کا کیس بہت اہم ہے۔گلگت۔سکردو کی 75 فیصد آبادی شیعہ ہے۔یہاں پہ شیعہ کو وہ اسلامیات پڑھنے کو کہا جاتا ہے جو ان کو کافر اور گمراہ فرقے کے طور پہ پیش کرتی ہیں۔2000ء میں گلگت۔سکردو میں ایک بہت بڑی تحریک ان کتابوں کو نصاب میں سے ہٹائے جانے بارے چلی تو اس تحریک کے احتجاج کو سیکورٹی فورسز نے کچل ڈالا اور متعدد لوگوں کو ہلاک و زخمی کیا گیا۔شیعہ اکثریت کے علاقوں میں کرفیو لگادیا گیا۔طلباء و طالبات کو ایک سال تک اسکول اور کالجوں میں داخل ہونے سے روکے رکھا گیا۔ان کی معاشی زندگیوں پہ بھی روک لگادی گئی۔اور پانچ سال کی طوریل جدوجہد کے بعد وہ شیعہ مخالف مواد کو نصابی کتب سے ہٹوانے میں کامیاب ہوئے۔

مذہبی رسومات سے ہٹ کر بھی شیعہ کی داخلی زندگیوں پہ دوسرے تحریکوں سے بھی حملے کئے جاتے ہیں۔پاکستانی معاشرے میں ان لوگوں کو قومی ہیرو کے طور پہ ابھارا گیا جنھوں نے ماضی میں ہندوستان پہ حملہ کیا، اسے تباہ کیا ، اس پہ فتح کے بعد حکمرانی کی۔جیسا کہ احمد نے نشان دہی کی ہے کہ ہر وہ ہیرو جیسے مختلف مراکز سے پروموٹ کیا گیا ۔۔۔۔۔میدیا، اسکول، کلچرل شوز ، نصابی کتب اور فیسٹول کے زریعے۔۔۔۔ وہ شیعہ کا قاتل تھا۔حملہ آور، قبضہ گیروں کو قومی ہیرو بنانے کے ساتھ ساتھ شیعہ دشمن مذہبی شخصیات کو بھی پاکستانی درسی و نصابی کتابوں میں اسلامی ہیروز کے طور پہ پیش کیا گیا۔جیسے ابن تیمیہ، محمد بن عبدالوہاب وغیرہ اور اسی طرح شاہ ولی اللہ اور شیخ احمد سرہندی کی شیعہ مخالف باتوں کو درسی کتب میں جگہ زیادہ دی گئ۔پاکستان کے تعلیمی اداروں میں مذہبی تعلیم اور مطالعہ پاکستان کی درسی کتابوں میں شیعہ کردار کشی کی باتوں کے تذکرے نے  پاکستانی یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات کی ایک بڑی تعداد کو شیعہ کو کافر سمجھنے پہ مجبور کردیا۔

بڑی حد تک دفاع سے مجبور

نسل کشی کی تعریف کا چوتھا جزو دفاع سے قاصر ہونا ہے۔یہ ممکن ہے کہ متاثرہ کچھ حالات میں نسل کشی کے خلاف لڑائی بھی کرلے جیسے کچھ جگہوں اور علاقوں میں متاثرہ کیمونٹی کے لوگوں کی بڑی تعداد ہو اور وہ کچھ دیر کے لئے اس نسل کش مہم کے خلاف لڑ بھی لیں۔لیکن مجموعی منظرنامے میں وہ دفاع کے قابل نہیں ہوتے۔اور نسل کشی کرنے والوں کے رحم و کرم پہ ہوتے ہیں۔1990ء میں جب شیعہ ٹارگٹ کلنگ عروج پہ پہنچ گئی جس میں خاص طور پہ شیعہ پروفیشنل اور سیاسی رہنماء بڑی تعداد میں ٹارگٹ کئے گئے تو کچھ شیعہ نوجوانوں نے سپاہ محمد کے نام سے ایک گروپ

بنالیا۔جنھوں نے سپاہ صحابہ پاکستان کے خلاف مزاحمت کی۔کچھ شیعہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ سپاہ محمد پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا برین چائلڈ تھی تاکہ شیعہ کو بھی دہشت گرد قرار دیا جاسکے۔اگر سپاہ محمد حقیقی مزاحمتی گروپ تھا بھی تو اس پہ 2001ء میں پابندی لگ گئی اور اس کے لیڈر یا تو مار ڈالے گئے یا ان کو جیل ہوگئی۔

متاثرہ کا جرم

نسل کشی کی تعریف میں پانچواں جزو “متاثرہ کا جرم ” ہے۔یعنی نسل کشی کا ارتکاب کرنے والے نشانہ بنائے جانے والے گروپ کے کسی بھی رکن کے قتل کے جواز کے لئے اس کے خلاف جو فرد جرم بناتے ہیں اس سے نسل کشی کرنے والوں کی بے تحاشا طاقت کا اظہار ہوتا ہے۔نسل کشی کا ایک طریقہ متاثرہ کی مجرمانہ یا گناہ گار کی شکل میں پیش کرنا اور اس پہ یہ مجرمانہ شناخت تھوپنا بھی ہے۔دباغ (2005ء،ص 52) میں صاف صاف اسے یوں پیش کرتا ہے:

تشدد کا اطلاق اور اس کا اجازت نامہ بھی نسل کشی کا ارتکاب کرنے والے سماج میں نسل کشی کے متاثرہ گروپ کی اجتماعی شناخت کی تشکیل سے بہت گہرا جڑا ہوتا ہے۔تو نسل کشی اور شناخت کا جائزہ دو ایشوز کو لیکر آتا ہے: جینوسائیڈ کا شکار ہونے والے کئی قسم کے عدم ارتباط ، انجریز اور نقصانات کا سامنا کرتے ہیں۔انتہائی شدید جانی اور نفسیاتی تشدد کا تجربہ ان کو نہ صرف لانگ ٹرم ٹرامیٹک اثرات کی جانب لیکر جاتا ہے جوکہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں بلکہ یہ ان کی شناخت کی بھی بری طرح سے تباہی لیکر آتا ہے۔اور اس قسم کی تباہی جینوسائیڈ تشدد کا کوئی ثانوی اور غیر ارادی اثر نہیں ہے بلکہ یہ اس جینوسائیڈ کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔اب جبکہ نسل کش طاقتور ہیں اور وہ ایسے مصنوعی حقائق /سچ متاثرہ گروپ کے بارے میں گھڑنے پہ قادر ہوتے ہیں جس سے ان کی نسل کشی جائز لگے۔نسل کشی کرنے والے اس بات پہ بھی قادر ہوتے ہیں کہ وہ ایک خاص قسم کی شناخت متاثرہ گروپ پہ مسلط کردیں اور ان سے ان کا وقار چھین لیں اور یہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کی شدید ترین پامالی ہے۔

. . . human persons possess an inherent dignity by virtue of the properties of their existent personal being. Simply by being the kinds of creatures they are ontologically, persons are characterized by real dignity. Dignity is not an extra benefit conferred upon persons by social contract or positive law. Dignity is not the culturally relative invention of some people who socially construct it in their minds and discourse. Dignity is a real, objective feature of human personhood. (Smith, 2010, p. 434)

انسان اپنے ذاتی وجود کے خواض کی وجہ سے ایک ودیعت کیا گیا وقار / عزت نفس رکھتے ہیں۔سادہ طور پہ وہ ایسی مخلوق ہیں جو کہ علمیاتی طور پہ وقار کے حامل اشخاص ہیں۔اور یہ وقار کوئی ان کی شخصیت کو کسی معاہدہ عمرانی یا قانون کے زریعے سے الگ سے دیا گیا انعام نہیں ہے۔وقار کوئی ثقافتی طر پہ ایک اضافی ایجاد نہیں ہے جسے لوگوں نے سماجی طور پہ اپنے ذہنوں اور ڈسکورس میں تشکیل دے دیا ہو۔وقار شخصیت انسانی کا حقیقی اور معروضی پہلو ہے۔

شیعہ مسلمان ہونے کے دعوے دار ہیں کیونکہ وہ اسلام کے ان پانچ بنیادی عقائد پہ اسی طرح سے یقین کرتے ہیں جیسے دوسرے اسلامی فرقے۔لیکن شیعہ کے قاتل پاکستانی ریاست کی جانب سے ملنے والی طاقت اور حمائت کی وجہ سے ان پہ ایک متلف شناخت ٹھونستے ہیں۔اور وہ ہے کہ ” شیعہ کافر ہیں”۔اگر ڈاکٹر علی حیدر دیوبندی ہوگئے ہوتے تو وہ ایک ہیرو بن جاتے، دیوبندیوں کے پوسٹر بوئے ان تمام گناہوں سے پاک جن میں وہ اپنے شیعہ ہونے کے دنوں میں مبتلا تھے اور ان کی زندگی بچ جاتی۔لیکن اس کے لئے ان کو شیعہ شناخت سے دستبردار ہونا پڑتا۔تو اگر ہم برسبیل تذکرہ یہ فرض کرلیں کہ پاکستان کے تمام شیعہ دیوبندیوں کے مطالبے پہ اپنے عقائد سے دست بردار ہوجائیں تو ان کو نہیں مارا جائے گا۔لیکن ان کی شیعہ شناخت اور کئی ایک ثقافتی اور علامتی رسومات کا وجود ہی مٹ جائے گا۔دوسرے لفظوں میں ایک بھی شیعہ کو قتل کئے بغیر شیعہ کی جینوسائیڈ مکمل ہوجائے گی۔یہ دلیل مرے اس دعوے کو سپورٹ کرتی ہے کہ جینوسائیڈ ایک بھی قتل کئے بغیر بھی ممکن ہے۔کسی بھی گروپ کی زندگی کے امکانات کو کم کرتے چلے جانے کا نتیجہ اس گروپ کے مکمل غائب ہونے کی شکل میں نکلتا ہے۔اور کسی گروپ کی داخلی زندگی پہ ہمہ جہت حملہ اس کی زیست کے دوسرے تمام پہلوؤں کو بھی مٹادےگا۔

جینوسائیڈ کی نمونہ کاری/ماڈلنگ

اوپر کی جانے والی ڈسکشن سے شاید مجوزہ نسل کشی کے ایک ماڈل پہ کام کیا جانا ممکن ہے۔میں درج ذیل ماڈل برائے جینوسائیڈ پیش کرتا ہوں جو مرے دعوے کے مطابق اس سارے تصور کا ہر طرف سے احاطہ کرتا ہے:

بنیادی تصور گری

اس سے مراد بنیادی ثبوت اور کسی بھی دی گئی نسل کشی کا علاقہ ہے۔نسل کش دہشت گردی اپنا جواز بعض حقیقی یا فرض کردہ واقعات میں تلاش کرتی ہے اور اور خاص مقام یا مقامات پر  مخصوص لوگوں پہ اسے مسلط کرتی ہے۔بنیادی ثبوت یا مبادیات علمیاتی بھی ہوسکتے ہیں۔مثال کے طور پر نسل کش دہشت گردی شیعہ کے خلاف بہت قدیم ہے۔اتنی ہی قدیم جتنی اسلام کی تاریخ قدیم ہے۔

شیعہ کی نسل کشی کرنے والے اپنے اس فعل کا جواز اس بات پہ رکھتے ہیں کہ شیعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں کی توہین کرتے ہیں۔اس توہین کی اصل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی جانشینی کے تنازعے میں چھپی ہوئی ہے۔( خلافت کے تنازعے کی جامع تاریخ کے لئے ہزلیٹن ،2009ء کو دیکھیں )۔شیعہ نے اس وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی جانشینی کی حمايت کی تھی۔آج شیعہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ حضرت علی کا خلافت کا حق دوسرے دعوے دار صحابہ کرام سے زیادہ تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ شیعہ اس لئے نہیں مارے جاتے کہ باقی مسلمانوں سے ان کا پانچ بنیادی اراکین اسلام میں اختلاف ہے۔وہ اس لئے مارے جاتے ہیں کہ وہ ایک ہزار سالہ مسلم حکمرانی کے دور میں سے چند اصحاب رسول رضی اللہ عنھم کے ادوار حکمرانی کے جواز پہ جمہور مسلمانوں سے الگ رائے کے حامل ہیں۔تو ایسے شیعہ ، ان کے گھر، کام کرنے کی جگہ ،مسجد اور دل و دماغ ،ان کے اجسام نسل کشی کی بنیادی تصور گری میں وہ بنیادی علامات ٹھہرجاتے ہیں جن کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

موقف کی جانچ

Evaluative Positioning

نسل کشی کی ماڈلنگ میں دوسرا اہم جزو ہے تو اسے ہم موقف کی جانچ کہہ سکتے ہیں۔جو نسل کشی کے متاثر ہیں اس کے بارے میں موقف بنائے جانے کا راستہ اس کو کرنے والوں کے ہاں اس نسل کشی کے ہورہے ہونے یا ہوچکے ہونے کا انکار کا راستہ ہوا کرتا ہے۔مثال کے طور پہ ایک صاف صاف انکار کا موقف بنالیا جاتا ہے:ایسی کوئی شئے نہیں ہورہی ہے۔اس طرح کا انکار جن کی نسل کشی ہورہی ہوتی ہے ان کی شناخت سے انکار کے زریعے سے ہوتا ہے۔وہ شناخت جو ان کی نسل کشی کا بنیادی سبب ہوتی ہے۔اس طری کا انکار کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ دوسرے گروپ کے کچھ لوگ مارے جارہے تو جارہے ہیں لیکن یا تو وہ بس کسی لپیٹ میں آکر مارے جارہے ہیں (ان کو باقاعدہ منظم اور منصوبہ بندی کے ساتھ نہیں مارا جارہا۔یا ان کے مارے جانے کی تعداد اتنی کم ہےکہ اسے نسل کشی کہا نہیں جاسکتا۔رپورٹ کرتے ہوئے مارے جانے والوں کی شناخت کا زکر نہ کرکے بھی بذات خود مارے جانے کے سوال پہ بھی پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ایک اور طریقہ جو نسل کشی پہ اختیار کئے جانے والے موقف کو سوال کی زد میں لاتا ہے وہ نسل کشی بارے ابہام یا گول مول بات پہ مبنی ہے۔اور ایسا موقف دراصل علم اقدار یا اخلاقیات کو سرے سے تروڑ مروڑ کر اختیار کیا جاتا ہے۔شیعہ  نسل کشی کے باب میں یہ کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔اس کا ایک طریقہ تو اسے شیعہ۔سنّی فریم ورک کے اندر رکھ کر دکھانا ہے۔یعنی شیعہ نسل کشی کو شیعہ اور سنّی کے درمیان تصادم بناکر پیش کرنا ہے۔پاکستان میں شیعہ نسل کشی سنّی نہیں کررہے بلکہ یہ دیوبندی مکتبہ فکر کے تکفیری کررہے ہیں۔پاکستان میں 65 فیصد صوفی سنّی ہیں جن کو عرف عام میں بریلوی کہہ دیا جاتا ہے۔جبکہ دیوبندی سنّی 35 فیصد ہیں۔وہ صحافی جو شیعہ نسل کشی کو شیعہ ۔سنّی تصادم یا لڑائی کہتے ہیں وہ دراصل شیعہ نسل کشی کے غلط قسم کا سیاق و سابق بنانے کے ذمہ دار ہیں۔چند دوسرے طریقے جو شیعہ نسل کشی کے انکار کا سبب بنتے ہیں ان میں اس دہشت گردی کو مڈل ایسٹ میں سعودی عرب-ایران تنازعے کا نتیجہ قرار دینا یا اسے نائن الیون کے بعد امریکیوں کے پاکستان میں ڈرون حملوں کا نتیجہ قرار دینا یہ کہتے ہوئے کہ طالبان کیونکہ امریکیوں پہ جوابی وار کرنے سے قاصر ہیں تو وہ شیعہ کے خلاف کاروائی کرکے غضّہ نکالتے ہیں یا شیعہ گمراہ ترین مسلمان ہیں اور ہمارے لوگ جو ان کے خلاف کاروائی کرتے ہیں ان کو ان کی کاروائیوں سے واپس پلٹایا جاسکتا ہے جیسے موقف شامل ہیں۔شیعہ نسل کشی کا جواز موقعہ پرستانہ دلائل کے زریعے سے بھی تلاش کیا جاتا ہے۔ایسے جواز اور دلائل کی بنیاد فقہ، علم کلام اور نیشنل ازم پہ استوار کی جاتی ہے۔شیعہ نسل کشی کی جواز کا تشریحات کی مطابقت میں استدلال کی تشکیل کی جاتی ہے کہ توہین /بلاسفیمی کے مرتکب اور مرتدوں کو ماردینا ہی ٹھیک ہوتا ہے۔اس طرح سے مسائل شریعہ کے سرچشموں کی من مانی تشریح کی جاتی ہے تاکہ مارے جانے کا جواز پیدا کیا جائے۔قتل کا جواز نیشنل ازم کے نام پہ بھی کیا جاتا ہے۔شیعہ ایران کے ایجنٹ ہیں یا امریکہ یا یہودیوں کے اس لئے ان کو مارا جانا ٹھیک ہے۔شیعہ کی نسل کشی کے جواز کو کچھ دوسری اصطلاحوں مین لپیٹ کر بھی پیش کیا جاتا ہے۔جیسے سب شیعہ کو ظالم ، سرمایہ دار ، جاگیردار ، بیوروکریٹ بناکر پیش کرنا یا ان کے قتل کے محرکات کی مارکسی یا نفسیاتی توجیہ پیش کرنا۔

موضوعاتی نمائندگی

نسل کشی کی مہم میں متاثرین کے عقائد و رسوم ایسی اصطلاحوں میں پیش کئے جاتے ہیں جوکہ ان کو اپنے اذیت پہنچانے والوں کے عقائد و رسوم سے کسی بھی سطح پہ مطابقت نہ رکھنے والے ایک جارح کے طور پہ پیش کرتے ہیں۔مشترکات جو متاثرین اور ان کے اذیت رسانوں کو قریب لاسکتے ہیں وہ پس پشت چلے جاتے ہیں۔اسلام کے پانچ بنیادی اراکین ہیں:توحید و رسالت،نماز، روزہ ،زکات ،حج۔ان کے علاوہ بھی اجزائے ایمان ہیں جیسے صحائف آسمانی پہ ایمان،ایمان بالرسل ،ایمان بالملائکۃ ، اور ایمان بالآخرت۔اول الذکر ایمان مفصل اور آخرالذکر ایمان مجمل کہلاتا ہے۔

تمام شیعہ ان مذکورہ بالا سب چیزوں پہ ایمان رکھتے ہیں لیکن ان کا اختلاف خلافت اور نیابت کے معاملے میں ہے۔لیکن نسل کشی کرنے والے یہ بات کبھی سامنے لیکر نہیں آتے کہ شیعہ ایمان مجمل و ایمان مفصل دونوں کے قائل ہیں۔شیعہ نسل کشی کی مہم میں شریک جیسے دیوبندیوں میں تکفیری ہیں وہ شیعہ کی بلاسفیمی اور توہین مذہب کے ثبوت میں شیعہ کا مسئلہ خلافت میں اہل سنت سے الگ موقف کو پیش کرتے ہیں۔ان کے ہاں شیعہ کی یہ شناخت پیدا کی جاتی ہے کہ وہ بلاسفیمر ہیں۔گستاخ ہیں جو مسئلہ خلافت پہ الگ رائے رکھ کر اسلام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔شیعہ کی بطور گستاخ اور ان کی ایک اسلام دشمن شناخت بنانے میں دیوبندی مکتب فکر میں تکفیریوں کے ہزار ہا فتوؤں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔اور انہی فتوؤں کی بنیاد پہ شیعہ کی جسمانی و سماجی و ذہنی موت کا مطالبہ کیا جاتا ہے

پاکستان میں شیعہ نسل کشی

پاکستان میں شیعہ کے منظم قتل کا واقعہ 3 جون 1963ء میں پہلی مرتبہ سامنے آیا۔اور یہ واقعہ خیرپور سندھ میں پیش آیا تھا جہاں پہ دس محرم کے جلوس پہ وہابی مسلمانوں کے ایک گروپ نے حملہ کیا اور شیعہ مرد اور عورتوں کو چھریوں اور بغدے کی مدد سے قتل کردیا گیا۔اور اس حملے میں 118 شیعہ قتل ہوئے۔لاشوں کے ٹکڑے کردئے گئے اور جو بھی عاشور پہ تعزیہ ، علم اور دیگر تبرکات تھے سب جلاڈالے گئے۔اور ساتھ ہی شیعہ لاشوں کو بھی آگ لگادی گئی۔اس زمانے میں کوئی ٹیلی ویژن نہیں تھا اور چند اخبارات تھے جن میں اکثر پہ سرکاری کنٹرول تھا۔اگلے روز اس المناک حادثے کی خبر یوں رپورٹ ہوئی:

” عاشورہ کے موقعہ پہ لاہور اور خیرپور کے گاؤں ٹھری میں فرقہ وارانہ فساد میں چند جانیں چلی گیں۔متعدد زخمیوں کو ہسپتال  داخل کرادیا گیا”

خیر پور میں شیعہ پر نسل کش حملے کی رپورٹنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا انکار ، اس پہ ابہام کے پردے ڈالنا اور اس کا جواز فراہم کرنا نئی بات نہیں ہے۔اوپر والی رپورٹ پڑھ کر یہ تاثر بنتا ہے: دو مساوی طور پہ طاقتور گروہوں کے درمیان تصادم ہوا ، تصادم دونوں جانب سے پہلے سے منصوبہ بند اور ارادے کے ساتھ کیا گیا ، دونوں پارٹیاں برابر کی قصوروار ہیں ،دونوں پارٹیوں کے لوگ مارے گئے اور کچھ زیادہ ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔اس کے علاوہ شیعہ قتل کی جگہ دور دراز کا ایک گاؤں ہے اور اس لئے نظرانداز کئے جانے کے قابل ہے۔ اس دن سے لیکر آج تک ٹھری خیرپور میں ہوئے اس سانحے کو کسی پاکستانی پبلیکیشن میں جگہ نہیں ملی۔حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سانحہ کا حوالہ اپنی رپورٹ میں دیا ہے۔

ایسے 1963ء سے لیکر وقفے وقفے سے شیعہ کا قتل ہوتا رہ لیکن 1979ء میں افغان جہاد کے شروع ہونے کے بعد ایک سعودی امریکن منصوبے کے تحت شیعہ نسل کشی نے باقاعدہ منظم شکل اختیار کرلی۔

(Coll,2005)

امریکیوں کا مقصد سوویت یونین کو نیچا دکھانا تھا۔اور سعودی عرب کے لئے سعودی ۔سلفی وہابی آئیڈیالوجی پھیلانے کا آئیڈیل موقعہ تھا۔فردوس کے الفاظ میں :

“سوویت یونین نے 1979ء میں افغانستان میں افواج داخل کیں تو اس نے دیوبندی و وہابی مسلمانوں کو مذہبی و سیاسی مقاصد کے لئے لڑائی کے لئے پیسہ فراہم کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔اس جنگ کو کافر کمیونسٹوں اور منحرف مسلمانوں جیسے صوفی سنّی اور شیعہ کو شکست دیکر اصلی وہابی اسلام کو نافذ کرنے کا بہترین موقعہ خیال کیا گیا۔

تب سے ابتک بہت بڑی تعداد میں شیعہ مارے جاچکے ہیں۔اس حوالے سے بہت سے دعوے ہیں جن میں ہزاروں شیعہ کی تعداد بتائی جاتی ہے جو مارے گئے۔اس کتاب میں شیعہ قتل کا ایک کرانیکل اعتبار سے ضمیمہ شامل کیا کیا ہے۔لیکن یہ اعداد و شمار مستند نہیں ہیں کیونکہ ان کو پاکستانی اخبارات سے لیا گیا ہے کیونکہ پاکستانی مین سٹریم میڈیا شیعہ کلنگ پہ کم سچائی بولتا نظر آتا ہے۔اس لئے کم از کم شیعہ کلنگ بارے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان میں مارے جانے والے شیعہ کی تعداد بیان کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔اس کتاب میں جو تجزئے کئے گئے ہیں اس سے میڈیا کی جانبداری والا معاملہ صاف ہوجائے گا۔پاکستانی مین سٹریم میڈیا کی شیعہ نسل کشی پہ جانبدار رپورٹنگ کا جائزہ لینے کے لئے اس کا شیعہ نسل کشی پہ کام کرنے والی ویب سائٹ پہ آنے والی رپورٹنگ سے موازانہ کیا جاسکتا ہے۔تاہم ایشو یہ ہے کہ یہ ویب سائٹ بنے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔لیٹ اس بلڈ پاکستان 2008ء میں بنی ۔اس لئے ابتک مارے جانے والے شیعہ کی اصل تعداد کا پتا چلایا جانا ممکن نہیں ہے۔

مسخ شدگی پہ مبنی تشدد اور دانش کشی

ایک فرد کا جسم وہ راستہ ہے جس پہ سماجی سچائی اور سماجی تضادات کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔اور یہ پرسنل اور سماجی مزاحمت و جدوجہد کا میدان بھی ہوتا ہے۔ جیسے شیپر ہاگ اور لاک (1987ء،ص 31) پہ واضح کیا ہے۔

جسمانی تشدد ایک علامتی تشدد بھی ہے۔جبکہ مارنا جسمانی فعل کے ساتھ ساتھ نظریاتی فعل بھی ہے۔ریموٹ کنٹرول اور خودکش بم دھماکوں کے زریعے سے مارے جانے کے علاوہ شیعہ کی مخصوص طرز پہ کلنگ بھی بہت اہم ہے۔منتخب قتل دوھری قسم کی کلنگ ہے: تکفیری دیوبندی شیعہ کے بہترین دماغوں کا قتل کرتے ہیں۔1990ء کی ابتداء میں تکفیری دیوبندیوں نے شیعہ کے انتہائی قابل ڈاکٹروں کی ایک پوری لاٹ کو قتل کردیا۔اسی طرح ڈاکٹر علی حیدر ، ایڈوکیٹ شاکر رضوی ، علامہ ناصر عباس رضوی ، علامہ عالم الموسوی، پروفیسر ڈاکٹر شبیہ الحسن ، شاعر اور ماہر تعلیم سبط جعفر زیدی،گجرات یونورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر شبر ،سندھ ہائیکورٹ کے وکیل کوثر ثقلین ، پروفیسر صفی الدین جعفری ، انجینئر منتظر مہدی،علامہ تقی ہادی نقوی، اور محسن نقوی جیسے لوگ اپنے اپنے شعبے کے بہترین افراد تھے۔شیعہ دانش کشی کی اس مہم کو بروئے کار لاتے ہوئے شیعہ کا قتل کرنے والے شیعہ کمیونٹی کو کم پڑھے لکھے ، نیم خواندہ اور غیر اہم اقلیت میں بدلنے کے خواہاں ہیں جوکہ قابل تعریف تحرک اور تخلیقی طور پہ کچھ کرنے کے قابل نہ رہے۔

پریز ( 2012ء،ص 26) کے الفاظ میں:

نوجوانوں اور بوڑھوں کو یکساں قتل کرتے ہوئے اور ان کو غیر اہم عوام میں بدل کر جارح ایک نمایاں قسم کی نفسیاتی برآمد علاقائی تفاعل کی جگہ پہ کرتا ہے جس میں وہ آپریٹ کررہے ہوتے ہیں۔

شیعہ دانش کشی پیغام کے بغیر نہیں ہے۔اور یہ اس دوھرے پن کا دوسرا رخ ہے۔اوپر پیراگراف میں جتنے شیعہ دماغوں کا زکر کیا کیا ان سب کے سروں اور چہروں پہ گولیاں ماری گئیں کہ وہ سب خون اور گوشت کے لوتھڑے میں بدل گئے۔ان کو اتنے برے طریقے سے قتل میں پوشیدہ پیغام واضح ہے:ان کی مسخ شدہ لاشیں شیعہ کمیونٹی کی مکمل شکست اور توہیں کی علامت ہیں۔جبکہ مسخ شدہ جسم مارے گئے شخص کے مٹائے جانے کی علامت ہے اور یہ باقی کمیونٹی کو بھی اس کی بے بسی ،تذلیل اور کمتری یاد دلانے کے مترادف ہے۔یہ عمل کرنے والوں کی طاقت کی بھی علامت ہیں کہ وہ جہاں چاہیں اس پہ عمل کرسکتے ہیں اور یہ نسل کشی کا شکار کمیونٹی پہ طعن بھی ہے اور ان کو ان کی لاچاری کی یاد دہانی بھی۔شیعہ کے بہترین دماغوں کو اتنے برے طریقے سے ضایع کرنے کا عمل یہ عمل کرنے والوں کی جانب سے شیعہ کے بہترین دماغوں کے خزانے کو غیر اہم بنانا بھی ہے۔اور یہ باور کرانا بھی کہ ان کو ایسے مارا جاسکتا ہے جیسے مکھیوں مسلا جاتا ہے۔مسخ شدہ لاشیں مردوں، عورتوں ، بچوں ، شیر خوار بچوں کی سڑکوں پہ بکھرادینا ایک اور پیغام بھی ہے: بکھری ہوئی مسخ شدہ لاشیں مرنے والوں پہ بعد از مرگ حملہ ہے ایسے کہ ان کو نارمل طریقے سے دفن نہیں کیا جاسکتا۔خود کش ہلاکتیں آدم خوری کے برابر ہیں کیونکہ یہ نسل کشی کے مرتکب کی نسل کشی کے متاثرین پہ غلبے کی حرص کو اور طاقت پہنچاتی ہے۔اور جب مییا ، حکومت اور کئی انسانی حقوق کے گروپ ان کی نسل کشی کا انکار کرتے ہیں، اس پہ ابہام کا پردہ ڈالتے ہیں اور یہان تک کہ اس کا جواز فراہم کرتے ہیں تو یہ شیعہ کو پیغام ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ غیر اہم گروپ ہیں بلکہ پاکستان میں ان کے عقائد کے نظام اور کلچر کے لئے بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔

شیعہ نسل کشی ،چند امثال

پاکستان کے مین سٹریم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے کبھی بھی شیعہ نسل کشی کو معنی خیز انداز میں نہیں لیا ہے۔جیسا کہ میں نے اس کتاب کے باب میں شیعہ نسل کشی بارےمیڈیا کے  مبہم  انداز بارے کھل کر بات کی ہے تو کسی ریسرچ کرنے والے کے لئے یہ اندازہ لگانے کا کوئی راستہ نہیں ہے کہ ابتک عقیدے کی بنیاد پہ کتنے شیعہ مارے گئے۔عبدل نیشاپوری نے ایک دیوبندی اور سلفی تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والے شیعہ کی ایک فہرست 1963ء سے لیکر 2015ء تک تیار کی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ابتک 25 ہزار شیعہ عقیدے کی بنیاد پہ قتل ہوئے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اوّر بتایا کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی جاری و ساری ہے اور جیسے تکفیری دیوبندیوں کی جانب سے شیعہ کو مرتد قرار دینے کی مہم جاری ہے اس سے صاف نظر آتا ہے یہ آگے بھی جاری رہے گی۔اور مڈل ایسٹ میں جو اولیگارشی یعنی اشراف حکومتیں بشمول سعودی عرب ، قطر، بحرین ، متحدہ عرب امارات وغیرہ کی جانب سے شیعہ مخالف قوتوں کی سرپرستی جاری ہے تو یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔

پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی چند مثالوں بشمول 1990ء سے جاری شیعہ ڈاکٹروں کی ہلاکت کی مہم کا نتیجہ سینکڑوں ڈاکٹرز کی ہلاکت کی صورت نکلا ہے۔اس مہم کے مستقل جاری رہنے کے نتیجے میں کئی شیعہ ڈاکٹرز نے اپنا اور اپنے کلینک کا نام بدل ڈالا ہے۔ شیعہ کے روزانہ کی بنیادوں پہ کلنگ کے ساتھ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جن میں شیعہ کا بڑے پیمانے پہ قتل عام ہوا۔ان کو بسوں سے اتار کر ایک صف میں کھڑا کرکے گولیوں سے اڑا دیا گیا۔ان کو گولیاں ماری گئیں تو ساتھ ہی مارنے والوں نے اس دہشت گردی کی فلمبندی بھی کی اور پھر فخریہ طور پہ اسے اپ لوڈ کردیا گیا۔اور پھر اجتماع عام اور جلسوں میں تکفیری دیوبندی لیڈروں نے ان ہلاکتوں کے کرنے والوں کو اپنا جنگجو قرار دیا اور اس پہ فخر کیا۔شیعہ جلوس ہائے عزا میں شرکت کرتے ہوئے باقاعدگی سے مارے جاتے ہیں اور یہاں تک کہ جنازوں پہ بھی حملے ہوتے ہیں۔(حسن، 29 دسمبر 2009،خان 4 ستمبر 2010ء ، قاسمی ،7 فروری 2012ء،قریشی ،12 نومبر 2012ء )

تکفیری دیوبندی

اس باب میں ،مین نے تکفیری دیوبندی کا لفظ شیعہ کے قاتلوں کی شناخت کے طور پہ بیان کیا ہے۔اور پاکستان میں چھوٹے موٹے استثنا چھوڑ کر سارے شیعہ کے قاتل تکفیری دیوبندی ہیں۔طالبان، سپاہ صحابہ پاکستان،اہلسنت والجماعت،لشکر جھنگوی،جنداللہ ، اور جیش محمد سب تکفیری دیوبندی ہیں۔ابتک شیعہ پہ جتنے نسل کش حملے ہوئے ہیں سب کس سب تکفیری دیوبندیوں نے کئے ہیں۔لشکر جھنگوی جو کہ القاعدہ سے ملحق ہے مرکزی شیعہ قاتل گروپ ہے۔یہ سب گروپ سرکاری طور پہ کالعدم ہیں لیکن ان کو سیاست میں حصہ لینے، الیکشن لڑنے  اور بڑی سیکولر پارٹیوں سے اتحاد بنانے کی اجازت ملی ہوئی ہے۔وہ جو شیعہ کے قاتلوں کو سنّی لکھتے ہیں وہ جان بوجھ کر اس ایشو کو مبہم بناکر اسے شیعہ ۔سنّی ایشو بناکر پیش کرتے ہیں جوکہ مکمل جھوٹ ہے۔جیسا کہ اوپر زکر کیا گیا پاکستان میں 65 فیصد اکثریتی آبادی صوفی سنّی ہے جن کو بریلوی کہا جاتا ہے کو بھی تکفیری دیوبندی مارتے ہیں۔پاکستان میں دہشت گردی کی 90 فیصدی وارداتوں کے پیچھے تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔تکفیری دیوبندی اس لئے اتنے طاقتور ہوگئے کہ ان کو ریاست پاکستان کی مدد اور سعودی عرب سمیت گلف کی وہابی ریاستوں سے پیسہ ملتا رہا ہے۔شیعہ پہ حملوں اور تکفیری دیوبندی دہشت گردی کا مربوط اندراج اور تجزیہ حسین (2010ء) میں اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے میں کیا ہے۔

ایک ہندوستانی میگزین میں احمد (20مارچ،2013ء ) میں تکفیری دیوبندی مولویوں کے شیعہ کے خلاف فتوؤں کا جائزہ لیتے ہیں: پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں تکفیری دیوبندی مولویوں نے شیعہ کے خلاف فتوے دئے اور ان فتوؤں اور ان کی تصدیق کرنے والے مولویوں کی تصدیق کے ساتھ شیعہ کے ارتداد کا ایک جامع فتوی 1986ء میں سامنے آیا۔اور اس فہرست میں کئی اہم دیوبندی مولویوں کے نام شامل تھے۔جیسے مولوی محمد یوسف لدھیانوی اور مفتی نظام الدین شامزئی۔شیعہ کے مرتد ہونے کے فتاوے دیوبندی مدارس سے وقفے وقفے سے جاری ہوتے رہے۔ان میں دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے 1986ء میں شیعہ کے خلاف ارتداد کا فتوی جاری ہوا جس میں شیعہ کے کے ساتھ کھانا پینا،ان کا نماز جنازہ پڑھنا اور ان کو سنّی قبرستان میں دفنانے کی کو منع کردیا گیا ہے۔

ایک دوسرا فتوی جامعہ اشرفیہ لاہور سے مولوی محمد مالک کاندھلوی جوکہ جنرل ضیاء کے رشتہ دار بتلائے جاتے تھے شیعہ کے خلاف ارتداد کا فتوی جاری کیا اور کہا کہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں وغیرہ غیرہ۔

اس کے علاوہ احمد (11 مارچ2014ء) نے ایک فتوی کا عکس شایع کیا جس کی بنیاد پہ شیعہ کا بلوچستان میں قتل کیا گیا: تمام شیعہ واجب القتل ہیں۔ہم پاکستان کو نجس لوگوں سے پاک کردیں گے۔پاکستان کا مطلب پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے اور شیعہ کو اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ہمارے پاس علمائے کرام کے دستخطوں کے ساتھ فتوی موجود ہے کہ شیعہ مرتد ہیں۔جس طرح ہمارے مجاہدین افغانستان میں کامیابی سے شیعہ ہزارہ کا قتل کیا تو ویسے ہی ہمارا پاکستان میں مشن اس ناپاک فرقے،اس کے پیروکاروں کا ہر شہر سے ، ہر گاؤں سے اور پاکستان کے تمام کونے کھدروں سے صفایا کرنا ہے۔پاکستان میں بالعموم اور کوئٹہ میں ماضی میں شیعہ ہزارہ کے خلاف ہمارا کامیاب جہاد اب بھی جاری ہے اور یہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ہم پاکستان کو شیعہ ہزارہ کا قبرستان بنادیں گے۔اور ان کے گھروں کو ہمارے خودکش بمبار تباہ کردیں گے۔اور ہم اس وقت چین سے بیٹھیں گے جب ارض پاک پہ سچے اسلام کا جھنڈا لہرائے گا۔شیعہ ہزارہ کے خلاف جہاد ہمارا فرض بن چکا ہے”۔

مارکسی تشریحات

مجھے اس حقیقت کا بھی پورا احساس ہے کہ کچھ ریسرچر شیعہ نسل کشی کی مارکس واد تعبیر یا وضاحت لکھنا پسند کریں گے۔بعض صحافیوں نے شیعہ نسل کشی کی طبقاتی تشریح کرنے کی کوشش یہ کہہ کر کرنے کی کوشش کی کہ دیوبندی ورکنگ کلاس شیعہ جاگیرداروں کو مار رہی ہے۔تاہم وہ کسانوں اور مزدروں میں فرق نہیں کرسکتے۔ان کا صحافتی کام مارکسی طریقہ کار کا غلط استعمال پہ مبنی ہے۔

مترجم کا نوٹ:جس کسی نے بھی شیعہ نسل کشی اور شیعہ کے مارے جانے کے جواز میں طبقاتی سوال کو غلط طریقے سے استعمال کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ دیوبندی سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت طبقاتی بنیادوں پہ کوئی لڑائی لڑ رہی ہے وہ انتہائی غلط فہمی کا شکار ہے یا شعوری بددیانتی سے کام لے رہا ہے۔مارکسی تاریخ میں یہودیوں کی نسل کشی بارے ہمیں بعض ایسے شواہد ملتے ہیں کہ کچھ مارکسسٹ اینٹی یہودی پراپیگنڈے کے زیر اثر آکر یہودیوں کی نسل کشی کا جواز کچھ یہودیوں کے بڑے سرمایہ دار ، جاگیردار ہونے کی بنیاد پہ نکال لیتے تھے۔ولادی میر لینن نے 1913ء میں جیوش کیوسچن کے نام سے ایک تھیسس لکھا اور بتایا کہ یہودیوں کی نسل کشی کا جواز مارکسی طبقاتی تشریح کے زریعے سے نکالنا انتہائی بددیانتی ہے۔اور لینن نے صاف لکھا کہ جو یہودیوں کے خلاف نفرت اور دشمنی پھیلاتا ہے وہ یہودی نسل کشی کا جواز پیدا کرتا ہے اور ہر مارکسی کا فرض ہے کہ اس طرح کی کوششوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کرے۔

یہاں پہ ایک مثال درج کی جاتی ہے:

اس کے غریب طبقاتی پس منظر نے اسے جاگیردار مخالف اور عوام دوست بنادیا ہے۔وہ ملک ، وراثتی قبائلی سرداروں جوکہ روائتی طور پہ اسٹبلشمنٹ نواز اور حکومت سے تمام مراعات لے رہے ہیں پہ تنقید کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔وہ عام قبائلی کی حالت زار کو نمایاں کرنے اور عام آدمی کو جن مشکلات کا سامنا ہے کو حل کرنے پہ متحرک کرتا ہے۔اگر اسے موقعہ ملے تو وہ ایک جدید رابن ہڈ کی طرح امیروں سے دولت چھین کر غریبوں میں بانٹ دے۔اور یہی وہ وجہ ہے جس کے سب غریب نوجوان اس کی تنظیم لشکر اسلام کے بینر تلے جمع ہوتے چلے جاتے ہیں۔

 یہ بدنام زمانہ ڈکیت اور خونخوار قاتل منگل باغ بارے یک صحافی کا بیان ہے جس نے نہ صرف ریاست اندر ریاست قائم کی تیراہ ویلی میں بلکہ وہ سینکڑوں صوفی سنّی مسلمانوں کا قاتل بھی ہے جو کہ منگل باغ کے نزدیک مشرک اور بدعتی تھے۔منگل باغ نام نہاد افغان جہاد کا حصّہ بھی رہا۔اس کی عملداری کے زمانے میں تیراہ وادی کے اندر کوئی عورت گھر سے باہر نہیں نکل سکتی تھی۔کسی کو دش اینٹنا لگانے کی اجازت نہ تھی۔باغ نے تمام سی ڈی شاپ بند کراڈالی تھیں۔جو مصنف منگل باغ کو ایک سرداری اور جاگیرداری نظام اور اسٹبلشمنٹ کا مخالف بناکر دکھارہا ہے وہ ایک معروف ترقی پسند ہے اور نام نہاد ترقی پسندانہ تجزیہ کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ منگل باغ نے وادی تیراہ میں کوئی مارکسی یا بائیں بازو کا انقلاب برپا نہیں کیا تھا بلکہ یہ ایک رجعتی ،بنیاد پرستانہ ، انتہا پسندانہ ابھار تھا جس میں شامل ہونے والے نوجوان سرداری ، قبائلی نظام کے خاتمے کی بجائے ایک انتہائی رجعت پرستانہ نظام اور ضابطے شریعت کے نام پہ نافذ کررہے تھے۔اور ان کے غضب کا شکار صرف وہی قبائلی سردار بنا جو ان کے آڑے آیا جبکہ جس نے ان کے ساتھ اشتراک کرلیا اس کی سرداری، اس کی دولت اور زمین کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا۔جبکہ اس دوران ہزاروں غریب پشتون اس لئے بے دخل کردئے گئے کہ وہ صوفی سنّی تھے۔

تو اکثر شیعہ نسل کشی کی مارکسی تعبیرات خود مارکسی طریقہ کار کی نفی ہیں۔جبکہ پاکستان میں یہ جو بنیاد پرستی ، بنیاد پرست اسلامسٹ ہیں ان کے ابھار پہ پاکستان میں کسی مارکسی نے ویسا کام نہیں کیا جیسا کام ہمیں مصر اور لبنان کے کئی ایک مارکسسٹوں کے ہاں نظر آتا ہے۔سمیر امین ، گلبرٹ اشقر وغیرہ نے اس پہ مارکسی نکتہ نظر سے کافی بہترین کام کیا ہے۔ان کی مارکسسٹ تعبیر شیعہ نسل کشی ، کرسچن ، شامی عیسائیوں ، یزیدی اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے بنیاد پرست اسلامسٹوں کے ہاتھوں مارے جانے کا جواز پیدا نہیں کرتیں۔اکثر مارکسی تنقید سیاق و سابق سے ہٹ کر ہیں اور وہ طبقاتی کش مکش کو یک نوعی /مونو لتھک طور پہ لیتی ہیں۔اس وجہ سے ان کے ہاں چیزوں کو بہت زیادہ سادے طریقے سے دیکھا جاتا ہے۔پاکستان میں جو نسل کش ذہن ہے وہ معاصر پیٹرو ڈالر ، وہابی ازم ، اور  برصغیر ہند و پاک میں غیر تاریخی /اے ہسٹاریکل اسلام ، برٹش راج اور ہندوپاک کے مسلمانوں کے طرز زندگی سے خود ساختہ نفرت سے گندھا ہوا ہے۔جو ان کے نزدیک اصلی اور سچے مسلمان نہیں ہیں۔

خلاصہ

اوپر بیان کردہ نسل کشی کے ماڈل کو غیر معمولی پھیلاؤ سے بچانے اور توجہ کو فوکس رکھنے کے لئے اس کی تعریف کو پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے حوالے سے زیر بحث لایا گیا ہے۔ اگر اس ماڈل اور تعریف کو نسل کشی کے دوسرے کیسز پہ بھی اپلائی کیا جاتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے تو مجھے اس سے خوشی ہوگی اگرچہ ہر ایک جینوسائیڈ یونیق ہوتی ہے لیکن جو ارادی طور پہ حقائق کو چھپایا جانا ہے نسل کشی کرنے والوں کی جانب سے اور حقیقت کو خراب کرنا ہے یہ ایک کامن اور عمومی سا کام ہوتا ہے۔(لیمارچنڈ،2011،ص 7)۔نسل کشی جیسے کہ میں نے اوپر اشارہ کیا ہے کہ ایک گروپ کے دوسرے گروپ پہ طاقت کے استعمال کا مسئلہ ہے۔کیوں اسرائیل ، سعودی عرب ، بحرین وغیرہ کی جانب سے فلسطینیوں اور شیعہ کے ساتھ کیا جانے والا مریضانہ اور بس رحمانہ سلوک اور ان کی سوشو۔اکنامک زندگیوں کی تباہی کو نسل کشی جیسی اصطلاحوں میں دریافت نہیں کیا جاتا؟کیونکہ یہ ممالک مغربی ملکوں کے جن کی قیادت امریکہ کرتا ہے کی کلائنٹ ریاستیں ہیں۔اسی طرح کا مشاہدہ ہم برونڈی(1972ء) ،مشرقی کانگو (1996ء،1997ء)، جنوب مغربی افریقہ (1904ء)، آسٹریلیا (1970ء)،یورپ کے کئ علاقے ( مختلف زمانوں میں خانہ بدوش قبیلوں) کی نسل کشی بارے کرسکتے ہیں۔لیمارچنڈ ان اور دوسری نسل کشیوں کو بھلادی گئی نسل کشی کہتا ہے۔پاکستان میں جیسے تکفیری دیوبندی ہیں بالکل ایسے ہی اوپر زکر کردہ نسل کشیوں میں نسل کشی کا ارتکاب کرنے والوں نے متاثرہ گروہوں کو کافر ،مرتد کہہ کر مار دیا۔اور ان کی نسل کشی کی مہم چلائی گئی۔تکفیری دیوبندی گروپوں کی طاقت کو ابھی تک چیلنچ نہیں کیا جاسکا تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کو پاکستانی ریاست کی بالعموم اور پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی بالخصوص حمائت حاصل ہے۔پاکستان آرمی اس ملک کی ڈی فیکٹو حکمران اشرافیہ ہے۔دیوبندی تکفیری گروپوں کے سب سے بڑے حمائتی سعودی عرب،مسلم لیگ نواز گروپ ہیں۔دیوبندی مذہبی گروپوں کا ان کرداروں کے ساتھ جو گٹھ جوڑ ہے ان پہ تحقیق سے یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے نیشنل /لوکل اور بین الافوامی عناصر نے پاکستان کو نسل کشی کی سرزمین بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

الیکٹرانک میڈیا نے کیسے شیعہ کلنگ کے سب سے برے علمبردار محمد احمد لدھیانوی سمیت کئی ایک تکفیری دیوبندی رہنماؤں کو ایک نیشنل سیاسی لیڈر کے طور پہ متعارف کرایا ہے یہ کوئی لاشعوری یا بنا سوچے سمجھے ہوجانے والا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ باقاعدہ ہدایات پہ کیا گیا ہے اور یہ ایک لکھا لکھایا سکرپٹ ہے جس کے تحت یہ کیا گیا۔مجھے یاد ہےجب جیو چینل نے پہلی بار لدھیانوی کو ایک ٹاک شو میں بلایا تو کوئی دوسرا مہمان اس کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہ تھا۔لیکن اب وہ ایک اسلامک سکالر ہے اور اسے غلط طور پہ ماڈریٹ سنّی مفکر کے طور پہ پیش کیا جارہا ہے۔الیکٹرانک میڈیا اب اردو پرنٹ میڈیا سے کہیں زیادہ شیعہ نسل کشی کو مبہم بنانے ، اس حوالے سے غلط مساوات پیدا کرنے ، بلیم شفٹ کرنے ، بیلنس کرنے کی کوششوں میں سرگرم نظر آتا ہے۔شیعہ نسل کشی پہ الیکٹرانک میڈیا کی ایڈوکیسی پش ریسرچ کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

شیعہ نسل کشی پہ کئی طرح کی ایتھنوگرافک، ایتھنو میتھڈولوجیکل اور فینومینولوجیکل ریسرچ ممکن ہیں۔کیسے پاکستانی ریاست نے تکفیری دیوبندیوں ک شیعہ کی داخلی زندگیوں کو تباہ کرنے کی اجازت دی اور دوسری مذہبی برادریوں کا مذہبی احتساب کرنے کا راستہ ہموار کیا ؟ ان جیسے سوالوں کو ابھی تک پوری طرح سے دیکھا بھالا نہیں گیا ہے۔بعض دوستوں نے مجھے بتایا کہ کیسے متعدد شیعہ عورتیں اور دوسری مذہبی برادریوں کی عورتیں جن کے مرد اس نسل کش مہم کا نشانہ بن گئے جسم فروشی پہ مجبور ہوگئی ہیں۔کیسے اس نسل کشی کا شکار ہونے والے کئی ایک شیعہ گھرانوں کے بچے چائلڈ لبیر مارکیٹ کا حصّہ بن گئے ہیں اور یہ بھی ریسرچ کا ایک اور پہلو ہے۔شیعہ کلرز اور شیعہ نفرت انگیزی کرنے والوں پہ ایک ایتھنو میتھڈولوجیکل ریسرچ شیعہ نسل کشی کے باب میں ظاہر کئے گئے کئی پہلوؤں کو سامنے لیکر آئے گی۔اور مجھے امید ہے کہ دوسرے شیعہ نسل کشی کے ایتھنومیتھڈولوجیکل اور ایتھنوگرافکل پہلوؤں پہ ریسرچ کریں گے۔

References

Ahmad, Imtiaz. (1978). Caste and social stratification among Muslims in India. New Delhi: Manohar.

Ahmad, Laleen. (21 December2013). Pakistani media ignores Altaf  Hussain Durrani, a Shia police officer beheaded and cut up by Deobandi terrorists.  Let Us Build Pakistan: http://lubpak.com/archives/298799.

Ahmed, Khaled. 2011. Sectarian war: Pakistan’s Sunni-Shia violence and its link with the Middle East. New York: Oxford University Press.

Ahmed, Khalid. (30 March 2013). Sectarian violence in Pakistan. Economic and Political Weekly: http://www.epw.in/commentary/sectarian-violence-pakistan.html

Ahmed, Khalid. (11 March 2014). Hunting the Hazaras. Newsweek Pakistan:

http://newsweekpakistan.com/hunting-the-hazara/

Ahmed, Mughees. (2004). Faisalabad Division ke Siasat per Biradarism kay Asraat [Effects of the caste system on the politics of Faisalabad]. Unpublished PhD Thesis, Department of Political Science, B Z University, Multan.

Ali, Nosheen. Outrageous state, sectarianized citizens: Deconstructing the ‘Textbook Controversy’ in the Northern Areas, Pakistan: http://samaj.revues.org/1172.

Alo Mohammad. (28 May 2013). 50th Anniversary of the Theri Massacre. Let us build Pakistan: http://lubpak.com/archives/266633.

Andreopoulos, George J. (Ed.). 1997. Genocide: Conceptual and historical dimensions. Pennsylvania: University of Pennsylvania Press.

Anthony Arnove (Ed.). 2003. Iraq under siege: The deadly impact of sanctions and war. London: Pluto Press.

Baloch Saher. (31 July 2010). Surgical strikes. Newsline:

http://www.newslinemagazine.com/2010/07/surgical-strikes/.

Brass, Paul. (2003). The partition of India and retributive genocide in the Punjab, 1946-47: Means, methods, and purposes. Journal of Genocide Research, 5:1, 71-101.

Burrows, Andrew, Johnston, David, and Zimmermann, Reinhard (Eds.). 2013. Judge and jurist: Essays in memory of Lord Rodger of Earlsferry. Oxford: Oxford University Press.

Card, Claudia. 2003. Genocide and social death. Hypatia vol. 18, no. 1, pp. 63-79.

Cartalucci, Tony.(24 December 2013). Destroying a nation state: US-Saudi funded terrorists sowing chaos in Pakistan. Global Research:

http://www.globalresearch.ca/destroying-a-nation-state-us-saudi-funded-terrorists-sowing-chaos-in-pakistan/5323295

Chalk, Frank and Jonassohn, Kurt. 1990. The history and sociology of genocide. New Haven: Yale University Press.

Charny, Israel. W. 1997. Towards a generic definition of genocide. In George J. Andreopoulos (Ed.), Genocide: Conceptual and historical dimensions, pp. 64-94. Pennsylvania: University of Pennsylvania Press.

Chomsky, Noam and Dietrich, Heinz. 1999. Latin America: From colonization to globalization. Minneapolis, MN: Ocean Press.

Chomsky, Noam. 2013. The essential Chomsky. New York: The New Press.

Clastres, Pierre. 1994. Archaeology of violence, translated by Jeanine Herman. New York: Semiotext(e).

Cobban, Helena. 1986. The growth of Shi’i power in Lebanon and its implications for the future. In Juan R.I. Cole and Nikki R. Keddie (Eds.), Shi’ism and social protest, pp. 137-155. New Haven: Yale University Press.

Coll, Steve. 2005. Ghost wars: The secret history of the CIA, Afghanistan and Bin Laden. London: Penguin.

Cooper, Allan D. 2009. The geography of genocide. New York: University Press of America.

Crilly, Rob. (10 September 2013). Only in Pakistan can the Taliban be described as ‘stakeholders’. Daily Telegraph Blog:

http://blogs.telegraph.co.uk/news/robcrilly/100235192/only-in-pakistan-can-the-taliban-be-described-as-stakeholders/.

Dabag, Mihran. 2005. Modern societies and collective violence: The framework of interdisciplinary genocide studies. In Graham Charles Kinloch and Raj P. Mohan (Eds.), Genocide: Approaches, case studies, and responses, pp. 52-62.  New York: Algora Publishing.

Drost, Pieter. 1959. The crime of state.  Vol. 2. Leyden: A.W. Sythoff.

Esparza, Marcia, Huttenbach, Henry R., and Feierstein,  Daniel. 2009. State violence and genocide in Latin America: The Cold War years. London: Routledge.

Fatah, Tarek. 2008. Chasing the mirage: The tragic illusion of an Islamic state. Mississauga, Ontario:  John Wiley & Sons Canada, Ltd.

Fisher, Adrian T., Sonn, Christopher C., and Bishop, Brian J. 2002. Psychological sense of community: Research, applications, and implications. London: Springer.

Forgotten prisoner: 16 years of imprisonment of SMP Chief Ghulam Raza Naqvi. (8 August 2011). Shiite News,: http://www.shiitenews.com/index.php/pakistan/3330-forgotten-prisoner-16-years-of-imprisonment-of-smp-chief-ghulam-raza-naqvi–shiite-news-exclusive-report-

Forte, Maximilian. 2012. Slouching towards Sirte: NATO’s war on Libya and Africa. Montreal: Baraka Books..

Gellately, Robert and Kiernan, Ben (Eds.). 2003. The spectre of genocide: Mass murder in historical perspective. Cambridge: Cambridge University Press.

Ghani, Faras. (10 February 2014). The pain of being disabled in Pakistan. Al-Jazeera:

http://www.aljazeera.com/indepth/features/2014/02/pain-being-disabled-pakistan-2014249751959749.html.

Gonzalez, Nathan. 2013. The Sunni-Shia conflict: Understanding sectarian violence in the Middle East. Orange County, California: East Nortia Media Ltd.

Gunes, Cengiz. 2013. The Kurdish National Movement in Turkey: From protest to resistance. London:  Routledge.

Gunter, Michael M. 2009. The A to Z of the Kurds. New York: Scarecrow Press.

Halliday, M.A.K. (1994). Introduction to functional grammar. London: Arnold.

Halliday, M.A.K. (1971/1996). Linguistic function and literary style: An inquiry into the language of William Golding’s The Inheritors. In Jean Jacques Weber (Ed.), The Stylistics reader: From Roman Jakobson to the present, pp. 56-86. London: Arnold.

Halm, Heinz. 2007. The Shiites: a short history. Princeton, NJ: Markus Wiener Publishers.

Harrod, Ryan P, Lienard, Pierre, and Martin, Debra L. 2012. Deciphering violence in past societies. In Debra L. Martin, Ryan P. Harrod, and Ventura R. Perez (Eds.), The bioarchaeology of violence, pp. 63-80. Gainesville FL.: University of Florida Press.

Hasiotis, Arthur Christos and Hasiotis, Arthur C. 2010. The axis of shame: Great Britain, Israel, the United States and Turkey in the Middle East. Pittsburgh, PA: Dorrance Publishing.

Hassan, Asif. (29 December 2009). Suicide bomber kills 30 on Shia procession in Karachi. The Guardian: http://www.theguardian.com/world/2009/dec/28/pakistan-suicide-attack-kills-30.

Hazleton, Lesley. 2009. After the Prophet: The epic story of the Shia-Sunni split in Islam. New York: Random House.

Hinton, Alexander Laban. 2002. The dark side of modernity. In Alexander Laban Hinton (Ed.), Annihilating the difference: The anthropology of genocide, pp. 1-40. Berkley: University of California Press.

Hinton, Alexander Laban (Ed.). 2002. Annihilating difference: The anthropology of genocide. Berkley: University of California Press.

Hinton, Alexander Laban and Lewis, Kevin O’Neill (Eds.). 2009. Genocide: Truth, memory, and representation. London: Duke University Press.

Hussain, Syed Ejaz. (2010). Terrorism in Pakistan: Incident patterns, terrorists’ characteristics, and the impact of terrorist arrests on terrorism. Unpublished PhD thesis, University of Pennsylvania. The thesis is available online at: http://repository.upenn.edu/edissertations/136.

Hussain, Tom. (16 Aug 2012). Pakistan Shias shot dead in sectarian massacre. Daily Telegraph: http://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/asia/pakistan/9479996/Pakistan-Shias-shot-dead-in-sectarian-massacre.html.

Hussain, Waris. (2 May 2014). Early warning signs of Shia genocide in Pakistan. The Diplomat:

http://thediplomat.com/2014/05/early-warning-signs-of-shia-genocide-in-pakistan/.

Hussain, Zahid. 2007. Frontline Pakistan: The struggle with militant Islam. London: I.B.Tauris.Jones, Adam. 2006. Genocide: A comprehensive introduction. London: Routledge.

Jafri, Nabeel. 24 September 2013, Sectarianism in Pakistan: School textbooks and national identity:

http://muftah.org/sectarianism-in-pakistan-school-textbooks-national-identity/#.UkjGgdwqY_k.facebook.

Jones, Adam. 2006. Genocide: A comprehensive introduction. London: Routledge.

Kaplan, S. 2013. Child survivors of the 1994 Rwandan Genocide and trauma-related affect. Journal of Social Issues, 69, 92–110.

Karachi’s doctors live in fear after spike in deadly attacks. (16 June 2015). Dawn: http://www.dawn.com/news/1188546.

Khan, Banaras. (4 September 2010). Pakistan suicide bomber kills 43 in Shia parade backing Palestinians. The Guardian:

http://www.theguardian.com/world/2010/sep/03/pakistan-suicide-bombers-kill-44-at-parade.

Krippner, Stanley and McIntyre, Teresa M. 2003. The Psychological impact of war trauma on civilians: An international perspective.  Westport, CT: Greenwood Publishing Group.

Lemarchand, Rene (Ed.) (2011). Forgotten genocides: Oblivion, denial, and memory. Philadelphia: University of Pennsylvania Press.

Levene, Mark. 2005. The meaning of genocide. London: I.B. Tauris.May, Larry. 2010. Genocide: A normative account. Cambridge: Cambridge University Press.

Manzoor, Ahmed Manzoor. (1993). The Pakistan problem: Historical background of Punjab and consolidation of Pakistan. Lahore: The Frontier Post Press.

Martin, J.R. and Rose, Rose. 2003. Working with discourse: Meaning beyond the clause. London: Continuum.

May, Larry. 2010. Genocide: A normative account. Cambridge: Cambridge University Press.

Mazower, Mark. 2009.  No enchanted palace: The end of Empire and the ideological origins of the United Nations. Prince NJ,: Princeton University Press.

Melson, Robert. 1992.  Revolution and genocide: On the origins of the Armenian genocide and the Holocaust. Chicago: Chicago University Press.

Michael Ignatieff. Lemkin’s words. The New Republic, February 26, 2001.

Nasr, Vali. 2007. The Shia revival: How conflicts within Islam will shape the future. New York: Norton.

Nayyar, A.H. and Salim, Ahmed (Eds.). 2003. The subtle subversion: The state of curricula and textbooks in Pakistan, Urdu, English, Social Studies and Civics, Islamabad: Sustainable Development Policy Institute.

Nhema, Alfred G. and Zeleza, Tiyambe. 2008. The roots of African conflicts: The causes and costs. Ohio: Ohio University Press.

Pakistan: Shia genocide: Military and militants.. (23 February 2013). Asian Human Rights Commission : http://www.humanrights.asia/news/ahrc-news/AHRC-ART-021-2013

Pakistan: A siege of state. (27 January 2014). Human Rights Watch:

http://www.hrw.org/news/2014/01/27/pakistan-state-siege.

Pakistan: The militant jihadi challenge, International Crisis Group, Asia Report No. 164, 13 March 2009.

Pandey, Gyanendra. (2004). Remembering Partition: Violence, nationalism and history in India. Cambridge: Cambridge University Press.

Perez, Ventura, R. (2012). The politicization of the dead. In Debra L Martin, Ryan P Harrod, and Ventura R Perez (Eds.), The bioarchaeology of violence, pp. 13-28. Gainesville FL.: University of Florida Press.

Provost, René and Akhavan, Payam (Eds.). 2010. Confronting genocide. London:  Springer.

Qasimi, Hamza. (7 February 2012). Pakistani extremists film massacre of Shiite minority group. The Observers:

http://observers.france24.com/en/20120702-pakistan-quetta-extremists-film-massacre-shiite-minority-group-hazara.

Qureshi, Aamir (22 November 2012). Pakistan Taliban suicide bomber kills 23 in Rawalpindi. The Guardian:

http://www.theguardian.com/world/2012/nov/22/pakistan-taliban-suicide-bomber-rawalpindi.

Rosen, Nir. 2006. In the belly of the green bird: The triumph of the martyrs in Iraq. New York: Simon and Schuster.

Rubenstein, William D. 2004. Genocide: A history. New York: Pearson Education Limited.

Rubin, Barnett R. 2013. Afghanistan from the Cold War through the War on Terror. Oxford: Oxford University Press.

Schabas, William. 2000. Genocide in international law: The crimes of crimes. Cambridge: Cambridge University Press.

Scheper-Hughes, N. and Lock, M.M. 1987. The mindful body: A prolegomena to future work in medical anthropology. Medical Anthropology Quarterly, 1 (1): 6-41.

Scherrer, Christian P. 2003. Ethnicity, nationalism, and violence: Conflict management, human rights, and multilateral regimes. London: Ashgate.

Sharma, D.P. 2005. The new terrorism: Islamist International. Delhi: APH Publishing.

Shaw, Martin. 2003. War and genocide. Cambridge: Cambridge University Press.

Shehzad, Muhammad. 2003. Textbook controversy in Gilgit, The Friday Times, XV: 19.

Shia genocide: A crisis in Pakistan (n.d.):

https://lubpak.com/wp-content/uploads/2014/05/UN-Report-3-Shia-Genocide.pdf.

Siddiqa, Ayesha. 2010. Red Hot Chilli Peppers Islam—Is the youth in elite universities in Pakistan radical? Paper for Foreign-Security Policy Series of Heinrich Boll Stiftung.

Simon, Thomas W. 2007. The laws of genocide: Prescriptions for a just world. Oxford: Greenwood Publishing Group.

Smith, Christian. 2010. What is a person? Chicago: University of Chicago Press.

Thackrah, John Richard. (2004). Dictionary of terrorism. London: Routledge.

Unfortunate disruption: Iranian bookstall closed. (10 December 2012). Dawn: http://www.dawn.com/news/1061596/unfortunate-disruption-iranian-bookstall-closed.

US embassy cables: Hillary Clinton says Saudi Arabia ‘a critical source of terrorist funding. (5 December 2010). The Guardian:

http://www.theguardian.com/world/us-embassy-cables-documents/242073

Waller, James. (2007). Becoming evil: How ordinary people commit genocide and mass killing. Oxford: Oxford University Press.

Walsh, Declan. (Monday 6 December 2010). Hillary Clinton memo highlights Gulf states’ failure to block funding for groups like al-Qaida, Taliban and Lashkar-e-Taiba. The Guardian: http://www.theguardian.com/world/2010/dec/05/wikileaks-cables-saudi-terrorist-funding.

Wilcke,  Christoph. 2009. Denied dignity: Systematic discrimination and hostility toward Saudi Shia citizens. New York: Human Rights Watch.

Yusufzai, Rahimullah. (11 May 2008). The man from Bara. The News:

 http://jang.com.pk/thenews/may2008-weekly/nos-11-05-2008/dia.htm.

Zaidi, Abbas. 2011. Postcolonial insanity. Journal of Postcolonial Cultures and Societies, Vol 2 No. 4, 1-29.