مزار لعل شہباز قلندر پہ بم دھماکے میں خطیب لال مسجد کے رشتے دار ملوث ہیں۔سندھ پولیس کی رپورٹ

_100069031_bdd3a9c5-273c-484c-b3b9-a6b30dda3b34

قلندر کے لعل شہباز کے مزار پر خودکش بم حملے میں 87 افراد ہلاک جبکہ 329 زخمی ہوئے تھے

 

لعل شہباز قلندر کے مزار پہ بم دھماکے میں تکفیری دیوبندی خطیب لال مسجد کے رشتے دار ملوث ہیں۔۔ سندھ پولیس/ رپورٹ بی بی سی اردو

سندھ کے صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملے میں لال مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اور مولانا غازی عبدالرشید کے قریبی رشتے دار ملوث تھے۔

کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کے مطابق غلام مصطفیٰ مزاری ماسٹر مائنڈ جبکہ صفی اللہ مزاری سہولت کار تھے۔

قلندر شہباز کے مزار پر خودکش بم حملے میں محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق 87 افراد ہلاک جبکہ 329 زخمی ہوگئے تھے، چھ افراد کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے انھیں لاوارث قرار دیکر ایدھی حکام نے دفنا دیا۔

بستی عبداللہ داعش کی قیادت کا مرکز؟
قلندر شہباز پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں پولیس اس وقت تک صرف ایک ملزم نادر جکھرانی کو گرفتار کرسکی ہے، جس کے بیان اور سی ٹی ڈی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ غلام مصطفیٰ مزاری اور صفی اللہ مزاری کا اس دھماکے میں کلیدی کردار تھا۔

 

_100069029_nadir

سیہون حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں پولیس صرف ایک ملزم نادر جکھرانی کو گرفتار کرسکی ہے

ڈاکٹرغلام مصطفیٰ کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے تعلق تھا بعد میں انھوں نے دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی اور اسے دولتِ اسلامیہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کا آپریشنل سربراہ بنایا گیا۔

پورٹ کے مطابق بستی عبداللہ روجہان مزاری کے رہائشی غلام مصطفیٰ مزاری اور صفی اللہ مزاری لال مسجد کے متنازع خطیب مولانا عبدالعزیز اور مولانا عبدالرشید کے قریبی رشتے دار ہیں۔

خودکش بمبار برار کو غلام مصطفیٰ مزاری اپنے ساتھ لایا تھا، قلندر شہباز کے مزار پر حملے سے قبل بمبار نے نادر جکھرانی کے ہمراہ بستی عبداللہ میں صفی اللہ کے گھر قیام کیا تھا، صبح کو صفی اللہ، نادر جکھرانی اور بمبار برار سیہون کے لیے روانہ ہوئے جہاں دھماکے کے بعد نادر جکھرانی اور صفی اللہ واپس بستی عبداللہ آئے جہاں نادر نے صفی اللہ کے گھر قیام کیا۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق نادر جکھرانی کا تعلق کشمور کے گاؤں سعید خان جکھرانی سے ہے۔ اس کا تعارف غلام مصطفیٰ عرف ڈاکٹر عرف سائیں عرف شاہ صاحب سے اس وقت ہوا جب وہ گاؤں میں تھریشر مشین کرائے پر دینے آیا تھا۔

سی ٹی ڈی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نادر جکھرانی غلام مصطفیٰ مزاری کے شدت پسندانہ خیالات سے متاثر ہوا اور اس نے بستی عبداللہ جانا شروع کردیا جہاں غلام مصطفیٰ مزاری کے ذریعے اس نے غازی عبدالرشید کے بیٹوں ہارون اور حارث سے قریبی تعلقات قائم کیے۔

خودکش بمبار برار کون تھا؟
خودکش بمبار کو غلام مصطفیٰ مزاری اپنے ساتھ لایا اور نادر جکھرانی نے صفی اللہ کے ہمراہ سیہون پہنچایا۔ ایس ایس پی کاؤنٹر ٹیرر ازم عرفان سموں کا کہنا ہے کہ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ وہ بروہی تھا یا افغانی۔ تاہم نادر جکھرانی نے پولیس کو بتایا ہے کہ برار کی زبان اور لہجہ مستونگ میں بولی جانے والی براہوی زبان سے مماثلت رکھتا تھا۔ نادر نے تحقیقات میں اس کے بارے میں مزید معلومات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

خودکش جیکٹ کہاں سے آئی؟

 

_100069033_ghulam

ملزم کے بیان کے مطابق ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مزاری نے دھماکے سے ایک روز قبل خودکش جیکٹ فراہم کی

قلندر شہباز کے مزار پر دھماکے کے لیے استعمال کی گئی جیکٹ وہاں کس طرح پہنچی یہ واضح نہیں ہوسکا۔ سی ٹی ڈی حکام کو شبہ ہے کہ یہ جیکٹ مقامی طور پر دستیاب تھی جو پہلے ہی منتقل کردی گئی تھی۔ گرفتار ملزم نادر جکھرانی کے بیان کے مطابق ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مزاری نے جیکٹ پہنچانے کی ذمہ داری اٹھائی تھی اور دھماکے سے ایک روز قبل انھیں سیہون میں اس نے یہ جیکٹ فراہم کی۔

 

تفتیشی حکام نے تین سے زائد مقامی افراد کو شبہ کی بنیاد پر حراست میں لیا تھا لیکن بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا۔ ایس ایس پی عرفان سموں کا کہنا ہے کہ قلندر شہباز کی مزار پر حملے سمیت ہر دھماکے میں مقامی معاونت ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس کے بغیر مشن پورا نہیں ہوسکتا۔

سی ٹی ڈی کو درپیش چیلینجز کیا ہیں؟
قلندر پر حملے کے مقدمے میں صفی اللہ مزاری کے ساتھ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مزاری کا بھائی عبدالستار مزاری( رہائشی بستی عبداللہ روجھان مزاری) اعجاز بنگلزئی، فاروق بنگلزئی ، تنویر احمد اور عمران عرف ذوالقرنین ( رہائشی ڈیرہ الہ یار، بلوچستان) مفرور ہیں۔

ڈی آئی جی عامر فاروقی کے مطابق اس حملے میں داعش ملوث ہے۔ یہ مطلوب ملزم اپنے گھروں پر نہیں بلکہ فرار ہو چکے ہیں۔ امکان ہے کہ انھوں نے افغانستان میں کہیں پناہ حاصل کرلی ہے۔

کیا استغاثہ یہ الزام ثابت کرسکے گی؟
کاؤنٹر ٹیررازم محکمے کی تفتیش ابھی تک نادر جکھرانی کے بیان کے گرد گھوم رہی ہے، استغاثہ کی جانب سے گذشتہ سال دسمبر کے دوسرے ہفتے میں انسداد دہشت گردی عدالت میں حتمی چارج شیٹ پیش کی گئی تھی جس میں 30 گواہوں کے نام دیے گئے ہیں جن میں پولیس اہلکار، ڈاکٹر اور ریوینیو افسر شامل ہیں۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عامر فاروقی پرامید ہیں کہ استغاثہ الزام ثابت کرنے میں کامیاب رہے گی کیونکہ پولیس کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج، جے آئی ٹی کی رپورٹ اور ملزم نادر جکھرانی کا اعترافی بیان موجود ہے۔

(رپورٹر سہیل ریاض کراچی )

 

Advertisements

دہشت گردی سے متاثرہ خواتین کے تجربات-فائزہ علی

Protest in Dera Ismail Khan

 

Experiences of Female Victims of Faith-Based Violence in Pakistan

پاکستان میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی دہشت گردی کی متاثرہ خواتین کے تجربات

محقق : فائزہ علی

فائزہ علی لیورپول بزنس اسکول میں سینئر لیکچرار ہیں

Faiza Ali is a senior lecturer at Liverpool Business School. She has more than ten years of experience in teaching and research. Her areas of research include diversity management, gender equality, work-life balance, sexual harassment and intersectionality in the workplace. In particular, she is interested in exploring issues and challenges faced by women in Muslim-majority countries such as Pakistan, Turkey and Bangladesh.

ترجمہ و تلخیص : عامر حسینی

مذہبی بنیادوں پہ ہونے والا وائلنس پاکستان میں بڑھتا ہی جاتا ہے۔خاص طور پہ کچھ مخصوص مذہبی گروہوں جیسے شیعہ،سنّی بریلوی یا صوفی،احمدی اور کرسچن ایسے تشدد کے خاص ہدف/ٹارگٹ ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے متاثرہ لوگوں کے جو خاندان ہوتے ہیں وہ بھی ناقابل برداشت زاتی،جذباتی اور معاشی نقصانات کا سامنا کرتے ہیں۔تاہم متاثرہ خواتین کے متاثرہ خاندان کے دیگر افراد سے تجربات مختلف ہوسکتے ہیں۔مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی وائلنس بارے ان کا تجربہ ان کی صنف/جینڈر کے مذہب ،فرقہ یا طبقہ کے ساتھ جس سے ان کا تعلق ہوتا ہے سے ان کے باہمی عمل پہ بنیاد رکھتا ہے۔عراق میں داعش کی متاثرہ خواتین کے تجربات بارے حال ہی میں خبریں سامنے آئی ہیں۔جیسے یزیدی،کرد،شیعہ اور سنّی عورتیں پراسیکوشن اوروائلنس کے تجریوں سے گزری ہیں۔

 (e.g., Moaveni 2015)

اس تحقیق کا مقصد صوفی سنّی، شیعہ اور احمدی برادریوں سے تعلق رکھنے والی ایسی خواتین کے تجربات پہ روشنی ڈالنا ہے جوکہ پاکستان میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی دہشت گردی کا سامنا کررہی ہیں۔حالیہ عشروں میں دیوبندی عسکریت پسند گروپوں نے نہ صرف حکومتی اداروں کو نشانہ بنایا بلکہ انہوں نے کچھ خاص مذہبی کمیونٹیز کو بھی نشانہ بنایا۔ حال ہی میں جنگ اور دہشت گردی کے متاثرہ پہ دباؤ کی جینڈر کے حوالے سے شرح جاننے کے لئے جو اسٹڈیز کی گئیں اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ جینڈر لیول پہ یہ زیادہ ہے اور اس میں بھی مردوں کے مقابلے میں اس کا دباؤ عورتوں پہ زیادہ ہے۔

یہ اسٹڈی مزید یہ بھی انکشاف کرتی ہے کہ عورتوں کی نسبت مردوں میں اس دباؤ میں نفسیاتی مداخلتوں سے کمی کا مشاہدہ کیا گیا۔تاہم یہ اسٹڈیز کیفیتی ڈیٹا پہ زیادہ مشتمل ہے اور گہرائی میں جاکر متاثرین کی خاص طور پہ متاثرہ عورتوں کی تصویر نہیں دکھاتیں۔یہ تحقیق اسی گیپ کو پر کرنے کی کوشش ہے۔

نوٹ:جینڈر اسٹڈیز میں ایک اصطلاح

Intersectionality

استعمال ہوتی ہے اور اسے اردو میں ہم مقام انقطاع کہہ سکتے ہیں یہ

 Intersectionality

ایک ایسا تصور ہے جو مختلف تھیوریز میں ان طریقوں کو بیان کرتا ہے جن سے جبر کے ادارے جڑے ہوتے ہیں اور ان کو الگ الگ کرکے دیکھا نہیں جاسکتا۔یہ تصور پہلی بار ماہر قانون

Kimberle Crenshw

نے 1989ء میں متعارف کرایا تھا۔اور اسے زیادہ تر جینڈر اسٹڈیز میں استعمال کیا جاتا ہے۔

کولنز کے مطابق یہ اصطلاح ایک ایسی تنقیدی بصیرت کا حوالہ ہے جس کے مطابق جینڈر /صنف، ایتھنی سٹی /نسلیاتی ثقافت اور کلاس/طبقہ الگ الگ ایک وحدت کے طور پہ کام نہیں کرتیں بلکہ اس کے برعکس یہ ایک ساختہ مظہر کے طور پہ کام کرتے ہیں۔

(Collins 2015)

Prins

پرنز  کا کہتا ہے کہ انٹرسیکشنلٹی کے کئی ایک پہلوؤں پہ مبنی جو میکنزم ہے اس کو سمجھنے کے لئے جینڈر/صنف کا دوسری شناختوں کے ساتھ جو ٹاکرا ہوتا ہے اور اس کا دوسری شناختوں کے ساتھ جو عمل ہے اس سے جوڑ کر دیکھنا بہت ضروری ہے۔

(Prins 2006)

پرنز کا کہنا ہے کہ یہ جو ساختیاتی اپروچ ہے یہ شناخت کو صرف ایسے بیانیہ کے طور پہ نہیں دیکھتی جس میں بیان کرنے والا بس ایک عمل کرنے والا ہوتا ہے بلکہ وہ ہماری اپنی کہانی کا مصنف بھی ہوتا ہے۔اور اس طرح کے طرز فہم میں بیانیے میں شناخت صرف نام دینے کا نام نہیں ہوتی بلکہ بذات بیان ہوتی ہے۔شناخت کرداری صفات کی ایک فہرست کا نقشہ ہمارے سامنے نہیں کھینچتی جس میں ہمیں شخص کے بارے میں پتا چلتا ہو بلکہ یہ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ وہ کوئی اور ۔سم ون کون ہے؟اور جیسے حانا آرڈینٹ کہتا ہے کہ اور یہ بھی کہانی بیان کرنے سے ہی پتا چل سکتا ہے۔ایک طرف تو ہماری کہانی ہمارے متعلق ہوتی ہیں ۔یہ ہمیں بنانے کا کام بھی کرتی ہیں۔ہم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوجاتے ہیں جو ہمارے لئے پہلے سے ہی تیار کردیا گیا ہو اور ہم میں اکثر  پہلے سے دستیاب سکرپٹ کے بیانیہ کے مطابق اپنی زندگی کا راستہ متعین کرتے ہیں۔دوسری طرف ہماری کہانیاں تہہ دار اور تضادات سے بھری ہوتی ہیں:مذہب،ایتھنی سٹی ، طبقہ اور جینڈر کے سکرپٹ ایک تشکیلی کردار ادا کرتے ہیں لیکن نہ تو یہ ایک جیسے طریقے سے ایسا کرتے ہیں اور نہ ہی ہمیشہ معلوم فیکٹرز یا عوامل کے زریعے سے ایسا کرتے ہیں۔

جہاں تک پاکستان میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والے تشدد کی صورت حال کا تعلق ہے تو امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی 2015ء کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پہ شیعہ،کرسچن،احمدیوں اور ہندؤں کو بطور خاص ایک باقاعدہ منصوبہ بند وائلنس کا سامنا ہے۔ویسے تو پاکستان بھر میں شیعہ مسلمان دیوبندی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں وائلنس کا شکار ہوئے ہیں لیکن کوئٹہ کے ہزارہ شیعہ کا کیس ان کو درپیش وائلنس کے پیمانے کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔اور یہ اس لئے بھی ہم ہوجاتا ہے کہ اس میں مذہب کے ساتھ ایتھنی سٹی بھی شامل ہے۔یہ وائلنس مذہبی شناخت اور نسلی شناخت دونوں کو شامل کرتی ہے اور ان کی مذہبی شناخت کے علاوہ ان کی نسلی شناخت بھی ان کو دہشتگردوں کا آسان شکار بناتی ہے۔شیعہ ہزارہ کی بھاری اکثریت شیعہ ہے اور یہ منگول نسل سے ہیں اور ان کے اورئنٹل خدوخال اور ہلکی سکن ان کو باقی پاکستانیوں سے الگ دکھاتی ہے۔ہزارہ کی اکثریت مسلم شیعہ ہے تو دیوبندیوں نے ان کو کافر قرار دیا ہوا تو اور دیوبندی عسکریت پسند تنظیمیں جیسے سپاہ صحابہ پاکستان ہے، لشکر جھنگوی ان کو مرتد، اسلام سے پھر جانے والے کہہ کر مارتی ہے۔پاکستان میں جو انتہا پسندی کی متشدد جنگ ہے ہزارہ شیعہ کمیونٹی اس کا سب سے زیادہ ہدف ہے۔بی بی سی 2013ء میں رخسانہ بی بی کی کہانی بیان کرتا ہے جو کہ کوئٹہ کی ہزارہ شیعہ خاتون ہے اور اس کے چار میں سے تین بیٹے دہشت گرد حملے میں مارے گئے۔اس کے درمیانے درجے کے گھر کی دیواروں پہ خاندان کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔وہ دروازے پہ ایک فریم لیکر بیٹھی ہے جس میں اس کے ان تین بچوں کی تصویریں ہیں جن کو اس نے دہشت گرد حملے میں کھودیا ہے۔رخسانہ بی بی اور ایسی دوسری عورتیں جنھوں نے اپنے مرد دہشت گردی میں کھودئے ہیں ان کا نقصان صرف جذباتی اور نفسیاتی نہیں ہے بلکہ یہ معاشی اور سماجی نقصان بھی ہے ایک ایسے معاشرے میں جس میں اکثر صرف مرد حضرات ہی کمانے والے ہوتے ہیں۔عام سنّی مسلمانوں کو بھی پاکستان میں دیوبندی عسکریت پسند گروپوں کے ہاتھوں مذہبی بنیادوں پہ وائلنس کا سامنا کونا پڑا ہے۔ان کی کہانیاں بھی دوسری کمیونٹیز کے لوگوں کی مشکلات۔ پختہ عزم اور مزاحمت کی کہانیاں ہیں۔

نو اکتوبر 2013ء کو سنّی مسلم پشتون نژاد 15 سالہ ملالہ یوسف زئی پہ پاکستان کے علاقے سوات میں اسکول سے واپسی آتے ہوئے بس پہ حملے کے دوران فائرنگ کی گئی اور ان کے سر اور چہرے پہ گولیاں ماری گئیں۔یہ حملہ دیوبندی عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے کیا تھا۔اس کا جرم لڑکیوں کے حق تعلیم پہ اصرار اور طالبان کی جانب سے عورتوں اور دیگر گروپوں پہ کئے جانے والے مظالم کی مخالفت تھا۔خوؤ قسمتی سے ملالہ اس انتہائی ہلاکت خیز حملے کے بعد جانبر ہوگئیں۔اب وہ عالمی سطح پہ عورتوں کی تعلیم کی ایک کمپئن چلارہی ہیں اور ہمت و امید کی عالمی مثال بن گئی ہیں۔جب طالبان نے ان کو مارنے کی کوشش کی اس سے پہلے ملالہ ایک قلمی نام سے بی بی سی کے لئے عورتں کے حقوق اور طالبان کے قبضے کے بعد سوات میں زندگی بارے ایک بلاگ لکھ رہی تھیں اور اپنا پیغام پہنچانے کی کوشش کررہی تھیں۔اور اب وہ پوری دنیا میں جہاں جہاں لڑکیوں کے لئے تعلیم کے مواقع نہ ہیں وہاں تک تعلیمی سہولتوں کی رسائی کے لئے کوشش کررہی ہیں۔احمدی عورتوں اور ان کے مصائب بھی مختلف نہیں ہیں۔ایک احمدی لڑکی آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ اپنے والد کے دہشت گردی کے ایک واقعے میں مارے جانے کو یاد کرتی ہے۔اس کے والد لاہور میں احمدیہ مرکز پہ نماز جمعہ کے دوران 29 مئی 2010ء کو احمدی کمیونٹی پہ تاریخ کے سب سے بڑے دہشت گرد حملے میں 87 احمدیوں سمیت مارے گئے تھے۔وہ سولہ سال کی تھی جب اس کے والد مارے گئے اور آج بھی یہ واقعہ اس کے ذہن میں تازہ ہے۔

  (Ahmad 2015).

In May 2015, 47 Ismaili Shia Muslims, including 16 women, were

shot dead during an attack on a bus in Karachi (BBC News 2015). The

مئی 2015ء میں 47 اسماعیلی شیعہ جس میں 16 خواتین بھی شامل تھیں کراچی میں ایک بس پہ حملے کے دوران مارے گئے- ( بی بی سی نیوز 2015ء )۔اسماعیلی شیعہ کمیونٹی پاکستان کی سب سے پرامن کمیونٹی خیال کی جاتی ہے اور وہ پاکستان اور دوسرے ممالک میں اپنے سماجی فلاح و بہبود کے کاموں کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔داعش سے متاثر دیوبندی عسکریت پسندوں نے اسماعیلی کمیونٹی کی بس کو نشانہ بنایا اور عورتوں کو بھی نہ بخشا۔ان عورتوں کے خاندانوں کی تکلیف کا تصور بھی محال ہے خاص طور پہ جن کے بچے ابھی چھوٹے تھے۔

اگلے سیکشن میں،میں نے انٹرسیکشنلٹی کے موضوع پہ لٹریچر کا جائزہ اسی طرح کے واقعات کی روشنی میں لینے کی کوشش کروں گی۔اور پھر اس کا استعمال عملی طور پہ تیسرے سیکشن میں کیا جائے گا۔

انٹرسیکشنلٹی ایک دوسرے سے گڈمڈ ہونے والی یا ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی سماجی شناختوں اور متعلقہ جبر،غلبے اور زیادتی کے نظاموں کے مطالعے کا نام ہے۔یہ تھیوری مختلف سماجی اور ثقافتی کیٹیگریز کی کہانی میں لیکر آتا ہے جیسے جینڈر،ریس،طبقہ ،مذہب،عمر اور شناخت کے دوسرے پہلو ہوتے ہیں جوکہ متعدد اور اکثر کئی اور سطحوں پہ ایک دوسرے کے ساتھ عمل۔انٹریکٹ کرتی ہیں۔اور یہ فریم ورک ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کیسے مربوط اور منظم ناانصافی اور سماجی نابرابری ہمہ جہتی بنیادوں پہ واقع ہوتی ہے۔

 (Crenshaw 1989(

انٹرسیکشنلٹی کا یہ سمجھنا ہے کہ معاشرے کے اندر جبر کی تصور گری جیسے نسل پرستی،سیکس ازم، کلاس ازم اور عقیدے کی بنیاد پہ تعصب وغیرہ ایک دوسرے سے الگ الگ عمل نہيں کرتے بلکہ اس کی بجائے جبر کی یہ اقسام ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور جبر کا ایک ایسا نظام۔سسٹم بناتی ہیں جو کہ امتیازی سلوک اور زیادتی کی کئی قسم کی شکلوں کے ساتھ انٹرسیکٹ/قطع کرتی ہیں۔

(Knudsen 2006)

کنوڈیسن کے مطابق انٹرسیکشنلٹی ایک ایسا نظریہ ہے جوکہ یہ بتاتا ہے کہ سماجی اور ثقافتی کیٹیگریز کیسے ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔جینڈر،ریس،ایتھنی سٹی،کلاس،نیشنلٹی وغیرہ کے درمیان تعلقات کا کئی سطحوں سے جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ اس نابرابری کو ظاہر کیا جاسکے جو معاشرے میں پائی جاتی ہے۔وہ ایک دوسرے سے لاتعلق اور آزاد نہیں ہوتیں بلکہ جبر کی اشکال ایک دوسرے سے باہمی طور پہ جڑی ہوتی ہیں اور امتیاز و زیادتی کی مختلف اشکال کے ساتھ بندھی ہوتی ہیں۔

( کنوڈیسن ،ص 61)

Rather than looking at the majority culture, the theory of intersection reacts the minority

یہ نظریہ بجائے اکثریت کے کلچر پہ نگاہ ڈالنے کے اقلیت کے کلچر پہ ردعمل دیتا ہے۔یہ تصور اس بات کی تلاش میں ایک مفید زریعہ کے کام آسکتا ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کیسے کچھ خاص لوگ جو محض مختلف ہی نہیں ہوتے بلکہ ایک مشکل میں ڈالنے والی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں بلکہ کچھ مثالوں میں تو وہ کمتر بنائے جانے /مارجنلائز کی صورت حال کا شکار ہوتے ہیں۔

(Staunaes 2003a, p. 101)

اقلیت کی شناختوں کے تعدد اور تکثیر پہ بننے والا تناظر/پرسپیکٹو  انٹرسیکشنلٹی کے علاوہ جامع/ایڈیٹو ،ضربی/ ملٹی پلی کیٹو اور انٹریکشنسٹ/دخلیاتی بھی ہوتا ہے۔

Additive Perspective

جامع تناظر/نکتہ نظر

اقلیت کی شناخت کے مراتب ( طبقہ،نسل اور جینڈر ) کے آزادانہ عمل کرنے کے تصور پہ ردعمل دیتا ہے اور لوگوں کے تجربات کو  جامعی انداز میں اکٹھا کرکے ان کی صورت گری کرتا ہے۔اس تناظر نکتہ نظر سے محقق ایک اور اصطلاح

Double Jeopardy

دوہرا جوکھم استعمال کرتے ہوئے اس جامعی اثر کی وضاحت کرتے ہیں۔جامعی نکتہ ہائے نظر۔ضربی اور انٹریکشنلسٹ/دخلیاتی تناظرات یہ فرض کرتے ہیں کہ متعدد شناختیں تصور میں ڈھالی جاسکتییں ہیں اور ان کو فعال /آپریشنلائزڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔اور اسٹڈی کی اصطلاحوں میں ان کو بطور الگ اور جدا جہات کے لیا جاتا ہے۔اس طرح کے معاملے میں اقلیت کی متعدد شناختیں ایک دوسرے پہ اثر ڈالتی ہیں۔یہ جامعی اور ضربی تناظر کیفیتی/مقداری تحقیق کے زریعے سے اپنا مقصد پورا کرتے ہیں۔

Brah

اور فونیکس کا کہنا ہے کہ طاقت کے رشتوں کی تکثیریت بارے سوچنے کے نئے طریقوں میں انٹرسیکشنلٹی کا نظریہ بہت مدد کرتا ہے۔یہ تسلیم کرنا کہ نسل،سماجی طبقہ اور جنسیت/تمایلات جنسی /سیکچوئلٹی عورتون کے تجربات کو الگ الگ کرتے ہیں اور یہ ہم آہنگ کیٹیگری “ویمن/عورت” کو اس کی عالمگیریت کو ڈس رپٹ/منتشر کردیتی ہے جس نے نسل،سماجی طبقہ اور جنسیت کے تعلق سے عورت بارے سٹیٹس کو کو برقرار رکھنے کا کام سرانجام دیا تھا۔جبکہ یہ صنفیاتی مفروضات کو چیلنج بھی کرتی ہے۔

 ایک تصادم والے زون میں جیسے پاکستان ہے جہاں مذہبی برداشت بہت کم ہے وہاں پہ انٹرسیکشنلٹی مسئلے کی شدت اور پیچیدگی میں اضافہ کرسکتی ہے اور ان خطرات میں بھی اضافہ کرسکتی ہے جوکہ اس علاقے کے لوگوں کو درپیش ہوتے ہیں۔تصادم چاہے قدرتی ہوں یا انسانوں کے بنائے ہوئے ہوں ان کے متعدد اور مختلف اثرات مرد اور عورتوں پہ تصادم کے تجربے سے جو مرتب ہوتے ہیں ان میں ان کی جینڈر بھی ملوث ہوتی ہے۔پاکستان میں عورتیں مردوں سے سماجی طور پہ مردوں کی تابع ہوتی ہیں۔

(Ferdoos 2005)

ان کو پاور،زرایع اور مواقع تک ویسے رسائی حاصل نہیں ہوتی جیسے مردوں کو حاصل ہوتی ہے۔اپنی کمتر سماجی اور معاشی حثیت کی وجہ سے ان کے پاس تصادم،انسانی اور فطری آفات کے اثرات سے نمٹنے اور ان کے مطابق خود کو ڈھالنے کی استعداد کم ہوتی ہے۔

(Bari 2010; Ali and Knox 2008)

اور اس پہ بہت سے دستاویزاتی ثبوت ہیں کہ عورتوں کی اس طرح کے خطرات میں گھرے ہونے کی حالت میں تصادم کے حالات میں اور زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے جیسے جنگ اور دہشت گردی ہے۔

(Niarchos 1995)

دہشت گردی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کی زیادہ شدت کا سامنا عورتوں کو اور زیادہ ہوتا ہے۔بہت سی تحقیقی اسٹڈیز امن اور شورش و جنگوں والے علاقوں میں کی گئیں اور ان سے ان سے پیدا ہونے والے اثرات کا بھی پتا چلتا ہے بلکہ مرد و عورت کی اصناف کے حوالے سے بھی ان کے الگ الگ اثرات کا پتا چلتا ہے۔

 (Bari 2010; Jawaid . 2014)

عام طور پہ عورتیں شورش اور جنگوں میں غیر فعال /پے سیو متاثرہ خیال کی جاتی ہیں جن کا ان واقعات کے شروع کرنے یا ان میں حصّہ لینے میں فعال کردار نہیں ہوتا ہے۔

 (Liebling-Kalifani et al. 2007)

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ،بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور عسکریت پسندی  کے تجزیوں میں عورتوں کو ایک نظر انداز کی گئی کیٹیگری خیال کی جاتا ہے۔

(Bari 2010)

مرد اور عورتیں دونزن پاکستان میں دیوبندی عسکریت پسندی سے متاثر ہونے والے ہیں۔تاہم ان کے تجربات واضح طور پہ مختلف ہیں۔مشکل سے کوئی قابل زکر کوشش دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اثر میں جینڈر امتیاز پہ مبنی مطالعے کے لئے کی گئی ہیں۔جب مذہبی عسکریت پسندی کے مرد اور عورتوں پہ اثر مختلف ہے تو انسداد دہشت گردی کی تفہیم اور اس کے علاج بارے لائحہ عمل بھی مختلف ہیں۔

حال ہی میں دارالعلوم دیوبند اور اس ادارے سے نظریاتی اتفاق رکھنے والے دیگر مدارس کی جانب سے متعدد ایسے فتوے جاری کئے گئے جو عورتوں کی آزادی کو کم کرتے ہين۔خاص طور پہ قابل زکر فتوی عورتوں کی تبلیغ اور خطاب کرنے پہ پابندی کے ساتھ ساتھ کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کی علیحدگی سے متعلق ہیں۔اسی طرح یہ فتوے کہ عورتوں کو برقعہ پہننا لازم ہے۔موبائل فون سے تین بار کہے جانے والا لفظ طلاق مرد اور عورت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدائی ڈالتا اور ان کا رجوع کا حق ختم کرڈالتا ہے۔عورتیں جج نہیں بن سکتیں۔منگیتر سے فون پہ بات کرنا حرام ہے۔تیرہ سال سے اوپر کی لڑکیوں کا بائی سائیکل چلانا حرام ہے۔عورتوں کا کار چلانا مکروہ ہے۔عورتوں کو الیکشن نہیں لڑنا چاہئیے اور گھروں میں پردے میں رہنا چاہئیے۔مخلوط تعلیم ممنوع ہے۔ایسے ہی عورتوں کو بینکوں میں کام نہیں کرنا چاہئیے۔ماڈلنگ اور اداکاری خلاف اسلام ہیں۔کارٹون ٹیلی ویژن پہ دیکھنا غلط ہے اور خون دینا اور انسانی اعضاء کا عطیہ حرام ہے۔فوٹوگرافی گناہ ہے۔باڈی سکین حرام ہے۔

 (Indian Express 2013)

اس قسم کے فتوے عورتوں کی سماجی اور معاشی سرگرمیوں میں شرکت اور ان کی نقل و حرکت پہ پابندیاں لگاتے ہیں۔اور ایسی عورتوں کی زندگی کو اجیرن کردیتے ہیں جن کے روٹی کمانے کے واحد سہارا مرد کسی حادثے کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں یا معذور ہوجاتے ہیں۔

پاکستان میں سوات میں طالبان کی دہشت گردی سے متاثر ہونے والے مردوں اور عورتوں بارے کی گئی ریسرچ اور اسٹدیز نے یہ انکشاف کیا کہ تمام مرد،عورتیں اور بچے مذہبی عسکریت پسندی سے سماجی،معاشی اور سیاسی طور پہ متاثر ہوئے۔تاہم عورتوں پہ اس کے اثرات ان کے مقامی ثقافتوں میں سماجی معاشی مرتبے کے حوالے سے مردوں کے محتاج ہونے کی وجہ سے کہیں زیادہ تھے۔عورتوں کا دیوبندی طالبانی عسکریت کا تجربہ مردوں سے بنیادی طور پہ کافی مختلف تھا۔مرد جسمانی وائلنس کا شکار ہوئے۔جبکہ عورتیں جن کو بطور آزاد فرد کے زندگی گزارنے کی اجازت نہ تھی اور ان کی بقاء کا انحصار مردوں کی ان کی زندگیوں میں مدد دینے پہ منحصر تھا۔اور کو کسی بھی حانت میں محرم مرد کے بغیر گھروں سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔عورتوں نے نہ صرف تعلیم،صحت اور دوسری سماجی خدمات تک اپنی رسائی کھودی بلکہ ان کی جسمانی نقل و حرکت بھی بہت زیادہ محدود اور مکمل طور پہ مردوں کی محتاج بنادی گئی۔شورش زدہ علاقوں میں عورتوں نے پدرسریت کی بدترین شکل کا سامنا کیا۔

    (Bari 2010)

تاہم یہ اسٹڈی شورش زدہ علاقوں میں انٹرسیکشنل ایشوز جیسے ایتھنی سٹی،کلاس اور مذہب وغیرہ ہیں ان کی پیچیدہ نوعیت کی کہانی بارے مشتمل نہیں ہے بلکہ اوپر بیان کردہ بحث کی روشنی میں یہ اس بات کا اعادہ کری ہے کہ عورتیں اپنی جینڈر، طبقے،مذہب اور ایتھنی سٹی کی وجہ سے مختلف ایشوز اور خطرات کا سامنا کرتی ہیں۔

جب ان کے تجربات دہشت گردی کے انتہائی ایشوز سے نبردآزما ہوتی ہیں تو ان کو احتیاط سے کھوجنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کو درپکش خطرات اور چیلنجز کی پیچیدگی کو سمجھا جاسکے اور یہ بھی دیکھا جاسکے کہ وہ ایسی جکڑبندیوں اور روکاوٹوں پہ قابو پاتے ہوئے کیسے اپنے آپ کو جینے کے قابل بناتی ہیں۔اس سیاق و سباق میں اس ریسرچ کا مقصد ان درج ذیل سوالوں کا جواب تلاش کرنا ہے:

مذہبی عسکریت پسندی کی متاثرہ پاکستانی خواتین کتنے مذہبی پس منظر کی حامل ہیں؟

یہ خواتیں ایسے ایشوز اور چیلنجز کے ساتھ کیسے نبرآزما ہوتی ہیں؟

میتھوڈولوجی

یہ اسٹڈی براہ راست اور بالواسطہ حاصل کی گئی معلومات کے تجزیہ پہ مشتمل ہے۔اور اس تجزیہ کی نوعیت انٹرسیکشلنٹی کے عدسوں کے استعمال کی وجہ سے کیفیتی یا مقداری نکتہ نظر/تناظر ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ متعدد شناختیں الگ جہات کے طور پہ ناقابل تقسیم ہیں جوکہ ہر ایک فرد کے لئے یونیق ہیں اور نئے اور ممتاز تجربات کی تشکیل کرتی ہیں۔

 (Parent et al. 2013; Collins 2015)

براہ راست زرایع وہ انٹرویو ہیں جو عورتوں سے ان کی واضح جینڈر اور مذہبی شناخت کے ساتھ کئے گئے ہیں اور کل 12 انٹرویو کئے گئے:5 ان ميں شیعہ عورتیں تھیں، 2 ہزارہ شیعہ عورتیں اور تین سنّی بریلوی عورتیں۔جبکہ دو احمدی عورتیں تھیں۔ان سب عورتوں نے مذہبی دہشت گردی میں اپنے خاندان کے مردوں کو کھودیا تھا۔

 اس موضوع کی حساسیت کے پیش نظر ان عورتوں سے معلومات اکٹھی کرنا آسان نہیں تھا جوکہ ایک یا دوسرے طریقے سے دہشت گردی کی متاثرہ تھیں۔لیکن شراکت مکمل طور پہ رضاکارانہ،رازداری، نجی زندگی کی اقدار کا تحفظ کرتے ہوئے کی گئی اور مواد اکٹھا کرتے ہوئے اس سب کا خیال رکھا گیا۔جبکہ ثانوی زرایع بھی متعلقہ معلومات حاصل کرنے کے لئے استعمال کئے گئے۔اس مقصد کے لئے مختلف زرایع سے تحقیق کی گئی،مثال کے طور پہ مصدقہ اور قابل اعتبار اخباری مضامین دو انٹرویو کے ساتھ ساتھ شامل کئے گئے اور ميں ہیومن رائٹس واچ کی حال ہی میں شایع کی گئی تازہ رپورٹ کا جائزہ لیا جس میں کئی ہزار شیعہ عورتوں کے انٹرویو کئے گئے تھے۔

نتائج

اس تحقیق کے نتاچ کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کی جاسکتا ہے: سماجی اثر،معاشی اثر اور مقابلہ کرنے کی حکمت عملی۔ہزارہ شیعہ عورت ہو،غیر ہزارہ شیعہ عورت، سنّی بریلوی عورت یا احمدی عورت جوکہ مذہبی وائلنس کی متاثرہ ہیں ہر ایک نے مختلف تجربہ بیان کیا۔

اول اور ثانوی مواد کے تجزیے سے سماجی،جذباتی اور نفسیاتی اثر سے ظاہر ہے کہ عورتیں مذہبی دہشت گردی کے سبب بڑے جذباتی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں۔تاہم ان کے انفرادی حالات و واقعات کو بھی زیر غور لانا ضروری ہے۔

اس سیکشن میں مختلف فرقوں اور ایتھنی سٹی سے تعلق رکھنے والی عورتوں کے جذباتی تجربات پہ بحث کروں گی۔اگرچہ تمام عورتیں جذباتی ٹراما سے گزریں۔لیکن ہزارہ عورتوں کا ٹراما زیادہ گہرا اور ان پہ دہشت گردی کا اثر زیادہ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہزارہ شیعہ عورتوں نے ایک سے زیادہ مرد مذہبی دہشت گردی میں اپنے خاندان کے کھوئے ہیں۔یہاں پہ  شیعہ ہزارہ عورتوں کی حالت میں بیان کرتی ہوں:حقیقت کیا ہے؟ آپ کے گھر سے ایک دم پانچ افراد جن میں آپ کے والد،بھائی اور بیٹے شامل تھے کے جنازے نکلےتو اس حقیقت کو کیسے جوڑتی ہیں ان جنازوں سے ؟اس گھر کی عورتیں کیسے گزریں اس سے ؟ ان عورتوں کا مستقبل کیا ہے؟ ہزارہ عورتیں؟ مواد بتاتا ہے کہ ہزارہ شیعہ عورتیں دیوبندی عسکریت پسند عناصر کی جانب سے ابھی تک دہشت گردی کی دھمکیوں کا سامنا کررہی ہیں۔ایسے عناصر میں لشکر جھنگوی،سپاہ صحابہ پاکستان وغیرہ شامل ہیں۔یہاں تک کہ اپنے سب ہی مردوں کو ان دہشت گردوں کی وجہ سے کھودینے کے بعد بھی ان کو دھمکیوں کا سامنا ہے۔مثال کے طور ایک ہزارہ عورت ہیومن رائٹس واچ کو بتاتی ہے کہ کیسے اس کے شوہر کے مارے جانے کے بعد بھی اسے دھمکیاں ملتی ہیں:

اس کے مارے جانے کے بعد میں اس کا سیل فون استعمال کرتی ہوں اس پہ بھی مجھے دھمکی آمیز کال موصول ہوتی ہیں۔وہ طنز کرتے ہیں اور یہاں تک کہ بعض اوقات انتہائی بے ہودہ اور فحش زبان استعمال کرتے ہیں۔پہلی کال عابد کے مرنے والی رات آئی۔۔۔مرد نے پوچھا۔۔۔ “اب کیسا محسوس کرتی ہو” اور پھر فون فوری بند کردیا گیا۔

جس جذباتی تجربے سے ہزارہ خواتین گزرتی ہیں وہ طبقے اور فرقے کے لحاظ سے مختلف عورتوں سے الگ ہوسکتے ہیں۔ساری ہزارہ کمیونٹی حملےکی زد پہ ہے تو ان کے تجربے بھی ایک جیسے ہیں۔مثال کے طور پہ ایک عورت جس نے اپنا بھائی خودکش حملے میں کھودیا کہا:

ہمارے چاروں طرف ہمسائے میں گھروں میں ماتم تھا اور مارے جانے والوں کا نوحہ تھا اور ہماری چھتوں اور قبرستانوں خون کے چھینٹے اور لوتھڑوں کے نشانات تھے اور یہ بہت خوفناک تجربہ تھا۔

ایسے ہی ایک اور شیعہ ہزارہ عورت جس نے اپنے بھائی کو کھودیا کہا:

وہ ہمارے خاندان میں سب سے چھوٹا تھا۔سب سے زیادہ لاڈلا تھا۔اور سب سے زیادہ اس کی فکر کی جاتی۔اور اگر وہ باہر جاتا اور دیر ہوجاتی تو ہم سب فکر مند ہوجاتے۔ایک دوسرے کے تحفظ کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی فکر زیادہ ہوتی ہے۔اس حادثے نے ہمیں زیادہ تلخ اور برہم کردیا۔

ہزارہ عورتوں نے جس ٹراما کا سامنا کیا اس سے پہلے سے معلوم یہ حقیقت اور ٹھوس ہوگئی کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے۔تو اپنے پیاروں کا غم منانے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی زندگیوں کے خطرے میں ہونے کے خوف کا سامنا بھی کررہی ہیں جبکہ لاہور یا کراچی میں عورتوں کو ایسا سامنا نہیں ہے۔ایک شیعہ ہزارہ عورت کہتی ہے کہ اس کے والد کی موت کے بعد کئی بار اسے عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

نوٹ: لیکن 2016ء کے محرم کے دوران اور صفر المظفر کے مہینوں میں یہ بات ایسے نہیں رہی ہے۔سپاہ صحابہ پاکستان جیسی دیوبندی عسکریت پسند تنظیموں نے خاص طور پہ عورتوں کی مجالس کو نشانہ بنایا اور مجلس سے لوٹ کر آنے والی عورتوں کو بطور خاص نشانے پہ رکھا گیا۔

” اپنی موت سے کچھ دن پہلے میرے والد نے میرے بھائیوں اور اپنے کئی دوستوں کو اپنی جان کے خطرے میں ہونے بارے خبردار کیا تھا۔انہوں نے ہر ایک کو اپنے تحفظ کے غیرمعمولی انتظام کرنے کو کہا۔اس کی وجہ ان کو لشکر جھنگوی کی جانب سے ملنے والی دھمکیاں تھیں”۔

شیعہ عورتیں جو غیر ہزارہ ہیں وہ بھی دہشت گردی کی متاثرہ ہیں اور جذباتی ٹراما سے ان کو گزرنا پڑا ہے۔مثال کے طور شیعہ  عورتیں جنھوں نے نہ صرف اپنے شوہر کو کھودیا بلکہ اس نے اپنے اسکول جانے والے بچّے کو بھی کھویا وہ کہتی ہیں کہ وقت بہت بڑا مرہم ہے۔ایک شیعہ عورت جس نے اپنے شوہر کو کھویا اور ساتھ ہی اپنے گیارہ سالہ بیٹے کو بھی جن کو دہشت گردوں نے گولیاں مار کر ہلاک کیا دو سال پہلے کہتی ہیں کہ اگرچہ وہ ٹراما سے نکل آئی ہیں لیکن جب تک وہ زندہ ہیں اس صدقے کا بوجھ ان کے سینے پہ رہے گا۔

(Haider 2015)

اگرچہ کچھ خاندانوں کو سوشل سپورٹ ملی لیکن یہ ان کے نقصان کی شدت ک مداوا نہیں بن سکتی۔ایسے خاندانوں کو مستقل اور طویل المعیاد مدد کی ضرورت ہے۔ایسی ہی عورتوں کے مطابق جنھوں نے اپنے شوہر اور بچّے کھودئے وہ بہت کچھ کرسکتی ہیں لیکن دکھ اور تکلیف کے اس مرحلے میں ان کا اپنی ضرورتوں کے لئے کچھ کرنا ابھی ممکن نہیں ہے۔چالیس روزہ سوگ کے بعد ایسے خاندانوں کو عمومی طور پہ اپنی مشکلات سے خود نمٹنے اور اپنے لئے تنہا ہی خود کچھ کرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ان خاندانوں کے رشتہ دار اور احباب تھوڑے دیر کو تو ان کی سپورٹ کرتے ہیں لیکن جلد ہی یہ سوتے خشک ہوجاتے ہیں۔وہ خود بھی اس محتاجگی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن ایسا کہنا کرنے سے کہیں آسان تر بات ہے۔

بعض متاثرہ خاندان زرا خوشخال ہوتے ہیں لیکن اکثریت کے معاملے میں ایسا نہیں ہے اور ان کی معاشی حالات پہلے ہی دگرگوں ہوتے ہیں ایسے واقعات کے بعد اور ہوجاتے ہیں۔اور ان کے پاس اپنے مسائل متعلقہ فورم تک پہنچانے کی مہارت بھی نہیں ہوتی۔

یہ اس حقیقت سے ظاہر ہے کہ بہت ہی کم مثالیں ایسی ہیں جس میں متاثرہ خواتین نے اپنا نکتہ نظر یا تجربہ میڈیا میں بیان کیا ہو جیسے اخباری آرٹیکل ہوتے ہیں۔ایسے خاندان بھی ہیں جنھوں نے نہ صرف اپنے خاندان کے افراد دہشت گردی میں کھودئے بلکہ ان کی دیکھ بھال کرنے والا مرد بھی معذور ہوگیا۔ایسے خاندانوں کے جذباتی اور نفسیاتی حالات مختلف ہوسکتے ہیں ان خاندانوں سے جن کی دیکھ بھال کرنے والے موجود ہیں۔مثال کے طور پہ پارہ چنار سے ایک شیعہ خاتون جس نے اپنا باپ دہشت گردی میں کھودیا اور اس کی بہنیں مفلوج ہوگئیں زخموں کے نتیجے میں اور وہ صحتیاب ہوگئی۔اس نے کہا: دوسری چیزوں سے نمٹنا کافی مشکل ہے۔ہمارے والد گزرگئے اور ہم اس ٹراما سے باہر آگئے۔اور ہم زندگی میں آگے کی طرف دیکھ رہے تھے لیکن سب سے زیادہ مشکل اور ناقابل برداشت نقصان مری بہن کا تھا۔مری بہن جس کی عمر 31سال کی ہے اس وقت 28 سال کی تھی جب وہ مفلوج ہوگئی۔اس نے تو زندگی کا لطف ہی کھودیا۔یہ اس کے بچوں کے لئے بہت بڑا نقصان ہے جب وہ اپنی ماں کو دوسروں کا محتاج دیکھتے ہیں۔اور وہ اس کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے۔اس وقت جب وہ دہشت گردی کے نتیجہ میں مفلوج ہوئی تو اس کے بچوں کی عمریں 5،7،9 سال کی تھیں۔دو لڑکیاں اور ایک لڑکا۔

سنّی بریلوی عورتیں جنھوں نے اپنے گھر کے افراد کھودئے ان کو بھی بڑے جذباتی نقصان سے گزرنا پڑا۔ایک مان جس نے اپنے 30 سالہ بیٹے کو ایک بریلوی مسجد میں ہوئے بم دھماکے میں کھودیا یاد کرتی ہے:وہ ہمارے تصور سے بھی بڑی ٹریجڈی تھی جس کا ہمیں سامنا ہوا اور ہم نے نہ صرف اپنا واحد کمانے والا گنوایا بلکہ ميں نے اپنا بیٹا بھی گنوادیا۔اس کی بیوہ نے اپنا شوہر اور اس کی بہنوں نے اپنا بہت خیال رکھنے والا پیارا بھائی اور اس کے چھوٹے بھائی نے اپنے باپ جیسا بھائی کھودیا۔

یہ صرف جذباتی،نفسیاتی اور سماجی اثر نہیں ہے بلکہ اس نقصان کا معاشی اثر بھی ہے۔

احمدی عورتیں بھی ایسے ہی جذباتی اور نفسیاتی ٹراما سے گزری ہیں۔ایسی ہی ایک احمدی عورت جس نے اپنے سسر کو جو اس کا ماموں بھی تھا کھودیا کہا کہ اس کے خاندان کو بڑے جذباتی ٹراما سے گزرنا پڑا اور مزید یہ کا اس کے شوہر کو ملنے والی دھمکیوں نے ان کو ملک چھوڑنے اور پناہ ڈھونڈنے کی تلاش پہ مجبور کردیا ہے۔

 اس کے مطابق اس کے سسر ایک عظیم آدمی تھے۔وہ جمعہ کی نماز پڑھنے گئے تھے جب عبادت گاہ پہ حملہ ہوا۔ہمیں خبروں سے پتا چلا۔مرے شوہر ان کو ہسپتال میں تلاش کررہے تھے جب ان کو ان کا پتا چل گیا اور وہ زرا مستحکم حالت میں نظر آرہے تھے لیکن چند گھنٹوں بعد ان کو پتا چلاکہ وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔وہ ہماری مشترکہ فیملی کے سربراہ تھے۔اور سارے فیصلے وہی کرتے،ان کے بعد ہمیں زندگی سے نبردآزما ہونا بہت مشکل لگتا ہے۔

ان انٹرویوز سے یہ پتا چلا کہ احمد متاثرین نے بھی قابل زکر جذباتی،سماجی اور مالی سپورٹ اپنی کمیونٹی سے حاصل کی لیکن دوسرے لوگ جیسے ان کے ہمسائے تھے انہوں نے احمدی ہونے کی وجہ سے ان کو سپورٹ فراہم نہیں کی اور اس کی وجہ ان کا عقیدہ اور فرقہ وارانہ تعصب تھا: ہمیں دیگر متاثرین کی طرح جماعت احمدیہ کی طرف سے پوری سپورٹ ملی لیکن غیر احمدی لوگوں نے ہماری سپورٹ نہ کی جیسے ہمارے پڑوسی تھےکیونکہ وہ ہم سے میل جول پسند نہیں کرتے تھے ہمارے عقائد کی وجہ سے۔ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ ایسا کیوں ہے لیکن ہم اس کا شکوہ نہیں کرنا چاہتے۔

مذکورہ بالا مثالیں مختلف فرقوں،ایتھنی سٹی اور طبقاتی پس منظر کی حامل دہشت گردی کی متاثرہ خواتین پہ ہوئے حملوں کے سماجی اثر کا ایک مجموعی جائزہ پیش کرتی ہیں۔

معاشی اثر

پاکستان مردانہ غلبے والا معاشرہ ہے جہاں پہ عورتیں دوسرے درجے کی شہری سے زیادہ کچھ نہیں ہیں-فردوس2005۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ عورتیں زیادہ تر وقت اپنے گھر میں گزارتی ہیں اور اجنبی مردوں بارے ان کا کوئی خاص تجربہ نہیں ہوتا ہے۔مردبالادست دنیا سے نبردآزما ہونا ایک ٹراما تجربہ ہوتا ہے جس کا سامنا کرنا ان کے لئے کافی مشکل ہوتا ہے۔بہت ساری عورتیں تو کبھی تنہا بینک، سرکاری دفتر، بک شاپ اور یہاں تک کہ ہسپتال نہیں جاپاتیں۔

 (Ferdoos 2005)

اجنبیوں سے انٹریکٹ کرنے سے گزیز والا عمل اصل میں پردہ سسٹم سے بہت زیادہ جڑا ہوا ہے۔جس کی پھر بنیاد مخلوط قسم کے انٹریکشن کے موجود نہ ہونے پہ ہے اور اس نظریہ پہ ہے کہ نامحرم مرد اور عورتوں کے درمیان میل جول جنسیت کو ابھارتا ہے۔

 (Ali and Kramar 2015; Ferdoos 2005)

مردوں کو روزی کمانے والا خیال کیا جاتا ہے۔

 (Ali 2013)

تو جب عورتیں اپنے مالی امداد کنندہ کو کھودیتی ہیں جیسے شوہر،بھائی،باپ یا بیٹا تو روزمرہ کے جو فنانشل ایشوز ہوتے ہیں اس سے نمٹنے میں ان کو کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہزارہ شیعہ عورتوں کے کیس میں مشکلات کی سطح بہت ہی شدید ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کوئٹہ معاشی طور پہ کم مراعات یافتہ علاقہ ہے اور ہزارہ شیعہ کی جانوں کو دیوبندی عسکریت پسندوں کو خطرہ لاحق ہے تو وہ ایک خاص علاقے تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ایک ہزارہ شیعہ کے مطابق وہ بازار سے سبزی یا شوگر تک خریدنے نہیں جاسکتا کیونکہ اس دوران اس کے مارے جانے کا خطرہ ہے۔تو مجھے ایک بلاک کے ہی دائرہ میں کرنا ہے جو بھی کرنا ہے۔چاہے اس کی مجھے کتنی زیادہ مالی قیمت ادا کرنی کیوں نہ پڑے۔یہ بالکل جیل میں رہنے جیسا معاملہ ہے۔

  (Thacker 2014)

اس خاص سیاق و سباق میں ہزارہ شیعہ عورتیں جو دہشت گردی کی متاثرہ ہیں اپنے روزی روٹی کمانے والے مردوں کے مارے جانے کے سبب انتہائی شدید خراب معاشی حالات کا سامنا کررہی ہیں۔جن خاندان کے افراد لشکر جھنگوی کے ہاتھوں مارے گئے جو روٹی کمانے کا واحد زریعہ تھے ان کے حالات بہت خراب ہیں۔صغری جوکہ محمد زمان کی بیوہ ہے جو 6 نومبر2012ء میں سپنی روڈ کوئٹہ میں ٹیکسی پہ ہونے والے حملے کے دوران مارا گیا اپنے شوہر کے مارے جانے کے معاشی اثر بارے بتاتی ہے:مجھے نہیں پتا کہ میں مدد کے لئے کس کے پاس جاؤں۔میرا کوئی زریعہ آمدن نہیں ہے۔میرا خاندان خاص طور پہ مری والدہ مجھے پہ رحم کھاتے ہیں اور مری مدد کردیتے ہیں۔لیکن میں جانتی ہوں کہ وہ بھی زیادہ عرصے تک اس سپورٹ کو جاری نہیں رکھ سکیں گے کیونکہ وہ آپ بہت غریب ہیں۔مرے پاس اتنے بھی پیسے نہیں ہیں کہ میں اپنے بچوں کو اسکول بھجواسکوں۔میں اور مرے بچّے بظاہر زندہ ہیں لیکن آپ ہمیں مرے ہوئے ہی شمار کریں۔اگر لشکر جھنگوی ہمیں نہیں مارے گی تو غربت مارڈالے گی۔

(HRW 2014)

دسمبر کی 31 تاریخ اور سال 2012ء جب انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹرائبون نے ایک نوجوان ہزارہ عورت مقیم کوئٹہ کے یہ الفاظ شایع کئے :ان عورتوں کا مستقبل کیا ہے؟ شیعہ ہزارہ عورتوں کا ؟جبکہ ان کے مردوں کو زبح کردیا گیا ہے اور ان کو اپنے گھروں کی چاردیواریوں سے نکلنا ہے کیونکہ ان کے پاس اس کے سوا روزی کمانے کے لئے اور کوئی راستہ نہیں ہے اور ان کے اردگرد مصبیتوں نے اکٹھا ہونا شروع کردینا ہے۔یہ مرد ہیں جنھوں نے ان کے سروں سے چھت چھین لی وہ مرد جو ان کے روزی کے سہاروں کو مارنے کے زمہ دار ہیں۔اور اب دوسرے مرد ایسے ہیں جو ان کی مالی مدد کی بجائے بس دو حرف تسلی کے بولتے ہیں اور میں ان عورتوں میں سے ایک ہوں۔

(Zahidi 2012)

غیر ہزارہ شیعہ عورتیں جوکہ دہشت گردی کی متاثرہ ہیں مالی مشکلات سے گزرتی ہیں۔تاہم ان کی معاشی صورت حال اتنی شدید نہیں ہے جتنی شدید ہزارہ شیعہ عورتوں کی ہے۔مثال کے طور پہ پنجاب میں ایک شیعہ ڈاکٹر کی بیوہ اپنی کہانی بیان کرتی ہے:ایک بیوہ اپنے آپ کو اچانک ایسے مسائل میں گھری پات ہے جن سے وہ مکمل طور پہ ناآشنا ہوتی ہے۔جیسے گھر کی دیکھ بھال،بجٹ بنانا اور آمدن پیدا کرنا تاکہ خاندان کی نئی حرکیات اور نازک رشتوں کو برقرار رکھا جاسکے۔ایک بیوہ کو اچانک اپنے چھوٹے بچوں کو تنہا ہی پالنا پوسنا پڑتا ہے۔ان تمام کیسز میں نئے ضابطے اور نیا سپورٹ سسٹم پیدا کرنا پڑتا ہے۔ہسپتال رپورٹوں سے لیکر بینکوں تک اور کھانا تیار کرنے سے لیکر خاندان کی دیکھ بھال تک دوستوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

 (Haider 2015)

مالی طور پہ خوشحال شیعہ عورتوں کو حکومتی مالیاتی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن ایسی خواتین کا کیا معاملہ ہوتا ہے؟ اس بارے ایک شیعہ عورت جس نے اپنے بھائی کو کھویا بتاتی ہے:بعض لوگوں کو فنانشل سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے حکومت کو ان کی مدد کرنی چاہئیے لیکن ہمارے لئے اپنے بھائی کے خون کے بدلے رقم درکار نہیں ہے۔

سنّی بریلوی عورتوں کو بھی مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک سنّی بریلوی عورت جس نے لاہور بریلوی مدرسہ میں ہوئے خودکش بم دھماکے میں اپنا بیٹا کھویا اپنی مالی مشکلات کا بیان کرتی ہے:ہمارا واحد روزی کا سہارا ہمارا بیٹا تھا تو اس کی موت کے سبب مرے چھوٹے بیٹے کو تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی اور گھر کا خرچ چلانے کے لئے نوکری کرنا پڑی۔حکومت نے معاوضہ کا اعلان کیا تھا اور ہمین 5 لاکھ روپے کا چیک ملا جوکہ پانچ ماہ بعد جاکر کیش ہوا۔

وہ مزید اپنے احساسات یوں بیان کرتی ہے:یہ ہمارے تصور سے بھی بری مصیبت تھی،ایک تو روزی کمانے والا چلا گیا،دوسرا جہاں ميں نے اپنا بیٹا کھویا تو اس کی بیوہ نے اپنا شوہر،بھائی نے باپ جیسا بھائی اور بہنوں نے خیال رکھنے والا پیارا بھائی کھودیا۔تو اس کا نقصان بہت بڑا ہے۔

تاہم بعض مثالوں میں جو خاندان دہشت گردی کا متاثرہ تھا اس میں کئی افراد کمانے والے تھے تو وہان پہ معاشی اثرات تو نہ تھے اس طرح سے بلکہ جلد ان کے ہاں ٹراما سے نکلنے کی کہانی نظر آتی ہے۔ایک سنّی بریلوی عورت جس نے اپنے شوہر کو ایک ٹارگٹ حملے میں کھودیا اس کا کہنا تھا:مرے شوہر گھر چلانے میں ہاتھ بٹاتے تھے لیکن وہ گھر کے واحد کمانے والے نہ تھے،میرا بیٹا ایک کمپنی میں ملازم ہے اور بعض صوبائی سرکاری مذہبی اداروں کا رکن بھی اور وہ وہاں سے تنخواہ اور وظائف پاتا ہے۔بعض جائیداد بھی ہے جو کرایہ پہ ہے تو معاشی پریشانی کا سامنا تو نہیں ہے۔

احمدی عورتوں کے معاملے میں معاشی اثر بارے کیس دوسرے فرقوں کی عورتوں کے کیسز سے مختلف ہے۔دہشت گردی کی متاثرہ احمدی عورتوں کی نہ صرف اشک شوئی کی جاتی ہے بلکہ جماعت احمدیہ ان کی مالی سپورٹ بھی کرتی ہے۔مثال کے طور پہ ایک احمدی عورت جس کا سسر دہشت گردی کا شکار ہوا تھا نے بتایا:جب مرے سسر لاہور میں ایک احمدی مسجد پہ ہونے والے حملے کے دوران مارے گئے تو تب سے ہمارے خاندان کو ہماری جماعت کی جانب سے مسلسل سپورٹ ملی۔ہمارے جماعت کے مقامی رہنماء نے متاثرہ 85 خاندانوں کو تین ماہ تک راشن فراہم کیا تو ان کو اس حوالے سے کسی دشواری کا سامنا نہ تھا۔اور جن عورتوں کے کمانے والے نہ رہے تو ان عورتوں کو جتنا ان کے مرد کماتے تھے اتنا ہر ماہ وظیفہ دینا شروع کردیا گیا۔ان کے بچے ان ہی اسکولوں میں فیس کی فکر کئے بغیر جانے لگے۔ہمارے مذہبی رہنماء نے ایسے تمام متاثرہ گھرانوں کی دیکھ بھال کا حکم جاری کیا اور کسی ایک خاندان نے بھی حکومتی امداد قبول نہ کی۔

مذکورہ بالا نتائج مختلف فرقوں کی عورتوں پہ دہشت گردی سے متاثر ہونے کے بعد پڑنے والے معاشی اثر کی وضاحت کرتے ہیں۔

دہشت گردی سے متاثرہ خواتین کی حکمت عملی

اس سیکشن میں ہم اس بات پہ فوکس کریں گے کہ دہشت گردی کی متاثرہ خواتین نے اپنی مشکلات پہ کیسے قابو پایا اور کیا حکمت عملی اس حوالے سے اختیار کیں۔کیسے انہوں نے اپنے آپ کو پیش آمدہ حالات کے مطابق ڈھالا۔کیسے ردعمل ظاہر کیا اور اپنے پیاروں کے کھوجانے کے بعد اپنے تجربات سے کیا سیکھا۔مین سٹریم میڈیا میں ہزارہ شیعہ عورتیں اس وقت دکھائی دیتیں جب وہ دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرتی تھیں۔ماضی میں پاکستانی قوم نے ان عورتوں کو اپنے پیاروں کی لاشوں کے سیاست انصاف کی دھائی دیتے دیکھا تھا۔عورتیں نیشنل و انٹرنیشنل میڈیا پہ اپنے خاندان کی مکمل حمایت کے ساتھ احتجاج کرتی نظر آئیں۔ایسی شیعہ ہزارہ عورتوں نے بہادری سے اس طریقے سے اپنی آواز بلند کی :مجھے لازم ہے کہ میں اس بات کو اگے پہنچاؤں کہ ایک شیعہ ہزارہ عورت ہونے کا مطلب کیا ہے؟ آج میں اپنی کہانی کا کچھ حصّہ بیان کرنے جارہی ہوں۔۔۔۔۔ کہانی مری اور مرے لوگوں کی۔جب ہم میں سے کوئی آپ کے سامنے آتا ہے تو آپ میں سے اکثر ہمیں چینی یا کوریائی کہتے ہو۔ہمارے نقش و نگار تمہاری طرح نہیں ہیں۔نہ ہی ہماری نسل یا جینیاتی ترکیب تمہارے جیسی ہے۔اور ہمارا درد بھی ایسے ہے جیسے اوروں کا درد ہو۔ہم پاکستانی تو ہیں لیکن ابھی تک ایسا سمجھا نہیں جاتا۔بہت کم ہمارے لئے آواز بلند کریں گے کہ ہمارے 30 لوگوں کو بس سے باہر لاکر گولی ماری دی گئی کیونکہ ہم شیعہ ہیں۔صرف اس لئے کہ ہمارے خدوخال منگولوں جیسے ہیں۔اس لئے کہ ہماری ہجرت افغانستان سے ہے؟ آپ میں سے کتنے ہیں جن کے ایک ہی گھر سے پانچ مرد بشمول باپ،بیٹا  اور بھائی،شوہروں کے جنازے نکلے ہوں۔ان گھروں کی عورتیں کس حالت کی گرفتار ہوں گی؟

نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا نے فروری 2013ء میں شیعہ ہزارہ عورتوں کی بھرپور کوریج کی جب 84 شیعہ ہزارہ ایک خودکش حملے میں جاں بحق ہوگئے۔غیر ہزارہ شیعہ عورتیں بھی ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لئے کردار ادا کرتی ہیں۔ایک شریک عورت نے مجھے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا ایکٹوازم کرتی ہے لیکن یہ زیادہ دیر تک مدد نہیں کرتا:بعض اوقات میں اس کے بارے میں ایسے بات کرتی کہ وہ جیسے ابھی تک وہاں ہو،میں اس کی فیس بک کھولتی اور رونے لگتی۔بعض اوقات میں اسے ٹیکسٹ کرتی۔میں سوشل میڈیا کے زریعے ایکٹوازم کرکے اپنا غصّہ نکالتی۔میں نے بہت سے لوگوں سے 5 سالوں میں تلخ مکالمے کئے۔لیکن آخرکار میں نے سوشل میڈیا پہ اپنے آپ کو ڈی ایکٹویٹ کرلیا اور لوگوں سے اپنے آپ کو فاصلے پہ کرلیا۔

ایک اور شیعہ خاتون جس نے اپنا بیٹا اور شوہر کھودیا تھا نے ایک گروپ

Grief Directory

کے نام سے شروع کیا تاکہ دوسرے متاثرہ خاندان اور ماؤں کی مدد کی جاسکے۔اس کے اپنے الفاظ میں کہ میں نے اس گروپ کو شروع کیا تو بظاہر یہ ایک چھوٹا سا قدم تھا۔یہ ہمارے بقا کا سفر تھا،یہ مرے درد میں کمی لانے کا سبب بنت اگر میں دوسروں کی بقاء میں مددگار ثابت ہوتی تو۔ہم ایک جیسے درد کا شکار تھے اور یہ جاننا بہت اہم تھا کہ ہم تنہا یا اکیلے نہیں ہیں۔اس گروپ کا کام متاثرہ خاندان کو رضاکارانہ بنیادوں پہ خدمات کی فراہمی کا میکنزم تیار کرنا تھا۔ایک مرتبہ ایک خاندان جب رجسٹر ہوجاتا تو اس کے افراد کی مدد سے ان کی ضرورتوں کی لسٹ تیار کی جاتی۔اور لوگ رضاکارانہ بنیادوں پہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے۔

(Haider 2015)

ایک شیعہ عورت نے اپنے بھائی کی کئی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد کی جب ان کے والد دہشت گردی کا نشانہ بنے:یہ بہت بڑا نقصان تھا جب ہمارے  والد اچانک دہشت گردی کا نشانہ بنے لیکن اس کی وجہ سے کوئی سیریس مالی دشوار؛ نہ ہوئی کیونکہ ہمارے پاس دوسرے زرایع آمدن موجود تھے۔لیکن اس حادث کے بعد ہمارے خاندان کو کئی مشکلات کا سامنا تھا۔کئی ایسے معاملات تھے جن کو حل کرنے کے لئے زیادہ عزم اور حوصلے کی ضرورت تھی۔میرے بھائیوں کے لئے ہر ایک چیز کی دیکھ بھال کرنا مشکل تھا۔تاہم ميں نے اور میرے بھائی نے ملکر صورت حال کا مقابلہ کیا۔

ایک اور 12 سالہ شیعہ لڑکی محضر زھرا پاکستانی عورتوں کے لئے ہمت کی مثال ہے۔30 نومبر 2012ء کو وہ اپنے والد سید نذر عباس کے ساتھ موٹر سائیکل پہ اسکول سے واپس آرہی تھی جب دیوبندی عسکریت پسندوں نے ایک موٹر بائیک پہ ان کو گھیرلیا اور فائرنگ کردی۔اس کے والد ہلاک ہوگئے اور وہ شدید زخمی ہوگئی۔یہ معاملہ ابتدائی طور پہ ميڈیا میں ہائی لائٹ ہوا اور اس کو ملالہ یوسف زئی سے تشبیہ دی گئی۔کیونکہ دونوں لڑکیاں تھیں اور دونوں اسکول جارہی تھیں اور اسکول سے واپسی پہ دونوں پہ حملہ ہوا۔لیکن محضر زھراء کا معاملہ جلد ہی پردہ سکرین سے غائب ہوگیا۔

 (Tarar 2012)

جب ڈاکٹرز نے پہلی بار محضر زھرا کا معائنہ کیا تو انہوں نے اس کی والدہ کو بتایا کہ یہ صرف وینٹی لیٹر پہ ہی زندہ رہ سکتی ہے ساری عمر۔اگلے 38 دن اس کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں تین بار لیجایا گیا۔کبھی وینٹی لیٹر پہ کبھی وینٹی لیٹر سے الگ کہ کوئی معجزہ رونما ہوجائے۔اس کی حالت بہت نازک تھی۔ایک گولی نے اس کے دونوں پھیپھڑے چھید ڈالے تھے اور دوسری نے ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچایا تھا۔اور ایک اور گولی اس کی کلائی کے آر پار ہوگئی تھی۔ایک سال کے اندر اندر محضر زھرا نے 23 ارچ 2013ء کو کراچی میں شہداء کی ایک کانفرنس میں وہیل چئیر پہ شرکت کی۔اپنی تقریر میں اس نے تکفیری دیوبندی عسکریت پسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:تمہارا خیال ہے کہ تم ہمیں روک لوگے۔نہیں! مرے ابّا اس لئے مارے گئے نا کہ وہ ایک شیعہ تھے۔لیکن رسم عزاداری اور محرم کا سوگ منایا جانا کبھی نہیں رکے گا۔ہم کبھی ذکر امام حسین رضی اللہ عنہ سے باز نہيں آئیں گے۔میں اپنی قوم کی شکر گزار ہوں جنھوں نے مری صحت یابی کی دعائیں کیں،اور میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے اور مجھے مزید علاج کے لئے باہر بھجوائے،تاکہ میں پھر اپنے پیروں پ چلنے کے قابل ہوجاؤں اور اپنی قوم کی خدمت کرسکوں۔

اپنی مشکلات ، ہمت اور انسانی حقوق پہ موقف کے حوالے سے محضر زھرا کو پاکستان کی اینی فرینک کہا گیا۔ اپنے مضبوط عزم کے زریعے وہ بہت سے لوگوں کے لئے مثال ہے۔

آرمی پبلک اسکول پشاور کے طلباء جو دیوبندی عسکریت پسندوں کے حملے میں 16 دسمبر 2014ء میں مارے گئے تھے ان کی سنّی، شیعہ اور دوسری مائیں اپنے بڑے نقصان کے بعد بقاء کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ان کی اکثریت کو میڈیا پہ دکھایا گیا۔ان میں سے ایک متاثرہ ماں نے شکایت کی:وہ ان کے قاتلوں کو سرعام پھانسی کیوں نہیں دیتے تاکہ شہید بچوں کی ماؤں کے کلیجے میں کچھ ٹھنڈ پڑے؟

اس حادثے نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔تاہم ان بچوں کی ماؤں کا درد کبھی نہ ختم ہونے والا ہے۔ایک ماں نے کہا:یہ درد تو مری موت کے بعد ہی ختم ہوگا۔

والدین نے ایک شہداء فاؤنڈیشن قائم کی۔تاکہ ایک دوسرے کی مدد کی جاسکے۔انہوں نے حکومت اور فوج سے انصاف کا مطالبہ بھی کیا۔ایک اور طالب علم کے والد اختر نے ایک این جی او اپنے شہید بیٹے کے نام پہ قائم کی تاکہ اس کی روح کو سکون ملے:میں نے ایمان خان شہید کے نام سے معاشرے کمزوروں کی مدد کے لئے این جی او ایمان خان شہید اے پی ایس ویلفئیر سوسائٹی شروع کی ہے،مقصد علم پھیلانا اور غربت کا خاتمہ ہے۔

 (Qayyum 2015)

انٹرویوز سے پتا چلتا ہے کہ احمدی خواتیں نے بھی مشکلات سے نمٹنے کے لئے ایسی ہی سٹریٹجی بنائیں،جب لاہور میں دوہزار دس میں احمدیوں پہ حملہ ہوا تو احمدیہ کمیونٹی ٹی وی چینل نے تمام متاثرہ 85 خاندانوں کے انٹرویو کئے۔کچھ معلومات ان ہی انٹرویوز کے زریعہ سے اکٹھی کی گئیں ہیں۔ان انٹرویوز سے اندازہ ہوتا ہے کہ احمدی خواتیں اس صدمے کے باوجود پر‏عزم دکھائی دیں اور انہوں نے اپنے پیاروں پہ فخر کیا۔ایک بیوہ کہتی ہے:مجھے اپنے شوہر کی قربانی پہ فخر ہے اور اس بات پہ اطمینان بھی کہ ہمارے خلیفہ اس دکھ اور آزمائش کی گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے۔

ایک اور سن رسیدہ عورت جس کا بیٹا اس دھشت گردی میں مارا گیا بھرے آنسوؤں سے کہتی ہے: ماں ہی جانتی ہے وہ درد جو اسے جواں سال بیٹے کی مرگ ناگہانی پہ ہوتا ہے لیکن پھر اللہ کی حمد، اللہ کی حمد ، اللہ کی حمد

تتمہ بحث

اس ریسرچ میں ہم نے دیوبندی عسکریت پسندی سے متاثرہ خواتین کی زندگیوں پہ اس کے سماجی و معاشی اثرات کا جائزہ لیا۔ان کی جانب سے ان حالات سے نمٹنے کے لئے اپنائی جانے والی حکمت عملی پہ غور کیا۔مین نے جینڈر اور مذہبی عقیدے کی انٹرسیکشنلٹی کو استعمال کرتے ہوئے عورتوں کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا اس پہ روشنی ڈالی۔اس مقصد کے لئے شیعہ ہزارہ، شیعہ غیر ہزارہ، سنّی بریلوی اور احمدی عورتوں کے انٹرویوز کئے گئے۔اس کے ساتھ ساتھ ثانوی مواد بھی استعمال کیا گیا۔اور اس تحقیق سے ہمارے سامنے یہ بات آئی کہ یہ تینوں فرقے شیعہ، سنّی بریلوی اور احمدی دیوبندی عسکریت پسندی کا شکار ہیں لیکن جینڈر،فیتھ اور اتھنی سٹی کی بنیاد پہ ان کے تجربات مختلف بھی ہیں۔خاندان کے کسی بھی فرد کا مارا جانا ہر ایک کے لئے دردناک ہے۔مواد کا تجزیہ انکشاف کرتا ہےکہ شیعہ ہزارہ عورتوں نے زیادہ بڑے نفسیاتی اور سماجی ٹراما کا سامنا کیا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان عورتوں نے ایک سے زیادہ خاندان کے لوگ کھو دئے۔اور پھر ان کو دیوبندی عسکریت پسندوں کی طرف سے مزید دھمکیوں کا سامنا ہے۔ہزارہ عورتوں کی کہانیوں سے ان کی بے بسی کے احساس کا بھی پتا چلتا ہے۔شیعہ عورتوں /غیر ہزارہ شیعہ عورتوں کا کیس بھی ایسا ہی ہے لیکن ان کے ٹراما کی شدت زرا کم ہے۔احمدی عورتوں کو نہ صرف سماجی بلکہ مالی سپورٹ بھی ملی ان کی جماعت کی جانب سے۔غیر احمدی کمیونٹیز بشمول ان کے پڑوسی ان کے عقائد کی بنا پہ ان سے لاتعلقی کا مظاہرہ کرتی نظر آئیں۔معاشی اثرات کے معاملے میں شیعہ ہزارہ خواتین ایک بار پھر زیادہ متاثر ہیں۔کوئی بھی گھرانہ جب روزی کمانے والے سہارے سے محروم ہوتا ہے تو مشکلات بڑھتی ہیں لیکن ہزارہ خواتین کے معاملے میں یہ زیادہ شدید اور سنگین معاملہ ہے۔اور اس کی وجہ شیعہ ہزارہ عورتوں کی پہلے سے کمزور معاشی حالت اور ان کا کم ترقی یافتہ علاقے میں رہنا ہے۔اور ان کے دیگر افراد بھی خطرے میں ہیں اور اس وجہ سے ایک حاص علاقے میں گھرے ہونے کی وجہ سے ان کے معاشی حالات اور دگرگوں ہوگئے ہیں۔ہزاروں شیعہ ہزارہ مرد دیوبندی عسکریت پسندی کا نشانہ بنے اور اس سبب ان کے معاشی،سماجی،سیاسی،نفسیاتی اور جذباتی حالات کار بہت زیادہ سنگین ہیں۔اور اکثر ہزارہ خاندان دوسرے ممالک میں پناہ تلاش کررہے ہیں۔(دیکھیں ہیومن رائٹس واچ رپورٹ 2014)

جن خاندانوں کے مرد نہ رہے ان کی عورتیڑ سخت معاشی حالات کی وجہ سے بہت مشکل سے رہ پاتی ہیں۔شیعہ خواتیں بھی پدرسری معاشرے کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔اور گھر سے باہر کے معاملات ان کے لئے خاصے مشکل ہوتے ہیں۔ایک اہم نکتہ جو ان کی جینڈر اور مذہب سے ہٹ کر یکساں سے وہ ہے ایک جیسے معاشی ایشوز کا سامنا۔تاہم تینوں کیسز میں سماجی طبقہ اور بچ جانے والے مرد ملازمین اہم کردار کے مالک ہوتے ہیں۔دہشت گردی کی متاثرہ خواتین کے لئے روزمرہ زندگی کے معاملات سے نقصان کے بعد نمٹنا آسان نہیں ہوتا لیکن زندگی آپ کو آگے بڑھنے پہ مجبور کرتی ہے۔دہشت گردی کی متاثرہ خواتیں نے بھی زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے اور پیش آمدہ صورت حال سے نمٹنے کے لئے کئی ایک حکمت عملی اپنائیں۔ ان کا زکر اوپر کیا گیا۔ہزارہ خواتین نے اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ بیٹھ کر اپنے معاملے کی سنگینی بارے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔شیعہ عورتوں نے بھی مختلف حکمت عملی اپنائیں۔سوشل میڈیا ایکٹوازم کیا،آرٹیکل لکھے، این جی او بنائی ، سوشل میڈیا پہ گروپ بنائے۔سنّی بریلوی خواتین اور احمدی خواتین جو دہشت گردی کی متاثرہ تھیں احتجاج کے حوالے سے اسقدر سرگرم نظر نہیں آئیں،لیکن ان کے این جی اوز میں اپنے خاندان کے مردوں کی سپورٹ سے سرگرم ہونے کے آثار ملتے ہیں۔خاص طور پہ سنّی بریلوی ویمن۔احمدی خواتین جو دہشت گردی کی متاثرہ ہیں وہ اپنے مذہبی رہنماء کی ہدائیت پہ عمل کرتی ہیں۔خواتین کی اکثریت خاص طور پہ مائیں جنھوں نے اپنے بیٹے کھودئے وہ شہیدوں کی ماں ہونے پہ فخر کرتی ہیں۔یہ بھی درد سے نمٹنے کی ایک حکمت عملی ہے۔بعض احمدی خواتین کو اپنے روحانی رہنماء سے جڑے ہونے میں روحانی سکون نظر آتا ہے۔شیعہ خواتین امام حسین اور ان کے خاندان کی مشکلات کو یاد کرکے اپنا غم کم کرتی ہیں۔یہ انٹرویو ظاہر کرتے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے جو ہیں ان کے بارے میں متاثرہ خواتین میں ابہام پایا جاتا ہے۔اگٹر عورتیں طالبان، لشکر جھنگوی،سپاہ صحابہ پاکستان کا زکر کرتی ہیں،لیکن سنّی بریلوی خواتین واضح طور پہ عسکریت پسندوں کی دیوبندی شناخت کا حوالہ دیتی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ احمدی خاتون کہتی ہے کہ اس نے انٹرویو کے دوران ہی پہلی مرتبہ لفظ دیوبندی سنا ہے۔اس کی ایک وجہ تو لاعلمی ہے کہ دیوبندی مولوی اور عسکریت پسندی عناصر عام طور پہ خود کو سنّی یا اہلسنت کہتے ہیں۔جس کی وجہ سے ان کو اکثریتی امن پسند صوفی سنّی بریلویوں سے الگ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

سفارشات و تلخیص

جب دیوبندی عسکریت پسندی سے متاثرہ خواتین کے تجربات پہ تحقیق کا معاملہ آتا ہے تو انٹرسیکشنلٹی کا عدسہ اہم ہوجاتا ہے کیونکہ ان کا تجربہ ان کی صنف،ایتھنی سٹی اور عقیدے کی وجہ سے مختلف ہوجاتا ہے۔یہاں جو کہانیاں اور واقعات پیش کئے گئے وہ پاکستان میں دہشت گردی کی متاثرہ خواتین کی مشکلات اور تجربے کی پیچیدگی اور چیلنچز کو ظاہر کرتے ہیں۔ان خواتین کے پیش آمدہ حالات سے سرخرو ہونے کی سٹریٹجی پہ بھی یہ تحقیق روشنی ڈالتی ہے۔ان پہ اس کے جو معاشی،نفسیاتی ،سماجی اور جذباتی اثرات مرتب ہوتے ہیں ان عورتوں کا مذہبی،صنفی، طبقاتی پس منظر ان کی شدت میں کمی یا زیادتی کا سبب بنتا ہے۔پالیسی ساو اداروں جیسے حکومت، این جی اوز اور سیکورٹی فورسز ہیں ان کو ان ایشوز کو انٹرسیکشنلٹی کی بنیاد پہ سمجھنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پہ وہ عورتیں جو گھروں کی سربراہ ہیں۔سب سے پہلے توضرورت ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ خواتین کی مدد کرنے کے لئے وفامی اور صوبائی حکومتوں کو ایسی خواتین کے مذہبی صنفی اور طبقاتی پس منظر سے آگاہی حاصل کرنے اور اس کے مطابق پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔جیسا کہ جینڈر لوگوں کی تعلیم،روزگار،صحت،ہیلتھ کئیر اور دوسرے مواقع تک رسائی میں اہم کردار ادا کرتی ہے تو جینڈر سے خاص اپروچ ہی معاشرے میں برابر کے مواقع فراہم کرنے اور ان کو پھر سے معاشرے میں بحال کرنے کا واحد راستہ ہے۔اور پھر ڈویلپمنٹ پالیسیوں اور پروگراموں کا جینڈر پہ واضح فوکس ہونا چاہئیے۔شورش زدہ علاقوں میں تعمیر نو کے پروسس بارے فیصلے کرنے میں عورتوں کی کمیونٹی لیول پہ اور تمام قومی سطحوں پہ آواز کو شامل ہونا ضروری ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ صنفی تعلقات میں سٹرکچرل تبدیلیاں لانے کے لئے طویل المعیاد منصوبے اور پالیسیاں بھی بنانا ضروری ہے۔

آخری بات کہ دیوبندی عسکریت پسند؛ نے بڑے پیمانے پہ مردوں کی شرح اموات میں اضافہ کیا ہے اور بہت ساری عورتیں بیوہ ہوئی ہیں اور وہ گھر کی سربراہ ہیں، اس ایشو پہ خاص طور پہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔حکومت کو ان کی خصوصی تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ان کو ملازمتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی معاشی مشکلات دور کرنے کی ضرورت بھی ہے۔

REFERENCES

Ahmad, U. (2015). Remember the Ahmadis of Lahore, remember the forgotten.

DawnNews.http://www.dawn.com/news/1184975/remember-the-ahmadis-of-lahore-remember-the-forgotten. Accessed on 30 May.

Ahmad, S., Hayat, M., Ahmed, S., & Sajid, I. M. (2014). Gender differences in depression among the affectees of war on terrorism and the role of psychological interventions in the rehabilitation. Pakistan Journal of Criminology, 6(2), 95-112. Ali, F. (2013). A multi-level perspective on equal employment opportunity for women in Pakistan. Equality Diversity and Inclusion, 32(3), 289-309.

Ali, F., & Knox, A. (2008). Pakistan’s commitment to equal employment opportunity for women: A toothless tiger? International Journal of Employment Studies, 16, 39-58.

Ali, F., & Kramar, R. (2015). An exploratory study of sexual harassment in Pakistani organisations. Asia Paci  c Journal of Management, 32(1), 229-249. Arendt, H. (1998). The human condition. Chicago: Chicago University Press(Orig. pub. 1958).

Bailey, G. (2014). The power of Malala. International Social Work, 57(1), 75.Brah, A., & Phoenix, A. (2013). Ain’t IA Woman? Revisiting Intersectionality. Journal of International Women’s Studies, 5(3), 75-86.Bari, F. (2010). Gendered perceptions and impact of terrorism/talibanization in Pakistan. Islamabad: Henrich Boll Stiftung.

BBC News. (2013). Hell on Earth: Inside Quetta’s Hazara community by Muin

Azhar. http://www.bbc.co.uk/news/world-asia-22248500. Accessed on 22 May 2015.

BBC News. (2015). Pakistan gunmen kill 45 on Karachi Ismaili Shia bus. http:// http://www.bbc.co.uk/news/world-asia-32717321. Accessed on 15 May 2015.

Collins, P. H. (2015). Intersectionality’s definitional Dilemmas. Annual Review of Sociology. doi:10.1146/annurev-soc-073014-112142.

Crenshaw, K. (1989). Demarginalizing the intersection of race and sex: A black feminist critique of antidiscrimination doctrine, feminist theory and antiracist politics. The University of Chicago Legal Forum, 140, 139-167. Crenshaw, K. W. (1991). Mapping the margins: Intersectionality, identity politics, and violence against women of color. Stanford Law Review, 43(6), 1241-1299. Ferdoos, A. (2005). Social status of urban and non-urban working women in Pakistan:  A  comparative  study.  Unpublished  PhD  thesis,  University  of Osnabrueck, Osnabrueck.

Haider, F.A. (2015). The grief directory, published in The News. Available at: http://www.thenews.com.pk/Todays-News-9-293745-The-grief-directory

HRW (Human Rights Watch) Report. (2014). We are the walking dead: Killings of Shia Hazara in Balochistan, Pakistan. Available at: https://www.hrw.org/sites/default/files/reports/pakistan0614_ForUplaod.pdf Jawaid, I., Haneef, K., & Pooja, B. (2014). Women, the victim of modern forms of terrorism: An introspection. International Journal of Interdisciplinary and Multidisciplinary Studies, 1(5), 49-59.

Knudsen, S. (2006). Intersectionality: A theoretical inspiration in the analysis of minority cultures and identities in textbooks. In E. Bruillard, M. Horsley,B. Aamotsbakken (Eds.), Caught in the web or lost in the textbook (pp. 61-76), 8th IARTEM conference on learning and educational media, held in Caen in October 2005. Utrecht: IARTEM.

Liebling-Kalifani, H., Marshall, A., Ojiambo-Ochieng, R., & Kakembo, N. M. (2007). Experiences of women war-torture survivors in Uganda: Implications for health and human rights. Journal of International Women’s Studies, 8(4), 1-17.

Moaveni, A. (2015, November 22). ISIS women and enforcers in Syria recount collaboration, anguish and escape. The New York Times, Available at: http://www.nytimes.com/2015/11/22/world/middleeast/isis-wives-and-enforcers-in-syria-recount-collaboration-anguish-and-escape.html

Niarchos, C. N. (1995). Women, war, and rape: Challenges facing the international tribunal for the former Yugoslavia. Human Rights Quarterly, 17(4), 649-690.

 Parent, M. C., DeBlaere, C., & Moradi, B. (2013). Approaches to research on intersectionality: Perspectives on gender, LGBT, and racial/ethnic identities. Sex Roles, 68(11-12), 639-645.

Phoenix, A., & Pattynama, P. (2006). Intersectionality. European Journal of Women’s Studies, 13(3), 187-192.

Prins, B. (2006). Narrative accounts of origins: A blind spot in the intersectional approach? European Journal of Women’s Studies, 13(3), 277-290.

Qayyum, M. (2015). #Neverforget: The wedding bells that will never ring. Express Tribune.  Available  at:  http://tribune.com.pk/story/880914/neverforget-the-wedding-bells-that-will-never-rin Staunæs, D. (2003). Where have all the subjects gone? Bringing together the concepts  of  intersectionality  and  subjectification.  NORA: Nordic Journal of Women’s Studies, 11(2), 101-110.

Syed, J., Ali, F., & Winstanley, D. (2005). In pursuit of modesty: Contextual emotional labour and the dilemma for working women in Islamic societies.

International Journal of Work, Organisation and Emotion, 1(2), 150-167.

Tarar, T. (2012). That little girl. The Daily Times. Available at: http://archives. dailytimes.com.pk/editorial/09-Dec-2012/view-that-little-girl-mehr-tarar

Thacker, P. (2014). Pakistan’s Hazara: ‘It’s like living in jail’. Aljazeera News. Available   at:   http://www.aljazeera.com/humanrights/2014/12/pakistan-hazara-it-like-living-jail-2014123114655754509.html

USCIRF (US Commission on International Religious Freedom). (2015). Annual report, Washington, DC: USCIRF. Available at: http://www.uscirf.gov/sites/default/files/USCIRF%20Annual%20Report%202015%20%282%29.pdf

Zahidi, F. (2012). Hazara Shias lose all hope in Pakistan. International Herald Tribune. Available at: http://tribune.com.pk/story/486883/a-story-of-the-others-hazara-shias-lose-all-hope-in-pakistan/

 

 

خادم رضوی کو سنی بریلوی مکتبہ فکر کا پوسٹر بوائے بنانے والوں کا اصل چہرہ

17861657_10212889012848460_5914205509738996442_n

58ea3e4f9e35b

NOWSHERA, PAKISTAN, APR 09: Jamiat Ulema-e-Islam (JUI-F) Chief, Maulana Fazal-ur- Rehman along with Imam-e-Kaaba Sheikh Saleh Bin Muhammad Ibrahim and others sit on stage during the centennial celebrations of the Jamiat Ulema-e-Islam Fazal held in Nowshera on Sunday, April 09, 2017. (Fahad Pervez/PPI Images).

 

پاکستانی کمرشل لبرل پریس سیکشن کا متعصب اور جانبدار رویہ

محمد عامر حسینی

نیوز ویک پاکستان میں تحریک لبیک یارسول اللہ ، پاکستان سنّ تحریک کے حالیہ دھرنے پہ پے در پے جو نیوز  سٹوریز سامنے آئیں ان کے عنوان کو زرا ملاحظہ کیجئے:

Barelvi Brawn

اس کے انگریزی میں معنی ‘ذہانت استعمال کرنے کی بجائے جسمانی طاقت استعمال کرنے والا ہوتا ہے، اور اس کا اگر ہم کوئی مناسب ترجمہ کریں تو ہوگا’ بریلوی سانڈ’

http://newsweekpakistan.com/barelvi-brawn/

اس کے بعد دوسرا عنوان ہے:

THE BARELVI BEAST

بریلوی درندہ

http://newsweekpakistan.com/the-barelvi-beast/

پھر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں :

DEMISE OF THE WARRIOR STATE

SLEEPWALKING TO ANOTHER SURRENDER

جیسے عنوانات کے تحت بھی سنّی بریلویوں کو  بہت بڑے دہشت گرد،جنونی، پاگل، درندے اور جو کچھ کہا جاسکتا تھا کہا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کا یہ کمرشل لبرل مافیا ماضی میں جب کبھی مجبوری کے تحت دیوبندی اور اہل حدیث کے اندر سے سامنے آنے والی دہشت گردی ، انتہا پسندی ، مذہبی جنونیت بارے بات کرنے پہ مجبور ہوتا تو یہ ہمیں ساتھ ساتھ یہ بھی بتانا نہ بھولتا کہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور بانی جمعیت علمائے ہند محمود حسن دیوبندی، حسین احمد مدنی دیوبندی کتنے بڑے نیشنلسٹ سیکولر تھے۔یہ عبید اللہ سندھی کی مثال بھی سامنے لیکر آتا۔اور یہ کہتا کیونکہ سب دیوبندی انتہا پسند نہ ہیں، دہشت گرد نہ ہیں، تکفیری نہیں ہیں تو ‘تکفیری دیوبندی’ ‘دیوبندی عسکریت پسندی’ اور ‘ دیوبندی جہادی’ جیسی اصطلاحیں فرقہ پرستی ہیں۔

لیکن جیسے ہی سنّی بریلوی /صوفی سنّی مکتبہ فکر/فرقہ کی بات آتی ہے تو ایک دم سے یہ لوگ اپنے ہی طے کردہ اصول سے منکر ہوجاتے ہیں۔جس کا ایک ثبوت تو میں نے اوپر نیوز ویک پاکستان کی ویب سائٹ پہ نمودار ہونے والے تجزیوں میں پیش کیا ہے۔

فرائیڈے ٹائمز، دی نیوز انٹرنیشنل اور پھر ڈیلی ٹائمز میں چھپنے والے کمرشل لبرل صحافی اعجاز حیدر نے 2016ء میں اسی نیوز ویک میں سلمان تاثیر کے ایک پولیس مین کے ہاتھوں مارے جانے پہ ایک آرٹیکل لکھا تھا:

 GAZING INTO THE VOID

http://newsweekpakistan.com/gazing-into-the-void/

اس پورے آرٹیکل میں انھوں نے ایک بھی جگہ سلمان تاثیر کے خلاف جو اشتعال انگیز مہم دیوبندی سپاہ صحابہ پاکستان کے رہنماؤں بشمول مولوی طاہر اشرفی نجم سیٹھی سمیت کمرشل لبرل مافیا کا بنایا ہوا جعلی ماڈریٹ مولوی کے کردار کا کوئی ذکر نہ کیا۔اور برصغیر کے اندر انہوں نے تاریخی بددیانتی کرتے ہوئے یہ کہا کہ احمد رضا خان بریلوی نے تکفیری مہم شروع کی تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے اندر مسلمانوں کی اکثریت کے خلاف کافر، مشرک ، بدعتی ہونے کے اعلانات سب سے پہلے شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل دہلوی اور شاہ عبدالعزیز کے داماد کے شاگرد سید احمد بریلوی نے کیا تھا اور باقاعدہ ایک مسلح تحریک بھی چلائی تھی۔جبکہ احمد رضا خان بریلوی کے فتوے تو ویسے ہی ہیں جیسے فتاوے، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ کی کتب میں صدیوں سے موجود ہیں۔اعجاز حیدر کا  جو متعصب اور بددیانتی پہ رویہ سنّی بریلوی فرقے کے باب میں نظر آتا ہے اور دیوبندیوں  کے لئے جانبداری ایک نمونہ اور ماڈل ہے جو ہر ایک کمرشل لبرل صحافی و سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے ہاں نظر آتی ہے۔

ان کے تجزیوں میں آپ کو کسی بھی جگہ مسلم لیگ نواز اور اس کے گاڈ فادر نواز شریف، شہباز شریف، رانا ثناء اللہ ، چوہدری نثار علی خاں وغیرہ کے مذہبی جنونی، دہشت گردوں جیسے سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت/لال مسجد/مولوی عبدالعزیز اینڈ کمپنی  سے تعلقات پہ زرا روشنی نہیں ڈالتا، بلکہ مسلم لیگ نواز کو ایک مجبور، محکوم ، سازشوں میں گھری ہوئی جماعت اور حکومت بتاتا ہے:

http://newsweekpakistan.com/wheels-of-change/

شہباز شریف کو ‘تبدیلی کے پہیوں’ سے تعبیر کیا گیا یہ مضمون ان کے کمرشل ازم پہ روشنی ڈالتا ہے۔

اور یہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے جہادیوں اور فرقہ پرستوں سے رشتے تو بہت کھل کر بیان کرتا ہے،لیکن جیسے ہی نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کی بات آئے تو ایک دم سے بریک لگ جاتی ہے۔ایسی بریک اسے پاکستان تحریک انصاف کے دیوبندی تکفیری سمیع الحق سے رشتوں اور تعلق کو بے نقاب کرتے ہوئے نہیں لگتی۔

اب تھوڑا نیوز ویک پاکستان کی اس وقت کام کرنے والی ٹیم بارے کچھ بات ہوجائے۔اس کی ٹیم بارے ساری تفصیل ذیل میں معلوم ہوجائے گی :

http://newsweekpakistan.com/about-us/

امریکی جریدہ نیوز ویک جو پاکستان کی نام نہاد سیکولر،لبرل اشرافیہ کا سرد جنگ کے زمانے سے پسندیدہ رسالہ رہا ہے،پاکستانی کمرشل لبرل مافیا کے سب سے بڑے سمبل نجم سیٹھی کے تربیت یافتہ پاکستانی کمرشل لبرل صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کے ساتھ پاکستانی ایڈیشن اور پاکستان بیسڈ ویب سائٹ کے طور پہ ایک نئے روپ میں جلوہ گر ہے۔

پاکستان نیوز ویک کی ساری ٹیم ان پاکستانی لبرل صحافیوں اور تجزیہ نگاروں پہ مشتمل ہے،جن کی فکر اور خیالات کو ہم نجم سیٹھی،حسین حقانی،عاصمہ جہانگیر، شیری رحمان، بینا سرور جیسے کمرشل لبرل سے مستعار لی ہوئی کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ایک بڑا حصّہ پاکستان نیوز ویک میں دی نیوز انٹرنیشنل، فرائیڈے ٹائمز ویکلی،ڈیلی ٹائمز سے آئی ہوئی ہے۔

یہ وہی کمرشل لبرل مافیا ہے جو پاکستان کے اندر تکفیری فاشزم کے بارے میں ان کی ‘دیوبندی شناخت’ بارے فوری طور پہ ‘ فرقہ پرستی’ کا فتوی ٹھونکتا رہا ہے۔اور جیسے ہی آپ ‘تکفیری دیوبندی دہشت گرد’ ‘دیوبندی انتہا پسند’ ‘دیوبندی جہادی’ جیسی اصطلاح استعمال کرتے تو یہ فوری آپ کو ان اصطلاحوں کے استعمال سے روکتا تھا۔اور آج بھی ان کی یہی روش موجود ہے۔

اس کمرشل لبرل مافیا نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی وائلنس اور دیوبندی عسکریت پسندی،انتہا پسندی، دہشت گردی بارے جس قدر ابہام اور الجھاؤ پیدا کیا شاید ہی کسی نے کیا ہو۔

پاکستان کے لبرل انگریزی پریس میں یہی کمرشل لبرل مافیا ہے جس نے انگریزی پریس میں تکفیری دیوبندی کی شناخت کے ساتھ شیعہ نسل کشی پہ پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور ایک لمبے عرصے تک تو مرنے والوں کی شیعہ شناخت تک کو رپورٹنگ میں زکر نہ کیا،جبکہ دیوبندی عسکریت پسندی ، دہشت گردانہ اقدام کو یہ ‘سنّی عسکریت پسندی’ اور ‘سنّی دہشت گرد گروپ’ کے الفاظ کے ساتھ بیان کرتا رہا جبکہ سنّی بریلوی مسلمانوں پہ ہونے والے حملوں میں بھی مارے جانے والوں کی ‘بریلوی سنّی شناخت’ کو بلیک آؤٹ کئے رکھا۔

False Binaries making

کا یہ کمرشل لبرل مافیا کاریگر ہے۔

 

ہم سب کمرشل لبرل

جارج آرویل نے اپنے ایک مضمون ” سیاست،انگریز اور زبان ” میں یہ مشاہدہ کیا تھا کہ “زبان کی بدعنوانی اور سیاست کی بدعنوانی ساتھ ساتھ چلتی ہیں اور ایک دوسرے کو مدد دیتی ہیں۔آرویل نے اس باہمی گٹھ جوڑ کو اپنے ناول ‘1984’ میں بہت زبردست طریقے سے دکھایا۔اس ناول میں صیم نامی ایک کردار جو کہ ٹرتھ ڈیپارٹمنٹ میں ایک نئی “لغت” کی تشکیل پہ کام کررہا ہوتا ہے اور وہ اس ناول کے مرکزی کردار ونسٹن سمتھ (حکمران پارٹی کا چھوٹا سا کارکن) کا دوست ہے،وہ کہتا ہے

“لفظوں کی تباہی بہت ہی پیاری چیز ہے۔۔۔۔۔۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ نیوز پیک کا حتمی مقصد خیال کی حد کو تنگ سے تنگ کرتے چلے جانا ہے۔آخر میں ہم ادبی اعتبار سے خطرناک سوچ کو ہی ناممکن بناڈالیں گے۔کوئی بھی تصور جس کی کبھی بھی ضرورت ہوسکتی ہے وہ ٹھیک ایک لفظ میں بیان کیا جاسکے گا اور اس کے سب دیگر ذیلی مطالب نابود کردئے جائیں گے اور پھر ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فراموش کردیا جائے گا۔ہر سال چند ہی الفاظ اور شعور کی حد کم سے کم ہوتی چلی جائے گی۔یہاں تک کہ اب بھی مجرمانہ سوچ کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔یہ محض ازخود ڈسپلن میں آنے اور ازخود حقیقت کو کنٹرول کرنے کا نام ہے۔لیکن مستقبل میں یہ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انقلاب اس وقت مکمل ہوجائے گا جب “زبان” کامل ہوجائے گی

اس ملک میں جہاد ازم،تکفیر ازم اور مذہبی بنیاد پرستی کے سعودی ماڈل کو گود لینے والے ریاستی ہرکارے جو لائن دیتے ہیں اسے پاکستانی کمرشل لبرل مافیا اور نواز حکومت کے چرن چھونے میں طاق لبرل نقاب چڑھائے صحافی اور سوشل میڈیا پہ ان کے لئے ہمہ وقت کوشاں چیلے فوری طور پہ میں سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ ایک غالب ڈسکورس بنانے کے لئے کوشاں ہوجاتے ہیں۔

مثال کے طور پہ مسلم ليگ نواز کی حکومت ،اس کے اسٹبلشمنٹ میں بیٹھے اتحادیوں نے یہ لائن دینا شروع کی کہ بدنام زمانہ تکفیری دیوبندی تنظیم اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان ایک بدلی ہوئی جماعت ہے۔اسے مرکزی سیاسی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے اور اس کے سرپرست محمد احمد لدھیانوی بہت ہی پرامن، مدبر،صاحب بصیرت عالم دین ہیں تو لبرل کمرشل مافیا نے اس ڈسکورس کو مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ آگے بڑھانا شروع کردیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ اس بدنام زمانہ تکفیری و جہادی ٹولے کو دہشت گرد ماننے سے انکاری ہوتا ہے اور ان سے اپنی ملاقاتوں کا دفاع کرتا ہے تو اس کے فوری بعد کمرشل لبرل مافیا اس کی لائن کو آگے بڑھاتا ہے۔کمرشل لبرل مافیا کی ایک اسلام آباد کی این جی او پاکستان میں تزویراتی گہرائی کی پالیسی کے خالقوں اور ہدائیت کاروں پہ مشتمل سابق جرنیل ، بیوروکریٹس اور تکفیری و جہادی لیڈروں کو ایک میز پہ بٹھاتی ہے اور پھر تکفیری و جہادیوں کو مین سٹریم کرنے پہ سوچ و بچار شروع ہوتی ہے اور نواز حکومت کا پرچارک جنگ-جیو میڈیا گروپ اپنے ٹی وی کے پروگرام ” شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” میں اس کی خصوصی تشہیر کرتا ہے۔اور ایسے ہی سابق آئی جی پنجاب جیو چینل پہ ایک اور جہادی ہرکارے سیلم صافی کے پروگرام”جرگہ” میں تکفیری دہشت گرد تنظیم ‘اہلسنت والجماعت’ کے وکیل صفائی بنتے اور پنجاب میں لشکر جھنگوی کے خاتمے کا دعوی کرتے ہیں یہ اور بات کے اگلے ہی روز لاہور میں مردم شماری کے لئے جانے والے فوجیوں پہ حملہ ہوتا ہے اور اس کے کچھ روز بعد فوج کے کومبنگ آپریشن میں لاہور میں داعش کا ایک بڑا سرغنہ مارا جاتا ہے۔

مسلم لیگ نواز کی حکومت تکفیری تنظیم اہلسنت والجماعت کو مین سٹریم کرنے اور اس کے سرپرست محمد احمد لدھیانوی کو عظیم مدبر ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اس کے لئے اس نے اپنے زرخرید صحافی، تجزیہ نگاروں،کالم نگاروں،دفاعی تجزیہ نگاروں اور اس کے ساتھ سوشل میڈیا پہ بلاگرز کی ایک فوج ظفر موج کو ٹاسک سونپ دیا ہے۔

ویب بلاگ ” ہم سب ” جس کے مالک جنگ میں کالم لکھنے والے اور نواز حکومت سے انعام و اعزاز پانے والے وجاہت مسعود ہیں۔جنھوں نے بڑھاپے میں صحن میں نلکا لگوایا ہے اور اسے چلانے کا کام ان سے تو ہوتا نہیں ہے اس لئے یہ کام ان کی بغل میں تکفیریت کی گٹھی لیکر پیدا ہونے والے بچے سرانجام دے رہے ہیں اور وجاہت مسعود ان درجنوں  صیم کی طرح ہیںجو “لغت” تیار کرنے میں لگے ہیں جس کا مقصد خیالات کی حد مقرر کرنا اور ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہے جس میں فسادیوں کو “صلح کار ” اور تخریب کاروں کو “سفیر امن” کہا جائے اور سب یہی بولی بولنے لگ جائیں۔اور یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ ان انتہا پسندوں، رجعت پرستوں، تکفیری فاشسٹوں اور ان کی تنگ نظری پہ مبنی سوچ کی عکاسی کرنے والی تقریروں، بیانات اور ان کے کردار کی طرف توجہ دلائیں تو یہ کوئی جواب دے سکیں۔ان کی رٹ بس یہی ہے کہ یہ امن پسند ہیں،سفیر ہیں امن کے، ماڈریٹ ہیں اور پاکستان کے اندر پھیلی تکفیری دہشت گردی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

ویسے کیا یہ محض اتفاق ہے کہ صرف پاکستانی کمرشل لبرل مافیا ہی نہیں ہے جو تخریب کار، تنگ نظر، رجعت پرست تکفیری وجہادی مافیا کو امن کے سفیر اور آزادی پسند بناکر پیش کررہا ہے بلکہ ہم عالمی سطح پہ امریکی و برطانوی مین سٹریم میڈیا اور لبرل ڈیموکریسی کے بڑے بڑے علمبرداروں کو شام کے دہشت گردوں، القاعدہ کے اتحادیوں اور سعودی وہابیت کے پالنہاروں کو آزادی پسند، ماڈریٹ کہتے دیکھ رہے ہیں بلکہ کل تک ٹرمپ جو مغربی لبرلز کا سب سے ناپسندیدہ صدر تھا آج وہ ان کی ڈارلنگ بن گیا ہے صرف اس لئے کہ اس نے شام پہ مزائیل حملے کئے،وہ کہتا ہے کہ بشارالاسد نے کیمیائی ہتھیار معصوموں پہ استعمال کئے ہیں۔اور بس یہی ایک زبان بولی جارہی ہے۔بی بی سی فرانسیسی اسلامو فوبک ، شاؤنسٹ ، نسل پرست لی پین کو بھرپور کوریج دے رہا ہے۔فرائیڈمین جیسا لبرل ڈیموکریسی کا سب سے بڑا علمبردار داعش سے امریکہ کے اتحاد کی حمایت کرتا ہے۔

اور ریاض مالک بالکل ٹھیک لکھتے ہیں:

پاکستان کے اندر جماعت اسلامی، اہلسنت والجماعت اور جماعت دعوہ کے “تجزیہ کار” اور ان کے شریک کار اشرافی سول سوسائٹی کے نیولبرلز” اپنے آپ کو ” مہان سیاست کے ماہر اور تجزیہ کار “خیال کرتے ہیں جو اپنے کسی تجزیہ میں یہ بات کبھی نہیں لائیں گے کہ پاکستان کے اندر 80 ہزار سے زائد لوگ بشمول 23 ہزار شیعہ، 45 ہزار صوفی سنّی اور سینکڑوں کرسچن، احمدی ، ہندؤ ان تکفیری دیوبندی-سلفی دہشت گردوں نے مارے جن کو ” نفرت اور دشمنی ” کا پاٹھ لدھیانوی اور اس کے دیگر قائدین نے پڑھایا تھا۔اور “ہم سب” جیسے ویب بلاگ پہ تکفیری دیوبندی محمد احمد لدھیانوی سے ملاقات کا جو احوال شایع کیا گیا ہے اس کے آغاز میں یہ کہا گیا کہ “مشکل سوالات کا تحمل سے جواب دیتے ہیں اور ایسے سوالات کرنے پر اکساتے بھی ہیں” لیکن مشکل سوالات کونسے تھے؟ پوری رپورتاژ پڑھنے کے بعد بھی پتا نہیں چلتا۔ایک نہایت بے ضرر سا سوال یہ بھی بنتا تھا کہ محمد احمد لدھیانوی ” کاروبار تکفیر ” میں آنے سے پہلے بہت ہی غریب تھے تو آج کھربوں کے مالک کیسے بنے؟ ایک سوال ویکی لیکس کے حوالے سے بنتا تھا کہ لیبیا سے 25 ملین ڈالر ان کو کس مد میں ملے تھے؟ملک اسحاق اور ان کے دیگر ساتھیوں نے ان کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ایجنٹ و دلال کہا تھا اس میں کہاں تک صداقت ہے؟ اور آخری بات یہ کہ جب وجاہت مسعود ہفت روزہ “ہم شہری” میں ایڈیٹر تھے تو ان کے مضامین میں “کالعدم جماعتوں اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد” کی میڈیا کوریج اور ان کو سرگرمیوں کی اجازت ملنے پہ کافی تنقید ہوا کرتی تھی اور “جماعت دعوہ” پہ میری کور سٹوری کو انہوں نے اس وقت بہت سراہا تھا جب لشکر طیبہ اور اس کے ہفت روزہ اخبار “غزوہ” پہ پابندی کے دنوں بعد ” جرار” کے نام سے اخبار نکلنا شروع ہوگیا تھا۔ویسے وجاہت مسعود ” حافظ سعید ” سے اپنے نلکا چلوانے والے ایڈمنز کو کیوں نہیں ملواتے اور ان کی نرم بیانی اور مہمان نوازی اور خندہ پیشانی کا بیان “ہم سب” میں کیوں نہیں کرواتے؟ کہیں اس کی وجہ امریکیوں کی ناراضگی کا اندیشہ تو نہیں ہے؟

مشعال خان: تم کیا گرے ،حاکمیت کے ستون اور شکستہ ہوگئے

 

 

کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو المیہ کو عروج پہ لیجاتے ہیں اور ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم اس المیہ پہ مرثیہ ، نوحہ ، سوز اور تعزیتی انشائیہ لکھیں اور ایسے وقت میں مرثیہ، نوحہ ، سوز اور تعزیتی انشائیہ لکھنا بہت آسان ہوتا ہے جب وہ واقعہ ایک ایپک  بن گیا ہوتا ہے اور ہر کوئی اس پہ لکھ رہا ہوتا ہے اور اس لکھنے میں کوئی خطرہ بھی لاحق نہیں ہوتا۔جیسے آپ منصور حلاج، دار شکوہ، سرمد  پہ لکھتے ہیں تو اس میں زیادہ خطرات لاحق نہیں ہیں۔ایسے ہی آج جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء تھا ایسے میں آپ اگر ذوالفقار علی بھٹو پہ لکھتے تو آپ کے لئے بہت مشکل تھا بلکہ بھٹو کا نام لینا بھی جرم بن گیا تھا۔ایسے ہی آج جب آپ پاکستان، عراق ، شام سمیت جہاں جہاں سلفی۔دیوبندی تکفیری فاشزم اپنے عروج پہ ہے اگر کربلاء کی ٹریجڈی پہ لکھتے ہیں اور محرم کی المیاتی ثقافت پہ بات کرتے ہیں تو بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ خطرات میں گھر جائیں گے اور آپ جان سے بھی جاسکتے ہیں۔جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں “صفیہ کیس” ہمارے سامنے آیا اور یہ حدود آرڈیننس کے ساتھ جڑا ہوا تھا،اس زمانے میں اس پہ بات کرنا آسان نہیں تھا اور اس پہ لکھنے سے آپ پہ کفر بلکہ بلاسفیمی کا الزام لگ سکتا تھا۔اور ہمارے ہاں اس زمانے میں جماعت اسلامی نے اسے باقاعدہ ایک خطرناک ہتھیار کی شکل دی تھی اور وہ 70ء کی دہائی سے اس ہتھیار کے ساتھ ” بلوائی حملوں ” پہ مبنی ایک پوری نفسیات کو زیادہ سے زیادہ ترقی دینے پہ تلے بیٹھے تھے۔کسی بھی شخص یا گروہ یا کسی بھی اقلیتی فرقے یا اپنے کسی مخالف کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز فضا کی پیدائش کی تاریخ اگر تلاش کی جائے گی تو یہ تاریخ میں ہمیں کالونیل دور میں مل جائے گی اور ایک موثر ہتھیار کے طور پہ اس کا استعمال ہمیں مسلم بنیاد پرست ہوں یا ہندو بنیاد پرست ہوں یا سکھ بنیاد پرست ہوں کے ہاں مل جائے گا۔اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف عوامل نے اپنا کردار ادا کیا ہے اور اسے انسٹی ٹیوشنل لائز کردیا ہے۔

ہم نے اردن میں ناھض حتر (ایک ترقی پسند کرسچن سوشلسٹ ترقی پسند ) کے معاملے میں دیکھا کہ اسے اردن کی سپریم کورٹ کی سیڑھیوں پہ گولی ماردی گئی ،ایسے ہی سلمان تاثیر کے معاملے میں ہوا اور شہباز بھٹی کا کیس بھی یہی تھا۔راشد رحمان کا معاملہ بھی یہی تھا اور جمشید نایاب کا معاملہ بھی ایسے ہی تھا۔اور پھر کچھ لوگ ہیں جو ابھی جیلوں میں پڑے ہیں اگر وہ پبلک میں آئیں تو پاکستان میں ان کا آزادانہ چلنا پھرنا ایک المیہ کو جنم دے گا جیسے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے جنید حفیظ کا معاملہ ہے۔اور اگر ہم جیلوں میں بند ان لوگوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پہ بات بھی کریں تو خطرے سے خالی نہیں ہے چاہے ہمیں ان کی بے گناہی کے درجنوں ثبوت کیوں نہ مل گئے ہوں،ایسے ہی آسیہ بی بی کا کیس ہے۔اس پہ بات کرنا بھی مشکل بلکہ ناممکن ہوگیا ہے۔

سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ایک طرف تو اس ملک کے شیعہ،کرسچن،احمدی ، ہندؤ اور صوفی سنّی ، سیکولر و لبرلز ، کمیونسٹ ، لیفٹ انٹلیکچوئل مسلسل مسلم بنیاد پرستوں، سلفی –دیوبندی تکفیری فاشسٹ نیٹ ورک کے حملوں کی زد میں ہیں تو دوسری طرف ایسے شواہد موجود ہیں کہ پاکستانی ریاست کے اداروں میں ایسے ” بدمعاش ” موجود ہیں جو ریاست کے کردار اور اس کی پالیسیوں پہ تنقید کرنے والے اور ریڈیکل خیالات کا اظہار کرنے والوں کے خلاف مین سٹریم میڈیا میں بیٹھے اپنے ایجنٹوں اور حامیوں کے زریعے سے ایسا پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں جس سے ایک اشتعال اور کشیدہ فضاء خود بخود بازار، محلے اور مسجد و مدرسے کے اندر جانے والوں میں پھیل جاتی ہے اور یہ ہمارے کالج ، یونیورسٹی اور اسکولوں میں بھی پھیل جاتی ہے اور بہت ہی منظم طریقے سے یہ ایک ” بلوائی تشدد ” کی راہ ہموار کرتی ہے تو یا تو آپ بہت آسانی سے ہجوم کے بلوے کا شکار ہوجاتا ہے یا آپ کے اردگرد کوئی آپ کا شناسا یا کوئی آپ کے آس پاس سے گزرنے والا شخص آپ کی زندگی کا خاتمہ کرسکتا ہے۔اور یہ بھی ہوتا ہے اکثر  یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد جو سرگرم ہوتی ہے وہ اشتعال و نفرت کا مرکز بننے والے شخص سے ہمدردیاں  بالکل نہیں رکھتیں اور انتہائی نفرت کا شکار وہ شخص یا اشخاص بن جاتے ہیں۔اور ایسے میں جب ایسے فرد یا افراد قتل کردئے جاتے ہیں یا بلوائی دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں تو اس پہ ردعمل بھی بہت ہی کم ہوتا ہے۔اور جو لوگ ردعمل دینا چاہتے ہیں ان کو ڈرایا ، دھمکایا جاتا ہے اور ان کو سہم جانے پہ مجبور کیا جاتا ہے اور ایسے میں معاشرے میں ہر طرف آپ کو “جنونیوں” کا راج نظر آتا ہے۔اور ریاست ایسی فضاء میں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں زیادہ آسانی محسوس کرتی ہے۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے پاکستانی ریاست نے حال ہی میں کئی ایک ایشوز پہ پاکستان کے اندر پائی جانے والی مخالفانہ فضاء کو حال ہی میں ابھرنے والی صورت حال میں بدلنے کے لئے موافق خیال کیا اور اس نے وہ اقدام اٹھائے ہیں جو پاکستان کی فضاء کو اور ذھریلا اور زیادہ فرقہ وارانہ بنانے میں مددگار ہوں گے۔جیسے پاکستانی ریاست نے اپنے سابق آرمی چیف کو سعودی عرب کی قیادت میں قائم ایک فرقہ پرست فوجی اتحاد کی سربراہی کی اجازت دے دی ہے اور ایسے ہی پاکستانی ریاست آہستہ آہستہ شام کے ایشو پہ اپنی غیر جانبدار پوزیشن کو ختم کرچکی اور سعودی بلاک کے ساتھ جاکھڑی ہوئی ہے۔اور اس بارے میں پاکستانی سماج کے اندر بہت زیادہ شور نہیں ہے۔اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ریاست نے ایک ایسا میکنزم اختیار کیا ہے کہ ان جیسے ایشوز پہ اختلاف ظاہر کرنے والوں کو فوری طور پہ ایرانی ایجنٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔اور ایسے شواہد بھی موجود ہیں جس سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر سے ایسے موقف سامنے آتے ہیں جس سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں جو اس وقت مزاحمت ہے، پاکستان میں جو فرقہ وارانہ قتل و غارت گری ہے اور مذہبی دہشت گردی ہے اسے راء پھیلا رہی ہے اور اس کے لئے روٹ اور راستہ جہاں افغانستان ہے تو ساتھ ساتھ ایران بھی ہے۔اور سابق ترجمان آئی ایس پی آر نے کلبھوشن کے معاملے میں ایران کو مورد الزام اس وقت ٹھہرایا جب ایرانی صدر پاکستان کے دورے پہ تھے اور اب حال ہی میں عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی کی تحویل میں لینے کے بعد عزیر کے تعلقات بھارتی ایجنسی راء اور اس کے نیٹ ورک کا روٹ پھر ایران بتلایا گیا اور اس کا تعلق ایرانی انٹیلی جنس ایجنسی سے بتایا گیا جبکہ عزیر بلوچ کے پاکستان کے اندر تبلیغی جماعت ، سپاہ صحابہ پاکستان وغیرہ سے روابط بارے کوئی بھی بات سامنے نہیں لائی گئی۔اگر اس سارے پلاٹ پہ نظر دوڑائی جائے تو یہ پلاٹ تکفیری فاشزم اور پاکستان میں سعودی نواز فرقہ پرست لابی کے موقف کی حمایت میں نظر آتا ہے جو تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کی ساری کی ساری کاروائیوں کو ایرانی-بھارتی نیٹ ورک کی کارستانی بتاتی ہے اور شیعہ کمیونٹی کو ایجنٹ بناکر پیش کرتی ہے۔اور ایسے میں ایک پوری کمیونٹی کو ریاست کے اداروں کے اندر بیٹھے لوگ ہی دیوار سے لگانے میں مددگار اقدام کرتے ہیں۔ایسے میں ریاستی اداروں کا مقصد یمن،شام جیسے ایشوز پہ سعودی پالیسی کی حمایت کی راہ میں آنے والی روکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

بلاسفیمی ، ایجنٹی ، غداری اور اس جیسے کئی اور الزامات تباہ کن ہتھیار کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور ریاستی ادارے، مین سٹریم میڈیا، مدارس ، مساجد ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹیوں میں جہاں جہاں ریاستی اداروں کے پاس اپنے ہمنواء موجود ہیں وہ یہ ہتھیار ان کے ہاتھ میں تھماکر اپنی راہ میں آنے والوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔مشعال خان کے خلاف یہ ہتھیار براہ راست تو نہیں لیکن بالواسطہ استعمال ہوا اور جیسا کہ ایسا ہوتا ہے کہ جو ہتھیار ریاستی ادارے نجی لشکروں کے حوالے کرتے ہیں یا پراکسیز کو دیتے ہیں وہ ان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پھیل جاتا ہے اور خود ریاستی اداروں پہ بھی استعمال ہوتا ہے،جیسا کہ ہم نے جہادی پراکسی اور اینٹی شیعہ ، سعودی نواز پراکسی کے معاملے میں دیکھ لیا ہے۔پاکستان میں شیعہ نسل کشی،بلوچ نسل کشی اور ریاست کے بیانیہ سے اختلاف کرنے والوں کی آوازوں کو خاموش کرانے کا سلسلہ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا اور جیسے ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے ویسے ہی پاکستان کے اندر حقیقت یہ ہے کہ ریاستی سرپرستی میں سامنے والا پاکستانی نیشنل ازم اور نام نہاد اسلام ازم ( جو وہابیت و دیوبندیت کا چربہ ہے ) وہ تیزی سے غیر مقبول ہورہا ہے اور اس غیر مقبولیت کو بین الاقوامی برادری سے چھپانے کے لئے زبردست تشدد اور دہشت گردی، سنسر شپ اور بلوائیت سے کام لیا جارہا ہے۔ریاست ایسے نہ تو ماضی میں کبھی زیادہ دیر چل پائی نہ اب چل پائے گی ۔

 

مولانا شیرانی :یا منافقت ترا آسرا

58ea3e4f9e35b

جے یو آئی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا شیرانی فرماتے ہیں۔۔۔

کہ عالم کفر نے آپس میں مسلمانوں کی تباہی وبربادی کا معاہدہ کر رکھا ہے۔مسلمان کو مسلمان سے لڑایا جارہاہے۔ مذہب اسلام کو دہشت اور بربریت کا استعارہ بنا دیا گیا ہے۔

مولانا مزید فرماتے ہیں ایک دہشت گرد گروپ کو طالبان کا نام دیا جاتا ہے جسکی پشت پر چین اورروس کھڑے ہیں تو دوسرے گروپ کو داعش کے نام سے اٹھایا جاتا ہے جسکی پشت پرامریکہ اورمغرب کھڑے ہیں۔

 مولانا شیرانی! گھٹیا سازشی تھیوریز صرف مغرب میں دائیں بازو کے نو قدامت پرست ہی ایجاد نہیں کرتے بلکہ آل سعود کی غلامی میں سرشار آپ سمیت  دیوبندی مذہبی پیشوائیت بھی کسی سے کم نہیں ہے۔

عالم کفر نے باہمی معاہدہ کررکھا ۔۔۔۔۔ معاہدہ ہے مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا ۔۔۔۔۔ مسلمان کو مسلمان سے لڑایا جارہا ہے۔اسلام کو دہشت اور بربریت کا استعارہ بنادیا گیا ہے۔

مولانا شیرانی یہ بات اس سٹیج سے کررہے تھے جس پہ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور اور مکّہ میں مسجد حرام میں حکمران بادشاہی خاندان آل سعود کے ملازم امام مسجد بھی تشریف رکھتے تھے۔مولانا شیرانی کی اپنی ساری گفتگو میں عالم کفر کے باہمی معاہدے کو کامیاب کرانے کا سب سے بڑے ذمہ دار سعودی عرب اور اس کا حکمران خاندان آل سعود ٹھہرتے ہیں۔کیونکہ یہ سعودی عرب ہے جس نے یمن پہ حملہ کیا، عراق میں عرب قبائل کے سرداروں اور سیاسی لیڈروں کو خریدا اور پھر وہاں پہ وہابی عسکریت پسند دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کی۔شام میں اس وقت جتنے بھی جہادی گروپ لڑ رہے ہیں وہ سب کے سب سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں سے ہی مالی اور اسلحے کی امداد پارہے ہیں۔داعش کے جراثیم اور اس کی بنیاد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پالیسی سے ہی سامنے آئے اور سعودی عرب سمیت امریکی اتحادیوں نے اسے پروان چڑھایا۔مڈل ایسٹ ہو یا شمالی افریقہ یا جنوبی ایشیاء یا مشرق بعید سب جگہ پہ یہ سعودی عرب کی وہابی آئیڈیالوجی سے لتھڑی فنڈنگ ہے جس نے جمہور اسلام کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے اور پوری مسلم دنیا میں جہاد کے نام پہ سلفی اور دیوبندی جہادی /عسکریت پسند مسلم عوام کے گلے کاٹ رہے ہیں۔مولانا شیرانی صاحب! اگر مغرب نے عالم اسلام کے خلاف کوئی خفیہ معاہدہ اگر کیا بھی ہوا ہے تو اس معاہدے کے سب سے بڑے سہولت کار سعودی عرب،کویت،متحدہ عرب امارات،ترکی،قطر، بحرین، اردن وغیرہ ہیں اور اس کے سب سے بڑے مددگار وہ مذہبی لیڈر ہیں اور وہ تنظیمیں ہیں جو سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہیں اور سعودی عرب کی سرکاری مذہبی آئیڈیالوجی کو پیسے اور جبر کے زریعے سے جمہور مسلمانوں پہ مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔اگر آپ اپنے کہے میں سچے ہوتے تو جمعیت علمائے اسلام کے اجتماع عام میں آل سعود کے ملازم مہمان خصوصی کے طور پہ مدعو نہ ہوتے اور نہ ہی سعودی عرب کو اسلام کا خادم کہا جاتا۔اور آپ اگر سچے ہوتے عالم اسلام کی خیر خواہی میں تو آپ اپنی تقریر میں سعودی عرب سے کہتے کہ وہ یمن پہ ہوائی حملے بند کردے۔شام میں سلفی۔دیوبندی تکفیری/جہادی دہشت گردوں کی حمایت اور مدد بند کردے۔عالم اسلام کی اکثریت پہ کفر اور شرک کے فتوے لگانے والوں کی مالی مدد بند کردے اور عالم اسلام کی اکثریت کو وہابی بنانے کے پروجیکٹ سے باز آجائے۔ایسے ہی آپ اگر عالم اسلام کے اندر جاری خون ریزی بند کرانے میں سنجیدہ ہوتے تو آپ دار العلوم دیوبند اور اس سے منسلک تمام دیوبندی مدارس کی انتطامیہ سے اور دنیا بھر میں پھیلی دیوبندی سیاسی و مذہبی تنظیموں سے اور سب سے بڑھ کر مولانا فضل الرحمان کو کہتے کہ وہ تکفیری اور نام نہاد جہادی دیوبندیوں سے اپنی مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں سے کہیں کہ ان تنظیموں کا مکمل بائیکاٹ کریں اور اپنے مساجد و مدارس میں ان کا داخلہ بند کریں۔

مولانا شیرانی ! اگر آپ عالم اسلام کی باہمی خانہ جنگی کے واقعی مخالف ہوتے تو آپ جے یو آئی کے سٹیج سے ہی مسلم لیگ نواز کی حکومت سے کہتے کہ 39 مسلم ممالک کی افواج کے اتحاد سے فوری طور پہ باہر آئے۔جنرل راحیل شریف کو دیا گیا این او سی واپس لیا جائے۔اور پاکستانی افراج کو مسلم ممالک کے درمیان کسی بھی فوجی تنازعے میں فریق بنکر بھیجنے سے باز رہے۔اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں حکمران جماعت کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کرنے کا اعلان کرتے۔

لیکن ایسا کچھ بھی تو آپ نے نہیں کہا۔کیا اس سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں۔اور عالم اسلام کے اندر اس وقت جس تکفیر ازم اور جہاد ازم کی بربریت کا سامنا عالم اسلام کے اندر رہنے والے مسلمانوں کو ہے آپ اس کا خود ایک حصّہ ہیں۔آپ سہولت کار، بھرتی کار ، معاون اور پروپیگنڈا مشین بنے ہوئے ہیں اور اسی پہ پردہ ڈالنے کے لئے آپ غیر جانبداری کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ آپ سمجھتے کہ ” باؤلی کا سانگ ” پہن کر دوسرے آپ کو معصوم خیال کرلیں گے۔ایسے بیانات کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور حقائق کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔

مولانا شیرانی آپ مسجد کے منبر کا ، مدرسے میں استاد کی مسند کا ، اسمبلی میں اپنی نشست کا اور اسلامی نظریاتی کونسل میں اپنی سربراہی کا انتہائی غلط استعمال کررہے ہیں۔آپ اس بات پہ پردہ ڈال رہے ہیں کہ ویکی لیکس نے جن امریکی سفارتی مراسلوں کو افشاء کیا ان سے یہ پتا چل گیا کہ امریکہ 30 سال پہلے سے ہی شام میں بعث پارٹی کی حکومت کو گرانے کی پالیسی بنا چکا تھا اور اس پالیسی کا ایک بڑا حصّہ یہ تھا کہ شام میں سنّی مسلمانوں کو شیعہ علوی ، کرسچن ، دیروزی شیعہ اور دیگر کے خلاف بھڑکایا جائے۔ایران کا خوف پیدا کیا جائے۔اور اسی مقصد کے لئے سعودی عرب،قطر وغیرہ کو وہابی آئیڈیالوجی پہ مبنی اداروں کے زریعے سے شام کو غیر مستحکم کرنے کا پلان بنایا گیا۔

 مولانا شیرانی سمیت دیوبندی مذہبی پیشوائیت پاکستان سمیت جہاں جہاں ان کا اثر و رسوخ ہے وہاں وہاں سعودی عرب کے مفادات کے لئے کام کررہی ہے۔اور یہ کام سعودی عرب کے زریعے سے فائدہ امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں کو پہنچاتا ہے۔دیوبندی مذہبی پیشوائیت نے ان سارے تکفیری انڈوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا کر رکھا ہوا ہے جو عالم اسلام میں شیعہ۔سنّی خانہ جنگی کرانے کے منصوبے پہ عمل پیرا ہیں۔اور دیوبندی مذہبی پیشوائیت کے پاس یہ ٹاسک ہے کہ وہابی نظریہ کو سنّی حنفی مسلمانوں کے اندر فروغ دیں تاکہ اہل متصوف حنفی سنّی مسلمانوں کے نوجوان سلفی عسکریت پسندی پہ عمل پیرا ہوکر سعودی مفادات کو اسلامی مفادات خیال کرلیں اور اس جنگ میں شریک ہوجائیں۔دیوبندی مذہبی پیشوائیت کا عالم اسلام یا مسلم دنیا کے اندر مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی جنگ اور فساد میں غیر جانبداری اور دردمندی کا دعوی سوائے ڈھونگ کے اور کچھ نہیں ہے۔اگر آپ سعودی عرب سے پیسہ لیتے ہیں، سعودی عرب کے حکمرانوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، ان کی جنگوں کے بارے مين حرف مذمت نہیں نکالتے تو مطلب بہت واضح ہے کہ آپ سعودی کمیپ میں کھڑے ہیں اور یہ بھی ذہن نشین رہے کہ سعودی کیمپ ہرگز جمہور سنّی مسلمانوں کا کیمپ ہرگز نہیں ہے۔وہابیت اسلام کا وہ برانڈ ہے جسے جمہور مسلمانوں نے ہمیشہ رد کیا ہے اور خود دیوبندی مذہبی پیشوائیت آل سعود کے حجاز پر تسلط سے پہلے تک وہابیت کو خارجیت کے مثل گردانتی رہی تھی لیکن پھر جب ترک ‏عثمانیوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا اور حجاز میں ایک وہابی حکومت برسراقتدار آئی تو ساری دیوبندی قیادت ابن سعود کے ہاتھ پہ بیعت ہوگئی اور ان پہ اچانک یہ انکشاف ہوا کہ کعبہ کی چابیاں آل سعود کو اللہ نے دی ہیں۔اب آل سعود کا وجود ان کو عالم اسلام کے لئے برکت کا باعث لگتا ہے۔کل تک جو خوارج کی مثل تھے، جس تحریک کا بانی خون خوار  یہاں تک کہ خبیث تھا وہ ایک دم سے سب سے بڑا توحید پرست ہوگیا ( شہاب ثاقب ، المہند سمیت درجنوں کتب دیوبندیہ میں وہابیت اور اس کے بانیوں کے خلاف فتوے اور نظریات موجود ہیں)۔

 

میں کیسا مسلمان ہوں بھائی

 

حسین حیدری ممبئی کے رہنے والے ہیں اور بدقسمتی سے ان کا جو خاندانی پس منظر ہے وہ شیعہ ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جو کسی شخص کی کہی ہوئی بات کو دارالعلوم دیوبند اور سعودی وہابی اینٹی کلچر کے غالب اثر کے سبب ویسے ہی مشکوک بنادینے کے لئے کافی ہوتی ہے۔لیکن ہندوستان کیوں کہ ایک بہت بڑا ملک ہے اور وہاں ابھی کسی کی بھی کہی ہوئی بات کو بہت سارے لوگ اس کے خاندان کے مذہبی پس منظر کو جانے بغیر اس کی قدر وقیمت کو مانتے ہیں تو ایسے میں اس نے ایک نظم کی باز گشت بہت سنی جارہی ہے۔ممبئی میں “کمیون” کے نام سے ایک پرفارمنگ آرٹ فورم ہے اور اس فورم پہ ایک پروگرام اپنی کہانی سناؤ کے نام سے ہے اور یہ کم از کم ممبئی کی اربن مڈل کلاس میں بہت مقبول پروگرام ہے اور اسی پروگرام میں حسین حیدری جب اپنی کہانی سنانے آئے تو انھوں نے ایک نظم سنائی:

ميں کیسا مسلمان ہوں بھائی

میں سجدہ کرنے والا ہوں یا جھٹکا کھانے والا ہوں

میں ٹوپی پہن کے رہتا ہوں یا داڑھی اڑاکے رہتا  ہوں

مجھ میں گیتا کا ساربھی ہے،ایک اردو کا اخبار بھی ہے

اپنے ہی طور سے جیتا ہوں،دارو،سگریٹ بھی پیتا ہوں

دنگوں میں بھڑکتا شعلہ میں کرتے پہ خون کا دھبا میں

مندر کی چوکھٹ میری ہے،مسجد کے قبلے مرے ہیں

گوردوارے کا دربار میرا یسوع کے گرجے میرے ہیں

سو میں سے میں چودہ ہوں لیکن یہ چودہ کم نہیں پڑتے ہیں

پورے سو مجھ میں بستے ہیں اور میں پورے سو میں بستا ہوں

مجھے ایک نظر سے دیکھ نہ تو میرے ایک نہیں سو چہرے ہیں

سو رنگ کے ہیں کردار میرے،سو قلم سے لکھی کہانی ہوں

میں جتنا مسلمان ہوں بھائی اتنا ہندوستانی ہوں

حسین حیدری کی یہ نظم فروری کے دوسرے ہفتے کمیون ممبئی فورم کے آفیشل فیس بک پیج پہ پوسٹ ہوئی اور ایک دن میں 2000 لوگوں نے اسے آگے شئیر کردیا۔ہندوستانی اخبارات میں یہ نظم شایع ہوئی اور پھر اس پہ بھانت بھانت کے تبصرے ہونے لگے۔ہندوستان کا مقبول انگریزی بلاک سکرول کے میگزین میں جیوتی پونمی نے ایک آرٹیکل لکھا جس میں حسین حیدری کے حوالے سے کہا گیا کہ اس کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ اس نے جو نظم جو طرف اس نے خود اپنے لئے کہی ہے اس پہ اسقدر شور کیوں مچا ہوا ہے؟ اور حسین حیدری یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نظم انھوں نے اپنے اوپر لکھی ہے اور یہ کوئی احتجاج میں لکھی گئی نظم نہیں ہے۔حسین حیدری ایک چارٹر اکاؤٹنٹ تھے اور انھوں نے دسمبر 2015ء میں نوکری چھوڑی اور کل وقتی گیت نگار اور سکرین رائٹر بن گئے۔حسین حیدری کچھ بھی کہیں لیکن اصل میں ان کی یہ نظم مسلمانوں کے بارے سٹیریو ٹائپ خیالات کے اظہار کے خلاف ایک احتجاج کی علامت بن گئی ہے۔ہندوستانی مسلمانوں کے ہاں بھارتیا جنتا پارٹی اور ہندؤ فاشزم کی جانب سے مسلمان کمیونٹی کو دہشت گرد، انتہا پسند، رجعت پرست اور پیورٹن بناکر پیش کرنے کے رجحان کے خلاف ردعمل پایا جاتا ہے۔وہ اس بات پہ بھی سیخ پا ہیں کہ ہندوستان میں وہابی ازم اور دیوبندی ازم کی جانب سے جو اسلامی خلافت اور اسلامی ریاست کا یوٹوپیا پیش کیا جاتا ہے اس کا پجاری ہر ایک مسلمان کو بناکر دکھایا جارہا ہے۔سبھی مسلمان ڈاکٹر زاکر نائیک اور دار العلوم دیوبند کے زیر اثر سامنے آنے والے چہروں یا انڈین مجاہدین یا کشمیری مجاہدین بناکر پیش کئے جانے کا رجحان ہے  اس کے خلاف ایک ردعمل ہندوستانی معاشرے کے اندر موجود ہے۔مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس طرح کی سٹیریو ٹائپ نظریہ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں  کے تکثیری چہروں کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں اور ان کو یہ نظم اپنے خیالات کی عکاس لگی ہے۔مجھے یہ نظم اس لئے بھی دلچسپ لگی کہ میں حال ہی میں پرویز ہودبھائی کی تحریر “کیا پاکستان بطور ایک تکثیریت پسند سماج کے باقی رہ سکتا ہے” پڑھ رہا تھا جس میں انھوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ” مابین المذاہب تکثیریت پسندی ” اور ” مابین الفرق الاسلام تکثریت پسندی” موجود مسلم تھیالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے عملی طور پہ ہر قسم کے معاشروں میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کیا ہے لیکن

Texually and formally

نہیں اور وہاں پہ زیادہ تر ابن تیمیہ، ابن عبدالوہاب، سید احمد بریلوی،شاہ اسماعیل،رشید احمد گنگوہی،سید مودودی،سید قطب،حسن البنّا اور سید روح اللہ خمینی جیسوں کی حکمرانی اور ان جیسوں کو ہی زیادہ قبول عام ملا ہے۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں ابھی حاجی علی کے مزار پہ خواتین کے داخلے کو منع کرنے کا معاملہ ہو یا خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی کے مزار پہ عورتوں کی حاضری کی ممانعت کا مسئلہ ہو اس پہ ہندوستان کی مذہبی پیشوایت نے متنی اور رسمی طور پہ کنزرویٹو پوزیشن کو ہی اپنایا ہے۔اور خود بریلوی ملائیت نے بھی اسی راستے کو اختیار کیا ہے اور ایک مجلس میں اور منہ سے تین بار طلاق کا لفظ نکالنے کا معاملہ ہو اس پہ بھی کوئی لچک دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔اور پاکستان کے اندر شیخ عثمان مروندی لال شہباز قلندر کے مزار پہ ہوئے خودکش بم دھماکے بعد بحث کا رخ “دھمال ” کے جائز ہونے نا ہونے کی طرف مڑگیا اور اس معاملے پہ بریلوی مذہبی قیادت نے بھی کم وبیش دیوبندی ملائیت اور سلفی ملائیت کے ساتھ کا موقف اختیار کرلیا اور اس حوالے سےپاکستانی مسلم اربن مڈل کلاس کی کئی ایک پرتوں نے بھی ملائیت کے ساتھ کا ہی موقف اپنایا۔اور یہ ایک طرح سے مذہبی فاشزم کی مکمل جیت کا سا منظر نامہ ہے۔مسلمانوں کو سٹیریو ٹائپ کرداروں میں دیکھنے اور دکھانے کا رجحان آئیڈیالوجیکل منظر نامے پہ اکثر متون میں تکثریت مخالف رائے کے غالب آجانے کے سبب بھی ہے اور بدقسمتی سے اس سبب کی طرف نگاہ کم ہی جاتی ہے۔پرویز ھودبھائی نے ٹھیک کہا ہے کہ پاکستانی سماج کے اندر تکثریت پسندی کے حامی جدید مسلم مفکرین کی فکر کو آج کی مین سٹریم مسلم فکر میں کوئی خاص جگہ نہیں مل سکی اور سید امیر علی،سرسید احمد خان،فضل الرحمان جیسے جدید مسلم مفکرین کی فکر آج کتابوں میں بند ہوکر شیلفوں میں کہیں دب کر رہ گئی ہے۔اکبّر بادشاہ کی صلح کلیت بھی ہمارے مرکزی دھارے کا حصّہ نہیں بن پائی اور آج ہمارے ملامتی صوفیاء جیسے بابا بلھّے شاہ تھے ان کے مزاروں پہ عورت کا داخلہ منع ہے جیسے آویزاں بورڈ ہمارا منہ چڑاتے ہیں۔اور غالب ڈسکورس اگر ہے تو وہ تبلیغی جماعت کے طارق جمیل، سپاہ صحابہ پاکستان کے لدھیانوی،جاوید احمد غامدی،جماعت اسلامی کے مودودی کا ہے یا پھر حافظ سعید کا ہے۔اور یہ مسلمانوں کے اپنے اندر کی تکثیریت اور تنوع کا بھی سب سے بڑا دشمن ثابت ہورہا ہے۔