پشتون تحفظ تحریک کا دورہ حقانیہ:کیا ہم پوسٹ طالبان دور میں آگئے ہیں؟-عامر حسینی

 

اگر تو دعوت حقانیہ کی انتظامیہ کی ہوتی یا افغان جہاد اور پاکستان کے اندر کی جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیموں کے سرگرم حمایتی عنصر کی جانب سے آئی ہوتی تو اعتراض، بے شک وزن رکھتا تھا۔

وڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں منظور پشتین اور علی وزیر کا استقبال ہی دارالعلوم حقانیہ کی انتظامیہ نے کیا ہے اور وہ سب سے پہلے ان کے پاس گئے ہیں۔تصاویر موجود ہیں کہ تقریب میں بھی سٹیج پہ حقانیہ کے انتظامی علماء موجود ہیں۔علی ارقم کہتے ہیں کہ ایسا نہیں تھا جبکہ ایسا ہی تھا تو اعتراض و تنقید میں وزن تو ثابت ہوگیا۔دروغ گو حافظہ ناباشد

 

 

آئیں پہلے کچھ سوالات اٹھاتے ہیں

کیا ہم پوسٹ طالبان دور میں پہنچ گئے ہیں؟

کیا تکفیری دیوبندی ریڈیکل ازم اپنے زوال کو پہنچا اور اس کی جگہ صوفی بریلوی ریڈیکل ازم نے لے لی ہے؟

کیا پاکستان کی ریاست فرقہ وارانہ شناخت کی تبدیلی سے گزر رہی ہے؟

کیا ریاست نے دیوبندی-سلفی عسکریت پسندی کی جگہ مبینہ بریلوی عسکریت پسندی کو دے دی ہے؟

کیا پاکستان میں بریلوی عسکریت پسندی موجود ہے تو وہ کہاں دہشت گردی میں ملوث ہوئی ہے؟

کیا مفروضہ بریلوی عسکریت پسندی نے پشتون سماج میں ابتک کسی جگہ دیوبندی،سلفی،شیعہ، احمدی، کرسچن کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے؟

 

29791618_889299414574815_1312412718552055808_n

احمد شاہ ابدالی کے درانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے لبرل ایکٹوسٹ اور کمرشل لبرل مافیا کے بارے میں معذرت خواہی رویہ رکھنے والے ایک دانشور صحافی نے  سجاگ کی نیوز ویب سائٹ ‘نکتہ نظر’ پہ پشتون تحفظ تحریک کی قیادت منظور پشتین اور علی وزیر کے جامعہ حقانیہ دورے پہ ایک مضمون لکھا ہے۔اس مضمون میں ان کی جانب سے کچھ انتہائی کمزور اور غلط پوزیشن لی گئی ہیں۔

 

30221692_889299821241441_1518614923066736640_n

سب سے پہلے وہ کہتے ہیں کہ پاکستان ‘پوسٹ طالبان’ دور میں داخل ہوگیا ہے۔سوال یہ جنم لیتا ہے کیا پاکستان واقعی پوسٹ طالبان دور میں داخل ہوگیا ہے؟علی ارقم پاکستان کے اس لبرل سرکل سے تعلق رکھتے ہیں جو ایک طرف تو نواز شریف اینڈ کمپنی کی موجودہ اقتدار بچاؤ مہم کو اینٹی اسٹبلشمنٹ تحریک قرار دیتا ہے تو دوسری جانب وہ پاکستان میں مذہبی بنیادوں پہ عسکریت پسند، جہادی و تکفیری نیٹ ورک کو مین سٹریم کرنے کے پروجیکٹ کو خالص ملٹری اسٹبلشمنٹ کا پروجیکٹ قرار دیتا ہے اور یہ ماننے سے انکار کرتا ہے کہ اسے مین سٹریم کرنے میں خود پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت اور قیادت بھی پوری شریک کار ہے۔

 

30127109_889299321241491_8556472063710199808_n

علی ارقم ہمارے سامنے ایک اور کہانی لیکر حاضر ہوگئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی ریاست کی فرقہ وارانہ شناحت کی تبدیلی کا عمل جاری ہے اور اس میں فتوے کا ہتھیار دیوبندیوں سے نکل کر صوفی بریلوی ریديکل فورسز کی طرف شفٹ ہوگیا ہے۔انہوں نے جو بات بین السطور کہی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کے اندر ‘تکفیریت کا نیٹ ورک’ اب بریلویت کے ہاں اور اس کی سرپرست ریاست ہے۔جبکہ تکفیری دیوبندی نیٹ ورک تو ریاست کے نشانے پہ ہے۔

 

دھرنا

یہ اتنا بڑا جھوٹ اور حقائق کو مسخ کیے جانے کا عمل ہے جس پہ میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ علی ارقم کے اندر چھپا متعصب دیوبندی باہر آگیا ہے۔

 

30221580_10156257388894561_7113977934620763485_n

علی ارقم کہتے ہیں کہ ہم پوسٹ طالبان/پوسٹ تکفیری دیوبندی دور میں ہیں اور تکفیری بریلوی دور میں سانس لے رہے ہیں۔تو کیا وہ بتاسکتے ہیں کہ 2018ء کے آغاز سے ہی ڈیرہ اسماعیل خان اور کوئٹہ کے اندر جو شیعہ سرائیکی اور شیعہ ہزارہ کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی ان کی اس ٹارگٹ کلنگ میں کیا صوفی سنّی بریلوی ملوث تھے؟ کوئٹہ میں حال ہی میں جن چار کرسچن کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا گیا کیا ان کے قتل میں بھی بریلوی ملوث تھے؟ کیا داعش کے نام سے پاکستان میں صوفی بریلوی دہشت گردی کررہے ہیں؟

 

images

حال ہی میں کراچی میں نیو رضویہ سوسائٹی میں ایک شیعہ بینکر کو قتل اور ایک دو سالہ بچے اور اس کے چچا کو زخمی کیا گیا کیا ان کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی صوفی بریلوی ملوث تھے؟

 

SSPAmir Ali

اس وقت اپریل کا چوتھا مہینہ چل ہے اگر پاکستان کی ریاست ‘فرقہ وارانہ شناخت کی تبدیلی’ کے عمل سے گزر کر صوفی بریلوی ریڈیکل ازم کے دور میں داخل ہوگئی ہے تو کیا علی ارقم ہمیں بتا سکتے ہیں کہ ان چار مہینوں میں پورے پاکستان میں جتنے حملے شیعہ، صوفی سنّی، اعتدال پسند دیوبندی، کرسچن ، شیعہ اور احمدیوں پہ ہوئے ان میں کسی ایک واقعے میں دہشت گردی کی ذمہ دار صوفی بریلوی تھے؟

 

28782917_10215731072287977_7051558505537154578_n

علی ارقم چالاکی اور علمی بددیانتی کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔وہ پاکستان میں تکفیری دیوبندی ہلاکت انگیز مشین اور اس کی نظریہ ساز فیکڑی کو ‘مظلوم’ اور ریاست کے اس ہلاکت انگیز مشین اور نظریہ ساز فیکڑیوں کے خلاف ‘نیم دلانہ’ آپریشن کو صرف اور صرف منظور پشتین اور علی وزیر کے دورہ حقانیہ کو درست ثابت کرنے کے لیے ‘ مکمل طور پہ کامیاب’ اور ‘طالبان ازم/ تکفیری دیوبندی ریڈیکل ازم’ کے مکمل طور پہ ‘ختم ‘ ہوجانے کو ثابت کرنے پہ تلے ہیں۔جبکہ علی ارقم سمیت ان کے حلقے سے تعلق رکھنے والے لبرل یہ کہتے آئے ہیں کہ پاکستانی ریاست نے نہ تو ‘جہادیوں/تکفیریوں’ کے خلاف آپریشن ٹھیک طرح سے کیے اور نہ ہی نیشنل ایکشن پلان ٹھیک طرح سے نافذ کیا۔

 

3-24

مگر آج علی ارقم ہمیں بتارہے ہیں کہ ریاست کا سپاہ صحابہ ، تحریک طالبان پاکستان اور تکفیری دیوبندیوں کے خلاف آپریشن اور کاروائی انتہائی کامیاب رہی ہے اور اب سپاہ صحابہ اور طالبان تو ‘بیچارے’ اپنے خلاف ریاستی جبر پہ بولنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔کیا ہم علی ارقم اور ان کے دیگر ساتھی جو ‘پوسٹ طالبان و پوسٹ تکفیری دیوبندی دور’ کی اصطلاح استعمال کرکے ‘ صوفی بریلوی تکفیری ریڈیکل دور’ کی دہائی دتے ہیں یہ سوال کرسکتے ہیں کہ بھیا اگر ریاست نے طالبان ازم کا خاتمہ کردیا ہے تو پھر پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں میں ‘ یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے’ کے نعرے کیوں لگتے ہیں؟ اور پشتون تحفظ مومومنٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں جن ‘سرکاری طالبان دفاتر’ کو آگ لگانے کی خبر دی تھی وہ کیا تھے؟ کیا پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ نے ‘سپاہ صحابہ پاکستان/لشکر جھنگوی’ کے بلوچستان میں بنائے جانے والے ڈیتھ اسکواڈ سے ہاتھ اٹھالیا ہے؟ اور پاکستان کا انگریزی پریس کا لبرل سیکشن حافظ سعید اور اس کی ملی مسلم لیگ بارے جو شور مچاتا رہا ہے وہ کیا تھا؟ کیا سپاہ صحابہ پاکستان/ اہلسنت والجماعت نے اینٹی شیعہ تکفیری تحریک اور مہم بند کردی ہے؟ کیا جامعہ حقانیہ ، لال مسجد ، دارالعلوم بنوریہ، جامعہ فاروقیہ سمیت تکفیریت اور جہاد ازم پھیلانے والے مدارس توبہ تائب ہوگئے ہیں؟

 

close-aide-of-prime-minister-meets-proscribed-takfiri-aswj-s-ludhianvi13959_L

علی ارقم سمیت درجنوں لبرل پشتون دانشور تکفیری دیوبندی ازم کی جانب اپنے معذرت خواہانہ رویے کو چھپانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی بددیانتی تو یہ ہے کہ بریلوی مکتب فکر کے مذہبی انتہا پسند ٹولے تحریک لبیک یارسول اللہ /خادم رضوی گروپ کو جن کی تنظیم ابتک پورے پاکستان میں کسی ایک دہشت گردی کے واقعے میں ملوث نہیں پائی گئی اور نہ ہی ابتک اس تنظیم کے لوگ کسی دوسری مذہبی کمیونٹی کی عبادت گاہ، کالونی، جلسہ، عبادتی پروگرام یا تہوار وغیرہ پہ حملے میں ملوث ہے کو زبردستی تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی ، داعش، القاعدہ جیسی تنظیموں کے سرپرستوں کی جگہ لینے والا نیٹ ورک ٹھہرا رہی ہے۔علی ارقم دارالعلوم حقانیہ اور لال مسجد جیسوں کی جگہ جب خادم رضوی گروپ کو دیتے ہیں تو کیا وہ بہت بڑا جھوٹ نہیں بول رہے ہوتے؟ کیا وہ شیعہ نسل کشی، کرسچن، احمدی، ہندؤ، صوفی سنّی اور اعتدال پسندی دیوبندیوں پہ حملہ کرنے والی اصل قوت تکفیری دیوبندیت شناخت کو چھپانے کے مرتکب نہیں ٹھہرجاتے؟

میں یہاں علی ارقم کے مضمون کے دو پیراگراف اپنے پڑھنے والوں کے لیے شئیر کررہا ہوں۔پہلا پیرا گراف

False binary

پہ مشتمل ہے اور پاکستان کی ریاست کی فرقہ وارانہ شناخت کی تبدیلی کی بات کرتا ہے جو قطعی غلط ہے۔پاکستانی ریاست کے اداروں جن میں مقننہ اور انتظامیہ اور عدلیہ تینوں شامل ہیں بلکہ غیر سرکاری چوتھا ستون مین سٹریم میڈیا بھی شامل ہے اس کا جہاد ازم، تکفیر ازم، دیوبندی-سلفی عسکریت پسندی کو بطور پراکسی استعمال کرنے اور اس کی طرف دوستانہ جھکاؤ رکھنے کا رویہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔پاکستان کے اندر ریاستی اداروں میں بیٹھی تزویراتی گہرائی اور ڈیپ سٹیٹ پالیسی کی حامی لابی اور قوتوں نے دیوبندی عسکریت پسندی کو بڑے موثر ہتھیار کے طور پہ استعمال کرنے کی روش میں تبدیلی نہیں کی ہے۔ہاں ان کا پاکستان کے اندر فرقہ پرست کاروائیوں میں ملوث گروپوں کی جانب نیم دلی والا رویہ ضرور ہے۔اگر پاکستان کی ریاست فرقہ وارانہ شناخت کی تبدیلی سے گزر رہی ہوتی تو ‘احسان اللہ احسان’ قوم کا بیٹا بنکر پشتونوں کے سینے پہ دال نہ پیس رہا ہوتا۔

دوسرا پیراگراف صاف صاف طالبان، شیعہ و صوفی سنّی نسل کشی اور کرسچن و احمدیوں پہ حملوں میں ملوث سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کے عسکری ونگ لشکر جھنگوی جو اب داعش کے نام سے سرگرم ہے کو ‘مظلوم، بیچارے’ بناکر پیش کرنے کی کوشش ہے۔اور یہ سب علی ارقم نے منظور پشتین اور علی وزیر کے دورہ حقانیہ کو درست ثابت کرنے کے لیے کیا ہے۔وہ دور کی کوڑی لاتے لاتے خود بری طرح سے بے نقاب ہوگئے ہیں۔

 

متعلقہ پیرا گراف

ویسے بھی پاکستان کی ریاست فرقہ ورانہ شناخت کی تبدیلی کے جس عمل سے گزر رہی ہے اس میں فتوے کا ہتھیار دیوبندیوں کے ہاتھ سے نکل کر صوفی بریلوی ریڈیکل فورسز یعنی خادم رضوی اینڈ کمپنی کی طرف شفٹ ہوگیا ہے اور اس نے گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا کی درگاہ کو مورچہ بنایا ہے کسی مدرسے کو نہیں۔

 

ہ گئی طالبان کی حمایتی مذہبی و فرقہ وارانہ تنظیمیں، وہ تو اپنے کارکنوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں اور مسنگ پرسنز کا نام بھی زبان پر نہیں لاسکتیں۔سپاہ صحابہ (اہلسنت والجماعت) سے پوچھ لیں یا جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سابق وزیر مولانا فضل علی حقانی سے پوچھ لیں جو جبری طور پر گمشدہ اپنے ذاتی محافظ کا نام زبان پر لانے کے روا دار نہیں۔

 

 

 

http://nuktanazar.sujag.org/manzoor-pashteen-haqqania-post-taliban-era

 

 

Advertisements

استاد سبط جعفر:جس کا مولا تھا میں اس کا مولا علی

 

 

آج اٹھارہ مارچ 2018ء ہے۔اور آج سے پانچ سال پہلے اسی دن پروفیسر سبط جعفر پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج لیاقت آباد(لالو کھیت) کراچی اپنی موٹر سائیکل پہ گھر واپس لوٹ رہے تھے کہ ایک سپیڈ بریکر ان کی بائیک جیسے ہی آہستہ ہوئی تو موٹر سائیکل پہ سوار دو افراد نے ان پہ نائن ایم ایم پسٹل سے فائر کھول دیا۔ان کو متعدد گولیاں ماری گئی تھیں اور وہ موقعہ پہ ہی شہید ہوگئے۔اپریل 2013ء میں ان کے دو قاتل گرفتار کرلیے گئے۔اس وقت کے ایس ایس پی فیاض احمد نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ پروفیسر سبط جعفر کا قتل سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت کے کارکن شیخ محمد اطہر عرف خالد اور محمد شاہد عرف چورن نے کیا۔یہ دونوں سپاہ صحابہ پاکستان کے رکن تھے اور ساتھ ہی لشکر جھنگوی کے بخاری گروپ کا حصّہ تھے جس کا الحاق تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔

پروفیسر سبط جعفر،استاد سبط جعفر کے نام سے مشہور تھے۔وہ کراچی کے تعلیمی، سماجی فلاحی اور ادبی حلقوں میں بہت عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ان کے شاعری اور تعلیم کے میدان میں سینکڑوں شاگرد تھے۔کئی ادبی و سماجی تنظیموں کے قیام میں انھوں نے اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔انتہائی درویش صفت آدمی تھے۔برسوں سے لوگ ان کو ایک موٹر سائیکل پہ سوار پورے شہر میں ایک کونے سے دوسرے کونے میں آتے جاتے دیکھتے تھے۔ ان کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ آپ جب بھی ان کو مدد کے لیے پکاریں گے استاد موٹربائيک پہ آپ کے پاس حاضر ہوجائیں گے۔اور اس معاملے میں وہ رنگ،نسل،ذات پات،فرقہ،برادری کسی چیز کی پرواہ نہیں کریں گے۔ان کے قتل نے کراچی میں بسنے والے ہر شخص کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

یہاں پہ سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اتنا ہر دل عزیز اور درویش صفت آدمی کو کیوں مارا گیا؟ان کو مار کر کن مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس سے معاملہ کرتے ہوئے پاکستان کا مین سٹریم میڈیا ابہام پرستی،جواز مائل یا بعض  اوقات ذمہ داران کی شناخت سے نفی کی جانب چلا جاتا ہے۔

پاکستان کے قیام سے قریب قریب 14 سال پہلے 1929 کے آخر اور 1930 کے آغاز میں لکھنؤ میں دارالعلوم دیوبند سے تعلق رکھنے والے مولوی عبدالشکور لکھنؤی،لاہور سے تعلق رکھنے والے احراری دیوبندی مولوی اظہر علی نے آل انڈیا مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کے خلاف اچانک سے مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے تکفیری مہم شروع کی۔اور ایسے شواہد موجود ہیں کہ دیوبندی سخت گیر مولویوں کی اس تکفیری مہم کے پیچھے آل انڈیا کانگریس میں موجود مہا سبھائی عناصر تھے جنھوں نے ان مولویوں کو کافی پیسہ فراہم کیا۔

حال ہی میں آکسفورڈ پریس پاکستان سے  چھپنے والی کتاب’ جمال میاں-دی لائف آف مولانا جمال الدین عبدالوہاب فرنگی محلی بھی ہمیں اس مسئلے پہ کافی روشنی ڈالتی محسوس ہوتی ہے کہ کیوں دیوبندی علماء کے کانگریس نواز  دھڑے جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار اسلام کی قیادت نے تکفیری مہم کا آغاز کیا۔

اس کتاب کے مصنف فرانسس رابنسن نے بہت عرق ریزی سے تحقیق کرکے دارالعلوم فرنگی محل کے مولانا عبدالباری فرنگی محلی ،ان کے بیٹے مولانا جمال الدین عبدالوہاب فرنگی محلی کا خلافت کمیٹی میں جمعیت علماء ہند کی دیوبندی قیادت اور بعد میں بننے والے مجلس احرار کے ابن سعود کی طرف جھکاؤ اور صوفی سنّی مسلمانوں کو دھوکا دینے کی تفصیل مہیا کی ہے۔اور بتایا ہے کہ اس کے بعد دارالعلوم فرنگی محل کا جھکاؤ آل انڈیا مسلم ليگ کی طرف ہوگیا۔اور مولانا عبدالباری فرنگی محل کے بیٹے مولانا جمال الدین فرنگی محلی نے لکھنؤ کے راجہ آف محمود آباد، ممبئی پریذیڈنسی کے اصفہانی برادران کے ساتھ ملکر خاص طور پہ یوپی،سی پی ، بنگال اور ممبئی پریذیڈنسی میں کانگریس نواز دیوبندی دھڑے کے  مولویوں کا اثر توڑنے کے لیے بھرپور مہم چلائی۔

دارالعلوم فرنگی محل اور راجا آف محمود آباد کے درمیان باہمی تعلقات کی ایک علامتی اہمیت یہ تھی کہ یہ صوفی سنّی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان مثالی ہم آہنگی کا سبب بن رہی تھی۔یو پی،سی پی،بنگال،اور ممبئی کے اندر آل انڈیا مسلم لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے کانگریس کو بوکھلادیا تھا اور جو سرمایہ دار اور زمین دار جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار کو سرمایہ فراہم کرتے تھے ان کا دباؤ بھی مولویوں پہ بڑھ گیا۔

قائد اعظم محمد علی جناح،راجا آف محمود آباد،خان لیاقت علی خان،خواجہ ناظم الدین ؛ایم ایچ اصفہانی اور دیگر صف اول کے لیگی قائدین یا تو شیعہ تھے یا صوفی سنّی تھے۔ان کو نیچا دکھانے کے لیے احرار اور جمعیت علمائے ہند کے مولویوں نے اینٹی شیعہ اور اینٹی صوفی سنّی بیانیہ اختیار کیا۔اور ان کی پوری کوشش تھی کہ مسلمانوں کے درمیان شیعہ-سنّی منافرت کی آگ بھڑکادی جائے اور اس طرح سے آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاست کو بھی غیر موثر بنادیا جائے۔

اس مہم کے پیچھے خود بنیے ساہوکاروں اور بزنس برادری کا بھی مفاد وابستہ تھا۔اصفہانی برادران،سیٹھ حبیب، آدم جی اور ایسے ہی کچھ اور مسلم سرمایہ دار کمیونٹی خاص طور پہ ممبئ اور کلکتہ کے اندر سے اپنے بزنس کو دیگر علاقوں میں پھیلانے کی کوشش کررہے تھے۔اصفہانی اور آدم جی کا کاروبار مڈل ایسٹ،افریقہ کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے شہروں میں پھیل رہا تھا اور اس میں ان کا مقابلہ ہندؤ مرکنٹائل بزنس کمیونٹی سے تھا۔اور اس وقت کی ہندوستانی سوسائٹی میں فرقہ پرست تحریکوں کے پیچھے اس تضاد کا بھی بڑا دخل تھا۔اور جمال الدین فرنگی محلی کو بھی اصفہانی برادران نے تجارت میں گھسیٹ لیا تھا،اس بارے میں جمال الدین نے بتایا،

‘Jinaah had asked Mirza Ahmed(Isphani)to help Jamal Mian. He said,according to Mirza  Ahmed: ‘The Maulwis and Ulemaof Jamiatul Ulama are accusing me a lot of problems…. But I have met one young Maulwi who is equalto all of them and he is great orator.I went to him to stand   on his feet so he does not have any financial problems.’

Jamal Mian,P126,Oxford Press Pakistan

جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار اسلام جن کو کانگریس پورے ہندوستان کے مسلمانوں کا ترجمان بناکر پیش کرتی تھی اور آل انڈیا مسلم لیگ کو وہ ایک فرقہ پرست جماعت بناکر دکھاتی اور اس نے اپنے حامی کانگریسی ملّاؤں کی صوفی سنّی ، شیعہ اور احمدیوں کے خلاف سرگرمیوں سے آنکھیں بند کررکھی تھیں،جیسے اس نے ہندؤ مہا سبھائیوں کی سرگرمیوں پہ آنکھیں بند کی ہوئی تھیں۔حقیقت میں کانگریس مسلمانوں کے درمیان بدترین فرقہ پرستی کا کارڈ دیوبندی انتہا پسند مولویوں کے سہارے کھیل رہی تھی۔اور اس کھیل کی یوپی کے اندر سب سے بڑی مزاحمت دارالعلوم فرنگی محل کے فرزند ارجمند مولانا جمال میاں اور راجا آف محمود آباد کی طرف سے کی جارہی تھی۔یہ حقیقت ہے کہ صوفی سنّی اور شیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت کانگریسی ملّاؤں کی سازش کا ادراک کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی۔اور تو اور خود دیوبندی علماء میں مولوی اشرف علی تھانوی کی قیادت میں بھی ایک گروپ دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء ہند کی سیاست کو پہچان گیا تھا اور ان سے الگ ہوگیا تھا۔راجا آف محمود آباد کا مولانا جمال الدین فرنگی محلی سے کیا تعلق تھا،اس سے پہلے آپ راجا آف محمود آباد کے بارے میں تھوڑا سا جان لیں۔

The Raja Mahummad Amir Ahmad Khan of Mahmudabad was arguably an even closer friend of Jamal Mian Than Dr Faridi.The two were distantly related. But the Raja,as the largest Musim landholder in the UP,lived a different life with differen responsibilities. Neverthless, they shared a love of Urdu and Persian poetry(the Raja’s Takhullus was ‘Mahboob’..) They were both particularly devout. This said,that Raja was a Shia, indeed a prominent supporter of a Shia missionary college, the Madrasat-ul-Waizeen and Jamal Mian was a devout Sunni seemed to make no difference to their personal coloseness.

Jamal Mian..P140-41 Oxford Press Pakistan

ایک خط میں راجا آف محمود آباد جمال میاں کو لکھتے ہیں

Maulvi Hazrat Hujjatul Islam,Faqih ul Mominin, Moin ul Millet, Qari o Hafiz ul Quran, Maulvi, Allama Jamaluddin Abdul Wahab Saheb, Sullamahu, I give my respect to your letter,affection,truthfulness and wisdom…the eye of effection which you have bestowed on this poor,wretch faqir,Amir.

We got the lawyer,sought an omen(Istakhara)and turned this lawyer into Quaid-i-Azam.”

انیس سو چالیس کے ایک خط میں انہوں نے لکھا

“Sarkar Maulana I wish you Slaams. The Mullah runs to Masjid and I run to you.”

تو ہندوستان کے سب سے اہم اور بڑے صوبے کے دو بڑے مسالک سنّی اور شیعہ کے دو انتہائی اہم اور بڑے اثر کے حامل سیاست دانوں کے درمیان اس ہم آہنگی نے واقعی آل انڈیا کانگریس اور اس کے اتحادی مولویوں کو گڑبڑا دیا تھا۔کانگریسی دیوبندی مولویوں نے اس کا توڑ اینٹی شیعہ اور اینٹی صوفی سنّی پروپیگنڈے سے کیا اور شیعہ اور صوفی سنّی اسلام دونوں کے خلاف کفر،شرک اور بدعت کا ہتھیار استعمال  کرنا شروع کردیا۔

پاکستان کی تشکیل ان مولویوں کے لیے بہت بڑی ہزیمت اور شکست کا باعث تھی اور انھوں نے اس کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان کے اندر اپنے فرقہ پرستانہ ڈسکورس کو پھیلانا بند نہ کیا۔اور یہ قائد اعظم محمد علی جناح، خان لیاقت علی خان،جمال میاں،راجا آف محمود آباد سمیت کئ صف اول کے سیاست دانوں کی شیعہ اور صوفی سنّی شناخت کو کبھی فراموش نہیں کرسکے۔اور دارالعلوم دیوبند کے اندر سے اٹھنے والے تکفیری فتنے نے اپنے آپ کو منظم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

اسّی کی دہائی میں دارالعلوم دیوبند کے تکفیری فاشسٹ منظم نیٹ ورک کو آل سعود کی ایرانیوں سے لڑائی،سی آئی فنڈڈ افغان جہاد اور جنرل ضیاء الحق کی آمریت نے مزید پھیلنے اور اپنی عسکریت پسند مشین کو اور ہلاکت انگیز بنانے کا موقعہ فراہم کردیا۔انجمن سپاہ صحابہ پاکستان کی شکل میں اس تحریک کو پھر سے زندہ کیا گیا جو مجلس احرار اور جمعیت علماء ہند کے مولویوں نے یوپی اور پنجاب میں شیعہ اور صوفی سنيوں کے خلاف شروع کی تھی۔

اس تکفیری مہم کا سب سے بڑا ہدف محرم اور میلاد،عرس و میلوں کی ثقافت تھی۔اور اس ثقافت کے جتنے بھی پروان چڑھانے والے تھے وہ اس تکفیری فسطائی تحریک کے دشمن ٹھہرگئے۔اور ان کے خلاف بدترین پروپیگنڈا مشین متحرک ہوئی اور ساتھ ساتھ پاکستان میں صلح کلیت اور سب کے ساتھ امن کا پرچار کرنے اور آل بیت اطہار سے محبت اور وابستگی کا اظہار کرنے والے شاعر،دانشور،ادیب ان کے پروپیگنڈے،سعودی فنڈنگ،ضیاء الحقی اسٹبلشمنٹ کی مدد سے تیار ہونے والے عسکریتی دہشت گرد نیٹ ورک کا سب سے بڑا ہدف قرار پائے۔

سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت دیوبند کے اندر سب سے بڑا منظم تکفیری فاشسٹ تنظیمی نیٹ ورک ہے جس کی سرپرستی میں تکفیری عسکریت پسند ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔اس کا سب سے بڑا مقصد شیعہ اور سنّی مسالک کے درمیان نفرت،دشمنی اور لڑائی کو پروان چڑھانا ہے اور یہ صوفی اسلام سے بھی اسی لیے نفرت کرتے ہیں کہ وہ ان کی منافرت پہ مبنی تحریک کو مدد فراہم نہیں کرتے اور پاکستان میں شیعہ سنّی جنگ کا میدان سجانا نہیں چاہتے۔

استاد سبط جعفر اپنی شاعری اور تعلیمی میدان میں خدمات کے زریعے سے شیعہ اور سنّی مسلمانوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے میں لگے ہوئے تھے۔وہ محرم کی ثقافت کے مشترکہ ہونے پہ اصرار کرتے اور میلاد و عرس و میلوں کو بھی اپنی ثقافت قرار دیتے تھے۔سپاہ صحابہ کی تکفیریت کا مشن اس سے متاثر ہورہا تھا۔انہوں نے ایک دن استاد سبط جعفر کے فن کے سبب ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے معروف صوفی سنّی قوال امجد صابری کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔امجد صابری کے قاتلوں نے خود اعتراف کیا کہ ان کو امجد صابری کے شیعہ اور سنّی مخلوط اجتماعات میں آنے جانے پہ سخت تکلیف تھی۔

تکفیری فاشزم کا نصب العین یہ ہے کہ جو آدمی بھی شیعہ-سنّی مشترکات پہ زور دے اور ان کے درمیان ہم آہنگی اور میل جول پہ اصرار کرے اس کو کافر،مرتد، گستاخ اور بے دین کہہ کر قتل کردو۔

استاد سبط جعفر، امجد علی صابری، پروفیسر ڈاکٹر حیدر علی سمیت سینکڑوں نامور لوگ صلح کلیت اور شیعہ-سنّی ہم آہنگی کے پرچارک ہونے کی وجہ سے قتل ہوگئے۔اور قاتل ایک ہی ذہنیت تھی جسے ہم تکفیری دیوبندی ذہنیت کہتے ہیں۔اور اس بات پہ تکفیریوں کو تو مرچیں لگتی ہی ہیں ساتھ ساتھ نام نہاد لبرل،ترقی پسند اور کئی ایک لیفٹ کا ماسک چڑھائے لوگوں کے منہ بھی بگڑ جاتے ہیں۔لیکن سچ بات کہنے سے ہمیں کون روک سکتا ہے۔

استاد سبط جعفر کے قتل سے شیعہ-سنّی يکانگت میں اور اضافہ ہوا ہے۔اور تکفیری فاشزم اور بے نقاب ہوا ہے۔جس طرح پوری دنیا میں تکفیری فاشزم کی علمبردار جماعتوں اور دہشت گردوں کو منہ کی کھانی پڑ رہی ہے پاکستان میں بھی ان کی شکست نوشتہ دیوار ہے۔استاد سبط جعفر اور امجد علی صابری جیسوں کا خون ناحق رائیگاں نہیں جائے گا۔

 

پشتون تحفظ تحریک اور بہار پشتون

 

 

پشتون تحفظ موومنٹ-پی ٹی ایم کے نام سے اس وقت خیبرپختون خوا اور فاٹا کے پشتون بولنے والی نوجوانوں کی ایک سماجی تحریک سامنے آئی ہے۔پی ٹی ایم کا چہرہ اس وقت منظور پشتین نام کا ایک نوجوان ہے،جس کے خیالات کو کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے انگریزی پریس اور غیر ملکی نشریاتی اداروں خاص طور پہ یورپ اور امریکی زرایع ابلاغ میں کافی کوریج مل رہی ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے تین مطالبات بہت ہی برمحل ہیں۔ ماورائے عدالت قتل پہ جوڈیشل کمیشن کا قیام، راؤ انوار کی برآمدگی،اور لاپتا افراد کو برآمدگی  ہونی چاہئیے ۔

لیکن پی ٹی ایم کو سوشل میڈیا پہ کچھ قوتیں ایک اور رنگ سے پیش کررہی ہیں۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پہ لبرل پرتیں خاص طور پہ وہ جن کے خیال میں مذہبی دہشت گردی کا جہادی و تکفیری نیٹ ورک پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیز کی پراکسیز کے سوا کچھ بھی نہیں ہے،ان کی جانب سے بھی پشتون تحفظ موومنٹ کو بہت زیادہ سپورٹ مل رہی ہے۔

ان کی جانب سے بھی پاکستان میں جہاد ازم، عسکریت پسندی اور اس کے ساتھ جڑی بڑے پیمانے پہ دہشت گردی کا سب سے بڑا اور واحد ذمہ دار پاکستان کی فوج بلکہ وردی کو ٹھہرایا جارہا ہے۔

پاکستان میں لبرل لیفٹ کی ترجمان پاکستان عوامی پارٹی جس کا آج کل واضح جھکاؤ پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب ہے،وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے بیانیہ کو پوری طاقت سے سپورٹ کررہی ہے۔

بی بی سی،وائس آف امریکہ، ریڈیو ڈویچے، وآئس آف جرمنی،نیویارک ٹائمز،واشنگٹن پوسٹ جیسے بڑے غیر ملکی انٹرنیشنل لبرل پریس اسٹبلشمنٹ اور ‘دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ’ کے حامی صحافی اور این جی او تھنکرز بھی پی ٹی ایم کی جانب بہت بڑا جھکاؤ رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستانی لبرل،لبرل لیفٹ اور انٹرنیشنل لبرل پریس و سول سوسائٹی کا ایک بڑا حصّہ پی ٹی ایم اور منظور پشتین میں اسقدر دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ اور ان کو اپنے بڑے پیمانے پہ کوریج کیوں مل رہی ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ پہ بڑے اہمیت کے حامل ہیں۔

یہ لبرل و لبرل لیفٹ لابیاں اکثر وہ ہیں جنھوں نے امریکہ کے افغانستان اور عراق پہ حملوں کی یا تو حمایت کی تھی یا اس کی مخالفت کرنے سے سرے سے انکار کردیا تھا۔پاکستان میں لبرل نے دہشت گردی کے خلاف امریکی سامراجی اور اس کی اتحادی ممالک کی جنگی اور فوجی مداخلت کی پالیسیوں کو سپورٹ کیا۔اور ان میں سے اکثر امریکی جنگ کے حامی بنکر سامنے آئے۔افغانستان پہ عوامی نیشنل پارٹی-اے این پی ، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی، پشتون سول سوسائٹی کے بڑے بڑے نام افغانستان پہ امریکی جنگ کے حامی بنے اور انھوں نے امریکی جنگ کی مخالفت میں کچھ بھی نہیں کہا۔بلکہ جب آمریت کا دور ختم ہوا تو انھوں نے سوات طرز کے فوجی آپریشن کی حمایت کی۔اس لبرل لابی کی جانب سے بار بار یہ مطالبہ سامنے آتا رہا کہ وزیرستان سمیت پورے فاٹا اور خیبرپختون خوا میں پھیلتی طالبانائزیشن،جہاد ازم اور عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔شمالی وزیرستان،جنوبی وزیرستان، خیبر ایجنسی، اورکزئی ایجنسی،مالاکنڈ سوات،کوہستان سب جگہ ہونے والے فوج آپریشنوں کو پاکستانی لبرل نے کھلی سپورٹ فراہم کی۔

پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں بشمول مذہبی پارلیمانی جماعتوں ، پاکستان کا جملہ لبرل و قدامت پرست پریس چند ایک کو چھوڑ کر آپریشن ضرب عضب،آپریشن ردالفساد، نیشنل ایکشن پلان،پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس، فوجی عدالتوں کے قیام،رینجرز کی پنجاب سمیت سب صوبوں میں دائرہ کار بڑھانے کی سپورٹ کرتا رہا۔

پاکستان میں اکثر وبیشتر وہ لبرل جو پشتون تحفظ موومنٹ کو ‘بہار پشتون’ قرار دے رہے ہیں،پشتون تحفظ موومنٹ کے پشتون علاقوں میں حقوق  فراہم  کرنے کے مطالبات کی سپورٹ کررہے ہیں وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے  چہرے پہ  اپنے سب سے بڑے بیانیہ ‘یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی’ اور ‘دہشت گردی کے پیچھے پاکستانی فوج ہے’   چسپاں کررہے ہیں یا پشتون تحفظ موومنٹ کے بہت سارے مطالبات کو اس ایک مطالبے کے پردے میں لپیٹ رہے ہیں۔

منظور پشتین سے بی بی سی اردو کے خدائے نور نے انٹرویو کیا۔اس انٹرویو کو پاکستانی سوشل میڈیا پہ بھی بہت پروموٹ کیا جارہا ہے۔اس انٹرویو میں بی بی سی کا نمائندہ منظور پشتین سے پوچھتا ہے کہ وزیرستان میں نیک محمد سے لیکر بیت اللہ محسود تک جو نوجوان شدت پسندی (حالانکہ تحریک طالبان پاکستان کی گوریلا، خودکش، ڈیوائس کنٹرول بم دھماکہ اور بارودی سرنگیں بچھائے جانے  اور لوگوں کے سروں سے فٹبال کھیلنے اور 80 ہزار پاکستانیوں کی جانیں لینے کے مجموعی پروس اور اس میں شامل شیعہ نسل کشی، صوفی سنّی مسلمانوں کی ہلاکتیں ،کلیساؤں پہ حملے یہ سب کے سب محض شدت پسندی نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی تھی جو ابتک جاری و ساری ہے۔)اس کی وجہ کیا ہے؟تو منظور پشتین اس کے جواب میں بالکل وہی یک رخی جواب کے ساتھ سامنے آتا ہے جو اس ملک میں لبرل لابی کا ہمیشہ سے رہا ہے۔اس کے خیال میں پورے خیبرپختون خوا اور فاٹا کے اندر جہاد ازم،عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی پرداخت کی ذمہ دار پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں۔وہ 80ء دہائی میں پاکستان-امریکہ-سعودی عرب اور دیگر مغربی سرمایہ دار بلاک کے رکن ممالک کے باہمی گٹھ جوڑ،پاکستان کی سلفی،دیوبندی وہابی مذہبی قیادت کی موقعہ پرستی سے ملکر کھڑی ہونے والی جہادی سلطنت اور نیٹ ورک کا سارا الزام صرف اور صرف جرنیلوں اور انٹیلی جنس افسران پہ دھرتے آئے۔امریکی حکومتوں، سی آئی اے، سعودی عرب سمیت مڈل ایسٹ کی فنڈنگ کے عوامل کو وہ بالکل نظر انداز کرتے ہیں۔وہ مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی دہشت گردی اور اس کے دیوبندی عسکریت پسندی اور اس کے پیچھے کارفرما عالمی جہادی نیٹ ورک اور اس کی مقامی سرپرست لابیوں میں صرف اور صرف فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو (ان میں بھی ان کے اندر موجود ضیاء الحقی باقیات کو نہیں بلکہ ساری فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ) سنگل آؤٹ کرکے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

   اے این پی ،پشتون خوا ملی عوامی پارٹی سمیت پشتون قوم پرستوں کی اکثریت جن کا تعلق پشتونوں کی ابھرتی ہوئی مڈل کلاس سے ہے  پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ساری خرابی کا ذمہ ٹھہرانا چاہتے ہیں اور اس سارے عمل میں ان سے یہ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ نائن الیون کے بعد تو پاکستان کی کیا پنجابی،کیا سندھی، کیا بلوچ،کیا پشتون لبرل مڈل کلاس چاہے اس کا تعلق قوم پرست سیکولر جماعتوں سے تھا یا وہ صحافت یا این جی اوز میں لبرل سیکولر سوچ کے علمبردار کہلاتے ہوں امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حامی تھی۔یہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ اتحاد کی بھی بالکل مخالف نہیں تھی۔بلکہ یہ سول سوسائٹی اور لبرل دماغ ہمیں اب سرد جنگ کے زمانے سے شروع ہونے والے جہاد ازم،مذہبی دہشت گردی کے خاتمے کی نوید سنارہے تھے۔پاکستان کے لبرل کے درمیان اگر کسی معاملے میں اختلاف اگر تھا تو وہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ سے نہیں بلکہ اسے لیڈ کون کرے گا؟ پہ تھا۔پاکستان کی لبرل پرتوں کا ایک حصّہ چاہتا تھا یہ جنگ امریکی پرچم  تلے پاکستانی جمہوری چہرے لڑیں۔

اب بھی اس لبرل کیمپ کا خیال یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ افغانستان کے اندر مطلوبہ نتائج نہ پاسکا اور وہ افغانستان کو جاپان یا مغربی جرمنی نہیں بناسکا تو اس کی ذمہ داری پاکستانی ریاست کے جرنیل اور انٹیلی جنس افسران ہی ہیں۔جبکہ اس معاملے میں علاقائی طاقتوں اور سب سے بڑھ کر امریکہ بہادر اور سعودی عرب کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور اس ناکامی میں کروڑوں ڈالر بٹورنے والی مغربی سرمایہ دار نواز این جی اوز کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ نے پشتون سماج کے اندر بڑے پیمانے پہ جہادی اور انتہا پسند مدرسوں اور تنظیمی نیٹ ورک پہ مشتمل ریڈیکل تکفیری یا جہادی آئیڈیالوجی کے حامل مراکز اور ان کے بڑے بڑے ناموں بارے پراسرار سی خاموشی اختیار کرلی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اتنے بڑے تکفیری جہادی سعودی فنڈڈ نیٹ ورک کو محض کسی ادارے کی پراکسی خیال کرتے ہیں۔جیسے امریکہ سمیت مغرب نواز سامراجی لبرل کے خیال میں پاکستان سمیت پورے جنوبی ایشیاء میں پھیلے دہشت گرد نیٹ ورک کے پیچھے پاکستانی فوج یا انٹیلی جنس ایجنسیاں ہی ہیں۔اور وہ جہاد ازم کو پراکسی سے ہٹ کر دیکھنے کو تیار نہیں ہیں اور پراکسی بھی بس پاکستانی ملٹری اور انٹیلی جنس اداروں کی۔

اتنے خام خیال کے ساتھ کیا پاکستان کے پشتون علاقوں میں بالخصوص جہاد ازم، تکفیر ازم، جہادی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان،داعش، جماعت الاحرار، لشکر جھنگوی، القاعدہ اور سب سے بڑھ کر ان کا نظریاتی شراکت دار اور سہولت کار جیسے سپاہ صحابہ پاکستان وغیرہ ہیں کی جانب بالکل آنکھیں بند کرکے کیا پشتونوں کے حقوق کے تحفظ کی بات ٹھوس عملی نتائج دے پائے گی؟

پشتون تحفظ تحریک کا سب سے کمزور حصّہ اس تحریک سے غیر پشتون یعنی سرائیکی اور ہندکو بولنے والی آبادی کی بے گانگی ہے۔جبکہ اور پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے پاکستان کے حکمران طبقات کی طرف ‘نسلی شاؤنزم’ کے ساتھ دیکھنے کا رویہ انتہائی خطرناک ہے۔اس تحریک کی طرف شیعہ اور صوفی سنّی پشتونوں کا رجحان نہیں ہے اور اس کی ایک وجہ تو پی ٹی ایم کے جلسے جلوسوں،کارنر اجلاسوں اور کمپئن کے دوران تکفیری –جہادی ریڈیکل دیوبندی گروپوں کا نمایاں نظر آنا ہے۔

اس لیے دہشت گردی،جہاد ازم، تکفیر ازم اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پہ پی ٹی ایم کولبرل سامراجیوں کے یک رخی اور انتہائی خام نظریہ پہ نظر ثانی کرنے اور اپنی دوست و دشمن قوتوں کے انتخاب میں بھی مزید غور و خوض کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ بہار شام کی طرح جعلی بہار ثابت ہوگی اور امریکی سامراجی، جگہ تلاش کرنے والے طالبان اور اس تحریک کو پروجیکٹ میں بدل کر ڈالر لوٹنے والوں کو یہ سانس لینے کا موقعہ فراہم کرے گی۔

 

Death Anniversary of Shahbaz Bhutti: Tahir Ashrafi and a biased section of Liberal Press

 

Friday, March 2nd is the death anniversary of #ShahbazBhatti who was killed by the #takfiriDeobandi terrorists affiliated with the #Taliban.

 

Bhatti was a minister in the previous PPP government and Tahir Ashrafi, a Deobandi hate monger had incited for his murder shortly before the tragic event. Please see this video clip every time a commercial liberal tries to white wash the hate crimes of Tahir Ashrafi.

 

 

images

دو مارچ 2018ء بروز جمعہ سابق وزیر برائے انسانی حقوق شہباز بھٹی کی برسی ہے۔شہباز بھٹی کو تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کی تنظیم طالبان نے جان سے ماردیا تھا۔

شہباز بھٹی پی پی پی کے سابقہ دور میں وفاقی وزیر تھے اور طاہر اشرفی، ایک نفرت پھیلانے والا دیوبندی ملّا نے اس المناک واقعہ سے کچھ دن پہلے ان کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی تھی۔

It is time to engage with clerics like Ashrafi and get them to join the struggle for a moderate and progressive Pakistan

یہ تقریر طاہر اشرفی نے اس زمانے میں کی تھی جب پاکستان کا ایک معروف لبرل ہفت روزہ اخبار ‘فرائیڈے ٹائمز’ اس کو اعتدال پسند،لبرل  اور بین المذاہب ہم آہنگی کا علمبردار بناکر پیش کررہا تھا۔اس کے کچھ عرصے بعد طاہر اشرفی کو ایکپریس نیوز ٹی وی چینل پہ ایک تجزیاتی پروگرام میں فرائیڈے ثائمز کے سابق ایڈیٹر اور معروف لبرل صحافی و مصنف ‘رضا رومی’ کے ساتھ دیکھا جانے لگا۔پروگرام کا نام تھا ‘میں اور مولانا’۔اسی زمانے میں طاہر اشرفی کو جنگ-نیوز گروپ سمیت پاکستان کے مین سٹریم ٹی وی چینلز پہ ایک اعتدال پسند اسلامی اسکالر کے طور پہ خوب کوریج دی جانے لگی۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب رضا رومی پہ قاتلانہ حملہ ہوا اور ایکسپریس نیوز ٹی وی چینل کے علاوہ دیگر ٹی وی چینلز نے اس حملے کے خلاف رضا رومی کے ساتھ وہ اظہار یک جہتی نہ کیا جس کی فرائیڈے ٹائمز کو توقع تھی تو اس وقت ارشد شریف صحافی اینکر اے آر وائی نیوز پہ تنقید کرتے ہوئے فرائیڈے ٹآئمز نے طاہر اشرفی اور مولوی عبدالعزیز کو اپنے شو میں وقت دینے کا طعنہ ارشد شریف کو دے ڈالا۔

 

Also there is a certain Arshad Sharif who gives the likes of Tahir Ashrafi and Maulana Abdul Aziz ample air time and then virtually shushes up a liberal voice in Marvi Sirmed on the show when she “dares” to call a terrorist a terrorist.

 

 

شہباز بھٹی کے خلاف منافرت انگیز مہم چلانے والا دیوبندی ملّا طاہر اشرفی اسلام آباد میں رمشاء مسیح کیس میں نقاب اوڑھ کر خود کو ماڈریٹ روپ میں ظاہر کرتا ہے اور اپنی تنظیم پاکستان علماء کونسل اور ختم نبوت موومنٹ انٹرنیشنل دیوبندی تنظیموں کے ساتھ اسلام آباد میں ایک جلوس نکالتا ہے۔فرائیڈے ٹائمز میں رضا رومی کا ایک فیچر لگتا ہے اور ایک رپورٹ شایع کی جاتی ہے۔اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نیوز رپورٹ میں ختم نبوت انٹرنیشنل بارے دھمیے سے انداز میں یہ لکھا جاتا ہے کہ یہ تنظیم احمدی کمونٹی کے بارے میں تشدد پھیلانے میں ملوث بتائی جاتی ہے جبکہ طاہر اشرفی جو کہ پاکستان کے اندر شیعہ کے خلاف منافرت آمیز پروپیگنڈے میں ملوث ہے کو شیعہ نسل کشی کے خلاف ایک موثر مذہبی آواز قرار دے دیا جاتا ہے۔

 

Within days of Tahir Ashrafi’s emergence as a perceived rational voice in Rimsha Masih’s case, he came under fire from several quarters, including the liberal left

 

پاکستان میں لبرل پریس اور سول سوسائٹی کا ایک سیکشن جس میں نواز شریف کو ‘عظیم جمہوریت پسند بناکر پیش کرنے والے لبرل پیش پیش ہیں،حیرت انگیز طور پہ شہباز بھٹی  کے قتل میں اشتعال انگیز تقریریں کرنے والے اس دیوبندی ملّا کے بارے میں خاموش رہے۔بالکل ویسے جیسے یہ سلمان تاثیر کے قتل پہ اکسانے والے دیوبندی کرداروں کے بارے میں خاموش رہے اور انھوں نے بریلوی مکتبہ فکر کے اندر موجود انتہا پسندوں پہ اپنا فوکس رکھا۔

پاکستان کے لبرل پریس میں متعصب اور کمرشل ازم کا داعی سیکشن اسقدر متعصب ہے کہ اس نے خادم رضوی جیسے کٹھ پتلی کرداروں کو لیکر اہلسنت بریلوی مسلمانوں کے خلاف جس قدر منافرت بھرے القاب استعمال کئے اور خادم رضوی کی مسلکی اور فرقہ شںاخت بار بار ظاہر کی،ویسے یہ بھولے سے بھی سپاہ صجابہ ، لشکر جھنگوی اور طالبان کی مسلکی شناخت ظاہر نہیں کرتے۔

شہباز بھٹی نے اپنے قتل سے پہلے جاوید چودھری کے ایکسپریس نیوز کے ٹاک شو میں جو گفتگو کی تھی،جو ان کی آخری میڈیا ٹاک ثابت ہوئی کو سن لیں۔شہباز بھی بلاسفیمی ایکٹ کو ختم کرنے کی بات نہیں کررہے تھے۔نہ ہی وہ توہین رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ٹھیک خیال کرتے تھے۔ان کا کہنا یہ تھا کہ بلاسفیمی ایکٹ میں پرچے کے اندراج اور تفتیش کے طریقہ کار میں بدلاؤ کی ضرورت ہے۔پھر سب سے بڑی بات یہ کہ وہ چاہتے تھے کہ بلاسفیمی ایکٹ کی شق 295 اے اور 295سی میں بالترتیب قرآن پاک کے علاوہ دیگر مذاہب کی مقدس کتابوں اور دیگر انبیاء کی توہین کو بھی جرم قرار دینے کے الفاظ شامل ہوں۔شہباز بھٹی پاکستان میں بلاسفیمی لاءز کے غلط استعمال کو روکنے کی بات کررہے تھے۔لیکن شہباز بھٹی کے خلاف جھوٹا اور غلط پروپیگنڈا کیا گیا۔اور وہ اس جھوٹے پروپیگنڈے کا نشانہ بن گئے۔

 

 

 

a1

شہباز بھٹی دو مارچ،2011ء میں تکفیری دیوبندی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ہاتھوں جان گنوابیٹھے۔ ان کا ناحق قتل بلاسفیمی ایکٹ کے بارے میں ان سے جھوٹ منسوب کرنے اور ان کے خلاف نفرت بھری مہم چلانے پہ ہوا۔مسلم لیگ نواز نے پی پی پی کی حکومت کے خلاف ایک مذہبی ملاؤں کے زریعے سے جھوٹی کمپئن چلائی۔اور جھوٹا پروپیگنڈا یہ تھا کہ پی پی پی کی حکومت امریکہ اور مغربی طاقتوں اور اسلام دشمن عناصر کے اشارے پہ بلاسفیمی ایکٹ ختم کرنا چاہتی ہے یا اسے غیر موثر بنانا چاہتی ہے۔ اس مہم میں سب سے آگے مولوی طاہر اشرفی اور پنجاب میں نواز لیگ کے دیگر اتحادی تکفیری ملاّ تھے۔اس مہم کا پہلا نشانہ گورنر سلمان تاثیر بنے اور دوسرا نشانہ وفاقی وزیر شہباز بھٹی بنے۔
پاکستان میں آج جو جمہوریت کے جعلی مجاہد بنے ہوئے ہیں، اسی لبرل پریس کے اندر بیٹھے سیکشن نے مسلم لیگ نواز کی جانب سے مذہبی انتہا پسندوں اور فرقہ پرست جنونی ملاؤں کے زریعے پی پی پی کی حکومت کے خلاف سازش کو چھپایا اور طاہر اشرفی اس لبرل کمرشل مافیا کا اعتدال پسند،ماڈریٹ ، ترقی پسند چہرہ کہلوایا،جیسے احمد لدھیانوی ‘سفیر امن’ کہلوائے گئے۔
مسلم لیگ نواز کا حامی لبرل پریس میں بیٹھا سیکشن اس زمانے میں نواز شریف کے حامی تکفیری ملّاؤں پہ ‘لبرل و ماڈریٹ’ نقاب ڈال رہا تھا، جیسے آج وہ فضل الرحمان و لدھیانوی پہ ڈال رہا ہے اور اکوڑہ خٹک میں جامعہ حقانیہ اور سمیع الحق پہ جو نقاب اعتدال و مین سٹریم عمران خان اور پی ٹی آئی ڈالتی ہے،اسے نوچنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہاں تک کہ ڈان میڈیا گروپ بھی طاہر اشرفی کو ایک ماڈریٹ لبرل مولوی بناکر پیش کرنے سے باز نہیں آیا۔چھے مارچ،2017ء کو ڈان کے سٹاف رپورٹر ناصر جمال نے اسلامی نظریاتی کونسل میں طاہر اشرفی اور مولانا شیرانی کے درمیان ہوئے جھگڑے کی رپورٹ فائل کی،اس رپورٹ کے انٹرو میں ہی رپورٹر طاہر اشرفی کو لبرل ماڈریٹ مولوی کے طور پہ پیش کرتا ہے
میں جب یہ حقائق سامنے لاتا ہوں تو پاکستان میں اس منافق ٹولے کے لبرل ماسک سے متاثرہ کچھ لوگ تکلیف میں آتے ہیں۔ان کو ان لبرل بتوں کے ٹوٹنے پہ غصّہ آتا ہے۔ان کو چاہئیے کہ ان گروہ کے کمرشل ازم کو سمجھیں اور دھوکہ مت کھائیں۔
شہباز بھٹی جیسے لوگ صرف تکفیری فاشزم کے ہاتھوں ہی نہیں مرتے بلکہ ان کو بار بار مرنا نام نہاد لبرل مگر حقیقت میں منافق ٹولے کی وجہ سے پڑتا ہے۔
شہباز بھٹی ایک سچا جیالا، سیاسی کارکن، انسانی حقوق اور مظلوموں،محکوموں کی آواز تھا اور یہ آواز اسے پی پی پی کی ترقی پسند ، روشن خیال آئیڈیالوجی سے ملی تھی۔وہ مسیحی بنیاد پرست نہیں تھا نہ ہی اسلامو فوبیا کا شکار تھا۔میں اس کی جدوجہد پہ اسے سرخ سلام پیش کرتا ہوں۔

 

مزار لعل شہباز قلندر پہ بم دھماکے میں خطیب لال مسجد کے رشتے دار ملوث ہیں۔سندھ پولیس کی رپورٹ

_100069031_bdd3a9c5-273c-484c-b3b9-a6b30dda3b34

قلندر کے لعل شہباز کے مزار پر خودکش بم حملے میں 87 افراد ہلاک جبکہ 329 زخمی ہوئے تھے

 

لعل شہباز قلندر کے مزار پہ بم دھماکے میں تکفیری دیوبندی خطیب لال مسجد کے رشتے دار ملوث ہیں۔۔ سندھ پولیس/ رپورٹ بی بی سی اردو

سندھ کے صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش حملے میں لال مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اور مولانا غازی عبدالرشید کے قریبی رشتے دار ملوث تھے۔

کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کے مطابق غلام مصطفیٰ مزاری ماسٹر مائنڈ جبکہ صفی اللہ مزاری سہولت کار تھے۔

قلندر شہباز کے مزار پر خودکش بم حملے میں محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق 87 افراد ہلاک جبکہ 329 زخمی ہوگئے تھے، چھ افراد کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے انھیں لاوارث قرار دیکر ایدھی حکام نے دفنا دیا۔

بستی عبداللہ داعش کی قیادت کا مرکز؟
قلندر شہباز پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں پولیس اس وقت تک صرف ایک ملزم نادر جکھرانی کو گرفتار کرسکی ہے، جس کے بیان اور سی ٹی ڈی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ غلام مصطفیٰ مزاری اور صفی اللہ مزاری کا اس دھماکے میں کلیدی کردار تھا۔

 

_100069029_nadir

سیہون حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں پولیس صرف ایک ملزم نادر جکھرانی کو گرفتار کرسکی ہے

ڈاکٹرغلام مصطفیٰ کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے تعلق تھا بعد میں انھوں نے دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی اور اسے دولتِ اسلامیہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کا آپریشنل سربراہ بنایا گیا۔

پورٹ کے مطابق بستی عبداللہ روجہان مزاری کے رہائشی غلام مصطفیٰ مزاری اور صفی اللہ مزاری لال مسجد کے متنازع خطیب مولانا عبدالعزیز اور مولانا عبدالرشید کے قریبی رشتے دار ہیں۔

خودکش بمبار برار کو غلام مصطفیٰ مزاری اپنے ساتھ لایا تھا، قلندر شہباز کے مزار پر حملے سے قبل بمبار نے نادر جکھرانی کے ہمراہ بستی عبداللہ میں صفی اللہ کے گھر قیام کیا تھا، صبح کو صفی اللہ، نادر جکھرانی اور بمبار برار سیہون کے لیے روانہ ہوئے جہاں دھماکے کے بعد نادر جکھرانی اور صفی اللہ واپس بستی عبداللہ آئے جہاں نادر نے صفی اللہ کے گھر قیام کیا۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق نادر جکھرانی کا تعلق کشمور کے گاؤں سعید خان جکھرانی سے ہے۔ اس کا تعارف غلام مصطفیٰ عرف ڈاکٹر عرف سائیں عرف شاہ صاحب سے اس وقت ہوا جب وہ گاؤں میں تھریشر مشین کرائے پر دینے آیا تھا۔

سی ٹی ڈی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نادر جکھرانی غلام مصطفیٰ مزاری کے شدت پسندانہ خیالات سے متاثر ہوا اور اس نے بستی عبداللہ جانا شروع کردیا جہاں غلام مصطفیٰ مزاری کے ذریعے اس نے غازی عبدالرشید کے بیٹوں ہارون اور حارث سے قریبی تعلقات قائم کیے۔

خودکش بمبار برار کون تھا؟
خودکش بمبار کو غلام مصطفیٰ مزاری اپنے ساتھ لایا اور نادر جکھرانی نے صفی اللہ کے ہمراہ سیہون پہنچایا۔ ایس ایس پی کاؤنٹر ٹیرر ازم عرفان سموں کا کہنا ہے کہ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ وہ بروہی تھا یا افغانی۔ تاہم نادر جکھرانی نے پولیس کو بتایا ہے کہ برار کی زبان اور لہجہ مستونگ میں بولی جانے والی براہوی زبان سے مماثلت رکھتا تھا۔ نادر نے تحقیقات میں اس کے بارے میں مزید معلومات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

خودکش جیکٹ کہاں سے آئی؟

 

_100069033_ghulam

ملزم کے بیان کے مطابق ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مزاری نے دھماکے سے ایک روز قبل خودکش جیکٹ فراہم کی

قلندر شہباز کے مزار پر دھماکے کے لیے استعمال کی گئی جیکٹ وہاں کس طرح پہنچی یہ واضح نہیں ہوسکا۔ سی ٹی ڈی حکام کو شبہ ہے کہ یہ جیکٹ مقامی طور پر دستیاب تھی جو پہلے ہی منتقل کردی گئی تھی۔ گرفتار ملزم نادر جکھرانی کے بیان کے مطابق ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مزاری نے جیکٹ پہنچانے کی ذمہ داری اٹھائی تھی اور دھماکے سے ایک روز قبل انھیں سیہون میں اس نے یہ جیکٹ فراہم کی۔

 

تفتیشی حکام نے تین سے زائد مقامی افراد کو شبہ کی بنیاد پر حراست میں لیا تھا لیکن بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا۔ ایس ایس پی عرفان سموں کا کہنا ہے کہ قلندر شہباز کی مزار پر حملے سمیت ہر دھماکے میں مقامی معاونت ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس کے بغیر مشن پورا نہیں ہوسکتا۔

سی ٹی ڈی کو درپیش چیلینجز کیا ہیں؟
قلندر پر حملے کے مقدمے میں صفی اللہ مزاری کے ساتھ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ مزاری کا بھائی عبدالستار مزاری( رہائشی بستی عبداللہ روجھان مزاری) اعجاز بنگلزئی، فاروق بنگلزئی ، تنویر احمد اور عمران عرف ذوالقرنین ( رہائشی ڈیرہ الہ یار، بلوچستان) مفرور ہیں۔

ڈی آئی جی عامر فاروقی کے مطابق اس حملے میں داعش ملوث ہے۔ یہ مطلوب ملزم اپنے گھروں پر نہیں بلکہ فرار ہو چکے ہیں۔ امکان ہے کہ انھوں نے افغانستان میں کہیں پناہ حاصل کرلی ہے۔

کیا استغاثہ یہ الزام ثابت کرسکے گی؟
کاؤنٹر ٹیررازم محکمے کی تفتیش ابھی تک نادر جکھرانی کے بیان کے گرد گھوم رہی ہے، استغاثہ کی جانب سے گذشتہ سال دسمبر کے دوسرے ہفتے میں انسداد دہشت گردی عدالت میں حتمی چارج شیٹ پیش کی گئی تھی جس میں 30 گواہوں کے نام دیے گئے ہیں جن میں پولیس اہلکار، ڈاکٹر اور ریوینیو افسر شامل ہیں۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عامر فاروقی پرامید ہیں کہ استغاثہ الزام ثابت کرنے میں کامیاب رہے گی کیونکہ پولیس کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج، جے آئی ٹی کی رپورٹ اور ملزم نادر جکھرانی کا اعترافی بیان موجود ہے۔

(رپورٹر سہیل ریاض کراچی )

 

دہشت گردی سے متاثرہ خواتین کے تجربات-فائزہ علی

Protest in Dera Ismail Khan

 

Experiences of Female Victims of Faith-Based Violence in Pakistan

پاکستان میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی دہشت گردی کی متاثرہ خواتین کے تجربات

محقق : فائزہ علی

فائزہ علی لیورپول بزنس اسکول میں سینئر لیکچرار ہیں

Faiza Ali is a senior lecturer at Liverpool Business School. She has more than ten years of experience in teaching and research. Her areas of research include diversity management, gender equality, work-life balance, sexual harassment and intersectionality in the workplace. In particular, she is interested in exploring issues and challenges faced by women in Muslim-majority countries such as Pakistan, Turkey and Bangladesh.

ترجمہ و تلخیص : عامر حسینی

مذہبی بنیادوں پہ ہونے والا وائلنس پاکستان میں بڑھتا ہی جاتا ہے۔خاص طور پہ کچھ مخصوص مذہبی گروہوں جیسے شیعہ،سنّی بریلوی یا صوفی،احمدی اور کرسچن ایسے تشدد کے خاص ہدف/ٹارگٹ ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے متاثرہ لوگوں کے جو خاندان ہوتے ہیں وہ بھی ناقابل برداشت زاتی،جذباتی اور معاشی نقصانات کا سامنا کرتے ہیں۔تاہم متاثرہ خواتین کے متاثرہ خاندان کے دیگر افراد سے تجربات مختلف ہوسکتے ہیں۔مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی وائلنس بارے ان کا تجربہ ان کی صنف/جینڈر کے مذہب ،فرقہ یا طبقہ کے ساتھ جس سے ان کا تعلق ہوتا ہے سے ان کے باہمی عمل پہ بنیاد رکھتا ہے۔عراق میں داعش کی متاثرہ خواتین کے تجربات بارے حال ہی میں خبریں سامنے آئی ہیں۔جیسے یزیدی،کرد،شیعہ اور سنّی عورتیں پراسیکوشن اوروائلنس کے تجریوں سے گزری ہیں۔

 (e.g., Moaveni 2015)

اس تحقیق کا مقصد صوفی سنّی، شیعہ اور احمدی برادریوں سے تعلق رکھنے والی ایسی خواتین کے تجربات پہ روشنی ڈالنا ہے جوکہ پاکستان میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی دہشت گردی کا سامنا کررہی ہیں۔حالیہ عشروں میں دیوبندی عسکریت پسند گروپوں نے نہ صرف حکومتی اداروں کو نشانہ بنایا بلکہ انہوں نے کچھ خاص مذہبی کمیونٹیز کو بھی نشانہ بنایا۔ حال ہی میں جنگ اور دہشت گردی کے متاثرہ پہ دباؤ کی جینڈر کے حوالے سے شرح جاننے کے لئے جو اسٹڈیز کی گئیں اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ جینڈر لیول پہ یہ زیادہ ہے اور اس میں بھی مردوں کے مقابلے میں اس کا دباؤ عورتوں پہ زیادہ ہے۔

یہ اسٹڈی مزید یہ بھی انکشاف کرتی ہے کہ عورتوں کی نسبت مردوں میں اس دباؤ میں نفسیاتی مداخلتوں سے کمی کا مشاہدہ کیا گیا۔تاہم یہ اسٹڈیز کیفیتی ڈیٹا پہ زیادہ مشتمل ہے اور گہرائی میں جاکر متاثرین کی خاص طور پہ متاثرہ عورتوں کی تصویر نہیں دکھاتیں۔یہ تحقیق اسی گیپ کو پر کرنے کی کوشش ہے۔

نوٹ:جینڈر اسٹڈیز میں ایک اصطلاح

Intersectionality

استعمال ہوتی ہے اور اسے اردو میں ہم مقام انقطاع کہہ سکتے ہیں یہ

 Intersectionality

ایک ایسا تصور ہے جو مختلف تھیوریز میں ان طریقوں کو بیان کرتا ہے جن سے جبر کے ادارے جڑے ہوتے ہیں اور ان کو الگ الگ کرکے دیکھا نہیں جاسکتا۔یہ تصور پہلی بار ماہر قانون

Kimberle Crenshw

نے 1989ء میں متعارف کرایا تھا۔اور اسے زیادہ تر جینڈر اسٹڈیز میں استعمال کیا جاتا ہے۔

کولنز کے مطابق یہ اصطلاح ایک ایسی تنقیدی بصیرت کا حوالہ ہے جس کے مطابق جینڈر /صنف، ایتھنی سٹی /نسلیاتی ثقافت اور کلاس/طبقہ الگ الگ ایک وحدت کے طور پہ کام نہیں کرتیں بلکہ اس کے برعکس یہ ایک ساختہ مظہر کے طور پہ کام کرتے ہیں۔

(Collins 2015)

Prins

پرنز  کا کہتا ہے کہ انٹرسیکشنلٹی کے کئی ایک پہلوؤں پہ مبنی جو میکنزم ہے اس کو سمجھنے کے لئے جینڈر/صنف کا دوسری شناختوں کے ساتھ جو ٹاکرا ہوتا ہے اور اس کا دوسری شناختوں کے ساتھ جو عمل ہے اس سے جوڑ کر دیکھنا بہت ضروری ہے۔

(Prins 2006)

پرنز کا کہنا ہے کہ یہ جو ساختیاتی اپروچ ہے یہ شناخت کو صرف ایسے بیانیہ کے طور پہ نہیں دیکھتی جس میں بیان کرنے والا بس ایک عمل کرنے والا ہوتا ہے بلکہ وہ ہماری اپنی کہانی کا مصنف بھی ہوتا ہے۔اور اس طرح کے طرز فہم میں بیانیے میں شناخت صرف نام دینے کا نام نہیں ہوتی بلکہ بذات بیان ہوتی ہے۔شناخت کرداری صفات کی ایک فہرست کا نقشہ ہمارے سامنے نہیں کھینچتی جس میں ہمیں شخص کے بارے میں پتا چلتا ہو بلکہ یہ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ وہ کوئی اور ۔سم ون کون ہے؟اور جیسے حانا آرڈینٹ کہتا ہے کہ اور یہ بھی کہانی بیان کرنے سے ہی پتا چل سکتا ہے۔ایک طرف تو ہماری کہانی ہمارے متعلق ہوتی ہیں ۔یہ ہمیں بنانے کا کام بھی کرتی ہیں۔ہم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوجاتے ہیں جو ہمارے لئے پہلے سے ہی تیار کردیا گیا ہو اور ہم میں اکثر  پہلے سے دستیاب سکرپٹ کے بیانیہ کے مطابق اپنی زندگی کا راستہ متعین کرتے ہیں۔دوسری طرف ہماری کہانیاں تہہ دار اور تضادات سے بھری ہوتی ہیں:مذہب،ایتھنی سٹی ، طبقہ اور جینڈر کے سکرپٹ ایک تشکیلی کردار ادا کرتے ہیں لیکن نہ تو یہ ایک جیسے طریقے سے ایسا کرتے ہیں اور نہ ہی ہمیشہ معلوم فیکٹرز یا عوامل کے زریعے سے ایسا کرتے ہیں۔

جہاں تک پاکستان میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والے تشدد کی صورت حال کا تعلق ہے تو امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی 2015ء کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پہ شیعہ،کرسچن،احمدیوں اور ہندؤں کو بطور خاص ایک باقاعدہ منصوبہ بند وائلنس کا سامنا ہے۔ویسے تو پاکستان بھر میں شیعہ مسلمان دیوبندی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں وائلنس کا شکار ہوئے ہیں لیکن کوئٹہ کے ہزارہ شیعہ کا کیس ان کو درپیش وائلنس کے پیمانے کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔اور یہ اس لئے بھی ہم ہوجاتا ہے کہ اس میں مذہب کے ساتھ ایتھنی سٹی بھی شامل ہے۔یہ وائلنس مذہبی شناخت اور نسلی شناخت دونوں کو شامل کرتی ہے اور ان کی مذہبی شناخت کے علاوہ ان کی نسلی شناخت بھی ان کو دہشتگردوں کا آسان شکار بناتی ہے۔شیعہ ہزارہ کی بھاری اکثریت شیعہ ہے اور یہ منگول نسل سے ہیں اور ان کے اورئنٹل خدوخال اور ہلکی سکن ان کو باقی پاکستانیوں سے الگ دکھاتی ہے۔ہزارہ کی اکثریت مسلم شیعہ ہے تو دیوبندیوں نے ان کو کافر قرار دیا ہوا تو اور دیوبندی عسکریت پسند تنظیمیں جیسے سپاہ صحابہ پاکستان ہے، لشکر جھنگوی ان کو مرتد، اسلام سے پھر جانے والے کہہ کر مارتی ہے۔پاکستان میں جو انتہا پسندی کی متشدد جنگ ہے ہزارہ شیعہ کمیونٹی اس کا سب سے زیادہ ہدف ہے۔بی بی سی 2013ء میں رخسانہ بی بی کی کہانی بیان کرتا ہے جو کہ کوئٹہ کی ہزارہ شیعہ خاتون ہے اور اس کے چار میں سے تین بیٹے دہشت گرد حملے میں مارے گئے۔اس کے درمیانے درجے کے گھر کی دیواروں پہ خاندان کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔وہ دروازے پہ ایک فریم لیکر بیٹھی ہے جس میں اس کے ان تین بچوں کی تصویریں ہیں جن کو اس نے دہشت گرد حملے میں کھودیا ہے۔رخسانہ بی بی اور ایسی دوسری عورتیں جنھوں نے اپنے مرد دہشت گردی میں کھودئے ہیں ان کا نقصان صرف جذباتی اور نفسیاتی نہیں ہے بلکہ یہ معاشی اور سماجی نقصان بھی ہے ایک ایسے معاشرے میں جس میں اکثر صرف مرد حضرات ہی کمانے والے ہوتے ہیں۔عام سنّی مسلمانوں کو بھی پاکستان میں دیوبندی عسکریت پسند گروپوں کے ہاتھوں مذہبی بنیادوں پہ وائلنس کا سامنا کونا پڑا ہے۔ان کی کہانیاں بھی دوسری کمیونٹیز کے لوگوں کی مشکلات۔ پختہ عزم اور مزاحمت کی کہانیاں ہیں۔

نو اکتوبر 2013ء کو سنّی مسلم پشتون نژاد 15 سالہ ملالہ یوسف زئی پہ پاکستان کے علاقے سوات میں اسکول سے واپسی آتے ہوئے بس پہ حملے کے دوران فائرنگ کی گئی اور ان کے سر اور چہرے پہ گولیاں ماری گئیں۔یہ حملہ دیوبندی عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے کیا تھا۔اس کا جرم لڑکیوں کے حق تعلیم پہ اصرار اور طالبان کی جانب سے عورتوں اور دیگر گروپوں پہ کئے جانے والے مظالم کی مخالفت تھا۔خوؤ قسمتی سے ملالہ اس انتہائی ہلاکت خیز حملے کے بعد جانبر ہوگئیں۔اب وہ عالمی سطح پہ عورتوں کی تعلیم کی ایک کمپئن چلارہی ہیں اور ہمت و امید کی عالمی مثال بن گئی ہیں۔جب طالبان نے ان کو مارنے کی کوشش کی اس سے پہلے ملالہ ایک قلمی نام سے بی بی سی کے لئے عورتں کے حقوق اور طالبان کے قبضے کے بعد سوات میں زندگی بارے ایک بلاگ لکھ رہی تھیں اور اپنا پیغام پہنچانے کی کوشش کررہی تھیں۔اور اب وہ پوری دنیا میں جہاں جہاں لڑکیوں کے لئے تعلیم کے مواقع نہ ہیں وہاں تک تعلیمی سہولتوں کی رسائی کے لئے کوشش کررہی ہیں۔احمدی عورتوں اور ان کے مصائب بھی مختلف نہیں ہیں۔ایک احمدی لڑکی آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ اپنے والد کے دہشت گردی کے ایک واقعے میں مارے جانے کو یاد کرتی ہے۔اس کے والد لاہور میں احمدیہ مرکز پہ نماز جمعہ کے دوران 29 مئی 2010ء کو احمدی کمیونٹی پہ تاریخ کے سب سے بڑے دہشت گرد حملے میں 87 احمدیوں سمیت مارے گئے تھے۔وہ سولہ سال کی تھی جب اس کے والد مارے گئے اور آج بھی یہ واقعہ اس کے ذہن میں تازہ ہے۔

  (Ahmad 2015).

In May 2015, 47 Ismaili Shia Muslims, including 16 women, were

shot dead during an attack on a bus in Karachi (BBC News 2015). The

مئی 2015ء میں 47 اسماعیلی شیعہ جس میں 16 خواتین بھی شامل تھیں کراچی میں ایک بس پہ حملے کے دوران مارے گئے- ( بی بی سی نیوز 2015ء )۔اسماعیلی شیعہ کمیونٹی پاکستان کی سب سے پرامن کمیونٹی خیال کی جاتی ہے اور وہ پاکستان اور دوسرے ممالک میں اپنے سماجی فلاح و بہبود کے کاموں کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔داعش سے متاثر دیوبندی عسکریت پسندوں نے اسماعیلی کمیونٹی کی بس کو نشانہ بنایا اور عورتوں کو بھی نہ بخشا۔ان عورتوں کے خاندانوں کی تکلیف کا تصور بھی محال ہے خاص طور پہ جن کے بچے ابھی چھوٹے تھے۔

اگلے سیکشن میں،میں نے انٹرسیکشنلٹی کے موضوع پہ لٹریچر کا جائزہ اسی طرح کے واقعات کی روشنی میں لینے کی کوشش کروں گی۔اور پھر اس کا استعمال عملی طور پہ تیسرے سیکشن میں کیا جائے گا۔

انٹرسیکشنلٹی ایک دوسرے سے گڈمڈ ہونے والی یا ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی سماجی شناختوں اور متعلقہ جبر،غلبے اور زیادتی کے نظاموں کے مطالعے کا نام ہے۔یہ تھیوری مختلف سماجی اور ثقافتی کیٹیگریز کی کہانی میں لیکر آتا ہے جیسے جینڈر،ریس،طبقہ ،مذہب،عمر اور شناخت کے دوسرے پہلو ہوتے ہیں جوکہ متعدد اور اکثر کئی اور سطحوں پہ ایک دوسرے کے ساتھ عمل۔انٹریکٹ کرتی ہیں۔اور یہ فریم ورک ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کیسے مربوط اور منظم ناانصافی اور سماجی نابرابری ہمہ جہتی بنیادوں پہ واقع ہوتی ہے۔

 (Crenshaw 1989(

انٹرسیکشنلٹی کا یہ سمجھنا ہے کہ معاشرے کے اندر جبر کی تصور گری جیسے نسل پرستی،سیکس ازم، کلاس ازم اور عقیدے کی بنیاد پہ تعصب وغیرہ ایک دوسرے سے الگ الگ عمل نہيں کرتے بلکہ اس کی بجائے جبر کی یہ اقسام ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور جبر کا ایک ایسا نظام۔سسٹم بناتی ہیں جو کہ امتیازی سلوک اور زیادتی کی کئی قسم کی شکلوں کے ساتھ انٹرسیکٹ/قطع کرتی ہیں۔

(Knudsen 2006)

کنوڈیسن کے مطابق انٹرسیکشنلٹی ایک ایسا نظریہ ہے جوکہ یہ بتاتا ہے کہ سماجی اور ثقافتی کیٹیگریز کیسے ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔جینڈر،ریس،ایتھنی سٹی،کلاس،نیشنلٹی وغیرہ کے درمیان تعلقات کا کئی سطحوں سے جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ اس نابرابری کو ظاہر کیا جاسکے جو معاشرے میں پائی جاتی ہے۔وہ ایک دوسرے سے لاتعلق اور آزاد نہیں ہوتیں بلکہ جبر کی اشکال ایک دوسرے سے باہمی طور پہ جڑی ہوتی ہیں اور امتیاز و زیادتی کی مختلف اشکال کے ساتھ بندھی ہوتی ہیں۔

( کنوڈیسن ،ص 61)

Rather than looking at the majority culture, the theory of intersection reacts the minority

یہ نظریہ بجائے اکثریت کے کلچر پہ نگاہ ڈالنے کے اقلیت کے کلچر پہ ردعمل دیتا ہے۔یہ تصور اس بات کی تلاش میں ایک مفید زریعہ کے کام آسکتا ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کیسے کچھ خاص لوگ جو محض مختلف ہی نہیں ہوتے بلکہ ایک مشکل میں ڈالنے والی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں بلکہ کچھ مثالوں میں تو وہ کمتر بنائے جانے /مارجنلائز کی صورت حال کا شکار ہوتے ہیں۔

(Staunaes 2003a, p. 101)

اقلیت کی شناختوں کے تعدد اور تکثیر پہ بننے والا تناظر/پرسپیکٹو  انٹرسیکشنلٹی کے علاوہ جامع/ایڈیٹو ،ضربی/ ملٹی پلی کیٹو اور انٹریکشنسٹ/دخلیاتی بھی ہوتا ہے۔

Additive Perspective

جامع تناظر/نکتہ نظر

اقلیت کی شناخت کے مراتب ( طبقہ،نسل اور جینڈر ) کے آزادانہ عمل کرنے کے تصور پہ ردعمل دیتا ہے اور لوگوں کے تجربات کو  جامعی انداز میں اکٹھا کرکے ان کی صورت گری کرتا ہے۔اس تناظر نکتہ نظر سے محقق ایک اور اصطلاح

Double Jeopardy

دوہرا جوکھم استعمال کرتے ہوئے اس جامعی اثر کی وضاحت کرتے ہیں۔جامعی نکتہ ہائے نظر۔ضربی اور انٹریکشنلسٹ/دخلیاتی تناظرات یہ فرض کرتے ہیں کہ متعدد شناختیں تصور میں ڈھالی جاسکتییں ہیں اور ان کو فعال /آپریشنلائزڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔اور اسٹڈی کی اصطلاحوں میں ان کو بطور الگ اور جدا جہات کے لیا جاتا ہے۔اس طرح کے معاملے میں اقلیت کی متعدد شناختیں ایک دوسرے پہ اثر ڈالتی ہیں۔یہ جامعی اور ضربی تناظر کیفیتی/مقداری تحقیق کے زریعے سے اپنا مقصد پورا کرتے ہیں۔

Brah

اور فونیکس کا کہنا ہے کہ طاقت کے رشتوں کی تکثیریت بارے سوچنے کے نئے طریقوں میں انٹرسیکشنلٹی کا نظریہ بہت مدد کرتا ہے۔یہ تسلیم کرنا کہ نسل،سماجی طبقہ اور جنسیت/تمایلات جنسی /سیکچوئلٹی عورتون کے تجربات کو الگ الگ کرتے ہیں اور یہ ہم آہنگ کیٹیگری “ویمن/عورت” کو اس کی عالمگیریت کو ڈس رپٹ/منتشر کردیتی ہے جس نے نسل،سماجی طبقہ اور جنسیت کے تعلق سے عورت بارے سٹیٹس کو کو برقرار رکھنے کا کام سرانجام دیا تھا۔جبکہ یہ صنفیاتی مفروضات کو چیلنج بھی کرتی ہے۔

 ایک تصادم والے زون میں جیسے پاکستان ہے جہاں مذہبی برداشت بہت کم ہے وہاں پہ انٹرسیکشنلٹی مسئلے کی شدت اور پیچیدگی میں اضافہ کرسکتی ہے اور ان خطرات میں بھی اضافہ کرسکتی ہے جوکہ اس علاقے کے لوگوں کو درپیش ہوتے ہیں۔تصادم چاہے قدرتی ہوں یا انسانوں کے بنائے ہوئے ہوں ان کے متعدد اور مختلف اثرات مرد اور عورتوں پہ تصادم کے تجربے سے جو مرتب ہوتے ہیں ان میں ان کی جینڈر بھی ملوث ہوتی ہے۔پاکستان میں عورتیں مردوں سے سماجی طور پہ مردوں کی تابع ہوتی ہیں۔

(Ferdoos 2005)

ان کو پاور،زرایع اور مواقع تک ویسے رسائی حاصل نہیں ہوتی جیسے مردوں کو حاصل ہوتی ہے۔اپنی کمتر سماجی اور معاشی حثیت کی وجہ سے ان کے پاس تصادم،انسانی اور فطری آفات کے اثرات سے نمٹنے اور ان کے مطابق خود کو ڈھالنے کی استعداد کم ہوتی ہے۔

(Bari 2010; Ali and Knox 2008)

اور اس پہ بہت سے دستاویزاتی ثبوت ہیں کہ عورتوں کی اس طرح کے خطرات میں گھرے ہونے کی حالت میں تصادم کے حالات میں اور زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے جیسے جنگ اور دہشت گردی ہے۔

(Niarchos 1995)

دہشت گردی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کی زیادہ شدت کا سامنا عورتوں کو اور زیادہ ہوتا ہے۔بہت سی تحقیقی اسٹڈیز امن اور شورش و جنگوں والے علاقوں میں کی گئیں اور ان سے ان سے پیدا ہونے والے اثرات کا بھی پتا چلتا ہے بلکہ مرد و عورت کی اصناف کے حوالے سے بھی ان کے الگ الگ اثرات کا پتا چلتا ہے۔

 (Bari 2010; Jawaid . 2014)

عام طور پہ عورتیں شورش اور جنگوں میں غیر فعال /پے سیو متاثرہ خیال کی جاتی ہیں جن کا ان واقعات کے شروع کرنے یا ان میں حصّہ لینے میں فعال کردار نہیں ہوتا ہے۔

 (Liebling-Kalifani et al. 2007)

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ،بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور عسکریت پسندی  کے تجزیوں میں عورتوں کو ایک نظر انداز کی گئی کیٹیگری خیال کی جاتا ہے۔

(Bari 2010)

مرد اور عورتیں دونزن پاکستان میں دیوبندی عسکریت پسندی سے متاثر ہونے والے ہیں۔تاہم ان کے تجربات واضح طور پہ مختلف ہیں۔مشکل سے کوئی قابل زکر کوشش دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اثر میں جینڈر امتیاز پہ مبنی مطالعے کے لئے کی گئی ہیں۔جب مذہبی عسکریت پسندی کے مرد اور عورتوں پہ اثر مختلف ہے تو انسداد دہشت گردی کی تفہیم اور اس کے علاج بارے لائحہ عمل بھی مختلف ہیں۔

حال ہی میں دارالعلوم دیوبند اور اس ادارے سے نظریاتی اتفاق رکھنے والے دیگر مدارس کی جانب سے متعدد ایسے فتوے جاری کئے گئے جو عورتوں کی آزادی کو کم کرتے ہين۔خاص طور پہ قابل زکر فتوی عورتوں کی تبلیغ اور خطاب کرنے پہ پابندی کے ساتھ ساتھ کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کی علیحدگی سے متعلق ہیں۔اسی طرح یہ فتوے کہ عورتوں کو برقعہ پہننا لازم ہے۔موبائل فون سے تین بار کہے جانے والا لفظ طلاق مرد اور عورت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدائی ڈالتا اور ان کا رجوع کا حق ختم کرڈالتا ہے۔عورتیں جج نہیں بن سکتیں۔منگیتر سے فون پہ بات کرنا حرام ہے۔تیرہ سال سے اوپر کی لڑکیوں کا بائی سائیکل چلانا حرام ہے۔عورتوں کا کار چلانا مکروہ ہے۔عورتوں کو الیکشن نہیں لڑنا چاہئیے اور گھروں میں پردے میں رہنا چاہئیے۔مخلوط تعلیم ممنوع ہے۔ایسے ہی عورتوں کو بینکوں میں کام نہیں کرنا چاہئیے۔ماڈلنگ اور اداکاری خلاف اسلام ہیں۔کارٹون ٹیلی ویژن پہ دیکھنا غلط ہے اور خون دینا اور انسانی اعضاء کا عطیہ حرام ہے۔فوٹوگرافی گناہ ہے۔باڈی سکین حرام ہے۔

 (Indian Express 2013)

اس قسم کے فتوے عورتوں کی سماجی اور معاشی سرگرمیوں میں شرکت اور ان کی نقل و حرکت پہ پابندیاں لگاتے ہیں۔اور ایسی عورتوں کی زندگی کو اجیرن کردیتے ہیں جن کے روٹی کمانے کے واحد سہارا مرد کسی حادثے کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں یا معذور ہوجاتے ہیں۔

پاکستان میں سوات میں طالبان کی دہشت گردی سے متاثر ہونے والے مردوں اور عورتوں بارے کی گئی ریسرچ اور اسٹدیز نے یہ انکشاف کیا کہ تمام مرد،عورتیں اور بچے مذہبی عسکریت پسندی سے سماجی،معاشی اور سیاسی طور پہ متاثر ہوئے۔تاہم عورتوں پہ اس کے اثرات ان کے مقامی ثقافتوں میں سماجی معاشی مرتبے کے حوالے سے مردوں کے محتاج ہونے کی وجہ سے کہیں زیادہ تھے۔عورتوں کا دیوبندی طالبانی عسکریت کا تجربہ مردوں سے بنیادی طور پہ کافی مختلف تھا۔مرد جسمانی وائلنس کا شکار ہوئے۔جبکہ عورتیں جن کو بطور آزاد فرد کے زندگی گزارنے کی اجازت نہ تھی اور ان کی بقاء کا انحصار مردوں کی ان کی زندگیوں میں مدد دینے پہ منحصر تھا۔اور کو کسی بھی حانت میں محرم مرد کے بغیر گھروں سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔عورتوں نے نہ صرف تعلیم،صحت اور دوسری سماجی خدمات تک اپنی رسائی کھودی بلکہ ان کی جسمانی نقل و حرکت بھی بہت زیادہ محدود اور مکمل طور پہ مردوں کی محتاج بنادی گئی۔شورش زدہ علاقوں میں عورتوں نے پدرسریت کی بدترین شکل کا سامنا کیا۔

    (Bari 2010)

تاہم یہ اسٹڈی شورش زدہ علاقوں میں انٹرسیکشنل ایشوز جیسے ایتھنی سٹی،کلاس اور مذہب وغیرہ ہیں ان کی پیچیدہ نوعیت کی کہانی بارے مشتمل نہیں ہے بلکہ اوپر بیان کردہ بحث کی روشنی میں یہ اس بات کا اعادہ کری ہے کہ عورتیں اپنی جینڈر، طبقے،مذہب اور ایتھنی سٹی کی وجہ سے مختلف ایشوز اور خطرات کا سامنا کرتی ہیں۔

جب ان کے تجربات دہشت گردی کے انتہائی ایشوز سے نبردآزما ہوتی ہیں تو ان کو احتیاط سے کھوجنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کو درپکش خطرات اور چیلنجز کی پیچیدگی کو سمجھا جاسکے اور یہ بھی دیکھا جاسکے کہ وہ ایسی جکڑبندیوں اور روکاوٹوں پہ قابو پاتے ہوئے کیسے اپنے آپ کو جینے کے قابل بناتی ہیں۔اس سیاق و سباق میں اس ریسرچ کا مقصد ان درج ذیل سوالوں کا جواب تلاش کرنا ہے:

مذہبی عسکریت پسندی کی متاثرہ پاکستانی خواتین کتنے مذہبی پس منظر کی حامل ہیں؟

یہ خواتیں ایسے ایشوز اور چیلنجز کے ساتھ کیسے نبرآزما ہوتی ہیں؟

میتھوڈولوجی

یہ اسٹڈی براہ راست اور بالواسطہ حاصل کی گئی معلومات کے تجزیہ پہ مشتمل ہے۔اور اس تجزیہ کی نوعیت انٹرسیکشلنٹی کے عدسوں کے استعمال کی وجہ سے کیفیتی یا مقداری نکتہ نظر/تناظر ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ متعدد شناختیں الگ جہات کے طور پہ ناقابل تقسیم ہیں جوکہ ہر ایک فرد کے لئے یونیق ہیں اور نئے اور ممتاز تجربات کی تشکیل کرتی ہیں۔

 (Parent et al. 2013; Collins 2015)

براہ راست زرایع وہ انٹرویو ہیں جو عورتوں سے ان کی واضح جینڈر اور مذہبی شناخت کے ساتھ کئے گئے ہیں اور کل 12 انٹرویو کئے گئے:5 ان ميں شیعہ عورتیں تھیں، 2 ہزارہ شیعہ عورتیں اور تین سنّی بریلوی عورتیں۔جبکہ دو احمدی عورتیں تھیں۔ان سب عورتوں نے مذہبی دہشت گردی میں اپنے خاندان کے مردوں کو کھودیا تھا۔

 اس موضوع کی حساسیت کے پیش نظر ان عورتوں سے معلومات اکٹھی کرنا آسان نہیں تھا جوکہ ایک یا دوسرے طریقے سے دہشت گردی کی متاثرہ تھیں۔لیکن شراکت مکمل طور پہ رضاکارانہ،رازداری، نجی زندگی کی اقدار کا تحفظ کرتے ہوئے کی گئی اور مواد اکٹھا کرتے ہوئے اس سب کا خیال رکھا گیا۔جبکہ ثانوی زرایع بھی متعلقہ معلومات حاصل کرنے کے لئے استعمال کئے گئے۔اس مقصد کے لئے مختلف زرایع سے تحقیق کی گئی،مثال کے طور پہ مصدقہ اور قابل اعتبار اخباری مضامین دو انٹرویو کے ساتھ ساتھ شامل کئے گئے اور ميں ہیومن رائٹس واچ کی حال ہی میں شایع کی گئی تازہ رپورٹ کا جائزہ لیا جس میں کئی ہزار شیعہ عورتوں کے انٹرویو کئے گئے تھے۔

نتائج

اس تحقیق کے نتاچ کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کی جاسکتا ہے: سماجی اثر،معاشی اثر اور مقابلہ کرنے کی حکمت عملی۔ہزارہ شیعہ عورت ہو،غیر ہزارہ شیعہ عورت، سنّی بریلوی عورت یا احمدی عورت جوکہ مذہبی وائلنس کی متاثرہ ہیں ہر ایک نے مختلف تجربہ بیان کیا۔

اول اور ثانوی مواد کے تجزیے سے سماجی،جذباتی اور نفسیاتی اثر سے ظاہر ہے کہ عورتیں مذہبی دہشت گردی کے سبب بڑے جذباتی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں۔تاہم ان کے انفرادی حالات و واقعات کو بھی زیر غور لانا ضروری ہے۔

اس سیکشن میں مختلف فرقوں اور ایتھنی سٹی سے تعلق رکھنے والی عورتوں کے جذباتی تجربات پہ بحث کروں گی۔اگرچہ تمام عورتیں جذباتی ٹراما سے گزریں۔لیکن ہزارہ عورتوں کا ٹراما زیادہ گہرا اور ان پہ دہشت گردی کا اثر زیادہ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہزارہ شیعہ عورتوں نے ایک سے زیادہ مرد مذہبی دہشت گردی میں اپنے خاندان کے کھوئے ہیں۔یہاں پہ  شیعہ ہزارہ عورتوں کی حالت میں بیان کرتی ہوں:حقیقت کیا ہے؟ آپ کے گھر سے ایک دم پانچ افراد جن میں آپ کے والد،بھائی اور بیٹے شامل تھے کے جنازے نکلےتو اس حقیقت کو کیسے جوڑتی ہیں ان جنازوں سے ؟اس گھر کی عورتیں کیسے گزریں اس سے ؟ ان عورتوں کا مستقبل کیا ہے؟ ہزارہ عورتیں؟ مواد بتاتا ہے کہ ہزارہ شیعہ عورتیں دیوبندی عسکریت پسند عناصر کی جانب سے ابھی تک دہشت گردی کی دھمکیوں کا سامنا کررہی ہیں۔ایسے عناصر میں لشکر جھنگوی،سپاہ صحابہ پاکستان وغیرہ شامل ہیں۔یہاں تک کہ اپنے سب ہی مردوں کو ان دہشت گردوں کی وجہ سے کھودینے کے بعد بھی ان کو دھمکیوں کا سامنا ہے۔مثال کے طور ایک ہزارہ عورت ہیومن رائٹس واچ کو بتاتی ہے کہ کیسے اس کے شوہر کے مارے جانے کے بعد بھی اسے دھمکیاں ملتی ہیں:

اس کے مارے جانے کے بعد میں اس کا سیل فون استعمال کرتی ہوں اس پہ بھی مجھے دھمکی آمیز کال موصول ہوتی ہیں۔وہ طنز کرتے ہیں اور یہاں تک کہ بعض اوقات انتہائی بے ہودہ اور فحش زبان استعمال کرتے ہیں۔پہلی کال عابد کے مرنے والی رات آئی۔۔۔مرد نے پوچھا۔۔۔ “اب کیسا محسوس کرتی ہو” اور پھر فون فوری بند کردیا گیا۔

جس جذباتی تجربے سے ہزارہ خواتین گزرتی ہیں وہ طبقے اور فرقے کے لحاظ سے مختلف عورتوں سے الگ ہوسکتے ہیں۔ساری ہزارہ کمیونٹی حملےکی زد پہ ہے تو ان کے تجربے بھی ایک جیسے ہیں۔مثال کے طور پہ ایک عورت جس نے اپنا بھائی خودکش حملے میں کھودیا کہا:

ہمارے چاروں طرف ہمسائے میں گھروں میں ماتم تھا اور مارے جانے والوں کا نوحہ تھا اور ہماری چھتوں اور قبرستانوں خون کے چھینٹے اور لوتھڑوں کے نشانات تھے اور یہ بہت خوفناک تجربہ تھا۔

ایسے ہی ایک اور شیعہ ہزارہ عورت جس نے اپنے بھائی کو کھودیا کہا:

وہ ہمارے خاندان میں سب سے چھوٹا تھا۔سب سے زیادہ لاڈلا تھا۔اور سب سے زیادہ اس کی فکر کی جاتی۔اور اگر وہ باہر جاتا اور دیر ہوجاتی تو ہم سب فکر مند ہوجاتے۔ایک دوسرے کے تحفظ کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی فکر زیادہ ہوتی ہے۔اس حادثے نے ہمیں زیادہ تلخ اور برہم کردیا۔

ہزارہ عورتوں نے جس ٹراما کا سامنا کیا اس سے پہلے سے معلوم یہ حقیقت اور ٹھوس ہوگئی کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے۔تو اپنے پیاروں کا غم منانے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی زندگیوں کے خطرے میں ہونے کے خوف کا سامنا بھی کررہی ہیں جبکہ لاہور یا کراچی میں عورتوں کو ایسا سامنا نہیں ہے۔ایک شیعہ ہزارہ عورت کہتی ہے کہ اس کے والد کی موت کے بعد کئی بار اسے عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

نوٹ: لیکن 2016ء کے محرم کے دوران اور صفر المظفر کے مہینوں میں یہ بات ایسے نہیں رہی ہے۔سپاہ صحابہ پاکستان جیسی دیوبندی عسکریت پسند تنظیموں نے خاص طور پہ عورتوں کی مجالس کو نشانہ بنایا اور مجلس سے لوٹ کر آنے والی عورتوں کو بطور خاص نشانے پہ رکھا گیا۔

” اپنی موت سے کچھ دن پہلے میرے والد نے میرے بھائیوں اور اپنے کئی دوستوں کو اپنی جان کے خطرے میں ہونے بارے خبردار کیا تھا۔انہوں نے ہر ایک کو اپنے تحفظ کے غیرمعمولی انتظام کرنے کو کہا۔اس کی وجہ ان کو لشکر جھنگوی کی جانب سے ملنے والی دھمکیاں تھیں”۔

شیعہ عورتیں جو غیر ہزارہ ہیں وہ بھی دہشت گردی کی متاثرہ ہیں اور جذباتی ٹراما سے ان کو گزرنا پڑا ہے۔مثال کے طور شیعہ  عورتیں جنھوں نے نہ صرف اپنے شوہر کو کھودیا بلکہ اس نے اپنے اسکول جانے والے بچّے کو بھی کھویا وہ کہتی ہیں کہ وقت بہت بڑا مرہم ہے۔ایک شیعہ عورت جس نے اپنے شوہر کو کھویا اور ساتھ ہی اپنے گیارہ سالہ بیٹے کو بھی جن کو دہشت گردوں نے گولیاں مار کر ہلاک کیا دو سال پہلے کہتی ہیں کہ اگرچہ وہ ٹراما سے نکل آئی ہیں لیکن جب تک وہ زندہ ہیں اس صدقے کا بوجھ ان کے سینے پہ رہے گا۔

(Haider 2015)

اگرچہ کچھ خاندانوں کو سوشل سپورٹ ملی لیکن یہ ان کے نقصان کی شدت ک مداوا نہیں بن سکتی۔ایسے خاندانوں کو مستقل اور طویل المعیاد مدد کی ضرورت ہے۔ایسی ہی عورتوں کے مطابق جنھوں نے اپنے شوہر اور بچّے کھودئے وہ بہت کچھ کرسکتی ہیں لیکن دکھ اور تکلیف کے اس مرحلے میں ان کا اپنی ضرورتوں کے لئے کچھ کرنا ابھی ممکن نہیں ہے۔چالیس روزہ سوگ کے بعد ایسے خاندانوں کو عمومی طور پہ اپنی مشکلات سے خود نمٹنے اور اپنے لئے تنہا ہی خود کچھ کرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ان خاندانوں کے رشتہ دار اور احباب تھوڑے دیر کو تو ان کی سپورٹ کرتے ہیں لیکن جلد ہی یہ سوتے خشک ہوجاتے ہیں۔وہ خود بھی اس محتاجگی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن ایسا کہنا کرنے سے کہیں آسان تر بات ہے۔

بعض متاثرہ خاندان زرا خوشخال ہوتے ہیں لیکن اکثریت کے معاملے میں ایسا نہیں ہے اور ان کی معاشی حالات پہلے ہی دگرگوں ہوتے ہیں ایسے واقعات کے بعد اور ہوجاتے ہیں۔اور ان کے پاس اپنے مسائل متعلقہ فورم تک پہنچانے کی مہارت بھی نہیں ہوتی۔

یہ اس حقیقت سے ظاہر ہے کہ بہت ہی کم مثالیں ایسی ہیں جس میں متاثرہ خواتین نے اپنا نکتہ نظر یا تجربہ میڈیا میں بیان کیا ہو جیسے اخباری آرٹیکل ہوتے ہیں۔ایسے خاندان بھی ہیں جنھوں نے نہ صرف اپنے خاندان کے افراد دہشت گردی میں کھودئے بلکہ ان کی دیکھ بھال کرنے والا مرد بھی معذور ہوگیا۔ایسے خاندانوں کے جذباتی اور نفسیاتی حالات مختلف ہوسکتے ہیں ان خاندانوں سے جن کی دیکھ بھال کرنے والے موجود ہیں۔مثال کے طور پہ پارہ چنار سے ایک شیعہ خاتون جس نے اپنا باپ دہشت گردی میں کھودیا اور اس کی بہنیں مفلوج ہوگئیں زخموں کے نتیجے میں اور وہ صحتیاب ہوگئی۔اس نے کہا: دوسری چیزوں سے نمٹنا کافی مشکل ہے۔ہمارے والد گزرگئے اور ہم اس ٹراما سے باہر آگئے۔اور ہم زندگی میں آگے کی طرف دیکھ رہے تھے لیکن سب سے زیادہ مشکل اور ناقابل برداشت نقصان مری بہن کا تھا۔مری بہن جس کی عمر 31سال کی ہے اس وقت 28 سال کی تھی جب وہ مفلوج ہوگئی۔اس نے تو زندگی کا لطف ہی کھودیا۔یہ اس کے بچوں کے لئے بہت بڑا نقصان ہے جب وہ اپنی ماں کو دوسروں کا محتاج دیکھتے ہیں۔اور وہ اس کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے۔اس وقت جب وہ دہشت گردی کے نتیجہ میں مفلوج ہوئی تو اس کے بچوں کی عمریں 5،7،9 سال کی تھیں۔دو لڑکیاں اور ایک لڑکا۔

سنّی بریلوی عورتیں جنھوں نے اپنے گھر کے افراد کھودئے ان کو بھی بڑے جذباتی نقصان سے گزرنا پڑا۔ایک مان جس نے اپنے 30 سالہ بیٹے کو ایک بریلوی مسجد میں ہوئے بم دھماکے میں کھودیا یاد کرتی ہے:وہ ہمارے تصور سے بھی بڑی ٹریجڈی تھی جس کا ہمیں سامنا ہوا اور ہم نے نہ صرف اپنا واحد کمانے والا گنوایا بلکہ ميں نے اپنا بیٹا بھی گنوادیا۔اس کی بیوہ نے اپنا شوہر اور اس کی بہنوں نے اپنا بہت خیال رکھنے والا پیارا بھائی اور اس کے چھوٹے بھائی نے اپنے باپ جیسا بھائی کھودیا۔

یہ صرف جذباتی،نفسیاتی اور سماجی اثر نہیں ہے بلکہ اس نقصان کا معاشی اثر بھی ہے۔

احمدی عورتیں بھی ایسے ہی جذباتی اور نفسیاتی ٹراما سے گزری ہیں۔ایسی ہی ایک احمدی عورت جس نے اپنے سسر کو جو اس کا ماموں بھی تھا کھودیا کہا کہ اس کے خاندان کو بڑے جذباتی ٹراما سے گزرنا پڑا اور مزید یہ کا اس کے شوہر کو ملنے والی دھمکیوں نے ان کو ملک چھوڑنے اور پناہ ڈھونڈنے کی تلاش پہ مجبور کردیا ہے۔

 اس کے مطابق اس کے سسر ایک عظیم آدمی تھے۔وہ جمعہ کی نماز پڑھنے گئے تھے جب عبادت گاہ پہ حملہ ہوا۔ہمیں خبروں سے پتا چلا۔مرے شوہر ان کو ہسپتال میں تلاش کررہے تھے جب ان کو ان کا پتا چل گیا اور وہ زرا مستحکم حالت میں نظر آرہے تھے لیکن چند گھنٹوں بعد ان کو پتا چلاکہ وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔وہ ہماری مشترکہ فیملی کے سربراہ تھے۔اور سارے فیصلے وہی کرتے،ان کے بعد ہمیں زندگی سے نبردآزما ہونا بہت مشکل لگتا ہے۔

ان انٹرویوز سے یہ پتا چلا کہ احمد متاثرین نے بھی قابل زکر جذباتی،سماجی اور مالی سپورٹ اپنی کمیونٹی سے حاصل کی لیکن دوسرے لوگ جیسے ان کے ہمسائے تھے انہوں نے احمدی ہونے کی وجہ سے ان کو سپورٹ فراہم نہیں کی اور اس کی وجہ ان کا عقیدہ اور فرقہ وارانہ تعصب تھا: ہمیں دیگر متاثرین کی طرح جماعت احمدیہ کی طرف سے پوری سپورٹ ملی لیکن غیر احمدی لوگوں نے ہماری سپورٹ نہ کی جیسے ہمارے پڑوسی تھےکیونکہ وہ ہم سے میل جول پسند نہیں کرتے تھے ہمارے عقائد کی وجہ سے۔ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ ایسا کیوں ہے لیکن ہم اس کا شکوہ نہیں کرنا چاہتے۔

مذکورہ بالا مثالیں مختلف فرقوں،ایتھنی سٹی اور طبقاتی پس منظر کی حامل دہشت گردی کی متاثرہ خواتین پہ ہوئے حملوں کے سماجی اثر کا ایک مجموعی جائزہ پیش کرتی ہیں۔

معاشی اثر

پاکستان مردانہ غلبے والا معاشرہ ہے جہاں پہ عورتیں دوسرے درجے کی شہری سے زیادہ کچھ نہیں ہیں-فردوس2005۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ عورتیں زیادہ تر وقت اپنے گھر میں گزارتی ہیں اور اجنبی مردوں بارے ان کا کوئی خاص تجربہ نہیں ہوتا ہے۔مردبالادست دنیا سے نبردآزما ہونا ایک ٹراما تجربہ ہوتا ہے جس کا سامنا کرنا ان کے لئے کافی مشکل ہوتا ہے۔بہت ساری عورتیں تو کبھی تنہا بینک، سرکاری دفتر، بک شاپ اور یہاں تک کہ ہسپتال نہیں جاپاتیں۔

 (Ferdoos 2005)

اجنبیوں سے انٹریکٹ کرنے سے گزیز والا عمل اصل میں پردہ سسٹم سے بہت زیادہ جڑا ہوا ہے۔جس کی پھر بنیاد مخلوط قسم کے انٹریکشن کے موجود نہ ہونے پہ ہے اور اس نظریہ پہ ہے کہ نامحرم مرد اور عورتوں کے درمیان میل جول جنسیت کو ابھارتا ہے۔

 (Ali and Kramar 2015; Ferdoos 2005)

مردوں کو روزی کمانے والا خیال کیا جاتا ہے۔

 (Ali 2013)

تو جب عورتیں اپنے مالی امداد کنندہ کو کھودیتی ہیں جیسے شوہر،بھائی،باپ یا بیٹا تو روزمرہ کے جو فنانشل ایشوز ہوتے ہیں اس سے نمٹنے میں ان کو کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہزارہ شیعہ عورتوں کے کیس میں مشکلات کی سطح بہت ہی شدید ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کوئٹہ معاشی طور پہ کم مراعات یافتہ علاقہ ہے اور ہزارہ شیعہ کی جانوں کو دیوبندی عسکریت پسندوں کو خطرہ لاحق ہے تو وہ ایک خاص علاقے تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ایک ہزارہ شیعہ کے مطابق وہ بازار سے سبزی یا شوگر تک خریدنے نہیں جاسکتا کیونکہ اس دوران اس کے مارے جانے کا خطرہ ہے۔تو مجھے ایک بلاک کے ہی دائرہ میں کرنا ہے جو بھی کرنا ہے۔چاہے اس کی مجھے کتنی زیادہ مالی قیمت ادا کرنی کیوں نہ پڑے۔یہ بالکل جیل میں رہنے جیسا معاملہ ہے۔

  (Thacker 2014)

اس خاص سیاق و سباق میں ہزارہ شیعہ عورتیں جو دہشت گردی کی متاثرہ ہیں اپنے روزی روٹی کمانے والے مردوں کے مارے جانے کے سبب انتہائی شدید خراب معاشی حالات کا سامنا کررہی ہیں۔جن خاندان کے افراد لشکر جھنگوی کے ہاتھوں مارے گئے جو روٹی کمانے کا واحد زریعہ تھے ان کے حالات بہت خراب ہیں۔صغری جوکہ محمد زمان کی بیوہ ہے جو 6 نومبر2012ء میں سپنی روڈ کوئٹہ میں ٹیکسی پہ ہونے والے حملے کے دوران مارا گیا اپنے شوہر کے مارے جانے کے معاشی اثر بارے بتاتی ہے:مجھے نہیں پتا کہ میں مدد کے لئے کس کے پاس جاؤں۔میرا کوئی زریعہ آمدن نہیں ہے۔میرا خاندان خاص طور پہ مری والدہ مجھے پہ رحم کھاتے ہیں اور مری مدد کردیتے ہیں۔لیکن میں جانتی ہوں کہ وہ بھی زیادہ عرصے تک اس سپورٹ کو جاری نہیں رکھ سکیں گے کیونکہ وہ آپ بہت غریب ہیں۔مرے پاس اتنے بھی پیسے نہیں ہیں کہ میں اپنے بچوں کو اسکول بھجواسکوں۔میں اور مرے بچّے بظاہر زندہ ہیں لیکن آپ ہمیں مرے ہوئے ہی شمار کریں۔اگر لشکر جھنگوی ہمیں نہیں مارے گی تو غربت مارڈالے گی۔

(HRW 2014)

دسمبر کی 31 تاریخ اور سال 2012ء جب انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹرائبون نے ایک نوجوان ہزارہ عورت مقیم کوئٹہ کے یہ الفاظ شایع کئے :ان عورتوں کا مستقبل کیا ہے؟ شیعہ ہزارہ عورتوں کا ؟جبکہ ان کے مردوں کو زبح کردیا گیا ہے اور ان کو اپنے گھروں کی چاردیواریوں سے نکلنا ہے کیونکہ ان کے پاس اس کے سوا روزی کمانے کے لئے اور کوئی راستہ نہیں ہے اور ان کے اردگرد مصبیتوں نے اکٹھا ہونا شروع کردینا ہے۔یہ مرد ہیں جنھوں نے ان کے سروں سے چھت چھین لی وہ مرد جو ان کے روزی کے سہاروں کو مارنے کے زمہ دار ہیں۔اور اب دوسرے مرد ایسے ہیں جو ان کی مالی مدد کی بجائے بس دو حرف تسلی کے بولتے ہیں اور میں ان عورتوں میں سے ایک ہوں۔

(Zahidi 2012)

غیر ہزارہ شیعہ عورتیں جوکہ دہشت گردی کی متاثرہ ہیں مالی مشکلات سے گزرتی ہیں۔تاہم ان کی معاشی صورت حال اتنی شدید نہیں ہے جتنی شدید ہزارہ شیعہ عورتوں کی ہے۔مثال کے طور پہ پنجاب میں ایک شیعہ ڈاکٹر کی بیوہ اپنی کہانی بیان کرتی ہے:ایک بیوہ اپنے آپ کو اچانک ایسے مسائل میں گھری پات ہے جن سے وہ مکمل طور پہ ناآشنا ہوتی ہے۔جیسے گھر کی دیکھ بھال،بجٹ بنانا اور آمدن پیدا کرنا تاکہ خاندان کی نئی حرکیات اور نازک رشتوں کو برقرار رکھا جاسکے۔ایک بیوہ کو اچانک اپنے چھوٹے بچوں کو تنہا ہی پالنا پوسنا پڑتا ہے۔ان تمام کیسز میں نئے ضابطے اور نیا سپورٹ سسٹم پیدا کرنا پڑتا ہے۔ہسپتال رپورٹوں سے لیکر بینکوں تک اور کھانا تیار کرنے سے لیکر خاندان کی دیکھ بھال تک دوستوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

 (Haider 2015)

مالی طور پہ خوشحال شیعہ عورتوں کو حکومتی مالیاتی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن ایسی خواتین کا کیا معاملہ ہوتا ہے؟ اس بارے ایک شیعہ عورت جس نے اپنے بھائی کو کھویا بتاتی ہے:بعض لوگوں کو فنانشل سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے حکومت کو ان کی مدد کرنی چاہئیے لیکن ہمارے لئے اپنے بھائی کے خون کے بدلے رقم درکار نہیں ہے۔

سنّی بریلوی عورتوں کو بھی مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک سنّی بریلوی عورت جس نے لاہور بریلوی مدرسہ میں ہوئے خودکش بم دھماکے میں اپنا بیٹا کھویا اپنی مالی مشکلات کا بیان کرتی ہے:ہمارا واحد روزی کا سہارا ہمارا بیٹا تھا تو اس کی موت کے سبب مرے چھوٹے بیٹے کو تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی اور گھر کا خرچ چلانے کے لئے نوکری کرنا پڑی۔حکومت نے معاوضہ کا اعلان کیا تھا اور ہمین 5 لاکھ روپے کا چیک ملا جوکہ پانچ ماہ بعد جاکر کیش ہوا۔

وہ مزید اپنے احساسات یوں بیان کرتی ہے:یہ ہمارے تصور سے بھی بری مصیبت تھی،ایک تو روزی کمانے والا چلا گیا،دوسرا جہاں ميں نے اپنا بیٹا کھویا تو اس کی بیوہ نے اپنا شوہر،بھائی نے باپ جیسا بھائی اور بہنوں نے خیال رکھنے والا پیارا بھائی کھودیا۔تو اس کا نقصان بہت بڑا ہے۔

تاہم بعض مثالوں میں جو خاندان دہشت گردی کا متاثرہ تھا اس میں کئی افراد کمانے والے تھے تو وہان پہ معاشی اثرات تو نہ تھے اس طرح سے بلکہ جلد ان کے ہاں ٹراما سے نکلنے کی کہانی نظر آتی ہے۔ایک سنّی بریلوی عورت جس نے اپنے شوہر کو ایک ٹارگٹ حملے میں کھودیا اس کا کہنا تھا:مرے شوہر گھر چلانے میں ہاتھ بٹاتے تھے لیکن وہ گھر کے واحد کمانے والے نہ تھے،میرا بیٹا ایک کمپنی میں ملازم ہے اور بعض صوبائی سرکاری مذہبی اداروں کا رکن بھی اور وہ وہاں سے تنخواہ اور وظائف پاتا ہے۔بعض جائیداد بھی ہے جو کرایہ پہ ہے تو معاشی پریشانی کا سامنا تو نہیں ہے۔

احمدی عورتوں کے معاملے میں معاشی اثر بارے کیس دوسرے فرقوں کی عورتوں کے کیسز سے مختلف ہے۔دہشت گردی کی متاثرہ احمدی عورتوں کی نہ صرف اشک شوئی کی جاتی ہے بلکہ جماعت احمدیہ ان کی مالی سپورٹ بھی کرتی ہے۔مثال کے طور پہ ایک احمدی عورت جس کا سسر دہشت گردی کا شکار ہوا تھا نے بتایا:جب مرے سسر لاہور میں ایک احمدی مسجد پہ ہونے والے حملے کے دوران مارے گئے تو تب سے ہمارے خاندان کو ہماری جماعت کی جانب سے مسلسل سپورٹ ملی۔ہمارے جماعت کے مقامی رہنماء نے متاثرہ 85 خاندانوں کو تین ماہ تک راشن فراہم کیا تو ان کو اس حوالے سے کسی دشواری کا سامنا نہ تھا۔اور جن عورتوں کے کمانے والے نہ رہے تو ان عورتوں کو جتنا ان کے مرد کماتے تھے اتنا ہر ماہ وظیفہ دینا شروع کردیا گیا۔ان کے بچے ان ہی اسکولوں میں فیس کی فکر کئے بغیر جانے لگے۔ہمارے مذہبی رہنماء نے ایسے تمام متاثرہ گھرانوں کی دیکھ بھال کا حکم جاری کیا اور کسی ایک خاندان نے بھی حکومتی امداد قبول نہ کی۔

مذکورہ بالا نتائج مختلف فرقوں کی عورتوں پہ دہشت گردی سے متاثر ہونے کے بعد پڑنے والے معاشی اثر کی وضاحت کرتے ہیں۔

دہشت گردی سے متاثرہ خواتین کی حکمت عملی

اس سیکشن میں ہم اس بات پہ فوکس کریں گے کہ دہشت گردی کی متاثرہ خواتین نے اپنی مشکلات پہ کیسے قابو پایا اور کیا حکمت عملی اس حوالے سے اختیار کیں۔کیسے انہوں نے اپنے آپ کو پیش آمدہ حالات کے مطابق ڈھالا۔کیسے ردعمل ظاہر کیا اور اپنے پیاروں کے کھوجانے کے بعد اپنے تجربات سے کیا سیکھا۔مین سٹریم میڈیا میں ہزارہ شیعہ عورتیں اس وقت دکھائی دیتیں جب وہ دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرتی تھیں۔ماضی میں پاکستانی قوم نے ان عورتوں کو اپنے پیاروں کی لاشوں کے سیاست انصاف کی دھائی دیتے دیکھا تھا۔عورتیں نیشنل و انٹرنیشنل میڈیا پہ اپنے خاندان کی مکمل حمایت کے ساتھ احتجاج کرتی نظر آئیں۔ایسی شیعہ ہزارہ عورتوں نے بہادری سے اس طریقے سے اپنی آواز بلند کی :مجھے لازم ہے کہ میں اس بات کو اگے پہنچاؤں کہ ایک شیعہ ہزارہ عورت ہونے کا مطلب کیا ہے؟ آج میں اپنی کہانی کا کچھ حصّہ بیان کرنے جارہی ہوں۔۔۔۔۔ کہانی مری اور مرے لوگوں کی۔جب ہم میں سے کوئی آپ کے سامنے آتا ہے تو آپ میں سے اکثر ہمیں چینی یا کوریائی کہتے ہو۔ہمارے نقش و نگار تمہاری طرح نہیں ہیں۔نہ ہی ہماری نسل یا جینیاتی ترکیب تمہارے جیسی ہے۔اور ہمارا درد بھی ایسے ہے جیسے اوروں کا درد ہو۔ہم پاکستانی تو ہیں لیکن ابھی تک ایسا سمجھا نہیں جاتا۔بہت کم ہمارے لئے آواز بلند کریں گے کہ ہمارے 30 لوگوں کو بس سے باہر لاکر گولی ماری دی گئی کیونکہ ہم شیعہ ہیں۔صرف اس لئے کہ ہمارے خدوخال منگولوں جیسے ہیں۔اس لئے کہ ہماری ہجرت افغانستان سے ہے؟ آپ میں سے کتنے ہیں جن کے ایک ہی گھر سے پانچ مرد بشمول باپ،بیٹا  اور بھائی،شوہروں کے جنازے نکلے ہوں۔ان گھروں کی عورتیں کس حالت کی گرفتار ہوں گی؟

نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا نے فروری 2013ء میں شیعہ ہزارہ عورتوں کی بھرپور کوریج کی جب 84 شیعہ ہزارہ ایک خودکش حملے میں جاں بحق ہوگئے۔غیر ہزارہ شیعہ عورتیں بھی ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لئے کردار ادا کرتی ہیں۔ایک شریک عورت نے مجھے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا ایکٹوازم کرتی ہے لیکن یہ زیادہ دیر تک مدد نہیں کرتا:بعض اوقات میں اس کے بارے میں ایسے بات کرتی کہ وہ جیسے ابھی تک وہاں ہو،میں اس کی فیس بک کھولتی اور رونے لگتی۔بعض اوقات میں اسے ٹیکسٹ کرتی۔میں سوشل میڈیا کے زریعے ایکٹوازم کرکے اپنا غصّہ نکالتی۔میں نے بہت سے لوگوں سے 5 سالوں میں تلخ مکالمے کئے۔لیکن آخرکار میں نے سوشل میڈیا پہ اپنے آپ کو ڈی ایکٹویٹ کرلیا اور لوگوں سے اپنے آپ کو فاصلے پہ کرلیا۔

ایک اور شیعہ خاتون جس نے اپنا بیٹا اور شوہر کھودیا تھا نے ایک گروپ

Grief Directory

کے نام سے شروع کیا تاکہ دوسرے متاثرہ خاندان اور ماؤں کی مدد کی جاسکے۔اس کے اپنے الفاظ میں کہ میں نے اس گروپ کو شروع کیا تو بظاہر یہ ایک چھوٹا سا قدم تھا۔یہ ہمارے بقا کا سفر تھا،یہ مرے درد میں کمی لانے کا سبب بنت اگر میں دوسروں کی بقاء میں مددگار ثابت ہوتی تو۔ہم ایک جیسے درد کا شکار تھے اور یہ جاننا بہت اہم تھا کہ ہم تنہا یا اکیلے نہیں ہیں۔اس گروپ کا کام متاثرہ خاندان کو رضاکارانہ بنیادوں پہ خدمات کی فراہمی کا میکنزم تیار کرنا تھا۔ایک مرتبہ ایک خاندان جب رجسٹر ہوجاتا تو اس کے افراد کی مدد سے ان کی ضرورتوں کی لسٹ تیار کی جاتی۔اور لوگ رضاکارانہ بنیادوں پہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے۔

(Haider 2015)

ایک شیعہ عورت نے اپنے بھائی کی کئی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد کی جب ان کے والد دہشت گردی کا نشانہ بنے:یہ بہت بڑا نقصان تھا جب ہمارے  والد اچانک دہشت گردی کا نشانہ بنے لیکن اس کی وجہ سے کوئی سیریس مالی دشوار؛ نہ ہوئی کیونکہ ہمارے پاس دوسرے زرایع آمدن موجود تھے۔لیکن اس حادث کے بعد ہمارے خاندان کو کئی مشکلات کا سامنا تھا۔کئی ایسے معاملات تھے جن کو حل کرنے کے لئے زیادہ عزم اور حوصلے کی ضرورت تھی۔میرے بھائیوں کے لئے ہر ایک چیز کی دیکھ بھال کرنا مشکل تھا۔تاہم ميں نے اور میرے بھائی نے ملکر صورت حال کا مقابلہ کیا۔

ایک اور 12 سالہ شیعہ لڑکی محضر زھرا پاکستانی عورتوں کے لئے ہمت کی مثال ہے۔30 نومبر 2012ء کو وہ اپنے والد سید نذر عباس کے ساتھ موٹر سائیکل پہ اسکول سے واپس آرہی تھی جب دیوبندی عسکریت پسندوں نے ایک موٹر بائیک پہ ان کو گھیرلیا اور فائرنگ کردی۔اس کے والد ہلاک ہوگئے اور وہ شدید زخمی ہوگئی۔یہ معاملہ ابتدائی طور پہ ميڈیا میں ہائی لائٹ ہوا اور اس کو ملالہ یوسف زئی سے تشبیہ دی گئی۔کیونکہ دونوں لڑکیاں تھیں اور دونوں اسکول جارہی تھیں اور اسکول سے واپسی پہ دونوں پہ حملہ ہوا۔لیکن محضر زھراء کا معاملہ جلد ہی پردہ سکرین سے غائب ہوگیا۔

 (Tarar 2012)

جب ڈاکٹرز نے پہلی بار محضر زھرا کا معائنہ کیا تو انہوں نے اس کی والدہ کو بتایا کہ یہ صرف وینٹی لیٹر پہ ہی زندہ رہ سکتی ہے ساری عمر۔اگلے 38 دن اس کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں تین بار لیجایا گیا۔کبھی وینٹی لیٹر پہ کبھی وینٹی لیٹر سے الگ کہ کوئی معجزہ رونما ہوجائے۔اس کی حالت بہت نازک تھی۔ایک گولی نے اس کے دونوں پھیپھڑے چھید ڈالے تھے اور دوسری نے ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچایا تھا۔اور ایک اور گولی اس کی کلائی کے آر پار ہوگئی تھی۔ایک سال کے اندر اندر محضر زھرا نے 23 ارچ 2013ء کو کراچی میں شہداء کی ایک کانفرنس میں وہیل چئیر پہ شرکت کی۔اپنی تقریر میں اس نے تکفیری دیوبندی عسکریت پسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:تمہارا خیال ہے کہ تم ہمیں روک لوگے۔نہیں! مرے ابّا اس لئے مارے گئے نا کہ وہ ایک شیعہ تھے۔لیکن رسم عزاداری اور محرم کا سوگ منایا جانا کبھی نہیں رکے گا۔ہم کبھی ذکر امام حسین رضی اللہ عنہ سے باز نہيں آئیں گے۔میں اپنی قوم کی شکر گزار ہوں جنھوں نے مری صحت یابی کی دعائیں کیں،اور میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے اور مجھے مزید علاج کے لئے باہر بھجوائے،تاکہ میں پھر اپنے پیروں پ چلنے کے قابل ہوجاؤں اور اپنی قوم کی خدمت کرسکوں۔

اپنی مشکلات ، ہمت اور انسانی حقوق پہ موقف کے حوالے سے محضر زھرا کو پاکستان کی اینی فرینک کہا گیا۔ اپنے مضبوط عزم کے زریعے وہ بہت سے لوگوں کے لئے مثال ہے۔

آرمی پبلک اسکول پشاور کے طلباء جو دیوبندی عسکریت پسندوں کے حملے میں 16 دسمبر 2014ء میں مارے گئے تھے ان کی سنّی، شیعہ اور دوسری مائیں اپنے بڑے نقصان کے بعد بقاء کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ان کی اکثریت کو میڈیا پہ دکھایا گیا۔ان میں سے ایک متاثرہ ماں نے شکایت کی:وہ ان کے قاتلوں کو سرعام پھانسی کیوں نہیں دیتے تاکہ شہید بچوں کی ماؤں کے کلیجے میں کچھ ٹھنڈ پڑے؟

اس حادثے نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔تاہم ان بچوں کی ماؤں کا درد کبھی نہ ختم ہونے والا ہے۔ایک ماں نے کہا:یہ درد تو مری موت کے بعد ہی ختم ہوگا۔

والدین نے ایک شہداء فاؤنڈیشن قائم کی۔تاکہ ایک دوسرے کی مدد کی جاسکے۔انہوں نے حکومت اور فوج سے انصاف کا مطالبہ بھی کیا۔ایک اور طالب علم کے والد اختر نے ایک این جی او اپنے شہید بیٹے کے نام پہ قائم کی تاکہ اس کی روح کو سکون ملے:میں نے ایمان خان شہید کے نام سے معاشرے کمزوروں کی مدد کے لئے این جی او ایمان خان شہید اے پی ایس ویلفئیر سوسائٹی شروع کی ہے،مقصد علم پھیلانا اور غربت کا خاتمہ ہے۔

 (Qayyum 2015)

انٹرویوز سے پتا چلتا ہے کہ احمدی خواتیں نے بھی مشکلات سے نمٹنے کے لئے ایسی ہی سٹریٹجی بنائیں،جب لاہور میں دوہزار دس میں احمدیوں پہ حملہ ہوا تو احمدیہ کمیونٹی ٹی وی چینل نے تمام متاثرہ 85 خاندانوں کے انٹرویو کئے۔کچھ معلومات ان ہی انٹرویوز کے زریعہ سے اکٹھی کی گئیں ہیں۔ان انٹرویوز سے اندازہ ہوتا ہے کہ احمدی خواتیں اس صدمے کے باوجود پر‏عزم دکھائی دیں اور انہوں نے اپنے پیاروں پہ فخر کیا۔ایک بیوہ کہتی ہے:مجھے اپنے شوہر کی قربانی پہ فخر ہے اور اس بات پہ اطمینان بھی کہ ہمارے خلیفہ اس دکھ اور آزمائش کی گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے۔

ایک اور سن رسیدہ عورت جس کا بیٹا اس دھشت گردی میں مارا گیا بھرے آنسوؤں سے کہتی ہے: ماں ہی جانتی ہے وہ درد جو اسے جواں سال بیٹے کی مرگ ناگہانی پہ ہوتا ہے لیکن پھر اللہ کی حمد، اللہ کی حمد ، اللہ کی حمد

تتمہ بحث

اس ریسرچ میں ہم نے دیوبندی عسکریت پسندی سے متاثرہ خواتین کی زندگیوں پہ اس کے سماجی و معاشی اثرات کا جائزہ لیا۔ان کی جانب سے ان حالات سے نمٹنے کے لئے اپنائی جانے والی حکمت عملی پہ غور کیا۔مین نے جینڈر اور مذہبی عقیدے کی انٹرسیکشنلٹی کو استعمال کرتے ہوئے عورتوں کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا اس پہ روشنی ڈالی۔اس مقصد کے لئے شیعہ ہزارہ، شیعہ غیر ہزارہ، سنّی بریلوی اور احمدی عورتوں کے انٹرویوز کئے گئے۔اس کے ساتھ ساتھ ثانوی مواد بھی استعمال کیا گیا۔اور اس تحقیق سے ہمارے سامنے یہ بات آئی کہ یہ تینوں فرقے شیعہ، سنّی بریلوی اور احمدی دیوبندی عسکریت پسندی کا شکار ہیں لیکن جینڈر،فیتھ اور اتھنی سٹی کی بنیاد پہ ان کے تجربات مختلف بھی ہیں۔خاندان کے کسی بھی فرد کا مارا جانا ہر ایک کے لئے دردناک ہے۔مواد کا تجزیہ انکشاف کرتا ہےکہ شیعہ ہزارہ عورتوں نے زیادہ بڑے نفسیاتی اور سماجی ٹراما کا سامنا کیا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان عورتوں نے ایک سے زیادہ خاندان کے لوگ کھو دئے۔اور پھر ان کو دیوبندی عسکریت پسندوں کی طرف سے مزید دھمکیوں کا سامنا ہے۔ہزارہ عورتوں کی کہانیوں سے ان کی بے بسی کے احساس کا بھی پتا چلتا ہے۔شیعہ عورتوں /غیر ہزارہ شیعہ عورتوں کا کیس بھی ایسا ہی ہے لیکن ان کے ٹراما کی شدت زرا کم ہے۔احمدی عورتوں کو نہ صرف سماجی بلکہ مالی سپورٹ بھی ملی ان کی جماعت کی جانب سے۔غیر احمدی کمیونٹیز بشمول ان کے پڑوسی ان کے عقائد کی بنا پہ ان سے لاتعلقی کا مظاہرہ کرتی نظر آئیں۔معاشی اثرات کے معاملے میں شیعہ ہزارہ خواتین ایک بار پھر زیادہ متاثر ہیں۔کوئی بھی گھرانہ جب روزی کمانے والے سہارے سے محروم ہوتا ہے تو مشکلات بڑھتی ہیں لیکن ہزارہ خواتین کے معاملے میں یہ زیادہ شدید اور سنگین معاملہ ہے۔اور اس کی وجہ شیعہ ہزارہ عورتوں کی پہلے سے کمزور معاشی حالت اور ان کا کم ترقی یافتہ علاقے میں رہنا ہے۔اور ان کے دیگر افراد بھی خطرے میں ہیں اور اس وجہ سے ایک حاص علاقے میں گھرے ہونے کی وجہ سے ان کے معاشی حالات اور دگرگوں ہوگئے ہیں۔ہزاروں شیعہ ہزارہ مرد دیوبندی عسکریت پسندی کا نشانہ بنے اور اس سبب ان کے معاشی،سماجی،سیاسی،نفسیاتی اور جذباتی حالات کار بہت زیادہ سنگین ہیں۔اور اکثر ہزارہ خاندان دوسرے ممالک میں پناہ تلاش کررہے ہیں۔(دیکھیں ہیومن رائٹس واچ رپورٹ 2014)

جن خاندانوں کے مرد نہ رہے ان کی عورتیڑ سخت معاشی حالات کی وجہ سے بہت مشکل سے رہ پاتی ہیں۔شیعہ خواتیں بھی پدرسری معاشرے کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔اور گھر سے باہر کے معاملات ان کے لئے خاصے مشکل ہوتے ہیں۔ایک اہم نکتہ جو ان کی جینڈر اور مذہب سے ہٹ کر یکساں سے وہ ہے ایک جیسے معاشی ایشوز کا سامنا۔تاہم تینوں کیسز میں سماجی طبقہ اور بچ جانے والے مرد ملازمین اہم کردار کے مالک ہوتے ہیں۔دہشت گردی کی متاثرہ خواتین کے لئے روزمرہ زندگی کے معاملات سے نقصان کے بعد نمٹنا آسان نہیں ہوتا لیکن زندگی آپ کو آگے بڑھنے پہ مجبور کرتی ہے۔دہشت گردی کی متاثرہ خواتیں نے بھی زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے اور پیش آمدہ صورت حال سے نمٹنے کے لئے کئی ایک حکمت عملی اپنائیں۔ ان کا زکر اوپر کیا گیا۔ہزارہ خواتین نے اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ بیٹھ کر اپنے معاملے کی سنگینی بارے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔شیعہ عورتوں نے بھی مختلف حکمت عملی اپنائیں۔سوشل میڈیا ایکٹوازم کیا،آرٹیکل لکھے، این جی او بنائی ، سوشل میڈیا پہ گروپ بنائے۔سنّی بریلوی خواتین اور احمدی خواتین جو دہشت گردی کی متاثرہ تھیں احتجاج کے حوالے سے اسقدر سرگرم نظر نہیں آئیں،لیکن ان کے این جی اوز میں اپنے خاندان کے مردوں کی سپورٹ سے سرگرم ہونے کے آثار ملتے ہیں۔خاص طور پہ سنّی بریلوی ویمن۔احمدی خواتین جو دہشت گردی کی متاثرہ ہیں وہ اپنے مذہبی رہنماء کی ہدائیت پہ عمل کرتی ہیں۔خواتین کی اکثریت خاص طور پہ مائیں جنھوں نے اپنے بیٹے کھودئے وہ شہیدوں کی ماں ہونے پہ فخر کرتی ہیں۔یہ بھی درد سے نمٹنے کی ایک حکمت عملی ہے۔بعض احمدی خواتین کو اپنے روحانی رہنماء سے جڑے ہونے میں روحانی سکون نظر آتا ہے۔شیعہ خواتین امام حسین اور ان کے خاندان کی مشکلات کو یاد کرکے اپنا غم کم کرتی ہیں۔یہ انٹرویو ظاہر کرتے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے جو ہیں ان کے بارے میں متاثرہ خواتین میں ابہام پایا جاتا ہے۔اگٹر عورتیں طالبان، لشکر جھنگوی،سپاہ صحابہ پاکستان کا زکر کرتی ہیں،لیکن سنّی بریلوی خواتین واضح طور پہ عسکریت پسندوں کی دیوبندی شناخت کا حوالہ دیتی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ احمدی خاتون کہتی ہے کہ اس نے انٹرویو کے دوران ہی پہلی مرتبہ لفظ دیوبندی سنا ہے۔اس کی ایک وجہ تو لاعلمی ہے کہ دیوبندی مولوی اور عسکریت پسندی عناصر عام طور پہ خود کو سنّی یا اہلسنت کہتے ہیں۔جس کی وجہ سے ان کو اکثریتی امن پسند صوفی سنّی بریلویوں سے الگ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

سفارشات و تلخیص

جب دیوبندی عسکریت پسندی سے متاثرہ خواتین کے تجربات پہ تحقیق کا معاملہ آتا ہے تو انٹرسیکشنلٹی کا عدسہ اہم ہوجاتا ہے کیونکہ ان کا تجربہ ان کی صنف،ایتھنی سٹی اور عقیدے کی وجہ سے مختلف ہوجاتا ہے۔یہاں جو کہانیاں اور واقعات پیش کئے گئے وہ پاکستان میں دہشت گردی کی متاثرہ خواتین کی مشکلات اور تجربے کی پیچیدگی اور چیلنچز کو ظاہر کرتے ہیں۔ان خواتین کے پیش آمدہ حالات سے سرخرو ہونے کی سٹریٹجی پہ بھی یہ تحقیق روشنی ڈالتی ہے۔ان پہ اس کے جو معاشی،نفسیاتی ،سماجی اور جذباتی اثرات مرتب ہوتے ہیں ان عورتوں کا مذہبی،صنفی، طبقاتی پس منظر ان کی شدت میں کمی یا زیادتی کا سبب بنتا ہے۔پالیسی ساو اداروں جیسے حکومت، این جی اوز اور سیکورٹی فورسز ہیں ان کو ان ایشوز کو انٹرسیکشنلٹی کی بنیاد پہ سمجھنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پہ وہ عورتیں جو گھروں کی سربراہ ہیں۔سب سے پہلے توضرورت ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ خواتین کی مدد کرنے کے لئے وفامی اور صوبائی حکومتوں کو ایسی خواتین کے مذہبی صنفی اور طبقاتی پس منظر سے آگاہی حاصل کرنے اور اس کے مطابق پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔جیسا کہ جینڈر لوگوں کی تعلیم،روزگار،صحت،ہیلتھ کئیر اور دوسرے مواقع تک رسائی میں اہم کردار ادا کرتی ہے تو جینڈر سے خاص اپروچ ہی معاشرے میں برابر کے مواقع فراہم کرنے اور ان کو پھر سے معاشرے میں بحال کرنے کا واحد راستہ ہے۔اور پھر ڈویلپمنٹ پالیسیوں اور پروگراموں کا جینڈر پہ واضح فوکس ہونا چاہئیے۔شورش زدہ علاقوں میں تعمیر نو کے پروسس بارے فیصلے کرنے میں عورتوں کی کمیونٹی لیول پہ اور تمام قومی سطحوں پہ آواز کو شامل ہونا ضروری ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ صنفی تعلقات میں سٹرکچرل تبدیلیاں لانے کے لئے طویل المعیاد منصوبے اور پالیسیاں بھی بنانا ضروری ہے۔

آخری بات کہ دیوبندی عسکریت پسند؛ نے بڑے پیمانے پہ مردوں کی شرح اموات میں اضافہ کیا ہے اور بہت ساری عورتیں بیوہ ہوئی ہیں اور وہ گھر کی سربراہ ہیں، اس ایشو پہ خاص طور پہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔حکومت کو ان کی خصوصی تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ان کو ملازمتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی معاشی مشکلات دور کرنے کی ضرورت بھی ہے۔

REFERENCES

Ahmad, U. (2015). Remember the Ahmadis of Lahore, remember the forgotten.

DawnNews.http://www.dawn.com/news/1184975/remember-the-ahmadis-of-lahore-remember-the-forgotten. Accessed on 30 May.

Ahmad, S., Hayat, M., Ahmed, S., & Sajid, I. M. (2014). Gender differences in depression among the affectees of war on terrorism and the role of psychological interventions in the rehabilitation. Pakistan Journal of Criminology, 6(2), 95-112. Ali, F. (2013). A multi-level perspective on equal employment opportunity for women in Pakistan. Equality Diversity and Inclusion, 32(3), 289-309.

Ali, F., & Knox, A. (2008). Pakistan’s commitment to equal employment opportunity for women: A toothless tiger? International Journal of Employment Studies, 16, 39-58.

Ali, F., & Kramar, R. (2015). An exploratory study of sexual harassment in Pakistani organisations. Asia Paci  c Journal of Management, 32(1), 229-249. Arendt, H. (1998). The human condition. Chicago: Chicago University Press(Orig. pub. 1958).

Bailey, G. (2014). The power of Malala. International Social Work, 57(1), 75.Brah, A., & Phoenix, A. (2013). Ain’t IA Woman? Revisiting Intersectionality. Journal of International Women’s Studies, 5(3), 75-86.Bari, F. (2010). Gendered perceptions and impact of terrorism/talibanization in Pakistan. Islamabad: Henrich Boll Stiftung.

BBC News. (2013). Hell on Earth: Inside Quetta’s Hazara community by Muin

Azhar. http://www.bbc.co.uk/news/world-asia-22248500. Accessed on 22 May 2015.

BBC News. (2015). Pakistan gunmen kill 45 on Karachi Ismaili Shia bus. http:// http://www.bbc.co.uk/news/world-asia-32717321. Accessed on 15 May 2015.

Collins, P. H. (2015). Intersectionality’s definitional Dilemmas. Annual Review of Sociology. doi:10.1146/annurev-soc-073014-112142.

Crenshaw, K. (1989). Demarginalizing the intersection of race and sex: A black feminist critique of antidiscrimination doctrine, feminist theory and antiracist politics. The University of Chicago Legal Forum, 140, 139-167. Crenshaw, K. W. (1991). Mapping the margins: Intersectionality, identity politics, and violence against women of color. Stanford Law Review, 43(6), 1241-1299. Ferdoos, A. (2005). Social status of urban and non-urban working women in Pakistan:  A  comparative  study.  Unpublished  PhD  thesis,  University  of Osnabrueck, Osnabrueck.

Haider, F.A. (2015). The grief directory, published in The News. Available at: http://www.thenews.com.pk/Todays-News-9-293745-The-grief-directory

HRW (Human Rights Watch) Report. (2014). We are the walking dead: Killings of Shia Hazara in Balochistan, Pakistan. Available at: https://www.hrw.org/sites/default/files/reports/pakistan0614_ForUplaod.pdf Jawaid, I., Haneef, K., & Pooja, B. (2014). Women, the victim of modern forms of terrorism: An introspection. International Journal of Interdisciplinary and Multidisciplinary Studies, 1(5), 49-59.

Knudsen, S. (2006). Intersectionality: A theoretical inspiration in the analysis of minority cultures and identities in textbooks. In E. Bruillard, M. Horsley,B. Aamotsbakken (Eds.), Caught in the web or lost in the textbook (pp. 61-76), 8th IARTEM conference on learning and educational media, held in Caen in October 2005. Utrecht: IARTEM.

Liebling-Kalifani, H., Marshall, A., Ojiambo-Ochieng, R., & Kakembo, N. M. (2007). Experiences of women war-torture survivors in Uganda: Implications for health and human rights. Journal of International Women’s Studies, 8(4), 1-17.

Moaveni, A. (2015, November 22). ISIS women and enforcers in Syria recount collaboration, anguish and escape. The New York Times, Available at: http://www.nytimes.com/2015/11/22/world/middleeast/isis-wives-and-enforcers-in-syria-recount-collaboration-anguish-and-escape.html

Niarchos, C. N. (1995). Women, war, and rape: Challenges facing the international tribunal for the former Yugoslavia. Human Rights Quarterly, 17(4), 649-690.

 Parent, M. C., DeBlaere, C., & Moradi, B. (2013). Approaches to research on intersectionality: Perspectives on gender, LGBT, and racial/ethnic identities. Sex Roles, 68(11-12), 639-645.

Phoenix, A., & Pattynama, P. (2006). Intersectionality. European Journal of Women’s Studies, 13(3), 187-192.

Prins, B. (2006). Narrative accounts of origins: A blind spot in the intersectional approach? European Journal of Women’s Studies, 13(3), 277-290.

Qayyum, M. (2015). #Neverforget: The wedding bells that will never ring. Express Tribune.  Available  at:  http://tribune.com.pk/story/880914/neverforget-the-wedding-bells-that-will-never-rin Staunæs, D. (2003). Where have all the subjects gone? Bringing together the concepts  of  intersectionality  and  subjectification.  NORA: Nordic Journal of Women’s Studies, 11(2), 101-110.

Syed, J., Ali, F., & Winstanley, D. (2005). In pursuit of modesty: Contextual emotional labour and the dilemma for working women in Islamic societies.

International Journal of Work, Organisation and Emotion, 1(2), 150-167.

Tarar, T. (2012). That little girl. The Daily Times. Available at: http://archives. dailytimes.com.pk/editorial/09-Dec-2012/view-that-little-girl-mehr-tarar

Thacker, P. (2014). Pakistan’s Hazara: ‘It’s like living in jail’. Aljazeera News. Available   at:   http://www.aljazeera.com/humanrights/2014/12/pakistan-hazara-it-like-living-jail-2014123114655754509.html

USCIRF (US Commission on International Religious Freedom). (2015). Annual report, Washington, DC: USCIRF. Available at: http://www.uscirf.gov/sites/default/files/USCIRF%20Annual%20Report%202015%20%282%29.pdf

Zahidi, F. (2012). Hazara Shias lose all hope in Pakistan. International Herald Tribune. Available at: http://tribune.com.pk/story/486883/a-story-of-the-others-hazara-shias-lose-all-hope-in-pakistan/

 

 

خادم رضوی کو سنی بریلوی مکتبہ فکر کا پوسٹر بوائے بنانے والوں کا اصل چہرہ

17861657_10212889012848460_5914205509738996442_n

58ea3e4f9e35b

NOWSHERA, PAKISTAN, APR 09: Jamiat Ulema-e-Islam (JUI-F) Chief, Maulana Fazal-ur- Rehman along with Imam-e-Kaaba Sheikh Saleh Bin Muhammad Ibrahim and others sit on stage during the centennial celebrations of the Jamiat Ulema-e-Islam Fazal held in Nowshera on Sunday, April 09, 2017. (Fahad Pervez/PPI Images).

 

پاکستانی کمرشل لبرل پریس سیکشن کا متعصب اور جانبدار رویہ

محمد عامر حسینی

نیوز ویک پاکستان میں تحریک لبیک یارسول اللہ ، پاکستان سنّ تحریک کے حالیہ دھرنے پہ پے در پے جو نیوز  سٹوریز سامنے آئیں ان کے عنوان کو زرا ملاحظہ کیجئے:

Barelvi Brawn

اس کے انگریزی میں معنی ‘ذہانت استعمال کرنے کی بجائے جسمانی طاقت استعمال کرنے والا ہوتا ہے، اور اس کا اگر ہم کوئی مناسب ترجمہ کریں تو ہوگا’ بریلوی سانڈ’

http://newsweekpakistan.com/barelvi-brawn/

اس کے بعد دوسرا عنوان ہے:

THE BARELVI BEAST

بریلوی درندہ

http://newsweekpakistan.com/the-barelvi-beast/

پھر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں :

DEMISE OF THE WARRIOR STATE

SLEEPWALKING TO ANOTHER SURRENDER

جیسے عنوانات کے تحت بھی سنّی بریلویوں کو  بہت بڑے دہشت گرد،جنونی، پاگل، درندے اور جو کچھ کہا جاسکتا تھا کہا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کا یہ کمرشل لبرل مافیا ماضی میں جب کبھی مجبوری کے تحت دیوبندی اور اہل حدیث کے اندر سے سامنے آنے والی دہشت گردی ، انتہا پسندی ، مذہبی جنونیت بارے بات کرنے پہ مجبور ہوتا تو یہ ہمیں ساتھ ساتھ یہ بھی بتانا نہ بھولتا کہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور بانی جمعیت علمائے ہند محمود حسن دیوبندی، حسین احمد مدنی دیوبندی کتنے بڑے نیشنلسٹ سیکولر تھے۔یہ عبید اللہ سندھی کی مثال بھی سامنے لیکر آتا۔اور یہ کہتا کیونکہ سب دیوبندی انتہا پسند نہ ہیں، دہشت گرد نہ ہیں، تکفیری نہیں ہیں تو ‘تکفیری دیوبندی’ ‘دیوبندی عسکریت پسندی’ اور ‘ دیوبندی جہادی’ جیسی اصطلاحیں فرقہ پرستی ہیں۔

لیکن جیسے ہی سنّی بریلوی /صوفی سنّی مکتبہ فکر/فرقہ کی بات آتی ہے تو ایک دم سے یہ لوگ اپنے ہی طے کردہ اصول سے منکر ہوجاتے ہیں۔جس کا ایک ثبوت تو میں نے اوپر نیوز ویک پاکستان کی ویب سائٹ پہ نمودار ہونے والے تجزیوں میں پیش کیا ہے۔

فرائیڈے ٹائمز، دی نیوز انٹرنیشنل اور پھر ڈیلی ٹائمز میں چھپنے والے کمرشل لبرل صحافی اعجاز حیدر نے 2016ء میں اسی نیوز ویک میں سلمان تاثیر کے ایک پولیس مین کے ہاتھوں مارے جانے پہ ایک آرٹیکل لکھا تھا:

 GAZING INTO THE VOID

http://newsweekpakistan.com/gazing-into-the-void/

اس پورے آرٹیکل میں انھوں نے ایک بھی جگہ سلمان تاثیر کے خلاف جو اشتعال انگیز مہم دیوبندی سپاہ صحابہ پاکستان کے رہنماؤں بشمول مولوی طاہر اشرفی نجم سیٹھی سمیت کمرشل لبرل مافیا کا بنایا ہوا جعلی ماڈریٹ مولوی کے کردار کا کوئی ذکر نہ کیا۔اور برصغیر کے اندر انہوں نے تاریخی بددیانتی کرتے ہوئے یہ کہا کہ احمد رضا خان بریلوی نے تکفیری مہم شروع کی تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے اندر مسلمانوں کی اکثریت کے خلاف کافر، مشرک ، بدعتی ہونے کے اعلانات سب سے پہلے شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل دہلوی اور شاہ عبدالعزیز کے داماد کے شاگرد سید احمد بریلوی نے کیا تھا اور باقاعدہ ایک مسلح تحریک بھی چلائی تھی۔جبکہ احمد رضا خان بریلوی کے فتوے تو ویسے ہی ہیں جیسے فتاوے، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ کی کتب میں صدیوں سے موجود ہیں۔اعجاز حیدر کا  جو متعصب اور بددیانتی پہ رویہ سنّی بریلوی فرقے کے باب میں نظر آتا ہے اور دیوبندیوں  کے لئے جانبداری ایک نمونہ اور ماڈل ہے جو ہر ایک کمرشل لبرل صحافی و سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے ہاں نظر آتی ہے۔

ان کے تجزیوں میں آپ کو کسی بھی جگہ مسلم لیگ نواز اور اس کے گاڈ فادر نواز شریف، شہباز شریف، رانا ثناء اللہ ، چوہدری نثار علی خاں وغیرہ کے مذہبی جنونی، دہشت گردوں جیسے سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت/لال مسجد/مولوی عبدالعزیز اینڈ کمپنی  سے تعلقات پہ زرا روشنی نہیں ڈالتا، بلکہ مسلم لیگ نواز کو ایک مجبور، محکوم ، سازشوں میں گھری ہوئی جماعت اور حکومت بتاتا ہے:

http://newsweekpakistan.com/wheels-of-change/

شہباز شریف کو ‘تبدیلی کے پہیوں’ سے تعبیر کیا گیا یہ مضمون ان کے کمرشل ازم پہ روشنی ڈالتا ہے۔

اور یہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے جہادیوں اور فرقہ پرستوں سے رشتے تو بہت کھل کر بیان کرتا ہے،لیکن جیسے ہی نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کی بات آئے تو ایک دم سے بریک لگ جاتی ہے۔ایسی بریک اسے پاکستان تحریک انصاف کے دیوبندی تکفیری سمیع الحق سے رشتوں اور تعلق کو بے نقاب کرتے ہوئے نہیں لگتی۔

اب تھوڑا نیوز ویک پاکستان کی اس وقت کام کرنے والی ٹیم بارے کچھ بات ہوجائے۔اس کی ٹیم بارے ساری تفصیل ذیل میں معلوم ہوجائے گی :

http://newsweekpakistan.com/about-us/

امریکی جریدہ نیوز ویک جو پاکستان کی نام نہاد سیکولر،لبرل اشرافیہ کا سرد جنگ کے زمانے سے پسندیدہ رسالہ رہا ہے،پاکستانی کمرشل لبرل مافیا کے سب سے بڑے سمبل نجم سیٹھی کے تربیت یافتہ پاکستانی کمرشل لبرل صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کے ساتھ پاکستانی ایڈیشن اور پاکستان بیسڈ ویب سائٹ کے طور پہ ایک نئے روپ میں جلوہ گر ہے۔

پاکستان نیوز ویک کی ساری ٹیم ان پاکستانی لبرل صحافیوں اور تجزیہ نگاروں پہ مشتمل ہے،جن کی فکر اور خیالات کو ہم نجم سیٹھی،حسین حقانی،عاصمہ جہانگیر، شیری رحمان، بینا سرور جیسے کمرشل لبرل سے مستعار لی ہوئی کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ایک بڑا حصّہ پاکستان نیوز ویک میں دی نیوز انٹرنیشنل، فرائیڈے ٹائمز ویکلی،ڈیلی ٹائمز سے آئی ہوئی ہے۔

یہ وہی کمرشل لبرل مافیا ہے جو پاکستان کے اندر تکفیری فاشزم کے بارے میں ان کی ‘دیوبندی شناخت’ بارے فوری طور پہ ‘ فرقہ پرستی’ کا فتوی ٹھونکتا رہا ہے۔اور جیسے ہی آپ ‘تکفیری دیوبندی دہشت گرد’ ‘دیوبندی انتہا پسند’ ‘دیوبندی جہادی’ جیسی اصطلاح استعمال کرتے تو یہ فوری آپ کو ان اصطلاحوں کے استعمال سے روکتا تھا۔اور آج بھی ان کی یہی روش موجود ہے۔

اس کمرشل لبرل مافیا نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی وائلنس اور دیوبندی عسکریت پسندی،انتہا پسندی، دہشت گردی بارے جس قدر ابہام اور الجھاؤ پیدا کیا شاید ہی کسی نے کیا ہو۔

پاکستان کے لبرل انگریزی پریس میں یہی کمرشل لبرل مافیا ہے جس نے انگریزی پریس میں تکفیری دیوبندی کی شناخت کے ساتھ شیعہ نسل کشی پہ پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور ایک لمبے عرصے تک تو مرنے والوں کی شیعہ شناخت تک کو رپورٹنگ میں زکر نہ کیا،جبکہ دیوبندی عسکریت پسندی ، دہشت گردانہ اقدام کو یہ ‘سنّی عسکریت پسندی’ اور ‘سنّی دہشت گرد گروپ’ کے الفاظ کے ساتھ بیان کرتا رہا جبکہ سنّی بریلوی مسلمانوں پہ ہونے والے حملوں میں بھی مارے جانے والوں کی ‘بریلوی سنّی شناخت’ کو بلیک آؤٹ کئے رکھا۔

False Binaries making

کا یہ کمرشل لبرل مافیا کاریگر ہے۔