دہشت گردی سے متاثرہ خواتین کے تجربات-فائزہ علی

Protest in Dera Ismail Khan

 

Experiences of Female Victims of Faith-Based Violence in Pakistan

پاکستان میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی دہشت گردی کی متاثرہ خواتین کے تجربات

محقق : فائزہ علی

فائزہ علی لیورپول بزنس اسکول میں سینئر لیکچرار ہیں

Faiza Ali is a senior lecturer at Liverpool Business School. She has more than ten years of experience in teaching and research. Her areas of research include diversity management, gender equality, work-life balance, sexual harassment and intersectionality in the workplace. In particular, she is interested in exploring issues and challenges faced by women in Muslim-majority countries such as Pakistan, Turkey and Bangladesh.

ترجمہ و تلخیص : عامر حسینی

مذہبی بنیادوں پہ ہونے والا وائلنس پاکستان میں بڑھتا ہی جاتا ہے۔خاص طور پہ کچھ مخصوص مذہبی گروہوں جیسے شیعہ،سنّی بریلوی یا صوفی،احمدی اور کرسچن ایسے تشدد کے خاص ہدف/ٹارگٹ ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے متاثرہ لوگوں کے جو خاندان ہوتے ہیں وہ بھی ناقابل برداشت زاتی،جذباتی اور معاشی نقصانات کا سامنا کرتے ہیں۔تاہم متاثرہ خواتین کے متاثرہ خاندان کے دیگر افراد سے تجربات مختلف ہوسکتے ہیں۔مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی وائلنس بارے ان کا تجربہ ان کی صنف/جینڈر کے مذہب ،فرقہ یا طبقہ کے ساتھ جس سے ان کا تعلق ہوتا ہے سے ان کے باہمی عمل پہ بنیاد رکھتا ہے۔عراق میں داعش کی متاثرہ خواتین کے تجربات بارے حال ہی میں خبریں سامنے آئی ہیں۔جیسے یزیدی،کرد،شیعہ اور سنّی عورتیں پراسیکوشن اوروائلنس کے تجریوں سے گزری ہیں۔

 (e.g., Moaveni 2015)

اس تحقیق کا مقصد صوفی سنّی، شیعہ اور احمدی برادریوں سے تعلق رکھنے والی ایسی خواتین کے تجربات پہ روشنی ڈالنا ہے جوکہ پاکستان میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی دہشت گردی کا سامنا کررہی ہیں۔حالیہ عشروں میں دیوبندی عسکریت پسند گروپوں نے نہ صرف حکومتی اداروں کو نشانہ بنایا بلکہ انہوں نے کچھ خاص مذہبی کمیونٹیز کو بھی نشانہ بنایا۔ حال ہی میں جنگ اور دہشت گردی کے متاثرہ پہ دباؤ کی جینڈر کے حوالے سے شرح جاننے کے لئے جو اسٹڈیز کی گئیں اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ جینڈر لیول پہ یہ زیادہ ہے اور اس میں بھی مردوں کے مقابلے میں اس کا دباؤ عورتوں پہ زیادہ ہے۔

یہ اسٹڈی مزید یہ بھی انکشاف کرتی ہے کہ عورتوں کی نسبت مردوں میں اس دباؤ میں نفسیاتی مداخلتوں سے کمی کا مشاہدہ کیا گیا۔تاہم یہ اسٹڈیز کیفیتی ڈیٹا پہ زیادہ مشتمل ہے اور گہرائی میں جاکر متاثرین کی خاص طور پہ متاثرہ عورتوں کی تصویر نہیں دکھاتیں۔یہ تحقیق اسی گیپ کو پر کرنے کی کوشش ہے۔

نوٹ:جینڈر اسٹڈیز میں ایک اصطلاح

Intersectionality

استعمال ہوتی ہے اور اسے اردو میں ہم مقام انقطاع کہہ سکتے ہیں یہ

 Intersectionality

ایک ایسا تصور ہے جو مختلف تھیوریز میں ان طریقوں کو بیان کرتا ہے جن سے جبر کے ادارے جڑے ہوتے ہیں اور ان کو الگ الگ کرکے دیکھا نہیں جاسکتا۔یہ تصور پہلی بار ماہر قانون

Kimberle Crenshw

نے 1989ء میں متعارف کرایا تھا۔اور اسے زیادہ تر جینڈر اسٹڈیز میں استعمال کیا جاتا ہے۔

کولنز کے مطابق یہ اصطلاح ایک ایسی تنقیدی بصیرت کا حوالہ ہے جس کے مطابق جینڈر /صنف، ایتھنی سٹی /نسلیاتی ثقافت اور کلاس/طبقہ الگ الگ ایک وحدت کے طور پہ کام نہیں کرتیں بلکہ اس کے برعکس یہ ایک ساختہ مظہر کے طور پہ کام کرتے ہیں۔

(Collins 2015)

Prins

پرنز  کا کہتا ہے کہ انٹرسیکشنلٹی کے کئی ایک پہلوؤں پہ مبنی جو میکنزم ہے اس کو سمجھنے کے لئے جینڈر/صنف کا دوسری شناختوں کے ساتھ جو ٹاکرا ہوتا ہے اور اس کا دوسری شناختوں کے ساتھ جو عمل ہے اس سے جوڑ کر دیکھنا بہت ضروری ہے۔

(Prins 2006)

پرنز کا کہنا ہے کہ یہ جو ساختیاتی اپروچ ہے یہ شناخت کو صرف ایسے بیانیہ کے طور پہ نہیں دیکھتی جس میں بیان کرنے والا بس ایک عمل کرنے والا ہوتا ہے بلکہ وہ ہماری اپنی کہانی کا مصنف بھی ہوتا ہے۔اور اس طرح کے طرز فہم میں بیانیے میں شناخت صرف نام دینے کا نام نہیں ہوتی بلکہ بذات بیان ہوتی ہے۔شناخت کرداری صفات کی ایک فہرست کا نقشہ ہمارے سامنے نہیں کھینچتی جس میں ہمیں شخص کے بارے میں پتا چلتا ہو بلکہ یہ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ وہ کوئی اور ۔سم ون کون ہے؟اور جیسے حانا آرڈینٹ کہتا ہے کہ اور یہ بھی کہانی بیان کرنے سے ہی پتا چل سکتا ہے۔ایک طرف تو ہماری کہانی ہمارے متعلق ہوتی ہیں ۔یہ ہمیں بنانے کا کام بھی کرتی ہیں۔ہم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوجاتے ہیں جو ہمارے لئے پہلے سے ہی تیار کردیا گیا ہو اور ہم میں اکثر  پہلے سے دستیاب سکرپٹ کے بیانیہ کے مطابق اپنی زندگی کا راستہ متعین کرتے ہیں۔دوسری طرف ہماری کہانیاں تہہ دار اور تضادات سے بھری ہوتی ہیں:مذہب،ایتھنی سٹی ، طبقہ اور جینڈر کے سکرپٹ ایک تشکیلی کردار ادا کرتے ہیں لیکن نہ تو یہ ایک جیسے طریقے سے ایسا کرتے ہیں اور نہ ہی ہمیشہ معلوم فیکٹرز یا عوامل کے زریعے سے ایسا کرتے ہیں۔

جہاں تک پاکستان میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والے تشدد کی صورت حال کا تعلق ہے تو امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی 2015ء کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پہ شیعہ،کرسچن،احمدیوں اور ہندؤں کو بطور خاص ایک باقاعدہ منصوبہ بند وائلنس کا سامنا ہے۔ویسے تو پاکستان بھر میں شیعہ مسلمان دیوبندی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں وائلنس کا شکار ہوئے ہیں لیکن کوئٹہ کے ہزارہ شیعہ کا کیس ان کو درپیش وائلنس کے پیمانے کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔اور یہ اس لئے بھی ہم ہوجاتا ہے کہ اس میں مذہب کے ساتھ ایتھنی سٹی بھی شامل ہے۔یہ وائلنس مذہبی شناخت اور نسلی شناخت دونوں کو شامل کرتی ہے اور ان کی مذہبی شناخت کے علاوہ ان کی نسلی شناخت بھی ان کو دہشتگردوں کا آسان شکار بناتی ہے۔شیعہ ہزارہ کی بھاری اکثریت شیعہ ہے اور یہ منگول نسل سے ہیں اور ان کے اورئنٹل خدوخال اور ہلکی سکن ان کو باقی پاکستانیوں سے الگ دکھاتی ہے۔ہزارہ کی اکثریت مسلم شیعہ ہے تو دیوبندیوں نے ان کو کافر قرار دیا ہوا تو اور دیوبندی عسکریت پسند تنظیمیں جیسے سپاہ صحابہ پاکستان ہے، لشکر جھنگوی ان کو مرتد، اسلام سے پھر جانے والے کہہ کر مارتی ہے۔پاکستان میں جو انتہا پسندی کی متشدد جنگ ہے ہزارہ شیعہ کمیونٹی اس کا سب سے زیادہ ہدف ہے۔بی بی سی 2013ء میں رخسانہ بی بی کی کہانی بیان کرتا ہے جو کہ کوئٹہ کی ہزارہ شیعہ خاتون ہے اور اس کے چار میں سے تین بیٹے دہشت گرد حملے میں مارے گئے۔اس کے درمیانے درجے کے گھر کی دیواروں پہ خاندان کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔وہ دروازے پہ ایک فریم لیکر بیٹھی ہے جس میں اس کے ان تین بچوں کی تصویریں ہیں جن کو اس نے دہشت گرد حملے میں کھودیا ہے۔رخسانہ بی بی اور ایسی دوسری عورتیں جنھوں نے اپنے مرد دہشت گردی میں کھودئے ہیں ان کا نقصان صرف جذباتی اور نفسیاتی نہیں ہے بلکہ یہ معاشی اور سماجی نقصان بھی ہے ایک ایسے معاشرے میں جس میں اکثر صرف مرد حضرات ہی کمانے والے ہوتے ہیں۔عام سنّی مسلمانوں کو بھی پاکستان میں دیوبندی عسکریت پسند گروپوں کے ہاتھوں مذہبی بنیادوں پہ وائلنس کا سامنا کونا پڑا ہے۔ان کی کہانیاں بھی دوسری کمیونٹیز کے لوگوں کی مشکلات۔ پختہ عزم اور مزاحمت کی کہانیاں ہیں۔

نو اکتوبر 2013ء کو سنّی مسلم پشتون نژاد 15 سالہ ملالہ یوسف زئی پہ پاکستان کے علاقے سوات میں اسکول سے واپسی آتے ہوئے بس پہ حملے کے دوران فائرنگ کی گئی اور ان کے سر اور چہرے پہ گولیاں ماری گئیں۔یہ حملہ دیوبندی عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے کیا تھا۔اس کا جرم لڑکیوں کے حق تعلیم پہ اصرار اور طالبان کی جانب سے عورتوں اور دیگر گروپوں پہ کئے جانے والے مظالم کی مخالفت تھا۔خوؤ قسمتی سے ملالہ اس انتہائی ہلاکت خیز حملے کے بعد جانبر ہوگئیں۔اب وہ عالمی سطح پہ عورتوں کی تعلیم کی ایک کمپئن چلارہی ہیں اور ہمت و امید کی عالمی مثال بن گئی ہیں۔جب طالبان نے ان کو مارنے کی کوشش کی اس سے پہلے ملالہ ایک قلمی نام سے بی بی سی کے لئے عورتں کے حقوق اور طالبان کے قبضے کے بعد سوات میں زندگی بارے ایک بلاگ لکھ رہی تھیں اور اپنا پیغام پہنچانے کی کوشش کررہی تھیں۔اور اب وہ پوری دنیا میں جہاں جہاں لڑکیوں کے لئے تعلیم کے مواقع نہ ہیں وہاں تک تعلیمی سہولتوں کی رسائی کے لئے کوشش کررہی ہیں۔احمدی عورتوں اور ان کے مصائب بھی مختلف نہیں ہیں۔ایک احمدی لڑکی آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ اپنے والد کے دہشت گردی کے ایک واقعے میں مارے جانے کو یاد کرتی ہے۔اس کے والد لاہور میں احمدیہ مرکز پہ نماز جمعہ کے دوران 29 مئی 2010ء کو احمدی کمیونٹی پہ تاریخ کے سب سے بڑے دہشت گرد حملے میں 87 احمدیوں سمیت مارے گئے تھے۔وہ سولہ سال کی تھی جب اس کے والد مارے گئے اور آج بھی یہ واقعہ اس کے ذہن میں تازہ ہے۔

  (Ahmad 2015).

In May 2015, 47 Ismaili Shia Muslims, including 16 women, were

shot dead during an attack on a bus in Karachi (BBC News 2015). The

مئی 2015ء میں 47 اسماعیلی شیعہ جس میں 16 خواتین بھی شامل تھیں کراچی میں ایک بس پہ حملے کے دوران مارے گئے- ( بی بی سی نیوز 2015ء )۔اسماعیلی شیعہ کمیونٹی پاکستان کی سب سے پرامن کمیونٹی خیال کی جاتی ہے اور وہ پاکستان اور دوسرے ممالک میں اپنے سماجی فلاح و بہبود کے کاموں کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔داعش سے متاثر دیوبندی عسکریت پسندوں نے اسماعیلی کمیونٹی کی بس کو نشانہ بنایا اور عورتوں کو بھی نہ بخشا۔ان عورتوں کے خاندانوں کی تکلیف کا تصور بھی محال ہے خاص طور پہ جن کے بچے ابھی چھوٹے تھے۔

اگلے سیکشن میں،میں نے انٹرسیکشنلٹی کے موضوع پہ لٹریچر کا جائزہ اسی طرح کے واقعات کی روشنی میں لینے کی کوشش کروں گی۔اور پھر اس کا استعمال عملی طور پہ تیسرے سیکشن میں کیا جائے گا۔

انٹرسیکشنلٹی ایک دوسرے سے گڈمڈ ہونے والی یا ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی سماجی شناختوں اور متعلقہ جبر،غلبے اور زیادتی کے نظاموں کے مطالعے کا نام ہے۔یہ تھیوری مختلف سماجی اور ثقافتی کیٹیگریز کی کہانی میں لیکر آتا ہے جیسے جینڈر،ریس،طبقہ ،مذہب،عمر اور شناخت کے دوسرے پہلو ہوتے ہیں جوکہ متعدد اور اکثر کئی اور سطحوں پہ ایک دوسرے کے ساتھ عمل۔انٹریکٹ کرتی ہیں۔اور یہ فریم ورک ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کیسے مربوط اور منظم ناانصافی اور سماجی نابرابری ہمہ جہتی بنیادوں پہ واقع ہوتی ہے۔

 (Crenshaw 1989(

انٹرسیکشنلٹی کا یہ سمجھنا ہے کہ معاشرے کے اندر جبر کی تصور گری جیسے نسل پرستی،سیکس ازم، کلاس ازم اور عقیدے کی بنیاد پہ تعصب وغیرہ ایک دوسرے سے الگ الگ عمل نہيں کرتے بلکہ اس کی بجائے جبر کی یہ اقسام ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور جبر کا ایک ایسا نظام۔سسٹم بناتی ہیں جو کہ امتیازی سلوک اور زیادتی کی کئی قسم کی شکلوں کے ساتھ انٹرسیکٹ/قطع کرتی ہیں۔

(Knudsen 2006)

کنوڈیسن کے مطابق انٹرسیکشنلٹی ایک ایسا نظریہ ہے جوکہ یہ بتاتا ہے کہ سماجی اور ثقافتی کیٹیگریز کیسے ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔جینڈر،ریس،ایتھنی سٹی،کلاس،نیشنلٹی وغیرہ کے درمیان تعلقات کا کئی سطحوں سے جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ اس نابرابری کو ظاہر کیا جاسکے جو معاشرے میں پائی جاتی ہے۔وہ ایک دوسرے سے لاتعلق اور آزاد نہیں ہوتیں بلکہ جبر کی اشکال ایک دوسرے سے باہمی طور پہ جڑی ہوتی ہیں اور امتیاز و زیادتی کی مختلف اشکال کے ساتھ بندھی ہوتی ہیں۔

( کنوڈیسن ،ص 61)

Rather than looking at the majority culture, the theory of intersection reacts the minority

یہ نظریہ بجائے اکثریت کے کلچر پہ نگاہ ڈالنے کے اقلیت کے کلچر پہ ردعمل دیتا ہے۔یہ تصور اس بات کی تلاش میں ایک مفید زریعہ کے کام آسکتا ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کیسے کچھ خاص لوگ جو محض مختلف ہی نہیں ہوتے بلکہ ایک مشکل میں ڈالنے والی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں بلکہ کچھ مثالوں میں تو وہ کمتر بنائے جانے /مارجنلائز کی صورت حال کا شکار ہوتے ہیں۔

(Staunaes 2003a, p. 101)

اقلیت کی شناختوں کے تعدد اور تکثیر پہ بننے والا تناظر/پرسپیکٹو  انٹرسیکشنلٹی کے علاوہ جامع/ایڈیٹو ،ضربی/ ملٹی پلی کیٹو اور انٹریکشنسٹ/دخلیاتی بھی ہوتا ہے۔

Additive Perspective

جامع تناظر/نکتہ نظر

اقلیت کی شناخت کے مراتب ( طبقہ،نسل اور جینڈر ) کے آزادانہ عمل کرنے کے تصور پہ ردعمل دیتا ہے اور لوگوں کے تجربات کو  جامعی انداز میں اکٹھا کرکے ان کی صورت گری کرتا ہے۔اس تناظر نکتہ نظر سے محقق ایک اور اصطلاح

Double Jeopardy

دوہرا جوکھم استعمال کرتے ہوئے اس جامعی اثر کی وضاحت کرتے ہیں۔جامعی نکتہ ہائے نظر۔ضربی اور انٹریکشنلسٹ/دخلیاتی تناظرات یہ فرض کرتے ہیں کہ متعدد شناختیں تصور میں ڈھالی جاسکتییں ہیں اور ان کو فعال /آپریشنلائزڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔اور اسٹڈی کی اصطلاحوں میں ان کو بطور الگ اور جدا جہات کے لیا جاتا ہے۔اس طرح کے معاملے میں اقلیت کی متعدد شناختیں ایک دوسرے پہ اثر ڈالتی ہیں۔یہ جامعی اور ضربی تناظر کیفیتی/مقداری تحقیق کے زریعے سے اپنا مقصد پورا کرتے ہیں۔

Brah

اور فونیکس کا کہنا ہے کہ طاقت کے رشتوں کی تکثیریت بارے سوچنے کے نئے طریقوں میں انٹرسیکشنلٹی کا نظریہ بہت مدد کرتا ہے۔یہ تسلیم کرنا کہ نسل،سماجی طبقہ اور جنسیت/تمایلات جنسی /سیکچوئلٹی عورتون کے تجربات کو الگ الگ کرتے ہیں اور یہ ہم آہنگ کیٹیگری “ویمن/عورت” کو اس کی عالمگیریت کو ڈس رپٹ/منتشر کردیتی ہے جس نے نسل،سماجی طبقہ اور جنسیت کے تعلق سے عورت بارے سٹیٹس کو کو برقرار رکھنے کا کام سرانجام دیا تھا۔جبکہ یہ صنفیاتی مفروضات کو چیلنج بھی کرتی ہے۔

 ایک تصادم والے زون میں جیسے پاکستان ہے جہاں مذہبی برداشت بہت کم ہے وہاں پہ انٹرسیکشنلٹی مسئلے کی شدت اور پیچیدگی میں اضافہ کرسکتی ہے اور ان خطرات میں بھی اضافہ کرسکتی ہے جوکہ اس علاقے کے لوگوں کو درپیش ہوتے ہیں۔تصادم چاہے قدرتی ہوں یا انسانوں کے بنائے ہوئے ہوں ان کے متعدد اور مختلف اثرات مرد اور عورتوں پہ تصادم کے تجربے سے جو مرتب ہوتے ہیں ان میں ان کی جینڈر بھی ملوث ہوتی ہے۔پاکستان میں عورتیں مردوں سے سماجی طور پہ مردوں کی تابع ہوتی ہیں۔

(Ferdoos 2005)

ان کو پاور،زرایع اور مواقع تک ویسے رسائی حاصل نہیں ہوتی جیسے مردوں کو حاصل ہوتی ہے۔اپنی کمتر سماجی اور معاشی حثیت کی وجہ سے ان کے پاس تصادم،انسانی اور فطری آفات کے اثرات سے نمٹنے اور ان کے مطابق خود کو ڈھالنے کی استعداد کم ہوتی ہے۔

(Bari 2010; Ali and Knox 2008)

اور اس پہ بہت سے دستاویزاتی ثبوت ہیں کہ عورتوں کی اس طرح کے خطرات میں گھرے ہونے کی حالت میں تصادم کے حالات میں اور زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے جیسے جنگ اور دہشت گردی ہے۔

(Niarchos 1995)

دہشت گردی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کی زیادہ شدت کا سامنا عورتوں کو اور زیادہ ہوتا ہے۔بہت سی تحقیقی اسٹڈیز امن اور شورش و جنگوں والے علاقوں میں کی گئیں اور ان سے ان سے پیدا ہونے والے اثرات کا بھی پتا چلتا ہے بلکہ مرد و عورت کی اصناف کے حوالے سے بھی ان کے الگ الگ اثرات کا پتا چلتا ہے۔

 (Bari 2010; Jawaid . 2014)

عام طور پہ عورتیں شورش اور جنگوں میں غیر فعال /پے سیو متاثرہ خیال کی جاتی ہیں جن کا ان واقعات کے شروع کرنے یا ان میں حصّہ لینے میں فعال کردار نہیں ہوتا ہے۔

 (Liebling-Kalifani et al. 2007)

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ،بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور عسکریت پسندی  کے تجزیوں میں عورتوں کو ایک نظر انداز کی گئی کیٹیگری خیال کی جاتا ہے۔

(Bari 2010)

مرد اور عورتیں دونزن پاکستان میں دیوبندی عسکریت پسندی سے متاثر ہونے والے ہیں۔تاہم ان کے تجربات واضح طور پہ مختلف ہیں۔مشکل سے کوئی قابل زکر کوشش دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اثر میں جینڈر امتیاز پہ مبنی مطالعے کے لئے کی گئی ہیں۔جب مذہبی عسکریت پسندی کے مرد اور عورتوں پہ اثر مختلف ہے تو انسداد دہشت گردی کی تفہیم اور اس کے علاج بارے لائحہ عمل بھی مختلف ہیں۔

حال ہی میں دارالعلوم دیوبند اور اس ادارے سے نظریاتی اتفاق رکھنے والے دیگر مدارس کی جانب سے متعدد ایسے فتوے جاری کئے گئے جو عورتوں کی آزادی کو کم کرتے ہين۔خاص طور پہ قابل زکر فتوی عورتوں کی تبلیغ اور خطاب کرنے پہ پابندی کے ساتھ ساتھ کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کی علیحدگی سے متعلق ہیں۔اسی طرح یہ فتوے کہ عورتوں کو برقعہ پہننا لازم ہے۔موبائل فون سے تین بار کہے جانے والا لفظ طلاق مرد اور عورت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدائی ڈالتا اور ان کا رجوع کا حق ختم کرڈالتا ہے۔عورتیں جج نہیں بن سکتیں۔منگیتر سے فون پہ بات کرنا حرام ہے۔تیرہ سال سے اوپر کی لڑکیوں کا بائی سائیکل چلانا حرام ہے۔عورتوں کا کار چلانا مکروہ ہے۔عورتوں کو الیکشن نہیں لڑنا چاہئیے اور گھروں میں پردے میں رہنا چاہئیے۔مخلوط تعلیم ممنوع ہے۔ایسے ہی عورتوں کو بینکوں میں کام نہیں کرنا چاہئیے۔ماڈلنگ اور اداکاری خلاف اسلام ہیں۔کارٹون ٹیلی ویژن پہ دیکھنا غلط ہے اور خون دینا اور انسانی اعضاء کا عطیہ حرام ہے۔فوٹوگرافی گناہ ہے۔باڈی سکین حرام ہے۔

 (Indian Express 2013)

اس قسم کے فتوے عورتوں کی سماجی اور معاشی سرگرمیوں میں شرکت اور ان کی نقل و حرکت پہ پابندیاں لگاتے ہیں۔اور ایسی عورتوں کی زندگی کو اجیرن کردیتے ہیں جن کے روٹی کمانے کے واحد سہارا مرد کسی حادثے کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں یا معذور ہوجاتے ہیں۔

پاکستان میں سوات میں طالبان کی دہشت گردی سے متاثر ہونے والے مردوں اور عورتوں بارے کی گئی ریسرچ اور اسٹدیز نے یہ انکشاف کیا کہ تمام مرد،عورتیں اور بچے مذہبی عسکریت پسندی سے سماجی،معاشی اور سیاسی طور پہ متاثر ہوئے۔تاہم عورتوں پہ اس کے اثرات ان کے مقامی ثقافتوں میں سماجی معاشی مرتبے کے حوالے سے مردوں کے محتاج ہونے کی وجہ سے کہیں زیادہ تھے۔عورتوں کا دیوبندی طالبانی عسکریت کا تجربہ مردوں سے بنیادی طور پہ کافی مختلف تھا۔مرد جسمانی وائلنس کا شکار ہوئے۔جبکہ عورتیں جن کو بطور آزاد فرد کے زندگی گزارنے کی اجازت نہ تھی اور ان کی بقاء کا انحصار مردوں کی ان کی زندگیوں میں مدد دینے پہ منحصر تھا۔اور کو کسی بھی حانت میں محرم مرد کے بغیر گھروں سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔عورتوں نے نہ صرف تعلیم،صحت اور دوسری سماجی خدمات تک اپنی رسائی کھودی بلکہ ان کی جسمانی نقل و حرکت بھی بہت زیادہ محدود اور مکمل طور پہ مردوں کی محتاج بنادی گئی۔شورش زدہ علاقوں میں عورتوں نے پدرسریت کی بدترین شکل کا سامنا کیا۔

    (Bari 2010)

تاہم یہ اسٹڈی شورش زدہ علاقوں میں انٹرسیکشنل ایشوز جیسے ایتھنی سٹی،کلاس اور مذہب وغیرہ ہیں ان کی پیچیدہ نوعیت کی کہانی بارے مشتمل نہیں ہے بلکہ اوپر بیان کردہ بحث کی روشنی میں یہ اس بات کا اعادہ کری ہے کہ عورتیں اپنی جینڈر، طبقے،مذہب اور ایتھنی سٹی کی وجہ سے مختلف ایشوز اور خطرات کا سامنا کرتی ہیں۔

جب ان کے تجربات دہشت گردی کے انتہائی ایشوز سے نبردآزما ہوتی ہیں تو ان کو احتیاط سے کھوجنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کو درپکش خطرات اور چیلنجز کی پیچیدگی کو سمجھا جاسکے اور یہ بھی دیکھا جاسکے کہ وہ ایسی جکڑبندیوں اور روکاوٹوں پہ قابو پاتے ہوئے کیسے اپنے آپ کو جینے کے قابل بناتی ہیں۔اس سیاق و سباق میں اس ریسرچ کا مقصد ان درج ذیل سوالوں کا جواب تلاش کرنا ہے:

مذہبی عسکریت پسندی کی متاثرہ پاکستانی خواتین کتنے مذہبی پس منظر کی حامل ہیں؟

یہ خواتیں ایسے ایشوز اور چیلنجز کے ساتھ کیسے نبرآزما ہوتی ہیں؟

میتھوڈولوجی

یہ اسٹڈی براہ راست اور بالواسطہ حاصل کی گئی معلومات کے تجزیہ پہ مشتمل ہے۔اور اس تجزیہ کی نوعیت انٹرسیکشلنٹی کے عدسوں کے استعمال کی وجہ سے کیفیتی یا مقداری نکتہ نظر/تناظر ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ متعدد شناختیں الگ جہات کے طور پہ ناقابل تقسیم ہیں جوکہ ہر ایک فرد کے لئے یونیق ہیں اور نئے اور ممتاز تجربات کی تشکیل کرتی ہیں۔

 (Parent et al. 2013; Collins 2015)

براہ راست زرایع وہ انٹرویو ہیں جو عورتوں سے ان کی واضح جینڈر اور مذہبی شناخت کے ساتھ کئے گئے ہیں اور کل 12 انٹرویو کئے گئے:5 ان ميں شیعہ عورتیں تھیں، 2 ہزارہ شیعہ عورتیں اور تین سنّی بریلوی عورتیں۔جبکہ دو احمدی عورتیں تھیں۔ان سب عورتوں نے مذہبی دہشت گردی میں اپنے خاندان کے مردوں کو کھودیا تھا۔

 اس موضوع کی حساسیت کے پیش نظر ان عورتوں سے معلومات اکٹھی کرنا آسان نہیں تھا جوکہ ایک یا دوسرے طریقے سے دہشت گردی کی متاثرہ تھیں۔لیکن شراکت مکمل طور پہ رضاکارانہ،رازداری، نجی زندگی کی اقدار کا تحفظ کرتے ہوئے کی گئی اور مواد اکٹھا کرتے ہوئے اس سب کا خیال رکھا گیا۔جبکہ ثانوی زرایع بھی متعلقہ معلومات حاصل کرنے کے لئے استعمال کئے گئے۔اس مقصد کے لئے مختلف زرایع سے تحقیق کی گئی،مثال کے طور پہ مصدقہ اور قابل اعتبار اخباری مضامین دو انٹرویو کے ساتھ ساتھ شامل کئے گئے اور ميں ہیومن رائٹس واچ کی حال ہی میں شایع کی گئی تازہ رپورٹ کا جائزہ لیا جس میں کئی ہزار شیعہ عورتوں کے انٹرویو کئے گئے تھے۔

نتائج

اس تحقیق کے نتاچ کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کی جاسکتا ہے: سماجی اثر،معاشی اثر اور مقابلہ کرنے کی حکمت عملی۔ہزارہ شیعہ عورت ہو،غیر ہزارہ شیعہ عورت، سنّی بریلوی عورت یا احمدی عورت جوکہ مذہبی وائلنس کی متاثرہ ہیں ہر ایک نے مختلف تجربہ بیان کیا۔

اول اور ثانوی مواد کے تجزیے سے سماجی،جذباتی اور نفسیاتی اثر سے ظاہر ہے کہ عورتیں مذہبی دہشت گردی کے سبب بڑے جذباتی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں۔تاہم ان کے انفرادی حالات و واقعات کو بھی زیر غور لانا ضروری ہے۔

اس سیکشن میں مختلف فرقوں اور ایتھنی سٹی سے تعلق رکھنے والی عورتوں کے جذباتی تجربات پہ بحث کروں گی۔اگرچہ تمام عورتیں جذباتی ٹراما سے گزریں۔لیکن ہزارہ عورتوں کا ٹراما زیادہ گہرا اور ان پہ دہشت گردی کا اثر زیادہ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہزارہ شیعہ عورتوں نے ایک سے زیادہ مرد مذہبی دہشت گردی میں اپنے خاندان کے کھوئے ہیں۔یہاں پہ  شیعہ ہزارہ عورتوں کی حالت میں بیان کرتی ہوں:حقیقت کیا ہے؟ آپ کے گھر سے ایک دم پانچ افراد جن میں آپ کے والد،بھائی اور بیٹے شامل تھے کے جنازے نکلےتو اس حقیقت کو کیسے جوڑتی ہیں ان جنازوں سے ؟اس گھر کی عورتیں کیسے گزریں اس سے ؟ ان عورتوں کا مستقبل کیا ہے؟ ہزارہ عورتیں؟ مواد بتاتا ہے کہ ہزارہ شیعہ عورتیں دیوبندی عسکریت پسند عناصر کی جانب سے ابھی تک دہشت گردی کی دھمکیوں کا سامنا کررہی ہیں۔ایسے عناصر میں لشکر جھنگوی،سپاہ صحابہ پاکستان وغیرہ شامل ہیں۔یہاں تک کہ اپنے سب ہی مردوں کو ان دہشت گردوں کی وجہ سے کھودینے کے بعد بھی ان کو دھمکیوں کا سامنا ہے۔مثال کے طور ایک ہزارہ عورت ہیومن رائٹس واچ کو بتاتی ہے کہ کیسے اس کے شوہر کے مارے جانے کے بعد بھی اسے دھمکیاں ملتی ہیں:

اس کے مارے جانے کے بعد میں اس کا سیل فون استعمال کرتی ہوں اس پہ بھی مجھے دھمکی آمیز کال موصول ہوتی ہیں۔وہ طنز کرتے ہیں اور یہاں تک کہ بعض اوقات انتہائی بے ہودہ اور فحش زبان استعمال کرتے ہیں۔پہلی کال عابد کے مرنے والی رات آئی۔۔۔مرد نے پوچھا۔۔۔ “اب کیسا محسوس کرتی ہو” اور پھر فون فوری بند کردیا گیا۔

جس جذباتی تجربے سے ہزارہ خواتین گزرتی ہیں وہ طبقے اور فرقے کے لحاظ سے مختلف عورتوں سے الگ ہوسکتے ہیں۔ساری ہزارہ کمیونٹی حملےکی زد پہ ہے تو ان کے تجربے بھی ایک جیسے ہیں۔مثال کے طور پہ ایک عورت جس نے اپنا بھائی خودکش حملے میں کھودیا کہا:

ہمارے چاروں طرف ہمسائے میں گھروں میں ماتم تھا اور مارے جانے والوں کا نوحہ تھا اور ہماری چھتوں اور قبرستانوں خون کے چھینٹے اور لوتھڑوں کے نشانات تھے اور یہ بہت خوفناک تجربہ تھا۔

ایسے ہی ایک اور شیعہ ہزارہ عورت جس نے اپنے بھائی کو کھودیا کہا:

وہ ہمارے خاندان میں سب سے چھوٹا تھا۔سب سے زیادہ لاڈلا تھا۔اور سب سے زیادہ اس کی فکر کی جاتی۔اور اگر وہ باہر جاتا اور دیر ہوجاتی تو ہم سب فکر مند ہوجاتے۔ایک دوسرے کے تحفظ کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی فکر زیادہ ہوتی ہے۔اس حادثے نے ہمیں زیادہ تلخ اور برہم کردیا۔

ہزارہ عورتوں نے جس ٹراما کا سامنا کیا اس سے پہلے سے معلوم یہ حقیقت اور ٹھوس ہوگئی کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے۔تو اپنے پیاروں کا غم منانے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی زندگیوں کے خطرے میں ہونے کے خوف کا سامنا بھی کررہی ہیں جبکہ لاہور یا کراچی میں عورتوں کو ایسا سامنا نہیں ہے۔ایک شیعہ ہزارہ عورت کہتی ہے کہ اس کے والد کی موت کے بعد کئی بار اسے عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

نوٹ: لیکن 2016ء کے محرم کے دوران اور صفر المظفر کے مہینوں میں یہ بات ایسے نہیں رہی ہے۔سپاہ صحابہ پاکستان جیسی دیوبندی عسکریت پسند تنظیموں نے خاص طور پہ عورتوں کی مجالس کو نشانہ بنایا اور مجلس سے لوٹ کر آنے والی عورتوں کو بطور خاص نشانے پہ رکھا گیا۔

” اپنی موت سے کچھ دن پہلے میرے والد نے میرے بھائیوں اور اپنے کئی دوستوں کو اپنی جان کے خطرے میں ہونے بارے خبردار کیا تھا۔انہوں نے ہر ایک کو اپنے تحفظ کے غیرمعمولی انتظام کرنے کو کہا۔اس کی وجہ ان کو لشکر جھنگوی کی جانب سے ملنے والی دھمکیاں تھیں”۔

شیعہ عورتیں جو غیر ہزارہ ہیں وہ بھی دہشت گردی کی متاثرہ ہیں اور جذباتی ٹراما سے ان کو گزرنا پڑا ہے۔مثال کے طور شیعہ  عورتیں جنھوں نے نہ صرف اپنے شوہر کو کھودیا بلکہ اس نے اپنے اسکول جانے والے بچّے کو بھی کھویا وہ کہتی ہیں کہ وقت بہت بڑا مرہم ہے۔ایک شیعہ عورت جس نے اپنے شوہر کو کھویا اور ساتھ ہی اپنے گیارہ سالہ بیٹے کو بھی جن کو دہشت گردوں نے گولیاں مار کر ہلاک کیا دو سال پہلے کہتی ہیں کہ اگرچہ وہ ٹراما سے نکل آئی ہیں لیکن جب تک وہ زندہ ہیں اس صدقے کا بوجھ ان کے سینے پہ رہے گا۔

(Haider 2015)

اگرچہ کچھ خاندانوں کو سوشل سپورٹ ملی لیکن یہ ان کے نقصان کی شدت ک مداوا نہیں بن سکتی۔ایسے خاندانوں کو مستقل اور طویل المعیاد مدد کی ضرورت ہے۔ایسی ہی عورتوں کے مطابق جنھوں نے اپنے شوہر اور بچّے کھودئے وہ بہت کچھ کرسکتی ہیں لیکن دکھ اور تکلیف کے اس مرحلے میں ان کا اپنی ضرورتوں کے لئے کچھ کرنا ابھی ممکن نہیں ہے۔چالیس روزہ سوگ کے بعد ایسے خاندانوں کو عمومی طور پہ اپنی مشکلات سے خود نمٹنے اور اپنے لئے تنہا ہی خود کچھ کرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ان خاندانوں کے رشتہ دار اور احباب تھوڑے دیر کو تو ان کی سپورٹ کرتے ہیں لیکن جلد ہی یہ سوتے خشک ہوجاتے ہیں۔وہ خود بھی اس محتاجگی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن ایسا کہنا کرنے سے کہیں آسان تر بات ہے۔

بعض متاثرہ خاندان زرا خوشخال ہوتے ہیں لیکن اکثریت کے معاملے میں ایسا نہیں ہے اور ان کی معاشی حالات پہلے ہی دگرگوں ہوتے ہیں ایسے واقعات کے بعد اور ہوجاتے ہیں۔اور ان کے پاس اپنے مسائل متعلقہ فورم تک پہنچانے کی مہارت بھی نہیں ہوتی۔

یہ اس حقیقت سے ظاہر ہے کہ بہت ہی کم مثالیں ایسی ہیں جس میں متاثرہ خواتین نے اپنا نکتہ نظر یا تجربہ میڈیا میں بیان کیا ہو جیسے اخباری آرٹیکل ہوتے ہیں۔ایسے خاندان بھی ہیں جنھوں نے نہ صرف اپنے خاندان کے افراد دہشت گردی میں کھودئے بلکہ ان کی دیکھ بھال کرنے والا مرد بھی معذور ہوگیا۔ایسے خاندانوں کے جذباتی اور نفسیاتی حالات مختلف ہوسکتے ہیں ان خاندانوں سے جن کی دیکھ بھال کرنے والے موجود ہیں۔مثال کے طور پہ پارہ چنار سے ایک شیعہ خاتون جس نے اپنا باپ دہشت گردی میں کھودیا اور اس کی بہنیں مفلوج ہوگئیں زخموں کے نتیجے میں اور وہ صحتیاب ہوگئی۔اس نے کہا: دوسری چیزوں سے نمٹنا کافی مشکل ہے۔ہمارے والد گزرگئے اور ہم اس ٹراما سے باہر آگئے۔اور ہم زندگی میں آگے کی طرف دیکھ رہے تھے لیکن سب سے زیادہ مشکل اور ناقابل برداشت نقصان مری بہن کا تھا۔مری بہن جس کی عمر 31سال کی ہے اس وقت 28 سال کی تھی جب وہ مفلوج ہوگئی۔اس نے تو زندگی کا لطف ہی کھودیا۔یہ اس کے بچوں کے لئے بہت بڑا نقصان ہے جب وہ اپنی ماں کو دوسروں کا محتاج دیکھتے ہیں۔اور وہ اس کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے۔اس وقت جب وہ دہشت گردی کے نتیجہ میں مفلوج ہوئی تو اس کے بچوں کی عمریں 5،7،9 سال کی تھیں۔دو لڑکیاں اور ایک لڑکا۔

سنّی بریلوی عورتیں جنھوں نے اپنے گھر کے افراد کھودئے ان کو بھی بڑے جذباتی نقصان سے گزرنا پڑا۔ایک مان جس نے اپنے 30 سالہ بیٹے کو ایک بریلوی مسجد میں ہوئے بم دھماکے میں کھودیا یاد کرتی ہے:وہ ہمارے تصور سے بھی بڑی ٹریجڈی تھی جس کا ہمیں سامنا ہوا اور ہم نے نہ صرف اپنا واحد کمانے والا گنوایا بلکہ ميں نے اپنا بیٹا بھی گنوادیا۔اس کی بیوہ نے اپنا شوہر اور اس کی بہنوں نے اپنا بہت خیال رکھنے والا پیارا بھائی اور اس کے چھوٹے بھائی نے اپنے باپ جیسا بھائی کھودیا۔

یہ صرف جذباتی،نفسیاتی اور سماجی اثر نہیں ہے بلکہ اس نقصان کا معاشی اثر بھی ہے۔

احمدی عورتیں بھی ایسے ہی جذباتی اور نفسیاتی ٹراما سے گزری ہیں۔ایسی ہی ایک احمدی عورت جس نے اپنے سسر کو جو اس کا ماموں بھی تھا کھودیا کہا کہ اس کے خاندان کو بڑے جذباتی ٹراما سے گزرنا پڑا اور مزید یہ کا اس کے شوہر کو ملنے والی دھمکیوں نے ان کو ملک چھوڑنے اور پناہ ڈھونڈنے کی تلاش پہ مجبور کردیا ہے۔

 اس کے مطابق اس کے سسر ایک عظیم آدمی تھے۔وہ جمعہ کی نماز پڑھنے گئے تھے جب عبادت گاہ پہ حملہ ہوا۔ہمیں خبروں سے پتا چلا۔مرے شوہر ان کو ہسپتال میں تلاش کررہے تھے جب ان کو ان کا پتا چل گیا اور وہ زرا مستحکم حالت میں نظر آرہے تھے لیکن چند گھنٹوں بعد ان کو پتا چلاکہ وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔وہ ہماری مشترکہ فیملی کے سربراہ تھے۔اور سارے فیصلے وہی کرتے،ان کے بعد ہمیں زندگی سے نبردآزما ہونا بہت مشکل لگتا ہے۔

ان انٹرویوز سے یہ پتا چلا کہ احمد متاثرین نے بھی قابل زکر جذباتی،سماجی اور مالی سپورٹ اپنی کمیونٹی سے حاصل کی لیکن دوسرے لوگ جیسے ان کے ہمسائے تھے انہوں نے احمدی ہونے کی وجہ سے ان کو سپورٹ فراہم نہیں کی اور اس کی وجہ ان کا عقیدہ اور فرقہ وارانہ تعصب تھا: ہمیں دیگر متاثرین کی طرح جماعت احمدیہ کی طرف سے پوری سپورٹ ملی لیکن غیر احمدی لوگوں نے ہماری سپورٹ نہ کی جیسے ہمارے پڑوسی تھےکیونکہ وہ ہم سے میل جول پسند نہیں کرتے تھے ہمارے عقائد کی وجہ سے۔ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ ایسا کیوں ہے لیکن ہم اس کا شکوہ نہیں کرنا چاہتے۔

مذکورہ بالا مثالیں مختلف فرقوں،ایتھنی سٹی اور طبقاتی پس منظر کی حامل دہشت گردی کی متاثرہ خواتین پہ ہوئے حملوں کے سماجی اثر کا ایک مجموعی جائزہ پیش کرتی ہیں۔

معاشی اثر

پاکستان مردانہ غلبے والا معاشرہ ہے جہاں پہ عورتیں دوسرے درجے کی شہری سے زیادہ کچھ نہیں ہیں-فردوس2005۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ عورتیں زیادہ تر وقت اپنے گھر میں گزارتی ہیں اور اجنبی مردوں بارے ان کا کوئی خاص تجربہ نہیں ہوتا ہے۔مردبالادست دنیا سے نبردآزما ہونا ایک ٹراما تجربہ ہوتا ہے جس کا سامنا کرنا ان کے لئے کافی مشکل ہوتا ہے۔بہت ساری عورتیں تو کبھی تنہا بینک، سرکاری دفتر، بک شاپ اور یہاں تک کہ ہسپتال نہیں جاپاتیں۔

 (Ferdoos 2005)

اجنبیوں سے انٹریکٹ کرنے سے گزیز والا عمل اصل میں پردہ سسٹم سے بہت زیادہ جڑا ہوا ہے۔جس کی پھر بنیاد مخلوط قسم کے انٹریکشن کے موجود نہ ہونے پہ ہے اور اس نظریہ پہ ہے کہ نامحرم مرد اور عورتوں کے درمیان میل جول جنسیت کو ابھارتا ہے۔

 (Ali and Kramar 2015; Ferdoos 2005)

مردوں کو روزی کمانے والا خیال کیا جاتا ہے۔

 (Ali 2013)

تو جب عورتیں اپنے مالی امداد کنندہ کو کھودیتی ہیں جیسے شوہر،بھائی،باپ یا بیٹا تو روزمرہ کے جو فنانشل ایشوز ہوتے ہیں اس سے نمٹنے میں ان کو کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہزارہ شیعہ عورتوں کے کیس میں مشکلات کی سطح بہت ہی شدید ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کوئٹہ معاشی طور پہ کم مراعات یافتہ علاقہ ہے اور ہزارہ شیعہ کی جانوں کو دیوبندی عسکریت پسندوں کو خطرہ لاحق ہے تو وہ ایک خاص علاقے تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ایک ہزارہ شیعہ کے مطابق وہ بازار سے سبزی یا شوگر تک خریدنے نہیں جاسکتا کیونکہ اس دوران اس کے مارے جانے کا خطرہ ہے۔تو مجھے ایک بلاک کے ہی دائرہ میں کرنا ہے جو بھی کرنا ہے۔چاہے اس کی مجھے کتنی زیادہ مالی قیمت ادا کرنی کیوں نہ پڑے۔یہ بالکل جیل میں رہنے جیسا معاملہ ہے۔

  (Thacker 2014)

اس خاص سیاق و سباق میں ہزارہ شیعہ عورتیں جو دہشت گردی کی متاثرہ ہیں اپنے روزی روٹی کمانے والے مردوں کے مارے جانے کے سبب انتہائی شدید خراب معاشی حالات کا سامنا کررہی ہیں۔جن خاندان کے افراد لشکر جھنگوی کے ہاتھوں مارے گئے جو روٹی کمانے کا واحد زریعہ تھے ان کے حالات بہت خراب ہیں۔صغری جوکہ محمد زمان کی بیوہ ہے جو 6 نومبر2012ء میں سپنی روڈ کوئٹہ میں ٹیکسی پہ ہونے والے حملے کے دوران مارا گیا اپنے شوہر کے مارے جانے کے معاشی اثر بارے بتاتی ہے:مجھے نہیں پتا کہ میں مدد کے لئے کس کے پاس جاؤں۔میرا کوئی زریعہ آمدن نہیں ہے۔میرا خاندان خاص طور پہ مری والدہ مجھے پہ رحم کھاتے ہیں اور مری مدد کردیتے ہیں۔لیکن میں جانتی ہوں کہ وہ بھی زیادہ عرصے تک اس سپورٹ کو جاری نہیں رکھ سکیں گے کیونکہ وہ آپ بہت غریب ہیں۔مرے پاس اتنے بھی پیسے نہیں ہیں کہ میں اپنے بچوں کو اسکول بھجواسکوں۔میں اور مرے بچّے بظاہر زندہ ہیں لیکن آپ ہمیں مرے ہوئے ہی شمار کریں۔اگر لشکر جھنگوی ہمیں نہیں مارے گی تو غربت مارڈالے گی۔

(HRW 2014)

دسمبر کی 31 تاریخ اور سال 2012ء جب انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹرائبون نے ایک نوجوان ہزارہ عورت مقیم کوئٹہ کے یہ الفاظ شایع کئے :ان عورتوں کا مستقبل کیا ہے؟ شیعہ ہزارہ عورتوں کا ؟جبکہ ان کے مردوں کو زبح کردیا گیا ہے اور ان کو اپنے گھروں کی چاردیواریوں سے نکلنا ہے کیونکہ ان کے پاس اس کے سوا روزی کمانے کے لئے اور کوئی راستہ نہیں ہے اور ان کے اردگرد مصبیتوں نے اکٹھا ہونا شروع کردینا ہے۔یہ مرد ہیں جنھوں نے ان کے سروں سے چھت چھین لی وہ مرد جو ان کے روزی کے سہاروں کو مارنے کے زمہ دار ہیں۔اور اب دوسرے مرد ایسے ہیں جو ان کی مالی مدد کی بجائے بس دو حرف تسلی کے بولتے ہیں اور میں ان عورتوں میں سے ایک ہوں۔

(Zahidi 2012)

غیر ہزارہ شیعہ عورتیں جوکہ دہشت گردی کی متاثرہ ہیں مالی مشکلات سے گزرتی ہیں۔تاہم ان کی معاشی صورت حال اتنی شدید نہیں ہے جتنی شدید ہزارہ شیعہ عورتوں کی ہے۔مثال کے طور پہ پنجاب میں ایک شیعہ ڈاکٹر کی بیوہ اپنی کہانی بیان کرتی ہے:ایک بیوہ اپنے آپ کو اچانک ایسے مسائل میں گھری پات ہے جن سے وہ مکمل طور پہ ناآشنا ہوتی ہے۔جیسے گھر کی دیکھ بھال،بجٹ بنانا اور آمدن پیدا کرنا تاکہ خاندان کی نئی حرکیات اور نازک رشتوں کو برقرار رکھا جاسکے۔ایک بیوہ کو اچانک اپنے چھوٹے بچوں کو تنہا ہی پالنا پوسنا پڑتا ہے۔ان تمام کیسز میں نئے ضابطے اور نیا سپورٹ سسٹم پیدا کرنا پڑتا ہے۔ہسپتال رپورٹوں سے لیکر بینکوں تک اور کھانا تیار کرنے سے لیکر خاندان کی دیکھ بھال تک دوستوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

 (Haider 2015)

مالی طور پہ خوشحال شیعہ عورتوں کو حکومتی مالیاتی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن ایسی خواتین کا کیا معاملہ ہوتا ہے؟ اس بارے ایک شیعہ عورت جس نے اپنے بھائی کو کھویا بتاتی ہے:بعض لوگوں کو فنانشل سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے حکومت کو ان کی مدد کرنی چاہئیے لیکن ہمارے لئے اپنے بھائی کے خون کے بدلے رقم درکار نہیں ہے۔

سنّی بریلوی عورتوں کو بھی مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک سنّی بریلوی عورت جس نے لاہور بریلوی مدرسہ میں ہوئے خودکش بم دھماکے میں اپنا بیٹا کھویا اپنی مالی مشکلات کا بیان کرتی ہے:ہمارا واحد روزی کا سہارا ہمارا بیٹا تھا تو اس کی موت کے سبب مرے چھوٹے بیٹے کو تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی اور گھر کا خرچ چلانے کے لئے نوکری کرنا پڑی۔حکومت نے معاوضہ کا اعلان کیا تھا اور ہمین 5 لاکھ روپے کا چیک ملا جوکہ پانچ ماہ بعد جاکر کیش ہوا۔

وہ مزید اپنے احساسات یوں بیان کرتی ہے:یہ ہمارے تصور سے بھی بری مصیبت تھی،ایک تو روزی کمانے والا چلا گیا،دوسرا جہاں ميں نے اپنا بیٹا کھویا تو اس کی بیوہ نے اپنا شوہر،بھائی نے باپ جیسا بھائی اور بہنوں نے خیال رکھنے والا پیارا بھائی کھودیا۔تو اس کا نقصان بہت بڑا ہے۔

تاہم بعض مثالوں میں جو خاندان دہشت گردی کا متاثرہ تھا اس میں کئی افراد کمانے والے تھے تو وہان پہ معاشی اثرات تو نہ تھے اس طرح سے بلکہ جلد ان کے ہاں ٹراما سے نکلنے کی کہانی نظر آتی ہے۔ایک سنّی بریلوی عورت جس نے اپنے شوہر کو ایک ٹارگٹ حملے میں کھودیا اس کا کہنا تھا:مرے شوہر گھر چلانے میں ہاتھ بٹاتے تھے لیکن وہ گھر کے واحد کمانے والے نہ تھے،میرا بیٹا ایک کمپنی میں ملازم ہے اور بعض صوبائی سرکاری مذہبی اداروں کا رکن بھی اور وہ وہاں سے تنخواہ اور وظائف پاتا ہے۔بعض جائیداد بھی ہے جو کرایہ پہ ہے تو معاشی پریشانی کا سامنا تو نہیں ہے۔

احمدی عورتوں کے معاملے میں معاشی اثر بارے کیس دوسرے فرقوں کی عورتوں کے کیسز سے مختلف ہے۔دہشت گردی کی متاثرہ احمدی عورتوں کی نہ صرف اشک شوئی کی جاتی ہے بلکہ جماعت احمدیہ ان کی مالی سپورٹ بھی کرتی ہے۔مثال کے طور پہ ایک احمدی عورت جس کا سسر دہشت گردی کا شکار ہوا تھا نے بتایا:جب مرے سسر لاہور میں ایک احمدی مسجد پہ ہونے والے حملے کے دوران مارے گئے تو تب سے ہمارے خاندان کو ہماری جماعت کی جانب سے مسلسل سپورٹ ملی۔ہمارے جماعت کے مقامی رہنماء نے متاثرہ 85 خاندانوں کو تین ماہ تک راشن فراہم کیا تو ان کو اس حوالے سے کسی دشواری کا سامنا نہ تھا۔اور جن عورتوں کے کمانے والے نہ رہے تو ان عورتوں کو جتنا ان کے مرد کماتے تھے اتنا ہر ماہ وظیفہ دینا شروع کردیا گیا۔ان کے بچے ان ہی اسکولوں میں فیس کی فکر کئے بغیر جانے لگے۔ہمارے مذہبی رہنماء نے ایسے تمام متاثرہ گھرانوں کی دیکھ بھال کا حکم جاری کیا اور کسی ایک خاندان نے بھی حکومتی امداد قبول نہ کی۔

مذکورہ بالا نتائج مختلف فرقوں کی عورتوں پہ دہشت گردی سے متاثر ہونے کے بعد پڑنے والے معاشی اثر کی وضاحت کرتے ہیں۔

دہشت گردی سے متاثرہ خواتین کی حکمت عملی

اس سیکشن میں ہم اس بات پہ فوکس کریں گے کہ دہشت گردی کی متاثرہ خواتین نے اپنی مشکلات پہ کیسے قابو پایا اور کیا حکمت عملی اس حوالے سے اختیار کیں۔کیسے انہوں نے اپنے آپ کو پیش آمدہ حالات کے مطابق ڈھالا۔کیسے ردعمل ظاہر کیا اور اپنے پیاروں کے کھوجانے کے بعد اپنے تجربات سے کیا سیکھا۔مین سٹریم میڈیا میں ہزارہ شیعہ عورتیں اس وقت دکھائی دیتیں جب وہ دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرتی تھیں۔ماضی میں پاکستانی قوم نے ان عورتوں کو اپنے پیاروں کی لاشوں کے سیاست انصاف کی دھائی دیتے دیکھا تھا۔عورتیں نیشنل و انٹرنیشنل میڈیا پہ اپنے خاندان کی مکمل حمایت کے ساتھ احتجاج کرتی نظر آئیں۔ایسی شیعہ ہزارہ عورتوں نے بہادری سے اس طریقے سے اپنی آواز بلند کی :مجھے لازم ہے کہ میں اس بات کو اگے پہنچاؤں کہ ایک شیعہ ہزارہ عورت ہونے کا مطلب کیا ہے؟ آج میں اپنی کہانی کا کچھ حصّہ بیان کرنے جارہی ہوں۔۔۔۔۔ کہانی مری اور مرے لوگوں کی۔جب ہم میں سے کوئی آپ کے سامنے آتا ہے تو آپ میں سے اکثر ہمیں چینی یا کوریائی کہتے ہو۔ہمارے نقش و نگار تمہاری طرح نہیں ہیں۔نہ ہی ہماری نسل یا جینیاتی ترکیب تمہارے جیسی ہے۔اور ہمارا درد بھی ایسے ہے جیسے اوروں کا درد ہو۔ہم پاکستانی تو ہیں لیکن ابھی تک ایسا سمجھا نہیں جاتا۔بہت کم ہمارے لئے آواز بلند کریں گے کہ ہمارے 30 لوگوں کو بس سے باہر لاکر گولی ماری دی گئی کیونکہ ہم شیعہ ہیں۔صرف اس لئے کہ ہمارے خدوخال منگولوں جیسے ہیں۔اس لئے کہ ہماری ہجرت افغانستان سے ہے؟ آپ میں سے کتنے ہیں جن کے ایک ہی گھر سے پانچ مرد بشمول باپ،بیٹا  اور بھائی،شوہروں کے جنازے نکلے ہوں۔ان گھروں کی عورتیں کس حالت کی گرفتار ہوں گی؟

نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا نے فروری 2013ء میں شیعہ ہزارہ عورتوں کی بھرپور کوریج کی جب 84 شیعہ ہزارہ ایک خودکش حملے میں جاں بحق ہوگئے۔غیر ہزارہ شیعہ عورتیں بھی ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لئے کردار ادا کرتی ہیں۔ایک شریک عورت نے مجھے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا ایکٹوازم کرتی ہے لیکن یہ زیادہ دیر تک مدد نہیں کرتا:بعض اوقات میں اس کے بارے میں ایسے بات کرتی کہ وہ جیسے ابھی تک وہاں ہو،میں اس کی فیس بک کھولتی اور رونے لگتی۔بعض اوقات میں اسے ٹیکسٹ کرتی۔میں سوشل میڈیا کے زریعے ایکٹوازم کرکے اپنا غصّہ نکالتی۔میں نے بہت سے لوگوں سے 5 سالوں میں تلخ مکالمے کئے۔لیکن آخرکار میں نے سوشل میڈیا پہ اپنے آپ کو ڈی ایکٹویٹ کرلیا اور لوگوں سے اپنے آپ کو فاصلے پہ کرلیا۔

ایک اور شیعہ خاتون جس نے اپنا بیٹا اور شوہر کھودیا تھا نے ایک گروپ

Grief Directory

کے نام سے شروع کیا تاکہ دوسرے متاثرہ خاندان اور ماؤں کی مدد کی جاسکے۔اس کے اپنے الفاظ میں کہ میں نے اس گروپ کو شروع کیا تو بظاہر یہ ایک چھوٹا سا قدم تھا۔یہ ہمارے بقا کا سفر تھا،یہ مرے درد میں کمی لانے کا سبب بنت اگر میں دوسروں کی بقاء میں مددگار ثابت ہوتی تو۔ہم ایک جیسے درد کا شکار تھے اور یہ جاننا بہت اہم تھا کہ ہم تنہا یا اکیلے نہیں ہیں۔اس گروپ کا کام متاثرہ خاندان کو رضاکارانہ بنیادوں پہ خدمات کی فراہمی کا میکنزم تیار کرنا تھا۔ایک مرتبہ ایک خاندان جب رجسٹر ہوجاتا تو اس کے افراد کی مدد سے ان کی ضرورتوں کی لسٹ تیار کی جاتی۔اور لوگ رضاکارانہ بنیادوں پہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے۔

(Haider 2015)

ایک شیعہ عورت نے اپنے بھائی کی کئی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد کی جب ان کے والد دہشت گردی کا نشانہ بنے:یہ بہت بڑا نقصان تھا جب ہمارے  والد اچانک دہشت گردی کا نشانہ بنے لیکن اس کی وجہ سے کوئی سیریس مالی دشوار؛ نہ ہوئی کیونکہ ہمارے پاس دوسرے زرایع آمدن موجود تھے۔لیکن اس حادث کے بعد ہمارے خاندان کو کئی مشکلات کا سامنا تھا۔کئی ایسے معاملات تھے جن کو حل کرنے کے لئے زیادہ عزم اور حوصلے کی ضرورت تھی۔میرے بھائیوں کے لئے ہر ایک چیز کی دیکھ بھال کرنا مشکل تھا۔تاہم ميں نے اور میرے بھائی نے ملکر صورت حال کا مقابلہ کیا۔

ایک اور 12 سالہ شیعہ لڑکی محضر زھرا پاکستانی عورتوں کے لئے ہمت کی مثال ہے۔30 نومبر 2012ء کو وہ اپنے والد سید نذر عباس کے ساتھ موٹر سائیکل پہ اسکول سے واپس آرہی تھی جب دیوبندی عسکریت پسندوں نے ایک موٹر بائیک پہ ان کو گھیرلیا اور فائرنگ کردی۔اس کے والد ہلاک ہوگئے اور وہ شدید زخمی ہوگئی۔یہ معاملہ ابتدائی طور پہ ميڈیا میں ہائی لائٹ ہوا اور اس کو ملالہ یوسف زئی سے تشبیہ دی گئی۔کیونکہ دونوں لڑکیاں تھیں اور دونوں اسکول جارہی تھیں اور اسکول سے واپسی پہ دونوں پہ حملہ ہوا۔لیکن محضر زھراء کا معاملہ جلد ہی پردہ سکرین سے غائب ہوگیا۔

 (Tarar 2012)

جب ڈاکٹرز نے پہلی بار محضر زھرا کا معائنہ کیا تو انہوں نے اس کی والدہ کو بتایا کہ یہ صرف وینٹی لیٹر پہ ہی زندہ رہ سکتی ہے ساری عمر۔اگلے 38 دن اس کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں تین بار لیجایا گیا۔کبھی وینٹی لیٹر پہ کبھی وینٹی لیٹر سے الگ کہ کوئی معجزہ رونما ہوجائے۔اس کی حالت بہت نازک تھی۔ایک گولی نے اس کے دونوں پھیپھڑے چھید ڈالے تھے اور دوسری نے ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچایا تھا۔اور ایک اور گولی اس کی کلائی کے آر پار ہوگئی تھی۔ایک سال کے اندر اندر محضر زھرا نے 23 ارچ 2013ء کو کراچی میں شہداء کی ایک کانفرنس میں وہیل چئیر پہ شرکت کی۔اپنی تقریر میں اس نے تکفیری دیوبندی عسکریت پسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:تمہارا خیال ہے کہ تم ہمیں روک لوگے۔نہیں! مرے ابّا اس لئے مارے گئے نا کہ وہ ایک شیعہ تھے۔لیکن رسم عزاداری اور محرم کا سوگ منایا جانا کبھی نہیں رکے گا۔ہم کبھی ذکر امام حسین رضی اللہ عنہ سے باز نہيں آئیں گے۔میں اپنی قوم کی شکر گزار ہوں جنھوں نے مری صحت یابی کی دعائیں کیں،اور میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے اور مجھے مزید علاج کے لئے باہر بھجوائے،تاکہ میں پھر اپنے پیروں پ چلنے کے قابل ہوجاؤں اور اپنی قوم کی خدمت کرسکوں۔

اپنی مشکلات ، ہمت اور انسانی حقوق پہ موقف کے حوالے سے محضر زھرا کو پاکستان کی اینی فرینک کہا گیا۔ اپنے مضبوط عزم کے زریعے وہ بہت سے لوگوں کے لئے مثال ہے۔

آرمی پبلک اسکول پشاور کے طلباء جو دیوبندی عسکریت پسندوں کے حملے میں 16 دسمبر 2014ء میں مارے گئے تھے ان کی سنّی، شیعہ اور دوسری مائیں اپنے بڑے نقصان کے بعد بقاء کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ان کی اکثریت کو میڈیا پہ دکھایا گیا۔ان میں سے ایک متاثرہ ماں نے شکایت کی:وہ ان کے قاتلوں کو سرعام پھانسی کیوں نہیں دیتے تاکہ شہید بچوں کی ماؤں کے کلیجے میں کچھ ٹھنڈ پڑے؟

اس حادثے نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔تاہم ان بچوں کی ماؤں کا درد کبھی نہ ختم ہونے والا ہے۔ایک ماں نے کہا:یہ درد تو مری موت کے بعد ہی ختم ہوگا۔

والدین نے ایک شہداء فاؤنڈیشن قائم کی۔تاکہ ایک دوسرے کی مدد کی جاسکے۔انہوں نے حکومت اور فوج سے انصاف کا مطالبہ بھی کیا۔ایک اور طالب علم کے والد اختر نے ایک این جی او اپنے شہید بیٹے کے نام پہ قائم کی تاکہ اس کی روح کو سکون ملے:میں نے ایمان خان شہید کے نام سے معاشرے کمزوروں کی مدد کے لئے این جی او ایمان خان شہید اے پی ایس ویلفئیر سوسائٹی شروع کی ہے،مقصد علم پھیلانا اور غربت کا خاتمہ ہے۔

 (Qayyum 2015)

انٹرویوز سے پتا چلتا ہے کہ احمدی خواتیں نے بھی مشکلات سے نمٹنے کے لئے ایسی ہی سٹریٹجی بنائیں،جب لاہور میں دوہزار دس میں احمدیوں پہ حملہ ہوا تو احمدیہ کمیونٹی ٹی وی چینل نے تمام متاثرہ 85 خاندانوں کے انٹرویو کئے۔کچھ معلومات ان ہی انٹرویوز کے زریعہ سے اکٹھی کی گئیں ہیں۔ان انٹرویوز سے اندازہ ہوتا ہے کہ احمدی خواتیں اس صدمے کے باوجود پر‏عزم دکھائی دیں اور انہوں نے اپنے پیاروں پہ فخر کیا۔ایک بیوہ کہتی ہے:مجھے اپنے شوہر کی قربانی پہ فخر ہے اور اس بات پہ اطمینان بھی کہ ہمارے خلیفہ اس دکھ اور آزمائش کی گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے۔

ایک اور سن رسیدہ عورت جس کا بیٹا اس دھشت گردی میں مارا گیا بھرے آنسوؤں سے کہتی ہے: ماں ہی جانتی ہے وہ درد جو اسے جواں سال بیٹے کی مرگ ناگہانی پہ ہوتا ہے لیکن پھر اللہ کی حمد، اللہ کی حمد ، اللہ کی حمد

تتمہ بحث

اس ریسرچ میں ہم نے دیوبندی عسکریت پسندی سے متاثرہ خواتین کی زندگیوں پہ اس کے سماجی و معاشی اثرات کا جائزہ لیا۔ان کی جانب سے ان حالات سے نمٹنے کے لئے اپنائی جانے والی حکمت عملی پہ غور کیا۔مین نے جینڈر اور مذہبی عقیدے کی انٹرسیکشنلٹی کو استعمال کرتے ہوئے عورتوں کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا اس پہ روشنی ڈالی۔اس مقصد کے لئے شیعہ ہزارہ، شیعہ غیر ہزارہ، سنّی بریلوی اور احمدی عورتوں کے انٹرویوز کئے گئے۔اس کے ساتھ ساتھ ثانوی مواد بھی استعمال کیا گیا۔اور اس تحقیق سے ہمارے سامنے یہ بات آئی کہ یہ تینوں فرقے شیعہ، سنّی بریلوی اور احمدی دیوبندی عسکریت پسندی کا شکار ہیں لیکن جینڈر،فیتھ اور اتھنی سٹی کی بنیاد پہ ان کے تجربات مختلف بھی ہیں۔خاندان کے کسی بھی فرد کا مارا جانا ہر ایک کے لئے دردناک ہے۔مواد کا تجزیہ انکشاف کرتا ہےکہ شیعہ ہزارہ عورتوں نے زیادہ بڑے نفسیاتی اور سماجی ٹراما کا سامنا کیا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان عورتوں نے ایک سے زیادہ خاندان کے لوگ کھو دئے۔اور پھر ان کو دیوبندی عسکریت پسندوں کی طرف سے مزید دھمکیوں کا سامنا ہے۔ہزارہ عورتوں کی کہانیوں سے ان کی بے بسی کے احساس کا بھی پتا چلتا ہے۔شیعہ عورتوں /غیر ہزارہ شیعہ عورتوں کا کیس بھی ایسا ہی ہے لیکن ان کے ٹراما کی شدت زرا کم ہے۔احمدی عورتوں کو نہ صرف سماجی بلکہ مالی سپورٹ بھی ملی ان کی جماعت کی جانب سے۔غیر احمدی کمیونٹیز بشمول ان کے پڑوسی ان کے عقائد کی بنا پہ ان سے لاتعلقی کا مظاہرہ کرتی نظر آئیں۔معاشی اثرات کے معاملے میں شیعہ ہزارہ خواتین ایک بار پھر زیادہ متاثر ہیں۔کوئی بھی گھرانہ جب روزی کمانے والے سہارے سے محروم ہوتا ہے تو مشکلات بڑھتی ہیں لیکن ہزارہ خواتین کے معاملے میں یہ زیادہ شدید اور سنگین معاملہ ہے۔اور اس کی وجہ شیعہ ہزارہ عورتوں کی پہلے سے کمزور معاشی حالت اور ان کا کم ترقی یافتہ علاقے میں رہنا ہے۔اور ان کے دیگر افراد بھی خطرے میں ہیں اور اس وجہ سے ایک حاص علاقے میں گھرے ہونے کی وجہ سے ان کے معاشی حالات اور دگرگوں ہوگئے ہیں۔ہزاروں شیعہ ہزارہ مرد دیوبندی عسکریت پسندی کا نشانہ بنے اور اس سبب ان کے معاشی،سماجی،سیاسی،نفسیاتی اور جذباتی حالات کار بہت زیادہ سنگین ہیں۔اور اکثر ہزارہ خاندان دوسرے ممالک میں پناہ تلاش کررہے ہیں۔(دیکھیں ہیومن رائٹس واچ رپورٹ 2014)

جن خاندانوں کے مرد نہ رہے ان کی عورتیڑ سخت معاشی حالات کی وجہ سے بہت مشکل سے رہ پاتی ہیں۔شیعہ خواتیں بھی پدرسری معاشرے کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔اور گھر سے باہر کے معاملات ان کے لئے خاصے مشکل ہوتے ہیں۔ایک اہم نکتہ جو ان کی جینڈر اور مذہب سے ہٹ کر یکساں سے وہ ہے ایک جیسے معاشی ایشوز کا سامنا۔تاہم تینوں کیسز میں سماجی طبقہ اور بچ جانے والے مرد ملازمین اہم کردار کے مالک ہوتے ہیں۔دہشت گردی کی متاثرہ خواتین کے لئے روزمرہ زندگی کے معاملات سے نقصان کے بعد نمٹنا آسان نہیں ہوتا لیکن زندگی آپ کو آگے بڑھنے پہ مجبور کرتی ہے۔دہشت گردی کی متاثرہ خواتیں نے بھی زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے اور پیش آمدہ صورت حال سے نمٹنے کے لئے کئی ایک حکمت عملی اپنائیں۔ ان کا زکر اوپر کیا گیا۔ہزارہ خواتین نے اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ بیٹھ کر اپنے معاملے کی سنگینی بارے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔شیعہ عورتوں نے بھی مختلف حکمت عملی اپنائیں۔سوشل میڈیا ایکٹوازم کیا،آرٹیکل لکھے، این جی او بنائی ، سوشل میڈیا پہ گروپ بنائے۔سنّی بریلوی خواتین اور احمدی خواتین جو دہشت گردی کی متاثرہ تھیں احتجاج کے حوالے سے اسقدر سرگرم نظر نہیں آئیں،لیکن ان کے این جی اوز میں اپنے خاندان کے مردوں کی سپورٹ سے سرگرم ہونے کے آثار ملتے ہیں۔خاص طور پہ سنّی بریلوی ویمن۔احمدی خواتین جو دہشت گردی کی متاثرہ ہیں وہ اپنے مذہبی رہنماء کی ہدائیت پہ عمل کرتی ہیں۔خواتین کی اکثریت خاص طور پہ مائیں جنھوں نے اپنے بیٹے کھودئے وہ شہیدوں کی ماں ہونے پہ فخر کرتی ہیں۔یہ بھی درد سے نمٹنے کی ایک حکمت عملی ہے۔بعض احمدی خواتین کو اپنے روحانی رہنماء سے جڑے ہونے میں روحانی سکون نظر آتا ہے۔شیعہ خواتین امام حسین اور ان کے خاندان کی مشکلات کو یاد کرکے اپنا غم کم کرتی ہیں۔یہ انٹرویو ظاہر کرتے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے جو ہیں ان کے بارے میں متاثرہ خواتین میں ابہام پایا جاتا ہے۔اگٹر عورتیں طالبان، لشکر جھنگوی،سپاہ صحابہ پاکستان کا زکر کرتی ہیں،لیکن سنّی بریلوی خواتین واضح طور پہ عسکریت پسندوں کی دیوبندی شناخت کا حوالہ دیتی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ احمدی خاتون کہتی ہے کہ اس نے انٹرویو کے دوران ہی پہلی مرتبہ لفظ دیوبندی سنا ہے۔اس کی ایک وجہ تو لاعلمی ہے کہ دیوبندی مولوی اور عسکریت پسندی عناصر عام طور پہ خود کو سنّی یا اہلسنت کہتے ہیں۔جس کی وجہ سے ان کو اکثریتی امن پسند صوفی سنّی بریلویوں سے الگ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

سفارشات و تلخیص

جب دیوبندی عسکریت پسندی سے متاثرہ خواتین کے تجربات پہ تحقیق کا معاملہ آتا ہے تو انٹرسیکشنلٹی کا عدسہ اہم ہوجاتا ہے کیونکہ ان کا تجربہ ان کی صنف،ایتھنی سٹی اور عقیدے کی وجہ سے مختلف ہوجاتا ہے۔یہاں جو کہانیاں اور واقعات پیش کئے گئے وہ پاکستان میں دہشت گردی کی متاثرہ خواتین کی مشکلات اور تجربے کی پیچیدگی اور چیلنچز کو ظاہر کرتے ہیں۔ان خواتین کے پیش آمدہ حالات سے سرخرو ہونے کی سٹریٹجی پہ بھی یہ تحقیق روشنی ڈالتی ہے۔ان پہ اس کے جو معاشی،نفسیاتی ،سماجی اور جذباتی اثرات مرتب ہوتے ہیں ان عورتوں کا مذہبی،صنفی، طبقاتی پس منظر ان کی شدت میں کمی یا زیادتی کا سبب بنتا ہے۔پالیسی ساو اداروں جیسے حکومت، این جی اوز اور سیکورٹی فورسز ہیں ان کو ان ایشوز کو انٹرسیکشنلٹی کی بنیاد پہ سمجھنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پہ وہ عورتیں جو گھروں کی سربراہ ہیں۔سب سے پہلے توضرورت ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ خواتین کی مدد کرنے کے لئے وفامی اور صوبائی حکومتوں کو ایسی خواتین کے مذہبی صنفی اور طبقاتی پس منظر سے آگاہی حاصل کرنے اور اس کے مطابق پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔جیسا کہ جینڈر لوگوں کی تعلیم،روزگار،صحت،ہیلتھ کئیر اور دوسرے مواقع تک رسائی میں اہم کردار ادا کرتی ہے تو جینڈر سے خاص اپروچ ہی معاشرے میں برابر کے مواقع فراہم کرنے اور ان کو پھر سے معاشرے میں بحال کرنے کا واحد راستہ ہے۔اور پھر ڈویلپمنٹ پالیسیوں اور پروگراموں کا جینڈر پہ واضح فوکس ہونا چاہئیے۔شورش زدہ علاقوں میں تعمیر نو کے پروسس بارے فیصلے کرنے میں عورتوں کی کمیونٹی لیول پہ اور تمام قومی سطحوں پہ آواز کو شامل ہونا ضروری ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ صنفی تعلقات میں سٹرکچرل تبدیلیاں لانے کے لئے طویل المعیاد منصوبے اور پالیسیاں بھی بنانا ضروری ہے۔

آخری بات کہ دیوبندی عسکریت پسند؛ نے بڑے پیمانے پہ مردوں کی شرح اموات میں اضافہ کیا ہے اور بہت ساری عورتیں بیوہ ہوئی ہیں اور وہ گھر کی سربراہ ہیں، اس ایشو پہ خاص طور پہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔حکومت کو ان کی خصوصی تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ان کو ملازمتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی معاشی مشکلات دور کرنے کی ضرورت بھی ہے۔

REFERENCES

Ahmad, U. (2015). Remember the Ahmadis of Lahore, remember the forgotten.

DawnNews.http://www.dawn.com/news/1184975/remember-the-ahmadis-of-lahore-remember-the-forgotten. Accessed on 30 May.

Ahmad, S., Hayat, M., Ahmed, S., & Sajid, I. M. (2014). Gender differences in depression among the affectees of war on terrorism and the role of psychological interventions in the rehabilitation. Pakistan Journal of Criminology, 6(2), 95-112. Ali, F. (2013). A multi-level perspective on equal employment opportunity for women in Pakistan. Equality Diversity and Inclusion, 32(3), 289-309.

Ali, F., & Knox, A. (2008). Pakistan’s commitment to equal employment opportunity for women: A toothless tiger? International Journal of Employment Studies, 16, 39-58.

Ali, F., & Kramar, R. (2015). An exploratory study of sexual harassment in Pakistani organisations. Asia Paci  c Journal of Management, 32(1), 229-249. Arendt, H. (1998). The human condition. Chicago: Chicago University Press(Orig. pub. 1958).

Bailey, G. (2014). The power of Malala. International Social Work, 57(1), 75.Brah, A., & Phoenix, A. (2013). Ain’t IA Woman? Revisiting Intersectionality. Journal of International Women’s Studies, 5(3), 75-86.Bari, F. (2010). Gendered perceptions and impact of terrorism/talibanization in Pakistan. Islamabad: Henrich Boll Stiftung.

BBC News. (2013). Hell on Earth: Inside Quetta’s Hazara community by Muin

Azhar. http://www.bbc.co.uk/news/world-asia-22248500. Accessed on 22 May 2015.

BBC News. (2015). Pakistan gunmen kill 45 on Karachi Ismaili Shia bus. http:// http://www.bbc.co.uk/news/world-asia-32717321. Accessed on 15 May 2015.

Collins, P. H. (2015). Intersectionality’s definitional Dilemmas. Annual Review of Sociology. doi:10.1146/annurev-soc-073014-112142.

Crenshaw, K. (1989). Demarginalizing the intersection of race and sex: A black feminist critique of antidiscrimination doctrine, feminist theory and antiracist politics. The University of Chicago Legal Forum, 140, 139-167. Crenshaw, K. W. (1991). Mapping the margins: Intersectionality, identity politics, and violence against women of color. Stanford Law Review, 43(6), 1241-1299. Ferdoos, A. (2005). Social status of urban and non-urban working women in Pakistan:  A  comparative  study.  Unpublished  PhD  thesis,  University  of Osnabrueck, Osnabrueck.

Haider, F.A. (2015). The grief directory, published in The News. Available at: http://www.thenews.com.pk/Todays-News-9-293745-The-grief-directory

HRW (Human Rights Watch) Report. (2014). We are the walking dead: Killings of Shia Hazara in Balochistan, Pakistan. Available at: https://www.hrw.org/sites/default/files/reports/pakistan0614_ForUplaod.pdf Jawaid, I., Haneef, K., & Pooja, B. (2014). Women, the victim of modern forms of terrorism: An introspection. International Journal of Interdisciplinary and Multidisciplinary Studies, 1(5), 49-59.

Knudsen, S. (2006). Intersectionality: A theoretical inspiration in the analysis of minority cultures and identities in textbooks. In E. Bruillard, M. Horsley,B. Aamotsbakken (Eds.), Caught in the web or lost in the textbook (pp. 61-76), 8th IARTEM conference on learning and educational media, held in Caen in October 2005. Utrecht: IARTEM.

Liebling-Kalifani, H., Marshall, A., Ojiambo-Ochieng, R., & Kakembo, N. M. (2007). Experiences of women war-torture survivors in Uganda: Implications for health and human rights. Journal of International Women’s Studies, 8(4), 1-17.

Moaveni, A. (2015, November 22). ISIS women and enforcers in Syria recount collaboration, anguish and escape. The New York Times, Available at: http://www.nytimes.com/2015/11/22/world/middleeast/isis-wives-and-enforcers-in-syria-recount-collaboration-anguish-and-escape.html

Niarchos, C. N. (1995). Women, war, and rape: Challenges facing the international tribunal for the former Yugoslavia. Human Rights Quarterly, 17(4), 649-690.

 Parent, M. C., DeBlaere, C., & Moradi, B. (2013). Approaches to research on intersectionality: Perspectives on gender, LGBT, and racial/ethnic identities. Sex Roles, 68(11-12), 639-645.

Phoenix, A., & Pattynama, P. (2006). Intersectionality. European Journal of Women’s Studies, 13(3), 187-192.

Prins, B. (2006). Narrative accounts of origins: A blind spot in the intersectional approach? European Journal of Women’s Studies, 13(3), 277-290.

Qayyum, M. (2015). #Neverforget: The wedding bells that will never ring. Express Tribune.  Available  at:  http://tribune.com.pk/story/880914/neverforget-the-wedding-bells-that-will-never-rin Staunæs, D. (2003). Where have all the subjects gone? Bringing together the concepts  of  intersectionality  and  subjectification.  NORA: Nordic Journal of Women’s Studies, 11(2), 101-110.

Syed, J., Ali, F., & Winstanley, D. (2005). In pursuit of modesty: Contextual emotional labour and the dilemma for working women in Islamic societies.

International Journal of Work, Organisation and Emotion, 1(2), 150-167.

Tarar, T. (2012). That little girl. The Daily Times. Available at: http://archives. dailytimes.com.pk/editorial/09-Dec-2012/view-that-little-girl-mehr-tarar

Thacker, P. (2014). Pakistan’s Hazara: ‘It’s like living in jail’. Aljazeera News. Available   at:   http://www.aljazeera.com/humanrights/2014/12/pakistan-hazara-it-like-living-jail-2014123114655754509.html

USCIRF (US Commission on International Religious Freedom). (2015). Annual report, Washington, DC: USCIRF. Available at: http://www.uscirf.gov/sites/default/files/USCIRF%20Annual%20Report%202015%20%282%29.pdf

Zahidi, F. (2012). Hazara Shias lose all hope in Pakistan. International Herald Tribune. Available at: http://tribune.com.pk/story/486883/a-story-of-the-others-hazara-shias-lose-all-hope-in-pakistan/

 

 

Advertisements

دوزخی روحیں-چوتھا حصّہ

images (1)

 

 

میں تمہیں دوش نہیں دیتی کہ تم بار بار ‘جنس’ کو محبت کے پیرائے میں بیان کرنے لگتے ہو،اور تم مجھ سے اپنے جذبات شئیر کرتے ہو۔لیکن مجھے سمجھ یہ نہیں آتی کہ ایک تو اب نہ تم تازہ تازہ جوان ہوئے ہو اور نہ ہی تمہارا تعلق دور دراز کے کسی دیہات یا گاؤں سے ہے جہاں صنف مخالف سے کبھی تمہارا واسطہ نہ پڑا ہو۔تم نے کو ایجوکیشن ہی دیکھی ہے اور پھر میں نے یونیورسٹی میں ماسٹرز کے زمانے میں تمہاری مجلسی زندگی میں کئی عورتوں کو دیکھا۔اس کے باوجود تمہارے اندر اناڑی اور بہت ہی ناآسودہ جذبات رکھنے والے نوجوانوں جیسی بےتابی کیوں ہے؟مجھے  تمہارا جنسی رویہ غیر صحت مند کیوں لگتا ہے؟

ندا نے مجھ سے پوچھا تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ اس کا میں کیسے اور کیا جواب دوں۔پھر میں نے بھی فیصلہ کرلیا کہ اسے صاف صاف اپنے بارے میں بتادوں۔

ندا! میں نے ٹھیک ہے اسکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک کو ایجوکیشن دیکھی۔لیکن میرا تعلیم کا ماحول اور جہاں میں رہتا تھا وہاں کا ماحول یکسر مختلف تھا۔میں نے پی آئی بی کالونی میں بنی کباڑ کی دکانوں کے عقب میں بنے ایک ایسے گھر میں آنکھ کھولی جہاں کا ماحول بہت مذہبی تھا۔میرے والد جمعیت علمائے پاکستان کے صدر تھے اور وہ پرانی بیٹریوں کی خرید و فروخت کے کاروبار سے جڑے ہوئے تھے۔گھر میں اور اڑوس پڑوس میں عورتیں سخت پردے میں رہا کرتیں تھیں اور ہم وہاں بس لڑکے ہی آپس میں میل جول رکھتے تھے۔میرے ساتھ پہلی درگھٹنا 14 سال کی عمر میں ہوئی جب میں آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ہمارے گھر کے ساتھ ہی مولوی رفیق کا گھر تھا جن کا لڑکا رفیع کبوتر بازی کرتا تھا۔اس  نے اپنی چھت پہ بہت سے کبوتر رکھے ہوئے تھے۔مجھے بچپن سے ہی پرندے بہت اچھے لگتے تھے اور کبوتر تو مجھے بہت ہی پسند تھے۔ہمارے گھروں کی چھتیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھیں اور ان کی دیواریں بہت چھوٹی تھیں،آسانی سے ان کو پھاند کر ایک چھت سے دوسری چھت تک جایا جاسکتا تھا۔میں اکثر کبوتروں کو دیکھنے اور ان کو چھونے رفیع کی چھت پہ چلا جاتا اور رفیع بھی میرے ساتھ بڑی شفقت سے پیش آتا۔اس نے آہستہ آہستہ میرے ساتھ اپنا تعلق بڑھایا۔وہ گرمیوں کی ایک دوپہر تھی جب میں کبوتر دیکھنے ان کی چھت پہ گیا۔تو اس دن رفیع کا رویہ میرا ساتھ عجیب سا تھا۔اس نے مجھے اپنے ساتھ لپٹا لیا اور آہستہ آہستہ مجھے چومنا شروع کردیا۔اس کی سانسیں تیز تیز چلنے لگیں۔مجھے خطرے کا احساس ہوا مگر اس وقت دیر ہوچکی تھی۔اس نے مجھے زبردستی کبوتروں کے کھڈے میں دھکیلا اور اس کے بعد میرے ساتھ وہ ہوا جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔میں کافی ڈر گیا تھا اور میں نے اپنے ساتھ ہونے والی درگھٹنا کے بارے میں کسی کو نہ بتایا۔میں اس کے بعد کافی دنوں تک چھت پہ نہ گیا۔ایک دن جب میں اسکول سے واپس آرہا تھا تو بازار میں مجھے رفیع مل گیا اور اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ اگر میں شام کو چھت پہ نہ آیا تو وہ میرے بارے میں میرے گھر والوں کو بتادے گا۔میں کافی ڈر گیا۔میری نظروں کے سامنے اپنے ابا کا درشت چہرہ آیا۔جو میری چھوٹی سی غلطی پہ مجھے تھپڑوں اور مکوں پہ دھرلیتے تھے اور میری ماں پانی والے نال سے مجھے پیٹ دیتی تھی۔میں اس ڈر اور خوف کو ذہن میں رکھ کر چھت پہ چلا گیا۔اس دن کے بعد سے میں اس اذیت ناک مرحلے سے کئی بار گزرا اور رفیع نے مجھے کئی اور دوستوں کے سامنے بھی پیش کیا۔میں جب میٹرک میں تھا تو میری کلاس کا ایک لڑکا فہیم جس میں بہت لچک تھی اور بہت نرم و نازک تھا۔ وہ مجھے اچھا لگنے لگا اور اس نے ایک دن ہمارے اسکول کے ایک ویران کونے میں بنے واش رومز کے کوریڈور میں ازخود پکڑا اور اپنے ہونٹوں میں میرے ہونٹ لے لئے اور آہستہ آہستہ اس نے میری رانوں کے درمیان اپنا ہاتھ دیا اور پہلی بار اس نے مجھے انفعالیت سے فاعلیت کی طرف جانے کا تجربہ کروایا۔اس دن نجانے کیسے میں نے اپنے آپ کو اس عمل میں مسرور پایا۔مجھے کسی اذیت سے نہ گزرنا پڑا۔ایف اے تک میں نے یہ سفر طے کیا۔اس کے بعد جب بی اے میں ،میں کراچی یونیورسٹی آیا تو یہاں حادثاتی طور پہ میں ڈی ایس ایف والوں کے ہاتھ لگ گیا۔ان کے اسٹڈی سرکل میں مجھے کتابوں کی چاٹ لگ گئی اور مجھ پہ دانشوری اور سیاسی ایکٹوازم کا بھوت سوار ہوگیا۔اس پورے عرصے میں عورت اور اس کے ساتھ تعلقات بارے میر وہم وگمان میں کچھ بھی نہیں تھا۔لڑکے مجھے اب بھی کسی حد تک اچھے لگتے تھے لیکن میں نے اس حوالے سے اپنے رجحان کو چھپالیا تھا۔اور لڑکی کے حوالے سے سرے سے میرا کوئی تجربہ تھا ہی نہیں۔پھر مجھے ادب کا چسکا لگا اور آہستہ آہستہ کتابی طور پہ عورت بارے میرا علم وسیع ہونے لگا۔میرے اندر کسی عورت سے ہمبستر ہونے کی اشتہا اس وقت زیادہ ہوگئی جب میرے ایک سندھی دوست نے مجھے لی مارکیٹ کے اندر ایک تنگ سے کوٹھے پہ لیجاکر ایک عورت کے بدن سے آشنا کرادیا۔مگر وہ پہلی اور آخری بار عورت کے بدن سے میری آشنائی تھی۔یونیورسٹی میں کوئی لڑکی میرے اس طرح سے قریب ہی نہیں آئی تھی جیسے تم آئیں اور اس زمانے میں، تمہارے بارے میں، میں نے اپنے سارے جذبات اندر ہی چھپائے رکھے۔مجھے لگتا تھا کہ اگر میں لڑکیوں میں جنسی دلچسپی ظاہر کروں گا تو لڑکیاں مجھ سے ناراض ہوں گی اور اس سے یونیورسٹی میں ہماری سیاست کو بڑا نقصان پہنچے گا۔لیکن اب جب مجھے تمہاری طرف سے شہہ ملی تو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔اور شاید ماضی میں میرے شعور پہ جنسی زیادتی سے جو اثرات بد مرتب ہوئے انہوں نے میرے جنسی جذبوں کو حد سے زیادہ مشتعل کررکھا ہے۔

‘کیا تم اب بھی لڑکوں میں کشش محسوس کرتے ہو؟’ ندا نے دبیز نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

میں تھوڑا سا ہنسا اور کہا،’بالکل بھی نہیں۔اگرچہ میں ایل جی بی ٹی رائٹس کا حامی ہوں۔لیکن مجھے لگتا کہ میں ‘گے’ نہیں ہوں۔کیونکہ جب سے میں عورت کے بدن سے شناسا ہوا تب سے مجھے نوخیز لڑکوں میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی۔

یہ سنکر ندا کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔

اس کی ہنسی سے مجھے لگا کہ اس نے یہ سنکر ‘تھینک گاڈ’ کہا ہو۔

اس دن میں اور ندا جب واپس اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹنے لگے اور گرومندر لسبیلہ چوک پہ ہمارے راستے جدا ہونے کا جب وقت آیا تو ایک دم سے ہم ایک دوسرے کو تکنے لگے اور پھر ندا نے ایک دم سے میری شرٹ کا گریبان پکڑا اور مجھے پٹیل پارا کی تاریک سی گلی میں گھسیٹ لیا اور ہم ایک دوسرے میں گم ہوئے اور ایک دوسرے کے لبوں کا ذائقہ چکھنے لگے،ہمارے دونوں کے منہ سے تیز ٹھّرے کی بو آرہی تھی اور تھوڑی سی کڑواہٹ بھی محسوس ہورہی تھی۔اور مجھے اس کڑواہٹ اور بو میں بھی مزا آرہا تھا۔اور پھر ایک دم سے اس نے میرے ہونٹوں کو چوستے ہوئے اچانک میری جینیز میں انڈر وئر کے اندر ہاتھ ڈال کر پہلے میرے کولہے دبائے اور پھر ایک دم سے ایسی حرکت کی کہ میں اچھل پڑا اور چیخا ۔

To hell with you

اس نے ایک دم سے مجھے چھوڑ دیا اور ہنسنے لگی۔

‘یار! میری انگلیاں تمہارے اس یار رفیع کبوتر باز کی  انگلیوں سے بلکہ ۔۔۔۔۔۔ سے تو کم ہی تکلیف دہ ہیں۔’

اس کی یہ بات سنکر مجھے بھی ایک دم ہنسی آگئی ۔

‘یار بڑی مشکل سے اس تکلیف کو بھولا ہوں’،میں نے رونی شکل بناکر کہا۔

وہ ایک دم پھر ہنسنے لگی تھی۔مگر جلد ہی سنجیدہ ہوگئی اور اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور اس گلی میں ایک مکان کے سامنے بنے سٹیپ پہ مجھے لیکر بیٹھ گئی۔اور ایک دم سے کہا:

” میں مشکل سے سات سال کی تھی ،جب پیڈوفیلیا کا بدترین تجربہ مجھے ہوا۔اور یہ سب میرے ساتھ گلی میں رہنے والے ایک ایسے آدمی نے کیا تھا جسے میری ماں بھی چاچا کہتی تھی۔اور اس نے مجھے ایک لمبا سا چھرا دکھاکر دھمکایا کہ اگر میں نے کسی کو بتایا تو مجھے کاٹ کر رکھ  دے گا اور پھر چودہ سال کی عمر تک میں اس کی زیادتی سہتی رہی تآنکہ ایک رات وہ دل کا دورہ پڑنے سے مرگیا تو میری جان چھٹ گئی۔لیکن پھر میں میرے اوپر ایک خوف طاری تھا۔ساتھ ہی میرے ساتھ ایک عجب صورت حال بنی کہ مجھے اپنی جسمانی اور جنسی بھوک نے جلد ہی تنگ کرنا شروع کردیا تھا۔لیکن جنسی فعل کرتے ہوئے نرمی برتنے والے اور ہڑکائے ہوئے کتّے کی طرح مجھے نوچنے کی بجائے مجھ سے بہت ہی پیار کا سلوک کرنے والے مرد ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔اور میرے اندر سخت غصّے کی لہر اٹھتی اور اکثر کو تو میں گالم گلوچ کرکے بھگا دیا کرتی تھی۔بہت عجیب صورت حال تھی میری۔جب سولہ سال کی ہوئی تو میں نے کسی کو بتائے بغیر اپنا نفسیاتی علاج کرایا۔میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے ایک اچھی معالج مل گئی اور میں نے اپنے نفسیاتی عارضوں سے نجات حاصل کی۔

یہ سب کہہ کر وہ اچانک کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی،اب میں چلتی ہوں،کل ملیں گے۔اور یوں میں نے جمشید کوارٹرز کا رخ کیا اور اس نے گرومندر سے لسبیلہ بس سٹاپ کا۔مجھے معلوم تھا کہ وہ چوک سے بس پکڑے گی اور یو پی سوسائٹی اترے گی۔

میں پیدل ہی جمشید مارٹن کوارٹرز کی طرف چل پڑا تھا۔رات کافی گزر چکی تھی۔

دوزخی روحیں-تیسرا حصّہ

dante__s_inferno___canto_25_by_meili_melee

 

آج رستم کیفے میں ہم دونوں اکٹھے ہوئے تو میں نے اس موضوع کو پھر سے چھیڑ دیا تھا۔وہ کچھ دیر خاموش رہی اور خلاؤں میں گھورتی رہی اور اچانک سے اس نے بولنا شروع کردیا:

فلسفی ! میں تامل ہوں اور میں نے سری لنکا کے اجنبی جزیرے جافنا میں آنکھ کھولی۔اس زمانے میں یہاں ایل ٹی کا توتی بولتا تھا اور سری لنکا کی سنہالی اکثریتی قوم کی سری لنکن حکومت کا یہاں دور دور تک نشان نہیں تھا۔میری ماں جافنا میں ایک مسلم گھرانے کی عورت تھی مگر وہ کیسے ریڈیکل ہوئی اور ایل ٹی کے ساتھ مل گئی ،اس بارے میری ماں نے فقط مجھے اتنا بتایا کہ ایک دیپن نامی لڑکے سے اسے کالج میں محبت ہوگئی تھی اور وہ گھر سے بھاگ کر اس دیپن سے شادی کربیٹھیں۔دونوں ایل ٹی کے انٹیلی جنس ونگ  میں بھرتی ہوگئے۔اور پھر ان کو ایک انٹیلی جنس نیٹ ورک قائم کرنے کولمبو بھیج دیا گیا۔میں چھوٹی سی ان کے ساتھ وہاں آگئی۔میرا باپ دیپن اور میری ماں فاطمہ دونوں وہاں ایک یونیورسٹی میں فرنچ لٹریچر پڑھانے لگے۔اور پس پردہ وہ ایک پورا انٹیلی جنس نیٹ ورک چلارہے تھے۔

سری لنکا میں ان ہی دنوں حالات تیزی سے بدلے اور سری لنکن گورنمنٹ نے جافنا کو ایل ٹی کے گوریلوں سے پاک کرنے کا اپنا آپریشن شروع کردیا۔ اس دوران شک پڑنے پہ میری ماں فاطمہ اور دیپن کو اٹھالیا گیا۔اور میں اس وقت 14 ‎سال کی تھی مجھے بھی بھی وہ ساتھ لے گئے۔سری لنکن ملٹری انٹیلی جنس کے میجر رینک کے افسر اور دو سپاہیوں نے پہلے تو  روایتی تشدد کیا اور اس کے بعد جب کام بنتے نہ دیکھا تو بیک وقت میری ماں اور میرے کپڑے اتروادئے، جب میرے باپ اور ماں نے تب بھی یہ کہا کہ وہ پرامن شہری ہیں اور ان کا ایل ٹی سے کچھ لینا دینا نہیں تو اچانک میجر نے مجھے دبوچا جبکہ اس کے ایک ماتحت کیپٹن نے میری ماں کو دبوچ لیا۔ہم دونوں کا ریپ کیا گیا۔اور وہ میجر مجھے ساتھ لے گیا۔وہ پیڈوفیلیا کا شکار تھا۔اس نے میرے ساتھ بار بار ریپ کیا، زبردستی مجھے شراب پلائی۔اور چھے ماہ بعد مجھے اور میری ماں کو رہائی ملی جبکہ دیپن میرے بابا کا کچھ پتا نہ چلا، شنید یہ تھی کہ دوران تشدد وہ ہلاک ہوگیا اور اس کی لاش کو انھوں نے سمندر برد کردیا تھا۔

میری ماں نیم پاگل ہوچکی تھی۔اور مجھے اپنے کسی عزیز کا پتا نہیں تھا۔میں نے اپنی ماں اور اپنی زندگی گزارنے کے لئے کال گرل کا پیشہ اپنالیا، دو ماہ گزرے تھے کہ ایک بکنگ پہ ایک لڑکے کی بجائے تین آگئے اور میں وہاں سے بھاگ نکلی، وہ میرے پیچھے پیچھے اور میں آگے آگے تھی کہ کسی سے ٹکراکرگرپڑی۔مچھ سے ٹکرانے والے نے مجھے اٹھایا اور پيچھا کرنے والے لڑکوں دیکھکر پستول نکال لی اور وہ لڑکے ڈر کر بھاگ گئے۔جینز ، پورے بازؤں کی شرٹ اور سکن کلر کا کوٹ پہنے آنکھوں پہ چشمہ لگائے یہ شخص کوئی نوجوان پروفیسر لگتا تھا۔اس نے مجھے حوصلہ دا، اپنی کر میں بیٹھایا اور مجھے میرے گھر لے آیا۔میں اس کی شفقت سے پگھل گئی اور اس کو ساری بات بتا بیٹھی ۔

پروفیسر  محمود فلسطینی نژاد تھے اور کولمبو میں میڈیکل یونیورسٹی میں اناٹومی پڑھاتے تھے۔وہ میری ماں کو پہچان گئے۔وہ پس پردہ جارج حباش کی پیپلز لبریشن فرنٹ فلسطین کے لئے فنڈز کی فراہمی کی چین سے جڑے ہوئے تھے۔میری ماں اور دیپن سے ان کی واقفیت ایل ٹی کے ہی ایک اور انٹیلی جنس ونگ کے اہلکار نے کرائی تھی۔میری والدہ کو انھوں نے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل تھراپی میں داخل کرایا اور میری تعلیم کا بیڑا اٹھالیا۔اور جب میں گریجویشن کرلی تو مجھے انھوں نے خاموشی سے تمہارے ملک کے اس شہر میں  منتقل کردیا۔اس سے پہلے وہ میرا نام بھی بدلوا چکے تھے۔ولدیت میں اپنا نام درج کرایا۔میری ماں فاطمہ سے انھوں نے شادی کرلی۔اور یوں میں یہاں  آگئی ۔یہاں میرے سب سے پہلے تعلقات صدف اور پروفیسر مستجاب حیدر سے ہی ہوئے۔اس کی ایک وجہ تو فرنچ لٹریچر بنا۔صدف اور مستجاب بھی فرنچ زبان جانتے تھے اور میں بھی۔جبکہ مستجاب کو فرنچ صدف نے سکھائی تھی۔صدف اور میرا المیہ کچھ ایک جیسا تھا۔

الف لیلہ /ہزار داستانوں کا شہر اور شہر زاد  کا بغداد جب سے صدام حسین کی گرفت میں آیا تھا تب سے اس بغداد کی کہانی ہی بدل گئی تھی۔ہر کوئی یہاں ڈرا،ڈرا سا اور سہما سہما رہتا تھا۔اور یہ بغداد شیعہ اور کردوں کے لئے تو دوسرا کوفہ بن گیا تھا۔اور صدام حسین ان کے لئے حجاج بن یوسف ثقفی ثابت ہوا تھا اور جنرل کیمکل علی ابن زیاد۔

صدف بھی ایک شیعہ پس منظر کے کمیونسٹ گھرانے میں پیدا ہوئی تھی۔اور عراق کے شمالی دلدلی علاقے میں ان کا آبائی گھر واقع تھا۔دریائے دجلہ کے پل کو کراس کرتے ہی بغداد کے پرانے محلے میں یہ گھر واقع تھا۔صدف کا والد پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر تھا اور نام تھا اس کا جواد جبکہ والدہ رباب اپنے وقت کی کمال کی پینٹر تھی۔جواد نے رباب کو اس کی تصویروں کی نمائش میں ایک آرٹ گیلری میں دیکھا تھا اور وہیں دونوں ایک دوسرے کے عاشق ہوگئے تھے اور دو سال زبردست عشق کے بعد انھوں نے شادی کرلی تھی۔صدف ان کی محبت کا خوبصورت انعام تھی۔

تحریک آزادی کشمیر:جہاد یا آتنک واد -ارون دھتی رائے

ArundhariRoy13-k9CI--621x414@LiveMint

 

 

نوٹ: پانچ فروری کو یوم کشمیر منایا جاتا ہے۔پاکستان میں اس روز چھٹی ہوتی ہے۔اور مشرف کے زمانے سے یہ دن اب ملازمین کے لئے آرام کرنے یا التوا میں پڑے کام نمٹانے کا دن بن گیا ہے تو بچوں کے لئے یہ دن سیر و تفریح کا۔جبکہ اس دن مین سٹریم میڈیا پہ جو ہائپ پیدا ہوتی ہے اور سرکاری ٹی وی پہ جو ہاہاکار  نظر آتی ہے وہ یک طرفہ ویسے ہی ہوتی ہے،جیسے ہندوستانی میڈیا کشمیر پہ ‘آتنک واد’ ‘آتنک’ واد کا وظیفہ کرتا ہے۔ارون دھتی رائے کا ناول’لامتناہی مسرت کا باغ’ کشمیر کا پورا مقدمہ فکشن کے راستے پیش کرتا ہے۔یہاں ہم اس ناول کے نویں باب ‘ مس جبین اول کی بے وقت موت’ کا ایک حصّہ پیش کررہے ہیں۔اس ناول کا ترجمہ راقم (عامر حسینی) نے کیا ہے۔جو عکس پبلیکشنز لاہور سے شایع ہوگا۔

جوں جوں کشمیر کی وادی میں جنگ بڑھتی گئی،قبرستان ایسے ہوتے گئے جیسے کئی منزلہ پارکنگ لاٹ  ترقی کرتے شہروں کے اندر پھیلتی جاتی ہیں۔جب جگہ ختم ہوجاتی تو بعض قبروں کو سری نگر میں چلتی ڈبل ڈیکر بسوں کی طرح ہوگئیں، بسیں جوکہ سیاحوں کو بلیووارڈ سے لال چوک تک لیکر جاتی تھیں۔

خوش قسمتی سے مس جبین کی قبر کو اس قسمت کا شکار نہ ہونا پڑا۔سالوں بعد،اس کے بعد جب بڑے عسکریت پسند گروپ ایک دوسرے پہ پل پڑے تھے،جب یاتریوں، ہنی مون منانے والوں نے مرکزی سرزمین سے واپس وادی آکر اٹھکھیلیاں (سنو بینکس پہ عسکریت پسندوں کے زیر استعمال گاڑیوں میں کود کر بیٹھنا اور جب وہ ان سے نیچے ڈھلوان کی جانب تیزی سے آئیں تو چیخنا) کرنے لگے،جب جاسوس اور مخبروں (سلیقہ مندی اور انتہائی احتیاط کی وجہ سے) کو ان کو چلانے والوں نے ہی مار ڈالا،جب غداروں کو پیس سیکٹر کام کرنے والی ہزاروں این جی اوز میں جذب کرلیا گیا،جب مقام؛ کاروباری لوگ جنھوں نے فوج کو کوئلے اور اخروٹ کی لکڑی کی سپلائی کرکے قسمت بنائی تھی نے اپنا منافع ہسپٹیلٹی سیکٹر جیسے بڑھتے ہوئے کاروبار میں لگانا شروع کردیا (دوسرے اسے پیس پروسس میں حصّہ داری کے نام سے جانتے تھے – سٹیکس ان دا پیس پروسس)

جب  بینک مینجررز نے مارے گئے عسکریت پسندوں کے بینک اکاؤنٹس میں موجود بنا کلیم کی رقم خورد برد کرلی،جب ٹارچر سنٹرز سیاست دانوں کے پوش گھروں میں بدل گئے، جب قبرستان لاوارث ہوگئے اور شہیدوں کی تعداد گھٹتے گھٹتے قطروں جتنی رہ گئی( خودکشیوں کی شرح ڈرامائی طور پہ بڑھ گئی)،جب الیکشن منعقد ہوگئے، جمہوریت کا اعلان ہوگیا، جب جہلم دریا چڑھ گیا اور پھر اتر گیا، جب بغاوت پھوٹی دوبارہ اور پھر کچلی گئی پھر ابھری ،پھر کچلی گئی اور جب حکومت نے بغاوت کو انتہائی محدود کردینے کا اعلان کیا (حالانکہ اس وقت تک بھی پانچ لاکھ فوجی وہآن کشمیر میں موجود تھے) کے بعد، ان سب کے بعد بھی مس جبین کی قبر سنگل ڈیکر ہی رہی۔اس نے لکی ڈرا جیت لیا تھا۔اس کی قبر خوبصورت تھی جس کو چنگلی پھولوں نے ڈھانپ رکھا تھا اور وہ اپنی ماں کے پہلو میں محو آرام تھی۔

وہ دو ماہ میں دوسرے قتل عام کا نشانہ بنی تھی۔اس دن سترہ مارے گئے،سات راہ گیر تھے جیسے مس جبین اور اس کی ماں(تکنیکی طور پہ وہ بائی سیٹرز تھے)وہ اپنی بالکونی سے دیکھ رہے تھے،مس جبین کو ہلکا سا بخار تھا،وہ اپنی ماں کی گود میں بیٹھی ہوئی تھی جب ہزاروں سوگواران عثمان عبداللہ ایک معروف یونیورسٹی استاد کا جنازہ شہر کی گلیوں سے لیکر گزر رہے تھے۔

اسے جن لوگوں نے گولی ماری تھی ان کو انتظامیہ ن-م (نامعلوم) کہتی تھی۔اگرچہ اس کی اپنی شناخت تو ایک کھلا راز تھی۔اگرچہ عثمان آزادی کی جدوجہد کا نمایاں مفکر رہنماء تھا اور اسے کئی مرتبہ کنٹرول لائن کے پار سے آنے والے نئے ہتھیاروں اور نئے خیالات سے لیس نے کئی بار دھمکی دی تھی جن سے اس نے اعلانیہ اختلاف کیا تھا۔

عثمان عبداللہ کا قتل اس بات کا اعلان تھا کہ کشمیر کی جس تکثریت کا وہ علمبردار تھا اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔اس طرح کی پرانی دنیا کا سٹف  جو مقامیت پہ مبنی ہو کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔مقامی صوفیا سے عقیدت اور ان کے مزارات پہ حاضری ممنوع ہے۔نئے عسکریت پسندوں نے ایسی ‘فضولیات’ پہ پابندی کا اعلان کردیا۔اب صوفیاء ،سادھوؤں کی یاد میں عرس،میلوں کا انعقاد نہیں تھا اور نہ ہی مقامی صوفی تھے۔بس اللہ تھا، واحد و یکتا۔قرآن تھا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔نماز کا بس ایک طریقہ،شرعی قانون کی بس ایک ہی تعبیر اور آزادی کی بھی صرف ایک ہی تشریح تھی جوکہ یہ تھی:

آزادی کا مطلب کیا

لا الہ الا اللہ

اس پہ کوئی بحث نہ تھی۔مستقبل میں تمام استدلال (عقل و منطق کا استعمال) اور بحث و مـباحثے کو گولیوں سے حل کیا جائے گا۔شیعہ مسلمان نہیں تھے۔اور عورتوں کو مناسب اور ٹھیک (شرعی) لباس پہننا سیکھنا ہوگا۔

 جی ہاں عورتوں کو۔ عورتوں کو جناب۔

ان میں سے کچھ چیزوں نے عام لوگوں کو بے چین کردیا۔وہ اپنے مزاروں سے عقیدت رکھتے تھے۔۔۔۔حضرت بل خاص طور پہ جہاں ہزاروں تبرکات ،موئے مبارک رسول اللہ صلی اللہ علیہ تھے۔ہزاروں لاکھوں لوگ اس وقت بلک اٹھے تھے جب 1963ء میں یہ گم ہوگئے تھے

اور لاکھوں لوگوں نے خوشی منائی تھی جب یہ ایک ماہ بعد مل گئے تھے(متعلقہ لوگوں نے تصدیق کی تھی کہ یہ اصلی تھے)۔لیکن سخت گیر سفر سے واپس آگئے تو انہوں نے مقامی صوفیاء سے عقیدت اور موئے مبارک کے لئے زیارت گاہ بنانے کو شرک و کفر قرار دے ڈالا تھا۔

سخت گیروں کی لائن نے وادی کو ایک بڑے مخمصے میں ڈال دیا تھا۔لوگ جانتے تھے کہ آزادی جس کے لئے وہ بہت عرصے سے لڑرہے تھے جنگ کے بغیر نہیں آئے گی اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ سخت گیر بہتریں جنگجو تھے۔ان کے پاس بہتر ٹریننگ تھی، بہتر ہتھیار تھے جبکہ ان کے پاس شرعی ضوابط، اونچے پاجامے اور لمبی داڑھیاں تھیں۔

ان کو سرحد پار کی اشیرباد اور زیادہ پیسے میسر تھے۔ان کے آہنی اور غیر متزلزل عقیدے نے ان میں بہت نظم و ضبط پیدا کردیا تھا،ان کو انتہائی سادہ بناڈالا تھا اور ان کو ان چیزوں سے سجاڈالا تھا جس سے دنیا کی دوسری بڑی فوج سے لڑا جاسکتا تھا۔جبکہ عسکریت پسند جو خود کو سیکولر کہتے کم سخت تھے، آسانی سے مطابقت کرنے والے، زیادہ سٹائلش اور زیادہ شوخ شنگ تھے۔

وہ شاعری لکھتے،نرسوں سے فلرٹ کرتے، رولر سیکٹر تھے جبکہ وہ اپنے کاندھوں پہ رائفلز لٹکائے شہر کی گلیوں میں مٹر گشت کرتے تھے۔لیکن ان کے پاس وہ دکھائی نہیں دیتا تھا جس سے جنگ جیتی جاسکتی۔لوگ کم سخت گیروں سے کم پیار کرتے تھے،لیکن ان کو معزز سخت گیروں سے خوف بھی تھا۔گھمسان کی لڑائی جو ان دو میں واقع ہوئی اس نے سینکڑوں جانیں لے لی تھی۔

تو جو کم سخت گیر تھے انہوں نے سیزفائر کا اعلان کردیا،انہوں نے روپوشی ختم کردی اور انہوں نے اپنی جدوجہد کو گاندھیائی طرز میں بدلنے کا اعلان کردیا۔سخت گیروں نے لڑنا جاری رکھا اور ایک ایک کرے مارے جاتے رہے۔ایک جب مارا جاتا تو اس کی جگہ دوسرا لے لیتا تھا۔چند ماہ بعد عثمان عبداللہ کا قاتل فوج نے پکڑ لیا جو کہ بہرحال گمنام تھا اور اسے مار ڈالا گیا۔اس کی لاش اس کے خاندان کے حوالے کردی گئی، جس پہ گولیوں کے سوراخ اور سگریٹ سے جلائے جانے کے نشان واضح تھے۔قبرستان کمیٹی نے بہت صلاح مشورے کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ بھی شہید تھا اور اسے بھی مزار شہداء میں دفن کیا جانا بنتا تھا۔انہوں نے اسے قبرستان کے آخر میں اسے بالکل الگ مخالف سمت میں دفنادیا اور ممکن بنایا کہ ‏عثمان عبداللہ اور اس کے قاتل میں جتنا ہوسکے فاصلہ رکھا جائے تاکہ وہ آخروی زندگی میں آپس میں جھگڑے نہ۔

جوں جوں جنگ چلتی رہی واد میں نرم لائن بتدریج سخت ہوگئی اور سخت گیر مزید سخت ہوگئے۔ہر صف میں مزید صفیں اور ذیلی صفیں بن گئیں۔سخت گیروں کے اندر سے بھی اور طرح کے سخت گیر سامنے آگئے۔عام لوگوں نے معجزانہ طور پہ ان سب کے ساتھ رہنے، ان سب کی حمایت کرنے،ان سب کو ایک طرح بناکر رکھنے  کا انتظام کرلیا اور اپنے پرانے اعمال و رسوم جن کو فضول خیال کرلیا گیا تھا کرنا جاری رکھے۔موئے مقدس کا دور بنا رکے جاری رہا۔اور اگرچہ ان کو جتنا زیادہ سخت گیر رجحانات کی طرف موڑا گیا اتنا ہی زیادہ لوگ مزارات پہ آکر روتے، مناجات کرتے اور اپنے ٹوٹے دلوں کے بوجھ یہاں ہلکے کرتے تھے۔

بالکونی کی حفاظتی دیوار سے مس جبین اور اس کی ماں نے جنازے کے جلوس کو قریب آتے دیکھا۔دوسری عورتوں اور بچوں کی طرح جو کہ اپنے پرانے گھر کی لکڑی کی بالکونی کے جھرکوں پہ کھری تھیں،مس جبین اور عارفہ نے بھی تازہ گلاب کی پتیوں کو عثمان عبداللہ کی میت پہ برسانے کے لئے ایک باؤل میں اکٹھا کیا ہوا تھا تاکہ جیسے ہی وہ ان کے نیچے سے گزرتا تو وہ ان کو برساتیں۔مس جبین دو اون کے سوئٹر اور دوھرے دستانے پہنے ہوئے تھی۔اپنے سر پہ اس نے ایک چھوٹا اون کا بنا حجاب پہن رکھا تھا۔ہزاروں لوگ آزادی،آزادی کے نعرے مارتے تنگ گلی میں داخل ہوگئے۔مس جبین کی ماں نے بھی نعرہ لگایا۔اگرچہ مس جبین ،ہمیشہ کی طرح شرارتی موڈ میں تھی، بعض اوقات وہ چلاتی تھی ماتا جی! آزادی کی بجآئے۔۔۔کیونکہ یہ دونوں لفظ ایک جیسی آواز دیتے تھے اور اس لئے بھی وہ جانتی تھی جب وہ یہ کرے گی تو اس کی ماں اس کی جانب دیکھے گی،مسکرائے گی اور اس کو چوم لے گی۔

جلوس باڈر سیکورٹی فورس کی کے لارجر بنکر کے پاس سے گزری جس نے جہاں عارفہ اور مس جبین بیٹھی تھیں اس سے سو قدم دور پوزیشن لے رکھی تھی۔گارے سے بنے بوتھ جس کی چھتیں جست کی شیٹ اور لکڑی کے تختوں سے بنائی گئی تھی کی آہنی کھڑکیوں سے مشین گنوں کی نالیاں باہر بھانکنے لگیں۔بنکر کے اردگرد ریت کی بوریاں اور خاردار باڑ لگی ہوئی تھی۔

فوج کے لئے جاری کی گئی اولڈ مانک اور ٹرپل ایکس رم کی خالی بوتلیں خار دار تاروں سے لکٹائی گئیں تھیں اور وہ آپس میں ٹکراتی تو گھنٹیاں سی بجتی تھیں۔ایک بہت پرانا مگر موثر الارم سسٹم۔اس تار میں کوئی بھی ارتعاش ہوگا تو یہ ان کو ہلادیں گی۔قوم کی خدمت میں شراب کی بوتلیں قوم کی خدمت میں۔وہ یہآن اضافی فوائد یعنی بے حسی کے ساتھ پاکباز مسسلمانوں کی توہین کرنے آئے تھے۔بنکر میں فوجیوں نے آوارہ کتوں کو مقامی آبادی کی پھینکا بچا کچھا کھانا کھلانا تھا(جیسے وہ پاکباز مسلمانوں کو سمجھتے تھے)،تو کتے ڈبل ہوگئے تھے بطور سیکورٹی دائرے کے۔وہ کاروائی کو دائرے میں بیٹھ کر دیکھ رہے تھے وہ چوکنے تھے لیکن خبردار نہیں تھے۔

جلوس بنکر کے پاس پہنچا،اندر بیٹھے لوگوں کو سائے نظر آئے ، سردی ان کی پشت سے ہوتی ہوئی ان کی وردریوں اور بلٹ پروف جیکٹوں کے اندر سے ٹپ ٹپ کررہی تھی۔اچانک ایک دھماکہ ہوا۔اگرچہ بہت بلند آہنگ نہیں تھا لیکن یہ ایک اندھا دھند پریشانی کے لئے کافی تھا۔فوجی بنکر سے باہر آئے،انہوں نے پوزیشن لیں اور اپنی لائٹ مشین گنوں سے سیدھے نہتے ممجم پہ فائرکئے۔انہوں نے شوٹ ٹو کل (گولی مار کر ہلاک کرنے) والا کام کیا۔یہاں تک کہ جب لوگ پیچھے مڑ کر بھاگ رہے تھے تو بھی ان کی پشتوں، ٹانگوں اور ہاتھوں کو نشانہ بنایا گیا۔کچھ بوکھلائے،ڈرے فوجیوں نے اپنے ہتھیاروں کا رخ کھڑکی اور بالکونیوں کی طرف دیکھنے والوں کی جانب موڑ دیا اور اپنے میگزین ریلنگ،دیواروں اور کھڑکھیوں کے شیشوں پہ خالی کردئے۔

مس جبین اور اس کی والدہ عارفہ پہ۔

عثمان عبداللہ کے تابوت اور اسے لیجانے والے بھی نشانے پہ آغے۔اس کا تابوت ٹوٹ کر کھل گیا اور اس کا دوسری مرتبہ شہید ہوئی لاش گلی میں بر ڈھب طریقے سے مڑی تڑی ایک برف جیسی سفید چادر میں مرجانے والوں اور زخمی ہونے والوں کے درمیان دوسری بار مرنے والے کے طور پہ گری پڑی تھی۔کچھ کشمیری بھی دو مرتبہ مرتے ہیں۔

گولیاں چلنا اس وقت بند ہوئی جب گلی بالکل خالی  اورجو رہ گئے وہ مردہ لاشیں،زخمی تھے۔اور جوتے تھے۔ہزاروں جوتے۔اور گونگے نعرے جن کو لگانے والا کوئی نہیں رہا تھا۔

جس کشمیر کو خون سے سینچا! وہ کشمیر ہمارا ہے!

مابعد قتلام پروٹوکول بہت تیز،کارگر اور عمل کے اعتبار سے بے داغ تھا۔ایک گھنٹے کے اندر اندر مردہ اجسام کو ہٹاکر پولیس کنٹرول روم میں بنے سردخانے میں رکھ دیا گیا اور زخمی ہسپتال پہنچادئے گئے۔گلی کو دھو دیا گیا۔اور حون کھلی نالیوں میں بہادیا گیا۔دکانیں دوبارہ کھل گئیں۔حالات کے معمول پہ آنے کا اعلان کردیا گیا(حالت کا معمول پہ آنا ہمیشہ ایک اعلامیہ ہی تو رہا ہے)

بعد میں یہ پتا چلا کہ دھماکہ اگلی میں مینگو فروٹی جوس کے خالی ڈبے پہ کار کے چڑھنے سے ہوا تھا۔کسے الزام دیا جائے؟کس نے مینگو فروٹی(تازہ اور رس دار) کو گلی میں پھینکا؟ہندوستان یا کشمیر نے؟یا پاکستان نے؟کار کون چلارہا تھا جس نے اس پہ ڈبے پہ گاڑی چڑھائی؟ایک ٹربیونل اس قتلام کی وجوہات جاننے کے لئے بنایا گیا۔حقائق کبھی نہ پتا چل سکے۔کسی کو الزام نہ دیا گیا۔یہ کشمیر تھا۔یہ کشمیر کا ہی قصور تھا۔زندگی چلتی رہی۔موت بھی چلتی رہی۔اور جنگ بھی چلتی رہی۔

جنھوں نے موسی یسوی کو اپنی بیوی اور بیٹی کو دفن کرتے دیکھا تھا انھوں نے نوٹس کیا تھا کہ وہ کس قدر خاموش تھ اس دن۔اس نے کوئی آہ و بکا نہ کی۔وہ تو بس بالکل دستبردار اور شکست خوردہ نظرآیا حالانکہ حقیقت میں وہ تھا نہیں۔اور شاید ردعمل نہ دینا ہی اس کی گرفتاری کی وجہ بن گیا۔یا اس کی وجہ اس کی ہارٹ بیٹ ہوسکتی تھی۔شاید ایک عام شہری کے لئے یا تو یہ بہت تیز تھی یا بہت سست تھی۔بدنام چیک پوسٹوں پہ فوجی بعض اوقات اپنے کان نوجوانوں کی چھاتیوں سے لگاکر ان کی ہارٹ بیٹ سنتے تھے۔افواہیں تھیں کہ بعض فوجی تو سیٹھتوسکوپ بھی لاتے تھے۔’اس کی دل کی دھڑکن آزادی کہہ رہی ہے،’وہ کہتے تھے، اور دل کی دھڑکن کا بہت کم ہونا یا بہت تیز ہونا کارگو، پاپا ٹو یا شیراز سینما کا دورہ کرانے کے لئے کافی تسلی بخش وجہ تھے۔یہ وادی کے سب سے خوفناک انٹروگیشن سنٹر تھے۔موسی  کسی چیک پوسٹ پہ پکڑا نہیں گیا تھا۔اسے تو جنازے کے بعد اس کے گھر سے اٹھالیا گیا تھا۔اپنی بیوی اور بچے کے جنازے پہ غیرمعمولی خاموشی کا ان دنوں نوٹس لیا جاتا تھا۔پہلے پہل ہر آدمی خاموش اور ڈرا ہوا ہوتا تھا۔جنازے کے جلوس بے کیف، قدرے موت کی سی ناگوار خاموشی میں اپنا راستا ناپتا تھا۔آواز بس چاندی جیسے بھیگی اس سڑک پہ ہزاروں جوتوں کے پڑنے کی ہوتی تھی جو بنا جرابوں کے پہنے ہوتے تھے اور یہ سڑک مزار شہداء کو جاتی تھی۔

نوجوان سترہ جنازوں کو اپنے کندھوں پہ لائے،17 پلس ایک،اور وہ ایک تھا دوبار قتل ہوا عثمان عبداللہ،جو کہ بہرحال دو بار کتابوں میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔تو17 مزید ایک جست کے تابوت سرمائی سورج کو واپس چمک پھینکتے ہوئے گلیوں سے گزرے۔کوئی شہر کو بلند چوٹیوں جنھوں نے اسے گھیرا ہوا تھا سے جلوس کو دیکھتا تو یہ اسے براؤن/خاکستری چونٹیوں کا ایک بڑا ستون لگتا جو کہ سترہ مزید ایک شوگر کرسٹل اپنے مسکن میں ملکہ کو پیش کرنے کے لئے لیجارہی ہوں۔شاید تاریخ اور انسانی تصادم کے ایک طالب علم کے لئے اضافی اصطلاح میں ایک چھوٹا جلوس چونٹیوں کی ایک قطار کے کچھ چورے کے ستھ جو کہ ایک بلند میز سے گر پڑا ہو لے کے جانے جیسا ہی تھا۔جیسے جنگیں ہوتی ہين،ویسے ہی یہ بصی ایک چھوٹی سی جنگ تھی۔کوئی بھی اس پہ زیادہ توجہ مرکوز نہیں کرتا۔تو بس یہ ہوتا ہی چلا جاتا ہے۔تو یہ عشروں سے کھولے اور بند کئے جارہے ہیں،یعنی لوگوں کی ناگوار قبولیت کی جگہوں پہ اجتماع کی کہانی۔اس کے ظلم ویسے ہی قدرتی بن گئے ہیں جیسے موسموں کی تبدیلی جن میں سے ہر ایک اپنے خاص طرح کی رنگ و بہار و خزاں کے ساتھ آتا ہے،اس کا اپنا زوال و احیاء کا چکر ہوتا ہے،اپنی تخریب، نارملسی ، ابھار اور الیکشن ہوتے ہیں

 اس دن چونٹیاں جتنے بھی چینی کے زرے (کرسٹل ) سرمائی صبح میں لارہی تھیں اس میں سب سے چھوٹا کرسٹل مس جبین کے نام کا تھا۔چونٹیاں آپ بھی قطار باندھ کر جلوس میں شرکت کرتے ہوئے نروس تھیں،وہ پرانے براؤن برف کے پھسلنے کاروں پہ کھڑی تھیں،ان کے ہاتھ گرم کرنے کے لئے کشمیری چوغوں کے اندر تھےاور انہوں نے اپنی  آستینوں کو سرد ہوا میں اڑانے کے لئے خالی چھوڑ رکھاتھا۔مسلح جدوجہد کے مرکز پہ بازو سے محروم لوگ۔اور جو اس وینچر میں شریک ہونے سے خوقزدہ تھے وہ بالکونیوں اور کھڑکیوں سے (اکرچہ وہ اس عمل سے ملنے والے موتیوں سے بھی برابر باخبر تھے) دیکھ رہے تھے۔ان مین سے ہر کسی کو پتا تھا کہ وہ فوجیوں کی بندوقوں کی نظر میں ہیں جو کہ سارے شہر میں پوزیشن سنبھالے کھڑے تھے۔چھتوں، پلوں، کشتیوں،مسجدوں، پانی کی اونچی ٹنکیوں پہ۔انہوں نے ہوٹلوں، اسکولوں، دکانوں یہاں تک کہ کچھ گھروں پہ بھی قبضہ کرلیا تھا۔

اس صبح بہت سردی تھی؛کئی سالوں میں پہلی بار جھیل جم چکی تھی اور مزید برفباری کی پیشن گوئی تھی۔درختوں نے اپنی گنجی دھبے دار شاخوں کو آسمان کی طرف ایسے بڑھایا ہوا تھا جیسے وہ عزاداروں کی طرح غم کی حالت میں ساکت کھڑے ہوں۔

قبرستان میں 17 مزید ایک قبر تیار کی جاچکی تھی۔صاف ستھری،تازہ اور گہری۔پیشگی ایک پارٹی خون کے دھبوں والے دھاتی سٹریچرز کو لیکر آگئی تھی جس پہ لاشوں کو رکھ کر ان کے ورثاء کو پوسٹ مارٹم کے بعد لوٹایا گیا تھا۔ان کو درختوں کے تنوں کے گرد ایسے اوپر اٹھاکر ترتیب سے رکھا گیا تھا کہ وہ عظیم الشان مانس خور پہاڑی شگوفے کی خونین آہنی پتیاں لگ رہے تھے۔

جیسے ہی جلوس قبرستان کے دروازوں سے گزرتا ہوا اندر داخل ہوا تو صحافیوں کے ایک ہجوم نے اپنی قطاروں کو جہاں وہ کھڑے تھے توڑا اور وہ آگے کو بھاگے۔تابوت رکھ دئے گئے۔مجمع نے احترام کے ساتھ پریس کے لئے جگہ بنادی۔یہ مجمع جانتا تھا کہ صحافیوں اور تصویروں کے بغیر قتلام کھرچا جائے گا اور مرنے والے واقعی مرجائيں گے۔تو لاشوں کو امید اور غصے میں ان کو پیش کردی گئیں۔موت کا ایک گلدستہ۔غمکسار رشتے دار جو کافی پیچھے ہٹ گئے تھے ان کو (کیمرے کے)فریم میں آنے کو کہا گیا۔ان کے دکھوں کو آرکائیو کیا جانا تھا۔آنے والے سالوں میں جب جنگ ہی زندگی کا معمول ٹھہرجائے گی تو کشیمر کے دکھ اور نقصان کے بنیادی خیال اے گرد کتابیں لکھیں، فلمیں بنائی اور تصویروں کی نمائش کی جائے گی۔

موسی ان میں سے کسی ایک تصویر میں نہیں ہوگا۔اس موقععہ پہ مس جبین سب سے زیادہ توجہ کا مرکز تھی۔کیمرے اس کا ہی کلوز اپ لے رہے تھے،گھرگھر اور کلک کلک ایسے کررہے تھے جیسے کوئی حواس باختہ ریچھ کرتا ہے۔تصویروں کی اس پکی فصل سے ایک مقامی کلاسیک کا ظہور ہوا۔کئی سالوں تک یہ اخبارات اور رسالوں میں انسانی حقوق کی رپورٹوں میں سرورق پہ چھاپی جاتی رہیں جن کبھی نہ پڑھا گیا جبکہ اس پہ کیپشن ہوتے تھے:

Blood in the Snow

برف میں خون

Vale of Tears

وادی آہ و زاری

Will the Sorrow never End?

کیا مصائب کبھی ختم نہ ہوں گے؟

مرکزی سرزمین میں،ظاہر وجوہات کی بنا پہ مس جبین کی تصویر کم مقبول تھی۔غم و دکھ کی سپرمارکیٹ بھوپالی لڑکا،یونین کاربائیڈ گیس اخراج کا متاثرہ چارٹ میں اس سے بہت آگے ہی رہا۔ملبے کی قبر میں گردن تک دھنسے ہوئے اور زھریلی گیس سے اندھی ہوجانے والی شفاف گھورتی آنکھوں والے مردے لڑکے کی مشہور زمانہ تصویر کے کاپی رائٹس کے حقوق کا دعوی کئی بڑے فوٹوگرافر نے کیا تھا۔ان آنکھوں نے اس دردناک رات کو جو ہوا تھا اسے ایسے بتادیا تھا ویسے کوئی اور نہ بتاسکا تھا۔وہ (آنکھیں) دنیا بھر کے شوخ و شنخ رسالوں کے صفحات پہ گھور رہی تھیں۔آخری نتیجہ یہ تھا کہ اس سے کچھ نہیں ہوا۔کہانی ایک دم شعلے کی طرح بھڑکی اور پھر بجھ گئی۔جبکہ تصویر کے کاپی رائٹس کی جنگ کافی سالوں چلی،بالکل اسی وحشی پن سے جیسے گیس اخراج کے تباہ وبرباد ہوجانے والے ہزاروں افراد کے نقصان کے ازالے کی لڑائی چلی تھی۔

حواس باختہ ریچھ غائب ہوگئے(کیمرے مین) اور انکشاف ہوا کہ مس جبین ابتک جوں کی توں،ثابت و برقرار،بنا انتشار کے اور گہری نیند سوئی ہوئی تھی۔اس کا عروج جو شروع ہوا تو اب بھی اپنی جگہ پہ بلند تھا۔جیسے ہی لاشوں کو قبروں میں اتارا گیا تو مجمع نے دعا بڑبڑانی شروع کردی۔

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۔ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي

اے میرے رب میرا سینہ کھول دے

اور میرا کام میرے لئے آسان بنادے

وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي۔ يَفْقَهُوا قَوْلِي۔

اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ لیں

(نوٹ: سورہ طہ کی آیات 25 سے 28 ہیں یہ )

بہت چھوٹے بچے عورتوں کے الگ سے بنائے گئے حصّے میں اپنی ماؤں کے سخت اونی کپڑوں میں گھٹن محسوس کررہے تھے،ان کو زیادہ کچھ نظر نہیں آرہا تھا،وہ تو سانس بھی مشکل سے لے رہے تھے تو انہوں نے جتنا ان کا ذہن تھا اسی اعتبار سے اپنی ہی بات کہنا شروع کردی:

میں تمہیں گولیوں کے چھے خول دوں گا اگر تم مجھے اپنا بےکار گرینڈ دے دو۔

ایک عورت کی تنہا آواز درد سے بھری ہوئی آسمان کی طرف اٹھی جوکہ جیسے کوئی تیز نوک والا نیزہ اڑتا ہوا آتا ہے۔

رو رہی ہے یہ زمین! رو رہا ہے آسمان

دوسری عورت اس کے ہم آواز ہوئی اور پھر ایک اور ہم آواز ہوئی:

یہ زمین رو رہی ہے!آسمان رو رہا ہے!

پرندوں نے اپنے چہکار ایک لمحے کو روک دی جبکہ اس دوران انہوں نے موتی جیسی آنکھوں والیوں کے انسانی گیت سنے۔سگ آوارہ چیک پوسٹوں کے پاس سے نگاہیں نیچے کئے بنا چیک کئے گزرتے چلے گئے اور ان کی دل کی دھڑکن تھم سی گئیں۔پتنگوں اور گدھوں نے گرم ہوائی غبار کے گرد چکر لگایا اور پھر سستی سے پیچھے ہوئے اور لائن آف کنٹرول کو پار گئے جیسے وہ نیچے انسانوں کے ایک چھوٹے سے دھبے کو برا بھلا کہہ رہے ہوں۔

جب آسمان پوری طرح سے ایسے بھڑکا ہوا تھا جیسے کوئی چیز سلگ رہی ہو تو نوجوان مردوں نے ہوا میں ایسے چھلانگ لگان شروع کردی جیسے شعلے کسی سلگتی ہوئی لکڑیوں سے نکلتے ہیں۔وہ اوپر اور اوپر ایسے اچھل کود رہے تھے جیسے وہ سپرنگ لگی ترپال پہ اچھل رہے ہوں۔انہوں نے اپنے غصے کو ایسے زیب تن کرلیا جیسے اسلحہ پہنا کرتے ہیں، ان کا غصّہ ان کے جسم پہ ایسے لٹک رہا تھا جیسے ایمونیشن بیلٹ لٹکائی جاتی ہے۔اس لمحہ موجود میں وہ ایسا اس لئے کررہے تھے کیونکہ ان کو ایسے ہی مسلح ہونے پہ مجبور کیا گیا تھا یا اس کی وجہ یہ تھی کہ شاید وہ انہوں نے موت کی زندگی کو قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا یا وہ یہ جانتے تھے کہ وہ پہلے ہی مرچکے تھے اور وہ دکھائی نہ دینے والے بن چکے تھے۔

جن فوجیوں نے مزار شہداء کا گھیراؤ کیا ہوا تھا ان کو سختی سے گولی نہ چلانے کا حکم تھا چاہے جو بھی ہوجائے۔ان کے مخبر (بھائی،کزن، باّ،انکل،بھتیجے،بھانجے) جو کہ مجمع میں ملکر جیسے دوسرے لوگ نعرے مار رہے تھے ویسے ہی جذباتی انداز میں نعرے لگارہے تھے(یہاں تک کہ ان کا مطلب بھی وہی تھا)،ان کو صاف ہدایت تھی کہ وہ ہر نوجوان جو غصّے میں بھرا ہو، ہوا میں چھلانک لگا رہا ہو اور خود کو شعلے میں بدل ڈالا ہو کی تصویر اور ممکن ہو تو ویڈیو بھی جمع کرائیں۔

تو ان میں سے ہر ایک اپنے دروازے پہ دستک سنے گا یا اسے چیک پوائنٹ پہ ایک طرف الگ لیجایا جائےگا۔

کیا تم یہ ہو وغیرہ وغیرہ؟

؟تم فلاں کے بیٹے ہو وغیرہ وغیرہ؟

اور-اچھا؟

اکثر خطرہ اس رسمی سی، بے پروائی سے کی گئی انکوائری سے آگے نہیں جاتا تھا۔کشمیر میں کسی آدمی کا بائیو-ڈیٹا اس کے سامنے پھینک دینے کا مطلب اس کی زندگی کا راستا بدل دینا ہوجاتا تھا۔اور بعض اوقات ایسا نہیں ہوتا تھا۔

وہ موسی کے ہاں اپنے ملاقات کے حسب معمول وقت پہ آئے۔۔۔صبح کے چار بجے۔وہ جاگ رہا تھا اور ڈیسک پہ بیٹھا ایک خط لکھ رہا تھا۔اس کی ماں ساتھ والے کمرے میں تھی۔وہ اس کو سسکتے ہوئے اور اپنی بہنوں اور رشتے داروں کو اسے تسلی دیتے سن سکتا تھا۔وی شکل کی مسکراہٹ اور گلابی رنگ کے دل کے ساتھ سبز دریائی گھوڑا مس جبین کا پسندیدہ کھلونا اپنی معمول کی جگہ پہ ایک تکیہ کے سہارے اپنی ننھی ماں اور اپنے سونے کے وقت کی کہانی کا انتظار کررہا تھا۔ (آکھ دلیلاں وان۔۔۔۔کہانی سناؤنا)۔موسی نے گاڑی کے قریب پہنچنے کی آواز سنی۔اس نے فرسٹ فلور کی کھڑی سے اسے گلی میں مڑتے اور اپنے گھر کے باہر رکتے دیکھا۔اس نے کچھ بھی محسوس نہ کیا،نہ ہی غصّہ اور نہ ہی خوف و اظراب جب اس نے فوجیوں کو آرمڈ جپسی سے اترتے دیکھا۔

اس کا باپ شوکت یسوی (اس کے اور اس کے دوستوں کے لئے گاڈزیلا)بھی جاگا ہوا تھا۔وہ ملٹری انجینئیرنگ سروسز میں بلڈنگ کنٹریکٹر کے طور کافی عرصہ بلڈنگ میثریل اور ان کے لئے کئی دوسرے پروجیکٹس پہ کام کرچکا تھا۔اس نے اپنے بیٹے کو دہلی آرکٹیکچر کی تعلیم لینے اس امید پہ بھیجا تھا کہ وہ اس کے کاروباری لائن کو پھیلانے میں مددگار ثابت ہوگا۔لیکن جب 1990ء میں تحریک شروع ہوئی اور گاڈذیلا نے فوج کے ساتھ کام جاری رکھا تو موسی نے اس کو ایک دم سے چھوڑ دیا تھا۔بطور بیٹا اس کا جو فرض بنتا تھا اور تباہی و بربادی کے جس گٹھ جوڑ کو اس نے دیکھا اس کا احساس جرم ان دونوں کے درمیآن وہ بری طرح سے تقسیم ہوگیا تھا تو موسی کا  اپنے باپ کے ساتھ ایک چھت میں رہنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا گیا۔شوکت یسوی ایسے نظر آتا تھا جیسے وہ فوجیوں کے آنے کی توقع کررہا تھا۔وہ اچانک خطرے سے دوچار کیفیت میں نہیں لگ رہا تھا۔’امریک سنگھ نے بلایا ہے۔وہ تم ‎سے بات کرنا چاہتا ہے۔یہ کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے۔تم پریشان نہ ہونا۔وہ دن کی روشنی ہونے سے پہلے تمہیں چھوڑ دے گا۔’مسی نے جواب میں کچھ نہ کہا۔اس نے یہاں تک کہ گاڈذیلا پہ نظر بھی نہیں ڈکلی،اس کی برہمی ایسے ظاہر ہوئی کہ اس نے اپنے کندھوں کو تھاما اور سیدھی کمرے کئے رکھی۔وہ دروازے سے باہر نکلا جبکہ اس کے ایک جانب دو مسلح فوجی تھے اور وہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔نہ تو اس کے ہاتھزں کو ہتھکڑی لگائی گئی اور نہ اس کے سر پہ نقاب چڑھایا گیا۔جسپی ہموار برف سے جمی سڑکوں پہ رینگنے لگی۔برف دوبارہ پڑنے لگی تھی۔شیراز سینما بیرکوں اور افسران کے کوارٹرز کے انکلیو کا مرکز بن چکا تھا۔اسے جنونی انداز سے اسے ایسے کارڈن آف کیا گیا تھا کہ خار دار تاروں کے دو چکروں کے درمیان ایک گہری خندق تھی۔جبکہ چوتھا اور سب سے اندر والا چکر ایک بلند باؤنڈری وال پہ مشتمل تھی جس کے اوپر کانچ کے ٹکرے لگے ہوئے تھے لہريے دار دھاتی دروازوں کے ہر طرف واچ ٹاور بنے ہوئے تھے جن میں مشین گن لئے فوجی تعینات تھے۔موسی کو لیکر آنے والی جپسی تیزی کے ساتھ چیک پوسٹوں سے گزری اور یہ واضح طور پہ متوقع تھا۔یہ سیدھی کمپاؤنڈ سے گزرتی ہوئی اندر داخل ہوگئی۔سینما کی لابی حوب روشن تھی۔چھوٹے چھوٹے آئینوں کو ایک چھالر کی طرح سفید پلاسٹر آف پیرس مصنوعی چھت کے ساتھ ایسے ٹانکا گیا تھا جیسے ایک شادی کے کیک میں معکوس شکل میں برف کے ٹکڑے شاندار طریقے سے ٹانکے گئے ہوں اور سستے بہت چمکدار فانوسوں سے آنے والی روشنی ان پہ پڑ کر لابی میں پھیلی ہوئی تھی۔

.

سرخ قالین بھدا اور خراب ہوچکا تھا،سیمنٹ کا فرش اس میں سے بنے سراخوں سے دکھائی دے رہا تھا۔بندوق، ڈیزل اور پرانے کپڑوں کی بو وہاں پہ بسی ہوئی تھی۔کبھی جو سینما کا سنیک بار ہوا کرتا تھا وہ اب اذیت رسانوں اور اذیت کا نشانہ بننے والوں کے اندراج کا مرکز اور استقبالیہ میں بدل چگا تھا۔سنیک بار اب بھی ان چیزوں کی ایڈورٹائزنگ سے بھرا ہوا تھا جو اب یہاں نہیں تھیں۔گیڈبری فوٹ اینڈ نٹ چاکلیٹ اور کاولٹی آئیس کریم کئی فلیورز میں، چاک بار، اورنچ بار، مینگو بار۔دھندلے پڑگئے پرانی فلموں کے پوسٹر(چاندنی،میں نے پیار کیا،پرندہ اور صحراء کا شیر)

وقفے وقفے سے فلموں پہ پابندی اور سینما ہال اللہ ٹائیگرز کی جانب سے بند کروائے جاتے رہے۔اب بھی وال پہ لگے ہوئے تھے کچھ پہ پان کی سرخ پیک کے دھبے پڑے ہوئے تھے۔نوجوانوں کی ایک قطار جن کے ہاتھ ہتھکڑیوں سے جکڑے ہوئے تھے فرش پہ مرغیوں کی طرح پڑے ہوئے تھے،ان میں سے کچھ کو بری طرح سے مارا پیٹا گیا تھا اور وہ اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے مشکل سے زندہ تھے،وہ اب تک مڑے تڑے تھے کہ ان کی کلائیاں ان کے ٹخنوں سے لگی ہوئی تھیں۔فوجی قیدیوں کو لانے اور لیجانے کے لئے آجارہے تھے جن سے تفتیشش ہونا تھی اور جن سے ہوچکی تھی۔ہلادینے والی آوازیں بڑے لکڑی کے دروازوں سے ہوتی ہوئی آڈیٹوریم میں ایسے آتی تھیں جیسے ایک خوفناک فلم کا میوٹ ساؤنڈ ٹریک ہوں۔سمینٹ کینگرو خوشی سے خالی مسکراہٹ کے ساتھ اور کوڑا ڈالنے والے پاؤچ جن پہ لکھا تھا’یوز می’ کینگرو کورٹ کی نگرانی کرتے تھے۔

موسی اور اس کو لیکر آنے والے استقبالیہ یا رجسٹریشن مرکز پہ درکار ضابطوں میں الجھائے نہیں گئے تھے۔مارے پیٹے گئے پابند سلاسل آدمیوں کی نظروں کا مرکز بنتے ہوئے وہ شاہانہ انداز میں بالکونی کی نشستوں کی جانب جانے والی چکر دار سيڑھیاں چڑھتے چلے گئے۔اسے کیوئین سرکل کہا جاتا ہے۔۔۔اور اوپر جاکر مزید تنگ سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے پروجیکشن روم کی طرف بڑھ گئے جسے دفتر میں بدل دیا گیا تھا۔موسی واقف تھا کہ تھیٹر کا یہ حصّہ بھی سوچا سمجھا منصوبہ تھا اور یہ معصوم نہیں تھا۔میجر امریک سنگھ ایک ڈیسک کے پیچھے براجمان تھا جوکہ اس کے جمع کردہ غیر ملکی ویٹ پیپرز سے بھرا ہوا تھا۔۔۔۔نوک دار،چتیلے سیپ سے بنا ہوا،پیتل کی مورتی والا،جہاز رانی میں محو جہاز والا،شیشے کے جار میں قید بیلے رقص کرنے والی عورت والا۔۔۔۔۔وہ اٹھ کر موسی سے ملنے کے لئے کھڑا ہوگیا۔وہ کالے رنگ کا غیر معمولی لمبے قد والا تیس کے پیٹے میں تھا۔ چھے اعشاریہ دو فٹ کا نوجوان تھا۔اس کے رخساروں کی جلد عین داڑھی سے اوپر پھولی مسام دار تھی جیسے اسفنج کی ہوتی ہے۔اس کی گہری سیاہ پگڑی اس کے کانوں اور پیشانی کے گرد سختی سے بندھی ہوئی تھی اور اس کی آنکھوں کے کناروں اور بھنوؤں کو اوپر کی صرف گھینچے ہوئے تھے اور اس نے اس کے جہرے کو نيم خوابیدہ بنایا ہوا تھا۔اور جو اس کے یونہی روٹین میں ملنے والے واقف تھے جانتے تھے کہ اس کا یہ خوابیدہ چہرہ بڑا ہی دھوکے باز تھا۔وہ گھوم کر ڈیسک کے دوسری جانب آیا اور اس نے بہت گرم جوشی کے ساتھ موسی سے ہاتھ ملایا۔جو فوجی موسی کو لائے تھے ان کو جانے کو کہہ دیا گیا،

‘السلام علیکم حضور۔۔۔۔۔۔پیلز تشریف رکھیں۔کیا لیں گے آپ؟چائے< یا کافی؟’

اس کا لہجہ استہفامیہ اور حکمیہ کے بین بین تھا۔

‘کچھ نہیں۔شکریہ۔’

موسی بیٹھ گیا۔امریک سنگھ نے سرخ انٹرکوم کا ریسور اٹھایا اور چائے ‘آفسیر بسکٹ ‘ لانے کو کہا۔اس کی جسامت اور پھیلاؤ نے اس کے ڈیسک کو چھوٹا اور غیر متناسب سا بناڈالا تھا۔یہ ان کی پہلی ملاقات نہیں تھی۔موسی امریک سنگھ تمام جگہوں پہ اس سے پہلے کئی بار مل چکا تھا۔

موسی کے اپنے گھر،جب امریک سنگھ گاڈذیلا سے ملنے آیا تھا،جہاں پہ اس نے اس کو دوستی کی پیشکش کی تھی ۔۔۔ایسی پیشکش جو گاڈذیلا ٹھکرانے کا اختیار نہیں رکھتا تھا۔امریک سنگھ کے گھر پہ چند یاتراؤں کے بعد موسی کو گھر کی فضاء میں تباہ کن بدلاؤ کا پتا چل چکا تھا۔گھر کی فضاء اور زیادہ خاموش ہوچکی تھی۔اس کے اور اس والد کے درمیاں تند و تیز سیاسی بحثیں بند ہوگئی تھیں۔لیکن موسی نے جان لیا تھا کہ گاڈذیلا کی اچانک مشکوک نظریں ہمیشہ اس پہ جمی رہتی تھیں جیسے وہ اسے جانچنے کی کوشش کررہا ہو، اس کی گہرائی کا پتا چلانے کی کوشش کررہا ہو اور اس کی سن گن لے رہا ہو۔ایک دوپہر اپنے کمرے سے نیچے آتے ہوئے موسی ایک ساتھ گئی سیڑھیوں کو پھلانگتا ہوا اڑنے کے انداز میں نیچے زمین پہ لینڈ کرنے کے انداز میں اتر گیا۔

گاڈذیلا جو اس کی یہ پرفارمنس دیکھ رہا تھا نے موسی کو ٹوکا،اس کی آواز تو نہ نکلی تھی لیکن وہ بہت طیش میں تھا اور موسی دیکھ سکتا تھا کہ ایک رگ اس کے دماغ کے پاس پھڑک رہی تھی۔’تم نے ایسے اترنا کیسے سیکھا؟کیا ہم نے تمہیں ایسے اترنا سکھایا تھا؟’ اس نے اپنے بیٹے کو کشمیری والدین کی طرح بہت اچھی سے اساری ہوئی جبلت کے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔

وہ اس میں غیر معمولی تبدیلیوں کی تلاش کررہا تھا۔۔۔ٹریگر پہ انگلی جمانے کی وجہ سے سخت جلد کا نشان،سخت جلد گھٹنوں اور کہنیوں سے اور دوسری نشانیاں ٹریننگ کی جو عسکریت پسند کیمپوں میں مل جاتی ہیں۔لیکن وہ کوئی ایک نشانی بھی ڈھونڈ نہیں پایا۔امریک سنگھ نے اسے جو پریشان کنمعلومات فراہم کی تھیں ان کے ساتھ اس نے موسی سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔دھاتی ڈبوں کی اس کے گیندربال باغات سے نقل وحرکت کی خبریں۔۔۔۔۔موسی کے پہاڑوں میں سفر اور اس کے خاص دوستوں سے ملاقات کی معلومات بارے۔

‘ تم ان سب کے بارے میں کیا کہتے ہو؟’

‘اپنے دوست میجر صاحب سے پوچھیں۔وہ آپ کو بتآئے گا کہ جس انٹیلی جنس پہ ایکشن نہ ہوسکے وہ کوڑا ہی ہوتی ہے،’ موسی نے جواب دیا۔

‘Tse chhui marnui assi sarnei ti marnavakh,

‘تم خود تو مروگے ہی،ہم سب کو بھی اپنے ساتھ مرواؤگے،’ گاڈذیلا نے کہا۔اگلی مرتبہ جب امریک سنگھ آیا تو گاڈذیلا نے اصرار کیا کہ موسی بھی وہاں موجود ہو۔

اس موقعہ پہ وہ فرش پہ ایک پھولدار پلاسٹک کے دسترخوان کےگرد آلتی پالتی مارے بیٹھ گئے اور موسی کی والدہ نے چائے پیش کی۔(موسی نے عارفہ سے کہا تھا کہ وا اور مس جبین نیچے سیڑھیاں اتر کر اس وقت نہ آئیں جب تک ملاقاتی چلا نہ جائے)امریک سنگھ نے گرم جوشی اور کامریڈشپ دکھائی۔وہ تکیوں سے ٹیک لگاکر ایسے پسر کر بیٹھ گیا جیسے اس کا اپنا گھر ہو۔اس نے سنتا سنگھ اور بنتا سنگھ پہ بنے چند گھٹیا قسم کے احمقانہ لطیفے بھی سنائے۔اور پھر اس نے اپنی بیلٹ کھول دی جس میں ہولسٹر کے اندر پستول اس وقت بھی تھا اور ظاہر یہ کیا جتنا وہ کھانا چاہتا ہے اتنا کھانے میں وہ بیلٹ رکاوٹ بن رہی تھی۔

اگر اس انداز کا مطلب اپنے میزبانوں پہ اعتماد اور ان کے ساتھ آرام محسوس کرنے کا اشارہ تھا تو اثر اس کے بالکل الٹ ہی ہوا تھا۔جالب قادری کے قتل کی بات ابھی کھلی تھی،لیکن ہر شخض جانتا تھا کہ دوسرے قتل اور اغواء کا کھرا کہاں جاتا تھا۔پستول خوفناک انداز میں کیک اور سنیک کی پلیٹوں اور نمکین دوپہر کی چائے کے درمیان پڑا ہوا تھا۔جب آخرکار امریک سنگھ جانے کے لئے اٹھا اور اس نے تحسین کے طور پہ ڈکار لی تو وہ اسے بھول گیا یا اس نے اسے بھول جانے کا ناٹک کیا تو گاڈذیلا نے اسے اٹھایا اور اس کے حوالے کردیا۔

امریک سنگھ نے سیدھا موسی کی جانب دیکھا اور اسے واپس اپنی کمر کے ساتھ اڑستا ہوا ہنسا۔’اچھا ہوا تمہارے والد نے یاد رکھا۔تصور کرو اگر محاصرے و تلاشی کے دوران یہ یہاں پایا جاتا تو کیا ہوتا۔مجھے معاف کردیں، اس صورت میں خدا بھی آپ کی مدد نہ کرپاتا۔تصور تو کريں۔’ ہر شخص فرمانبرداری سے ہنس دیا۔موسی نے دیکھا کہ امریک سنگھ کی آنکھوں میں ہنسی نہیں تھی۔وہ روشنی کو جذب کرتی دکھائی دیتی تھیں مگر اس کو منعکس نہیں کررہی تھیں۔وہ شفاف تھیں، گہرائی سے حالی سیاہ ڈسک جس میں روشنی کی ہلکی سی بھی رمق نہ تھی۔یہی شفاق آنکھیں اب شیراز کے پروجیکشن روم میں پیپرویٹ سے بھری میز کے پرے سے موسی کو گھور رہی تھیں۔یہ غیر معمولی نظر تھی۔امریک سنگھ ڈیسک پہ بیٹھا تھا۔واضح تھا کہ اسے بالکل بھی آئيڈیا نہیں تھا کہ اس میز کو کافی ٹیبل سے ہٹ کر بھی کسی اور استعمال میں بس لمحوں میں لایا جاسکتا تھا۔اسے اس طرح سے لگایا گیا تھا وہ ہی صرف اپنی کرسی کی پشت کی جانب جھک سکتا اور دیوار میں کھلنے والی کھڑکی سے جھانک سکتا تھا۔۔۔کبھی یہ پروجیکشن کرنے والی کا پورٹل وویو ہوا کرتا تھا اور ایک ایک جاسوس خانہ ہوگیا تھا جس کا مقصد مرکزی ہال میں ہونے والی ہر ایک سرگرمی پہ نظر رکھنا تھا۔

انٹروگیشن سیلوں کی شروعات وہاں ہوتی ہوئی باہر نکلنے کے دروازوں تک جاتی جس پہ نیون لائٹ سائن تھا جس پہ لکھا ‘ایگزٹ’ (کبھی کبھی حقیقی معنی یہی ہوتا تھا)سکرین اب بھی وہی پرانے فیشن کے مخملی ڈنڈوں سے باندھے گئے کپڑے پہ مشتمل تھی۔۔۔پرانے زمانے میں جن پہ میوزک بجایا جاتا تھا: پاپ کارن یا بے بی ایلیفنٹ واک’۔گھٹیا سستی سی نشستیں سٹال سے ہٹا لی کئیں تھیں اور اور کونے میں اسے پٹک دیا گیا تھا تاکہ ان ڈور بیڈمنٹن کورٹ کے لئے جگہ بنائی جاسکے جہاں پہ دباؤ کا شکار فوجی اپنی بھاپ نکال سکیں۔

اس وقت بھی شٹل کاک کے ریکٹ سے ٹکرا کر پیدا ہونے والی تھاک،تھاک کی آواز امریک سنگھ کے دفتر تک آرہی تھیں۔

‘میں نے تمہیں یہاں پہ اپنی طرف سے معذرت پیش کرنے اور جو ہوا اس پہ دل کی گہرائیوں سے ذاتی طور پہ تعزیت پیش کرنے کے لئے بلایا ہے۔’

کشمیر میں خستہ حالی اسقدر اندر تک رواں دواں تھی کہ امریک سنگھ واقعی اس سنگینی و گھمبیرتا سے بے خبر تھا  جو ایک ایسے آدمی کو اٹھانے اور زبودستی مسلح محافظوں کے سائے میں صبح کے چار بجے انٹروگیشن سنٹر لانے صرف تعزیت کے لئے لانے سے پیدا ہوتی ہے جس کی بیوی اور بچہ گولی لگنے سے ہلاک ہوگئے ہوں۔

موسی خان جانتا تھا کہ امریک سنگھ ایک ایسی چھپکلی تھا جو کہ اپنی پگڑی کے نیچے ‘مونا’ تھا۔۔۔۔اس کے سکھوں جتنے لمبے بال نہ تھے۔اس نے کئی سال پہلے سکھ مذہب کی اس مقدس رسم کی یہ بے حرمتی کئی سال پہلے کی تھی۔اس نے گاڈذیلا کو اسے بتاتا سنا تھا کہ جب وہ ردشورش آپریشن پہ ہوتا ہے تو وہ ایک ہندؤ،ایک سکھ،یا پنجابی بولنے والا مسلمان گجھ بھی ہوسکتا ہےاس کا انحصار آپریشن کی ڈیمانڈ پہ تھا۔ اس نے بے تحاشا قہقہ لگایا جب اس نے بیان کیا کہ کیسے ‘ہمدردوں’ کی شناخت اور ان کو بل سے باہر نکالنے کے لئے اس نے اور اس کے آدرمیوں نے شلوار قمیص۔۔۔’خان سوٹ’ پہنے اور گاؤں والوں کے دروازوں پہ راتوں کو دستک دی یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ پاکستان سے آئے عسکریت پسند ہیں اور طالب پناہ ہیں۔

اکر ان کو خوش آمدید کہا گیا تو اگلے دن گاؤں والوں کو او جی ڈبلیو ایس (اوور گراؤنڈ ورکرز) کے طور پہ گرفتار کرلیا گیا۔

‘گاؤں والے کیسے  آدھی رات کو بندوقوں سے لیس آدمیوں کے ایک گروپ کو واپس کرتے جو ان کے دروازے پہ آن کھڑا ہوتا؟ہس سے قطع نظر کہ وہ عسکریت پسند تھے یا فوجی؟موسی یہ پوچھنے کی ہمت نہ کرسکا۔

‘اوہ،ہمارے پاس خوش آمدید کہنے کی گرم جوشی ماپنے کے اپنے طریقے ہیں۔’ہم اپنے ہی بیرومیٹر رکھتے ہیں۔’ہوسکتا ہے۔لیکن تم کشمیریوں کی فریب نظر کی گہرائی کی ذرا سمجھ نہیں رکھتے، موسی نے سوچا تو مگر کہا نہیں۔تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ کیسے ہم جیسے لوگوں نے اپنی تاریخ اور جغرافیہ کو بچایا ہے اور کیسے ہم نے اپنے فخر کو زیر زمین چلانا سيکھ لیا ہے۔کمال مہارت سے دوہرے پن کے ساتھ رہنے کا ہنر ہی ہمارا ہتھیار ہے۔تم نہیں جانتے کہ جب ہمارے دل ٹوٹے ہوتے ہیں تب بھی ہم  پرشوق مسکراہٹ کو ظاہر کررہے ہوتے ہیں۔جن کو ہم پیار کرتے ہوں ان پہ ہم دکھائے کے لئے سخت غضہ ہوجاتے اور جن کو ہم نے تباہ کرنا ہوتا ہے ان سے بہت جوش سے گلے مل رہے ہوتے ہیں۔تم سوچ بھی نہین سکتے کہ کیسے ہم آپ کا پرجوش سواگت کرتے ہیں جبکہ ہم اصل میں آپ کو بھگانا چاہتے ہیں۔تمہارا بیرو میٹر یہاں کسی کام کا نہیں ہے۔اس پہ سوچنے دیکھنے کا یہ بھی ایک طریقہ تھا۔اور دوسری طرف یہی انداز موسی کا بھی ہوسکتا تھا جو اس وقت بظاہر بہت ہی شریف و سادہ نظر آرہا تھا۔

کیونکہ امریک سنگھ اس مطلق العنان فضاء اور جبریت کے سب اقدامات سے مکمل طور پہ آگاہ تھا جس میں وہ کام کرتا تھا۔۔۔۔وہ جس کی رعایا کی کوئی سرحدیں نہیں تھیں، کوئی وفاداری اس میں نہیں تھی اور نہ ہی اس گہرائی کی کوئی حد تھی جہاں تک گرا جاسکتا تھا۔جہاں تک کشمیری نفسیات کا تعلق تھا تو ایسی کوئی چیز اگر موجود بھی تھی تو امریک سنگھ نہ تو اس کو سسمجھنے کی کوشش کررہا تھا اور نہ ہی اسے اس کی کچھ بصیرت تھی۔اس کے ںزدیک تو یہ ایک کھیل تھا، ایک شکار، جس میں اس کے شکار کے ہدف خود اس کے خلاف ہی اتارے گئے تھے۔اس نے خود کو ایک فوجی سے زیادہ ایک کھلاڑی سمجھ رکھا تھا۔جس نے اسے ایک خوش مزاج روح بنادیا تھا۔میجر امریک سنگھ ایک جواری،جرآت مند شیطان افسر،سخت جان تفتیشی،رسیلا،سرد مہر قاتل تھا۔اسے اپنے کام میں بہت مزا آتا تھا اور وہ تفریح کے نئے طریقوں کی تلاش کرتا رہتا تھا۔

وہ کچھ عسکریت پسندوں سے رابطے میں رہتا جو اتفاق سے اس کی وائرلیس فریکوئنسی میں آتے یا وہ ان کی میں چلا جاتا اور وہ ایک دوسرے پہ اسکولی لڑکوں کی طرح طنزو تشنیع کے تیر برساتے’ ارے یار!میں تو ایک نمانا سا ٹریول ایجنٹ ہوں۔’وہ ان سے یہی کہنا پسند کرتا تھا۔’تم جہادیوں کے لئے کشمیر ٹرانزٹ پوائنٹ ہے،کیا ایسا نہیں ہے؟تمہاری اصل منزل تو جنت ہے جہاں تمہاری حوریں تمہارا انتظار کرتی ہیں۔میں تو یہاں بس تمہارے سفر میں تمہارا سہولت کار ہوں۔’وہ اپنے آپ کو جنت ایکسپریس کہہ کر شناخت کراتا۔اور اگر وہ انگریزی میں بول رہا ہوتا (جس کا عام طور پہ مطلب یہ ہوتا کہ وہ پئے ہوئے ہے)تو وہ اس کا ترجمہ پیراڈائز ایکسپریس کرتا تھا۔اس لیجنڈری سطروں میں سے ایک سطر یہ ہوتی تھی:دیکھو میاں میں بھارت سرکار کا لنڈ ہوں اور میرا کام ہے چودنا۔

وہ نشاط انگیزی کے معاملے میں اسقدر متشدد تھا کہ کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک عسکریت پسند کو بہت تگ ودود کے تلاش کرکے اور بہت مشکل سے اسے پکڑنے کے بعد چھوڑ دیا تھا صرف اس لئے کہ وہ اسے دوبارہ پکڑ کر اپنی متشدد نشاط انگیزی کا دوبارہ مزا لینا چاہتا تھا۔اپنے ذاتی شکار کرنے کا جو مینوئل اس نے تیار کیا ہوا تھا اس کے بھٹکے ہوئے طریقہ نشاط انگیزی کی تسکین کے لئے ہی اس نے موسی کو شیراز بلاکر تعزیت کی تھی۔گزشتہ چند مہینوں میں شاید امریک سنگھ نے موسی کو ایک ممکنہ دشمن کے طور پہ شناخت کرلیا تھا،ایسا شخص جو اس کا متضاد قطب تھا اور وہ ایسے اعصاب رکھتا تھا اور ایسی ذہانت کا حامل تھا جو خطرات کو بڑھاتے اور شاید شکار کی نوعیت کو ایک ایسے مقام پہ بدل کر رکھ دیتے کہ یہ بتانا مشکل ہوجاتا کہ کون شکاری ہے اور کون شکار۔

اسی وجہ سے امریک سنگھ بہت بےچین اور اپ سیٹ تھا جب اسے موسی کی بیوی اور بیٹی کی موت کا علم ہوا۔وہ موسی کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ اس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔اور یہ کہ یہ قطعی غیر متوقع تھا اور جہاں تک اس کا تعلق تو بیلٹ سے نیچے جاکر وار کرنا اس کے منصوبے میں شامل نہیں تھا۔شکار کو جاری رکھنے کے لئے اسے ہدف کے سامنے یہ بات صاف کرنا بہت ضروری تھا۔

صرف شکار کھیلنا ہی اس کا واحد شوق نہ تھا۔اس کے بہت مہنگے ذوق اور لائف سٹائل تھا کہ وہ یہ اپنی تنخواہ سے پورے نہیں کرسکتا تھا۔تو اس نے دوسرے کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھایا جو کہ فوجی پیشہ ہونے کی وجہ سے جیتے جاسکتے تھے۔اغواء اور تاوان جیسے کاموں سے ہٹ کر وہ پہاڑوں میں ایک آرے مل کا مالک تھا اور وادی میں اس کا فرنیچر کا بزنس تھا۔جتنا وہ متشدد تھا وہ اتنا ہی زیادہ سخی تھا اور وہ بیش قیمت مخروطی کافی ٹیبل اور اخروٹ کی لکڑی کی کرسیاوں تحائف ان لوگوں کو تقسیم کرتا تھا جو اس کو پسند ہوتے تھے یا اس کی ضرورت ہوتے تھے۔(گاڈذیلا کے پاس بھی سائیڈ ٹیبل تھیں جو زبردستی اسے دی گئی تھیں)امریک سنگھ کی بیوی لولین کور پانچ بہنوں میں چوتھے نمبر پہ تھی۔۔۔۔تلوین، ہرپریت،گورپریت،لولین اور ڈمپل۔۔۔۔۔۔اور اپنی خوبصورتی کی وجہ سے مشہور تھیں۔۔۔۔اور ان کے دو چھوٹے بھائی تھے۔ان کا تعلق چھوٹی سی سکھ برادری سے تھا جو صدیوں پہلے وادی میں آکر بس گئی تھی۔

ان کا باپ ایک چھوٹا کسان تھا جس کے پاس اپنے خاندان کو کھلانے کے زیادہ زرایع نہ تھے۔یہ کہا گیا تھا کہ خاندان اتنا غریب تھا کہ جب ان میں سے ایک لڑکی سکول کی جانب جارہی تھی تو اس کا ٹفن گرپڑا جس میں ان کا پیک کیا ہوا دوپہر کا کھانا تھا،بھوکی لڑکیوں نے سڑک پہ گرا کھانا ہی کھالیا تھا۔جیسے جیسے لڑکیاں جوان ہوتی گئیں تو مردوں نے بھونڈوں کی طرح ان کے گرد منڈلانا شروع کردیا۔اور ہر طرح کی پیشکش ان کو کی گئیں تھیں سوائے ان سے شادی کرنے کی پیشکش کے۔

تو ان کے والدین بہت راضی تھے جب وہ ان میں سے ایک کی شادی بنا کسی جہیز کے دئے مرکزی سرزمین کے ایک فوجی افسر سے کرنے کے قابل ہوگئے تھے۔جب ان کی شادی ہوکئی تو لولین امریک سنگھ کے ساتھ  سری نگر اور اس کے گرد قائم بہت سے کیمپوں میں آفسیرز کوارٹرز میں نہیں گئی جہاں جہاں وہ تعینات رہا۔کیونکہ یہ افواہ تھی کہ وہاں پہ ایک اور عورت، ایک دوسری بیوی،سنٹرل ریزرو پولیس سے اس کی ایک ساتھی اے سی پی پنکی تھی جو فیلڈ آپریشن میں بھی اور کیمپوں میں انٹروگیشن سیشن میں اس کے ہمراہ ہوتی تھی۔ چھٹیوں پہ جب امریک سنگھ اپنی بیوی اور شیر خوار بچے سے ملنے سری نگر ميں سکھ آبادی کے علاقے جواہر نگر میں آتا تو ہمسائے ڈومیسٹک تشدد اور عورت کی جانب سے مدد کی درخواست پہ مبنی چیخیں سنائی دینے بارے سرگوشیاں کرتے تھے۔کسی نے بھی مداخلت کرنے کی ہمت نہ کی۔اگرچہ امریک سنگھ بے رحمی سے عسکریت پسندوں کا شکارکرکے ان کو ختم کردیتا تھا

لیکن پھر بھی وہ ان کا لحاظ کرتا۔۔۔اور ان میں جو بہترین ہوتے تھے ان کی جلن کے ساتھ تعریف کرتا۔وہ ان میں سے کچھ کی قبروں کا احترام کرتا جن میں سے چند وہ تھے جن کو خود اس نے مارا تھا۔(ان میں سے ایک کو اس نے گن سیلوٹ بھی پیش کیا تھا)جن لوگوں کو اس نے نہ صرف بے عزت کیا بلکہ ان کو وہ انتہائی گھٹیا خیال کرتا تھا وہ انسانی حقوق کے ایکٹوسٹ تھے۔۔۔۔اکثر وکیل، صحافی اور اخبارات کے ایڈیٹر۔ اس کے لئے وہ ایسے پاجی تھے جنھوں نے اپنی مستقل شکایتوں اور رونے چلانے سے ایک عظیم کھیل میں شمولیت کے جو اصول تھے ان کو برباد اور تباہ کردیا تھا۔

امریک سنگھ کو جب کبھی ان میں سے کسی ایک کو اٹھانے یا ان کو نیوٹرلائز کرنے کی اجازت ملی ( یہ اجازت کبھی بھی مارنے جیسے احکامات کی شکل میں نہیں آئی تھی بلکہ عمومی طور اس میں سے نامارنے کے احکامات غائب ہوتے تھے) تو وہ اپنی اس ڈیوٹی کو بجالانے میں زیادہ پرجوش نہیں ہوا کرتا تھا۔لیکن جالب قادری کا کیس مختلف تھا۔اس کے پاس محض ڈرانے اور آدمی کو حراست میں رکھنے کے آڈر تھے۔چیزين غلط رخ پہ چلی گئیں۔جالب قادری نے نہ ڈرنے کی غلطی کی۔پلٹ کر جواب دینے کی۔امریکہ سنگھ کو اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکنے پہ افسوس اور پچھتاوا تھا اور اس سے اپنے دوست اور ساتھی ہم سفر اخوان گوجری کو اس کے نتیجے میں ختم کرنا پڑا تھا اس پہ اس پچھتاوے میں اضافہ ہوگیا تھا۔انہوں نے اچھا وقت گزارا تھا اور کئی جرآت مندانہ کام اس نے اور سلیم گوجری نے اکٹھے سرانجام دئے تھے۔

وہ جانتا تھا کہ اگریہ معاملہ اس کے ساتھ ہوتا تو سلیم گوجری بھی یقینی طور پہ یہی کرتا جو اس نے کیا تھا۔اور وہ امریک سنگھ یقینی بات ہے سمجھ گیا تھا۔یا اس نے خود کو بتادیا ہوگا،جو کام اس نے کئے،سالم گوجری کو مارنا ایک ایسا کام تھا جس نے اسے ٹھٹھک جانے پہ مجبور کردیا تھا۔دنیا میں سلیم گوجری بشمول لولین کے وہ شخض تھا جن کے لئے امریک سنگھ نے وہ محسوس کیا تھا جسے مبہم طور پہ پیار کہا جاتا تھا۔جب وہ لمحہ آیا تو اس نے اس کے اعتراف میں اس نے خود ہی ٹریگر کھینچا تھا۔

وہ یاسیت پرست نہیں تھا اور جلد ہی ایسی چیزوں سے نکل آتا تھا۔موسی کے سامنے ڈیسک کے پرے بیٹھے ہوئے ویسے ہی مغرور اور حد سے زیادہ اپنے ٹھیک ہونے کے یقین کا حامل تھا۔اسے فیلڈ سے واپس بلاکر ڈیسک جاب دے دی گئی تھی،ہاں لیکن چیزیں ابھی تک اس پہ کھلنا شروع نہیں ہوئی تھیں۔وہ اب بھی کبھی کبھار باہر فیلڈ میں آپریشن کے لئے جاتا خاص طور پہ اس کیس میں جس میں کسی عسکریت پسند یا اوور گراؤنڈ ورکر کی ہسٹری سے وہ واقف ہوتا تھا۔اسے یقین تھا کہ اس نے نقصان کو کنٹرول کرلیا تھا اور وہ مشکل سے باہر آگیا تھا۔

‘آفسیر بسکٹ’ اور چائے آگئی۔موسی نے طشتری میڑ دھرے چائے کے برتنوں کی آواز پہلے سنی اور بعد میں بسکٹ لانے والا اس کے پیچھے سے ظاہر ہوا۔موسی اور بسکٹ لانے والے نے ایک دوسرے کو فوری ہی پہچان لیا تھا لیکن ان کے چہرے کسی بھی شناسائی کے تاثر سے خالی رہے۔امریکہ سنگھ نے ان کو بہت غور سے دیکھہ۔کمرے میں جیسے ہوا بالکل ہی بند ہوگئی تھی۔سانس لینا دشوار ہوگیا تھا۔اسے بناوٹی تو ہونا ہی تھا۔جنید احمد شاہ حزب المجاہدین کا ایریا کمانڈر تھا جسے چند ماہ پہلے ہی پکڑا گیا جب اس نے بہت عام مگر ہلاکت خیز غلطی کی کہ اپنی بیوی اور شیر خوار بچے کو ملنے سوپور میں اپنے گھر چلا آیا جہاں فوجی پہلے ہی اس کی تاک میں بیٹھے تھے۔وہ لمبا، لوچ دار جسم کا مالک،  خوش شکل ہونے کے سبب اور اپنی حقیقی اور کچھ افسانوی بہادری کی وجہ سے جانا پہچانا اور بہت زیادہ محبوب تھا۔

کبھی اس کے کاندھوں تک لہراتے بال اور گھنی سیاہ داڑھی تھی۔اب ہ کلین شیو  تھا اور اس کے بال ہندوستانی فوجی سٹائل میں کٹے ہوئے تھے۔اس کی ماند پڑی،اندر کو دھنسی آنکھیں گہرے خاکستری گڑھے لگتے تھے۔اس نے ایک ٹریک سوٹ پہنا ہوا تھا جس کی پتلون اس کی آدھی پنڈلیوں پہ آکر ختم ہوجاتی تھی، اونی جرابیں،آرمی کی طرف سے جاری کینویس کیڈز شوز اور ایک قرمزی رنگ کی کھسی پٹی سی بیروں والی جیکٹ جس پہ پیتل کے بٹن ٹنکے ہوئے تھے جو اتنی چھوٹی تھی کہ اس نے اسے ایک مذاق بنادیا تھا۔اس کے ہاتھوں کے ارتعاش نے طشتری میں دھری کراکری کو ڈانس کرنے پہ مجبور کردیا تھا۔

‘ٹھیک ہے، اب دفع ہوجاؤ۔اب تو یہاں کس لئے کھڑے ہو؟’

امریک سنگھ نے جنید سے کہا۔

‘جی جناب!جے ہند!

جنید نے سیلوٹ مارا اور کمرے سے  چلاگیا۔امریک سنگھ ترحم و ترس کی تصویر بنے موسی کی طرف متوجہ ہوا۔

‘جو آپ کے ساتھ ہوا وہ کسی بھی انسان کے ساتھ نہیں ہونا چاہئیے۔آپ صدمے میں ہوں گے۔یہ کریک جیک (بسکٹ) لیں۔یہ آپ کے لئے اچھے ہیں۔ ففٹی ففٹی۔

پچاس فیصد چینی اور پچاس فیصد نمک۔’

موسی نے جواب نہ دیا۔امریک سنگھ نے اپنی چائے ختم کی۔موسی نے اپنی والی بنا چھوئے ہی چھوڑ دی۔’آپ کے پاس ایک انجنئیرنگ کی ڈگری ہے،کیا ایسا ہی نہیں ہے؟’

‘نہیں۔آرکیٹیکچر کی۔

‘میں آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔آپ او تو پتا ہوگا کہ فوج کو ہمیشہ انجینئرز کی تلاش رہتی ہے۔بہت کام ہے وہاں۔بہت اچھا معاوضہ ملتا ہے۔سرحد پہ باڑ لگانا،یتم خانے کی عمارت بنانا،وہ تخلیق نو مراکز اور جم نوجوانوں کے بنانے کا سوچ رہے ہیں،یہان تک کہ اس جگہ پہ بھی کافی کچھ کرنا ہے۔۔۔میں تمہیں بعض اچھے کنٹریکٹ دلواسکتا ہوں۔ہمارا تمہارے لئے یہ کرنا کم از کم فرض بنتا ہے۔’موسی نے اس کی طرف نہ دیکھتے ہوئے شہادت کی انگلی سے ایک ‎یپی کے شیل کی ٹپ کو جانچا۔

‘کیا میں زیر حراست ہوں، یا مجھے یہان سے جانے کی اجازت دیں گے آپ؟’

اب بھی وہ اس کی جانب نہیں دیکھ رہا تھا،اس لئے وہ امریک سنگھ کی آنکھوں میں در آنے والی در آنے والی غصّے کی لہر کو نہ دیکھ سکا جوکہ اتنی ہی خاموشی اور تیزی سے آئی تھی جیسے ایک چھوٹی سی دیوار پہ ایک بلّی کودتی ہے۔

‘آپ جاسکتے ہیں۔’

امریک سنگھ اپنی کرسی پہ بیٹھا رہا جبکہ موسی اٹھ کھڑا ہوا اور کمرہ چھوڑ گیا۔اس نے گھنٹی بجائی اور جس نے جواب دیا تھا اسے موسی کو باہر کا راستا دکھانے کو کہا۔

نیچے سیڑھیوں میں سینما لابی میں ٹارچر بریک ہوگغی تھی۔چائے فوجیوں کو بڑی بڑی کتیلیوں سے انڈیل کر سرو کی جارہی تھی۔ایک لوہے کی ٹوکری میں ڈھنڈے سموسے، دو فی کس بانٹے جارہے تھے۔موسی نے لابی عبور کی تو اس وقت وہ بندھے ہوئے،مارے پیٹے گئے خون رستے لڑکوں میں سے ایک کی نظر میں تھا جسے وہ بہت اچھی طرح جانتا تھا۔وہ اس لڑکے کی ماں کو جانتا تھا تو ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ، ایک پولیس اسٹیشن سے دوسرے تک بے صبری سے اسے تلاش کرنے کے لئے چکر لگارہی تھی۔یہ تلاش شاید ساری عمر جاری رہتی۔موسی نے سوچا کہ کم از کم ایک خوفناک اچھی چیز کا تو اس رات انکشاف ہوگیا تھا۔

وہ خارجی دروازے سے تقریبا باہر نکل ہی گیا تھا جب امریک سنگھ سب سے اوپر والی سیڑھی سٹیپ پہ نمودار ہوا،روشن چہرے اور خوش مزاجی کے ساتھ اور وہ اس شخص سے بالکل مختلف نظر آرہا تھا جسے موسی پروجیکشن روم میں چھوڑ کر آیا تھا۔اس کی آواز لابی میں گونج گئی۔

‘ارے خصور! ایک چیز میں بالکل بھول گیا تھا!’

ہر شخص ۔۔۔۔اذیت دینے اور اذیت برداشت کرنے والے سب۔کی نظریں اس پہ مرکوز ہوگئیں۔اس بات سے باخبر کہ اس پہ سب ناظرین کی توجہ ہے امریک سنگھ نے اتھلیٹ کی طرح سیڑھیوں سے نیچے چھلانک ماری ،جیسے ایک مسرور میزبان اپنے اس مہمان کو رخصت کرنے آیا ہو جس کی ملاقات نے اسے بہت مزا دیا ہو۔اس نے موسی کو گرم جوشی سے گلے لگایا اور ایک پیکچز اسے تھمادیا جو وہ لایا تھا۔

‘یہ آپ کے والد کے لئے ہے۔ان کو بتانا کہ یہ خاص طور پہ ان کے لئے ہے۔’

یہ ریڈ سٹیگ وہسکی تھی۔لابی میں سناٹا چھاگیا۔ہر کوئی ناظرین اور اس کھیل میں اصل کردار (کھیل جو ابھی اپنا آپ کھول رہا تھا)سب سکرپٹ کو سمجھ چکے تھے۔اگر موسی اس تحفہ کو ٹھکرا دیتا ہے تو یہ امریک سنگھ کے ساتھ جنگ کا اعلان ہوگا ۔۔۔جو کہ موسی جلد از جلد مار دے گا۔اگر اسے قبول کرلیا، تو امریک سنگھ موت کی سزا کا سودا عسکریت پسندوں سے کرلے گا۔کیونکہ اس کو پتا تھا کہ خبر باہر جائے گی،اور ہر عسکریت پسند گروپ

چاہے ان کے درمیان کیسے ہی اختلاف کیوں نہ ہوں ان کے نزدیک قابضہ گیروں سے تعاون، ان کے دوستوں کی سزا موت تھی اور وہسکی پینے کو چاہے کوئی غیر مددگار ہی کیوں نہ ہو ایک غیر اسلامی فعل قرار دے دیا گیا تھا۔

موسی سنیک بار کے پاس سے جب گزرا تو اس نے وہسکی کی بوتل اس پہ رکھ دی۔

‘میرے والد نہیں پیتے۔’

‘ارے ،اس میں چھپانے والی کیا بات ہے؟ اس میں کوئی شرم نہیں۔بہرحال آپ کے ابا پیتے ہیں!آپ اچھے سے جانتے ہیں۔میں نے یہ بوتل خاص طور پہ ان کے لئے خریدی۔کوئی بات نہیں یہ میں ان کو خود دے دوں گا۔’

امریک سنگھ اب بھی مسکرا رہا تھا۔اس نے اپنے بندوں کو موسی کے پیچھے جانے کو کہا تاکہ وہ اس کی حفاظت سے گھر واپسی کو دیکھ سکیں۔چیزين جس ڈھب پہ جارہی تھیں وہ اس پہ شاداں تھا۔

دن طلوع ہورہا تھا۔کبوتری خاکستری رنگ کے آسمان میں سرخ گلاب کی ایک جھلک تھی۔موسی مردہ گلیوں سے ہوتا ہوا گھر پہنچ گیا۔چپسی محفوظ فاصلہ رکھ کر اس کا پیچھا کررہی تھی اور ڈرائیور واکی ٹاکی پہ ہر آنے والی چیک پوسٹ کو موسی کو گزر جانے دینے کا کہہ رہا تھا۔

وہ اپنے گھر میں داخل ہوہ تو اس کے کندھوں پہ بھی برف تھی۔اس سردی کا اس سردی سے کوئی مقابلہ نہکں تھا بو اس کے اندر جمع ہوچکی تھی۔جب انہوں نے اس کا چہرہ دیکھا تو اس کے والدین اور بہنیں اس کے پاس پہنچ کر اس سے کیا ہوا پوچھے بغیر ہی جان گئے تھے۔وہ اپنی میز پہ واپس گیا اور اس لیٹر کو دوبارہ لکھنا شروع کیا جسے اسے لینے کے لئے آنے والے فوجی کے سبب بیچ میں چھوڑنا پڑا تھا۔اس نے اردو میں لکھا۔اس نے انتہائی تیزی سے لکھا جیسے یہ اس کا آخری ٹاسک ہو، گویا جیسے وہ سردی کے خلاف دوڑ رہا ہو اور جسم میں گرمی نکلنے سے پہلے شاید ہمیشہ کے لئے اسے اس کو ختم کرنا ہو۔

یہ مس جبین کے نام خط تھ۔

بابا جانانہ،

کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میں تمہیں مس کررہا ہوں؟تم غلط ہو۔میں تمہیں کبھی مس نہیں کروں گا،کیونکہ تم ہمیشہ میرے ساتھ رہنے والی ہو۔

تمہاری خواہش تھی نا کہ میں تمہیں حقیقی کہانیاں سناؤں، لیکن میں نہیں جانتا کہ حقیقی کیا ہوتا ہے۔جو حقیقی سا لگتا تھا وہ بھی اب پریوں کی کہانی لگتی ہے۔اس قسم کی جیسی مین تمہیں سناتا تھاع،وہ قسم جسے تم نے کبھی برداشت نہین کیا۔جو بات میں یقین سے جانتا ہوں وہ صرف یہ ہے:ہمارے کشمیر میں مرجانے والے ہمیشہ زندہ رہیں گے؛زندہ مردہ لوگ ہیں وہ زندہ ہونے کا ناٹک کرتے ہیں۔

اگلے ہفتے ہم کوشش کررہے تھے کہ تمہارا اپنا آئی ڈی کارڈ بن جائے۔جیسا کہ تم جانتی ہو جانانہ، ہمارے کارڈ خود ہم سے زیادہ اہم ہیں اب۔نہایت خوبصورت بنے ہوئے قالین،یا انتہائی نرم گرم شال یا سب سے بڑے باغ ،یا ہماری وادی کے تمام باغات کے چیری اور اخروٹ سے بھی زیادہ قیمتی ہوچکے ہیں۔میرا آئی کارڈ نمبر ہے:

M 108672J

تم نے مجھے بتایا تھا کہ یہ لکی نمبر ہے کیونکہ اس میں ایم ‘مس’ کے لئے اور جے ‘جبین ؛ کے لئے ہے،اگر ایسا ہے تو یہ مجھے بہت جلد تم اور تمہاری امّی تک لیجائے گا۔

تو جلدی سے جنت میں ہوم ورک کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ،تم کن معنوں میں لوگی اگر میں یہ بتاؤں کہ تمہارے جنازے میں سینکڑوں ہزاروں لوگ تھے؟تم تو وہ جسے صرف 59 تک گنتی آتی ہے؟ گنو۔۔۔میں کہا نہین کرتا تھا کہ ‘گنو؟ میرا مطلب ہے چلاتا تھا ۔۔۔۔اور تم وہ تھیں جو 59 تک چلاسکتی تھی۔

مجھے امد ہے کہ تم جہاں بھی ہوں گی مگر چلانہیں رہی ہونگی۔تمہیں نرمی سے بولنا سیکھنا ہوگا، ایک عورت کی طرح،کم از کم کچھ اوقات میں۔میں تمہارے سامنے کیسے سینکڑوں ہزاروں کی تشریح کرسکوں گا۔اتنے زیادہ اعداد۔کیا ہم اسے گننے کی کوشش کریں اور موسموں کے اعتبار سے سوچتے ہیں۔بہار میں سوچو،درختوں پہ کتنے پتے ہیں اور کتنے کنکر تم جھیلوں میں دیکھ سکتی ہو جب ان پہ سے جمی برف پگھل جاتی ہے۔

سوچو کہ سبزہ زاروں  میں کتنے پوست کے سرخ پھول کھلے ہوئے ہیں۔اس سے تمہیں سینکڑوں ہزاروں کا بہار میں ہونے کا اندازہ ہوجائے گا۔

خزاں میں بڑی تعداد میں چنار کے پتے یونیورسٹی کیمپس میں ہمارے قدموں میں آکر چرمراتے ہیں اس دن جب میں تمہیں سیر کے لئے لیکر جاتا ہوں(اور تم اس بلی پہ غصّے ہوتی ہو جو تم پہ اعتماد نہیں کرتی اور تمہارا پیش کردہ روٹی کا ٹکڑا اسے دیا۔ہم سب بھی ایک طرح سے اس بلّی جیسے ہونے جارہے ہیں،جانانہ۔ہم اب کسی پہ اعتماد نہیں کرسکتے۔وہ جو روٹی ہمیں پیش کرتے ہیں ہمارے لئے خطرناک ہے کیونکہ یہ ہمیں غلاموں اور کاسہ لیس نوکروں میں بدل دیتی ہے۔

تم شاید ہم سب سے ناراض ہو۔کچھ بھی ہے۔بہرحال ہم اعداد بارے بات کررہے تھے،ایک سو ہزار۔سردیوں میں ہم آسمان سے برف کے گرتے گالوں بارے سوچیں گے۔یاد کرو کہ کیسے ہم ان کو شمار کرتے تھے؟کیسے تم ان گننے کی کوشش کرتی تھیں اور پکڑنے کی کوشش کرتی تھیں؟بہت سارے لوگ ایک سو ہزار ہوتے ہیں۔تمہارے جنازے پہ مجمع نے زمین کو برف کی طرح سے ڈھک دیا تھا۔کیا تم اب اسے تصویر کرسکتی ہو؟ گڈ۔اور یہی ہیں صرف لوگ۔

میں تمہیں پہاڑوں سے نیچے اتر کر آنے والے ریچھ، ہنگول جس نے جنگلات سے دیکھا،برفانی چیتے جس نے برف پہ اپنے قدرموں کے نشان چھوڑے تھے، آسمان پہ ارۃی پتنگ اور ہر چیز کی نگرانی کرنے والوں کے بارے میں بتانے نہیں جارہا۔مجموعی طور پہ یہ بالکل ایک تماشہ تھا۔تم نے خوش ہونا تھا، تم بھیڑ بھاڑ کو پسند کرنے والی ہو،میں جانتا ہوں۔تم ہمیشہ سے ایک شہری لڑکی بننا چاہتی تھیں۔یہ شروع سے ہی واضح تھا۔اب تمہاری باری ہے۔مجھے بتاؤ۔۔۔۔۔

اس فقرے کے درمیان ہی وہ سردی کے خلاف دوڑ میں ہار گیا۔اس نے لکھنا بند کردیا، خط کم لپیٹا اور اپنی جیب میں ڈال لیا۔اس نے اسے کبھی مکمل نہیں کیا مگر یہ ہمیشہ اس کے ساتھ ہی رہا۔

وہ جانتا تھا کہ اس کے پاس زیادہ وقت نہین ہے۔اسے امریک سنگھ پہ تیزی سے اس کے اگلے اقدام اٹھانے سے قبل ہی حملہ کرنا ہوگا۔زندگی جس سے وہ کبھی واقف تھ ختم ہوچکی تھی۔وہ جانتا تھا کہ کشمیر اسے نگل چکا ہے اور وہ شکم کشمیر کی اتھاہ گہرائی کا حصّہ ہوگیا تھا۔

اس نے سارا دن معاملات سے نبٹنے میں گزار دیا۔۔۔اس کے ہاں جمع ہوئے سگریٹ کے واجبات چکاتے،کاغذات کو تباہ کرتے اور چند ایک جس کی اسے ضرورت تھی یا اسے عزیز تھے بچاکر رکھتے ہوئے (اس نے دن گزارا)۔اگلی صبح یسوی گھرے والے اپنے غم کے ساتھجاگے تو موسی جاچکا تھا۔اس نے شیراز میں جس مار کھائے لڑکے کو دیکھا تھا اس بارے ،اس کی ماں کا نام اور پتا ایک نوٹ کے ساتھ اپنی بہنوں کے لئے چھوڑا تھا۔اس طرح سے اس کی زیرزمین زندگی کا آغاز ہوا۔ایسی زندگی جو ٹھیک ٹھیک نو ماہ جاری رہی۔۔۔ایک حمل کی مدت جتنی۔

سوائے اس کے کہ اس کے نتائج و عواقب زچگی کے برعکس تھے۔اس کا نتیجہ ایک قسم کی موت کی صورت نکلا نہ کہ زندگی کی صورت۔روپوشی کے دنوں میں موسی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہا اور اس نے کبھی بھی بنا وقفے کے راتیں ایک جگہ پہ نا گزاریں۔اس کے اردگرد ہمیشہ لوگ ہوتے تھے۔۔۔جنگل میں خفیہ کمین گاہوں میں، کاروباری لوگوں کے پاپوش گھروں میں، دکانوں میں، زمین دوز ٹھکانوں میں، سٹور رومز میں ۔۔۔جہاں بھی تحریک کا سواگت پیار اور یک جہتی سے کیا جاتا تھا۔وہ ہتھیاروں بارے سب جان گیا تھا، کہاں سے ان کو خریدنا ہے،اور ان کو کیسے لیکر جانا ہے، کیسے چھپانا ہے،کیسے استعمال کرنا ہے۔اس کی کھال وہاں وہاں سے سخت ہوگئی تھی جہاں کبھی اس کے والد نے سخت ہونے کا تصور بھوت کی طرح اپنے اوپر سوار کرلیا تھا۔۔۔۔

(جاری ہے )

کیاعدلیہ نواز شریف سے ہار جائے گی؟

 

 

 

 

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے سابق سینٹر اور مسلم لیگ نواز کے رہنماء نہال ہاشمی ایڈوکیٹ کو توہین عدالت کا جرم ثابت ہونے پہ ایک ماہ قید سنادی ہے۔جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک شہری کی جانب سے نواز شریف،ان کی بیٹی مریم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے مسلم لیگ نواز کے دو وزراء دانیال عزیز اور طلال چوہدری کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جہاں توہین عدالت کے نوٹس مسلم لیگ نواز کے وزراء کو جاری کررہی ہے،وہیں پہ عدالت نے نااہلی کی سزا پانے والے وزیراعظم سمیت دیگر پارلیمانی اراکین کی نااہلی کی مدت کا تعین کرنے کے کیس کی سماعت کا آغاز کیا ہے۔

افتخار چوہدری کے جانے کے بعد یکے بعد دیگرے آنے والے دو چیف جسٹس صاحبان جسٹس تصدق جیلانی اور جسٹس ظہیر انور جمالی کے دور میں ایسے لگ رہا تھا جیسے جوڈیشل ایکٹوازم  کو ریورس گئیر لگ گیا ہے۔اور جسٹس ثاقب نثار کی جب تعیناتی بطور چیف جسٹس ہوئی تو ان کے قانون کی دنیا میں کرئیر پہ نظر رکھنے والوں نے ان کو نواز شریف کے لئے نرم گوشہ رکھنے والا چیف جسٹس قرار دیا۔حدبیہ پیپرز مل کیس بارے ان کی سربراہی میں قائم بنچ نے جس طرح سے نیب کی درخواست کو رد کیا اور نواز شریف کی نااہلی کے بعد عدلیہ کے ججز کے خلاف جو جارحانہ مہم میاں نواز شریف اور ان کی جماعت نے شروع کی اس پہ ان کی جانب سے خاموشی پہ بھی اس تاثر کو تقویت ملی کہ عدلیہ نواز شریف کے ساتھ نرمی سے کام لے رہی ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر قانون دان لیاقت علی ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں نواز شریف پرست ہونے کا مبینہ تاثر اس لئے بنا تھا کہ ان کو نواز شریف نے مارچ 1997ء میں سیکرٹری قانون بنایا اور اس دوران بے نظیر بھٹو ،آصف علی زرداری اور پی پی پی کے دیگر لوگوں کے خلاف جو مقدمات دائر کئے گئے تھے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے پیچھے ان کا اور سیف الرحمان کا دماغ کام کررہا تھا۔ثاقب نثار کو 98ء میں لاہور ہائیکورٹ کا جج بھی میاں نواز شریف  نے ہی بنوایا تھا۔پھر جب ان کا نام سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بطور سپریم کورٹ کے جسٹس کے پیش کیا تو اس کو آصف علی زرداری نے واپس کردیا تھا مگر اسے افتخار چوہدری نے اپنے صوابدیدی اختیارات کے زریعے سے باقی رکھا۔اس طرح کے ديگر قرائن کو مدنظر رکھ کر کہا جاتا رہا کہ وہ نواز شریف کے اپنے جج ہیں۔

لیکن گزشتہ چند ماہ سے صورت حال میں بتدریج تبدیلی آتی جارہی تھی اور چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے نواز شریف کو پانامہ کیس میں سنائی گئی نظرثانی کی درخواست پہ سنائے گئے فیصلے،نواز شریف نااہلی کیس کی سماعت ،توہین عدالت کے نوٹسز  اور سوموٹو نوٹس لینے میں اضافے نے اس تاثر کو زائل کردیا ہے کہ وہ نواز شریف کے قریب ہیں۔

صورت حال کی تبدیلی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ نواز شریف، مریم نواز اور مسلم لیگ نواز کے دیگر شعلہ بیاں وزراء کی جانب سے اب پانامہ کیس اور جی آئی ٹی اور نیب عدالتوں کے  ججز کے ساتھ ساتھ خود اشاروں کنایوں سے چیف جسٹس آف پاکستان پہ بھی تنقید شروع کردی گئی ہے۔نہال ہاشمی کو سنائی گئی سزا کو مسلم لیگ نواز کے حلقوں میں نواز شریف کو بالواسطہ تنبیہ خیال کیا جارہا ہے۔جبکہ نواز شریف کے حال ہی میں پنجاب میں دو جلسوں اور کراچی میں وکلاء سے خطاب کے دوران ان کے حملوں کا براہ راست نشانہ چیف جسٹس بنے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار خود بھی اپنی طرف توپوں کا رخ ہونے کے معاملے کو سمجھ رہے ہیں۔تین مختلف تقریبات میں انھوں نے جو خطابات کئے ان میں وہ بہت ہی کھل کر عدلیہ پہ ہونے والی تنقید کا جواب دیتے نظر آئے۔انھوں نے نواز شریف کی جانب سے لگایا گیا یہ الزام کہ عدلیہ نے وزیراعظم کو مفلوچ کردیا ہے کے جواب میں کہا کہ سیاست دانوں نے عدلیہ کو مفلوج کررکھا ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت اپنا کام نہیں کرے گی تو عدلیہ اپنا کام کرے گی۔

جوڈیشل ایکٹوازم کے اس نئے مرحلے میں مسلم لیگ نواز اور اس کے حامیوں کی پریشانی اور غصّہ کافی واضح نظر آنے لگا ہے۔نہال ہاشمی کو سزا ہونے کے بعد سے نواز شریف،مریم نواز، خواجہ سعد رفیق، طلال چوہدری،دانیال عزیز،احسن اقبال سمیت نواز لیگ کے عقاب سب کے سب کیفیتی اعتبار سے ایک سا بیان دے رہے ہیں۔اور بین السطور وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر عدلیہ نے نواز شریف کو توہین عدالت کی سزا سنانے کی کوشش کی تو پھر یہ توہین ‘اجتماعی عدالتی نافرمانی’ کی تریک میں بدل دی جائے گی۔

نواز شریف عدلیہ کے خلاف جس قسم کی محاذ آرائی کی سیاست کررہے ہیں،اس کی حمایت پاکستان میں پریس کا ایک بڑا طاقتور سکشن کررہا ہے۔انگریزی پریس میں ان کی طرف جھکاؤ رکھنے والے کافی بڑے نام ہیں۔ان میں جہاں نجم سیٹھی،بینا سرور ، کا نام لیا جاسکتا ہے وہیں سب سے زیادہ سرگرم نام سیرل المیڈا کا ہے۔بلکہ اب تو یہ محسوس ہونے لگا کہ نواز شریف اپنی سیاسی لائن کا اعلان کرنے سے پہلے اپنے حامی پریس سیکشن کو اس لائن کے خدوخال بیان کرنے کا اشارہ دیتے ہیں۔اتوار کے روز سیرل المیڈا کا ایک مضمون ‘اور مصیبت’ کے عنوان سے شایع ہوا۔

 

If the judge avers that justice will be done in every instance, it only serves to remind everyone that maybe justice hasn’t been done in a certain instance. If the judge starts locking up people for contempt, it may grow the queue — or, dangerously, encourage Nawaz to jump to the front of the queue. A bad idea doesn’t turn good by doing more of it. This is a war the judiciary can’t win.

اس پیراگراف سے ہم صاف سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے دل میں یہ ڈر ہے کہ معاملہ صرف نااہلی تک نہیں رکنے والا بلکہ اس سے آگے جائے گا۔اور اگر جج صاحبان لوگوں کو توہین عدالت کے الزام میں بلانے لگیں گے تو اس سے قطار بڑھ سکتی ہے ۔۔۔یا خطرناک طور پہ نواز شریف کو حوصلہ ہوگا کہ وہ اس قطار میں سب سے آگے کھڑے ہوجائیں۔اور ان کے خیال میں ایسا ہونا کوئی بہتری لیکر نہیں آئے گا اور پھر وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک جنگ ہے جو عدلیہ نہیں جیت سکتی۔

انگریزی کے جس موقر اخبار میں اتوار کے روز یہ کالم شایع ہوا،اسی دن کی اشاعت میں اس اخبار نے ایک اداریہ بھی لکھا ہے۔جس میں اخبار نے سپریم کورٹ سے ‘سوموٹو ایکشن’ لینے کے اختیار کے استعمال کی زیادتی کو خطرناک رجحان قرار دیا ہے۔اخبار یہاں پہ ایک لبرل ڈیموکریٹ مثالیت پسند ہونے کا ثبوت دیتا ہے اور وہ درپردہ پاکستان کی سول افسر شاہی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے عہدے داروں سے عوامی اہمیت کے ایسے ایشوز پہ جواب طلبی کی روش پہ تنقید کرتا ہے جو بظاہر انتظامیہ کا اختیار سمجھے جاتے ہیں۔لیکن لبرل ڈیموکریٹ مثالیت پسند اپنی ‘سرمایہ دارانہ ‘ سوچ کے سبب ایک بنیادی حقیقت کو چھپاتے ہیں کہ ریپ ہو،یا ریاستی ماورائے عدالت قتل، پینے کا صاف پانی ہو کہ اختیارات کا ناجائز استعمال افسر شاہی اور سیاست دان اس معاملے میں ہمیشہ آئین اور قانونی ضابطوں کی دھجیاں اڑاتے رہتے ہیں اور متاثرین کو کوئی انصاف نہیں ملتا۔جبکہ پاکستان میں نواز شریف اینڈ کمپنی تو انتظامیہ،عدلیہ ، مقننہ ان سب کو اپنا غلام بنانے اور بادشاہت کے طرز پہ موجودہ سسٹم کو ڈھال لینے کی طرف گامزن تھے۔ان کی کوشش ہے کہ یہ اس سسٹم کو بحال کریں جس میں اس ملک کی عدلیہ، فوج، سول افسر شاہی اور پارلیمنٹ ان کی ذاتی وفاداری کا کردار ادا کرے۔اس سے آگے ان کا اور کوئی مقصد نہیں ہے۔

دوزخی روحیں/دوسرا حصّہ

White-Temple-Chian-Rai-Wat-Rong-Khun-souls-of-hell-2

 

ہم وہاں سے نکلے تو اوور برج کے نیچے سے پیدل ہی چلتے ہوئے پہلے پٹھان پاڑے میں داخل ہوئے اور وہاں سے گرومندر لسبیلہ چوک پہنچ کر ہم نے ایک بس پکڑی  اور صدر آگئے۔یہاں رستم کیفے پہ بیٹھ گئے اور کافی کا آڈر دیا۔اس وقت کیفے میں بہت کم لوگ تھے۔یہاں فیملی کیبن میں ہم پردہ گراکر بیٹھ گئے۔

ندا! تم اتنی جلی بھنی باتیں کیوں کرتی ہو؟اور ہر وقت اینگری ویمن کیوں بنی رہتی ہوں؟

یہ سنکر ندا نے ایک جنونی کی طرح قہقہ لگایا۔اس کے اس انداز میں ہنسنے سے میں نجانے کیوں ڈرجایا کرتا تھا۔

ندا  نے فلسفہ کی کلاسز زرا دیر سے لینا شروع کی تھیں۔وہ دو ماہ کے بعد ہمارے ساتھ شامل ہوئی تھی۔مجھے وہ پہلے دن سے ہی بہت اچھی لگی تھی۔چاکلیٹی رنگ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا اور بہت ہی پرکشش جسم جو اس کلاس میں بہت سے گورے چٹے رنگوں کو گہنا دیتا تھا یا کم از کم میں ایسا ہی سمجھتا تھا۔

کلاس میں ندا جب بھی کسی موضوع پہ بولنے لگتی تو بہت ہی متانت،ٹھہرے ہوئے لہجے اور دلائل کے ساتھ بولا کرتی تھی۔بہت ہی کمپوذڈ نظر آتی تھی۔اور مجھے اس پہ رشک آتا تھا۔کلاس میں اس کی دوستی ہماری کلاس کی واحد عراق کے شہر کوفہ کی رہنے والی طالبہ صدف سے تھی۔اور صدف فلسفے کی سب سے ہوشیار اور ذہین فطین لڑکی تھی جس کے ہمارے شعبے کے سب سے مقبول نوجوان استاد مستجاب حیدر سے تعلق بارے چہ مگویاں ہمیشہ عروج پہ رہا کرتی تھیں اور یہ تینوں اکثر ساتھ ساتھ نظر آتے تھے۔مستجاب حیدر کو ان کے ساتھی اساتذہ ‘ کلاسیکل سرخا’ کہتے تھے اور مادیت پرستی کا دلدادہ اسے خیال کیا جاتا تھا۔ان کے ساتھ اکثر عائشہ بلقیس نظر آتی جوکہ بیروت سے یہاں پڑھنے آئی ہوئی تھی اور کہا جاتا تھا کہ اس کا خاندان خانہ جنگی کے دنوں یہاں آکر رہنے لگا تھا۔مستجاب حیدر کا تعلق ویسے تو ہندوستان یو پی سے ہجرت کرکے آنے والے ایک اشراف سید گھرانے سے تھا مگر وہ اپنے دادا اور دادی کے کمیونسٹ ہوجانے پہ وہ آپ بھی ایسا ہی ہوگیا تھا۔صدف بارے پتا چلا کہ وہ عراق کی کمیونسٹ پارٹی کے کسی اہم رہنما کی بیٹی تھی اور اب وہ خود کو شیعہ مسلم سوشلسٹ کہتی تھی اور ڈاکٹر علی شریعتی کی پیرو کہلاتی تھی۔ مجھے یہ ساری باتیں اس وقت معلوم ہوئیں جب یونیورسٹی میں یونین پہ پابندی نہ اٹھائے جانے پہ ہم نے ازخود یونیورسٹی کے اندر الیکشن کرانے اور شیڈو طلباء یونین بنانے کی کمپئن لانچ کی تو صدف نے یونیورسٹی کے اندر ایک بہت بڑے گروپ کے ساتھ ہماری اس کمپئن میں شرکت اور پھر جب الیکشن موقعہ پہ ایک طرف اسلامی جمعیت طلباء ، جمعیت طلبہ اسلام، انجمن طلباء اسلام، محمدی اسٹوڈنٹس فیڈریشن، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزشن   نے ملکر ‘اسلامک اسٹوڈنٹس فرنٹ’ بنایا تو ہم جو ڈی ایس ایف والے تھے ہمارے ساتھ پی ایس ایف، پختون خوا اسٹوڈنٹس فیڈریشن، بلوچ اسٹوڈنٹ فیڈریشن، جئے سندھ اسٹودنٹس فیڈریشن ، سندھ شاگرد تحریک ،طلباء کے ایک گروپ ‘لال’ اور صدف کی قیادت میں تشکیل پایا ایک گروپ’حسینی لال قلندر  طلباء اتحاد’ نے اشتراک کرکے ‘ پروگریسو سوشل ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس الائنس ‘ تشکیل دیا تھا۔اے پی ایم ایس او نے ایم ایس ، پنجابی اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور پنجابی پختون اتحاد اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ساتھ ملکر اتحاد بنایا۔پروفیسر مستجاب حیدر ، ڈاکٹر ریاض سمیت کئی استاد پی ایس ڈی ایس اے کو سپورٹ کررہے تھے۔ہمارا مخالف اتحاد اسے کفر اور اسلام کی جنگ بتارہا تھا۔اسی دوران ندا بھی ایک منجھی ہوئی اسٹوڈنٹ لیڈر کے طور پہ سامنے آئی اور اس کا ایک نیا روپ مجھے پرائیویٹ اسٹڈی سرکلز میں دیکھنے کو ملا۔

وہ بہت غضّے میں لگتی اور بہت ریڈیکل نظر آتی ۔اور کلاس والی متانت اور ٹھنڈے پن سے دلائل دینے والا انداز یہاں غائب  ہوگیا تھا۔اور دسمبر کی آخری رات جب ہم نے ایک پارٹی کا اہتمام کیا تو صدف ، پروفیسر مستجاب حیدر اور ان گے گروپ رہنماؤں نے معذرت کرلی لیکن ندا نے اس میں شرکت کی حامی بھری اور ہمارے ساتھ شریک ہوئی۔جیسے ہی تاريخ بدلی تو اس نے اپنے بیگ سے گریٹ لینڈ سکاچ کی بوتل نکالی اور اس کا کارک کھول کر اسے منہ سے لگایا اور میری طرف بوتل بھڑائی تو میں اس کا یہ روپ دیکھکر تھوڑا سا حیران رہ گیا۔کیونکہ ‘حسینی لال قلندر گروپ’ میں مجھے اب تک ‘مذہب اور سوشلزم’ کا تڑکا لگا ہوا نظر آیا تھا۔ اور صدف و مستجاب بھی بہت محتاط رہتے تھے۔لیکن ندا کچھ اور ہی نظر آرہی تھی۔اس دن کے بعد میں اس کے پیچھے پڑگیا تھا اور بھی نجانے مجھے کیوں اسقدر برداشت کرنے لگی تھی۔ہماری موبائل پہ راتوں کو بات ہونے لگی۔پہلے پہل ہم بہت سے موضوعات پہ بات کرتے۔آہستہ آہستہ میں نے اس سے اظہار محبت کیا،اور پھر نان ویج گفتگو کرنے لگا،اگرچہ وہ کبھی جواب میری انتہائی جذباتی گفتگو کا جذباتی و ہیجانی انداز میں نہ دیتی۔

ایک دن جب میں اپنی پوری جنسی آرزؤں کا بیان اس کے سامنے کرچکا تو اس نے اچانک اپنے تئیں یہ کہہ کر بم پھوڑا: ‘ فلسفی ! میں ورجن نہیں ہوں، اور مرد ہاتھوں سے میری آشنائی بہت پرانی ہے۔’ آگے اس نے اس دن مجھے کچھ نہ بتایا۔

آج رستم کیفے میں ہم دونوں اکٹھے ہوئے تو میں نے اس موضوع کو پھر سے چھیڑ دیا تھا۔وہ کچھ دیر خاموش رہی اور خلاؤں میں گھورتی رہی اور اچانک سے اس نے بولنا شروع کردیا:

دوزخی روحیں۔کہانی/پہلا حصّہ

souls-in-hell

دوزخی روحیں – پہلا حصّہ

عامر حسینی

‘تمہارے ہاتھوں سے ، بدن سے، کپڑوں سے ،سانسوں سے تمباکو کی بو آتی ہے،ایسے لگتا ہے جیسے تمہارا سارا وجود تمباکو سے بنا ہوا ہے۔اور مجھے جو اس بو سے شدید نفرت تھی،پاس کوئی سگریٹ پی رہا ہوتا تھا تو مجھے متلی ہونے لگتی تھی،لیکن مجھے تمہاری بو میں ملی یہ تمباکو کی بو زرا بھی ناگوار نہیں لگتی،بلکہ میں مدہوش سی ہونے لگتی ہوں۔یہ سب کیا ہے؟’

اس نے اپنے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ میرے ہونٹوں پہ رکھے اور ناک سے اندر لمبا سانس لینے کے بعد کہا،تو میں حیران ہوکر اس کی طرف دیکھنے لگ گیا۔

اچانک میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنے آپ کو بستر پہ پایا۔صبح ہوچکی تھی اور رات حسب معمول ندا کے خواب دیکھتے گزر گئی تھی۔

عجب لڑکی تھی جو میرے حواس پہ بری طرح سے چھاگئی تھی۔جب تک ہم ملے نہیں تھے،تو روز میں اس کے نت نئے پیکر تراشا کرتا تھا اور ان سب مقامات پہ اس کو ساتھ لیکر جاتا ،جو میرے پسندیدہ تھے۔یہاں تک کہ ایک مرتبہ میں نے اسے خیال ہی خیال میں اس گھاس پھوس کے بنے چھپر ہوٹل کے اندر چق سے بنائی گئی پارٹیشن میں حاضر کرلیا تھا، جہاں میں کبھی دیسی ٹھرے کے دو گلاس چڑھانے جاتا تھا اور میرے دو دوست جھولے لعل دم مست قلندر کرتے ہوئے دم پہ دم لگاتے ،اپنے تئیں غم مٹاتے اور ہر بار مزید اداس اور  ‘اور زیادہ بے گانے’ ہوجاتے تھے۔

میں دو گلاس میں دیسی ٹھرا منگواتا تھا،اور ان کو آمنے سامنے لکڑی کے بنچ پہ رکھ دیتا اور اسے حاضر کرکے اپنے ساتھ شریک محفل رنداں کیا کرتا تھا۔اور آج جب اس چھپر کی پارٹیشن میں جب ہم داخل ہورہے تھے تو چھپر ٹی سٹال کے مالک شیدو چرسی نے بڑے لوفرانہ انداز میں اس کی طرف اشارہ کرکے بڑا فحش اشارہ کیا تھا۔اور اس کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا،

 ‘بے پھلسپھی تیں اج مینے مرد نجر آرییا اے’

یہ روہتک کے کسی گاؤں سے ہجرت کرکے آنے والے گھرانے کا فرد تھا۔اور لمپئن پرولتاریہ کی کلاسیکل مثال تھا۔چھپر ٹی سٹال اس علاقے کا سب سے مشہور چائے کا ٹھیا تھا۔چھوٹا چھپر جس میں پارٹیشن تھی اور یہ پارٹیشن اب ایک طرح سے ہمارے قبضے میں تھی۔میرے دوستوں میں طیب وارثی روزنامہ ‘ظالم کی شامت’ کا رپورٹر تھا۔یہ لمپئن پرولتاریہ کا ہمارے علاقے میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والا اخبار تھا۔بلیک میلنگ کو اس نے ایک آرٹ میں بدل دیا تھا۔اس کے نمائندے کلاسیکل بروکرز مشہور تھے۔لیکن میرا یار طیب وارثی کے بقول وہ ان کلاسیکل بروکرز کی ماں چ۔۔۔ کے لئے ہی صحافی بنا تھا اور وہ اس اخبار کا سب سے بڑا

Reneged

تھا۔میں نے اس کا نام ہی

Reneged Warsi

رکھ دیا تھا۔جب پہلی بار میں نے اسے رینے گیڈ وارثی کہہ کر پکارا تو کہنے لگا:

“مرشد! مجھے نہیں پتا  کہ رینے گیڈ کسے کہتے ہیں، لیکن تم نے جو رکھا ہے تو سوچ کر ہی رکھا ہوگا۔”

ہماری گینگ کا سب سے بڑا کامریڈ جسے ہم پیار سے جعلی دانشور کہتے تھے  انور کہنے لگا ،

 ‘جیہڑا وڈا پین یک ہوندا اے اونوں رینے گیڈ کہندے نئیں۔روسیاہ (روسی) لینن اے ناں جرمنی دے انقلاب دے نال بھین یکّی کرن آلے کاؤتسکی نوں دتّا سی ،رینے گیڈ کاؤتسکی۔توں “ظالم کی شامت” نال جو کردا پیاں ایں او بھین یکی اے ۔تے توں ہویا رینے گیڈ وارثی، پر ایتھے توں ٹھیک رینے گی /غداری کر رہیاں ایں،ایتھے لفجاں دے ایس سوداگر نے تری تریف کیتی اے،لتاڑیا نئیں تینوں’

“ہاں! میں نے اسی لئے تو کہا،مرشد نے جو رکھا ہے نام ٹھیک رکھا ہے۔” طیب وارثی نے فوری کہا تھا۔

ہم خوب ہنسے تھے جعلی دانشور کامریڈ انور کی لن ترانی سنکر۔

خیر تو طیب وارثی نے اپنی صحافتی بدمعاشی کے زریعے مقامی تھانے کو ڈک رکھا تھا۔اور اس چھپر ٹی سٹال کی پارٹیشن اور پھر اس کے اردگرد ہونے والی چھوٹی موٹی بھین یکیوں کی طرف پلسیے دھیان نہیں دیتے تھے۔

شیدو چرسی بھی ایک کلاسیکل لمپئن پرولتاریہ تھا، اس کے سامنے سے کوئی عورت گزرتی یہ اس کی پوری سکیننگ کرتا، اور ایسی جنسیاتی لغت تخلیق کرتا کہ سیکسولوجی کا ماہر لگتا۔اور کم سن ،بھیگی مسیں والے لڑکوں  کے لئے تو اپنی ساری کمائی لوٹانے کو تیار رہتا تھا۔اور ہفتے دو ہفتے بعد یہ چھپر ٹی سٹال  کسی لونڈے کے پیچھے میدان جنگ بن جاتا تھا، اس وقت لڑنے والے لونڈے بازوں کے درمیان سب سے بڑا پنچائتی یہی شیدو چرسی ہوتا تھا۔اکثر جس لونڈے پہ پانی پت کی جنگ ہوتی،وہ بعد میں شیدو چرسی کے خلیفوں میں شمار ہوجاتا تھا۔

 اور جیسے ہی اس کے چھپر پہ سنّی تحریک والے لڑکے چائے پینے آتے تو یہ ان کے سامنے ایسا عاشق بن جاتا جس کا بس نہیں چلتا ورنہ یہ مزارات کے خلاف بولنے والوں کی زبان گدی سے کھینچ لے۔

‘رے بھان چود  یو بندی گانڈ گندی ملونٹا ہمیں بدتی (بدعتی) کہتا ہے،خود ساڑھا بھان چ بی تو بعد میں ہی پیدا ہوا ۔تو یہ بھی خود بدعت ہے۔اسے مٹاؤ پہلے تو۔’

شیدو چرسی اس پوری لوکلیٹی کے رہنے والی آبادی کا پوسٹر بوائے تھا۔اسے دیکھ لو،سمجھو پورے علاقے کے ہر ایک مرد کو دیکھ لیا۔اس علاقے کی عورتیں بھی بہت عجیب کردار کی مالک تھیں، سب ٹچ بٹنوں والا برقعہ پہنتیں، سوائے آنکھوں کے کچھ نظر نہ آتا،یہاں دعوت اسلامی،سنّی تحریک کا بہت زور تھا ،جب کہ کئی درجن بھر گھرانے دیوبندی بھی تھے،اور اہلحدیث جن کو ‘سسرے وہابی’ کہا جاتا تھا وہ چند ایک گھر تھے۔کافی عرصے تک تو میں ‘سسرے وہابی’ کو وہابیوں میں سے نکلا ایک فرقہ خیال کرتا رہا،یہ تو مجھے بعد میں سمجھ آئی کہ ‘ سسرے’ تو روہتکی زبان میں گالی کے معنوں میں استعمال ہونے والا لفظ تھا۔

یہاں کی عورتیں کافی نڈر، بہادر اور بے باک ہوتی تھیں،اکثر اپنے مردوں سے لڑبھڑ جاتی تھیں۔اور  جو عورت بہت زیادہ مذہبی بھی ہوتی تو بھی ایک دو خفیہ یارانے پالے ہوتی تھیں، اور عشق کو جھٹکا دیکر بولتیں تھیں،’دیکھ چھوکرے ٹانگاں کے درمیان میں یہ چھیچھڑا گھسا کے تیری عاشقی نکل جاوے گی مینے بیر ا اے، تیں یہ عشک وشک چھوڑ اور مینے اپنی بھڑاس نکالن دے،میرا  دھگڑا (شوہر) کسے جوگا ہوتا تیں میں تیرے چوتڑاں پہ اتنے جوتے مارتی ،تینے یہ چھیچھڑا فیر کھڑا کرنا مشکل ہوجاتا۔’

جعلی کامریڈ انور کو اکبری نے یہ فقرے اتنے زور سے کہے تھے کہ ہم سب جو پارٹیشن سے باہر جون کی اس تیز آگ برساتی گرمی میں کھڑے پہرا دے رہے تھے، یہ سب سنا اور ہماری کمر میں سرد سنسناہٹ سی دوڑگئی۔اور پھر تھوڑی دیر تیز تیز سانسوں کی آواز آتی رہی اور ایک دم سے اندر سے اکبری چلائی،’ سالا،بھڑوا، گانڈو، چودائی خانہ، اگر جور /زور نہیں ہووے ہے تو یہاں میّا چودوانے کیوں آجاوے اے، کسی حکیم کے پاس کیوں نہ جاوے یا بھڑوے گانڈ مروانا شروع کردے۔’ اور پھر ہم نے اکبری کو انتہائی غصّے میں بڑبڑ کرتے باہر نکلتے دیکھا۔ہم سب ڈر کر ایک طرف ہوگئے۔اس نے انتہائی نفرت بھری نظر ہم پہ ڈالی اور ‘زمین پہ تھوک کر چلی گئی ۔’

میں نے جعلی دانشور کی یہ درگت بنتے دیکھنے کے بعد توبہ کرلی کہ اس علاقے کی کسی عورت کو بھول کر بھی دعوت نہیں دوں گا۔اور میں ایک دم سے سادھو سنت بن گیا، کبھی شہر سے باہر ایک کچی آبادی میں جاکر اپنے جذبات ٹھنڈے کرلیا کرتا تھا۔

اس بڑے کاسمو پولیٹن شہر کا یہ علاقہ ایسی بات نہیں تھی کہ صرف لمپئن پرولتاریہ پہ مشتمل تھا،یہاں فروٹ کیمشن ایجنٹ،کریانہ فروش،غلہ منڈی کے آڑھتی،باردانے کا کام کرنے والے، کپڑے کے تاجر، کچھ زرعی رقبوں کے مالکان بھی موجود تھے، یہیں کچھ سرکاری ملازم بھی تھے۔لیکن یہ سب کے سب سابقہ انڈین مشرقی پنجاب اور حال کے صوبہ ہریانہ اور دلّی کے گردونواح سے ہجرت کرکے آنے والوں کی اولاد تھے۔یوپی-سی پی کے مہاجرین کے برعکس ان  ميں شرخ خواندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ہوائی روزی والے ان میں زیادہ تھے۔یہ سب ایک جیسے نفسیاتی میک اپ میں ڈھلے لگتے تھے۔ہم دوست غلطی سے اسے ورکنگ کلاس کی بستی سمجھ بیٹھے تھے۔یہ جہالت ہمارے اندر جعلی دانشور کامریڈ انور نے پیدا کی تھی، جو یہاں ایک چوبارہ کرائے پہ لیکر رہ تھا۔اس نے ہمیں اسٹڈی سرکل کا لالچ دیا، پہلے یہ اسٹڈی سرکل اس کے چوبارے پہ ہوئے اور پھر یہ شیدو چرسی کے چھپر ہوٹل میں منتقل ہوگئے۔یہاں کئی نوجوان ہماری سنگت میں شامل ہوئے، یہ ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ کامریڈ انور جعلی دانشور کے گرد ان نوجوانوں کے جمع ہونے کا سبب اس کے پی سی اور سمارٹ موبائل فون میں موجود درجنوں پورنوگرافی کے کلپ اور سیکس ویب سائٹس جن میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی ٹین گے سائٹس کا وزٹ تھا۔کامریڈ انور نے ہمیں سختی سے منع کیا کہ ہم کامریڈ، کمیونسٹ اور سوشلزم جیسے نام یہاں نہ لیں۔اس علاقے کا ہی ایک نوجوان کامران  جو بدقسمتی سے یونیورسٹی تک پہنچ گیا تھا،ایک دن اس نے مجھے اولڈ کیمپس میں ڈی ایس ایف کا لٹریچر بانٹتے دیکھ لیا۔یہ اے ٹی آئی کا رکن تھا، اس نے علاقے میں یہ خبر پھیلادی کہ میں قادیانی ہوں۔میں اس شام جب چھپر ہوٹل پہنچا تو چند بوریاں سینے والے نوجوانوں نے ہمیں گھیر لیا،ان میں اشرف بھی تھا،جسے سب ہانڈا کہتے تھے،وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر اکثر ٹھّرا پیا کرتا اور جب ترنگ میں آجاتا تو اس علاقے کی عورتوں کے یارانے بیان کرتا۔گھر سے لیکر اس عورت کا شجرہ تک سب سامنے لیکر آتا اور اشرف ہانڈا عید میلاد النبی کے جلوس میں سب سے آگے ہوتا اور جب جلوس دیوبندی مسجد کے پاس پہنچتا تو گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرہ لگاتا : کفر کا کوڑا ،کفر کا گند۔دیوبند۔دیوبند اور لہک لہک کر شعر پڑھتا

سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منارہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چھپر ہوٹل میں باہر لکڑی کے بنچ پہ بیٹھے ہوئے ،سگریٹ کے مرغولے چھوڑتے ہوئے یہ ہر خوبرو لڑکے اور ہر گزرنے والی عورت کے پچھواڑے کو دیکھ کر بس ایک ہی جملہ کہا کرتا ۔’ ہائے کیا گانڈ ہے،دل کرتا کھاجاؤں۔’

‘ابے او پھلسھی کی جھانٹ! تیں قادیانی ہووے ہے، ایدھر گانڈ مروانے آوے۔۔۔۔۔۔

ہانڈا سرخ آنکھیں، گلیں کی رگیں پھلائے میری طرف بڑھا۔

کامریڈ انور، جعلی دانشور درمیان میں آگیا۔

‘اشرف بھائی! آپ کو کس نے کہا کہ فلسفی قادیانی ہے۔’

‘رے ہمنے سب بیرا اے،کامران بتارہا تھا،تیں کمیونسٹ لٹریچر تقسیم کررہیا تھا وہاں یونے ورستی ما۔

کامریڈ انور کے منہ سے ہنسی نکل گئی،’تمہیں کس نے کہا کہ کمیونسٹ قادیانی ہوتے ہیں؟ وہ خرم کہہ رہیا تھا۔

کامریڈ انور نے ایک دم سے پینترا بدلا اور کہا،’ خرم سالا تو خود دیوبندی ہے، اس نے تم سے جھوٹ بولا۔کمیونسٹ تو صوفی ہوتے ہیں، شاہ عنایت ٹھٹھوی بارے تمہیں بتایا نہیں تھا میں نے جو کہتے تھے، جو محنت کرتا ہے وہی محنت کا حقدار ہے، اب اگر تم مزدوری کرو اور کوئی تمہاری اجرت نہ دے تو کیا تم اس کے خلاف نہیں لڑو گے؟ کمیونسٹ بھی یہی کرتے ہیں۔۔’ کامریڈ انور نے اشرف ہانڈے سے نظر بچا کر مجھے آنکھ ماری اور اپنا موبائل کھولا اور اشرف کے سامنے کارل مارکس کی تصویر کردی۔یہ دیکھو یہ سلسلہ کمیونسٹویہ کے روحانی پیشوا تھے۔

‘ارے ،یو تو واقعی نور برس رہیا اے، بڑی پہنچی ہستی لگے ہے حجرت صاب کی۔’ اشرف ہانڈے نے تصویر دیکھی اور شاید کارل مارکس کی بڑی داڑھی دیکھ کر ان کو پیر باصفا خیال کرلیا۔

‘یار پھلسپھی! معافی دے، خرم دیوبندی نے جھوٹ بولا ۔ اچھا تیں مینے یہ بتلا، تیں قادیانیاں بارے کیا سوچے ہے؟’  اشرف ہانڈے کے دماغ کی رو پھر پلٹ گئی  ۔میں گڑبڑا گیا اور میں نے کامریڈ انور کی طرف دیکھا، اس نے جلدی سے کہا،’ اس کی سب کی رائے وہی ہے جو امیر اہلسنت مولانا سلیم قادری شہید کی تھی۔’

‘واہ، فیر ٹھیک ہے۔سبحان اللہ۔۔۔۔۔۔ ‘ اشرف ہانڈا بولا، اور اپنے دوستوں کے ساتھ واپس پلٹ گیا۔

تھوڑی دیر بعد وہ لکڑی کے بنچ پہ بیٹھ کر وہاں سے گزرنے والی عورتوں اور نوخیز لڑکوں کے پچھواڑے  تاڑنے لگا۔

اس روز میری تو روح ہی فنا ہوگئی تھی۔مجھے یوں لگا تھا،جیسے ابھی ہرگھر سے چھری،بغدے نکل آئیں گے اور میرے ٹوٹے ٹوٹے یہیں بکھریں ہوں گے اور کئی غازی سامنے آجائیں گے۔

خیر میں بھی کہاں سے کہاں پہنچ گیا، بات ہورہی تھی اس روز چھپر میں پارٹیشن میں ‘اسے’ لیکر آنے کی۔اندر آنے سے پہلے ہی میرے پورے بدن میں خون ابل رہا تھا،لیکن میں نے خود کو کنٹرول کئے رکھا۔اس دن اس نے لائٹ بلیو جینز اور اس کے اوپر کالے رنگ کی کرتی پہن رکھی تھی جبکہ پاؤں میں جاگرز تھے۔سر پہ ایک بڑا سا فلسطینی رومال بطور حجاب کے لیپٹا ہوا تھا۔آنکھوں پہ دھوپ کا چشمہ ،جس کے سیاہ رنگ کے گلاسز اس کی چاکلیٹی رنگت پہ عجیب سی کشش پیدا کررہے تھے۔چاکلیٹی رنگ اور بھرپور ملاحت یہ میری کمزوری ہیں۔وہ ویسے تو دبلی پتلی ہے لیکن اس کا سینہ بھرا ہوا اور کولہوں کے گرد کافی گوشت ہے۔میں اسے اپنے لیڈیز بیگ سے ٹھرے کی بوتل نکالنے کو کہا۔اس نے اسے نکالا،سلور کے گلاس پاس پڑے تھے،میں وہ اٹھانے لگا تو بولی،’ پھلسپھی صاب! (کھلکھلا کر ہنستے ہوئے شیدو چرسی کی نقل اتاری) مرد نجر آریا اے تو مردوں کی طرح سے بی ہیو بھی کرو نا،یونہی بوتل سے گھونٹ بھرتے ہیں نا جان من!

اس کی بات سنکر میں نے گلاسوں کی طرف بڑھایا ہاتھ روک دیا،بوتل سے گھونٹ بھرا اور برا منہ بناتے ہوئے،اس کی طرف بڑھادی۔اس نے جھٹ سے بوتل کو منہ لگایا اور تین چار گھونٹ لئے، اس کے چہرے کے زاویے تھوڑا سا بگڑ گئے تھے لیکن ٹھرے کی تلخی کو اس نے لفظوں میں بیان کرنے سے احتراز برتا۔میرے اندر پہلے سے ابلتے خون نے اور جوش مارنا شروع کردیا تھا ،میرے منہ سے اپنے آپ الفاظ برآمد ہونے لگے:

I love you jani!

Love and Love

اچانک اس نے میری بات کاٹی

No,just not Love and Love more but you fucking guys always want fuck and fuck more and after when vagina size grow then you get boredom and then seek escape from Fuck and fuck more and you say avoid and avoid more.

اور اس کے بعد اس نے ہذیانی انداز میں ہنسنا شروع کردیا۔میں نے تھوڑا سا سینٹی مینٹی ہونے کی کوشش کی اور کہا،’ نہیں جانی! تمہیں واقعی بہت چاہتا ہوں ، میرے گرم بوسے میری روح کی تمہارے لئے تڑپ کا عکس ہیں، یہ جسم کے اشتعال اور ہیجان کو سکون دینے کے لئے نہیں ہے۔

Hey, Mr.Philospher! Stop just a while, I know very much guys like you, who are not except vagina occupiers but women also penis occupiers but not me. Just a free human being and please now stop all this shit and come here and we make an emotional fucking session.

اور وہ ایک دم سے جوش میں آگے بڑھی اور اس نے دونوں ہاتھوں سے میری گردن کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور بے تحاشا بوسوں کی بھرمار کردی۔میں بھی سب بھول کر اس میں کھوگیا۔اور جب جذبات کا طوفان تھما تو ہم بری طرح سے ہانپ رہے تھے۔

تھوڑی دیر خاموشی کے بعد اس نے مجھے کہا کہ اب یہاں سے چلتے ہیں۔میں نے کچھ نہ کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔باہر نکلتے ہوئے میں نے شیدو چرسی کو پانچ سو روپے کا نوٹ تھما دیا۔