مشعال خان: تم کیا گرے ،حاکمیت کے ستون اور شکستہ ہوگئے

 

 

کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو المیہ کو عروج پہ لیجاتے ہیں اور ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم اس المیہ پہ مرثیہ ، نوحہ ، سوز اور تعزیتی انشائیہ لکھیں اور ایسے وقت میں مرثیہ، نوحہ ، سوز اور تعزیتی انشائیہ لکھنا بہت آسان ہوتا ہے جب وہ واقعہ ایک ایپک  بن گیا ہوتا ہے اور ہر کوئی اس پہ لکھ رہا ہوتا ہے اور اس لکھنے میں کوئی خطرہ بھی لاحق نہیں ہوتا۔جیسے آپ منصور حلاج، دار شکوہ، سرمد  پہ لکھتے ہیں تو اس میں زیادہ خطرات لاحق نہیں ہیں۔ایسے ہی آج جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء تھا ایسے میں آپ اگر ذوالفقار علی بھٹو پہ لکھتے تو آپ کے لئے بہت مشکل تھا بلکہ بھٹو کا نام لینا بھی جرم بن گیا تھا۔ایسے ہی آج جب آپ پاکستان، عراق ، شام سمیت جہاں جہاں سلفی۔دیوبندی تکفیری فاشزم اپنے عروج پہ ہے اگر کربلاء کی ٹریجڈی پہ لکھتے ہیں اور محرم کی المیاتی ثقافت پہ بات کرتے ہیں تو بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ خطرات میں گھر جائیں گے اور آپ جان سے بھی جاسکتے ہیں۔جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں “صفیہ کیس” ہمارے سامنے آیا اور یہ حدود آرڈیننس کے ساتھ جڑا ہوا تھا،اس زمانے میں اس پہ بات کرنا آسان نہیں تھا اور اس پہ لکھنے سے آپ پہ کفر بلکہ بلاسفیمی کا الزام لگ سکتا تھا۔اور ہمارے ہاں اس زمانے میں جماعت اسلامی نے اسے باقاعدہ ایک خطرناک ہتھیار کی شکل دی تھی اور وہ 70ء کی دہائی سے اس ہتھیار کے ساتھ ” بلوائی حملوں ” پہ مبنی ایک پوری نفسیات کو زیادہ سے زیادہ ترقی دینے پہ تلے بیٹھے تھے۔کسی بھی شخص یا گروہ یا کسی بھی اقلیتی فرقے یا اپنے کسی مخالف کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز فضا کی پیدائش کی تاریخ اگر تلاش کی جائے گی تو یہ تاریخ میں ہمیں کالونیل دور میں مل جائے گی اور ایک موثر ہتھیار کے طور پہ اس کا استعمال ہمیں مسلم بنیاد پرست ہوں یا ہندو بنیاد پرست ہوں یا سکھ بنیاد پرست ہوں کے ہاں مل جائے گا۔اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف عوامل نے اپنا کردار ادا کیا ہے اور اسے انسٹی ٹیوشنل لائز کردیا ہے۔

ہم نے اردن میں ناھض حتر (ایک ترقی پسند کرسچن سوشلسٹ ترقی پسند ) کے معاملے میں دیکھا کہ اسے اردن کی سپریم کورٹ کی سیڑھیوں پہ گولی ماردی گئی ،ایسے ہی سلمان تاثیر کے معاملے میں ہوا اور شہباز بھٹی کا کیس بھی یہی تھا۔راشد رحمان کا معاملہ بھی یہی تھا اور جمشید نایاب کا معاملہ بھی ایسے ہی تھا۔اور پھر کچھ لوگ ہیں جو ابھی جیلوں میں پڑے ہیں اگر وہ پبلک میں آئیں تو پاکستان میں ان کا آزادانہ چلنا پھرنا ایک المیہ کو جنم دے گا جیسے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے جنید حفیظ کا معاملہ ہے۔اور اگر ہم جیلوں میں بند ان لوگوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پہ بات بھی کریں تو خطرے سے خالی نہیں ہے چاہے ہمیں ان کی بے گناہی کے درجنوں ثبوت کیوں نہ مل گئے ہوں،ایسے ہی آسیہ بی بی کا کیس ہے۔اس پہ بات کرنا بھی مشکل بلکہ ناممکن ہوگیا ہے۔

سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ایک طرف تو اس ملک کے شیعہ،کرسچن،احمدی ، ہندؤ اور صوفی سنّی ، سیکولر و لبرلز ، کمیونسٹ ، لیفٹ انٹلیکچوئل مسلسل مسلم بنیاد پرستوں، سلفی –دیوبندی تکفیری فاشسٹ نیٹ ورک کے حملوں کی زد میں ہیں تو دوسری طرف ایسے شواہد موجود ہیں کہ پاکستانی ریاست کے اداروں میں ایسے ” بدمعاش ” موجود ہیں جو ریاست کے کردار اور اس کی پالیسیوں پہ تنقید کرنے والے اور ریڈیکل خیالات کا اظہار کرنے والوں کے خلاف مین سٹریم میڈیا میں بیٹھے اپنے ایجنٹوں اور حامیوں کے زریعے سے ایسا پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں جس سے ایک اشتعال اور کشیدہ فضاء خود بخود بازار، محلے اور مسجد و مدرسے کے اندر جانے والوں میں پھیل جاتی ہے اور یہ ہمارے کالج ، یونیورسٹی اور اسکولوں میں بھی پھیل جاتی ہے اور بہت ہی منظم طریقے سے یہ ایک ” بلوائی تشدد ” کی راہ ہموار کرتی ہے تو یا تو آپ بہت آسانی سے ہجوم کے بلوے کا شکار ہوجاتا ہے یا آپ کے اردگرد کوئی آپ کا شناسا یا کوئی آپ کے آس پاس سے گزرنے والا شخص آپ کی زندگی کا خاتمہ کرسکتا ہے۔اور یہ بھی ہوتا ہے اکثر  یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد جو سرگرم ہوتی ہے وہ اشتعال و نفرت کا مرکز بننے والے شخص سے ہمدردیاں  بالکل نہیں رکھتیں اور انتہائی نفرت کا شکار وہ شخص یا اشخاص بن جاتے ہیں۔اور ایسے میں جب ایسے فرد یا افراد قتل کردئے جاتے ہیں یا بلوائی دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں تو اس پہ ردعمل بھی بہت ہی کم ہوتا ہے۔اور جو لوگ ردعمل دینا چاہتے ہیں ان کو ڈرایا ، دھمکایا جاتا ہے اور ان کو سہم جانے پہ مجبور کیا جاتا ہے اور ایسے میں معاشرے میں ہر طرف آپ کو “جنونیوں” کا راج نظر آتا ہے۔اور ریاست ایسی فضاء میں اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں زیادہ آسانی محسوس کرتی ہے۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے پاکستانی ریاست نے حال ہی میں کئی ایک ایشوز پہ پاکستان کے اندر پائی جانے والی مخالفانہ فضاء کو حال ہی میں ابھرنے والی صورت حال میں بدلنے کے لئے موافق خیال کیا اور اس نے وہ اقدام اٹھائے ہیں جو پاکستان کی فضاء کو اور ذھریلا اور زیادہ فرقہ وارانہ بنانے میں مددگار ہوں گے۔جیسے پاکستانی ریاست نے اپنے سابق آرمی چیف کو سعودی عرب کی قیادت میں قائم ایک فرقہ پرست فوجی اتحاد کی سربراہی کی اجازت دے دی ہے اور ایسے ہی پاکستانی ریاست آہستہ آہستہ شام کے ایشو پہ اپنی غیر جانبدار پوزیشن کو ختم کرچکی اور سعودی بلاک کے ساتھ جاکھڑی ہوئی ہے۔اور اس بارے میں پاکستانی سماج کے اندر بہت زیادہ شور نہیں ہے۔اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ریاست نے ایک ایسا میکنزم اختیار کیا ہے کہ ان جیسے ایشوز پہ اختلاف ظاہر کرنے والوں کو فوری طور پہ ایرانی ایجنٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔اور ایسے شواہد بھی موجود ہیں جس سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر سے ایسے موقف سامنے آتے ہیں جس سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں جو اس وقت مزاحمت ہے، پاکستان میں جو فرقہ وارانہ قتل و غارت گری ہے اور مذہبی دہشت گردی ہے اسے راء پھیلا رہی ہے اور اس کے لئے روٹ اور راستہ جہاں افغانستان ہے تو ساتھ ساتھ ایران بھی ہے۔اور سابق ترجمان آئی ایس پی آر نے کلبھوشن کے معاملے میں ایران کو مورد الزام اس وقت ٹھہرایا جب ایرانی صدر پاکستان کے دورے پہ تھے اور اب حال ہی میں عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی کی تحویل میں لینے کے بعد عزیر کے تعلقات بھارتی ایجنسی راء اور اس کے نیٹ ورک کا روٹ پھر ایران بتلایا گیا اور اس کا تعلق ایرانی انٹیلی جنس ایجنسی سے بتایا گیا جبکہ عزیر بلوچ کے پاکستان کے اندر تبلیغی جماعت ، سپاہ صحابہ پاکستان وغیرہ سے روابط بارے کوئی بھی بات سامنے نہیں لائی گئی۔اگر اس سارے پلاٹ پہ نظر دوڑائی جائے تو یہ پلاٹ تکفیری فاشزم اور پاکستان میں سعودی نواز فرقہ پرست لابی کے موقف کی حمایت میں نظر آتا ہے جو تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کی ساری کی ساری کاروائیوں کو ایرانی-بھارتی نیٹ ورک کی کارستانی بتاتی ہے اور شیعہ کمیونٹی کو ایجنٹ بناکر پیش کرتی ہے۔اور ایسے میں ایک پوری کمیونٹی کو ریاست کے اداروں کے اندر بیٹھے لوگ ہی دیوار سے لگانے میں مددگار اقدام کرتے ہیں۔ایسے میں ریاستی اداروں کا مقصد یمن،شام جیسے ایشوز پہ سعودی پالیسی کی حمایت کی راہ میں آنے والی روکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

بلاسفیمی ، ایجنٹی ، غداری اور اس جیسے کئی اور الزامات تباہ کن ہتھیار کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور ریاستی ادارے، مین سٹریم میڈیا، مدارس ، مساجد ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹیوں میں جہاں جہاں ریاستی اداروں کے پاس اپنے ہمنواء موجود ہیں وہ یہ ہتھیار ان کے ہاتھ میں تھماکر اپنی راہ میں آنے والوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔مشعال خان کے خلاف یہ ہتھیار براہ راست تو نہیں لیکن بالواسطہ استعمال ہوا اور جیسا کہ ایسا ہوتا ہے کہ جو ہتھیار ریاستی ادارے نجی لشکروں کے حوالے کرتے ہیں یا پراکسیز کو دیتے ہیں وہ ان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پھیل جاتا ہے اور خود ریاستی اداروں پہ بھی استعمال ہوتا ہے،جیسا کہ ہم نے جہادی پراکسی اور اینٹی شیعہ ، سعودی نواز پراکسی کے معاملے میں دیکھ لیا ہے۔پاکستان میں شیعہ نسل کشی،بلوچ نسل کشی اور ریاست کے بیانیہ سے اختلاف کرنے والوں کی آوازوں کو خاموش کرانے کا سلسلہ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا اور جیسے ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے ویسے ہی پاکستان کے اندر حقیقت یہ ہے کہ ریاستی سرپرستی میں سامنے والا پاکستانی نیشنل ازم اور نام نہاد اسلام ازم ( جو وہابیت و دیوبندیت کا چربہ ہے ) وہ تیزی سے غیر مقبول ہورہا ہے اور اس غیر مقبولیت کو بین الاقوامی برادری سے چھپانے کے لئے زبردست تشدد اور دہشت گردی، سنسر شپ اور بلوائیت سے کام لیا جارہا ہے۔ریاست ایسے نہ تو ماضی میں کبھی زیادہ دیر چل پائی نہ اب چل پائے گی ۔

 

Advertisements

مولانا شیرانی :یا منافقت ترا آسرا

58ea3e4f9e35b

جے یو آئی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا شیرانی فرماتے ہیں۔۔۔

کہ عالم کفر نے آپس میں مسلمانوں کی تباہی وبربادی کا معاہدہ کر رکھا ہے۔مسلمان کو مسلمان سے لڑایا جارہاہے۔ مذہب اسلام کو دہشت اور بربریت کا استعارہ بنا دیا گیا ہے۔

مولانا مزید فرماتے ہیں ایک دہشت گرد گروپ کو طالبان کا نام دیا جاتا ہے جسکی پشت پر چین اورروس کھڑے ہیں تو دوسرے گروپ کو داعش کے نام سے اٹھایا جاتا ہے جسکی پشت پرامریکہ اورمغرب کھڑے ہیں۔

 مولانا شیرانی! گھٹیا سازشی تھیوریز صرف مغرب میں دائیں بازو کے نو قدامت پرست ہی ایجاد نہیں کرتے بلکہ آل سعود کی غلامی میں سرشار آپ سمیت  دیوبندی مذہبی پیشوائیت بھی کسی سے کم نہیں ہے۔

عالم کفر نے باہمی معاہدہ کررکھا ۔۔۔۔۔ معاہدہ ہے مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا ۔۔۔۔۔ مسلمان کو مسلمان سے لڑایا جارہا ہے۔اسلام کو دہشت اور بربریت کا استعارہ بنادیا گیا ہے۔

مولانا شیرانی یہ بات اس سٹیج سے کررہے تھے جس پہ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور اور مکّہ میں مسجد حرام میں حکمران بادشاہی خاندان آل سعود کے ملازم امام مسجد بھی تشریف رکھتے تھے۔مولانا شیرانی کی اپنی ساری گفتگو میں عالم کفر کے باہمی معاہدے کو کامیاب کرانے کا سب سے بڑے ذمہ دار سعودی عرب اور اس کا حکمران خاندان آل سعود ٹھہرتے ہیں۔کیونکہ یہ سعودی عرب ہے جس نے یمن پہ حملہ کیا، عراق میں عرب قبائل کے سرداروں اور سیاسی لیڈروں کو خریدا اور پھر وہاں پہ وہابی عسکریت پسند دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کی۔شام میں اس وقت جتنے بھی جہادی گروپ لڑ رہے ہیں وہ سب کے سب سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں سے ہی مالی اور اسلحے کی امداد پارہے ہیں۔داعش کے جراثیم اور اس کی بنیاد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پالیسی سے ہی سامنے آئے اور سعودی عرب سمیت امریکی اتحادیوں نے اسے پروان چڑھایا۔مڈل ایسٹ ہو یا شمالی افریقہ یا جنوبی ایشیاء یا مشرق بعید سب جگہ پہ یہ سعودی عرب کی وہابی آئیڈیالوجی سے لتھڑی فنڈنگ ہے جس نے جمہور اسلام کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے اور پوری مسلم دنیا میں جہاد کے نام پہ سلفی اور دیوبندی جہادی /عسکریت پسند مسلم عوام کے گلے کاٹ رہے ہیں۔مولانا شیرانی صاحب! اگر مغرب نے عالم اسلام کے خلاف کوئی خفیہ معاہدہ اگر کیا بھی ہوا ہے تو اس معاہدے کے سب سے بڑے سہولت کار سعودی عرب،کویت،متحدہ عرب امارات،ترکی،قطر، بحرین، اردن وغیرہ ہیں اور اس کے سب سے بڑے مددگار وہ مذہبی لیڈر ہیں اور وہ تنظیمیں ہیں جو سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہیں اور سعودی عرب کی سرکاری مذہبی آئیڈیالوجی کو پیسے اور جبر کے زریعے سے جمہور مسلمانوں پہ مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔اگر آپ اپنے کہے میں سچے ہوتے تو جمعیت علمائے اسلام کے اجتماع عام میں آل سعود کے ملازم مہمان خصوصی کے طور پہ مدعو نہ ہوتے اور نہ ہی سعودی عرب کو اسلام کا خادم کہا جاتا۔اور آپ اگر سچے ہوتے عالم اسلام کی خیر خواہی میں تو آپ اپنی تقریر میں سعودی عرب سے کہتے کہ وہ یمن پہ ہوائی حملے بند کردے۔شام میں سلفی۔دیوبندی تکفیری/جہادی دہشت گردوں کی حمایت اور مدد بند کردے۔عالم اسلام کی اکثریت پہ کفر اور شرک کے فتوے لگانے والوں کی مالی مدد بند کردے اور عالم اسلام کی اکثریت کو وہابی بنانے کے پروجیکٹ سے باز آجائے۔ایسے ہی آپ اگر عالم اسلام کے اندر جاری خون ریزی بند کرانے میں سنجیدہ ہوتے تو آپ دار العلوم دیوبند اور اس سے منسلک تمام دیوبندی مدارس کی انتطامیہ سے اور دنیا بھر میں پھیلی دیوبندی سیاسی و مذہبی تنظیموں سے اور سب سے بڑھ کر مولانا فضل الرحمان کو کہتے کہ وہ تکفیری اور نام نہاد جہادی دیوبندیوں سے اپنی مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں سے کہیں کہ ان تنظیموں کا مکمل بائیکاٹ کریں اور اپنے مساجد و مدارس میں ان کا داخلہ بند کریں۔

مولانا شیرانی ! اگر آپ عالم اسلام کی باہمی خانہ جنگی کے واقعی مخالف ہوتے تو آپ جے یو آئی کے سٹیج سے ہی مسلم لیگ نواز کی حکومت سے کہتے کہ 39 مسلم ممالک کی افواج کے اتحاد سے فوری طور پہ باہر آئے۔جنرل راحیل شریف کو دیا گیا این او سی واپس لیا جائے۔اور پاکستانی افراج کو مسلم ممالک کے درمیان کسی بھی فوجی تنازعے میں فریق بنکر بھیجنے سے باز رہے۔اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں حکمران جماعت کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کرنے کا اعلان کرتے۔

لیکن ایسا کچھ بھی تو آپ نے نہیں کہا۔کیا اس سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں۔اور عالم اسلام کے اندر اس وقت جس تکفیر ازم اور جہاد ازم کی بربریت کا سامنا عالم اسلام کے اندر رہنے والے مسلمانوں کو ہے آپ اس کا خود ایک حصّہ ہیں۔آپ سہولت کار، بھرتی کار ، معاون اور پروپیگنڈا مشین بنے ہوئے ہیں اور اسی پہ پردہ ڈالنے کے لئے آپ غیر جانبداری کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ آپ سمجھتے کہ ” باؤلی کا سانگ ” پہن کر دوسرے آپ کو معصوم خیال کرلیں گے۔ایسے بیانات کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور حقائق کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔

مولانا شیرانی آپ مسجد کے منبر کا ، مدرسے میں استاد کی مسند کا ، اسمبلی میں اپنی نشست کا اور اسلامی نظریاتی کونسل میں اپنی سربراہی کا انتہائی غلط استعمال کررہے ہیں۔آپ اس بات پہ پردہ ڈال رہے ہیں کہ ویکی لیکس نے جن امریکی سفارتی مراسلوں کو افشاء کیا ان سے یہ پتا چل گیا کہ امریکہ 30 سال پہلے سے ہی شام میں بعث پارٹی کی حکومت کو گرانے کی پالیسی بنا چکا تھا اور اس پالیسی کا ایک بڑا حصّہ یہ تھا کہ شام میں سنّی مسلمانوں کو شیعہ علوی ، کرسچن ، دیروزی شیعہ اور دیگر کے خلاف بھڑکایا جائے۔ایران کا خوف پیدا کیا جائے۔اور اسی مقصد کے لئے سعودی عرب،قطر وغیرہ کو وہابی آئیڈیالوجی پہ مبنی اداروں کے زریعے سے شام کو غیر مستحکم کرنے کا پلان بنایا گیا۔

 مولانا شیرانی سمیت دیوبندی مذہبی پیشوائیت پاکستان سمیت جہاں جہاں ان کا اثر و رسوخ ہے وہاں وہاں سعودی عرب کے مفادات کے لئے کام کررہی ہے۔اور یہ کام سعودی عرب کے زریعے سے فائدہ امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں کو پہنچاتا ہے۔دیوبندی مذہبی پیشوائیت نے ان سارے تکفیری انڈوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا کر رکھا ہوا ہے جو عالم اسلام میں شیعہ۔سنّی خانہ جنگی کرانے کے منصوبے پہ عمل پیرا ہیں۔اور دیوبندی مذہبی پیشوائیت کے پاس یہ ٹاسک ہے کہ وہابی نظریہ کو سنّی حنفی مسلمانوں کے اندر فروغ دیں تاکہ اہل متصوف حنفی سنّی مسلمانوں کے نوجوان سلفی عسکریت پسندی پہ عمل پیرا ہوکر سعودی مفادات کو اسلامی مفادات خیال کرلیں اور اس جنگ میں شریک ہوجائیں۔دیوبندی مذہبی پیشوائیت کا عالم اسلام یا مسلم دنیا کے اندر مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی جنگ اور فساد میں غیر جانبداری اور دردمندی کا دعوی سوائے ڈھونگ کے اور کچھ نہیں ہے۔اگر آپ سعودی عرب سے پیسہ لیتے ہیں، سعودی عرب کے حکمرانوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، ان کی جنگوں کے بارے مين حرف مذمت نہیں نکالتے تو مطلب بہت واضح ہے کہ آپ سعودی کمیپ میں کھڑے ہیں اور یہ بھی ذہن نشین رہے کہ سعودی کیمپ ہرگز جمہور سنّی مسلمانوں کا کیمپ ہرگز نہیں ہے۔وہابیت اسلام کا وہ برانڈ ہے جسے جمہور مسلمانوں نے ہمیشہ رد کیا ہے اور خود دیوبندی مذہبی پیشوائیت آل سعود کے حجاز پر تسلط سے پہلے تک وہابیت کو خارجیت کے مثل گردانتی رہی تھی لیکن پھر جب ترک ‏عثمانیوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا اور حجاز میں ایک وہابی حکومت برسراقتدار آئی تو ساری دیوبندی قیادت ابن سعود کے ہاتھ پہ بیعت ہوگئی اور ان پہ اچانک یہ انکشاف ہوا کہ کعبہ کی چابیاں آل سعود کو اللہ نے دی ہیں۔اب آل سعود کا وجود ان کو عالم اسلام کے لئے برکت کا باعث لگتا ہے۔کل تک جو خوارج کی مثل تھے، جس تحریک کا بانی خون خوار  یہاں تک کہ خبیث تھا وہ ایک دم سے سب سے بڑا توحید پرست ہوگیا ( شہاب ثاقب ، المہند سمیت درجنوں کتب دیوبندیہ میں وہابیت اور اس کے بانیوں کے خلاف فتوے اور نظریات موجود ہیں)۔

 

Genocide In Yemen: Media Complicit In US-Saudi War Crimes-By Mnar Muhawesh

Writer and political analyst Catherine Shakdam shines a light on the routinely under-reported crisis in Yemen, telling Mnar Muhawesh on ‘Behind the Headline’ what’s really motivating the Saudi-led, US-backed war on the most impoverished country on the Arabian Peninsula.

MINNEAPOLIS — Yemen has been devastated by asymmetrical aerial bombardment by a Saudi-led coalition, and the war on Yemen, along with a Saudi-imposed blockade, is having disastrous impacts on food and water security.

The United Nations reported in October that more than half of Yemen’s 28 million people are short of food. At least 1.5 million children are going hungry in the poorest country on the Arabian Peninsula, including 370,000 who are suffering from malnutrition so severe that it’s weakening their immune systems.

And the Saudi-led attacks continue, striking Yemen’s hospitals, which are running out of medicine. All the while, these attacks have continued to receive backing from the United States and the United Kingdom since they began on March 26, 2015.

Even The New York Times admits that the deadly Saudi project in Yemen couldn’t go on without U.S. support.

But the Obama administration has said that while they may start halting some arms sales to Saudi Arabia, they’ll push ahead with training the Gulf kingdom’s air force to improve targeting.

The people of Yemen are without food, water, medicine, and fuel. The death toll in Yemen is so high that the Red Cross has started donating morgues to hospitals. And if that weren’t enough, the military campaign has not only empowered al-Qaida to step into a vulnerable situation, it’s actually made the group richer, according to Reuters.

Still, the Saudi government continues to block any kind of diplomatic resolution in Yemen. Riyadh even threatened to cut funding to the U.N. over its inclusion on a list of children’s rights offenders, effectively weaponizing humanitarian aid.

Yet the crisis unfolding in Yemen goes routinely under-reported in mainstream media. Hard-hitting coverage is kept to a minimum by those controlling the narrative — namely, outlets loyal to the U.S. and its allies which are enabling these atrocities.

Here to discuss the crisis in Yemen and what this war is really about is Catherine Shakdam, a political analyst, author, and director of programs with the Shafaqna Institute for Middle Eastern Studies. She is also an expert on Yemen. “A Tale Of Grand Resistance: Yemen, The Wahhabi And The House Of Saud,” is her latest book, and in it she explores that real story of resistance against Saudi Arabia’s influence on the impoverished state.

Learn more about fake news and about the forgotten genocide in Yemen on the full episode of the Behind the Headline:

عامی کے نام

ڈئیر عامی

پیرس سے تمہارا آخری خط ملا تو میں اس وقت دفتر سے گھر پہنچی ہی تھی اور رات بھر اخبار کی آخری کاپی پریس بھیجنے تک اسقدر کام کرتی رہی تھی کہ تھکن سے برا حال تھا۔دروازہ کھولا تو سامنے تمہارا بھیجا ہوا خط پڑا تھا۔ہر خط ایک مخصوص سیاہ رنگ کے لفافے میں لپٹا ہوا اور اوپر پیلی روشنائی سے یہاں کا پتا لکھا ہوا نیچے سفید رنگ میں تمہار پتا،اب مجھے دور سے دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس کا خط آیا ہے۔ویسے بنک سٹیمنٹ،کچھ دفتری خط و کتابت سے ہٹ کر کچھ اور تو ڈاکئے کے زریعے سے آتا نہیں ہے اور باقی زیادہ تر مراسلت اب برقی مراسلوں کے زریعے سے ہوتی ہے تو بھی مجھے پتا چل جاتا ہے کہ کس کا خط آیا ہوگا۔ویسے تم نے ہر خط لکھا تو ساری کے نام اور ایڈریس میرا لکھا اور یہاں تواتر سے تمہارے خط ملتے رہے۔میں حیران تھی کہ یہ آخر تمہیں ہوکیا گیا ہے؟تم کیوں پرانے زخموں کو کریدنے لگے ہو اور اپنے آپ کو زخم زخم کررہے ہو؟سب سے زیادہ حیرانی مجھے اس بات کی تھی کہ تم خود سے ان خطوں کے جواب من جانب ساری کے تلاش کرتے ہو اور پھر ایک لمبی سی کہانی گھڑ کر سنانے لگتے ہو۔تم جیسے ایک جدلیاتی مادیت پرست سے مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ تم اسقدر مابعدالطبعیاتی انداز میں لکھنے لگوگے اور شاید تمہارا اربن مڈل کلاس پس منظر تمہاری جان چھوڑنے کا نام نہیں لیتا۔اور آج کل تو میں حیران ہوتی ہوں کہ تم جیسا خشک سا آدمی اتنی کہانیاں،اتنے افسانے اور اس قدر رومان پسند خطوط اور عورت بارے اسقدر سنجیدگی سے کس طرح سے لکھنے لگا ہے۔تمہیں شعبی یاد ہے وہ سرگودھا والا لڑکا جو تمہارے پیچھے پاگل تھا اور کبھی کبھی مجھے شک ہوتا تھا کہ تم بھی تھوڑے بہت تھے اور جب تک ساری کے ساتھ تم جڑے نہیں تھے اس سے پہلے تم دونوں کو ہنسوں کا جوڑا کہا جاتا تھا اور لوگوں کو تمہاری جنسی جہت بارے بھی کافی شکوک تھے۔اور یہ ٹھیک وہی زمانہ تھا جب پاکستانی سماج میں کہیں بھی تو کم از کم “گے اینڈ لزبین ” ہونے کو ایک فطری فنومنا نہیں سمجھا جاتا تھا اور ترقی پسند بھی اسے ایک بیماری خیال کرتے تھے۔اور میں نے جب تمہیں “چھلاوہ” پڑھنے کو دی تھی تو تم نے اسے انتہائی بکواس قرار دیا تھا۔کوئی کہتا شعبی تمہارا “لونڈا” ہے اور کوئی کہتا اس ” انقلابی” لیڈر کو “علت مشائخ ” ہے۔اسلامی جمعیت طلباء کراچی کا وہ پمفلٹ یاد ہے جس میں تمہارے اور شعبی کے معاملے کو لیکر کیا کیا باتیں لکھی گئیں تھیں اور یہ سب یونین الیکشن سے صرف پانچ دن پہلے ہوا تھا۔اور اس پمفلٹ پہ یونیورسٹی کے لڑکوں اور لڑکیوں کی اکثریت نے کچھ دھیان نہیں دیا تھا اکڑچہ چٹخارے لیکر سب نے پڑھا تھا لیکن ووٹ تمہاری طرف ہی گئے تھے کیونکہ ان کو تمہاری سیاسی کمٹمنٹ اور نظریات پہ وابستگی پہ زرا بھی شک نہیں تھا۔اس زمانے میں تم اتنے حساس اور اتنے ٹچی کبھی نظر نہیں آئے تھے۔میں نے کبھی تمہیں پلٹ کر جواب دیتے نہیں دیکھا۔تم نے اس پمفلٹ کا نوٹس تک نہ لیا اور تمہاری جانب سے جو بھی جتنے پمفلٹ اس دوران آتے وہ سب کے سب سیاسی ہوتے تھے۔ویسے ان خطوط میں جتنے ادیبوں اور شاعروں کا جو تم نے تذکرہ کیا میں تمہارے ذہنی ارتقاء پہ کافی حیران ہوئی ہوں۔اس زمانے میں زیادہ کیا تو میکسم گورکی کا “ماں” تم کبھی کبھی اپنے ملنے والوں میں تقسیم کرتے نظر آتے تھے اور زیادہ تر کمیونسٹ مینی فیسٹو اور سبط حسن کی کتابیں یا پھر زیادہ کیا تو روسی کمیونزم کی کتابیں تم بانٹتے تھے۔شعر تمہیں کبھی یاد نہ ہوئے۔اور اکثر ان کے ساتھ جراحت کے مرتکب ہوتے تھے۔ہاں سینما خوب دیکھتے تھے تم۔باقی ساری کے ساتھ رہتے ہوئے تم کیا پڑھتے تھے اور اس کے ہاں سے کیا لاتے تھے اور اس کے ساتھ یونیورسٹی کے کونے کھدروں میں تم کیا باتیں کرتے تھے یہ سب مجھے ان خطوط سے پتا چلا ہے۔میں نے کبھی تمہارے منہ سے ان دنوں بھولے سے بھی اس کتاب کا نام نہیں سنا تھا جس کا تذکرہ تم آج کل بار بار کرتے ہو۔نہج البلاغہ۔ہاں ڈاکٹر علی شریعتی کے بارے میں کل تو تمہارا خیال تھا کہ وہ ایک یوٹوپئین اسلام پرست سوشلسٹ تھا اور تم ہمیشہ اس پہ الزام عائد کرتے تھے کہ اس نے ایرانی انقلاب میں ملاّؤں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس نے تودے پارٹی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے فکری اعتبار سے سائنسی سوشلزم کی اپنی لبریشن تھیالوجی کے زریعے سے بنیادیں ہی کھوکھلی کیں۔تمہیں اس کے ماضی سے رومانٹسزم سے سخت چڑ تھی اور اپنی تحریروں میں آج تم اسی ماضی سے رومان کرتے نظر آتے ہو۔اور تم دیکھ سکتے ہو تمہارے اس خیالی رومان پرستی کے خریدار بھی زیادہ تر اربن مڈل کلاس اور ایک مخصوص مذہبی فکر کے حاملین مرد و عورتیں ہی ہیں۔ساری تمہاری دوست تھی اور وہ فلسفے کی ایک شائننگ اسٹوڈنٹ تھی۔مانا کہ اس سے ملنے کے بعد تمہاری وہ نو تیرہ کی مونچھیں غائب ہوئیں اور وہ ہلکی ہلکی داڑھی بھی اور شلوار قمیص کی بجائے تم جینز پہننے لگے اور تمہارے وہ موٹے موٹے شیشوں والی عینک بھی زرا سے فریم میں بدل گئی تھی اور تم تھوڑے سے قبول صورت ہوگئے تھے اور ساری تمہاری انتخابی کمپئن میں بھی بہت معاون تھی لیکن اس نے کبھی بھی مارکسزم اور جدلیاتی مادیت پرستی سے شغف نہیں دکھایا۔اور مجھے وہاں یونیورسٹی میں ہی شک تھا کہ وہ بھی کوئی اسلام پسند سوشلسٹ ٹائپ یوٹوپئین ہی ہوگی لیکن ٹھیک سے کہہ نہیں سکتی تھی اس لئے شک کو صرف ذہن میں رہنے دیا تھا لیکن تمہارے خطوط سے پتا چل گیا کہ میرا شک ٹھیک تھا۔اس نے تمہیں بھی کافی خراب کیا کہ تم کلارا زیٹکن سے زیادہ سیمون ڈی بوووار اور سارتر کی جانب جھکے نظر آئے اور تو اور کافکا کی جادوئی حقیقت نگاری تمہیں حقیقت کے قریب تر لگنے لگی جبکہ انھوں نے جدلیاتی مادیت پرستی کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔میرے لئے تمہارے ہاں جنسیت/سیکچوئلٹی کا وافر تذکرہ دیکھنا کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔تمہارے ہاں یہ آسیب /آبسیسشن کی طرح نظر آیا۔یہ فرسٹریشن تھیوری سے نابلد کامریڈز اور ایک گٹھن زدہ ماحول سے آنے والوں کے ہاں تو سمجھ میں آتی ہے لیکن تمہارے ہاں اس عمر میں اس کا غلبہ دیکھ کر مجھے شاک لگا ہے۔کانٹی جینس لو کی بات کرکے تم جس فراریت پسندی کا شکار ہو اس پہ تمہیں ندامت محسوس نہیں ہوتی؟ساری کینسر سے مرگئی اور اس کے مرنے کے بعد تم ماسکو چلے گئے تھے اور وہاں سے تمہارے خطوط جتنے مجھے ملے یا دوسرے دوستوں کو ان کو پڑھ کر ہمیں کہیں نہیں لگا تھا کہ تم ابدی محبت اور عارضی محبتوں کی کسی مساوات پہ یقین رکھتے ہو کیونکہ تمہارے خط اس زمانے کی پولیٹکل اکنامی سے جڑے مسائل پہ اظہار خیال سے بھرے ہوتے تھے اور تم بار بار پاکستان میں انقلابی سوشلسٹ کیڈر پارٹی کی تعمیر کی بات کرتے تھے۔ان دنوں تو تم نے نہ کسی نتاشا کا زکر کیا اور نہ ہی ووڈکا کا اور اپنے اندر کسی راسپوٹین جگانے کی خواہش کا۔مجھے سچی بات ہے کہ تمہارے خطوط پڑھ کر اپنے اندر کسی رومان بھرے جذبے کے بیدار ہونے کے آثار نظر نہ آئے۔تمہارا آخری خط ملنے سے قبل ہماری فون پہ جو بات ہوئی تھی میں نے اس میں بھی تم سے کہا تھا کہ میں تین مرتبہ کے بریک اپ اور تین بار مطلقہ ہوجانے کے بعد یہ سمجھتی ہوں کہ ایک کاسموپولٹین اربن چیٹرنگ کلاس کے مرد اور عورت کا سب سے برا مسئلہ یہ ہے کہ جب تک ہم بستر پہ بغیر کسی بندھن کے اکٹھے ہوتے ہیں ہمیں تعلقات میں کوئی نیا پن محسوس ہوتا ہے لیکن جیسے ہی یہ تعلق شادی جیسی چیز سے جڑتا ہے ہم سپوائل ہونے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ ہمارا تعلق ایک غیر مرئی قید بن جاتا ہے۔کانٹی جینسی مجھے سب سے بڑی حقیقت لگتی ہے۔”ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں “۔ہوسکتا ہے میرا یہ تجربہ بہت زیادہ پرسنل ہو اور اس سے کسی قسم کا عمومی مقدمہ اور اس پہ نتائج مرتب کرنا ٹھیک نہ ہو لیکن مجھے تم خاصے قابل رحم لگے۔تمہیں مرگی ایک مرض سے زیادہ رومان لگتی ہے اس لئے کہ دستوفسکی نے اسے رومانٹسائز کردیا تھا اور بیمار ہونا تمہیں پرکشش لگتا  ہے اور ایک جگہ پڑے رہ کر طلسمات کا جال بننا تمہیں لبھاتا ہے اس لئے کہ اسے کافکا حسین بناکر دکھاتا ہے مجھے ہضم نہیں ہوتا۔تمہارے اندر کا زمان اور مکان اس قدر یوٹوپئین ہے کہ مجھے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہونے لگتی ہے کہ کیا یہی وہی عامی ہے جو ہماری طلباء سیاست کا سب سے باعمل لڑکا ہوا کرتا تھا۔کافی دور نکل گئے ہو تم اور کیا کل وقتی فکشن نگاری کا پیشہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکے ہو تم۔ویسے ماضی کا ہر انقلابی اور کرانتی کاری نظم یا کہانی میں پناہ کیوں ڈھونڈتا ہے؟ پاش سے تم پوچھنا تو سہی کیوں کہ مرے  ہوئے لوگوں کی آتماؤں سے تم مخاطب ہونے اور ان سے جواب حاصل کرلینے میں کافی مہارت حاصل ہوگئی ہے۔پیرس میں رہے تم اور یہاں رہ کر نہ تمہیں باکونن یاد آیا اور نہ ہی پیرس کمیون اور یہاں پہ مارکس کا آنا بھی تمہیں ٹھیک سے یاد نہیں آیا۔ان خطوط میں سماج واد عامی کہاں گم ہوگیا؟ مجھے سمجھ نہیں آئی۔اور اب برسلز پہنچے ہو یہاں رہ کر تمہیں کیا یاد آئے گا ٹھیک سے میں کچھ کہہ نہیں سکتی۔میں ناستک ہوں اور فنائے محض پہ یقین رکھنے والی اور اس لئے مجھے کسی عالم برزخ سے جوابوں کی تلاش نہیں ہے۔ویسے زرا اپنے پرانے جدلیاتی مادیتی پرست عامی کو آواز دیکر دیکھنا کہ تم نےجن کو مخاطب کیا اور جس سے بولے وہ سب کے سب ان نظریات اور افکار کے سوا اپنے الگ وجود اور ہئیت کے ساتھ کیا کہیں موجود بھی تھے؟اس لئے تو یہ سارے خط تم مجھے ارسال کرتے رہے۔کوئی ایسا میکنزم اس خیال پرستی اور آئیڈیلزم کے پاس ہے کیا جو ان خطوط کو براہ راست فنا ہونے والوں تک پہنچا دے؟ یقینی بات ہے کہ نہیں ہے۔پیرس سے لکھے گئے اس آخری خط  میں سوائے سادیت پسندی کے اور ہے کیا؟ ایک ایسی ٹریجڈی جسے تمہاری سادیت پسندی نے اور خوفناک بنادیا ہے اور تمہاری مریض طبعیت کو اور کئی لوگوں میں منتقل کردیا ہے۔سیکنہ علی زیدی نے پراگ سے مجھے لکھا ہے کہ یہ وہ عامی نہیں ہے جو اسے دریائے پراگ پہ بنے پرانے لکڑی کے پل پہ ملا تھا اور زندگی سے بھرپور تھا۔یہ تو کوئی دیمک زدہ شخص لگتا ہے جو اصل عامی کو کھا گیا ہے۔مجھے تم سے منافقت نہیں کرنی یہ کہہ کر کہ اتنی تلخ باتوں پہ شرمندہ ہوں یا معافی کی طلبگار ہوں۔مجھے تم سے اسی سفاک حقیقت پسندی کے ساتھ بات کرنی ہے۔مزید کئی باتیں پھر کروں گی اگر تمہارا فیوز نہ اڑا تو۔

والسلام

تمہاری دوست ریحانہ سرور

میں کیسا مسلمان ہوں بھائی

 

حسین حیدری ممبئی کے رہنے والے ہیں اور بدقسمتی سے ان کا جو خاندانی پس منظر ہے وہ شیعہ ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جو کسی شخص کی کہی ہوئی بات کو دارالعلوم دیوبند اور سعودی وہابی اینٹی کلچر کے غالب اثر کے سبب ویسے ہی مشکوک بنادینے کے لئے کافی ہوتی ہے۔لیکن ہندوستان کیوں کہ ایک بہت بڑا ملک ہے اور وہاں ابھی کسی کی بھی کہی ہوئی بات کو بہت سارے لوگ اس کے خاندان کے مذہبی پس منظر کو جانے بغیر اس کی قدر وقیمت کو مانتے ہیں تو ایسے میں اس نے ایک نظم کی باز گشت بہت سنی جارہی ہے۔ممبئی میں “کمیون” کے نام سے ایک پرفارمنگ آرٹ فورم ہے اور اس فورم پہ ایک پروگرام اپنی کہانی سناؤ کے نام سے ہے اور یہ کم از کم ممبئی کی اربن مڈل کلاس میں بہت مقبول پروگرام ہے اور اسی پروگرام میں حسین حیدری جب اپنی کہانی سنانے آئے تو انھوں نے ایک نظم سنائی:

ميں کیسا مسلمان ہوں بھائی

میں سجدہ کرنے والا ہوں یا جھٹکا کھانے والا ہوں

میں ٹوپی پہن کے رہتا ہوں یا داڑھی اڑاکے رہتا  ہوں

مجھ میں گیتا کا ساربھی ہے،ایک اردو کا اخبار بھی ہے

اپنے ہی طور سے جیتا ہوں،دارو،سگریٹ بھی پیتا ہوں

دنگوں میں بھڑکتا شعلہ میں کرتے پہ خون کا دھبا میں

مندر کی چوکھٹ میری ہے،مسجد کے قبلے مرے ہیں

گوردوارے کا دربار میرا یسوع کے گرجے میرے ہیں

سو میں سے میں چودہ ہوں لیکن یہ چودہ کم نہیں پڑتے ہیں

پورے سو مجھ میں بستے ہیں اور میں پورے سو میں بستا ہوں

مجھے ایک نظر سے دیکھ نہ تو میرے ایک نہیں سو چہرے ہیں

سو رنگ کے ہیں کردار میرے،سو قلم سے لکھی کہانی ہوں

میں جتنا مسلمان ہوں بھائی اتنا ہندوستانی ہوں

حسین حیدری کی یہ نظم فروری کے دوسرے ہفتے کمیون ممبئی فورم کے آفیشل فیس بک پیج پہ پوسٹ ہوئی اور ایک دن میں 2000 لوگوں نے اسے آگے شئیر کردیا۔ہندوستانی اخبارات میں یہ نظم شایع ہوئی اور پھر اس پہ بھانت بھانت کے تبصرے ہونے لگے۔ہندوستان کا مقبول انگریزی بلاک سکرول کے میگزین میں جیوتی پونمی نے ایک آرٹیکل لکھا جس میں حسین حیدری کے حوالے سے کہا گیا کہ اس کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ اس نے جو نظم جو طرف اس نے خود اپنے لئے کہی ہے اس پہ اسقدر شور کیوں مچا ہوا ہے؟ اور حسین حیدری یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نظم انھوں نے اپنے اوپر لکھی ہے اور یہ کوئی احتجاج میں لکھی گئی نظم نہیں ہے۔حسین حیدری ایک چارٹر اکاؤٹنٹ تھے اور انھوں نے دسمبر 2015ء میں نوکری چھوڑی اور کل وقتی گیت نگار اور سکرین رائٹر بن گئے۔حسین حیدری کچھ بھی کہیں لیکن اصل میں ان کی یہ نظم مسلمانوں کے بارے سٹیریو ٹائپ خیالات کے اظہار کے خلاف ایک احتجاج کی علامت بن گئی ہے۔ہندوستانی مسلمانوں کے ہاں بھارتیا جنتا پارٹی اور ہندؤ فاشزم کی جانب سے مسلمان کمیونٹی کو دہشت گرد، انتہا پسند، رجعت پرست اور پیورٹن بناکر پیش کرنے کے رجحان کے خلاف ردعمل پایا جاتا ہے۔وہ اس بات پہ بھی سیخ پا ہیں کہ ہندوستان میں وہابی ازم اور دیوبندی ازم کی جانب سے جو اسلامی خلافت اور اسلامی ریاست کا یوٹوپیا پیش کیا جاتا ہے اس کا پجاری ہر ایک مسلمان کو بناکر دکھایا جارہا ہے۔سبھی مسلمان ڈاکٹر زاکر نائیک اور دار العلوم دیوبند کے زیر اثر سامنے آنے والے چہروں یا انڈین مجاہدین یا کشمیری مجاہدین بناکر پیش کئے جانے کا رجحان ہے  اس کے خلاف ایک ردعمل ہندوستانی معاشرے کے اندر موجود ہے۔مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس طرح کی سٹیریو ٹائپ نظریہ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں  کے تکثیری چہروں کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں اور ان کو یہ نظم اپنے خیالات کی عکاس لگی ہے۔مجھے یہ نظم اس لئے بھی دلچسپ لگی کہ میں حال ہی میں پرویز ہودبھائی کی تحریر “کیا پاکستان بطور ایک تکثیریت پسند سماج کے باقی رہ سکتا ہے” پڑھ رہا تھا جس میں انھوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ” مابین المذاہب تکثیریت پسندی ” اور ” مابین الفرق الاسلام تکثریت پسندی” موجود مسلم تھیالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے عملی طور پہ ہر قسم کے معاشروں میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کیا ہے لیکن

Texually and formally

نہیں اور وہاں پہ زیادہ تر ابن تیمیہ، ابن عبدالوہاب، سید احمد بریلوی،شاہ اسماعیل،رشید احمد گنگوہی،سید مودودی،سید قطب،حسن البنّا اور سید روح اللہ خمینی جیسوں کی حکمرانی اور ان جیسوں کو ہی زیادہ قبول عام ملا ہے۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں ابھی حاجی علی کے مزار پہ خواتین کے داخلے کو منع کرنے کا معاملہ ہو یا خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی کے مزار پہ عورتوں کی حاضری کی ممانعت کا مسئلہ ہو اس پہ ہندوستان کی مذہبی پیشوایت نے متنی اور رسمی طور پہ کنزرویٹو پوزیشن کو ہی اپنایا ہے۔اور خود بریلوی ملائیت نے بھی اسی راستے کو اختیار کیا ہے اور ایک مجلس میں اور منہ سے تین بار طلاق کا لفظ نکالنے کا معاملہ ہو اس پہ بھی کوئی لچک دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔اور پاکستان کے اندر شیخ عثمان مروندی لال شہباز قلندر کے مزار پہ ہوئے خودکش بم دھماکے بعد بحث کا رخ “دھمال ” کے جائز ہونے نا ہونے کی طرف مڑگیا اور اس معاملے پہ بریلوی مذہبی قیادت نے بھی کم وبیش دیوبندی ملائیت اور سلفی ملائیت کے ساتھ کا موقف اختیار کرلیا اور اس حوالے سےپاکستانی مسلم اربن مڈل کلاس کی کئی ایک پرتوں نے بھی ملائیت کے ساتھ کا ہی موقف اپنایا۔اور یہ ایک طرح سے مذہبی فاشزم کی مکمل جیت کا سا منظر نامہ ہے۔مسلمانوں کو سٹیریو ٹائپ کرداروں میں دیکھنے اور دکھانے کا رجحان آئیڈیالوجیکل منظر نامے پہ اکثر متون میں تکثریت مخالف رائے کے غالب آجانے کے سبب بھی ہے اور بدقسمتی سے اس سبب کی طرف نگاہ کم ہی جاتی ہے۔پرویز ھودبھائی نے ٹھیک کہا ہے کہ پاکستانی سماج کے اندر تکثریت پسندی کے حامی جدید مسلم مفکرین کی فکر کو آج کی مین سٹریم مسلم فکر میں کوئی خاص جگہ نہیں مل سکی اور سید امیر علی،سرسید احمد خان،فضل الرحمان جیسے جدید مسلم مفکرین کی فکر آج کتابوں میں بند ہوکر شیلفوں میں کہیں دب کر رہ گئی ہے۔اکبّر بادشاہ کی صلح کلیت بھی ہمارے مرکزی دھارے کا حصّہ نہیں بن پائی اور آج ہمارے ملامتی صوفیاء جیسے بابا بلھّے شاہ تھے ان کے مزاروں پہ عورت کا داخلہ منع ہے جیسے آویزاں بورڈ ہمارا منہ چڑاتے ہیں۔اور غالب ڈسکورس اگر ہے تو وہ تبلیغی جماعت کے طارق جمیل، سپاہ صحابہ پاکستان کے لدھیانوی،جاوید احمد غامدی،جماعت اسلامی کے مودودی کا ہے یا پھر حافظ سعید کا ہے۔اور یہ مسلمانوں کے اپنے اندر کی تکثیریت اور تنوع کا بھی سب سے بڑا دشمن ثابت ہورہا ہے۔

 

دہشت گردی بارے دیوبندی موقف

 

7

اپریل 2010ء کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں ملک بھر سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ سرکردہ علمائے کرام سر جوڑ کر بیٹھے۔ ایک بھرپور اور نمائندہ اجتماع منعقد ہوا جس کے شرکا کا تعلق دیوبندی مسلک سے وابستہ دینی و سیاسی جماعتوں، دینی مدارس اور علمی مراکز سے تھا۔ یہ ایک تاریخی اجتماع تھا جو صرف اس لیے منعقد ہوا تھا کہ ملک میں موجود دہشت گردی کے حوالے سے علمائے کرام اپنا متفقہ نقطہ نظر قوم کے سامنے پیش کریں۔ اس اجتماع میں حلقہ دیوبند کی سیاسی جماعت کی مکمل قیادت، وفاق المدارس کی مکمل قیادت اور تمام بڑی جامعات کے مہتم حضرات بھی موجود تھے۔ https://daleel.pk/2017/02/23/32215

 

 

 

دہشت گردی کے حوالے سے اس قرار داد کا پہلا نکتہ یہ تھا: (1) اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ اسلام ہی نے یہ ملک بنایا تھا اور اسلام ہی اسے بچا سکتا ہے، لہٰذا حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک میں اسلامی تعلیمات اور قوانین کو نافذ کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارا دینی فریضہ بھی ہے اور ملک کے آئین کا اہم ترین تقاضا بھی اور اسی کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے ملک میں انتہاپسندی کی تحریکیں اٹھی ہیں، اگر ملک نے اس مقصد وجود کی طرف واضح پیش قدمی کی ہوتی تو ملک اس وقت انتہاپسندی کی گرفت میں نہ ہوتا، لہٰذا وقت کا اہم تقاضا ہے کہ پرامن ذرائع سے پوری نیک نیتی کے ساتھ ملک میں نفاذ شریعت کے اقدامات کیے جائیں، اس کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور فیڈرل شریعت کورٹ کو فعال بنا کر ان کی سفارشات اور فیصلوں کے مطابق اپنے قانونی اور سرکاری نظام میں تبدیلیاں بلا تاخیر لائی جائیں اور ملک سے کرپشن، بے راہ روی اور فحاشی و عریانی ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ (حوالہ قرارداد)

 

نوٹ: دلیل ڈاٹ پی کے پہ محمد حسن الیاس کا ایک مضمون ” پاکستان میں دہشت گردی،علمائے دیوبند کا متفقہ موقف”شایع ہوا ہے۔مرے آرٹیکل کی فوری بنیاد یہی مضمون بنا ہے۔لیکن یہ دیوبندی قیادت اور ان کی حامیوں کے پاکستان میں دہشت گردی بارے موقف پہ میرا عمومی رد عمل بھی ہے۔

 https://daleel.pk/2017/02/23/32215

سوشل میڈیا پہ پہلے لبرل کے اندر ایک بڑا حلقہ ایسا تھا جو ملک میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی منظم دہشت گردی کی شناخت کو بیان کرنے کے لئے “تکفیری دیوبندی دہشت گردی” اور ” دیوبندی عسکریت پسندی” کی اصطلاح پہ معترض ہوتا تھا اور ان میں سے ایک بڑے حصّے کو وقت نے بے نقاب بھی کردیا کہ یہ کمرشل ازم تھا لبرل ازم کے پردے میں۔اور ہم نے ان کو کبھی مولوی لدھیانوی کی بغل میں بیٹھا دیکھا تو کبھی طاہر اشرفی کی اعتدال پسند مذہبی سکالر کے طور پہ پروجیکٹ کرتے دیکھا۔وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ بھی پتا چل گیا کہ نجم سیٹھی جیسے لبرل دہشت گردوں کی مذہبی شناخت پہ اتنے سیخ پا کیوں ہیں۔کیونکہ اس شناخت کی وجہ سے نواز شریف اینڈ کمپنی بے نقاب ہورہی تھی اور ساتھ سعودی عرب کے شیوخ بھی جن سے مراعات اور مفادات بٹورنے کا سلسلہ اس کمرشل لبرل مافیا نے جاری رکھا ہوا تھا۔

دیوبندی عسکریت پسندی اور دیوبندی تکفیر ازم کی اصطلاح استعمال کرنے پہ غیر جانبداری کا نقاب چڑھائے کچھ مین سٹریم میڈیا کے خودساختہ “حریت پسند صحافی ” جو فیض و جالب سے بھی اپنی وابستگی ظاہر  کرنے کے ڈرامے کرتے تھے کافی جزبز ہوتے تھے لیکن وقت نے ان کو بھی ننگا کیا جب وہ لدھیانوی،اورنگ زیب فاروقی،مولوی عبدالعزیز،ام حسان اور فرحت ہاشمی وغیرہ کو اپنے ٹاک شوز میں لیکر آئے اور لوگوں کو دہشت گردی بارے انھوں نے گمراہ کرنے کی کوشش کی جبکہ ان صحافیوں نے شیرانی،حمد اللہ،حافظ حسین احمد سمیت کئی اور دہشت گردی کے عذر خواہوں کو خوب پروجیکٹ کیا۔ایسے صحافیوں میں حامد میر سرفہرست ہے۔یہ صحافی اپنے آپ کو اسٹبلشمنٹ مخالف چہرے کے ساتھ بھی پیش کرتے ہیں لیکن ان میں سے کسی نے آج تک شیری رحمان سے ان کی این جی او جناح انسٹی ٹیوٹ کی نام نہاد تجزیاتی رپورٹیں جو طالبان کے لئے جواز پیدا کرتی ہوں بارے سوال نہیں کیا اور ان سے ان کے روابط بہت دوستانہ ہیں جبکہ ان کا دوستانہ لدھیانوی سے بھی ہے۔

deobandi

مذکورہ بالا دو گروہ تو وہ ہیں جو عمومی طور پہ رائٹ اور لبرل لیفٹ سائیڈ سے غیر فرقہ واریت کے نام پہ دیوبندی ازم کے اندر پائی جانے والی عسکریت پسندی،دہشت گردی، تکفیر ازم، جہاد ازم اور اس کے عالمی دہشت گرد سلفی نیٹ ورک سے ہمدردیوں پہ پردہ ڈالنے کا کام کرتا ہے۔

لیکن وہ لوگ جو اپنا دیوبندی ہونا چھپاتے نہیں ہیں اور دیوبندی ازم کے بینر تلے مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ سرگرم ہیں ان کا اس معاملے پہ کیا موقف ہے؟ اس حوالے سے پہلے سوشل میڈیا پہ یہ گروہ اپنی موجودگی کو عمومی طور پہ اسلام پسند لیبل لگاکر چھپاتا تھا یا یہ ظاہر کرتا تھا کہ دیوبندی ملائیت ان کا ماضی تھی اب یہ بہت کشادہ ذہن کے مالک ہیں۔اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کچھ لبرل شخصیات نے اپنی ویب سائٹ کا اجراء کیا اور وہاں پہ انھوں نے “بات چیت ” کے زریعے سے معاشرے میں برداشت پیدا کرنے کو نصب العین بتلاتے ہوئے ایسے لوگ ہمارے سامنے دانشور بناکر پیش کئے جو دیوبندی ملائیت کا حصّہ تھے یا دیوبندی ازم کے علمبردار تھے اور وہ اپنے آپ کو بدلے ہوئے لوگ بتلارہے تھے۔ان کا ماضی تو سب کے سامنے تھا کہ یہ لوگ یا تو دیوبندی مدارس سے فارغ التحصیل تھے اور وہیں سے ماسٹرز کرنے کراچی، اسلام آباد،لاہور،پشاور یا کوئٹہ میں جدید یونیورسٹی میں پہنچ گئے اور وہاں پہ یا تو یہ جماعت اسلامی کے جہادی نیٹ ورک سے وابستہ ہو‏ئے یا دیوبندی جہادی نیٹ ورک سے ان کا تعلق رہا۔اور اسی طرح کئی سپاہ صحابہ پاکستان کے تیار کردہ تھے۔ان میں سے کچھ لوگ عملی زندگی میں مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا یا پرنٹ میڈیا کا حصّہ بھی بنے اور آج کل سوشل میڈیا پہ یہ لوگ دو طرح کی لائن کے ساتھ مصروف ہیں۔

ایک وہ ہیں جو کشمیر، افغانستان و دیگر جگہوں پہ سرگرم دیوبندی عسکریت پسندی کو عین جہاد کہتے ہیں اور پاکستان میں سرگرم دیوبندی عسکریت پسندی کو وہ غلط کہتے ہیں۔جبکہ ایک حلقہ وہ ہے جو تحریک طالبان پاکستان سمیت پاکستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کی جدوجہد کو بھی ٹھیک کہتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ پاکستان میں دیوبندی علماء کی اکثریت پاکستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کو دہشت گرد قرار دینے والی پاکستانی ریاست کے ساتھ کھڑے ہوکر اور ان کی حکومتوں کا حصّہ بنکر غلط کررہی ہے اور وہ اسے موقعہ پرستی اور اقتدار پرستی کہتے ہیں۔یہ دونوں کیمپ سوشل میڈیا پہ بھی اب کھل کر سرگرم ہوگئے ہیں۔اور چند ایک ویب سائیٹ،سوشل نیٹ ورک پیجز پہ ان کا وجود بہت نمایاں ہے۔یہ جہاد ازم، پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی 80ء کی دہائی کی تزویراتی گہرائی کی پالیسی کے من وعن نفاذ اور واپسی کے زبردست حامی ہیں۔اور ان کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی اور تباہی کی وجہ 89ء کی دہائی میں جہاد ازم سے ریاستی اداروں کی دست برداری کے سبب ہوئی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کی جملہ دیوبندی قیادت چاہے اس کا تعلق وفاق المدارس سے ہو یا دیوبند کی سیاسی نمائندہ جماعتوں جے یو آئی (سب دھڑے) اور اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ پاکستان ) سے ہو یہ سب کے سب اس بات پہ متفق ہیں کہ جس دن پاکستانی ریاست نے القاعدہ سمیت کئی ایک عسکریت پسند گروپوں کو دہشت گرد قرار دیا اور کئی ایک گروپوں کے خلاف امریکی کاروائیوں کی حمایت شروع کی وہ ایک یو ٹرن تھا اور آج پاکستان میں جو خون ریزی ہے اس کا سبب وہی یو ٹرن ہے۔

(3) اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کو قرار دیا جا رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی نے ملک کو اجاڑنے میں کوئی کسر چھوڑ نہیں رکھی، جگہ جگہ خود کش حملوں اور تخریبی کارروائیوں نے ملک کو بدامنی کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے، ان تخریبی کارروائیوں کی تمام محب وطن حلقوں کی طرف سے بار بار مذمت کی گئی ہے، اور انہیں سراسر نا جائز قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ کارروائیاں مستقل جاری ہیں، لہٰذا اس صورت حال کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر ملک بھر کی متفقہ مذمت اور فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود یہ کارروائیاں کیوں جاری ہیں؟ اور اس کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ ہماری نظر میں اس صورتحال کا بہت بڑا سبب وہ افغان پالیسی ہے جو جنرل پرویز مشرف نے غلامانہ ذہنیت کے تحت کسی تحفظ کے بغیر شروع کر دی تھی، اور آج تک اسی پر عمل ہوتا چلا آرہا ہے، لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت امریکہ نوازی کی اس پالیسی کو ترک کر کے افغانستان کی جنگ سے اپنے آپ کو بالکل الگ کرے اور امریکی افواج کو مدد پہنچانے کے تمام اقدامات سے دستبردار ہو۔ (حوالہ قرارداد)

دیوبندی علماء ہوں، سلفی علماء ہوں، جماعت اسلامی کی قیادت ہو یہ سب کے سب پاکستان کے اندر اور پاکستان کے باہر سرگرم جہادیوں اور عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف آج تک ایسا کوئی اعلامیہ سامنے لیکر نہیں آئے جس میں انھوں نے یہ کہا ہو کہ لشکر جھنگوی، جیش محمد، حرکت المجاہدین، حرکۃ الانصار،جماعت الاحرار،القاعدہ برصغیر الہند،اور اب داعش خراسان دیوبندی۔سلفی نہیں ہیں۔نہ ہی انھوں نے ان تنظیموں کو خارجی،تکفیری تنظیمیں کہا اور ان کی دہشت گردی کی جو نظریاتی بنیادیں ہیں ان کو بھی غیر دیوبندی اور غیر اسلامی قرار نہیں دیا۔ایسے بہت سے لوگ ہمیں سوشل میڈیا پہ غیر جانبدار تجزیہ کار بنے نظر آتے ہیں۔جب جب پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم ہوتا ہے اور لوگ مرتے ہیں اور زخم تازہ ہوتے ہیں اور ایسی کاروائیاں کرنے والوں کی مذہبی شناخت سامنے آتی ہے  اور پتا یہ چلتا ہے کہ یہ دیوبندی عسکریت پسندوں کی کاروائی ہے اور اس پہ لوگ دیوبندی ازم کی عصر حاضر کی آئیڈیالوجی پہ سوال اٹھانے لگتے ہیں اور اس کی مذمت کی جانے لگتی ہے تو ایک دم سے یہ لوگ دیوبندی ازم کے دفاع کار بنکر سامنے آجاتے ہیں۔اور دیوبندی ازم کی ریڈیکلائزیشن کے سوال سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے یہ لوگ کہیں تو بریلویوں کو بڑا یا برابر کا خطرہ بتلاتے ہیں یا پھر شیعہ کو اور اسی ضمن میں ایران اور ایرانی لابی کا ڈھول بھی پیٹا جانے لگتا ہے۔ریڈیکل مدارس کے کردار پہ بات ہوتی ہے تو یہ جامعہ بنوریہ کی عظمت کے قصّے سنانے لگتے ہیں اور عملی طور پہ دہشت گردی اور انتہا پسندی میں ملوث مدارس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی پہ رائے عامہ کے ہموار ہونے کی راہ کو کھوٹا کرنے لگ جاتے ہیں۔

میں جب لفظ دیوبندی قیادت بولتا ہوں تو اس سے میری مراد وفاق المدارس،دیوبندی سیاسی ومذہبی جماعتوں کی قیادت ہوتی ہے اور اس دیوبندی قیادت میں کوئی ایک آواز بھی ایسی نہیں ہے جو دیوبندی مدرسہ تحریک کو سلفی ازم،وہابیت،سعودی نوکری کے خلاف بلند ہوئی ہو۔ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے شیعہ کے خلاف تکفیر کی سیاسی میدان میں لڑائی لڑنے والی سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت کا داخلہ کسی مدرسے،کسی مسجد یا اپنے کسی دفتر میں بند کیا ہو۔اور ان میں سے کسی ایک دیوبندی رہنماء نے ببانگ دہل کبھی یہ کہا ہو کہ دیوبندی مدرسہ تحریک کو سعودی وہابی حکومت کی پراکسی نہیں بننے دیں گے۔اس دیوبندی قیادت کے حامی صحافتی دنیا کے لوگ ہوں یا سوشل میڈیا پہ سرگرم گروہ ہوں وہ بھی دیوبندی قیادت سے مختلف نہیں ہیں۔اور یہ سب کے سب پاکستان میں جنوبی ایشیائی صوفی کلچر کا اینٹی کلچر ہیں۔اور اپنے افکار اور عمل سے دیوبندی عسکریت پسندی کو اپنا نظریاتی ساتھی خیال کرتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے یہ پاکستانی عوام کی اکثریت کو اس معاملے سے لاعلم رکھنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ابتک ہونے والی 90 فیصدی دہشت گردی دیوبندی عسکریت پسند گروپوں کی جانب سے ہوئی ہے اور اس عسکریت پسندی کی جڑیں دیوبندی تنظیموں اور مدارس کے اندر پیوست ہیں۔

 

تیسواں خط

wadi-e-hussain_cemetery_karachi_pakistan

 

 

پیاری ساری

میں مرجانے کی حد تک تمہارے خط کا انتظار کرتا ہوں،کسی پل مجھے چین نہیں آتا اور میں گاؤدی ہوجاتا ہوں اور گاؤدی بھی وہ جسے محبت کے دورے مرگی کی طرح پڑتے ہوں لیکن میں اپنے اندر کے دستوفسکی کو کبھی جگا نہیں پاتا ہوں جو اس گاؤدی پن کے اندر محبت کا وہ پتر لکھواسکے جسے لازوال کہا جاسکتا ہو۔اور افسوس میں زیرلب کچھ بھی نہیں کہہ پاتا جبکہ خیالات کی رو مجھے اپنے ساتھ بہائے لیجارہی ہوتی ہے۔پہلے تمہارے خط نہ آنے کی وجہ سے نیند نہیں آرہی تھی اور آج جب صبح تمہارا خط مل گیا تو بھی اتنی رات ہوچکنے کے بعد بھی نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔کئی گھنٹے تو میں نے لفافہ تک نہ کھولا اور اپنی جیکٹ کے اندر دل والی جانب جیب میں خط کو ڈالے رکھا اور کافی دیر اسے بار بار تھپتھپا کر دیکھتا رہا اور اس کی موجودگی کو محسوس کرتا رہا۔عجیب سی سرشاری کی حالت تھی اور میں اس سرشاری کو کافی دیر برقرار رکھنا چاہتا تھا لیکن اس سرشاری کے ساتھ ساتھ کہیں مرے اندر سے بے چینی بھی امنڈ رہی تھی سو میں نے آٹھ بجے تمہارا خط کھول ہی لیا۔اور جیسے ہی پڑھنا شروع کیا تو مجھ پہ اچانک یہ انکشاف ہوا کہ اس خط میں بہت عرصے بعد تم نے اپنے اندر کی عورت کو بیدار حالت ميں رکھ کر احوال لکھا ہے۔آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ تم نے ایک مرتبہ پھر مجھے یاد دلانے کی کوشش کی ہے کہ تم میری کہانیوں اور افسانوں کو اس لئے پسند نہیں کرتیں کہ ان کا اختتام کبھی طربیہ پہ نہیں ہوا بلکہ ظالمانہ قسم کا موت سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ساری، مجھے تمہیں یاد کرانا پڑے گا کہ تم نے مجھے کہا تھا کہ تمہیں موت،کرب اور المیوں سے نفرت تھی اور تم صاف اور شفاف آسمان کی طرح تھیں۔اور پھر اچانک تم آغا خان کے کینسر وارڈ میں اس سب سے آخری کمرے کے اندر بستر پہ جاکر دراز ہوگئی تھیں جہاں ماحول بہت زیادہ اداس کرنے والا،ڈرانے والا اور دل دہلادینے والا ہوتا تھا۔میں صبح سے شام تک تمہاری پائنتیوں پہ ٹکا بیٹھا رہتا تھا اور اکثر تم کو خواب آور دواؤں کے زیر اثر رکھا جاتا تھا کیونکہ بلڈ کینسر کی آخری سٹیج کی وجہ سے تمہارے اندر خون کی شریانیں پھٹنے لگتی تھیں اور تم بے ہوش ہونے سے پہلے اسقدر تڑپتی تھیں کہ مجھے اپنی روح تک زخمی ہوتی محسوس ہوتی تھی اور اس دوران اپنے آپ کو پرسکون دکھانے کے لئے درد بھری مسکان اپنے ہونٹوں پہ سجانے کی کوشش میں تم اور زخمی ہوتی جاتی تھی اور تمہاری آنکھوں سے وہ تکلیف جھلکتی تھی جسے تم چھپانے کا جتن کرتی تھیں۔اور مجھے دلاسا دیتی تھیں کہ ہم جلد ہی اس کینسر وارڈ کے اس سرد جہنم والے کمرے سے نجات پالیں گے اور ان سارے خوابوں کی تعبیر مل کر پائیں گے جو ہم نے دیکھے تھے۔کیا واقعی ایسا ہوا تھا؟تم آسمان کے ایک دوسرے کنارے پہ کھڑی تھیں اور لگتا تھا کہ کبھی بھی چھلانگ لگا کر کسی وقت بھی غائب ہوجاؤ گی اور میں اس سے پرے مخالف سمت میں اس کنارے کھڑا تھا جہاں مرے پیروں میں پڑی زنجیر مجھے دو قدم بھی تمہاری طرف بڑھنے نہیں دیتی تھی اور میں اپنے آپ کو ایک قفس میں قید پرندے کی طرح پاتا تھا۔اور میں خود کو ایک تاریکی میں قید پارہا تھا۔تمہاری آنکھیں ہر گزرتے دن اور رات کے ساتھ ویران ہوتی جاتی تھیں ،ہونٹوں پہ جمی پپڑیاں تمہارے بہت پیاسا ہونے کو ظاہر کرتی تھیں اور جہاں تک بازو تمہارے کھلے ہوئے تھے وہاں ان گنت سوئیوں کے سیاہ نشان پڑے ہوئے تھے اور کہیں کہیں تو تمہارے خون کی بوندیں جم سی گئی تھیں۔مری بھوک مرگئی تھی اور گھنٹوں گھنٹوں میں تمہارے نیم خوابیدہ وجود کو دیکھتا ہی رہتا تھا اور تمہارے ہونٹوں پہ جمی وہ تکلیف کو مجسم کئے ہوئے مسکان کھلی رہتی تھی اور مجھے ایسے لگتا تھا جیسے کسی کلی پہ عین بہار کے عروج پہ خزاں اتر آئی ہو اور وہ کلی اپنی ادھ کھلے پن کو مکمل مرجھاہٹ سے بچانے کی کوشش کررہی ہو۔میرے اندر بہت درد تھا اور بے بسی کی اسقدر شدت تھی کہ مجھے لگتا تھا جیسے میرا دم گھٹ جائے گا۔میں نے ان لمحوں میں جتنی سنجیدگی سے اس دم گھونٹ دینے والی کیفیت میں خودکشی کے بارے میں سوچا اس طرح سے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔ساری،تمہیں پتا ہے کہ میں نے تمہارے کہنے پہ یہ خط آن لائن کئے تھے تو وہاں سب تمہیں تلاش کرنے نکل پڑے تھے اور بہت سی عورتوں میں تمہارا چہرہ دیکھنے کی کوشش ہوئی اور نجانے کس کس پہ تمہارا شبہ کیا گیا اور اس دوران میں جس گھٹن کا شکار ہوا تو اس سے میں نے سنجیدگی سے پھر اس درد سے چھٹکارا پانے کا وہی طریقہ سوچا جو وہاں کینسر وارڈ میں اس جہنم نما کمرے میں تمہارے بستر پہ تمہارے پیروں کی طرف بیٹھ کر سوچتا تھا اور اس لئے باز رہ جاتا تھا کہ تمہیں یہ انتہائی بزدلی کا راستہ لگتا تھا اور اس پہ چلنے والے تمہیں پسند نہیں تھے۔تمہاری ختم ہوتی سانسوں کے درمیان تمہارا آہستہ آہستہ گھلنا مجھ سے برداشت نہیں ہورہا تھا ایسے میں میں کیسے وہ فعل کرسکتا تھا جو تمہیں مجھے کائر کہنے پہ مجبور کردیتا۔کبھی کبھی میں “خدائی صفات ” کا راستہ تلاش کرنے کی جانب راغب کیا جس کے زریعے سے لکھی جانے والی تقدیر کو بدلنے پہ قادر ہوجاتا لیکن مجھ پہ یہ انکشاف ہوا کہ حیات دینے کے بعد بس موت کا اختیار رہ جاتا ہے اور دیوتا کسی کو مرنے سے روک نہیں پاتے تھے اور موت خود ایک دیوتا کا کردار ادا کرنے لگتی تھی۔اس کا اپنا میکنزم تھا اور اس کے آگے کوئی فل سٹاپ لگایا نہیں جاسکتا تھا۔اور نرک کو انتہائی سرد ہونے یا کھولتے کڑاہے کی مانند گرم ہونے سے روکنا کسی کی دسترس میں نہیں ہوتا ہے۔تم نے کہا تھا کہ تمہیں موت،دکھ اور مصائب ان سب سے معاملہ کرنا ہی نہیں ہے۔لیکن اس بستر پہ پڑی تم ان سب سے معاملہ کررہی تھیں اور مجھے تم نے رنگ سے باہر بٹھا رکھا تھا۔میں وہاں بیٹھ کر تمہیں جاتا دیکھ رہا تھا۔اور میں تنہا ہی جل رہا تھا،سلگ رہا تھا۔وہ رات آج بھی آسیب کی طرح مجھ سے چمٹی ہوئی جس رات وہ مرحلہ آن پہنچا جب ایک دم سے تمہاری ساری شریانوں نے پھٹنا شروع کردیا اور سیاہ پڑگئے تمہارے بازؤں کے نشانوں نے باریک باریک چھید کی شکل اختیار کرلی اور ان سے خون ایسے ابل کر باہر آنے لگا تھا جیسے تنگ ندی سے پانی باہر آتا ہو اور اس لمحے جب تم نے انتہائی تکلیف میں مجھے کہا کہ اس سے پہلے تمہاری آنکھوں کی شریانیں پھٹنا شروع کریں اور میں تمہاری آنکھوں سے غائب ہوکر بس تمہارے دماغ میں ایک دھندلے نقش کی طرح رہ جاؤں تم مجھے اچھی طرح سے دیکھنا چاہتی تھیں۔مجھے محسوس کرنا چاہتی تھیں اور ڈاکٹر منہال عبداللہ نے بھی اپنے سارے پیشہ وارانہ تقاضے بالائے طاق رکھ دئے تھے اور تمہاری خواہش کا احترام کیا تھا۔یہ وہ لمحہ تھا جب وہ ڈاکٹر اور نرسیں سسکیاں بھرتے ہوئے کمرے سے نکل گئیں تھیں اور میں تمہاری آنکھوں کے پاس تھا اور تم نے اپنے خون سے بھرے ہاتھوں سے میرے چہرے کو تھامے ہوئے تھیں اور پھر اچانک جیسے کوئی تیز چندھیا دینے والی روشنی چمکی ہو اور تم بالکل شانت ہوگئی تھیں اور تمہارے ہونٹوں پہ وہی تنگ پڑگئی مسکان تھی اور میں جیسے پتھر کا ہوکر رہ گیا تھا۔ساری،وہاں کراچی میں جب تم وادی حسین کی رہائشی ہوئی تھیں تو بہت کم آبادی تھی اب تو وہاں خوب رونق لگی ہوئی ہے اور تمہارے اڑوس پڑوس میں میلہ لگا ہوا ہے اور تم اسی لئے تو مجھے اب تنہا نہیں لگتی ہو اور اسی لئے میں یہاں اتنی دور آگیا ہوں۔جانتا ہوں کہ تمہیں اب کوئی وحشت نہیں ہوتی۔ تنہائی کاٹنے کو دوڑتی نہیں ہے اور بہت سی کہانیاں ہیں تمہارے پاس بتانے کو۔تمہارے آس پاس کئی ایسی سہیلیاں آکر رہنے لگی ہیں جن کے نام ان کے لئے عذاب بن گئے تھے اور ہاں یہ سبھی علی،حیدر،عباس،کرار،قنبر،سجاد اور ایسے ہی ملتے جلتے کئی اور نام بھی تمہارے پڑوسی ہوگئے ہیں۔استاد سبط جعفر بھی تو ہیں تمہارے ہمسایہ اور وہ اپنی موٹر سائیکل پرانے گھر میں ہی چھوڑ گئے ہیں۔ان سے پوچھنا تو سہی وہ پرانی سی موٹر سائیکل جن سے ان کو عشق سا تھا اسے پرانے گھر کیوں چھوڑ آئے؟اور اپنے نقوی صاحب بھی سنا ہے تمہارے پڑوس میں کہیں رہ رہے ہيں۔اگر بتیاں،لوبان اور گلاب کی پتیوں کی خوشبوؤں سے معطر سنا ہے وادی حسین کالونی رہتی ہے اور سب کے گھروں پہ سنگ مرمر کی نیم پلیٹ لگی ہوئی ہیں۔سنا کہ کچھ دن پہلے سہیون شریف سے 88 کے قریب عورتیں ،بچے ،نوجوان اور بزرگ وہاں آکر رہنے لگے ہیں۔لیکن مجھے وہاں سے ایک دوست کا فون آیا تھا کہ ان میں سے کوئی اپنے بچّے کا فیڈر بھول آیا ہے۔ ماں تنگ ہورہی ہوگی نا فیڈر کے بغیر ۔پتا کرنا کس بچّے کا ہے یہ فیڈر میں اپنے دوست کو کہوں گا وہاں پہنچا جائے گا۔مائیں آج کل تھوڑی سی لاپرواہ ہوگئیں ہیں کئی کھلونے اور بلکہ کئی بچوں کی جوتیاں تک بھول آئی ہیں لیکن میرا دوست بڑا ایماندار اور فرض شناس ہے جیسے ہی تم پتا لگا لوگی وہ ان کی امانتیں پہنچادے گا۔اور ہاں ميں کل پیرس سے برسلز منتقل ہورہا ہوں اس لئے اب اس ایڈریس پہ خط نہ بھیجنا اور جیسے ہی میں برسلز میں رہائش ڈھونڈ لوں گا تو تمہیں پتا ارسال کردوں گا اور پھر ہم باقاعدگی سے خطوط کا تبادلہ کریں گے۔

فقط تمہارا
ع۔ح